Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.

    نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.

    پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’

    جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.

    جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.

    ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

    اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.

    سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.

    سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’

    صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
    ‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
    صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
    ‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
    ‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
    ‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.

    ‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
    ‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
    ‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟

    اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
    ‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
    ‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
    ‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
    صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.

    ‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’

    صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
    سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.

    صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.

    ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.

    دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.

    آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.

    ‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.

    تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.

    (مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)

  • نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد  چھلّے کیسے بنے؟

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد موجود غبار کے چھلّے تقریباً 16 کروڑ سال قبل ایک قدیم چاند کے سیارے سے ٹکرانے کے سبب بنے۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے سیارے زحل کے محور میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کو شکل دینے کے لیے پیمائشیں لی گئیں۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ سیارے کے گرد پہلے دوسری اجرام فلکی گردش کرتی تھی لیکن گیس کے گولے کے ساتھ فاصلہ نہایت کم ہوجانے کے سبب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بِکھر گئی اور تب یہ چھلے وجود میں آئے۔

    سائنس دانوں کے مطابق کریسالِس نامی یہ چاند سیارے سے ٹکرانے سے قبل اس کے گرد کئی ارب سالوں سے گردش کر رہا ہوگا۔اور چاند کا یوں تباہ ہوجانا بتاتا ہے کہ زحل کا گردشی محور 26.7 کے زاویے سے کیوں جُھکا ہوا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر جیک وِزڈم کا کہنا تھا کہ کریسالِس عرصہ دراز سے غیر فعال تھا اور ایک دم فعال ہوا اور یہ چھلے وجود میں آگئے۔

    کارنیل یونیورسٹی میں سیاروں کی حرکیات کی ماہر مریم الموتمید کہتی ہیں کہ زحل کے حلقوں کی ابتدا کے بارے میں یہ دریافت ایک نئی راہ کھولتی ہے-

    ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سیاروں کی حرکیات کے ماہر لیوک ڈونز کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ "قابل غور ” ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ہیں کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اس خیال کی جانچ کیسے کریں گے-

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    سائنس دانوں نے طویل عرصے سے بحث کی ہے کہ آیا زحل کے حلقے اربوں سال پرانے ہیں – جتنا قدیم خود نظام شمسی ہے – یا شاید صرف 100 ملین سال پرانا ہے یا اس سے زیادہ۔

    2000 کے ابتداء سے ماہرینِ فلکیات کا یہ ماننا ہے کہ زحل کا جھکاؤ سیارے نیپچون کے ساتھ مدار کے ارتعاش کے سبب تھا۔ اگر دونوں سیاروں کے مدار کے دورانیے مطابقت پا جائیں تو دونوں سیاروں میں ارتعاش ہوگااور دونوں مستقل ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے متاثر کرتے رہیں گے۔

    سیارے کے متعلق ارتعاش کا نظریہ سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ گردش کے سبب زحل بھی اس ہی طرح سے ڈگمگاتا ہے جیسے نیپچون ڈگمگاتا ہے۔

    نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔

    سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ہے ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔

    زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔

    زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکےہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیاجا چکا ہے اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • اب سپلیمنٹری کی بجائے دو سالانہ امتحان ہوں گے، نئی اصلاحات  جاری

    اب سپلیمنٹری کی بجائے دو سالانہ امتحان ہوں گے، نئی اصلاحات جاری

    حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے
    باغی ٹی وی :کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن و چیئرمین لیاقت علی چٹھہ کی زیر صدارت تعلیمی بورڈ کے بی او جی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔سیکرٹری بورڈ حبیب الرحمن گاڈی نے بریفنگ دی. اجلاس میں 18ایجنڈا پوائنٹس پر فیصلے دیئے گئے . چیئرمین و کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے۔نئے تعلیمی سال سے پرائیویٹ طلبہ بھی ریگولر کے ساتھ سال کے شروعات میں داخلہ رجسٹریشن کراسکیں گے۔پہلے پرائیویٹ طلبہ کو صرف امتحانات کے نزدیک رجسٹریشن کی سہولت حاصل تھی۔کمشنرنے پینشنرز کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنے کے فیصلہ کی بھی توثیق کردی ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن دستاویزات میں غلط مضمون کے اندراج پر متعلقہ تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹسز جاری کئے جائیں گے۔ مضمون کے اندراج ، کلیریکل سٹاف کی غلطی کا نقصان کسی طالب علم کو نہیں ہونے دینگے۔کمشنر نے کہا کہ طلباء وطالبات کو رجسٹریشن سے قبل مضامین سے متعلق مکمل آگاہی دی جائے۔کمشنر و چیئرمین نے کہا کہ بورڈ میں کسی بھی افسر کو اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز نہیں کرنے دینگے۔مالی بدعنوانی اور فرائض میں غفلت پر سخت کارروائی ہوگی۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن خالد منظور،اے سی جی حیات اختر،ڈائریکٹر کالجز،تعلیمی بورڈ کے دیگر افسران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین موجود تھے۔

  • پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)صوبہ پنجاب میں چف سیکرٹری کی فرائض منصبی سرانجام دینے سے معذرت اور سرکاری محکموں بشمول پولیس و سول انتظامیہ کی لاغر کارکردگی نہ صرف وزیراعلٰی پنجاب بلکہ تحریک انصاف کے بلند وبانگ نعروں کا پول کھول رہے ہیں۔ انتظامیہ کی پرائس کنٹرول میں عدم دلچسپی پولیس کے اعلی افسران کی عوامی مسائل اور کرپشن روکنے اورکرائم کنٹرول میں ناکامی محکمہ مال ، محکمہ زرعت ، محکمہ ورکس اینڈ کنسٹرکشن ، اینٹی کرپشن اور دوسرے لا تعداد محکموں میں اپنے اپنے شعبوں میں مفلوج پن اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملات اوپر سے خراب ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بروقت بھرتی میں عدم دلچسپی سے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء اساتذہ کا راہ دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا یہ واویلا کہ انہیں صوبے سے تبدیل کیا جائے کیونکہ ان کے کاموں میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے اور غیر مناسب سفارشیں کی جاتی ہیں اس بیان سے اور عملی طور پر فیلڈ میں گڈ گورننس کا فقدان ان مافیاز اور قبضہ گروپوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ اس وقت حکومت سے بھی طاقتور ہیں۔

    تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی ملک میں جنگ لڑنے کا دعویٰ کررہی جبکہ پنجاب میں مکمل طورپر لینڈ مافیا ، قبضہ مافیا ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز ، ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔ صوبہ پنجاب کی سرکاری مشینری کا غیر فعال ہونا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد جیسے حساس ترین شہروں میں قبضہ مافیا کی طرف سے اسلحہ کی نمائش اور انسانوں کا قتل عام اعلیٰ پولیس افسران اور انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر تجارتی مراکز کا روپ دھار چکے ہیں۔ عوام کو قبضہ مافیا ، بڑے بڑے لینڈز مافیا ، ڈاکوؤں اورقانون شکن کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔

    اگر مقتدر حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب کے اس خوفناک منظر نامے اور اسلام آباد جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر توجہ نہ دی تو ملک جو پہلے ہی دوبارہ دہشت گردی کی لہر اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وطن عزیز میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہو گا؟ پاک فوج کے جوانوں کا افغانستان کے بارڈر پر شہید ہونا ان سول انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران کو کیوں نظر نہیں آتا ؟

  • خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!

    خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!

    خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    انسانی فطرت ہے جب ایک انسان بار بار اپنوں سے ہی ڈسا جائے تو اس کا یقین، اعتماد اور بھروسہ بلکل اٹھ جاتا ہے، وہ حقیقت اور سچ کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کچھ ایسا ہی گزشتہ کئی سالوں سے تلہ گنگ کی عوام سے ہوتا آرہا ہے، ڈسنے کا یہ عمل 2013 کے عام انتخابات سے شروع ہوتا ہے جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف انتخابی جلسے سے خطاب کےلیے تلہ گنگ تشریف لاتے ہیں، اور تلہ گنگوی سفید پگ پہن کر بھرے جلسے میں اعلان کرتے ہیں کہ اگر ن لیگ کی حکومت بن گئی تو ہم تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دیں گے، اور ساتھ میں تلہ گنگ کو یونیورسٹی دینے سمیت انڈسٹریل زون کا وعدہ بھی کر ڈالا تھا، 2013ء کا الیکشن ہوا مسلم لیگ ن نہ صرف تلہ گنگ سے بھاری اکثریت سے جیتی بلکہ ملک بھر سے کامیابی سمیٹی اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، حکومت میں آکر ن لیگ تلہ گنگ کی عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کرنے کی بجائے اقتدار کے نشے میں مگن رہی، ن لیگ کے اقتدار کے آخری ایام میں عوامی دباؤ پر اس وقت کے مسلم لیگ ن کے ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن نے وزیراعظم ہاؤس سے ایک ڈائریکٹو جاری کروا کے عوام کی زبان بند کروا دی مگر وہ ڈائریکٹو محض ایک جلعی کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوا، اور اس پہ کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اس کے بعد وقت گزرا 2018 کا الیکشن ہوا پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، ہمارے حلقہ این اے 65 سے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ق لیگ کامیاب ہوگئی مگر انہوں نے اس عمل کو ناقابل عمل قرار دے کر خود کو اس بحث سے ہی علیحدہ کرلیا، پھر ضلع تلہ گنگ کا سہرا اپنے سر سجانے کےلیے پی ٹی آئی رہنما ملک یاسر پتوالی میدان عمل میں آئے انہوں نے ضلع تلہ گنگ کے قیام کےلیے کوششیں شروع کر دی، اور بلآخر وہ بھی وزیراعظم ہاؤس سے ایک فرضی ڈائریکٹو جاری کروانے میں کامیاب ہوگئے، اس سلسلے میں تلہ گنگ کی نجی مارکی میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں ان کا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر استقبال کیا گیا جوکہ بنتا بھی مگر بدقسمتی سے وہ ڈائریکٹو بھی ایک کورے کاغذ کے سوا کچھ نہ تھا، پھر وقت نے کروٹ لی مبینہ امریکی سازش کے نتیجے میں سیاسی جوڑ توڑ کے بعد وفاق میں ن لیگ کی حکمرانی جبکہ تخت پنجاب چند ماہ ن لیگ کے پاس رہنے کے بعد پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے کنٹرول میں آگیا، اب کی بار چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی اور جانشین حافظ عمار یاسر ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے محکمہ ریونیو پنجاب کا ایک پرپوزل لیٹر سامنے لے کر آئے ہیں جس کی کریڈبیلٹی اور Authentication پر کئی ایک سوالات تو اپنی جگہ موجود ہیں، اور سابقہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اعتماد کرنا بھی قدرے مشکل ہے مگر پھر بھی دلی دعا ہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح ہمارے ساتھ ایک بار پھر دھوکہ اور فراڈ نہ ہو بلکہ "خدا کرے اب کی بار سچ ہو” اور تلہ گنگ ضلع کا قیام ہمارا مقدر بنے، ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء ترقی و خوشحالی بھی تلہ گنگ ضلع کے قیام سے جڑی ہے۔

  • ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔

    آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔

    اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔

    پہلا بیانیہ:

    سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟

    بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!

    ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!

    اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔

    اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟

    اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔

    دوسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟

    پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔

    تیسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

    آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔

    اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟

    اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔

    اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔

    اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔

  • روجھان کی عوام  کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر

    روجھان کی عوام کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر

    روجھان کی عوام کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر
    تحریر : ضامن حسین بکھر
    رودکوہی سیلابی ریلوں کے بعد روجھان میں مختلف کے سنگین مسائل کا شکار ہو گیا ہے ،ان مسائل کے حل کے لئے روجھان کی عوام روجھان کی سیاسی قیادت میر مزاری گروپ کے سرکردہ رہنما چیئرمین الیکٹرک پاور ڈویژن برائے اسٹینڈنگ کمیٹی رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری کی توجہ کی منتظر ہے،رودکوہی کے سیلابی ریلوں کے آنے کے بعد جنم لینے والی موجودہ صورتحال پر راقم الحروف کچھ اہم مسائل پر توجہ دلانا ضروری سمجھاہے.
    حالیہ رودکوہی کے سیلابی پانی کی وجہ سے روجھان کی مختلف سڑکوں پر پانی کے اخراج کے لئے اور علاقے اور عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے کٹ لگائے گئے جو روجھان کی سلامتی کے لئے سود مند ثابت ہوئے مگر دوران کٹ چوک ٹاور سہیجہ پھاٹک روڈ پر لگنے والے کٹس میں سے ایک پر ایکسیویٹر کی وجہ سے گیس پائپ لائن بھی کٹ گئی سوئی سدرن گیس کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ گیس پائپ لائن میں کٹ لگنے کی وجہ سے بیسیوں کیوبک فٹ قدرتی گیس کا ضیاع بھی ہوا، سدرن گیس کمپنی کو گیس کی سپلائی بند کرنا پڑ گئی کیونکہ لاکھوں روپے کی گیس ضائع ہورہی تھی اس وقت گیس کی بندش کے باعث روجھان سٹی کے سینکڑوں صارفین کو گیس کی سپلائی معطل ہے، گیس کی عدم سپلائی کے باعث صارفین کو شدید اذیت کا سامنا ہے تعلیمی اداروں میں جانے والے طلباء اور طالبات سرکاری ملازمین، کو سب سے زیادہ گھریلو صارفین کو اذیت و دشواری کا سامنا ہے گیس کی بندش کی وجہ سے سوختہ لکڑی 1300/1400 روپے من اور ایل پی جی گیس 350/400 روپے فی کلوگرام میں بھی دستیاب نہیں ہو پا رہی اس سلسلے میں روجھان کے شہریوں نے (گیس صارفین) نے رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری سے اپیل کی ہے کہ گیس پائپ لائن کو جلد از جلد مرمت کر اکر روجھان شہر کی گیس سپلائیبحال کرائی جائے تاکہ مہنگی لکڑی اور ناپید ایل پی جی گیس کی خریداری کی اذیت سے نجات مل سکے.
    روجھان میں رودکوہی سیلابی پانی سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس میں روجھان کے سیلاب زدہ مواضعات میں فصلات، جانی و مالی اور بیش بہا لاکھوں کے قیمتی جانوروں رودکوہی سیلابی ریلوں کی نظر ہو گئے ، سینکڑوں گھر منہدم ہوئے درجنوں بستاں صفحہ ہستی سے مٹ گئے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اوراب قسم پرسی کی حالت میں برلب سڑک پڑے ہیں جن کو آج بھی مشکلات کا سامنا ہے ضلعی و تحصیل انتظامیہ ،فلاحی اداروں، مخیر حضرات، ملکی و غیر ملکی عوامی سماجی مذہبی و دیگر انسانی حقوق کے اداروں اور حکومت پنجاب کی جانب سے متاثرین سیلاب کو امداد فراہم کی گی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے بروقت امدادی دی گئی ماسوائے روجھان سٹی کے مستحقین خواتین کے آپ کوبتاتاچلوں کہ روجھان سٹی میں کچی آبادیوں کے ساتھ ساتھ روجھان سٹی بھی مکمل طور پر سیلاب سے متاثرہواہے، سینکڑوں شہریوں نے ہجرت کی جنہیں پاک فوج اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، روجھان مکمل طور پر خالی کرایاگیا،رودکوہی کے سیلاب کے شہر میں داخل ہونے کے خدشات کے پیش نظر مفلس و نادار شہریوں نے قرض حسنہ لے کر بچوں اور اپنی فیملیز کی زندگیاں بچائیں یہ بات اظہر من شمس ہے کہ شہر روجھان کے داخلی اور خارجی راستوں سے رودکوہی کا سیلابی پانی داخل ہوتے ہوتے رہ گیا اگر داخلی اور خارجی راستوں کو مٹی سے بند نہ کیا جاتا تو آج روجھان میں بھی پانی کھڑا ہوتا اسی دوران طوفانی بارشوں اور سیم کی وجہ سے شہر میں کافی سارے مکانات کو مکمل توکہیں جزوی نقصان پہنچا اور متعدد مکانات گر گئے مطلب یہ کہ جہاں روجھان کے مواضعات کچی آبادیوں کو نقصانات اٹھانا پڑے وہاں پر روجھان سٹی میں بھی بے شمار نقصانات ہوئے، شہری آج بھی قرض حسنہ لینے کی وجہ سے مقروض ہیں ،دوسری جانب شہر میں دیہاڑی دار، سفید پوش طبقہ کو بڑی اذیت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے کیونکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم کی تحصیل روجھان کے مواضعات کے مستحقین خواتین کو ادائیگی کی گئی مگر روجھان سٹی اور اس کی ملحقہ کچی بستیوں جن کا بہت سارا نقصان ہوا ہے ان شہریوں اور کچی آبادی کے رجسٹرڈ مستحقین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم نہ ملنا سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے جن کے گھر بار اجڑ گئے جن کی پردہ دار متاثرین خواتین سڑکوں اور بندھوں پر برلب سڑک قسم پرسی کی حالت اور وقت کی ستم ظریفی کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہیں ان رجسٹرڈ مستحقین متاثرین سیلاب خواتین کو رقوم کی ادائیگی کر کے ان کے آنسو پونچھیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے ان کو رقوم کی ادائیگی کی جائے تاکہ ان کے دکھ کا بھی کچھ مدوا ہو سکے ، عوامی، سماجی، شہری، دیہی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام محترمہ شازیہ مری صاحبہ، رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری اور پنجاب کی صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ روجھان سٹی اور کچی آبادی کے رودکوہی سیلابی پانی سے متاثرین رجسٹرڈ خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کی اور دیگر ذرائع سے ادائیگی کی جائے تاکہ اس ملنے والی رقم سے اپنی ضروریات زندگی کی کچھ اشیاء کی خریداری کر کے اپنے تصرف میں لاسکیں.

  • سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات

    سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے)پیر سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 24 ستمبر کو تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔سالانہ عرس کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز 23 ستمبر کو جنڈیالہ شیر خان میں ہو گا اور تقریبات 25 ستمبر تک جاری رہیں گی۔

  • ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی

    ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی

    ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی۔

    باغی ٹی وی : ایک کار اور وین لیزنگ کمپنی ویناراما کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابقD1 مائیکرو چِپ ایک سیکنڈ میں 362 ہزار ارب آپریشن کر سکتی ہے جبکہ انسان کا دماغ 10 لاکھ ہزار ارب آپریشن فی سیکنڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس مائیکرو چِپ کے کام کرنے کی صلاحیت انسانی دماغ کے36 فی صد ہے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    کمپنی نے یہ پیش گوئی ماضی اور موجودہ ٹیسلا چِپس کا تجزیہ کرتے ہوئے کی جس میں کمپنی کو معلوم ہوا کہ مائیکرو چپس کی صلاحیت میں ہر سال 486 فی صد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ویناراما کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اس سال اپنی نئی D1 چِپ متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ چِپ ڈوجو سُپر کمپیوٹر پلیٹ فارم اور ٹیسلا کےآٹو پائلٹ سیلف ڈرائیونگ سسٹم کا اہم حصہ ہوگی۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا

    سائنس دانوں کا کافی عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مصنوعی ذہانت انسانی کی ذہنی صلاحیت سے سبقت لے جائے گی اگرچہ اس حوالے سے متعدد آراء پائی جاتی ہیں کہ ایسا کب ہوگا۔

    ویناراما کا کہنا ہے کہ اس بات کو ماننا پاگل پن نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں ہی انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔ فی الوقت مائیکروچِپس انسانوں کے دماغ کے سِناپسِز(اعصابی خلیوں کے درمیان جوڑ) کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق