الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی الیکشن میں اعلان کردہ تاریخ کو 12ربیع الاول کے دن آنے پر 16اکتوبر کو الیکشن کرانے کا دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے
باغی ٹی وی ،شیخوپورہ(محمدطلال )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے 4 حلقوں میں 9 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا،این اے 157 ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 209 خانیوال، پی پی 241 بہاولنگر میں پولنگ 9 اکتوبر کی بجائے 16 اکتوبر کو ہوگی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ تبدیلی عید میلادالنبی کی وجہ سے کی ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق 16 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی 8 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر پولنگ 16 اکتوبر کو ہوگی

Category: بلاگ
-

ضمنی انتاخابات کی تاریخ ایک بار پھر تبدیل
-

چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی
چونیاں تحصیل بھر کےنامور بڑے پرائیویٹ سکولوں نے بچوں کی فیسوں میں بڑا اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم اور کمپیوٹر لیب،سائنس لیب،پینے کاصاف پانی،لوڈشیڈنگ کی صورت میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام والدین پریشان،محکمہ ایجوکیشن آفیسرز خاموش تماشائی،شہریوں کا اعلیٰ حکام سے جلد نوٹس لے کر پرائیویٹ سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
باغی ٹی وی – (چونیاں سے عدیل اشرف کی رپورٹ) تفصیلات کیمطابق چونیاں تحصیل بھر میں موجود بڑے نامور پرائیویٹ سکول مالکان جنہوں نے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا بچوں کی فیسوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا لیکن بدلے میں بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں،موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہےجب کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے لیے کمپیوٹر لیب، سائنس لیب کی سہولت سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ کمیوٹر اور سائنس کا مضمون پہلی کلاس سے شروع ہوجاتا،معصوم بچوں کےپینے کے لیے صاف پانی کے سہولت نہیں، بجلی نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس یا جنریٹر کی سہولت نہیں بچوں کو شدید گرمی میں بیٹھنا پڑتا جبکہ فیسیں اتنی بھاری کہ ہر مہینےفیسیں ادا کرتے وقت والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ،آنکھوں میں بے پناہ سپنے سجائےوالدین سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں اسلیے بچوں کو بھیجتے تاکہ اچھے ماحول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم میسر آسکے لیکن سکول مافیا آئے روز فیسیں تو بڑھا رہے لیکن سہولیات کم کر کرتے جارہے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کےآفیسرز مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو بغیر چیک کیے این او سی جاری کر دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ تو بہتر تعلیم یافتہ ہیں لیکن سکولوں کا ماحول بہتر نہ ہونے کہ باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کو فوری بند کروایا جائے اور محکمہ ایجوکیشن کو وارننگ دے کر ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کے طرز پر اچھا تعلیمی ماحول فراہم کروائیں اور سرکاری اساتذہ کو بھی پابند کریں کے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں تو والدین پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے کو ترجیح دیں گے جس سےنہ صرف اچھی تعلیم میسر آنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول مافیا بھی کنٹرول ہو گا بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ماہانہ اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔ -

فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
تحریر:محمد ریاض
پاپا جی، ہم کون ہیں؟ بیٹا، کیا مطلب؟ پاپا جی ہمار ا کون سا مذہب ہے؟ بیٹا، ہم مسلمان ہیں۔ نہیں پاپا جی ہم کون ہیں؟ مطلب ہم بریلوی ہیں؟دیوبندی ہیں؟ شیعہ ہیں یا پھر وہابی؟بیٹا اس طرح نہیں کہتے، ہم صرف مسلمان ہیں،اگر کوئی آپ سے دوبارہ پوچھے تو آپ نے صرف یہی کہنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اچھا پاپا جی!! ویسے بیٹا آپکو یہ سب کیسے پتا؟ پا پا جی، میری کلاس میں میرا دوست مجھ سے یہ پوچھ رہا تھاکہ آپ لوگ کون ہیں؟بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں شیعہ ہیں یا پھروہابی؟ گزشتہ دنوں درج بالا سوال و جواب کی نشست بندہ ناچیز اور اسکے انگلش میڈیم سکول میں جماعت چہارم میں پڑھنے والے بیٹے محمد احمد ریاض کے درمیان ہوئی۔ بہرحال اس تحریر میں بندہ ناچیزکا اپنی اُس کیفیت کا یہاں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے کہ جس وقت میرا ننھا شہزادہ یہ سوالات پوچھ رہا تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ فرقہ پرستی ہمارے ہاں کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہ ننھے مُنھے بچے جنہوں نے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ان بچوں کے ابھی کھیلنے کودنے، شرارتیں کرنے کے دن ہیں اور قرآن مجید و فرقان حمید سیکھنے اور اسکے ساتھ ساتھ دین اسلام کی پیاری پیاری باتیں اور دعائیں سیکھنے کے دن ہیں ان ننھے منھے ذہنوں میں یہ فرقہ پرستی کون ڈال رہا ہے؟ اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چُرائی جا سکتیں کہ کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست پاکستان میں فرقہ پرستی سے نہ ہی ہماری مساجد و مدارس محفوظ ہیں بلکہ گھر، محلے، بازار، فیکٹریاں، رشتہ داریاں، سول سوسائٹی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بالفاظِ دیگر زندگی کے ہر شعبہ کے افراد اس مسئلے کا شکار ہوچکے ہیں۔ اپنے بیٹے سے اس تکلیف دہ نشست کے بعد میں نے اللہ کریم کا کروڑہاکروڑ شکر ادا کیا کہ اللہ کریم کی ذات نے بہت عرصہ پہلے ہی اِن مسائل سے بالا تر ہوکر ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار کر اتحادِ اُمت کے لئے کام کرنے کی مجھے توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ، میں تمام مسالک کے ساتھیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ الحمدللہ،میں بہت عرصہ سے مسلمانوں کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز ادا کرلیتا ہوں۔ چاہے وہ مسجد بریلوی مکاتبِ فکر کی ہو یا دیوبندی یا پھراہلحدیث۔ ہر مسلک کے امام کے پیچھے نماز ادا کرلیتا ہوں۔الحمدللہ میں اللہ کریم کی ذات پر پختہ ایمان و یقین رکھتے ہوئے نماز ادا کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہر مسلمان کے پیچھے میری نماز قبول ہوگی۔ اپنے ننھے شہزادے کیساتھ اس چھوٹی سی گفت وشنید کے بعد میں نے اللہ کریم کا اس بات پر بھی شکر ادا کیا کہ میں نے اسی کی توفیق اور عطا ء سے اپنے ننھے شہزادے کو مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کے مسائل سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے ننھے شہزادے کو اپنے علاقہ کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز کے لئے لیکر چلا جاتا ہوں۔نماز کے لئے جاتے ہوئے میرا بیٹا جس مسجد کی طرف اشارہ کرتا ہے میں اسکو اسی مسجد میں لیکر چلا جاتا ہوں۔کیونکہ جس دن میں نے ننھے شہزادے کو کہا کہ بیٹا اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جانا تو اس ننھے شہزادے کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات آئیں گے، جیسا کہ پاپا جی اس مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں جانا؟ تو یقینی بات ہے مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ بیٹا اس مسجد میں ہماری نماز نہیں ہوتی۔ بیٹے نے پھر اگلا سوال داغ دینا ہے کہ پاپا جی اس مسجد میں ہماری نماز کیوں نہیں ہوتی؟ اس سوال کے بدلے میرے پاس کوئی اور جواب نہیں ہوگا کہ بیٹا یہ مسجد بریلویوں کی ہے یا پھر دیوبندیوں یا وہابیوں کی ہے۔ ننھے دماغ نے پھر اگلا سوال کرنا ہے کہ پاپا جی یہ بریلوی، دیوبندی اور وہابی کون ہوتے ہیں؟ پھر یقینی بات ہے کہ میرے پاس ہر مسلک کے بارے میں منفی باتیں کرنے کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہ ہوگاکہ بچپن ہی میں اس ننھے دماغ میں مسلمانوں کی ہر جماعت کے بارے میں زہرآلود مواد کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا جائے۔میرا ننھا شہزادہ کسی مسجد میں اونچی آواز میں آمین کی آوازیں بھی سنتا ہے تو کسی جگہ پر کلمہ طیبہ اور درود و سلام کا باآواز بلند ورد بھی سنتا ہے۔کہیں پر سینے پر ہاتھ رکھے اور کہیں پر زیر ناف ہاتھ باندھے، کہیں پر رفع یدین کیساتھ تو کہیں پر بغیر رفع یدین کیساتھ فرزندان توحید کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔یاد رہے مسلمانوں کے درمیان نماز و دیگر عبادات کی ادائیگی میں اختلاف رائے صدیوں سے جاری ہے، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان اختلافات کی بناء پر دشمنی، نفرت، عداوت، دوریاں اور پھر اس سے بڑھ کر قتل و غارت گری جیسے فتنوں کو جنم دیا جائے۔ بندہ نا چیز برصغیر پاک و ہند کے جید علماء کرام سے چند ادنیٰ سے سوالات کرنے کی جسارت کرے گا کہ قرآن و احادیث کی کس مقدس کتاب میں بریلوی، دیوبندی یا وہابی مسلک کا ذکر درج ہے؟ کیا دِین اسلام کی تعلیمات ہمیں فرقہ پرستی سے روکتی ہیں یا پھر فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کی ترغیب دیتی ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے کہ برصغیر پاک و ہند کے تمام علماء کرام اپنی تمام تر توانیاں ہمارے ہاں پائی جانے والی خرافات، شرک و بدعات کا قلع قمع کرنے اور غیر مسلم افراد کو دین اسلام کی طرف راغب کرنے میں صرف کریں ناکہ اپنے اپنے مسالک کے دفاع میں دن رات ایک کردیں۔انتہائی ادب واحترام سے یہ بات کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اپنے آپکو مسلمان کہلوانے سے زیادہ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث کہلوانے میں زیادہ فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اللہ کریم مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کو فرقہ پرستی سے بالا تر ہوکر مسلمان کی حیثیت سے اُمت کے اتحاد کے لئے جدوجہد کرنے کی ہمت، توفیق و استقامت عطا فرمائے اور باہمی محبت و الفت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین -

بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا
نیویارک: بلیو اوریجن کمپنی کا چاند پر جانے والا خلائی مشن بوسٹر فیلئیرکے سبب حادثے کا شکار ہوگیا-
باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کےمطابق بلیو اوریجن کےخلائی سیاحت کے منصوبے کی تین کامیاب پروازوں کے بعد خلا نورودوں کے بغیر چوتھی خلائی پرواز روانہ کی، جو کچھ دیر بعد ہی حادثے کا شکار ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق بلیو اوریجن کے خلائی مشن میں کوئی خلا نورد شامل نہیں تھا، بغیر مسافروں والےنیو شیپرڈ راکٹ کولانچنگ کے کچھ دیر بعد ہی بوسٹر فلئیرکا سامناکرنا پڑا تاہم متعارف کرایا جانے والا کریو اسکیپ سسٹم کامیاب رہا، جس کے باعث راکٹ سے منسلک کیپسول بحفاظت زمین کی طرف لوٹ گیا۔
Booster failure on today’s uncrewed flight. Escape system performed as designed. pic.twitter.com/xFDsUMONTh
— Blue Origin (@blueorigin) September 12, 2022
100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کمپنی نے جاری بیان میں کہا کہ آج بغیر عملے کی فلائیٹ کو بوسٹر فیلئیر کا سامنا رہا تاہم اسکیپ سسٹم نے توقع کے مطابق کام کیا حادثے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق کریو اسکیپ سسٹم کا مؤثر انداز میں کام کرناکامیابی ہے،بلیو اوریجن کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے خلائی مشن کیلئے کی جانے والی تحقیق میں دنیا بھر کے طالبعلم شریک ہیں۔
واضح رہے کے بلیو اوریجن مشہور آن لائن ویب سائیٹ ایمزون کےمالک جیف بزوز کی ملکیت ہے ۔
جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی
-

پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا
جنوبی کوریا نے پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل اور میٹا کمپنیوں پر 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا ہے-
باغی ٹی وی : جنوبی کوریا کے پرسنل انفارمیشن پروٹیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل پر 5 کروڑ ڈالرز اور میٹا پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد
بیان کے مطابق دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے صارفین کی اجازت کے بغیر ان کی ذاتی تفصیلات کو اکٹھا کرکے اشتہارات کے لیے استعمال کیا تحقیقات سے ثابت ہوا کہ دونوں کمپنیاں اپنے صارفین کی جانب سے ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال کو مانیٹر کرتی ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کے انٹرنیٹ صارفین (گوگل کے 82 فیصد اور میٹا کے 98 فیصد) نے لاعلمی میں دونوں کمپنیوں کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت دی۔
جنوبی کورین کمیشن کے فیصلے پر میٹا کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگرچہ ہم کمیشن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے صارفین کے ساتھ قانونی طریقے سے کام کررہے تھے اسی وجہ سے ہم کمیشن کے فیصلے سے متفق نہیں اور عدالت سے رجوع کرنے سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔
گوگل کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد
2021 میں بھی جنوبی کوریا نے موبائل آپریٹنگ سسٹمز اور ایپ مارکیٹس میں اجارہ داری قائم کرنے پر گوگل پر لگ بھگ 18 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
دوسری جانب حال ہی میں آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے میٹا کی ذیلی کمپنی انسٹاگرام پر جنرل ڈیٹا پروٹیکشن قواعد (GDPR) کی خلاف ورزی کرنے پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے-
آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اس نے انسٹاگرام پر بچوں کے ڈیٹا کو ہینڈل کرنے سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ریکارڈ 405 ملین یورو جرمانہ کیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے انسٹاگرام پر بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی یعنی بچوں کے ای میل ایڈریس اور فون نمبر شائع کرنے کی وجہ سے عائد کیا گیا یہ جرمانہ میٹا کی کسی بھی ذیلی کمپنی پر اس سے قبل لگائے جانے والے جرمانے سے زیادہ ہے۔
واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد 17 سالہ لڑکے نے خوف سے خود کشی کر لی
میٹا ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات پُرانی سیٹنگز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئیں جن کو کمپنی کی جانب سے ایک سال قبل اپ ڈیٹ کردیا گیا تھا اور تب سے اب تک کمپنی نے کئی نئے فیچر متعارف کرائے تاکہ نوعمروں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے اور ان کی معلومات خفیہ رہے۔
ترجمان نے کہا تھا کہ 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص جب انسٹاگرام میں شامل ہوتا ہےتو ان کا اکاؤنٹ خود بخود پرائیویٹ ہو جاتا ہے، اس لیے صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں،اور بالغ افراد ان نوجوانوں کو پیغام نہیں بھیج سکتے جو ان کو فالو نہیں کرتے ہیں کمپنی اس بات سے متفق نہیں کہ جرمانے کا حساب کیسے لیا گیا اور وہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
-

جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔
پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔
اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔
یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔
ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔
کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔
یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔
ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔
پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔
ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔
اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔
حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔
اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔
-

کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن
کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔
کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔
کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔
یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔
یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔
1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔
جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔
وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔
آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔
-

"پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.
اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.
اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.
کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.
اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.
اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
-

آج کے مبصر بھی کبھی کھلاڑی تھے — سیدرا صدف
سابق کھلاڑیوں نے بھی میدان پر برا دن گزارا ہے۔۔۔ وسیم, وقار,شعیب, انضمام اور حفیظ وغیرہ کی پرفارمنسزز بھی پاکستان کی شکست کا باعث بنتی رہی ہیں۔۔۔
ریٹائرڈ ہونے کے بعد کھلاڑی بھول جاتا ہے کہ میدان میں برا دن اس پر بھی آیا تھا۔۔۔۔۔تنقید کوئی عام انسان کرے تو سمجھ آتا ہے لیکن کچھ سابق کھلاڑیوں کی اپنے خراب دن بھلا کر موجودہ کھلاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ تنقید افسوسناک ہے۔۔۔۔
چند میچز یاد کریں تو پاک بھارت ٹی ٹوئینٹی میچ 2012 اور 2014 میں محمد حفیظ نے بطور کپتان بالترتیب 53 اور 68 کے اسٹرائیک ریٹ سے دونوں مقابلوں میں 15 اسکور کیا تھا۔۔۔۔دونوں میچز میں ٹیم پاکستان کو انتہائی شرمناک یکطرفہ شکست ہوئی تھی۔۔۔
1996 اور 1999 ورلڈکپ میں سپر اسٹار کھلاڑیوں سے بھری ٹیم ناک آؤٹ مقابلے ہار گئی تھی۔۔بھارت سے شکست ہوئی تھی۔۔۔ورلڈکپ 2003 میں ٹورنمنٹ کا بہترین باؤلنگ یونٹ خراب باؤلنگ اور فیلڈنگ سے بھارت کے خلاف 273 کا دفاع نہ کر سکا تھا۔۔۔بہترین پاکستان ٹیم ورلڈکپ مقابلوں میں بنگلہ دیش اور ائرلینڈ سے ہاری ہے۔۔
پاکستان بھارت سے پچاس اوور ورلڈکپ کے سات جبکہ 20 اوورز ورلڈکپ کے ایک ٹائی سمیت چار مقابلے ہارا ہے۔۔ورلڈکپ مقابلوں کی مجموعی پرفارمنس دیکھیں تو پاکستان ایک بار چمپیئن جبکہ سات بار ناک آؤٹ مقابلے میں باہر ہوا۔۔۔۔
ایشیا کپ ٹورنمنٹ میں صرف 2010 سے 2018 تک پاکستان بھارت سے پانچ مقابلے ہارا جبکہ ایک فتح آفریدی کے یادگار چھکوں نے ہماری جھولی میں ڈالی۔۔ ایشیا کپ ہم صرف دو بار ہی جیت سکے جبکہ ہمارے ٹیم میں نامی گرامی کھلاڑی ہوتے تھے۔۔۔
موجودی کھلاڑیوں نے ایک سال میں بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تین مقابلے کیے اور دو جیتے ہیں۔۔۔بابراعظم وہ پہلے پاکستانی کپتان جنکی قیادت میں ٹیم نے بھارت کو ٹی ٹوئینٹی ورلڈکپ مقابلے میں شکست دی۔۔۔۔۔ایشیا کپ کے دونوں میچز لڑ کر کھیلے۔۔۔۔۔
پاکستان نے 2017 میں بھارت کو ہرا کر چمپئنز ٹرافی ضرور جیتی تھی لیکن اسکے بعد پاکستان بھارت سے ایشیا اور ورلڈکپ کے تین مقابلے یکطرفہ ہار گیا تھا۔۔۔فائیٹ ہی نظر نہیں آئی۔۔۔
بابر اور اس ٹیم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔۔۔غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہے۔۔۔۔ٹیم سلیکشن میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنی ہے۔۔۔
لیکن ہم تجربہ کار کھلاڑیوں اور کپتانوں کے ہوتے بھی شکست دیکھ چکے ہیں۔۔حالانکہ تب شکست کی وجوہات زیادہ سنگین تھیں۔۔۔میچ فکسنگ, گروپنگ, کپتانی کے جھگڑے وغیرہ۔۔۔یہ ٹیم خراب کھیل کر ہاری ہے۔۔۔۔غلط سلیکشن کا نتیجہ بھگتا ہے۔۔۔کپتان,کوچ اور کھلاڑیوں کو بھی پتہ ہے۔۔۔تھوڑا وقت دینا چاہیے۔۔۔اگر غلطیاں دہرائی جاتی ہیں تو تنقید جائز ہو گی۔۔۔باقی پسندیدگی پر مبنی سلیکشن بھی سابق کھلاڑیوں کا دیا ہوا کلچر ہے۔۔مجھے امید ہے جلد ختم ہو جائے گا۔۔۔ -

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر
اگر مجھے یہ پوچھا جائے کہ ضیغم قرآن پاک میں سے تمہاری پسندیدہ آیت کونسی ہے تو میں لا محالہ آنکھیں بند کئے پڑھ دونگا کہ
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)
کیونکہ قرآن پاک میں میری موسٹ فیورٹ آیت یہی ہے۔ میرے نزدیک یہ آیت آیت نہیں ایک فلسفہ حیات ہے۔
وہ فلسفہ حیات جسے سمجھتے ہوئے ہم اکثر عمریں بیتا دیتے ہیں۔ لیکن ہم وہ باتیں سمجھ نہیں پاتیں۔ لیکن اکثر لوگوں کیساتھ یہ ہوتا ہے کہ ان کو کچھ بتانے والے بتا جاتے ہیں اور وہ جہاں عمر بھر کی محنت کرنے سے بچ کر ایک چیز سیکھ جاتے ہیں تو وہیں ان کو بہت سی ایسی غلطیوں سے بچنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔
یہ آیت کیا ہے؟
یہ آیت دراصل ایک درس ہے۔ زندگی جینے کا درس، اس کا سادہ ترجمہ یہی ہے کہ انہیں نا خوف ہوتا ہے نا وہ غمگین ہوتے ہیں مطلب انہیں کوئی غم یا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔
لیکن یہاں خوف کس کا ہوتا ہے اور اندیشہ کیونکر لاحق ہو جاتا ہے یہ جاننا بہتر ہے اور یہ دو سال پہلے ایک کال ڈسکشن پہ جاننے کی کوشش ہوئی۔
بتانے والے نے بتایا کہ غم ہمیشہ ماضی کا ہوتا ہے۔ وہ غم جو ہمیں ڈراتا ہے، ماضی کی باتوں سے، ان لمحوں سے جو ناپسندیدہ ہوں، جو ہماری چاہ سے ہٹ کر گزرے ہوں یا وہ امکانات جو ہماری دسترس میں نا آسکے ان کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ یہ غم ہمیں ساری زندگی ایک پنجرے میں مقید کئے رکھتا ہے۔
بہتے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماضی سے نہیں نکل سکتے ان کو انکا ماضی اپنے سحر میں جکڑے ڈستا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کہانیوں میں آپ نے سنا ہوگا کہ کوبرا آپ کو ہپناٹائز کرکے ڈستا ہے۔ یہ ماضی بھی آپ کو ہپناٹائز کرتا ہے اور پھر تب تک ڈستا ہے جب تک موت نہیں آ جاتی۔ آپ کا ہر لمحہ تکلیف میں گزرتا ہے ہر سیکنڈ کرب میں گزرا سیکنڈ ہوتا ہے۔
وہیں جن میں یہ غم نہیں ہوتا ان میں خوف ہوتا ہے۔ خوف کس چیز کا ہو سکتا ہے؟ اور مستقبل ہی کیوں اس خوف کی بہترین تفسیر ہو سکتا ہے؟ اس لئے کہ یہ بھی ساحر ہے، غم سے بڑا ساحر، جو آپ کو مقید کئے رکھتا ہے ان اندیشوں میں جو نا ہوئے واقعات کو اپنی لپیٹ میں لیکر آپ کی سانس تنگ کر رہے ہوتے ہیں ان لمحات کے اندیشے جو کبھی ہو ہی نہیں سکتے، یہ اگر مگر کیسے کی سوچ ہے جو ان اندیشوں کی بنیاد رکھتی ہے۔
اب یہاں وہ لوگ کون ہیں جو یہ خوف نہیں رکھتے، یہ غم نہیں رکھتے؟ یہ لوگ دراصل خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہیں قرب خداوندی حاصل ہے وہ ماضی کے خوف سے مبرا اور مستقبل کے اندیشوں سے خالی ہو کر جیتے ہیں۔
انہیں غم نہیں ہوتا کہ ماضی کیا گزرا ہے اور خوف نہیں ہوتا کہ مستقبل کیسا ہووے گا۔ وہ اس غم سے نکل چکتے ہیں کہ کاش ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور وہ اس اندیشے سے چھٹکارہ پا چکے ہوتے ہیں کہ اگر یوں ہو جائے تو۔ وہ بس حال میں جیتے ہیں وہ حال جو ماضی کے پچھتاوں اور مستقبل کے اندیشوں سے پاک ہو۔ وہ ایک پرسکون حال میں جیتے ہیں جس میں مستقبل کی تیاری تو ہوتی ہے مگر خوف نہیں ہوتا۔ وہ ایک پرسکون زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کون کتنا خدا کے قریب ہے اور کون نہیں نا ہی مجھے یہ جاننے کی تمنا ہے مگر مجھے اتنا علم ضرور ہے کہ یہ آیت ایک گتھی سلجھا چکی تھی وہ گتھی جو زندگی کی ڈوروں نے الجھا کے رکھی ہوئی تھی۔ مستقبل یا ماضی کے اندیشوں اور خوف سے آزاد ہو کر جینا ہی اصل جینا ہے۔