Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز — ستونت کور

    لوسڈ ڈریم اور سلیپ پیرالسز کا تجربہ دنیا میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ، یا اکثر ہوتا ہے ۔

    لوسڈ ڈریم سے مراد ایسا خواب ہے کہ جس میں انسان کو علم ہو کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔اور سلیپ پیرالسز سے مراد وہ کیفیت ہے جب انسان نیند یا خواب کی کیفیت میں ایسا منجمد ہو جائے کہ نہ تو خواب ٹوٹ رہا ہو اور نہ ہی آنکھ کھل رہی ہو ۔

    ۔۔۔۔۔حیرت انگیز طور پر ابھی چند منٹ قبل میرے ساتھ یہ دونوں واقعات بیک وقت رونما ہوگئے۔۔۔۔

    ہوا کچھ یوں کہ حسبِ معمول میں آج صبح بھی جلدی جاگ گئی مگر الرجی کی وجہ سے طبعیت سخت ناساز تھی (اور اب بھی ہے ) چنانچہ جاگنے کے ایک گھنٹہ بعد پھر سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ سونے سے قبل میں نے اپنا موبائل چارجنگ لگا دیا ۔۔۔۔ اور جب آنکھ لگی تو انتہائی پیچیدہ قسم کا تہہ در تہہ کا ایک لوسڈ ڈریم درپیش تھا ، اور وہ کچھ یوں کہ اس خواب میں میں اسی کمرے میں اسی جگہ سورہی اور مجھے اس بات کا ہلکا سا شک ہورہا کہ میں خواب کی کیفیت میں ہوں ۔۔۔۔اب۔۔۔۔۔۔ماہرین کے مطابق چند ایسے طریقے ہیں کہ جن سے ہم پتا چلا سکتے ہیں کہ ہم خواب میں ہیں یا حقیقت کی دنیا میں ۔۔ مثلاً اپنے ہاتھ کو دیکھیں اور اپنی انگلیاں گننے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر آپ خواب دیکھ رہے ہیں تو کبھی انگلیاں گن نہیں پائیں گے ۔

    اسی طرح گھڑی پر نظر دوڑائیں۔۔۔۔ اگر خواب میں ہے تو کبھی بھی گھڑی سے وقت نہیں دیکھ پائیں گے ۔

    کوئی کتاب یا اخبار پڑھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ اگر خواب کی کیفیت میں ہیں تو نہیں پڑھ سکیں گے ۔

    اور مجھے یہ سب یاد تھا چنانچہ میں نے پہلے رئیلٹی چیک یعنی ہاتھ کی انگلیاں گننے کی کوشش کی اور میں نہیں گن پائی ۔۔۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میں لوسڈ ڈریم کی کیفیت میں ہوں اور یہ کہ اب مجھے جاگ جانا چاہیے (لوسڈ ڈریم جتنا مختصر رہے اتنا ہی بہتر ہے طویل لوسڈ ڈریم آگے چل کر سلیپ پیرالسز کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے ۔ اکثر و بیشتر ۔)

    چنانچہ میں نے ہمت کی اور جاگ اٹھی ۔۔۔۔ اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ میں پوری طرح سے بیدار ہوں ، میں نے کمرے میں وال کلاک نہ ہونے کی وجہ سے موبائل پر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے فیسبک نوٹیفیکیشنز پر نظر پڑ گئی اور اس میں کھو گئی۔۔۔۔ 5,7 منٹ تک فیسبک پر کھوئے رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ” باجی موبائل تو تم نے چارجنگ پر لگا رکھا تھا۔”

    اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا لوسڈ ڈریم ٹوٹا نہیں بلکہ اس کے میرے ساتھ ” پرینک” کردیا ہے ۔۔۔ چنانچہ سب کی بار میں اٹھی ، اور موبائل کو چارجنگ پہ لگا دیکھ کر یقینی بنایا اس بات کو کہ اب دوبارہ میرے ساتھ پرینک نہ ہو جائے ۔۔۔ پھر میں بستر سے اٹھی اور باہر لاونج کی طرف بڑھ گئی ، لاونج میں میرا بھائی بیٹھ کر ٹی-وی دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔

    اب آپ کو لگے لگا کہ شاید میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی لیکن خدا کو گواہ بنا کے کہہ رہی کہ جب میں نے بھائی کی طرف نظر ڈالی تو ان کا چہرہ بدل گیا ، جیسے کوئی شخص بیٹھا ہو پھر اگلے چند سیکنڈ میں بار بار ان کا چہرہ تبدیل ہونے لگا اور یہ پراسیس اتنا تیز تھا کہ آخر میں ایک چہرے پر چار مختلف نقوش تھے مثلاً ایک گال مختلف شخص کا دوسرا کسی اور شخص کا پیشانی اور بال الگ الگ اشخاص کے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ "باجی جی آپ کا سرے سے کوئی بھائی ہے ہی نہیں۔”

    اور میں فوراً واپس پلٹی کمرے کی طرف ۔۔۔۔۔ اس کے بعد کم از کم۔۔۔۔ کم ازکم پندرہ سے بیس الگ الگ خواب اسی طرح تہہ در تہہ پیاز کی پرتوں کی طرح ایک دوسرے سے اترتے رہے ۔۔۔۔ ہر مرتبہ مجھے یہ ادراک ہوتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں اور ہر مرتبہ میں جاگنے کی کوشش کرتی لیکن جاگنے کے بجائے اگلے خواب میں دھکیلی جاتی تھی ۔

    ان میں سے کچھ خواب تو بےانتہا مضحکہ خیز تھے ۔

    اب میں جاگ چکی ہوں اور اطمینان سے اپنی انگلیاں دوبار مرتبہ گن کر دیکھ چکی اور اپنے جاگنے کو یقینی بنانے کے بعد یہ تحریر لکھ رہی ہوں ۔۔۔ لیکن پھر بھی لاشعوری طور پر مجھے یہ خدشہ ستا رہا ہے کہ یہ نہ ہو کہ جب میں پھر سے جاگوں تو فیسبک پر یہ پوسٹ موجود نہ ہو گویا یہ بھی ایک اور لوسڈ ڈریم ہو۔

  • شریکا 2030!!! — عارف انیس

    شریکا 2030!!! — عارف انیس

    پچھلے دنوں پڑوسیوں نے چپکے چپکے ایک کام کیا. میچ تو وہ ہار گئے. لیکن دوسری طرف بڑی چھلانگ مار دی.

    حال ہی میں، انڈیا نے برطانیہ کو دنیا کی پانچویں بڑی مالی طاقت کے رتبے سے ہٹا کر، یہ پوزیشن خود سنبھال لی ہے. اب تو لگتا ہے شاید ملکہ جی نے اسی بات کو دل سے نہ لگا لیا ہو. ہندوستان کی جی ڈی پی 3.535 ٹرلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے. اس کوارٹر میں اقتصادی گروتھ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ 13.5 فیصد ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک ہندوستان، جرمنی اور یورپ کو بھی پچھاڑ چکا ہوگا، اور امریکہ اور چین کے بعد تیسری مالی عالمی طاقت کی پوزیشن پر براجمان ہوگا.

    یاد رہے کہ اس فروری میں گوتم اڈانی 143 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے اور امیزان کے جیف بیزوس کو دوسرے نمبر سے پھسلوانے ہی لگا ہے.

    یارو، جب میزائل اور بم وغیرہ مقابلے کے بنا لیے تو مالی مسل بنانے میں کیا حرج ہے؟ میں انتظار کرتا رہا کہ شاید اس بڑی خبر پر کوئی لکھے گا، مگر لگتا ہے اپن کا انٹیلی جنشیا، ایشیا کپ دیکھنے میں مصروف تھا.

    ہندوستان میں ابھی بھی جہالت، بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن سے چالیس کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں. مگر نظر آ رہا ہے کہ اگلے بیس برس میں وہ خط غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے. اور یہ سب "معجزہ” پچھلے تیس برس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے.

    مسئلہ تو یہ ہے کہ آج ہم سمت بدلتے ہیں تو تیس برس بس پکڑنے میں لگ جائیں گے. مگر تیس برس بھی ٹھیک ہیں، چالیس برس ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

    کرکٹ کے علاوہ، ہم کیوں کھیل سے باہر ہوتے جا رہے ہیں؟ منگتے ہونا یا دھمکی دینے کے علاوہ اپن کے پاس اور کیا کچھ ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ ملتی جلتی مذہبی شدت، ایسی ہی فرسودہ بیوروکریسی، کٹا پھٹاانفراسٹرکچر اور بھرپور کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ، پڑوسی لوگ کدھر جا رہے ہیں اور ہم کدھر جارہے ہیں؟

    کدھر جارہے ہو، کدھر کا خیال ہے؟

    آپ کیا کہتے ہیں؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہم مالی سپر پاور بننے کی، ایشین بلی یا لگڑ بگڑ بننے کی بس کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ ابھی، اسی وقت کیا، کرنا ضروری ہے؟

    صبح صبح مورال ڈاؤن کرنے اور مشکل سوال پوچھنے پر معافی!

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پرائمری اسکول کے ایک کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے اور غلطی کو نہ دہرانے کے وعدے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم طالب علم کرسی پر بیٹھی بظاہر ناراض نظر آتی اپنی ٹیچر کو منا رہا ہے اور ٹیچر بار بار ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تم ہر بار وعدہ کرتے ہوئے اور پھر کلاس میں وہی کرنے لگتے ہو اب میں تم سے بات نہیں کروں گی۔
    https://twitter.com/Gulzar_sahab/status/1569327422000230400?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیچر کے اس طرح کہنے پر بچہ مزید پریشان ہو جاتا ہے اور وہ خفا ٹیچر کو منانے کی کوششیں اور تیز کردیتا ہےکبھی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کراتا ہے تو کبھی ان کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر چہرہ قریب لاتا ہے اور معافی مانگتا ہے وہ ایک موقع پر پیار بھی کرلیتا ہے۔

    بچے کو اتنا لاڈ کرتا دیکھ کر ٹیچر کا دل پگھل جاتا ہے اور وہ بچے سے غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لے کر اسے معاف کردیتی ہیں اور بچہ انھیں پیار کرتا ہے جس کے بعد ٹیچرایک بار پھر غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لیتے ہوئے بچے کو پیار کرتی ہے-


    اکثر صارفین نے بچے اور ٹیچر کے درمیان مضبوط جذباتی رشتے کی تعریف کی تاہم کچھ صارفین اپنے زمانہ طالب علمی میں ایسی ٹیچرز میسر نہ آنے پر آہیں بھرتے نظر آئے جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اگر مرد ٹیچر اپنی طالبعلم کے ساتھ اس طرح بی ہیو کرتا تو ویڈیو پر ایک مختلف ردعمل دیکھنے کو ملتا اساتذہ کے لیے یہ ایک مختلف قسم کی سنسنی ہے۔
    https://twitter.com/SoniAnkitK95949/status/1569385417971044353?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    https://twitter.com/CaugusteC/status/1569765354448236544?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    جس پر ایک صارف نے کہا کہ میں ایک لڑکا ہوں اور مجھے اس سے قطعی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہےلڑکیوں کے ساتھ ایسا کرنے والے مرد اساتذہ بدتمیز ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسئلہ نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو اس طرح کے اساتذہ کہاں تھے؟


    بعض صارفین نے ٹیچر کے اس عمل کو سراہا کہا کہ آپ کو ایک بہت بڑا سلام اور بہت زیادہ احترام محترمہ ایک استاد کا ایسا ہی ہونا چاہیئے بہت قریب آنے والا، پیار کرنے والا، نرم دل، بہت زیادہ صبر کے ساتھ ، بچے اس کے ساتھ بہت آرام سے رہیں۔


    ایک صارف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اسے پیشہ ورانہ مقابلے کے نام پر کھو دیا، امید ہے کہ کچھ دن ہم سب اس طرح کی انسان دوستی اور پیار بھری تعلیم کی طرف لوٹیں گے۔

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

  • چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم حضرت امام حسین ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس
    باغی ٹی وی – کندھ کوٹ(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر آفس میں چھلم امام حسین کے انتظامات کا۔ جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس بلوایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کشمور منورعلی مٹھیانی کا کہنا تھا کہ ہمارا ضلع ایک پرامن ضلع ہے۔ محرم الحرام مشترکہ تعاون اور امن سے گزرا جس میں علماء کا تعاون قابل تعریف ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف مکاتب فکر علماء کو مشورہ دیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔آپس میں امن اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر مختلف علماء نے چہلم کے دوران اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ جلوس میں سخت سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا ، پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور امن قائم رکھا جائے گا۔ گشت کو شہروں اور دیہاتوں تک بڑھایا جائے گا ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ چہلم کے جلوس کے مقررہ راستوں پر صفائی اور لائٹنگ کا انتظام کریں۔ سیپکو حکام کو ہدایت وه چہلم کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکرکے علما ، نے۔ بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔

  • 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

    LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


    اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

    تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق