Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے 3 گردوں کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیابی حاصل کی جو انتقال کرجانے والے افراد نے عطیہ کیے تھے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کو توقع ہے کہ اس پیشرفت سے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی میں اضافہ ہوسکے گا، بالخصوص ایسے افراد کے لیے جن کے لیے عطیہ کیے گئے گردوں کے میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    گردوں کو صحتمند رکھنے والی چند غذائیں

    تحقیق میں شامل پروفیسر مائیک نکلسن اور پی ایچ ڈی۔ طالبہ سیرینا میک ملن نے اس مقصد کے لیے normothermic perfusion machine نامی ڈیوائس کو انسانی گردوں سے منسلک کیا تاکہ اس عضو میں آکسیجن ملے خون کی گردش یقینی ہونے سے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ جاسکے۔

    بعد ازاں خون کو ایک انزائمے کے ساتھ خارج کردیا گیا، یہ انزائمے ایک مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتے ہوئے بلڈ گروپ کا تعین کرنے والے عناصر کو ختم کرکے اسے سب سے عام قسم O ٹائپ میں بدل دیتا ہے۔

    A بلڈ گروپ والے شخص کا گردہ B بلڈ گروپ والے شخص میں ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی دوسرے طریقے سے۔ لیکن خون کی قسم کو یونیورسل O میں تبدیل کرنے سے مزید ٹرانسپلانٹ ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ O کسی بھی بلڈ گروپ والے لوگوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    میک ملن نے کہا کہ "ہمارے اعتماد میں واقعی اضافہ ہوا جب انزائمے کے استعمال سے گردوں میں خون کے گروپ کا تعین کرنے والے اینٹی جینز بہت تیزی سے ختم ہوگئے اس کے بعد ہم جانتے تھے کہ یہ عمل ممکن ہے اور پھر ہم نے انسانی گردوں پر اس کی آزمائش کی۔

    ملن نے کہا کہ اس مقصد کے لیے B بلڈ گروپ والے انسانی گردوں میں مشین کا استعمال کرتے ہوئےبی گردوں میں انزائمے کو شامل کیا گیا ہم نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں وہ O قسم میں تبدیل ہو گیا-

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    یہ دریافت نسلی اقلیتی گروہوں کے لوگوں کےلیے خاص طور پراثر انداز ہوسکتی ہے جو اکثر کاکیشین مریضوں کے مقابلے میں ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک سال طویل انتظار کرتے ہیں۔

    اقلیتی برادریوں کے لوگوں کے پاس B قسم کا خون ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور ان آبادیوں کی طرف سے عطیہ کرنے کی موجودہ شرح کم ہونے کے باعث گردے کافی نہیں ہوتے کہ عطیہ کئے جا سکیں 2020/21 میں، اعضاء کےکل عطیات کاصرف 9فیصد سیاہ فام اور اقلیتی نسلی عطیہ دہندگان سے آیا جب کہ سیاہ اور اقلیتی نسلی مریض گردے کی پیوند کاری کی انتظار کی فہرست میں 33 فیصد ہیں۔

    اب کیمبرج ٹیم کی جانب سے یہ دیکھا جائے گا کہO گروپ میں منتقل کیے جانے والے گردے کسی مریض کے جسم میں کیسے کام کرتے ہیں-

    پرفیوژن مشین انہیں لوگوں میں ٹیسٹ کرنے سے پہلے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ وہ گردے لے سکتے ہیں جو O قسم میں تبدیل ہو چکے ہیں، مختلف خون کی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے مشین کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہ مانیٹر کر سکتے ہیں کہ گردہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کر سکتا ہے، جس میں ٹرانسپلانٹ کے عمل کو نقل کیا جا سکتا ہے۔

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    ٹرانسپلانٹ سرجری کے پروفیسر نکلسن نے کہا کہ عطیہ کیے گئے گردے کی پیوند کاری کی جانے والی سب سے بڑی پابندیوں میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ آپ کے خون کے گروپ کے مطابق ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خلیوں پر اینٹی جینز اور مارکر موجود ہیں جو A یا B ہو سکتے ہیں۔ آپ کا جسم قدرتی طور پر ان کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔

    "بلڈ گروپ کی درجہ بندی کا تعین نسلی بنیادوں پر بھی کیا جاتا ہے اور نسلی اقلیتی گروہوں میں بی قسم کے نایاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہےخون کے گروپ کو یونیورسل O قسم میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کے بعد، ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے طریقے طبی ترتیب میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور بالآخر ٹرانسپلانٹیشن تک لے جایا جاتا ہے۔

    کڈنی ریسرچ یو کے میں ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آئسلنگ میک موہن نے کہا،مائیک اور سرینا جو تحقیق کر رہے ہیں وہ ممکنہ طور پر گیم چینج کرنے والی ہے۔ ٹیم نے اتنے کم وقت میں جو پیشرفت کی ہے اسے دیکھنا ناقابل یقین حد تک متاثر کن ہے۔ ، اور ہم اگلے اقدامات دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔

    مٹر میں چھپے صحت کے راز

    میک موہن نے کہا کہ ایک تنظیم کے طور پر، ہم اس تحقیق کو فنڈ دینے کے لیے پرعزم ہیں جو علاج کو تبدیل کرتی ہے اور صحت کی ناہمواریوں سے نمٹتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اقلیتی نسلی گروہوں کےلوگ ٹرانسپلانٹ کے لیے زیادہ انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے خون کی قسم کے دستیاب اعضاء کے ساتھ میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق اقلیتی نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1,000 سے زیادہ لوگوں کے لیے امید کی کرن پیش کرتی ہے جو گردے کے انتظار میں ہیں ۔

    خون کی دوسری اقسام کو دوبارہ متعارف کرانے کی جانچ کرنے کے بعد، کیمبرج ٹیم یہ دیکھے گی کہ طبی ترتیب میں اس نقطہ نظر کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اتنے کم وقت میں بہت ترقی کر کے وہ مستقبل کے لیے پر امید ہیں۔

    مائیک اور سرینا کے کام پر مکمل دستاویز آئندہ مہینوں میں برٹش جرنل آف سرجری میں شائع ہوں گے فی الوقت یہ تحقیق کسی جریدے میں شائع نہیں کی گئی-

    کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?

  • واٹس ایپ کی  ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    کیلیفورنیا: دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ صارفین کے لیے ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے نیا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اینڈرائیڈ کے لیے جاری کی جانے والی واٹس ایپ بِیٹا اپ ڈیٹس میں زیرِ تکمیل ایک ایسا فیچر پیش کیا ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنے غلطی سے ڈیلیٹ کیے گئے میسجز دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان


    بعض اوقات صارفین کو میسج سب کے لیے ڈیلیٹ کرنا ہوتا ہے لیکن غلطی سے صرف اپنے لیے ڈیلیٹ کردیتے ہی جو اپنا پیغام غلطی سے ڈیلیٹ کرنے کے بعد واپس حاصل کرسکتےہیں یہ فیچر چند ایسے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو بیٹا ٹیسٹرز ہیں، اس فیچر پر فی الحال تجربہ کیا جارہا ہے اور اسی وجہ سے اب تک دیگر صارفین کی رسائی ممکن نہیں-

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    اب اس فیچر کے تحت اگر آپ نے مذکورہ میسج ڈیلیٹ فار می کردیا تو اچانک آپ کی اسکرین پر ایک نوٹیفکیشن موصول ہوگا جس میں آپ چند سیکنڈوں کی مہلت پر ’اَن ڈُو‘ کا ٹیب استعمال کرتے ہوئے میسج واپس لا سکیں گے اور آپ اسے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون ‘ کر سکیں گے۔

    اس فیچر کے حصول کیلئے پلے اسٹور میں جاکر واٹس ایپ بیٹا ورژن اپ ڈیٹ کریں، اگر اپ ڈیٹ کے باوجود یہ فیچر آپ کے واٹس ایپ پر نہ آئے تو پریشان نہ ہوں واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر آنے والے چند ہفتوں میں عالمی سطح پر متعارف کرادیا جائے گا۔

    ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

  • زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : دماغ میں کیمیائی عدم توازن اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میں یا تو ضرورت سے زیادہ یا ناکافی کیمیائی میسنجر ہوتے ہیں، جنہیں نیورو ٹرانسمیٹر کہتے ہیں نیورو ٹرانسمیٹر قدرتی کیمیکل ہیں جو آپ کے اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے کو آسان بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ مثالوں میں نورپائنفرین اور سیرٹونن شامل ہیں۔

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ دماغی صحت کی حالتیں، جیسے ڈپریشن اور اضطراب، دماغ میں کیمیائی عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ مفروضے کو بعض اوقات کیمیائی عدم توازن کا نظریہ یا کیمیائی عدم توازن نظریہ کہا جاتا ہے۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ کیمیائی عدم توازن تھیوری پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ دماغ میں نیوران کے درمیان بات چیت ڈپریشن کے بنیادی عمل میں ایک کردار ادا کر سکتی ہے تاہم، زیادہ تحقیق بتاتی ہے کہ نیورو ٹرانسمیٹر کا عدم توازن ڈپریشن کا سبب نہیں بنتا۔

    امریکی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب دماغ زیادہ دیر تک متحرک رہتا ہے تو ایسی شکل ڈھال لیتا ہے کہ اسے زیادہ محنت کی ضرورت پیش نہیں آتی، جس سے گلوٹامیٹ نامی کیمیکل کی گردش متاثر ہوتی ہے، انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اور کام کرنے کی تحریک کھو سکتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں ڈاکٹر میتھیاس پیسیگلیون نے مختلف نظریات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھکاوٹ دماغ کی طرف سے پیدا کیا گیا وہم ہے جو کسی بھی شخص کو کام کرنے سے روک کر اطمینان بخش سرگرمیوں کی طرف مائل کرتا ہے۔

    ایک اور نظریے کے مطابق جس طرح سخت مشقت جسمانی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے ایسے ہی ضرورت سے زیادہ سوچنا شدید ذہنی تھکن کا باعث بنتا ہے، جس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

    گلوٹامیٹ ایک نیورو ٹرانسمیٹر ہے جو دماغ میں حوصلہ افزا افعال کو متحرک رکھتا ہے دماغ کے بھرپور طریقے سے کام کرنے کے لیے جسم میں گلوٹامیٹ ہونا ضروری ہے لیکن یہ صحیح وقت اور صحیح ارتکاز میں ہونا چاہیے۔

    اگر جسم میں نیورو ٹرانسمیٹر کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو یہ نیورو ٹرانسمیٹر پارکنسنز، الزائمر اور ہنٹنگٹن جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    امریکی ریاست یوٹاہ کی ایئر فورس بیس کے قریب ایک جگہ سے 12 ہزار سال پُرانے انسانی قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کورنیل ٹری رِنگ لیبارٹری کے محقق تھامس اربن اور ان کے ساتھی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈیرون ڈیوک نے ان نقوش کی نشاندہی چلتی گاڑی میں کی تھامس اربن نے حال ہی میں نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز نیشنل پارک میں قدیم انسانوں کے قدموں کے نقوش کا مطالعہ کیا ہے۔

    تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جب میں نے چلتی گاڑی سے ان نقوش کی نشاندہی کی تب مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ انسانوں کے پیروں کے نشان ہیں تاہم، مجھے یہ علم تھا کہ یہ پیروں کے نشانات ہیں کیوںکہ یہ یکساں فاصلے پر متبادل ترتیب کے ساتھ تھے۔

    ایئر فورس کے بیان کے مطابق محققین کی ٹیم کے مدد سے اربن نے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار سے پرنٹ ریکارڈ کرنے کے لیے تکنیک کا تعین کیا جس کے بعد مشاہدہ کیے گئے نشانات سے زیادہ نشانات سامنے آئے۔

    بیان میں تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جس طرح وائٹ سینڈز میں نمی کی موجودگی میں نشانات دِکھتے تھے، یہاں بھی ہم نے ریڈار کی مدد سے کئی ناقابلِ دید نقوش کی نشاندہی کی سب ملا کر ٹیم نے بچوں سے لے کر بڑوں تک 88 نقوشِ پا دریافت کیے سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق قدموں کے یہ نشانات 12 ہزار سال پرانے ہیں۔

    ڈیوک نے کہا کہ وہ زمین پر صرف رنگین دھبوں کی طرح نظر آنے اور. چھوٹے پاپ اپس، ان کے ارد گرد یا ان پر گندگی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے درمیان مختلف ہوتے ہیں لیکن وہ قدموں کے نشانات کی طرح نظر آتے ہیں ۔

    اس دریافت کے بعد کچھ دنوں تک بہت محتاط کھدائی کی گئی تھی جس میں ڈیوک کبھی کبھی اپنے پیٹ پر پڑا رہتا تھا اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اتنا ہی پرانا تھا جتنا کہ ظاہر ہوتا ہے۔

    ڈیوک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو کچھ پایا وہ لوگوں کے ننگے پاؤں تھے جنہوں نے اتھلے پانی میں قدم رکھا تھا جہاں مٹی کی ایک ذیلی تہہ تھی جس لمحے انہوں نے اپنا پاؤں باہر نکالا، اس میں ریت بھر گئی اور اسے بالکل محفوظ کر لیا۔

    نیواڈا میں مقیم فار ویسٹرن اینتھروپولوجیکل ریسرچ گروپ کے ڈیوک، شوشون کے ذریعہ بنائے گئے کیمپ فائر کے شواہد کی تلاش میں اس علاقے میں تھے، جن کی اولاد اب بھی مغربی ریاستہائے متحدہ میں رہتی ہے۔

    ڈیوک نے کہا کہ وہ اس علاقے کو ایک "کھوئے ہوئے نخلستان” کے طور پر کہتے ہیں کیونکہ بہت زیادہ دلدل کا علاقہ "آج کے بنجرگراؤنڈ سے” بہت مختلف نظر آتا۔

    انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آج ہمیں عظیم سالٹ لیک اور صحرائی مغرب میں پانی کی کمی کے ساتھ چیلنجوں کا سامنا ہے، یہ علاقہ ماضی کی ایک قریبی مثال کے طور پر کام کرتا ہے کہ چیزیں کس طرح اچانک تبدیل ہو سکتی ہیں۔

    تھامس اربن نے کہا کہ یہ شمالی امریکہ کے رہائشی مقامی لوگ ہیں؛ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتے تھے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ آج بھی رہتے ہیں،میرے لئے ذاتی طور پر، قدموں کے نشانات تلاش کرنا ایک پیشہ ور اعلیٰ مقام رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک بار جب میں نے… محسوس کیا کہ میں انسانی قدموں کے نشان کھود رہا ہوں، مجھے انگلیاں نظر آ رہی ہیں، میں چیز کو بے عیب حالت میں دیکھ رہا ہو. میں اس سے ایک طرح سے حیران رہ گیا،

  • ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

    ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

    سان فرانسسکو: ٹیکسٹ ٹو امیج اے آئی سسٹمز اس وقت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک میں بھی اس ٹیکنالوجی کا اضافہ کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بدولت ٹیکسٹ کو اس سے وابستہ تصاویر میں بنانے والی تصاویر اور امیج سازی کا تصور عام ہو رہا ہے ٹیکسٹ ٹو امیج اے آئی سسٹم میں لوگ اپنی پسند کی تصویر محض لکھ کرتیارکرسکتے ہیں، بس انہیں مطلوبہ تصویر کے لیے درست ٹیکسٹ تحریر کرنا ہوتا ہے جو اے آئی سسٹم فوٹو میں تبدیل کر دیتا ہے۔

    مختصر ویڈیو شئیرنگ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے حال ہی اے آئی گرین اسکرین کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے محض لکھ کر ایک تصویر بنانا ممکن ہے۔

    ’اے آئی گرین اسکرین‘ نامی یہ فلٹر بہت سے ممالک میں دستیاب ہے۔ ٹک ٹاک نے اسے ایک افیکٹ کا نام دیا ہے۔ اپنے نام کی طرح اگرچہ بننے والی تصویر اتنی اچھی تو نہیں ہوتی لیکن ٹک ٹاکر اسے بیک گراؤنڈ کی صورت میں شامل کرسکتے ہیں۔ چاہے وہ آڈیو ہو یا ویڈیو ہو، اسے دونوں طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کا یہ اے آئی سسٹم دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ اس طرح کے سسٹمز کے مقابلے میں بہت سادہ ہے اور زیادہ پیچیدہ تصاویر تیار نہیں کرسکتا اب بھی یہ گوگل کے ’امیجن‘ متن سے تصویر کاڑھنے والے سافٹ ویئر سے بہت پیچھے ہیں اسی طرح اوپن اے آئی اور ڈیل ای ٹو بھی اس سے آگے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ ایبسٹریکٹ آرٹ کے نمونے بناتا ہےاور تصاویر ڈولتی دکھائی دیتی ہیں اس طرح ٹک ٹاک دیکھنے والے گمان کرتا ہے کہ شاید وہ خوابوں کی تصاویر کی طرح کوئی تصویر دیکھ رہا ہے۔

    اس کے مقابلے میں دیگر ماڈل پر اگر آپ خلانورد لکھیں تو یا پانی میں پھول کی خواہش کریں تو وہ حقیقت سے قریب تر تصاویر بناتا ہے لیکن ٹک ٹاک فلٹر میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل تجزیہ نگاروں نے اسے خاص پسند نہیں کیا ہے لیکن ٹک ٹاک کا جنریٹر بہت تیزی سے تصاویر بناتا ہے جس کا اعتراف ماہرین نے بھی کیا ہے۔

    دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی نے اسے خود سادہ رکھا ہے کیونکہ جدید ماڈلز کے لیےزیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے اور لاگت بھی بڑھ جاتی ہے اسی طرح حقیقی نظر آنے والی تصاویر کا غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے-

    ٹک ٹاک کے اے گرین اسکرین فیچر سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے مین اسٹریم کا حصہ بن رہی ہے جس کو ابھی 2 سال بھی مکمل نہیں ہوئے مگر اب وہ ٹک ٹاک کے ذریعے کروڑوں افراد تک پہنچ گئی ہے۔

  • آزادی پاکستان  ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    آزادی پاکستان ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    خون کی وہ لکیر جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے علیحدہ وطن کا نقشہ کھینچا اور جن کے صدقے میں ہم آزاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں۔

    آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جنھوں نے کچھ کھویا ہوتا ہے یا جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کے جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔

    کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہیے کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔

    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔

    ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔

    14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے,پورا سال قوم پرستی فرقہ پرستی اور لیڈر پرستی میں بٹے یہ لوگ آزادی کے دن پاکستان کا پرچم ہاتھ میں پکڑے گلی گلی نعرے لگا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے فرض ادا کر دیا ہمارا کام گاڑی بائیک پہ بیٹھ کر محلے کے دو چکر لگانا اور باجے بجانا تھا بس.جبکہ 14 اگست کو سڑکوں پہ ڈھول تھاپ پہ جشن منانے والو کو آزادی کے وقت کی تصویریں دیکھاٸیں تو ان کو پتہ چلے کہ یہ دن ناچنے کا نہیں بلکہ شکرانے کے نوافل ادا کا دن ہے ،وہ آزادی جس کو ہم نے فراموش کر دیا غور سے دیکهیں ہم نے آزادی کیسے حاصل کی تهی.

  • "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    1947ء سے پہلے پاکستان برطانوی کالونی تھی۔

    ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔

    "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” اس تحریک میں جان ڈالنے والا اور مسلمانوں کو متحد کرنے والا اک مقبول نعرہ تھا۔

    اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناحؒ نے کی۔
    بانی پاکستان بابا جی محمد علی جناحؒ کی انتھک محنت اور اپنی بیماری کو دشمن دین و پاکستان سے چھپا کر دن رات محنت کی، اور پھر رب العزت نے مسلمانوں کو دنیا میں عزت دی اور 27 المبارک کی طاق رات 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔

    تقسیم برصغیر پاک و ہند کے دوران میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں 1948ء اور 1965ء میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔

    اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا بقول بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
    اسی شہہ رگ پاکستان کہ جس شہہ رگ کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے.

    اسی مقبوضہ قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے ہیں،

    لہذا پاکستان کو 1960ء میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا، جس کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاؤں، ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

    1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور اس کے علاوہ کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔

    جب ہم چھوٹے تھے تو 14 اگست کا انتظار عید کی طرح کرتے تھے، ہفتہ پہلے سے انتظار شروع ہوجاتا تھا اور پھر 13 اگست کی ساری رات صبح کے اجالے کا انتظار ہوتا تھا، صبح ہوتے ہی گھر میں ٹی وی نا ہونے کے باعث ہمسایہ کیطرف جا کر ٹی وی پر پریڈ دیکھنا،
    جھنڈیاں لگانا۔

    پاکستانی پرچم تھام کر نکل جانا۔ جشن منانا اپنے انداز میں آزادی کا۔

    شام کو جشن آزادی کے حوالے سے محلہ میں ہونے والے پروگرام میں شریک ہونا، پاکستان، پاک فوج، سے محبت بڑھ جاتی تھی۔تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے بارے سن کر جذبات ایسے ہوتے تھے کہ قلم کے ذریعہ بتانا ممکن نہیں،

    لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کے وجود اور اس پاکستان میں رہنے پر فخر محسوس ہوتا تھا۔

    اور دل و دماغ ہر وقت اس عظیم مملکت کیلئے ایسا کچھ کر جانے کو مچل جاتا تھا کہ لوگ اس قربانی پر مجھے پاکستانی کہنے پر فخر محسوس کریں اور اس پاکستان کے دشمنوں کا میرے نام سے پسینے چھوٹ جائیں۔

    وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے جدا ہوا

    عزت اسی کو ملی جو وطن پہ قرباں ہوا

    لیکن اک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جیسے ہی 14 اگست کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو اس کے بعد پورا سال پاکستانی پرچم والی لگی جھنڈیاں اور اور پرچم کے بے قدری شروع ہوجاتی ہے۔

    پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں گلیوں بازاروں میں پاؤں تلے روندی جاتی ہیں، گندی نالیوں میں گری پائی جاتی ہیں۔

    پاکستانی پرچم چھتوں پر پورا سال لگے رہنے اور حفاظت نا ہونے کے باعث پھٹ جاتے ہیں پھر یہ کہ پھٹے پرانے پرچم لہراتے ہوئے دیکھ کر دل چھلنی ہوجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ ہم ان افعال سے بچیں اور اپنے معصوم بچوں کی ذہن سازی کریں انہیں اپنے پیارے پرچم کی عزت کرنا سکھائیں، سمجھائیں۔

    آخر میں یہ ہی پیغام دونگا اپنی پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں کہ وہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں، آپ جس شعبہ سے بھی منسلک ہیں ایمانداری سے اپنے فرائض کو پورا کریں اگر آپ کا ایسا کوئی شعبہ ہے جس سے پاکستان کی ترقی و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ اپنے فرائض کو پوری ایمانداری سے نبھاتے ہوئے اس کام کیلئے اپنی جان لڑا دیں۔

    زندہ آباد پاکستان

  • ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    ملکی صورتحال اور اس کا سیاسی حل — نعمان سلطان

    بہت عرصہ پہلے ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام آتا تھا "man vs wild” ، اس میں ایک شخص کو کسی قسم کے حفاظتی انتظامات اور زندہ رہنے کے لئے درکار اشیاء کے بغیر صحرا، جنگل، پہاڑوں کی چوٹیوں، برفانی علاقوں اور ویرانوں میں الغرض جہاں کسی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر زندہ رہنا ناممکن ہو چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے ساتھ اس کی ٹیم کے دو یا تین ممبران ہوتے تھے جن کا کام صرف اس کی مشکلات سے مقابلہ کرنے کی کوشش، دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی صلاحیت اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے کسی قسم کی مشکل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقررہ وقت میں مقررہ جگہ پر صحیح سلامت پہنچنے کی عکس بندی کرنا تھا تا کہ وہ لوگ جو مشکلات میں پھنس کر ناامید ہو جاتے ہیں ان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی امنگ پیدا ہو.

    بظاہر جو سیاسی حالات نظر آ رہے ہیں اس وقت نوجوان نسل تحریک انصاف کے سحر میں گرفتار ہے، رہی سہی کسر مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے پوری کر دی ملک کے معاشی حالات ساڑھے تین سال میں جتنے خراب ہوئے انہوں نے چند مہینوں میں اس سے زیادہ خراب کر دیئے، عوام کے ذہن میں ایک تاثر مسلم لیگ نے بڑی محنت سے بنایا تھا کہ شہباز شریف "بہترین ایڈمنسٹریٹر” ہیں لیکن ان چند مہینوں میں ہونے والی خراب معاشی صورتحال اور غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار نے یہ تاثر ختم کر دیا لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ملک میں معاشی بحران تھا تو آپ تحریک عدم اعتماد کیوں لائے جب اسمبلی تحلیل ہو گئی تھی تو نئے الیکشن کی طرف کیوں نہیں گئے اور عوام سے فریش مینڈیٹ کیوں نہیں لیا ۔

    اس ساری صورتحال کا تحریک انصاف نے فائدہ اٹھایا اور عوام میں اپنا "رجیم چینج” کا بیانیہ مقبول کرایا، لوگوں کو یہ باور کرایا کہ ملک کی معاشی صورتحال ہمارے دور میں بہتری کی طرف گامزن ہو چکی تھی لیکن "رجیم چینج "کی وجہ سے حکومت تبدیل ہوئی اور ملکی ترقی کر ریورس گئیر لگ گیا وفاقی حکومت کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے جلتی پر تیل گرتا گیا اور مسلم لیگ کی مقبولیت میں کمی اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا ۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ فی الحال الیکشن کی صورت میں اپنے مقبول عوامی بیانیے کی وجہ سے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اب "man vs wild” کی طرح تحریک انصاف (الیکشن میں کامیابی کی صورت میں) اداروں کے لئے دستیاب ٹول(اوزار) بن گئی ہے، جس کو صحیح استعمال کر کے ہم ملک کو دوبارہ معاشی ترقی کی پٹری پر چڑھا سکتے ہیں، یاد رہے کہ اوزار بذات خود کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ یہ اسے استعمال کرنے والے کاریگر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس اوزار کا مثبت استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نفع بخش بناتا ہے یا منفی استعمال کر کے اسے انسانیت کے لئے نقصان دہ بناتا ہے، ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسے کسی کام کی حمایت نہیں کرے گی جو ملکی مفاد کے خلاف ہو اور ان کی حب الوطنی کسی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔

    اس وقت ہم معاشی بحران کا شکار ہیں اس سے نکلنے کی صورت صرف یہ ہے کہ مضبوط سیاسی حکومت ہو اور پالیسیوں کا تسلسل ہو، مضبوط سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں جاری سیاسی افراتفری کا خاتمہ ہو گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا تو وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں گے اس کے علاوہ اس سیاسی جماعت کے پاس پانچ سال کا وقت ہو گا تو وہ شروع کے سال میں سخت معاشی فیصلے بھی بآسانی کر لے گی جس کے ثمرات عوام کو وہ اپنی حکومت کے آخری سال میں دے کر عوامی حمایت حاصل کر لے گی اور پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے آنے والی حکومت کو نئے سرے سے پالیسیاں نہیں بنانا پڑیں گی اور یہی وقت حکومت دیگر ملکی امور میں صرف کر لے گی۔

    اگر "man vs wild” میں ایک شخص کسی قسم کی بیرونی مدد کے بغیر مشکلات سے بخیر و عافیت نکل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے تو ہمیں قدرت نے ہر طرح کے وسائل سے نوازا ہے ہم بھی متحد ہو کر ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اپنی ترقی کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ ہم ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر اکثریت کی رائے کو اہمیت دیں جیسے پاکستان ایک فرد واحد کی جدوجہد سے نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد سے حاصل ہوا ایسے ہی ہم بحیثیت قوم ترقی بھی اجتماعی جدوجہد سے ہی کر سکتے ہیں، اس وقت تحریک انصاف کو بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہو گئی ہے اور حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اعتماد میں لے کر مستقبل کے فیصلے کئے جائیں تا کہ باہمی اعتماد پیدا ہو جس کے خوشگوار اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مرتب ہوں گے ۔

  • باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    باغی تحریری مقابلہ – سوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ گلزارعالم

    پاکستان کو آزاد ہوئے 75 برس ہوچکے۔ اس آزادی پر ہم رب ذوالجلال کا جتنا شکر ادا کریں، کم ہے۔ یہ آزادی ہمیں لاکھوں مسلمانوں کی تن من دھن کی قربانیوں کی بدولت ملی ہے۔ گویا آج ان آزاد فضاؤں میں شہداء پاکستان ہم سے وفا کا تقاضا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ہماری قربانیوں کا پاس رکھنا۔

    شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں ، لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    قسم ہے تم کو اے سرفروشو لہو ہمارا بھلا نہ دینا
    وضو ہم اپنے لہو سے کر کے خدا کے ہاں سُر خرو ہیں ٹھہرے
    ہم عہد اپنا نبھا چلے ہیں ، تم عہد اپنا بھلا نہ دینا

    جب صبح سویرے "اللہ اکبر” کی صدا آپکے کانوں میں پڑتی ہے۔ اور دن رات پانچ دفعہ یہ کانوں میں رس گھولنے والے ابدی حقیقت پر مبنی کلمات آپ کے دل و دماغ کو سرشار کریں ، آپ بلا خوف و خطر مساجد کا رخ کرتے ہیں، اپنے پروردگار کی بندگی بجا لاتے ہیں، کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں، ہر مقام پر آزادی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں، وطن کے چپہ چپہ پر دل میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پیارا ملک پاکستان ہمارا ہے، تو یوں احساس ہوتا ہے کہ اس وطن عزیز کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کی ارواح ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے گویا ہیں کہ گو ہم یہ آزادی نہ دیکھ سکے مگر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ تم آزادی کی معطر فضاؤں میں جی رہے ہو، لہذا زبان حال سے کہی ہوئ ہماری وہ صدا یاد رکھنا:

    ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
    ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

    لہذا اگر ہم نے ان کے مقصد سے وفا نہ کی تو وہ ہمیں معاف نہیں کرینگے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، پاکستان کی اساس ہی کلمہ لاالہ الااللہ ہے، پاکستان جن روح پرور نعروں کی گونج پر بنا ہے، ان میں پہلا نعرہ یہ تھا: "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ”۔ لہذا مقاصد پاکستان میں پہلا مقصد اسلام کا عملی نفاذ ہے۔ اس مقصد میں کسی قسم کی کوتاہی وطن عزیز اور اور وطن عزیز کی خاطر لاکھوں قربانیوں کے ساتھ بدترین مذاق ہوگا۔

    ہم قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال رحمھمااللہ ،ان کے رفقاء اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے ۔ مگر ہم ان کی ارواح کو یوں تسکین دے سکتے ہیں کہ ہم ملک پاکستان کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یہاں نہ صرف مسلمانوں کو، بلکہ غیر مسلموں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم کا عملی مظاہرہ ہو، ہم نہ صرف نام کے بلکہ کام کے مسلمان بنیں۔ ہم صرف اللہ کو ماننے والے نہیں، اللہ کی ماننے والے بھی بنیں۔ مگر افسوس
    مالک تو سب کا ایک، مالک کا کوئ ایک
    ہزاروں میں نہ ملے گا،لاکھوں میں تو دیکھ

    آزادی کے پچھتر سال ہوچکے۔ آزادی کی اس نعمت پر شکر کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم وہ مقاصد حاصل نہ کرسکے جسکا خواب ہمارے بڑوں نے دیکھا تھا۔ جنکی وجوہات میری نظر میں یہ ہیں:
    1۔ یہاں اسلام کے نام پر سیاست تو کی جاتی ہے۔ اس کے عملی نفاذ کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں ہیں۔
    2۔ سود ایک لعنت ہے۔ باری تعالیٰ نے اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ اس لعنت کے ہوتے ہوئے اگر ہم معاشی ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔
    3۔ قومیں اپنی ہی پہچان بنا کر ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں انگریز کی ذہنی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

    اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

    لہذا ہم اپنے قومی لباس اور اردو زبان کو فروغ دیں۔ اور ہمارے طور طریقے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور رہیں گے۔ اسی نسبت سے جڑے رہنے میں ہماری کامیابی ہے۔ ورنہ ذلت اور رسوائ ہمارا مقدر ہے اور رہے گی۔

    4۔ عوام حکومت پر،اور حکومت پچھلی حکومت پر ساری خرابی کا ملبہ ڈالے تو یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہر فرد کو اس پیارے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    5۔ تعلیم ہماری اولین ترجیح ہو۔ کوئ معاشرہ بغیر تعلیم کے یا ناقص تعلیم کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے حکومت ہنگامی طور پر اقدامات کرے۔ اور یکساں معیاری نظام تعلیم کو فروغ دے۔ مگر عوام حکومت ہی کے آسرے پر نہ رہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت جدید وسائل کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے معیاری تعلیم کا حصول اب ممکن ہے۔

    6۔ قدرت نے اس ارض پاک کو بیشمار وسائل سے نوازاہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہے جو قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں بکثرت صحرا، سمندر ،پہاڑ اور دریا موجود ہیں مگر ان وسائل سے ہم فائدہ حاصل کرنے کے بجائے دوسری اقوام کی طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات بے حد ضروری ہیں۔

    7۔ ہم قائد کے تین نکات پر مبنی اس زریں اصول کو بھول گئے: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔ ہمارا ایمان اللہ کی ذات سے زیادہ امریکہ، آئ ایم ایف اور ڈالروں پر ہے۔ اس کو اقبال رحمہ اللہ نے یوں کہا:

    بتوں سے تجھ کو امیدیں،خدا سے نومیدی
    مجھ کو بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

    ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہے، قومی و لسانی تعصبات کے بدبودار نعرے اس پیارے ملک کو متعفن کرتے ہیں۔

    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    ہماری زندگی میں نظم و ضبط بھی ناپید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تمام اقوام ان اصولوں پر عمل کرکے ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں۔ اور ہم اپنے آباء و اجداد کے کارناموں پر بغلیں بجارہے، اور خود خواب غفلت میں ہیں۔ یہی صورتحال دیکھ کر اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا تھا

    تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو
    ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

    8۔ ہم سیاسی انتشار کا شکار ہیں۔ قومی مفاد پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہم اختلاف ضرور رکھیں۔ مگر اختلاف کے آداب کا خیال رکھیں۔ محض اختلاف کی وجہ سے فریق مخالف کی اچھی بات کا بھی رد کرنا درست رویہ نہیں ہے۔

    9۔ ہمارے ہاں قانون پر عملدرآمد صرف غریب کے لئے ہے۔ امیر اور شاہی طبقہ جب جس قانون کو اپنے قدموں تلے روند ڈالے، کوئ پوچھنے والا نہیں۔ قانونی بالادستی ہر حال میں لازم ہو۔ اس میں کوئ رعایت نہ ہو۔

    10۔ تمام ممالک سے بالعموم ، عالم اسلام سے بالخصوص ہمارے تعلقات ویسے نہیں رہے ، جیسے ہونے چاہئیں۔ جبکہ امن و امان اور ملکی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔

    الغرض ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا اللہ کا عظیم تحفہ ہے۔ اس کرہ ارض پر اور کوئ ملک ایسا نہیں ہے،جس کے دستور میں یہ بات ہو کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور اس ملک کا ہر دستور قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ یہ پیارا ملک پاکستان ضرور وہ مقاصد حاصل کریگا، جس کے لئے یہ بنا ہے۔ مگر ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کی دعا پر اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔ ویرحم اللہ عبدا قال آمینا ( اور اللہ ہر اس شخص پر رحم فرمائے جو اس دعا پر آمین کہے)

    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    باغی تحریری مقابلہ – دوم تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — حافظ شاہد محمود

    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن تم کوزندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک”

    14 اگست کو ہر سال ہم یوم آزادی مناتے ہیں بڑے بڑے جشن منعقد منعقد کیے جاتے ہیں ، اسلاف کی قربانیوں ، شہیدوں کی شہادتوں ، مظلوموں پر ڈھائی جانے والی تکالیف کا ذکر ہوتا ۔ پھر آذادی کی نعمت کا ذکر بھی ہوتا ہے ، لاکھ لاکھ شکر ادا ہوتا ہے ، ہزاروں سجدے ہوتے ہیں ، گھر گھر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے ، قومی پرچم کو سلامی دی جاتی ہے ، جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ، دل جوش و جذبے سے سرشار ہوجاتا ہے ، یہ وہ عظیم پرچم جو ہمارا تشخص اور پہچان ہے ہمیں اس کا پرسکوں سایہ مسلسل جدوجہد اور ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔

    1707 عیسوی میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا اس کے پوتوں کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزوں کی غلامی کا پٹہ مسلمانوں کے گلے میں پڑ گیا ، اس طوق غلامی نے ایمانی قوتوں کو کمزور کردیا ، اپنا ضمیر جاتا رہا ، اپنی فکر ختم ہو گئی ، پھر کیا تھا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ، کل تک جو برصغیر کے بے تاج بادشاہ تھے پابند سلاسل کردئیے گئے ، کالے پانیوں کی سزا دی گئی۔

    پھر کیا تھا اللہ تعالیٰ کو اسلامیان برصغیر پر ترس آگیا ، دعائیں قبول ہونے لگیں ، شہیدوں کی شہادتیں رنگ لانے لگیں ،ایمانی قوت جاگنے لگی ، اغیار کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں ، مسلمانوں کو ایسی ولولہ انگیز قیادت میسر آئی جو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید سے شروع ہوئی اور علامہ محمد اقبال سے قائد اعظم محمد علی جناح تک نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ، انہوں نے کہا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ، تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الااللہ ، لیکر رہیں گے پاکستان ، بن کر رہے گا پاکستان ، بالاآخر 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آگیا۔

    75 سال ہوگئے میرے وطن عزیز کو آزاد ہووے ، جس کے بارے اغیار کا خیال تھا کہ کچھ عرصہ بعد خود ہی ٹوٹ جائے گا ، لیکن آج پاکستان پوری قوت ، اپنی پوری آن ، بان اور شان کے ساتھ استحکام کی طرف بڑھتے ہووے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے۔

    میں مانتی ہوں کہ دشمن کو 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ، اس وقت اندرا گاندھی نے کہا تھا ہم نے نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ، لیکن آج حقیقت اس کے برعکس ہے ، لا الہ الا اللہ کا نظریہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہے ، پوری دنیا کے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایٹمی دھماکے پاکستان چاغی کے مقام پر کر رہا تھا اس وقت کشمیر و فلسطین کے بچے خوشیاں منا رہے تھے ، عالم اسلام میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔

    وطن عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہے ، لاکھوں جانوں کی قربانیاں کے بعد معرض وجود آنے والا مدینہ ثانی دنیا میں بہت بنیادوں پر منفرد مقام رکھتا ہے.

    ہمارے وطن کا دارالحکومت اسلام آباد دنیا کے دس خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں سے ایک ہے،ہمارے ملک کا جھنڈا دنیا کے حسین ترین جھنڈوں میں سے ایک ہے، پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پوری دنیا میں اول نمبر پر ہے، پاکستان میں ایشیاء کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے، پاکستان کا شمار دنیا کے ان چوٹی کے 4 ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ذہین ترین لوگ موجود ہیں، حال ہی میں ایک 9 سالہ پاکستانی طالبہ نتالیہ نجم نے کیمسٹری کے پیریوڈک ٹیبل کو 2 منٹ اور 42 سیکنڈ میں ترتیب دے کر ایک بھارتی پروفیسر کا ریکارڈ توڑ کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور واقعتاً ثابت کیا کہ پاکستانی لوگوں کاشمار دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں ہوتا ہے ،

    پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے کہ جہاں سب سے زیادہ ڈاکٹرز اور انجینئرز موجود ہیں، دنیا کا چوتھا سب سے بڑا انٹرنیٹ براڈ بنیڈ سسٹم ہمارے ملک میں موجود ہے، تربیلا ڈیم مٹی سےبنا دنیا کا عظیم ترین ڈیم ہے، چھانگا مانگا کا جنگل مصنوعی طور پر اگایا جانے والا سب سے بڑا جنگل ہے، دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس سسٹم ایدھی فاؤنڈیشن بھی ارض وطن میں ہی ہے،

    وطن عزیز پاکستان کو یہ نمایاں ترین اعزاز بھی حاصل ہے کہ، اس کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ خیرات، صدقات اور فلاحی عطیات والے ممالک میں سر فہرست ہے، پاکستان دنیا میں سب زیادہ جراحت / سرجیکل آلات اور فٹبال بنا کر بیچنے اور ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہے،پاک وطن میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان کھیوڑہ میں موجود ہے، مادر وطن اسلامی ممالک میں پہلا اور تسلیم شدہ ایٹمی ملک ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی یہیں موجود ہے، ارض وطن سیاحتی اعتبار سے دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادیوں کا موازنہ ان کےبے پناہ حسن اور خوبصورتی کی بناء پر، سوئٹزرلینڈ سے کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ادب اور فنونِ لطیفہ کا ایک عظیم ورثہ موجود ہے، فن مصوری ہو یا خطاطی، سنجیدہ نثر نگاری ،پاکستانی ملی نغمے آج بھی دنیا بھر میں مقبول اور پسندیدہ ترین ہیں۔

    پاکستان میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا آغاز برطانیہ میں ہوا اور برطانویوں نے انہیں ہندوستان میں متعارف کرایا۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ اس نے 1960ء، 1968ء، اور 1984ء میں کھیلے گئے اولمپک کھیلوں میں تین سونے کے طمغے حاصل کئے ہیں۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ بھی چار بار جیتا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ 1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں جیتا ہے۔

    پاکستان کرکٹ کے ٹیم، جنہیں شاہین کہا جاتا ہے، نے 1992ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ 1999ءمیں شاھین دوسرے نمبر پر رہے۔

    اور 1987ء اور 1996ء میں عالمی کپ کے مقابلے جزوی طور پر پاکستان میں ہوئے۔ پاکستان ٹی 20 قسم کے کھیل کے پہلے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے جو سال 2007ء میں جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تھا۔ اور سال 2009ء میں اسی قسم کے کھیل میں پہلے نمبر پر رہے اور عالمی کپ جیتا جو برطانیہ میں کھیلا گیا تھا۔

    ورزشی کھیلوں میں عبدالخالق نے سال 1954ء اور سال 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس نے 35 سونے کے طمغے اور 15 عالمی چاندی اور پیتل کے طمغے پاکستان کے لیے حاصل کئے۔

    پاکستان کو دنیا میں آج بھی سکواش کے کھیل میں سب زیادہ فتوحات حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

    پاکستان کی کی بری، بحری اور فضائی افواج پیشہ ورانہ مہارت کی بناء پر نہ صرف اہم ترین مقام کی حامل ہیں بلکہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں اپنے اعلیٰ ترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اپنی سبقت کو منوا چکے ہیں، پاکستان موٹروے پولیس سسٹم کو دنیا میں ایک ماڈل کے طور پر لیا جاتا ہے، پاکستان کی ریسکیو ایمرجنسی سروس کو پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت کی وجہ سے دنیا کے چند اعلیٰ ترین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے..

    ہمارا وطن دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک ہے، اس ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستانیوں کا جزبہ حب الوطنی بے مثال و بے نظیر ہے، جب جب بھی اس ملک پر کڑا وقت آیا ہے ہم نے یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان ہماری جان ہے، ہماری شان ہے، ہماری آن بان ہے اور سب سے بڑھ کر ہماری شناخت اور پہچان ہے اور یہ سب آزادی کی نعمتیں ہیں.

    پروردگار عالم ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے، پروردگار عالم ہماری افواج اور ہماری حفاظت پر معمور تمام اداروں کا حامی و ناصر، آئیے عہد کریں کہ ہم مل کر تمام تر اختلافات چاہے وہ زبان، فرقے، رنگ، نسل، علاقے یا کسی بھی بنیاد پر ہوں ان کو یکسر نظر انداز کرکے، اپنے ملک کی ترقی و عروج کے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے، اور آنے والے وقتوں میں اپنی دھرتی ماں کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے،انشاء ﷲ مستقبل کا پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں کا عکاس ہوگا، اپنے وقت کے معروف شاعر منشی منظور صاحب کا شہرہ آفاق شعر ہر ایک پاکستانی کے جزبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

    “میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پر نثار کردوں،
    محبتوں کے یہ سلسلے بے شمار تجھ پر نثار کردوں ”

    ہم اپنے پیارے وطن کے لیے تاقیامت سلامتی کے لیے دعا گو ہیں اور ہمیشہ رہیں گے.