Baaghi TV

Category: بلاگ

  • باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے ہی انسان نے زندگی میں اپنے مسائل کو پرکھنے اور ان کے حل کے لیے جستجو کی ہے۔ مختلف عقائد اور نظریات پر آزادی سے پہرہ دینے کے لیے مختلف قوموں نے جنم لیا۔ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو 14 اگست 1947 میں دُنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے نام پر وجود میں آیا آئیے پچھتر سالہ پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی اور دفاعی سمیت دیگر اہم پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

    انگریز اور ہندو پاکستان بننے کے حق میں نہیں تھے تقسیمِ ہند کا مسودہ پیش لرتے وقت برطانوی وزیرِاعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا "ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے امید ہے یہ تقسیم زیادہ دیر تک نہیں رہے گی اور جلد یہ دونوں ممالک جنہیں ہم الگ کر رہے ہیں ایک ہو جائیں گے” لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہے کہ جس کے متعلق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو 1937ء میں لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ "اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس کوشش کا حصہ نہیں تو مسلمان اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے لہٰذا قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عظیم لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو اسلامی نظریے کو حاصل کرنے کے لیے ایک قوم بنایا نہ کے ایک خطے کے حصول کے لیے۔

    13 اگست 1947 کی رات 12 بجے برصغیر کے معروف براڈکاسٹر مصطفیٰ علی ہمدانی نے آل انڈیا ریڈیو پر آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا

    "بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب 12 بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی”

    یوں قوم کو آزاد اسلامی ریاست "پاکستان” کی خوشخبری سُنا دی گئی اب یہ صرف ایک عام خطہ نہ تھا بلکہ مسلم امت کی ایک بہت بڑی آزاد ریاست تھی۔

    کسی بھی جمہوری ریاست کے چار بنیادی ستون مقننہ انتظامیہ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ ہوتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سارے اہم ترین بل کثرتِ رائے سے پاس ہوئے تاکہ اگر پاکستان میں یہ قوانین نہ بنائے جاتے تو ملک شدید اختلافات کی زد میں ہوتا ان قوانین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قانون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کا قانون صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے سمیت کئی قوانین شامل ہیں جو کہ پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے کی ترجمانی کرتے ہیں انتظامیہ ان قوانین کی خلاف ورزی پر متحرک کردار ادا کر کے ریاست کو فسادات سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے جبکہ عدلیہ قوانین پر عمل درآمد کر کے جزاء و سزا کو عمل میں لاتی ہے تاکہ ملک میں اعتدال کو قائم رکھا جائے، چوتھا ستون یعنی ذرائع ابلاغ چھوٹے مسائل سے لے کر قومی و ملی مسائل کو با اختیار لوگوں تک پہنچا کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ان چار ستونوں کے ساتھ ایک اہم ترین کردار دفاعی اداروں کا ہے جو ریاست کی چھت کا کردار ادا کرتے ہیں اور دفاعی حدود پر اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر قوم کی حفاظت کی ذمہ داری کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور قوم کو اپنے ذاتی گھر کی طرح کا تحفظ دینے میں اپنا زبردست کردار ادا کرتے ہیں۔

    بات کی جائے معاشی پہلو کی تو قیمتی زمینی ذخائر اور باصلاحیت ہنر مند لوگ کسی بھی مستحکم معیشت کے ضامن ہوتے ہیں پاکستان کو ابتدائی طور پر ہنر مند لوگوں کی کمی کا سامنا رہا تھا مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر روابط سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی پاکستانیوں نے غیر ملکیوں کی مدد سے ہنر سیکھے اور خوب محنت کر کے ابتدائی طور پر ملکی معیشت کو مضبوط سہارا دیا زراعت اور دیگر شعبوں میں کثرتِ محنت کے نتیجے میں خوب ترقی حاصل کی تاہم ترقی کے اس سفر میں سیاسی عدم استحکام ہمیشہ معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا یوں تاحال پاکستان باوجود باہنر افراد اور زمینی ذخائر کے عالمی سطح پر اپنی مضبوط معیشت کو منوانے میں ناکام رہا ہے حالانکہ پاکستان ذرائع ابلاغ کی بدولت دنیا کے معاشی نظام سے خوب واقف رہا ہے مگر اپنی معیشت کو اس کے مطابق نہ ڈھال سکا۔

    ذرائع ابلاغ نے ہر دور میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر مواصلاتی ترقی نے اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا کو بہت سارے ممالک میں اظہارِ خیال کی کھلی آزادی ہے جبکہ چند ممالک میں میڈیا پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں یاد رہے میڈیا کی زبان باندھ دی جائے یا اس کی بیڑیاں کھول دی جائیں دونوں طریقے ہی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ زبان بندی سے میڈیا صرف وہ پیغام پہنچاتا ہے جس کا اسے پابند کیا جاتا ہے جبکہ آزاد میڈیا اکثر اوقات ملکی دفاع کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے پاکستان میں آزاد میڈیا پر وقفے وقفے سے پابندیاں لگتی آئی ہیں ان پابندیوں میں کالم نگار بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے لکھتا اور صحافی بھی کسی اور کی زبان بولتا تھا جبکہ اب آزاد میڈیا کی حیثیت سے ہر اخبار یا ٹی وی چینل ذاتی مفاد کی خاطر اکثر مخصوص سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں.

    ملکی سطح پر اگر ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے تو عوام سنسنی خیزی کے جذبات اور انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں
    تعلیم و تربیت کے ہی پہلو کا سطحی جائزہ لیا جائے تو کسی بھی ملک کا منظم تعلیمی سسٹم اور نصاب اس ملک کے روشن مستقبل کی توثیق یا تردید کرتا ہے پاکستان کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جس وجہ سے تمام بچے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف نہیں آتے یا ابتدائی تعلیم کے دوران ہی چھوڑ جاتے ہیں مگر پھر بھی بحثیتِ قوم پاکستان میں تعلیم کے ساتھ ایک خاص لگاؤ اور دلچسپی برقرار ہے ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں پندرہ لاکھ پینتیس ہزار اساتذہ کرام چار کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم مہیا کر رہے ہیں تعلیم مہیا کرنے والے ان اداروں میں چالیس ہزار سے زائد چھوٹے بڑے مدرسے اور دینی درسگاہیں بھی شامل ہیں مگر اس سب کے با وجود حیرت انگیز طور پر پاکستان کا نظامِ تعلیم دنیا کے جدید تعلیمی تقاضوں سے نہ ہونے کے برابر مطابقت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بہتر تعلیمی نظام کے ممالک میں پاکستان اس وقت ایک سو پچیسویں نمبر پر موجود ہے تحقیق کرنے والے ادارے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نظام تعلیم کا مطلب تعلیم کا نظام نہ ہونا ہے۔ بنیادی طور پر اچھے نصاب اور عملی تربیت کا فقدان اس تنزلی کی بڑی وجوہات ہیں ہمارے نظامِ سیاست نے ملک کے ہر شعبے کی ساکھ کو دیمک زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بڑا غیر مستحکم ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو کبھی وفادار لیڈر نہیں ملا اگر ملا تو اس کی قدر نہیں کی گئی آزادی کے بعد جلد ہی پاکستان کو نظر لگ گئی تھی پہلے ہی وزیرِ اعظم کو شہید کر دیا گیا ابتدا سے آج تک میرا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے کبھی صدارتی نظام رائج کر دیا جاتا رہا اور کبھی مارشل لاء کا قانون نافذ کر دیا جاتا کبھی سرپرستِ مملکت کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو کبھی جبراً جلا وطن کر دیا جاتا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کچھ با اثر پاکستان دشمنوں کی طرف سے پہلے دن سے قوم اور قومی راہنماؤں کا یوں مذاق اڑایا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر کوئی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا لیڈر آئے کہ جس کے کہنے پر پوری قوم ملکی مفاد کے لیے یک جان ہو جائے ایسے لیڈر کو بھی استعمال کیا جاتا ہے اس میں نہ صرف غیر ملکی مداخلت شامل ہے بلکہ پس پردہ ہمارے ہی سیاستدان استعمال ہوتے ہیں۔

    اگر مزید پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے تو ہر پہلو پر ایک مدلل طویل تحریر مرتب ہوگی مگر اب چند اصلاحی اختتامی سطور پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی قوم لا الہ کے مشن پر آزاد ہوئی تھی اسے لا الہ کے حقیقی مشن پر قائم رہنے دیا جائے ان کے نیک جذبات کی قدر کی جائے قوم کو سیاسی سماجی سطح پر منتشر نہ کیا جائے بارڈرز پر کھڑی فوج کا احترام کیا جائے اسپتالوں میں پڑے مریضوں سے ہمدردی کی جائے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے قیمتی ہنر کی کی قدر کی جائے تعلیم و تربیت کا عالمی اسلامی اصولوں پر اہتمام کر کے اس تک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ذرائع ابلاغ محض ریٹنگ کی خاطر قوم کو منتشر نہ کریں سیاست دان اگر پاکستان کے حق میں تقریریں کرتے ہیں تو اس سے کہیں بہتر ہے اپنے کام کو بحسنِ خوبی سر انجام دیں تا کہ تقاریر سے مطمئن کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے آج ہمیں 1947 کی آزادی کے جذبات سے آگاہ رہنے کے لیے آباؤ اجداد کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنے نیک جذبات کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور اپنی تمام تر خدمات سے پاکستان کو دن دگنی رات چگنی ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکیں.

    وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
    ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے

  • ماہرین فلکیات نے نیپچون  جیسا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

    برکلے: ماہرینِ فلکیات نے زمین سے تقریباً 873 نوری سال کے فاصلے پر موجود وولنس نامی ایک جھرمٹ میں نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا۔

    باغی ٹی وی : آسٹروفزیکل جرنل لیٹر میں شائع کی گئی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ HD 56414b نامی یہ سیارہ ایک گرم اے-ٹائپ ستارے کے گِرد گردش کرتا ہے۔ سائنس دانوں کو عموماً ایسے روشن ستاروں کے گرد مشتری سے چھوٹے سیارے نہیں ملتے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    ناسا کے ٹرانزِٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سیٹلائٹ کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیے جانے والے اس سیارے کا ریڈیس زمین کے مقابلے میں 3.7 زیادہ ہے اور اس کو گرم نیپچون سیاروں کی درجہ بندی میں ڈالا گیا ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایک سائنس دان کا کہنا تھا کہ یہ سیارہ اتنے بڑے ستاروں کے گرد موجود چند چھوٹے سیاروں میں سے ایک ہے جو سائنس دانوں کے علم میں ہیں۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    ماہرین فلکیات کےمطابق اے-ٹائپ ستارے وہ ستارےہوتےہیں جن کی زندگی چند لاکھ سالوں پرمحیط ہوتی ہےنیا دریافت ہونےوالا یہ ایگزوپلینٹ اپنے ستارے کے گرد 29 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہےاس ستارے اوراس کےگرد گھومنے والے سیارے کے درمیان فاصلہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا ایک چوتھائی ہے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

  • ڈیرہ ۔ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوا میں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

    ڈیرہ ۔ وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوا میں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

    ڈیرہ۔وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کاحکم ہوامیں اُڑگیا،فوڈسنٹر شادن لنڈ میںگندم سیکنڈل میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں فوڈسنٹر شادن لنڈ میں گندم کی خرابی کا ذمہ دار کون ؟ ہر طرف خاموشی کے ڈیرے ،ڈی ایف سی مہر اختر نے فلورملزمالکان پر دبائو ڈالا کہ خراب گندم کو خریدیں اور تھوڑا تھوڑا آٹے کے ساتھ مکس کرتے جائیں۔ سیلاب سے قبل سیکرٹری فوڈ نے رپورٹ مانگی تھی کہ کسی فوڈ سینٹر کو سیلاب سے تو کوئی خطرہ نہیں ہے جس پر ڈیرہ غازی خان کی رپورٹ میں مبینہ طورپر شادن لنڈ فوڈ سینٹر کاذکر نہیں کیا گیااوررپورٹ میں بتایاگیاکہ ہمارے کسی بھی فوڈسنٹرکوسیلاب سے کوئی خطرہ نہیں ہے،اس رپورٹ کے برعکس شادن لنڈ فوڈ سنٹر میں رود کوہی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا جس سے گندم خراب ہوگئی،

    جب میڈیا پر یہ معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو دورہ ڈیرہ غازیخان میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی نے اس معاملے پرنوٹس لیکرتحقیقات کاحکم دیا،اس کے برعکس کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا اورذمہ داروں کاتعین تودورکی بات۔ڈی ایف سے اس سارے معاملے پرپردہ ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گندم فیڈ والے خرید رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ خراب گندم کا آکشن کب ہوا اور کس فیڈ کمپنی نے اس کو خریدا ہے ؟ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کو چاہیے کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے فلور ملز کو خراب گندم کی سپلائی روکیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کریں۔جاری مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب سے فوڈسنٹر شادن لنڈ میں بارشی اوررود کوہی کے پانی میں سینکڑوں بوری گندم ڈوب جانے کے باعث خراب ہوگئی،ذرائع کے مطابق لگ بھگ 2لاکھ بوری خراب ہوئی معاملہ پر سیکرٹری خوراک پنجاب نے نوٹس لے لیا ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف کارروائی شروع ہوئی تو ڈائر یکٹر خوراک اور ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا،لیکن دوسری طرف ذرائع کا کہتا ہے کہ محکمہ خوراک کے مطابق سیلاب سے مبینہ دو سے چارسو بوری گندم خراب ہونے کی تصدیق کرتے ہیں گند م کے معاملے پر، بڑے پیمانے پرخورد بردی کی اطلاع ہے جس سے گندم میں بڑے پانے پرخورد برود کو خارج از امکان قرارنہیں دیا جاسکتا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سیکرٹری خوراک پنجاب اور ڈائریکٹر خوراک نے الرٹ جار ی ہونے کے باوجو د انتظامات نہ کرنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک اور ڈی ایف سی ڈیرہ مہر اختر حسین کیخلاف مبینہ چارج شیٹ فائل کردی ہے ۔ جب ڈی ایف سی محکمہ خوراک مہر اختر حسین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کچھ افسران یہاں آئے تھے انہوں نے شواہد بھی اکھٹے کیے لیکن انہوں نے رپورٹ جاری نہیں کی جب رپورٹ جاری ہوگی تو حقائق معلوم ہوں گے۔


    وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ہدایت پر فوڈ سنٹر شادن لنڈ زیر آب آنے کے واقعہ کی تحقیقات شروع گئی ہیں ا س حوالے سے ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان محمد انور بریار نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دیا ہے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کمیٹی کے کنوینر مقرراراکین میں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت شامل ہیںانکوائری کمیٹی چار روز کے اندر رپورٹ پیش کرناتھی لیکن کئی چارروزگذرگئے لیکن کوئی رپورٹ پیش نہ ہوسکی ۔ڈ پٹی کمشنر محمد انور بریار نے نوٹیفکیشن جاری کردیاانکوائری کمیٹی فوڈ سنٹر کی جگہ کے انتخاب،ایس او پیز اور تمام معاملات کا جائزہ لے گی کمیٹی کی سفارشات پر قانون کے تحت کارروائی ہوگی،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار زرائع کا کہنا ہے ۔اس سے قبل سیکرٹری فوڈ نے رپورٹ مانگی تھی کہ کسی فوڈ سینٹر کو سیلاب سے تو کوئی خطرہ نہیں ہے جس پر ڈیرہ غازی خان کی رپورٹ میں مبینہ طورپر شادن لنڈ فوڈ سینٹر کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ شادن لنڈ فوڈ سینٹر سیلاب کی زد میں آگیا جس سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی۔ڈی ایف سی مہر اختر نے فلورملز پر دبائو ڈالا کہ خراب گندم کو خریدیں اور تھوڑا تھوڑا آٹے کے ساتھ مکس کرتے جائیں ۔جب میڈیا پر یہ معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو مہر اختر نے کہا کہ یہ گندم فیڈ والے خرید رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ خراب گندم کی آکشن کب ہوئی اور کس فیڈ کمپنی نے اس کو خریدا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی اس کا سخت نوٹس لیکر فلور ملز کو خراب گندم کی سپلائی روکیں اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کرکے ذمہ داروں کاتعین کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

  • آزادی کے75سال:تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک داستان

    آزادی کے75سال:تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک داستان

    آزادی کے75سال
    آج پاکستانی قوم اپنےعزمِ عالیشان سے مُنسلِک سُنہری تاریخ کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہے۔ وہ عَزم جِس کی بنیاد تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک ہے۔ آزادی لہو کا خراج مانگتی ہے،آزادی کے ان75سالوں میں ہم نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا۔

    ان گُزرے سالوں میں ہم پر دہشت اور خوف مُسلط کرنے ہمیں تقسیم اور کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی مگر پاکستانی قوم اور اِس کے محافظوں دشمن کے سامنے سینہ سَپر رہے۔Terrorism سےTourism کے اس طویل سفرمیں قوم اور افواجِ پاکستان نے اپنے خُون سے امن کی ایک لازوال داستان رقم کی ہے۔

    جدید سامانِ ضرب و حرب سے لیس، ہماری مسلح افواج دفاعِ وطن کی ضمانت ہیں۔

    قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پاکستانی قوم نے لازوال قربانیاں دے کر وطنِ عزیز کی اپنے خون سے آبیاری کی ہے۔ پوری قوم نے سیکورٹی فورسز کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے۔ جس کا اعتراف اقوامِ عالم نے کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک Hard Earned Successہے جس میں 46ہزار سے زائد مربع کلو میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروایا گیا۔ اس دوران 18ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے، 449ٹن بارودی مواد کو تلف کیا گیا۔

    سوات سے دہشتگردی کےخاتمے تک کا مرحلہ ہو یا2005کا زلزلہ،2010کا سیلاب ہو یا سانحہAPSپشاور، فروری2019کی بھارتی جارحیت ہو یا پھر صدی کی مہلک ترین وَبا کرونا، پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے مل کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ کمانڈر کلبھوشن ہو یا وِنگ کمانڈر ابھی نندن،سربجیت سنگھ ہویا چندو بابو لال افواجِ پاکستان نے دُشمن کی ہر ساز ش کو ناکام بنا کر ہمیشہ قوم کاسر فخر سے بُلند کیا ہے۔

    27فروری کا دِن ہماری تاریخ میں ایک اور روشن باب ہے جس پر ہر پاکستانی کو بجا طور پرفخر ہے۔ مسلح افواج نے عِلاقائی امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام کے لئے 163قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جو عالمی امن اور سلامتی کے لئے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔

    سبز ہلالی پرچم میں موجود سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ہماری اقلیتی برادری نے وطن کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔وطنِ عزیز کو درپیش ہر کٹھن گھڑی میں یہ صف اول میں اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ افواجِ پاکستان میں اقلیتی جانثاروں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے دِفاع وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔سر وکٹر ٹرنر، Robert Cornelius، چندو لال، فاسٹن ایلمر،سیسل ایڈورڈ گِبن، جمشید نُسرنجی مہتا کے ساتھ ساتھ، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، رانا بھگوان داس، جگدیش چن آنند، پروفیسر ڈاکٹر بھوانی شنکر چوہدری، ونگ کمانڈرMervyn Middlecoat اور اَنگنت گُمنام ہیروز کو جنہوں نے پاکستان بنانے اور اِس کے دِفاع کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔

    پا ک فوج میں ترقی پانے والے لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر اَنیل کُماراورلیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر کیلاش کُمار کی مثال دُنیا کےسامنے ہے۔ اہل وطن، بَجا طور پر اَپنے اقلیتی بھائیوں اور بہنوں پر فخر کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان نے کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دیں۔

    ہاکی کے میدان میں بریگیڈئیر محمد ظہیر اختر نے CISMمقابلوں کے دوران برونز کا تمغہ، نائب صوبیدار محمد عمران نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے،2چاندی اور 1کانسی کا تمغہ، نائب صوبیدار رضوان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے اور1چاندی کا تمغہ جبکہ نائیک کاشف علی نے ڈھاکہ میں ساؤتھ ایشن گیمز کے دوران سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

    باکسنگ کے میدان میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ برکت حسین اور صوبیدار ریٹائر صفدر حسین نے ایک ایک سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ محمد صداقت نے 5سونے،1چاندی اور3کانسی کے تمغے، ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ نادر خان نے2سونے اور2چاندی، مس نسیم حمید نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1چاندی، صوبیدار ظفر اقبال نے کولمبو اور ڈھاکہ میں 2سونے اور2چاندی کے تمغہ جبکہ نائب صوبیدار بشارت علی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغے حاصل کئے۔

    غوطہ خوری کے مقابلوں میں مس لیانہ ساون نے بھارت میں 1سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ، مس کرن خان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 1سونے،1چاندی اور4کانسی کے تمغے جبکہ مس بسمہ خان نے بھارت میں 1چاندی اور4کانسی کے تمغے اپنے نام کئے۔ریسٹلنگ کے مقابلوں میں سپاہی اظہر حسین نے 1سونے اور1چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ سکواش کے میدان میں عباس شوکت نے1سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

    Volleyballکے مقابلے میں کرنل ریٹائرڈ قیصر مصطفی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغہ اپنے نام کئے۔جوڈو کراٹے کے کھیل میں مس فوزیہ ممتاز نے ڈھاکہ اور بھارت میں 2سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ جبکہ مس سارہ ناصر نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1کانسی کا تمغہ جیتا۔کبڈی کے کھیل میں پاکستان آرمی کی ٹیم نےAsian Beach Games 2016میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔Machine Rowingکے مقابلوں کے دوران نائب صوبیدار مقبول علی نے3ایشین سونے کے تمغے اپنے نا م کئے۔

  • ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ غازی خان میں سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے پڑ گئے حادثات معمول بن گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ.صدرعوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ڈیرہ غازیخان مولانا غلام سرور عثمانی نے کہا ہے کہ عوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ایک فلاحی تنظیم ہے جو کہ عوامی مسائل اور عوامی خدمت کے منشور پر کام کرتی ہے اور الحمد اللہ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازیخان کے عوام میں اپنے خدمت کے جذبے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہے۔پورے ڈیرہ غازیخان شہر کے واٹر ڈسپوزل بند کرکے سیوریج لائن کا بھٹہ بٹھا دیا سارے شہر کی سیوریج لائن پھٹ گئیں اور سار ا سیوریج کا پانی زیر زمین رسنا شروع ہوگیا اب حالت یہ ہے کہ پورے شہر کی سٹرکیں یکدم دھڑام سے گر جاتی ہیں اور پھر اس خلا کو مٹی ڈال کر بند کردیا جاتا ہے کسی سٹرک کا یوں اچانک پھٹ جانا انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ مالی نقصان کا بھی پیش خیمہ اور سبب بن رہا ہے .

    سارے شہر کی سٹرکیں جن میں کالج روڈ،پاسپورٹ آفس روڈ،ہسپتال روڈ،گولائی کمیٹی روڈ،صدر بازار،پتھر بازار،فریدیہ بازار،لیاقت بازار،قائداعظم روڈ،کنگن روڈ،پیر قتال روڈ،اسٹیشن روڈ،کچہری روڈ،گولائی کمیٹی تا فیصل مسجد چوک روڈ،پیارے والی پل تا ڈاٹ پل،باری باری گر چکی ہیںمولانا سرور عثمان نے مزید بتایا کہ چند دن پہلے کالج تا پاسپورٹ آفس روڈ کے اوپر یکدم سٹرک پھٹ جانے سے بجری سے بھرا ٹرک الٹ گیا جس کے نتیجے میں 10ویلر ٹرک ہاش پاش ہوگیا اور روڈ پر بجری اور ٹرک کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔یہ تباہی کی ان سب ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کرکے ان کا سراغ لگانا آپ کی ذمہ داری ہے اور ان کے خلاف ایکشن لینا اور عبرت ناک سزا دلوانا آپ کا فرض ہے۔ ہماری ویلفیئر آرگنائزیشن کا کام عوامی مسائل اور کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ عوام آئندہ رونما ہونے والے حادثات سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ہم ایک محب وطن لوگ ہیں اور اپنے ملک کے وفا دار ہیں۔ہمارے شہر ڈیرہ غازیخان میں ریکارڈ کام ہورہے ہیں جو سابقہ حکومت نے 10سال میں بھی نہیں کیے۔ہم وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ڈیرہ غازیخان کی موجودہ صورتحال پر فوری ایکشن لیا جائے۔فوری کام کروائے جائیں۔پینے کا صاف پانی کا بھی بہت فقدان ہے بیماریاں جنم لے رہی ہیں ہر دوسرا شخص یرقان، معدہ جگر کے مرض میں مبتلاء ہیں۔ صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جگہ جگہ گندگی اور بدبو نظر آتی ہے

  • ریاست مدینہ کا دعویدار کرسی کی محبت میں جھک گیا،تحریر، نوید بلوچ

    ریاست مدینہ کا دعویدار کرسی کی محبت میں جھک گیا،تحریر، نوید بلوچ

    کرسی کی محبت بھی انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے ۔ اقتدار ہاتھ میں آتا ہے تو انسان خود کو زمینی خدا سمجھنے لگتا ہے۔ اسے مضبوط کرنے کا ہر حربہ اپنایا جا تا ہے ۔ وہ عام لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اپنا ہر حکم ان پہ صادر کرتا ہے اور جو حکم عدولی کرتا ہے ، جو آگے سر نہیں جھکاتا اسے سزا دی جاتی ہے ۔اس کےلیےزمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ لیکن اقتدار کی کرسی آج تک کسی کی سگی نہیں رہی ۔ آج جو پنچھی ایک منڈیر پہ بیٹھے ہیں کل کو کہیں اور بیٹھیں ہونگے۔ آج یہ ایک کے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہو گی ۔ آج جو حکومتی بینچ بجا رہے ہیں کل کو حذب اختلاف کی کرسیوں پر سوگوار بیٹھے ہونگے ۔ اور جب کرسی ہاتھ سے جاتی دکھائی دے گی تو ہاتھ پاوں ماریں گے لیکن حاصل کچھ نہیں ہو گا۔

    یہی حال عمران خان کا تھا۔ حصول اقتدار سے پہلے ان کے تیور الگ تھے ۔ ان کے نزدیک جمہوریت میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوام تھے ۔ ان کے نزدیک پاکستان کے سارے مسائل کا حل تحریک انصاف کی حکومت آنے میں نہاں تھا۔ اور پھر ان کی حکومت بھی آ گئی ۔ جس طرح حکومت آئی اور جیسے جہاز بھر بھر کر بنی گالا کو سیاسی رن وے بنایا گیا اس فسانے کو کسی اور دن چھیڑیں گے ۔ حکومت ہاتھ میں آئی تو پتہ چلا کہ جس ملک کو ٹھیک کرنے کا نوے دن کاخواب دکھایا گیا اس کی تعبیر ہی ممکن نہیں ۔ پھر ہونا کیا تھا ، تجربات پر تجربات کیے گئے ۔ پہلے اسد عمر کو لایا گیا جب ان سے کچھ نہ بنا تو تین اور تجربے کیے گئے لیکن معیشت کی صورتحال پھر بھی جوں کی تو ں ہی رہی ۔ جس آئی ایم ایف کے پاس جانا ملک کی عزت میں کمی تصور کیا جاتا تھا، اس کے پاس سب سے زیادہ بار جایا گیا ۔ ریکارڈ قرضے لیے گئے لیکن معیشت کی حالت جوں کی توں ہی رہی ۔اس پہ ستم یہ کہ ہمیں آئی ایم ایف سے وعدہ شکن حکمران کا ایک لقب بھی مل گیا ۔ اس کے بعد وقت بدلا اور حالات نے انگڑائی لی ۔

    پی ڈی ایم نام کا ایک سیاسی اکٹھ ہوا جس کا مقصد ملک کو عمران حکومت سے چھٹکارا دینا تھا۔ لانگ مارچ ہوئے ، آزادی مارچ ہوئے ، مہنگائی مارچ ہوئے اور سال کی مشقت کے بعد پی ڈی ایم اپنے عزائم میں کامیاب ہوئی۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ لیکن عمران خان نے اقتدار کو طول دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور وہی ہوا۔ اسد قیصر اور قاسم سوری کی شکل میں دو پیادے میدان میں اتارے گئے اور ان سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ کوئی چال کامیاب نہ ہوئی ۔ الٹا ان پہ وعدہ شکن کے بعد آئین شکن کا بھی ٹھپہ لگ گیا ۔ جو تاریخ کے اوراق کی زینت بنے گا اور ہمیشہ تحریک انصاف کے تاریک ماضی میں یاد کیا جائے گا۔

    یہ کرسی ہی کی لالچ ہے جو انسان کو آئین تک سے کھلواڑ کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔ طاقت کے نشے میں چور انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جو وہ قدم اٹھانے جا رہا ہے اس کا مستقبل میں کیا انجام ہو سکتا ہے ۔ اس سے ملک کے عوام کس کرب سے گزریں گے ۔ اور پھر وہی ہوا۔ اس سارے سیاسی سرکس کی وجہ سے نقصان صرف عام عوام کو اٹھانا پڑا۔ معیشت کا حال بد سے بدترین ہوتا چلا گیا۔ ڈالر کا ریٹ آسمانوں پر پہنچ گیا ۔ لوگ گھریلو استعمال کی چیزیں تک خریدنے سے قاصر ہو گئے ۔ ملک میں ڈیفالٹ کا خطرہ اتنا بڑھ گیا کہ معیشت پر نظر رکھنے والے اداروں نے ہمیں عنقریب ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر لا کر کھڑا کر دیا ۔

    اس کے باوجود بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ عمران خان اقتدار حاصل کرنے کےلیے ایک بار پھر وہی کام کر رہے ہیں جو انھوں نے 2011 سے شروع کیا۔ یعنی ایک ایسی سیڑھی کی تلاش جو با آسانی اقتدار تک پہنچا دے۔ وہ ایک بار پھر سے اپنے سارے سیاسی اصولوں کو پیروں تلے روند رہے ہیں ۔ جس امریکی سازش کا اتنا واویلا مچایا گیا ، جس امریکی سازش کے بیانیے سے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں حریفوں کو چاروں شانے چت کر دیا گیا۔ اب اسی امریکہ سے پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں ۔

    ملک کے دو بڑے صوبوں میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ان دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ امریکی سفیروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں ۔ پرویز الہیٰ امریکہ سے بہترین تعلقات رکھنے کا بیان بھی داغ دیتے ہیں ۔ ایک اور حیران کن بات یہ بھی ہے کہ امریکہ کے قونصل جنرل پرویز الہیٰ کے دربار پر ان کے وزیر اعلیٰ بننے کی مبارکباد دینے کےلیے حاضری دیتے ہیں ۔ اب آپ خود بتائیں کہ جو آپ کی حکومت کے دشمن ہوں وہ آپ کو منصب سنبھالنے کی مبارکباد کیوں دیں گے۔ کیا دال میں کچھ کالا ہے یا پوری دال ہی کالی ہے ؟

    بات یہیں تک نہیں رہتی بلکہ اب تو یہ چہ مہ گوئیاں بھی ہونے لگ گئی ہیں کہ جب امریکی سفیر کی خیبر پختونخواہ انٹری ہوئی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے وچولے کا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان اور امریکی سفیر کی ٹیلی فون پر بات کرائی۔اس سے بڑا انکشاف کل رات ہوا۔ کل مبینہ طور پر کچھ دستاویزات سامنے آئیں جن میں تحریک انصاف نے ایک کمپنی کو پیسے دیے اور ان کے ذمے یہ کام سونپا گیا کہ وہ امریکی صدر جوبائیڈن سے تحریک انصاف کے خراب تعلقات بہتر کرنے میں مدد کریں ۔

    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے بھی عمران خان اپنے ایک قریبی ساتھی کو امریکہ سے صلح صفائی کا کہہ چکے ہیں اور جب یہ بات سامنے آئی تو نہ تو اس کی تردید کی گئی اور نہ تصدیق۔ خاموشی کا مطلب مشرقی معاشرے میں عمومی طور پر ہاں سمجھا جاتا ہے ۔ اگر یہاں بھی اس کا مطلب ہاں ہے تو مبارک ہو آپ کو۔ ریاست مدینہ کا دعویدار ایک بار پھر کرسی کی محبت میں گھٹنے ٹیک چکا ہے ۔ ریاست مدینہ کا داعی ایک با ر پھر اپنے سارے اصولوں کی بھینٹ چڑھا چکا ہے ۔ اور نہ جانے کتنوں کی بھینٹ چڑھانی باقی ہے ۔:

  • مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    جب بھی کسی جماعت کی حکومت آتی ہے وہ دوسری جماعت کیلئے ایک نئی اور لمبی فہرست بنا لیتی ہے کہ اس کو کس کس طرح اور کہاں کہاں سے ڈسنا ہے کہ وہ دوبارہ برسرِ اقتدار میں نہ آسکیں اور ہم ہی ہمیشہ کیلئے اس آرام دہ سلطنت کی کرسی پر بیٹھے رہیں جس کرسی کو ہمارے خلفاء راشدین نے اپنے لیے بوجھ اور ذمہ داری سمجھا۔ آج کے حکمران جیسے ہی اقتدار میں آتے یا اقتدار پہ قابض ہونے کے قریب ہوتے ہیں تو پہلے سے ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے ہیں کہ فلاں کو نہیں چھوڑے گے فلاں نے یہ کیا تھا تو اس کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے رکھیں گے ایسے جملے ہر جماعت اپنے اقتدار میں آنے سے پہلے یا اقتدار میں دہراتی ہے اور اسی طرح ان جماعتوں کے چاہنے والوں پر بھی قربان جاؤں جب ان کے نظریات کے حامی کوئی جماعت آتی ہے تو ان کو بڑی خوشی ہوتی کہ اب بڑا مزہ آئے گا اب انکی خیر نہیں ہے پچھلے تمام بدلے اب ان سے لیں گے وغیرہ وغیرہ

    افسوس ان جماعتوں اور ان کے حامی خیالات چاہنے والوں پر، آج اگر وطن عزیز کی نازک حالت کو اگر دیکھا جائے جس میں ہمیں دوست ممالک سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں، آئی ایم ایف سے قرضے لینے پڑتے ہیں، ہر دوسری چیز امپورٹ کرنی پڑتی ہے ایسی کوئی چیز اس پیارے وطن عزیز میں نہیں بنائی جاتی جس سے ہمارے خزانے کو سہارا ملا، ہمارا وطن پاکستان ایک زراعتی خطہ جس سے ہم اپنی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک کی بھی ضروریات پوری کر سکتے ہیں لیکن بصد افسوس کہ ہم زراعتی خطہ ہونے کے باوجود ہم گندم دھاگہ، چینی، تیل اور دالیں و سبزیاں سمیت چیزوں کو امپورٹ کرتے ہیں اور ان جملہ تمام مسائل کے باوجود ہمارے حکمران ایک دوسرے کے مدمقابل ہے اور ایک دوسرے پر غداری اور طرح طرح کے فتوؤں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں، وطن عزیز میں جنگل کا قانون سا ماحول بنا دیا گیا ہے جس میں بغیر کسی تعارف و تحقیق کے کسی پر بھی کوئی فرد جرم ڈال کر اس کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے صرف و صرف اپنی ذاتی انا اور بقا کی خاطر کسی انسانیات کی پرواہ کیے بغیر اس کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے 25 مئی کو جو ہوا تھا جس میں سفید پوش گھروں کی دیواریں پھلانگی گئی، لوگوں کو بغیر کسی تحقیق کے مارا پیٹا گیا اور ان کو صرف اس بنیاد پر ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کا تعلق کسی دوسری جماعت سے تھا اور آج پھر تمام تر وطن عزیز کے مسائل کے باوجود صرف و صرف ایک دوسرے کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دی جا رہی ہے کہ فلاں پنجاب میں گھسے گا تو فوراً پکڑا جائے گا تو فلاں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوگا تو وہ کسی جرم میں شامل ہوجائے گا، شہباز گل کا بیان ہماری دفاع کے بارے میں بالکل سو فیصد غلط ہے اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا اس کو جس طرح پکڑا گیا کیا یہ کسی آئینی معاشرے میں ایسا ہوتا ہے؟ ایسے لگتا ہے ہم کسی جنگل میں رہ رہیں جس میں جس کا جی چاہتا ہے وہ دوسرے کو نوچ لیتا ہے اور اپنی بھوک کو میٹا لیتا ہے، نہ کسی کو آئین کی فکر نہ کسی قانون کی بس سب ہی اپنے آپ کو آئین اور قانون سمجھتے ہیں اور قانون کو ہاتھ میں لیے ہر بندہ اپنے اختیار میں اسکی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

  • امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رگوں کا مخصوص نظام اگر غیر فعال ہو جائے تو ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس اور اس سے ملحقہ بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اگر مرض قابو میں نہ رہے تو ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف اور سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    جریدے سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کی ہیں جن کے مطابق رگوں کا نظام غیر فعال ہونے سے ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں بعدازاں ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے سبب دیگر مختلف سنگین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرِ میڈیسین پروفیسر تھامس جے بیٹسن نے بتایا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سفید چربی اور ورم خون کی شریانوں کو غیر فعال کرنے کا باعث بنتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریض قلب، بینائی اور گردوں کے امراض کا سامنا کرتے ہیں تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درحقیقت خون کی رگیں اور شریانیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

    ذیابیطس کو خون کی شریانوں پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ جسم میں براؤن فیٹ کے ذخیرے میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے اور توانائی کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اس تحقیق کے دوران ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں پر مختلف تجربات کیے گئے جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں انسولین کی حساسیت اس وقت بڑھی جب خون کی شریانوں کا وزن کم ہوا اس کے نتیجے میں ان چوہوں میں براؤن فیٹ کی مقدار بڑھ گئی اور خون کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان کم ہو گیا۔

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم میں انسولین خون کی شریانوں کو خلیات بھیجنے میں مدد فراہم کرتی ہے، اس کی مدد سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے براؤن فیٹ کے خلیات بنتے ہیں اس کے مقابلے میں انسولین کی مزاحمت پر یہ عمل الٹا ہو جاتا ہے اور نائٹرک آکسائیڈ کی کمی کے باعث دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    محققین نے کہا ہے کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ذیابیطس سے دل کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے مگر نتائج سے یہ عمل الٹا محسوس ہوتا ہے مزید تحقیق سے ذیابیطس کے نئے طریقہ علاج کو دریافت کرنے میں مدد مل سکے گی۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

  • نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    حال ہی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی شہر لاس اینجلس میں یہ تحقیق یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے کی ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی کیمیکلز گھریلو سامان اور کچن کے کچھ برتنوں میں عام ہوتے ہیں، جس کے استعمال سے کسی شخص میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے –

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل نان اسٹک کچن کے برتنوں، نل کے پانی، واٹر پروف لباس، صفائی ستھرائی کی مصنوعات اور شیمپو میں موجود ہوتے ہیں کچن کے سامان اور کھانے کی پیکجنگ پر عام طور پر پائے جانے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے کو چار گنا بڑھا سکتے ہیں۔

    تحقیق کے دوران محققین نے 50 لوگوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جن میں جگر کا کینسر ظاہر ہوا جبکہ دیگر 50 افراد میں نہیں ہوا، کینسر کے مریضوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور ان لوگوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا جنہیں کبھی بیماری نہیں ہوئی تھی، ان لوگوں کے خون میں کئی قسم کے کیمیکل پائے گئے جنہیں کینسر ہو گیا۔

    محققین کو یہ بات بھی پتہ چلی کہ جب یہ کیمیکلز جگر میں داخل ہوتے ہیں تو میٹابولزم کو تبدیل کرتے ہیں اور فیٹی جگر کی بیماری کا باعث بنتے ہیں جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں (non-viral hepatocellular carcinoma) ہونے کا امکان 4.5 گنا زیادہ ہو جاتا ہے جو ایک عام جگر کا کینسر ہے۔

    یو ایس سی ٹیم نے پایا کہ PFOS جگر میں گلوکوز میٹابولزم، بائل ایسڈ میٹابولزم اور امینو ایسڈ کو تبدیل کرتا ہے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایسے معاملات میں اضافہ ہوا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے کئی حصوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح سے منسلک ہے زیادہ تر سنگین تخمینے 2030 تک تقریباً تین میں سے ایک امریکی کو اس حالت میں مبتلا ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

    ای پی اے نے جون میں ان کیمیکلز کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔ اس نے گھریلو سامان میں ہمیشہ کے لیے کیمیکلز کی قابل قبول سطح کو تیزی سے کم کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    نئی رہنمائی کے مطابق، EPA اب پی ایف او اے کے 0.004 حصے فی ٹریلین (ppt) اور PFOS کے 0.02 ppt سے زیادہ پینے کے پانی کی سفارش نہیں کرتا ہے پچھلی رہنمائی میں پی پی ٹی کی زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ رقم 70 تھی، جو امریکہ کی اعلیٰ ماحولیاتی ایجنسی کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔

    EPA کے ایڈمنسٹریٹر مائیکل ریگن نے ایک بیان میں کہا کہ ‘PFAS آلودگی کے فرنٹ لائنز پرموجود لوگ بہت طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ EPA ان کیمیکلز کو ماحول میں داخل ہونے سے روکنے اور متعلقہ خاندانوں کو اس وسیع چیلنج سے بچانے میں مدد کے لیے حکومت کے ایک مکمل طریقہ کار کے حصے کے طور پر جارحانہ کارروائی کر رہا ہے۔’

    ماہرین طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ کیمیکل بہت سی گھریلو مصنوعات پر موجود تھے، لیکن ان کی اجازت اس وقت تک تھی جب تک کہ وہ قابل قبول سطح سے نیچے تھےEPA اب کہتا ہے کہ پچھلی قابل قبول سطحیں بہت زیادہ تھیں، اور ان میں نمایاں کمی آئی-

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی  امان اچ رکھے

    آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے

    مجھے شروع سے ناول پڑھنا بے حد پسند تھا کیونکہ میری دلچسپی محض قصہ کہانیوں تک محدود تھی لیکن پھر مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کتابیں تو ویسے بھی پڑھتی ہیں لیکن آپ کی سوچ صرف فروئی قصہ کہانیوں تک ہی محدود ہے لہذا آپ سیاست کو پڑھیں اسکے جواب میں میں نے انہیں کہا "آپ مجھے کچھ ایسی کتابیں بھجوا سکتے جو کسی دلچسپ اور بہادر انسان کے بارے میں لکھی گئیں ہوں” پس انہوں نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں لکھی گئی متعدد کتابیں بھیج دیں، یقین مانیں یہ کتابیں اتنی دلچسپ تھی کہ ان کے سحر میں میں ڈوبتی چلی گئی اور یوں مجھے سیاست کے بارے میں مزید جاننے کی دلچسپی پیدا ہوگئی بہرحال آج میں قارئین کی نظر ذولفقارعلی بھٹو کا ایک دلچسپ واقعہ پیش کرنا چاہتی ہوں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی قیوم نظامی اپنی کتاب "جو دیکھا جو سنا” میں الطاف حسین قریشی کی زبانی غریبوں اور بے بس لوگوں سے بھٹو کی محبت کا ایک واقعہ جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بیان کرتے ہیں.
    یہ تقریبا 1975 کے موسم سرما کی بات ہے، جب وفاقی حکومت کے ایک آفیسر الطاف حسین اس وقت کے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دورہ پر گئے ہوئے تھے۔

    جس بنگلے میں الطاف کو ٹھہرایا گیا تھا اس کے ساتھ والا بنگلہ کمشنر ہاؤس تھا، الطاف روزانہ صبح سویرے مختلف علاقوں کے دورے پر نکل جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آجاتے لیکن ایک شام جب وہ رہایش گاہ پر واپس آیا اور رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے سے بنگلہ کے گیٹ تک چہل قدمی کر رہے تھے تو رات نو بجے کے قریب ہوٹر کی آواز سنی، چوکیدار سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وزیراعظم بھٹو دورے پر آج ہی آئے ہیں اور وہ کمشنر ہاؤس میں قیام پذیر ہیں لہذا اس وقت وہ کسی سرکاری عشائیہ سے واپس آ رہے ہیں۔

    1044277

    الطاف حسین کہتے ہیں کہ: میں گیٹ پر کھڑا ہوگیا اور چند لمحوں میں وزیراعظم کی گاڑی گیٹ کے قریب پہنچ گئی چونکہ گاڑی کو ساتھ والے گیٹ کے اندر جانا تھا اس لیے اس کی رفتار بھی بہت کم تھی لہذا گاڑی جب میرے قریب سے گزری تو میں نے ویسے ہی ہاتھ ہلا دیا حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ اتنا اندھیرا ہے بھلا اس میں وزیراعظم مجھ پر کہاں توجہ دیں گے لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب وہ گاڑی گیٹ پر ہی رک گئی اور ان کا ملٹری سیکرٹری گاڑی سے اتر کر میری طرف قدم اٹھانے لگا۔

    الطاف حسین مزید کہتے ہیں کہ: میرے قریب ٹہرے جونیئر افسر یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے اور بھاگ کر اندر چلے گئے بہرحال ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اور پوچھا "آپ الطاف قریشی ہیں؟” میرے اقرار پر کہنے لگا "آپ کو وزیراعظم صاحب بلا رہے ہیں ” لہذا میں ان کے ساتھ گاڑی کے پاس گیا تو ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولا اور کہا "آو بیٹھو ” مجھے بھٹو صاحب کی آواز آئی لہذا میں سلام کرکے بیٹھ گیا۔

    گاڑی کمشنر ہاوس میں داخل ہوئی بھٹو نیچے اترے اور مجھے ساتھ لے کر کمرے میں چلے گئے، اور بیٹھتے ہی پوچھا "یہاں کیسے؟” میں نے بتایا تو پوچھا "کیا دیکھا؟” میں نے جوابا عرض کیا "غربت، افلاس اور انتظامیہ کی بے حسی ” کچھ لمحے وہ مجھے گھورتے رہے اور پھر سب کو کمرے سے باہر نکال کر مجھے کہنے لگے صبح پونے آٹھ بجے آ جاو اور ہم آٹھ بجے یہاں سے نکلیں گے اور تم جہاں چاہو مجھے لے کر جاؤ اور وہ سب کچھ دکھاؤلیکن کسی سے یہ بات مت کرنا تاکہ کسی کو اس پروگرام کا علم نہ ہو، میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

    الطاف قریشی کے مطابق: میں نے بھٹو سے پوچھا اندھیرے میں آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟ جبکہ ہمیں ملے ہوئے دو سال ہو گئے تو بھٹو کہنے لگے کہ اوے تو تو مجھے جانتا ہے نا کے میں اپنے ساتھیوں کو قبر کے اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں۔ اور پھر کہا چل اب جاؤ صبح سویر آ جانا اور کسی کو علم نہیں ہونا چاہئے. میں جی سر کہتے ہوئے بھٹو صاحب سے ہاتھ ملا کر باہر آ نا چاہا تو بھٹو صاحب نے ملٹری سیکرٹری سے اس دوران کہا کہ یہ الطاف صبح پونے آٹھ بجے آئے گا اور ہم ناشتہ ایک ساتھ کریں گے۔ میں باہر نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ میں بہت اہم آدمی ہو چکا ہوں کیونکہ ہر کوئی مجھ سے پوچھنے لگا وزیر اعظم سے کیا باتیں ہوئیں؟ نصراللہ خٹک اس وقت وزیر اعلی سرحد تھے وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ بس یونہی میری اور میرے بچوں کی خیر خیریت پوچھ رہے تھے وہ مطمئن نہ ہوئے، لیکن میں جان چھڑا کر ساتھ والی کوٹھی میں آ گیا جہاں میرا قیام تھا۔

    الطاف کے مطابق: اگلے دن میں پونے آٹھ بجے کمشنر ہاؤس ڈیرہ پہنچ گیا، وہاں بھٹو نے مجھے اندر بلوایا وہاں وزیر اعلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے تمام بڑے بڑے انتظامی افسر موجود تھے، بھٹو نے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کیا ان کا ناشتہ جوس کا ایک گلاس، آدھا انڈہ اور ایک سلائس کے ساتھ کپ چائے تھا۔

    سوا آٹھ بجے اٹھے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ ہمیں لے کر باہر نکلے اور ایک بڑی جیپ میں پیچھے بیٹھ گئے۔مجھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا اور انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ صرف اور صرف میری یعنی الطاف حسین کی ہدایت پر عمل کرے اور اسی طرف جائے جس طرف میں جانے کو کہوں جبکہ سکواڈ کو بھول جائے۔ لہذا میں نے سوچ کر فیصلہ کیا اور یوں ہم ٹانک کی طرف روانہ ہوگئے اب تو مجھے معلوم نہیں لیکن سن 1975 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تقریبا کوئی پانچ یا سات میل دور سڑک کے دونوں طرف ایسے ریتلے میدان جیسے کوئی صحرا ہو ۔

    الطاف حسین کہتے ہیں: میں نے دیکھا شہر سے تقریبا پندرہ میل دور داہنے ہاتھ، ریتلے میدان میں ایک جھونپڑی نظردکھائی دی لہذا میں نے گاڑی رکوائی اور پھر ہم سب نیچے اترے اور ریت میں چلتے ہوئے اس جھونپڑی کی طرف روانہ ہوگئے، آگے آگے بھٹو ان سے دو قدم پیچھے میں اور پھر باقی لوگ تھے۔

    ہم جھونپڑی کے باہر پہنچے تو وہاں ریت پر لکڑیاں جلائے اوپر ٹین کا بڑا سا توا رکھے ایک بوڑھی خاتون روٹیاں پکا رہی تھی اس نے اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشانی میں چلا اٹھی ، میں نے آگے بڑھ کر اسے بتایا کہ اماں ” وزیراعظم آئے ہیں ” اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے پھر کہا کہ اماں ” بادشاہ بھٹو آئے ہیں "اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے دوبارہ کہا کہ” اماں! بادشاہ بھٹو آئے ہیں”وہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور بھٹو صاحب نے آگے بڑھ کر اس میلی کچیلی اماں کو گلے لگا لیا۔

    الطاف کہتے ہیں کہ: میں نے وزیر اعظم بھٹو کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، آ میڈا "بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے ” (اردو ترجمہ: آو میرے بادشاہ رب آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے) اس نے ڈیرے وال یا سرائیکی زبان میں کہا۔

    بھٹو نے آس پاس دیکھا اور اماں سے سرائیکی زبان میں کہا "اماں بکھ لگی ہے،” روٹی ڈے سیں ؟ ( ماں بھوک لگی ہے، روٹی دوگی؟) اس نے جواب دیا: "ہا میڈا سائیں میڈا پتر ” ( جی ہاں میرا بیٹا) پھر اماں روتے ہوئے بھاگ کر اندر گئی اور میلی کچیلی چٹائی لائی اور وزیر اعظم بھٹو کو ریت پر بیٹھنے کو کہہ کردوبارہ اندر گئی اور ایک کالی سلور کی دیگچی اٹھا لائی اور اسے چولہے پر رکھ دیا، پھر سلور کی ہی پیالی میں ساگ نما چیز ڈالی اور "میڈے کول ایہو کجھ ہے سائیں” (میرے پاس یہی کچھ ہے) کہتے ہوئے چنگیر میں پڑی روٹی اور وہ سالن بھٹو کے آگے رکھ دیا۔

    بھٹو نے اماں سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اور کون رہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو اور بارہ سالہ پوتا رہتا ہے، بیٹا مزدوری کرنے ڈیرے گیا ہوا ہے، بہو پانی لینے چارکوسوں دور گئی ہوئی اور پوتا ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گیا ہوا۔

    بھٹو صاحب نے نوالہ منہ میں ڈالا تو ان کے آنسو نکل آئے سرکاری فوٹوگرافر تصویر لینے لگا تو وزیر اعظم نے کہا ” اگر اس روٹی میں ملی ہوئی ریت کی تصویر آ سکتی ہے تو میری تصویر کھینچو”۔ انہوں نے چار پانچ نوالے لیے اور پھر گھور کر نصراللہ خٹک اور دوسرے وزراء سمیت سرکاری افسروں کو انتہائی درشتی سے کہا ” آو ذرا کھا کر دکھاؤ یہ روٹی اور پھر کہا "میرے لوگوں کو روٹی نہیں ملتی اور ملتی ہے تو صرف ریت والی لہذا تم شرم کرو، خدا کا خوف کرو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟ ظالموں کچھ تو حیا کرو، جو آتا ہے خود کھا جاتے ہو، ارے کھاؤ لیکن کچھ تو ان کو بھی دو۔

    بھٹو صاحب نے اس اماں کوایک بار پھر گلے لگایا، جیب میں جو کچھ تھا نکال کر اسے یہ کہہ کر دے دیا کہ اپنے پوتے کو میری طرف سے دے دینا اور اسے سکول بھیجو تاکہ وہ ایک دن بڑا آدمی بنے، پھر وزیر اعلی کو کچھ ہدایات دیں اور ہم لوگ وہاں سے واپس چل دیئے۔

    امید ہے کہ قارئین کو بھٹو کی ایک بوڑھی ماں سے ملاقات کی یہ مختصر کہانی پسند آئی ہوگی لہذا آج بھی ہمیں ایک ایسے رہنماء کی ضرورت ہے جو غریب اور عام عوام سے دکھاوے کی ہمدردی نہ رکھتا ہو بلکہ دل سے صرف اور صرف عام عوام سے مخلص ہو.