Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    ہم دور جاہلیت کے مسلمان کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں ؟ اس کے لئے ہم سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ دور جاہلیت تھا کیا ؟ دور جاہلیت دین اسلام کے آنے سے پہلے کے دور کو کہا جاتا ہے ۔ اگر ہم اس دور کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں ایک دوسرے کا حق مارنا فخر سمجھا جاتا تھا ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ، ان کو اپنے ہاتھوں قتل کر دینا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا ، ماں کو لاوارث سمجھ کر منڈیوں میں بیچ دیا جاتا تھا ۔ جائیداد کی طرح آپس میں تقسیم کیا جاتا تھا ، والدین کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا تھا ۔ غلاموں کے ساتھ انتہائی بدترین سلوک کیا جاتا تھا ۔ طاقت ور کمزور کو انسان سمجھنے کو ہی تیار نہیں تھا اگر آج ہم اپنے معاشرے پر روشنی ڈالیں تو دور جاہلیت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ دور جاہلیت میں یہی تمام کام کفار ومشرکین کیا کرتے تھے جب کہ آج کے دور میں ہم نام نہاد مسلمان بھی یہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سی ایسی برائیاں نظر آتی ہیں جو دور جاہلیت میں کفار و مشرکین میں موجود تھی ۔

    سب سے پہلے ہم بات کریں گے کہ دور جاہلیت میں بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا جاتا تھا اگر ہم اپنے معاشرے میں دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے کا ہی واقع ہے کہ ایک آدمی نے اپنی چند دن کی بیٹی کو محض اس لیے گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی ہے اسے تو لڑکا چاہیے تھا ۔

    اگر ہم غلاموں اور کمزور افراد کی طرف دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے ہی ہم سب نے ایک واقعہ پڑھا کہ ایک کمزور انسان کے بچے نے ایک طاقتور کے گھر کے باغ سے ایک پھول توڑا تو طاقت ور انسان نے اپنے رشتے داروں کو بلایا اور پھول توڑنے والے بچے کے والد کو مار مار کر لہولہان کردیا کیا اور پھر اس غریب انسان کو رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے بھی رہے ۔ اگر ہم اسی ایک واقعہ کو دیکھیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے دور میں بھی غریب اور کمزور انسان بے بس اور مجبور ہیں اور طاقتور انسان اس کو جیسے مرضی کچھ چبھی کہہ سکتا ہے ۔

    ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک واقعہ واقعہ پیش آیا کہ بہو اور بیٹے نے بوڑھی ماں کو مار کر گھر سے نکال دیا اور بوڑھی ماں روتی ہوئی پولیس اسٹیشن جاپہنچی ، اگر دیکھا جائے تو کیا یہ لوگ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین سے ذرا سا بھی مختلف نہیں ہیں ۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہ کافر اور مشرک تھے اور یہ لوگ پیدائشی مسلمان ہیں ۔ جو ہیں تو مسلمان لیکن اسلام کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

    ہمارے معاشرے کا بھی تو یہی عالم ہے کہ اگر کوئی غریب اپنی بیٹی کا رشتہ کسی بدچلن بدکردار کو نہیں دیتا تو اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا جاتا ہے ، اس پر تشدد کیا جاتا ہے اور پھر اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے ، تاکہ لڑکی اور اس کے گھر والے کہیں بھی جینے کے قابل نہ رہیں ۔ اگر ہم دور جاہلیت کے خاتمے کی بات کریں تو صرف یہی ایک بات تھی کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو اپنایا ، خاص طور پر اسلام کا نظام عدل اور انصاف ۔ جیسے ہی ان لوگوں نے اسلام کا نظام عدل و انصاف اپنایا تو اچانک سے وہی لوگ جو دنیا کے بدترین لوگ کہلاتے تھے وہی لوگ دنیا کو تعلیمات دینے لگے اور دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی راہ دکھانے لگے ، وہی لوگ جو جہالت کے سردار کہلاتے تھے ، وہی لوگ دنیا کے راہنما اور رہبر بن گئے اور آج بھی اگر ہم دیکھیں تو ہمیں ان سارے واقعات کے پیچھے صرف ایک ہی بات دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظام عدل و انصاف بری طرح متاثر ہوا ہے ہماری عدالتیں سیاستدانوں کے چکروں میں پڑ کر دن میں دو دو تین تین دفعہ ان کے کیس کی سماعت کرنے کو تیار ہیں لیکن مجبور بے بس غریب انسان جن میں سے اکثریت بے گناہ افراد پر مشتمل ہیں وہ اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں ہی گزار دیتے ہیں ۔ 17 سال 18 سال 21 سال اور اس سے بھی زیادہ عرصہ جیل میں گذارنے کے بعد اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں کہ عدالت انہیں باعزت بری کر دیتی ہے جبکہ دوسری طرف طاقتور انسان اپنی دولت کے گھمنڈ اور اعلی شخصیات سے تعلقات کی بدولت عدل کو خرید لیتا ہے ۔ بیٹیوں کی عزتیں روند ڈالنے والے میرے معاشرے میں بربادی کا سبب بننے والے تو ضمانت لے کر دندناتے پھرتے ہیں اور غریبوں کو مزید پریشان اور مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے کیسز واپس لے لیں اور بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جو مظلوم ہوتا ہے وہی جیلوں میں سڑ رہا ہوتا ہے ۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں بھی عدل و انصاف کا نظام بہتر ہوجائے تو آج پھر ہمارا معاشرہ سب سے روشن ہو سکتا ہے ۔ آج بھی ہم دنیا بھر کے رہنما بن سکتے ہیں ۔ یہ عدل ہی تو تھا جس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے حکمران کے سامنے ایک عام سے شخص کو کھڑا کر دیا کہ بتاؤ عمر آپ نے اپنے حصے کا زیادہ کپڑا کیوں لیا ؟ اور وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطبہ چھوڑ کر پہلے کپڑے کا حساب دینا پڑتا ہے اگر آج ہم ایسا عدل و انصاف پالیں تو آج پھر ہم معزز ہو سکتے ہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ان لوگوں نے اسلام کو دل سے تسلیم کیا تھا ، ان لوگوں نے اسلام کے لیے تشدد برداشت کیا تھا ، ظلم سہتے تھے ، اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لیے جانیں دی تھیں ، اسی لیے وہ اپنی زندگیوں کو اسلام کے لیے وقف کر گئے اور ہم پیدائشی مسلمان ہیں، نام نہاد مسلمان جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ، ہمارے ہاں تعلیمی نظام بھی ایسا ہے کہ ہم حق اور سچ کو اپنانے کی بجائے صرف مفاد پرست انسان بن چکے ہیں ۔ مظلوم کو حق دینے کی بجائے غرور اور تکبر میں شاید فرعون اور نمرود سے بھی آگے نکل چکے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ ہمارے پاس ان کے جتنے اختیارات نہیں ہیں ورنہ ہم بھی ان سے کسی صورت مختلف نہیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی جب غرور و تکبر کو توڑنے پر آتا ہے ہے تو پھر جس دریا کا پانی فرعون کے حکم سے رک جایا کرتا تھا اسی فرعون کو اسی پانی میں غرق کر کے نشان عبرت بنا دیتا ہے ۔اس سے پہلے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی دنیا جہان والوں کے لئے نشان عبرت بنائے ، ہمیں اس کے دین کی طرف لوٹ آنا چاہیے ۔ اپنی دینی تعلیمات کو اپنا لینا چاہیے ، یقیناً اسی میں ہماری بھلائی ہے اور اسی طرح ہم دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں

  • سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    ریاض: 63 سالہ ایک سعودی شخص نے 53 شادیاں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد استحکام اور ذہنی سکون تھا، ذاتی خوشی نہیں۔

    باغی ٹی وی : ” گلف نیوز ” کے مطابق 63 سالہ سعودی شہری ابو عبداللہ جو 53 شادیاں کرنے کے دعویدار ہیں نے کہا ہے کہ پہلی شادی 20 سال کی عمر میں کی تھی اور اب ان کی عمر63 برس ہے –

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    ابو عبداللہ کو صدی کا سب سے زیادہ شادیاں کرنے والا انسان کہا جا رہا ہے کا کہنا ہے کہ ان کے نکاح میں اب صرف ایک خاتون ہیں۔ آئندہ ایک سے زیادہ شادیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    ایم بی سی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ابو عبداللہ نے بتایا کہ وہ خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دوست نے شادیوں کے حوالے سے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی-

    63 سالہ شخص نے بتایا کہ شروع میں ایک سے زیادہ شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں پہلی بیوی سے مطمئن تھا۔ میرے بچے بھی تھے۔ کچھ عرصہ بعد مسائل شروع ہوئے اس وقت میری عمر 23 برس تھی۔ ذہنی آرام و سکون کے لیے دوسری شادی کی اور میں نے اپنی بیوی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    اس نے کہا کہ بعد میں اس کی پہلی اور دوسری بیویوں کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہوا، جس نے اسے تیسری اور چوتھی بار دوبارہ شادی کرنے پر اکسایا ابو عبداللہ نے کہا کہ بعد میں اس نے پہلی، دوسری اور تیسری بیویوں کو طلاق دے دی۔

    ابو عبداللہ نے دلیل دی کہ اس کی متعدد شادیوں کی وجہ اس کی ایک ایسی عورت کی تلاش تھی جو اسے خوش کر سکے تاہم ذہنی آرام و سکون کے لیے شادیاں کرتا رہا۔

    تمام بیویوں کے درمیان انصاف سے کام لینے کی کوشش کی تمام شادیاں یکے بعد دیگرے نہیں کیں۔ پہلی شادی کے وقت میری بیوی مجھ سے چھ سال بڑی تھی ایک شادی ایسی بھی رہی جس کا دورانیہ صرف ایک رات تک محدود رہا۔

    ابو عبداللہ نے کہا کہتمام شادیاں روایتی انداز میں کیں میری بیشتر بیگمات سعودی رہیں تاہم غیرملکی خواتین سے شادی مجبوری میں کی کاروبار کی غرض سے بیرون مملکت سفر کے دوران غیرملکی خاتون تین، چار ماہ تک میرے نکاح میں رہتی تھی۔ برائی سے بچنے کے لیے ایسا کرتا تھا میں نے طویل عرصے میں 53 خواتین سے شادی کی-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ہر مرد کی خواہش ہے کہ ایک عورت ہو اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے استحکام کسی نوجوان عورت سے نہیں بلکہ ایک بوڑھی عورت سے ملتا ہے-

    اسلام میں، جو ایک وقت میں چار بیویاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، اگر کوئی مرد اپنی تمام بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، تو اسے ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔

  • ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    محققین کا کہنا ہے کہ جس شہابِ ثاقب نے ڈائنو سار کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا اس کے سبب 2500 کلومیٹر رقبے پر محیط جنگلات آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

    باغی ٹی وی :6.6 کروڑ سال قبل کریٹیسیئس دور کے آخر میں تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا سیارچہ جزیرہ نما یوکاٹین (جو آج کا میکسیکو ہے) سے ٹکرایا تھا اس تصادم کے نتیجے میں ڈائنو سار کے ساتھ زمین پر رہنے والے تقریباً 75 فی صد نباتات اور جانور ختم ہوگئے تھے اس تباہی کا ایک حصہ اس تصادم سے جنگلات میں لگنے والی آگ کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی سائنس دان نے تصادم کے وقت کی چٹان کا معائنہ کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ کچھ آتشزدگیاں سیارچہ ٹکرانے کے چند منٹوں بعد ہی شروع ہوگئی تھیں۔

    پروفیسر بین نیلر کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آگ تصادم کا براہ راست نتیجہ تھی؟ یا بعد میں لگی تھیں۔ کیوں کہ نباتات تصادم کے بعد ماحول میں اڑنے والے ملبے کی وجہ سے ہونے والے اندھیرے کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر ہماری تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ تباہ کن آگ لگنا کیسے اور کب شروع ہوئیں اور ایک صاف مگر خوف ناک تصویر پیش کرتی ہے کہ شہابِ ثاقب کے گرنے کے بعد فوری طور پر کیا ہوا ہوگا۔

    ایک طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ غیر پرندوں کے ڈائنوسار 65 ملین سال پہلے ختم ہو گئے تھے لیکن پال بتاتے ہیں، ‘دنیا بھر میں مٹی کی ان تہوں کی ڈیٹنگ بہت درست ہے – اس کا اندازہ چند ہزار سالوں میں لگایا گیا ہے حالیہ ریڈنگ نے اسے بہتر کیا ہے، اور ڈایناسور کے معدوم ہونے کی تاریخ 66.0 ملین سال پہلے کی ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے جو ٹیرنٹیولا نامی نیبیولا کی ستاروں کی نرسری میں موجود ہزاروں نو عمر ستارے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اس خلائی نرسری کو آفیشلی 30 ڈوراڈس کا نام دیاگیا ہے اور یہ 1 لاکھ 61 ہزار نوری سال کےفاصلے پر لارج میگا لینک کلاؤڈ کہکشاں میں موجود ہے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے سےقریب موجود تمام کہکشاؤں میں ستارے بنانے والی سب سے بڑی اور روشن کہکشاں ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت


    امریکی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ایک لمحے کے لیے ٹیرنٹیولا نیبیولا میں موجود ہزاروں ستاروں کو دیکھئےجن کو پہلےکبھی نہیں دیکھا گیا۔ نیبولا طویل عرصے سے ستاروں کی تشکیل کا مطالعہ کرنے والے ماہرین فلکیات کے لئے پسندیدہ رہا ہے۔ نوجوان ستاروں کے علاوہ، ٹیلی اسکوپ نے نیبیولا کے ڈھانچے اور ترتیب کے ساتھ اس کے پس منظر میں موجود کہکشائیں بھی تفصیلاً دِکھائی ہیں علاوہ نیبولا کی گیس اور دھول کی تفصیلی ساخت اور ساخت کو بھی ظاہرکیا ہے-


    ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ٹیرینٹیولا نیبیولا کا نام اس کی غبار آلود دھاریوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ ہماری کہکشاں کے قریب سب سے بڑا اور روشن ستارہ ساز خطہ ہے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے گرم ترین اور بڑے ستاروں کا گھر ہے یہ مشہور ترین، سب سے بڑے ستاروں کا گھر ہے۔ ماہرین فلکیات نے ویب کے تین ہائی ریزولوشن انفراریڈ آلات کو ٹیرینٹیولا پر مرکوز کیا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    ناسا کےمطابق یہ نیبیولا ہمیں بتاتی ہے کہ خلائی تاریخ میں ستارہ بننے کا عمل جب عروج پر ہوگا تو کیسا دِکھتا ہوگا انفراریڈ طول موج پر ویب کے ہائی ریزولوشن سپیکٹرا کے بغیر، ستارے کی تشکیل کے عمل کا یہ واقعہ سامنے نہیں آ سکتا تھا۔


    ٹیرینٹیولا نیبیولا میں ماہرینِ فلکیات اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ اس میں اس ہی طرح کے کیمیائی مرکبات ہیں جو کائنات کے بڑے ستارہ ساز خطوں میں دیکھے گئے ہیں جس کو ’کائناتی صبح‘ کاکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کائنات چند ارب سال پُرانی تھی اور ستارے بننے کا عمل عروج پر تھا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، آپ نہیں مگر آپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دورِ جدید میں مصنوعی ذہانت یا آڑٹفیشل انٹلیجنس آئے روز بہتر سے بہتر ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بنیاد مشین لرننگ پر ہے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے ماحول سے سیکھ کر خود میں بدلاؤ لاتا ہے بالکل ایسے ہی مصنوعی ذہانت کا پروگرام کمپیوٹر کی طاقت سے اس میں فیڈ کیے گئے ڈیٹا کی مدد سے سیکھتا ہے۔ آج دنیا میں ہر روز تقریباً 2.8 quintillion byte ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا میں، آپ اور دُنیا بھر کے اربوں لوگ انٹرنیٹ کے استعمال سے، سوشل میڈیا پر پوسٹس، ویڈیوز، ای میلز، وٹس ایپ،آن لائن شاپنگ وغیرہ کے ذریعے جنریٹ کرتے ہیں۔

    ماضی میں انسانوں کے پاس اس قدر ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ مگر آج شاید فیس بک یا وٹس ایپ کو آپ سے زیادہ آپکا پتہ ہے۔ وہ چیزیں جو ماضی میں اپ ان پلیٹ فارمز پر لگا کر بھول چکے ہیں وہ بھی انکے پاس محفوظ ہے۔

    اس قدر ڈیٹا ہونے کے بعد یہ قدرِ آسان ہو گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں یا انسانی رویوں کے بارے میں سکھایا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ایک روبوٹ محض یوٹیوب پر کھانا پکانے کی ہزاروں ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ہی کوکنگ سیکھ گیا۔ مصنوعی ذہانت ایک بہت ہی طاقتور ٹیکنالوجی ہے مگر اسکا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ جس میں سب سے زیادہ بات آج کے دور میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔

    کسی کے چہرے پر کسی اور کا چہرا لگا کر یہ تاثر دلانا کہ یہ دراصل دوسرا شخص ہے کوئی نئی بات نہیں ۔ماضی میں بھی لوگ کس مہارت سے پاسپورٹس پر تصاویر تبدیل کر دیا کرتے۔ ایک تصویر پر دوسری تصویر لگا کر اسے یوں کاپی کرتے کہ اصل کا گماں ہوتا۔ مگر کمپوٹر اور اسکے جدید سوفٹویئرز کے آنے سے یہ سلسلہ آسان ہوتا گیا۔ شروع شروع میں لوگ ایڈوب فوٹو شاپ اور مائکروسافٹ پینٹ جیسے سافٹ وئیرز پر ایسا کرتے ۔ اس میں حقیقت سے قریب تر ہونے کا گمان، سافٹ ویئر استعمال کرنے والے آدمی کی مہارت پر منحصر ہوتا۔ مگر اب یہی سب زیادہ بہتر اور اصل نقل کی پہچان کے فرق کو مٹاتی مصنوعی ذہانت کی حامل ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کرتی ہے۔

    ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں دراصل ایسے الگورتھمز استعمال ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کے چہرے، اُنکے چہرے کے تاٹرات، اُنکی معمولی سے معمولی چہرے کی حرکت، بولنے ، چلنے کا انداز، وغیرہ وغیرہ جیسی تفصیلات کو پڑھتے ہیں اور اس سے انسانی چہروں میں موجود مشترکہ فیچرز کو نوٹ کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑا ڈیٹا سیٹ ہوتا یے جسکے لیے ایک نہیں بلکہ کمپیوٹرز کا پورا نیٹ ورک کام کرتا ہے جسے نیورل نیٹ ورک کہتے ہیں۔ جہاں مختلف کمپیوٹر ایک مسئلے کو مختلف حصوں میں توڑ کر آپس میں مل کر کام کرتے ہیں اور یہ کسی مسئلے کی پیچیدگی کے اعتبار سے اپنے مختص کام کو بدلتے رہتے ہیں تاکہ بہتر سے بہتر حل ڈھونڈا جا سکے۔ یہ بے حد طاقتور اور تیز طریقہ کار ہے۔ جس سے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں ہو سکتا ہے۔

    اس نیورل نیٹ ورک کی بدولت ڈیپ فیک حقیقت سے قریب تر نقلی ویڈیوز بنانے میں مہارت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ فرض کیجئے اپ نے اپنا چہرا ٹام کروز کی فلم مشن امپاسبل کے جہاز والے سین میں لگانا ہے۔ تو اب آپ کیا کریں گے کہ کسی ڈیہ فیک ایپ پروگرام میں ٹام کروز کی فلم کا وہ سین ڈالیں گے اور ساتھ ہی اپنی کوئی تصویر۔ اب یہ پروگرام کرے گا یہ کہ اس سین میں اور باقی انٹرنیٹ یا ڈیٹا سیٹ سے ٹام کروز کے چہرے کو پڑھے گا اور پھر آپکی تصویر کو ہرہر فریم میں یوں ڈھال کر لگائے گا کہ آپکے چہرے کے مصنوعی طور پر بنائے گئے تاثرات ٹام کروز کے چہرے کے تاثرات اور حرکات سے ہم میل کھانا شروع کر دیں۔ اسکے بعد یہ اسے مزید بہتر بنانے کے لئے بار بار چلا کر دیکھے گا کہ آیا کوئی خامی تو نہیں رہ گئی۔ یوں آپ یا کوئی بھی جب ڈیپ فیک سے بنائی ویڈیو دیکھے گا تو اُسکے لیے یہ جاننا مشکل ہو جائے گا کہ یہ اصلی ہے یا نقلی۔

    بالکل ایسے ہی اپ اسکا اُلٹ بھی کر سکتے ہیں یعنی آپ اپنی کسی ویڈیو میں ٹام کروز کو بولتا دکھا دیں۔

    ڈیپ فیک کے جہاں انٹرٹینمنٹ اور فلم انڈسٹری کو فائدے ہیں وہیں اسکا غلط استعمال بھی دردِ سر بن سکتا ہے۔ کئی سیاستدانوں، اہم شخصیات، شوبز کے لوگوں کی اس طرح کی نقلی ویڈیوز بنا کر دنیا میں غلط خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں جس سے جنگ کی سی صورتحال بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یوکرین اور روس کی حالیہ جنگ میں ڈیپ فیک کا بے حد استعمال نظر آ رہا کے جہاں ملکوں کے صدور می نقلی ویڈیوز بنا کر دونوں ملکوں کی عوام تک غلط معلومات پہنچا کر جنگ کے حوالے سے انکا رویہ اور حمایت بدلنے کی کوشش کی جار رہی ہے ۔ ڈیپ فیک کر استعمال سے کسی انسان کی زندگی بھی تباہ کی جا سکتی ہے۔۔خاص طور پر خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر معاشرے میں اُنکے مقام کو متنازع بنایا جا سکتا ہے۔ لہذا اس حوالے سےبین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جسکا فی الحال پوری دنیا میں خاطر خواہ فقدان ہے۔

  • خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "باجی مرچیں ہیں۔ گھر میں ختم ہو گئی ہیں”

    "چاچی پیاز مل سکتا ہے؟ کل ابا جی بازار سے لانا بھول گئے”

    پاکستان میں ایک زمانے میں گھروں میں یہ عام رواج ہوتا۔ کھانا بنانے کے دوران اگر کوئی سبزی یا روزمرہ کے پکانے کی شے ختم وہ جاتی تو پڑوسی یا محلے میں کسی سے مانگ لی جاتی۔ زمانہ بدل گیا۔۔لوگ اچھی عادتیں بھول کر کہیں اور نکل گئے۔ ایک ایسی دوڑ میں جسکی کوئی سمت نہیں۔

    یہ بات مجھے اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کی ایک رپورٹ ہڑھتے ہوئے یاد آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں کے استعمال کے لیے ہیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 14 فیصد خوراک کھیتوں یا فارمز سے منڈیوں اور مارکیٹ تک آنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

    جبکہ 17 فیصد خوراک مارکیٹوں سے گھر میں پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 930 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔جس میں سے 569 ملین خوراک گھروں میں استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے دانوں کا نصیب بنتی ہے ۔ دنیا کا ہر فرد اوسطاً سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مگر حیران مت ہوں یہ اوسط ہے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ اوسط کا مطلب دراصل یہاں کل خوراک کے ضیاع اور دنیا کی کل آبادی کا تناسب ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، دنیا کا سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جہاں ہر سال تقریباً 92 ملین ٹن چوراک ضائع ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارت دوسرا بڑا خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جبکہ امریکہ اور پھر بڑے ہورپی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی۔

    مگر یہ تصویر مکمل نہیں کیونکہ ظاہر ہے جس ملک کی آبادی زیادہ ہو گی وہاں کل خوراک کا ضیاع بھی زیادہ بنے گا۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس ملک کا شہری سالانہ کتنی نخوراک ضائع کرتا ہے۔

    تو اس پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں نائجیریا جہاں ہر شہری سالانہ 189 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔۔جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر عراق اور سعودی عرب ہیں۔

    پاکستان میں ہر شہری سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔اور یوں پاکستان اس رینکنگ میں سترویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری کے کہ پاکستان میں خوراک کی مناسب ترسیل ، سٹوریج اور بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیادہ تر خوراک منڈیوں تک آتے ہی خراب ہو جاتی ہے ۔

    ایک ایسا ملک جہاں غذائی ضروریات کی پہلے سے ہی قلت ہے اور خوراک ایک مسئلہ بننے جا رہی ہو وہاں حکومت اور عوام دونوں کی بے حسی دیدنی ہے۔

    حکومت کیطرف سے اس حوالے سے مناسب پالیسیوں کا فقدان اور غیر سنجیدگی اورعوام کی جانب سے خوراک کے ضیاع کی عادت، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے نہ جاگنے کی قسم کھائی ہے۔

    خوراک کے ضیاع سے بچنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی طریقے اپنا رہے ہیں۔ کچھ حکومتی سطح پر اور کچھ عوامی سطح پر۔

    حکومتیں مارکیٹوں کو پابند کر رہی ہیں کہ زائد المعیاد اشیاء کو خراب ہونے سے قبل سستے داموں یا مفت بیچ دیا جائے ورنہ خوراک کے ضیاع پر انہیں کو جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ عوامی سطح پر کئی ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے ضیاع کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سےبرطانیہ میں ایک ایپ بنائی گئی ہے OLIO جہاں اگر اپکے پڑوسی کے پاس اضافی خوراک ہے تو وہ ایپ پر بتا سکتا ہے اور آپ اسے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    ویسے انگریز کیسے کہتے ہوں گے؟

    "نی مارگریٹ تیرے کول بلیک پُڈِنگ ہے؟ ”

    میری مُک گئی سی۔”

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    میری بیٹی اب باتیں کرنا شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی مراحل میں وہ کئی الفاظ ایسے مبہم انداز میں بولتی ہے کہ بالکل سمجھ ہی نہیں آتی ۔ میری اہلیہ بہر حال سمجھ جاتی ہیں اور مجھے بتا دیتی ہے ۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جو دیگر احباب کو سمجھ نہیں آتے لیکن مجھے آجاتے ہیں اور میں ان کو وضاحت کردیتا ہوں ۔

    چونکہ اہلیہ محترمہ کا سارا وقت بیٹی کے ساتھ گزرتا ہے تو وہ سب کچھ سمجھ لیتی ہیں ۔ میرا وقت گزارنے کا تناسب کم ہے تو مجھے اس کی کم باتیں سمجھ آتی ہیں ۔ اور جو ایسے ہیں کہ بالکل ہی تھوڑا وقت گزارتے ہیں ان کو بالکل تھوڑی باتیں سمجھ آتی ہیں ۔
    اس سادہ سی بات میں زندگی کا سادہ مگر اہم اصول چھپا ہے ۔

    انسان شعبہ ہائے زندگی کے جس شعبہ پر اپنی انرجی اور وقت زیادہ صرف کرتا ہے وہ اس میں مہارت تامہ حاصل کرلیتا ہے ۔

    انسان کسی ماہر کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے اس حقیقت کو جان لے کہ وہ ماہر زندگی کا ایک حصہ صرف کرکے یہ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ کوئی بھی یہ مہارت حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ زندگی کا ایک خاطر خواہ حصہ اس حصول پر لگائے ۔

    اگر کوئی ایسا ہے کہ وقت لگانے کے باوجود کم سمجھ رہا ہے تو اس کا مطلب وہ وقت کا کم تناسب اس شعبہ میں لگارہا ہے ۔ اور جسے بالکل ہی کسی شعبہ کے متعلق سمجھ بوجھ نہیں تو اس کا مطلب یہ ایسا شخص ہے جس نے حصول کی ذرا برابر بھی زحمت نہیں کی ۔ یہ دنیا give اور take کے اصولوں پر کارفرما ہے یہاں جو کوئی جتنا حصہ ڈالتا ہے اسی کے بقدر وصول کرتا ہے ۔ ثمرات و فوائد آسمان سے کسی کی جھولی میں نازل نہیں ہوتے ۔ یہ میسر ضرور ہوتے ہیں لیکن انہیں کو جو اس کو پانے کی سعی و کوشش کرتا ہے ۔

    انسان اگر کائنات کے خدائی اصولوں کو سمجھ لے تو وہ زندگی کے بہت سارے معاملات میں پریشان و حیران ہونے سے بچ سکتا ہے ۔
    کیونکہ جب اصول سمجھ آجاتے ہیں پھر حیرت و پریشانی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان اقدام کی درست سمت کو جان لیتا ہے ۔

  • "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    لڑکپن کو اگر بچپن کے ہم قافیہ کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا کچھ اصطلاحی مفہوم سمجھ آتا ہے وگرنہ پہلی بار سننے میں یہ لفظ پٹھانوں کی سویٹ ڈش لگتی ہے.

    لڑکپن انسانی زندگی کا وہ حصہ ہے جب انسان بارہ سے اٹھارہ سال کا ہوتا ہے. یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جب انسان خواب دیکھنا شروع کرتا ہے، جاگتی آنکھوں سے اور سوتی آنکھوں سے بھی. فرق صرف اتنا ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں اور سوتی آنکھوں کے خواب بے اختیار.

    خیر جاگتی آنکھوں میں بہت سے سہانے سپنے سجائے انسان اس عمر میں بہت سے خیالی پلاؤ پکاتا ہے مگر کبھی ان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا.

    اس دورانیہ کا درمیانی حصہ یعنی پندرہ سولہ سال وہ عمر ہے جب انسان نہ بڑا ہوتا ہے نہ بچہ رہتا ہے. بچوں کے ساتھ بچہ بننے میں شرم محسوس ہوتی ہے جبکہ بڑوں کی محافل میں ان کی کچھ مخصوص باتیں سن کر بھی شرم ہی محسوس ہوتی ہے.
    یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان غلطیاں کرنا بھی نہیں چاہتا اور غلطیوں کو نہ کرنے کا تجربہ بھی نہیں ہوتا. لہٰذاء ہر بار غلطیاں دہرانے میں ہی دل کا سرور اور ابا کی ڈانٹ حاصل ہوتی ہے.

    لڑکپن وہ عمر ہوتی ہے جب امی جی کوئی کام کر دیں تو غصہ آتا ہے کہ یہ کام میں خود کر سکتا ہوں اور اگر نہ کریں تو بھی غصہ آتا ہے کہ سارے کام مجھ پر چھوڑ دیے ہیں.

    اسی عمر میں انسان کی جسمانی ساخت بدلنے لگتی ہے. لڑکے اسی عمر میں عالم چنا سے مقابلہ کرنے کی ٹھانتے ہیں اور قد کھینچتے چلے جاتے ہیں جبکہ لڑکیاں آپس میں مقابلہ شروع کر دیتی ہیں کہ تو بڑی چڑیل ہے یا میں…!

    یہ حقیقت ہے کہ اس عمر میں ایک دوسرے کو چڑیل لگنے والی لڑکیاں اپنے ہم عمر و ہم جماعت لڑکوں کے لیے حوریں ہوتی ہیں، البتہ یہ بھی سچ ہے کہ یہ حوریں انہی لڑکوں کی بھاری ہوتی آواز سن کر ایسے ڈر جاتی ہیں جیسے کبوتری بلی کی آواز سن لے. بعض لڑکے وقت سے پہلے بڑے ہونے کے چکر میں خوامخواہ شیونگ کریم کا استعمال کر بیٹھتے ہیں جس کا نقصان بعد میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ خود بڑے ہوتے ہیں ان کی داڑھیاں ان سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہیں. یہی حال لڑکیوں کا ہوتا ہے جو ناسمجھی میں اپنی ناک اور ہونٹ کے درمیان والے غیرمحسوس بالوں (جن کو میری معلومات کے مطابق اپر لپ کہتے ہیں) کو مونچھ سمجھ کر کاٹ ڈالتی ہیں اور پھر ہر ہفتے باقاعدگی سے اس سزا کو بھگتا جاتا ہے.

    خیر اس چھوٹی سی عمر میں انسان بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرنے سے بھی نہیں کتراتا، مثلاً فی زمانہ کا ایک لڑکا اپنی شناسا سے کہنے لگا،

    "تم فکر مت کرو. تمہیں دہی پسند ہے. میں تمہارے لیے خود بھینسوں کا دودھ نکال کر دہی بنا دیا کروں گا.”

    حالانکہ یہ دعوہ کرنے والا لڑکا خود آئرن کی کمی کے باعث پانچ کلو والا آٹے کا تھیلا اٹھانے سے قاصر تھا.

    اس عمر میں عقائد کی ناپختگی انسان کو ہر قسم کی مجلس، دربار، عرس، قل خوانی اور سیاسی ریلیوں تک لے جانے کا سبب بنتی ہے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے یا ان کے جواب دینے پر مجبور کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جلسے میں اس عمر کے لڑکوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جنھیں محض ایک بوتل یا بریانی کا ڈبہ کھینچ لاتا ہے.

    اس عمر کے لڑکے بہت جذباتی ہوتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے جذبات بہہ نکلتے ہیں. یہ وہی لڑکے ہوتے ہیں جو ساؤتھ انڈین فلمیں دیکھ کر سینا تانے پھڑتے ہیں اور "تارے زمیں پر” دیکھ کر انکا رونا بند نہیں ہوتا. لڑکیوں کا معاملہ کچھ اور ہے، یہ جو مرضی فلم دیکھیں ان پر رونا واجب ہے.

    لڑکپن بہادری کا دور ہوتا ہے. خود سے چھوٹے بچوں کو لال بیگ سے ڈرتا دیکھ یہ لڑکے ان کی ہنسی اڑاتے ہیں مگر یہی لڑکے رات کے وقت کتے کا بھونکنا سن لیں تو خون پسینہ خشک ہو جاتا ہے. خود ہم نے چودہ سال کی عمر میں بھینسوں کے ایک طبیلے میں قدم کھنے کی جسارت کر دی. بس پھر کیا تھا، چوکیدار کتے نے ہماری وہ دوڑیں لگوائیں کہ اگر آپ ہمیں بھاگتا دیکھ لیتے تو یوسین بولٹ کو بھول جاتے.
    خود اعتمادی کی بات کی جائے تو جو لوگ اس کچی عمر میں اس نسخۂ کیمیا کو پا لیتے ہیں، وہ پالیتے ہیں. ورنہ بعد میں چاہنے کے باوجود وہ نہیں بول پاتے جو وہ بولنا چاہتے ہیں. یہاں بولنے سے مراد من پسند جگہ پر شادی کرنے کا اظہار ہرگز نہیں ہے. یہ تو ہر پل پھیلتی کائنات کے اسرار و رموز، سیاست کے اتار چڑھاؤ، فلسفے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، نسل پرستی، ادب، کھانوں اور خواتین جیسے عظیم موضوعات پر اپنے رائے رکھنے اور اس کو بیان کرنے کا نام ہے.

    اس عمر میں انسان بولنا چاہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہر بات میں بولنا لازم سمجھتا ہے. میرا چھوٹا بھائی بھی ہر فضول سے فضول تر اور اہم سے اہم ترین بات میں اپنی رائے فرض سمجھ کر پیش کرتا ہے. ایک بار پندرہ سالہ ایک لڑکا رش میں اپنی موٹر-سائیکل سمیت پھنس گیا. اب وہیں ایک دکاندار بار بار اس کو نشانہ بنا کر کہتا "اتنے رش میں ضروری آنا تھا، ضروری آنا تھا.” آخر لڑکے نے بھی کہہ دیا، "انکل! آپ کو پتہ ہے میرے دادا ابو ١٠١ سال کے ہو کر مرے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے.” اس کے بعد ٹریفک کوئی آدھ گھنٹہ بلاک رہی اور اس دکاندار کے ہونٹ بھی.

    انسان کے بننے یا بگڑنے کا دارومدار اسی عرصہ پر ہوتا ہے کیونکہ انہی سالوں میں وہ میٹرک اور انٹر کے مشکل ترین مراحل سے گزرتے ہیں. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کامیابی کا معیار ان جماعتوں کا پاس کرنا تو نہیں… مگر چونکہ ہمارے معاشرے میں انٹر کے بعد کسی اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ کامیابی کی سند ہے، اسی لیے دبلے پتلے لڑکے لڑکیاں اپنے کزنز سے آگے بڑھنے کے لیے جان مار دیتے ہیں اور جو جان نہیں مار پاتے، وہ پھر ایک دوسرے پر جان وار دیتے ہیں.

    خیر جو لوگ بگڑ جاتے ہیں، وہ انہی سالو‍ں کو یاد کر کے پچھتاتے ہیں اور جو لوگ بن جاتے ہیں، وہ ان سالوں کی غلطیاں یاد کر کے افسوس کرتے ہیں. مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور ہی ان کی زندگی کا سنہری اور بنیادی دور تھا جس میں ان کی ٹانگیں لمبی اور مضبوط ہوئیں.

    مختصر یہ کہ زمانۂ لڑکپن کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں. فائدہ یہ کہ اس دور کے بعد انسان خوبصورت اور جوان ہو جاتا ہے اور نقصان یہ کہ اس کے بعد انسان سمجھدار اور بڑا ہو جاتا ہے.