Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک ایسا پرندہ دریافت ہوا ہے جس کے زہریلے ہونے کی سائنسی تصدیق ہوچکی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاپوا نیوگنی اور انڈونیشیا جزائر پر عام پائے جانے والے پرندے کا پورا نام ’ہوڈڈ پیٹوہوئی‘ ہے جو واحد زہریلا پرندہ قرار پایا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ 1990 میں اس کا زہریلا پن سامنے آیا تھا۔

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    پرندوں کے ایک ماہر، جیک ڈمبیشر بحرالکاہل کے جزائر میں تحقیق پر تھے کہ انہوں نے کچھ پرندوں کو پکڑنے کے لیے جال لگایا تو اس میں پیٹوہوئی بھی گرفت میں آگیا پرندے نے ان کی انگلی پر کاٹ لیا جیک نے اپنی زخمی انگلی کو سکون دینے کے لیے منہ میں ڈالی تو ان کی زبان اور ہونٹ کی حس ختم ہوگئی اور انگلی بھی سن ہوگئی یہ کیفیت کئی گھںٹے تک جاری رہی۔

    جیک کو خیال آیا کہ یہ سب پرندے کی وجہ سے ہوا ہے اور انہوں نے پرندے کا ایک پر توڑ کر منہ میں رکھا تو درد اور سُن ہونے کا عمل لوٹ آیا جیک کو خیال آیا کہ شاید انہوں نے پرندوں کی دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت کرلیا ہے-

    بعد ازاں سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو سب نے پرندے کو چھونے پر تکلیف اور جلن کا احساس کیا۔ مقامی افراد سے پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ’کچرا پرندہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا گوشت بھی بدبو بھرا ہوتا ہے۔

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    اس کے بعد سائنسی تجزیہ کیا گیا تو پیٹوہوئی کے پروں سے زہر دریافت ہوا اس میں بیٹراکوٹوکسن (بی ٹی ایکس) نامی نیوروٹاکسن دریافت ہوا جو اعصاب میں سوڈیم آئن کے بہاؤ کو روکتا ہے یہاں تک کہ بی ٹی ایکس دل کی دھڑکن روک کر موت کی وجہ بن سکتا ہےاس کے بعد پیٹوہوئی کی جلد میں بھی زہر کی ہلکی مقدار دریافت ہوئی لیکن اس کا خود پرندے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

    یہ پرندے ایک طرح کے زہریلے بھنورے کھاتے ہیں اور وہیں سے زہر ان تک پہنچتا ہے۔ لیکن اس پرندے کو زہر سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا تاہم خیال ہے کہ اس طرح پرندہ کیڑے مکوڑوں اور جووں سے دور رہتا ہے۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

  • جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    شیخ رشید راولپنڈی کی سیاست کی رونق ہیں لال حویلی سے کئی مرد و زن نے سیاست سیکھی ہے 1980 کے دور سے شروع ہوجاؤں تو کئی راولپنڈی کے سیاسی چہرے میرے سامنے آجاتے ہیں لال حویلی لال حویلی نہیں سیاسی مکتب گاہ کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاک فوج اور عدلیہ کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ان کے اس بیان سے سیاسی جماعتوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔ پاک فوج اور اس سے جڑے قومی سلامتی کے ادارے اور عدلیہ متنازع نہیں سیاستدان متنازع ہورہے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ کی حمایت ریاست کی حمایت ہے قومی خود مختاری وطن عزیز کی سالمیت کی حمایت ہے۔ قوم اپنے جوانوں کو کیسے بھلا سکتی ہے جو اپنے گھروں سے دور ہمارے گھروں کے راستے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے ان کا راستہ روکتے روکتے رزق خاک ہوگئے۔ یہ جوان قوم کا غرور ہیں اپنے اداروں پر قوم غرور کرتی ہے۔

    ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے انہیں جانیں نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرنا چاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کررہی ہیں قوم کو نفسانفسی میں ڈال کر ملکی اداروں کے خلاف سازش کررہی ہیں انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس منصوبے میں کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ کئی افراد شامل ہوگئے ہیں۔ منصوبہ ساز یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ پاکستان نہ تو عراق ہے نہ لیبیا نہ شام نہ افغانستان ملک کے بعض سیاستدانوں کا گورکھ دھندہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تاہم جن کو آتا ہے انہیں خوب آتا ہے ایک طرف مکار اور چالاک دشمن نے اپنے تمام محاذ وطن عزیز کے خلاف کھول رکھے ہیں دوسری طرف اندرون ملک میں انتشار کی سیاست کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہ وش کریں خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جارہے ہیں۔

    سیاستدان جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ملکی اداروں ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ اور کمزور کرنے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس جشن آزادی پر عہد کریں کہ وطن عزیز کو معاشی دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    تیسری وآخری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    واضح رہے کہ مشرف ہی کے دور میں پاکستان میں گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔افغانستان پر حملے کے وقت مبینہ طور پر بہت سے القاعدہ دہشتگرد افغان سرحد عبور کر کے شمالی وزیرستان میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں شروع میں ہی داخل ہونے سے روکا جاتا کیونکہ پھر انہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرناپڑا، جس کی زد میں سویلین عوام بھی آئے۔ ان آپریشنز کا سلسلہ 2004میں شمالی وزیرستان سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، خیبر ایجنسی تک پھیل گیا۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں نمودار ہونے والے نئے چیلنج نے ان آپریشنز کو سوات، دیر اور بونیر تک پھیلادیا۔ اس جنگ نے پاکستان کے پرامن قبائلی علاقوں میں انتشار پیدا کیا ۔جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند سالوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں بیگناہ قبائلی شہریوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور مردوخواتین اپاہج ہوئے۔جنرل مشرف کے حکم پر 26اگست 2006کوڈیرہ بگٹی میں ایک غار پر میزائل حملے میں اکبر بگٹی کو ماردیاگیا۔ اس قتل نے بلوچستان میں وہ آگ لگائی جس کے شعلے آج بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے۔لال مسجد آپریشن نے جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت کو سب سے بڑا دھچکا لگایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سربراہ نے طلبہ کو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر ابھارا تھا اور اس کا سد باب لازمی تھی لیکن پہلے تو لال مسجد میں اسلحہ بھرا جاتا رہا اور یہ سکیورٹی کی سطح پر بڑی ناکامی ہی تھی کہ اس مدرسے میں اتنا اسلحہ جمع کر لیا گیا کہ کئی دن تک فوج کا آپریشن جاری رہا تب جا کر لال مسجد clear ہو سکی۔ اس آپریشن کے حوالے سے بھی چودھری شجاعت کے مطابق بات چیت کے ذریعےحل نکالا جا چکا تھا لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ فوج کو آپریشن کا حکم دے دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مشرف نے محض اس لئے کیا کہ امریکہ اور چین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں اور لال مسجد میں اسلحے کو بلا روک ٹوک جمع ہونے دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مغرب کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نہ ہوں تو یہاں دہشتگرد قبضہ کر لیں گے۔ 28جولائی 2007 کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تقریبا ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں150 افرادکو موت کی نیند سلادیاگیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ)سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی محترمہ بے نظیربھٹو دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔27دسمبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیربھٹو لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آبادجا رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیربھٹو کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں محترمہ بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے فوراََ بعد راولپنڈی فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ کو پانی کے ذریعے دھو کر چمکا ڈالا۔ ان کا یہ عمل آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
    2018کے عام انتخابات میں سابق کرکٹرعمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سمیٹی اس طرح 17اگست 2018 کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 10 اپریل 2022 تک بطور وزیراعظم رہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی طرف سے عدم اعتمادکی کامیابی پرعمران خان کووزیراعظم ہائوس سے نکلناپڑا ۔ درحقیقت دو دہائیوں پر مشتمل اپنے سیاسی سفر میں انہوں نے لچک دکھانے، عہد کی پاسداری کرنے یا اصولوں کی پیروی کرنے کے فن کو کبھی نہیں سیکھا۔ وہ عمدگی کے ساتھ اکسانے والے، مقبول بیانئے کو قائم کرنے اور عوام کے خوابوں کی پہچان رکھنے کے ماہر تو رہے تاہم ان میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہ تھی۔ 2018 میں ان کی اقتدار میں آمد کرپشن، نوجوانوں میں بیروزگاری کا مسئلہ حل کرنے اور دنوں میں معیشت کی بحالی کے بلند بانگ وعدوں سے مامور تھی۔ بدقسمتی سے ناقص حکمرانی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے یہ وعدے کبھی پورے نہ ہو سکے۔
    آخر کارعمران خان کو اس بنا پر یاد رکھا جائے گا کہ وہ معاشی چیلنجزکا مقابلہ نہ کرسکے ،عوام کو مہنگائی کے سونامی کے سپردکردیا،ہوشربامہنگائی نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل دیا، اس پر توجہ دینے کے بجائے وہ حزب اختلاف کو نشانہ بناتے رہے۔عمران خان حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ، داخلی و بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں اور آئی ایم ایف کے معاشی بیل آٹ پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ۔ آخر میں اپنی حکومت کے خلاف خاص کر گنجان آباد اور سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں پائی جانے والی ناراضگی کا رخ موڑنے کے لیے عمران خان نے یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کی بائیڈن حکومت نے ملک میں انتقال اقتدار کے لیے پاکستان کی حزب اختلاف سے مل کر سازش کی ہے اورنیاپاکستان بنانے کیلئے اورنعرے کااضافہ کیا”کیاہم غلام ہیں۔۔؟”عوام کواس نعرے سے مسلسل بیوقوف بنارہاہے جبکہ درپردہ امریکہ سے اپنے معاملات طے کررہاہے رواں ماہ جس کی جھلک خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ محمود خان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیراعلی محمود خان نے امریکی سفیر کو صوبے کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں کے پی حکومت سے تعاون اور اشتراک پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔محمود خان نے کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس ملاقات سے قبل امریکی سفیر نے محکمہ صحت کے پی کو یو ایس ایڈ کے تحت 36ہیلتھ وہیکلز حوالے کرنے کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہیلتھ وہیکلز فراہمی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان نے امریکی سفیرسے گاڑیاں لیکر عمران کے بیانیہ کیاہم امریکہ کے غلام ہیں کواُڑاکررکھ دیاہے ۔اس ملاقات نے رجیم چینج کے غبارے سے بھی ہوانکال دی ہے۔عمران خان ہروقت اپنے مخالفین کوچورچورکہنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسی چورچورکے شورمیں الیکشن کمیشن کاممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ بھی آگیا ہے جس میں لکھاگیا ہے کہ پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوچکاہے، پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014میں دائر کیاتھا،الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ برس بعد سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،الیکشن کمیشن نے 21جون کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،فیصلے کے مطابق تحریک انصاف پارٹی نے عارف نقوی اور 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے جبکہ 8 اکانٹس کی ملکیت ظاہر کی اور 13 اکانٹس پوشیدہ رکھے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط ڈکلیئریشن جمع کرایا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اکائونٹس چھپائے، بینک اکائونٹس چھپانا آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے،13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکائونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008سے 2013تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے جبکہ ان کے پاس فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔
    اب وفاق میں سابقہ اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کی حکومت ہے جس کے وزیراعظم میاں محمدشہباشریف ہیں جوابھی تک عوام کوکچھ ڈیلیورکرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ضروریات زندگی کی تمام اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہرہوچکے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات مہنگی،گھی ،دالیں ،سبزیاں،آٹااورادویات اتنامہنگی ہوچکی ہیں کہ دیہاڑی دارمزدورسے زندہ رہنے کاحق بھی چھین لیاگیاہے۔1947سے 2022تک اس مملکت پاکستان کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے گئے۔ کرپشن دھونس دھاندلی اوربے ایمانی نے قائداعظم کے پاکستان کی معیشت کوتباہ و بربادکردیا ہے ،ایوب خان کے دورمیں 20گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں لیکن اب ان کی تعداد22ہوچکی ہے،ان کرپٹ خاندانوں کی وجہ سے مملکت پاکستان اتنامقروض ہوچکا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ،پاکستان پر جتنابھی قرض ہے وہ کسی عام پاکستانی نے نہیں لیااورنہ ہی کوئی کرپشن کی ہے اورنہ ہی قرض لی گئی رقم عام پاکستانی پر خرچ کی گئی ، قرض لی گئی تمام رقوم یہ22خاندان مختلف حیلوں بہانوں سے ہڑپ کرتے آرہے ہیں ۔یہ سب ڈاکولٹیرے حکمران جنہوں نے پاکستان کی ہرایک چیز بیچ کھائی ہے ،ان لوگوں کی دولت میں روزبروزاضافہ ہورہالیکن میراملک پاکستان مزید قرضوں کے بوجھ میں دبتاجارہاہے ،یہ انہی لوگوں کی اولادیں ہیں جن کے بارے میں میرے قائد حضرت قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایاتھاکہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔(ختم شد)

  • کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ہوائی کے شہر موناکیہ میں نصب جیمنی نارتھ دوربین نے ایسی دو کہکشاؤں کی تصویر جاری کی ہے جو ایک دوسرے سے جڑنے کے عمل سے گزر رہی ہیں اور ایک کائناتی تتلی کا گمان دیتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :ہوائی میں جیمنی نارتھ دوربین کے ماہرین فلکیات نے ایک شاندار تصویر جاری کی ہے جس میں دو سرپل کہکشائیں آپس میں ٹکرانے اور ضم ہونے کے عمل میں دکھاتی ہیں تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو کہکشائیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں –

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آپس میں ٹکرانے والی کہکشائیں NGC 4568 اور NGC 4567 جنہیں تتلی کہکشائیں بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی دوہری شکل کی وجہ سے ان کے تعامل کا سبب بنتا ہے کنیا کے جھرمٹ میں زمین سے 60 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں اور ارد گرد ایک بالکل نئی بیضوی کہکشاں بنائیں گی۔ 500 ملین سال، NOIRLab کے ایک بیان کے مطابق، جو Gemini North telescope کو چلاتا ہے۔

    نئی تصویر سائنسدانوں کو ایک ‘چپکے سے پیش نظارہ’ دیتی ہے کہ تقریبا 5 بلین سالوں میں کیا ہوگا جب ہماری کہکشاں، آکاشگنگا، اپنے قریبی بڑے پڑوسی، اینڈرومیڈا کہکشاں سے ٹکرائے گی۔ یہ تصادم ہر کہکشاں کو ایک بڑا میک اوور دے گا، اور ساتھ ہی ممکنہ طور پر سورج اور نظام شمسی کو نتیجے میں آنے والی کہکشاں کے ایک مختلف خطے میں اڑائے گا۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 10 لاکھ سالوں میں یہ آپس میں ضم ہوجائیں گی یہ دونوں کہکشائیں 50 کروڑ سال میں اپنے کائناتی نظام کو مکمل کرکے ایک ہی کہکشاں کی شکل اختیار کر لیں گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کہکشاں کی اس جوڑی کا دوسرا نام تتلی کہکشائیں بھی رکھا گیا ہے، سائنس دانوں کے مطابق کشش ثقل کی وجہ سے ان دونوں کہکشاوں نے ابھی آپس میں ٹکرانا شروع کردیا ہے۔

    اس ابتدائی مرحلے میں دونوں کہکشاؤں کا مرکز اس وقت 20,000 نوری سال کے فاصلے پرہے اور ہر کہکشاں نے اپنی پن وہیل کی شکل برقرار رکھی ہوئی ہے-

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    11 اگست 2022 جمعرات کو اس سال کا بڑا چاند ’سپرمون‘ آخری بار دیکھا جا سکے گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں فلکیاتی انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نےکہا ہے کہ رواں سال کے آخری سُپر مون کا ظاہری حجم تقریبا 8 اوراوسط روشنی 16 فیصد زیادہ ہوگی-

    امسال ریکارڈ کیا گیا جولائی اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا،اقوام متحدہ

    سپرمون آج بروز جمعرات 11 اگست کو سورج غروب ہوتے ہی جنوب مشرق کے افق پر چمکتا ہوا نظر آئے گا بظاہر زحل سیارے سے دائیں جانب واقع ہو گا اس کا رخ آدھی رات کے بعد جنوب کی طرف ہوگا اور آسمان پر انتہائی بلندی تک پہنچا ہوا ہوگا بعد ازاں جمعے کی صبح 12 اگست کو مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجکر 35 منٹ پر مکمل ہو جائے گا اس وقت سورج کی طرف سے یہ 180 ڈگری کے زاویے پر ہوگا۔

    یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری

    انہوں نے بتایا کہ آنے والی راتوں کے دوران چاند ہر روز تقریبا ایک گھنٹے تاخیر سے نمودار ہوگا اور کچھ روز بعد صرف صبح سویرے اسے دیکھا جا سکے گا۔ جمعرات کو بڑا چاند اس سال چوتھی اور آخری بار نظر آئے گا۔

    واضح رہے کہ ’سپر مون‘ مکمل چاند کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند کے مرکز اور زمین کے مرکز کے درمیان 362146 کلو میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

  • فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا
    باغی ٹی وی رپورٹ.سابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کیایاد رہے کہ عمران خان کے دعوے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ڈس انفو لیب بذات خود ایک ادارہ ہے جو فیک خبروں کے نیٹ ورک کو ایکسپوز کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر2019 میں ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 65 سے زائد ممالک میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس ہیں جو انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔ریسرچ گروپ ‘ڈس انفو لیب’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویب سائٹس انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔یہ ویب سائٹس امریکہ، کینیڈا، بیلجیئم اور سوٹزرلینڈ سمیت 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جا رہی ہیں۔ عالمی خبروں کی کوریج کے علاوہ ان میں سے بہت سی ویب سائٹس کشمیر کے تنازعے میں پاکستان کی کردار کشی کی غرض سے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز تیار کر کے چلاتی ہیں۔جبکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا.

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    دوسری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    1970کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اس نے قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں میں سے 160 نشستیں جیتیں تاہم مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی کارکردگی کچھ بھی نہ رہی۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں 81 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اس نے مغربی پاکستان کے صوبوں سندھ اور پنجاب میں بھی بڑے بڑے سیاسی امیدواروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ 1970 کے انتخابات میں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتوں کو ناکامی کاسامناکرناپڑا،اس دوران اقتدارکی رسہ کشی اورسازشیں جاری
    رہیں، انتخابات کے بعد سیاسی حالات ناقابل کنٹرول ہو گئے،ذوالفقارعلی بھٹونے اُدھرتم اِدھرہم کانعرہ لگایااور 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آ گیا۔20 دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحیی سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کردیا۔جنرل گل حسن کوچیف آف آرمی سٹاف بنادیا. شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔مشرقی پاکستان میں شکست پاکستانی فوج کو بیک فٹ پر لے آئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل گل حسن بھی ان کے دل سے اتر گئے اور انھیں ایک ایسے چیف کی ضرورت پڑ گئی جو آنکھیں بند کر ان کے ہر حکم کو بجا لائے۔بھٹو نے گل حسن کو برخاست کرنے کا حکم اپنے سٹینوگرافر کے بجائے اپنے ایک سینیئر ساتھی سے ٹائپ کروایا۔ جنرل گل حسن کی برخاستگی کے حکم کے بعد انھوں نے اپنے قابل اعتماد ساتھی ملک غلام مصطفی کھر سے جنرل گل حسن کے ساتھ لاہور جانے کو کہا تاکہ گل حسن سے اس وقت تک کوئی رابطہ نہ ہو جب تک کہ ان کے جانشین کی تقرری کا حکم جاری نہ ہو جائے۔اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممکنہ عہدیداروں کو ایک فرضی اجلاس کے لیے طلب کیا گیا اور انھیں اس وقت تک وہاں رکھا گیا جب تک کہ گل حسن کا استعفی نہیں لے لیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر پولیس تعینات کر دی گئی،گل حسن کے بعد بھٹو نے اپنے قابل اعتماد جنرل ٹکہ خان کو پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔کچھ ہی مہینوں میں بھٹو کا تکبر اتنا بڑھ گیا کہ انھوں نے پارٹی کے سینیئر ساتھیوں کی بھی توہین شروع کر دی۔جب ٹکاخان کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو انھوں نے بھٹو کو اپنے جانشین کے لیے ممکنہ سات لوگوں کی فہرست بھجوائی۔اس میں انھوں نے دانستہ طور پر جنرل ضیا الحق کا نام نہیں رکھا کیونکہ انھیں حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ لیکن بھٹو نے انہی کے نام پر مہر ثبت کی۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ضیا ء نے بھٹو کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔1977 میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احتجاج کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان میں کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، جو کسی کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوے دن کے اندر عام انتخابات کا وعدہ کیا۔ بعد میں انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہو سکا اور جنرل ضیاء کا اقتدار گیارہ برس سے زائد عرصے تک قائم رہا۔ اس دوران چار اپریل 1979 میں قتل کے ایک مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ضیا ء پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔1985 میں ضیا الحق نے سیاسی پارٹیوں کے بغیر پارلیمانی الیکشن کا انعقاد کرایا۔ جنرل ضیا الحق کا اقتدار اگست 1988 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے پر ختم ہوا۔ فوجی صدر اس حادثے میںجاں بحق ہو گیا تھا۔ افغان جنگ،افغان مہاجرین، ہیروئن اورکلاشنکوف کلچرجنرل ضیاء الحق کے دئے ہوئے تحفے ہیں جو آج تک پاکستان کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ 1988میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے2دسمبر1988 میں 35 سال کی عمر میں پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990 میں 20ماہ کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹوکی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990 کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر1993 میں عام انتخابات ہوئے۔ جسمیں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اوربے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھروزیراعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر سردارفاروق احمد خان لغاری نے 1996 میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بے نظیربھٹونے اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دبا ئو کی وجہ سے ایسانہ کر سکیں ،اس بات کوبے نظیر بھٹو کی پاکستان دشمنی تصور کیا گیا۔ان کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات لگے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہوئے۔اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو امریکی امداد سے پرویزمشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے۔بے نظیر بھٹو نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دے دیں گی۔ جس کے بعد وہ پاکستان کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن گئیں۔ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیرخان کو پوچھ گچھ کے لیے امریکا کے حوالے کر دیں گی۔محترمہ کے ان بیانات نے پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کر دیا۔ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کرسی کے حصول کے لیے امریکا اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک گر سکتی ہیں۔پانچ نومبر 1996 کو دوسری بے نظیر بھٹوحکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیااور اس نے ہی ان کو قتل کیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈسکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکا میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران آصف زرداری نے تقریبا دس سال قید میں کاٹے اور 2004 میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا-جبکہ یہ سب الزامات برحق تھے۔۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے مسٹرٹین پرسینٹ مشہورہوئے۔ نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔، امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف سامنے آگیا،یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔اس کتاب کے مطابق 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے سکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ
    ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔ نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پرٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔نواز شریف کی کئی آف شور کمپنیوںسامنے آئیںجن میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیسکول ، نیلسن ، اور شمروک کینام شامل ہیں، لندن میں پارک لین پر چار عظیم الشان فلیٹ بھی سامنے آئے،1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف واضح اکثریت کے ساتھ تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔03 اپریل 2016کو پانامہ لیکس کے اسکینڈل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،صحافیوں کی عالمی تنظیم ICIJ نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا ۔ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس ان کی ملکیت ہیں،پانامہ لیکس کے معاملہ پر ملک میں 6ماہ سے زیادہ عرصہ بحرانی کیفیت طاری رہی ، اپوزیشن وزیراعظم سے استعفے کامطالبہ کرتی رہی،پانامہ سیکنڈل سپریم کورٹ میں پہنچ گیا جس پربالآخر سپریم کورٹ نے 01نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر پانامہ کیس کی سماعت شروع کی اور آخر کار 23فروری 2017کوسپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔اور پھر 20 اپریل 2017کو اپناتفصیلی فیصلہ سنا یا،اس طرح سپریم کورٹ نے کرپشن ثابت ہونے اوراثاثے چھپانے پروزیراعظم نواز شریف کوتاحیات نااہل قرار دے دیا۔
    کارگل وارنے ہی نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف کو یہ اطلاعات دی جا رہی تھیں کہ جنرل مشرف ان کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ 12اکتوبر 1999کو نواز شریف نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان عہدے سے برطرف کیا تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو پابندِ سلاسل کر دیا۔ یہیں سے جنرل مشرف کے نو سالہ دورِ اقتدار کا آغاز ہوتا ہے۔
    2001 میں 9/11کے واقعے کے بعد جنرل پرویز مشرف سے امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کے لئے پاکستانی ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی جنگ میں پاکستانی قوم کو جھونک دیا بلکہ پاکستانی ہوائی اڈے بھی امریکی فوج کے حوالے کر دیے۔ کئی سال پاکستان اس جنگ کی آگ میں جلتا رہااوراب تک مشرف کی چھیڑی ہوئی پرائی جنگ سے نبرد آزما ہے اوراس دوران مشرف نے ایک نعرہ لگایا تھاسب سے پہلے پاکستان ۔
    جنرل پرویز مشرف اپنی کتابIn The Line of Fire میں وہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 2001میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو دہشتگردی کے شبے میں امریکہ کے حوالے کیا۔ یہ انکشافات کتاب کے اردو ترجمے میں موجود نہیں اور جنرل مشرف بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی پاکستانی شہری نہیں تھا لیکن عافیہ صدیقی کا کیس ثابت کرتا ہے کہ ان میں پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل تھے(جاری ہے)

  • آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی کراچی میں واقع ایک عظیم دینی ادارہ ہے۔ جہاں قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکے بانی مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

    جو تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب کی ایماء پر پاکستان ہجرت کی۔

    اور یہاں آکر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ جامعہ کے حالیہ صدر استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب اور نائب صدر استاذ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم ہیں

    مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس سے وطن عزیر پاکستان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ایسی ہی ایک تقریب کا حال اس تحریر میں پیش خدمت ہے:

    آج 14 اگست ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کو سبز ہلالی پرچموں سے خوب سجایا گیا۔ جشن آزادی کی تقریب کا وقت 10 بجے طے تھا۔ جامعہ کی وسیع وعریض مسجد کے باب یاسین کے ساتھ بنے اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ کرام کے لئے نشستیں رکھی گئ۔ اور جامعہ کے طلباء اور شرکاء کیلئے اسٹیج کے سامنے دراسات دینیہ اور دارالقرآن کے وسط میں ہرے بھرے لان میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیاہے۔

    تقریب کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبہ اور دور دراز سے آنے والے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے، اور یوں دس بجے تک تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت کے بعد حمد اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی گئ۔ پھر وطن عزیز سے محبت کے اظہار میں قومی و ملی نغمے پڑھے گئے۔ جن سے حاضرین کے جوش و جزبے میں خوب اضافہ ہوا۔

    جامعہ کے طلبہ کی طرف سے مختلف مظاہرے پیش کئے گئے، فوجی پریڈ بھی کی گئ۔ اور پھر جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے طلبہ عزیز اور شرکاء سے آزادی کی قدرو قیمت اور ملک و قوم سے محبت پر خطابات کئے۔ سب سے آخری خطاب جامعہ کے نائب صدر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا ہوا۔ جس میں آپ نے آزادی کی قدر وقیمت پر وقیع خطاب فرمایا۔

    آپ کے خطاب کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

    ۔ ہم پاکستان کی صورت میں اللہ کے اس عظیم تحفہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    ۔ تمام غیر اسلامی طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے ۔ اللہ نے مسلمانان برصغیر کی مدد فرمائ۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا یہ وسیع وعریض اور سرسبزوشاداب ملک عطا فرمایا۔

    ۔ ملک پاکستان دنیا کہ نقشے پر پہلی بار اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

    ۔ یوں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وطن سے وفاداری ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ وطن اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس سے وفاداری نہ صرف اس کا حق ہے۔بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔

    ۔ یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی، اور اس دستور کا ہر قانون قرآن سنت کے مطابق ہوگا۔

    ۔تحریر و تقریر کی آزادی پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں۔ لہذا اس نعمت کو نعمت سمجھو۔

    ۔ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    لہذا ہر شخص جذبہ،ہمت ، خلوص اور حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    ۔ ہر گز یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا ایک ادارہ معاشرہ میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔

    ۔ اللہ اس ملک کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    خطاب کے بعد ملک عزیز کی بقا، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کرائ گئ،پرچم کشائ کی گئ اور یوں اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا .۔

  • افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    لوگوں کو مختلف قوموں، ذاتوں اور سیاسی و مذہبی فرقوں میں اسی لیئے تقسيم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ کسی ظلم کے خلاف متحدہ ہو کر آواز نہ اٹھا سکیں.یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے آج پوری دنیا میں مسلمان ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہیں۔دنیا کے جس کونے میں بھی جائیں مسلمان قوم کسی نہ کسی مسلے سے ضرور دوچار ہو گی۔

    اس صورت حال کے پیچھے دوسری وجوہات و عوامل کے ساتھ ساتھ اس قوم کی اپنی بد اعمالیاں بھی شامل ہیں۔تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے مسلم امہ میں اس انتشار و افتراک کا آغاز خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ و تعالیٰ عنہ کے سانحہ شہادت سے ہی ہو گیا تھا۔ سیدنا عثمان غنی کو شہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اولین اور سب سے عظیم سازش تھی ، یہ سازش دراصل عبداللہ بن سباء اور اس کے منافقین ساتھیوں کی کاروائی تھی جو درحقیقت صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی نہ تھی بلکہ عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی۔

    آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن مسلمان تفرقہ اور آپس کے انتشار میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ آج تک اس کے گرداب اور چنگل سے نکل نہیں سکے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت کا سارا دور بھی نہ صرف اسی طرح کے آپس میں اختلافات ریشہ دوانیوں اور انتشار کی حالت میں گزرا۔بلکہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں حتیٰ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاء کے درمیان جنگیں تک لڑی گئیں۔

    اس بناء پر مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت پہ متمکن ہونا اور مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان صلح کی خاطر خلافت چھوڑ دینا اور بعد ازاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی کربلا کے مقام پر شہادت مسلمانوں کے اسی انتشار و افتراک کا نتیجہ تھا۔

    اموی خاندان کے دور خلافت میں حالات پہلے سے بھی زیادہ دگرگوں ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب عباسی خاندان مسند خلافت پر براجمان ہوا تو انکے دور میں اس قوم کی حالت یہ تھی کہ ہر شعبہ زندگی انتشار کا شکار تھا۔اگر صرف بات کریں وارثان محراب و ممبر کی تو ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ دارالحکومت بغداد شہرکا کوئی کونہ یا گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں پہ ہر دوسرے دن انکے مسلکی اور دینی مناظرے نہ ہو رہے ہوں۔

    یہ مناظرے بھی کچھ اس طرح کی بحث و تمحیث پر مشتمل تھے کہ سوئی کی ایک نوک پر زیادہ سے زیادہ کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔؟پرندوں میں کوے پر بحث جاری تھی کہ کوا حلال ہے یا حرام ہے۔ایک مسلہ یہ بھی وجہ نزع تھا کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہو- اختلاف اس بات پر تھا کہ بعض کہتے تھے کہ ایک بالشت ہو اس سے کم جائز نہیں اور بعض دیگر لوگ یہ کہتے تھے کہ نہیں ایک بالشت سے کم بھی جائز ہے۔

    یہ مناظرے اسی طرح بڑے زور و شور سے جاری تھے اور یہی وہ وقت تھا کہ جب ہلاکو خان نے اپنی تاتاری افواج کے ہمراہ دارالحکومت بغداد پہ حملہ کیا اور اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔سوئی کی نوک پر فرشتے بٹھانے والے تہ تیغ کر دئیے گئے۔مسواک کی حرمت پر لیکچر دینے والے مٹا دئیے گئے۔کوے کی حلال و حرام پر بحث کرنے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار کچھ اس طرح بنا دیئے گئے کہ جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا۔بعد ازاں مسلمانوں کے سروں کے مینار بنانے والا ہلاکو خان خود بھی تہ تیغ ہوگیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنے سینکڑوں سال بیت گئے لیکن یہ قوم اتنی ڈھیٹ نکلی کہ مجال ہے اس قوم کے کسی بھی فرد نے تاریخ سے ایک رتی بھر بھی سبق سیکھا ہو۔

    ہمارے آج بھی بحث و مباحثوں کے عنوانات ویسے ہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے ۔داڑھی کی لمبائی کتنی ہونا ضروری ہے۔؟ شلوار ٹخنوں سے کتنی اونچی یا نیچی ہو۔؟ مردہ قبر میں سن سکتا ہے یا نہیں۔ قبر پہ آنے والے شخص کو قبر میں موجود مردہ پہچانتا ہے یا نہیں۔امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں ۔ایک مسلک کے نزدیک رفع یدین ضروری ہے دوسرا اسے ضروری خیال نہیں کرتا۔کچھ لوگ غم حسین علیہ السلام مناتے ہوۓ ماتم کرتے ہیں دوسرے اس سے منع کرتے ہیں۔ہر مسلک کا داعی صرف اپنے آپ کو جنتی کہتا ہے جبکہ دوسرے کو جنت کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔

    پہلے یہ مناظرے بغداد شہر کے گلی کوچوں میں ہوتے تھے آج کے دور جدید میں یہ مناظرے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں بلکہ گھر گھر ہوتے ہیں۔اپنی نجی محفلوں میں ہوتے ہیں۔جلسوں میں ہوتے ہیں اور مسجدوں کے محراب و منبر پہ ہوتے ہیں۔اب تو ایک چھوٹی سی ڈیوائس نے ہر فرد کو ایک مناظر کی حیثیت دے دی ہے اور وہ اس کا استعمال کر کے جو اس کے ذہن میں آتا ہے وہ اناپ شناپ سوشل میڈیا پہ بکے جا رہا ہے۔

    ابھی کل ہی ایک محترمہ کسی چینل پہ بیٹھ کر ایک مولوی صاحب کے لتے لے رہی تھیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے بہتر حوریں رکھی ہیں اور مرد کی عیاشی کا پورے کا پورا بندوبست کر دیا ہے لیکن عورتوں کیلئے کیا رکھا ہے۔؟ جواب دیا گیا کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ جنت میں جاتی ہے تو وہ ان حوروں کی سردار ہوگی۔

    محترمہ کہتی ہے کہ واہ-! مرد کیلئے بہتر حوریں اور اسکی بیوی کیلئے وہی دنیا والا شوہر جسے شائد وہ دنیا میں دیکھنا بھی پسند نہ کرتی ہو۔ گویا اس قسم کی پریکٹس تھوڑے بہت فرق کے ساتھ صدیوں سے اب بھی جاری ہے اور جدید دور کا ہلاکو خان ایک ایک کر کے ان سب ملکوں ان کے مسلکوں اور فرقوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا آرہا ہے لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اسے روک سکیں۔

    جدید دور کے اس ہلاکو خان نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ لیبیا اور عراق کو دبوچا۔افغانستان کو خانہ جنگی میں کچھ اس طرح دھکیلا کہ وہ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔شام اردن اور لبنان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔کشمیریوں کو کچھ اس طرح مارا جا رہا ہے کہ وہ اپنی لاشیں بھی نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی وہ انہیں گن سکتے ہیں۔فلسطین ان کے اب بھی پنجہ استبداد میں ہے اور وہ انکے ظلم و ستم کے آگے بے بس ہیں اور مرنے کے سوا کوئی چارا نہیں۔مسلمان قوم کے بچے بوڑھے خواتین اور جوانوں کی لاشیں کوے نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہے ہیں۔مسلم امہ انہیں دیکھ رہی ہے لیکن اسے روکنے کی طاقت ان میں نہیں۔

    آج حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے اور بچانے کیلئے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں لیکن یہ کونہ اسے مل نہیں رہا کیونکہ اب وہ بچا ہی نہیں گویا اب اس قوم میں کوئی محمد بن قاسم نہیں۔کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو ان کی پکار کو سنے اور مدد کو پہنچے ۔

    ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ شائد کوئی معجزہ ہو جائیگا اور ہم بچ جائیں گے۔ہم اب صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم نے کب وقت کے اس ہلاکو خان سے تباہ ہونا ہے۔؟ میرا کہنا یہ ہے کہ انتظار ضرور کرو لیکن یہ یقین کر لینا کہ تباہ کرنے والے نے یہ نہیں دیکھنا کہ تم کس مسلک فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔؟ وہ یقینا”یہ نہیں دیکھے گا کہ تم وہابی ہو دیوبندی ہو سنی ہو یا شیعہ ہو ۔وہ یقینا” یہ بھی نہیں دیکھے گا کہ تم اہل تشیع ہو۔اہل حدیث ہو یا اہل سنت ہو۔اس کے نزدیک تم صرف مسلمان ہو یعنی اس کے ازلی دشمن۔اسلئے اب بھی وقت ہے کہ چھوڑو آپس میں الجھنا اور سب ایک ہو جاؤ اس طرح ایک جیسے اللہ نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے۔:-

    "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو”

    قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بڑی کثرت سے اتحاد کو قائم رکھنے اور اپنے درمیان موجود خلفشار و انتشار سے بچنے کی بار بار ہدائت اور تلقین کی گئی ہے مگر ان سب کے باوجود بھی خلفشار و انتشار اب اتنا عام مرض بن چکا ہے کہ امت مسلمہ کو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے اور علاقائی تعصب اور عصبیت پرستی کے روگ کی بو ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ان حالات میں اب یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ ہوری امت مسلمہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوۓ اتحاد و اتفاق کی طرف لوٹیں۔ دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائےاور آپس میں اخوت و محبت ہمدردی و خدا ترسی اور ملکی و ملی سیاسی و سماجی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرماے، خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جی سکیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی حاصل کر سکیں۔میں نے اپنے دلی جذبات ایک کالم کی شکل میں بیان کر کے اپنس فرض ادا کر دیا ہے بقول اقبال:-

    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

  • تُم حق ہو — اسامہ منور

    تُم حق ہو — اسامہ منور

    تم حق کے لئے جب بھی اُٹھو گے، بولو گے، لڑو گے، تب تب لوگ تمھارے دشمن ہوتے چلے جائیں گے. کم لوگ تمھاری تصدیق کریں گے مگر زیادہ تر تمھاری تکذیب کریں گے لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا حق مقدار میں کم ہوتا ہے لیکن معیار میں بہت ہوتا ہے.

    بدر و حنین یاد رکھنا، تمھیں حوصلہ ملے گا. احد کو یاد رکھنا، تمھیں خود کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا، خندق و تبوک تمھارے اندر جوش و ولولہ پیدا کریں گے.

    اور کربلا تمھیں حق اور باطل کے درمیان فرق سکھا دے گا، بس جب کبھی کربلا جیسی نوعیت ہو تو اس صف میں جانا جہاں پر تھوڑے مگر پکے لوگ ہوں گے لیکن اس صف سے بچنا جہاں پر تعداد تو کثیر ہو گی لیکن مفاد پرست زیادہ ہوں گے.

    وہ تُم پر ٹُوٹ پڑیں گے لیکن تمھیں ڈرا نہیں سکیں گے، وہ تُمھیں کاٹ تو دیں گے لیکن مار نہیں سکیں گے وہ اپنی کمزوری کو چھُپانے کے لیے تُمھیں جھوٹا کہیں گے لیکن تُم پریشان مت ہونا، انھیں آنکھیں دکھانا اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح ٹکرا جانا، تُم ہار جاؤ گے تو بھی فتح تمھاری ہو گی اور تم قیامت تک کی نسلوں پر راج کرو گے.

    زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، ہمیں ہر طرح کے مواقع میسر آتے ہیں. تمھیں بھی آزمایا جائے گا. طاقت دے کر، رتبہ دے کر، مال و دولت دے کر اور جاہ و جلال دے کر.

    لیکن یاد رکھنا اپنی طاقت کو حق کے لیے ہی استعمال کرنا،ہمیشہ حق کا ساتھ دینا خواہ سامنے خونی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو. تمھاری امید کبھی نہ ٹوٹنے پائے اور تمھارا جھکاؤ کبھی بھی باطل کی جانب نہیں ہو.

    تم جب تک حق پر رہو گے تمھاری شناخت باقی رہے گی اور تم امر ہو جاؤ گے لیکن باطل کا ساتھ دینے سے تم سب کچھ گنوا بیٹھو گے اور فانی ہو جاؤ گے.

    یزید کو بھی مان تھا، اقتدار کا اسے زعم تھا دولت کا اور غرور تھا کُرسی کا، لیکن تم دیکھ لو، لوگ اسے کن لفظوں میں یاد کرتے ہیں اور کن کن القابات سے نوازتے ہیں.

    رسوائیاں ہمیشہ کے لیے اس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہیں مگر حسین رضی اللہ عنہ کو دنیا قیامت تک ایک بہادر سپہ سالار، ایک طاقت ور بیٹے اور ایک اصول پسند امام کے طور پر جانے گی. یزید تھا جبکہ حسین رہے گا.

    حق اور حسین رضی اللہ عنہ کبھی جدا نہیں ہو سکتے. حق کا ساتھ دینا، لوگ کچھ بھی کہیں، کافر کہیں یا منافق، دائرہ اسلام سے خارج کہیں یا تمھارے کردار پر انگلی اُٹھائیں، کبھی دلبرداشتہ مت ہونا. تُم حسینی ہو، تُم حق ہو اور حق کو کبھی زوال نہیں آتا.