Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پرسوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا میچ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیااس میچ میں افغانستان نے ایک ہارے ہوئے میچ کو جس جذبے کے ساتھ کھیلا اور اسے آخر تک لے کر گئے وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔

    جبکہ پاکستان نے ایک ون سائیڈڈ میچ کو جس طرح اپنے لئے مشکل بنایا کہ ایک وقت میں پاکستانی شائقین کرکٹ ذہنی طور پر ہارنے کے لئے تیار ہو گئے وہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے لئے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

    ویسے حیرانگی کی بات ہے ہمارے پاکستانی کھلاڑی جب غیر ملکی ٹیموں کی کوچنگ کرتے ہیں تو ان کی پرفارمنس میں واضح فرق نظر آتا ہے جیسے ماضی میں ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد اس کی مثال ہیں اور ابھی عمر گل افغانستان کے باؤلنگ کوچ ہیں، اور ان کی کوچنگ کے نتائج اس میچ میں واضح نظر آئے۔

    پرسوں کے میچ میں افغان کھلاڑی کی ساتھ آصف کےساتھ تلخ کلامی اور دھکا دینا بلاشبہ کوئی اچھا واقعہ نہیں ہے لیکن پریشر میچوں میں اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں اور میچ کے بعد کھلاڑی یا ٹیم کے سینئر ان واقعات کو رفع دفع بھی کرا دیتے ہیں۔

    لیکن حیرانگی کی بات افغان کرکٹ شائقین کی طرف سے ہارنے کے بعد اختیار کرنے والا رویہ تھا ویسے عرب تارکینِ وطن کی طرف سے امن و امان خراب کرنے کی کوششوں سے انتہائی سختی سے نبٹتے ہیں اور جن لوگوں نے کل اسٹیڈیم میں بدمعاشی کی وہ ان کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔

    کرکٹ کے میدان میں پاکستان بمقابلہ بھارت اور انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ایسے مقابلے ہیں جن میں اپنی ٹیم کی فتح شائقین کرکٹ کے لئے ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہےلیکن ان جذبات کی وجہ ماضی کے واقعات ہی۔

    اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مابین مقابلے شائقین کرکٹ کے لئے کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے لیکن افغانستان کی کرکٹ ٹیم کا جو رویہ دوران میچ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے وہ دیگر ٹیموں کے ساتھ نہیں ہوتا جو کہ ایک معنی خیز بات ہے

    ہم افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی بےبہا قربانیاں ہیں افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے اس کے علاوہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔

    ایسے عالم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کے مقابلے کو کھیل سے زیادہ جنگ بنانا کیا یہ افغان ٹیم اور شائقین کے اندرونی جذبات ہیں یا اس کے پیچھے آئی سی سی کی پالیسی ہے ۔

    کہ دونوں ٹیموں کے باہمی کرکٹ مقابلوں کو انتہائی جذباتی بنا کر زیادہ سے زیادہ کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر کے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عرب ممالک میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور افغانستان کے تارکین وطن کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور پاکستان اپنے ملکی حالات کی وجہ سے ہوم سیریز مجبوراً یو اے ای میں کراتا ہےاس سوال کا جواب آنے والے وقت میں ہی معلوم ہو گا.

  • سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں

    از قلم غنی محمود قصوری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حدیث کہلاتا ہے اور رب کا فرمان قرآن مجید فرقان حمید دونوں پہ عمل کرنا لازم و ملزوم ہےجب تک قرآن و حدیث دونوں کو نا سمجھا جائے بات کی سمجھ نہیں آئے گی ،مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کمزور لوگ دنیاوی اور مدد کرنے والا اخروی فلاح پائے-

    ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر سنی سنائی بات پہ عمل کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہےاسی لئے کہا گیا ہے کہ خوب تحقیق کے بعد ہی بات آگے پہنچائی جائےاس وقت ملک پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور لوگ سیلاب متاثرین کی مدد میں لگے ہوئے جو کہ اس وقت ہم پر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی فرض عین ہے-

    لوگ کپڑوں،راشن،ادویات اور نقدی کی صورت میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں اس مدد بارے قرآن مجید فرقان حمید نے ہمیں ایسے حکم جاری کیا ہے

    لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ

    ترجمہ۔۔۔تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے-

    جبکہ حدیث رسول ہے

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے،صحیح متفق علیہ

    کچھ لوگوں کی طرف سے اس آیت و حدیث کی رو سے لوگوں کو پرانی استعمال شدہ اشیاء سیلاب زدگان کو عطیہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اپنی محبوب اشیاء یعنی نئی اشیاء ہی صدقہ خیرات کی جائیں اور اپنے بھائیوں کیلئے بھی وہی پسند کریں جو آپ خود پسند کرتے ہیں نیز پرانی اور استعمال شدہ اشیاء دینا درست نہیں-

    مجھے ان لوگوں کی نیت پہ شک نہیں وہ اپنی طرف سے بہت اخلاص کی بات کر رہے ہیں مگر میں ان کی خدمت میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان پیش کرتا ہوں عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی ،الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي

    ترجمہ۔۔۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں-

    پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا،جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی
    الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي
    پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ، ( ترمذی 3560 )

    اوپر والی آیت و حدیث ہمیں اپنی محبوب ترین چیز ( نئی غیر استعمال شدہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتی ہے اور اپنی پسند اپنے بھائی کیلئے پسند کرنے کا حکم دیتی ہے جبکہ دوسری حدیث رسول ہمیں پرانی استعمال شدہ چیزیں صدقہ خیرات کی تلقین کر رہی ہے-

    اب غور کریں تو پتہ چلے گا کہ جو صاحب ثروت مالدار لوگ ہیں وہ اللہ کے فرمان کے مطابق اپنی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلی معیاری اور قیمتی چیز اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور وہی چیز دوسروں کیلئے پسند کریں جو خود کرتے ہیں جبکہ دوسری حدیث رسول مالی کمزوروں کو تلقین کر رہی ہے کہ اپنی استعمال شدہ چیزیں بھی صدقہ خیرات کی جائیں تاکہ ان سے بھی کم مالی حیثیت اور افت زدہ لوگ وہ چیزیں استعمال کریں،ہمیں ایسی باتوں کی سمجھ تبھی آتی ہے جب قران و حدیث دونوں کو پڑھا سمجھا جائے

    اس وقت سیلاب زدگان کو کپڑوں و بستر کی سخت ضرورت ہے ہمیں چائیے کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ان کو نئی اشیاء بھی صدقہ کریں اگر اتنی طاقت نہیں تو ان کو اپنی استعمال شدہ پرانی چیزیں بھی صدقہ خیرات کریں تاکہ وہ مصیبت کے مارے لوگ اپنی ضرروت پوری کر سکیں

    سیلاب زدگان کی مدد اس وقت ہر صاحب ثروت پر فرض ہے کیونکہ یہ ہم سب کا قومی و اسلامی فریضہ ہےخداراہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں بہت سی مذہبی جماعتیں ان تک سامان پہنچا رہی ہیں –

    اگر ہم خود جا سکتے ہیں تو اجتماعی شکل میں خود جا کر مدد کریں بصورت دیگر ان مذہبی جماعتوں کے توسط سے لازمی مدد کیجئے
    اللہ تعالی ہم سے راضی ہو اور سیلاب زدگان کی مدد کے عیوض ہمیں اچھا صلہ عطا فرمائے آمین

  • 22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک رکازی (فاسل) دانت کی مدد سے کروڑوں سال قبل معدوم ہوجانے والے ایک ممالیے کی شناخت کرلی ہے اس نئی دریافت کو محققین نے "بہت اہم” قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : منگل کے روز جرنل آف اناٹومی میں شائع ہونے والی تحقیق میں برازیل اور برطانوی سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق برازیلو ڈون کواڈراینگُلرِس ایک چوہے جیسا جانور تھا جس کی لمبائی 20 سینٹی میٹر (8 انچ) تک ہوتی تھی اور اس کے دانتوں کے دو سیٹ تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    یہ تحقیق برازیل کے شہر پورٹو الیگرے میں قائم فیڈرل یونیورسٹی آف ریو گرینڈے ڈو سُل کی رہنمائی میں کی گئی جس میں نیچرل ہسٹری میوزیم اور کنگز کالج لندن کے سائنس دانوں نے شرکت کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹا ممالیہ اسی دور میں موجود تھا جب سب سے قدیم ڈائنو سار زندہ تھے اور یہ دریافت موجودہ دور کے ممالیوں کے ارتقائی عمل پر روشنی ڈالتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس جانور کی باقیات 22 کروڑ 50 لاکھ سال پُرانی ہیں۔البتہ آج تک کسی بھی باقیات میں مملیائی غدود باقی نہیں رہے ہیں۔ اسی وجہ سےاس تحقیق میں سائنس دانوں کو دانتوں اور ہڈیوں جیسے سخت ٹشوؤں پر انحصار کرنا پڑا۔

    تحقیق کی سینئر مصنفہ ڈاکٹر مارتھا رِکٹر کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ 54 لاکھ 20 ہزار سال پُرانی یہ باقیات، ریکارڈ میں مملیوں کی سب سے قدیم باقیات ہیں جو اس دور کی ماحولیات کے اور مملیوں کے ارتقاء کے حوالے سے معلومات فراہم کر رہی ہیں۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    ڈاکٹر مارتھا کے مطابق برازیلو ڈون کواڈراینگُلرِس کو پہلے ایک "جدید رینگنے والا جانور” سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کے دانتوں کا معائنہ "یقینی طور پر” ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ممالیہ ہے۔

    اگر آپ رینگنے والے جانوروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے زندگی بھر بہت سے مختلف متبادل دانت ہوتے ہیں لیکن ممالیہ جانوروں کے صرف دو ہی ہوتے ہیں۔ اول، دودھ کے دانت اور پھر دوسرا دانت جو اصل سیٹ کی جگہ لے لیتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیم اس منصوبے پر پانچ سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی تھی اور اس نے اپنی دریافت کو "بہت اہم” قرار دیا رکٹر نے کہا کہ نتائج نے "اس دور کے ماحولیاتی منظرنامے اور جدید ممالیوں کے ارتقاء کے بارے میں ہماری سمجھ میں مدد کی۔

    کنگز کالج لندن میں ارتقائی ڈینٹوسکیلیٹل بائیولوجی کے مصنف اور پروفیسر مویا میرڈیتھ اسمتھ نے ریلیز میں کہا کہ ہمارا مقالہ اس بحث کی سطح کو بڑھاتا ہے کہ ممالیہ کی تعریف کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ فوسل ریکارڈ میں پیدا ہونے کا بہت پرانا وقت تھا۔ پہلے سے جانا جاتا تھا-

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

  • پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا  دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ دیکھی گئی جسے شہریوں نے کیمرے میں قید بھی کیا۔


    اسٹار لنک سیٹلائٹ اسپیس ایکس کا پراجیکٹ ہے، اسٹار لنک دنیا بھر میں بنا کسی تعطل کے تیز ترین انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے اور اسٹار لنک ابھی 40 ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔
    https://twitter.com/DulithHerath/status/1567836094892482560?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA
    https://twitter.com/AlySyyed/status/1568054722262597632?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA

    اسٹار لنک ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس کا مقصد ‘دنیا کے جدید ترین براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم کو تعینات کرنا’ ہے اس میں 40،000 سے زیادہ سیٹلائٹس کے ‘میگا کنسٹرلیشن’ کو مدار میں ڈالنا شامل ہے۔

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    سٹار لنک (Star Link) کیا ہے؟

    ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا آغاز سپیس ایکس کمپنی نے 2015 ءمیں کیاجسے ’’سٹار لنک‘‘کانام دیا گیا جس کا بنیادی مقصد سستے اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت پوری دنیا کے صارفین تک پہنچانا ہے-

    ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 59فیصد صارفین ہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ انٹرنیٹ کی تیز سپیڈکے بھی خواہشمند ہیں گو کہ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئےموجودہ دورمیں کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے 1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک مقررہ مدار میں سفر کریں گی- پروجیکٹ نومبر 2027ء میں مکمل ہو گا-

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قبل ازیں تجرباتی طور پر دو ٹیسٹ سیٹلائٹس فروری 2018ء میں خلا میں بھیجی گئی اور دوسری 24مئی 2019ءکو لانچ ہوئی جس میں 60 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا جو ایک لائن میں سفر کرتےاور حسین نظارہ پیش کرتے دکھائی دئیے جسے’’سٹار لنک ٹرین‘‘ کا نام دیا گیا تھا-

    سپیس ایکس سٹار لنک ’’Low earth orbit ‘‘سیٹلائٹ ہیں جو زمین کے قریب ہوتے ہیں یہ ساکن اور حرکت کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں زمین کےقریب ہونےکی وجہ سےرابطہ کرنےکیلئے کم لیٹنسی استعمال کریں گےجو 25 یا 35 ملی سیکنڈہونے کی وجہ سےان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے-

    سٹار لنک فاسٹر لیزرٹرانسمیشن کو استعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں 40ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دیکھاسکےگا-سپیس ایکس نے پچھلے سالوں کی نسبت 500 سیٹلائیٹ زمینی مدار میں لانچ کی ہیں جو کہ لو ارتھ آربٹ سے انٹر نیٹ مہیا کریں گی جس کی سپیڈ تقریباً 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عام صارف کی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہو گا-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسٹار لنک اسپیس ایکس کا پروجیکٹ ہے اسپیس ایکس ایک امریکن کمپنی ہےجو حکومت کو اپنے فالکن9 اور فالکن ہیوے راکٹ کے ذریعے کمرشل سروسز مہیا کرتی ہےاسپیس ایکس باقاعدہ خلا میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پرسامان لےجاتی ہےاس کمپنی کےبانی اورچیف ایگزیکٹو ایلن مسک(Elon Musk) نے اس کمپنی کی بنیاد 2003 ءمیں رکھی اور اس کا مقصد خلائی ٹرانسپورٹ سروس کے اخراجات میں کمی کرنا اور مریخ پر آباد کاری کرناتھا- سپیس ایکس وہ پہلی نجی کمپنی ہے جس نے خلا میں متعدد راکٹ بھیجے ہیں اسپیس ایکس کمپنی عام انسانوں کوخلاء میں لے جانے کے لیے ایک بڑا خلائی جہاز بھی بنا رہی ہے جسے ’’سٹارشپ‘‘کا نام دیا گیا ہے-

  • آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ:انسانی آواز سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثر ہے یا تندرست ہے-

    باغی ٹی وی : یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی کی بین الاقوامی کانگریس میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اب صرف ایک ایپ کے ذریعے صرف انسان کی آواز سے یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کاشکار ہے یا نہیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    یہ ایپ کسی بھی موبائل فون میں انسٹال کی جاسکتی ہے اور اس میں ممکنہ مریض کو کچھ بولنا ہوتا ہے جس کے بعد آواز کے نمونے ایک ڈیٹابیس سے ملائے جاتے ہیں اور اس بنا پر الگورتھم اپنی تشخیص بتاتا ہے-

    ابتدائی تجربے کے لئے 4 ہزار 5 سو 36 تندرست اور کووڈ کے شکارافراد سے رابطہ کیا گیا اوران سے کل 893 آوازیں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 308 افراد پہلے ہی کووڈ کے شکار تھے اور ان کے ٹیسٹ پوزیٹو تھے ان سب کے موبائل پر ایپ انسٹال کی گئی اور اپنی سانس کی آواز اور کچھ گفتگو ریکارڈ کرنے کو کہا گیا۔

    پھر ان سے کہا گیا کہ وہ تین مرتبہ کھانسیں اور اس کی آواز ریکارڈ کریں، اس کے بعد کہا گیا کہ وہ پھیپھڑے بھرکر سانس لیں اور تین سے پانچ مرتبہ منہ سے سانس خارج کرکے اس کی آواز ریکارڈ کریں۔ آخر میں اسکرین پر لکھے ایک جملے کو تین مرتبہ پڑھنے کو کہا گیا پھر ان آوازوں کا تجزیہ کیا گیا تو سافٹ ویئر نے نہایت کامیابی سے مریضوں کی شناخت کی-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    یہ ماڈل ڈاکٹر وفاالجباوی اور ان کے ساتھیوں نےتیار کیا ہے ٹیم کے مطابق، یہ اے آئی ماڈل اتنا مؤثر ہے کہ اس کی تشخیص ہوبہو لیٹرل فلو یا فوری اینٹی جن ٹیسٹ جیسی ہی ہے اور کئی معاملات میں تو اس سے بہتر ہے اس اسمارٹ فون ایپ کو دور دراز ایسے غریب ممالک میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں پی سی آر کے مہنگے ٹیسٹ اور عملہ دستیاب نہیں ہیں۔

    ڈاکٹر وفاالجباوی نے اس اسمارٹ فون ایپ کو ماسٹریخٹ یونیورسٹی میں تیار کیا ہے اور ابتدائی تجربات میں89 فیصد درستگی کے ساتھ کورونا کے کیسز کے نتائج معلوم کیے گئے ہیں جبکہ لیٹرل فلو ٹیسٹ کی افادیت مختلف برانڈ کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے، بالخصوص کسی طرح کی ظاہری علامت والے مریض کا یہ ٹیسٹ ناکام بھی ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہرکوئی نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ہزاروں میل دور بیٹھے مریض کا ورچول ٹیسٹ بھی اس سے ممکن ہے اور آبادی کی بڑی تعداد کو پرکھا جاسکتا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وبا کے حملے کے بعد چونکہ پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور یوں آواز میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی
    تبدیلی آ گئی سے لے کر انقلاب آرہا ہے تک قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو کون سمجھائے تبدیلی قربانی مانگتی ہے اور سیاست میں ہمیشہ قربانی عوام نے دی ہے ۔ بلاشبہ اس وقت عمران خان نوجوانوں میں مقبول ہیں بہت ہی بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں اور عمران خان اپنے آپ کو سقراط پیش کرنے کی ناکام کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے آ پکو عصر حاضر کا سقراط سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سقراط نے مشروب اجل کیوں پیا تھا؟ وہ بے گناہ تھا مگر مشروب اجل کو منہ سے لگا لینے کا مقصد اس وقت کے عدالتی فیصلے کو قبول اور سرخم تسلیم کرنے کا مقصد ایک ادارے کی عزت اور وقار کو برقرار رکھنا تھا۔ مگر ہمارے آج کے سقراط جلسوں، چوراہوں، گلی محلوں میں اپنے اداروں پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔ وہ پاک فوج ہو، عدلیہ ہو یا پھر صحافی، صحافیوں کو بھرے جلسے میں لفافہ صحافی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    کیا اسے قومی فریضہ کہا جاتا ہے ؟ کسی محب وطن پاکستانی کو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے جلسوں میں پکارا جاتا ہے نوجوان نسل کے ذہنوں میں کیا بھرا جا رہا ہے؟ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں کیا یہ نوجوان نسل کی تربیت ہو رہی ہے؟ہم ایک ایٹمی ملک بھی ہیں اور بہادر قوم بھی اور ہماری فوجی طاقت ملک کے دفاع اور قوم کے دفاع سب کچھ لٹا سکتی ہے کیا ہماری فوج یا بہادر قوم کسی میرجعفر یا میر صادق کو برداشت کر سکتی ہے؟ جو اس ملک و قوم کے لئے خطرہ ہو ہیں ایسا ہرگز نہیں۔

    ملک میں انقلاب کے دلفریب نعرے لگائے جا رہے ہیں کیا انقلاب کی حقیقت جانتے ہیں انقلاب کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ ہر چند کے موجودہ پی ڈی ایم کی حکومت بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی لیکن ہرگز ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میر جعفر یا میر صادق ہیں یا انہیں ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا جائے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، میر جعفر میر صادق، دہشت گرد، ملک کے لئے اگر ایک دوسرے کو خطرہ قرار دیتے رہے تو پھر اس ملک کی عوام اور جمہوریت کا کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں ہم اگر مقروض اور بدحال ہیں تو ہماری بدحالی بدانتظامی کی وجہ سے ہے ۔ اگر سیاستدانوں نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں پھر ہمیں بدل دیا جائے گا ابھی بھی وقت اس وطن عزیز کی اور قوم کی خاطر جمہوریت کو مستحکم کرنے کی خاطر ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کی خاطر، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی خاطر اپنے آپ کو بدل لیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    ارد گرد ممالک کی پالیسیاں بدل رہی ہیں ہم ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشت گرد قرار دے کر کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟

  • زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اکثر آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں زومبی دیکھے ہونگے۔ فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ زومبی دراصل چلتی پھرتی گلی سڑی لاشیں ہوتی ہیں جو کسی وائرس کے پھیلاؤ سے، یا کسی اور زومبی کے کسی نارمل انسان کو کاٹنے سے بن جاتے ہیں۔ زومبیوں میں سوچنے سمجھنے یا ماحول کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ اّن میں صرف ایک ہی صلاحیت ہوتی ہے۔ بندہ یا گوشت کھانا۔ زومبی کا تصور انسانی تہذیبوں میں کب آیا اور یہ فلموں میں کب نمودار ہوئے؟ پہلے یہ جانتے ہیں۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ قدیم یونانیوں میں زومبی یعنی مرنے کے بعد دوبارہ چلنے پھرنے والے مردوں کا خوف موجود تھا۔ اّنہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کئی علاقوں سے ایسی قبریں ملی ہیں جن میں ڈھانچوں کے اوپر بڑے بڑے پتھر رکھے جاتے تھے۔ غالباً اس خیال سے کہ مردے دوبارہ سے چلنا شروع نہ ہو جائیں۔

    ماضی قریب میں دیکھیں تو شاید ستروییں صدی میں زومبی سے متعلق لوک داستانیں شمالی امریکہ کے ملک ہائیٹی میں ملتی ہیں۔ جہاں گنے کی کاشت کے لئے افریقہ سے غلام لائے جاتے۔ ان داستانوں میں زومبی ایک طرح سے ان غلاموں کی مشکل زندگی یا مر کر کی آزاد ہونے کی تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتی۔

    مغربی افریقہ ، برازیل اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں ‘ووڈو” مذہب کے ماننے والوں میں بھی زومبی کا تصور ہایا جاتا ہے۔ ان میں کچھ کا یہ ماننا ہے کہ اس مذہب کے پیشوا جنہیں "بوکور” کہا جاتا ہے, وہ جڑی بوٹیوں، ہڈیوں اور جانوروں کے گوشت سے ایک سفوف سا تیار کرتے ہیں جس سے انسان زومبی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سفوف کو زومبی پاؤڈر کہتے ہیں۔

    سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ اگر کسی شخص کو ایک خاص طرح کا کیمکل جو شاید زومبی پاؤڈر میں بھی موجود ہو، جسے tetrodotoxin کہتے ہیں۔ اگر اسکی معمولی مقدار دی جائے تو چند ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن سے ںظاہر ایک انسان زومبی سا دکھے یعنی اُسے چلنے پھرنے میں دشواری ہو، سانس اُکھڑنا شروع ہو جائے یا وہ کنفوژن کا شکار ہو جائے۔ اس کیمیکل کے زیادہ استعمال سے انسان کوما میں بھی جا سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔

    البتہ جس طرح سے فلموں میں زومبی دکھائے جاتے ہیں انکا سائنس میں کوئی ٹبوت نہیں ۔یہ محض فکشن ہے۔ زومبی کے تصور نے جدید دور میں اُس وقت زور پکڑا جب 1962 میں ایک فلم آئی Night of the Living Dead۔ اس فلم کی مقبولیت کے بعد ہالی وڈ میں اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں زومبی دکھائے جاتے ہیں۔ ان فلموں میں موجود زومبی چلتی پھرتی لاشیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہیں۔