Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    آزادی صحافت کا مطلب ذمہ داری صحافت ہے صحافت کو ملی و قومی اقدار کا پابند بنانا اور اس پر سختی سے کاربند رہنا صحافیانہ ذمہ داری کا اولین تقاضا ہے۔ قومی تقاضوں کا سودا کرنا اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا اور اپنے صفحات اور اسکرین پر اخلاقیات کا جنازہ نکال دینا کسی طور بھی آزادی صحافت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    بدقسمتی سے صحافیوں نے قومی فریضہ کو پس پشت ڈال کر سیاسی جماعتوں کے بیانیے پر چلنا شروع کر دیا ہے صحافی گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ملک اور قوم کے مسائل کو پس پشت ڈال کر قصیدے لکھنا اور بولنا شروع کر دیا جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوتا ہے۔ جو کچھ آج ہو رہا یا ماضی میں ہوتا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، پاک فوج اور میڈیا ہے جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا کا کوئی ادارہ ہو یا کوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو جاتا ہے یعنی میڈیا نے اپنی حیثیت اور وقار کو خود ہی ختم کر دیا۔ قارئین اور سامعین نہ تو کسی کی تنخواہ دیکھتے ہیں نہ کسی کا عہدہ و الفاظ دیکھتے ہیں اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    آج صحافی گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا اور صحافی جو ماضی میں قیادت کے فرائض انجام دیتے تھے قومی مسائل اور تحریکوں میں قائدانہ کردار اداکرتے تھے آج گروپوں میں تقسیم ہو کر سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کےقائدین کے فلسفوں پر چل کر اپنا وقار اور عزت دائو پر لگا رہے ہیں۔

    میڈیا بدنام ہو رہا ہے کہ میڈیا یکطرفہ ہو گیا ہےبعض صحافیوں نے تو کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اندھا دھند کام شروع کیا ہے۔ ہمیں اس ملک کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی معاملات اور ریاستی مفادات کو سامنےرکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا۔

    ملک کا سیاسی مستقبل اور ملک کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے جڑا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں کا انتخاب کرنا چھوڑ دیں سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔

    اقتدار اور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا۔ شداد کی جنت نہ رہی ، فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔

  • اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    مسائل دو طرح کے ہیں۔ اختیاری اور غیر اختیاری۔ یعنی ایک وہ مسائل جنھیں آپ حل کرسکتے ہیں۔ مثلا : امتحان میں ناکامی، تعلیمی قابلیت میں کمی، غربت، وقتی بیماری، بے روزگاری، خاندانی جھگڑے وغیرہ۔ اور دوسرے وہ مسائل جو آپ چاہتے ہوئے بھی حل نہیں کرسکتے۔ مثلا : یتیم ہونا، ضعیف ہونا، معذوری،مستقل بیماری، مناسب رشتہ نہ ملنا وغیرہ

    پہلی قسم کے مسائل کا حل: ٹھنڈے دماغ سے سوچ و بچار اور مخلص سمجھدار لوگوں سے مل کر ان مسائل پر بات کیجئے۔ اور حل تلاش کیجئے۔ آپ کو نہ صرف ایک، بلکہ ایک ہی مسئلے کے کئ حل مل جائینگے۔ ان میں سے جو مناسب اور آسان لگے، اسے اختیار کیجئے۔ اور ہمت کرکے اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنائے رکھیں۔

    دوسری قسم کے مسائل کا حل: ان مسائل کو قبول کیجئے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑائیے۔ انہی مسائل کے یا ان جیسے مسائل کا شکار بیشمار افراد ملیں گے۔ ان افراد میں سے جو ان مسائل کے باوجود کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے ملئے، یا ان کے بارے میں جانئے کہ وہ کیسے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینا آپ بھی انکے اصول اور عادات و اطوار کو اپنا کر اچھی زندگی گزارنے لگیں گے۔

    امید ہے ان باتوں پر عمل کرکے آپ کے مسائل کم ہونگے۔ مگر یاد رکھیں۔ یہ مسائل کم تو ضرور ہوسکتے ہیں۔ ختم نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا ہے۔ جنت نہیں۔ یہ تو جنت کی خوبی ہے کہ وہاں نہ کوئ خوف ہوگا نہ حزن۔ لہذا جب یہ دنیا ہے ہی ایسی کہ یہاں کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے، تو ان مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھئے۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

    اور بحیثیت مسلمان ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کی عادت اپنانی چاہیئے۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سارے دین کا خلاصہ ہی صبر و شکر ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ان دو ہی حالتوں میں ہوتا ہے۔ تنگدستی یا فراخی۔ تنگدستی ہے تو صبر کریں۔ اللہ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ فراخی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ صابرین کے لیے اللہ کا اعلان ہے:

    اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
    بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

    اور شکر کرنے والوں کے لئے یہ خوشخبری ہے:

    لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

    ہر لمحہ ہر پل خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہے۔ ان نعمتوں کو یاد کیجئے، ان پر شکر ادا کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ جب راحت ہی راحت ہو، آسانیاں ہوں۔ تو کبھی ان نعمتوں کا احساس تک نہیں کرتا۔ اور ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جیسے یہ راحتیں، آسانیاں اس کا حق ہیں، اور اسے ہمیشہ ملنی چاہئیں۔ لہذا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جب کوئ پریشانی آتی ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔

    اسی کو باری تعالیٰ نے فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ[15] وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ[16]
    ترجمہ: پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ [15] اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [16]

    ایک اور جگہ فرمایا:

    اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
    ترجمہ:
    انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    ( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

    اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں کے گھوڑوں کی قَسمیں ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔

    حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

  • اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    ٹیوبِنگن: ماہرین نے ایک تحقیق میں اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی کا اپنے خیالوں میں کھونا یا ذہن کا ادھر اُدھر بھٹکنا ایک ایسی سرگرمی ہے جس کو کم اہمیت دی جاتی ہے لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کو جتنا کیا جائے اتنا فائدہ مند ہے۔

    جنوبی جرمنی میں قائم یونیورسٹی آف ٹیوبِنگن کے محققین یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ انسان عام طور پر اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے سے جھجھکتا کیوں ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    250 افراد کے گروپ کا مطالعہ کرنے والے نفسیات دانوں نے بےمقصد سوچ بچار کےعمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ جتنی تحقیق کے شرکاء نےسوچی تھی یہ سرگرمی اس سے زیادہ اطمینان بخش تھی۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق میں تجربوں کے تسلسل سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر لوگوں کو ان کے اذہان بھٹکانے کا موقع دیا جائے تو وہ اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں البتہ کچھ لوگ اس فعل کو محنت طلب سرگرمی سمجھتے ہیں۔

    ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اپنے خیالات میں کھو جانے کا عمل مسائل کو حل کرنے، تخلیقی صلاحیت بڑھانے، تصور کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور اپنی اہمیت کے خیال سے آشنا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ ان فوائد کے باوجود اکثر افراد اپنے خیال میں کھونے یا کھڑکی کے باہر کسی چیز کو بےمقصد تکنے کے بجائے اپنی توجہ میں خلل دیئے جانے کو پسند کرتے ہیں اسمارٹ فون اس کی واضح مثال ہے جو اس آزادنہ سوچنے کی عادت کو ختم کر رہا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    تحقیق میں شامل ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے خیالات تخلیقی صلاحیتوں کو جنم دیں، تو آپ تھوڑا مختلف انداز اختیار کرنا چاہیں گے اور اس کے بجائے ان خیالات پر توجہ مرکوز کریں گے جو آپ کو متجسس اور دلچسپ معلوم ہوں۔ وہ اس مشق کو "ذہن حیرت انگیز” کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی کتاب یا مضمون میں پیش کردہ خیالات کے بارے میں سوچیں جو آپ پڑھ رہے ہیں یا ایک پوڈ کاسٹ جسے آپ نے سنا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر اوران کے ساتھیوں نے پایا کہ لوگ مسائل کےحل کی کوشش سے وقفہ لینےاور دن میں خواب دیکھتے ہوئےایک غیر ضروری کام کرنے کے بعد ان کے مزید تخلیقی حل تلاش کرتے ہیں جب وہ اس وقفے کے دوران دوسری چیزیں کرتےتھے یا تو خاموشی سے بیٹھتے تھے یا کسی مختلف مشکل کام پر توجہ مرکوز کرتے تھے یا جب انہوں نے بالکل بھی وقفہ نہیں لیا تھا، تو مسئلہ حل کرنا زیادہ مشکل تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ’’ذہن کو حیرت میں ڈالنا‘‘ ناول کے ساتھ آنے کا ایک موقع ہوسکتا ہے، مختلف نقطہ نظر جن کے بارے میں آپ نے پہلے سوچا بھی نہیں تھا اگر آپ کا دماغ خراب جگہوں پر جاتا ہے تو ذہن سازی کی کوشش کریں۔

    فٹبال کے حجم کی نئی غیر معمولی جیلی فش دریافت

    اونٹاریو میں کوئنز یونیورسٹی کےماہر نفسیات جوناتھن سمال ووڈ نے کہا، تاہم، کچھ مسائل دن میں خواب دیکھنے کے ذریعے حل نہیں ہوتے ہیں اور آپ کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دن میں خواب دیکھنا آپ کو ان کی طرف واپس لاتا ہے اور آپ پر دباؤ ڈالتا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اس صورت حال میں، ذہن سازی کی مشق کرنا ایک ذہنی حالت جس میں آپ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں مسلسل چہچہاہٹ پر لگام ڈالنے میں مدد کر سکتی ہے،” ڈاکٹر سکولر نے کہا۔ جیسے ہی آپ نے محسوس کیا کہ آپ کے خیالات تناؤ یا افسردہ ہو گئے ہیں، توقف کریں اور اپنی توجہ کو موجودہ لمحے کی طرف موڑنے کی کوشش کریں اپنی سانسوں اور ان احساسات کے بارے میں سوچیں جو آپ محسوس کرتے ہیں اس کےبعد، اپنے دن کے خوابوں کو زیادہ مثبت سمت میں ڈھالنا،ایک خوشگوار یادداشت کے بارے میں سوچیں، کہیں، یا ایک ٹی وی شو جو آپ کو تفریح فراہم کرے-

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

  • واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    میٹا کی زیرملکیت دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ میں ان فیچرز کا اعلان سی ای او مارک زکربرگ نے ایک فیس بک پوسٹ میں کیا انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ میں پرائیویسی کے نئے فیچرز آ رہے ہیںزکربرگ کا کہنا تھا کہ ہم صارفین کے پیغامات کی حفاظت اور گفتگو کو نجی رکھنے کے لیے نئے طریقےمتعارف کراتے رہیں گے۔

    میٹا کی ذیلی کمپنی واٹس ایپ کے مطابق ان تین نئے پرائیویسی آلات کو پیغامات بھیجتے وقت بطور اضافی حفاظتی جہتوں کے متعارف کرایا جارہا ہے۔

    زکربرگ کا کہنا تھا کہ نئے پرائیویسی فیچر جو واٹس ایپ میں متعارف کرائے جارہے ہیں ان میں گروپ سے بغیر کسی کے علم میں آئے خارج ہونا،اس چیز کو کنٹرول کرنا کہ کون آپ کو آن لائن دیکھ سکتا ہے کون نہیں اور صرف ایک بار کھلنے والے میسجز کے اسکرین شاٹ نہ لے سکنا شامل ہیں۔

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے اسٹیلتھ موڈ کا فیچر اس ماہ متعارف کرائے گا جس کےبعد صارفین اپنے منتخب شدہ لوگوں کے سامنے ہی آن لائن ظاہر ہوں گے۔

    مارک زکر برگ نے کہا کہ ہم آپ کے پیغامات کی حفاظت کے لیے نئے طریقے بناتے رہیں گے اور انہیں آمنے سامنے گفتگو کی طرح نجی اور محفوظ رکھیں گے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان فیچرز کی تفصیلات بتائی گئیں۔

    ایک فیچر واٹس ایپ گروپس کو خاموشی سے چھوڑ دینے کا ہے ایسا کرنے پر گروپ ایڈمن کو تو ایک الرٹ سے علم ہوجائے گا مگر باقی اراکین کو اس کا علم نہیں ہوگا یہ فیچر واٹس ایپس کے بڑے گروپس میں زیادہ کارآمد ہوگا جن کے میسجز کی بھرمار سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔

    اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    دوسرا فیچر بھی صارفین کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا کیونکہ اس سے آپ دیگر کو یہ جاننے سے روک سکتے ہیں کہ آپ آن لائن ہوگئے ہیں اس حوالے سے آپ کو 4 آپشن ایوری ون، مائی کانٹیکٹس، نو باڈی اور My contacts except دستیاب ہوں گے۔

    ابھی جب آپ واٹس ایپ پر آن لائن ہوتے ہیں تو اس کا علم ان سب کو ہوجاتا ہے جو آپ کی پروفائل کو دیکھ سکتے ہیں یہ دونوں فیچرز اسی مہینے کسی وقت صارفین کو دستیاب ہوں گے۔

    تیسرے فیچر میں ایسے میسج کو بھیجا جاتا ہے جو ایک بار دیکھنے کے بعد غائب ہوجاتا ہے، مگر ان میسجز کا اسکرین شاٹ لیا جاسکتا ہے تو اب نئے فیچر سے اسکرین شاٹ کو بلاک کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پہلی قسط
    حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
    کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
    "I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
    مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
    آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
    16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
    1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

  • ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب
    مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی ،سوشل میڈیاکی بھی مانیٹرنگ شروع،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ جلوس روٹ پر ڈی پی او محمد علی وسیم کی ہدایت پر فلیگ مارچ۔ فیلگ مارچ میں ڈسٹرکٹ پولیس کے ہمراہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ،ڈولفن فورس، ٹریفک پولیس اور ایلیٹ فورس کے دستے بھی شامل تھے۔فلیگ مارچ ایس پی انوسٹی گیشن غیور احمد خان کی قیادت میں پولیس لائن سے شروع ہو کر بمبے چوک اور روٹ جلوس کے راستہ سے ہوتا ہوا واپس پولیس لائن اختتام پذیر ہوا۔


    فلیگ مارچ کا مقصد عوام الناس کو یہ باور کرانا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس ڈیرہ غازیخان ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔دوسری طر ف وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری کو محرم الحرام اور سیلاب کے انتظامات کی نگرانی کیلئے ضلع ڈیرہ غازی خان ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ہیں انہوں نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا سرکٹ ہائوس اور ضلعی کنٹرول روم میں بریفنگ دی گئی۔رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار ،ڈی پی او محمد علی وسیم اور دیگر موجود تھے ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے میڈیا کے ساتھ بھی گفتگو کی ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے سوشل میڈیا کو بھی مانیٹر کیا جائیگا ۔ مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیز پوسٹ لگانے والے کا سراغ لگا کر سخت کارروائی کریں گے۔ایف آئی اے سائبر کرائم اور دیگر ادارے متحرک کردئیے گئے ہیں رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی نے کہا کہ ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کیلئے انتظامیہ اور امن کمیٹی کا اہم کردار ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئیں۔ ضلع میں حساس مقامات پر 54 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ ڈی پی او محمد علی وسیم نے کہا کہ پنجاب پولیس،ایلیٹ اور دیگر فورسز سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے

  • قومی اسکواڈ کا نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں انڈور ٹریننگ سیشن

    قومی اسکواڈ کا نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں انڈور ٹریننگ سیشن

    تربیتی کیمپ کے پہلے روز قومی کرکٹرز انڈور سیشنز تک محدود رہے جب کہ بارش کے سبب قذافی اسٹیڈیم کے بجائے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں ٹریننگ کرنا پڑی۔

    لاہور میں بارش کی وجہ سے قومی اسکواڈ کے تربیتی کیمپ کا پہلا روز متاثر ہوا،صبح کے وقت شروع ہونے والی رم جھم میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا جس کی وجہ سے قذافی اسٹیڈیم میں پانی جمع ہوگیا، کرکٹرز کو نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کے انڈور ہال میں ٹریننگ کرنا پڑی۔

    موسم کی خرابی کے باعث نائب کپتان شاداب خان کی میڈیا ٹاک بھی منسوخ کردی گئی، انڈور ہال میں نیٹ سیشنز میں کھلاڑیوں نے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کی زیرنگرانی بیٹنگ اور بولنگ کی مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

    محمد یوسف نے بیٹرز کو مفید مشورے دیے، ان کی توجہ خاص طور پر مڈل آرڈر اور پاور ہٹرز پر مرکوز رہی، کوچ نے تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے چند اسٹروکس خود کھیل کر بھی دکھائے، فخرزمان، عبداللہ شفیق اور خوشدل شاہ کو اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم نے تھرو بولنگ سے الگ مشق بھی کرائی۔

    شان ٹیٹ نے پیسرز کی رہنمائی کرتے ہوئے لائن و لینتھ بہتر بنانے پر کام کیا، چند کھلاڑیوں نے فیلڈنگ سیشنز میں ڈائیو لگاکر گیندوں پر قابو پانے کی مشقیں کیں۔

    دورہ نیدر لینڈز کیلیے منتخب قومی ٹیم اور شاہینز کے درمیان پہلا پریکٹس میچ اتوارکو ایل سی سی اے گراؤنڈ شیڈول تھا،مگر اب پیر کو انعقاد ہو گا، اتوار کو کرکٹرز 2 سے 5 بجے تک قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ کریں گے۔

    اسٹاف گزشتہ روز کی بارش کے سبب گیلے گراؤنڈ کو پریکٹس کے قابل بنانے کیلیے سرگرم ہے، بارش کی مداخلت ہوسکتی ہے،پیشگوئی کے مطابق دوپہر کے بعد بادلوں کی آنکھ مچولی میں رم جھم ہوسکتی ہے۔

  • دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کو ”امن کا مسکن”بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ محروم خواتین کے لئے ایک گھر یا پناہ گاہ ہے، جو خواتین ظالم معاشرے سے مغلوب ہوتی ہیں اور جو بار بار نہ صرف لوگوں کے ظالم اور حیوانیت بھرے رویے کا سامنا کرتی ہیں،جن کی ہمت ٹوٹ جاتی ہیں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق تک حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، ان کے لئے معاشرہ درد اور پریشانی کی جگہ ہے یا دوسرے لفظوں میں زمین جہنم سے کم نہیں ہے۔

    اس طرح کے حالات میں خواتین کے لیے معاشرہ پریشانیوں اور مایوسی کی جگہ بن جاتا ہے۔ ان کے حصے میں صرف ناانصافیاں آتی ہیں جو انہیں نا امیدی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ان کے افسردہ دل اور ذہن معاشرے کی طرف سے نظر انداز ہونے کے بعد سکون اور امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کی ترجیح اس وقت دارالامان ہوتا ہے۔چونکہ شادی 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ خواتین کے پاس شادی کے حقوق تک نہیں ہیں، وہ اپنی خواہش کے مطابق رائے دینے اور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرنے کااختیار ہی نہیں رکھتیں۔

    والدین ایک لڑکی کی ڈھال ہوتے ہیں۔ وہ ان پر پورا بھروسہ کرتی ہے۔ جس شخص کے ساتھ والدین اس کو منسوب کرتے ہیں وہ خاموشی سے ان کی تابعداری کرتی ہے۔ مگر جب آگے کی زندگی میں اگر والدین کا فیصلہ غلط ثابت ہو تواکثر والدین بجائے لڑکی کو انصاف دلانے کے اس کو سب کچھ برداشت کرنے کا حکم دے دیتے ہیں۔ یہ حکم اس کے لیے موت کے فرمان سے کم نہیں ہوتا۔ اور جب وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں طاقت کی بنیاد پر اپنے ہی والدین اور سسرال دباؤ ڈالتے ہیں یا انہیں ذبح کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔ ایسے حالات میں انہیں دارالامان پناہ دیتا ہے۔انہیں دارالامان میں امید کی کرن ملتی ہے۔

    دارالامان پاکستان کے تمام صوبوں میں قائم کیا گیا اور اس کی پروسیسنگ جاری ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ سندھ کے شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں۔ صوبہ پنجاب میں تقریبا 34 اضلاع میں دارالامان سرگرم ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے تشدد کا شکار خواتین کو پناہ دینے کے لیے تمام 8 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دارالامان قائم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین میں حقوق کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہوا اور وہ اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کر نی لگی۔ نتیجتاً ہر ضلع میں شیلٹر ہوم کی ضرورت پیش آئی اور محکمہ نے دارالامان کا جال پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پھیلا دیا۔ یہ گھر ایک وقت میں 20 سے 50 رہائشیوں کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    پاکستان کی خواتین ایک ایسے معاشرے میں رہ رہی ہیں جس میں ثقافت اور ذات پات کے نظام پر یقین رکھا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے لئے ہر دن بے حد مشکل ہوتا ہے اور انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف یہ اپنی نام نہاد ثقافتی روایات اور رسم و رواج کے لئے اپنے ہونٹوں پر مہر لگا دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف وہ غیر منصفانہ سلوک اور گھریلو تشدد کے زہر کا گھونٹ پی رہی ہوتی ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان کے کچھ دیہی علاقوں میں خواتین کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ دارالامان جیسی تنظیم ہو جو نہ صرف پناہ اور تحفظ دے بلکہ ان کے حقوق حاصل کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالے۔

    ایک شخص کے لئے خاندان سے جدا ہونا زہر کا گھونٹ پینے کے مترادف ہے لیکن خواتین یہ بھی کر جاتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جن کے ساتھ معاشرے نے تشدد کیا ہو۔دارالامان ویسے تو عورت کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے مگر کچھ چیزوں کی وجہ سے دارالامان کے تحفظ اور پناہ کے افعال سے نفرت ہو جاتی ہے،مطلب یہ ہے کہ دارالامان ان خواتین کے لئے اچھی طرح کام نہیں کر رہا ہے جو پرامن ماحول کے لئے دارالامان آتی ہیں۔یہ خواتین دوستانہ رویے کے مقصد سے دارالامان میں پناہ لیتی ہیں لیکن دارالامان کے کارکن ان سے اچھا برتاؤ نہیں کرتے۔ان کے لئے امن کا گھر جیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔جگہ کی کمی کا مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ملتان دارالامان ہی کی ایک مثال ہے کہ یہ صرف 30 افراد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن اس عمارت میں 80 خواتین رہائش پذیر ہیں اور ساتھ ہی اسی طرح ساہیوال میں 15 کی جگہ35 خواتین رہائش پذیر ہیں۔ یہ ان خواتین کے لئے کس قدر مشکل ہوگا یہ صرف و ہی جانتی ہیں۔ سیکورٹی کا مسئلہ بھی قابل غور ہے کیونکہ کچھ ہی سال پہلے ایک عورت کو باہر کے لوگ آ کر قتل کر کے چلے جاتے ہیں جنہوں نے اندر آکر بڑی آسانی سے اسے قتل کر دیا۔ اس کا نام فاریہ تھا اور 25 نومبر 2011 کے ڈان اخبار کے مطابق اس خبر پر روشنی ڈالی گئی۔ کوئٹہ کے دارالامان کا ایک اور کیس ہے جس میں تقریبا 15 یا 16 لڑکیاں دارالامان سے فرار ہوئیں۔ ان دونوں معاملات کے مطابق یہ واضح ہو گیا ہے کہ دارالامان سیکورٹی کے بارے میں کتنا باشعور ہے۔

    خلاصہ بحث یہ ہے کہ اگر خواتین دارالامان جیسی تنظیموں کی مدد سے انصاف کے لئے آواز اٹھاتی ہیں تو اداروں میں تبدیلیاں اور بہتری آ سکتی ہے اور اس کے علاوہ دارالامان کو اپنے کردار کو بہتر بناناچاہئے اور اپنے معیار کو بھی برقرار رکھنا چاہئے جو کہ ان کی اصلی شناخت کا ذریعہ ہے۔ عملے کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مناسب تربیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ خواتین کو ان کی نازک ذہنی یا جسمانی حالت میں کبھی بھی افسردہ یا پریشان محسوس نہ ہونے دیں۔ مزید یہ کہ عملے کو خوشگوار ہونا چاہئے۔ اگر متاثرین کے اہل خانہ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت ہونی چاہئے۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ محروم عورتیں کبھی یہ نہیں سوچیں گی کہ انہیں ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں لے جایا گیا ہے اور وہ آرام اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکتی ہیں