Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    لندن: برطانوی پولیس نے سوشل میڈیا پر لائیو پوسٹ میں زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے 39 سالہ خاتون کو حراست میں لے لیا۔ خاتون پر زندہ چوہا کھانے اور اس عمل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کرنے کا الزام ہے۔

    برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

    رپورٹس کے مطابق خاتون نے چوہا کھانے کے بعد پانی پیا اور منشیات کا بھی استعمال کیا۔ خاتون کے اس عمل کو سوشل میڈیا ہزاروں صارفین نے دیکھا اور شدید احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون نے یہ عمل ایک چیلنج کے طور پر کیا۔ خاتون پر جانوروں کے خلاف ظالمانہ حرکت کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

    پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اس ویڈیو کو شیئر نہ کریں اور نہ ہی اس پر تبصرہ کریں تاکہ اس کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں

    قبل ازیں برطانوی خاتون کا کہنا تھا کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی برطانوی خاتون سارہ ڈے نے خود کو غار میں رہنے والی عورت قرار دیا وہ خیمےمیں رہتی ہیں،مردارجانورکھاتی ہیں اور ان کی کھال سے تن ڈھانپتی ہیں پیشے کے لحاظ سے 34 سالہ سارہ ڈے بچوں کو تاریخ اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سکھاتی ہیں لیکن وہ خود شہر چھوڑ کر جنگلات میں جاتی ہیں۔

    گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے جانور سارہ ڈے کی غذا بنتے ہیں جبکہ وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی ہیں اور حیوانات کی کھال سے لباس بناتی ہیں سارہ نے کبوتر کے پر، خرگوش، گلہری اور چوہے کا گوشت بھی کھایا ہے جن کی لاشیں ہفتے میں ایک مرتبہ مل ہی جاتی ہیں جو کاروں کی ٹکر سے مرجاتے ہیں لیکن وہ 24 گھنٹے سے زائد پرانی لاش نہیں کھاتیں وہ گرم اور حال میں ہی مرا ہوا جانور کھانا پسند کرتی ہیں۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے

  • بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    بابر اعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے سابق بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ بابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ دن رہنے والے کھلاڑی بن گئے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان پچھلے 1025 دنوں سے ٹی 20 رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز صرف بھارت کے کپتان ویرات کوہلی کے پاس ہی تھا۔ویرت کوہلی آئی سی سی ٹی 20 رینکنگ میں 1013 دن تک پہلے نمبر پر رہے تھے۔

    مزید برآں یہ کہ انگلینڈ کے سابق کپتان اور بلے باز کیون پیٹرسن اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں، انہوں نے 729 دن تک آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ کی پہلی پوزیشن پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اور جنوبی افریقہ کے سابق اوپننگ بلے باز گریم سمتھ 690 دن اور سابق کیوی کپتان برینڈن میکولم 546 دن ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان رہے تھے۔

  • دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو انسانی آنکھ سے بغیر مائیکروسکوپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس عجیب و غریب بیکٹیریا کی لمبائی تقریبا 1 سینٹی میٹر ہے جو اس سے پہلے دریافت شدہ بڑے بیکٹیریوں سے 50 گنا ہے سفید لمبے دھاگے کے مانند یہ بیکٹریا سمندر کی طے میں موجود بوسیدہ مینگرو کے پتوں کی سطح پر پایا گیا۔

    لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی سائنسدان جین میری وولنڈ نے اس دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم ایک ایسے انسان کے سامنے کھڑے ہوں جس کا قد ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر ہویہ جاندار سمندری حیاتیات کے پروفیسر اولیویر گروس نے مینگروو ماحولیاتی نظام میں ہم آہنگی کے بیکٹیریا کی تلاش کے دوران دریافت کیا تھا۔

    گروس نے کہا کہ جب میں نے انہیں دیکھا تو میں حیران رہ گیا، میں نے اس کو مائیکروسکوپک تجربات کئے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ایک ہی خلیہ ہے۔

    دوسری جانب سائنس دانوں نے ایک مچھلی نما روبوٹ تیار کیا ہے جو پانی میں تیر کر مائیکرو پلاسٹک کو تیزی سے اکٹھا کرسکتا ہے یہ چھوٹا سا مچھلی نما روبوٹ اپنے جسم اور دم کو ہلا کر پانی میں حرکت کرتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے سمندروں سے پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اس کی لمبائی آدھا انچ کے برابر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی سی دراڑوں اور ایسی جگہوں سے پلاسٹک کو اکٹھا کر سکتا ہے جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی چین کی سِچوان یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی جانب سے بنائے جانے والے اس روبوٹ کی توانائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ نیئر انفراریڈ کی جھلکیوں سے حرکت کرتا ہے۔ ہمارے اطراف موجود روشنی نیئر انفراریڈ کا سب سے چھوٹا حصہ ہے۔

    جب اس روبوٹ کی دم پر روشنی پڑتی ہے تو یہ پانی کی سطح سے نیچے کی جانب مڑ جاتی ہے اور جب روشنی پڑنا بند ہوتی ہے تو واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے، اس طرح روبوٹ پانی میں تیرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے یہ روبوٹ اپنے سائز سے تین گُنا زیادہ کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں طے کرسکتا ہے جو ایک سافٹ بحری روبوٹ کے لیے ریکارڈ ہے۔

    جب یہ تیرتا ہے تو پولیسٹائرین مائیکرو پلاسٹکس اس کی سطح سے چپک جاتے ہیں اور یہ انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ یہ روبوٹ مستقبل میں سمندر سے اندازاً 24 ہزار ارب مائیکرو پلاسٹک کے ٹکڑوں کو نکالنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

    افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

    پاکستان جیو اکنامکس کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے غیر ملکی سفارت کاری کے تمام ممکن راستوں پر عمل کر رہا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے لیے غیر معمولی خارجہ پالیسی اقدامات اٹھا کر، پاکستان دنیا کے سامنے یہ ثابت کر رہا ہے کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے وہ شریک اسٹیک ہولڈر ہے۔ اس سلسلے میں چین میں افغانستان کے دوستوں کا اجلاس ہوا جس میں پانچ نکاتی مشترکہ بیان میں ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کی اور ایران، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان ،پاکستان کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا ایجنڈا افغانستان کے مسائل پر پڑوسیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا اور افغان عوام کو مستحکم کرنے اور ان کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، مستقبل کے مسائل سے بچنے کے لیے افغانستان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اجلاس میں شریک ممالک نے افغانستان کی آزادی، علاقائی خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام کا اظہار کیا۔ پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شرکاء نے ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے وعدوں کو ایمانداری سے پورا کریں۔اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا اور سی پیک کی توسیع کو افغانستان تک بڑھانے پر آمادگی کا اظہار کیا، یہ علاقائی روابط کے ذریعے افغانستان کو اس دھارے میں شامل کرنے کے لیے چینی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان اور چین افغان عوام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو کوویڈ 19 وبائی امراض اور سماجی انتشار کا شکار ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں عدم استحکام نہ صرف اس ملک کی عوام بلکہ خطے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر افغانستان سیاسی، اقتصادی طور پر غیر مستحکم رہا تو اس کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔بدقسمتی سے، طالبان اس طرح کا برتاؤ نہیں کر رہے ہیں جس طرح دنیا ان سے برتاؤ کی توقع کر رہی ہے، عالمی برادری کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے طالبان اب بھی اپنی ہی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں جیسا کہ حال ہی میں لڑکیوں کو اسکول کی تعلیم سے محروم کردیا گیا تھا۔طالبان کو کم از کم اپنے نقطہ نظر میں تھوڑا لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو سبھی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کے رویے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن طالبان کو دنیا کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

    علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کو دوبارہ انتشار کا مرکز نہ بننے دیں۔ اس وقت افغانستان کو نظر انداز کرنے سے صورتحال حل نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے، علاقائی ممالک نے افغانستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔

    گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے واضح طور پر افغانستان کا سیاسی حل کا نعرہ لگایا۔امریکہ بھی بالآخر اس راستے پر گیا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے افغانستان میں استحکام آ جائے کیونکہ یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ ہے۔ ایک بار جب چین، پاکستان اور خطے اور عالمی دنیا کے تمام اہم ممالک افغان عوام اور ملک کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو یہ نہ صرف افغان عوام بلکہ خطے بالخصوص ترقی کا باعث بنے گا۔

  • ٹیکس چورکون؟

    ٹیکس چورکون؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    حکومت نے بڑی صنعتوں پر10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کااعلان کر دیا، وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اوراسے کنٹرول کریں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس(تخفیف غربت ٹیکس) لگارہے ہیں ان صنعتوں اسٹیل،سیمنٹ، شوگر، ٹیکسٹائل، آئل اینڈ گیس، آٹو انڈسٹری، ہوا بازی، فرٹیلائزر، بینکنگ، انرجی اینڈ ٹرمینل سیکٹر پرسپرٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سگریٹ پر بھی ٹیکس لگے گا، 2 ہزار ارب روپے ٹیکس غائب ہو جاتا ہے، یہ پہلا بجٹ ہے جس میں اکنامک وژن دیا ہے، مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اسے کنٹرول کریں گے۔شہباز شریف نے ایک اور ٹیکس لگانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ جو افراد سالانہ 15 کروڑ سے زائد کماتے ہیں ان کی آمدن پر1 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جا رہا ہے، سالانہ 20 کروڑ سے زائد پر 2 فیصد، 25 کروڑ پر 3 فیصد، 30 کروڑ سے زائد پر 4 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں دو ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں پاکستان کی اشرافیہ اورامیرلوگ کیسے ٹیکس چوری کرتا ہے؟
    پاکستان میںٹیکس چوری کرنے میں سرفہرست حکمران طبقہ ہے جوپاکستان میں 75سال سے اقتدارمیں ہیں جن میں جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما ئے اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوں کا حصہ ہیں۔ حکمران طبقے کے سیاست دانوں کی اکثریت کا تعلق جاگیردار اور سرمایہ دار گھرانوں سے ہے جوبہت معمولی ٹیکس دیتے ہیں،زراعت پرمعمولی سا ٹیکس ہے، چاروں صوبوں میں جمع ہونے والا یہ ٹیکس کچھ ارب روپے کا ہوتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں زرعی ٹیکس لگایا جائے تو 500 ارب روپے سے 600ارب روپے کاریونیوآسانی سے جمع کیاجاسکتا ہے،یہاں جائیداد کے ٹیکسوںمیں بھی بہت ہیرا پھیری کی جاتی ہے،یہ سیاست دان جوسرکاری ریکارڈ میں اپنے اثاثے طاہرکرتے ہیںان اثاثوں یاجائیدادوں کی مالیت بہت کم لکھواتے ہیں، اگر دس سال پہلے ایک پلاٹ کی قیمت دس لاکھ تھی اور اب اس کی مارکیٹ ویلیو چھ کروڑ ہوچکی ہے تو وہ اپنے اثاثوں میں وہی 10سال پرانی قیمت محکمہ مال کے ریونیوافسران لکھوالیں گے۔ مثال کے طورپروزیر اعلی پنجاب حمزہ شریف نے اپنے گیارہ مکانات کی قیمت صرف تیرہ کروڑ روپے بتائی ہے،حالانکہ یہ بات ہرکوئی جانتا ہے جائیداد یں جتنی پرانی ہوتی جائیں گی ان کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گے لیکن سیاستدانوں کی سرکاری ریکارڈ میں ظاہرکردہ اثاثوں کی قیمتیں وہی برقرار رہتی ہیں ۔
    سوشل میڈیا پر مسلسل ان سیاستدانوں جن میں آصف علی زرداری، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور حمزہ شریف سمیت کئی سیاست دانوں کے اثاثوں کی سرکاری اداروں کو دی جانے والی قیمتوں پر بہت تنقید کی جاتی رہی ہے، مثال کے طور عمران خان نے بنی گالہ کے گھر کی قیمت جبکہ شریف اور زرداری گھرانوں نے اپنی جائیدادوں کی قیمتیں اپنے اثاثوں میں مارکیٹ ویلیو سے بہت کم لکھی ہیں،سوشل میڈیا صارفین برملایہ کہتے رہے ان کے گھروں کی ظاہرکردہ قیمتوں سے ہم تین گنازیادہ رقم دینے کوتیارہیں ،یہ گھر ہمیں دئے جائیں۔ دوسری طرف ماہرین کاکہناہے کہ کہ اگر 1200سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے مارکیٹ کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے تو اربوں روپے حاصل کیا جا سکتے ہیں، اگر یہ ٹیکس پوری ایمانداری سے پورے ملک میں نافذ ہوجائے تو عام آدمی پر جی ایس ٹی لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اُدھرتاجروں کابھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہی تعلق ہوتاہے،اسی سیاسی اثررسوخ اورطاقت کے بل بوتے پر یہ تاجر و مقامی صنعت کار انڈر انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس چوری کرتے ہیں،مثال کے طورپر گارمینٹس اور دوسری صنعتوں سے وابستہ سرمایہ دار اگر ڈسٹربیوٹرز یا ہول سیل سپلائرز کو اپنی پراڈکٹ 50 کروڑ کی بیچتے ہیں تو انوائس میں 25کروڑ ظاہر کرتے ہیں اور ٹیکس پھر 25 کروڑ کے حساب سے دیتے ہیں۔ تاہم ایکسپورٹرکیلئے ایساکرنامشکل ہے،ماہرین کامانناہے کہ ہمارے ملک کے سرمایہ دارسیاستدانوں نے اپنی ہی کوئی کمپنی دوسرے ملک میں کھولی ہے، تو وہ منی لانڈرنگ کر سکتا ہے اور اوور انوائسنگ بھی کرتا ہے،جہاں وہ ڈالرز بھیجتے ہیں اور بعد میں ایکسپورٹ کے نام پر اس پیسے کو وہ وائٹ کر لیتے ہیں۔ایف بی آر کی ویب سائٹس سے ریکارڈدیکھاجائے تو وہاں پیشے میں کئی سیاست دانوں نے زراعت لکھا ہے اور ٹیکس صفر ہے۔ حالانکہ ان پر ٹیکس بھی بہت معمولی ہے وہ یہ تھوڑا ساٹیکس بھی ادا نہیں کرتے جب کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی رہائش سے لے کر گاڑی تک سب ٹیکس فری ہے ،جوعوام کے دئے ہوئے ٹیکس کوشیرمادرسمجھ کرہڑپ کر رہے ہیں اور ہربارعوام سے ہی قربانی مانگی جاتی ہے ،دراصل ایوان اقتدار بیٹھے ہوئے یہ جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوںسے تعلق رکھنے والے نام نہاد بڑے لیڈرجن سے پاکستان قوم کادکھ درد سہانہیں جارہااورجھوٹے ٹسوے بہارہے ہیں یہی مافیا ٹیکس چورہے ،عام پاکستانی بچے کی پیدائش سے لیکر میت کے کفن تک ٹیکس دیتا ہے پھر بھی عام پاکستانی پر الزام ہے یہ ٹیکس نہیں دیتے۔

  • چاک گریباں از محمد عبداللہ

    چاک گریباں از محمد عبداللہ

    کوئی فرد، کوئی جماعت کوئی ادارہ ریاست سے مقدم نہیں ہے. ریاست ہے تو یہ جماعتیں، شخصیات اور ادارے ہیں. ریاست کی بنیاد شخصیات پر نہیں بلکہ آئین اور نظریات پر ہوتی ہے. اکتہر میں ہمارے پاس دنیا کی کرشماتی شخصیات تھیں لیکن ملک دو لخت ہوا تھا وجہ یہ تھی کہ نظریہ پاکستان پر کمپرومائز ہوا تھا.
    ریاست کی بقاء، ترقی اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب ریاست کے سبھی ستون اور عناصر اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے اپنے ذمہ کام کو سر انجام دیں. آپ جو مرضی کرلیں ورلڈ بینک کے پاس چلے جائیں یا آئی ایم ایف سے معاہدے ہوجائیں پاکستان کے مسائل کا حل بھی ان معاہدوں میں نہیں ہے.
    کرپشن کا ناسور وطن عزیز کو بری طرح سے جکڑ چکا ہے. اربوں کی کرپشن کرنے والے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں. وہ سارے جو نظریاتی طور پر ملک کو کھوکھلا کرتے رہے وہ حاکم بنے بیٹھے ہیں. قائد کے اسلامی نظریاتی پاکستان کا تشخص بری طرح سے مجروح ہوچکا ہے. ریاست پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی جو تھوڑی بہت عزت تھی وہ بھی مٹی میں ملائی جاچکی ہے.
    چند چہرے و خاندان جو عشروں سے سیاست پاکستان کے ٹھیکدار بنے ہوئے ہیں ان کے پاس ملکی مسائل کا نہ حل ہے اور نہ وطن عزیز کے لیے کچھ بہتر سوچنے کا وقت ہے. ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہوتا رہا ہے جبکہ ان خاندانوں کے بزنس، جائدادوں اور مال و دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے.
    وطن عزیز پاکستان کو ضرورت ہے تو نئے نظام اور نئے چہروں کی جو مخدوم نہیں بلکہ خادم ہوں. جو ذاتی کاروبار کرنے نہیں بلکہ پاکستان کی خاطر سیاست میں آئیں. جن کا اوڑنا بچھونا مغرب نہیں بلکہ پاکستان ہو. ایسے لوگوں کی پاکستان کو ضرورت ہے کہ جن کی سیاست، نظریات اور افکار کا محور و مرکز تل ابیب یا واشنگٹن نہیں بلکہ مکہ و مدینہ ہوں.
    محمد عبداللہ

  • ایک تاریخی فیصلہ

    ایک تاریخی فیصلہ

    فعال جمہوریت کے چار ستونوں میں عدلیہ کو سب سے اہم مقام حاصل ہے۔ عدلیہ کا اولین کردار قانون کی حکمرانی کا تحفظ، آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ جمہوریت کسی فرد یا گروہ کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ خود مختار عدلیہ ایک منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آئینی طور پر مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ جج آزادانہ طور پر قانونی فیصلے کر سکتے ہیں چاہے وہ بااثر سیاست دان، سرکاری اہلکار یا عام شہری شامل ہوں۔

    پاکستان جیسی نازک جمہوریت میں، عدلیہ کو سول سوسائٹی کو تقویت دینے اور بڑے پیمانے پر عوام میں آئینی ثقافت کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا آئین سپریم کورٹ کو آئین کے تحفظ، حفاظت اور حفاظت کی ذمہ داری تفویض کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 184 (3) اور 199 سپریم کورٹ آف پاکستان کو بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے احکامات دینے کا اختیار دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلا شبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی ادارے سے متاثر ہوئے بغیر قانون کی حکمرانی کے متوازی حکم نامے پاس کرکے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو برقرار رکھا ہے۔

    پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے درمیان، جب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں غیر معمولی حالات دیکھنے میں آئے،تو ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی نظام کو مستحکم کرنے اور اپنے سیاسی مفادات کے لیے کچھ سیاستدانوں کی آئین کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش میں مداخلت کرنا پڑی۔ 3 اپریل کو پاکستان میں آئینی اور قانونی ہلچل مچ گئی جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کو روک دیا، جس میں مبینہ طور پر غیر ملکی سازش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران خان کی حکومت گرائی جائے۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی راہ میں رکاوٹ کے بعد، عمران خان نے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا جو صدر کی جانب سے ایک غیر معمولی جلد بازی میں مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں آئینی اور سیاسی انتشار شروع ہوا جس کے پہلے سے ہی زوال پذیر اسمبلی پر مکمل منفی اثرات مرتب ہوئے۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے اپنی آئینی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بحران کا ازخود نوٹس لیا اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر پر مشتمل پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔ تاکہ بحران سے نمٹنے کے لیے آئین کی درست وضاحت فراہم کی جائے ۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے مقرر کردہ قانونی نمائندوں کے پانچ دن کی محنت سے سماعت اور دلائل کے بعد، 7 اپریل کو سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا اور 3 اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے اقدامات کو غلط قرار دیا۔اہم فیصلے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہر وقت زیر التوا اور موجود تھی اور اب بھی زیر التوا اور موجود ہے۔ عمران خان آئین کے آرٹیکل 58 کی شق (1) کی وضاحت کے ذریعے عائد پابندی کی زد میں ہیں اور تاحال پابندیاں برقرار ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی وقت صدر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے جیسا کہ آرٹیکل 58 کی شق (1) کے مطابق ہے۔

    عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے جوڈیشل ایکٹوازم کی بہادری نے ایک ادارے کے طور پر ملک میں جمہوریت پسندوں اور سول سوسائٹی کو یقینی طور پر حوصلہ دیا ہے کہ ملک کا اعلیٰ قانونی ادارہ اس انداز میں تیار ہوا ہے۔ جوبغیر کسی مصلحت اور خوف کے آئین کی تائید کرتا ہے۔بعض سیاسی طبقات کی جانب سے توہین آمیز سوشل میڈیا مہمات اور جارحانہ بیانات کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کے باوجود، سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے کے ذریعے ترقی پسند جذبات اور جمہوری اصولوں کی حمایت کی ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ حالیہ فیصلہ نہ صرف جمہوریت کی بہت بڑی فتح ہے بلکہ نظریہ ضرورت کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ اس نے عالمی ایمفی تھیٹر میں پاکستان کی ایک مثبت تصویر کو ایک ایسے ملک کے طور پر بھی پیش کیا ہے جس کے پاس ایک مضبوط، نڈر، اور جمہوریت نواز قانونی نظام ہے جو قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے پرعزم ہے۔

  • دنیا کے سات مقدس ترین پودے

    دنیا کے سات مقدس ترین پودے

    انسانیت، روحانیت اور پودوں کا تعلق قدیم ہے بہت سی مذہبی روایات میں پودوں کو روحانی علامت، شفایابی، قوت بخشی اور بعض اوقات خدائی تعلق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : موسیقارجانہوی ہیریسن نے ’مقدس نباتیات‘ کے نام سے ایک البم ترتیب دیا ہے جس میں سات قابل احترام سمجھے جانے والے پودوں کا ذکر ہے جس میں انہوں نے روشنی ڈالی ہے کہ ان مقدس پودوں میں کیا خصوصیات ہیں؟ کیا یہ پودے لوگوں کی زندگی میں ماضی کی طرح آج بھی اہمیت کے حامل ہیں؟ ان کا احترام کون لوگ کرتے ہیں؟ –

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    کنول کا پھول: کنول کا پودا کیچڑ میں اگتا ہے اگرچہ اس کی جڑیں کیچڑ میں ہوتی ہیں لیکن کنول کا پھول پانی کے اوپر تیرتا دکھائی دیتا ہے مشرقی روحانیت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ کنول کا پودا کئی معانی اور بیانیوں کی پرتیں ظاہر کرتا ہے ہندوؤں کے لیے کنول کا خوبصورت پھول زندگی اور پیداوار اور بودھوں کے نزدیک یہ پاکیزگی کی علامت ہے۔

    ہندو مذہب میں کنول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ کنول بھگوان وشنو کی ناف سے ابھرا، اور اس پھول کے درمیان برہما بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ بھگوان کے ہاتھ اور پاؤں کنول جیسے ہیں اور اس کی آنکھیں کنول کی پتیوں کی طرح اور اس کے چھونے کا احساس کنول کی کلیوں کی طرح نرم۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    امربیل: آج کل امربیل کو عموماً کرسمس کے جادو سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن اس کو علامت سمجھنے کی تاریخ قدیم سیلٹک پیشواؤں کے دور سے تعلق رکھتی ہے انھیں یقین تھا کہ امربیل سورج کے دیوتا تارنس کا جوہر ہے، اور جس درخت کی شاخوں کے ساتھ امربیل بڑھتی ہے وہ درخت بھی مقدس ہو جاتا ہے سردیوں میں روحانی پیشوا بلوط کے درخت سے امربیل کو سنہری درانتی سے کاٹتا ہے یہ خاص پودا اور اس کے پھل رسومات یا ادویات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

    ناگ پھنی: ناگ پھنی ایک چھوٹا سا گٹھلی کے بغیر کیکٹس کا پودا ہے جو امریکی ریاست ٹیکسس کی جنوب مغربی اور میکسیکو کے صحرائی علاقے میں قدرتی طور پر اگتا ہے اور اس کا استعمال مقامی افراد روحانی مقاصد کے لیے کرتے ہیں میکسیکو کے انڈینز اور شمالی امریکہ کے مقامی قبائیلیوں کا اعتقاد ہے کہ یہ مقدس پودا خدا کے ساتھ رابطے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس کا استعمال دعائیہ تقریبات میں کیا جاتا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    روحانی طاقتوں کے لیے صرف مقامی قبائل ہی اس کا استعمال نہیں کرتے1950 کی دہائی سے فنکار، موسیقار اور مصنفین بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں کین کیسی کا دعویٰ تھا کہ ‘ون فلیو اوور دی ککوز نیسٹ’ کے ابتدائی صفحات لکھتے ہوئے وہ ناگ پھنی کے نشے میں تھے۔

    تلسی: ہندو مذہب کے مطابق دیوی ورندا نے بھگوان کرشنا اور اس کے پیروکاروں کی خدمت کرتے ہوئے وندراون کی مقدس زمین کی حفاظت کی تھی اگرچہ یہ دیوی انسانی شکل میں تھیں لیکن قدیم تحریروں کے مطابق کرشنا نے بذات خود انھیں تلسی کا پودا بننے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے اب تلسی مقدس کہلاتی ہے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ہندو اپنے گھروں اور مندروں میں تلسی کی پوجا کرتے ہیں۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    صنوبر کا درخت:صنوبر کی ایک قسم یئو سدا بہار درخت ہے جسے تولید اور ابدی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درخت کی شاخیں جھک کر دوبارہ زمین میں داخل ہو جاتی ہیں اور ان سے نئے تنے جنم لیتے ہیں اس کے علاوہ یئو پرانے درخت کے کھوکھلے تنے سے بھی اگ سکتی ہے۔ اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ اسے تولید اور زرخیزی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    بھنگ: بھنگ راستافاری فرقے کے ماننے والوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جسے ’زندگی کا درخت‘ کہا گیا ہے وہ بھنگ کا پودا ہے اور اس کا استعمال مقدس ہے وہ اس بارے میں بائبل سے کئی حوالے پیش کرتے ہیں اگرچہ اس پودے کو کئی نام دیئے جاتے ہیں (بھنگ، گانجا) لیکن راستافاری اسے مقدس جڑی بوٹی یا حکمت کی بوٹی کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اسے نوش کرنے سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی ہے اس کو سگریٹ یا چلم پائپ کے ذریعے پیا جاتا ہے اور اس سے قبل خصوصی دعا کی جاتی ہے

    اوسیمم بازلیکم: اس کا سب سے زیادہ استعمال پیزا اور پاستا ساس میں ہوتا ہے لیکن آرتھوڈاکس مسیحیت اور یونانی چرچ میں یہ ایک مقدس بوٹی ہے آرتھوڈوکس مسیحیوں کا یقین ہے کہ یہ بوٹی وہاں اگی جہاں یسوع مسیح کا خون ان کے مقبرے کے نزدیک گرا تھا، اس وقت یہ اس کو صلیب کے ساتھ عبادات سے منسلک کیا جاتا ہے پادری مقدس پانی کو پاک کرنے اور لوگوں کے اجتماع پر پانی کے چھڑکاؤ‌ کے لیے اس کی شاخوں کا استعمال کرتے ہیں۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

  • عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا

    عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا

    عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا
    حالیہ سیاسی بحران میں، سابق اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم ڈپٹی سپیکر نے عدم اعتماد کا ووٹ مسترد کر دیا اور عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کیں لیکن پھر سپریم کورٹ قانون کی علمدراری کے لئے میدان میں آئی اور تاریخی فیصلہ دیا ،سپریم کورٹ نے عمران خان کے غیر آئینی اقدام کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق عدالت آزاد ہوگی۔ "آزاد عدلیہ” کیا ہے اس کا بہتر اندازہ حاصل لگانے کے لیے عدالتی آزادی کے بنیادی اصولوں کا استعمال کریں۔عدالت کو "خودمختار” کہا جاتا ہے ایک جج کا انتخاب منصفانہ طریقے سے کیا جاتا ہے، اور وہ اپنا کام اس طریقے سے کرتا ہے جو انصاف کے اصولوں کے مطابق ہو۔ جہاں جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جہاں حکومت کا انتخاب انتخابی عمل سے ہوتا ہے جبکہ عدلیہ قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں آئین کی محافظ ہیں جو بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہیں۔

    درحقیقت سیاسی جماعتیں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر سیاست کرتی ہیں جب بھی فیصلہ ان کے حق میں نہیں آتا۔لہٰذا مختصر یہ کہ یہ عدلیہ نہیں بلکہ کمزور سیاسی نظام ہے جو عدم استحکام اور انتشار پیدا کرتا ہے۔عدلیہ ان سیاسی مسائل کا حصہ بننے سے گریز نہیں کر سکتی کیونکہ اس میں آئین اور قانون کی حکمرانی شامل ہے اور عدلیہ آئین کی محافظ ہے۔ ملک کی عدالتی تاریخ بتاتی ہے کہ جج آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے بغیر کسی خوف اور حمایت کے فیصلے کرتے ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے بنچ نے آئینی تباہی کو ٹال دیا۔ جب سے یہ ملک بنا ہے پاکستان میں انصاف کا مستحکم نظام موجود ہے۔قانون کی حکمرانی برقرار ہے اور عدلیہ آزاد ہے۔ آزاد عدلیہ ہی ملک کے لئے اچھے فیصلے کر سکتی ہے اور قانون و آئین شکنوں کو سزا دے سکتی ہے

  • 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    نیروبی: محققین نے 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانے والے دیو ہیکل مگرمچھوں کی دو نئی اقسام دریافت کیں ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکا کی یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنس دان 2007 سے نیروبی میں میوزیم آف کینیا میں متعدد قدیم مگرمچھوں کی اقسام کا معائنہ کر رہے ہیں رواں مای کے شروع میں جرنل انیٹمِکل میں شائع کردہ مقالے کے مطابق تحقیق کے مصنف پروفیسر کرسٹوفر بروشو کا کہنا تھا کہ یہ وہ بڑے شکاری جانور ہیں جن سامنا ہمارے آبا و اجداد نے کیا۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    پروفیسر بروشو نے بتایا کہ دریافت ہونے والی اقسام آج کے مگرمچھوں کی طرح موقع پرست شکاری تھی۔ قدیم انسانوں کے لیے دریا میں جھک کر پانی پینا انتہائی خطرناک ہوگا ان کے جبڑے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بڑی مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں موقع ملتا تو آپ کا پورا چہرہ نوچ ڈالتے۔

    محققین کے مطابق موجودہ مگرمچھ کی قسم بمشکل چار سے پانچ فِٹ لمبی ہوتی ہے لیکن دریافت ہونے مگرمچھوں کی اقسام کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی لمبائی 12 فِٹ تک تھی۔

    کِن یینگ قسم مشرقی افریقا کے وادی کے علاقے میں ابتدائی سے وسطی مائیوسین دور میں آباد ہوگی۔ یہ علاقہ آج کے دور کا کینیا ہے۔

    قبل ازیں محققین نے سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت کی تھیں محققین کو بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    قبل ازیں امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے تھے محققین کا کہنا تھا کہ اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے-

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت