Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پہلی قسط
    حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
    کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
    "I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
    مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
    آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
    16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
    1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

  • ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب
    مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی ،سوشل میڈیاکی بھی مانیٹرنگ شروع،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ جلوس روٹ پر ڈی پی او محمد علی وسیم کی ہدایت پر فلیگ مارچ۔ فیلگ مارچ میں ڈسٹرکٹ پولیس کے ہمراہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ،ڈولفن فورس، ٹریفک پولیس اور ایلیٹ فورس کے دستے بھی شامل تھے۔فلیگ مارچ ایس پی انوسٹی گیشن غیور احمد خان کی قیادت میں پولیس لائن سے شروع ہو کر بمبے چوک اور روٹ جلوس کے راستہ سے ہوتا ہوا واپس پولیس لائن اختتام پذیر ہوا۔


    فلیگ مارچ کا مقصد عوام الناس کو یہ باور کرانا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس ڈیرہ غازیخان ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔دوسری طر ف وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری کو محرم الحرام اور سیلاب کے انتظامات کی نگرانی کیلئے ضلع ڈیرہ غازی خان ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ہیں انہوں نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا سرکٹ ہائوس اور ضلعی کنٹرول روم میں بریفنگ دی گئی۔رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار ،ڈی پی او محمد علی وسیم اور دیگر موجود تھے ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے میڈیا کے ساتھ بھی گفتگو کی ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے سوشل میڈیا کو بھی مانیٹر کیا جائیگا ۔ مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیز پوسٹ لگانے والے کا سراغ لگا کر سخت کارروائی کریں گے۔ایف آئی اے سائبر کرائم اور دیگر ادارے متحرک کردئیے گئے ہیں رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی نے کہا کہ ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کیلئے انتظامیہ اور امن کمیٹی کا اہم کردار ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئیں۔ ضلع میں حساس مقامات پر 54 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ ڈی پی او محمد علی وسیم نے کہا کہ پنجاب پولیس،ایلیٹ اور دیگر فورسز سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے

  • قومی اسکواڈ کا نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں انڈور ٹریننگ سیشن

    قومی اسکواڈ کا نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں انڈور ٹریننگ سیشن

    تربیتی کیمپ کے پہلے روز قومی کرکٹرز انڈور سیشنز تک محدود رہے جب کہ بارش کے سبب قذافی اسٹیڈیم کے بجائے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں ٹریننگ کرنا پڑی۔

    لاہور میں بارش کی وجہ سے قومی اسکواڈ کے تربیتی کیمپ کا پہلا روز متاثر ہوا،صبح کے وقت شروع ہونے والی رم جھم میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا جس کی وجہ سے قذافی اسٹیڈیم میں پانی جمع ہوگیا، کرکٹرز کو نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کے انڈور ہال میں ٹریننگ کرنا پڑی۔

    موسم کی خرابی کے باعث نائب کپتان شاداب خان کی میڈیا ٹاک بھی منسوخ کردی گئی، انڈور ہال میں نیٹ سیشنز میں کھلاڑیوں نے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کی زیرنگرانی بیٹنگ اور بولنگ کی مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

    محمد یوسف نے بیٹرز کو مفید مشورے دیے، ان کی توجہ خاص طور پر مڈل آرڈر اور پاور ہٹرز پر مرکوز رہی، کوچ نے تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے چند اسٹروکس خود کھیل کر بھی دکھائے، فخرزمان، عبداللہ شفیق اور خوشدل شاہ کو اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم نے تھرو بولنگ سے الگ مشق بھی کرائی۔

    شان ٹیٹ نے پیسرز کی رہنمائی کرتے ہوئے لائن و لینتھ بہتر بنانے پر کام کیا، چند کھلاڑیوں نے فیلڈنگ سیشنز میں ڈائیو لگاکر گیندوں پر قابو پانے کی مشقیں کیں۔

    دورہ نیدر لینڈز کیلیے منتخب قومی ٹیم اور شاہینز کے درمیان پہلا پریکٹس میچ اتوارکو ایل سی سی اے گراؤنڈ شیڈول تھا،مگر اب پیر کو انعقاد ہو گا، اتوار کو کرکٹرز 2 سے 5 بجے تک قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ کریں گے۔

    اسٹاف گزشتہ روز کی بارش کے سبب گیلے گراؤنڈ کو پریکٹس کے قابل بنانے کیلیے سرگرم ہے، بارش کی مداخلت ہوسکتی ہے،پیشگوئی کے مطابق دوپہر کے بعد بادلوں کی آنکھ مچولی میں رم جھم ہوسکتی ہے۔

  • دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کو ”امن کا مسکن”بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ محروم خواتین کے لئے ایک گھر یا پناہ گاہ ہے، جو خواتین ظالم معاشرے سے مغلوب ہوتی ہیں اور جو بار بار نہ صرف لوگوں کے ظالم اور حیوانیت بھرے رویے کا سامنا کرتی ہیں،جن کی ہمت ٹوٹ جاتی ہیں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق تک حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، ان کے لئے معاشرہ درد اور پریشانی کی جگہ ہے یا دوسرے لفظوں میں زمین جہنم سے کم نہیں ہے۔

    اس طرح کے حالات میں خواتین کے لیے معاشرہ پریشانیوں اور مایوسی کی جگہ بن جاتا ہے۔ ان کے حصے میں صرف ناانصافیاں آتی ہیں جو انہیں نا امیدی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ان کے افسردہ دل اور ذہن معاشرے کی طرف سے نظر انداز ہونے کے بعد سکون اور امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کی ترجیح اس وقت دارالامان ہوتا ہے۔چونکہ شادی 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ خواتین کے پاس شادی کے حقوق تک نہیں ہیں، وہ اپنی خواہش کے مطابق رائے دینے اور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرنے کااختیار ہی نہیں رکھتیں۔

    والدین ایک لڑکی کی ڈھال ہوتے ہیں۔ وہ ان پر پورا بھروسہ کرتی ہے۔ جس شخص کے ساتھ والدین اس کو منسوب کرتے ہیں وہ خاموشی سے ان کی تابعداری کرتی ہے۔ مگر جب آگے کی زندگی میں اگر والدین کا فیصلہ غلط ثابت ہو تواکثر والدین بجائے لڑکی کو انصاف دلانے کے اس کو سب کچھ برداشت کرنے کا حکم دے دیتے ہیں۔ یہ حکم اس کے لیے موت کے فرمان سے کم نہیں ہوتا۔ اور جب وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں طاقت کی بنیاد پر اپنے ہی والدین اور سسرال دباؤ ڈالتے ہیں یا انہیں ذبح کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔ ایسے حالات میں انہیں دارالامان پناہ دیتا ہے۔انہیں دارالامان میں امید کی کرن ملتی ہے۔

    دارالامان پاکستان کے تمام صوبوں میں قائم کیا گیا اور اس کی پروسیسنگ جاری ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ سندھ کے شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں۔ صوبہ پنجاب میں تقریبا 34 اضلاع میں دارالامان سرگرم ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے تشدد کا شکار خواتین کو پناہ دینے کے لیے تمام 8 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دارالامان قائم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین میں حقوق کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہوا اور وہ اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کر نی لگی۔ نتیجتاً ہر ضلع میں شیلٹر ہوم کی ضرورت پیش آئی اور محکمہ نے دارالامان کا جال پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پھیلا دیا۔ یہ گھر ایک وقت میں 20 سے 50 رہائشیوں کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    پاکستان کی خواتین ایک ایسے معاشرے میں رہ رہی ہیں جس میں ثقافت اور ذات پات کے نظام پر یقین رکھا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے لئے ہر دن بے حد مشکل ہوتا ہے اور انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف یہ اپنی نام نہاد ثقافتی روایات اور رسم و رواج کے لئے اپنے ہونٹوں پر مہر لگا دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف وہ غیر منصفانہ سلوک اور گھریلو تشدد کے زہر کا گھونٹ پی رہی ہوتی ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان کے کچھ دیہی علاقوں میں خواتین کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ دارالامان جیسی تنظیم ہو جو نہ صرف پناہ اور تحفظ دے بلکہ ان کے حقوق حاصل کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالے۔

    ایک شخص کے لئے خاندان سے جدا ہونا زہر کا گھونٹ پینے کے مترادف ہے لیکن خواتین یہ بھی کر جاتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جن کے ساتھ معاشرے نے تشدد کیا ہو۔دارالامان ویسے تو عورت کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے مگر کچھ چیزوں کی وجہ سے دارالامان کے تحفظ اور پناہ کے افعال سے نفرت ہو جاتی ہے،مطلب یہ ہے کہ دارالامان ان خواتین کے لئے اچھی طرح کام نہیں کر رہا ہے جو پرامن ماحول کے لئے دارالامان آتی ہیں۔یہ خواتین دوستانہ رویے کے مقصد سے دارالامان میں پناہ لیتی ہیں لیکن دارالامان کے کارکن ان سے اچھا برتاؤ نہیں کرتے۔ان کے لئے امن کا گھر جیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔جگہ کی کمی کا مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ملتان دارالامان ہی کی ایک مثال ہے کہ یہ صرف 30 افراد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن اس عمارت میں 80 خواتین رہائش پذیر ہیں اور ساتھ ہی اسی طرح ساہیوال میں 15 کی جگہ35 خواتین رہائش پذیر ہیں۔ یہ ان خواتین کے لئے کس قدر مشکل ہوگا یہ صرف و ہی جانتی ہیں۔ سیکورٹی کا مسئلہ بھی قابل غور ہے کیونکہ کچھ ہی سال پہلے ایک عورت کو باہر کے لوگ آ کر قتل کر کے چلے جاتے ہیں جنہوں نے اندر آکر بڑی آسانی سے اسے قتل کر دیا۔ اس کا نام فاریہ تھا اور 25 نومبر 2011 کے ڈان اخبار کے مطابق اس خبر پر روشنی ڈالی گئی۔ کوئٹہ کے دارالامان کا ایک اور کیس ہے جس میں تقریبا 15 یا 16 لڑکیاں دارالامان سے فرار ہوئیں۔ ان دونوں معاملات کے مطابق یہ واضح ہو گیا ہے کہ دارالامان سیکورٹی کے بارے میں کتنا باشعور ہے۔

    خلاصہ بحث یہ ہے کہ اگر خواتین دارالامان جیسی تنظیموں کی مدد سے انصاف کے لئے آواز اٹھاتی ہیں تو اداروں میں تبدیلیاں اور بہتری آ سکتی ہے اور اس کے علاوہ دارالامان کو اپنے کردار کو بہتر بناناچاہئے اور اپنے معیار کو بھی برقرار رکھنا چاہئے جو کہ ان کی اصلی شناخت کا ذریعہ ہے۔ عملے کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مناسب تربیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ خواتین کو ان کی نازک ذہنی یا جسمانی حالت میں کبھی بھی افسردہ یا پریشان محسوس نہ ہونے دیں۔ مزید یہ کہ عملے کو خوشگوار ہونا چاہئے۔ اگر متاثرین کے اہل خانہ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت ہونی چاہئے۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ محروم عورتیں کبھی یہ نہیں سوچیں گی کہ انہیں ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں لے جایا گیا ہے اور وہ آرام اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکتی ہیں

  • ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان —  حافظ شاہد محمود

    ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان — حافظ شاہد محمود

    اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43)

    ”اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔

    وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ایفائے عہد کی اس قدر زیادہ اہمیت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ :

    ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد ٣ : ٣١) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر ٣٩ : ٢٠) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران ٣ : ١٩٤) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم ٣٠ : ٦) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج ٢٢ : ٤٧) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “
    (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : ٢ : ٨٠) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “
    ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١١١) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “

    جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔

    عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔

    ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ ٢ : ١٧٧)
    اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔
    بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون ٢٣ : ٨)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    ایک دوسری سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے :

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج ٧٠ : ٣٢)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے چنانچہ ارشاد ہوا:
    ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد ١٣ : ٢٠ ، ٢١)

    جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔

    اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔

    سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا :

    ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل ١٦ : ٩١)

    اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔

    سورة انعام میں بھی ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا :

    ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام ٦ : ١٥٢)
    اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔

    صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔

    ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١)
    اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔

    آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا :

    ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٤)

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔

    اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔

    ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٧)

    مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔

    سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔

    ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : ٥ : ١)

    مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔

    (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٥٠٥)

    لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ (رض) سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔

    حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے سبحان اللہ۔

    یہاں ہم کچھ اور احادیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں

    (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
    [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]

    ”حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔“

    (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)
    [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]

    ”حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔“

    (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد ]

    ”حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“

    قرآن مجید کی آیات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وفائے عہد ہی اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے.

    یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ (رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ (رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ”وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔“

    امیر معاویہ (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ”ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟“ انھوں نے بتایا کہ ”معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔“ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے.

    آج ہمارے وطن عزیز پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ بھی اللہ تعالیٰ سے کئے ہمارے عہد و پیماں ہی ہیں جو پورے کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    پاکستان بنتے وقت ہمارا اللہ رب العزت سے وعدہ تھا اللہ وطن دے ہم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا وطن بنائیں گے جو اس وقت ہمارے بڑوں نے نعرے کی صورت ہمیں دیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ محمد اقبال تک یہی بات تھی جو اللہ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود اس عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یاد رکھو!

    "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ”

    اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کو پورا کرنے والا بنائے

  • ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    الف
    اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیں ہر رگے ہرجائی ہو
    اندر بوٹی مشک جمایا جان پھلاں تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جہس ایہہ بوٹی لائی ہو

    کلام باہو سے تحریر کا آغاز کرنے کا مقصد ایک موضوع کو زیر تحریر لانا تھا، ہم میں سے کتنے ہی اس کلام سے واقف ہیں اور صوفی ازم میں دلچسپی رکھنے والے ان اشعار کے معنی بھی خوب جانتے ہیں۔

    اصل موضوع تو ہے خدا کی واحدنیت کا اعتراف کرنا کسی کو اسکا ہم سر نا ٹھہرانا، اسی کی عبادت اور اسی کو سجدہ کرنا۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اللہ کی پاک ذات کو ایک ماننا اسی کے آگے جھکنا اور ہر مسلمان اپنے تئیں دن بھر میں پانچ نمازوں کے دوران رکوع اور سجود کی حالت میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کے سواے رب کی ذات کے کوئی سجدے کے قابل نہیں ہے۔

    راقم نا تو اسلام کا مفکر اور نا ہی کوئی مذہبی ٹھیکدار ہے لیکن کوشش ہمیشہ اسی بات کی ہوتی ہے کے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم کسی بھی چیز کو صاحبان علم و عقل کی باتوں سے پرکھا جاے۔

    پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جو کے آجکل اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے پر زور دیتے ہیں، جنہوں نے بہت سے علماء وقت سے تعلقات کی بنا پر پاکستان میں ہمیشہ خلفہ راشدین کے ادوار کی ہی مثالیں دیں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ اس بات کا کھلے عام کہتے ہیں کے حضرت عمر کا دور حکومت لے کر آئیں گے۔ لیکن اگر دیکھا جاے تو عملی طور پر بہت دفعہ ان سے ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو کے بعد میں ان کے لیے باعث ندامت ہوتے ہیں۔

    اسی طرح اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھتے ہیں تو بہت سے سیاست دان اورکئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اسلام کی محترم ہستیوں کو اپنے لیے رول ماڈل کا درجہ دیتے ہیں اور بات بات پر ان کے حوالہ جات دیے جاتے ہیں ، لیکن اس کارساز سیاست میں ان کے عمل کے ساتھ ساتھ اگر ان کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو گراوٹ اور پستی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

    اب اگر انتہائی ماضی قریب کی بات کرتے ہیں تو قارئین نے اپنی آنکھوں، اور کانوں سے ابن عربی سے زیادہ علم کے بارے میں سنا اور اس ہستی کو دیکھا ، اسی طرح ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے دشنام درازی سے لبریز اجتماعات کہیں حضرت عمر پر ہوے مواخذے کا شور ہوتا ہے تو کہیں ناموس رسالت پر سیاست سب کے سامنے ہیں۔

    اگر نیاز ی صاحب کی بات کرتے ہیں تو جیسے ہر انسان کو اپنی زندگی آزادانہ گزارنے کا پورا حق ہے اسی طرح نیازی صاحب بھی پاکستان کے ایک شہری کی طرح یہ حق رکھتے ہیں لیکن بطور ایک کرکٹ اسٹار اور ایک سیاستدان کے تمام لوگوں کی نظر ان پر ایک سپراسٹار والی ہوتی ہے۔ نیازی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لائم لائیٹ میں گزارا اور اب عمر کے اس حصے میں بھی اس سے جان چھڑوانا ناممکن ہے ، وہ جو بھی کرتے ہیں وہ فورا ہی زبان زد عام ہو جاتا ہے۔

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَِعِیْن سے اپنی تقریر کا آغاز کرنے والا (شکریہ پروفیسر رفیق اختر صاحب، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کے تقریر ان الفاظ سے شروع کرو) اور اس کے فورا بعد نت نیا میوزک شروع ہو جاتا ہے۔ یاران من نے اسکو قول کیا اور ایک سے بڑھ کر ایک توجیہ دی، لیکن حالیہ ویڈیو میں نیازی صاحب کو سجدہ کرتے ہوے دیکھا جا سکتا ہے، یار لوگوں نے کہا کے ہو ہی نہین سکتا کے خان سجدہ کرے لیکن جب ویڈیو وائیرل ہوئی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔

    نیازی صاحب کی تمامتر سیاست کا مرکز صرف اور صرف وزارت عظمی کی کرسی کا حصول ہے جسکا اعادہ وہ انہوں نے بار ہا کیا، اسی کرسی کے حصول کے لیے تماتر جائز و ناجائز کام کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن جہاں کام کرنے کی باری تھی اور پورے پانچ سال تک بلا شرکت غیرے کے مطابق حکومت تھی وہاں کام کیا ہوا اور سارا وقت اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں کی خاک ہی چھانتے رہے بمعہ خلائی مخلوق کو سجدے ۔

    اور اب پانچ سال کے بعد جب تمام جماعتیں اپنے دور حکومت میں کئے گئے کام گنوا رہی ہیں تو نیازی صاحب اپنی پیرنی کا پلو تھامے مزاروں پر سجدے دینے لگ پڑے ہیں ۔ نیازی صاحب کی ان حرکات سے ایک بات یاد آتی ہے ۔

    ” پیر بابا علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر ایک شخص زار و قطار رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔

    کہ

    ” اے پیرا بابا آپ کو تو معلوم ہے میں اکیلا ہوں ، تربور ( شریکے ) زیادہ ہیں۔ جائداد پر انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔

    آپ ہی اب ساتھ دینا مجھے کم ازکم پانچ بیٹے عطا فرمانا”

    کچھ دیررونے کے بعد خاموش ہوجاتا پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر اسی کرب کے ساتھ دعا مانگنے لگ جاتا ۔

    لیکن دوسری باری میں بیٹوں کی ڈیمانڈ پانچ سے چار پر آگئ۔

    کرتے کراتے آخرکار ایک پر آڑ گیا ۔

    کہ کم ازکم ایک بیٹے کے بغیر تو واپس خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا۔

    قریب ایک خدا ترس بندہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

    اس سے یہ حالت نہ دیکھی گئی اور پاس آکر پیار سے پوچھا ،

    ” بھائی صاحب آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے ؟”

    وہ سائل غصے میں بولا

    ” شادی کی ہوئی ہوتی تو یہاں پر آتا؟؟؟؟”

    اگر پانچ سال خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھائی ہوتی تو پاکپتن کیا لینے جاتا ۔

    وزیراعظم کی کرسی کیلئے پہلے زندوں کے پاؤں گرتا رہا پھر پیرنی کے آگے اور اب مردوں کو سجدہ کرنے لگا۔

    وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

    ثناء خواں تقدیس نیازی صاحب باہر آئے اور ایسی ایسی توجیہات پیش کیں کہ اللہ کی پناہ۔ لیکن میرے وہ تمام دوست اس بات کو بھول گئے کے اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک سوائے رب کی ذات کے کسی کے آگے نہیں جھکنا، اور غیر اللہ کے سامنے تو شرک ہے۔ اس معاملے میں راقم کی کم علمی کو دوست احباب نے مختلف مشائخ کے آئمہ کرام کی کتب اور خطبات کے حوالہ جات سے پورا کیا۔

    چند یاران من نے تو جذبات میں یہاں تک کہ دیا کے جب وہ اپنے والد کے مرقد پر جاتے ہیں تو اسے بھی چومتے اور اپنا سر رکھتے ہیں ، یہ سجدہ تعظیمی تھا، کچھ نے کہا کے چوکھٹ چومی تھی ، کچھ نے کہا کے اسکا ایک گھٹنا ہوا میں تھا، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں، صرف یہ بتانے کے لیے کے نیازی صاحب نے جو کیا وہ حلال تھا۔

    اگر اس معاملے میں مولانا احمد شاہ نورانی کی بات سنی جاے تو بقول ان کے مزارات پر جا کر سر جھکانا، سجدہ کرنا منع ہے، اگر عبادت کی غرض سے سجدہ یا جھک جانا شرک اور تعظیم کی غرض سے حرام ہے۔ امام احمد رضا رحمتہ اللہ نے قبر پر حاضری کی نسبت جو آداب بتاے ہیں یقینا وہ میرے قارئین کی نگاہوں سے اوجھل نہیں،

    اسی موضوع پر میرے ایک دوست/ بھائی نے پوسٹ کی کے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کے کپتان کو پیرنی نے انگلی کا اشارہ کیا تو وہ فورا سجدہ ریز ہو گیا، اب بندہ زوجہ سوئم کے اشارے پر بھی نا چلے۔

    تو جناب یہ تو نیازی صاحب کی بہت پرانی عادت ہے انگلی کے اشارے پر چلنا چاہے بیگم کی انگلی ہو یا ایمپائر کی۔۔۔۔

    لیکن اسلام ان انگلیوں کے اشارے نہیں مانتا، اب چاہے عبادت کے لیے ہو یا تعظیم کے لیے

    سجدہ صرف ایک واحد ذات کے لیے

    سجدہ صرف خدا کے لیے۔

    کرسی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

    وہ سجدے کئے ہیں جو جائز بھی نہی تھے

    جو لوگ کہہ رہے ہیں چوکھٹ کو بوسہ دیا، وہ غور سے دیکھیں کہ خان صاحب چوکھٹ سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو گئے، چوکھٹ پر منہ شریف رکھا نہیں، تو کیا وہ زمین چاٹ رہے تھے اور اسے بوسہ دے رہے تھے….

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ ﷺ اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ان(یہود ونصاریٰ) کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

    (صحیح البخاری:3454)

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

  • سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    چند دن قبل سے اب تک سوشل میڈیا پر ایک ہی نام چھایا ہوا ہے جو ہے ،ام حرم عربی میں ام کے مطلب ہیں ماں اور حریم کا مطلب ہے قابل احترام،( خانہ کعبہ کی چار دیواری کو بھی کہتے ہیں) یعنی کہ قابل احترام کی ماں
    آزادی اظہار رائے کا ہر کسی کو قانونی،اخلاقی حق حاصل ہے

    راقم جنوری 2011 سے سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور اللہ کو گواہ بنا کر بتا رہا ہے کہ ان 11 سالوں میں ایک ہزار کہ لگ بھگ فیسبک اکاؤنٹس بلاک ہوئے جس کی وجہ تھی لفظ جہاد،حافظ س عید،ل شکر ط یبہ و کشمیر ایک ایک دن میں بعض مرتبہ پانچ پانچ بار اکاؤنٹ اڑے

    خیر جب جب نیا اکاؤنٹ بنایا فیسبک نے نیا اکاؤنٹ بنتے ہی ایک ہی آئی پی ایڈریس ہونے کے باعث گزشتہ فرینڈز کو خود ہی ریکوسٹ بھیجیں ان میں ام حریم بھی شامل ہےام حریم نے 2016 میں فیسبک جوائن کیا اور تاحال ساتھ ایڈ ہے-کئی بار ان سے بحث و مباحثہ بھی ہوا جس میں خاص ٹاپک تھا کسی بھی فرد کی اسقدر چاپلوسی کرنا اور اس سے اتنی امیدیں رکھنا اور منہج سلف سے حکمران کی اسقدر تعریف کرنا جائز ہے کہ ناجائزجی ہاں یہ سب باتیں ام حریم سے ہوتی تھیں وہ اس لئے کہ ام حریم ایک بلا کی یوتھیہ عورت تھی-

    حسب سابق کی طرح اس بار بھی لکھ رہا ہوں کہ جھوٹ بولنے اور لکھنے والے پر اللہ کی لعنت ہوام حریم ایک خاص یوتھئیہ تھی ہاں یہ ایک خاص بات نوٹ کی کہ ام حریم نے کبھی بھی ن لیگ کی حمایت نہیں کی اور نا ہی ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے والی کسی بھی جماعت یا فرد کو سپورٹ کیا- 2018 میں ام حریم عمرہ کرنے گئی تو اس نے عمران خان کے لئے حرم میں دعا کی کہ اللہ تو اس سے اپنے دین کا کام لے کر اسے کامیابی سے ہمکنار فرما جس پر اس نے پوسٹ بھی لگائی تھی ،قابل غور بات ہے کہ ابھی وہی عورت عمران خان کو بری لگی کیونکہ وہ عورت پہلے ایک محب وطن اور موٹیویشنل لکھاری بھی ہے-

    چند روز قبل عمران خان صاحب نے ٹی وی پر خطاب کے دوران ام حریم بارے اظہار نارضگی کیا کیونکہ ام حریم نے گزشتہ دنوں فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل کی کاپی کرکے دو ملین ڈالرز پی ٹی آئی کو ملنے کا تذکرہ کیا تھا اور اپنی وال پر پوسٹ لگائی تھی- حیرت کی بات ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی ام حریم پی ٹی آئی سے برآت کرچکی تھی اور پہلے کی طرح آرٹیکلز لکھ رہی تھی جس کی سمجھ آتی ہے کہ ام حریم ایک محب وطن بھی ہے

    مذید حیرت کی بات یہ کہ اتنے سالوں پی ٹی آئی کے حق میں دن رات ایک کرکے لکھنے والی ام حریم کو کسی نے آج دن تک نا جانا نا پہچانا اور نہ ہی اسکا نام سنا مگر ایک تنقید کرتے ہی عمران خان ٹیلیویژن پر آکر ام حریم کا تذکرہ کر رہا ہے- کمال ہے بھئی یہ تو وہ بات ہوئی کہ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ یعنی جب تک ام حریم پی ٹی آئی کی سپورٹر رہی تب تک جائز تھا جب اس نے تنقید کی تب ناجائز ہو گیا؟عمران خان کے اس خطاب سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ عمران خان صاحب عوامی مسائل پر بہت دور تک نظر رکھتے ہیں اور خان صاحب کو لمحہ با لمحہ اپڈیٹ کیا جاتا ہے مگر حیرت کی بات ہے جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی تب خان صاحب کہاں تھے؟جب قوم نے ڈاکٹر عبد القدیر رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں خان صاحب کی شرکت نا کرنے پر رنج کیا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟ جب واقعہ ساہیوال ہوا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟جب ڈاکوؤں لٹیروں کے ہاتھوں قوم لٹ رہی تھی اور انصاف کیلئے آوازیں دی جا رہی تھیں تب عمران خان صاحب کہاں تھے؟جب بلیک مارکیٹنگ مافیا اب موجودہ حکومت کی طرح خان صاحب کے دور حکومت میں بھی بے لگام تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟کیا خان صاحب بس اپنی تنقید پر ہی قوم سے رابطہ فرماتے ہیں؟خان صاحب پاکستان کی بیٹی ام حریم سوال تو کرے گی –

    یہ تو ایک ام حریم ہے یہاں پوری قوم آپ سے سوال کر رہی ہے کہ خان اپنے دور حکومت کا حساب دیجئے اور بلا وجہ لوگوں کو پٹواری ،جیالہ اور پالشی کہنا بند کیجئے کوئی کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت کے بغیر محب وطن شہری بھی ہو سکتا ہے سو خان صاحب پاس کر یاں برداشت کر-

  • امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    میامی: امریکی ریاست فلوریڈا میں پائتھون کے شکار کا سالانہ ایونٹ کا انعقاد ہوگیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق میامی میں سالانہ ایونٹ کے افتتاح کے موقع پر موجود حکام کے مطابق پائتھون کے شکار کا یہ مقابلہ آفیشلی مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح سے شروع ہوا جو 15 اگست شام 5 بجے تک جاری رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی


    جس میں فلوریڈا کی مرطوب زمین میں 800 سے زیادہ افراد خطرناک برمیز پائتھون کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ آٹھ دنوں تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں سب سے زیادہ سانپ مرنے والوں کو انعام میں ہزاروں ڈالرز ملیں گے۔

    حکام کے مطابق پیشہ ور اور نو آموز شکاریوں میں جو سب سے زیادہ سانپ مارے گاان کے لیے دونوں کیٹیگریوں میں 2500 ڈالرز کا انعام رکھا گیا ہے دونوں کیٹیگریوں کے لیے سب سے لمبے پائتھون کے شکار کے اضافی انعامات بھی ہیں۔

    بھارت: سانپ کے کاٹنے سے دو بھائیوں کی موت

    قواعد و ضوابط کے مطابق ہر پائتھون مردہ ہو اور اگر سانپ کو وحشی طریقے سے مارا گیا یا مقامی سانپ مارا تو شکاری کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    فلوریڈا کی خاتون اول کیسے ڈی سینٹِس کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ اس لیے اہم ہے کہ شکار کئے جانے والے ہر پائتھون کے سبب یہاں کے مقامی پرندوں، میملوں اور ریپٹائلز کا ایک شکاری کم ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق برمیز پائتھون فلوریڈا کا مقامی سانپ نہیں ہے اور اس کی خوراک پرندوں، میملوں اور دیگر رپٹائلز پر مشتمل ہوتی ہے دی نیشن پارک سروس کی رپورٹ کے مطابق ایورگلیڈز میں پہلا برمی ازگر 1979 میں دیکھا گیا تھا، اور 1990 کی دہائی کے دوران ان کی آبادی میں اضافہ دیکھا گیا تھا-

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ یہ سانپ جنوب مشرقی ایشیا کا ہے اور اس کی وجہ سے کئی مقامی نسلوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بوبکیٹس، ہرن، ریکون، خرگوش اور لومڑی جیسے جانوروں میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ 10 – 20 فٹ لمبے سانپ شکاریوں کے خطرے کے بغیر زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جنوبی فلوریڈا واٹر مینجمنٹ ڈسٹرکٹ کے ایک رکن رون برجیرون نے کہا کہ یہ سانپ قدرتی فوڈ چین کو تباہ کر رہے ہیں، اور آپ کو صحت مند فوڈ چین کے بغیر صحت مند ماحول نہیں مل سکتا ۔

    واضح رہے کہ سالانہ راؤنڈ اپ 2013 میں شروع ہوا تھا، اور ہر سال سینکڑوں سانپوں کے شکاری دس روزہ ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں 2021 میں فلوریڈا پائیتھن چیلنج نے ایورگلیڈز سے 223 برمی پائتھنز کا شکار کیا تھا جبکہ سال 2000 کے بعد سے ایورگلیڈز کی مرطوب زمین کے ماحول سے 17 ہزار سے زائد پائتھون مارے جاچکےہیں-

    لندن: چڑیا گھر کے پنجرے میں مگرمچھ کی بجائے ہینڈ بیگ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

  • فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    فرانسیسی سائنسدان ایٹین کلین نے ساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں فرانسیسی سائنسدان نے ایک تصویر ٹوئٹ کی اور دعویٰ کیا کہ یہ کائنات کے رازوں کو جاننے کے لیے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے لی گئی ایک ستارے کی تصویر ہے۔

    روسی ہائپر سونک ماہرغداری کے شبہ میں گرفتار


    فرانسیسی سائنسدان نے تصویر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ سورج کے قریب ترین ستارے پراکسیما سینٹوری(Proxima Centauri) کی تصویر ہے جو زمین سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے،روز بروز ایک نئی دنیا آشکار ہوتی ہے-

    سائنسدان کی جانب سے کی گئی اس ٹوئٹ کو ہزاروں صارفین نے ری ٹوئٹ کیا اور تبصرے کیے-

    ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی…

    بعد ازاں ایٹین کلین نے ٹوئٹس کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بظاہر ستارے جیسے دکھنے والی یہ تصویر درحقیقت ایک سیاہ پس منظر میں کافی قریب سے لی گئی ساسیج کے ٹکڑے کی تصویر ہے۔


    انہوں نے کہا کہ یہ ایک مذاق تھا جس پر میں معذرت خواہ ہوں لیکن میرا ساسیج کی تصویر شیئر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایسی تصاویر سے محتاط رہیں جو بظاہر خود بولتی ہیں ضروری نہیں جو چیز کسی اتھارٹی کی جانب سے شیئر کی جائے وہ ہمیشہ صحیح ہو ، ایسی تصاویر کو اپنی عقل و شعور سے پرکھنا سیکھیں۔

    واضح رہے کہ ایٹین کلین فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن میں ریسرچ ڈائریکٹر اور ریڈیو شو پروڈیوسر بھی ہیں۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟