Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جو ماضی میں  کئی بار  دہشتگردوں کے نشانہ پر رہا اور یہاں شدت پسندی کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں وہاں مسلم، ہندو اور عیساؤں کا مشترکہ قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے۔

     ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ  ہندوؤں عسائیوں کی تدفین بھی کی گئی ہے اور صدیوں بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

      چاہ سید منور نامی اس  قبرستان میں مسلمانوں کی قبروں پر مقدس  قرآنی آیات، عیسائیوں کی قبروں پر صلیب کا نشان جبکہ ہندوؤں کی قبروں کے رنگ گلابی اور انکے مذہبی کلمات لکھے ہوئے ہیں۔
     
    ماضی میں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو برادری اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کرتی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ شمشان گھاٹ پر محمکہ اوقاف کی ملکیت بن گیا۔ تاہم اب ہندو مذہب کے پیروکار اپنے مُردے جلاتے نہیں بلکہ انھیں مجبوراً چاہ سید منور قبرستان میں دفنا دیتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی کے علاوہ  ہندو برادری کے سیکنڑوں جبکہ کرسچن برادری کے ہزاروں گھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں اور  انھیں اپنی دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے میں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں ماسوئے مردہ کو جلانے کے۔

  • برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ اینڈی کیوری نے دو دہائیوں یعنی 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اینڈی ایک سپر مارکیٹ میں کام کرتے ہیں جنہیں گزشتہ 20 سالوں سے سافٹ ڈرنک پینے کی لت تھی اور وہ روزانہ 10 لیٹر کولڈ ڈرنک پی جایا کرتے تھے تاہم اب ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہیپنوتھراپی سیشن (نفسیاتی علاج) کی مدد سے اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے۔

    اینڈی کیوری کے مطابق وہ ایک دن میں سافٹ ڈرنک کے 30 کینز تک پیتے تھےجس پر ان کے روز کے 20 پاؤنڈز جب کہ سالانہ تقریباً 7 سے 8 ہزار پاؤنڈز (19 لاکھ سے زائد روپے) خرچہ آتا تھا انہوں نےاعتراف کیا کہ وہ اپنےپسندیدہ سافٹ ڈرنک پر خرچ ہونے والی "رقم” سے ہر سال ایک کار خرید سکتا ہے۔

    ایک انٹرویو میں اینڈی کا بتانا تھا کہ انہیں اس وقت سوفٹ ڈرنکس کی لت لگی جب وہ 20 سال کے تھے، سپر اسٹور میں ان کی نائٹ شفٹ ہوا کرتی تھی جس کے باعث انہیں چینی کی طلب پوری کرنے کے لیے سافٹ ڈرنک باآسانی مل جاتی تھی، وہ دو لیٹر والی چار سے پانچ بوتلیں ایک ہی دن استعمال کرتے تھے۔

    مسٹر کیوری نے فیصلہ کیا کہ ان کا وزن 266 پاؤنڈ تک بڑھنے کے بعد سخت کارروائی ضروری ہے اور ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ انہیں ذیابیطس ہونے کا خطرہ ہے جس کے بعد اینڈی نے اپنے علاج کا فیصلہ کیا ورزش اور خوراک کے ذریعے وہ 28 پاؤنڈ وزن کم کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن پھر بھی پیپسی پینا بند نہ کر سکے۔

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کورونا کا شکار ہو گئے

    برطانوی شخص نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے لندن میں مقیم ایک تھراپسٹ اور ہپناٹسٹ ڈیوڈ کلموری سے رابطہ کیا، جس نے کیوری کو پرہیز کرنے والے محدود خوراک کی انٹیک ڈس آرڈر(Avoidant Restrictive Food Intake Disorder (ARFID) کی تشخیص کی۔ حیرت انگیز طور پر، محض 40 منٹ کے ایک آن لائن سیشن کے فوراً بعد، مسٹر کیوری صحت یاب ہوئے اور دو دہائیوں میں پہلی بار پانی پیا۔ چار ہفتوں میں، اس نے مزید 14 پاؤنڈ وزن کم کرلیا اور وہ نمایاں طور پر زیادہ صحت مند ہے۔

    مسٹر کیوری نے دعویٰ کیا، "میں نے ایک مہینے میں انہیں (پیپسی کین) کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ہی کوئی منصوبہ ہے۔ مجھے اب پانی پسند ہے۔ میری بیوی سارہ کہتی ہیں کہ میری جلد اچھی لگتی ہے اور میرے پاس بہت زیادہ توانائی ہے۔

    دوسری طرف مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ وہ "خوف زدہ” ہیں کہ 41 سالہ شخص نے اتنا سوڈا پیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اب تک کا سب سے برا شوگر تھا جس کے بارے میں میں نے کبھی سنا ہے ہپناٹسٹ نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس قسم کی لت "بہت خطرناک” ہے اور کسی شخص کے اہم اعضاء پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتی ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

  • تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات
    یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی دن تھا جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قومی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے صدر کو وزیراعظم کا مشورہ بھی واپس کر دیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ کروں تو حتمی فیصلہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے اسے جمہوریت اور عدلیہ کی فتح قرار دیا کیونکہ عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کیا اور نظریہ کو دفن کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سب نے دیکھا کہ اپوزیشن حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور بعد میں نے اسمبلی کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔

    اب پی ٹی آئی کے حامی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاس کیا آپشن رہ گئے ہیں، اپوزیشن کے اقدام کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے ہے۔ تاہم، شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ تنقید کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی اب بھی اسمبلی میں نمبر گیم کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ اب تک متحدہ اپوزیشن عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیت منا رہی ہے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا اور اسے حکومت کی تبدیلی قرار دیا گیا۔کئی سیاسی تجزیہ کار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لیٹر گیٹ کا معاملہ حقیقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ذمہ دار عہدے سے کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کی تردید نہیں کی۔لہٰذا، ایک بات یقینی ہے ایک خاص قسم کی سازش تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بہت سے مواقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو لیٹر گیٹ کے معاملے پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر کے دوران کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی اور اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی غیر ملکی سازش کی تصدیق ہوئی تو وہ پریمیئر شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ لیٹر گیٹ سکینڈل پر تشویش ہے۔ میں اسے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا سیاسی سٹنٹ کہوں گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی جمہوریت میں اپنی سیاسی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کیوں اور کیسے ناکام رہی؟

    میرے خیال میں پہلے تو یہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہوا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بزدار حکومت سویلین بیوروکریسی کو تبدیل کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں نے اسے سیاسی پختگی کا فقدان اور حکومتی امور چلانے میں تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری قرار دیا۔دوسرا، یہ مہنگائی، ناقص گورننس، اصلاحات کا فقدان، عمران خان کی اشتعال انگیز سیاست، اور بہت سے سماجی مسائل تھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزارت دفاع میں اہم تقرریوں کے معاملات تھے جنہیں کسی نہ کسی طرح حکومت نے غلط طریقے سے سنبھالا تھا۔ اسی طرح خراب معاشی حالات بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے کمزور ہونے کی ایک وجہ تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ان کو سیاسی الزامات قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔

    فی الحال، پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کھو بیٹھی اور متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھال لیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سیاسی صورتحال کی وجہ سے بدل رہی ہے، بین الاقوامی کرنسی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بیرونی ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام کے منتظر ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو کئی علاقائی مسائل پر سفارتی طور پر شامل کر سکیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی اور آئندہ جو کچھ ہے وہ آنے والی حکومت کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔

    قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بنائی گئی حکومت تقریباً دس چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے لیے حکومتی امور کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔۔مسائل کی بات کی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو حل کرنا ہوگا۔ گورننس سے مہنگائی تک، امن و امان سے لے کر دہشت گردی تک، معاشی بحران سے آئی ایم ایف تک، اور بہت کچھ۔ کاش نئے وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’بھکاری سلیکٹرز نہیں ہو سکتے‘ آخر میں ایک اور بات جو سیاسی نظام کے لیے طنزیہ ہے وہ یہ کہ ایک شخص جو عدالتوں سے ضمانت پر رہا اور جس کے کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جیسا کہ لیڈر اپنی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پاکستان میں ایک فرد ہونے کے ناطے ہر ایک کو اپنے ضمیر پر نظر ثانی کرنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا لیڈر کون ہوگا اور کوئی بھی قوم بین الاقوامی میدان میں اپنی عزت کیسے پیدا کرتی ہے۔

  • خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔

    صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو

  • ایپل اور گوگل  معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل

    جنیوا: انٹرنیٹ کمپنی پروٹون چیف اینڈی یین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل اور گوگل کا کاروباری سانچہ صارفین اور معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی :"انڈیپینڈنٹ کے مطابق "تجویز کردہپروٹون میل نامی اِنکریپٹڈ ای میل اور پروٹون وی پی این چلانے والی کمپنی پروٹون میل کے سی ای او اینڈی یین کا کہنا تھا کہ ٹِم برنرس-لی کے یہ ویب بنانے کی وجہ ’نگران سرمایہ دارنہ نظام‘ کا کاروباری سانچہ نہیں تھا۔

    برنرس-لی ستمبر 2011 سے مشاورتی بورڈ میں بیٹھتے آ رہے ہیں ’نگران سرمایہ دارانہ نظام‘ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کیا جانا ہے تاکہ وہ اپنے صارفین پر مبنی پروفائلوں کو بنا سکیں اور تیسری فریق کمپنیوں کو بہتر اشتہاراتی معلومات فراہم کر سکیں۔

    ‘سروییلنس کیپٹلزم’ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں جو ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین پر پروفائل بنا سکیں اور فریق ثالث کمپنیوں کو اشتہارات کی بہتر معلومات فراہم کر سکیں گوگل اور فیس بک کافی عرصے سے صارفین کی پرائیویسی کی قیمت پر ٹارگٹڈ اشتہارات سے منافع کما رہے ہیں جبکہ ایپل اپنا سرچ ایڈ کا اشتہاراتی کاروبار کھڑا کر رہا ہے۔

    پروٹون نے حال ہی میں اپنی ایپ اِیکو سسٹم میں دو نئی ایپلی کیشن پروٹون ڈرائیو اور پروٹون کلینڈر کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایپس صارفین کو اِنکریپٹڈ سروسز پیش کرتی ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایپل اور گوگل کی جانب سے پیسوں کے عوض دی جانے والی خدمات سے زیادہ خفیہ ہے-

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ صارفین دیگر مسابقتی خدمات کی ایک حد کے لیے بھی پوچھ رہے ہیں: آن لائن دستاویزات، پاس ورڈ مینیجر، چیٹ ایپس، اور بہت کچھ، جو کہ بڑھتے ہوئے پروٹون پیکج کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

    مسٹر ین کہتے ہیں، "بڑی حد تک، مصنوعات اور خدمات ختم ہو چکی ہیں تین ماحولیاتی نظام ہیں، بنیادی طور پر: مائیکروسافٹ ہے، گوگل ہے، ایپل ہے۔ اور فیس بک، شاید، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس سے پوچھتے ہیں۔ رازداری کو ایک ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ آپ آس پاس کے زیادہ تر صارفین سے بات کرتے ہیں اور آپ ان سے پوچھتے ہیں: ‘کیا آپ کو ویب کے بارے میں گوگل کا وژن پسند ہے؟’ ایک بار جب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کیا ہے، تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔

    اس دعوے کے باوجود، گوگل کی مصنوعات بے حد مقبول ہیں گوگل سرچ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے اور کروم سب سے عام ویب براؤزر ہے، جبکہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون پلیٹ فارم بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، مسٹر ین کا دعویٰ ہے کہ ایسا مقابلہ کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔

    مسٹر ین کہتے ہیں، "اگر آپ کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ زیادہ رازداری اور سیکیورٹی چاہتے ہی ہر کوئی یہ چاہتا ہے”، لیکن صارفین کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے پاس کوئی انتخاب ہےجس طرح سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تمام ڈیفالٹ سیٹ کر رہے ہیں – ایک واضح طور پر مسابقتی انداز میں – ایک موبائل پہلی دنیا میں آپ اور کیا جانتے ہیں؟

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ صارفین کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ وہ "کچھ چیزیں ترک کر رہے ہیں” کیونکہ "گوگل نے کئی بلین خرچ کیے ہیں اور اس کا آغاز 20 سال کا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خلا بند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔”

    سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں

    پروٹون کو امید ہے کہ یورپ سے قانون سازی انہیں چھوٹے حریفوں اور ایپل اور گوگل کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد کرے گی، جن کا اسمارٹ فون کی جگہ پر ڈوپولی ہے۔

    ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ، جو صارفین کو آزادانہ طور پر اپنے براؤزر، ورچوئل اسسٹنٹس یا سرچ انجنوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آلات سے پہلے سے لوڈ کردہ سافٹ ویئر کو ان انسٹال کرنے کا حق اور کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلے رکھنے کے لیے ان کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی لگانے کی اجازت دے گا۔ مسٹر ین کا کہنا ہے کہ "کینڈی اسٹور میں ایک بچہ ہونے کے ناطے”۔ "لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یورپ، حقیقت میں اسے نافذ کر سکتا ہے اور ایک مختصر وقت میں فرق پیدا کر سکتا ہے؟”

    مسٹر ین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ضروری ہیں، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صرف چھوٹے حریفوں پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے – ایسا کچھ جو ایپل نے کئی بار کیا ہے اس کے لیے ایک گالی ہےبڑی ٹیک کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ اگر وہ آج آپ سے مقابلہ نہیں کرتی ہیں، تو وہ پانچ، چھ سالوں میں آپ سے مقابلہ کریں گی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس صنعت میں ہیں۔ وہ صنعت تباہ ہونے والی ہے-

    "اگر ہم موجودہ راستے کو جاری رکھتے ہیں، تو ہم امریکہ اور چین کی چار یا پانچ کمپنیوں کے زیر کنٹرول دنیا میں ختم ہو جائیں گے، اور ہم سب کی فلاح و بہبود ہو گی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہم آہنگ رہنے کے لیےنہ صرف قانون سازی میں تبدیلیاں بلکہ ذہنیت کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہوگی۔ "ریگولیشن ہمیشہ اتنا پیچھے کیوں ہے؟ ہمیں صرف قانون سازی کرنے اور پھر ایک نسل کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ہر سال انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کی رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے-

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

  • واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں  نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    کیلیفورنیا: دنیا بھر کی معروف ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنی گروپ وائس کال میں متعدد نئے فیچرز اپ ڈیٹ کردیئے۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ سےآئی فون پر واٹس ایپ ڈیٹامنتقلی کے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی تھی اب ایپ کی جانب سے گروپ وائس کال میں نئی تبدیلیاں سامنے لائی گئیں ہیں گروپ کال فیچر میں نئے ٹولز شامل کرنے کا مقصد گفتگو کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنا ہے۔

    واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    تبدیلیوں کے بعد اب جب کوئی شخص گروپ وائس کال میں شامل ہوگا تو ایک بینر نوٹی فیکیشن ظاہر ہوگا جو یہ بتائے گا کہ کوئی شخص کال میں شامل ہوا ہے یہ بڑی چیٹس میں بھی ہوگا اور تب بھی ہوگا اگر کسی کا نام اسکرین پر ظاہر ہونے والی لسٹ میں موجود نہ ہو۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز متعارف کرا ئی جس کو استعمال کرتے ہوئے اب صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہیں گے اس کو اپنی پروفائل پکچر، اپنے متعلق معلومات، لاسٹ سین اور واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھائیں گے-

    حالیہ ٹویٹ میں واٹس ایپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے صارفین کے لیے سخت پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز جاری کردیں ہیں۔ اب تک صارفین اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس، لاسٹ سین اور اپنے متعلق معلومات پر تین قسم کی پرائیویسی کا اطلاق کر سکتے ہیں 1) سب کے دیکھنے کے لیے دستیاب، 2) صرف آپ کے کانٹیکٹس دستیاب 3) مکمل طور پر پوشیدہ۔

    واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

    لیکن اب ایک نیا آپشن شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق صارف اپنے کچھ کانٹیکٹس سے اپنی پروفائل پکچر وغیرہ پوشیدہ رکھ سکیں گے جبکہ یہ سب چیزیں باقیوں کے لیے عیاں رہیں گی۔ یہ بلیک لسٹ کرنے کی ہی ایک نئی شکل ہے ان سیٹنگز کے لیے اسکرین پر اوپری حصے میں دائیں جانب تین نقطوں پر ٹیپ کریں، سیٹنگز میں جائیں پھر اکاؤنٹ میں اور پھر پرائیویسی میں جاکر سیٹننگ کر لیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے یہ نیا فیچر گزشتہ برس بِیٹا ٹیسٹرز کے لیے جاری کیا گیا تھا لیکن اب کمپنی نے یہ فیچر عام صارفین کے لیے جاری دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ جلد ایک اور فیچر بھی متعارف کرائے گا جس میں دیگر لوگوں کی آواز بند کی جاسکے گی اس کا مطلب ہے کہ کال میں شامل افراد کے اطراف سے آنے والے شور کو بھی خاموش کرایا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کے مالک مارک زکر برگ خود کونسی ایپ استعمال کرتے ہیں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  • دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    کیلیفورنیا: دنیا کے سب سے بڑے آزمائشی طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے،طیارہ بنانے والی کمپنی Stratolaunch نے بھی ایک پریس ریلیز میں اس پرواز کے دوران چند اور پرزوں کی کامیاب جانچ کی تصدیق کی-

    باغی ٹی وی : کمپنی کے بانی پال ایلن کے انتقال کے بعد Roc کی پہلی پرواز کے بعد اسٹریٹولانچ کا مستقبل مشکوک تھا مائیکروسافٹ کے شریک بانی ایلن نے کمپنی کا آغاز زمین کے نچلے مدار میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے مقصد سے کیا جب ہوائی جہاز اسٹراٹاسفیئر میں تھا، جس کا مظاہرہ ورجن آربٹ نے 2021 کے اوائل میں کیا تھا۔

    نئی ملکیت کے تحت چند سال، اسٹریٹو لانچ نے چھوٹے سیٹلائٹس سے دور رہنے کے لیے کافی محور بنایا، اس کے بجائے ہائپرسونک ریسرچ گاڑیاں لانچ کیں۔ پچھلے سال کے آخر میں، کمپنی نے فوج کے لیے ہائپرسونک فلائٹ ٹیسٹ کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اب وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    385 فٹ (117 میٹر) کے پروں کے ساتھ،راک اس وقت دنیا کا سب سے بڑا طیارہ ہ۔اس بار ساتویں آزمائشی پرواز میں ایک نئے نصب شدہ سہارے کی جانچ بھی تھی جسے انجن سے جوڑا گیا تھا اس نئے پائلن یا سہارے سے جڑا ایک چھوٹا طیارہ چھوڑا جائے گا جو آواز سے پانچ گنا رفتار پر اڑان بھرے گا-

    تاہم یہ آزمائش اگلے مراحل میں کی جائے گی اسٹریٹو لانچ نامی اس مشین کو انسانوں کی بجائے راکٹ اور سیٹلائٹ کو اسٹریٹو سفیئر میں چھوڑنے میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کی قوت کا اندازہ یوں لگائیے کہ اس میں بوئنگ کے چھ انجن نصب ہیں اور اسے ہائپرسونک چھوٹے طیاروں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    دوبارہ قابل استعمال گاڑی، Talon-A کے پروں کا پھیلاؤ 11.3 فٹ (3.4 میٹر) ہے اور اس کی لمبائی 38 فٹ (8.5 میٹر) ہے۔ لانچ گاڑی میں مختلف قسم کے ریسرچ پے لوڈز لگائے جا سکتے ہیں جو کہ پھر Mach 5 – Mach 10 کی رفتار کے درمیان سفر کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے پچھلے سال دسمبر میں رپورٹ کیا تھا۔

    اگلے چند مہینوں میں، کمپنی نے کچھ اچھی پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں اپنی ساتویں فلائٹ کی ہے۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    تین گھنٹے سے زائد ایک منٹ تک جاری رہنے والی پرواز کے دوران راک نے 27,000 فٹ (8,200 میٹر) کی بلندی پر بھی اڑان بھری۔ یہ 15,000 فٹ (4,572 میٹر) سے ایک بڑی پیشرفت ہے جس تک ہوائی جہاز اپنی آخری پرواز کے دوران پہنچا تھا۔ Talon A کی لانچیں 35,000 فٹ (10,000 میٹر) کی کروزنگ اونچائی پر ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    اسٹریٹو لانچ کو توقع ہے کہ وہ 2023 میں اپنے صارفین کے لیے ہائپرسونک ٹیسٹنگ سروسز شروع کرے گا۔

    اس کا پہلا ورژن 2020 میں سامنے آیا تھا جسے ٹیلون ون کا نام دیا گیا تھا جو فوری طور پر آواز سے تیزرفتار بار بار فلائٹس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ معمول کے رن وے سے اڑ اور اترسکتا ہے۔ اب اس میں ٹا او نام کا ایک چھوٹا طیارہ لگایا گیا ہے جس کا وزن 3600 کلوگرام اور لمبائی 14 فٹ ہے۔

    اس طرح بڑا طیارہ چھوٹے طیارے کو چپکا کر ایک خاص بلندی اور رفتار تک جائے گا اور اس کے بعد وہاں سے چھوٹے طیارے کو لانچ کیا جائے گا۔ ساتویں آزمائشی پرواز میں اسے امریکا کے مشہور موحاوے صحرا سے اڑایا گیا اور وہ 8200 میٹر کی بلندی تک جاپہنچا۔

    واشنگٹن:سعودی سفارتخانے کی سڑک کا نام تبدیل کر کے’جمال خاشقجی وے‘ کر دیا گیا

  • کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    ہائرایجوکیشن کمیشن نے تمام جامعات سے وابستہ کالجز میں ایم ایس اور ایم فل کے داخلوں پر پابندی لگادی جسکے سبب اب ان کالجز سے ایم فل اور ایم ایس پرواگرام نہیں ہوسکیں گے لہذا اب طلبہ کو جامعات میں سے ہی ایم ایس، ایم فل کی ڈگری کرنی گی۔
    اسلام آباد کے رہائشی طالب علم محمد رضوان نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایچ ای سی میں پروفیشنل لوگ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق ہوکر رہ گیا ہے اور اب انہوں نے جامعات سے وابستہ کالجز سے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کرنے پر پابندی تو لگا دی لیکن ان طلبہ کا نہیں سوچا جو دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور انکے قریب صرف کالج کی سہولت موجود ہے جبکہ جامعات ان سے کافی دور ہیں۔ لہذا میرا ایچ ای سی سے سوال ہے کہ اب ان طلبہ کا کیا بنے گا؟

    ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد سلطان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ہائرایجوکیشن کمیشن نے کالجز کی سطح پر ایم ایس اور ایم فل پروگرامز پر پابندی لگا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس ڈگری میں ریسرچ اور کورس ورک کیلئے جس قسم کے معیار کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی کالج میں برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جو معیار ایک جامع فراہم کرسکتی ہے وہ کالج میں مشکل ہے۔

    پروفیسر خالد سلطان نے مزید بتایا کہ: ایچ ای سی کے اس فیصلہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ خوش نہیں ہونگے کیونکہ ہر ایک کے قریب جامع نہیں ہوتی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایچ ای سی ایم ایس اور ایم فل کے داخلہ پر پابندی کے اس فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں کیونکہ بعض اوقات ایسے فیصلوں سے کالجز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے جانب سے دباو آتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ لیکن جس قسم کے معیار کی ان ڈگریوں کیلئے ضرورت ہوتی ہے اسے برقرار رکھنا بھی ایچ ای سی کی ذمہ داری ہے۔

    اس سلسلے میں باغی ٹی وی نے ایچ ای سی کا موقف لینے کیلئے کوشش کی مگر ایچ ای سی ہیڈ آفس اسلام آباد میں کسی سے رابطہ نہ ہوسکا۔

  • یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی کرائی گئی نکاح خواں نے باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا-

    باغی ٹی وی : یمن میں ایک بلی اور بلے کی شادی اور ان کا باقاعدہ نکاح خواں کے ذریعےنکاح پڑھے جانےکی ہےخبرنےلوگوں کوحیران کر دیا ہےبلی اوربلی کےنکاح اور شادی کی تقریب کا واقعہ المعلا ڈاریکٹوریٹ میں ہوا بلی اور بلے کی شادی کی تقریب میں پڑوسیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


    یمن میں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں بلی اور بلی کی شادی اوران کے نکاح کی تقریب دیکھی جا سکتی ہے اس ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کےبعد سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے نر اور مادہ بلیوں کے درمیان نکاح کا معاہدہ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا اور اختتام پر نکاح فارم پر دونوں کے پنجے لگوائے گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تقریب سے قبل شادی کے معاہدے میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ چھپایا گیا۔ دعوت نامہ اسی علاقے کے متعدد قریبی لوگوں میں تقسیم کیے گیا۔اس واقعے نے کچھ لوگوں کی مخالفت کے باوجود بہت سے لوگوں نے اس کی حمایت کی نکاح کی تقریب کے لیے ایک مجاز نکاح خواں کو دعوت دی گئی اور نکاح فارم پر بلی اور بلے کے دستخط بھی ثبت کرائے گئے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا بعض صارفین نے اس نکاح پر تنقید کی جب کہ بعض نے اسے مزاحیہ واقعہ قرار دیا۔ کچھ لوگوں نے بلی اور بلے کی شادی کی تقریب منعقد کرنے پر منتظمین اور نکاح خوان کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ناقدین نے انسانوں اور حیوانوں کا موازنہ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور نکاح پڑھنے والے مولوی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • آئین کی پاسداری اور سربلندی کا عہد

    آئین کی پاسداری اور سربلندی کا عہد

    یہ ایک حقیقت ہے کہ افواج پاکستان نہ صرف ملکی دفاع کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اس کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن کے حصے کے طور پر علاقائی اور عالمی امن کے لیے قربانیاں دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ حال ہی میں افریقی ملک کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دیتے ہوئے پاک فوج کے افسران اور جوان فضائی حادثے میں شہید ہو گئے۔ پاک فوج ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور ریاست کے خلاف کسی بھی انتشار کو روکنے کے لیے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتی ہے۔

    حال ہی میں جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک میجر اور ایک جوان شہید ہوگئے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں 7 اہلکار شہید جب کہ مقابلے میں 4 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ وطن کے دفاع اور تحفظ کے لیے پاک فوج کے بے پناہ جذبے اور قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہماری سیاسی قیادت ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ خوش آئند پیش رفت ہے کہ ملک کی عسکری قیادت نے پاکستانی افواج کو ملکی سیاسی معاملات سے لاتعلق رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا اور سیاستدانوں سے کہا کہ وہ اپنے تنازعات اور مسائل اپنے اپنے فورم پر حل کریں۔ کچھ قوتوں نے ملک کے ریاستی اداروں کی توڑ پھوڑ کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جس کا حکومت اور اداروں نے فوری اور سخت نوٹس لیا اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ریاستی اداروں اور عوام میں تقسیم پیدا کرنے کی پروپیگنڈہ مہم کا بھی نوٹس لیا گیا اور واضح پیغام دیا گیا کہ پوری فوج آئین اور قانون کی پاسداری کر رہی ہے۔ملکی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ خب دار کرنے کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن شیطانی مہم جاری ہے۔ اس ساری صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔پاک فوج ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے ہمہ وقت چوکس اور تیار ہے۔ عوام کی حمایت ہی فوج کی طاقت کا ذریعہ ہے اور اس کے خلاف کسی قسم کی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ بے بنیاد بدتمیزی اور الزام تراشی کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے جو کامیاب نہیں ہو گی۔تاہم، ایسے الزامات کو روکنا چاہیے جو اداروں اور بین الاقوامی تعلقات کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن یا کسی بھی سیاستدان کو قانونی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے قانون کے خلاف مہم چلانے کا حق حاصل ہے لیکن حد سے تجاوز کرنا ملکی نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

    مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے قومی مسائل پر پریس بریفنگ ایسے وقت میں دی گئی جب کچھ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے ملکی قیادت کے بارے میں گھناؤنا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف بعض قومی معاملات پر بعض سیاسی جماعتیں ایسے تبصرے کر رہی ہیں جس سے اداروں کا امیج خراب ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس صورتحال میں میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس سے عوام میں واضح پو گیا ہے کہ یہ محض الزامات ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کے سیاسی دھڑے معزز سابق فوجیوں کے جعلی آڈیو پیغامات اپ لوڈ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسلح افواج پر بے جا تنقید سب سے زیادہ اقتدار جانے والی پارٹی کی جانب سے کی جا رہی ہے اور جھوٹ، پروپیگنڈہ میں اپنے لیڈر کی طرح انکے کارکنان نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی، پروپیگنڈہ اتنا کیا جاتا ہےکہ شاید اسکو لوگ سچ ماننے پر مجبور ہو جائیں، افواج پاکستان ملکی دفاع کی ضامن ہیں، ملکی سلامتی کے اداروں پر بے جا تنقید کرنا دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل ہے، پاکستان جن حالات میں ہے ایسے میں پاک فوج کے شانہ بشانہ چلنے کی ضرورت ہے ، سیاست تو ہوتی ہی رہے گی لیکن خدارا اپنے سیاسی مفادات کے لئے اداروں کو بدنام کرنے والا کام چھوڑ دیں،

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام