ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
باغی ٹی وی رپورٹ۔کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف پوری پاکستانی قوم ایک پیچ پر ہے،حکومت پنجاب کی ہدایت پر یوم استحصال کشمیر ڈے کے موقع پر ڈیرہ غازی خان میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی ڈی سی آفس سے بمبے چوک تک نکالی گئی۔

ریلی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارجمند شہباز،انفارمیشن آفیسر خالد رسول،شہزادالاسلام،ذوالفقار احمد،اساتذہ،طلبا،تاجروں،سول سوسائٹی اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔شرکا نے کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی مظالم کیخلاف پر شگاف نعرے بھی لگائے جب کہ ریلی میں فضا کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی آزادی چھین کر پاکستان سے الحاق کریں گے،

بھارتی مظالم کشمیریوں کو انکے حق خود ارادیت سے نہیں روک سکتے،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی نے کہا کہ کشمیری پر مظالم سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے،کشمیری خود کو اکیلا نہ سمجھیں،پاکستانی قوم انکے ساتھ ہے،ریلی میں شرکا کی طرف سے کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کو سلام بھی پیش کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر کشمیر کی آزادی،پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی کیلئے دعائیں بھی کی گئیں۔
Category: بلاگ
-

ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
-

"باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ
کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 370 کو ختم کیے ہوئے بھارت کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن کشمیر آج بھی بھارت کے لیے ویسا ہی ہے جیسا نوے کی دہائی میں تھا، کشمیر میں کوئی چوٹی، کوئی بلڈنگ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جہاں بھارتی ترنگا لہرا سکے.
کشمیری آج بھی سینہ تان کر کھڑے ہیں. قربانیاں دینے کے باوجود اپنے آپ کو بھارت کا شہری کہنے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، اور قربانیاں بھی ایسی کہ پوری وادی میں شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں کوئی شہید نہ ہوں. وگرنہ تو کیفیت یہ ہے کہ بیٹا ہے تو باپ نہیں ہے. باپ ہے تو بھائی غائب ہے.
بلکہ بقول احمد بن قاسم پاکستان میں نارمل یہ کہ والدین ہیں بہن بھائی ہیں آپ صبح اٹھتے ہیں ناشتہ کرتے ہیں اور پھر روٹین کے کام کاج میں جاتے ہیں کوئی یونیورسٹی جاتا تو کوئی جاب پر اور کوئی گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے.
جبکہ کشمیر میں نارمل یہ ہے کہ بیٹا رو رہا ہے کیونکہ اس کا باپ شہید ہے. ماں غمگین ہے کہ لخت جگر انڈیا کی جیل میں ہے، بہن ساکت بیٹھی ہے کہ صبح اس کے بھائی کو بس سے اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا ہے. صبح اٹھ کر کالج و اسکول اور جاب پر جانے کی فکر نہیں بلکہ نارمل یہ ہے کہ احتجاج ہے، معرکہ ہے، پتھراؤ ہے اور ظلم ہے.
جو لوگ کشمیر کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ بھارت وہاں پر ہر قسم کے ترقیاتی کام کروانے کو تیار ہے، ہر قسم کی سہولت کشمیریوں دینے کو تیار ہے لیکن کشمیری ہر قسم کے لالچ، ہر قسم کے ظلم اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں اور پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرتے ہیں.
جبکہ ہم پاکستانیوں کی صورتحال کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹس کے ساتھ، اخبارات میں اشتہارات دے کر، آدھا گھنٹہ چپ کھڑے ہوکر ، نغمے اور ترانے بنا کر بلکہ اب تو وہ سلسلے بھی گئے اور ساتھ کھڑا ہونے کی باتیں بھی قصہ پارینہ ہوئیں. اب تو باز گشت ہے لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل بارڈر میں بدلنے کی، ادھر تم اور ادھر ہم والے نظریات کی…
کشمیر کی تقسیم کے فارمولوں کی آوازیں ابھر رہی ہیں لیکن یاد رکھیے گا یہ کشمیر ہے شہداء کا مقدس لہو اس سرزمین پر گرا ہے، ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر اس کے لیے قربان کیے ہیں آپ اس مقدس لہو سے غداری کریں گے تو نہ قدرت آپ کو معاف کرے گی اور نہ وہ مائیں جن کے جگرگوشے اس سرزمین پر قربان ہوئے.
اٹھیے کشمیر سے وفا کیجیئے، تقسیم برصغیر کے اس نامکمل ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیے اور کشمیریوں کو آزادی دلوائیے دیکھیے اللہ کی رحمتیں آپ کے پاکستان پر کیسے برستیں ہیں اور ظلمتوں کے بادل کیسے چھٹتے ہیں.
دل جوش میں لا فریاد نہ کر
تاثیر دکھا تقریر نہ کر
یا طاقت سے کشمیر چھڑا
یا آرزو کشمیر نہ کر -

مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کا مشن خلا میں روانہ
دنیاکی امیرترین شخصیات میں سے ایک جیف بیزوس کی ملکیتی کمپنی بلیواوریجن نے جمعرات کو چھے افراد پر مشتمل ایک مشن کوخلا میں بھیجا ہے-
باغی ٹی وی : مشن "این-22” نے امریکی ریاست ٹیکساس کے مغربی صحرا میں بلیواوریجن کے اڈے سے مقامی وقت کےمطابق صبح 8 بج کر 58 منٹ (1358 جی ایم ٹی) کے قریب نیو شیپرڈ ذیلی مدار راکٹ دھماکے کے ساتھ اڑان بھری ہے مشن کا دورانیہ، لانچ سے لینڈنگ تک: 10 منٹ اور 20 سیکنڈ تھا-

مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کے مشن نے نیو شیپرڈ ذیلی مدار راکٹ دھماکے کے ساتھ خلا میں اڑان بھریخود مختار اوردوبارہ قابل استعمال خلائی گاڑی نے اپنے عملہ کے کیپسول کو کرمان لائن کے اوپربھیجا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خلائی سرحد ہے اوریہ سطح سمندر سے 62 میل (100 کلومیٹر) اوپر ہے۔
امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟
عملہ کے ایک رکن کولائیواسٹریم پر یہ کہتے ہوئے سناجا سکتا تھا کہ میں تیررہا ہوں! پھر کیپسول اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ گیا اور مسافروں نے چند منٹ تک بے وزنی کا تجربہ کیا۔

نیو شیپرڈ بوسٹر، اپنی آٹھویں فلائٹ مکمل کرتے ہوئے،مسافروں نے اڑان بھرنے کے قریباً 11 منٹ بعد مشن مکمل کرلیا۔راکٹ اور کیپسول دونوں الگ الگ بیس پر واپس آئےکیپسول کے سوار بہت بڑے پیراشوٹ کا استعمال کرتے ہوئے زمین پراترے اور انہوں نے اڑان بھرنے کے قریباً 11 منٹ بعد مشن مکمل کرلیا۔
اس کے عملہ میں مصری انجینئرسارہ صبری اور پرتگالی کاروباری شخصیت ماریو فیریرا شامل تھے۔ وہ زمین سے خلامیں جانے والے دونوں ممالک کے اولین افراد ہیں جبکہ یوٹیوب اسپورٹس اور کامیڈی چینل ڈوڈے پرفیکٹ کے پانچ شریک بانیوں میں سے ایک کوبی کاٹن بھی شامل تھےاس چینل کے پانچ کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔
سکول میں حجاب پر پابندی ،اقوام متحدہ کی فرانس پر تنقید
بلیواوریجن کی ایک خاتون ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ عملہ کے تمام چھ افراد نے اس خلائی سفر کے لیے رقوم ادا کی تھیں۔البتہ سارہ صبری کی نشست کوغیرمنافع بخش تنظیم خلا برائے انسانیت (اسپیس فارہیومینٹی) کی مالی سرپرستی حاصل تھی۔تاہم بلیواوریجن نے اپنے ٹکٹ کی قیمت کا انکشاف نہیں کیا ہے۔
اس کی ماضی کی پروازوں میں مشہورشخصیات بہ طور مہمان سوار ہوچکی ہیں اور انھوں نے مفت پرواز کا لطف اٹھایا تھا۔ان میں اسٹار ٹریک کے لیجنڈ ولیم شاٹنر بھی شامل ہیں-
سائرہ صابری نے اپنی پرواز کو سپانسر کرنے والی تنظیم اسپیس فار ہیومینٹی کو بتایا کہ جب ہم بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کرتے ہیں، ہم ناممکن سمجھی جانے والی چیزوں کو حاصل کرتے ہیں، ہم حدود کو توڑتے ہیں، تاریخ لکھتے ہیں اور مستقبل کے لیے نئے چیلنجز کا تعین کرتے ہیں ۔
سائرہ نے مزید کہا کہ میں ناقابل یقین حد تک پرجوش ہوں کہ اسپیس فار ہیومینٹی نے مجھے یہ موقع پیش کیا ہے اور مجھے پہلی بار خلا میں مصر کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہے میرے آباؤ اجداد نے ہمیشہ بڑے خواب دیکھے ہیں اور ناممکن کو حاصل کیا ہے، اور میں اسے واپس لانے کی امید کرتی ہوں۔ ابھی شروعات ہے۔
ایران جوہری معاہدہ: ایرانی ،یورپی اور امریکی نمائندے ویانا پہنچ گئے
-

جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت
سعودی عرب: ماہرین نے جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتوں کا اعلان کیا ہے-
باغی ٹی وی : خبررساں ادارے ” العربیہ” کے مطابق جمعرات کو سعودی محکمہ ورثہ جات نے جازان شہرسے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتیں کی ہیں-

یہ نوادرات پیرس ون یونیورسٹی کے تعاون سے ایک مشترکہ سعودی اور فرانسیسی سائنسی ٹیم کے تحقیق اور کھدائی کے کام کے دوران ملیں یہ نوادرات سعودی عرب میں ورثے کے تحفظ کے ادارے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا تسلسل ہے۔

کھدائی کے نتیجے میں دوسری اور تیسری صدی عیسوی کے متعدد فن تعمیراتی مظاہر،نایاب نوادرات اور نمونے دریافت ہوئے ان نوادرات میں تانبے کے کھوٹ سے بنی تہہ شدہ رومن شیلڈ اور ایک اور قسم کی "لوریکا اسکوماٹا” شامل ہے جو پہلی سے تیسری صدی عیسوی تک رومن دور میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی تھی یہ اب تک کی سب سے نایاب ٹکڑوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

ان دریافتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جن مقامات سے یہ ملی ہیں وہاں پر 1400 قبل مسیح انسانی آبادی اور تہذیب موجود تھی۔العربیہ نے سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے” کے حوالے سے بتایا کہ مشرقی رومن سلطنت "جینوس” کی تاریخ میں ایک مشہور رومن شخصیت کے ایک سُلیمانی نوشتہ کی دریافت کے علاوہ ایک چھوٹے مجسمے کا سربھی ملا۔

ایک سعودی فرانسیسی ٹیم نے 2005ء میں جزیرہ فرسان پر تحقیقی کام کے لیے کھدائی کا دورہ کیا تھا جس نے 2011 میں جزیرے پر سروے کا کام شروع کرنے کے لیے آثار قدیمہ کی اہمیت کے حامل مقامات کی نشاندہی کی تھی۔ 2011-2020 کی مدت کے دوران کی گئی پچھلی دریافتوں کے نتیجے میں بہت سی تعمیراتی اور آثار قدیمہ کی دریافتیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ مقامات تقریباً 1400 قبل مسیح کے ہیں۔

فرسان جزائر کے مقامات پر ہونے والے ان کاموں نے بہت سی آثار قدیمہ کی دریافتوں کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا، اور اہم مقامات کا انکشاف کیا، جو مملکت کے جنوب میں واقع تاریخی بندرگاہوں کے تہذیبی اور بحیرہ احمر کی تجارت کو کنٹرول کرنے میں ان کی اہمیت اور قدیم میری ٹائم کمرشل ٹرانسپورٹ لائنز کے حوالے سے ماضی میں اہم رہ چکے ہیں۔آثار قدیمہ کی یہ دریافتیں جزائر فراسان کی ثقافتی گہرائی، اور مملکت کی اہمیت اور مختلف تہذیبوں کے مرکز کے طور پر اس کے تزویراتی محل وقوع کی بھی تصدیق کرتی ہیں۔
قبل ازیں آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی تھیں یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-
اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی تھی –
قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔
-

فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان
کیلیفورنیا: دنیا بھر میں معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے-
باغی ٹی وی :ٹیکنالوجی کی خبروں سے متعلق ویب سائٹ ٹیک کرنچ کےمطابق فیس بک کی جانب سےایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ صارفین یکم اکتوبر سے پلیٹ فارم پر کسی بھی طرح کے نئے یا شیڈول لائیو شاپنگ ایونٹس کی میزبانی نہیں کر سکیں گے۔
سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ
کمپنی کا کہنا تھا کہ اقدام کا مقصد اپنی توجہ Reels کی جانب منتقل کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یکم اکتوبر کے بعد فیس بک لائیو کو، لائیو ایونٹس نشریات کے لیے بدستور استعمال کیا جا سکے گا، مگر صارفین یہاں اپنی پروڈکٹ پلے لسٹ نہیں بنا سکیں گے یا پھر اپنی فیس بک لائیو ویڈیوز میں پروڈکٹس کو ٹیگ نہیں کر سکیں گے۔
گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا
2 برس قبل متعارف کرایا گیا فیس بک لائیو اسٹریم وڈیو فیچر تخلیق کاروں اوربرانڈز کو اپنی اشیا کی فروخت اورصارفین سے براہ راست روابط کےلیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاہم صارفین کےرجحان اورمختصر دورانیے کی وڈیوز کی جانب بڑھتی دلچسپی کے پیش نظر کمپنی فیس بک اور انسٹاگرام دونوں پر اپنی توجہ ریلز پر فوکس کررہی ہے۔
اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا
لائیو اسٹریم شاپنگ ایشیا میں اور خاص طور پر چین میں تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم، چونکہ فیس بک اور ٹِک ٹاک دونوں اپنے لائیو شاپنگ پلانز کو واپس لے رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ عام صارفین کی آگاہی اور لائیو شاپنگ کو اپنانا ایشیا سے باہر اب بھی کم ہے۔
ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین تک نامناسب مواد کی رسائی روکنے کیلئے فیچرز متعارف کرادیئے
-

فٹبال کے حجم کی نئی غیر معمولی جیلی فش دریافت
پاپوا نیو گنی میں ایک منفرد اور غیر معمولی جیلی فش دریافت کی گئی ہے-
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک غوطہ خور نے اس جیلی فش کی ویڈیو ریکارڈ کی اور سائنسدانوں نے اس حوالے سے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ڈورین بورچرڈز نے اس ویڈیو کو بنایا اور ان کا کہنا تھا کہ اسکوبا ڈائیونگ کے دوران انہوں نے 3 یا 4 جیلی فش کو دیکھا جو بہت غیرمعمولی تھیں ان مچھلیوں کا دماغ نہیں تھا تو میں نہیں جانتا کہ وہ کس طرح پانی میں تیر رہی ہیں-
درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے انہوں نے ویڈیو کو جنوبی افریقہ میں موجود اپنی اہلیہ کو بھیجا ان کی اہلیہ نے اس ویڈیو کو جیلی فش ایپ میں اپ لوڈ کیا جو کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ماہر ڈاکٹر لیزا این گریشون کا پراجیکٹ ہے۔
ڈاکٹر لیزا نےبتایا کہ جب میں نےاس ویڈیو کو دیکھا تو میں کرسی سے گرتے گرتے بچی انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں لگا کہ یہ ایک پراسرار جیلی فش Chirodectes maculatus ہے جسے دہائیوں قبل دریافت کیا گیا تھا مگر پھر وہ کبھی دوبارہ نظر نہیں آئی، مگر اب ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک نئی قسم ہے۔برطانیہ میں 800 سال قدیم لاکٹ دریافت
دوسری جانب سے ایک اور بحری حیات کی ماہر پروفیسر کائیلی پٹ نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ جیلی فش کی ایک نئی قسم ہو مگر صرف ایک ویڈیو کی بنیاد پر حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔
اس جیلی فش کاحجم ایک فٹبال کے برابر ہے اور اس کی ویڈیو دسمبر 2021 میں بنائی گئی تھی مگر اب جاکر اس کے حوالے سے محققین کی رائے سامنے آئی۔
دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ
-

درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے
کیلیفورنیا:امریکا میں دنیا کا بلند ترین زندہ درخت واقع ہے تاہم وہاں جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکڑوں سالوں سے، ’ہائپیریئن‘ کے نام سے جانا جانے والا درخت شمالی کیلیفورنیا کے ریڈ ووڈز نیشنل اور اسٹیٹ پارک کے اندر خاموشی سے کھڑا ہے یوٹیوبر، بلاگر اور دیگر افراد نے اس کی تفصیلات اور پتا دے کر لوگوں کے تجسس کو بڑھایا ہے اور لوگ ماحول کو نقصان پہنچا کر یہاں پہنچ رہے ہیں۔
بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش
کیلیفورنیا کے ریڈ وُڈ نیشنل پارک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کی حدود میں موجود ’ہائپیریئن‘ نامی درخت کو مُہم جُو حضرات سے شدید ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں کیونکہ 2006ء سے یہاں راستہ نہ ہونے کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے اور درخت کو متاثر کررہی ہے اسی لیے اب اس کے قریب جانے پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

ریڈووڈ نامی اس درخت کی اونچائی قریباً 116 میٹر(379.1 فٹ) ہے جس کا نامی یونانی دیوتا پر رکھا گیا ہے یہ پارک کے اندر بہت دور موجود ہے جہاں کوئی کچا پکا راستہ نہیں جاتااور اطراف میں سبزہ بھرا ہےاس کے باوجود لوگ یہاں آرہے ہیں اسے دیکھنے کے لیے سیاح سبزے کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں جس سے ماحول کو دگنا نقصان ہورہا ہے۔چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل
پارک سے وابستہ ایک افسر، لیونل آرگیلو نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم ایسا کر رہے ہیں کیونکہ ہماری نظر وسائل کے تحفظ اور زائرین کی حفاظت پر مرکوز ہے کیونکہ پارک کی گہرائی میں جی پی ایس اور موبائل فون کے سگنل بہت ہی کمزور ہیں جس کے بعد زخمی یا بھٹک جانے والے افراد کی تلاش اور بحالی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری جانب درخت کے تنے کی ٹوٹ پھوٹ اور متاثرہ ہونے کا عمل بھی انسانی مداخلت سے بڑھ چکا ہے یہاں تک کہ لوگ یہاں جانے والی راہ پر جگہ جگہ کچرا پھینک رہے ہیں اور سبزے کو بطور بیت الخلا استعمال کررہے ہیں-
زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار
-

سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی
تبدیلی آگئی ہے سے لے کر سلیکٹڈ تک اور سلیکٹڈ سے امپورٹڈ تک اور اب فارن فنڈنگ سے لے کر ممنوعہ فنڈنگ تک پاکستان بطور ریاست اور 22 کروڑ عوام کہاں کھڑی ہے؟ المیہ یہ ہے کہ اس دوران ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ملک و قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔ معیشت روبہ زوال ہے۔ عوام پر مہنگائی کے بم گرائے جا رہے ہیں۔ کیا اس کو جمہوریت کا نام دیا جائے؟ پارلیمنٹ ہاؤس میں بغیر اپوزیشن کے اجلاس ہو رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے؟ نجی ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسوں کی بہار ہے پریس کانفرنسیں کرنے والوں کے گھروں میں بہار ہے مگر عام آدمی کے گھروں میں موسم خزاں ہے۔ ہوس زر اورہوس اقتدار نے ان کے ضمیر مردہ کر دیئے ہیں دولت اس طبقے کا سب سے بڑا نظریہ بن چکا ہے
سیاسی جماعتوں کا ٹکٹیں دینے کا معیار دولت ہی ہو وہاں کرپشن کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ وطن عزیز کے ہر ادارے کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ملک میں اتنا زوردار انتشار پیدا کر دیا ہے کہ جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے ۔ ایک دوسرے کو ڈاکو چور کہنے والوں سے سوال ہے کہ 75 سالوں میں اس ملک سے بجلی اور گیس کا بحران ختم کیوں نہیں ہوا کیا اس ملک کا عام آدمی اقتدار پر قابض رہا؟
اس وقت پورا ملک ذہنی دبائو کا شکار ہے۔ ملکی معیشت ہمارے سامنے ہے ہر چند کے آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو چکا مگر حکمرانوں اور بالخصوص وزیرخزانہ میں اتنی قابلیت نہیں کہ وہ ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی قسط معاہدے کے مطابق جلدی منگوا سکے۔ اس کے لئے ملک کے چیف آف آرمی سٹاف کو فون کرنا پڑا۔ موجودہ سیاسی انتشار ملک میں لیڈر شپ کا فقدان بھی ہے۔ کہاں مفتی محمود (مرحوم) کہاں ، مولانا فضل الرحمن، کہاں بے نظیر بھٹو اور کہاں آصف علی زرداری، کہاں نوازشریف اور کہاں شریف شریف، کہاں ولی خان اور کہاں آج کی اے این پی ، کہاں نواب زادہ نصر اللہ کہاں مولانا عبدالستار خان نیازی، کہاں قاضی حسین احمد، آج پاکستان سیاسی انتشار اور بحران کی اصل وجہ لیڈر شپ کا فقدان ہے جس پارلیمنٹ ہاؤس میں بینظیر بھٹو جیسی عالمی سیاسی شخصیت اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہو اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہے خدا کی پناہ کہاں سیاسی قدر آور سیاسی شخصیات اور کہاں آج کی پارلیمنٹ ۔
-

ڈر —- بلال شوکت آزاد
دنیا میں سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ڈر کا ہے اور دنیا کی ہر پراڈکٹ خواہ اس کا تعلق انسانی زندگی کی ضروریات سے ہو یا نفسیات سے, ان کے فیچرز اینڈ بینفٹس میں ڈر ایک ایسا جزو ہے جو مشترک عنصر ہے۔
مذاق نہیں آپ اسلحے سے لیکر ادویات تک کا موازنہ کریں, لباس سے لیکر خوراک تک کا موازنہ کرلیں, سیاست سے لیکر نظریات تک کا موازنہ کرلیں اور مذاہب سے لیکر عقائد تک کا موازنہ کرلیں۔ ۔ ۔ آپ کو ان سب کے موازنے میں جو چیز سب سے زیادہ ملے گی وہ ڈر ہوگی۔
مطلب دنیا کو پہلے ڈرایا جاتا ہے, بار بار بتا کر ڈر کا ماحول اور نفسیات تیار کی جاتی ہے اور پھر اپنی پراڈکٹ تھما دی جاتی ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں آپ یہ لیں اور ڈر کو بھول جائیں۔
آپ جانتے ہیں ڈر سے سب سے زیادہ فائدہ دنیا بھر کے کون سے عناصر اٹھارہے ہیں؟
ہر ملک کی افواج اور ایجنسیاں, سیاسی پارٹیز, بیوروکریسی, عدلیہ اور ماس میڈیا۔ ۔ ۔ ان کے بعد سرمایہ دار ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اجتماعی حیثیت میں وہ پہلے مذکورہ کیٹیگریز میں فال کرچکے ہیں اور پھر ان کے بعد باقی ساری دنیا کے وہ افراد اور ادارے ہیں جن کی طاقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔
انسان کو ڈر نے ایک نادیدہ دائرے میں مقید کردیا ہے اور جب آپ دائروں میں مقید ہوجاتے ہیں تب آپ کی دیکھنے, سوچنے, سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کی طاقت سلب ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ آپ پھر وہی دیکھتے, سوچتے, سمجھتے اور مشاہدہ کرتے ہیں جو آپ کو ڈرانے والے آپ کے دائرے میں بٹھا کر دکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔
اس سے زیادہ کھل کر بھی میں بیان کرسکتا ہوں اور مثال بھی دے سکتا ہوں لیکن وہ پھر بہت سے نامی گرامی ہستیوں کو گراں گزرنے کا اندیشہ ہے لہذا میرے لیے اب یہی سدرہ المنتہی ہے کہ اس سے آگے میرے پر جلنے کا شدید اندیشہ ہے لہذا تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانو۔
-

علماء کرام پر اعتراض، حقیقت کیا؟؟؟ — نعمان سلطان
اعتراض :–کیا علماء کرام قدامت پرست ہیں. اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں.
جواب :–اس اعتراض کے دو حصے ہیں.
پہلا حصہ ہم علماء کرام کو قدامت پرست کیوں کہتے ہیں.
دین اسلام آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہم تک پہنچا. کیوں کہ یہ دین اللہ پاک کا آخری اور مکمل دین ہے. اس لئے ہم نے دنیا میں زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنی ہے.
اس لئے ہمیں جب بھی کسی شرعی حکم کے بارے میں جاننا ہوتا ہے تو ہم قرآن، حدیث اور اجماع امت کو دیکھتے ہیں. اگر وہاں سے راہنمائی ملے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر علماء امت قیاس کرتے ہیں اور اس کے مطابق وقت کے علماء متفقہ طور پر شرعی مسئلے کا حل بتاتے ہیں.
یہ یاد رکھیں کہ دین کے اصول اور حکم اٹل ہیں ہم ان میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں. اور جب ہم اپنے شرعی معاملات کے حل کی راہنمائی کے لئے چودہ سو سال پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ قدامت پرستی نہیں بلکہ اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا ثبوت ہے.
اعتراض کا دوسرا اور اہم حصہ کہ علماء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں؟؟؟؟
جدید دور کے تقاضوں سے ہم عموماً مراد کپڑوں میں شلوار قمیض کے بجائے پینٹ شرٹ، زبان میں اردو اور عربی کے بجائے انگریزی، مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بجائے کسی یونیورسٹی کی ڈگری، اس کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیاں جیسے ہوٹلنگ، کوئی گیم(کھیل ) یا کوئی سیمینار وغیرہ اور اس کے علاوہ روشن خیالی (اس کی تعریف لوگوں کی نظر میں مختلف ہے اور لوگوں کا سب سے زیادہ زور بھی اسی پر ہوتا ہے ) شامل ہیں.
ابھی ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ مدارس میں اکثریت غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں. اور روشن خیالی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں اوپر گنوائی گئی وہ غریب گھرانوں کے بچے دوران تعلیم اور کسی مسجد یا مدرسے میں نوکری ملنے کے بعد بھی افورڈ ہی نہیں کر سکتے. تو وہ انہیں اختیار کیسے کریں گے.
اب جہاں تک بات روشن خیالی کی ہے. اگر وہ ممنوعات دین کے بارے میں ہے. تو جو دین کے اصول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے طے ہو گئے ان میں ہم تبدیلی نہیں کر سکتے.
لیکن بعض مقامات پر جہاں شریعت میں گنجائش یا ابہام ہے وہاں پر بعض علماء ضد میں آ کر انہیں بھی ممنوع کے درجے میں لے جاتے ہیں..اور اسی وجہ سے لوگ علماء سے متنفر ہوتے ہیں.
ان مسائل کا حل:
ابھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے سکولوں میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم لازمی ہے ایسے ہی مدرسوں میں بھی انگریزی سمیت جدید علوم کی تعلیم لازمی قرار دی جائے.ہمیں چاہیے ہم علماء کو صرف شادی بیاہ، جنازوں اور نمازیں پڑھانے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی سوشل تقریبات کا لازمی جز بنائیں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں اور علماء اور نوجوان نسل کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں.
پہلے وقتوں میں امیرالمومنین مرکزی مسجد میں خود نمازیں پڑھاتے تھے خطبے دیتے اور اہم اعلانات (جیسے اعلان جنگ وغیرہ) کرتے تھے. وہ اپنے وقت کے دین کے عالم بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے طرز عمل سے ثابت کرتے تھے کہ علماء کرام کا کام صرف امامت کرنا نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور قیادت کرنا ہے.
اس کے علاوہ مفتی حضرات کے لئے ماہرین کی مدد سے دو سال کا فزکس، بائیو اور کیمسٹری کا سپیشل کورس مرتب کیا جائے. جس میں ارتقاء، بگ بینگ اور ان سے متعلقہ نظریات اور جدید تحقیق کے بارے میں آسان اور عام فہم زبان میں انہیں بتایا جائے.
اور انہیں پابند کیا جائے جب تک آپ یہ کورس نہیں کرتے آپ صرف عالم دین ہوں گے. دینی معاملات میں فتویٰ نہیں دے سکیں گے. اور حکومت وقت کی طرف سے مساجد کے لئے چار یا پانچ درجے بنائے جائیں.
مسجد کے خادم، خطیب، قاری اور مفتی صاحب کو اچھے گریڈ میں اچھی سے اچھی تنخواہ دی جائے تا کہ وہ فکر معاش سے بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں.
مساجد اور مدارس جب تک زکوٰۃ خیرات کے پیسے پر چلتے رہیں گے وہاں سے فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی.. حکومت کو تمام دینی مدارس اور مساجد کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے. اور مدارس میں علماء کے ساتھ ساتھ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کو بھی طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر بھرتی کرنا چاہیے.ان تمام اور ان جیسے دیگر اقدامات سے جو مدارس سے علماء کی کھیپ تیار ہو گی وہ لازمی پراعتماد اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گی.