Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اس نیلے آسمان تلے آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے. اور نا ہی سب کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں لیکن سب کو مطمئن تو کیا جا سکتا ہے.

    اپنے اچھے اخلاق، عمدہ زبان اور میٹھے بول سے. ہر شخص غصے سے بھرا ہے. ہر ایک جانی انجانی. آفات میں گھرا ہوا ہے. ہر کوئی اپنے اندر ایک لاحاصل جنگ لڑ رہا ہے.

    تو ایسی صورتحال میں ضرورت ہے. زخموں پر مرہم رکھنے کی نا کہ نمک چھڑکنے کی. دنیا پیار محبت کی بھوکی ہے. ہر ایک عزت پانا چاہتا ہے… ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کا احترام کیا جائے.

    تو اگر ہمارے میٹھا بولنے سے. یا گالی سن کر مسکرانے سے. یا لڑائی میں حق پر ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹ جانے سے. یا کھیل میں جیت کر ہارنے والے کو گلے لگانے سے یا ناراض رشتہ دار کو منانے سے. بہت بڑے فساد سے بچا جا سکتا ہے.

    یا اگر آپ کی ہار سے کوئی جیت جاتا ہے . تو ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں. یقین کیجئے ایسا کرنے کے بعد بھی آپ مرد ہی رہیں گے. آپ کی مردانگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا.

    ہاں اپنے اس فعل سے آپ اپنے مقابل کا دل ضرور جیت لیں گے. اپنے اندر صبر و تحمل اور برداشت کو جگہ دیجئیے. یہ تینوں مل کر آپ کے اخلاق کو سنواریں گی اور اچھے اخلاق سے آپ دنیا کی کوئی بھی جنگ بغیر لڑائی کیے جیت سکتے ہیں.

    جھگڑے کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے اور نا ہی ضد کبھی جیتتی ہے. پھل پانا چاہتے ہیں تو ہلکا سا جھک جائیں. اور فراخدلی کے ساتھ . دلوں کو جیتنا سیکھیں.. آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے.

    لوگ نجانے نفرتوں کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں جب کہ محبتوں اور چاہتوں کے لیے تو یہ زندگی بہت چھوٹی ہے.

  • ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں (کارٹ وہیل گلیکسی) اور اس کے مرکزی بلیک ہول کی نئی رنگین تصویر کھینچی ہے۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصاویر جاری کی گئی تھیں اور اب اس نے ایک ایسی نئی رنگین تصویر کھینچی ہے جو زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود پہیے نما کہکشاں کی ہے۔


    رپورٹس کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری کردہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی تصویر سے ستارے کی تشکیل اور کہکشاں کے مرکزی بلیک ہول کے بارے میں نئی ​​تفصیلات سامنے آئیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے Near-Infrared Camera (NIRCam) کیمرے کے ذریعے لی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 50 کروڑ نوری سال کے فاصلےپرواقع کہکشاں کی ظاہری شکل ویگن کےپہیے کی طرح ہے جبکہ اس کے قریب ہی 2 چھوٹی کہکشائیں بھی موجود ہیں۔


    کہاجاتا ہے کہ جب کہکشائیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کی شکل اور ساخت بدل سکتی ہیں،کارٹ وہیل گلیکسی بھی بڑی اور ایک چھوٹی کہکشاں کے ٹکرانے کی وجہ سے وجود میں آئی۔

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کارٹ وہیل گلیکسی اندرونی اور بیرونی 2 رنگین رِنگز(گول شکل) پر مشتمل ہے ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ہبل ٹیلی اسکوپ بھی کارٹ وہیل گلیکسی کی تصویر لے چکی ہے لیکن دھول کی وجہ سے اس نے کہکشاں کے منظر کو دھندلا دیا تھا۔چونکہ جیمز ویب ایک انفراریڈ ٹیلی اسکوپ ہے، جو انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والی روشنی کو دیکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ نئی تصویر حاصل کرنے کیلئے اس کا استعمال کیا گیا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    دوسری جانب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے-

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے اور کینیڈین اسپیس ایجنسی (سی ایس اے) کا 10 ارب ڈالرز کی لاگت کا مشترکہ منصوبہ ہے جیمز ویب کا مقصد کائنات کےابتدائی دنوں (تقریباً ساڑھے 13 ارب سال) پہلے روشن ہونے والے ستارے کی کھوج لگانا ہے-

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو 2021 کے آخر میں خلا میں بھیجا گیا تھاخلائی دوربین جیمز ویب کا منصوبہ 30 سال کے عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچا اور اسے رواں صدی کے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    جیمز ویب کی نمایاں خصوصیات میں اس کا سب اہم حصہ 6.5 میٹر کے حجم کا آلہ انعکاس (Mirror) ہے جو کہ31 سال قبل بھیجی گئی ٹیلی اسکوپ ’ہبل‘ کے آلہ انعکاس سے 3 گنا بڑا ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

  • برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی:سوئیڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے دنیا بھر میں موجود برساتی پانی پر لیبارٹری تجربات اور فیلڈ ورک کی تحقیق کی گئی جسے انوائرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا-

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین پر موجود برساتی پانی انسانی ساختہ خطرناک کیمیکلز کے باعث کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہا ہےکبھی زائل نہ ہونے والے انسانی ساختہ کیمیکلز (Forever Chemicals) برساتی پانی کو گدلا کر دیتے ہیں اور یہ کیمیکلز انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف انڈسٹریل علاقے ہی نہیں بلکہ یہ کیمیکلز انٹارکٹیکا اور تبت جیسے دور دراز اور ویران علاقوں میں بھی بارش کے پانی اور برف میں پائے گئے ہیں یہ انسانی ساختہ کیمیکل پر فلورواکائیل اور پولی فلورواکائیل سبسٹینسز (Perfluoroalkyl and polyfluoroalkyl substances (PFAS)) فائر فائٹنگ فوم، کھانا بنانے کے برتنوں کی نان اسٹک کوٹنگ، اور ٹیکسٹائل میں استعمال ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کو خودکار طریقے سے زائل ہونے میں ہزار سال لگ سکتے ہیں اور ان کیمیکلز پر ہونے والی سالوں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ماحولیات میں موجود مضر صحت پی ایف اے ایس کیمکلز زائل نہیں ہو رہے، اس کا سبب ان کیمیکلز کے زائل ہونے کی طویل مدت اور وہ قدرتی سائیکل ہے جو انہیں بارشوں کے ذریعے واپس ماحولیات میں لے آتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    ماہرین کے مطابق برسات کا پانی دنیا کے کافی حصوں میں پینے کے لائق صاف پانی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ پانی انسانی ساختہ کیمیکلز کی وجہ سے آلودہ ہو کر مضر صحت بن جاتا ہے اور انسانوں میں کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن جاتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ہم دھرتی کے فطری ماحولیات کی حدود کو کراس کر چکے ہیں اور دھرتی پر کوئی ایک ایسا مقام موجود نہیں جہاں ایک انسان ان کیمیکلز کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہ سکے۔

    اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ بارش کے پانی میں ان کیمیکلز کی سطح "اب ہر جگہ گائیڈ لائن کی سطح سے اوپر ہے”۔

    "پچھلے 20 سالوں میں پینے کے پانی میں پی ایف اے ایس کے رہنما اصولوں میں حیران کن کمی آئی ہے،” ایان کزنز، مطالعہ کے سرکردہ مصنف اور اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر نے کہا مثال کے طور پر، پی ایف اے ایس کلاس میں ایک معروف مادے کے لیے پینے کے پانی کی گائیڈ لائن ویلیو، یعنی کینسر کا باعث بننے والا پرفلووروکٹانوک ایسڈ (PFOA)، امریکہ میں 37.5 ملین گنا کم ہوا ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پینے کے پانی میں PFOA کے لئے تازہ ترین امریکی رہنما خطوط کی بنیاد پر، ہر جگہ بارش کے پانی کو پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جائے گا۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    موجودہ وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے جہاں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے مسافروں کا سفری بجٹ بھی متاثر ہوا ہے جن لوگوں کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ ہے ان کی اکثریت نے مہنگائی سے تنگ آکر سفر کے لئے مسافر گاڑیوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا جبکہ جو لوگ مسافر گاڑیاں استعمال کرتے تھے ان کی اکثریت نے لانگ روٹ کے سفر کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال شروع کر دیا.

    کچھ عرصہ پہلے لوگوں کی سفر کے لئے پہلی ترجیح ریل گاڑی ہوتی تھی کیونکہ ریل گاڑی میں عام مسافر گاڑیوں کی نسبت زیادہ سہولیات فراہم کی جاتی تھی. ریل میں دوران سفر اگر آپ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے تو گاڑی میں چہل قدمی کر سکتے ہیں دوران سفر بچے ایک جگہ مستقل نہیں بیٹھتے ہیں اور والدین کو تنگ کرتے ہیں ریل میں وہ آزادی سے کھیل کود سکتے ہیں. اس کے علاوہ ٹوائلٹ کی سہولت بھی میسر ہے.

    دوران سفر ٹرین مختلف اسٹیشنوں پر رکتی ہے وہاں سے آپ اپنی ضروریات کی چیزیں لے سکتے ہیں اس کے علاوہ ٹرین میں بھی لوگ اشیاء بیچنے وقفے وقفے سے آتے رہتے ہیں جن سے آپ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں. ٹرین میں برتھ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے اگر آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں تو برتھ بک کرا لیں اور راستے میں جہاں آرام کی ضرورت محسوس کریں برتھ پر لیٹ کر آرام دہ نیند سے لطف اندوز ہوئیں.

    اس کے علاوہ مسافروں کی استطاعت کے مطابق ٹکٹ اکانومی کلاس، اے سی اور بزنس کلاس میں بھی میسر ہے. مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے ریلوے پولیس کی سہولت بھی میسر ہے.اس کے علاوہ بزرگ شہریوں اور بچوں کے لئے ٹکٹوں کی قیمت میں رعایت اور متعدد سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے پاکستان ریلوے کو دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر واضح فوقیت حاصل تھی اور عرصہ دراز تک لوگوں کی پرسکون سفر کرنے کے لئے اولین ترجیح پاکستان ریلوے ہی رہی ہے.

    پھر جیسے دن کے بعد رات اور خوشی کے بعد غمی ہوتی ہے ایسے ہی پاکستان ریلوے کو بھی حاسدوں کی نظر اور دیگر پرائیویٹ کمپنیوں کی سازش کھا گئی. کیوں کہ جب تک پاکستان ریلوے میں دستیاب سہولیات انتہائی مناسب پیسوں میں میسر تھی دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی تھی اور سرمایہ کاروں کی انویسٹمنٹ ڈوب سکتی تھی سرمایہ کاروں کے سینے میں دل نہیں بلکہ کیلکولیٹر ہوتا ہے وہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ نفع نقصان دیکھ کر کرتے ہیں.

    تو سرمایہ کاروں نے پاکستان ریلوے کو اپنی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سازشیں شروع کی سب سے پہلے دودھ کی راکھی پر بلا بٹھایا اور پاکستان ریلوے کی وزارت ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ کے حوالے کر دی جس نے ریلوے کی تباہی کی بنیاد رکھ دی اور اس کے دور وزارت میں ہر گزرتے دن ریلوے کا معیار بدتر سے بدتر ہوتا گیا.

    وقت پر ٹرینوں کا منزل پر نہ پہنچنا، پرانے انجن اور ڈبے، مشینری میں گھٹیا پرزوں کے استعمال کی وجہ سے دوران سفر ٹرینوں کا خراب ہونا، پٹریوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا ہونا، ریلوے عملے پر سے چیک اینڈ بیلنس ختم کرنے کی وجہ سے عملے کا بے لگام ہونا، سیاسی اور ضرورت سے زائد افراد کی بھرتیاں، سہولیات کی عدم دستیابی، شکایات کی صورت میں شکایت کنندہ کی دادرسی نہ کرنا، ریلوے اراضی پر قبضہ کر کے اونے پونے داموں فروخت کرنا الغرض جہاں تک ممکن تھا پاکستان ریلوے کا نقصان کر کے ایک انتہائی نفع بخش ادارے کو خسارے میں لے جایا گیا.اور مسافر ٹرین کے سفر سے متنفر ہو کر نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیوں پر سفر کرنے لگ گئے.

    موجودہ مہنگائی کی جو لہر آئی ہے اس میں سفر کرنے کے لئے ٹرین کا سفر ہی ایک متوسط طبقے کے فرد کے لئے مناسب ہے اور گورنمنٹ کے لئے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ دوبارہ سے سہولیات کی فراہمی کر کے، لوگوں کی شکایات دور کر کے اور ٹرینوں کے منزل پر پہنچنے کے اوقات کی سختی سے پابندی کرا کے مسافروں کو دوبارہ سے ٹرین کے سفر کی طرف راغب کر سکتی ہے اس طرح جہاں متوسط اور غریب طبقے کے افراد کو سفری سہولیات حاصل ہوں گی وہیں گورنمنٹ کا ادارہ بھی نقصان سے دوبارہ نفع میں چلا جائے گا اور گورنمنٹ کی طرف سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کے جو سفری اخراجات بڑھے تھے وہ بھی دوبارہ قابو میں آ جائیں گے.اور لوگوں کو حکومت سے جو شکایات پیدا ہوئی ہیں ان کا بھی کسی حد تک ازالہ ہو جائے گا.

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی  نشاندہی

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے۔

    اس عمل کو "سُپر نووا” کہتے ہیں ناسا ماہرین کے مطابق "سُپر نووا” کے نام سے جانا جانے والا یہ عمل وہ موقع ہوتا ہے جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے اس کے سبب دباؤ کم ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے اجرامِ فلکی ہمارے سورج کی نسبت پانچ گُنا زیادہ پھیل جاتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہےاس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں ٹن ملبہ اور ذرّات کا اخراج ہوتا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے مائیک انگیسر کا کہنا تھا کہ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نئے ختم ہوتے ستاروں کو ڈھونڈنے یا ان کی نشاندہی کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    اس سال 29 جون کو، زمین نے ایک غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا، دن کے دورانیے کی پیمائش کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 29 جون کو زمین کا 24 گھنٹے کا ایک عمومی چکر 1.59 ملی سیکنڈ پہلے مکمل ہواجس کے بعد گھڑیوں اور زمین کے چکر کے درمیان مطابقت رکھنے کے لیے ’لِیپ سیکنڈ‘ کا خیال تقویت پا رہا ہےلیپ سیکنڈ کے تحت بین الاقوامی ایٹمی وقت اور شمسی وقت کے درمیان تفریق کو ایک سیکنڈ کی آہنگی سے ختم کیا جاتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوگا جب عالمی سطح پر گھڑیوں کو تیز کیا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    یہ بات سائنس دانوں کےعلم میں ہےکہ زمین کی گردش کی رفتار میں کمی آئی ہے پچھلے کچھ سالوں میں ریکارڈز میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، جس میں چھوٹے دنوں کو زیادہ کثرت سے نوٹ کیا جا رہا ہے 1970 کی دہائی سے اب تک ایٹمی وقت کو درست رکھنے کے لیے 27 بار لیپ سیکنڈز کے استعمال کی ضرورت پیش آئی ہے۔ آخری بار 2016 میں سال کے آخری دن لیپ سیکنڈ کا سہارہ لیا گیا تھا جب ایک سیکنڈ کے لیے گھڑیاں روکی گئیں تھیں تاکہ زمین کے وقت کے ساتھ ہم آہنگی کی جاسکے۔

    لیکن 2020 سے یہ عمل الٹا ہوگیا ہے 29 جون سے قبل مختصر ترین دن 2020 میں 19 جولائی کا تھا جب زمین نے ایک چکر 1.47 ملی سیکنڈز پہلے مکمل کرلیا گیا تھا انسان اس فرق کو محسوس نہیں کر پاتے لیکن یہ سیٹلائٹ اور سمت شناسی کے نظاموں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا زمین کے محور کے گرد چکر میں تبدیلی سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دن کے دورانیے میں تبدیلی کی ایک وجہ موسم سرما میں شمالی ہیمسفیئر کی پہاڑیوں پر جمع ہونے والی برف بھی ہوسکتی ہے جو گرمیوں پگھل جاتی ہے۔

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    تو کیا دنیا تیز ہو رہی ہے؟ طویل مدت کے دوران – ارضیاتی ٹائم اسکیلز جو ڈائنوسار کے عروج اور زوال کو پلک جھپکتے میں دباتے ہیں – زمین درحقیقت پہلے سے کہیں زیادہ آہستہ گھوم رہی ہے۔ گھڑی کو 1.4 بلین سال پیچھے کریں اور ایک دن 19 گھنٹے سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔ اوسطاً، پھر، زمین کے دن چھوٹے ہونے کی بجائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں، ہر سال ایک سیکنڈ کے تقریباً 74,000ویں حصے سے۔ چاند زیادہ تر اثر کے لئے ذمہ دار ہے: کشش ثقل کی ٹگ سیارے کو تھوڑا سا مسخ کرتی ہے، جو سمندری رگڑ پیدا کرتی ہے جو زمین کی گردش کو مسلسل سست کرتی ہے۔

    گھڑیوں کو سیارے کے چکر کے مطابق رکھنے کے لیے، اقوام متحدہ کی ایک باڈی انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے جون یا دسمبر میں کبھی کبھار لیپ سیکنڈز کا اضافہ کیا ہے پہلا لیپ سیکنڈ 1972 میں شامل کیا گیا تھا۔ اگلا موقع دسمبر 2022 میں ہے، حالانکہ زمین اتنی تیزی سے گھوم رہی ہے، اس کی ضرورت کا امکان نہیں ہے۔

    اگرچہ زمین طویل مدت میں سست ہو رہی ہے، لیکن مختصر اوقات میں صورتحال مزید خراب ہے۔ زمین کے اندر ایک پگھلا ہوا کور ہے۔ اس کی سطح بدلتے ہوئے براعظموں، پھولتے ہوئے سمندروں اور معدوم ہونے والے گلیشیئرز کا ایک مجموعہ ہے۔ پورا سیارہ گیسوں کے ایک موٹے کمبل میں لپٹا ہوا ہے اور یہ اپنے محور پر گھومتے ہی لرزتا ہے۔ یہ تمام چیزیں زمین کی گردش کو متاثر کرتی ہیں، اسے تیز کرتی ہیں یا اسے سست کرتی ہیں، حالانکہ تبدیلیاں بنیادی طور پر ناقابل تصور ہیں۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ناسا کے مطابق، ال نینو سالوں میں تیز ہوائیں سیارے کی گردش کو کم کر سکتی ہیں، جس سے دن کو ملی سیکنڈ کے ایک حصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، زلزلوں کا اثر الٹا ہو سکتا ہے۔ 2004 کے زلزلے نے جس نے بحر ہند میں سونامی کو جنم دیا تھا اس نے اتنی چٹان کو منتقل کر دیا کہ دن کی لمبائی تقریباً تین مائیکرو سیکنڈ تک کم ہو گئی۔

    کوئی بھی چیز جو زمین کے مرکز کی طرف بڑے پیمانے پر حرکت کرتی ہے وہ سیارے کی گردش کو تیز کرے گی، جیسا کہ ایک گھومنے والا آئس سکیٹر جب اپنے بازوؤں میں کھینچتا ہے تو اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ ارضیاتی سرگرمی جو بڑے پیمانے پر مرکز سے باہر کی طرف دھکیلتی ہے اس کا الٹا اثر پڑے گا اور اس کا گھماؤ سست ہو جائے گا-

    یہ تمام مختلف عمل ایک دن کی طوالت کو متاثر کرنے کے لیے کیسے اکٹھے ہوتے ہیں، یہ ایک سوال ہے جس کا جواب سائنسدان ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر چھوٹے دنوں کا رجحان طویل عرصے تک جاری رہتا ہے، تو یہ پہلی "منفی لیپ سیکنڈ” کے لیے کالز کا باعث بن سکتا ہے۔ گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کرنے کے بجائے، شہری وقت تیزی سے گھومنے والے سیارے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سیکنڈ چھوڑ دے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کے اپنے نتائج ہو سکتے ہیں، کم از کم اس بحث کو دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہیے کہ آیا، 5000 سال سے زیادہ کے بعد، سیارے کی حرکت کے ذریعے وقت کی وضاحت ایک ایسا خیال ہے جس کا وقت گزر چکا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

  • عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ملکی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو امریکہ مخالف بیانیہ آزمایا ہوا فارمولا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اسی فارمولے پرعوام سے ووٹ حاصل کرتی رہیں ۔ جب بھی کسی حکومت کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تو وہ سیاسی جماعت امریکہ اور اسٹیبلشمنت کو نشانے پرلیتی ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی وہی فارمولا اپنایا ۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا المیہ رہا ہے جب انکے مفادات کی بات آتی ہے تووطن عزیز کے سیاسی ومذہبی اداکار اخلاقی اورجمہوری اقدار کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرز سیاست نے سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ۔ اس کی مثال پیپلزپارٹی کی دی جا سکتی ہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو کررہ گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چل کر ملک کی مقبول ترین جماعت مسلم لیگ(ن) جس کی آبیاری نواز شریف نے کی تھی بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کو شکست دینا ناممکن تھا ۔ شہبازشریف اور اُن کے قریبی چند ساتھیوں کی طرز سیاست کی وجہ سے اس جماعت کو پنجاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہباز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کو عارضی فائدے تو مل گئے لیکن ان کی جماعت کو شدید دھچکا لگا ۔

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آمدہ قومی انتخابات میں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے نئی حکمت عملی تیار کرلی اور اس نئی حکمت عملی کے کرداروں میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہی ہیں بلاشبہ چوہدری خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مگر پنجاب کی وزارت اعلی چوہدری پرویز الہی کے پاس ہے جو مسلم لیگ (ن) کے لئے سیاسی طور پر اچھا شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ پنجاب کو فتح کرنے کے لیے اور آمدہ قومی انتخابات میں کامیابی کے لئے شہباز شریف اوران کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں کوئی بھی ایسی کرشماتی شخصیت نہیں جو عمران خان کے بیانیے پر حاوی ہو سکے ۔ اگر نواز شریف وطن آتے ہیں تو شاید کوئی اس جماعت کو کامیابی حاصل ہو، مریم نواز نے اس جماعت کی مقبولیت کو بچانے کی بہت کوشش کی اور کررہی ہے تاہم نواز شریف آج بھی پنجاب میں مقبول ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    حکومت پی ڈی ایم کی ہے لیکن معاشی بحران مہنگائی کا ملبہ نواز لیگ پر پڑ رہا ہے اس بحران کو حل کرنے کے لیے نواز شریف کے پاس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجود تھے مگر شہباز شریف ان کی پاکستان آمد کا راستہ ہموار کرنے میں ناکام رہے ۔ رہی بات عوام کی جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں عوام کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

  • اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    عناب: جادوئی دوا

    عناب ایک مشہور پھل ہےجو بیر کی مانند گول ہوتا ہے اس لئے اسے عناب کا بیر کہا جاتا ہے، یہ پھل جب کچا ہوتا ہے تو ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور پکنے کے بعد اس کا رنگ سرخ اور جامنی ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک لو کیلوری فروٹ ہے جس کا ذائقہ میٹھا اور سیب سے ملتا جلتا ہوتا ہے،

    اچھا عناب سرخ ، گودےوالا ، میٹھا اور اندر سے کیڑے کے بغیر ہوتا ہے۔

    عناب کو چینی کھجور بھی کہا جاتا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے
    لیکن پکانےاورسکھانے سے اس کی
    افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    اس کو بطور میوہ کھایاجاتا ہے۔ عناب کو بطور دوابھی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
    اس پھل کا استعمال نیا نہیں بلکہ یہ پھل 4000 سال سے ہربل دوائیں بنانے کے لئے چین میں کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے لیکن پکانے اور سکھانے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اس سے شربت عناب بنایا جاتا ہے۔
    عناب ایک ایسی قدرتی خزانوں سے مالا مال جڑی بوٹی ہے جس کے بہت زیادہ فائدے ہیں،
    جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

    خون کی بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے:
    ایسے افراد جو آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور آئرن کے سپلیمنٹ کھاتے ہیں یا خون کی کمی کے باعث تھکان ،ذہنی اور جسمانی کمزوری اور اعصابی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں انھیں اسکا استعمال کرنا چاہئے کیوں کہ اس میں فاسفورس اور آئرن وافر مقدار میں ہوتا ہے۔

    جسم سےزہریلےمادوں کو خارج کرتا ہے:
    غیر ضروری مادوں سے پاک کرتا ہے۔

    خون کی حدّت کو کم کرتا ہے:
    جن لوگوں کا خون گرم ہوتا ہے ان کی جلد پر دانے نمودار ہو جاتے ہیں،

    ایسے میں طرح طرح کی کریمیں استعمال کرنے سے دانے نکلنا بند نہیں ہوتے بلکہ جلد مزید خراب ہو جاتی ہے ایسی صورتحال میں عناب کے دس سے بارہ دانے پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پیا جائے تو خون کی گرمی کم ہوتی ہے اور چہرے پر تازگی آتی ہے۔

    چونکہ یہ وٹامن سی ،اے اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ موسمی بخار ،سردی، اور خشک اور بلغمی کھانسی سے بھی بچاتا ہے۔

    یہ گلے کی سوزش کو دور کرتا ہے،زکام کے باعث بیٹھی آواز کو جلد بہتر کرتا ہے۔

    عناب کا قہوہ وزن کم کرنے میں معاون:
    عناب کا جوشاندہ نزلہ اور کھانسی میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    دو گلاس عناب میں دو چمچ عناب،ایک دار چینی کا ٹکڑا، پانچ لونگ ڈال کر جوش دیا جائے اور اوپر سے شہد ڈال کر پیا جائے تواس قہوہ کے استعمال سے موسمی فلو سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے اس کو وزن کم کرنے کے لئےروز رات کے کھانے کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پیٹ کے امراض میں مفید:
    قبض اور پیٹ کے دیگر امراض میں یہ پھل انتہائی مفید ہے ۔خشک عناب کا پاؤڈر ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور بھوک کھولتا ہے۔

    اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے:
    یہ پھل اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے ایسے افراد جو کسی مستقل پریشانی ،صدمہ یا غم کا شکار ہوں اور ان کے اعصاب کمزور ہو گئے ہوں عناب کے مستقل استعمال سے ان کو فرحت ملے گی۔اس لئے اسے اینٹی ڈیپریسنٹ بھی کہا جاتا ہے۔