Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    سائنسدانوں نے انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن وبا سیاہ موت یا ببونک طاعون کے آغاز کا معمہ لگ بھگ 700 سال بعد حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دی گارجئین کی رپورٹ کے مطابق محققین کا خیال ہے کہ انہوں نے بلیک ڈیتھ کی ابتدا کا تقریباً 700 سال پرانا معمہ حل کر لیا ہے، جو کہ ریکارڈ شدہ تاریخ کی سب سے مہلک وبا ہے، جو 14ویں صدی کے وسط میں یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ میں پھیلی تھی اور کروڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    ویسے تو طاعون اس سے بھی زیادہ پرانا مرض ہے مگر 14 ویں صدی میں اس کی ایک قسم ببونک طاعون نے تباہی مچائی تھی اور ممکنہ طور پرتجارتی راستوں کے ذریعے ایک سے دوسرے خطے تک پہنچی اس وقت سے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اس وبا کا آغاز کہاں سے ہوا مگر ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث جواب نہ مل سکا۔

    مگر اب سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ہم نے وبا کے آغاز کے مقام کو تلاش کرلیا ہے جس کو انہوں نے حیران کن دریافت قرار دیا ہے لیپزگ میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات کے پروفیسر جوہانس کراؤس نے کہا کہ ہم نے بنیادی طور پر وقت اور جگہ میں اصل کا پتہ لگایا ہے، جو واقعی قابل ذکر ہے ہمیں نہ صرف بلیک ڈیتھ کا آباؤ اجداد ملا ہے، بلکہ طاعون کی اکثریت کا اجداد بھی ملا ہے جو آج دنیا میں گردش کر رہے ہیں۔

    سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے مل کر اس وقت کام شروع کیاجب اسٹرلنگ یونیورسٹی کےایک تاریخ دان ڈاکٹر فلپ سلوین نے کرغزستان کےایک علاقے میں 1330 کی دہائی کے اواخر میں جدید دور کے شمال میں اسیک کل جھیل کے قریب دو قبرستانوں میں اموات میں اچانک اضافے کے شواہد دریافت کیے۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    1248 اور 1345 کے درمیان 467 مقبروں کے پتھروں میں سے، سلاوین نے موت میں بہت زیادہ اضافہ کا پتہ لگایا، 118 پتھروں کی تاریخ 1338 یا 1339 تھی۔ کچھ مقبروں پر لکھی ہوئی

    لیک اسیک کول نامی علاقے کے 2 قبرستانوں میں 1248 سے 1345 کے درمیان کے 467 کتبوں کا مشاہدہ کرنے پر ڈاکٹر فلپ نے دریافت کیا کہ 1330 کی دہائی میں وہاں اموات کی شرح میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا 1338 یا 1339 صدی عیسوی کے 118 کتبے وہاں موجود تھے کچھ کتبوں پر تحریروں میں موت کی وجہ "موتنا” کے طور پر ذکر کی گئی تھی، جو کہ "پیسٹیلنس” کے لیے شامی زبان کی اصطلاح ہے-

    اس مقام پر مزید تحقیق سے انکشاف ہوا کہ 1880 کی دہائی میں اس علاقے میں کھدائی کے دوران 30 ڈھانچوں کو قبروں سے نکالا گیا تھا اس کھدائی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دورانچھ باقیات کا سراغ لگایا اور انہیں نے ڈھانچوں کی کچھ باقیات کو دریافت کیا ڈائریوں کا مطالعہ کرنے کے بعد،قبرستانوں کے مخصوص مقبروں سے جوڑ دیا۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    اس کے بعد یہ تفتیش قدیم ڈی این اے کے ماہرین کے حوالے کر دی گئی، جن میں کراؤس اور جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبنگن میں ڈاکٹر ماریا سپائرو شامل ہیں جرمنی کے قدیم ڈی این اے کی جانچ پڑتال میں مہارت کرنے والے سائنسدانوں نے 7 ڈھانچوں کے دانتوں میں موجود جینیاتی مواد کا جائزہ لیا ان میں سے 3 میں Yersinia pestis نامی بیکٹریم کے ڈی این اے کو دریافت کیا گیا جو ببونک طاعون کا باعث بنتا ہے۔

    بیکٹریم کے جینوم کا مکمل تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی بیکٹریم سے طاعون کی وہ قسم بنی تھی جو کرغزستان سے 8 سال بعد دنیا بھر میں پھیل گئی تھی اس وبا کےنتیجےمیں براعظم یورپ کی 50 فیصد آبادی ہلاک ہوگئی تھی اب طاعون کی اس قسم سے ملتی جلتی قسم کرغز ستان کے چوہوں میں پائی جاتی ہےجبکہ لوگ اب بھی بوبونک طاعون سےمتاثر ہوتے ہیں، مگر اب بہتر حفظان صحت کی وجہ سے لوگوں میں اس جان لیوا بیماری کے کیسز کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں 2010 سے 2015 کے دوران اس بیماری کے 3248 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 584 مریض ہلاک ہوگئے تھے اس کو سیاہ موت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد کے مختلف اعضا جیسے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں سیاہ ہوجاتے تھے-

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    مصر میں ایک عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش ہوئی جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ عجیب وغریب واقعہ مصر کی غربیہ گورنری کے السنطہ سینٹر کے گاؤں رجبیہ میں سامنے آیا گاؤں میں 3 آنکھوں، دو جبڑوں، دو زبانوں، دو کان اور ایک دماغ والے بچھڑے کی پیدائش پر لوگ حیران ہیں۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    بچھڑے کا سر تو ایک ہی ہے مگر اس کی تین آنکھیں اور دو زبانیں ہیں پیدائش کے بعد بچھڑے کو ایک ہفتے تک نگرانی میں رکھا گیا۔ دو زبابوں کی وجہ سے اسے کوئی چیز پینے یا نگلنے میں دشواری کا سامنا تھا۔

    غربیہ میں ویٹرنری میڈیسن کے ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ کیس جنین کی غیر معمولی نشوونما کی وجہ سے ہوا ہے ماں گائے کسی بھی پیدائشی نقص کا شکار نہیں تھی اس حالت کی اصل وجوہات کا سائنسی طریقے سے پتا چلانے کے لیے الحال مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    قبل ازیں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے راج نند گاؤں میں گائے نے تین آنکھوں والے بچھڑے کو جنم دیا تھا عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش کی خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی تھی اور لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے جبکہ کچھ لوگوں نے اس کی پوجا بھی شروع کردی تھی مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ علاقہ میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے جس میں ایک بچھڑا تین آنکھوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

  • امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    نائن الیون کے واقعے نے دنیا کا سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ افغانستان میں امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کو خطے کے کسی بھی ملک سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے 80,000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تقریباً 150 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ بڑی قربانیوں اور بھاری نقصان کے باوجود، امریکہ اور مغرب نے ہمیشہ ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے حملوں کی زد میں رہا۔

    دوسری جانب امریکا نے 2004 سے 2018 تک پاکستان کے اندر ڈرون حملے کیے ہیں جن میں سیکڑوں بے گناہ شہری مارے گئے۔ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد جب امریکا کو معلوم ہوا کہ وہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتے تو امریکا نے پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست کی تھی۔ پاکستان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دسمبر 2018 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جس نے 2020 کے امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔ پاکستان نے نہ صرف افغانستان میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے بلکہ ملک میں دو دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی حمایت بھی کی ہے۔ .

    پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن آئے گا۔پاکستان چین کے پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک میں اقتصادی ترقی، تجارت اور رابطے چاہتا ہے جو خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اگرچہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا۔ طالبان کی جانب سے پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر متعدد بار باڑ لگانے سے پاکستان میں غصہ پیدا ہوا ہے لیکن پاکستان نے پرسکون اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔ دوسری جانب پاکستان دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے اور افغانستان کی تباہ کن صورتحال کو بچانے کے لیے افغانستان کو معاشی مدد کرے۔یہ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے اور افغانستان میں امن کی کوششیں جاری رکھے۔

    دسمبر 2021 میں، پاکستان نے افغانستان کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کے لیے افغانستان پر ایک روزہ OIC اجلاس کی میزبانی کی، جس میں چین، امریکا، روس، اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ. پاکستان ہمیشہ اقتصادی رابطوں اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتا ہے جو خطے بالخصوص افغانستان میں امن و سلامتی لانے کی بنیاد ہے سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکی بلاک میں تھا اور روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے۔ اب پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اعلیٰ سطح پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے روس کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری واضح طور پر روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغرب نے پاکستان پر روس کی مذمت کے لیے دباؤ ڈالا لیکن پاکستان نے کسی کا ساتھ نہیں لیا اور امید ظاہر کی کہ "سفارت کاری فوجی تنازعہ کو ٹال سکتی ہے”۔ پاکستان یوکرین میں پرامن اور مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ اب پاکستان دوسرے تنازعات یا جنگوں میں الجھنا نہیں چاہتا۔پاکستان امریکہ، روس، مغرب اور باقی دنیا کے ساتھ باہمی احترام اور بغیر کسی نقصان کے اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت اور افغانستان کی صورتحال کی بدلتی ہوئی متحرک صورت حال پاکستان کے لیے تمام علاقائی اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے بغیر کسی بلاک میں شامل ہوئے یا تیسرے ملک کے تنازع میں ملوث ہوئے پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بین الاقوامی تنازع کا فریق نہیں بنے گا بلکہ امن میں شراکت دار بنے گا۔ پاکستان ہمیشہ بھارت کے ساتھ باہمی ،خوشگوار اور پرامن تعلقات چاہتا ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بارہا کہا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔ لیکن یہ خواہش بھارت کے جارحانہ رویے کی وجہ سے پاکستان اپنے وعدوں تک نہ پہنچ سکی۔

    2019 میں جب پاکستان نے اپنے مگ 21 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بعد ہندوستانی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو پکڑ لیا، تو اسے جذبہ خیر سگالی کے طور پر اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اس بڑے قدم سے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو دیکھ سکتے ہیں جہاں لوگ اچھا وقت گزار رہے ہیں، کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری بار جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ سال 25 فروری 2021۔ 18 سالوں میں پہلی بار بین الاقوامی سرحد پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک بار پھر 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے انتظامات کا عہد کیا تھا اور ان ‘بنیادی مسائل’ کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا جو "امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں”۔ امن اور ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششیں نئی ​​نہیں ہیں اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے 1970 کی دہائی میں چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جب 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دورہ چین کا اہتمام پاکستان نے کیا تھا۔ چین کے دورے پر 2022 کے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان چین اور امریکا کو ساتھ لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ’’ایک اور سرد جنگ‘‘ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو اس نے 1970 کی دہائی میں ادا کیا تھا جب اس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پاکستان نے نہ صرف اپنی سابقہ ​​حکومت بلکہ موجودہ حکومت میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہماری ثالثی نہیں رکی اور ہم آہستہ آہستہ ترقی کر رہے ہیں۔اب پاکستان نے 22-23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48 اجلاس "اتحاد، انصاف، امن، سلامتی اور ترقی کے لیے شراکت داری” کے لیے بلائے تھے۔ پاکستان ہمیشہ OIC کو مسلم دنیا کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ او آئی سی کی اس کانفرنس میں پاکستان نے کشمیر، فلسطین اور افغان انسانی بحرانوں کے پرامن حل کے لیے حمایت کا مطالبہ کیا۔او آئی سی کانفرنس کا ایک اور پہلو ’اسلامو فوبیا‘ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا کیونکہ یہ قدم پاکستان نے اٹھایا تھا۔

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران یہ اقدام اٹھایا، جس کے نتیجے میں ‘اسلامو فوبیا’ کو مذہبی اور نسلی امتیاز کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ روس اور چند دیگر ممالک نے پاکستان کی کوششوں اور اس کے موقف کی تائید کی ہے۔ اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا ہے۔ پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کے کردار کو بیرون ملک اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کی شرکت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہندوستان اور ایتھوپیا کے بعد اقوام متحدہ کی امن کی کوششوں میں فوجیوں کا تیسرا سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستانی فوجی اب تک 28 ممالک میں 60 مشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی قیام امن میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔پاکستانی افواج نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ ایک دہائی طویل جنگ لڑی۔ امن کی خاطر، پاکستان کی حکومت نے طالبان حکومت سے پاکستانی قانون کے دائرہ کار کے تحت پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کرنے کو کہا، لیکن ٹی ٹی پی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اگرچہ ایک عبوری جنگ بندی کی گئی تھی لیکن ان کے سخت مطالبات کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔پاکستان کی امن کے لیے کوششوں اور عزم کا اندازہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کے طور پر اس کے پیشہ ورانہ رویے سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے اس اہم وقت پر بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا، جب 9 مارچ 2022 کو بھارت سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں ایک میزائل داغا گیا۔ جوہری فلیش پوائنٹ کئی بھارتی مصنفین اور دفاعی ماہرین نے واقعے کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور میڈیا اس وضاحت کو قبول کر لیتا؟پاکستان نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں امن چاہتا ہے، امن کے لیے پاکستان اپنی صلاحیت اور بوجھ سے بڑھ کر سب کچھ کر رہا ہے۔ اب پاکستان محفوظ ہے، اور پاکستان میں سیاحت اور بین الاقوامی کرکٹ واپس آگئی ہے۔ غیر ملکی کہیں بھی جا سکتے ہیں اور بے خوف رہ سکتے ہیں۔ پاکستان کی امن کی خواہش کا مطلب پاکستان کی کمزوری نہیں ہے۔ یہ وہ خواہش ہے جو سرحد پار بسنے والے لاکھوں لوگوں کی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے امن کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ بھاری قیمت ادا کی ہے۔

  • برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    لندن: برطانیہ میں نورفوک کے ساحل پر ڈوبنے والے جہاز ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کوبالآخر 340 سال بعد دریافت کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ” ڈیلی میل "کے مطابق ایک شاہی جنگی جہاز کا ملبہ جو 340 سال قبل مستقبل کے بادشاہ جیمز II کو لے کر ڈوب گیا تھا اسے شوقیہ غوطہ خوروں نے دریافت کیا ہے نارفولک کے ساحل پر ایچ ایم ایس گلوسٹر کی دریافت کو 1970 کی دہائی میں میری روز کی دریافت کے بعد سب سے بڑی سمندری تلاش کے طور پر سراہا گیا ہے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    6 مئی 1682 کو یہ دیو ہیکل جہاز نورفوک میں بحیرہ نارتھ کے جنوب میں ایک ریت کے ٹیلے سے ٹکرانے کے بعد غرقاب ہوا تھاجہاز کو گریٹ یرماؤتھ کے ساحل سے 28 میل کے فاصلے سے دریافت کیا ہے جہاں یہ آدھا سمندر کی سطح میں دھنسا ہوا تھا لیکن اس تلاش کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

    ملبے کو تلاش کرنے کی کوششیں، بھائیوں جولین اور لنکن بارن ویل کی قیادت میں، 5,000 سمندری میل پر محیط چار سال کی تلاش کے بعد کامیاب ثابت ہوئی۔

    جہاز پر موجود نوادرات کی نمائش کے لیے منصوبے جاری ہیں جنہیں زمین پر لایا گیا ہے، بشمول کپڑے، شراب کی بوتلیں اور جہاز کی گھنٹی، جو حتمی طور پر اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ یہ ملبہ گلوسٹر تھا۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    یہ نمائش جو مشترکہ طور پر یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اور نورفولک میوزیم سروس کے ذریعہ تیار کی گئی ہے – اگلے سال موسم بہار سے نورویچ کیسل میوزیم اور آرٹ گیلری میں پانچ ماہ کے لیے منعقد کی جائے گی-

     

    جہاز خود بکھرا ہوا ہے اور اب بھی سمندری فرش پر ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال باقیات کے کسی حصے کو زمین پر لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر برطانوی سیاسی تاریخ میں ایک ‘تقریباً’ لمحے کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس نے پروٹسٹنٹ تخت کے کیتھولک وارث کی موت کے قریب سیاسی اور مذہبی تناؤ کے وقت ہوا تھاجیمز سٹورٹ، بعد میں انگلینڈ کے جیمز II، جو برطانیہ کے آخری کیتھولک بادشاہ ہوں گے، ڈوبنے سے بچ گئے لیکن تقریباً 250 ملاح اور مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کی بڑی وجہ اس کے اعمال تھے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    جیمز بمشکل زندہ بچ سکے، آخری لمحات تک جہاز کو چھوڑنے میں تاخیر کرتے ہوئے، جہاز میں موجود 130 سے ​​250 کے درمیان لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو پروٹوکول کی وجہ سے، رائلٹی سے پہلے جہاز کو ترک نہیں کر سکے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کا شمار ان ہزاروں جہازوں میں ہوتا ہے جن کا ملبہ برطانوی ساحلوں پر پھیلا ہواہے اور ان میں سے اکثریت کو صدیوں سے انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے ہِسٹارک انگلینڈ کے مطابق برطانیہ کے ساحل پر اندازاً 40 ہزار جہازوں کا ملبہ دریافت کیے جانے کے انتظار میں ہے۔

    لیکن ان میں کم از کم 90 ایسے ہیں جن کی موجودگی کے متعلق علم ہے اور ماہرین نے ان کی اصل جگہوں کا تعین کیا ہے۔ البتہ ان میں کئی جہاز ایسے ہیں جو زمین پر نہیں لائے جاسکیں گے اور آئندہ دہائیوں میں ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

  • 6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    کیرالہ: بھارت میں ایک مرغی نے 6 گھنٹوں کے دوران 24 انڈے دے کر سب کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں میں پولٹری ماہرین اس وقت حیران رہ گئے، جب انہیں پتا چلا کہ ایک آٹھ ماہ کی مرغی نے 6 گھنٹے کے دوران 24 انڈے دیئے ہیں۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    جانور پالنے والوں خصوصا پولٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی بات ہےمرغی نے جب انڈے دینا شروع کیے تو یہ سلسلہ جاری ہی رہا اور وہ انڈے دینے کی رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مرغی کے مالک نے صبح کے وقت اسے لنگڑاتا دیکھ کر اس کی ٹانگوں پر تیل لگایا تھا، جس کے بعد وہ حیرت انگیز طور پر مسلسل انڈے دینے لگی یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 6 گھنٹے میں 24 انڈے دینے والی مرغی اب ایک مشہور اسٹار بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ متعلقہ حلقوں کے علاوہ دنیا بھر میں اس کے چرچے ہیں۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی ریاست کرناٹک سے بھی ایک دلچسپ خبر سامنے آئی تھی، جس کے مطابق مرغی نے کاجو کی شکل کے انڈے دیئے تھے یہ واقعہ جنوبی کنڑ ضلع کے بیلتھنگڈی تعلقہ میں واقع لیلا گاؤں میں پیش آیا۔ مرغی نے خاص کاجو کی شکل کے دس انڈے دئیے۔

    ابتدائی طور پر جب گھر والوں نے پہلا انڈا دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ لیکن، انہوں نے اس کے بارے میں کچھ کرنے سے پہلے ایک اور دن انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلسل تین دن گزرنےکےبعد بھی مرغی کاجو کی شکل کے انڈے دیتی رہی بعد ازاں لوگ اس قدرتی عجوبے کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق آنے لگے ہیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔

    بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا

    بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔

    بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .

    دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.

    حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔

  • ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سائنسدانوں نے ہماری ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ دعوٰی کیلیفورنیا میں قائم یونیورسٹی آف برکلے کے سائنسدانوں نے کیا ہے محققین کا ماننا ہے کہ جب بڑے ستارے تباہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی جسامت، توانائی اور مادہ خرچ کرنے کے لحاظ سے بلیک ہول یا دیگر اقسام کے اجسام میں بدل جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نظری طور پر ہماری کہکشاں میں بہت سارے بلیک ہول ہونے چاہئیں۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    لیکن سائنس دانوں کو ان کی تلاش میں مشکلات کا سامنا رہا ہے یہ بِکھرے ہوئے بلیک ہول بصری لحاظ سے ویسے بھی ہماری آنکھ سے اوجھل ہوسکتے ہیں ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں کے درمیان 100 ملین بلیک ہول گھومتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی مکمل طور پر الگ تھلگ بلیک ہول کی شناخت نہیں کی۔

    اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک آزادانہ گشت کرتے بلیک ہول کی نشان دہی کی ہے جو ہماری کہکشاں میں ایک لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کررہا ہے۔

    ایلون مسک کا رواں سال انسان نما روبوٹ متعارف کرانے کا اعلان

    سائنس دانوں نے اس کی نشان دہی گریویٹیشنل مائیکرولینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے کی ہے۔ اس عملی کو ثقلی لینسنگ بھی کہا جاتا ہے جس میں کسی بھاری بھرکم جسم ، مثلاً بلیک ہول کے وجہ سے پس منظر سے آنے والی روشنی کی شعاعیں خمیدہ ہوسکتی ہے اور یوں ہمیں ان دیکھے بڑے جسم کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

    یہ شے ہماری کہکشاں میں ہونے کے باوجود ہزاروں نوری سال کے فاصلے کی دوری پر ہے سائنس دانوں کے ایک گروپ کے مطابق اس بلیک ہول کا وزن سورج سے 1.6 سے 4.4 گُنا زیادہ ہے جبکہ دوسرے گروہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا وزن سورج سے 7.1 گُنا زیادہ ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

  • ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

    ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

       حکومت کے ساتھ ملکر پاک فوج,خارجہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے, اس لئے وقت فوقتا مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے, اس انعقاد سے دفاعی تعلقات کے ساتھ قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں, ان ہی کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند بڑی مشقوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    1.. دسمبر 2016 میں پاکستان فوج نے اردن کی فوج کے ساتھ مل کر فجر الشرق مشق کا انعقاد کیا
    2..اکتوبر 2017 اور اکتوبر 2018 میں پاکستان نے برطانیہ میں منعقدہ "مشق کیمبرین پیٹرول” میں گولڈ میڈل جیتے جس میں 31 ممالک کی 134 ٹیموں نے حصہ لیا۔
    3…جون 2017 میں پاک فوج کی ایس ایس جی نے نائجیرین اسپیشل فورسز بٹالین کے ساتھ 8 ہفتوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی تربیتی مشق کی
    4… پاکستان اور روس کی افواج  کے درمیان مشترکہ مشق DRUZBA 2017 ستمبر  میں روس میں منعقد ہوئی۔
    5.. 2017 میں ہی پاک-سعودی اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق انسداد دہشت گردی مشق ‘الشہاب  کے نام سے ہوئی
    6… دسمبر 2018 میں پاک چین مشترکہ فوجی مشق ‘واریر -VI 2018 کے نام سے ہوئی
    7..جنوری 2020 میں پاکستان نیوی اور پی ایل اے (نیوی) کے درمیان چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز-2020 ہوئی
    8… 14 اکتوبر 2020 کو، پاکستان آرمی نے مسلسل تیسری بار برطانیہ کے سینڈہرسٹ میں رائل ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی ملٹری ڈرل مقابلہ جیتا جسے پیس اسٹکنگ مقابلہ کہا جاتا ہے۔ پاک فوج نے پہلی بار 2018 میں ایونٹ میں شرکت کی تھی
    9.. پاکستان اور بحرین کی مشترکہ مشق "البدر 2020 فروری کے ماہ میں منعقد ہوئی
    10…  اتاترک-الیون 2021،  ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ اسپیشل فورسز کی مشق کا انعقاد بھی ہوچکا ہے
    11.. فروری 2021 میں  پاکستان اور مراکش کے درمیان مشترکہ مشقیں بھی ہوچکی ہیں
    12… اکتوبر 2021۔ میں 46 ممالک  نیول ایکس امن مشق 21 میں حصہ لے چکے ہیں ۔ جس میں امریکہ,  برطانیہ جیسے نیٹو اتحادی اور  روس بھی شامل تھا.
    13..مارچ 2022 میں،  پاکستان اور امریکہ کی فضائی افواج نے ایک مشترکہ مشق، فالکن ٹیلون 2022، پاکستان کے آپریشنل ایئر فورس بیس پر منعقد کی۔
    14..  پاک فوج کی ٹیم نے نیپال میں 18 سے 21 مارچ 2021 تک منعقدہ بین الاقوامی "ایڈونچر مقابلے” میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔ اس مقابلے کا مقصد شرکاء کی جسمانی برداشت اور ذہنی چستی کو جانچنا تھا اور اس میں کراس کنٹری دوڑ، سائیکلنگ اور رافٹنگ شامل تھے۔
      15.. پاکستان آرمی کے زیر اہتمام لاہور میں یکم سے 7 نومبر تک بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا, اس میگا ایونٹ تیسرا بین الاقوامی فزیکل ایگیلیٹی اینڈ کامبیٹ ایفیشنسی سسٹم (PACES) میں چھ ممالک نے حصہ لیا, جن میں عراق، اردن، فلسطین، سری لنکا، ازبکستان اور یو اے ای کے 107 فوجی اہلکار شامل تھے۔ اس تقریب نے پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر پیش کرکے وطن عزیز کا حقیقی چہرہ آشکار کیا۔

    16.. 53ویں عالمی ملٹری شوٹنگ چیمپئن شپ (شاٹ گن) 2021 کی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی جسے عرف عام میں انٹرنیشنل ملٹری اسپورٹس کونسل کہا جاتا ہے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب پاکستان نے انٹرنیشنل ملٹری چیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ جس میں روس، فرانس، سری لنکا، فلسطین، کینیا کے 41 بین الاقوامی شوٹرز سمیت 50 سے زائد شرکاء نے شرکت کی , اس ایونٹ کا مقصد ‘کھیلوں کے ذریعے دوستی’ کا تھا, اس ایونٹ میں ایران آور نیپال کے حکام نے بھی شرکت کی
    17…  نو تا سات مارچ 2022 کو، پانچواں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ (PATS) مقابلہ – پہاڑی قصبے پبی میں واقع نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں منعقد ہوا۔ مقابلے میں آٹھ پاکستانی اور آٹھ بین الاقوامی ٹیموں نے حصہ لیا جن میں اردن، مراکش، نیپال، ترکی، ازبکستان، کینیا، سعودی عرب اور سری لنکا شامل تھے
    دفاعی برآمدات کو بڑھانا
    فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی سفارت کاری نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ  معاشی لنگر اندازی فراہم کرنے میں ریاستی اداروں کی مدد کی, کامیاب فوجی سفارت کاری سے پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا،
    منسٹری آف ڈئفنس پروڈکیشن  کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 بلین روپے) اور اندرون ملک سیلز (تقریباً 70 بلین روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا ہے۔ سال 2019 میں، پاکستان ائیر کرفٹ کامرہ نے JF-17,  نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میں برآمد کیے اور عراق کو 33.33 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی, ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 قیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا کام کیا۔ جس کے بیرونی ممالک سودوں سے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 بلین روپے کا اضافہ ہوا اس کے علاوہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں 8000 ملازمتوں کا موقع فراہم ہوا,

    قیام امن کے لئے پاک فوج کا اقوام متحدہ سے تعلق
    پاکستان امن کا پیامبر ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے قیام امن چارٹر کا داعی ہے, پاکستان نے 1960 سے  امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستانی امن دستوں نے انسانیت کی مدد، اداروں کی تعمیر اور امن کو فروغ دینے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جسے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے پذئرائی دی, 1960 سے، اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ وابستگی کے دوران، پاکستان کے 200,000 فوجیوں نے خدمات سر انجام دئیں جبکہ 163 فوجیوں نے امن کی خدمت میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں کے ساتھ ساتھ، کانگو کے سیلاب میں 2,000 افراد کو بچانے کی پاکستان کی کوشش اور COVID-19 کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی خواتین امن دستوں کی خدمات کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا.پاک فوج کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی امن کی کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنے میں پاکستان کو پانچواں ملک کا اعزاز دلوایا، اس وقت اقوام متحدہ کے قیام من آپریشن کے تحت مختلف ممالک میں پاکستان کے 4,462 سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں, اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشنز میں 15% خواتین اسٹاف آفیسرز کو بھی تعینات کیا ہے ۔  جولائی 2019 میں کانگو میں پاک فوج کی خواتین کی ٹیم تعینات کی گئی تھی جس میں 20 افسران شامل تھیں, 26 مئی 2022 کو، اقوام متحدہ کی طرف سے ایک تقریب میں چھ پاکستانی امن فوجیوں کو ایوارڈ دیا گیا۔ جنھنوں نے امن کے حصول کی خاطر جانیں قربان کیں, جن میں طاہر اکرام، طاہر محمود، محمد نعیم، عادل جان، محمد شفیق، اور ابرار سید کا تعلق پاک فوج سے ہے, پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ 13 اگست 2013 کو، اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسلام آباد میں سینٹر فار انٹیل پیس اسٹڈیز  کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ سو سے زائد ممالک اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے فوج اور پولیس کے تحت تعاون کرتے ہیں۔ جس میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان کی خدمات کو اجاگر کیے بغیر اقوام متحدہ کی امن کاوشیں ناممکن ہیں۔

    اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے 17 فروری 2020 پاکستانی امن فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا, انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کی کوششوں میں سب سے زیادہ مستقل اور قابل اعتماد تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے خواتین کے امن دستے دیگر ممالک کی فوج  کے لیے اعلی مثال ہیں۔امن کے فروغ اور انسداد دہشت گردی کے لئے کام کرنا پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے, جو قائداعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ ‘ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور اپنے قریبی پڑوسیوں اور پوری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا کسی کے خلاف کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں ہے’ کی زندہ مثال ہے۔

    کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاحت کا فروغ:
    فرينٹير وركس اورگنائریشن نے کرتارپور کوریڈور تیار کیا، جو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کو ہندوستان میں گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک سے جوڑتا ہے, جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات پروان چڑھے اور مذہبی سیاحت کو فروغ ملا۔

    قومی کرکٹ کی بحالی:
    2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر  پابندی عائد ہوئی, جس میں بھارت کا اہم کردار تھا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میں کبھی بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔ مگر الله کے فضل سے پاک فوج کی کوششیں رنگ لائیں اور آسٹریلیا، انگلینڈ اور سری لنکا کی فوجی ٹیموں نے پاکستان آکر اعتماد کا اظہار کیا, دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام خدشات کو دور کرنے کے لیے میچز لاہور، راولپنڈی، پشاور اور حتیٰ کہ وزیرستان میں بھی کرائے گئے۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019 کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔
    ملٹری ڈپلومیسی کی وجہ سے وطن عزیز کو سعودی عرب اور چین سے فوری امداد ملی, چین کی جانب سے حالیہ دو ارب ڈالر کی امداد بھی فوجی سفارت کاری کی کامیابی ہے
    اسی طرح فوجی قیادت نے سعودی عرب اور چین کو اعتماد میں لیکر قرضوں کی ادائیگی پر قائل کیا ہے۔  حال ہی میں 31 مئی 2022 کو، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پرمحمد بن سلمان تین بلین کی رقم واپس لینے کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ہے.

  • مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو مستقل طور پر بند کردیا

    مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو مستقل طور پر بند کردیا

    مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ کی پہچان بننے والے دنیا کے پرانے اور مقبول ترین براؤزر ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : 15 جون کے بعد صارفین انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تو مائیکروسافٹ ایج کا براؤزر کُھل جائے گا ونڈوز 10 رن سسٹمز پر نئی اپ ڈیٹ آئی ای کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے زور دیا جائے گااور لوگوں کو مائیکروسافٹ ایج استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ دوسرے براؤزرز کے ساتھ سخت مقابلہ کرنے والے براؤزر کو جو 1995 میں لانچ کیا گیا تھا اسے ریٹائر ہونا پڑا۔

    مائیکرو سافٹ نے 27 سال قبل 1995 میں ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ براؤزر کو متعارف کرایا تھا، کئی سالوں تک تنہا راج کرنے کے بعد 2004 میں موزیلا فاؤنڈیشن نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کے ٹکر میں فائر فوکس کو متعارف کرایا لیکن 2008 میں گوگل نے آکر باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔


    فائر فوکس اور گوگل کروم کے بعد صارفین انٹرنیٹ ایکسپلورر کو جیسے بھول ہی گئے، تاہم مائیکرو سافٹ نے نئے براؤزرز متعارف کرا کر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں ناکام ہو گیا۔


    ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ تمام ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں ڈیفالٹ براؤزر کے طور پر کام کرتا تھا، تاہم کمپنی نے 2020 میں اسے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور اب سے براؤزر کسی بھی ڈیسک ٹاپ پر موجود نہیں ہوگا۔
    https://twitter.com/Afia_Dimple/status/1535354820869111809?s=20&t=ymYcYjn3SDwn-1rj0-PNpg


    مائیکرو سافٹ نے گزشتہ چند سال میں متعدد بار صارفین کو ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ کی خامیوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے نئے براؤزر ‘مائیکرو سافٹ ایج’ استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔


    رپورٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ کا نیا براؤزر اسی ٹیکنالوجی کے تحت کام کرے گا جو معروف ویب براؤزر گوگل کرؤم میں استمال ہوتی ہے۔ مائیکروسافٹ ایج میں گوگل کرؤم سے مختلف اور جدید فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔