Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آخر خالص دودھ کب ملے گا؟  ازقلم:غنی محمود قصوری

    آخر خالص دودھ کب ملے گا؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    آخر خالص دودھ کب ملے گا؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کہتے ہیں جگ بیتی کی بجائے ہڈ بیتی بیان کرنی چائیے ،سو ہم آپ کی خدمت میں کچھ ہڈ بیتیاں رکھتے ہیں باقی ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ بات کہونگا کہ اللہ تعالی جھوٹ و ریاکاری لکھنے بولنے سے بچائے آمین

    ایک عرصہ سے گاؤں سے واسطہ ہے بڑی دیر سے ایک چوہدری صاحب سے دودھ لیتے تھے اور ان صاحب کو کئی بار بتایا کہ جناب دودھ بہت پتلا ہوتا ہے وہ صاحب کہنے لگے کہ قسم خدا کی میں پانی نہیں ڈالتا خیر کافی عرصہ اس سے دودھ خریدا مگر جناب کا دودھ گاڑھا نا ہواایک دن میں اور میرا دوست باتوں میں مشغول تھے اسی دودھ فروش کی جانوروں والی حویلی میں تو دیکھا کہ چوہدری صاحب کے کامے نے دودھ دھونے والے برتن میں کافی سارا پانی لیا اور گائے کے پاس رکھ دیا تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور اسی پانی کے برتن میں دودھ دھونا شروع کر دیا ہم دونوں دوستوں نے اس کے قریب جا کر پوچھا کہ بھئی کیا کر رہے تو وہ کہنے لگا انا ایں مطلب آپ اندھے ہیں دکھائی نہیں دیتا کیا –

    ہم نے اس کے چوہدری صاحب کو آواز دی کہ سرکار آپ تو قسمیں کھاتے ہو کہ میں دودھ میں پانی نہیں ڈالتا، تو اس چوہدری صاحب نے کمال جواب دیا میں ت ہالے وی سو کھانا میں پانی نئی پایا مطلب کہ میں تو ابھی بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے دودھ میں پانی نہیں ڈالا بلکہ میرے ملازم نے پانی ڈالا ہے-

    ہم نے کہا کہ بات ایک ہی ہے تو وہ بحث کرنے لگا کہ یہ ہے وہ ہے دودھ سے بچتا کچھ نہیں مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے وغیرہ رواں ہفتے ایک صاحب کے پاس بیٹھے تھے جو کہ دودھ فروش تھا اور دوسرے دودھ فروشوں کی بے ایمانی کی داستانیں سنا رہا تھا اور خود کو انتہائی ایماندار ثابت کرنے کے چکر میں تھا تاکہ دودھ فروشی میں خلل نا پڑے-

    کافی دیر اس سے بات چیت ہوئی ان صاحب نے اجازت مانگی کہ یار دودھ لانے کا ٹائم ہو گیا ہے اب چلتا ہوں پھر کبھی گپ شپ ہو گی
    وہ اٹھا ہم بھی کاموں میں مشغول ہو گئے کچھ دیر بعد وہ جناب اپنی موٹر سائیکل پر دودھ کے برتن ڈالے بازار میں وارد ہوئے اور برف والے پھٹے سے برف خرید کر دودھ میں ڈالنے لگے ہم سے رہا نا گیا اور اسے کہا کہ یار یہ تو پانی کی مانند ہے اس سے تو دودھ پتلا ہو جائے گا جو کہ ملاوٹ ہے ابھی تو آپ دوسروں کی پاؤڈر مکسنگ بارے بتا رہے تھے کہ وہ لوگ حرام کماتے ہیں-

    وہ صاحب بولے یار گرمی بہت ہے دودھ میں یہ نا ڈالی تو دودھ خراب ہوجائے گا ہم نے کہا یار وہ بات تو ٹھیک ہے مگر آپ دودھ دھوتے ہی دکان پر لیجائیں اور دکاندار سے کہیں کہ فریج میں رکھے تاکہ دودھ خراب نا ہو اور آپ کو برف ڈالنی ہی نا پڑے اور اس بدولت ملاوٹ ہو
    وہ صاحب بضد ہو گئے کہ یار برف ڈالنا ملاوٹ نہیں چاہے دودھ پتلا ہو کر وزن بڑھ جاتا ہے نیز صاحب نے دلیل دی کہ یہ بھی تو دیکھوں ہم برف خریدتے ہیں دوسروں کی طرح نلکے سے مفت میں پانی نہیں ڈالتے خیر بحث کا فائدہ نہیں تھا سو ہم چپ ہو گئےایک تیسری بڑی اہم ہڈ بیتی رقم کرتا ہوں-

    کچھ عرصہ قبل کسی بدولت ایک انتہائی قریبی دوست کو تھانہ اور پھر تھانہ سے عدالت پیش ہونا پڑا اور ہمیں بھی سارے معاملہ میں ساتھ رہنا پڑا جج نے فیصلہ سنایا اور آئی او (انکوائری آفیسر ،کم سے کم سب انسپکٹر رینک) کو حکم دیا کہ ہتھکڑی کھول دیں یہ اگلی پیشی پر خود حاضر ہونگےانسپیکٹر صاحب عدالت سے باہر لے آئے اور کہنے لگے کہ میرے سپاہی سے چابی لے آئیں-

    سپاہی کو کہا تو اس نے کہا کہ جناب ،رونق میلا، کریں ہم نے کہا کہ بھئی تمہارے بڑے صاحب نے کہا ہے کہ چابی دو تو وہ کہنے لگا پھر انہی سے ہتھکڑی کھلوا لیں ہم نے انسپیکٹر صاحب کو کہا کہ جناب آپ کا سپاہی رشوت مانگ رہا ہے انسپیکٹر صاحب نے قسم کھاتے ہوئے کہا کہ میں رشوت نہیں لیتا مگر یہ سپاہی لیتا ہے اسے پیسے دیں اور دفع ماریں-

    ہم حیران پریشان کہ یار یہ کیسا پولیس آفیسر ہے جو کہتا ہے کہ میں نہیں رشوت لیتا مگر میرا سپاہی لیتا ہے اور وہ بغیر رشوت بات نہیں مانتا حالانکہ اس انسپیکٹر کا کام تو جرائم روکنا ہے جو کہ اس کے تھانہ کی حدود میں ہو رہا ہو مگر یہ تو اپنے تھانہ کے اندر اپنے سپاہی کو روک نہیں سکتا تو پھر باہر کسی کو کیا روکے گا ؟خیر یہ تینوں واقعات ہڈ بیتی ہیں جو وجہ ہیں ہمیں اس خالص دودھ نا ملنے کی
    اور یہ خالص دودھ ہے انصاف،سہولیات،عزت،تحفظ جو کہ حکومت کا کام ہے ہمیں مہیا کرنا-

    اور اوپر رقم تینوں کردار ہیں سابقہ و موجودہ حکومتیں و حکمران اور چوہدری کا کاما ہے سیاسی جماعتوں کے سپورٹران جو کہ سارا کچھ جانتے ہوئے بھی دوسروں کہتے رہتے کہ آپ اندھے ہیں تحریر لمبی نا ہو اس لئے آپ سمجھ سکتے ہیں موجودہ سے لے کر سابقہ دور میں کس نے کس کا کردار ادا کیا ہےخود ہی اندازہ لگا لیں کہ وہ دودھ فروش چوہدری تھا کہ دودھ میں برف ڈالنے والا یا پھر پولیس انسپکٹر

  • ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے عدلیہ کا کردار اہم

    ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے عدلیہ کا کردار اہم

    عدالت قانون کی بیوروکریسی ہے۔ جب آپ کسی جج یا مجسٹریٹ کو عدالت میں بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں، تو آپ درحقیقت 1000 سال کے قانونی ارتقاء کا نتیجہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ عدلیہ کو آزاد، غیر جانبدار اور ریاستی اداروں سے نکلنے والے کسی بھی قسم کے دباؤ سے پاک ہونا چاہیے۔ عدلیہ کا بنیادی مقصد تمام لوگوں کو بغیر کسی امتیاز کے انصاف تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنا ہے۔عدلیہ کو پاپولسٹ قوتوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور پاپولسٹوں کے ہاتھوں آئینی اقدار کی بے حرمتی سے بچانا چاہیے عدلیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن، سیاسی بحران کی صورت میں جس سے ملک کے اندرونی استحکام کو خطرہ ہو، وہ ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے آئین کے دائرہ کار میں از خود نوٹس لے کر مداخلت کر سکتا ہے۔

    حال ہی میں، پاکستان میں کچھ آئینی اور سیاسی بحران دیکھنے میں آیا جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اسمبلی میں غیر آئینی حکم دے کر عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی طور پر ناکام بنا دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے آئینی آرٹیکل کا حوالہ دیا جس کے تحت انہیں پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم اس اقدام نے ملک کو شدید بحران میں ڈال دیا۔ اس سلسلے میں عدلیہ نے مداخلت کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ اسی طرح، عدلیہ اور جمہوری اخلاقیات دونوں میں علامتی تعلقات ہیں جہاں جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے تاکہ انتخابات اور عوام کی مرضی سے حکومت کا انتخاب کیا جائے، جو آئین اور قانون کی حکمرانی کے نفاذ کے لیے کام کرتا ہے۔پاکستان میں 1973 کے آئین کے مطابق عدلیہ ریاست کا انتہائی اہم ستون ہے جس کا کام آئینی اقدار پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن، یہ پارلیمانی بالادستی کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

    ہماری عدلیہ کا دوسرا کام عوام کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔دونوں جماعتوں نے سیاسی اور آئینی عمل کو آسان بنانے کے بجائے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی جس سے پارلیمانی کارروائی میں عدالتی مداخلت کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن عدلیہ کا شکریہ جس نے آئینی حدود میں رہ کر سمجھدار اور ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا۔ اسی طرح یہ پہلا موقع نہیں جب عدلیہ کی مداخلت نے ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال کو دور کیا۔ ہم نے ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں عدلیہ ملک کے آئین کو بچانے کے لیے آئی۔

    بدقسمتی سے کچھ ریاست دشمن عناصر محض اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں سیاسی افراتفری عدلیہ کی مجموعی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثال کے طور پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ سیاسی مقدمات عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کو کم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کسی کو سمجھنا چاہیے کہ عدلیہ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سیاسی سیٹ اپ کا حصہ ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں آئین اور قانون کی حکمرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ملک کے سیاسی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے عدالتی نظام سے مجموعی دباؤ کو کم کرنے کے لیے عدلیہ کے ساتھ تعاون کریں۔چنانچہ جب ہم عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو ڈپٹی سپیکر کے فیصلے سے متعلق حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے کام کر رہی ہے جو کہ ملک میں عدالتی آزادی کے لیے نیک شگون ہے۔ حکومت کو ہماری عدالتی اخلاقیات کو مضبوط کرنا چاہیے اور کسی سیاسی بحران یا عدالتی سرگرمی کے لیے عدالتی برادری کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ اگر حکومت عدلیہ کو مزید سیاسی استحکام فراہم کرے تو ملک کی عدالتی کارکردگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔

    ملک میں عدالتی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ کچھ میڈیا عناصر بھی اپنے حمایتیوں کی تعریف کرنے کے لیے ملک کی مجموعی عدالتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ میڈیا برادری عدالتی کارروائی کو تعصب کی نظر سے نہ دیکھے۔ وہ عدالتوں کے تنقیدی فیصلوں پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن مثبت اور پختہ انداز میں۔ ملک کے سیاسی، میڈیا اور علمی برادری کے تعاون کے بغیر عدالتی نظام چل نہیں سکتا۔ ریاستی اداروں کو آگے آنا چاہیے اور عدلیہ اور اس کے فیصلوں کے خلاف پروپیگنڈہ بند کرنا چاہیے۔ عدلیہ پر جانبدارانہ تنقید سے عدلیہ کی آزادی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    بیرونی جبر سے ریاست کی نظریاتی اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کووِڈ-19 کے انتہائی سنگین حالات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی تعزیرات کے گھمبیر خطرے کے درمیان ملک کے معاشی بحران کو حل کرنے میں مسلسل بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مستقل ادارہ جاتی ناکامی۔ فوج قومی سلامتی کے سوچنے والے آلات کے طور پر تیار ہوئی ہے اور اس نے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں تیار کی ہیں۔

    اگرچہ جنگ بندی اور فوجی حکمت عملی اس کی بنیادی بنیاد بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تنظیمی صلاحیت اور چستی نے اسے مسئلہ حل کرنے والی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی قیادت کی طرف سے ظاہر کی گئی نااہلی اور صلاحیت کی کمی نے فوج پر سول کام کے شعبے میں شامل ہونے کا بوجھ ڈالا ہے، خاص طور پر بحرانوں کے دوران۔ وبائی مرض کے دوران، جب کہ پوری دنیا بحرانوں کی زد میں تھی، پاکستان کی فوج نے حکمت عملی کی قیادت کی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) کے ایک نئے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنایا۔ فوج کی تنظیمی اور انتظامی مہارت کو اچھی طرح استعمال کیا گیا، اور ایک جدید ترین فوری لیکن پائیدار حل سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف غریبوں میں خوراک اور طبی آلات کی تقسیم میں حصہ ڈالا بلکہ CoVID-19 کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم بھی چلائی۔

    اس طرح کی موثر اور ہم آہنگی کی کوششوں کی بدولت پاکستان نے نہ صرف کووِڈ 19 کے بعد کی صورتحال سے بہت مؤثر طریقے سے نمٹا ہے بلکہ ایک آنے والے معاشی المیے کو بھی ٹال دیا ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ NCOC کے پاکستان ماڈل کا بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گہرائی سے مطالعہ اور تعریف کی گئی۔ بل گیٹس نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایسی اہم کوشش پر NCOC کو سراہا۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC) بنا کر ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے دوران اسی طرح کی حکمت عملی کو حرکت میں لایا گیا اور بڑی کوششوں کے بعد خطرہ ٹل گیا۔1993 میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے سونا اور تانبا نکالنے کے لیے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جسے ریکوڈک معاہدہ کہا جاتا ہے۔

    بعد ازاں، یہ ثابت ہوا کہ کینیڈین کمپنی کے ساتھ معاہدہ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس دوران کمپنی نے پاکستان کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل پر مسئلہ کو انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) کو بھیج دیا اور پاکستان کے خلاف 11.5 بلین ڈالر جرمانے کا مطالبہ کیا۔اتنی بڑی رقم پہلے سے نقدی کی کمی کا شکار پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ ایک عام علم ہے کہ فوج نقصان کو سنبھالنے اور کم کرنے کے لیے اوور ڈرائیو میں گئی۔

    سخت کوششوں کے بعد نہ صرف خطرہ ٹل گیا بلکہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان نہ صرف 11.5 بلین ڈالر کا جرمانہ معاف کروانے میں کامیاب ہوا بلکہ اسی کمپنی کو بلوچستان میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی آمادہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع میسر آئیں گے۔ 2008 میں، پی پی پی کی حکومت نے کارکی کراڈینیز الیکٹرک یوریٹین (KKEU) کو رینٹل پاور پروجیکٹ سے نوازا تھا۔ لیکن یہ 231 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہا جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار تھا، حالانکہ کمپنی کو صلاحیت کے چارجز کے طور پر 9 ملین ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے۔

    2013 میں، KKEU نے تقریباً 16 ماہ تک کراچی بندرگاہ کو چھوڑنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے اپنے جہازوں کو ہونے والے نقصانات یا قدر میں کمی کی مد میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگتے ہوئے ICSID کو منتقل کیا۔ ترکی کی کمپنی نے بعد میں 2017 میں مقدمہ جیت لیا اور پاکستان پر 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ شکر ہے، 2019 میں، ریاستی اداروں نے فوج کی سفارتی حکمت کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا اور جرمانے میں 1.2 بلین ڈالر کی بچت کی۔چمالنگ کول مائنز کی ملکیت کا تنازعہ بھی پاک فوج کی ثالثی سے حل ہو گیا جس کی مالیت 12 ارب ڈالر ہے۔

    جنوری 2006 میں، کوئٹہ میں قائم 41 ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے متحارب فریقوں کو اکٹھا کرکے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ایک پہل شروع کی۔ میرس، لونس اور ٹھیکیداروں کو فوج کی ثالثی پر مکمل اعتماد کرنا تھا۔ جب سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، 1.5 ملین ٹن کوئلے کی کھدائی ہو چکی ہے جس سے پاکستان کو 37 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ 2007 تک، کانوں نے بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے لیے 55,000 ملازمتیں پیدا کیں۔پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی بھی CPEC کے تقریباً 62 بلین ڈالر کے منصوبوں کو ہموار چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔

    فوجی اہلکار اس منصوبے کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوریڈور کو حکومت کے منصوبے کے مطابق تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فلیگ شپ پروجیکٹ کے تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا گیا ہے۔ فوجی انجینئر اس راہداری کے حصوں کی تعمیر میں مصروف ہیں، جہاں سڑک موجود نہیں ہے اور فوج نے اس کی حفاظت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔اس کے علاوہ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) پہلے ہی CPEC کے مغربی روٹ کے حصے کے طور پر بلوچستان میں 870 کلومیٹر کے روڈ نیٹ ورک میں سے 556 کلومیٹر مکمل کر چکی ہے۔

    بلوچستان کے پراجیکٹس پر FWO کے 12 یونٹ بھی تعینات کیے گئے تھے اور FWO علاقے کی تنہائی اور ناہمواری کے حالات کے پیش نظر لاجسٹک خدشات کے باوجود مشکل لیکن چیلنجنگ کام کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ناقابل تسخیر ہے۔

    پاکستانی فوج طویل عرصے سے قومی تعمیر کے کاموں میں شامل رہی ہے جس میں شاہراہ قراقرم جیسی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ ڈیموں کی مرمت؛ آبپاشی کی نہروں کی صفائی؛ مردم شماری کا انعقاد؛ اور انتخابات کا انعقاد۔ اس کے علاوہ، فوجی سفارت کاری اور اس کی مذاکراتی صلاحیتوں نے متعدد مواقع پر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کی تنظیمی طاقت، اس کی چستی اور اس کے محنتی دفتری کیڈر نے اسے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ قومی سطح کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کی ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، پاکستان کی فوج حکومت پاکستان کی مدد کرنے پر فخر کرتی ہے۔ اور مشکلات سے قطع نظر، اس نے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کے لیے بہت سے اسٹریٹجک چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔

  • میاں اکبر خاندان کے جانشین ، تحریر: ممتاز اعوان

    میاں اکبر خاندان کے جانشین ، تحریر: ممتاز اعوان

    میاں عمران مسعود ملک کی ضرورت ہیں جنہوں نے اپنی جوانی، اور تمام قیمتی سال ایک مربوط نظام تعلیم، اور نوجوانوں کی بہتری کے لیے انتھک محنت سے صرف کیے ہیں۔ آپ نے اپنا آغاز اس وقت کیا جب آپ کی عمر صرف 25 سال تھی، اپنے شہر کی خوف سے فتح تک نمائندگی کی، آپ زندگی کے کٹھن نشیب و فراز سے گزرے، 4 بار ایم پی رہے جن کی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں تھی۔
    آپ نے اپنے خاندان کے قاتلوں کو غیر مشروط معاف کر دیا جس میں کسی قسم کا کوئی مالی مفاد نہیں تھا۔ آپ کے اس عمل نے باقیوں کے لیے ایک مثال قائم کی، یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
    آپ نے اس تجدید دوستی کو اپنے کسی سیاسی فائدے کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا۔ آپ ہمیشہ حسنِ اخلاق کے ساتھ کھڑے رہے۔

    پارلیمانی سیکرٹری صحت سے لے کر چیئرمین ٹاسک فورس ایجوکیشن، اور ایک معروف وزیر تعلیم تک، یہ سب کچھ اب VC-ship تک پہنچ کر آپ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ ایچ ای سی کے رکن رہے، حکومت کے درمیان خلیج کو کم کرنے اور نجی یونیورسٹیوں کی بہتر کارکردگی کے لیے انتھک کوشش کی۔
    آپ ایک ایسا اثاثہ ہیں جن کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ اب 10 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ آپ نے یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کو لگاتار اس کے وائس چانسلر کی حیثیت سے آگے بڑھایا۔ آپ نے اس ادارے کو اپنی محنت اور لگن سے چار چاند لگا دیے۔
    تمام حکومتوں کو ان سے مشورہ لینا چاہیے اور سائنس اور تعلیم کے اس شعبے میں ان کے تجربے کو ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ گجرات میں ایک یونیورسٹی کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں آپ کا حصہ رہا ہے۔ آپ نے گجرات شہر کی ثقافت کو بدلنے میں مدد کی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے 40 سال اس خوبصورت مقصد کے لیے دیے اور اب بھی مزید دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم آپ کے لازوال جوش اور ولولہ انگیز جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی دیانتداری اور مقصدیت کا خلوص ان کے خوش آئند عزائم کا خاصہ رہا ہے۔
    آپ نوجوانوں کے لیے روشنی کا مینار اور بہت سے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے. آپ نے کئی مواقع پر اپنے ملک اور محکمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے دور دور کا سفر کیا۔ البتہ یہ منفرد اور بے مثال ہے۔ آپ بیرون ملک کئی کانفرنسوں میں کلیدی مقرر رہے ہیں۔میاں عمران مسعود نے جو قابل ذکر کانفرنس اٹینڈ کیں ان میں ایک ماؤنٹ ٹریبلنٹ کانفرنس ہے ،کینیڈا کا ایک ایسا علاقہ ہے جو برف پوش ہے، وہاں کانفرنس ہوئی تھی، دنیا کے کئی ممالک کے صدور اس کانفرنس میں آئے تھے، بل کلنٹن بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے ، وہاں پر مختلف ممالک کا تذکرہ ہوا اور جب کلنٹن نے مختلف افریقی ممالک کا ذکر کیا لیکن کشمیر کا ذکر نہ کیا ، جب کانفرنس ختم ہوئی تو پاکستان کے وفد میں شامل میاں عمران مسعود آگے لپکے اور بل کلنٹن سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا اچھا ہوتا کہ آپ کشمیر کا بھی ذکر کرتے جس پر بل کلنٹن نے کہا کہ مجھے کشمیر کا ذکر کرنا چاہئے تھا جو مجھ سے رہ گیا، اس کانفرنس میں میاں عمران مسعود نے پاکستان کی بھر پور انداز میں نمائندگی کی تھی،

    میاں عمران مسعود بیرون ممالک میں بھی پاکستان کا چہرہ بنے رہے، انہوں نے ہمیشہ پاکستانیت پر بات کی، یہ سب کچھ اب سامنے آنا چاہیے۔ آپ نے دوستی، اعتماد، حب الوطنی، اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے تصور پر اعتبار کیا، ایک بیمار معاشرے میں جہاں دھوکہ دہی، عیب جوئی اور ہیکلنگ روز کا معمول بن گیا ہے۔ آپ ایک اثاثہ ہیں، جن پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ آنکھ بند کر کے آپ نے ثابت قدمی کے ساتھ انمول شراکتیں پیش کیں، اور درمیانی دھارے میں گھوڑوں کو کبھی نہیں بدلا۔ آپ نے ضربیں لگائیں لیکن سینہ تان کر کھڑے رہے۔ آپ کا ماضی آپ کے امید افزا کل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نئے اور آنے والے سیاستدانوں کے لیے آپ کی شخصیت قابل تحسین ہے۔ آپ بغیر کسی مراعات کے اپنی پارٹی اور عوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔

    سیاسی منظر نامے کو ایسے بے لوث لوگوں کی ضرورت ہے۔ گجرات کو فخر ہے کہ ایسا بیٹا اس عقیدتمندانہ مٹی سے ہے۔ آپ اپنے شہر میں، آپ ملکی سطح کے حلقوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کسی بھی فعال جمہوریت کی بنیاد ہے۔ آپ اپنی پارٹی کے ساتھ وفادار رہے۔ وہ پارٹی جس نے حال ہی میں طوفان کا سامنا کیا۔ آپ انتہائی مشکل وقت کے باوجود سختی سے ڈٹے رہے۔ اکبر خاندان اور چھوٹے لوگ آپ کے نئے خواب اور وژن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ اپنے زیادہ تر ہم عصروں کے برعکس، آپ نے خاندان کی چاندی اس شہر کی خدمت کے لیے دے دی جس سے آپ کا تعلق تھا، جس کے لیے آپ کو کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی دل آزاری ہوئی۔

    میاں عمران مسعود کے بھائی میاں ہارون مسعود گجرات کے تحصیل ناظم رہ چکے ہیں اور وہ انگلش کے آتھر بھی ہیں میاں ہارون مسعود نے بھی علاقہ عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انتہائی عاجز عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے اور انکے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھنے والے میاں ہارون مسعود اسی وجہ سے گجرات میں عوامی حلقوں میں مقبول ہیں کیونکہ وہ خود کو عوام میں سے سمجھتے ہیں جب وہ تحصیل ناظم تھے تو انہوں نے گجرات میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا ۔سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ہاوس میں زمیدارہ کالج کو یونیورسٹی بنانے کہ قرارداد پیش کی جو 92 ووٹوں سے منظور ہوئی بعد ازاں اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول گجرات گئے اور انہوں نے زمیدارہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ یوں میاں ہارون مسعود کا اپنے علاقے میں یونیورسٹی کا دیرینہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچا ۔تعلیم دوست خاندان کو نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب سمیت پاکستان بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس میں انکے کردار کا کمال ہے ،میان عمران مسعود، میاں ہارون مسعود دونوں بھائیوں نے انکے بزرگوں کے جو دوست تھے انکو اپنا اثاثہ جانا اور انکی ہر خوشی غمی میں انکا ساتھ دیا، جو محبت ،عزت انکے بزرگوں کی جانب سے انکے دوستوں کو ملتی تھی، اب اس سے کہیں بڑھ کر دونوں بھائی انکی عزت کرتے ہیں اور ہر لمحہ انکے ساتھ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں ، انہوں نے کبھی کسی کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا،

    میاں ہارون مسعود کے بیٹے میاں زورین مسعود، میاں اکبر اور میاں عمران مسعود کا بیٹا میاں ہاشم مسعود ایچی سن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک سے بھی ڈگری ہولڈر ہیں اور وہ بھی اب گجرات میں ہی والدین کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ میاں ہارون مسعود کے بیٹے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ان میں بھی عوامی خدمت کا جذبہ والد کی طرح موجود ہے وہ بھی گجرات کی عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور قوی امید ہے کہ وہ اپنے مشن خدمت خلق میں کامیاب ہوں گے کیونکہ جب نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے انسان کی زبان نہیں بلکہ اسکا کردار سب کے سامنے ہوتا ہے اور اس خاندان کا کردار سب کے لیے مشعل راہ ہے

    میاں اکبر خاندان اور اس کی اولاد زندہ باد
    پاکستان زندہ باد
    قدم بڑھاؤ عمران مسعود ہم تمہارے ساتھ ہیں

  • جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

    خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا،جیمز ویب کو دسمبر میں ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوٹے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا دوربین بنانے والے انجینئرز خلا کی سختیوں سے بہت زیادہ واقف ہیں، اور ویب کو احتیاط سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔


    ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ ہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔


    اگرچہ میٹیورائڈ خلائی لحاظ سے چھوٹا تھا – یہ اس سے بڑا تھا جس کے خلاف دوربین کو لانچ کرنے سے پہلے ٹیسٹ کیا گیا تھا انتہائی تیز رفتاری جس سےچیزیں خلا میں منتقل ہوتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اگر کسی چیز سے ٹکراتی ہے تو اسے بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ناسا نے مزید کہا کہ ٹیلی اسکوپ میں ایسے تصادمات برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے، چاہے چٹان کا ٹکڑا متوقع ٹکڑے سے بڑا ہی کیوں نہ ہوتشکیلی مراحل میں محقیقن نےآئینوں کےٹکڑوں پر حقیقی و مصنوعی تصادمات کا استعمال کیاتاکہ یہ دیکھ جاسکےکہ ٹیلی اسکوپ خلا میں تیرتے ایسے ٹکڑوں کی ٹکر کو کیسے برداشت کرتی ہے۔


    ناسا کے ٹیکنیکل ڈپٹی پروجیکٹ منیجر پال گِیتھنر کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کو یہ علم تھا کہ ویب کو خلائی ماحول کو برداشت کرنا ہوگا جس میں سورج سے آتی سخت الٹرا وائلٹ روشنی اور چارجڈ ذرّات، کہکشاں میں غیر معمولی ذرائع سے آتی خلائی شعائیں اور ہمارے نظامِ شمسی میں موجود چھوٹے شہابی پتھروں کی وقتاً فوقتاً ٹکر شامل ہے-


    ہم نےٹیلی سکوپ کو کارکردگی کے مارجن کے ساتھ ڈیزائن کیا اور بنایا ہے آپٹیکل، تھرمل، الیکٹریکل، مکینیکل – اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ خلا میں کئی سالوں کے بعد بھی اپنے سائنسی مشن کو انجام دے سکے-

    امریکی خلائی ایجنسی اب بھی نقصان کی جانچ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی سکوپ کافی اچھی طرح سے کام کر رہی ہے۔


    ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جیمز ویب دوربین کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر لانچ کرنے کے بعد سے یہ پانچویں مرتبہ تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ تازہ ترین واقعہ سب سے اہم رہا ہے دوربین فی الحال اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کائنات کے قریب اور دور کے مشاہدات کو اکٹھا کر رہی ہے۔ ماہرین فلکیات 12 جولائی کو دوربین کی خلا کی پہلی مناسب تصاویر جاری کرنے والے ہیں۔


    طویل مدتی، سائنس دان ویب کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ 13.5 بلین سال پہلے کائنات کو روشن کرنے والے پہلے ستاروں کو دیکھنے کی کوشش کریں وہ دوربین کی بڑی "آنکھ” کو دور دراز کے سیاروں کے ماحول پر بھی تربیت دیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ دنیائیں رہنے کے قابل ہو سکتی ہیں۔

  • ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    واشنگٹن: ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی نیئر انفرا ریڈ تصویر کھینچی ہے اس تصویر میں ٹیلی اسکوپ نے معمول سے آٹھ گُنا زیادہ آسمان کے حصے کو عکس بند کیا ہے جس سے ماہرین فلکیات کے لیے نئے دروازے کھولنے کی مدد ملے گی جو جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے لیے ممکنہ اہداف تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہ تصویر جو ایک تکنیک کا مظہر ہے، مستقبل میں سائنس دانوں کو دور دراز موجود کہکشاؤں کی تشکیل اور ساخت کو بہتر سمجھنے میں مدد دے گی اور اس کے ساتھ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے لیے نئے اہداف کا تعین کیا جائے گا۔

    یہ تصویر 3D-DASH نامی پروجیکٹ کا نتیجہ ہے اور اسے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ 3 (WFC3) نے ہبل کے ایڈوانسڈ کیمرے برائے سروے کے اضافی آرکائیو ڈیٹا کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ یہ آسمان کے 1.35 مربع ڈگری پر پھیلا ہوا ہے، جو تقریباً چھ مکمل چاندوں کے برابر ہے، اور اس میں ہزاروں کہکشائیں ہیں۔ اس کا مقصد مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر دوربینوں کے ذریعے مزید مطالعہ کے لائق کہکشاؤں کی شناخت کرنا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ہبل ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کھینچی گئی یہ تصویرMikulski Archive for Space Telescopes سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔ یہ تصویر انتہائی بڑی ہے اور اس کا سائز 19 گِیگا بائیٹس ہے۔

    ٹورنٹو یونیورسٹی کے ڈنلپ انسٹی ٹیوٹ برائے فلکیات اور فلکی طبیعیات کے ماہر فلکیات اور نئی کہکشاؤں کے رہنما لامیا مولا نے کہا،کہ میں دیو ہیکل کہکشاؤں کے بارے میں متجسس ہوں، جو کائنات میں سب سے زیادہ وسیع ہیں جو کہ دوسری کہکشاؤں کے انضمام سے بنتی ہیں۔”-یک بیان میں کہا. "ان کے ڈھانچے کیسے بڑھے، اور کس چیز نے ان کی شکل میں تبدیلیاں لائیں؟ موجودہ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ان انتہائی نایاب واقعات کا مطالعہ کرنا مشکل تھا، جس نے اس بڑے سروے کے ڈیزائن کو متحرک کیا۔

    عام طور پر، اتنی بڑی تصویر بنانے کے لیے ہبل کو 2,000 گھنٹے کا مشاہدہ کرنا پڑتا تھا، لیکن مولا کی ٹیم نے ڈرفٹ اینڈ شفٹ (DASH) نامی ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا، جو ایک سے زیادہ شاٹس لیتی ہے اور انہیں ایک ساتھ جوڑ دیتی ہے، جس سے انفرادی تصاویر کو آٹھ گنا بڑی جمع کیا جاتا ہے۔ WFC3 کے عام فیلڈ آف ویو (0.04 x 0.04 ڈگری) سے۔ مزید برآں، ہر بار جب یہ زمین کا چکر لگاتا ہے تو ایک تصویر لینے کے بجائے، ہبل DASH تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ تصاویر لے سکتا ہے مجموعی طور پر 1,256 انفرادی WFC3 شاٹس کے ساتھ، اس نے پورے موزیک کو مکمل کرنے میں صرف 250 گھنٹے کا مشاہدہ کیا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    تصویر میں زیادہ تر کہکشائیں انفراریڈ روشنی کے دھبوں کے طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے زیادہ دور نظر آتے ہیں جیسا کہ وہ تقریباً 10 بلین سال پہلے موجود تھے، اور ان کے اندر موجود شاندار ستاروں کی شکل والے خطوں کی روشنی کو کائنات کی وسعت سے قریب اورکت طول موجوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آپ ان کہکشاؤں کو 3D-Dash امیج ایکسپلورر سے تصویر کے آن لائن انٹرایکٹو ورژن میں مزید تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔

    بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے ہبل ٹیلی اسکوپ کو استعمال کرتے ہوئے آسمان کے کوسموس فیلڈ نامی خطے کی پہلی تصویر لی۔

    کوسموس فیلڈ آسمان کا وہ علاقہ ہے جو زمین سے دیکھے جانے والے سیکسٹنٹ نامی ستاروں کی جھرمٹ سے دو ڈگری کے زاویے پر موجود ہے اس علاقے کا انتخاب ماہرینِ فلکیات نے اس لیے کیا تاکہ دور دراز موجود، کہکشاؤں سے ماورا خلا کو صاف شفاف دیکھا جاسکے کوموس فیلڈ میں لاکھوں کہکشائیں دیکھی جاسکتی ہیں جن میں سے کچھ 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

  • بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور غیر محفوظ ایٹمی پروگرام

    بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور غیر محفوظ ایٹمی پروگرام

     

    بھارت اپنی عسکری اور معاشی طاقت کے بل بوتے پر خطے میں ایک غالب طاقت بننا چاہتا ہے۔ جب کہ پاکستان اپنے پڑوسی کی دھمکیوں میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ پاکستان نے تزویراتی توازن کو بدلنے کے لیے بھارت کی کارروائی کے جواب میں ہر ممکن کوشش کی۔ 1962 میں چین بھارت جنگ کے بعد بھارت نے اپنی مسلح افواج کو جدید بنانا شروع کیا اور اسی چیز نے پاکستان کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ بھارت روس، امریکا، فرانس اور اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسلحے کی خریداری پر اس غیر معمولی اخراجات نے خطے میں ایک مکمل خطرے کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور علاقائی ممالک میں خاص طور پر پاکستان کے لیے عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔ روس کئی دہائیوں سے بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔

    "اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوشن کے مطابق، 2012 سے 2016 کے درمیان، روسی اسلحے کی درآمدات ہندوستان کی کل اسلحے کی درآمدات کا 68 فیصد بنتی ہیں”۔ 2016 میں برکس سربراہی اجلاس میں، روس اور بھارت کے درمیان پانچ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ ابتدائی طور پر، ہندوستانی حکومت نے روس کو پیشگی ادائیگی کے طور پر 800 ملین ڈالر ادا کیے ہیں اور توقع کی جارہی تھی کہ ہندوستان کو S-400 میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ 2021 کے آخر میں ملے گی لیکن ابھی تک نہیں ملی۔ معاہدے کے مطابق تمام یونٹس کی حتمی ترسیل اپریل 2023 تک ہندوستان پہنچ جائے گی۔ S-400 ایک ایسا موبائل پلیٹ فارم ہے جو لڑاکا طیارے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ایک ساتھ آٹھ میزائل داغ سکتا ہے۔ اس کا ریڈار 600 کلومیٹر دور تک کسی طیارے کا پتہ لگا سکتا ہے اور اس کے میزائل 400 کلومیٹر آگے تک ہدف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ S-400 عملی طور پر زیادہ تر پاکستان کا احاطہ کرے گا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی جنگی طیارے کسی بھی بھارتی جارحیت کے خلاف زیادہ کمزور ہو جائیں گے۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ S-400 کی تین بیٹریاں پاکستان کے ساتھ اپنی مغربی سرحد پر اور دو بیٹریاں چین کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد پر لگائیں۔ S-400 نصب کرنے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی اہم تنصیبات جیسے جوہری پلانٹس، مواصلاتی مراکز اور اہم شہروں کی حفاظت کرنا ہے۔ روس کے ساتھ S-400 معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ‘پرانے دوست’ کے بیانیے نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔S-400 کو دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ڈرون، میزائل، راکٹ اور یہاں تک کہ لڑاکا طیاروں سمیت تقریباً ہر قسم کے فضائی حملوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نظام کا مقصد کسی خاص علاقے پر ڈھال کے طور پر کام کرنا ہے، جو زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم ہے۔ S-400 مداخلت کرنے والے ہوائی جہاز، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہر یونٹ میں دو بیٹریاں ہوتی ہیں، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، ایک سرویلنس ریڈار، اور انگیجمنٹ ریڈار اور چار لنچ ٹرک ہوتے ہیں۔ مزید برآں، یہ بیک وقت 80 اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے اور اسے پانچ منٹ میں آپریشنل بنایا جا سکتا ہے۔

    S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت خطے میں بالخصوص پاکستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ یہ ہندوستانی تسلط پسندانہ ڈیزائن نہ صرف ملکوں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول کو بدل دے گا، جو پہلے ہی ہندوستان کے جارحانہ اور جنگجوانہ رویے کے سائے میں ہے۔ اس سے جنوبی ایشیا کی دیگر ریاستوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا۔ دوسری طرف S-400 کی خریداری بھارت کو پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کرنے اور پاکستان کے خلاف بالاکوٹ قسم کے فضائی حملے کرنے پر اکسائے گی۔ اگرچہ ہند-روس S-400 معاہدہ ہند-امریکہ تعلقات میں تشویش کا ایک بڑا سبب بن گیا ہے، امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے والے امریکہ کے مخالفوں کے ذریعے پابندیوں کے قانون (CAATSA) کے تحت دھمکیاں دینے کے ساتھ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ S-400 سسٹم کی خریداری پر بھارت پر پابندیاں نہیں لگائے گا کیونکہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں اور بھارت کے ذریعے امریکہ چین پر قابو پانا چاہتا ہے۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہندوستان اپنا پیٹریاٹ میزائل سسٹم حاصل کرے لیکن S-400 نہ صرف پیٹریاٹ سے سستا ہے بلکہ ٹیکنالوجی میں بھی ترقی یافتہ ہے۔ جنوبی ایشیاء کی سلامتی کی صورتحال ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی خصوصیت رکھتی ہے۔ ایک ریاست کے عروج کا مطلب دوسری ریاستوں کا زوال ہے۔ بھارت روس S-400 معاہدے کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان عدم توازن بھی پیدا ہوگا۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کر کے یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ایٹمی ڈیٹرنس کو کم کر سکتا ہے۔ اب بھارت پاکستان کے خلاف خطرات بڑھا سکے گا۔

    بھارت کے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو خطے میں طاقت کی توازن برقرار رکھنے کے لیے جوابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ چیز پاکستان کو S-400 صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سپرسونک اور ہائپرسونک میزائل جیسے دیگر متبادل آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کرے گی کیونکہ وہ اس قسم کے میزائلوں کو روکنے سے قاصر ہے۔S-400 دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کو مزید بھڑکا دے گا۔ یہ بھارت کو یہ سوچنے پر بھی تنازعہ بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کے فضائی حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے حالات بڑے تنازع کو جنم دیں گے جس کے خطے کے لیے غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کا حد سے زیادہ اور غیر معقول رویہ دو جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑے تنازع کو جنم دے سکتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔9 مارچ 2022 کو بھارت کی جانب سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں میزائل فائر ایک بے مثال واقعہ تھا جس کی ایٹمی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگرچہ اس سے عمارت کے نقصان کے علاوہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بھارت اور دنیا ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اب دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ بھارت کے پاکستان پر میزائل فائر کرنے کے بعد ایٹمی پروگرام کس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ ربڑ کی گولی نہیں میزائل ہے جو غلطی سے دوسرے ملک میں داغا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام پیشہ ور افراد کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل داغنے کے غیر قانونی اقدام کے بعد اب دنیا کو پرسکون، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر پاکستان کی تعریف کرنی چاہیے۔دنیا کو روس سے S-400 میزائل سسٹم حاصل کرنے سے پہلے بھارت کا جارحانہ رویہ بھی دیکھنا چاہیے اور S-400 میزائل سسٹم لگانے کے بعد اس کا رویہ کیا ہوگا، یہ ایک بڑا سوال ہے؟ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ذہن سازی، جارحانہ اور جارحانہ رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ واقعہ اب ہندوستانی میزائل سسٹم کی حفاظت پر خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔ بھارت واقعے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ رابطہ کرے اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ تحقیقات کا آغاز کرے۔بھارتی حکام نے اسے "تکنیکی خرابی” قرار دیا جو کہ "انتہائی افسوسناک” ہے۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور جہانگیر میڈیا اس وضاحت کو قبول کرتا؟اب عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کو اس میزائل فائر کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے اس نازک وقت میں بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا اور دونوں ایٹمی ہتھیاروں والی ریاستوں کو ایٹمی فلیش پوائنٹ سے محفوظ رکھا۔

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    بھارتی میزائل کا پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ،چین کا تحقیقات کا مطالبہ

  • تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے دوران کینسر کے علاج کے لیے تجرباتی دوا استعمال کرنے والے تمام مریض شفایاب ہو گئے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیا ہے میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سنٹر کی طرف سے کئے گئے ایک چھوٹے سے کلینیکل ٹرائل میں پتہ چلا کہ ریکٹل کینسر کے ہر ایک مریض کو جس نے تجرباتی امیونو تھراپی کا علاج حاصل کیا تھا کینسر سے شفا یاب ہو گئے ہیں-

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا…

    ریکٹل کینسر کے 18 مریضوں کو صرف تجرباتی طور پر ڈوسٹر الیماب نامی دوا 6 ماہ تک دی گئی، جس کے نتیجے میں حیرت انگیز طور پر تمام مریض شفایاب ہو گئے ایک خاتون ساشا روتھ نے نیویارک ٹائم کو بتایا کہ اس کلینیکل ٹرائل کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے کینسر سے شفا یاب ہونے کی خوشخبری سنائی میں نے جب اپنے خاندان کو بتایا توانہوں نے مجھ پر یقین نہیں کیا-

    یہی قابل ذکر نتائج آج تک 14 مریضوں میں دیکھے جائیں گے یہ مطالعہ اتوار کو نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوا۔ تمام مریضوں کو ملاشی کا کینسر مقامی طور پر اعلی درجے کے مرحلے میں تھا، جس میں ایک نایاب اتپریورتن تھا جسے مماثل مرمت کی کمی (MMRd) کہا جاتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ انہیں دوا ساز کمپنی GlaxoSmithKline کی طرف سے dostarlimab نامی امیونو تھراپی دوائی کے ساتھ چھ ماہ کا علاج دیا گیا، جس نے تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مدد کی۔ ان میں سے ہر ایک میں کینسر غائب ہو گیا –

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    میموریل سلون کیٹیرنگ سینٹر سے وابستہ ماہر نے بتایا کہ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تجربے کے دوران کینسر کے تمام مریض شفایاب ہوئے ہوں میرا خیال ہے یہ کینسر کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

    تجربے میں استعمال کی گئی دوا لینے سے قبل ریکٹل کینسر سے متاثرہ افراد کیموتھراپی، ریڈئیشن اور دیگر سرجریوں سے گزرے تھے، جن کے نتیجے میں انہیں کئی جسمانی تکالیف کا سامنا تھا، لیکن حالیہ تحقیق اور تجربے کے بعد انہیں اب مزید کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں ہے۔

    کینسر کی ماہر ڈاکٹر ہانا سانوف نے بتایا کہ تجربے میں استعمال ہونے والی یہ ایمیونوتھراپی کی دوا ہے۔ اس قسم کی ادویہ کینسر کا خود شکار کرنے کے بجائے مریض کی قوت مدافعت سے یہ کام کرواتی ہیں۔

    مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

  • ایلون مسک کا رواں سال انسان نما روبوٹ متعارف کرانے کا اعلان

    ایلون مسک کا رواں سال انسان نما روبوٹ متعارف کرانے کا اعلان

    ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ٹیسلا کی جانب سےاپنے آپٹیمس روبوٹ کےنمونے کی رُونمائی رواں برس ستمبرکے مہینے میں کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایلون مسک کا کہنا تھا کہ کمپنی کا مصنوعی ذہانت کا دن انسان نما روبوٹ کے متعارف کرائے جانے کی وجہ سے ملتوی کیا جائے گا یہ روبوٹ کمپنی کے لیے اس کی برقی گاڑیوں کے کاروبار سے زیادہ اہم ثابت ہوگا۔

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے

    ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ٹیسلا کےیوم مصنوعی ذہانت کو 30 ستمبر تک ملتوی کردیا گیاہےممکنہ طورپر تب تک آپٹِمس کا پروٹو ٹائپ متعارف کرا دیا جائے۔


    آپٹِمس روبوٹ کی پہلی جھلک گزشتہ اگست میں پہلی اے آئی تقریب میں دِکھائی گئی تھی تقریب میں ایلون مسک کاکہنا تھا کہ اس کے معیشت پر بہت اہم اثرات ہوں گےعمومی مقاصد کے لیے بنایا گیا 5 فِٹ 8 انچ لمبا آپٹِمس متعدد کیمروں، سینسر اور خود کار پائلٹ سافٹ ویئر کی مدد سے سمت شناسی کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔

    ٹوئٹر انتظامیہ نے کمپنی ایلون مسک کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا

    ایلون مسک کے مطابق یہ روبوٹ روز مرہ کے کام کاج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا جیسے کہ سُپر مارکیٹ میں شاپنگ کرنا وغیرہ لیکن ابتداء میں اسے فیکٹری سے متعلقہ کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔

    گزشتہ برس انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپٹِمس روبوٹ 2022ء میں دنیا کی پیش قیمتی گاڑی ساز کمپنی کی جانب سے بنائی جانے والی سب سے اہم شے ہوگی مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر اس ربوٹ کو انسان دوست رکھا گیا ہے۔

    ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

  • ملازمت کے انٹرویو سے متعلق فکر مند لوگوں کیلئے گوگل کا نیا ٹول

    ملازمت کے انٹرویو سے متعلق فکر مند لوگوں کیلئے گوگل کا نیا ٹول

    کیلیفورنیا:ملازمت کے انٹرویو کے متعلق فکر مند لوگوں کے لئے گوگل نے نیا ٹول پیش کر دیا گوگل نے اس ٹول کو ’انٹرویو وارم اپ‘ کا نام دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل کا یہ فیچر حقیقت سے قریب ہوکرصارفین سے باقاعدہ انٹرویو کے سوالات کرتا ہے جس کے جوابات آپ دیتے ہیں اور یوں انٹرویو کی تیاری کے دوران کمزوریاں سامنے آتی ہیں

    ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    گوگل کا کہنا ہے کہ نئے افراد کے لیے انٹرویو ایک مشکل عمل ہوتا ہے اسی لیے ہم نے بہت تحقیق کےبعد انٹرویو وارم اپ تیار کیاہےاس میں خاص شعبوں کے ماہرین کےوہ حقیقی سوالات بھی شامل کئےگئے ہیں جو وہ بار بار پوچھتےہیں اس سے آپ کو انٹرویو کی تیاری میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

    دنیا بھر میں ٹوئٹر کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

    گوگل نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوبھی پوسٹ کی ہےجس میں گوگل نے’انٹرویو وارم اپ‘ کو دیکھا جاسکتا ہےیہ ٹول متنخب شعبے کے لحاظ سےآپ سےسوال کرتا ہےاوراسکی پشت پرمشین لرننگ اورمصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) موجود ہوتی ہےآپ کے سا منے مشینی سوال کنندہ انگریزی میں مختلف سوال کرتا ہےجس کا آپ جواب دیتے ہیں-

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    فی الحال اس میں گوگل کیریئر سرٹفیکٹ پروگرام سے وابستہ نوکریوں کے ہی انٹرویو کی سہولت موجود ہے جن میں ڈیٹا ماہر، ای کامرس، آئی ٹی سپورٹ، پروجیکٹ مینیجر، یو ایکس ڈیزائن، اور دیگر عام شعبے شامل ہیں۔

    بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی