Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واٹس ایپ کا اکاؤنٹس کی حفاظت کیلئے جی میل طرز کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کا اکاؤنٹس کی حفاظت کیلئے جی میل طرز کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    سان فرانسسکو: واٹس ایپ اکاؤنٹ فراڈ اور ہیکنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے فون نمبر پر تصدیقی کوڈ کی طرح کا ایک فیچر جلد ہی سامنے آنے والا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ڈبلیو اے بیٹا انفو نے کہا ہے کہ واٹس ایپ نے فیصلہ کیا ہے کہ اکاؤنٹ محفوظ کرنے کے لیے جلد یا بدیر جی میل کی طرح فون نمبر کا ڈبل ویری فکیشن نظام پیش کیا جائے گا۔

    پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں پر ایف آئی اےکا بیان سامنے آگیا

    بیٹا انفو کےمطابق گزشتہ برس ہیکرز، فشرز اور دیگرمجرموں کی جانب سے لوگوں کےاکاؤنٹس ہیک کرنے کےبعدواٹس ایپ کی مرکزی میٹا کمپنی نے یہ قدم اٹھایا ہے اس کے تحت جب بھی آپ روایتی فون چھوڑ کردوسرے فون پر واٹس ایپ کھولیں گےتو آپ کے نمبر پر بھیجا گیا کوڈ درکار ہوگا اس طرح واٹس ایپ اکاؤنٹ پر آپ کا کنٹرول بڑھ جائے گا جس کی حفاظت مزید یقینی ہوسکے گی۔

    ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کیلئے نیا طریقہ متعارف کرا دیا

    دوسری جانب ایک مخصوص وقت میں کوڈ شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔ کوڈ ڈالنے کے بعد عین جی میل کی طرح مالک کے اصل فون پر واٹس ایپ سرگرم کیے جانے کی خبر بھی بھیجی جائے گی یہ نظام گوگل اکاؤنٹس کے لیے کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    دنیا بھر میں ٹوئٹر کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

  • کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع ،تحریر: کنول زہرا

    کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع ،تحریر: کنول زہرا

    ملک کو بہترین دفاعی قوت بنانا ہر ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے, خطے کی صورتحال دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی بہت سے خطرات ہیں, جس سے نمٹنے کے لئے ریاست کو بجٹ کی کیثیر رقم مختص کرنی پڑتی ہے, جس کے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہیں, کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلح افواج کا کل بجٹ ستر فیصد ہے جبکہ کچھ اس اعداد و شمار کو 80 فیصد بتاتے ہیں, تاہم حقائق اس کے بر عکس ہیں, موجود حکومت کے  1400 سو ارب روپے دفاعی بجٹ کے حوالے سے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے, جو کہ بجٹ کا 16  حصہ بنتا ہے, اس سولہ فیصد میں سے پاک فوج کو594 بلین روپے یا 44 فیصد ملتے ہیں۔ درحقیقت، پاکستانی فوج کو کل بجٹ کے وسائل کا 7 فیصد حصہ ملتا ہے
    یہ اعداد جی ڈی پی کے لحاظ سے 1.1 فیصد بنتے ہیں, جس سے ان عناصر کی یکسر نفی ہوتی ہے جو  بے بنیاد جھوٹ پھیلاتے ہیں.

    پاکستان کے پاس وسائل کم اور سیکورٹی چیلنجز زیادہ ہیں, الله کے فضل سے اس کے باوجود  پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اپنے آپ کو اہم دفاعی قوت ثابت کیا.قومی سلامتی, ملک کے وقار, ریاست کے استحکام کی خاطر عظیم ملک کے پر عزم بیٹوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے, پاک فوج نے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہ لازوال اقدامات کیے اور کر رہے ہیں جو کم وسائل میں ممکن تو نہیں ہیں تاہم ملک کے دفاع کے لئے بے حد ضروری ہیں غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر کبھی بھی عوام کو یہ نہیں بتائیں گے کہ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران، پاکستان کا دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے پبہت کم ہو گیا ہے. 1970 کی دہائی میں ہمارا جی ڈی پی کے 6.50 فیصد جبکہ  2021 میں 2.54 فیصد پر آ گیا ہے۔ غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر عوام کو کبھی یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج نے سال 2019 میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنے بجٹ میں مختص 100 ارب روپے بھی ترک کیے تھے۔

    ملٹری ایکسپینڈیچر ڈیٹا بیس اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کے ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان (2.54 جی ڈی پی) کے مقابلے دفاع پر زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں عمان (جی ڈی پی کا 12 فیصد) لبنان (10.5 فیصد)، سعودی عرب (10.5 فیصد) شامل ہیں۔ 8 فیصد، کویت (7.1 فیصد)، الجزائر (6.7 فیصد)، عراق (5.8 فیصد)، متحدہ عرب امارات (5.6 فیصد)، آذربائیجان (4 فیصد)، مراکش (5.3 فیصد)، اسرائیل (5.2 فیصد)، اردن (4.9 فیصد) )، آرمینیا (4.8 فیصد)، مالی (4.5 فیصد)، قطر 4.4 فیصد، روس 3.9 فیصد، امریکی 3.4 فیصد اور ہندوستان (3.1 فیصد) ہے, ان اعداد و شمار کی روشنی میں  پاکستان کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے کم ہے۔ پاکستان فی کس کی بنیاد پر 40 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ اسرائیل 2200 ڈالر فی کس کی بنیاد پر خرچ کرتا ہے۔ الله کی زرہ نوازی ہے کہ گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق، دنیا میں سب سے کم دفاعی بجٹ رکھنے کے بعد بھی، پاکستان کی مسلح افواج "دنیا کی 9ویں طاقتور ترین فوج  ہے

    اگرچہ پاکستان کے پاس دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے لیکن اس کے اخراجات سب سے کم ہیں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کی ریسرچ کے مطابق امریکہ 392000 ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے، سعودی عرب 371000 ڈالر خرچ کرتا ہے، بھارت 42000 ڈالر خرچ کرتا ہے، ایران 23000 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان 12500 ڈالر سالانہ فی فوجی خرچ کرتا ہے۔ ہندوستان کے 76.6 بلین ڈالر کے فوجی اخراجات دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس میں 2020 سے 0.9 فیصد اور 2012 سے 33 فیصد اضافہ کیا گیا۔ ہندوستانی دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 8 گنا زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود کرنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال اقدام بھی کیا۔ لیکن اس کے باوجود دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے نئے روایتی ہتھیاروں کو نظام کو بھی شامل کر نے عمل میں کوئی تعطل نہیں آیا, اس دوران بھی بہترین سائبر وارفیئر کی صلاحیتیں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں تازہ ترین پیش رفت رہیں, اس کے علاہ کم دفاعی وسائل کے باوجود پاکستان آرمی دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے اور اپنے پیشہ ورانہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونے دیا۔

    بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 6سے7گُنا زیادہ ہے،بھارت صرف نئے اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ سے دوگُنی رقم ہے 2018ء کے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الاونس نہیں لیا گیا،کرونا وَبا کے خلاف قومی جنگ میں دِفاعی بجٹ سے ہی 2.56ارب روپے صَرف کئے گئے۔لیکن اضافی ڈیمانڈ نہیں کی گئی۔ ٹِڈی دَل کے خلاف مہم میں بھی دِفاعی بجٹ سے ہی297ملین روپے خرچ ہوئے،چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر گذشتہ سالوں میں دِفاعی آلات و مصنوعات کی مقامی تیاری (indigenisation)پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملکی زرِ مبادلہ میں کمی واقع نہ ہو،پاک افواج نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کی مَد میں سال2019-20 میں 190 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی،25.8ارب روپے انکم ٹیکس، کسٹم سرچارج اور سیلز ٹیکس کی مَد میں جمع ہوئے،پاک افواج کے رِفاعی اداروں نے 164.239ارب روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مَد میں ادا کئے،ان اداروں میں آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، فوجی فاونڈیشن، نیشنل لاجسٹکس سیل اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن شامل ہیں۔ قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ دفاع کا نہیں بلکہ غیر ملکی قرضوں  دیگر حکومتی اخراجات کا ہے,  غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو سگنین صورتحال سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے, الله پاکستان کو اپنی امان میں رکھے, الہی آمین

  • عمران خان کی حکومت کا خاتمہ

    عمران خان کی حکومت کا خاتمہ

    عمران خان کی حکومت کا خاتمہ
    عمران خان 2018 میں کرپشن کے خلاف جنگ، پولیس، عدلیہ اور تمام ریاستی اداروں میں اصلاحات لانے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ الیکشن کے بعد 26 جولائی 2018 کو اپنی پہلی تقریر میں عمران خان نے کہا کہ احتساب مجھ سے شروع ہوگا، میں سادگی اختیار کروں گا، پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بناؤں گا، کمزور طبقوں کو اوپر لاؤں گا، گورننس بہتر کروں گا اور کرپشن ختم کروں گا، وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا۔ کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سالوں میں معیشت کی بحالی، مہنگائی پر قابو پانے اور اصلاحات لانے کے وعدے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔ ان کے تین سالہ دور حکومت میں اپوزیشن نے انہیں مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کی خراب حکمرانی کی وجہ سے بے دخل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ اپنے اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے۔ 3 مارچ 2021 کو عمران خان نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ ایک سال بعد مارچ 2022 میں اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپوزیشن نے عمران خان کو ہٹانے کی کوششیں شروع کر دیں، جب ان کی حکومت کے اتحادی پارٹی چھوڑ کر حکومت کے خلاف اپوزیشن میں شامل ہو گئے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غیر ملکی سازش ہے، ان کے پاس ثبوت کا خط موجود ہے۔اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے عوام کے سامنے خط دکھایا، اسے غیر ملکی سازش کا ثبوت قرار دیا، خط کا مکمل مواد تاحال منظر عام پر نہیں آیا۔ لیکن عمران خان کے مطابق خط میں ایک پیغام ہے جو مبینہ طور پر اسد مجید کو ڈونلڈ لو کی طرف سے موصول ہوا ہے جو کہ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے امریکی معاون وزیر خارجہ ہیں۔ اپوزیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خط کو اگلے دن سیکیورٹی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کرکے عوام کے سامنے کیوں نہیں دکھایا؟ پاکستان میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق انہیں بیرونی سازش، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکی کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی عمران خان بات کر رہے ہیں۔ عمران خان کو غیر ملکی سازش کا خیال کافی دیر سے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ میں زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے تو انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ان کی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ روک دی اور اپوزیشن کے قانون ساز کو غدار قرار دے دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے امریکہ کے ساتھ سازش کی۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے سے پارلیمنٹ تحلیل کر کے ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا.لیکن متحدہ اپوزیشن کے مطابق عمران خان کی حکومت گرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ان کے اتحادی اور فرنٹ مین کی طرف سے مسلسل بلیک میل کیا جا رہا تھا۔

    ان کی پارٹی کے زیادہ تر ایم این اے ان کی حکمرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیا۔ اپوزیشن نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ بہت سے دوسرے عوامل ہیں جو واقعی خان کی پارٹی کی حکومت کے زوال کا باعث بنے جن میں آرمی چیف کی توسیع اور بعد میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے دوران حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر پاکستان میں فوج کے ادارے کو متنازعہ بنانا شامل ہے۔ دوسرا عنصر خارجہ پالیسی بھی ہے اور صوبہ پنجاب کی گورننس اور اس صوبے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تقرری جو پاکستان کا آدھا حصہ سمجھتا تھا۔ عمران خان تمام غیر آئینی اقدامات کرنے کو تیار تھے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو غیر آئینی اقدام اٹھانے سے انکار پر برطرف کر دیا گیا۔ عمران خان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے اور غیر ملکی سازش کا بیانیہ بنا رہے تھے اور ان کا سارا بیانیہ اسی پر مبنی تھا۔ وہ سیاسی شہید بننے کے لیے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، قومی اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے اس نے پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران میں دھکیل دیا۔ انہوں نے اسے سرپرائز قرار دیا لیکن یہ کوئی سرپرائز نہیں تھا، یہ ایک آئینی بحران تھا جس نے پاکستان کو سیاسی بحران میں بدل دیا۔ خان نے تمام اقدامات صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے کیے، اور کچھ نہیں۔ جب عمران خان نے قومی اسمبلی کو تحلیل کیا تو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ’’سو موٹو نوٹس‘‘ لیا، 4 دن کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے پایا کہ وزیراعظم عمران خان کا 3 اپریل کو ہونے والے عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کا اقدام تھا۔ آئین اور قانون کے خلاف ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ غلط تھا اور 9 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی کو دوبارہ بلانے اور عدم اعتماد کا ووٹ کرانے کا حکم دیا۔

    9 اپریل کو اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کی رہنمائی میں شروع ہوا لیکن خان حکومت نے عدم اعتماد کے ووٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے تمام تاخیری حربے استعمال کیے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ نہ ہو سکے۔ اس چیز نے ایک اور سیاسی ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی عمران خان کی جانب سے ووٹنگ کے حوالے سے دباؤ کا شکار تھے۔ سپیکر سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند تھے، دوسری طرف ان پر توہین عدالت لگ رہی تھی، اگر وہ ایسا نہ کریں تو۔ پورا دن اسی افراتفری کی زد میں رہا، ووٹنگ نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:30 پر کھول دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بحران سے نمٹنے کے لیے رات گئے کھولے۔ دوسری جانب کسی بھی قسم کی بدامنی سے نمٹنے کے لیے تمام ریاستی ادارے ہائی الرٹ تھے۔ آخر کار قومی اسمبلی کے سپیکر اسدقیصر نے سپیکر شپ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے 11 بجکر 45 منٹ پر اجلاس کی صدارت کی اور اپنا استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنی کرسی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پینل کے رکن ایاز صادق کو دی۔ ایاز صادق نے اگلے اجلاس کی صدارت کی اور تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کا عمل مکمل کیا جس میں 174 ارکان نے عمران خان کے خلاف ووٹ دیا۔ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹایا گیا تھا۔تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد سے خان کی تقاریر میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان تقاریر میں قومی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ذاتی اور سیاسی ہٹ دھرمی سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی تقاریر سماجی سطح پر بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بنیں۔ لگتا ہے عمران خان وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو کر واپس کنٹینر پر چڑھ گئے ہیں۔ عمران خان نے خود اپوزیشن کو متحد ہونے اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی راہ ہموار کی۔پاکستانی عوام عمران خان سے بہت پر امید تھے کہ وہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی امید ٹوٹ گئی، آخرکار انہوں نے پاکستان کو آئینی بحران میں ڈال دیا۔ نئی حکومت شہباز شریف کی قیادت میں بن گئی ہے ،دیکھیں اب آنے والے دنون میں کیا ہوتا ہے؟

  • عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    ماہرین آثار قدیمہ نے پیر کو اعلان کیا کہ عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : کردستان آرکیالوجی آرگنائزیشن کے ماہرین آثار قدیمہ اور جرمنی کی یونیورسٹی آف فریبرگ اور یونیورسٹی آف ٹوبینگن کے ماہرین آثارقدیمہ کی ایک ٹیم نے وسیع شہرکے بڑے حصوں کی کھدائی کی جسمیں ایک محل، دیواروں اورمیناروں پرمشتمل بڑی عمارتوں، کثیر المنزلہ اسٹوریج بلڈنگ اور ایک صنعتی کمپلیکس دریافت کیا گیاجس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 2000 قبل مسیح کی میتنی سلطنت کا مرکز تھا۔

    عراقی قدیم شہر، کردستان کے علاقے میں ایک مقام پر واقع ہے جسے کیمون کے نام سے جانا جاتا ہے، جرمن اور کرد ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے دستاویز کیا تھا جرمنی کی فرائی برگ یونیورسٹی میں نزدیکی مشرقی آثار قدیمہ کی جونیئرپروفیسر اور تحقیقی ٹیم کی رکن ایوانا پلجز نے کہا کہ یہ بستی ممکنہ طور پر 1550 سے 1350 قبل مسیح کے درمیان مٹانی سلطنت کے دوران ایک اہم مرکز تھی۔

    فریبرگ یونیورسٹی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ عراق اور خاص طور پر ملک کا جنوبی حصہ مہینوں سے شدید خشک سالی سے متاثر ہے جس کی وجہ سے فصلوں کو خشکی سے بچانے کے لیے دسمبر سے موصل کے ذخائر سے بڑی مقدار میں پانی نکالا جا رہا ہے۔

    پانی کی سطح میں کمی کی وجہ سے عراقی کردستان کے کیمون خطے پر واقع کانسی کے زمانے کا شہر دوبارہ نمودار ہوا جو کئی دہائیوں پہلے ڈوب گیا تھا سائنسدانوں نےعراقی کرد علاقے دوہوک میں ڈائریکٹوریٹ برائے وادرات اور ورثہ کے تعاون سےشہرکا تجزیہ کیا یہ دریافت اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خشک سالی کے حالات غیر متوقع نتائج حاصل کر رہے ہیں-

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    پلجز نے کہا کہ چونکہ یہ شہر براہ راست دجلہ پر واقع تھا، اس لیے اس نے مٹانی سلطنت کے بنیادی علاقے، جو موجودہ شمال مشرقی شام میں واقع تھا، اور سلطنت کے مشرقی علاقے کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہو گا اس بستی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قدیم شہر زخیکو ہے، جو کبھی اس خطے کا سیاسی مرکز ہوا کرتا تھا۔

    محققین نے کہا کہ قلعہ بندی کی دیواریں کچھ جگہوں پر کئی میٹر اونچی کھڑی ہیں دھوپ میں خشک مٹی کی اینٹوں سے تعمیر ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر اچھی طرح سے محفوظ ہیں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق، کانسی کے زمانے کا شہر ایک زلزلے میں تباہ ہو گیا تھا جس نے اس علاقے کو تقریباً 1350 قبل مسیح میں مارا تھا انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفت کی وجہ سے دیواروں کے اوپری حصے زیادہ تر بچ جانے والی عمارتوں کو دفن کرنے کا سبب بنتے ہیں، جو انہیں ہزار سال کے دوران نسبتاً اچھی حالت میں رکھتے ہیں۔

    کیمون کی کھدائی سے سیرامک ​​کے پانچ برتن بھی برآمد ہوئے جن میں 100 سے زیادہ گولیاں کینیفارم اسکرپٹ میں لکھی ہوئی تھیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدیم خط و کتابت کی کچھ شکلیں ہو سکتی ہیں، جو کہ اس خوفناک زلزلے کے فوراً بعد مشرقِ آشوری دور کی ہیں۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

    یہ ایک معجزہ کے قریب ہے کہ غیر فائر شدہ مٹی سے بنی کینیفارم گولیاں اتنی دہائیوں تک پانی کے اندر زندہ رہیں،” جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبینگن کے شعبہ قریبی مشرقی آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر پیٹر فلزنر اور تحقیقی ٹیم کے ایک رکن نے ایک بیان میں کہا۔

    پلجز نے کہا کہ سائنس دان قدیم شہر کے بارے میں کچھ عرصے سے جانتے ہیں، لیکن 1980 کی دہائی میں موصل ڈیم کی تعمیر کے بعد سے یہ جگہ مسلسل زیر آب ہے۔

    خطے میں خشک سالی نے مختصراً 2018 میں بستی کا ایک حصہ دوبارہ سر اٹھانے کا سبب بنا، جس سے پلجز اور اس کی ٹیم کو محل کے کچھ حصوں کی کھدائی کرنے کا موقع ملا۔ اس فیلڈ ورک کے دوران ہی اس نے کہا کہ اسے شک ہونے لگا کہ یہ ڈھانچہ کیمون کے ایک بہت بڑے شہر کا حصہ ہے۔

    آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    انہوں نے کہا یہ دسمبر 2021 کے وسط تک نہیں تھا کہ موصل کے آبی ذخائر کی سطح حیرت انگیز طور پر تین سالوں میں پہلی بار گر گئی۔” "میرے ساتھی اور میں فوراً جان گئے کہ ہمارے پاس اس موقع کو کھونے کا وقت نہیں ہے۔

    قدیم بستی کو محفوظ رکھنے میں مدد کے لیے، ماہرین آثار قدیمہ نے کھنڈرات کو پلاسٹک کی کوٹنگ سے ڈھانپ دیا اور اس جگہ کو بجری سے بھر دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بغیر پکی ہوئی مٹی کی دیواروں کی حفاظت کرے گی فروری سے ڈیم میں پانی کی سطح بتدریج بڑھ رہی ہے، اور شہر اب دوبارہ ڈوب گیا ہے۔

    "یہ مکمل طور پر غیر متوقع ہے کہ یہ کب دوبارہ سر اٹھائے گا صرف ایک چیز جو یقینی ہے کہ وقت آنے پر میں اور میرے ساتھی دوبارہ وہاں ہوں گے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • بی جے پی کی روس اور یوکرین کے تنازع کی وجہ سے میں پھنسے ہوئے سٹوڈنٹس پر سیاست

    بی جے پی کی روس اور یوکرین کے تنازع کی وجہ سے میں پھنسے ہوئے سٹوڈنٹس پر سیاست

    بی جے پی کی روس اور یوکرین کے تنازع کی وجہ سے میں پھنسے ہوئے سٹوڈنٹس پر سیاست
    یوکرین میں پھنسے ہوئے بھارتی طلباء کو بچانے پر تین طرفہ پروپیگنڈہ جنگ چھڑ گئی
    ہے۔ ہزاروں پھنسے ہوئے اور ایک کی ہلاکت کے ساتھ، یوکرین میں ہندوستانی طلباء جنگ کے پروپیگنڈے کا مرکز ہیں۔ روس اور یوکرین دونوں نے ہندوستانی طلباء کے تحفظ کا وعدہ کرتے ہوئے بیانات جاری کیے اور دوسری طرف انہیں خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ روس نے یوکرین پر ہندوستانی طلباء کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا ہے۔ روس نے یوکرین پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ان طلبا کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو انہیں روسی سرزمین جانے سے روک رہا ہے۔ روس نے الزام لگایا کہ 3000 ہندوستانی طلباء کو یوکرائنی فورسز نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ یوکرین اور روس دونوں نے ایک دوسرے پر ہندوستانی طلباء کو جاری تنازع میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ہندوستانی سٹوڈنٹس بی جے پی کی بچاؤ کی کوششوں اور تنازعہ کے لیے مجموعی نقطہ نظر سے ناراض ہیں۔ روس نے دعویٰ کیا کہ اس کی فوج پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ روسی وزارت دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نے اپنے فوجی طیاروں میں طلباء کو روسی سرزمین سے ہندوستان واپس کرنے کی پیشکش کی۔ ساتھ ہی طلباء کے انخلاء کو بی جے پی مودی حکومت کی پیٹھ تھپتھپانے کے موقع کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ آپریشن گنگا، طالب علموں کو بچانے کے لیے ہندوستانی حکومت کا مشن، یہاں تک کہ یوپی کی انتخابی مہم تک پہنچ چکا ہے، مودی نے اسے ریاست میں متعدد عوامی تقاریر کے دوران اٹھایا۔یہاں تک کہ مودی نے ٹیلی ویژن پر بات چیت کے دوران طلباء کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ چار مرکزی وزراء یوکرین کی سرحد سے متصل ممالک میں انخلاء مہم کی نگرانی کے لیے گئے۔ بچاؤ کی کوششوں میں حصہ لینے والے ان کی ویڈیوز اور ہندوستان میں وزیروں کے ذریعہ طلباء کو موصول ہونے والی ویڈیوز کو بی جے پی سوشل میڈیا پر آگے بڑھا رہی ہے۔

    مودی کا قوم پرست لبادہ اوڑھے ہوئے بھارتی شہریوں کے مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ طالب علموں کو بچانے کے ارد گرد تعلقات عامہ کی یہ جھڑپ صرف بی جے پی تک محدود نہیں ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اپنی امدادی ٹیم یوکرین کی سرحد سے متصل ممالک میں بھیجے گی۔ تاہم، بہت سے طلباء اور اپوزیشن کے کچھ اراکین نے حکومت کے اس دعوے کا مقابلہ کیا ہے کہ وہ طلباء کو واپس لانے کے لیے مناسب مدد فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے یوکرین میں پریشان حال طلباء کی ویڈیوز شیئر کی ہیں جو شکایت کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔ کئی طلباء نے مودی حکومت کی عوامی رابطہ مہم پر سوال اٹھایا ہے، خاص طور پر اس کے ان کو بچانے کے دعووں پر۔ "ہندوستانی حکومت 1,000 ہندوستانی طلباء کو واپس لانے کی تشہیر کر رہی ہے،” ایک طالب علم جس نے پروازیں رکنے سے پہلے یوکرین چھوڑ دیا تھا نے کہا۔ یہ تمام کوششیں ملک کی مغربی سرحد پر مرکوز ہیں۔ طالب علم نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں ہزاروں طلباء کا کیا ہوگا؟ ایک اور طالب علم نے زمین پر پی آر اور اصل کام کے درمیان فرق کے بارے میں یہ کہہ کر شکایت کی کہ اہلکار ہمیں ہوائی اڈے پر گلاب دے رہے ہیں۔ لیکن جب یہ طلباء سرحدوں پر پھنسے ہوئے تھے تو کوئی انہیں بچانے نہیں آیا۔ ایک غیر معمولی اقدام میں، ہندوستانی وزارت خارجہ نے حکومت اور میڈیا کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جو اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں کہ روس نے طلباء کو نکالنے کی ہندوستان کی درخواست پر چھ گھنٹے کے لیے جنگ روک دی۔ مختصر یہ کہ یوکرین پر روس کے حملے نے ہندوستانی خارجہ پالیسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دو دوستوں، امریکہ اور روس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور، نئی دہلی کا جھکاؤ پوٹن کی طرف ہے۔ اس نے اب تک اقوام متحدہ کے کسی بھی ووٹ سے پرہیز کیا ہے جو روسی حملے پر تنقید کرتا ہے۔ بڑی حد تک، مودی کی خارجہ پالیسی کا موقف ہندوستان کے مفادات سے متعلق عملی عوامل پر مبنی ہے۔

    ہندوستان کی نازک سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ، اس کے ہتھیاروں کی سپلائی چین کو فعال رہنا چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک کا 80 فیصد فوجی سازوسامان روس سے ہے جو سرد جنگ کی میراث ہے۔ ہندوستان میں یہ عالمی تبدیلیاں بی جے پی کے لیے بری خبر ہیں، یہ دیکھتے ہوئے کہ پارٹی نے گزشتہ سات سالوں سے مودی کی ساخت کو مقامی طور پر بہتر بنانے کے لیے خارجہ پالیسی کا استعمال کیا ہے۔ مودی کے دور میں خارجہ پالیسی کو ایک عوامی، مقبول اور انتخابی ٹول میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مثالوں میں سابق صدر ٹرمپ کے ساتھ حامیوں سے بھرے اسٹیڈیم میں پاکستان میں 2019 کے فضائی حملوں کو لوک سبھا انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے ایک اہم تختے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مشترکہ طور پر پیش ہونا شامل ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ اس وقت بھارت کے لیے جوڑ توڑ کی جگہ تنگ ہے، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مودی ماضی کی زبردست خارجہ پالیسی کی چالوں کو دہرائیں گے۔ درحقیقت، اتر پردیش میں، پی ایم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یوکرین سے طلباء کا انخلا ان کی قیادت میں دنیا بھر میں ہندوستان کی بڑھے ہوئی اہمیت کی وجہ سے تھا۔ پاکستان کے ساتھ 2019 کے تصادم کے مقابلے میں، یہ ایک قدرے تناؤ والا نقطہ ہے جس نے جذبات کو جنم دیا۔غیر ملکی مبصرین کی طرف سے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت پر مسلسل تنقید سے مودی کو بھی نقصان پہنچے گا، جنہوں نے اپنے آپ کو ایک سیاست دان کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کی دنیا میں تعریف کی گئی ہے۔

    پچھلے ہفتے، بی جے پی نے اس غلط تاثر کا پرچار کیا کہ مودی نے اکیلے ہی روس کو قائل کیا کہ وہ چھ گھنٹے کے لیے اپنی مہم روک دے تاکہ ہندوستانیوں کو یوکرین کے جنگ زدہ شہروں سے نکالا جائے۔ یہ خیال ایک ایسا خیال تھا جس کی عوامی سطح پر وزارت خارجہ نے بھی تردید کی تھی۔ بھارت کی عدم شرکت کو ایک نااہل، تیسری دنیا کے ملک کی جانب سے صوبائی ردعمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ایک پریشان کن رجحان ہے، بی جے پی کے دعووں کے پیش نظر کہ مودی نے ہندوستان کو "وشوا گرو” میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے تحت پوری دنیا رہنمائی کی طرف دیکھ رہی ہے۔یہاں تک کہ جب وہ ایک دوسرے پر ہندوستانیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہیں، روس اور یوکرین نے بھی ہندوستانی طلباء کو واپس لانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ "روس جانے والے مختصر ترین راستے کے ساتھ انسانی ہمدردی کی راہداری کے ذریعے” ہندوستانی طلباء کے فوری انخلاء کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر، ہندوستانی حکام نے یوکرین کے شہر کھرکیو میں طلباء سے کہا کہ وہ تین محفوظ علاقوں میں چلے جائیں۔ ہندوستان میں نامزد روسی سفیر ڈینس علی پوف نے بھی وعدہ کیا ہے کہ روس ہندوستان کے ساتھ تفصیلات کو شیئر کرے گا اور اسے پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات شروع،یوکرینی صدر نے بڑا مطالبہ کر دیا

    یوکرین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہندوستانی طلبہ کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، وہ پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے مسئلے کو استعمال کرتے ہوئے روس سے اپنی جارحیت کو روکنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ یوکرین نے اپنے بیان میں کہا کہ طلباء کی مدد روسی جنگ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ روسی بمباری اور میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے شہروں کے ذریعے انخلاء کا انتظام کرنے کی کوشش انتہائی خطرناک ہے۔ دریں اثنا، ہندوستانی طلباء نے الزام لگایا ہے کہ یوکرائنی حکام تعاون نہیں کررہے ہیں۔ طلباء نے درحقیقت یہاں تک کہا ہے کہ یوکرین کی مسلح افواج نے ان پر حملہ کیا اور انہیں ٹرینوں میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم یوکرین نے کسی قسم کے امتیازی سلوک کے الزامات کی تردید کی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان اس داستانی جنگ کا مقصد ہندوستانی حمایت حاصل کرنا ہے۔ اب تک، ہندوستان روسی حملے پر اقوام متحدہ میں تینوں قراردادوں پر ووٹنگ سے باز رہا ہے۔ ان میں سے دو قراردادوں میں روس کے حملے پر تنقید کی گئی اور ایک قرارداد میں اس بحران پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس طرح ہندوستان کا موقف واضح طور پر روس کی طرف جھک گیا ہے۔ بدلے میں، ہندوستانی طلباء کی حفاظت ایک نازک مسئلہ بن گیا ہے جس پر اب یوکرین اور روس نئی دہلی پر فتح حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔اس سے قبل، دیگر ممالک کے علاوہ ہندوستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر نے کہا تھا کہ حکومتوں کو یوکرین میں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جنگ ختم کرنے کے لیے روس کے خلاف ووٹ دینا چاہیے تھا۔

  • سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    ریاض: سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت ہوئی ہیں-

    باغی ٹی وی : ” عرب میڈیا ” کے مطابق سعودی عرب کے مغرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی لاکھوں سال قبل کی باقیات کی دریافت نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیران کردیا۔

    ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کے ’سی ای او‘ جان پگانو نے کہا کہ ایڈونچر کی روح ہمیشہ دریافت کے جوہر سے وابستہ رہی ہے یہ جگہ پہلے سے ہی سعودی عرب میں زیر آب آثار قدیمہ کی کھدائی کا مرکز رہی ہے ارضیاتی سروسے پتا چلتا ہے کہ خشکی پر درفیات ہونے والے یہ فوسلز لاکھوں سال قبل زیر آب تھے یہ دریافت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس خطے میں زندگی لاکھوں سال پہلے بھی موجود تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کے پختہ عزم کی توسیع ہے جو ان موجودہ قدرتی خزانوں کو تلاش کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور انہیں انتہائی مناسب طریقے سے دنیا کو دکھانے کے لیے کوشاں ہے۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    تم اقتدار کی ہوس اور انا کی جنگ لڑ لو۔
    عوام کی خیر ہے,گزر ہی جائے گی۔
    کہتے ہیں یہ حکمران عوام کی جنگ لڑتے ہیں بھٹو نے اقتدار کے لیے پھانسی دے دی اقتدار نہ چھوڑا. نواز شریف نے اقتدار نہ چھوڑا نااہل ہو گیا ماں مر گئی جنازے پہ نہ آیا بیوی مر گئی اس کی میت دیکھنے نہ آیا تابوت بھیج دیا ۔عمران خان دعائیں کرتا رہا کہ میرے حریف میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں اور جب عدم اعتماد آگئی تو ملکی سلامتی کو اداروں کو داو پر لگا دیا۔عمران خان نے جھوٹ بول کر امریکی خط کا شوشہ چھوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ تو بنا لیا مگر دنیا بھر میں اپنے ملک کو بدنام کر گیا ۔اپنے اداروں کو بدنام کر گیا ۔فرض کریں اگر یہ سچ بھی تھا تو پہلے آپ اپنی خارجہ پالیسی تو مضبوط بناتے اپنے ملک کو مضبوط بناتے ۔اتنا مضبوط کہ آپ جس ملک سے قرضہ لیکر اپنا ملک چلا رہے ہو ۔اس سے پنگا لینے کے بعد آپ کو اس سے قرضہ نہ لینا پڑے آپ نے پوری دنیا میں امریکہ امریکہ کر کہ خود کو ہی بدنام کیا آج عمران خان بھی حاکم ہوتا تو کوئی ملک آپکو قرضہ نہ دیتا۔کیونکہ اقتدار کی ہوس میں آپکی دس گز لمبی زبانیں آپ کی سیاسی ساکھ تو خراب کرتی ہے ساتھ ساتھ دنیا کو آپکا معیار بھی دکھاتی ہے کہ پلے نہی دھیلا تے کردی میلا میلا

    کچھ لوگ کہتے ہیں بھٹو برا ہو سکتا نواز شریف برا ہو سکتا لیکن عمران خان بہت اچھا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی عوام کا بہت خیال رکھا شاید وہ عوام حریم شاہ اور فرح گوگی تھی ۔کیونکہ عمران خان ہی تھا جس نے مہنگائ کی شروعات کی۔پانچ سال جو پہلے جو بجلی کا یونٹ پانچ روپے تھا وہ سترہ روپے کیا عمران خان نے ۔پٹرول جو پچپن روپے تھا ستر روپے کیا عمران خان نے ۔یہ عمران خان ہی تھا جس نے بجلی اور پٹرول کے معاہدے کیے آئ ایم ایف سے۔

    یہ عمران خان ہی تھا جس کا کہنا ہے کرسی مل جاے ورنہ ملک تین ٹکرے ۔کرسی مل جاے ورنہ فوج تباہ ہو جاے گی کرسی مل جاے ورنہ عوام لٹ جاے گی ۔کرسی مل جاے ورنہ اس ملک میں کوی بھی میری طرح مخلص لیڈر نہیں آے گا ۔بس ایک بار کرسی مل جاے لانگ مارچ دھرنوں سے ملکی ساکھ کو نقصان ہونا شروع ہو جاے گا ۔بس کرسی مل جاے پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔کرسی مل جاے پھر جنرل باجوہ جیسا نیک ایماندار دنیا میں کوی نہیں اور پاک فوج جیسی عظیم فوج کسی ملک پاس نہیں۔

    یہ عمران خان ہی تو تھا کہ جب کراچی پی آئی اے حادثہ کا شکار ہوا پائلٹ سواریاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا تو جناب نے سارا ملبہ پی آئی اے کے افسران پہ ڈال کر بہادری کی رقم قائم کر دی کہ پی آئی اے میں تمام افسران پائلٹ کی جعلی ڈگریاں ہے۔اور ان کو پی آئی اے سے نکال دیا گیا ۔لیکن پھر کیا ہوا کہ تمام ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا جو اب تک لگی ہوئی ہے اور جب تحقیقات کی تو دو کے سوا کسی کی ڈگری جعلی نہ تھی ۔

    یہ عمران خان ہی تھا جو گراونڈ میں کہتا تھا کہ فوج کے خلاف خلاف نہ بولو فوج ہے تو ملک ہے پھر اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے فوج کے خلاف گالی گلوچ کرواتا تھا ۔بعد میں اسی سوشل میڈیا ٹیم کو ملنے کے لیے پشاور بھی بلوا کر شاباش دیتا تھا ۔یہ عمران خان ہی تو تھا جو اپنے لانگ مارچ کو جہاد اور صحابہ انبیاء کرام کی جنگوں سے ملوا کر اپنے انصافین کو گھروں سے نکلنے کا جوش و جزبہ دلواتا رہا اور پھر جب وقت آیا تو مزاکرات کر کے راتوں رات پتلی گلی سے نکل گیا۔

    ۔کیونکہ عمران خان اور اس کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بڑا گیمر بندہ پاکستان میں کوئی نہیں لیکن یہ سوچ ہے ان کی۔ ملک کرکٹ کی پچ نہیں ہے نہ ہی ملک دس چوکوں چھکوں سے چلتے ہیں کیونکہ یہ ملک ہے کرکٹ نہیں ۔کہ جہاں بلا میرے ہاتھ میں ہے تو بس میرے ہاتھ میں رہے بس میں ہی کھیلوں گا۔ کیونکہ میں کرکٹ کا چیمپئن ہوں دنیا مجھے چاہتی ہے۔۔لیکن یہ بھول جانا اس سے پہلے بھی یہاں تخت نشین کوی اور تھا اس کی بھی یہی سوچ تھی۔۔

    کاش عمران خان وہ لیڈر ثابت ہوتا جو پانچ سال پہلے اوپزیشن میں تھا ۔سچا کھرا سنہرے خواب دکھانے والا۔۔۔چوروں اور ڈاکووں سے پیسہ واپس لانے کے دعوے کرنے والا۔۔
    پر کیا ہے کہ خان بھی تو سیاست دان ہی نکلا ۔۔اور سیاست دان عوام سے کیے اپنے وعدے پورے ایسا بھلا کیسے ممکن تھا۔
    حنا سرور

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان اقتدار سے گئے تو واقعی خطرناک ہو گئے پاکستان کے لیے ۔پاکستانی قوم کے لیے ۔اداروں کے لیے

    یو ٹرن خان کے نام سے مشہور عمران نیازی اقتدار میں آنے تو قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا ۔آئی ایم ایف کے پاس گئے لیکن خود کشی نہ کی. امریکہ جا کر کشمیر فروشی کی اور اسلام آباد میں ایک دن کشمیر کے لیے ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہ کر منافقت کی حد کر دی۔ دوست ممالک کو ناراض کیا .خارجہ پالیسی اتنی کمزور تھی کہ کبھی ترکی ناراض تو کبھی سعودی عرب کبھی ایران کبھی چین اور دعوے اتنے بلند و بالا جو کھوکھلے ہی رہے۔ کرکٹر عمران نیازی نے سمجھا وزیر اعظم بن کر یہاں بھی سب کو فتح کروں گا لیکن انکی اپنی وکٹیں گرتی رہیں کابینہ ایک بار نہیں درجنوں بار بدلی۔ مشیر بدلے وزیر بدلے لیکن عوام کی حالت نہ بدلی ۔بزدار کے حوالے پنجاب کر کے پنجاب کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا بیورو کریسی میں تبادلے ہر ماہ ہوتے رہے جو کام کرتا اسکا تبادلہ کر دیا جاتا فرح کے نام پر کرپشن کا بازار گرم کیا ۔ مشیر ملک لوٹتے رہے لیکن نیازی کا سارا زور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو جیلوں میں بھجوانے پر رہا ۔ڈالر مہنگا ہوتا چلا گیا مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا پھر حالات نے پلٹا کھایا اور عمران خان آئین شکن بنے ۔عمران نیازی کا نام تاریخ آئین شکن کے طور پر یاد کرے گی ۔کرسی اتنی عزیز کہ اپنوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے باوجود بھی وزیراعظم کی کرسی سے چپکے رہے ۔جب کرسی گئی تو عمران خان کا دوہرا معیار سامنے آنے لگا اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے اداروں کے خلاف ٹرینڈ کروائے گئے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ اداروں کو دھمکیاں دی گئیں افواج پاکستان کے افسران کی کردار کشی کی گئی ۔خفیہ خط والا بھانڈا پھوٹا تو جان سے مارے جانے کا انکشاف کیا حکومت نے سیکورٹی دینے کو کہا تو پھر بہادر عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ سے پشاور چھپ کر جا بیٹھے ۔اور اداروں کی کردار کشی کے علاوہ ملکی سالمیت کے خلاف بیان دینے لگے۔ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کو اب کسی دماغی ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہے یا پھر انہیں تین روز کے لئے صرف تین روز کے لیے رانا ثناء اللہ کے حوالہ کیا جائے تو انکا علاج ہو سکتا ہے۔عمران خان کی اداروں کے خلاف مہم سیاست میں شدت پسندی اراکین اسمبلی کو دھمکیاں سب ریکارڈ پر ہیں آئین شکنی کے ساتھ توہین عدالت بھی کرتے رہے اور بہادر اتنے کہ اب لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

    عمران خان کے دور حکومت میں جو ہوا اسے پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔ڈالر کا مہنگا ہونا۔ آٹے کا بحران چینی کا فقدان پٹرول کے لیے لمبی لائنیں ادویات کی قلت خود ساختہ مہنگائی سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈالنے کو عوام کبھی نہیں بھول پائے گی۔ پچاس لاکھ گھر جو عمران خان نے بنائے وہ بھی قوم نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کے دور میں کرائم میں اضافہ عثمان مرزا کیس نور مقدم قتل کیس وہ بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ سعودی عرب کا عمران خان سے قرض واپس مانگنا ترکی کا ناراض ہونا قوم نہیں بھول پائے گی۔ سارا دن سخت دھوپ میں مزدوری کرنے والے مزدور کو شام کے وقت اسی روپے کلو آتا اور ایک سو ستر والا گھی ساڑھے چار سو روپے میں خریدنے کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح کے کارناموں کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے مشیروں کی کارستانیاں بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ شہزاد اکبر کے دعوے بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے وزیروں کی جانب سے ایک روٹی کھانے کے مشورے کو قوم نہیں بھول پائے گی . عمران خان کے لانگ مارچ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کو قوم نہیں بھول پائے گی ۔مسلح افراد کی لانگ مارچ میں شرکت اور عمران خان کی اعتراف کو قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے ملکی سلامتی اداروں کے خلاف بیانات قوم نہیں بھول پائے گی۔ بلکہ اب تو عمران خان کو نظر آ گیا ہو گا جو بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے ساتھ ہوا. فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے تاخیری حربوں کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ ملک ٹوٹنے کے بیان کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کی جانب سے اپنے محسنون کی کردار کشی اپنے دوستوں کو بلاوجہ گرفتار کروانے مقدمہ بنانے کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔غرضیکہ عمران خان کا ایک ایک کارنامہ قوم یاد رکھے گی اور جب بھی الیکشن ہوئے قوم عمران خان کے ساتھ حساب برابر کرے گی.عمران خان جس کو اللہ نے عزت دی تھی اس عزت کو خاک میں ملانے کا ہاتھ بھی عمران خان کا ہی ہے۔ کرسی کے لالچ میں اتنے اندھے ہو گئے کہ ملک دشمنی پراتر آئے اور شاید اس وقت عمران خان کے ہوتے ہوئے کسی اور ملک دشمن کی ضرورت نہیں .قوم اب عمران خان کے دعوے یوٹرن ۔جھوٹ سب جان چکی اور قوم کو بھی اب انتظار ہے اگلے الیکشن کا جس میں قوم عمران خان کا ڈٹ کر محاسبہ کرے گی۔ پاکستانی قوم ایک خود دار قوم ہے عمران خان اگر قوم کے ساتھ سچ بولتے تو قوم انکے ساتھ تھی لیکن انہوں نے وہ کام شروع کر دیئے جو ملک دشمنوں کے تھے ایسے میں قوم کسی بھی ایسے شخص کو آگے نہیں آنے دے گی جو پاکستان میں رہتے ہوئے ملک دشمنی پر اتر آئےگا نہیں یقین تو الطاف حسین کو دیکھ لو جس کے ایک اشارے پر پورا کراچی بند ہوتا تھا آج کوئی کراچی میں اسکا نام لینے کو تیار نہیں عمران خان سوچ سمجھ لیں مکافات عمل ہوتا ہے اور اب وہی دن عمران خان پر آنے والے ہیں پھر عمران خان اکیلے ہی ہوں گے مشیر وزیر کوئی نہیں ہو گا کچھ پہلے ساتھ چھوڑ گئے مزید بھی چھوڑ جائیں گے اور عمران خان تنہا رہ جائیں گے پھر ایک ہی راستہ بچے گا کہ عمران خان کر کٹ اکیڈمی کھولیں اور قوم کے بچوں کو کرکٹ سکھا کر ثواب دارین کمائیں اور اب وزیر اعظم کی کرسی کو بھول جائیں

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا:شاداب خان عادل رشید کے فین ہوگئے

    عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا:شاداب خان عادل رشید کے فین ہوگئے

    لاہور:عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا:شاداب خان عادل رشید کے فین ہوگئے،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے لیگ اسپنر شاداب خان نے کہا ہے کہ یارکشائر سی سی سی کےلئےکھیلتے ہوئےاپنےساتھی لیگ اسپنر عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق شاداب خان نے انگلینڈ میں ویٹالٹی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کھیلنے کا اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ میں کھیلنے کا یہ ایک بہت اچھا تجربہ تھا، وہاں حالات قدرے سخت ہیں لیکن آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے عادل رشید کے ساتھ کام کیا ہے، امید ہے کہ میں اپنی ٹیم کے لیے اپنا بہترین پیش کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔

    شاداب خان نے کہا کہ چوٹ لگنا مجھے مایوس کرتا ہےلیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کے طور پر آپ کو اس پر کام کرنا ہوگا اور واپسی کرنا ہوگی جو بالکل آسان نہیں ہے۔

    شاداب خان نے ٹیم کے ساتھی زاہد محمود کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ زاہد ایک بہت اچھا باؤلر ہے اور اپنی شناخت بنانے کے لیے واقعی سخت محنت کرتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز 8 جون سے شروع ہوگی۔

    ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کا پریشر ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امید ہے ویسٹ انڈیز کے خلاف اچھی سیریز ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کاؤنٹی میں مشکل کنڈیشنز تھیں جس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔

    نائب کپتان کا کہنا تھا کہ زاہد محمود بھی زبردست پرفارم کر رہے ہیں، ٹیم میں مقابلے سے فائدہ پاکستان کو ہوتا ہے۔شاداب خان نے کہا کہ چھوٹی عمر میں زیادہ انجریز کا سامنا کیا، انجری کے بعد واپس پرفارمنس دینا مشکل ہوتا ہے۔ کوشش کر رہا ہوں فٹنس بہتر رکھوں تاکہ انجریز کم ہوں۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے ؟

    ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیاں مذاکرات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے پروگراموں میں تبصرہ نگار اور تجزیہ نگاروں سے یہ سوال اس لیے بار بار کیا جارہا ہے کیوں کہ اس سے قبل بھی مذاکرات کی کوششیں ہوچکی ہے تاہم ماضی کے مذاکرات کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اس بار مذاکرات جس انداز اور اعلی سطح پر جاری ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

    کابل میں طالبان حکومت کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسلسل کوششیں ہوتی رہی جس میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے تاہم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ گزشتہ چار ماہ میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حملوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا وزیرستان اور باجوڑ میں افغانستان سے متصل بارڈر ایریاز میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی اور حکومتی حکام نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے بار بار افغان حکام سے شکایت کی تاہم حملوں میں کمی نہ آسکی۔

    چودہ اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے فضائیہ نے خوست اور کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان نے براہ راست افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہو۔

    ان فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا اور حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششیں تیز ہوگئی۔ کیوں کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دھانی طالبان حکومت دنیا بشمول پاکستان کو کراچکی ہے جس کے بعد اب افغان طالبان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس مشکل کا کوئی حل نکالیں کیوں کہ اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل اس سلسلے میں بار بار اپنی رپورٹوں میں افغان سرزمین ٹی ٹی پی کے جنگجووں کی موجودگی کا ذکر کرچکی ہے۔

    پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مختلف عمائدین نے اس سلسلے میں کابل کے کئی دورے کیے جس کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہوا۔

    اس بار مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ دونوں جانبین سے اعلی حکام مذاکرات کا حصہ ہے دونوں جانبین سے اعلی حکام براہ راست مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ ثالث کا کردار کرنے والے بھی بڑے اہم رہنما ہے جس میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی قابل ذکر ہے۔

    میرے اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکراتی عمل کو بڑھانے کے لیے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے علاؤہ افغان وزیر اعظم ملا حسن اخند اور وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں اور مذاکراتی نشستوں کا باقاعدہ حصہ بنے ہیں۔

    مذاکرات کے کامیابی اور پیش رفت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس بار سابقہ فاٹا اور پختونخوا کے مختلف علاقوں کے عمائدین پر مشتمل 133 سے زائد افراد کا جرگہ بھی اس سلسلے میں کردار ادا کررہے ہیں تاکہ قبائلی عمائدین کو نا صرف اعتماد میں لیا جائے بلکہ ان علاقوں میں امن کا پیغام ان کے ذریعے دیا جائے کہ امن و امان کا قیام اور مذاکرات سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔

    حکومت پاکستان کے ملٹری اور سیاسی حکام اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات میں دو کامیاب راؤنڈ کے بعد سیز فائر میں توسیع اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 53 افراد پر مشتمل قبائلی جرگہ یکم جون کو کابل بھیجا گیا جس میں تمام قبائلی علاقوں کے نمائندوں کے علاؤہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے وزرا بھی شامل ہے۔
    یکم جون کو ابتدائی نشست ہوئی جب کہ دوسری نشست 2 جون کی صبح 10 بجے رکھ دی گئی ہے جس کا سب سے اہم موضوع دائمی یا طویل سیز فائر کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    فاٹا سے پاک فوج کی انخلاء، مالاکنڈ ڈویژن میں نظام العدل کا نفاذ، تمام قیدیوں کی رہائی سیمت، دیگر اہم ایجنڈا پوانٹس ہے جو ٹی ٹی پی کی جانب سے رکھے گئے ہیں جب کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی سے ہتھیار ڈالنے، آئین کو تسلیم کرنے سمیت دیگر اہم موضوعات مذاکرات کا حصہ ہے جس پر بات چیت ہورہی ہے اب تک کسی بھی ایجنڈا پوائنٹ پر اتفاق نہیں ہوا ہے تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بڑے پوائنٹس کا حل نکالا جائے گا کیوں کہ ٹی ٹی پی کے بعض مطالبات ایسے ہے جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے افغان طالبان کوشاں ہے کہ درمیانی راستہ نکالا جائے۔