Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کیلئے نیا طریقہ متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کیلئے نیا طریقہ متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کے لیے ایک نیا طریقہ متعارف کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس نئے فیچر میں کمیونیٹی کے ایڈمن ٹیب کے اوپر ٹوئٹس کو پِن کر کے انگیجمنٹ بڑھا سکیں گے ٹوئٹر کمیونیٹی موڈ میں ’پِن ٹو کمیونیٹی‘ کاایک نیا آپشن کسی بھی کمیونیٹی ٹوئٹ کو فِیڈ کےاوپری سرے پرتعین کردے گا اوروہ ٹوئٹ بطور نوٹس کام میں لایا جاسکےگا یہ آپشن صارفین کی ٹوئٹر کمیونیٹیز میں مزید بہتر انگیجمنٹ لانے میں مدد گار ثابت ہو سکے گا۔

    ٹوئٹر نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ کچھ ٹویٹس اسپاٹ لائٹ کے مستحق ہیں، یہی وجہ ہے کہ موڈز اور ایڈمنز اب اپنی کمیونٹی ٹویٹس کو ویب پر پن کر سکتے ہیں۔ اس خصوصیت کی بہت زیادہ درخواست کی گئی تھی اور ہم یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہیں کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں موڈز اور ایڈمنز کے لیے iOS اور Android پر اپنی کمیونٹی ٹویٹس کو پن کرنے کا یہ فیچر جلد پیش کیا جائے گا-

    یہ آپشن آپ کی ٹویٹر کمیونٹیز میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے میں مدد کر سکتا ہے – اگرچہ ٹویٹر کا زیادہ منسلک کمیونٹیز آپشن واقعی سروس کے لیے موزوں رہے گا یا نہیں یہ ایک اور سوال ہے اب تک کمیونیٹیز کی محدود انگیجمنٹ سامنے آنے کے باوجود یہ فیچر ٹوئٹر سے ہٹتا نہیں دِکھائی دے رہا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹوئٹر مختلف معاملات پر لوگوں کے خیال کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیتا ہے۔

    لیکن کمیونیٹیز اس کے مخالف سمت میں جاتی ہے اور گفتگو کو محدود رکھنے کےکچھ فوائد بھی ہو سکتے ہیں لیکن کیا یہ ٹوئٹر کے لیے کارگر ہے، جہاں صارفین کی اکثریت اپنے خیالات کو اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کرنے کا سوچتی ہے۔

    واضح طور پر، یقینی طور پر اس طرح کی گنجائش موجود ہے، ٹوئٹر صارفین مختلف موضوعات کے لیے متبادل ٹوئٹر ہینڈل بنا رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی صارف کرکٹ کا شوقین ہے اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی کرتا ہے تو اس کی مختلف فیڈ اور آڈینس ہو سکتی ہے، جس پر اس کے موضوع کے حساب سے ٹوئٹس موجود ہوں گی۔ فیڈ پر وہ غیر ضروری ٹوئٹس موجود نہیں ہوں گی جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

    کمیونٹیز اس کو حل کرنے کے لیے ایک ذریعہ فراہم کرتی ہیں – اگرچہ ٹویٹر کے پاس دوسرے، زیادہ عملی حل موجود ہیں جو صارف کے رویے کو تبدیل کرنے اور ان کی بات چیت کی رسائی کو محدود کرنے کے برعکس، ٹویٹر کے حتمی استعمال کے معاملے کے ساتھ بہتر طور پر موافق نظر آتے ہیں۔

    ‘Facets’ نامی یہ آپشن، جو ٹویٹر نے گزشتہ جولائی شیئر کیا تھا، صارفین کو ایک پروفائل سے مختلف عنوانات کے بارے میں ٹویٹ کرنے کے قابل بنائے گااس کے بعد ان کے فالوورز یہ منتخب کر سکیں گے کہ وہ کون سے عناصر اور ٹویٹس کی پرواہ کرتے ہیں، یا نہیں کرتے۔

  • حالات دیکھ کر ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا، بابر اعظم

    حالات دیکھ کر ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا، بابر اعظم

    حالات دیکھ کر ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا، بابر اعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی سیریز بہت اہم ہے۔یہ ون ڈے چیمپئن شپ کے میچز ہیں۔ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہم یہ میچز جیت جایئں اور پائنٹ اسکور کریں۔
    پریس کانفرنس کے دوران جب بابر اعظم سے رضوان کی ٹیسٹ پرفارمنس اور حارث کی ٹیسٹ میچ میں شمولیت سے متعلق سوال کیا گیا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ حارث کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنا جلد بازی ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ محمد رضوان کی ٹیسٹ پرفارمنس بہت اچھی نہیں ہے۔ لیکن مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے یہ بہتر ہیں۔بابر اعظم نے کہا کہ محمد رضوان ہمیشہ مجھ سے اور ٹیم سے تعاون کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید کہا کہ کارکردگی تو کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے۔لیکن بطور ٹیم آپ کا اتحاد اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    بابر اعظم نے مزید کہا کہ ا اگر ایک اچھی ٹیم کھڑی کرنا چاھتے ہیں تو اس کے لیے کھلاڑیوں کو مسلسل کھلانا پڑتا ہے۔ اور اگر ٹیم میں تبدیلی بھی کرنی ہو تو ایسا حالات دیکھ کر ہی کیا جاۓگا۔
    جب بابر اعظم سے شان مسعود سے متعلقہ سوالات پوچھے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے نیچے نمبروں پر کھیلنا نا انصافی کی بات ہو گی کیونکہ وہ اوپنگ نمبرز پر کھلیتے ہیں۔اگر بہتر لگے گا تو ان کو ضرور ٹیم میں شامل کیا جاۓ گا۔
    ٹیم کے کچھ اراکین کو آرام دینے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پورے 2 ماہ ہم نے آرام کیا ہے۔اب دوبارہ سے ہماری بین ال قوامی کرکٹ شروع ہو رہی ہے۔
    جب بابر اعظم سے ان کے اپنے متعلق سوال کیا گیا تو اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میری پرفارمنس وائٹ بال میں اچھی چل رہی ہے ۔ٹیسٹ میچ میں مزید اچھی کرنے کی کوشش کروں گا۔

  • ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    23 سالہ جرمن لڑکی ہوائی جہاز سے شدی کی‌ خواہشمند ہے ہوائی جہاز سے محبت کرنے والی عورت کا اصرار ہے کہ اس کی خواہش پسندیدگی کی پرواز نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : "نیویارک پوسٹ” کے مطابق جرمنی کی رہائشی سارہ روڈو کا کہنا ہے کہ وہ طیاروں کی طرف جنسی کشش محسوس کرتی ہیں اور ایک اپنے ہی ایک کھلونے طیارے سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔

    روڈو کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ اس کا پسندیدہ طیارہ بوئنگ 737 ہے، جس پر وہ جتنی بار ہو سکے پرواز کرتی ہے۔ اس کے پاس گھر میں ہوائی جہاز کے 50 سے زیادہ ریپلیکا ماڈلز موجود ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ ان میں سے ایک سے شادی کر لے حالانکہ یہ جرمنی میں غیر قانونی ہے۔

    یوکرین روس جنگ میں ایک اور صحافی جاں بحق

    روڈو اپنے پسندیدہ ہوائی جہاز کے ماڈل کو “ڈکی” کہتی ہیں اور اسے اپنا بوائے فرینڈ مانتی ہیں روڈو خود کو Objectum Sexual کے طور پر شناخت کرتی ہیں، یعنی وہ بے جان اشیاء کی طرف جنسی طور پر راغب ہیں۔ وہ ماضی میں ایک ٹرین کے عشق میں بھی گرفتار ہوچکی ہیں اس نے کہا کہ مردوں کے ساتھ ماضی کے رومانس نے اسے بلند نہیں کیا۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    جب ان سے پوچھا گیا کہ طیارے میں انہیں خصوصی طور پر کیا اچھا لگتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب کچھ پسند ہے لیکن خاص طور پر ہوائی جہاز کا ’چہرہ‘، اُس کے پر اور انجن مجھے ’پُرکشش‘ لگتے ہیں-

    ڈرون سے خط،پارسل پہنچانے کا کامیاب تجربہ

  • پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں پر ایف آئی اےکا بیان سامنے آگیا

    پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں پر ایف آئی اےکا بیان سامنے آگیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان ایف آئی اے کے مطابق جعلی خبرگردش کر رہی ہےکہ پاکستان میں فیس بک کا دفتر کھولا جا رہا ہے تاہم ایف آئی اےکی جانب سے ایسا کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، ایف آئی اے اس جعلی خبرکی سختی سے تردید کرتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہےکہ خبرمیں ایف آئی اے کے ایک افسرکا نام بھی شائع کیا گیا جوگمراہ کن ہے، ایف آئی اے ایسی بے بنیاد خبروں کی بغیر تصدیق اشاعت کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سےخبریں تھیں کہ فیس بک نے پاکستان میں آفس کھولنےکيلئے بات چیت کا آغازکرديا ہے فيس بک کے نمائندے مسٹر مائيکل نے ڈائريکٹر ايف آئی اے سائبر کرائم ہمايوں بشير سےملاقات کی ہےساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات ميں معلومات کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کيا گيا ملاقات میں ڈائریکٹر ایف آئی اے نے فیس بک کے نمائندے پر زور دیا کہ سری لنکا، بھارت اور دیگر ممالک کی طرح فیس بک کو پاکستان میں بھی اپنا آفس کھولنے کی ضرورت ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ہمايوں بشير نے فیس بک کے نمائندے سے کہا کہ فیس بک ملک یا اداروں کے خلاف بات کرنے والوں کی معلومات نہیں دیتا جس پر فیس بک نمائندے کا کہنا تھا چائلڈ پورنو گرافی اور دہشتگردی سے متعلق معلومات پاکستان کو فراہم کی جاتی ہیں تاہم دیگر امور پر پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ فیس بک پاکستان میں اپنا دفتر کھولے فیس بک پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے کے لئے پاکستانی حکام سے بات چیت کرے گا اور اس سلسلے میں اگلی ملاقات جولائی میں منعقد ہوگی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی حیثیت سے فواد چوہدری نے فیس بک، گوگل اور دیگر پلیٹ فارمز کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے کی دعوت دی تھی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت نے فیس بک سے بات کی ہے کہ وہ اپنا دفتر پاکستان میں کھولے۔

    2017 میں پاکستان نے فیس بک کے ساتھ توہین آمیز مواد کا معاملہ بھی اٹھایا تھا اور وقت فیس بک کے نائب صدر جوئل کیپلان نے پاکستان کا دورہ کرکے اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی تھی اس ملاقات میں بھی چوہدری نثار نے فیس بک کے نائب صدر کو پاکستاان میں اپنا دفتر کھولنےکی دعوت دی تھی انہوں نے اس موقع پرکہا تھا اس اقدام سے ویب سائیٹ انتظامیہ اور حکومت پاکستان کے مابین روابط بڑھیں گے اور باہمی فائدہ مند شراکت داری کا موقع بھی ہاتھ آئے گا۔

    ایک سے زائد شادی کے قائل افراد شدید غلط فہمی کا شکار ہیں، سربراہ جامعہ الازہر

  • "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکی ملک چلی میں ’پڑ دادا‘ کے نام سے جانا جانے والے قدیم الیئرس کا درخت 5000 سال سے زیادہ پُرانا ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چلی کے ایلریس کوسٹیرو نیشنل پارک میں واقع Patagonian Cypress قسم کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم درخت سمجھا جارہا ہے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس درخت کی عمر 5484 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے اسے گریٹ گرینڈ پا کا نام بھی دیا گیا ہے۔

    سائنس دانوں کی جانب سے درخت کے تنے مین موجود چھلوں کا معائنہ کر کے درخت کی عمر کا تعین نہیں کیا جاسکا کیوں اس کے تنے کے غیر معمولی جسامت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک نتیجہ جو وہ اخذ کر سکے وہ یہ کہ یہ درخت دنیا کا سب سے قدیم درخت ہے۔

    عام طور سے درخت کے تنے میں موجود چھلوں کو گننے کے لیے ایک میٹر لکڑی کا سلینڈر تنے سے نکالا جاتا ہے لیکن اس قدیم درخت کے تنے کا قطر چار میٹر کا ہے ڈاکٹر جوناتھن نے بتایا کہ اس طرح کے بڑے درخت میں رنگ کے ذریعے عمر کا تعین کرنا ممکن نہیں، مگر اس سائنسی مسئلے پر اب قابو پالیا گیا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ سائنس دان جونیتھن بیرِیچِیوچ کا کہنا تھا کہ درخت سے حاصل کیے گئے نمونے اور عمر کا تعین کرنے والے دیگر طریقہ کار یہ بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5 ہزار 484 برس تک ہے اگر اس عمر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کیلیفورنیا میں موجود پائن کے ایک درخت سے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لے گا جس کی عمر 4853 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ ہمیں بتاتا ہے کہ نمو کے تمام ممکنہ اطوار کے 80 فی صد امکانات یہی بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5000 ہزار سے زیادہ ہے۔ صرف 20 فی صد امکانات یہ ہیں کہ درخت اس سے کم عمر کا ہے۔

    اس مقصد کے لیے انہوں نے 2020 کے شروع میں ایک خصوصی ڈرل سے نمونے لیے تھےعموماً کسی درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے پر موجود رِنگز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، یعنی ہر سال ایک رِنگ بن جاتا ہے۔

    جونیتھن نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں لوگ اس درخت کو دیکھنے آتے ہیں، اس کی جڑوں پر پیر رکھتے ہیں اور تنے کی چھالیں لے کر جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے چڑیا گھر میں جانور ناقابلِ برداشت حالات میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہو۔

    ان کو امید ہے کہ لوگ ضرور اس متعلق سوچیں گے کہ 5000 ہزار سال زندہ رہنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، اس جگہ اپنی زندگیوں کو رکھیں گے اور موسمیاتی تغیر کے نکتہ نظر سے سوچیں گے۔

    Patagonian Cypress قسم کے درخت چلی اور ارجنٹینا میں ہی پائے جاتے ہیں جو 70 میٹر تک بلند اور 5 میٹر تک چوڑے ہوسکتے ہیں مگر چلی میں اس قسم کے درختوں کو بقا کا خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ درختوں کی کٹائی اور اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔

  • ایشیا کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی،ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

    ایشیا کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی،ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

    لاہور:ایشیا کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی، تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل،اطلاعات کے مطابق ایشیا کپ میں پاکستان ہاکی کی ناقص کارکردگی کی تحقیقات کے مطالبےمیں شدت آگئی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان مطالبات کے ساتھ ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے ایشیا ہاکی کپ میں ورلڈ کپ کوالیفائی نہ کرنے کی وجوہات جانچنے کیلئے اولمپیئن کلیم اللہ کی سربراہی میں اولمپیئن ناصر علی،کے پی کے ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ظاہر شاہ پر مبنی تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے ایشیاء ہاکی کپ جکارتہ میں قومی ہاکی ٹیم کی پرفارمنس اور ورلڈ کپ کوالیفائی نہ کرنے کی وجوہات جانچنے کے حوالے سے اولمپیئن کلیم اللہ کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی، کمیٹی میں اولمپیئن کلیم اللہ کے علاوہ اولمپیئن ناصر علی اور کے پی کے ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ظاہر شاہ بھی شامل ہونگے،انکوائری کمیٹی قومی ہاکی ٹیم کی وطن واپسی کے بعد 20 جون تک اپنی رپورٹ پی ایچ ایف صدر کو جمع کرائے گی، رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نےایک مطالبہ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم ہاکی کی تباہی کی وجوہات جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دیں اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کریں اور ان تمام لوگوں کو برطرف کریں جو ہمارے قومی کھیل کو بدنام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی ہاکی کی تباہی کے خلاف آواز کو ہر فورم پربلند کیا جارہا ہے ،ان مطالبات میں ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر سمیت دیگر ذمہ داران سے مطالبات کیے جارہےہیں کہ پاکستان کے قومی کھیل کو بچالیں ورنہ اس سےبُری تباہی ہوگی

    ادھران مطالبات میں شدت آگئی ہے اور کہا جارہا ہےکہ پاکستان ہاکی کی تباہی کے ذمہ داران بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھرصدر پی ایچ ایف پاک ہاکی کی موجودہ قابل رحم اور ناقابل قبول صورتحال کی ذمہ داری قبول کریں۔

    اس مطالبے میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایشین ہاکی کپ میں 12 مردوں کی غلطی اور شرمندگی اور وہ بھی ہندوستان میں کتنی بڑی شرم کی بات ہے ، اس مطالبے میں کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ دے دیں۔آصف باجوہ سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف اور پوری پاکستان نیشنل ٹیم مینجمنٹ کو بھی اب ایسا ہی کرنا چاہیے۔
    انہوں نے ناقابل معافی غلطی اور غلطی کی ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان ہاکی سے محبت کرنے والے محبت وطنوں کا کہنا ہے کہ وہ ہاکی کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ جارہے ہیں‌ تاکہ ان تمام لوگوں کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا جائے جنہوں نے ہماری قوم کو شرمندہ کیا ہے۔

    پیٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی بڑے اضافے کا امکان

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں: پرویز الہیٰ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    نیب کوجو آزادی حاصل تھی اب وہ ختم ہوگئی:شاہ محمود قریشی

    سانحہ ماڈل ٹاؤن مشتاق سکھیرا،رانا عبدالجبارنے بریت کی درخواست دائر کر دی

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    لندن: سائنسدانوں نے جھوٹ پکڑ نے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی :ماہرین کا خیال ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران لوگوں سے مختلف کام کروانے سے ان کا جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سچائی بیان کرنے کے مقابلے میں جھوٹ بولنے میں بہت زیادہ دماغی قوت اور توانائی صرف ہوتی ہے اور اس دوران مشکوک شخص سے کوئی کام کروایا جائے تو وہ اسے ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے پاتا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ میں کی گئی تحقیق کے مطابق بڑے بڑے جھوٹے افراد سے تفتیش کے دوران ایک اور کام کرایا جائے تو وہ اس میں ناکام رہتے ہیں یا توجہ کھو دیتے ہیں مثلاً تفتیش کے دوران کسی مرد یاعورت کوسات ہندسوں والا گاڑی کارجسٹریشن نمبر دوہرانے کو کہا جائے تو اس سے جھوٹ پکڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    تجرباتی طورپر 164 افراد کو شامل کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ خبروں میں آنے والے سماجی معاملات یا رحجانات کی تائید کریں یا اس کے مخالفت کریں۔ پھر انہیں تین ایسے موضوعات پر بات کرنے کے لیے کہا گیا جنہیں وہ اہم ترین سمجھتے ہیں۔

    ان افراد کو جھوٹ اور سچ والے گروہوں میں بانٹا گیا یعنی سچ بولنےوالے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جس معاشرتی مسئلے پر سوچتے ہیں وہ درست انداز میں بیان کریں تاہم دوسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جو کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں اس کا الٹ اور جھوٹ نقطہ نظرفراہم کریں۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    اب جھوٹے افراد کےگروہ کو تفتیش کے دوران اچانک پوچھا گیا کہ ان کی گاڑی کا سات عددی رجسٹریشن نمبر کیا ہے حیرت انگیز طور پر آدھے افراد اپنی کار کا نمبر بیان کرنے سے قاصر رہے کیونکہ وہ جھوٹ بولنے میں مصروف تھےاور دماغ وہاں لگا ہوا تھاآخر میں ان سے کاغذ پر اپنی رائے لکھنے کو بھی کہا گیا۔

    سچ بولنے والے افراد کی اکثریت نے اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر دوہرایا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دروغ گوئی پر اتر آئے تو سوال و جواب کے دوران اس کی ذات سے وابستہ سچ باتیں اگلوائی جائیں تو وہ انہیں بیان کرنے میں ناکام رہتا ہے اس طرح کسی بھی شخص کے جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

    جامعہ کی شعبہ نفسیات کےپروفیسرایلڈرٹ رِج گزشتہ 15 برس سےجھوٹ پکڑنےوالےطریقوں پر غور کر رہے ہیں پروفیسر ایلڈرٹ کہتے ہیں کہ اس طرح جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب جھوٹ بولنے والے شخص کو کسی طرح کا سچ بولنے کا موقع دیا جائے تو وہ جھوٹ اور سچ دونوں کو ہی اہمیت دیتا ہے لیکن اگر اسے یہ موقع نہ دیا جائے تو وہ سچ بولنے کے عمل کو نظرانداز کرنے لگتا ہے۔

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

  • بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ سے پہلے رواں ہفتے میاں شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام پرمہنگائی کا بم گراتے ہوئے ایکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30روپے فی لیٹربہت بڑااضافہ کرکے عوام کوزندہ درگور کر دیا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیرہوگیاتھا کیونکہ یہ اضافہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی قسط حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر قرض جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    اس وقت پاکستان میں سیاسی بھونچال جمودکاشکار ہے۔عمران خان کی حکومت گر گئی اورپی ڈی ایم اتحادکی نئی حکومت بن گئی، کردار بدل گئے ،سابقہ حکمرانوں نے اپوزیشن کا درجہ حاصل کرلیا اور اپوزیشن حکمران بن گئی لیکن پاکستان کی اقتصادی بدقسمتی کا المیہ جاری ہے ۔جس کے سبب خدانخواستہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے سری لنکا کی طرح کے حالات پیداہونے کاخدشہ ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارت اورچین سمیت تینوں ملکوں نے امداد دینے کاکوئی وعدہ نہیں کیا ،جس سے میاں شہباز شریف کی حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہوگئیں ہیں،جس کاحل انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرنکالا۔پٹرولیم مصنوعات کی ہردورمیں ہرحکومت نے من چاہی قیمتیں مقررکیں اور آئی ایم ایف بھی ہربارپٹرول اوربجلی کی قیمت بڑھانے کامطالبہ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس تمباکوکی مصنوعات خاص طور پر سگریٹ کی قیمت بڑھانے کی کبھی بات نہیں کی گئی ،کافی عرصہ سے پاکستا ن میں سگریٹ پر ٹیکس نہیں لگایا گیا دنیابھر میں سب سے سستے سگریٹ پاکستان میں فروخت ہورہے ہیں ،کیاآئی ایم ایف کوپاکستان میںسستے سگریٹ دکھائی نہیں دیتے ؟اورسستے سگریٹس کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کے علاج پرخرچ ہونے والاخطیرزرمبادلہ دکھائی نہیںدیتا؟
    پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔یہ ٹیکس لاگو نہ ہونے سے پاکستان میں سگریٹ نوشی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریبا تین کروڑ پاکستانی سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے سالانہ اموات ایک لاکھ 60 ہزار ہیں، یعنی روزانہ تقریبا 300 کے قریب لوگ مرجاتے ہیں۔ اتنی اموات تو کرونا سے بھی نہیںہوئیں۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جان بچانے والی تقریبا 100 ادویات کی قیمتوں میں تو 260 فیصد تک اضافہ ہوا ہے لیکن جان لیوا سگریٹ پر ایک روپے کابھی ٹیکس نہیں لگایا گیا؟ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے ہونے والے معاشی نقصانات 615 ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔پاکستان میں دو قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں۔ ایک برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے اور دوسرا لوکل کمپنیاں جن کا مارکیٹ میں حصہ پانچ فیصد ہے۔

    پاکستان میں آئندہ بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن تمباکو کمپنیاں مضر سگریٹ پر ٹیکس کم کرنے اور مزید قیمت نہ بڑھانے کے لیے اشتہارات سے یہ دعوی کر رہی ہیں کہ یہ سگریٹ ہی ہیں، جس نے پاکستان کی معیشت کو سنبھال رکھا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یہ ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں اوران ٹوبیکوکمپنیوں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تمباکو کے باعث بیماریوں سے 615 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، اس رقم کا 71 فیصد صرف سرطان، امراض قلب اور پھیپڑوں کی بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ رقم سگریٹ کمپنیوں سے حاصل کردہ ٹیکس سے بھی 5 گنا زیادہ ہے۔ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سگریٹ نوشی نوعمری میں شروع کی جاتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے ترین سگریٹس کی دستیابی ہے جس سے نہ صرف نوجوان اس لت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ کچھ کیسز میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر 6 سال ہے۔

    تمباکونوشی کے عادی غریب طبقے سے وابستہ افراد سستے سگریٹ کی وجہ سے موت بآسانی خرید لیتے ہیں جبکہ اس کے باعث کینسر جیسے مہلک اور مہنگے مرض سے لڑ نہیں پاتے کیونکہ اس کا علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شوکت خانم ہسپتال کی ویب سائٹ پر بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس کے ایک سال کے علاج کا لگ بھگ خرچہ کچھ اس طرح ہوتا ہے؛سرجری پر 300000 روپے، ریڈی ایشن کیلئے125000روپے، کیموتھراپی کیلئے 150000روپے جبکہ کل لاگت تقریبا 1075000 روپے تک آتی ہے۔ اب کہاں 60،70 روپے کے سگریٹ سے ہونے والا کینسر اور کہاں یہ 1075000روپے کی نئی زندگی،جس کی ادویات ودیگراخراجات علیحدہ ہیں۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکا کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔ سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلائی جائے تو یقینا حکومت آئندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔ڈاکٹر ضیا الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف این ایچ ایس آر سی نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف پٹرول کی قیمت بڑھانے پرتوزوردیتا ہے لیکن سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگاکرسگریٹ مہنگاکرنے کی بات نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کاتحفظ کرتاہے،سگریٹ پرٹیکس بڑھانے کا ایسا کوئی بھی مطالبہ سگریٹ بنانے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کونقصان پہنچ سکتاہے اس لئے آئی ایم ایف کبھی بھی پاکستانی حکومت کوسگریٹ مہنگے کرنے کامطالبہ نہیں کریگا۔

    سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے فوری طور پر5 فیصد تمباکو نوشی میں کمی ہوگی ، اگر مہنگائی کے تناسب سے قیمتوں میںمسلسل اضافہ ہوتارہے تو 10 فیصد تمباکو نوشی کو کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سگریٹ مہنگی کرنے سے سب سے زیادہ نوجوان تمباکو نوشی ترک کرتے ہیں ۔ نوجوانوں میں یہ رجحان بوڑھے افراد سے 2 گنازیادہ ہے۔ سگریٹ نوشوں میں 10 فیصد کمی کا مطلب پاکستانی معیشت کو 60 ارب روپے سالانہ کی بچت جبکہ 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔ بہت سے ممالک نے سگریٹ کی قیمت میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔اب درست فیصلے کرنے کاوقت ہے، آنے والے بجٹ میں حکومت سیگریٹ پربھاری ٹیکس لگاکراس کی قیمت بڑھائے اس سے ایک توکثیرریونیوحاصل ہوگا دوسراسیگریٹ مہنگے ہونے سے نو جوانوں کی زندگیاں بھی بچ جائیں گی۔ وزیراعظم شہبازشریف صاحب آپ سگریٹ مافیا کیخلاف بھی کارروائی کا حکمنامہ جاری کر کے آپ لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ ان موت کے سوداگروں اور بین الاقوامی مافیا کو لگام آپ ہی ڈال سکتے ہیں ۔ اس مافیاکوپاکستان کی معیشت اور عوام کی جان سے کھیلنے نہ دیا جائے۔ بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچائیں، سگریٹ پر ایف ای ڈی میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کریں۔ ان کی قوت خرید سے باہر ہونے کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ بہت ضروری ہے۔سگریٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سے حکومت کے ریونیو میں اضافے کیساتھ یہ کم عمر افراد کی پہنچ سے دور ہوجائے گی مزید برآں اس کے بآسانی دستیاب نہ ہونے سے حکومت کے صحت کے شعبے پر اخراجات میں کمی ہوگی اور فضا بھی صاف ستھری ہوگی ماحولیاتی آلودگی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگاجس سے پاکستانی عوام صاف ستھرے ماحول میں سانس لیکر بیماریوں سے محفوظ پاکستان میں اپنی زندگیاں بسرکرسکے گی۔

  • ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ہائبرڈ وار ریاست کے امور کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم کی جاتی ہے, دشمن براہ راست پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین مہمان نواز ہیں نہ صرف زبردست ناشتہ کرواتے ہیں بلکہ ان کی چائے کے بھی کیا کہنے, دشمن نے بزدلوں کی طرح چھپ کا وار کرنے کا ایک اور حربہ آزمایا ہے جو ففتھ جنریشن وار کے نام سے جاننا جاتا ہے, جس کا مقصد ہے کہ ریاست کے اداروں خلاف اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے, دشمن ایک عرصے سے مختلف  ہتھکنڈوں کے ذریعے سے پاکستان کے دفاعی اداروں پر حملہ آور رہا ہے,  کبھی لسانیات کی سوچ کے تحت وطن عزیز کو نقصان پہنچایا تو کبھی چھوٹے اور بڑے صوبے کی بات کی,  کبھی مسنگ پرسن کا چورن فروخت کیا تو کبھی فرقہ وارانیت کا زہر گھول کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی

    ظاہر ہے دشمن یہ کام بذات خود نہیں بلکہ ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے, سب جانتے ہیں کہ دفاعی لحاظ سے افواج پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی فوج ہے اس تناظر میں دشمن سمجھتا ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے, جسے کمزور کرکے ناپاک عزائم میں کامیاب حاصل کی جاسکتی ہے, اس لئے وہ کچھ ناپختہ زہنوں کو اپنی جانب راغب کرکے اپنے بنائے تماشے میں استعمال کر رہا ہے. سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی ٹوئٹر ایکٹویٹی سے کون واقف نہیں ہے, وکالت سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ ایسی غیر اخلاقی حرکات اور الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جو پاکستانی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے, محترمہ کو نا * نہ* جانے کس بات پر افواج پاکستان سے شدید بغض ہے, ان کی غیر مہذب پوسٹس پر ان کی والدہ انہیں متنبے بھی کر چکی ہیں مگر انہوں نے اپنی والدہ کی ایک نہ سنی اور پاک فضائیہ کے سربراہ کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی اور ان کے گھر کی لوکیشن تک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردی, اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت تو عام آدمی نہیں دیتا  ہے جبکہ وہ وکیل ہیں اور با اثر قابل خاتون کی دختر ہیں مگر افسوس ان کی شخصیت میں کوئی مثبت اثر نظر نہیں آتا ہے.

    ایمان مزاری اپنی تربیت کی دھجیاں بکھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں, کبھی ٹوئٹر پر اپنا خاندانی پس منظر بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے سستی شہرت کی خاطر مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی نظر آتی ہیں, جس کا مقدمہ کوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج ہوا تھا, جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق ایمان مزاری معزز وکیل ہے, نوجوان ہیں اس لئے کچھ جذباتی ہیں,  انہوں نے اس مقدمے کو مزید آگے نہ چلنے دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا, سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر جذباتی وکیل کوئی کیس عقل کے دائرے میں رہ کر لڑ سکتا ہے? اس لحاظ سے تو ان کی ذہنی کیفیت خاصی مشکوک ثابت ہوتی ہے, کیا ان کی ڈگری نظام عدل کے لئے موزوں ہیں؟

    ایمان مزاری کی جانب سے پاک فوج کے خلاف پے در پے بے بیناد الزام تراشی کے تحت وار کرنے پر 27 مئی  2022 کو پاک فوج نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے, ایمان مزاری کے خلاف جج ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے, ایف ائی آر کے متن کے تحت بارہ مئی کی شام پانچ سے چھ بجے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے پاک فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف سرعام من گھڑت، بے بنیاد الزامات لگائے, 
    آرمی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
    جان بوجھ کر دیے گئے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اینڈ فائل میں اشتعال دلانا تھا۔
    یہ اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا جو ایک سنگین جرم ہے۔
    یہ بیان دینا پاک فوج کے افسروں، جوانوں کو حکم عدولی پر اکسانے کے مترادف ہے۔
    پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔
    متعلقہ قوانین کے تحت ایمان مزاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاک فوج کی جانب سے پہلی بار ایف آئی آر کا اندراج کر کے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے, یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ فوج عدلیہ کا احترام کرتی ہے, اس کے ساتھ ہی انہیں پاکستان کے نظام عدل پر پورا بھروسہ ہے,

    سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اور سول سوسائٹی پاک فوج کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کریں گے جیسے وہ  دیگر معاملات میں کرتے ہیں امید کی جا رہی تھی کہ عدالت حسب سابق ایمان مزاری کو معصوم, جذباتی, نوجوان, خاتون, یا وکیل ہونے کریڈٹ دیکر کلین چیٹ نہیں دئیگی بلکہ اب کی دفعہ انہیں باقاعدہ قانون کے دائرہ میں لاکر ان سے بازپرس کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق ایسی مثال قائم کی جائے گی, جس کے اثرات مثبت اور باوقار ہونگے, مگر فی الحال ایسا نہیں ہوا بلکہ ایمان مزاری کو محض ایک ہزار کے مچلکے کے عوض نو جون تک عبوری ضمانت مل گئی

    جیسے ہی ایمان مزاری پر ایف آئی آر  درج ہونے کی خبر آئی, ان کی جانب سے ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ نے عبوری ضمانت کی درخواست عدالت میں پیش کی, جو فوری  منظور ہوگئی, جس کے تحت عدالت نے 9 جون تک ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روک دیا,بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کیطرف سے دی گئی ضمانت قانون کی خلاف ورزی ہے, ایف آئی آر ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت ہے۔ عام آدمی کی طرح افواج پاکستان بھی وطن عزیز کے نظام عدل سے انصاف کے حصول کی منتظر ہے