Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فرانس :ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گے

    فرانس :ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گے

    پیرس: ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گےدنیا بھر میں موجود فٹ بال کے مداحوں کی نظریں آج فرانس کے اسٹیڈ ڈی فرانس اسٹیڈیم پر لگی ہوگی، جہاں دو تگڑے کلبز آج فتح اپنے نام کرنے کیلئے میدان میں اتریں گے۔

    فرانسیسی شہر پیرس میں ہونے والا فائنل ہسپانوی کلب ریال میڈرڈ اور انگلش کلب لیور پول کے درمیان ہوگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 5 سالوں کے درمیان لیور پول اور ریال میڈرڈ کی ٹیمیں دوسری بار فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔

    فائنل میچ کے موقع پر 80 ہزار تماشائی اسٹیڈیم میں موجود ہونگے، جس میں 20 ، 20 ہزار سپورٹر اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کریں گے۔ میچ پیرس کے مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے شروع ہوگا۔

    ریال میڈرڈ اور لیور پول کے درمیان چیمپئنز فٹبال لیگ کے فائنل میں دونوں ٹیموں نے جیت کیلئے محمد صلاح اور کریم بینزما کی مہارت پر نظریں جما لی ہیں۔ چیمپئنز لیگ کی بات کی جائے تو ریال میڈرڈ اب تک 13 بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہے، جب کہ لیور پول کو 6 بار یہ اعزاز حاصل ہوا۔

    دونوں ٹیموں کے مابین ہونے والے میچز میں ریال میڈرڈ نے 10 جب کہ لیور پول نے 8 گولز ایک دوسرے کے خلاف اسکور کیے۔ دونوں ٹیمیں سال 1981 میں پہلی بار مد مقابل آئی تھیں۔

    ہسپانوی کلب میں کریم بینزما ، جب کہ انگلش کلب میں محمد صالح اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور مداحوں کو بے صبری سے ان کی شاندار پرفارمنس کا انتظار ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فائنل میچ میں فٹ بال کے شائقین کو کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے سنسنی خیز مقابلہ 2017-18 میں ہوا، جس میں ریال میڈرڈ نے 3 ایک سے کامیابی اپنے نام کی۔ آخری مرتبہ ریال میڈرڈ نے بالترتیب 2016، 2017 اور 2018 میں ٹائٹل جیتا تھا جب کہ 19-2018 میں لیور پول نے ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

    اس وقت ریال میڈرڈ کی ٹیم کے پاس ان فارم کھلاڑی کریم بنزیما ہیں جو اس سیزن کے ٹاپ اسکورر ہیں۔

    انہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران 10 میچز کھیل کر 15 سے زائد گول اسکور کیے ہیں جن میں کوارٹر فائنل میں کیے گئے چار گول بھی شامل ہیں۔ لیور پول کی کارکردگی کا دارومدار اسٹرائیکر محمد صلاح کی فارم پر ہوگا جن کے آٹھ سے زائد گولز کی بدولت ان کی ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔

    لیورپول ہی کے رابرٹو فرمینو نے بھی ایونٹ میں اب تک پانچ گول اسکور کیے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹیم کے مداح ساتویں ٹائٹل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

  • نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    نعرہ تکبیر تک کا سفر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    انڈیا 1974 میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہر وقت پاکستان کو ختم کرنے کی باتیں سرعام کرتا تھا اس سے قبل 1971 میں مشرقی پاکستان کو اس نے باقاعدہ سازش سے دولخت کروایا تھا

    18 مئی 1974 کو راجھستان میں مسکراتا بدھا نامی مشن میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے اور خود کو پوری دنیا کا مالک سمجھ لیا خاص کر ایشا کا غنڈہ بننا اس کا خواب تھا
    انڈیا کے اس رویے کے باعث اب پاکستان پر فرض تھا کہ مساوی طاقت حاصل کی جائے

    اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے
    نان پرولیفیشن ٹیریٹری (ایٹمی طاقت نا بننے کا معاہدہ) پر دستخط نا کئے اور 1976 میں ڈاکٹر قدیر مرحوم علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں پاکستانی اٹامک انرجی کمیشن کا آغاز کیا گیا
    ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ الرحمہ نے قلیل وسائل کے باوجود جس محنت اور لگن سے کام کیا اس پر جتنا خراج تحسین انہیں پیش کیا جائے کم ہے

    1977 میں ضیاءالحق کی حکومت میں سخت عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے سنگاپور،یورپ اور مشرق وسطی سے بڑی دلیری اور خفیہ طریقوں سے حساس آلات خریدے اور پاکستان منتقل کئے
    کیونکہ امریکہ پاکستان کو کبھی بھی ایٹمی طاقت بننے نہیں دینا چاہتا تھا

    یہ بات بھی بہت مشہور اور مستند ہے کہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے انڈین اٹامک سنٹر سے بھی حساس آلات حاصل کئے جس پر انڈیا سخت پریشان بھی ہوا اور امریکہ کو رپورٹ کی تبھی امریکہ نے خطرہ بھانپ کر فرانس جرمنی اور کینیڈا پر پابندیاں لگا دیں کہ پاکستان کو کوئی بھی حساس آلات یا ٹیکنالوجی نا فروخت کی جائے –

    تاہم آئی ایس آئی نے بڑے ماہرانہ طریقے سے جرمنی سے حساس آلات اور ٹینالوجی حاصل کرکے انتہائی مشکل ترین طریقے سے پاکستان منتقل کیا کیونکہ امریکہ اور انڈیا پاکستان پر پوری نظر رکھے ہوئے تھےپاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بڑی محنت اور لگن سے اپنا کام جاری رکھا –

    امریکہ و انڈیا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور دھمکیاں بھی لگائیں اور 1986 میں راجھستان کے علاقے میں 6 لاکھ فوجیوں کو جمع کرکے پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی 1989 کی مسلح تحریک آزادی کشمیر کی شروعات پر بھارت نے پھر پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان نے اپنا کام جاری رکھا

    11 اور 13 مئی 1998 کو ایک بار پھر انڈیا نے چولستان میں ایٹمی دھماکے کئے اور اپنی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی
    اب وقت آگیا تھا کہ انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا جائے سو پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کئے

    پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں 28 مئی کو 5 اور 30 مئی کو 1 ایٹمی دھماکہ کیا ایٹمی دھماکوں کے بعد جنگ کی دھمکی دینے والا انڈیا پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا-

    انڈیا امریکہ کا خیال تھا کہ بے انتہاہ پابندیوں میں پاکستان ایٹمی قوت نا بن پائے گا مگر اللہ کے فضل اور پاکستان آئی ایس آئی،ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ رحمہ کی محنت و لگن سے اللہ نے وہ دن بھی دکھلایا کہ جب نعرہ تکبیر لگا کر بدمست ہاتھی انڈیا کو جواب دیا گیا اور اس کا غرور خاک آلود ہوا

    پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہےپاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر پوری اسلامی دنیا نے جشن منایا

    لکھنے بولنے کو تو ،یوم تکبیر، ایک معمولی بات ہے مگر اس کے پیچھے ہمارے حکمرانوں،آئی ایس آئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر و ان کی ٹیم کی بے شمار قربانیاں ہیں ایٹمی طاقت بننے کے بعد بظاہر انڈیا نے جنگ کی دھمکیاں دیں ہیں مگر ان دھمکیوں میں وہ پہلے سا غرور و رعب نہیں اور یہ سب نعرہ تکبیر کے مرہون منت ہی ہے

  • ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ،سری لنکا نےپاکستان کو پیچھےچھوڑدیا

    ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ،سری لنکا نےپاکستان کو پیچھےچھوڑدیا

    کولمبو:سری لنکا نے بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز میں فتح حاصل کرنے کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کے خلاف سیریز میں کامیابی کے بعد سری لنکا پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر آگیا جبکہ پاکستان پانچویں نمبر پر چلا گیا ہے۔سری لنکا نے بنگلہ دیش کو دوسرے ٹیسٹ میں 29 رنز کے ہدف کے تعاقب میں شکست دے کر سیریز 1-0 سے اپنے نام کر لی۔

    سری لنکا کے اسیتھا فرنینڈو کو 10 وکٹیں لینے پر پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔تجربہ کار اینجلو میتھیوز کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے دو میچوں میں دو سنچریوں سمیت 344 رنز بنا ئے۔

    پوائنٹس ٹیبل پر40 پوائنٹس کے ساتھ سری لنکا چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان 44نمبر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے ،تاہم سری لنکا کی بہتر وننگ اوسط نے پاکستان کو پانچویں نمبر پر پہنچا دیا۔پاکستان کا وننگ اوسط 52 اعشاریہ 38 ہے جبکہ سری لنکا کا 55.56 ہے۔ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر آسٹریلیا 75.00 وننگ اوسط کے ساتھ سر فہرست ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سری لنکا کے خلاف جولائی میں دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلے گا۔

    اس سے پہلے سری لنکا نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنگلادیش کو 10 وکٹوں سے شکست دے دی۔تفصیلات کے مطابق سری لنکا کو جیت کے لیے 29 رنز کا ہدف ملا جو اس نے بغیر کسی نقصان کے 3 اوورز میں ہی حاصل کرلیا۔اوشادا فرنانڈو 21 اور کپتان دیموتھ کرونا رتنے 7 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

    بنگلادیشی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 169 رزن پر ڈھیر ہوگئی تھی۔شکیب الحسن 58 اور لٹن داس 52 رنز بناکر نمایاں رہے تھےجبکہ مشفق الرحیم 23 اور محمود الحسن جوئے 15 رنز بناسکے۔ان کے علاوہ کوئی دیگر کھلاڑی ڈبل فیگرز میں داخل نہ ہوسکا ۔

    سری لنکا کی جانب سے اسیتھا فرنانڈو نے نے شاندار بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کی جانب سے چمندا واس کے بعد ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں لینے والے دوسرے فاسٹ بولر بن گئے۔کسوتھ راجیتھا نے 2 اور رمیش مینڈس نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    اس سے قبل بنگلا دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 365 رنز بنائے تھے۔ مشفق الرحیم نے ناقابل شکست 175 رنز کی اننگز کھیلی تھی جبکہ لٹن داس نے 141 رنز بنائے تھے۔سری لنکا کی جانب سے کسون راجیتھا نے 5 اور اسیتھا فرنانڈو نے 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

    سری لنکن نے ٹیم نے پہلی اننگز میں 506 رنز بنائے تھے۔اینجلو میتھیوز 145 رنز بناکر ناقابل شکست رہے تھے جبکہ دنیش چندیمل نے 124 ، کپتان دیموتھ کرونا رتنے نے 80 اور اوشادا فرنانڈو نے 57 رنز بنائے تھے۔

    بنگلا دیش کی جانب سے شکیب الحسن نے 5 اور عبادت حسین نے 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔اس فتح کے ساتھ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 0-1 سے سری لنکا کے نام ہوگئی۔یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا تھا۔

  • پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا

    پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا

    لاہور:پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا،پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر ہونے کے ساتھ ساتھ ہاکی ورلڈ کپ 2023 کے لیے بھی کوالیفائی نہ کرسکا۔

    تفصیلات کے مطابق جاپان سے شکست کے بعد پاکستان ہاکی ورلڈ کپ 2023 میں کوالیفائی کرنے کے لیے بھارت کے رحم و کرم پر تھا۔

    بھارت کو ایشیا ہاکی کپ کے سیمی فائنل میں رسائی کے لیے انڈونیشیا کے خلاف 15 گول کرنے تھے اور پاکستان کو ایونٹ اور ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے لیے 16 گولز درکار تھے۔بھارت نے انڈونیشیا کو با آسانی 0-16 سے شکست دے کر دونوں سنگ میل عبور کرلیے۔

    یہ دوسرا موقع ہے کہ جب پاکستان ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرسکے گا۔اس سے قبل پاکستان ٹیم 2014 کے ہاکی ورلڈ کپ میں بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    اس سے قبل پاکستان کا میچ جاپان کے ساتھ ہوا تھا جس میں پاکستان کو 2-3 سے شکست ہوئی تھی۔پاکستان کا ایک گول گراؤنڈ میں 12 کھلاڑیوں کی موجودگی کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا جبکہ ایک گول فاؤل کی وجہ سے مسترد ہوا۔

  • شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    رواں ماہ کی اکیس تاریخ کواسلام آباد پولیس کی جانب سے نے پی ٹی آئی کی رہنما شریں مزاری کو تحویل میں لینے کی اطلاعات نیوز چینلز پر بریک کی شکل میں گردش کرتی رہیں, سابق خاتون وزیر کی گرفتاری زمین کی ملکیت اور منتقلی کی معاملے کے تحت پیش آئی, شریں مزاری کو دن کی روشنی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تاہم ان کی بیٹی کی جانب سے گرفتاری کے لمحات کو یکسر غلط طریقے سے پیش کیا گیا, ایمان مزاری کے مطابق ان کی والدہ کو مرد پولیس اہلکار مارتے پیٹٹے لیکر گئے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہوا, جس کی تین بہت ٹھوس وجوہات ہیں, ایک تو شریں مزاری خاتون ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کی حرکات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اس قسم کی جرات کر بھی نہیں سکتے ہیں, دوسرے وہ سینئر شہری ہیں, تیسری اور سب سے اہم وجہ وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں, ان تین اہم وجوہات کیں بنا پر پاکستان کا ہر فرد ان کی اور جیسی ہر خاتون کی بہت عزت کرتا ہے جبکہ اسلام خاتون کو مقدم کہتا ہے تو بطور مسلماں ایسا عمل کرنے ہر گز زیب نہیں دیتا ہے اور نہ ہی یہ عمل وقوع پذیر ہوا ہے جس کا واضح ثبوت وہ وائرل ویڈیو  ہے, جس میں شریں مزاری اسلام آباد پولیس کی خاتون اہلکار کی زیر حراست دیکھی جا سکتی ہیں, جس میں کوئی پرتشدد واقعہ ہوتا کہیں نہیں دیکھائی دے رہا ہے البتہ مزاری صاحبہ بہت غصے میں نظر آرہی ہیں, اس ویڈیو کے ذریعے ایمان مزاری کا جھوٹ بے نقاب ہوکر سامنے آیا ہے, پاکستان کے دفاعی ادارے پر بے جا تنقید کرنا ایمان مزاری کی ان عادات کا حصہ ہے جس سے ان کی والدہ بھی نالاں رہی ہیں,  ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر حسب سابق ریاستی اداروں اور فوج کی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزامات اور مفروضوں کی بارش شروع کردی اور کہنا شروع کردیا کہ نہ جانے کون میرے ماں کو لے گیا, پتہ نہیں وہ کہاں ہیں,  ایمان مزاری جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں انہوں نے ایکبار پھر پاک فوج کی قیادت پر بنا ثبوت کے الزام عائد کیا کہ ان کی والدہ کو اغوا کیا گیا ہے جس کے پیچھے عسکری قیادت کی اعلی شخصیت کا ہاتھ ہے جبکہ اس دوران مذکورہ ویڈیو بھی وائرل ہوچکی تھی اور اینٹی کرپشن کی جانب سے شریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق بھی ہوچکی تھی

    سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی گرفتاری ضلع راجن پور میں تجاوزات سے متعلق کیس کی وجہ سے عمل میں آئی, ان کے خاندان پر صوبائی دارالحکومت لاہور سے 400 کلومیٹر دور ڈی جی خان ڈسٹرکٹ میں 800 کنال (100 ایکڑ) اراضی ہتھیانے کا الزام ہے۔معتدد دہائیوں کی عدالتی تاخیر کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران مارچ 2022 میں اس معاملے میں پولیس کیس درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف 11 مارچ 2022 کو شکایت درج کر کے اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کو معاملے کو دیکھنے کے لیے کہا گیا,  اے سی نے 8 اپریل 2022 کو کیس کی رپورٹ مرتب کی جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنے رولز 2014 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا۔مقدمہ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی درخواست پر درج کیا گیا۔ جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ایف آئی آر درج کی۔

    عوام سے سچ چھپانے کی خواہش کی خاطر ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر بے بنیاد جھوٹ پر جھوٹ بولے
    ماضی میں شریں مزاری نے ایمان مزاری کی جانب سے فوج پر بے ایمانی اور جھوٹے الزامات لگانے کو اپنے لئے ہتک آمیز  رویے کو قرار دیا تھا, انہؤں نے ایمان مزاری کے پاکستان آرمی کے خلاف ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ آپ ایسے گھٹیا، ذاتی نوعیت کے، غیر مصدقہ حملے کرتی ہیں,بطور وکیل آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے الزامات لگانا مناسب نہیں ہے ۔

    23   مئی 2018 کو شیریں مزاری نے ایمان مزاری سے فوج کے خلاف اپنے بیانات پر کہا، "آپ کو پاک فوج کے خلاف اپنی جنونی نفرت کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے تمام عقلیت کھو دی ہے,  میں اپنی اولاد کے گستا خانہ روئیے کو  درست نہیں کہونگی مگر بعد میں انہوں نے اپنی بیٹی کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کی ایمان مزاری نے مارچ 2022 میں پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مسلح افواج کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔جس کا مقدمہ جکوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج کیا گیا تھا،جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس کی مزید پیروی نہ کرنے کا حکم دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    مذکورہ کیس نے مزاری ماں اور بیٹی کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے, ان کا جھوٹ اور زمینوں پر قبضے کا معاملہ ان کے کمزور کردار اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاکستان کے عوام سوال کرتے ہیں کہ
    کیا ایمان مزاری کی طرف سے پاکستان کے معزز ادارے اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے پر قانون حرکت میں آئے گا ؟
    پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ایمان مزاری کے ہتک آمیز ریمارکس کے خلاف مناسب تحقیقات ہونی چاہئیں

  • یاسین ملک کی سزا کیخلاف اپیل کیلئے دنیا کے ہر فورم پر خود جاو ں گا،آصف زرداری

    یاسین ملک کی سزا کیخلاف اپیل کیلئے دنیا کے ہر فورم پر خود جاو ں گا،آصف زرداری

    اسلام آباد:یاسین ملک کیلئے دنیا کے ہر فورم پر خود جاو ں گا،اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے کشمیری حریت پسند رہنمایٰسین ملک کو عمر قید کے خلاف آواز کو دنیا کے ہر فورم پراٹھانے کا اعلان کیا ہے ، آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ کشمیری رہنما کو ملنے والی سزا کے سخت خلاف ہیں اور دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توجہ ممتاز کشمیری رہنما یاسین ملک کو بھارتی عدالت کی طرف سے جعلی الزامات میں سنائی گئی عمر قید کی سزا کی طرف مبذول کراتے ہوئے اسے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میںبھارتی ظلم وستم کی تازہ ترین مثال قرار دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب منیر اکرم نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے اور اسے اوچھے ہتھکنڈوں سے دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    انہوں نے ”مسلح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ“ کے موضوع پر ایک مباحثے کے دوران کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں نے حق خود ارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جدوجہدکو دبانے کیلئے مقبوضہ علاقے میں نو لاکھ فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ علاقے کے ہر شہر ، قصبے اور دیہات میں بھارتی فوجی تعینات ہیں۔

    انہوں نے ماورائے عدالت قتل، پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد اور پیلٹ بندوق کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے اور مقصد کیلئے اس نے لاکھو ں غیر کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کر دیے ہیں، کشمیری مسلمانوں کی اراضی پر قبضہ کیا اور انتخابی حلقوں کی ازسر نو تشکیل کی۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک جموں و کشمیر کا تنازع حل نہیں ہو جاتا پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور لڑائی کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے سربراہ اور سلامتی کونسل پر زور دیتا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو نظر انداز نہ کریں اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق اسکے حل کیلئے اقدامات کریں۔

  • ایکبار پھر گھٹنوں تک لمبی قمیضوں کا فیشن

    ایکبار پھر گھٹنوں تک لمبی قمیضوں کا فیشن

    اس سال کے فیشن ٹرینڈز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ گھٹنوں تک لمبی قمیضیں ،میکیساں ،انگرکھا اور فراکس فیشن ٹرینڈز میں ہیں ۔اس بار فیشن سے تنگ پاجامے اور سیگریٹ پینٹس بالکل آﺅٹ ہیں۔ کھلے پائنچوں کے ٹراﺅزرز،بیل بوٹم اور فلیپرپر جالی اور اورگنزا، ٹشو اور لیسیں لگائی جا رہی ہیں ۔یہاں تک کہ غرارے کے ساتھ قمیضیں روٹین میں بھی زیب تن کی جا رہی ہیں.

    ایک وقت تھا جب غرارے خاص کر شادی بیاہ کی تقریبات پر خاص کر بنائے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔بات کریں ہم جوڑوں کی ڈیزائننگ کی تو بازﺅوں کو جالی کے جبکہ لمبے دوپٹوں کو ٹسلز اور لیسوں کے ساتھ سجایا جا رہا ہے۔ ہاتھ کی کڑھائی کا فیشن تو اب ماند پڑ چکا ہے لیکن مشینی کڑھائی کا زور نہیں ٹوٹا، مشینی کڑھائی قمیضوں کے گلوں اور گھیروں پر کی جا رہی ہے اس کڑھائی میں خوبصورت موتی لگائے جارہے ہیں. رنگ برنگی کُرتیوں کو وائٹ کھلے پائنچوں کے ٹراﺅزرزکے ساتھ زیب تن کیا جا رہا ہے. جہاں تک ملبوسات میں رنگوں‌ کی بات ہے تو صرف ہلکے نہیں بلکہ ہلکے اور گہرے رنگ کے امتزاج کو پسند کیا جا رہا ہے.

  • جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    ٹوکیو: جاپانی شہری نے کتے کی طرح نظر آنے کےلیے 31 لاکھ روپے سے زائد خرچ ڈالے۔

    باغی ٹی وی : دنیا میں ہر شخص کا کوئی نا کوئی خواب ہوتا ہے مگر جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنا دیرینہ خواب پورا کیا جسے جان کر سوشل میڈیا صارفین دنگ رہ گئے۔

    جاپانی شہری نے اپنی خواہش پوری کرنے کےلیے 31 لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کی اور فلموں و اشتہارات کیلئے ملبوسات تیار کرنے والی ایجنسی سے رابطہ کیا۔


    جاپانی شخص نے زیپٹ نامی ایجنسی کی مدد سے کتے کا لباس تیار کروایا جس کی تیاری میں کمپنی کو ایک ماہ سے زائد عرصہ لگا لیکن لباس ایسا کہ پہنے کے بعد جاپانی شہری حقیقت میں کتا لگنے لگا۔

    ایک اندازے کے مطابق اس پورے لباس پر 12 لاکھ ڈالر (2 ملین ین) سے زیادہ لاگت آئی ہے اور اسے بنانے میں 40 دن لگے ہیں-

    جاپانی شخص نے سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شئیر کیں جنہوں نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا ہے۔


    جب اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس نے ایک کولی نسل کا انتخاب کیوں کیا، تو اس نے کہا، "میں نے اسے کولی بنایا ہے کیونکہ جب میں اسے اپنے لباس پر لگاتا ہوں تو یہ اصلی لگتی ہے۔ میرا پسندیدہ quadrupedal جانور ہیں، خاص طور پر پیارے جانور۔ ان میں، میں نے سوچا کہ میرے قریب ایک بڑا جانور اچھا ہو گا-

    جاپانی شخص نے کہا کہ اس پر غور کرتے ہوئے کہ یہ ایک حقیقت پسندانہ ماڈل ہوگا، لہذا میں نے اسے کتا بنانے کا فیصلہ کیا۔ لمبے بالوں والے کتے انسانی شخصیت کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ میں نے ایسی حالت کا سامنا کیا اور کولی کو کتے کی اپنی پسندیدہ نسل بنا دیا۔

  • 29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

    نظام شمسی کے دو بڑے سیارے مریخ اور مشتری 29 مئی کو آسمان پر نمودار ہوں گے-

    باغی ٹی وی : ارتھ سکائے کے مطابق فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس ماہ کے آخری دنوں میں شمالی نصف کرے(ناردن ہیمی اسفیئر) کےممالک صبح کے وقت نظام شمسی کے دو بڑے ،اہم اور خوبصورت سیاروں کو دیکھ سکیں گےان سیاروں میں نظامِ شمسی کا سب سے بڑی سیارہ ، مشتری (جوپیٹر) اور دوسرا سرخ سیارہ مریخ (مارس) شامل ہیں-

    سورج 28 مئی کوخانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا


    ماہرین فلکیات کے مطابق اس وقت فجر سے کچھ دیر پہلے سیارہ مریخ دکھائی دے رہا ہے لیکن یہ 29 مئی کی صبح گویا مشتری کے بالکل قریب جاپہنچے گا اگرچہ یہاں قربت کا مفہوم حقیقی معنوں میں نہ سمجھا جائے کیونکہ ان دونوں سیاروں کے درمیان اس وقت بھی 56 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہوگا۔ بس زمین سے وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق اب 29 مئی کو مشتری اور مریخ اتنے قریب جاپہنچیں گے کہ ان کے درمیان ایک مکمل چودہویں کے چاند کی ٹکیہ کے برابر ہی فاصلہ رہے گا اپنی چمک کی بنا پر یہ دونوں آسانی سے دیکھے جاسکیں گے۔

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے


    ماہرین کا کہنا ہے کہ مہینے کے آخری دنوں میں چاند کی روشنی بھی کم ہو گی یوں دونوں سیارے اچھی طرح دیکھیں جاسکیں گے اگر آپ مشتری اور مریخ کے اوپر گراف کی طرح بلند ہوتی ہوئی ایک لکیر کھینچیں تو نظامِ شمسی کا ایک اور شاندار سیارہ سیارہ زحل (سیٹرن) بھی آپ کے سامنے ہوگا جو اپنے دائروں اوربہت سارے چاندوں کی وجہ سے بہت مشہور اور دلکش بھی ہے۔

    تصاویر بشکریہ :سکائی ارتھ
    واضح رہے کہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش شمالی نصف کرے میں شامل ہیں اور یوں ہم اس فلکیاتی نظارے سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

  • جمہوری احتجاج میں جمہور کا مفاد کہاں ؟تحریر: کنول زہرا

    جمہوری احتجاج میں جمہور کا مفاد کہاں ؟تحریر: کنول زہرا

    اس بات میں تو دو رائے ہیں ہی نہیں کہ  احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے تاہم احتجاج کی نوعیت کو  دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ اجتجاج عوامی حقوق کی فراہمی کی خاطر ہے یا اقتدار کی رسائی کے لئے عوام کو استعمال کیا جارہا ہے, بد قسمتی سے کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی بھی احتجاج آج تک عوامی مسائل کے حل کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ اقتدار کے ایوان میں براجمان ہونے کے لئے عوام کا وقت اور پیسہ ضائع کرایا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کا کبھی یہ موقف ہوتا تھا کہ حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے مگر فیصلے سٹرکوں پر نہیں ہوتے ہیں,  شاہراہیں بلاک کرنے سے عوام کو تکلیف ہوگی, یہ عمران خان ہی تھے جو ملک کے اچھے امیج کی باتیں کیا کرتے تھے, کہا کرتے تھے, ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں تو صرف وزیراعظم آفس سے گھر اور گھر سے آفس آنے جانے کے لئے باہر نکلتا ہوں تاکہ عوام پریشان نہ ہو مگر جب سے ان کی حکومت گئی ہے, انہوں نے ملک کی سٹرکوں کو مسلسل بلاک کرنے کو اپنا جمہوری حق سمجھ لیا ہے جبکہ اس سے جمہور یعنی عوام کو شدید دقت کا سامنا ہو سکتا ہے, خان صاحب کو سوچنا چاہیں عوام کے اپنے بھی تو ذاتی کام ہوسکتے ہیں, آپ نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو ایسا کیا دیا کہ لوگ آپ کے خاطر تکالیف کو برداشت کریں, آپ کےساتھی شیخ رشید انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ہماری کارگردگی کی وجہ سے ہماری سیاست تو ختم ہوگی تھی, رجیم چینج نے عمران خان کو مقبول کیا, عمران خان بطور وزیراعظم نہ غربت کم کرسکے نہ ہی عوام کو روزگار دینے میں کامیاب ہوپائے,

    مہنگائی کم ہونے کی تاریخ بتا کر ہر بات نئی ڈیٹ دیکر عوام کا صبر آزماتے رہے تو پھر کیوں عوام سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے پھر سے اقتدار میں لاؤ, یہ ہی عمران خان تھے جو کہتے تھے کہ اگر میں کامیاب نہ ہوسکا تو سیاست چھوڑ دونگا تو جناب بتائیں اور ناکامی کسے کہتے ہیں آپ نے چار سال تک عوام کو صرف میٹھی گولی دی, ان کی امیدوں پر پانی پھیرا, پھر آپ کا ہی کہنا ہے کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہیں تو جناب پھر کیوں عوام سے اپنی غلامی کروا رہے ہیں, کیا عوام آپ کے غلام ہیں کہ آپ ان کے لئے ان ہی سے سٹرکیں بند کروا کر اپنے اقتدار کا راستہ صاف کریں, کیا اس ملک کے نوجوان آپ کے نوکر ہیں کہ وہ آپ کے لئے موسم کی تمازت برداشت کرکے اپنا وقت برباد کریں,  آخر کیوں پاکستان کے عوام آپ کے لئے خوار ہو, صرف اس لئے کہ آپ دوبارہ اقتدار میں آکر اپنی بیگم کی سہیلی کو صوبہ پنجاب تحفے میں دیدیں, آپ کہتے ہیں کہ عوام قربانی کے لئے تیار ہوجائیں, کیوں کیا اس ملک کے عوام کا خون اتنا سستا ہے کہ آپ کے لئے بہایا جائے, خان صاحب آپ احتجاج کریں, بصد شوق کریں مگر ملک کی جڑوں کو کمزور مت کریں,  پاکستان کی سلامتی اور اس کا وقار آپ کے اقتدار سے بہت اہم ہے, آپ نے اس ملک کے چار سال اپنی ناتجربہ کاری کے تحت برباد کردئیے, آپ پہلے وزیراعظم بننے کے آداب سیکھیں, یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ واقعی معتبر ہیں, الله نے آپ کو بہت صلاحتیوں سے نوازا ہے, ان میں نکھار لائیں اپنے دماغ سے سوچ کر سب سے  ان لوگوں کو اپنے قریب کریں جو واقعی تحریک انصاف کے ہیں, امپورٹڈ حکومت نامنظور کہہ کر امپورٹڈ لوگوں کو اپنے سے دور کیجئے

    پاکستان ایک طویل عرصے سے مختلف مشکلات کا شکار ہے, عمران خان کے آنے سے عوام کو بہتری کی امید ہوئی تھی مگر وہ پورے نہ اترے شاید اسی لئے بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ان کے حق میں ثابت نہ ہوسکا چیئرمین تحریک انصاف نے حقیقی آزادی کے نعرے کے ساتھ25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے,ان کا دعوی ہے کہ وہ  25 لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع کریں گے اور جب تک حکومت انتخابات کا اعلان نہیں کر دیتی جب تک ان کا قیام اسلام آباد کی سٹرکوں پر ہی ہوگا
    بعض سیاسی حلقے عمران خان کی جانب سے مقررہ کردہ احتجاجی تاریخ پر حیران ہیں کہ آخر کیوں  25  مئی کی ہی تاریخ منتخب کی گئی جبکہ اس تاریخ کو بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کو سزا سنانا چاہتی ہے, اس حوالے سے گذشتہ روز یاسین ملک کی کمسن بیٹی عمران خان سے گذارش بھی کرچکی ہے کہ عمران انکل اپنے لانگ مارچ کی ڈیٹ آگے کرلیں اور  25  مئی کو میرے بابا کے حق میں آواز بلند کریں,25  مئی کو ہی پاکستان کے معاشی بحالی کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہونگے اور عمران خان مجھے اقتدار میں واپس لاو کا اسٹیج سجا رہے ہونگے

    پاکستان جس کے بہت سے ایشوز ہیں, جیسے کہ ممکنہ معاشی, اور  غذائی بحران کا خدشہ, غربت اور بے روزگاری کے مسائل, موسمی تبدیلی کے معاملات, قلت آب, بچوں اور خواتین پر تیزی سے بڑھتے پرتشدد واقعات سمیت دیگر بنیادی اور معاشرتی مسائل جن کا فوری حل ضروری ہے مگر ہمارے یہاں ان خالصتا عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا, بلکہ اقتدار میں رہنے دو, اقتدار میں لیکر آؤ کے مفادات پرست موضوعات پر عوام کی بنیادی ضروریات کا مذاق اڑایا جاتا ہے.