Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    تحریر اپنے نام کرنا بغض اور چوری ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    یہ وقت ہے سوشل میڈیا کا جہاں ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہو کر بھی بہت قریب اور انجان ہو کر بھی آشنا ہیں اس قربت اور آشنائی کا سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا ہے سوشل میڈیا نے ہمیں بہت اچھا دیا بھی ہے اور بہت برا کیا بھی ہے-

    آج کل ایک رواج چل نکلا ہے کہ کسی کی بھی اچھی تحریر دیکھی تو فوری اس سے اصل راقم کا نام و ہیش ٹیگ کاٹا اور اپنا لگا کر وائرل کر دیا تاکہ واہ واہ ہو سکے اور دوسروں سے داد حاصل کی جا سکے کہ کمال لکھا ہے خوب علم ہے جناب کو مگر یہ نہیں پتہ کہ جناب نے چوری کی ہے تحریر کی اور اس کے پیچھے محنت کسی اور کی ہے

    دیکھا جائے تو یہ سراسر اگلے بندے سے بغض ہے اور اس کی چوری ہے کیا ہم نے کبھی کسی کی گندی تحریر کو اپنے نام سے منسوب کیا؟اگر نہیں تو کسی کی اچھی تحریر کو اپنے نام کرنے کا ہمیں حق کون دیتا ہے جبکہ وہ الفاظ و تحریر اگلے کی ملکیت ہے اس بغض کے متعلق اللہ تعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں فرماتے ہیں-

    وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا
    اے اللہ۔ ہمارے دلوں میں کسی صاحب ایمان کے لیے کوئی کدورت پیدا نہ ہونے دینا

    ایک اور جگہ فرمان الہی ہے کہ

    أمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ
    ’کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے

    قرآن کی یہ دو آیات غور کرنے سے ہمیں بتا دیتی ہیں کہ کسی کی تحریر چوری کرنا اس بندے کی محنت و علم سے بغض ہے اور یہ بغض ہمیں چوری پر اکساتا ہے
    اور چور کے بارے ارشاد ہے کہ

    عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «لعن الله السارق، يسرق البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يده، ويسرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ».
    [صحيح] – [متفق عليه]

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے
    غور کریں ایک معمولی انڈے چوری کی سزا کتنی ہے جبکہ کسی کی گھنٹوں،دنوں،ہفتوں و مہینوں کی محنت کی چوری کی سزا کتنی بنتی ہے؟

    اگر اسلامی نظام ہو تو جس طرح ضروریات اشیاء کی چوری پر سزا ہے بلکل اسی طرح کسی کی تحریر،کتاب وغیرہ کو چوری کرکے اپنا نام کرنے پر بھی سخت سزا ہوتی پاکستان میں ایسا قانون بھی موجود ہے کہ کسی کا ہیش ٹیگ یاں تحریر اپنے نام کرنا کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے-

    بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کے نام کاٹ کر اپنے نام سے منسوب کرکے تحریر کو وائرل کریں اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ زندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اصل راقم کے نام کےساتھ ہی وائرل کیا جائے تاکہ ہمارے اخلاقی معیار کی پہچان ہو اور اگلے بندے کی امانت دوسروں تک اصل حالت میں پہنچے اس سے ہماری عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور اصل راقم کی عزت میں بھی اگر ہم کسی کی امانت میں خیانت نہیں کرینگے تو ان شاءاللہ اللہ تعالی ہم سے راضی ہو گا اور ہم اس کے ہاں صادق و امین ٹھہریں گے ان شاءاللہ-

  • عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خواجہ فرید کوریجہ
    عمران خان نے انتخابات میں صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر یو ٹرن لیا ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرائیکیوں کو عمران خان صوبہ دلوائیں گے یہ زمینی حقائق کے خلاف ہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ و سجادہ نشین دربارحضرت خواجہ فرید کوٹ مٹھن شریف خواجہ غلام فرید کوریجہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے الیکشن 2018میں صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر یو ٹرن لیا کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرائیکیوں کو عمران خان صوبہ دلوائیں گے یہ زمینی حقائق کے خلاف ہے،انہوں نے کہاکہ بلوچ رہنما سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی عمران سے اتحاد تھا، بلوچ اور پشتون قوم پرست کارکنوں پر عمران خان کے دور حکومت میں مظالم اور مسنگ پرسن میں اضافہ ہوا ،پاکستان میں شدت پسند سوچ کے لئے سیاسی مواقع زیادہ ہیں، عمران خان پاکستان میں طالبان سوچ کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور طالبان خان کے نام سے مشہورہوئے، شدت پسند سوچ کے حامل لوگ عمران خان کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور عمران ان عناصر کو فعال کر کے اداروں اور عدالتوں کو بلیک میل کر کے مرضی کے فیصلے کرانا چاہتے ہیں ،اگر ہارس ٹریڈنگ غلط اقدام تو ق لیگ کے ساتھ بھی ہارس ٹریڈنگ غلط ہے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کی حمایت کرتے ہیں عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے خود عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں جنگ گروپ کے سربراہ اور صحافیوں کو جیلوں ڈالا گیا اور آزادی صحافت کے خلاف کالے قانون بنائے، منی مارشل لا لگایا اور کرپشن کے نام پر کامیاب ہوئے اور کرپشن میں اضافہ ہوا آئین اور قانون کی بالادستی کی حمایت کرتے ہیں، کمزوروں کی آواز بلند کرتے رہیں گے مظلوم چاہے زبان کی بنیاد پر ہوں یا مذہب یا جنس کی بنیاد پر ان کو آئینی حقوق ملنے چاہئیں۔

  • سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب نے یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق ویڈیو شیئرنگ سائٹ ’یوٹیوب‘ پرغیراخلاقی نوعیت کے اشتہارات کے بارے میں بہت سی شکایات سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی اور کمیونیکیشن کمیشن نے یوٹیوب پلیٹ فارم سے ان اشتہارات کو ہٹانے اور ضوابط کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب پلیٹ فارم نے ملک کے اندر اپنے صارفین کو ہدایت کردہ اشتہارات دکھائے، جن کی نشریات میں اسلامی اور معاشرتی اقدار اور اصولوں سے متصادم اور میڈیا مواد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد شامل تھا۔

    آڈیو ویژول میڈیا کمیشن اور کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن نے پلیٹ فارم سے درخواست کی کہ وہ ان متنازعہ اشتہارات ہٹائے اور ضوابط کی پابندی کرے۔

    تیس سال کویت کی سفارتی خدمات انجام دینے والے سفیر کیلئے برطانیہ کا بڑا اعزاز

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ادارے یوٹیوب پر چلائے جانے والے اشتہارات کو مانیٹر کریں گے توقع ہے کہ یوٹیوب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے غیراخلاقی اور ذوق عام کے خلاف اشتہارات کے مواد کو ہٹانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

    بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.

  • مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    مسلم لیگ قاف کی سیاسی خودکشی — نعمان سلطان

    سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں اور حریف مخالفت پر اتر آتے ہیں.

    کل کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں یہ بات کھل کر سامنے آئی.. آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر بادشاہ گر بن کر سرخ رو ہو گئے.

    مسلم لیگ کو وقتی سہی لیکن دوبارہ وزیر اعلیٰ کی سیٹ مل گئی. پی ٹی آئی کو بھی عدالت کے ذریعے انصاف ملنے کی امید ہے.اس سارے معاملے میں اگر کوئی جماعت خسارے میں رہی تو وہ مسلم لیگ قاف ہے.

    چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے آپس کے اتحاد اور سیاسی فراست کی وجہ سے وہ ہر حکومت کے لئے لازم و ملزوم تھے. پیپلزپارٹی نے ان کو قاتل لیگ کہا اور انہیں نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا.. پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا اور پہلے سپیکر اور اب وزیراعلیٰ کے لئے اپنا امیدوار منتخب کیا.

    مسلم لیگ ان کو پرویز مشرف کے سہولت کار اور مسلم لیگ کی تقسیم کے ذمہ دار قرار دیتے رہے اور ابھی مخلوط حکومت میں دو وزارتیں اور اگر پرویز الٰہی مان جاتے تو انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آفر بھی تھی.

    اس سب کی وجہ صرف چوہدریوں کا آپس میں اتفاق تھا جو کہ آصف علی زرداری نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اس نااتفاقی کی اصل وجہ سیاسی اختیار نوجوان نسل کے ہاتھ دینا ہے.

    چوہدری سالک کا جھکاؤ ن لیگ کی طرف ہے جبکہ چوہدری مونس الٰہی کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے بڑے چوہدری معاملات کو آپس میں افہام تفہیم سے حل کرتے تھے ایسے ہی یہ بھی کرتے لیکن خون گرم ہونے کی وجہ سے دونوں اپنی انا کے اسیر رہے اور آخر ان کی ضد خاندان کی تقسیم کا باعث بنی.

    عہدے وقتی ہوتے ہیں جبکہ خون کے رشتے ازلی ہوتے ہیں. نوجوان نسل نے رشتوں پر عہدوں کو فوقیت دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ بزرگوں کی سیاسی میراث کے اہل نہیں.

    ان حالات میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ چوہدریوں نے اپنی سیاسی زندگی میں پہلا غلط فیصلہ کیا اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کو بروقت نہ سدھارا تو مسلم لیگ قاف کا شیرازہ بکھر جائے گا.

  • سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    سیاسی دنگل اور بھیانک چہرے، تجزیہ: مبشر لقمان

    کل پنجاب اسمبلی میں ایک بڑا سیاسی دنگل ہوا اوربالآخر تخت پنجاب کا فیصلہ ہو ہی گیا۔ آخر وقت تک صورتحال بالکل مختلف تھی ، پاکستان تحریک انصاف والے خوش تھے۔ اور پھر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے رولنگ دے کر ساری بازی ہی پلٹ دی ۔سارے اندیشے ، ساری تدبیریں ، سارے دعوے بیکار ہوگئے

    بحر حال معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے ،تحریک انصاف کے لوگ نہیں جانتے تھے کہ جس سیاسی چال کا سہارا انھوں نے آج سے چار مہینے پہلے لیا تھا، جس سیاسی چال پر وہ اترا رہے تھے۔ جس سیاسی چال سے انھیں یہ وہم ہوا تھا کہ ہم اقتدار کی کرسی بچا لیں گے۔ کل انھیں اس سے بھی بڑی سیاسی چال سے شکست دی جائے گی۔ انھیں نہیں پتا تھا آج سے چار دن پہلے جس جیت کے وہ شادیانے بجا رہے ہیں اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ مکافا ت عمل ایسا ہی ہے۔ جب انسان کا کیا اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہاں اخلاقیات کے سارے سبق بہت پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جو وقت پہ بہتر سیاسی چال چلے وہی بازی گر ہے اور جس کا اس شطرنج کے کھیل میں وزیرزیادہ شاطر ہے وہی مقدر کا سکندر

    اب آگے کی ساری صورتحال مجھے کافی بھیانک نظر آ رہی ہے۔
    کل کے اسمبلی اجلاس سے پہلے ہی عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہمارے حق میں فیصلہ نہ آیا تو نتائج اچھے نہیں ہونگے۔ اور وہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ رات احتجاج کی کال دی گئی اور رات سے ہی لوگ سڑکوں پر ہیں۔ سپریم کورٹ رجسٹری کے سامنے نعروں سے شروع ہونے والے اس جتھے کا پورے ملک میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے پنجا ب کے تمام بڑے شہروں میں رینجرز تعینات کرنے کی بھی درخواست کر دی ہے۔مختلف ویڈیوز بھی موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگ گاڑیوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں۔ حیدرآباد میں صورتحال اس سے زیادہ سنگین ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا ہےاور اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کسی کارکن کی گاڑی تک جلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں ملک پاکستان کی صورتحال کافی سنگین مراحل میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مخالفین پر الزامات کے ساتھ ساتھ اب اداروں پر لفظی حملوں کا جو سلسلہ سست روی کا شکار ہو چکا تھا اب اس میں بھی تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ اس کی پہلی جھلک تو آج ہی دیکھ لی ہے۔ فواد چوہدری نے لفظی گولہ باری کی ابتدا کر دی ہے۔ اداروں کے منہ کو خون لگا ہے جیسے بیان تو دیتے ہی تھے اب یہ بھی کہ دیا کہ ادارے مزید پاکستان کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔ تو یہ معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگاڑ کی جانب گامزن ہیں۔لیکن اس وقت سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ اس ساری سیاسی جنگ اور الزامات کی سیاست کے درمیان پس کون رہا ہے؟ اس سیاسی محاذ آرائی کے درمیان بچے کس کے بھوک سے مر رہے ہیں؟ حکمرانوں کے پاس شاید اس سوال کا جواب نہ ہولیکن میرے پاس اس کا جواب ہے

    اس ساری سیاسی صورتحال، لڑائی جھگڑوں اور معرکہ آرائی کے درمیان نقصان صرف پاکستان کا ہو رہا ہے۔ پس صرف غریب رہا ہے۔ بچے صرف غریب کے بلک رہے ہیں۔ اس کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ اس کے لیے زمین دن بدن تنگ پڑتی جا رہی ہے او ر حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ اپنی سیاست بچانے کےلیے کروڑوں روپے کے مہنگے ہوٹل بک ہو رہے ہیں۔ غریب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت کیا جنگ جاری ہے۔ اسے صر ف دووقت کی روزی سے مطلب ہے۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ اس کے بچے رات کو بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہے کہ وہ جب رات کو مزدوری کر کے گھر واپس لوٹے تو اس کی جیب میں اگلے دن کے راشن کے پیسے موجود ہوں۔اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

    یہ صرف اس صور ت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ملک میں ایک سیاسی استحکام کی فضا قائم ہو جائے۔ جب پاکستان کے نمائندے آپس میں لڑنے کی بجائے ایک جگہ بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل کے سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کرنا شروع کر دیں۔ جب پاکستان کے سیاستدان مل کر ایک میثاق معیشت پر رضا مند ہو جائیں۔ جب سیاستدان لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کی بجائے انھی لوگوں کے بہتر مستقبل کےلیے سوچنا شروع کر دیں۔ لیکن مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مجھے دور دور تک کوئی ایسے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

    آپ کو اور اس ملک کے حکمرانوں کو پاکستان کی معیشت کا ایک بھیانک چہرہ بتاتا چلوں تا کہ شاید ہم اس سے کچھ سیکھ سکیں اور مستقبل قریب میں کچھ ایسے فیصلے کر سکیں جن سے ملک کا فائدہ ہو۔ آج پاکستان میں روپیہ ایک خطرناک حد تک بے توقیر ہو چکا ہے۔ گردشی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان آج ڈیفالٹ ہونے کی دہلیز پہ کھڑا ہے۔ پاکستان کا اس وقت ڈیفالٹ ہونے والے ممالک کی لسٹ میں چوتھا نمبر ہے اور یہ امکانات دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ڈالر پر سٹے بازی جاری ہے جس سے روپے کی قدر و قیمت میں مزید کمی آتی جا رہی ہے لیکن جو اس کو روک سکتا ہے یعنی پاکستا ن کاسٹیٹ بینک اس کے ممکنہ گورنر کا ابھی تک فیصلہ ہی نہیں ہو سکا۔ تیل اور بجلی قیمتیں مزید بڑھنے کے درپے ہیں۔ اور معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت آج جن بیساکھیوں پہ کھڑ ی ہے اگر اگلے کچھ عرصے میں چار سے پانچ ار ب ڈالر نہیں ملتے تو ہم اس نہج پر پہنچ جائیں گے جہا ں سے واپسی شاید آسان نہ ہو۔آئی ایم ایف سے ہمیں صرف ایک ارب ڈالر کی قسط ملے گی باقی کے تین چار ارب ڈالر کے لیے ہم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دنیا کی معیشت پر نظر رکھنے والیNews Agency Bloombergکے مطابق آئی ایم ایف نے سعودی عرب سے گارنٹی مانگ لی ہے۔ کیونکہ اس کشتی میں کوئی سوار نہیں ہونا چاہتا جس کے ملاح بھنو ر میں کودنے کو تیار بیٹھے ہوں۔پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کےلیے آئندہ سال میں کم ازکم 41ارب ڈالر درکار ہیں۔ اور یہ کہاں سے آتے ہیں کسی کے پاس سیدھا جواب نہیں ، سٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو دن بدن زوال پزیر ہی ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پہ تیار ہی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان میں مزید نقصان کو مول لیں۔ پہلے ہی ان کا اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہےاور حالیہ سیاسی بحران کے بعد تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو چکی ہے۔ بیرونی سرمایہ کار بھی بالکل خطرہ مول لینے کو تیار نہیں اور ہر چھوٹا بڑا کاروبار مندی کا شکار ہے۔ دنیا کی تما م معیشت پر نظر رکھنے والے تمام بڑے ادارے پاکستان کی معیشت کو منفی دکھا رہے ہیں۔ گویا ہم معیشت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے کرنسی بحران میں جکڑے جا چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا ٹھیک جوا ب کوئی دینے کو تیا رنہیں۔

    سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے ہیں؟ اس کا جواب بڑا ساد ہ اور آسان سا ہے۔
    کسی بھی ملک کی معیشت ہمیشہ اس ملک کے حکمرانو ں کے فیصلوں اور ملک میں سیاسی استحکام سے جڑ ی ہوتی ہے۔ اگر ملک کےسیاستدان درست فیصلے کریں گے، سنجیدگی سے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے ، درست وقت پر درست لوگوں کے ہاتھ میں اکانومی کی باگ دوڑ دیں گے تو معیشت کی سمت بالکل درست ہو گی۔اور اگر ملک میں سیاسی استحکام ہی نہ ہو۔ حکمرانوں کو ٹھیک فیصلے ہی نہ کرنے دیے جائیں تو پھر یہی کچھ ہونا ہے جو ملک پاکستان میں اب ہو رہا ہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک صورتحال تو آپ کے سامنے واضح ہے۔ ملک میں پچھلے چھ مہینوں سے جو کچھ ہو رہا ہے ۔ جو سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے کوئی سیاسی جماعت دیوار سے لگے یا نا لیکن معیشت دیوار کے ساتھ لازمی طور پر لگ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ اور بھی بہت سے محرکات ہیں۔ حالات و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ جن میں تحریک انصاف کے دو ر کی معاشی پالیسیاں، ان کا بھاری قرضے لینا۔ اس کے بعد ساڑھے تین سال کے عرصے میں چار بار وزرائے خزانہ کی تبدیلی ، سرکاری پالیسیوں کی بار بار تبدیلی شامل ہیں۔ اور اگر اس سے بھی پہلے چلے جائیں تو پچھلے حکمرانوں کے کچھ غلط فیصلے شامل ہیں۔اب وہ وقت آ چکا ہے جب ہمار ے سیاستدانوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس گرتی ہوئی دیوار کو ایک اور دھکا دے کر اس ملک کو لوگوں کی امیدوں کو کچل دینا ہے یا اس ملک کو ہر طرح کے بحران سے نجات دلانی ہے۔ کیونکہ راستے اب صرف دو ہی بچے ہیں۔ اور یہ ہمارے سیاستدانوں نے طے کرنا ہے کہ مزید دست و گریباں ہوتے رہنا ہے اور اس اقتدار کے کھیل کے لیے پاکستان کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا دینا ہے یا پھر اپنے سیاسی مفادات کو پیچھے رکھ کر ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنا ہے۔

    آنے والے دنوں میں پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوتا ہے اس بارے میں کسی کو علم نہیں۔ کون منظر نامے پہ نمودار ہوتا ہے اور کون پردے کے پیچھے غائب ہوتا ہے اس کا فیصلہ بھی جلد ہو جائے گا لیکن ہماری دعا یہی کہ جو بھی ہو پاکستان کے لیے بہتر ہو۔ پاکستا ن کی معیشت کے لیے بہتر ہو۔ پاکستان کے عوام کے لیے بہتر ہو۔

  • وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    ملک میں سیاسی جماعتیں و مذہبی جماعتیں جمہوریت، آئین، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتی ہیں تاہم جمہوریت کا قتل سالوں پہلے ہوا اور اس قتل کو رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا گیا جس کا خمیازہ ملک عوام اور خود سیاسی جماعتیں تادم تحریر بھگت رہی ہیں۔ میری مراد بھٹو کی ہے۔ پھر بھی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے سبق حاصل نہیں کیا اور جمہوریت کے قاتلوں کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ آج اگر تحریک انصاف سینہ کوبی کر رہی ہے اور جمہوریت کا نعرہ بلند کر رہی ہے تو تحریک انصاف بھی نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر جشن اور بھنگڑے ڈال رہی تھی آج چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کا خاندان بکھر گیا ہے تو اس خاندان نے بھی آمریت کا ساتھ دے کر نوازشریف کے ساتھ بے وفاقی کی تاریخ رقم کی تھی۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اقتدار کی رسہ کشی میں آمریت کا ساتھ دیا۔ سیاسی جماعتیں و جماعتوں نے گرینڈ الائنس تو بنائے مگر وہ سب ذاتی مفادات اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے بنائے گئے۔ آج ملک میں ایک طرف اگر سیاسی انتشار ہے تو دوسری طرف معاشی زوال جس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے پرویز مشرف کے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

    مسلم لیگ (ن) بھی 2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونیوالی اس پارلیمنٹ کا حصہ تھی جس نے مشرف سے حلف لیا۔ آج آئین کے تقدس کا درس دینے والی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے آئین کی پامالی پر جشن منائے ایک نہیں کئی بار آئین کی پامالی پر نہ صرف جشن منائے بلکہ آئین کی پامالی کرنیوالوں کا ساتھ بھی دیا اور قصیدے لکھنے والوں نے قصیدے لکھے۔ آج بھی وقت ہے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچا لیں ملک میں جمہوریت کی نفی تخلیق پاکستان کی نفی ہے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنا بند کر دیں ملک میں غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے ہی تبدیلی ہو سکتی ہے عوام کو ہی اس کا اختیار دیا جائے کہ وہ ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنائیں۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور قانون کی حکمرانی کا واحد راستہ انتخابات ہیں ۔ایک دوسرے کی حکومت کو سازش کے ذریعے گرانے سے باز رہیں عوام کی منتخب حکومتوں کو گرانا بھی آمریت کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہائوس میں تحریک انصاف سمیت بھٹو اور نوازشریف کی منتخب حکومت گرانے میں کردار ادا کرنے والے معافی مانگیں۔

  • چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر پہلا قدم رکھنے والے امریکی خلاء باز نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرِن کے چاند پر قدموں کے نشان کی زبردست ویڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناسا میں جاری کی گئی ویڈیو میں دونوں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی چاند پر حیران کن طور پر واضح ہے۔


    ناسا نےبدھ کے روز چاند کے عالمی دن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا آج اپولو کے چاند پر اترنے کی سالگرہ ہے جب انسانوں نے پہلی بار کسی دوسری سطح پر قدم رکھا تھا لُونر ریکونائسینس آربِٹر سے بنائی جانے والی ویڈیو میں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان دِکھائی دیتے ہیں جو ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔


    ناسا نے لکھا کہ اپولو 11 سب سے زیادہ جانا جانے والا مشن ہے لیکن اس سے قبل بھیجے جانے والے مشنز نے اس مشن کےلیے راہ ہموار کی جن میں روور اور سرویئر جیسے روبوٹِک مشنز سمیت اپولو 8، 9 اور10 کے عملے کے ساتھ بھیجے جانےوالے مشنز شامل ہیں،جن میں چاند کے مدار میں داخلے ہونے اور اس سے خارج ہونے کی آزمائش کی گئی تھی۔


    یہ آربِٹر2009 سےچاند کامطالعہ کر رہا ہے اور ایجنسی کے دیگر مشنز کی نسبت بہت زیادہ،1.4 پِیٹا بائیٹ حجم کا، ڈیٹا زمین پر بھیج چکا ہے کچھ اندازوں کے مطابق ایک پِیٹا بائیٹ 500 ارب معیاری پرنٹڈ صفحات کے برابر ہوتا ہے۔

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاحال بند ،انتظامیہ ٹیکنیکل فالٹ تلاش کرنے میں ناکام

    نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاحال بند ،انتظامیہ ٹیکنیکل فالٹ تلاش کرنے میں ناکام

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پلانٹ کی جلدازجلد بحالی کی ہدایت کردی۔

    با غی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے 6 جولائی سے بند پڑا ہے بندش کی وجہ سے مہنگے فیول پر چلنے والے پلانٹس سے بجلی کی فراہمی کے باعث صارفین پر یومیہ 35کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    نیپرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیپرا حکام نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی انتظامیہ کو 6 جولائی سے ٹینیکل فالٹ کی وجہ سے بند پلانٹ پر بریفنگ کے طلب کیا تھا پروجیکٹ کی انتظامیہ نے کہا کہ ماہرین فالٹ تلاش کررہے ہیں جس کی نشان دہی ہوتے ہی اسے دور کردیا جائے گا۔

    چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی اور ممبر نیپرا انجنیئر مقصود انور خان نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے سی ای او کو ہدایت کی کہ پلانٹ کی بحالی اور اسے نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ نیپرا حکام نے پاور پلانٹ کی بحالی کے آپریشن میں ناکامی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    بتایا گیا ہے کہ پاور پلانٹ کی بندش کی وجہ سے بجلی کے صارفین پر یومیہ 35کروڑ روپے کا بوجھ پڑ رہا ہے، کیوں کہ پلانٹ کی بندش کی وجہ سے انھیں مہنگے فیول سے بنائی گئی بجلی فراہم کی جارہی ہے جس کی قیمت ان سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں وصول کی جائے گی۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے اس خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے پراجیکٹ کو جلد از جلد بحال کرنے کی ہدایت کی تھی سیکرٹری آبی وسائل ڈویژن کاظم نیاز کا کہنا تھا کہ اس خرابی کا پتا چلانے میں کم از کم ایک ماہ لگ جائے گا۔

    کاظم نیاز نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ”نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی دو سرنگیں ہیں جن میں سے ایک بلاک ہو چکی ہے۔یہ سرنگ ساڑھے 3کلومیٹر لمبی ہے۔ جب تک اس پوری سرنگ کو کلیئر نہیں کیا جاتا، تکنیکی خرابی کا پتا نہیں لگایا جا سکتا اور اس پوری سرنگ کو کلیئر کرنے میں کم از کم ایک ماہ کا وقت لگے گا۔

    کاظم نیاز نے مزید بتایا تھا کہ ”کئی ماہ کے بعد جولائی میں پاکستان میں بارشیں شروع ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود آبی ذخائر میں پانی کی سطح 70فیصد سے کم سطح پر ہے۔ اگر پاکستان کو موسم ربیع میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خریف کے سیزن میں صورتحال انتہائی سنگین ہو جائے گی۔ تاہم امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید بارشیں ہوں گی اور آبی ذخائر بھر جائیں گے۔