Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ویمنز ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے پہلے میچ میں سری لنکا کو شکست دے دی

    ویمنز ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے پہلے میچ میں سری لنکا کو شکست دے دی

    کراچی :پاکستان نے پہلے میچ میں سری لنکا کو شکست دے دی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ویمنز ٹیم نے سری لنکن ویمنز ٹیم کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 106 رنز بنائے۔

    ہرشیتھا مداوی اور نیلاکشی ڈی سلوا 25،25 ، انوشکا سنجیوانی 16 اور اما کنچانا 12 رنز بناکر نمایاں رہیں۔ دیگر کوئی کھلاڑی ڈبل فیگرز میں داخل نہ ہوسکی۔

    پاکستان کی جانب سے ڈیبیوٹنٹ طوبیٰ حسن نے صرف 8 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔انعم امین نے 21 رنز کے عوض 3 اور ایمن انور نے 32 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔جواب میں پاکستان ٹیم نے مقررہ ہدف باآسانی 18.4 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

    ندا ڈار 36 رنز بناکر ناقابل شکست رہیں جبکہ عائشہ نسیم ایک رن بناکر ناٹ آؤٹ رہیں۔کپتان بسمہ معروف نے 28 ، منیبہ علی اور ارم جاوید نے 18،18 رنز بنائے۔

    تاہم ڈیبیوٹنٹ گل فیروزہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئیں۔ڈیبیوٹنٹ طوبیٰ حسن کو شاندار بالنگ کرنے پر میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

  • انگلش پریمیئر لیگ کا ٹائٹل مانچسٹر سٹی نے جیت لیا

    انگلش پریمیئر لیگ کا ٹائٹل مانچسٹر سٹی نے جیت لیا

    مانچسٹر سٹی نے ایسٹن ولا کو 3 لے مقابلے میں 2 گول سے شکست دیکر انگلش پریمیئر لیگ کا ٹائٹل نے اپنے نام کرلیا۔

    اتوار کے روز لیگ کے آخری میچ میں ایسٹن ولا اور مانچسٹر سٹی اتحاد اسٹیڈیم میں آمنے سامنے آئے۔ میچ کے 37ویں منٹ میں ایسٹن ولا کے کیش نے گول کرکے ٹیم کو برتری دلائی جبکہ 69 منٹ میں کوٹینو نے گول کرکے سبقت دگنی کی تو مانچسٹر سٹی کے ٹائٹل جیتنے کی اُمیدیں ماند پڑنے لگیں۔

    تاہم پھر پانچ منٹ میں کھیل کانقشہ بدل گیا، گن ڈوگین نے 76ویں، روڈری نے 78 ویں اور 81 ویں منٹ میں گن ڈوگن نے اپنا دوسرا گول کرکے ٹیم کو سبقت دلادی جو آخری وقت تک قائم رہی۔یوں مانچسٹر سٹی نے پچھلے پانچ سیزن میں چوتھی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    مانچسٹر سٹی کے پوائنٹس کی مجموعی تعداد 93رہی جبکہ 92 پوائنٹس کے ساتھ لیورپول دوسرے نمبر پر رہی جس نے اپنے آخری میچ میں وولوز کو تین ایک سے ہرایا۔

    ادھراظہر علی نے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈبل سنچری اسکور کردی

    ظہرعلی نے جمعے کے روز ورسسٹرشائر کاؤنٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے لیسٹر شائر کے خلاف 328 گیندوں پر ڈبل سنچری اسکور کی—فوٹو: ورسسٹرشائر

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے دائیں ہاتھ کے بیٹر اظہر علی نے  انگلینڈ میں ہونے والی کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈبل سنچری اسکور کردی۔

    اظہرعلی رواں کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈبل سنچری اسکور کرنے والے دوسرے پاکستانی بن گئے۔اس سے قبل شان مسعودکاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈربی شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے دو ڈبل سنچریاں اسکور کر چکے ہیں۔

    اظہرعلی نے جمعے کے روز ورسسٹرشائر کاؤنٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے لیسٹر شائر کے خلاف 328 گیندوں پر ڈبل سنچری اسکور کی۔ ان کی اننگز میں 17 چوکے اور ایک چھکا شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اظہرعلی کی یہ کاؤنٹی کیریئر میں پہلی ڈبل سنچری ہے۔دائیں ہاتھ کے بیٹر دن کے اختتام پر 202 رنز بناکر ناٹ آؤٹ ہیں۔

  • ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ

    ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ

    ڈھاکہ :ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،اطلاعات کے مطابق 2022 کا ایشیا کپ اگست میں سری لنکا میں ہونا ہے تاہم ملک میں سیاسی بحران اور عدم استحکام کی وجہ سے سری لنکا کو ہائی پروفائل ٹورنامنٹ کی میزبانی سے انکار کیے جانے کا امکان ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر نظم الحسن نے صورتحال پیدا ہونے پر ایشیا کپ کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    ایشیا کپ کی میزبانی کے ہنگامی منصوبے کے حصے کے طور پر تیاریوں کے بارے میں، نظم الحسن نے کہا کہ بنگلہ دیش میں مارکی ایونٹ کے انعقاد پر بات کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا مشکل وقت سے گزر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے بورڈ کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔

    بی سی بی کے صدر نے کہا کہ وقت سب کچھ بتائے گا، مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی)] کے صدر سے ملاقات کے لیے بھارت جانا تھا مجھے نہیں لگتا کہ اس کے بارے میں بات کرنے کا یہ صحیح وقت ہے لیکن اگر مقام تبدیل ہوتا ہے تو بنگلہ دیش پہلا انتخاب ہوگا۔

    واضح رہے کہ ایشیا کپ 27 اگست سے شروع ہونے والا ہے اور اس میں ٹورنامنٹ کے کوالیفائر کے بعد پانچ ٹیسٹ ٹیمیں شامل ہوں گی، مقام میں تبدیلی کی صورت میں شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

    ایشیا کپ کا 2022 ایڈیشن آسٹریلیا میں اکتوبر نومبر میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ہوگا۔

    یاد رہے کہ ایشیا کپ کا آخری ایڈیشن 2018 میں ہوا تھا اور آئی سی سی 2019 ورلڈ کپ کی وجہ سے ون ڈے فارمیٹ میں تھا جو کہ انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔پچھلے ایشیا کپ میں بھارت نے بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے میں شکست دے کر ایشیا کپ جیتا تھا۔

  • مشعال ملک کی عمران خان سے لانگ مارچ دو دن آگے بڑھانے کی درخواست

    مشعال ملک کی عمران خان سے لانگ مارچ دو دن آگے بڑھانے کی درخواست

    اسلام آباد:مشعال ملک نے عمران خان سے لانگ مارچ دو دن آگے بڑھانے کی درخواست کی ہے۔اہلیہ یاسین ملک چیئرمین پیس اینڈ کلچر مشعال ملک نے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 25 مئی یاسین ملک کی سزا کا دن ہے، عمران خان اپنے مارچ کو دو دن آگے کردیں۔

    اہلیہ یاسین ملک نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں خود کو کشمیریوں کا وکیل کہا جبکہ یاسین ملک عمران خان کے دوست بھی ہیں۔

    مشعال ملک نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اپنے لانگ مارچ کو یاسین ملک کے لیے وقف کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی بہن بھائیوں سے کہتی ہوں ہمارا ساتھ دیں، جھولی پھیلا کر کہتی ہوں یاسین ملک کو بچانے کے لیے نکلیں اس سے پہلے کہ یاسین ملک کو پھانسی دے دی جائے۔

    اہلیہ یاسین ملک چیئرمین پیس اینڈ کلچر مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے، مجھے امید ہے آپ میرا ساتھ دیں گے اور آپ اپنی کوشش سے یاسین ملک کی جان بچا سکیں گے۔اس موقع پر بیٹی مشعال ملک رضیہ سلطانہ نے کہا کہ انکل آپ ہمارے لیے اپنا مارچ آگے کرلیں، میرے بابا کو بچانے کے لیے سب ملکر کوشش کریں۔

    واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔

    پشاور میں کورکمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں لانگ مارچ کا فیصلہ کرلیا ہے اور میں صرف تحریک انصاف کے کارکنان کو نہیں بلکہ پوری قوم کودعوت دے رہا ہوں کہ لانگ مارچ میں شرکت کریں۔

  • جاوید آفریدی کا پی ایس ایل 8 کے حوالے سے بڑا اعلان

    جاوید آفریدی کا پی ایس ایل 8 کے حوالے سے بڑا اعلان

    لاہور:جاوید آفریدی کا پی ایس ایل 8 کے حوالے سے بڑا اعلان،اطلاعات کے مطابق نوجوان ٹیلنٹ کو تلاش کرنے کی کوشش میں، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز پشاور زلمی نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے عالمی ٹرائلز کا اعلان کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق فرنچائز کے مالک جاوید آفریدی نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ زلمی اس موسم گرما میں برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں تمام سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اوپن کرکٹ ٹرائلز کا انعقاد کرے گا اور وہ پی ایس ایل میں زلمی کا حصہ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرائلز امریکا، انگلینڈ اور یورپ میں کیے جائیں گے اور شارٹ لسٹ کیے گئے کھلاڑی پی ایس ایل 8 کے لیے زلمی کا حصہ ہوں گے۔

     

    جاوید آفریدی نے کہا کہ زلمی پاکستان کی مقبول فرنچائزز میں سے ایک ہے لیکن بیرونی ممالک میں بھی اس کا بہت بڑا سپورٹ بیس ہے۔

    یاد رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں، آفریدی نے سری لنکا میں حالیہ بحران اور معاشی بحران کے درمیان سری لنکا کرکٹ ( ایس ایل سی ) کو اسپانسر شپ کی پیشکش کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ سری لنکا کے لوگ کرکٹ کو اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا کہ ہم پاکستانی کرتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال نے سری لنکن کرکٹ کے شائقین کو ضرور نقصان پہنچایا ہوگا۔

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ گھٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے ” دی گارجئین” کے مطابق تحقیق کے نتائج جرنل ون ارتھ میں شائع کئے گئے تحقیق کے مطابق اچھی نیند صحت اور شخصیت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رات کے وقت کےد رجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اوسطاً عالمی سطح پر ایک فرد ہر سال 44 گھنٹے کی نیند سے محروم ہورہا ہے یا 11 راتوں تک وہ 7 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہے جو کہ ناکافی نیند کا طے شدہ معیار ہے –

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    نیند کے کمی کا وقت درجہ حرارت میں اضافے سے بڑھ رہا ہے مگر کچھ گروپس دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ 65 سال کی عمرکے افراد دگنا زیادہ اور کم ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی 3 گنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس تحقیق کے لیے68 ممالک سے تعلق رکھنے والے 47 ہزار افراد کے رسٹ بینڈ سلیپ ٹریکرز کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا۔

    درجہ حرارت میں اضافہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک، خودکشیوں اور ذہنی صحت کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے نیند کی کمی سے بھی ان اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے اور محققین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم کا وہ اہم ترین میکنزم متاثر ہوتا ہے جو درجہ حرارت کے صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کام کرتا ہے تاہم ڈیٹا سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ لوگ گرم راتوں کے مطابق نیند کو بہتر بنانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے قائد اور ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیلٹن مائنر نے کہا کہ ہم سب کے لیے نیند روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے اور ہم اپنی زندگیوں کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں، مگر متعدد ممالک میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مناسب وقت تک سو نہیں پاتے اس تحقیق میں ہم نے پہلی بار ایسے شواہد فراہم کیے ہیں کہ اوسط سے زیادہ درجہ حرارت انسانی نیند کو متاثر کرتا ہے، ہمارے خیال میں تو لوگوں پر اس کے اثرات تحقیق کے نتائج سے زیادہ بدتر ہوں گے۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    محققین نے پایا کہ گرم راتوں کا نیند پر اثر تمام ممالک میں دیکھا گیا، چاہے وہ قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو یا گرم موسم، جب رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے تو اس کا اثر واضح ہوتا ہے غریب ممالک میں لوگ زیادہ نیند کھو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھڑکیوں کے شٹر، پنکھے اور ایئر کنڈیشننگ جیسی ٹھنڈک خصوصیات تک رسائی کم ہے۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمیں یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ پہلے سے ہی گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگوں کو درجہ حرارت میں اضافے کے حساب سے زیادہ نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑا،‘‘ مائنر نے کہا۔ "ہم نے توقع کی تھی کہ ان افراد کو بہتر طریقے سے ڈھال لیا جائے گا۔” مزید برآں، اعداد و شمار کے مطابق، لوگوں نے بعد کے اوقات میں نیند پوری نہیں کی۔

    مائنر نے کہا کہ اس تحقیق کے پالیسی سازوں کے لیے اہم مضمرات ہیں، جنہیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت تھی کہ شہروں، قصبوں اور عمارتوں کو گرمی سے اچھی طرح ڈھال لیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے صحت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یوکے حکومت کے سرکاری مشیروں نے 2021 میں خبردار کیا تھا کہ وہ لوگوں کو موسمیاتی بحران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات بالخصوص ہیٹ ویوز سے بچانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    مطالعہ میں استعمال ہونے والا ڈیٹا بنیادی طور پر امیر ممالک سے آیا، حالانکہ اس میں بھارت، چین، کولمبیا اور جنوبی افریقہ سے کچھ شامل تھے۔ کلائی پر پٹیاں ایسے لوگ پہنتے ہیں جنہیں گرم درجہ حرارت کی وجہ سے نیند میں خلل کا خطرہ کم ہوتا ہے، جیسے ادھیڑ عمر، امیر مرد۔

    مائنر نے کہا کہ "کم آمدنی والے لوگوں کو اعداد و شمار میں کم دکھایا گیا ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت شفاف ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جو پہلے ہی دنیا کے گرم ترین علاقوں میں شامل ہیں، جیسے افریقہ، وسطی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے۔ تحقیق نیند کے معیار کا اندازہ لگانے سے قاصر تھی، جیسے کہ نیند کے مختلف مراحل، لیکن لوگوں کی رات میں جاگنے کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    مائنر نے کہا کہ دنیا نے جو راستہ اس لحاظ سے چنا ہے کہ سیارہ کتنا گرم ہے اس کے نتائج ہر ایک کی نیند کے لیے ہوں گے۔”ہمارے فیصلوں، اجتماعی طور پر معاشرے کے طور پر، نیند کے لحاظ سے کی گئی تحقیق پر کافی لاگت آئے گی۔”

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • ویسٹ انڈیزکےخلاف ون ڈے سیریز،قومی اسکواڈ کےاعلان بہت جلد متوقع

    ویسٹ انڈیزکےخلاف ون ڈے سیریز،قومی اسکواڈ کےاعلان بہت جلد متوقع

    لاہور : ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز کے لئے قومی اسکواڈ کا اعلان کل کیا جائے گا،تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے چند روز قبل 23 مئی کو ٹیم کا اعلان اوریکم جون سے کیمپ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ذرائع کے مطابق قومی سلیکشن کمیٹی نے اس حوالے سے اپنی مشاورت مکمل کرلی ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کپتان اور کوچ سے حتمی مشاورت مکمل کرنا ہے جس کے بعد ون ڈے سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کیا جائے گا۔ سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے کی تجویز ہے لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے جبکہ بعض سینئر کھلاڑی آرام کے حق میں نہیں ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قومی ٹیم کے آل فارمیٹ کپتان بابراعظم بھی زیادہ کھلاڑیوں کو آرام دینے کے حق میں نہیں ہے جبکہ وکٹ کیپر و بیٹر محمد حارث اور فاسٹ بولر زمان خان کا نام بھی زیر غور ہے، محمد نواز کی بھی واپسی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان ون ڈے سیریز کے میچز 8, 10 اور 12 جون کو شیڈولڈ ہیں۔

    پاکستانی اسپیشل اولمپکس ٹیم2023 میں جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والے اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز میں حصہ لینے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔اسی سلسلے میں اسپیشل اولمپکس ٹیم نے کراچی میں واقع جرمن قونصلیٹ کا دورہ کیا، جہاں جرمن قونصلیٹ کی جانب سے نائٹ مارکیٹ سجائی گئی۔اس مارکیٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اسپیشل اولمپکس ٹیم کو عطیہ کیا جائے گا اور عطیہ کی یہ رقم کھلاڑیوں کی ویلفیئر کے لیے استعمال کی جائے گی۔

    مختلف اسٹالز پر آرٹس اینڈ کرافٹس ڈسپلے کیے گئے، ٹرک آرٹ اور سندھی دستکاری بھی توجہ کا مرکز بنی رہی، کھانے پینے کے اسٹالز میں وزیٹرز نے خاص دلچسپی دکھائی۔اس موقع پر اسپیشل کھلاڑی بھی پرجوش اور پر مسرت نظر آئے جن کا کہنا تھا کہ وہ جون2023 میں جرمنی میں ہونے والے مقابلوں کے لیے خوب پریکٹس کررہے ہیں اور ملک کا نام روشن کریں گے۔

  • عمران خان کی معاشی ٹیم کی ناتجربہ کاری، رل گئی عوام بیچاری

    عمران خان کی معاشی ٹیم کی ناتجربہ کاری، رل گئی عوام بیچاری

    سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں اکثر کہا کرتے تھے میں سیاسی مخالفین کو رلاؤں گا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کی معاشی ٹیم نے اعداد وشمار کے ایسے گورکھ دھندے میں عوام کو الجھائے رکھا کہ آج غریب آدمی ناکوں چبانے پر مجبور ہوچکا ہے ،عمران خان ملک کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم کا اعزاز حاصل ہے کہ جن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی محاذ ہوا کرتا ہے مگر عمران خان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا کہ وہ ملک کی معیشت کی کایا پلٹ دیں گے، مرجائیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، قرضے کم کریں گے، مہنگائی کا خاتمہ کریں گے مگر وقت نے ثابت کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کے تمام دعوے بس نعروں کی حدتک محدود تھے۔ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے عمران خان کے دعوے
    پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ، مہنگائی سے لے کر قرضوں کے حجم میں اضافے تک کئی معاشی چیلنجز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور عمران خان نے اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے ساڑھے تین سال کے عرصہ میں وزیر خزانہ اسد عمر, حفیظ شیخ اور شوکت ترین کی صورت میں تین وزرائے خزانہ بدل ڈالے۔

    عمران خان حکومت کی معاشی پالیسیوں اور گورننس کا بہت بُرا حال اور ہر گزرتے دن کے ساتھ معاملات خراب سے خراب رہے خان صاحب کہا کرتے تھے کہ میں انہیں رُلائوں گا۔ اُن کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو رلانا تھا لیکن ساتھ ساتھ عوام کو بھی بری طرح رلایا خان صاحب نے جو وعدے کیے تھے، برسر اقتدار آنے کے بعد حقیقت میں سب اُس کے برعکس کیا اور عام آدمی کے لئے معاشی صورتحال ایک ڈراؤنے خواب کی سی رہی، ملکی معیشت پر بات کریں تو سوچ کے دماغ کی شریانیں پھٹنے لگتی ہیں کہ پاکستان کا کیا بنے گا اور اگر اس اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی پاور کا معاشی طور پر گراوٹ کا یہ سفر اسی تیزی سے جاری رہا تو ہماری کیا حالت ہو گی؟ تبدیلی والوں کی حکومت آنے کے بعد تو مہنگائی کم ہونی چاہئے تھی، گیس بجلی، پٹرول سستا ہونا چاہے تھا لیکن ایسا کیا ہوا کہ چور ڈاکو چلے بھی گئے لیکن تبدیلی والے ’’ایمانداروں‘‘ نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ غریب غریب تر ہو گیا، غربت پہلے سے بڑھ گئی، نوکریاں ملنے کی بجائے ہاتھ سے جانے لگیں۔ جب ملکی معیشت کی بات کریں تو قرضے پاکستان کی تاریخ میں اتنے نہیں بڑھے جتنے پی ٹی آئی کی حکومت کے ساڑھے تین برسوں میں بڑھ چکے تھےسابق وزیر اعظم عمران خان کے مطابق معاشی حالات بہتر ہو چکے تھے لیکن پھر کورونا کی وبا آئی اور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا۔وزیر اعظم نے یکم اپریل کو ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومت کی معاشی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے شہباز شریف آ کر کیا کرے گا؟ سارے خطے میں سب سے سستا پٹرول ہم بیچ رہے ہیں، ہم نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا۔ سب سے زیادہ بر آمدات اور ترسیلات زر ہمارے دور میں ہوئیں۔اور حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کے دور میں ریکارڈ نوکریاں پیدا ہوئیں۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے لیبر فورس سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران55 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں یعنی ہر سال 18 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں۔لیکن پاکستان کے سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کا خاتمہ قریب ہو تو اس وقت ایسا دعویٰ سیاسی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے تاہم اس وقت حقائق سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی شرح نمو کو جیسے زیادہ پیش کر رہی ہے اور افراطِ زر کو کم سطح پر دکھا رہی ہے اسی طرح حکومت زیادہ ملازمتوں کے پیدا ہونے کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہےتحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیاں مجموعی طور پر انتظامی ناکامی اور نا اہلی کا شکار رہیں۔ ‘بنیادی معاشی اعشاریے وہی ہیں جو چالیس سال سے چلے آ رہے ہیں، ان میں کوئی بہتری نہیں ہوئی۔انتظامی ناکامی کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘جب مانگ میں اضافہ ہونا تھا تو کہا گیا کہ جو باہر سے کارگو آنا تھا وہ نہیں آ رہا جس سے بحران شدید ہو گیا تحریک انصاف نے کسی بھی گذشتہ حکومت کے مقابلے میں سب سے زیادہ قرضے لیے۔ ‘یہ ان کی مجبوری بھی تھی، کیوں کہ پہلے سے لیے جانے والے قرضوں کی واپسی کے لیے اور پیسہ چاہیے اور اب آنے والی کو ان سے بھی زیادہ قرضہ لینا پڑے گا کیوں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ قرضوں سے ہی ملک چلے گا

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2007-08 کے اختتام سے مالی سال 2017-18 کے اختتام تک پاکستان کے کُل قرض میں 49 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور وہ 46.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 95.2 ارب ڈالر ہو گیا۔ بظاہر تو یہ سو فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔

    اس 49 ارب ڈالر میں سے پیپلزپارٹی کے دور میں یعنی 2008 سے 2013 کے درمیان 14.7 ارب ڈالر جبکہ سال مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں 34.3 ارب ڈالر قرض لیا گیا جبکہ وزارت اقتصادی امور کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کا حجم گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے جو مالی سال 2019 میں 10 ارب 59 کروڑ ڈالر سے مالی سال 2020 میں 10 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچا اور پھر مالی سال 2021 میں 14 ارب 28 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور اس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے 7 مہینوں میں 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا وفاقی بجٹ 22-2021 میں غیر ملکی قرضوں کے لیے سالانہ بجٹ کا ہدف 14.088 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا اور حکومت نے پہلے 7 ماہ میں 12.022 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔

    عمران خان کی حکومت نے مالی سال 2021 میں کُل 14 ارب 30 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ کے 43 ماہ کے دوران بیرونی ذرائع (پاکستانیوں کے علاوہ) سے مجموعی غیر ملکی قرضہ 47 ارب 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
    پی ٹی آئی حکومت نے اپنے اس دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے اور سب سے زیادہ کرپشن کی گئی پنجاب میں عثمان بزدار کی کرپشن سے کون واقف نہیں ہے اب پتہ چلتا ہے کہ عمران خان جو ہمیشہ کہتے تھے کہ "سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے "وہ سیاستدانوں کےلیے تھا کہ کرپشن کرو موج کرو گھبراو نہیں” اور دوسرا مشہور جملہ بولتے تھے کہ "میں انکو رلاونگا اصل میں وہ سیاستدانوں کو نہیں بلکہ عوام کو رلانے کی بات کیا کرتے تھے، دیر آید درست آید کے مصداق اب عام آدمی بھی سمجھ چکا ہے کہ عمران خان کے پاس محض نعروں، دعووں اور وعدوں کے سوا عوام کو دینے اور ڈیلیور کرنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔

  • پی سی بی کا کھلاڑیوں کی پینشن میں فی کس ایک لاکھ روپے اضافے کا اعلان

    پی سی بی کا کھلاڑیوں کی پینشن میں فی کس ایک لاکھ روپے اضافے کا اعلان

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ نےپلیئرز ویلفیئر پالیسی کے تحت تمام کٹیگریز میں شامل کھلاڑیوں کی پینشن میں فی کس ایک لاکھ روپے اضافے کا اعلان کردیا ہے۔

    اس اضافے کے بعد اب دس یا اس سے کم ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ریٹائرڈ کھلاڑیوں کو ماہوار ایک لاکھ 42 ہزار روپے پینشن ملے گی۔ گیارہ سے بیس ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ریٹائرڈ کھلاڑی اب ماہوار ایک لاکھ 48 ہزار روپے ماہوار پینشن وصول کریں گے۔ اسی طرح 21 یا اس سے زائد ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ٹیسٹ کرکٹرز کی ماہوار پینشن 52 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 52 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

    پی سی بی ویلفیئر پالیسی میں ترمیم کے بعد اب کسی بھی سابق ٹیسٹ کرکٹر کی وفات کے بعد ان کی پینشن ان کی اہلیہ کو پی سی بی سے وصول کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس سے قبل کرکٹر کی وفات کے بعد ان کے قانونی ورثاء کو صرف ایک مرتبہ ہی پینشن وصول کرنے کا حق تھا، جو ان کی کٹیگری کی بریکٹ کے مطابق 12 ماہ کے برابر تھی۔

    پی سی بی کی ویلفیئر پالیسی آخری مرتبہ جنوری 2019 میں اپ ڈیٹ کی گئی تھی۔لہٰذا پی سی بی نے آئندہ مہنگائی کی شرح کے مطابق ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی پینشن میں سالانہ اضافےکا اعلان بھی کردیا ہے۔

    رمیز راجہ، چیئرمین پی سی بی:

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی پینشن کی میں اضافے اورپی سی بی ویلفیئر پالیسی میں دیگر ترامیم کا اعلان کرتے ہوئے انہیں بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔ ایک سابق کرکٹر کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ کے امور کی سربراہی ملنے پران سے توقع تھی کہ وہ ہمیشہ موجودہ اور سابق کرکٹرز کے مفادات کی حفاظت اور ان کی فلاح کے لیے عملی اقدامات کریں گے ۔ انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنا ایک اور وعدہ پورا کرنے میں کامیاب رہے اور ان ترامیم کے بعد اب کھلاڑیوں کی پینشن میں سالانہ اضافہ بھی ہوا کرے گا۔

    رمیز راجہ نے مزید کہا کہ پینشن میں اضافے کے علاوہ پی سی بی نےسابق کھلاڑیوں کے انتقال کے بعد ان کی بیواؤں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا ہے۔ ایک سابق کرکٹر کی حیثیت سےوہ جانتے ہیں کہ کھلاڑیوں کے اہلخانہ کتنی قربانیاں دیتے ہیں ۔ یقین ہے کہ یہ ترامیم کرکٹرز کے ساتھ ساتھ ان کی شریک حیات کے لیے بھی اطمینان کا سبب بنیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی بی ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے کرکٹرز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پی سی بی پلیئرز ویلفیئر پالیسی میں یہ ترامیم پی سی بی کےان عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ وہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ اس کے علاوہ سابق کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے پی سی بی کا بینوولنٹ فنڈ پہلے ہی موجود ہے۔

    پی سی بی پلیئرز ویلفیئر پالیسی میں تازہ ترین تبدیلیاں یکم جولائی 2022 سے نافذ العمل ہوں گی ۔ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے کرکٹرز اس پالیسی سے مستفید ہو سکیں گے۔

     

  • یوٹرن کا بے تاج بادشاہ

    یوٹرن کا بے تاج بادشاہ

    یوٹرن کابے تاج بادشاہ

    قیام پاکستان کے بعد سے ملک کی سیاست میں کافی نشیب و فراز آئے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور عام آدمی کے شب وروز بدلنے کے لئے بیشتر سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے محض بلندوبانگ نعروں اور وعدے وعیدوں پر ہی اکتفا کرنا مناسب سمجھا جس کے نتیجے میں عام پاکستانی کے لئے ترقی و خوشحالی محض ایک سہانا خواب ہی رہا۔
    2018ء کے انتخابات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کامیابی حاصل کرکے ملک کا اقتدار سنبھالا، یہ اقتدار عمران خان کی 23 سالہ سیاسی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔عمران خان نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھتے ہوئے سیاست کا آغاز کیا تو انہوں نے ملک میں نوجوان اور متوسط طبقے کی قیادت کو سامنے لانے اور ملک میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا تھا، اس کے علاوہ عمران خان سیاست کے آغاز سے ہی ملک کی نام نہاد اشرافیہ کے اقتدار میں آنے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں ‘باریاں’ لگانے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
    سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کچھ ایسے اقدامات کئے جو ان کے برسوں کے سیاسی کیریئر کے دوران کئے گئے اعلانات اور بیانات سے متصادم تھے، ابتدا میں ناقدین نے ان اقدامات کو عمران خان کا واضح یو ٹرن قرار دیا اور بعد ازاں عمران خان نے خود تسلیم کیا کہ ان کی جانب سے مذکورہ معاملات میں یو ٹرن لینا ملک و قوم کے مفاد میں تھا اور ایسا انہوں نے جان بوجھ کر کیا۔وہ ہمیشہ اپنے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے اور متعدد بار کہا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا، تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی، عمران خان کے مذکورہ بیان کے بعد ان پر مخالفین کی تنقید میں اضافہ ہوا۔
    عمران خان نے اپنے یوٹرن بیانات سے نئی سیاست کا آغاز کیا اور یہ ثابت کردیا کہ لیڈر اپنی بات سے "پھر” بھی سکتا ہے اور سیاسی لیڈر کے قول وفعل میں تضاد معمول کا حصہ ہے۔

    ماضی کا ذکر کیا جائے توعمران خان کے بہت سے ایسے یوٹرن ہیں، جواخبارات کی شہہ شرخیوں کا حصہ بنے، ذیل میں اسی سے پیوستہ کچھ ایسے ہی شاہکار یوٹرن کا مختصر احوال آپ کی یاد دہانی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے، بس پڑھتے جائیں اور سر پیٹتے جائیں۔جی ہاں عمران خان کے منظور نظر اور ق لیگ کے سینئر رہنما پرویز الہی کے بارے میں عمران خان نے ایک زمانے میں یہ فرمایا تھا کہ پرویز الہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے،عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے نہ صرف اس ڈاکو کوپنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنادیا بلکہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد بھی کردیا۔ عمران خان کا کہتا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخارچوہدری اس ملک کی امید ہیں، تاہم اختلافات سامنے آنے پر وہ اپنے بیان سے ہی دستبردار ہوگئے اور اس پریوٹرن لیتے ہوئے کہاکہ افتخار چوہدری بھی دھاندلی زدہ اور کرپشن میں ملوث ہیں۔ایک وقت تھا جب عمران خان کہتا تھا کہ میں شیخ رشید جیسے شخص کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں ،اس پر خان صاحب نے یوٹرن لیاپھراسی شیخ رشید کو پہلے وفاقی وزیرریلوے اور اس کے بعدوزیرداخلہ بنادیا۔سال 2013 کے انتخابات کے تناظر میں عمران خان نے نجم سیٹھی پر پینتیس پنکچر کا الزام لگایاتھالیکن بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی بیان تھا۔عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو کسی سے بھیک نہیں مانگوں گا اور اگر ایسا کیا تو خودکشی کرلوں گا، تاہم اس پرعمران خان نے یوٹرن لیا اورپاکستان کوعالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے شکنجے میں کس دیا۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہاتھاکہ پیٹرول، گیس، بجلی سستی کروں گا ،جبکہ یوٹرن کی بدولت پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کیا گیا،انہوں نے میٹروبس کوجنگلہ بس کہاتھااورکہاتھاکہ میٹرو بس نہیں بنائوں گا ،عمران خان نے اپنے اعلان کے برعکس یوٹرن لیکر پشاور میں ایسی ہی ایک بس سروس بناڈالی،انہوں ارشادفرمایاتھاکہ ڈالر مہنگا نہیں کروں گا پی ٹی آئی کی حکومت میں روپے کی بے قدری ہوئی اور ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہواجواس وقت دوسوروپے سے بھی تجاوزکرچکاہے۔ خیر عمران خان صاحب کی معاشی تباہ کاریوں پر لکھنے کو تو الگ کالم درکار ہے یہاں بات کرلیتے ہیں یوٹرن کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے یو ٹرن کی توصیف میں آسمان کے تارے توڑ لانے سے قطع نظر یو ٹرن لغوی اور سماجی لحاظ سے احمقانہ عمل ہوتا ہے اور کمزور ذہن کے جذباتی فیصلوں کے بعد کسی بڑی مصیبت سے ڈر کر اپنے کہے سے پھر جانے اور قول وفعل کے تضاد کو کہتے ہیں۔ اس کو کسی بھی صورت ایک اچھی صفت قرار نہیں دیا جا سکتا مگر کیا کیجئے کہ نیا دور ہے،ہماری سیاست میں نئی اخلاقیات مرتب ہو چکی ہیں، بات کے جواب میں گالی دینا سیاست کا بنیادی اصول بن چکا ہے۔ دلیل سے بات کرنے والے کو احمق کہا جاتا ہے اور مہذب شخص کو بزدل کہا جانے لگا ہے۔ سیاست کے میدان میں فوٹو شاپ کے ذریعے کئے گئے کمالات ترقی اور یو ٹرن، نظریۂ ضرورت کے بعد اگلا نظریہ ٹھہرا۔ مان لیا، اس کے علاوہ چارہ ہی کیا ہے؟ پچھلے کئی سالو ں سے مانتے ہی آرہے ہیں۔