Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سری لنکا معاشی بحران، ایشیاء کپ 2022 کی میزبانی بنگلا دیش کو ملنے کا امکان

    سری لنکا معاشی بحران، ایشیاء کپ 2022 کی میزبانی بنگلا دیش کو ملنے کا امکان

    کولمبو:سری لنکا معاشی بحران، ایشیاء کپ 2022 کی میزبانی بنگلا دیش کو ملنے کا امکان ،اطلاعات ہیں کہ سری لنکا میں معاشی بحران کے باعث ایشیاء کپ 2022 کی میزبانی بنگلا دیش کو ملنے کا امکان ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق معاشی بحران کی وجہ سے سری لنکا کے ایشیاء کپ کی میزبانی کے امکانات کم ہوگئے ہیں، بنگلا دیش کے ایشیاء کپ 2022 کی میزبانی کے قوی امکانات ہیں۔

    میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سری لنکا میں موجودہ معاشی بحران کے باعث ایشیاء کپ ملتوی ہونے کے بھی امکانات موجود ہیں۔ایشیاء کپ 2022 رواں برس 27 اگست سے 11 ستمبر تک کھیلا جانا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث ایشیاء کپ دونوں ممالک میں فی الحال نہیں ہوسکتا جبکہ عرب امارات اور عمان میں اگست ستمبر میں شدید گرمی کے باعث ایونٹ کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔اس حوالے سے ایشین کرکٹ کونسل نے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن سری لنکا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر بنگلا دیش کا نام میزبانی کےلیے زیرغور ہے۔

    یاد رہے کہ آخری بار ایشیاء کپ 2018 میں کھیلا گیا تھا۔ایشیاء کپ 2020 کا ایڈیشن کورونا کی وجہ سے منسوخ ہوگیا تھا۔

  • تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سری لنکا کی طرح پاکستان انتہائی چارجڈ سیاسی ماحول اور معاشی بحران کے درمیان دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے جس کا ملک کو کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پاکستان کے لئے مجموعی بیرونی قرضہ 32.74536 امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے قدم اٹھانے پر مالی اعانت میں مشکلات کو کم کرنے میں مدد کے لئے اپنے 6 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی فنڈنگ کے حجم اور مدت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے چین، برادر اسلامی ملک سعودی عرب ا ور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 9.2 ارب ڈالر کا قرض بھی لیا ہے ۔

    اس سے قبل مملکت سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لئے موخر ادائیگیوں کے لئے 3 ارب ڈالر کی سہولت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی معاونت بھی دی تھی۔ سرکلر ڈیٹ کا موجودہ اسٹاک 5 ٹریلین روپے (14 ارب ڈالر) کے آس پاس ہے۔ پاکستان کو دسمبر 2018 میں متحدہ عرب امارات سے 3 ارب ڈالر کی اقتصادی امداد بھی ملی تھی جبکہ مارچ 2019 میں آل ویدر دوست ملک چین نے 2.2 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔ چین بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

    تمباکو عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابقق پنے آدھے صارفین کو ہلاک کرتا ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا میں موت کی واحد سب سے بڑی قابل روک تھام وجہ ہے جس میں ہر سال ٨٠ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ 70 لاکھ سے زائد اموات تمباکو کے استعمال کے براہ راست نتائج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ 12 لاکھ اموات سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو ہر سال تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار 100 افراد کی موت کا سبب ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت نشانہ بنائے جا رہی ہے تاکہ "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کو بھرتی کیا جا سکے۔ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریبا 1200 پاکستانی بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔
    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے کے مطابق 2014 میں تقریبا 24 ملین (19.1 فیصد) بالغ اس وقت کسی بھی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 15.6 ملین (12.4 فیصد) بالغ افراد ہیں جو اس وقت تمباکو پیتے ہیں جن میں 3.7 ملین بالغ افراد پانی کے پائپ، ہکا یا شیشا استعمال کرتے ہیں اور مزید 9.6 ملین (7.7 فیصد) بالغ ہیں جو بغیر دھوئیں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں میں غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری پیدا ہونے کا امکان دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود تمباکو کی نمائش کی کم سطح، غیر معمولی تمباکو نوشی یا سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے ساتھ، ناکافی دل کی صحت کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ مرد تمباکو نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا امکان 23 گنا زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کے امکانات غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر سے 80-90 فیصد اموات کا سبب بنتی ہے۔
    آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 207.77 ملین اور آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء تھی۔ جس سے ملک میں نوجوانوں کی کافی زیادہ تعداد ظاہر ہوئی ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 14 لاکھ افراد صرف سگریٹ، شہری ہکہ / شیشہ / الیکٹرک ویپس، گٹکا، پین، میوا، نسوار وغیرہ کی وجہ سے منہ کے کینسر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کینسر کے 100 کیسز میں سے کم از کم 4 کیسز پاکستان میں منہ کے کینسر کے ہیں۔ جب ہم زبانی سرطان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو بات ذہن میں آتی ہے وہ تمباکو نوشی ہے۔ پاکستان میں جہاںایگلر فوڈ اور دیگر استعمال کی اشیاء گزشتہ پانچ سالوں میں اوسطا 60 سے 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، بدقسمتی سے سگریٹ کے ایک پیکٹ کی کم از کم قیمت یکساں رہی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی یو آئی سی کی جانب سے شائع کردہ تمباکو اکنامکس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی اور کمی نہیں کی جا سکی ، پاکستان ٹوبیکونومیکس سگریٹ ٹیکس اسکور کارڈ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو ٹیکس نظام کی طاقت کا جائزہ لیتا ہے، مجموعی طور پر ٹیکس نظام کا اسکور پانچ نکاتی پیمانے پر ایک سے بھی کم ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ زیادہ سستے ہوگئے ہیں کیونکہ تمباکو کے ٹیکس کم ہیں اور جولائی ٢٠١٩ کے بعد سے اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں ایکسائز ٹیکس کی اوسط شرح اس وقت خوردہ قیمت کا تقریبا 45 فیصد ہے جو کہ 70 فیصد کے وسیع پیمانے پر قبول شدہ بینچ مارک کے مقابلے میں ہے۔ عالمی بینک کی سفارش کے مطابق سگریٹ پر وفاقی ایکسائز ٹیکس وں کو 30 فیصد تک ختم کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے کم ہوں گے اور ایکسائز ٹیکس کی آمدنی میں کم از کم 25 فیصد اضافہ ہوگا۔

    لہذا عالمی بینک کی سفارش کی تعمیل میں پاکستان میں موجودہ ٹیکس کے تناسب کا 30 فیصد بڑھانے کا مطلب ہےکہ ؛ سگریٹ پر تمباکو ایکسائز 43 روپے اور زیادہ قیمت والے سگریٹ پر 135 روپے تک فروخت کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے، تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں 1.2 فیصد کمی، بالغ تمباکو نوشی کرنے والوں میں تمباکو نوشی کی شدت میں 1.23 فیصد کمی، 71 ہزار 900 جانیں بچگئیں، پاک کو اضافی کل فیڈ آمدنی میں 27.4 ارب روپے کا اضافہ ہوگا یعنی کم از کم 25.1 فیصد اضافہ

    حال ہی میں پی آئی ڈی ای کی جانب سے جاری کردہ "پاکستان میں تمباکو سے متاثرہ بیماریوں کی اقتصادی لاگت” چونکا دینے والے اور آنکھیں کھولنے والے اعداد و شمار سے پردہ اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں 2019 ء کے لئے تمباکو نوشی سے متعلق تمام بیماریوں اور اموات کی وجہ سے مجموعی اخراجات 615.07 ارب روپے (3.85 ارب ڈالر) ہیں۔ یہ تعداد تمباکو کی صنعت سے پاکستان میں موصول ہونے والے تمباکو ٹیکس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ (71 فیصد) کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں سے آتا ہے۔ تمباکو نوشی سے منسوب کل اخراجات جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہیں جبکہ کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں کے تمباکو نوشی سے منسوب اخراجات جی ڈی پی کا 1.15 فیصد ہیں”۔

    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ٹیکس تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہیں۔ تمباکو کا استعمال بڑے پیمانے پر آبادی پر کافی معاشی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماری سے منسلک صحت کے زیادہ براہ راست اخراجات اور قبل از وقت جانی نقصان، تمباکو سے متعلق بیماری کی وجہ سے معذوری اور پیداواری نقصانات سے متعلق زیادہ بالواسطہ اخراجات تمباکو کے استعمال کی نمایاں منفی خارجیت پیدا کرتے ہیں۔

    لہٰذا یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ "تمباکو کے ٹیکسوں میں اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کمی آتی ہے۔” درحقیقت تمباکو پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جیسا کہ ایف سی ٹی سی نے تقویت دی ہے کہ "مؤثر تمباکو ٹیکس نہ صرف کم کرتے ہیں ،کھپت اور پھیلاؤ میں کمی کے ذریعے خارجیت لیکن تمباکو کے استعمال سے وابستہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لئے حکومتوں کے اخراجات میں کمی لانے میں بھی معاون ہے۔ ”

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
    یہ سفارشات تکنیکی گواہی، بہترین طریقوں اور ان ممالک کی تفہیم پر مبنی ہیں جنہوں نے تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کو ان طریقوں سے موثر طریقے سے نافذ کیا ہے جن سے ان کے عوام کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ ایف سی ٹی سی کا آرٹیکل ٦ رکن ممالک کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ٹیکس اور قیمتوں کی پالیسیاں اپنانے کا پابند کرتا ہے۔ قیمتیں سگریٹ کے استعمال کے اقدامات سمیت عملا تمام اجناس کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے فی کس کھپت، تمباکو نوشی کی شرح اور روزانہ سگریٹ پینے والوں کی تعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹیجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org

    مصنف وزارت قومی صحت پاکستان کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • چین کا متحرک ہدف کو نشانہ بنانے والے ہائپر سونک میزائل کی تیاری پر کام شروع

    چین کا متحرک ہدف کو نشانہ بنانے والے ہائپر سونک میزائل کی تیاری پر کام شروع

    بیجنگ: چین نے متحرک ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے ہائپر سونک میزائل کی تیاری پر کام شروع کر دیا جو ایک تیزی سے حرکت کرتی گاڑی کو بغیر چُوکے با آسانی آواز کی رفتار سے پانچ گُنا زیادہ رفتار سے نشانہ بنا سکیں گے چین کی جانب سے کیا جانے والا یہ اقدام تیزی سے حرکت کرتے ہدف کو نشانہ بنانے کے مسئلے کو حل کرنے کے پیشِ نظر ہے۔

    باغی ٹی وی : چینی جریدے انفرا ریڈ اینڈ لیزر انجینیئرنگ میں شائع ہونے والے مقالے میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اس نئے ہائپر سونک میزائل کے ساتھ چینی فوج خطے کی جنگ میں ہائپر سونک اسلحوں کے استعمال کا دائرہ بڑی حد تک بڑھا سکتی ہےایک تیز رفتار میزائل سیکنڈ کے حصے میں طویل فاصلہ طےکر سکتا ہے اور ہدف کے تعین کرنے اور رہنمائی کے نظام میں معمولی سی غلطی ایک بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

    طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی…

    یینگ شیاؤگانگ کی رہنمائی میں کام کرنے والی پی ایل اے راکٹ فورس یونیورسٹی آف انجینیئرنگ کی محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ ان کو ہائپر سونک ٹیکنالوجی کے پیچیدہ نظر آنے والے مسائل کے حل کرنے کے لیے 2025 تک کی مہلت دی گئی تھی۔

    مقالے میں بتایا گیا کہ حرکت کرتے چھوٹے ہدف کا انفرا ریڈ نشان بغیر تفصیل والی چند پِکسلز کی تصویر بناتا ہے، جو شناخت اور پیچھا کرنے کے عمل کو نہایت مشکل کر دیتا ہے۔

    بھارتی فوج کی حکمت عملی تبدیل،پاکستان بارڈرسے چھ ڈویژن ہٹا کر چین کی سرحد پر کی…

    چینی فوج کا ماننا ہے کہ ہائپر سونک ہتھیار جنگ کو بدل کر رکھ دیں گے اس لیے چین اس ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہےپی ایل اے کے ہائپر سونک پروگرام میں 3000 ہزار کے قریب سائنس دان شریک تھے جن کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برسوں میں چین نے اپنی توجہ کا مرکز حرکت کرتے اہداف کے حوالے سے اپنی صلاحیت کو بنایا ہے اس کوشش میں ایک ایئر کرافٹ کیریئر کا نمونہ بھی شامل ہے جو صحرائے گوبی کی فائرنگ رینج میں پٹریوں پر بنایا گیا ہے۔

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

  • ویرات کوہلی کو کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے کی پیشکش کیے جانے کا امکان

    ویرات کوہلی کو کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے کی پیشکش کیے جانے کا امکان

    لاہور: ویرات کوہلی کو کشمیر پریمیئر لیگ (KPL) میں کھیلنے کی پیشکش کیے جانے کا امکان،اطلاعات کے مطابق کچھ ایسی خبریں گردش کررہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سابق بھارتی کپتان ویرات کوہلی کو کشمیر پریمیئر لیگ (KPL) میں کھیلنے کی پیشکش کرے گا، جو کہ T20 فارمیٹ کے میگا کرکٹ ایونٹ ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کی اہمیت اور ٹیلنٹ کو فروغ دیا جائے گا۔

    اس حوال سے ایک بیان میں کے پی ایل کے صدر عارف ملک نے کہا کہ ویرات کوہلی کو باضابطہ میٹنگ بھیجی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ بطور کھلاڑی لیگ کا حصہ ہیں یا بطور مہمان خصوصی۔عارف ملک نے زور دے کر کہا کہ کے پی ایل دنیا کو امن کا پیغام دے رہی ہے۔

    عارف ملک نے مزید کہا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستانی کرکٹرز لیگ کا حصہ بنیں اور کرکٹ کے ذریعے دونوں جانب سے کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ لیگ کا بنیادی مقصد اس خطے میں کرکٹ کو فروغ دینا اور کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    ملک نے کہا کہ کے پی ایل کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور پہلے سیزن کی طرح دوسرا سیزن بھی مظفرآباد اسٹیڈیم میں ہوگا۔میگا ایونٹ کا آغاز یکم اگست سے ہوگا اور اس کا فائنل پاکستان کے 75ویں یوم آزادی (14 اگست کو) پر کھیلا جائے گا۔

    "KPL کے ساتھ ساتھ، کرکٹ کے شائقین کو ایک فینٹسی لیگ بھی دیکھنے کو ملے گی جس میں مظفرآباد اور سری نگر کی ٹیمیں ایک دوسرے کے ساتھ عملی طور پر کھیلتی نظر آئیں گی۔ ہم دونوں اطراف کے لوگوں کو ساتھ لانا چاہتے ہیں تاکہ ہم امن کے پیغام کو پھیلا سکیں،”

  • طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی سزا

    طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی سزا

    بیجنگ: چین کے ایک آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر نے غصے میں آکر اپنی کمپنی کا سارا ڈیٹا بیس ضائع کر دیا جس پر انہیں سات برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :چینی میڈیا کے مطابق چین کی مشہور ریئل اسٹیٹ کمپنی لیانجا کےسابقہ ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر، ہین بِنگ نے یہ کام جون 2018 میں کیا تھا کمپنی کے دو ڈیٹابیس اور دو ایپلیکیشن سرورز کے وہ واحد نگراں تھے اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کیا۔

    دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی اشیاء

    انہیں ادارے کی جانب سے نوکری سے ہٹایا گیا تھا اور اسی کے پاداش میں ہین نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا تھااس کام پر نہ صرف کمپنی کے تمام کام ٹھپ ہوگئےبلکہ ہزاروں ملازمین تنخواہوں سےبھی محروم ہوگئےتھےبعد میں لگ بھگ 30 ہزار ڈالر خرچ کرکے کمپنی کا ڈیٹا بیس بحال کیا گیا اس طرح کمپنی کو 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    ڈیٹا بیس تباہ کرنے پر پانچ افراد پر الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد ہین بِنگ کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے تفتیش کے دوران اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے سے انکار کردیا تفتیش کاروں کے مطابق اگر وہ ڈیٹا کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں تو ان کے کچھ آثار لیپ ٹاپ میں مل سکتے ہیں۔

    آخرکار تحقیق کاروں نے الٹا عمل شروع کیا اور ڈیٹا بیس تک آنے والی ہدایات کا سراغ لگایا اس کےعلاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج سےبھی مدد لی گئی تحقیقی عملے نے “shred” اور “rm” کی کمانڈز تلاش کی جو بڑے ڈیٹا بیس کو تباہ کرنے کے لیے دی جاسکتی ہیں اس کے بعد ہین بِنگ کو گرفتار کیا گیا اور اب انہیں سات برس کی قید سزا دی گئی ہے۔

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

  • یٰسین ملک کورہاکرو:دنیابھرمیں ٹویٹرٹرینڈ     بننےلگا،ہرکوئی کشمیریوں کےساتھ کھڑاہوگیا

    یٰسین ملک کورہاکرو:دنیابھرمیں ٹویٹرٹرینڈ بننےلگا،ہرکوئی کشمیریوں کےساتھ کھڑاہوگیا

    اسلام آباد:بطل حریت یٰسین ملک کورہا کرو:دنیا بھرمیں ٹویٹرٹرینڈ بننے لگا،ہرکوئی کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہوگیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی مظالم میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی نظریں بھی کشمیر پرلگ گئی ہیں اور اب تو یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ بھارت کشمیری کی تحریک آزادی سے اس قدر خائف ہوگیا ہے کہ وہ کشمیری قائدین کی جان کا دشمن ہوگیا ہے

     

    ادھریہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت نے ان کشمیری رہنماوں کوسخت سزائیں دینے اور ان کو جان سے مارنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے ، یہی وجہ ہے کہ چند دن پہلے جو بھارتی عدالتوں نے کیا وہ دنیا کے سامنے ہے ،

     

    ان حالات کو دیکھتے ہوئے بطل حریت یٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے پاکستان اور دنیا بھرمیں کشمیریوں سے محبت کرنے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ یٰسین ملک کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں‌، یہی وجہ سہے کہ دنیا بھر میں آج ٹویٹر کا ٹرینڈ #ReleaseYasinMalik #FreeYasinMalik شام 7 بجے پاکستان، شام 3 بجے لندن، یوکے وقت کے وقت صبح 9 بجے، واشنگٹن یو ایس اے، جنیوا شام 4 بجے، ٹورنٹو کینیڈا، شام 5 بجے استنبول ترکی، رات 10 بجے کوالالمپور ملائیشیا، 10 بجے چین، سعودی عرب شام 10 بجے، بیجنگ شام 5 بجے ، شام 6 بجے دبئی 7 آوازخلق نقارہ خدا است بن گیا اور ہرکوئی اپنی آواز اس آواز کے ساتھ بلند کرنے لگا

     

    اصغرزیدی کہتے ہیں کہ بطل حریت یٰسین ملک کی رہائی کے لیے آئیے ہم بے آوازوں کی آواز بنیں! ہم
    GcuKashmir سوسائٹی آپ کو معصوم حریت رہنما یاسمین ملک کی ٹویٹر مہم کا حصہ بننے کی دعوت دیتی ہے ، جو ہمارے سرپرست کے شوہر ہیں۔

    براہ کرم 15 مئی شام 7 بجے ٹویٹر مہم میں شامل ہوں #ReleaseYasinMalik #FreeYasinMalik #KashmiriLivesMatter.کے تمام ہونہار طلباء کا شکریہ GcuKashmirاور اعزازی وائس چانسلر

    دوسری طرف مشال ملک کہتی ہیں‌ کہ اہل کشمیر سے وفا نے بہت حوصلے دیئے ہیں اور اب تو ہر ہیش ٹیگ اہمیت رکھتا ہے🙏🙏 میرے شوہر، کشمیری ہیرو کو بچانے کے لیے آواز اٹھائیں!

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یٰسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک اور سیکڑوں دیگر افراد نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ ایک آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے انسان ہیں اور آزادی کی جدوجہد کوئی جرم نہیں ہے، بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت انہیں جھوٹے الزامات میں سزائے موت دے سکتی ہے۔

    ایک بیان میں چیف ترجمان جے کے ایل ایف رفیق ڈار نے کہا کہ یٰسین ملک کے منصفانہ ٹرائل سے انکار نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کے کہنے پر ان کے خلاف سیاسی انتقام کا ایک اور واضح مظہر ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر متنازع ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے لوگوں کی سب سے طاقتور اور مقبول آواز کو خاموش کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2019 کو یٰسین ملک نے اپنی گرفتاری اور خاص طور پر 10 مئی 2019 کو نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ان کی منتقلی کے بعد جے کے ایل ایف کے سربراہ نے ان من گھڑت مقدمات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور غیر منصفانہ اور متعصب عدالتی کارروائیوں اور بھارتی حکومت کے ناپاک عزائم کے پیش نظر احتجاجاً اپنا دفاعی وکیل واپس لے لیا تھا۔

    گزشتہ روز پاکستان میں یٰسین ملک کے لیے ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ میں رہا، ہیش ٹیگ ReleaseYasinMalik# کے ساتھ ٹوئٹس کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی عدالت کے سامنے ان کے اعتراف جرم کے جھوٹے دعوے کو مسترد اور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان کو درپیش خطرے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

    آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’یٰسین ملک ایک سیاسی قیدی اور تحریک آزادی کے رہنما ہیں جو کشمیریوں کی آزادی کے منصفانہ مقصد کی پرامن طور پر حمایت کر رہے ہیں جس طرح مہاتما گاندھی اور نہرو نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی‘۔

  • رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن 16 مئی کو ہوگا تاہم اس کو پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی : مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ امریکا اور یورپ کے دیگر حصوں میں کیا جائے گا، چاند گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجکر 32 منٹ پر ہوگا –

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    مختلف ممالک میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجکر 13 منٹ پر چاند گرہن عروج پر ہوگا، اختتام دوپہر 11 بجکر 51 منٹ پر ہوگا جبکہ چاند گرہن کا اختتام پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر11بجکر51 منٹ پر ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری چاند گرہن 8 نومبرکو ہوگا،جو پاکستان میں جزوی دکھائی دے گا۔

    زمین کا وہ سایہ جو زمین کی گردش کے باعث کرہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آ جانے سے چاند کی سطح پر پڑتا ہے اور چاند تاریک نظر آنے لگتا ہے چاند گرہن کبھی جزوی ہوتا ہے اور کبھی پورا یہ اس کی گردش پر منحصر ہے۔

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا…

    چاند گرہن کو “خسوف” کہتے ہیں اور چاند گرہن کے وقت دو رکعت نماز دیگر نوافل کی طرح پڑھنا مسنون ہے، اس میں جماعت مسنون نہیں ہے، اس کا طریقہ عام نوافل کی طرح ہے، کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں، سوائے اس کے کہ نیت “صلاۃ الخسوف” کی ہوگی-

    اگر ایسی حالت میں سورج غروب ہوجائے یا کسی نماز کا وقت ہوجائے تو دعا ختم کر کے وقتی فرض نماز میں مشغول ہوجانا چاہیے اسی طرح مکروہ اوقات میں سورج گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ صرف دعا کرلی جائے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • چولستان کی پکار  ازقلم :غنی محمود قصوری

    چولستان کی پکار ازقلم :غنی محمود قصوری

    چولستان کی پکار

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پنجاب کے ضلع بہاولپور کے جنوب میں 30 کلومیٹر دوری پر واقع 66 لاکھ 55 ہزار ایکڑ طول اور 32 سے 480 کلومیٹر عرض والے صحرائی رقبے کو چولستان کہا جاتا ہے جو کہ دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے-

    اسی روہی بھی کہا جاتا ہے یہ صحرا جنوب مشرق میں انڈین راجھستان سے جا ملتا ہےاسی لئے اس علاقے میں سرائیکی زبان کیساتھ زیادہ تر راجھستانی زبان بھی بولی جاتی ہے-

    یہاں کے مقامی لوگ خانہ بدوش ہیں اور یہ لوگ بہت زیادہ غریب ہیں اور ان کا گزر بسر بھیڑ بکریاں و اونٹ پال کر ہوتا ہے کیونکہ اس ریت والے علاقے میں فی الحال اور کچھ ممکن ہی نہیں-

    اس صحرا میں پانی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں زندگی کی بہت بڑی ضرروت پانی کا بہت بڑا حصول بارشوں کے ذریعہ سے ممکن ہے-

    بارشوں کا پانی ٹوبھوں ( تالاب نما) میں جمع رہتا ہے جہاں سے مقامی باشندے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں اور جانور بھی انہیں ٹوبھوں سے پانی پیتے ہیں غربت کے باعث یہ لوگ کنویں وغیرہ نہیں بنوا پاتے اس لئے بارشیں ہی ان کیلئے پانی کا سب سے بڑا حصول ہیں-

    رواں سال پوری دنیا میں گرمی کی شدت ہے پاکستان میں بھی اس وقت شدید ترین گرمی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 1961 کے بعد پہلی بار اتنی گرمی پڑے گی –

    چولستان کا ٹمپریچر 50 درجہ سینٹی گریڈ سے اوپر کو جا رہا ہے اور گزشتہ 3 ماہ سے اس علاقے میںبارشیں بھی نہیں ہوئیں جس کےباعث یہاں کا سب سے بڑا پانی کا ذریعہ ٹوبھے خشک ہو گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق 3 ہزار کے قریب ٹوبھے خشک ہو چکے ہیں جس کے باعث 200 سے اوپر جانور مر چکے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور مجبوراً نقل مکانی شروع کر دی ہے-

    ہر روز بے چین کرنے والی نئی خبر مل رہی ہے حتیٰ کہ کل سے بلوچستان سے بھی خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث لوگوں و جانوروں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں-

    الحمدللہ پاکستانی ایک غیرت مند اور درد دل رکھنے والی قوم ہے جس نے زلزلہ،سیلاب،طوفان میں اپنے ملک کے علاوہ بیرون ممالک کے لوگوں کی بھی خدمات کی ہیں-

    اب ایک بار پھر پاکستانیوں تمہیں چولستان پکار رہا ہے آگے بڑھیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کیلئے درختوں و کنوؤں کا انتظام کیجئے اور ان کی پیاس ختم کیجیئے یقین کریں آپ کی یہ کاوش اللہ تعالی بہت پسند کرے گا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے-

    وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ

    ترجمہ : اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے-

    پاکستان بھر میں بہت سے لوگ اور تنظیمیں اس وقت چولستان کیلئے کام کر رہی ہیں آپ بھی ساتھ دیجئے چولستانیوں کی پیاس بجھانے کا ان شاءاللہ پیاسوں کی پیاس کو بجھانے کے عیوض اللہ تعالی روز محشر جام کوثر نصیب فرمائے گا ان شاءاللہ جلدی کیجئے نیکی کے کاموں میں جلدی اللہ تعالی کو بہت پسند ہے-

  • رمیز راجہ کی چارملکی سیریز کی تجویز کوآئی سی سی نےمسترد نہیں کیا:پی سی بی

    رمیز راجہ کی چارملکی سیریز کی تجویز کوآئی سی سی نےمسترد نہیں کیا:پی سی بی

    لاہور:رمیز راجہ کی چارملکی سیریز کی تجویز کوآئی سی سی نےمسترد نہیں کیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کا کہنا ہے کہ بھارت، پاکستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل چار ملکی ٹورنامنٹ کے لیے چیئرمین رمیز راجہ کی تجویز ابھی بھی زیر غور ہے۔

    بورڈ کے مطابق اس تجویز پر برمنگھم میں ہونے والے آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں بحث کی جائے گی ،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس تجویز کو مسترد نہیں کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی کرکٹ گورننگ باڈی برمنگھم میں اپنے سالانہ اجلاس میں چار ممالک کی تجویز پر تبادلہ خیال کرے گی۔

    یاد رہے کہ یہ تجویز 10 اپریل کو آئی سی سی کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ ان دنوں ٹیموں کو ایک بھرے شیڈول کا سامنا تھا۔

    ادھررمیز راجہ نے گزشتہ سال پی سی بی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، صرف آئی سی سی ایونٹس میں کھیلنے کے علاوہ روایتی حریف بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے رکھنے پر بھ آواز اٹھائی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ اور محدود اوورز کے کرکٹرز کے لیے مختلف معاہدے کی پالیسیوں پر غور کر رہا ہے اور ان پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

    پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر سمیع الحسن برنی نے 13 مئی کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنٹرل کنٹریکٹ پر کافی بات چیت ہوئی ہے جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

    بورڈ ایک نئی پالیسی پر غور کر رہا ہے جس میں کھلاڑیوں کو ان کے معاوضے کھیل کے فارمیٹ کے مطابق ادا کیے جائیں گے اور ادائیگی کے مختلف درجے ہوں گے۔

    پی سی بی قومی کرکٹرز کی تنخواہوں میں اضافے اور دیگر ٹیموں کے ایلیٹ کرکٹرز سے موازنہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

  • مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    گذشتہ ہفتے گھرکاسودا سلف خریدنے کیلئے میں بازارجاناہوا جہا ںمہنگائی کاسونامی آیا ہوا تھا ،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں سن کر ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ۔اس ہوشرباء مہنگائی کی وجہ سے جسم وجاں کارشتہ برقراررکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے ،اپنے بجٹ کے مطابق خریدا ری کررہاتھاتواس دوران سگریٹ ڈسٹری بیوٹرکا ایک رکشہ ڈبہ آکررکا جس پر سے دونوجوان سیلزمین اترے ایک دکان کے اندرچلاگیا دوسرے نے کچھ پوسٹراٹھائے اور دکانوں کی دیواروں انہیں لگاناشروع کردیا،کچھ دیر کیلئے میں سودا سلف لینا بھول گیا اور سگریٹ کے پوسٹر لگانے والے کودیکھنے لگا جب اس نے دیوارپر پوسٹرچپکا لیا تو مجھے اس وقت شدید حیرت کااحساس ہوا،اس پوسٹرپر ایک نئے برانڈ کی 20سگریٹ کی ڈبی دکھائی گئی تھی جس کی قیمت صرف 30روپے درج تھی ،جس سے ایک جھٹکاسالگا،اس مہنگائی کے دور میں ایک سگریٹ کی ڈبی صرف 30روپے میں نوجوانوں کودی جارہی تھی جو 20 سگریٹ پرمشتمل تھی۔پاکستان میںآٹا،چینی ،دالیں ،سبزیاں ،ادویات سمیت ضرویات زندگی کی ہرچیزمہنگی ہے مگراس مہنگائی کے دور میں سگریٹ کاسستاہونابہت سے سوالات کوجنم دیتا ہے کہ سگریٹ اتنے سستے کیوں بیچے جارہے ہیں ۔۔؟

    اگرباقی دنیاسے سگریٹ کی قیمتوں کاتقابلی جائزہ لیاجائے تودنیامیں سب سے مہنگے سگریٹ سری لنکامیں ہیں جہاں سگریٹ کی ایک ڈبی کی قیمت نوڈالرکے قریب ہے اورپاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ 20سگریٹ ایک ڈبی کی قیمت صرف 30پاکستانی روپے ہے ،سگریٹ کی قیمت کم ہونے کی وجہ ایکسائزٹیکس کاکم ہونایا صحیح لاگونہ ہوناہے اورسگریٹ کی غیرقانونی سمگلنگ کانہ رکنے سلسلہ بھی اس میں شامل ہے ۔ نئی حکومت کو سگریٹ نوشی کے معاملے کوسنجیدہ لینا چاہئے ،سگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآمدکرائیں ،ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں کمی ممکن ہو گی اورتمباکونوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں درست فیصلہ سازی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی خزانے کو درپیش خسارہ پالیسی سازوں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ملکی خزانے کو دیرپا مدد نہیں کر سکتا۔ حکومت کو غیر ضروری اور مضر صحت اشیا جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف محصولات بڑھیں گی بلکہ صحت کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی،ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمباکو انڈسٹری کی جانب سے کی گئی کثیر خرچ مہمات اور گمراہ کن اشتہارات ومعلومات سے متاثر ہو کر پاکستان کے ارباب اختیار اور پالیسی سازوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کیونکہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں انہیں ہمیشہ راضی رکھتی ہیں،اس لئے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ سگریٹ کی آسان دستیابی اور سستی ہونے کی وجہ سے پاکستان میںتمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 2.9 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔تمباکو نوشی کرنے والے افرادکئی قسم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 170,000 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اس شخص کے لیے مضرہے جو اِس کی عادت کا شکار ہے بلکہ ان افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے موت کی چھ وجوہات تمباکو نوشی کی وجہ ہیں۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔

    ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہاتو2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ایک آدمی جو ایک سگریٹ پیتاہے تواس کی زندگی کے پانچ سے11منٹ کم ہوجاتے ہیں۔مجموعی طور پر ایک فرد سگریٹ نوشی کرکے اپنی زندگی کے 12سال کم کردیتا ہے۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی ہوتاہے دوسری طرف تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف ایک فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔

    سگریٹ نوشی بچوں کی صحت پر براہ راست اثرات مرتب کرتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔ دوسری طرف اقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے کئی منفی اثرات ہوتے ہیں جیسا کہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات اور تمباکو سے منسوب بیماریوں کی وجہ سے صارفین کی پیداواری صلاحیت میں کمی۔ دوسری طرف 2019 میں تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی 120 ارب تھی جو تمباکو نوشی کی کل لاگت کا تقریبا صرف 20 فیصد ہے،ماہرین کا یہ بھی کہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ اگرچہ تمباکو کی صنعت سطحی طور پر ایک بڑی ٹیکس دینے والی صنعت ہے لیکن تمباکو کی صنعت کا ادا کردہ ٹیکس تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ٹیکس قانون مارکیٹ میں فروخت ہونے والے تمام سگریٹ پر لاگو کردیا جائے تو حکومت کو سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس مل سکتا ہے جبکہ اس وقت حکومت کو سالانہ 114 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہورہا ہے۔ موجوہ نظام میں غیر قانونی سگریٹ کی سستے داموں پر فروخت تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ماہرین کایہ بتاناہے کہ تمباکو پر ٹیکس سب سے زیادہ کفایتی تمباکو کنٹرول اقدام ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس سگریٹ نوشی کے آغاز کو روکتا ہے، سگریٹ کا استعمال کم کرتا ہے، اور یہاں تک کہ تمباکو نوشی چھوڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تمباکو پر ٹیکس لگانے میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ موجودہ حکومت کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر عوام اور ملکی معیشت کی مدد کی جائے۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کیا جائے تواس سے ایک طرف اضافی ریونیو حاصل ہوگا دوسراسگریٹ کی قیمتیں زیادہ ہونے سے ہماری نوجوان نسل تباہی سے بچ جائے گی اورسگریٹ سے حاصل شدہ ریونیو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔