Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سپین اور یونان میں سال 2022  کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    یونانی دارالحکومت ایتھنز کے ساحل پر سال 2022 کا سب سے بڑا ‘سپر مون’ آج طلوع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چاند کو زمین سے بے حد قریب اورمعمول سے زیادہ روشن دیکھ کر سب حیران رہ گئے، حیران کردینے والے اس منظر میں چاند کو زمین سے قریب اور مختلف رنگ میں دیکھا گیا۔

    جولائی میں طلوع ہونے والے اس ‘سپر مون’ کو کسانوں کی زبان میں BUCK MOON بھی کہا جاتا ہے۔ اس سپر مون کو اسپین کے Canary Islands پر بھی دیکھا گیا ہے۔

    سپر مون اس وقت طلوع ہوتا ہے جب چاند زمین کے مدار سے بہت قریب آتا ہے جس کے باعث وہ عام چاند سے زیادہ روشن اور زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔

    سپر مون SuperMoon کیا ہے ؟؟

    چاند بیضوی مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتا ہے اس بیضوی مدار میں وہ کبھی زمین کے قریب آجاتا ہے اور کبھی بہت دور چلا جاتا ہے ۔ جب وہ زمین کے قریب ترین مقام پر آجاتا ہے تو اس کو حضیض قمر اور انگریزی میں Perigee کہتے ہیں اور جب وہ زمین سے بعید ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کو اوج مدار قمر اور انگریزی میں Apogee کہتے ہیں ۔

    اسی وجہ سے بعض دفعہ ہمیں چودھویں کا چاند کافی بڑا اور بعض دفعہ کافی چھوٹا دکھائی دیتا ہے ہر قمری ماہ میں یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں وجہ ظاہر ہے کہ ایک قمری ماہ میں چاند اپنے مدار میں زمین کے قریب بھی آجاتا ہے اور دور بھی چلاجاتا ہے اس بڑے چاند کو Super Moon یا بڑا چاند کہتے ہیں ۔

  • قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    قازقستان کے ایک غار سے تقریباً 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات ملی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق،سائنسدانوں کوقازقستان کے علاقے بیدی بیک ضلع میں بورالدائی پہاڑ پر واقع توتیبولک غار میں 48 ہزار سال پہلے رہنے والے ایک شخص کے آثار ملے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم اور ڈاکٹر آف ہسٹوریکل سائنسز زاکن تیماگن کا کہنا ہے کہ ہم قازقستان میں واقع اس غارکو جرمنی کی Tübingen یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ تلاش کررہے تھے ، جس میں اسپین، امریکا، رومانیہ اور قازقستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

    زاکن تیماگن کا کہنا ہے کہ ہم کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں پچھلے سال غار کے اندر سے تاریخی آثار اور راکھ کے باقیات ملے تھے راکھ کی بنیاد پر لیبارٹری نے ثابت کیا کہ یہاں لوگ 48 ہزار سال پہلے رہتے تھے تاہم اور معلومات حاصل کرنے کیلئے ہم ابھی بھی مزید کھدائی کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2017 میں شروع ہونے والی کھدائی کے نتیجے میں محقیقن کو غار میں مختلف اشیاء، جیسے ریچھ، انسانی دانت اور ایک بنیادی پتھر ملا اس کے علاوہ ہزاروں سالوں سے زمین میں پڑی راکھ کی باقیات بھی شامل ہیں۔

    یہ علاقہ پچھلی صدی کے وسط میں دریافت ہوا تھا، لیکن کھدائی صرف 2017 میں شروع ہوئی۔ سائنسدانوں نے پہلے صرف ثقافتی تہوں میں کھدائی کی لیکن جلد ہی دیگر اوزاروں کے علاوہ پتھر کی پلیٹیں اور کھرچنے والے جیسے اہم نمونے بھی ملے۔ ان نتائج کو جانچ کے لیے جرمنی بھیجا گیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ 48 ہزار سال پرانے ہیں۔

    جرمن ماہر آثار قدیمہ نے غاروں کی اہمیت کو نوٹ کیا کیونکہ سائنس دان اس علاقے میں پائے جانے والے لوگوں اور جانوروں کی نامیاتی باقیات کو نمونے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ اس بات کی وضاحت کی جا سکے کہ وہاں انسانی نسلیں رہتی تھیں۔

    محققین کے مطابق توتیبولک قازقستان کا پہلا غار ہے جہاں اس قسم کے آثار ملے ۔ محقیقین ان کی عمر اور مخصوص دور کا تعین کرنے کے لیے تقریباً ایک سال تک نمونوں کا مزید مطالعہ کریں گے۔

  • ڈیرہ ۔ پی پی 288  الیکشن مہم عروج پر، کل عمران خان خطاب کریں گے

    ڈیرہ ۔ پی پی 288 الیکشن مہم عروج پر، کل عمران خان خطاب کریں گے

    ڈیرہ غازی خان : پی پی 288 میں الیکشن مہم عروج پر پہنچ گئی، کل 14جولائی کو عمران خان جلسہ عام سے خطاب کریں گے
    باغی ٹی وی رپورٹ -ڈیرہ غازی خان میں ضمنی انتخابات پی پی 288 میں الیکشن مہم عروج پر پہنچ گئی ہے، کل 14جولائی کو عمران خان جلسہ عام سے خطاب کریں گے، جلسہ سیمنٹ فیکٹری چوک پر ہوگا جہاں کنٹینر لگائے جارہے ہیں ،حلقہ پی پی 288 میں مسلم لیگ ن کے سردار عبدالقادر کھوسہ اور پی ٹی آئی کے سردار سیف الدین کھوسہ آمنے سامنے ہیں اس حلقہ میں کانٹے دارمقابلہ کی توقع کی جارہی ہے ،کارنرمیٹنگز اورانتخابی جلسوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنامشکل ہے کہ جیت کس کامقدر ٹھہرے گی،عمران خان اس حلقہ میں اپنے امیدوار سردارسیف الدین کھوسہ کی الیکشن میں جیت یقینی بنانے کیلئے کل 14جولائی کوجلسہ عام سے خطاب کریں گے جس کیلئے پنڈال سجایاجارہاہے۔ دوسری طرف اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار جوکہ سابق ضلعی چیئرمین ہیں وہ اس حلقہ میں اپنا ووٹ بنک رکھتے ہیں،اس کے علاوہ سابقہ ادوار میں یہ حلقہ این اے 173 کا حصہ تھاجہاں سے سابق صدرسردارفاروق احمدخان لغاری مرحوم الیکشن جیتتے رہے ان کے بعد سردار اویس احمد خان لغاری کا حلقہ انتخاب بھی یہی رہاجہاں سے وہ جیت کرممبرقومی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں توسرداراویس احمد خان لغاری نے اس حلقہ میں سردارعبدالقادرخان کھوسہ کی الیکشن کمپین چلانے کیلئے اپنی وزارت سے استعفیٰ دیااوربھرپور انداز میں اپنے امیدوارکی الیکشن مہم شروع کردی ہے ۔اس سے قبل حلقہ پی پی 288 ڈیرہ غازی خان 2018 کے عام انتخابات میں سردارمحسن عطا خان کھوسہ نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی،سردارمحسن عطا کھوسہ پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان میں شامل تھے جنہوں نے حمزہ شہبازکووزارت اعلیٰ کیلئے ووٹ دیاتھا۔ 2022 کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوارسردار عبدالقادر کھوسہ پی ٹی آئی کے ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوارسردار سیف الدین کھوسہ سابق گورنر پنجاب سردارذوالفقار علی خان کھوسہ کے صاحبزادے ہیں اوراس وقت دونوں کھوسہ کزنز میں کانٹے دار مقابلہ ہے ۔پی پی 288قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 190 میں آتا ہے، جہاں پی ٹی آئی کے سردار امجد فاروق خان کھوسہ ایم این اے ہیںحلقہ پی پی 288 کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کافیصلہ 17 جولائی کو ہوگا۔

  • کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا کہ کسی اجرامِ فلکی کا قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : منتھلی نوٹس آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائیٹی میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ اگر کوئی خلائی شے کسی سیارے کے قریب سے گزرتی ہےجو کہ کائنات میں ہونے والی ایک عام بات ہے تو یہ دیگر سیاروں کے آپس میں ٹکرانے کے لیے کافی ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    اگر عطارد اور مشتری کے پیری ہیلین(ایسا نقطہ جہاں سیارے سورج سے سب سے زیادہ قریب پہنچ جاتے ہیں) ایک جگہ آجائیں تو دو وقوعات کے امکانات ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عطارد اپنے مدار سے باہر ہو جائے اور نظامِ شمسی سے باہر نکل جائے یا سیارہ زہرہ، زمین یا سورج سے اس کا تصادم ہوجائے۔

    یہ تبدیلیاں لاکھوں سالوں کے عرصے پر محیط ہوں گی لیکن محققین نے اس صورتحال کی تقریباً 3000 بار نقول بنائیں تقریباً 2000 نقول میں 26 کا اختتام سیاروں کے آپس میں تصادم سے ہوا یا عطارد،یورینس یا نیپچون مکمل طور پر نظامِ شمسی سے باہر نکل گئے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے ڈیپارٹمنٹ آف فزیکل اینڈ اِنوائرنمنٹ سائنسز کے گریجویٹ طالب علم گیریٹ براؤن نے بتایا کہ سیاروی نظام کی ارتقاء میں ستاروں کا گزر ابھی بھی تحقیق کا ایک فعال شعبہ ہے۔ سیاروی نظام جو ستاروں کے جتھے میں بنتے ہیں، اس بات پر اتفاق ہے کہ ستاروں کا گزر ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ سیاروی نظام ان ستاروں کے جتھے میں باقی رہتے ہیں ایسا سیاروی ارتقاء کے شروع کے 10 کروڑ سالوں میں ہوتا ہے۔ ستاروں کے جتھوں کے زائل ہونے کے بعد ستاروں کے قریب سے گزرنے کے واقعات میں ڈرامائی کمی آتی ہے جس سے ان کا سیاروی نظاموں کی ارتقاء میں کردار کم ہوجاتا ہے۔

    29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

  • برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    برازیل میں ایمازون جنگلات کی کٹائی ریکارڈ بلندی کو چھو چکی ہے۔

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق گرین پِیس نامی ماحولیاتی ادارے کے مطابق اس سال جنوری سے جون کے درمیان برازیل میں موجود ایمازون جنگلات کا 3988 مربع کلومیٹر کا رقبہ صاف کر دیا گیا۔

    مذکورہ رقبے میں پانچ نیو یارک شہر سمائے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کی یہ شرح برازیلی ایمازون میں کسی بھی سال کے شروع کے چھ ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔

    جنگلات کی کٹائی ایک ایسا عمل ہے جس میں مستقبل طور پر درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے جو عموماً فصلیں اُگانے اور مویشیوں کو چَرانے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان کی غذا کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔

    جنگلات کی حفاظت کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق جنگلات کی کٹائی کے عمل میں درختوں اور پودوں کو کاٹا یا جلایا جاتا ہے، جس سے جنگلی حیات کے ماحول کو نقصان اور حیاتیاتی تنو کو ضرر پہنچتا ہے۔

    جنگلات کی کٹائی کے متعلق یہ نیا ڈیٹا برازیل کے قومی ادارہ برائے خلائی تحقیق نے شائع کیا ہے۔

    گرین پِیس نے ایک بیان میں جاری ہونے والے ڈیٹا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑا برساتی جنگل ایمازون، جو دنیا کے پھیپھڑوں کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جلد ہی تباہی کی در پر لے جایا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب دی گارجئین کے مطابق 2022 کی پہلی ششماہی کے دوران ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی نے ایک نیا ریکارڈ بنایا، برازیل کی خلائی ایجنسی نے جمعہ کو رپورٹ کیا، اس خدشات کو گہرا کرتے ہوئے کہ سیارے کی صحت کے تحفظ میں وسیع بارشی جنگلات کے اہم کردار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

    سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3,980 مربع کلومیٹر سے زیادہ کا رقبہ نیویارک شہر کے حجم سے پانچ گنا زیادہ ہے، اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں جنگلات کی کٹائی ہوئی، جو کہ کم از کم 2016 تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ایجنسی کے اعداد و شمار نے بھی آخری بار آگ کی سرگرمی کی نشاندہی کی-

    دنیا کا سب سے بڑا برساتی جنگل سیارے کے سب سے اہم "کاربن ڈوب” میں سے ایک ہے، جو ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بہت زیادہ مقدار کو جذب کرتا ہے اور اسے اپنی پودوں میں محفوظ کرتا ہے۔ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹا کر، ایمیزون تمام کاربن کے اخراج کے لیے ایک طاقتور انسداد توازن کا کام کرتا ہے اور گلوبل وارمنگ کی رفتار کو سست کرتا ہے۔

    ایمیزون علاقائی موسمی نمونوں کو منظم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے درخت اپنے تنوں، پتوں اور پھولوں کے ذریعے ایک عمل کے ذریعے فضا میں پانی خارج کرتے ہیں جسے ٹرانسپائریشن کہتے ہیں۔ چھوڑا ہوا پانی آسمان میں وسیع ندیاں اور بارش کے بادلوں کی تشکیل کر سکتا ہے، جو مقامی طور پر اور شاید میکسیکو اور امریکہ تک بارش کو متاثر کر سکتا ہے۔

    لیکن حالیہ دہائیوں میں جنگل خطرے میں آ گیا ہے کیونکہ زمین صاف کر دی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر مویشی پالنے اور کھیتی باڑی کے لیے تبدیل کر دی گئی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران، ایمیزون نے اپنے جنگلات کا تقریباً 17 فیصد کھو دیا ہے۔

    کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایمیزون ایک دہائی کے اندر اپنے 20 فیصد سے 25 فیصد جنگلات کو کھو سکتا ہے، جو ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی طور پر تبدیل کر سکتا ہے برساتی جنگلات کو تباہ شدہ کھلے سوانا میں تبدیل کر دیا جائے گا، جو حیاتیاتی تنوع کو خطرے میں ڈالے گا، علاقائی موسمی نمونوں کو تبدیل کرے گا اور موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی آئے گی۔

    ایڈووکیسی نیٹ ورک کلائمیٹ آبزرویٹری کے ایگزیکٹیو سکریٹری مارسیو آسٹرینی نے کہا کہ "ہم سائنس دانوں کی طرف سے پیش گوئی کی گئی ٹپنگ پوائنٹ رینج میں داخل ہو رہے ہیں۔” "اب ایمیزون میں جنگلات کی کٹائی کی ہر اضافی تعداد ہمیں اس ناقابل واپسی منظر نامے میں مزید گہرائی میں دھکیل د ے گی-

    گرین پیس برازیل کے ترجمان رومولو باتسٹا نے کہا کہ 2022 میں اب تک کی بڑھتی ہوئی وارداتیں تشویشناک ہیں کیونکہ جنگلات کی کٹائی نئے علاقوں سے تجاوز کر رہی ہے۔ برازیل کی ریاست ایمیزوناس میں جنگلات کی کٹائی نے 1,230 مربع کلومیٹر سے زیادہ کا رقبہ بڑھایا اور صاف کیا ہے، جو خطے کے لیے چھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ پارا اور ماتو گروسو کی ریاستوں نے بالترتیب 1,105 مربع کلومیٹر اور 845 مربع کلومیٹر تک کا صفایا کیا-

    "خاص طور پر اس بارے میں کہ کس طرح جنگلات کی کٹائی میں اضافہ جنوبی ایمیزون میں ایک نئے محاذ پر مرکوز ہے،” بٹسٹا نے ایک نیوز ریلیز میں کہا۔

    گزشتہ تین دہائیوں میں جنگلات کی کٹائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، بشمول 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں بلند شرحوں پر۔ اس کے جواب میں، برازیل کی حکومت نے جارحانہ انداز میں ایمیزون کے تحفظ کی کوشش کی، ماحولیاتی نافذ کرنے والے اداروں کو تقویت دی اور جنگلات کی کٹائی سے غیر قانونی طور پر تیار کردہ سامان کی برآمد کی حوصلہ شکنی کی۔ کوششیں رنگ لے آئیں۔ 2004 سے 2012 تک جنگلات کی کٹائی کی رفتار میں 80 فیصد کمی آئی۔

    لیکن برازیل کے صدر جیر بولسونارو کی قیادت میں گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے کان کنی اور کھیتی باڑی کو سپورٹ کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی ہیں اور ماحولیاتی تحفظات کو بے نقاب کیا ہے۔

    بولسونارو کے تحت جنگلات کی کٹائی کی شرح گزشتہ دہائی کی اوسط سے دوگنی ہے۔ اس لیے وہ بہت پریشان کن ہیں،‘‘ آسٹرینی نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ بولسونارو سے پہلے، 2012 سے 2018 تک ہر سال جنگلات کی کٹائی میں اوسطاً 6,500 مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوا۔ بولسونارو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، شرحیں 13,000 مربع کلومیٹر سالانہ تک تھیں۔

    "واضح طور پر، جنگلات کی کٹائی سے لڑنا وفاقی حکومت کی ترجیح نہیں ہے،” ایمیزون انوائرنمنٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سائنس کے ڈائریکٹر این ایلینکر نے کہا۔ ایسا لگتا ہے کہ ترجیح انتخابات ہیں۔

    ایک بیان میں، برازیل کی وزارتِ ماحولیات نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اہم خطوں میں "ماحولیاتی جرائم سے لڑنے کے لیے حکومت انتہائی مضبوط رہی ہے”۔ اس نے جنگلات کی کٹائی میں حالیہ اضافے پر توجہ نہیں دی۔ بولسونارو ماضی میں جنگلات کی کٹائی کی تعداد سے متفق نہیں تھے۔ انہوں نے فروری میں کہا کہ "اس خطے کے بارے میں معلومات برازیل سے باہر انتہائی مسخ شدہ طریقے سے جاتی ہیں۔”

    برازیل میں ووٹرز نئے صدر اور نیشنل کانگریس کے انتخاب کے لیے اکتوبر میں اجلاس کریں گے۔ ایلینکر نے کہا کہ انتخابی سالوں کے دوران جنگلات کی کٹائی بدتر ہو سکتی ہے کیونکہ لوگ سزا سے ڈرتے نہیں ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران امیدوار جرمانے لگانے اور انسپکشن کو ڈھیل دینے کی طرف کم مائل ہو سکتے ہیں۔

    ایمیزون کے جنگلات کی مسلسل کٹائی بولسونارو کے 2030 تک جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو ختم کرنے اور 2050 تک برازیل کو کاربن غیر جانبدار بنانے کے وعدے کے باوجود سامنے آئی ہے۔ آسٹرینی نے کہا کہ اگلی دہائی کے اندر جنگلات کی کٹائی کا خاتمہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر، پہلے سے صاف کی گئی زمین پر زرعی پیداوار کو دوگنا کیا جا سکتا ہے، اور کچھ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی موجودہ چراگاہوں کی زمینیں حمایت سے زیادہ مویشی چرانے کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

    "ہم جانتے ہیں کہ یہ علاقے کہاں ہیں، کیا کرنے کی ضرورت ہے، جنگلات کی کٹائی کہاں ہوتی ہے اور ہم جنگلات کی کٹائی سے بچنے کے لیے پالیسیوں کو کیسے نافذ کر سکتے ہیں،” آسٹرینی نے کہا۔ لیکن وہ، الینکر اور بہت سے دوسرے لوگوں کو شک ہے کہ ایسی کارروائی موجودہ قیادت میں ہو گی۔

    "اگر ہمارے پاس بولسونارو انتظامیہ کے مزید چار سال باقی ہیں، تو یہ ایک ایسی حکومت ہوگی جو ہمیں جنگل کے خاتمے کی طرف لے جائے گی،” آسٹرینی نے کہا۔ "میں یہ کھل کر کہتا ہوں، اکتوبر کے انتخابات میں، برازیلیوں کو انتخاب کرنا ہوگا، بولسونارو یا جنگل۔ دونوں، اگلے چار سالوں تک، موجود نہیں رہیں گے۔ صرف ایک ہی زندہ رہے گا۔”

    تاہم، انتخابات تک، یونیورسٹی آف ساؤ پالو انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے کارلوس نوبرے نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی کی شرح میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ لوگ کیسے سوچتے ہیں کہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ سوچتے ہیں کہ بولسنارو "دوبارہ منتخب نہیں ہوں گے، تو وہ واقعی زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضے کی کوشش کر سکتے ہیں، صرف اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اگلا صدر” جنوری میں شروع ہونے والے قانون کے نفاذ کے بارے میں بہت سخت ہوگا، نوبرے نے کہا۔

  • زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    لندن: سمندری جانداروں اور انسانوں کے بعد اب زمینی چھوٹے میملز کی نصف سے زائد انواع میں اب پلاسٹک کے آثار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے مختلف مقامات پر مختلف غذائیں کھانے والے ممالیوں کا جائزہ لیا اور ان کی نصف سے زائد تعداد میں پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں جو ان کے فضلے میں بھی خارج ہو رہے تھے۔

    تحقیق سے وابستہ پروفیسر فیونا میتھیوز نے جامعہ سسیکس کے شعبہ ماحولیات کے تحت یہ اہم مطالعہ کیا ہے جس کے مطابق جنگلی حیات کے فضلے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک ایسے مقامات تک بھی پہنچ چکا ہے جو انسانوں سے دور ہے جنگلوں میں موجود چھوٹے ممالیے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ میں سات مقامات سے چھوٹے ممالیوں کے فضلے کے کل 261 نمونے لیے گئے اور انفراریڈ مائیکرو اسکوپی سے ان کا جائزہ لیا گیا اس طرح سات میں سے چار انواع میں پالیمر طرز کا پلاسٹک موجود تھا ان میں یورپی خارپشت، کئی اقسام کے چوہے اور دیگر جاندار شامل تھے۔

    دوسرے مطالعے میں شہری علاقوں کے پاس رہنے والے جانوروں میں مائیکروپلاسٹک کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی خواہ وہ سبزہ خور، ہمہ خور تھے یا صرف گوشت خور ممالیے تھے۔

    ماہرین نے اس رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی خارپشت کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے کم ہورہی ہے تاہم پلاسٹک سے جانوروں میں کمی کے تعلق پر مزید تحقیق اور ثبوت جمع کرنا باقی ہیں جاندار پلاسٹک کھارہے ہیں اور پرندے پلاسٹک سے اپنے گھونسلے بنارہے ہیں۔

  • آئر لینڈ کو دوسرے ون ڈے میں بھی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست

    آئر لینڈ کو دوسرے ون ڈے میں بھی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست

    کیوی بیٹرز کی بہترین بلے بازی اور کیوی بولرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت نیوزی لینڈ نے آئر لینڈ کو دوسرے ون ڈے میں شکست دے دی۔

    نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر آئرلینڈ کو پہلے بیٹنگ کا موقع دیا، آئرش اوپنر پال اسٹرلنگ بنا کسی اسکور کے پویلین سدھار گئے، پانچ کے مجموعی اسکور پر کپتان اینڈی بھی داغ مفارقت دے گئے۔

    اینڈی میک برائن اور کرٹس کیمفرنے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن کیوی بولرز کے سامنے ان کی مزاحمت زیادہ دیر نہ چل سکی۔

    جارج ڈوکریل اور مارک ایڈیر نے ٹیم کے اسکور کو قابل عزت ٹوٹل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جارج ڈوکریل نے 74 رنز کی خوبصورت اننگ کھیلی۔

    آئر لینڈ کی ٹیم 48 اوورز میں 216 رنز ہی بنا سکی۔نیوزی لینڈ کی جانب سے میٹ ہینری، بریسویل اور سینتھر نے دو، دو وکٹیں حاصل کی۔

    پہلے ون ڈے میچ میں انگلینڈ بھارت کے خلاف اپنے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہوگیا۔

    اوول کے میدان میں مہمان ٹیم بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ بالکل درست ثابت ہوا ۔انگلینڈ کی ٹاپ بیٹنگ لائن اپ میں سے 4 کھلاڑی صفر پر ہی آؤٹ ہوگئے۔دوسرے ہی اوور میں جیسن روئے اور جو روٹ جبکہ تیسرے اوور میں بین اسٹوکس بغیر کھاتہ کھولے ہی پویلین لوٹ گئے۔

    آٹھویں اوور میں 26 کے مجموعی اسکور پر انگلینڈ کی آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔جونی بیئر اسٹو 7 اور لیام لیونگ اسٹون صفر پر آؤٹ ہوئے۔

    بعد ازاں کپتان جوز بٹلر نے معین علی کے ساتھ مل کر 27 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کو کچھ سنبھالا تاہم معین علی 14 رنز بناکر چلتے بنے۔جوز بٹلر بھی 59 کے مجموعی اسکور پر 30 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔68 کے مجموعی اسکور پر کریگ اوورٹن 8 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔اس کے بعد برائڈن کارس اور ڈیوڈ ویلی نے شراکت قائم کرکے اسکور 103 تک پہنچا دیا۔

    برائڈن کارس 15 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جبکہ 110 کے مجموعی اسکور پر انگلینڈ کی آخری امید ڈیوڈ ویلی بھی 21 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ ریس ٹوپلی 6 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    بھارت کی جانب سے جسپریت بمراہ نے 6، محمد شامی نے 3 اور پراسیدھ کرشنا نے ایک وکٹ حاصل کی۔
    واضح رہے کہ یہ انگلینڈ کا بھارت کے خلاف ون ڈے میچ میں سب سے کم ترین اسکور ہے۔اس سے قبل انگلینڈ کا بھارت کے خلاف ون ڈے میچ میں کم ترین اسکور 125 رنز تھا جو اس نے 2006 کی چیمپئنز ٹرافی میں بنایا تھا۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2019 کے ورلڈکپ فائنل کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب جیسن روئے، بین اسٹوکس، جو روٹ، جوز بٹلر اور جونی بیئر اسٹو ایک ساتھ ون ڈے میچ کھیل رہے ہیں۔

    بھارت کے ایک میڈیا ہاؤس کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل نے ایشیا کپ کے لئے بنگلہ دیش کو متبادل میزبان مقرر کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سری لنکا میں کچھ عرصے سے جاری سیاسی اور اقتصادی صورت حال غیر مستحکم ہے اور ملک بدامنی کا شکار ہے۔

    جزیرہ اس سال ایشیا کپ کی میزبانی کرنے والا ہے اور کرکٹ بورڈ اس ایونٹ کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، مگر اس ایونٹ کے انعقاد پر خدشات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

    تاہم بھارت کے ایک میڈیا ہاؤس نے خبر دی ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل نے سری لنکا میں صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں بنگلہ دیش کو بیک اپ وینیو کے طور پر نامزد کیا ہے.

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل اس ماہ کے آخر میں ایشیا کپ کے مقام کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گا۔

    حالانکہ اسٹیڈیم کے قریب ہونے والے تمام مظاہروں کے باوجود آسٹریلیا سیریز بغیر کسی تاخیر کے کامیابی سے منعقد ہوئی۔ آسٹریلیا نے تین ٹی ٹوئنٹی، پانچ ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچ کھیلے۔

    تازہ ترین بڑا احتجاج چند روز قبل اس وقت ہوا جب عوام نے ایوان صدر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، اس لیے صدر سے بھی استعفیٰ متوقع ہے، جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم بھی سیریز کے لیے وہاں موجود ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل چاہتا ہے کہ کھلاڑی محفوظ ماحول میں کرکٹ کھیلیں اور اس معاملے میں کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔

    ایشیا کپ کا آغاز 27 اگست سے متوقع ہے جس میں پانچ ٹیمیں پہلے ہی کنفرم ہو چکی ہیں جن میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، افغانستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔چھٹے نمبر کے لیے کوالیفائر متحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور ہانگ کانگ کے درمیان ہوگا۔

  • مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سابق وزیراعظم عمران خان کا نعرہ ’’ہم کوئی غلام ہیں ‘‘پر غور و فکر کیا اور اس کے بعد اپنے اوپر اور قوم پر مسلط جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، نام نہاد قومی رہنمائوں پر تو غور کرنے کے بعد یہ خیال آیا کہ ہم بحیثیت قوم آزاد کب تھے؟ جس قوم پر غیر ملکی آقائوں کی جگہ ان کے اپنے آقا مسلط ہو جائیں اس قوم کی آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔سالوں سے اس ملک کے آقا اس ملک کو اپنی میراث اور اس قوم کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ کراچی جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا رہا وہاں پر مسلط پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی شاندار کارکردگی کا نظارہ نجی ٹی وی چینلز نے دکھایا کیا ہی منظر تھا ۔دل ہلا دینے والے واقعات ،پورا شہر پانی میں ڈوبا تھا اور رعایا پانی میں بہہ رہی تھی ۔عوام صبر کریں ،پیپلزپارٹی آمدہ قومی انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی بھی امیدوار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ناکام پاکستان بطور ریاست نہیں اور نہ ہی یہ قوم ہے ناکام ہمارے نام نہاد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے اس کامیاب ملک اور قوم دونوں کو ناکام بنا دیا۔

    مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے وزیر خزانہ کسی بھی ملک کے لئے بڑا اہم عہدہ ہوتا ہے پٹرول ڈیزل اور بجلی گیس وغیرہ کے نرخوں میں جو اضٗافہ ہوا ہے اس نے تو مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے وزیر خزانہ نے پٹرول ڈیزل میں اضافہ کر کے عوام پر جو حملہ کیا ہے ایسا تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا انہوں نے مار کر دھوپ میں ڈال دیا ہے عمران خان کے دور حکومت میں مہنگائی تھی موجودہ وزیر خزانہ نے تو حد عبور کر دی ہے یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے موجودہ وزیر خزانہ وزارت خزانہ کے منصب پر نہ ہوتے تو اچھا تھا۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، میڈیا، ملکی بقا اور سلامتی کے ادارے ہیں انتظامیہ کا حال تو یوں ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا جب جانبدار ہوتا ہے تو وہ ختم ہو جاتا ہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا عوام الفاظ کو دیکھتے اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں موجودہ حالات میں میڈیا کو قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے سیاستدانوں نے ملک و قوم کو گوناگوں مسائل کے طوفان میں غرق کر دیا ہے اسے پانی اور سائے سے محروم کسی ریگستان میں پھینک دیا ہے عمران حکومت آج کے بڑھتے ہوئے مسائل کی بھی ذمہ دار ہے اور آج کے حکمران بھی ۔ سیاستدان عیش کر رہا ہے اور قوم سسک رہی ہے ۔ موجودہ مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ؟؟؟

  • روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق

    روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق

    روجھان: سیلابی پانی میں بچی سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں ، سیلابی پانی کئی بستیوں کواپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے۔
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔سیلابی پانی راجن پورکی تحصیل روجھان کی متعدد بستیوں میں داخل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف علاقہ مکینوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ایک بچی سمیت دو افراد ڈوب کر جاں بحق بھی ہو گئے ہیں۔سیلابی پانی روجھان کی بستیوں بستی کالو، بستی جونیہ، بستی علم دین اور بستی سیلاف میں داخل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہاں بنے ہوئے گھر زیر آب آگئے ہیں، گھروں میں رکھا ہوا سامان پوری طرح پانی میں ڈوب گیا ہے اور علاقہ مکینوں کو سخت ترین دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث پل دھندی کے قریب واقع حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا ہے جس کے بعد پانی پوری شدت سے علاقے میں داخل ہو رہا ہے جب کہ علاقہ مکین اہل خانہ، مال مویشیوں اور دیگر قیمتی سامان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سیلابی پانی سے دھندی کو راجن پور سے ملانے والی سڑک بھی متاثر ہو گئی ہے جو ابتر صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے کا سبب بن رہی ہے،اطلاعات کے مطابق انتظامیہ غائب ہے عوام اپنی مددآپ کے تحت اپنے افرادخانہ ،مال مویشیوں اورقیمتی سامان کومحفوظ مقام پرمنتقل کررہے ہیں۔

  • شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ

    شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ

    شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ
    باغی ٹی وی .پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ آج کل شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سیاست دان بننے کے لئے آپ کو گاندھی چرچل بھٹو بننا پڑے گا، آج کے سیاست دان اشاروں پر چل رہے ہیں۔خورشید احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان سیاستدانوں کے فیصلوں سے معرض وجود میں آیا، برصغیر سمیت دنیا میں تبدیلی لانے میں سیاستدانوں کا کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا سنا ہے وہ میڈیا سے آگے نکل گیا ہے۔