Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اب گوگل میپ کےاسٹریٹ ویو میں فضائی مناظر بھی شامل

    اب گوگل میپ کےاسٹریٹ ویو میں فضائی مناظر بھی شامل

    سان فرانسسكو: گوگل 2022 ڈویلپر کانفرنس اسی ہفتے میں منعقد ہورہی ہے جس میں کئی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق گوگل میں پہلی تبدیلی یہ ہے کہ کئی ممالک کے لیے گوگل میپس کےاسٹریٹ ویو میں فضائی (ایئریل ) منظر بھی شامل کیے گئے ہیں –

    گوگل نے اپنے میپس پر روایتی نقشوں کو بہتر بنانے پر توجہ رکھی ہے اور دنیا کا قدرے بہتر اور انٹرایکٹو ماڈل سامنے آسکے گا لیکن یہ سہولت امریکہ اور یورپ کے لیے پیش کی گئی ہے۔

    اس ہفتے ہونے والے گوگل آئی او سمٹ میں ہونے والا ایک اہم اعلان سامنے آگیا ہے جس میں گوگل نقشے میں مختلف مقامات کی مزید تفصیلات، اہم عمارتوں، ریستورانوں، عوامی مقامات کی واضح تصاویر بھی دیکھی جاسکیں گی تاکہ آپ وہاں جانے سے قبل گھر بیٹھے ہی ان کے متعلق بہت کچھ جان سکیں گے-

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    گوگل میپس کی یہ تفصیلات صارفین کے ساتھ ساتھ خود تاجروں اور کاروباری حضرات کے لیے بہت مفید ہوگا۔ اس طرح لوگ آن لائن اپنے کاروبار کی بہتر تشہیر کرسکیں گے۔ اسکرین پر کسی جگہ کی مصنوعات کے اشتہارات اور دیگر تفصیلات بھی ازخود سامنے آجائے گی۔ اسی طرح سیاحتی مقامات کے متعلق مزید سہولیات جاننا بھی ممکن ہوگا۔

    یورپ کے سافٹ ویئر ڈویلپر ’اے آر کور جیوسپیشل اے پی آئی‘ نظام کے تحت میپس پر اپنی جانب سے اے آر (آگمینٹڈ ریئلٹی) فیچر بھی شامل کرسکیں گے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گوگل میپس میں اے آر کی شمولیت پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

  • چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کو ایسے نئے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا-

    باغی ٹی وی : "”سائنس ایڈوانسز جریدے ميں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کے ژو رونگ روبوٹک روور کو ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مریخ پر پانی پہلے کی سوچ سے زیادہ دیر تک موجود ہے۔

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریخ کی سطح پر پڑنے والے ایک بڑے آتش فشانی گڑھے میں ’ایمیزونیائی دور‘ کے دوران مائع پانی موجود تھا اور سرخ سیارے پر ہائیڈریٹڈ معدنیات موجود ہیں،جن سے اس سیارے پر مستقبل میں آنے والے انسان بردار مشنز ممکنہ طور پر فائدہ اٹھاسکیں گے۔

    یہ نتائج ان مفروضوں کو تقویت دیتے ہیں کہ مائع پانی کی سرگرمیاں مریخ پر اس سے پہلے پائی جانے والی سوچ سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہی ہوں گی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ مریخ کی اس مخصوص جگہ پر اس وقت ہائیڈریٹڈ معدنیات اور ممکنہ طور پر برف کی شکل میں پانی کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا طویل عرصے سے یہ خیال رہا ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ کی سطح پر ایک گاڑھا، گرم ماحول اور مائع پانی موجود تھا، لیکن یہ سیارہ ٹھنڈا ہوگیا کیونکہ اس نےاپنا حفاظتی مقناطیسی میدان تقریباً 4 ارب سال پہلے کھو دیا موجودہ ارضیاتی دور جسے Amazonian epoch کے نام سےجانا جاتا ہےجس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ 3.5 سے 1.8 بلین سال پہلے شروع ہوا تھا کو ایک ایسے وقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جب مریخ سرد اور خشک تھا، جس میں سطحی پانی نہیں تھا۔

    دوسری جانب سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • مدھیہ پردیش :فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک:کرناٹک میں احتجاجی تحریک

    مدھیہ پردیش :فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک:کرناٹک میں احتجاجی تحریک

    مدھیہ پردیش :فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک:کرناٹک میں احتجاجی تحریک ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے آج (ہفتہ ) صبح ضلع گونا میںفائرنگ کرکے تین پولیس اہلکار ہلاک کر دیے۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اس اعلان کہ وہ ایک آرڈیننس جاری کرکے تبدیلی مذہب مخالف قانون کو نافذ کرے گی ،کے ایک دن بعد ریاستی کانگریس نے کہا ہے کہ وہ اسکے خلاف عوامی تحریک (جن آندولن) شروع کرے گی۔

    اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما Siddaramaiahنے کہا کہ بی جے پی حکومت جو بدعنوانی اور بدانتظامی کے معاملے میں بے نقاب ہے، لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے” کرناٹک پروٹیکشن آف رائٹ ٹو فریڈم آف ریلجن بل” 2021 کو نافذ کرنے جارہی ہے۔

    انہوں نے گورنر سے تبدیلی مذہب مخالف بل کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے کہا کہ بی جے پی نے یہ قانون صرف اقلیتوں کو ڈرانے اور انہیں ہراساں کرنے کے ارادے سے لایا ہے۔ Siddaramaiah نے مزید کہا کہ موجودہ قانون زبردستی مذہب کی تبدیلی کو روکنے اور لالچ کے ذریعے مذہب کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کافی ہے پھر نئے قانون کی کیا ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو دھمکانا اور ہراساں کرناآر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سچے ہندو ہم آہنگی اور عالمگیر بھائی چارے پر عمل پیرا ہیں اور وہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ہم اقلیتوں پر مسلسل حملے دیکھتے ہیں، کرناٹک کے لوگ اس حکومت سے شرمندہ ہیں۔

    انہوں نے کہا آئین افراد کو آزادی سے اپنی مرضی کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور مذہب کی زبردستی تبدیلی کو روکنے کے لیے پہلے سے ایک قانون نافذ ہے جس پر عمل درآمد کے لیے پولیس اور عدالتیں موجود ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کشمیریوں کے گھروں پرچھاپے

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کشمیریوں کے گھروں پرچھاپے

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقای ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے وادی کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس دوران مکینوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے آج( ہفتے ) بتایا کہ این آئی اے کے دستے بھارتی پولیس اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہمراہ بارہمولہ اور شوپیاں اضلاع میں تلاشی لے رہے ہیں۔تحقیقاتی ایجنسی نے بارہمولہ ضلع کے نیو کالونی فتح پورہ میں مشتاق احمد بٹ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ مشتاق محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازم ہیں۔

    این آئی اے نے شوپیاں کے علاقے مراد پورہ میں علی محمد بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اسی طرح وادی کے دیگر حصوں میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ایک اہلکار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ چھاپے این آئی اے کے دفتر میں پہلے سے درج ایک کیس کے سلسلے میں مارے جا رہے ہیں۔آخری اطلاعات تک چھاپوں کی کارروائی جاری تھی۔

    دریں اثنا، کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی بدنام زمانہ تحقیقاتی ایجنسیوں ”این آئی اے، ایس آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) “ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ حق خود ارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبایا جا سکے۔ این آئی اے کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے بدنام ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں تحقیقاتی ایجنسی کے چھاپے معمول بن چکے ہیں جس کا مقصد ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو بی جے پی کی مذموم پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ حریت رہنماوں، میڈیا والوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور یہاں تک کہ عام کشمیریوں کو بھی فرضی مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ این آئی اے نے ایک جھوٹے مقدمے میں قید انسانی حقوق کے معروف کشمیری محافظ خرم پرویز کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے ۔ سرکردہ حریت رہنماوں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں غیر قانونی حراستوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

  • سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    عربی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ گھر کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا ہمسایہ کیسا ہوگا کیونکہ ایک اچھا ہمسایہ آپ کے لئے رحمت اور ایک برا ہمسایہ آپ کے لئے بہت بڑی زحمت بن سکتا ہے۔لیکن جب ہم Globally
    دیکھتے ہیں تو ممالک کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہمسائے کا انتخاب کر سکیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کئی ایسے تنازعے ہیں جو کہ مختلف ہمسایوں کے درمیان ہیں جس میں ایک مثال پاکستان اور انڈیا کی ہے اس کے علاوہ فلسطین اور اسرائیل ہیں ساوتھ کوریا اور نارتھ کوریا ہیں۔ ایسے میں صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ آپ کو ہر حال میں ان کے ساتھ رہنا ہے جس کی وجہ سے کبھی ان ہمسایوں کے درمیان شدید لڑائی کا ماحول ہوتا ہے تو کبھی یہ اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاملات کسی نہ کسی طرح چلتے رہیں۔
    اور ایسا ہی کچھ معاملہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ دونوں ممالک آپس میں لڑتے رہے ہیں لیکن اب یہ ان لڑائیوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں سفارتی سطح پر کئی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ہیں جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چند ماہ پہلے تین ایرانی سفارت کار اسلامی تعاون تنظیم میں ذمہ داری سنبھالنے سعودی عرب بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔

    تہران وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
    اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا یہ بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک یعنی سعودی عرب صدر ریئسی کی انتظامیہ کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ایسا کیوں ہو رہا ہے؟؟
    اب ان دونوں ممالک کو یہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ تعلقات کو بہتر کیا جائے؟؟ماضی میں یہ کیوں آپس میں لڑتے رہے ہیں؟؟کیا ان کی لڑائی مذہبی تھی سیاسی تھی یا دونوں فیکٹر تھے؟؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ظاہری اختلاف تو ان کے فرقوں کی وجہ سے ہے سعودی عرب کا تعلق سنی فرقے سے ہے جبکہ ایران کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ ممالک اپنے تعلقات صرف فرقوں کی بنیاد پر نہیں بناتے اور نہ ہی فرقوں کی وجہ سے تعلقات خراب کرتے ہیں۔عالم اسلام پر یا دنیائے عرب پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سعودی عرب جو ایران کو ایک شیعہ ملک کہہ کر اس کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ پیش کیا کرتا تھا اس کے سنی ممالک سے بھی شدید گہرے اختلافات ہیں۔ترکی شیعہ ملک نہيں ہے لیکن اس کے ساتھ سعودی عرب کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔یمن شیعہ ملک نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔دوسری جانب ایران کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سعودی عرب کے ساتھ اس کے اختلافات رہے ہیں وہیں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات کا معاملہ تو اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فلسطینی تنظیموں کو ایران کی مکمل مدد حاصل رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں ہمیشہ ہی یا ہر ایک بات پر ہی اختلافات نہیں رہے ہیں بلکہ کئی موڑ ایسے بھی آئے ہیں جب دونوں مل کر چلتے رہے ہیں۔جس کی ایک مثال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی جنگ کی ہے جس میں سعودی عرب اور ایران دونوں نے امریکہ کی مدد کی تھی تاکہ روس کو خلیجی ممالک تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    اس کے بعد 1960میں جب مصر نے یمن میں چھیڑ چھاڑ شروع کی اس وقت بھی ریاض اور تہران نے مل کر یمن میں شیعہ فرقے کے لوگوں کی مدد کی تھی۔اس وقت تک یہ دونوں ممالک Regional security کے لئے امریکہ کے Twin pilars
    کہلائے جاتے تھے۔ اور ان کے آپس میں بہت گہرے سیاسی اور سفارتی تعلقات تھے۔1978تک جب ایران میں رضا پہلووی کی حکومت تھی اور سعودی عرب میں King khalidکی حکومت تھی دونوں ممالک کے بہترین تعلقات تھے ان کے درمیان مختلف موقعوں پر ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان دونون نے اپنے اپنے ممالک کو Modrenizeکرنے کے لئے آپس میں مل کر کئی پروگرام بھی شروع کر رکھے تھے۔لیکن صرف ایک سال بعد ہی سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ 1979میں جب ایران میں انقلاب نے سر اٹھایا اور اہل تشیعہ لوگ جو کہ اکثریت میں تھے انھوں نے آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں رضا پہلوون کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور ایران جو کہ ایک سیکولر اور ماڈرن ملک تھا اس کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔اور اسی سال
    1979میں ہی سعودی عرب مین بھی تبدیلی آئی جب مکہ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور سعودی عرب بھی ماڈرن ازم سے واپس اپنے Tribal systemاور بنیاد پرستی کی طرف مڑ گیا۔اور بات یہاں تک ہی نہیں رکی بلکہ ایران نے اپنے فرقے کے نظریات اور سعودی عرب نے اپنے نظریات کو اپنے بارڈر سے باہر دوسرے ممالک تک پھیلانا اور ان پر اثر انداز ہونا بھی شروع کر دیا۔

    اور یہ ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ دونوں کے پاس ایسا کرنے کے لئے وافر وسائل بھی موجود تھے۔لیکن ان کی ایک مزوری بھی تھی جو کہ بعد میں تمام خرابی کی جڑ بنی۔اور وہ کمزوری ان کی مذہبی اور Ethnic minorities
    تھیں اور مشکل یہ تھی کہ یہ اقلیتیں ان ممالک کے ان صوبوں میں آباد تھیں جو کہ تیل کے وسائل سے مالا مال تھے۔
    سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اسی طرح ایران کے صوبے خوزستان میں سنی آبادی کی اکثریت تھی۔ اور اسی صوبے میں ایران کے 80%تیل کے ذخائر بھی موجود تھے۔ اب ایران کو خطرہ یہ تھا کہ کہیں ان کے سنی لوگ سعودی عرب سے تعلق بڑھا کر ان کے ساتھ نہ مل جائیں اور ان کی حکومت کے لئے مشکلات نہ کھڑی کر دیں اور سعودی عرب کو بھی یہی ڈر تھا کہ ان کی شیعہ اقلیت ایران کے ساتھ مل کر حالات خراب کر سکتی ہے اس لئے ان دونوں ممالک کے لوگوں نے ان اقلیتوں کو کنٹرول کرنا اور دبانا شروع کر دیا۔ تاکہ ان کے وسائل کو کوئی خطرہ نہ ہو۔اور یہی بات فرقہ وارانہ تضادات کی بھی وجہ بنی۔ اور ان تضادات کو ختم کرنے یا ان کا کوئی حل نکالنے کی بجائے ان کو سیاسی مقاصد کے لئے ہوا دی جاتی تھی اور فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ اور آہستہ آہستہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ یہ فرقہ وارانہ تضادات ان دونوں ممالک سے نکل کرآس پاس کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔ پاکستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ دونوں فرقے کے لوگوں کے درمیان جب بھی حالات خراب ہوتے تو یہ ممالک اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کرتے اور معاملہ مزید الجھتا۔ اور2011میں ہونے والی عرب سپرنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو اختلافات تھے ان کو مزید بڑھا دیا تھا دونوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے مختلف ممالک کی پشت پناہی کی اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ بحرین میں ایران نے حکومت مخا لف لوگوں کو اسپورٹ کیا۔ جبکہ سعودی عرب نے بحرین کی حکومت کی مدد کرنے کے لئے اپنی فوج بھیج دی۔

    جبکہ سیریا میں سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی اور ایران نے اس کے الٹ وہاں کی حکومت کا ساتھ دیا۔لبنان میں ایران نے حزب اللہ کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب نے لبنان کی حکومت کو سپورٹ کیا۔اسی طرح میں یمن میں ایران نے حوثی باغیوں کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب دوسری سائیڈ پر تھا۔اور آخر میں اگر اسرائیل کی بات کی جائے تو حماس کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ جبکہ سعودی عرب سرکاری طور پر تو اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے لیکن وہ اس کے مخالف بھی نہیں ہے۔ ہاں ایران کو کاونٹر کرنے کے لئے دونوں کے درمیان الائنس ضرور موجود ہے۔یہ صرف کچھ مثالیں تھیں جو کہ میں نے آپ کو دیں یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کسی سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس نے کئی ممالک کو تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے حمایتی ممالک میں UAEKuwaitBahrainEgypt
    Jordanشامل ہیں۔ جبکہ ایران کے حمایتی ممالک میں عراق اور سیریا شامل ہیں۔ یمن لبنان اور قطر میں Splitپایا جاتا ہے۔ یہی وہ لڑائیاں ہیں جن کی وجہ سے شیعہ اور سنی فرقوںکے درمیان فاصلے ہمیشہ بڑھے ہیں یہ دوریاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔
    2016میں حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب سعودی عرب نے شیعہ عالم دین نمر النمر کو پھانسی دی تھی اور اس کے بعد ایرانی مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ریاض نے تہران کے ساتھ اپنے ہر طرح کے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔چھ سال بعد آخر یہ تبدیلی آئی امریکہ اس خطے سے نکل گیا۔ اور مختلف ممالک نے تیل پر اپنا انحصار بھی کم کرنے کی طرف توجی دینا شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے اب تیل پراپنی آمدن کا انحصار کرنے والے ممالک کے لئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو اپنا Vision 2030پورا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے تو ایران کو ضرورت ہے کہ اس پر سے معاشی پابندیاں ختم ہوں اس کی معیشت بہتر ہو اور وہ ترقی کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ دونوں ممالک اپنی لڑائیاں ختم کرکے دوستی کی طرف آنا چاہتے ہیں یعنی معاشی اور سیاسی دونوں مجبوریاں ہیں دونوں کو اپنی تجارت بڑھانی ہے معیشت کو بہتر کرنا ہے جس کے لئے یہ کو ششیں کی جا رہی ہیں کہ اتنی پرانی س=دشمنی کو ختم کیا جا سکے۔

  • مقبوضہ کشمیر:محبوبہ مفتی گھر میں نظربند:    جماعت اسلامی کےارکان کیخلاف فرد جرم عائد

    مقبوضہ کشمیر:محبوبہ مفتی گھر میں نظربند: جماعت اسلامی کےارکان کیخلاف فرد جرم عائد

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا ہے ۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ قابض حکام نے انہیں گزشتہ روز بڈگام میں ایک حملے میں ہلاک ہونے والے کشمیری پنڈت کے سوگواراہلخانہ سے اظہار تعزیت کیلئے جانے سے روکنے کیلئے گھر میں نظربند کردیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے تحفظ میں ناکامی پر بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری پنڈتوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بڈگام جانا چاہتی تھی، کیونکہ کشمیری مسلمان اور پنڈت ایک دوسرے کے دکھ درد کوسمجھتے ہیں۔ تاہم انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل دفتر چاڈورہ کے ملازم کشمیری پنڈت راہل بٹ کو دفتر کے احاطے میں فائرنگ کرکے شدیدزخمی کر دیا تھاجوبعدازاں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔

    ادھربھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے نئی دلی میں ایک عدالت میں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے چار ارکان کے خلاف ایک جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائد کی ہے ۔

    نئی دلی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں جماعت اسلامی کے ارکان جاوید احمد لون، عادل احمد لون، منظور احمد ڈار اور رمیز احمد کونڈو کے خلاف ایک جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون اور آرمز ایکٹ کی متعدد دفعات تحت دائر کی گئی ہے ۔ این آئی اے نے ایک بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کے ارکان کے خلاف آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف سرگرمیوں پر ایک مقدمہ درج کیاگیا تھا ۔

  • "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    صحرائے چولستان جنوبی پنجاب میں موجود صحرا ہے جو سندھ کے صحرائے تھر اور بارڈر کے دوسری طرف انڈیا کے صحرائے راجستھان سے ملتا ہے. جنوبی پنجاب میں ہی پنجاب کا دوسرا صحرا "تھل” بھی واقع تھا.

    تھل کا صحرا کہ جس کو "تھل” نہر کے پانی سے سیراب کرکے آباد کیا جاچکا ہے اور اب خوشاب، میانوالی، لیہ اور بھکر کے علاقوِں میں ریت کے ٹیلوں سے ہی یہاں صحرا کا گمان ہوتا ہے جبکہ بیشتر زمینیں کاشتکاری کے اور دیگر مقاصد کے لیے کارآمد بنائی جاچکی ہیں.

    جبکہ چولستان کا صحرا بہاولنگر کے علاقوں سے شروع ہوکر، بہاولپور سے ہوتا ہوا رحیم یارخان سے سندھ کے صحرائے تھر سے مل جاتا ہے. ماضی میں یہ دریائے ہاکڑا کی بدولت یہ علاقہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صحرا بنتا چلا گیا.

    یہ صحرا بڑا اہم تجارتی روٹ تھا. اس صحراء میں موجود جابجا قلعے اسی تجارتی روٹ پر واقع تھے جن میں کچھ کی باقیات اور نشان ملتے جیسے رحیم یار خان میں بھاگلہ قلعہ وغیرہ ہیِں جبکہ کچھ اپنی حالتوں میں موجود ہیں جیسے بہاولپور میں دراوڑ قلعہ ہیں.

    گزشتہ دنوں میں پڑنے والی شدید گرمی اور بارشیں نہ ہونے کے باعث "ٹوبوں” میں موجود تالابوں وغیرہ میں پانی خشک ہوگیا جس کے باعث جانوروں کو پانی نہ ملنے سے جانوروں کے ہلاک ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سینکڑوں جانور ہلاک ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے غذائی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے.
    اب کیفیت یہ ہے کہ مسلسل خشک سالی کے باعث جانور تو جانور انسان بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انتہائی مجبوری کے عالم میں وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے.

    ایسے میں ہمشیہ کی طرح سے پاکستان کے رفاہی اور مددگار میدان میں آچکے ہیں اور پانی کے ٹینکرز اور خوراک کے ساتھ اللہ اکبر تحریک کے رضاکار ابتدائی امداد لے کر پہنچ چکے ہیِں گو کہ یہ بہت زبردست ہے لیکن یہ مدد فی الحال ناکافی ہے لہذا پوری قوم کو اس مشکل وقت میں چولستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے.
    محمد عبداللہ

  • 21سال مردہ بیوی کے ساتھ  زندگی گزارنے والا شہری

    21سال مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے والا شہری

    بنکاک: تھائی لینڈ کے بزرگ شہری نے 21 سال بعد اہلیہ کی آخری رسومات ادا کردیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے رہائشی 72 سالہ شخص دو دہائیوں سے اپنی مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا بزرگ تھائی شہری متعدد ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں اس کے باوجود ان کے گھر میں بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات تک موجود نہیں اور وہ انتہائی نامناسب حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    سگا باپ دو نوجوان بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بزرگ شخص نے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیوی کا جنازہ ایک باکس میں رکھا ہوا تھا اور جنازے سے ایسے گفتگو کرتا تھا جیسے بیوی زندہ ہو۔

    تاہم اب 72 سالہ چرن جنوٹچکل نامی شخص نےایک این جی اوکی مدد سےاپنی اہلیہ کی 30 اپریل 2022 کو تدفین کی ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ این جی او کے رضاکار چھوٹے سے کمرے سے باکس کو نکالتے ہیں جسے پلاسٹک میں لپٹا ہوتا ہے۔

    13 سال بعد "اوتار2” کا پہلا ٹیزر جاری

    رپورٹ کےمطابق بزرگ شخص کےخلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی کہ انہوں نے 2001 میں اپنی اہلیہ کےانتقال کی خبر متعلقہ حکام کودرج کروائی تھی اورلیکن اس کی آخری رسومات ادا نہیں کیں-

    معمر تھائی شہری نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھے مگر جب میں نے اپنی اہلیہ کے جنازے کو گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا تو میرے بیٹوں سے مجھے تنہا چھوڑ دیا۔

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

  • مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے:قمر زمان کائرہ

    مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے:قمر زمان کائرہ

    قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے۔وزیر اعظم کے مشیر برائے آمور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ سے آزاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم سردار محمد یعقوب خان کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔

    ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی اور آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق گفتگو کی گئی جبکہ ملاقات میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور عوام کے مسائل سے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کو دنیا کے تمام فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج وزرات خارجہ میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے بھارتی غیر قانونی منصوبوں سے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے آمور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے ضمن میں اپنا تمام تر تعاون جاری رکھے گی۔سردار یعقوب خان نے قمر زمان کائرہ کو مشیر برائے آمور کشمیر کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

    وزیر اعظم سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سلام پیش کرتے ہیں، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔

  • مودی کی فسطائی حکومت کشمیری طلباءکا مستقل تاریک کرنے پر تلی ہوئی ہے:حریت رہنما

    مودی کی فسطائی حکومت کشمیری طلباءکا مستقل تاریک کرنے پر تلی ہوئی ہے:حریت رہنما

    سری نگر:جموں وکشمیر میں آزادی پسند تنظیموں رہنماﺅں اور طلبہ تنظیموں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کشمیری طلبہ کا مستقبل تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جموں وکشمیر پیپلز لیگ ، جموںوکشمیر مسلم لیگ ، جموں وکشمیر مسلم کانفرنس ، فلاح پارٹی جموںوکشمیر کے نائب چیئرمین ڈاکٹر اختر رسول ، جموںوکشمیر سٹوڈنٹس یونین ، ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں بھارتی حکومت کے حالیہ نوٹس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    جس میں پاکستان میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کی اسناد کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور نہ انہیں نوکریاں دی جائیں گی۔

     

     

    حریت تنظیموں رہنماﺅں اور دیگر نے کہا کہ بھارت کشمیری طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کر رہا اور جو کشمیری بھارتی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں انہیں بھارتی انتہا پسند ہندوﺅں کے عتاب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کشمیریوں کو تعلیم کے میدان میں بھی پیچھے رکھ کر ان پر بھارتی ہندو افسروں کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کی اسناد کو قبول نہ کرنا بھارتی تعصب اور تکبر کی ایک اور نشانی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام تعلیم کے حصول کے حق کے عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    حریت تنظیموں رہنماﺅں اور دیگر نے مزید کہا کہ بھارت پہلے ہی کشمیری ملازمین کو بلا جواز طور پر نوکریوں سے نکال رہا ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے نوکریوں سے باہر رکھ کر کشمیر ی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا ایک اور ثبوت دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    حریت تنظیموں رہنماﺅں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی بھارتی اقدامات کو نوٹس لے اور کشمیریوں کو اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کرے۔