Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت میں  4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں ایک خاتون کے ہاں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے گاؤں شاہ باد میں ایک خاتون نے 4 ہاتھوں اور 4 پیروں والی بچی کو جنم دیا بچی پیٹ سے جڑے دو اضافی ہاتھ اور دو اضافی پیر کے ساتھ پیدا ہوئی ہے جس سے اسپتال کے عملے سمیت خاندان کے افراد ششدر رہ گئے اور بچی کو قدرت کا معجزہ قرار دیا بچی ملک کے شمال میں واقع ہردوئی میں ہفتے کے آخر میں پیدا ہوئی-

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    بچی کا وزن پیدائش کے وقت 6.5 پونڈ تھا، کی پیدائش بھارت کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے ریاست اتر پردیش کے شاہ آباد کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ہوئی۔

    تصاویر اور ویڈیوز میں بچے کو دکھایا گیا ہے کہ اس کے پیٹ کے ساتھ بازوؤں اور ٹانگوں کا ایک اضافی جوڑا جڑا ہوا ہے، جس میں پولیمیلیا کا امکان ہے، یہ پیدائشی نقص ہے جس کے نتیجے میں اعضاء کی تعداد معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اضافی اعضا کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی اور اس کی ماں دونوں صحت مند ہیں بچی کو علاج کے لیے لکھنؤ بھیج دیا گیا ہے-

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ز نے کہا کہ بچی کی اضافی اعضا کے ساتھ پیدائش در اصل جڑواں بچوں کی پیدائش کا کیس لگتا ہے کیونکہ دوسرے بچے کا سر بچی کے معدے سے جڑا ہوا ہے جو ابھی بننا باقی ہے۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    ماں نے کہا کہ ہفتے کے روز دردِ زہ کا سامنا کرنے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، اور اس کے فوراً بعد ہی اس نے جنم دیا۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بچے کی پیدائش کی خبر پورے علاقے میں پھیلنے کے بعد بچے کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم ہو گیا، اس بچے کو "قدرت کا معجزہ” قرار دیا گیا۔

    دوسروں نے مشورہ دیا ہے کہ بچہ لکشمی کا اوتار ہو سکتا ہے، دولت، خوش قسمتی، طاقت، خوبصورتی، زرخیزی اور خوشحالی کی ہندو دیوی۔ اس سال کے شروع میں، چار بازوؤں اور ٹانگوں کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک اور بچے کو مقامی لوگوں نے بت بنایا تھا جو اس بچے کو خدا کا اوتار مانتے تھے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

  • کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    1965کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاک دھرتی کو ہمیشہ شاد و آباد رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال حوالدار لالک جان کی ہے جنہوں نے کارگل جنگ میں دُشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی جسے وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

     

    کشمیر کی وادی غزر جسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔یہاں کے ہر گاؤں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرتاہے۔

    دُنیا کے بُلند ترین محاذِ جنگ کارگل میں دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں 01اپریل 1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1984میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ ٹریننگ سنٹر بنجی میں ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپ نے1985میں 12این ایل آئی میں رپورٹ کیا۔ پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کی بناء پر آپ یونٹ کی بیشتر ٹیموں کا حصہ رہے۔ آپ کی ڈرل، فوجی ٹرن، جسمانی چستی ہمیشہ مثالی رہی۔ آپ نے یونٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی ویپن کی مہارت کا یہ ثبوت ہے کہ آپ بطور ویپن ٹریننگ انسٹرکٹر ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سنٹر بنجی میں تعینات رہے۔

     

     

    معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ آپ نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر آپ نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

    12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا”کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی“۔

    مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھے۔ اس موقع پر لالک جان نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔

    دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔آپ کے جذبے کا عکاس یہ حمہ آج بھی تاریخ کے سنہرے ورقوں میں تحریر ہے کہ جب آپ کے زخموں کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیپٹن احمد نے واپس جانے کا حکم دیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ”میں ہسپتال میں بستر پر موت کو گلے لگانے سے ہتر میدان جنگ میں دُشمن سے لڑتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا پسند کرتا ہوں“۔

    آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

    کارگل جنگ میں جب دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے حملہ آور ہوا تو منفی30درجہ حرات، یخ بستہ ہوائیں اور جان لیوا زخموں کے باوجود کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرد ِ مُجاہد نے کئی گھنٹوں تک لائیٹ مشین گن سے دُشمن کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن مورچہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور ملک کا دفاع کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

    ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔

  • یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پی ٹی آئی کی باقیوں کی نسبت کچھ چینخیں زیادہ نکل رہی ہیں ۔ کیونکہ جو اسکینڈل بشری بی بی یا فرح گوگی یا عثمان بزدار کے زبان زد عام ہیں ۔ اس نے عمران خان کے صادق وامین ہونے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ جب سے گینگ آف بنی گالا سامنے آیا ہے ۔ ان کی وردات اور دیہاڑیاں سامنے آئی ہیں ۔ ماضی کے مسٹر ٹین پرسنٹ ، سسلین مافیا اور گاڈ فادر بہت چھوٹے لگنے لگے ہیں ۔ ‏عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو اینٹی کرپشن پنجاب نے سرکاری منصوبوں میں رشوت لینے کے الزام میں طلب کر لیا گیا ہے۔بشریٰ بی بی کے بھائی کو سرکاری زمین پرقبضےکے الزام میں اینٹی کرپشن نے طلب کرلیا

    اینٹی کرپشن کی عثمان بزدار کے ماموں کیخلاف تحقیقات

    فرح گوگی کو 10 ایکڑ پلاٹ کی غیرقانونی الاٹمنٹ، 2 افراد گرفتار

    عثمان بزدار کے چار بھائیوں نے اینٹی کرپشن عدالت سے عبوری ضمانت کرالی

    ۔ اب اس کا حل تحریک انصاف نے یہ نکالا ہے کہ سوشل میڈیا اتنا گند اچھالا جائے ۔ مخالفین سمیت کسی ادارے کو نہ چھوڑا جائے ۔ اس کا ایک ثبوت تو ہم بشری بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی لیک آڈیو میں سن ہی چکے ہیں ۔ کہ غداری کا تمغہ بانٹو ۔۔۔ ۔ عمران خان اس ہی فارمولے پر لگے ہوئے ہیں کہ سوشل میڈیا کی مدد سے منٹوں میں سچا جھوٹا اور جھوٹا سچا بن جائے ۔ مگر یہ زیادہ دیر تک نہیں چلنا ۔ کیونکہ ایسے ہی آڈیوز یا ویڈیو منظر عام پر آتی رہیں تو ان کا دفاع ممکن نہیں ہے ۔ اس بشری بی بی والے ایپی سوڈ میں بھی غور کریں تو پہلے کہا گیا کہ یہ فیک ہے ۔ پھر شیریں مزاری نے پوری پریس کانفرنس کرڈالی کہ کسی کا فون ٹیپ کرنا جرم ہے خاص طور پر وزیر اعظم کا ۔ اس سے ایک چیز تو ثابت ہوگئی ہے کہ یہ آڈیو اصلی ہے ۔ اور جو چیزیں مستقبل قریب میں منظر عام پر آنے والی ہیں وہ بھی اوریجنل ہی ہوں گی ۔ پر کیوںکہ دھندہ ہے اب چاہے یہ گندا ہی ہو۔ یہ گینگ ایسے ہی چلتا تو رہے گا ۔ کم ازکم اپنی اپنی جان بچانے کے لیے بشری بی بی ، عثمان بزدار ، فرح گجر اور احسن جمیل کے ایک دوسرے کے ہمدرد ہی رہیں ۔ سب سے بڑھ کر اس گینگ کے سربراہ عمران خان عزت و شہرت کیا ان چیلوں کی جان بچانے کی خاطر پوری پارٹی بھی قربان کرسکتے ہیں ۔

    کیونکہ لالچ ، ہوس ، حرص جب دماغ پر سوار ہوجائیں ، تو کچھ بھی ممکن ہے ؟؟؟

    ۔ اسی لیے یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی سے شادی کیوں کی ؟؟؟ کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں یہ بات بہت ہی انہونی معلوم ہوتی ہے کہ ایک عورت جس کے بچے جوان اور وہ اپنے شوہر سے خوش اسلوبی سے طلاق لے اور پھر کسی دوسرے بندے سے شادی کر لے ۔ پر اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔

    ۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ء
    کو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

    ۔ پھر آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید کو بتایا .مجھے بشارت ہوئی ہے کہ تم خاوند سے طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ شادی کر لو۔ شادی کے بعد عمران خان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ یہ وزیراعظم بن جائیں گے اور پاکستان کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا اورخاوند نے پاکستان کے سنہرے دور کےلئے اپنی 30 سالہ رفاقت توڑ دی۔ ۔ پھر وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ خاور فرید مانیکا کا بھی فرمانا ہے کہ ہماری طلاق کی وجہ ناچاقی نہیں تھی کوئی روحانی ایشو تھا۔ ہم اس اعتراف کو خواب یا بشارت کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان نے کیا ترقی کرنی تھی ۔ مانیکا خاندان ، گجر خاندان اور بزدار خاندان کی تمام محرومیاں دور ہوگئی ہیں اور اب عمران خان کا اصل خاندان یہ ہی بشری ، فرح ، بزدار ، گجر اور مانیکا گینگ ہی ہے ۔ کیونکہ آج تک عمران خان نے اپنی علیمہ باجی کو ڈیفنڈ نہیں کیا مگر فرح گجر پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔ اور بشری بی بی کی خاطر تو پورا ایک قانون لانے کو تلے بیٹھے تھے ۔ کہ کوئی ان کے بارے بات نہ کرسکے ۔

  • سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مجھے پتہ ہے کس طرح یہ سازش ہوئی کون کون سازش میں ملوث ہے ۔ مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو سب کو بے نقاب کر دے گی۔ دیوار سے لگایا تو سب بتا دوں گا۔ خان صاحب شاید کسی آنے والے انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں تادم تحریر وہ ڈراتے ہیں لیکن وہ کس کو ڈرا رہے ہیں یہ پتہ نہیں چل سکا۔ ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی کو دیکھ کر کوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا خان صاحب کے ارد گرد بھی ایسے ہی لوگ دکھائی دے رہے ہیں جو انقلابی نہیں۔ عمران خان ملک کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں بھٹو کے عدالتی قتل سے لے کر نوازشریف کی وزارت عظمیٰ تک سفرنامے کا مطالعہ کریں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں غور و فکر کریں اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی کریں۔ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتے رہیں۔ صاف و شفاف الیکشن کی صدائیں لگاتے رہیں۔ عوام کے دکھوں کا ذکر کرتے رہا کریں ہر الیکشن میں یہی عوام لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ کا استعمال کرتی ہے۔ ملکی سیاست میں نظریات دفن ہو چکے نظریاتی سیاست کرنے والے سیاستدان فانی دنیا سے رخصت ہو گئے یقین نہیں آتا تو بھٹو کا عدالتی قتل جو ایک زخم، خلش اور درد بن کر عوام کے دلوں اور دماغوں میں اتر گیا تھا

    پیپلزپارٹی کی رگوں میں طویل عرصے تک دوڑتا رہا آج بھٹو کی میراث پر قابض پارٹی کی قیادت اس سے کسی خاندانی رشتے کی دعویدار تو ہو سکتی ہے بھٹو کی تصویر چھاپ کر اور بھٹو خاندان کی قربانی کے مرثیے پڑھ کر مفادات دولت و طاقت کی اندھی ہوس کے بازار میں بھٹو کے نام کو نیلام کیا جا رہا ہے۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بدترین دشمنوں نے بھی کرپشن کا الزام لگانے کی کبھی جرات نہیں ہوئی۔ نوازشریف کو تین بار اقتدار سے الگ کر دیا گیا خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا طیارہ اغوا اور نہ جانے کون کون سے مقدمات بنائے گئے۔ نوازشریف کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ نوازشریف اور ان کی بیٹی کو نااہل کر دیا گیا آج بھی نوازشریف لندن میں اپنے بیٹوں کے پاس ہیں جس طرح بھٹو پر جب زوال آیا تو بڑے بڑے نامور سیاستدانوں نے پذیری ٹولے کی طرح آنکھیں پھیر لیں بھٹو کو اکیلا چھوڑ دیا اسی طرح نوازشریف کی جماعت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں۔ عمران خان ملکی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں پارلیمنٹ ہائوس کا رخ کریں اپوزیشن کریں اقتدار کے مزے وہ لوٹ چکے اب اپوزیشن کا کردار ادا کریں کے پی کے آزاد کشمیر کے دورے کریں۔ ملک میں معاشی بحران ہے قرضوں پر چل رہا ہے کبھی کبھی آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف بیان دیا کریں۔

  • روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھان (ضامن حسین بکھر کی رپورٹ )روجھان میں اشیائے خوردونوش کی قمیت عوام کی پہنچ سے دور برف سے لے کر سبزیاں پھل فروٹ سے لے کر بیف، چکن، مٹن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگے دیہاڑی دار مزدوروں کی یومیہ اجرت سے ان کے بچوں کو روٹی میسر نہیں ہے اس مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے مگر گزشتہ روز راجن پور میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو اشیائے خوردونوش کے ریٹس کی چیکنگ اور سرکاری ریٹس کو برقرار رکھنے کے متعلق ہدایات دیں مگر روجھان میں 6 یوم سے صرف برف کی بات کی جائے تو 50 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے


    مگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے آنکھ موندی ہوئی ہیں اور ذمہ داروں کے کانوں میں روئی بھری ہوئی ہے ہر چیز کے ریٹ روجھان میں مقرر کردہ ریٹس کے برعکس ہیں عوام کو سرکاری مقرر کردہ نرخوں پر عوام کو اشیائے خوردونوش میسر نہیں ذمہ دار صرف فرضی طور پر ایک دو دکانوں پر جا کر فوٹو سیشن کے بعد چلے جاتے ہیں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں کوئی چیک ایند بیلنس نہیں ہے عوام کا کو ئی پرسان حال نہیں ہے چھ روز گزرنے کے بعد باوجود پرائس کنٹرول مجسٹریٹ صرف برف کی قیمتوں اور برف مافیا کے خلاف کارروائی سے قاصر ہے روجھان کے عوامی سماجی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر راجن پور، سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

  • چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال – پولو کو کھیلوں کا بادشاہ یا بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے اور یہ شاہی کھیل صرف شاہی سواری یعنی گھوڑے پر ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنمنٹ منعقد کرایا گیا جس میں پولو کے شوقین لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور شندور کے سرد ترین موسم سے بھی لطف اندوز ہوئے، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گرتا ہے۔ دیکھتے ہیں چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی خصوصی رپورٹ

  • بھارتی سازشیں

    بھارتی سازشیں

    خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے علاقائی استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بھارت چین اور پاکستان پر قابو پانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سٹریٹجک مقاصد کی تکمیل کے لیے سری لنکا اور بھوٹان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد، ہندوستان اب مالدیپ کی اسٹریٹجک حمایت کے لیے کوشش کر رہا ہے۔چھوٹا جزیرہ ملک مالدیپ چین اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے پاس کچھ اسٹریٹجک راستے ہیں۔خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے کے بدلے، ہندوستان نے اپنی زمینی افواج کو نیپال میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالدیپ کی موجودہ بھارت نواز حکومت وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے بھارتی تجویز کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ اگر یہ بھارتی تجویز عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور سٹریٹجک مقابلہ شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاقائی امن پر بھی شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے، تو کسی اور خودمختار ملک میں زمینی افواج کی تعیناتی بین الاقوامی معاہدوں، کنونشنز اور علاقائی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    بدقسمتی سے بھارت سٹریٹجک مقابلے کے لیے کھلے عام ایسا کر رہا ہے جس سے علاقائی امن خطرے میں پڑ رہا ہے۔ مالدیپ کی حکومت میں صرف چند لوگ ہی اس قدم کی حمایت کر رہے ہیں۔دوسری جانب قانون سازوں اور عوام کی اکثریت نے بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہاں تک کہ مالدیپ کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے حال ہی میں بھوٹان حکومت کے ہندوستانی فوج کو فری ہینڈ دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین نے بھی اپنی سیاسی واپسی اور ہندوستان کی جانب سے دھمکیوں کے خلاف ناراضگی کا اعلان کیا ہے۔ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک میں بڑھتے ہوئے ہندوستانی اثر کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ملکی سیاست میں دو سابق اعلیٰ سیاست دانوں کی سرگرمی اور بھارتی جارحانہ انداز کے خلاف بیانات نے بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔مالدیپ کے سیاست دانوں کی جانب سے بھارتی اقدام کی مزاحمت کے اعلان نے بھارتی پالیسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جو پہلے ہی بحر ہند میں چین سے مقابلے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

    مودی-شاہ-دوول کی تینوں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دیگر آپشنز بھی تلاش کر رہے ہیں ۔اسی طرح یہ بھی واضح رہے کہ کئی دہائیوں کے قریبی تعلقات کے باوجود مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین بھارت کے ساتھ تمام دفاعی معاہدوں کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے اپنے جزیرے والے ملک میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر میں بہت اضافہ کیا ہے جس کی موجودہ حکومت تردید کرتی ہے۔ بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے ہٹائے جانے والے اور زیر حراست رہنے والے سابق صدر کے مطالبات کو مالدیپ کے عوام نے سراہا ۔ان کی ترقی پسند پارٹی کے اجلاسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت ان کی بیانات کی تائید بھی کی۔ لوگ ان کی پارٹی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ممکنہ بھارتی قبضے کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی نہ صرف اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ مالدیپ کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی فوج کو اس سال کے آخر تک یہاں سے واپس بلا لیا جائے۔ مالدیپ میں ہندوستانی فوج کی موجودگی دیگر طاقتوں کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی ترغیب دے گی۔اسی طرح مالدیپ بحر ہند میں اپنے اہداف کے حصول میں ہندوستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات، جنہیں اب ایک مضبوط سیاسی آواز مل چکی ہے، اس کے مقاصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اگر سابق صدر کو اگلے عام انتخابات میں سیاسی کامیابی ملتی ہے تو یہ بھارتی پالیسی سازوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔اب وہ سازگار پالیسیوں اور اس کے اسٹریٹجک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مالدیپ کے بھارت نواز سیاست دانوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔اپنے پڑوسیوں جیسے نیپال، بھوٹان اور سری لنکا تک پہنچ کر، بھارت کے اقدامات خطے میں اپنے اسٹریٹجک محور کو بڑھانے کے لیے چین کی نام نہاد سٹرنگ آف پرل حکمت عملی کے مترادف ہیں۔ لیکن بھارت کے ارادے گھناؤنے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کسی دوسرے آزاد/خودمختار ملک میں اپنی فوج پر حملہ یا تعینات نہیں کر سکتا۔ جہاں تک چائنیز سٹرنگ آف پرلز کی حکمت عملی کا تعلق ہے، بیجنگ چھوٹی قوموں کو ان کے اقتصادی ماڈل اور ریاستی انفراسٹرکچر کی ترقی میں مدد کر رہا ہے۔ اس نے انہیں معاشی ترقی کے حصول میں مدد فراہم کی اور انہیں معاشی مدد فراہم کی۔حال ہی میں چین نے سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال کی مدد کی۔

    اسی طرح وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے وسیع تر علاقائی تعاون کا خواہاں ہے۔ چین اور پاکستان دونوں نے خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے علاقائی اور غیر علاقائی طاقتوں کو سی پیک کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ CPEC کا واحد مقصد وسیع تر اقتصادی انضمام اور علاقائی تعاون ہے۔ہندوستانی معاملے میں چیزیں مختلف ہیں اور چینی ماڈل کے برعکس ہیں۔ ہندوستان چھوٹی قوموں کی اقتصادی ترقی کے خواہاں نہیں ہے۔ وہ خطے میں مواقع کی تلاش میں ہے جو خالصتاً اس کے سٹریٹجک حریف چین اور پاکستان کو روکنے سے متعلق ہیں۔ لہٰذا، بھارتی عزائم پورے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اور مغرب روس کو پیشہ ورانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو انہیں بھارتی جارحانہ اسٹریٹجک ڈیزائن کی مذمت بھی کرنی چاہیے۔ بھارتی جارحانہ اقدامات نیپال کی خودمختاری کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کو اس بار آگے آنا چاہیے

    تحریر: ملک ابرار

  • تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    ڈیرہ غازی خان۔ گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین میں پاکستان سے ایران، ترکی اور آذربائجان تک بائیک رائیڈ ہوگی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پا کستان کے انٹرنیشنل بائیکر مکرم خان ترین دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے شجرکاری اور امن کا پیغام لے کر بائیک رائیڈ کا آغازکیا ،مکرم ترین پاکستان کے میدانِ سیاحت میں ایک فعال اور سرکردہ شخصیت کا نام ہے موٹر بائیک ٹورازم کو بام عروج تک پہنچایا۔ مکرم ترین پاکستان کے معروف موٹر بائیک کلب "کراس روٹ موٹر سائیکل ٹریولرز کلب آف پاکستان” کے بانی و چیئرمین ہیں۔شجرکاری کے سلسلہ میں بھی مکرم ترین نے لوکل، صوبائی اور ملکی سطح پر متعدد موٹر بائیک رائیڈز کیں اور اب گرین ڈرائیو کے عنوان سے بین الاقوامی شجرکاری مہم پر روانہ ہو رہے ہیں جس کیلئے لاہور سے بائیک رائیڈ کا آغازکر چکے ہیں ، اور ہمسایہ مسلم ممالک ایران، ترکی اور آذربائجان کے سیاحتی دورہ کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور ایکوٹورازم کے پیغام کو فروغ دیں گے۔مکرم ترین کی جنوبی پنجاب آمد پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے ملتان تا فورٹ منرو بائیک رائیڈ کا اعلان کیا جس میں ملتان، میاں چنوں، جامپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنوبی پنجاب کے بائیکر ٹورسٹس مکرم ترین کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مقامی سیاح برادری بشمول پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر جسکانی، حاجی عبداللہ ، محمد اسلم بھائی،سعید خان، اسد کھوسہ، عمر خان لغاری، طاہر شاہ، و دیگر نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، جس کے بعد انہیں ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے مرکزی سنٹر پر لے جایا گیا، جہاں عالمگیرخان ، ذیشان خالد اور کاشف ممتاز بخاری نے ان کا استقبال کیا، ریسکیو کی تربیت بارے آگاہی دی، انہیں کنٹرول روم کا دورہ کرایا گیا انہوں نے ریسکیو کے لان میں بسلسلہ شجر کاری سایہ دار پودا لگایا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی خان کے مایہ ناز تاریخ دان عمران بھٹی مرحوم کے گھر تشریف لے گئے،جہاں ان کے بھائیوں سے ملاقات کی، عمران بھٹی کی سیاحت کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی، اس کے بعد مکرم خان نے عمران بھٹی مرحوم کی خدمات انکے بڑے بھائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ مکرم ترین کو سخی سرور میں الطاف شیخ اور دیگر سیاحوںنے خوش آمدید کہا بعدازاں ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان و دیگر علاقوں کے سیاح حضرات کے ساتھ فورٹ منرو گئے جہاں انہیں جبیب اللہ بلوچ،اسدا للہ ،محمد طارق اور دیگر نے ویلکم کیا یہ ٹور ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس میں وہ تین ممالک میں بائیک رائیڈ کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے کہ کسی پاکستانی بائیکر نے شجر کاری اور امن کے پیغام کو لے کر دنیا کے دیگر ممالک میں بائیک رائیڈ کی ہو۔

  • بھارت میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں

    بھارت میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں

    ڈیموگرافک ڈیزائن سے لے کر کشمیر فائلز تک
    مقبوضہ جموں و کشمیر کی مذہبی اور آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کے ہندوستانی بدنیتی پر مبنی عزائم واضح طور پر واضح ہیں کیونکہ ہندوتوا بی جے پی کی حکومت کشمیری پنڈتوں کے خاندانوں کو کافی انعامات دے کر واپس بحال کر رہی ہے۔ آبادکاری کے لیے جارحانہ دباؤ میں، بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے گزشتہ پانچ سالوں میں کشمیری پنڈتوں کی چھ سو سے زائد جائیدادیں بحال کی ہیں۔

    بھارتی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ IIOJK کے لیے 2008 کے پی ایم بحالی پیکج کے تحت کل چھ ہزار سرکاری آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ تقریباً 5797 پنڈتوں کو روزگار دیا گیا ہے۔آرٹیکل 35A نے خطے میں آبادیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ریاستوں کے ہندوستانی شہریوں سمیت بیرونی لوگوں کو سرکاری ملازمتوں پر آباد ہونے اور دعوی کرنے سے روک دیا ۔2011 میں بھارت کی طرف سے کرائی گئی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی کل 12.5 ملین آبادی میں سے مسلمان 68.31 فیصد اور ہندو 28.43 فیصد ہیں۔ بھارت کا تازہ ترین قدم پاکستان کے اس مستقل موقف کی توثیق ہے کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے پیچھے بڑا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔پہلے دن سے، مودی حکومت نے بالآخر مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل کیا کیونکہ مودی حکومت جانتی تھی کہ وہ حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مودی حکومت نے تقریباً 30 لاکھ کشمیری ڈومیسائل بھارتی شہریوں میں تقسیم کیے ہیں۔

    غیر کشمیریوں اور غیر مسلموں کو مقبوضہ علاقے میں لانا اور آباد کرنا۔ ہندو برادری اکثریت میں ہوگی کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ غیر کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے میں لا رہے ہیں۔میڈیا کے ذریعے ہندوستان کے اندر اور بیرون ملک لوگوں کی ذہنیت بدل گئی ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم ’’کشمیر فائلز‘‘ میں اس فلم کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کو بے بس لوگوں کے طور پر دکھایا گیا تھا اور مسلمانوں کو ولن کے طور پر پیش کیا گیا۔فلم کی حساس سیاسی نوعیت اور حقائق کی غلط بیانی، جان بوجھ کر غلط بیانی کے الزامات کی وجہ سے بی جے پی حکومت پروپیگنڈے میں ملوث ہے۔ حکام نے کئی بھارتی ریاستوں میں فلم کے داخلے کو ٹیکس فری کر دیا ، پولیس اور دیگر نے دیکھنے کے لیے وقت دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی اور اے ایف پی کی طرف سے حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی متعدد ویڈیوز میں سینما گھروں میں لوگوں کو بدلہ لینے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس فلم کو اپنے سیاسی مخالفین اور ناقدین پر تنقید کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والوں نے ہی کشمیر میں ہندوؤں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ فلم نے کشمیری ہندو برادری کو بھی تقسیم کر دیا ہے، کمیونٹی کے ارکان نے فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ یہ اصل حقائق کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ من گھڑت ہے۔اس پروپیگنڈہ مہم کو بی جے پی کی مودی سرکار کی حمایت حاصل تھی تاکہ حقائق کو من گھڑت بنایا جا سکے کیونکہ وادی کشمیر میں اب بھی ہزاروں کشمیری خاندان پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

    حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ معروف صحافی رعنا ایوب کو ایئرپورٹ پر روکا گیا اور بعد میں ان کے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی، یہ ایک دانستہ کوشش تھی تاکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سچ بولنے والے صحافی بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر سچ نہ بولیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانوں کے بنیادی حقوق سے جڑی ہوئی ہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں جو ہندوستان میں اب نہیں بلکہ برسوں سے سامنے آرہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ یورپی یونین سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے میڈیا کے ذریعے بھارتی حکومت کے منصوبہ بند پروپیگنڈے اور ان ہتھکنڈوں جا نوٹس لیں جن کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانا ہے۔ہندوستان اب ایک جمہوری ملک نہیں رہا بلکہ ایک فاشسٹ حکومت ہے جو آر ایس ایس کی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔

  • حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں  ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کامریڈ میدان جمہوریت میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کہتے ہیں کہ لالچ بری بلا ہے اور ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ایک اور بات بہت مشہور ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ایک معروف قصہ ہے کہ ایک حاجی صاحب کی دکان کے ساتھ والی کامریڈ صاحب کی دکان خوب چلتی تھی سارا دن رش رہتا اور ساتھ کی دکان والا کامریڈ خوب پیسہ کماتا جس سے حاجی صاحب نے بھی شارٹ کٹ مار کر پیسے حاصل کرنے کا سوچا-

    حاجی صاحب نے بات سن رکھی تھی کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے حاجی صاحب نے بھی تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن کامریڈ صاحب کی دکان پر گیا اور بولا کامریڈ صاحب سنا ہے پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے اور میں اس بات کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں سو مجھے اپنے گلے تک رسائی دیجئے-

    کامریڈ نے کہا حاجی صاحب سو بار کیجئے ہم بھی دیکھ لیں گے کہ کامیابی کیسے اور کتنے پیسے والے کی ہوتی ہے حاجی صاحب نے ایک چھوٹا سا سکہ جیب سے نکالا اور گلے میں بنے سکے ڈالنے والے سوراخ کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا مگر فضول کوئی ردعمل نا ہوا اور کامریڈ کا کوئی پیسہ حاجی صاحب کے پیسے کو نا چمٹا –

    خیر حاجی صاحب نے ہمت نا ہاری اور دوبارہ عمل شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب کا اپنا سکہ بھی سوراخ سے کامریڈ کے گلے میں گر گیا یہ دیکھ کر کامریڈ نے تالی ماری اور بولا واقعی جناب آپ نے سچ ہی سنا تھا کہ پیسے کو پیسہ ہی کھینچتا ہے مبارک ہو آپ کا تجربہ کامیاب رہا ہے-

    یہ سن کر حاجی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور مارے غصے سے چلانے لگے او نامراد غلط تجربہ ہوا ہے میرا تو اپنا بھی چلا گیا اب میں کیا کروں گا میرے پاس تو یہی ایک سکہ تھا جبکہ تمہارا تو گلا پیسوں سے بھرا ہوا ہے-

    اس بات پر کامریڈ مسکرایا اور بولا حاجی صاحب آپ نے دیہان نہیں دیا کہ زیادہ طاقت کم طاقت کو کھا جاتی ہے اسی طرح زیادہ پیسہ کم پیسوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور میرے گلے میں زیادہ پیسے تھے اور آپ کے پاس محض ایک سکہ آپ نے ایک معمولی طاقت سے میری زیادہ طاقت کو کھینچنے کی کوشش کی تھی اور لالچ میں اپنی طاقت بھی ضائع کروالی اب فرمائیں کہ سکون ہے آپ کو تجربے سے-

    کامریڈ حاجی صاحب سے مخاطب ہوا کہ آپ کو چائیے تھا کہ اس بات کو ذہن نشین رکھتے کہ پیسے کو پیسہ اس صورت کھینچتا ہے جب اس کا استعمال کرکے اس سے کاروبار کیا جائے مگر آپ نے لالچ میں آکر غلط رنگ کو اپنایا سو اب آپ اپنی بھی طاقت کھو بیٹھے ہیں-

    قارئین بلکل اسی حاجی صاحب کی طرح ہماری کچھ سیاسی جماعتیں بہت سے اسلامی نظریات کا نعرہ لگا کر میدان میں أتی ہیں کارکنان بھی بڑے پرجوش ہوتے ہیں کہ چلو کسی نے اسلام کی بات کی سو اس بار ووٹ ان کا پکا لیکن پھر وہی لالچ اور ہوس کہ جلد شہرت، اقتدار اور کرسی حاصل کرنے کیلئے کسی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہی حاجی صاحب والا طریقہ اپنا کر اپنی طاقت بھی ضائع کر بیٹھتی ہیں-

    ان کا مقصد ہوتا ہے کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی تعریفیں کرکے اپنے کارکنان تک اس جماعت کی حمایت کا پیغام پہنچانا اور بالآخر الیکشن کے بعد اپنے کارکنان بھی اس حاجی صاحب کی طرح کامریڈ کی جماعت میں پھینک چھوڑتی ہیں-

    حالانکہ کہ ہونا تو یہ چائیے کہ اپنی سیاست کی جائے اور آہستہ آہستہ اپنے نظریات کو اپنے کارکنان تک پہنچا کر کارکنان کو اس رنگ میں رنگا جائے اور پھر چند سالوں بعد مطلوبہ اقتداری ہدف حاصل کیا جائے مگر جلد بازی و لالچ میں غلط راستے کا انتخاب کرکے وہ جماعتیں آخر ختم ہی ہو جاتی ہیں اور کارکنان پہلے سے بنی بڑی اور مضبوط جماعت کی آواز بن کر اس کی أواز و نظریات کو بول جاتے ہیں-