Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کپتان سابق راشد لطیف کشمیر پریمئر لیگ کے ڈائریکٹر آپریشنز مقرر

    کپتان سابق راشد لطیف کشمیر پریمئر لیگ کے ڈائریکٹر آپریشنز مقرر

    کراچی :پاکستان میں کرکٹ کی دنیا کے ایک نامورکھلاڑی پاکستانی سٹار پاکستان ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کو کشمیر پریمئر لیگ کا ڈائریکٹر آپریشنز مقرر کردیا گیا ہے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق کشمیر پریمئر لیگ کے صدرعارف ملک نے سابق کپتان راشد لطیف کو کشمیر پریمئر لیگ کا ڈائریکٹر آپریشنز مقرر کیا ہے۔

     

    اس حوالے سے راشد لطیف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں کرکٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے بروقت تیار ہیں جبکہ پچھلے سال بھی کشمیر پریمئر لیگ کامیاب رہی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ٹیلنٹ کو کشمیر پریمئر لیگ میں شامل کیا جائے گا جبکہ پاکستان اورکشمیر میں بہت سے باصلاحیت کھلاڑی بھی موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف 37 ٹیسٹ اور166 ون ڈے میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں جبکہ وہ افغانستان کی قومی ٹیم کے بھی کوچ رہ چکے ہیں۔

    علاوہ ازیں راشد لطیف کو کئی نامورکھلاڑی متعارف کروانے کا بھی اعزاز حاصل ہے جبکہ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کو بھی انہوں نے ہی متعارف کروایا تھا۔

    ادھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سابق پاکستانی کرکٹر منصور اختر کو فکسنگ الزامات سے کلیئر کردیا۔اکتوبر دوہزار انیس میں گلوبل ٹی ٹونٹی لیگ میں پاکستانی کرکٹر عمر اکمل کی جانب سے منصور اختر پر فکسنگ کے لیے اپروچ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سینئر منیجر سٹیو رچرڈسن کی جانب سے منصور اختر کو لکھے گئے خط میں واضح کیاگیاکہ ان پر فکسنگ کا کوئی چارج نہیں لگایا جارہا۔ الزامات کے حوالے سے جاری تفتیش کو ختم کردیاگیاتاہم اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی نئے شواہد سامنے آئے تو دوبارہ اس کیس کو کھولا جاسکتاہے۔

    امریکہ میں مقیم منصور اختر اس ٹیم کے ساتھ منسلک تھے جس کی طرف سے عمر اکمل نے حصہ لیا تھا، عمر اکمل نے پی سی بی اور آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ منصور اختر کی جانب سے انہیں میچز کے دوران فکسنگ پر اکسایا گیا تھا۔

  • بھارتی فلم "دی کشمیر فائلز”حقائق کےمنافی قرار،سنگاپورنےپابندی عائد کردی

    بھارتی فلم "دی کشمیر فائلز”حقائق کےمنافی قرار،سنگاپورنےپابندی عائد کردی

    سنگاپور: سنگاپورنے انڈیا فلم دی کشمیر فائلز پر دستخط کرتے ہوئے کہا سنگاپور کی حکومت کے مطابق فلم میں تنقید کو منفی طور پر اور ہندوستانی کشمیر سے ہندوستان کے انخلاء سے متعلق حق کویکطرفہ طور پر تسلیم کیا گیا۔

    اس حوالے سے سنگا پورحکومت کا کہنا ہے کہ فلم کی نمائش میں مسلم اور پاکستانی قوم کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے جس سے کثیر المذہبی اور کثیر النسلی ریاست میں سماجی رابطوں اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہو رہے ہیں۔

    وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارت کے انتہائی قدامت پسند ہندوؤں نے بھی اس فلم کی تعریف کی ہے اور اسی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ہوئی ہے تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فلم مسلم مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہے اور معاشرے میں تقسیم کا سبب بن سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس اس 170 منٹ طویل فلم کے مداح انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ اس فلم میں کشمیر کی تاریخ کا وہ پہلو دکھایا گیا ہے جسے میڈیا عام طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔ دوسری جانب بہت سے افراد اس فلم کو نریندر مودی کی مسلم مخالف مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سنگاپور 55 لاکھ افراد پر مشتمل ریاست ہے جہاں مسلمان، مالے اور ہندو آباد ہیں۔ اس جنوب مشرقی ریاست میں نسلی اور مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں۔

    اعتدال پسند بھارتی تجزیہ کار بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مسلم مخالف جذبات پروان چڑھے ہیں اور مودی حکومت کی جانب سے بھی ایسے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ معتصبانہ رویے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

  • آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    جنگ عظیم دوئم کے زمانے سے برمودا ٹرائی اینگل ساری دنیا کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے اور اس کے بارے میں غیر ماورائی معاملات مشہور ہیں برمودا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس کا ایک مخصوص حصہ ہے، اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا پورٹوریکو اور تیسرا میامی سے متصل ہے اور ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو برمودا تکون یا مثلث کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں جن کے باعث اس کو شیطانی مثلث بھی کہا گیا ہے، ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی واقعات شامل ہیں برمودا ٹرائی اینگل سمندر کے اندر ایک ایسا پُراسرار علاقہ ہےجہاں اب تک بہت سے طیارے،کشتیاں اور جہاز غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا

    سری لنکا میں پر تشدد جھڑپیں: 5 ہلاک، 190 سے زائد زخمی، مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر آتش، کرفیو نافذ

    اس حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جاتیں ہیں لیکن آج تک کوئی بھی واضح طور پر برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل نہیں کرسکا تاہم اب ایک آسٹریلوی سائنسدان نے برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ‘ کارل کروزیلنکی'(Karl Kruszelnicki) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں طیاروں اورکشتیوں کی پراسرار گمشدگی کے پیچھے مافوق الفطرت وجوہات نہیں ہیں۔

    ان کا خیال ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر خراب موسم اور انسانی غلطی کا نتیجہ تھے جبکہ انہوں نے ان مقبول نظریات کو بھی رد کیا ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ ان گمشدگیوں کا تعلق مافوق الفطرت اسباب سے ہے۔

    انہوں نے 2017 میں ایک جگہ کہا تھا کہ یہ علاقہ خط استوا کے قریب ہے اس لیے یہاں بہت ٹریفک ہے جبکہ لائیڈز آف لندن اور امریکن کوسٹ گارڈ کے مطابق برمودا ٹرائی نگل میں گمشدگیوں کی تعداد فیصد کی بنیاد پر دنیا میں کہیں گمشدہ ہونے کی تعداد کے برابر ہے اس کے علاوہ کارل نے اپنے نظریے میں اس فلائٹ 19 کا بھی ذکر کیا جو برمودا ٹرائی اینگل کی تمام گمشدگیوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔

    یہ پرواز پانچ طیاروں پر مشتمل تھی جس نے 5 دسمبر 1945 کو فلوریڈا کے فورٹ لاؤڈرڈیل سے اڑان بھری تھی اور اس میں عملے کے 14 ارکان سوار تھے لیکن امریکی بحریہ کے بمبار طیاروں کا (جو معمول کے تربیتی مشن پر کام کر رہے تھے) پانچوں طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ طیارے غائب ہوگئے اور عملہ یا ملبہ کبھی نہیں ملا جبکہ فلائٹ 19 کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا ایک طیارہ بھی اسی رات غائب ہو گیا تاہم کارل کا خیال ہے کہ فلائٹ 19 اس دن بحر اوقیانوس میں 15 میٹر کی بلند لہروں کی وجہ سے غائب ہوئی پرواز میں واحد تجربہ کار پائلٹ لیفٹیننٹ چارلس ٹیلر تھا جس کی انسانی غلطی اس سانحہ کا سبب بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک اس مقام پر 2 ہزار بحری جہاز اور 200 طیارے لاپتہ ہوچکے ہیں ایسی برقی لہریں اور مقناطیسی کشش بھی موجود ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو تروڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہیں امریکی میڈیا پر ان ہی جگہوں پر خلائی اور دیگر حقائق سامنے لانے والوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

    تاہم اس علاقے میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ ایسا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، یہ واقعہ ایسا ہے جسے سن کر ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ جاتی ہے4 دسمبر 1970 کی ایک روشن صبح بروس گارنن نامی ایک پائلٹ نے بہاماس کے جزیرے اینڈروس سے اڑان بھری، اس کے چھوٹے جہاز میں صرف 2 مسافر سوار تھے اور ان کی منزل فلوریڈا کا شہر میامی تھایہ ایک معمول کی پرواز تھی جس پر بروس اس سے پہلے درجنوں بار جاچکا تھا جب طیارہ 1 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا تو طیارے کے سامنے ایک چھوٹا سا سیاہ بادل آگیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ہی اپنا حجم بڑھانے لگا، بروس کو مجبوراً اس بادل کے اندر سے گزرنا پڑا۔

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    آگے جا کر جب طیارہ 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر پہنچا تو پائلٹ کے سامنے ایک اور پراسرار سیاہ بادل آگیا۔ یہ بادل بہت بڑا تھا اور طیارے کو اس کے اندر سے گزارنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا بروس نے طیارے کو بادل کے اندر داخل کردیا، اندر سیاہ گھپ اندھیرا تھا لیکن یہ طوفانی بادل نہیں تھا تھوڑی دیر بعد اچانک بادل کے اندر سفید روشنی کے جھماکے سے ہونے لگے۔ پائلٹ نے لمحے میں جان لیا کہ یہ روشنی آسمانی بجلی نہیں تھی، کچھ اور تھی بادل کے اندر طیارے کا سفر نصف گھنٹہ جاری رہا، اچانک بروس کو محسوس ہوا کہ یہ وہی بادل تھا جو 10 ہزار فٹ کی بلندی پر اس سے ٹکرایا تھا اور یہ احساس ہوتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

    بادل اب ایک سرنگ کی سی شکل اختیار کرچکا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اب یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اچانک پائلٹ کو سامنے روشنی کی ہلکی سی کرن دکھائی دی جس کا مطلب تھا کہ بادل کی سرنگ ختم ہورہی ہے پائلٹ کے جسم میں نئی جان دوڑ گئی، لیکن جیسے جیسے روشنی قریب آنے لگی اچانک طیارے کے آلات ایک کے بعد ایک خرابی کا سگنل دینے لگے تمام انڈیکیٹرز جلنے بجھنے لگے اور کچھ دیر بعد پائلٹ طیارے پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، لیکن طیارہ تب بھی اڑتا رہا۔

    بروس کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے طیارے کو کوئی اور قوت چلا رہی ہو، یا آسمان میں کوئی کرنٹ ہو جس کے باعث طیارہ خود بخود اڑ رہا ہو کچھ دیر بعد طیارہ بالآخر بادل کی سرنگ سے نکل آیا، اور اس کے ساتھ ہی طیارے کے آلات ایسے کام کرنے لگے جیسے ان میں کبھی کوئی خرابی ہوئی ہی نہیں تھی بادل سے نکلنے کے بعد بھی طیارہ کچھ منٹ مزید گہری سفید دھند میں سفر کرتا رہا۔ اس دوران اس نے گراؤنڈ کنٹرول سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسے اس کی موجودہ لوکیشن بتائیں۔

    کہاں ہوگی بارش؟ کہاں چلیں گی گرم ہوائیں؟

    گراؤنڈ کنٹرول کی جانب سے جواب ملا کہ طیارہ ریڈار پر دکھائی نہیں دے رہا جس سے بروس پریشان ہوگیا پھر اچانک دبیز دھند ختم ہوگئی اور بروس نے دیکھا کہ وہ عین میامی یعنی اپنی منزل کے اوپر تھا یہ ایک اور حیران کن بات تھی، یہ فاصلہ 217 میل تھا جسے ایک گھنٹہ 15 منٹ میں طے کیا جانا تھا، لیکن طیارے کو اپنا سفر شروع کیے صرف 47 منٹ ہی گزرے تھے بہرحال طیارہ بحفاظت میامی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔

    لینڈ کرتے ہی بروس نے طیارے کا فیول چیک کیا تو وہ اتنا خرچ نہیں ہوا تھا جتنا طے شدہ فاصلے کے مطابق اسے خرچ ہونا چاہیئے تھا بروس نے سفر سے متعلق تمام دستیاب معلومات چیک کیں تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا طیارہ سفر کے نصف وقت میں اپنی منزل پر پہنچا اس نے فوری طور پر ایوی ایشن ماہرین نے رابطہ کیا اور انہیں خود پر گزرنے والی صورتحال بتائی، لیکن کوئی بھی اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

    بالآخر بروس نے خود ہی اس بارے میں معلومات جمع کیں اور ان سے ایک نتیجہ نکالا کہ بادل کے اندر روشنی کے سفید جھماکے دراصل الیکٹر ک فوگ تھی کچھ افراد نے ایک ممکنہ خیال پیش کیا کہ بروس ڈارک انرجی کی وجہ سے وقت کو جلدی طے کرنے میں کامیاب ہوا، یہ وہی توانائی ہے جس کی وجہ سے ہماری کائنات پھیلتی ہے۔

    یہ توانائی بلیک ہول کی طرح وقت اور مقام میں خلل (ٹائم ٹریول قسم کے حالات) پیدا کرسکتی ہے، اسی کی وجہ سے بادل کی ایک سرنگ پیدا ہوئی، بروس اتفاق سے اس سرنگ میں جا نکلا اور خوش قسمتی سے زندہ سلامت نکلنے میں کامیاب رہا کچھ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بادل اس علاقے میں عام ہیں اور اکثر پائلٹس کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اس کی وضاحت کوئی نہ دے سکا کہ بروس نے اپنے سفر کا نصف وقت کیسے پار کرلیا، بروس گارنن کی یہ فلائٹ آج بھی ایک راز ہے جو حل طلب ہے۔

    دشمن ممالک کو خوش کرنے کیلئےعمران نیازی ایک خطرناک ایجنڈے پر گامزن ہیں،شرجیل میمن

    کیا دجال برمودا ٹرائی اینگل میں رہتا ہے؟

    رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے دجال کے رہنے کی جگہ ایک غیرآباد جزیرہ ہے، اس کے کارندے لمحہ با لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، دجال کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

    صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں، وہ مشرق میں ہے اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو ’ڈیول سی‘ یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے ’برمودا ٹرائی اینگل‘ ہی وہ دو جگہیں جنہیں یہودی بھی جہنم کا دروازہ مانتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی آخری سرا امریکا سے جا کر ملتا ہے۔

    مصری محقق عیسیٰ داؤد نے اپنی کتاب ’مثلث برمودا‘ میں کہا کہ دجال بحر الکاہل کے ان غیرآباد اور ویران جزائر میں تھا، اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا تھا مگر آخری رسول ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اور وہ آزاد ہوگیا، مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی، لہذا اب وہ ’ڈیول سی‘ سے ’برمودا ٹرائی اینگل تک رابطے میں ہےجس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نقطہ عروج کو پہنچنے والی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کی چارج شیٹ جاری کردی

  • مقبوضہ کشمیر:ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6 افراد جاں بحق

    مقبوضہ کشمیر:ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6 افراد جاں بحق

    مقبوضہ کشمیر:ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6 افراد جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف واقعات میں ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6افراد لقمہ اجل بن گئے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے بانہال قصبے میں ایک 25سالہ لاپتہ نوجوان کی لاش پراسرار حالات میں برآمد کی گئی۔ جس کی شناخت شوپیاں کے عارف گنائی کے طور پر ہوئی ہے جو تین دن پہلے لاپتہ ہو گیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مقتول کی شادی کی تقریب اگلے ہفتے طے تھی، حکام نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب جموں کے علاقوں برمن اور پنچھاری میں دو الگ الگ واقعات میں دو افراد نے خودکشی کرلی۔

    دریں اثناء ضلع رامبن کے علاقے میترا کے قریب دو کمسن لڑکے دریائے چناب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے جبکہ ایک اور نوجوان ضلع جموں کے علاقے میرپور کے قریب دریائے چناب میں نہاتے ہوئے ڈوب گیا۔

    ادھر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں معروف آزادی پسند رہنما حاجی محمد سلطان شاہ آج مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مرحوم ضلع بانڈی پورہ کے علاقے نادی ہل کے رہائشی تھے۔ حاجی محمد سلطان کا شمار تحریک آزادی کے اولین رہنماﺅں میں ہوتا تھا ۔ وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور ایک انتہائی نڈر اور بے باک رہنما تھے۔

    دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس آزادجموں وکشمیرشاخ کے کنوینر محمد فاروق رحمانی نے ایک بیان میں حاجی محمد سلطان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی میں مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    حریت آزاد جموں وکشمیر کے رہنما امتیاز احمد وانی نے بھی انکی وفات پر رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے غمزدہ لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

  • پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیارپورٹ کےمطابق سنہ 2016 میں راجستھان کے دارالحکومت میں ششھی کانت کا قتل ہوا تھا جس کی لاش تین دن بعد ملی تھی، بعد ازاں مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج پر معاملہ عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوا تھا اب جہاں ہائی کورٹ کی جانب سے کیس کا فیصلہ قریب تھا تو پولیس نے شواہد گم ہونے کا الزام بندر پر عائد کردیا ہے۔

    گجرات کے بعد اوکاڑہ کے قبرستان میں کمسن بچی کی نعش نکال کر بیحرمتی کا واقعہ

    رپورٹ کے مطابق راجستھان کی ہائی کورٹ میں ششھی کانت نامی شہری کے قتل کا کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے پولیس سے قتل کے شواہد مانگے تو اس نے عجیب وغریب منطق پیش کی اور کہا بندر نے پولیس اسٹیشن سے تمام ثبوت چوری کرلیے ہیں جس میں قتل میں استعمال ہونے والا تیز دھار آلہ بھی شامل تھا۔

    رپورٹس کے مطابق پولیس نے عدالت میں تحریری بیان جمع کرایا جس میں لکھا ہے کہ مذکورہ کیس کے شواہد بیگ میں موجود تھے اور بیگ بندر اٹھا کر غائب ہوگئے ہیں۔

    معذور لڑکی کی نعش قبر سے نکال کر بیحرمتی،ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

  • معروف حریت رہنما غلام حسن لون انتقال کرگئے ہیں

    معروف حریت رہنما غلام حسن لون انتقال کرگئے ہیں

    سری نگر: معروف حریت رہنما غلام حسن لون انتقال کرگئے ہیں ،اطلاعات کے مطابق معروف حریت رہنما غلام حسن لون مقبوضہ کشمیر میں انتقال کرگئے ہیں۔

    حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا ہے کہ معروف حریت رہنما غلام حسن لون مقبوضہ کشمیر میں انتقال کرگئے ہیں
    عبدالحمید لون کے مطابق غلام حسن لون کا انتقال آج اپنے آبائی گھر کپواڑہ میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔

    حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ غلام حسن لون کا شمار تحریک آزادی کشمیر کے اولین حریت رہنماؤں میں ہوتا ہے، غلام حسن لون تحریک آزادی کشمیر کے بے باک اور نڈر حریت پسند رہنما تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں غلام حسن لون کا کلیدی کردار رہا ہے۔

    ادھر حکومت آزاد کشمیر نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی انتخابی حد بندیوں کو مسترد کردیا ہے۔

    مظفرآباد کے مرکزی ایوان صحافت میں آزاد کشمیر کے وزیر عبدالماجد خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم عزائم کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    انہوںنے کہا کہ اسی مقصد کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی الیکشن کمیشن کے حد بندی کمیشن نے جموں کے لیے نئی 6 اور وادی کشمیر کے لیے صرف 1 اسمبلی نشست کا اضافہ کیا ہے۔

  • ماؤں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے لاپتہ و اسیر بچوں کی منتظر

    ماؤں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے لاپتہ و اسیر بچوں کی منتظر

    اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں خواتین بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکارہونے والے اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے ماں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔

    جس کے نتیجے میں 1989سے 8 مئی 2022 تک خواتین اور بچوں سمیت 96 ہزار 25 کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور 22 ہزار 944 خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران 11 ہزار 255 خواتین کی بے حرمتی کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کی ماؤں، بیویوں اور بیٹیوں سمیت رشتہ داروں نے بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیرکی مختلف جیلوں میں نظر بند اپنے پیاروں کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ 62 سالہ مزاحمتی رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، شازیہ اختر اور انشا طارق سمیت تقریباً دو درجن خواتین جھوٹے الزامات کے تحت بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ سمیت مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں نے اس عرصے کے دوران تقریبا 8 ہزارکشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کردیا ہے اور لاپتہ ہونے والے افراد میں سے اکثر کی مائیں آج بھی ان کی واپسی کی منتظر ہیں۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری مائیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا خمیازہ بھگت رہی ہیں کیونکہ ماؤں سمیت کشمیری خواتین نے اپنے قریبی عزیزوں کو بھارتی گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھ کر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب تک متعدد کشمیری مائیں لاپتہ ہونے والے اپنے بیٹوں کوتلاش کرتے ہوئے اس دارفانی سے کوچ کرگئی ہیں جبکہ کشمیری ماؤں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے بیٹوں کی موت پر سوگ منانے اور انہیں اپنی پسند کی جگہوں پر دفنانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

  • اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں  ازقلم: غنی محمود قصوری

    اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں ازقلم: غنی محمود قصوری

    اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ابھی چند دن قبل ہی ماہ رمضان تھا جس میں زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت زیادہ افطار پارٹیاں کی گئیں اور اب شادیوں کا سیزن ہے جبکہ ہماری شادیوں بیاہوں و دیگر دعوتوں کیساتھ افطار پارٹیوں میں بھی کھانے کا بہت زیادہ ضیاع کیا جاتا رہا-

    زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے کہ جو کھانا ہم اپنے کھانے کیلئے پلیٹ میں ڈالتے ہیں اس کا چوتھائی حصہ عموماً ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے اور نئی ڈش کھانا شروع کر دی جاتی ہے-

    ایسا کام ہر بندہ بھی نہیں کرتا مگر زیادہ تر ایسا کیا جاتا ہےکھانے کے اس ضیاع کو کفران نعمت کہا جاتا ہے یعنی سامنے پڑی یا دی گئی نعمت کا انکار کرنا اور اسے ضائع کرنا اور یہ عمل اللہ کو سخت نا پسند ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں-

    فذكُرُونِي أَذكُركُم وَشكرُوا لِي وَاتَكَفُرُونَ
    ترجمہ: پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور نعمتوں کا انکار نہ کرو-

    یقین کیجئے ہماری پستی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ کفران نعمت بھی ہےآج ہماری شادیوں،بیاہوں و دیگر دعوتوں میں اسے فیشن سمجھا جاتا ہے گناہ نہیں بلکہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ کولڈ ڈرنک کی بوتل میں سے تھوڑی سی چھوڑ دی جاتی ہے-

    مہمان کی عزت کرنا اسلام میں فرض ہے مگرمیزبان کو بھی اسلام کی رو سے مہمان کی طرف سے عزت اور اس کے مال و جان کی حفاظت کا عندیہ دیا گیا ہے کیونکہ اسلام ہر کسی کے جان و مال و عزت کا محافظ ہے اور میزبان کی طرف اے پیش کیا گیا کھانا اس کا مال ہوتا ہے-

    اپنے گھروں میں ہم 6 افراد محض ایک کلو گوشت پکا کر سیر ہو جاتے ہیں مگر افسوس کہ کسی باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کی شادی پر مہمانوں کی طرف سے لاکھوں کا کھانا دینے والے باپ کی عزت کی ہم لوگ قدر نہیں کرتے کیا گزرتی ہو گی اس باپ پر کہ جس نے اپنی جمع پونجی سے آپ کیلئے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے اعلی سے اعلی ضیافت کا اہتمام کیا ؟-

    چاہے میزبان کھرب پتی ہی کیوں نا ہو کھانوں کی اس طرح بے قدری شعائر اسلام اور اخلاقی طور پر قطعاً درست نہیں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم مہمان ہیں اور بطور مہمان کھانے کی بے حرمتی کسی صورت جائز نہیں بلکہ اس عمل سے ہماری تربیت وضع ہوتی ہے-

    کھانوں کی بے قدری سے ایک تو کفران نعمت ہوتا ہے تو دوسری میزبان کی دل آزاری بھی ہوتی کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے گھر میں پکے کھانوں کیساتھ ایسا سلوک کیا ہوا اور اپنے گھروں میں اپنی پلیٹوں میں ایسے کھانا چھوڑا ہو جیسا ہم دعوتوں میں کرتے ہیں-

    خدارہ اگر کوئی کسی دعوت میں آپ کے سامنے ایسی حرکت کرتا ہے تو کوشش کیا کریں آپ پہلے وہ چھوڑے گئے نان کے ٹکڑے اور پلیٹوں میں ڈالا گیا سالن کھا لیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روٹی نان کے چھوڑے گئے سخت کنارے اس کے دانتوں و معدے کو تکلیف دیتے ہو اور اگر آپ کو ان چیزوں کے کھانے سے صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تو یہ نیکی ضرور کیجئے-

    ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا جوٹھا کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ عمل آپس میں پیار و محبت کا باعث بھی بنتا ہے اور تکبر جیسی لعنت کو ختم کرتا ہے یقین کیجئے اس عمل سے ہماری شان میں کوئی گستاخی نا ہو گی اور نا ہی پکے کھانے کا ذائقہ بدلا ہوتا ہے –

    ہاں یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے ہمارا رب ضرور راضی ہو گا اور ہو سکتا ہے کفران نعمت کرنے والوں کو بھی اللہ ہدایت دے دیں اور وہ آئندہ سے نادم ہو کر اس عمل سے باز آ جائیں-

    آئیے عہد کیجئے کھانوں کی بے بے قدری نہیں کرینگے اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں گے جتنا ہم کھا سکتے ہیں یقین کیجئے یہ عمل شروع کیجئے ہمارا معاشرہ تہذیب کی جانب گامزن ہو گا اور آج کھانے کو ضائع کرنے والا کل افسر بھرتی ہو کر سیاستدان بن کر ضرور ان شاءاللہ کھانے کے علاوہ دی گئی نعمتوں اور ہماری امانتوں کو ضائع نہیں کرے گا-

  • بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بھارتی شہر جودھ پور میں ہندو مسلم فسادات، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چاند رات کو مسلمانوں کی جانب سے عید کی مناسبت سے اپنا جھنڈا لگانا تھا جب کہ اسی جگہ ہندو تہوار پرشورام جینتی کے سلسلے میں ہندئووں نے بھی اپنا جھنڈا لگانے کی ضدکی، جس پر دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیااورعید کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔گذشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔

    مقامی مسلمان رہنمائوں کا کہنا ہےکہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اورپولیس انتہا پسندہندوئوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔کچھ روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔جہانگیر پوری میں ہندوئوں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئیں۔

    اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمان شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دبائو میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔جس پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور تھانے کے سامنے احتجاج کیا، پولیس کی لاٹھی چارج پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میںکئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

    ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوئوں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ ادھر دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے 16مسلمان طلبا پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلباء کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد یا برا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن نریندرمودی کی حکومت میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اورزندگی گذارنامشکل ہوگئی ،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔ کیونکہ بھارت میں ایک ہندوتواکی متعصب حکومت ہے ایک ایسی حکومت جو سرکاری سطح پر ہندوئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ آئے دن ہندوئوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیںاورمسلمان خاص نشانہ ہیں۔ جنونی ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کی کئی ویڈیوزسوشل میڈیاکی وجہ سے دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ،17ویں صدی سے لے کر آج تک لاکھوں فسادات ہوچکے ہیں 18مئی 2001کو شائع شدہ مضمون کے مطابق اگر کرائم ریکارڈ کے اعدادو شما ر کو سچ مانا جائے تو 1947سے لیکر اب تک بھارت میں 20لاکھ سے زائد فسادات تھانوں میں درج ہوئے ،ان میں اتر پردیش میں 4لاکھ 25ہزار،بہار میں 3لاکھ75ہزار، ہریانہ میں 1لاکھ 50ہزار ،پنجاب میں 2لاکھ،مہاراشٹر میں 3لاکھ50ہزار ،راجستھان میں 1لاکھ25 ہزار مقدمات درج ہیں ۔ 1947میں بٹوارے کے فوراََ بعد نوا کھالی سے شروع ہونے والے فسادات ،خانپور،علی گڑھ،مرادآباد،حیدرآباد،بہارشریف،بھاگلپور، جمشیدپور وغیرہ سے ہوتے ہوئے گجرات پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچ گئے ،جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تمام حدیں پارکر دی گئیں۔

    عزیزبرنی کی لکھی کتاب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کے مطابق بھارت میں فسادات کی شروعات 1713 میں شروع ہو چکی تھی،1713میں گائے ذبح کرنے پر ہندو دہشت گردوں نے پہلا فساد برپا کیا ،20-1719میں کشمیر میں ایک مسلمان اور ہندو کی آپسی لڑائی فسادات کا باعث بنی،اسی طرح کئی چھوٹے بڑے نسلی فسادات ہوئے ۔1782میں سلہٹ ،آسام میں محرم کے موقع پرہندوؤں کو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں مذہبی جلسے کرنے سے روکنے پر فسادات بھڑکائے گئے جس میں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا-

    1809 میں بنارس میں اورنگزیب کے ہاتھوں بنائی گئی مسجد پر ہندوؤں کے قبضہ کرنے کی کوشش پر فسادات بھڑک اٹھے، 1840 میں مرادآباد میں فسادات ہوئے ،1851میں ممبئی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کے خلاف ایک گجراتی اخبار میں شائع مضمون فسادات کی وجہ بنا، 1857میں بجنو ر اور مرادآبادمیں فسادات ہوئے ۔1871میں بریلی میں محرم اور رام نومی کے ایک دن ہونے سے فسادات ہوئے-

    1874میںممبئی میںآر۔ایچ جلمئے کی ایک کتاب”گریٹ پروفیٹ آف دی ورلڈ”کے خلاف فساد بھڑکا یہ کتاب انگریزی میں تھی اس میں حضرت محمد ۖ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ۔1890میں علی گڑھ میں ایک مسجد میں سور کا گوشت اور ہندو ؤں کے ایک کنویں میں گائے کا گوشت ڈالنے پر فساد بھڑکایا گیا ۔1892میں بھاش پٹم ،اگست 1893میںممبئی۔ستمبر 1893میں قلابہ اور 1893میں گئو رکشا کے نام پر اتر پردیش کے بلیا میں فسادات ہوئے ۔1894میں مدراس،ناسک کے یلالہ، 1895میں پوربندراورچھلیا میں بھی فسادات ہوئے ،1907میں مورگھٹ میں بنگال کی تقسیم پر، 1912میں ایودھیہ میں بقر عید پر گائے کی قربانی کرنے سے روکنے پر، 1913میں نیلور میں ایک مسجد شہیدکرنے پر، 1916میں پٹنہ میں بقر عید پرہندوؤں کا قربانی روکنے پر، 1921میں گیا اور شاہ آباد میںبھی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے قربانی سےروکنے پرفسادات بھڑکے،1921میں مالےگاؤں میںانڈین کونسل ایکٹ1919کےسوال پرفسادات ہوئےاسی طرح بنگلور میں تحریک عدم تعاون کے دوران فسادات ہوئے ،24-1923 میں امرتسر،لاہور،سہارنپور، الٰہ آباد،کلکتہ اور دوسرے شہروں میں راجہ رام موہن رائے کی شدھی تحریک فسادات کاسبب بنی ۔

    1923میں ممبئی، 1932میںالور،1933 میں کلکتہ ،1935میں ہزاری باغ میں محرم کا جلوس اور رام نوی ایک ساتھ ہونے کے باعث فسادات پھوٹ پڑے اور ساتھ میں چمپارن اور سکندرآباد میں بھی مسلمانوں کو بے دردی سے تہ و تیغ کیا گیا ،1937میں گئو کشی کے مسئلے پر فسادات بھڑکائے گئے ،1939میں اترپردیش اور کلکتہ میں ہولی کے موقع پر مسجد کے سامنے میوزک بجانے سے روکنے پر مسلمانوں کو تختہ مشق بنا یا گیا ،اسی طرح اسی سال خانپور میں ایک جلوس پر حملے کے سبب جھگڑا ہوا جس سے فسادات بھڑکا دیے گئے ۔1941میں کلکتہ میں محرم کے موقع پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔1950میں کالی کٹ ،دہلی ،پیلی بھیت،علی گڑھ اور ممبئی میں آر ۔ایس۔ایس کے دہشت گردوں کے ذریعے مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنے پر فسادات ہوئے ۔1953میں ہندومہاسبھا کے ایک جلوس پر پتھر پھینکنے کا بہا نہ بنا کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے فسادات برپا کئے گئے،اسی سال احمدآباد،ناسک اور پونے میں گن پتی اور محرم ایک ساتھ ہونے پر فساد بھڑکا یا گیا-

    1956 میں اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ بدیہ بھون کے ذریعے حضرت محمدۖ کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے پر فسادات ہوئے ، اسی طرح کوئی سال ایسا نہیں گیا جس میں مسلمانوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے بہانوں سے فسادات نہ بھڑکائے گئے ہوں۔1962میں مالدہ میںحضرت محمد ۖ کی شبیہ مبارک شائع کرنے پر فساد برپا ہوا ،1963میں ندیا،کلکتہ میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہونے پر فسادات ہوئے ،1966میں رانچی میں اردو کے خلاف نکالا گیا جلوس فسادات کا سبب بنا ۔1974میں شیوسینا کے ذریعے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جوگیشوری میں فسادات ہوئے 1975میں جوگیشوری میں شیوسینا کے دہشتگردوں کے مسلمانوں پر حملے فسادات کا باعث بنے ۔

    1987میں میرٹھ،ہاشم پور ملیانہ،پھرشیلاپوجن اور رام جنم بھومی تنازع نے زور پکڑنے کے بعد بھارت میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھم نہ سکا۔1990میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم و تشددکو نقطہ عروج پر پہنچا دیا جو 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئیں ان کی دکانیں اور جائیدادیں زبردستی چھین لی گئیں اور مسلمانوں کا سنگینوں اور تلواروں کے ذریعے قتل عام کیا گیا ، جس میں شیو سینا، آر ایس ایس اور بجرنگ دل و دیگر ہندو دہشتگرد تنظیموں کو سرکاری آشیرباد اور پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔

    مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک سازش کے تحت ہندوانتہاپسندوں کے مفروضوں پرمبنی محبت جہاد(love jehad)،، کرونا جہاد اور سول سروسز جہاد ، ریڑھی جہاد، لینڈ جہادتوکبھی گئورکشاکے نام پرمسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں پولیس نے کبھی بھی مسلمانوں کوتحفظ نہیں دیا،ہمیشہ ہی آر ایس ایس اور دیگر ہندوانتہاپسند دہشت گردتنظیموں کی آلہ کاربن کر مسلمانوں پر ظلم وجبر کے علاوہ سیدھی گولیاں مار کر انہیں قتل کرتی رہی ہے ،جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،بھارت میں ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی توکب سے شروع کی ہوئی ہے لیکن اب یہ نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،حکومت کی جانب سے اس نفرت کو عام کیا جارہا ہے،انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں قوانین بنوائے جارہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اب ا دارہ جاتی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور نازی مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں ۔

  • نسلی تعصب پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا ایسیکس کاؤنٹی پر بھاری جرمانہ

    نسلی تعصب پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا ایسیکس کاؤنٹی پر بھاری جرمانہ

    بورڈ میٹنگ کے دوران نسل پرستانہ تبصروں پر ای سی بی نے ایسیکس کاؤبٹی پر بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کرکٹ بورڈ(ای سی بی) نے ایسیکس کاؤنٹی پر 2017 میں بورڈ میٹنگ کے دوران کیے گئے نسل پرستانہ تبصروں پر 50,000 پاؤنڈز جرمانہ عائد کیا ہے۔

    ایسیکس کاؤنٹی کے سابق چیئرمین جان فراغر کو ریمارکس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے اعتراف جرم کرنے سے انکار کردیا۔

    ایسیکس کاؤنٹی کو دو الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ایک سابق چیئرمین فراغر کے نسل پرستانہ ریمارکس کا استعمال کرنے پر اور دوسرے کلب کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات نہ کیے جانے پر۔

    واضح رہے کہ فراغر نے 2021 میں الزامات لگنے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    انگلینڈ کرکٹ میں نسل پرستی ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ اس سے قبل عظیم رفیق کا کیس کافی عرصے تک خبروں میں رہا کیونکہ انہوں نے ڈریسنگ رومز کے اندر ہونے والی نسل پرستانہ کارروائیوں کو بے نقاب کیا تھا۔