Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    آج سیاست میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں مُنہ پھٹ ہیں اور سیاسی بدتمیز ہیں جس سے سیاسی زندگی بدصورت ہو گئی ہے۔ ملکی سیاست نظریاتی لوگوں میں رائج رہی جو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے سیاست کرتے رہے جس طرح روز مرہ کھانے پینے کی چیزوں ادویات میں ملاوٹ ہو چکی ہے اسی طرح آج کی سیاست مین بھی ملاوٹ نمایاں نظر آتی ہے اور سیاست میں ملاوٹ جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہے ۔ اور پھر جس ملک میں اقتدار کا نشہ سر چل کر بولے وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون اور آئین کی بالادستی کیسی ۔ قانون کی حکمرانی صر ف نعروں تک محدود ہو کر رہ جائے ۔ وہاں لینڈ مافیا ۔ قبضہ مافیا کاراج ہوتا ہے جس ملک میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکتوں حکومتوں کی تبدیلی کے فیصلے کریں سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالا دستی کیسی ؟ پھر ایسے میں عوام کی اکثریت صدا بلند کرتی ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ کاروباری فریاد کرتا نظر آتا ہے کہ وہ تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں کاروبار بند ک ارخانے بند ہوتے ہیں دکانوں کے سامنے عوام سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں ۔

    ملک عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج بناد یا گیا مزدور بھوکے مررہے ہیں ۔ بجلی نایاب۔ بجلی ،گیس ،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ۔ تخت نشین عوام کا خون چو رہے ہیں آخر یہ ملک میں کیا ہورہا ہے عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے حکومت کس کی ہے کون چلا رہا ہے کہاں سے فیصلے ہورہے ہیں۔ آج جو کچھ ملک اور عوام کے ساتھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں؟ جس ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے سودے بازیاں ہوں وہاں جمہوریت کیسی ؟اقتدار کے سوداگروں نے ملک اور عوام دونوں کو عالمی دنیا میں بدنام کرکے رکھ دیا آج عالمی دنیا میں ہمارے ملک اور ہماری جمہوریت کا مذا ق اڑایا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ مین توبلدیاتی انتخابات نے ہلا کر رکھ دیا ہے اور الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان ہے جو کچھ بلدیاتی انتخابات میں اور جو نجی ٹیلی ویژن پر دکھایا کیا آمدہ قومی انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے کیا الیکشن کمیشن لااینڈر آرڈر کے ادارے اسی طرح بے بس ہوں گے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟معیشت کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ عوام پر ہر روز مہنگائی کے حملے ہو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی آپس کی لڑائیاں ایک بہت بڑا فریب ہے ۔ آخر کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا۔ کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہا ور ہیرو بن کر مقبول ہونا چاہتا ہے ۔ انہیں عوام کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں۔

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • آزادی صحافت جمہوریت میں ضروری

    آزادی صحافت جمہوریت میں ضروری

    آزادی صحافت جمہوریت میں ضروری
    آزادی صحافت کو ایک لبرل اور جمہوری ریاست کا ایک لازمی جزو اور چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے جسے تقریباً تمام آزاد ریاستیں آئینی طور پر تحفظ دیتی ہیں۔جمہوریت کا ایک ستون ہونے کے ناطے، پریس کو منصفانہ، غیر جانبدار ہونا چاہیے اور بغیر کسی خوف کے حقائق فراہم کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے، میڈیا کو معلومات فراہم کرنے کے لیے اپنے ہی کام کے لیے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں صحافت کی آزادی خراب ہو رہی ہے۔ دنیا کی کچھ بااثر جمہوریتوں میں، لیڈروں نے میڈیا کے شعبے کی آزادی کو سلب کرنے کی ٹھوس کوششوں کی نگرانی کی ہے۔ جمہوری ریاستوں میں آزادی صحافت پر حملہ تشویشناک ہے۔

    بھارت ایک سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کے ناطے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں کا استعمال کر رہا ہے۔ 2019 میں جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختاری کو منسوخ کر دیا، کشمیر کو سخت سیکورٹی اور مواصلاتی لاک ڈاؤن کے تحت اور میڈیا کو بلیک ہول میں ڈالنے کے بعد میڈیا والوں کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم، بھارت کشمیری صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق کو دنیا سے چھپانے کے لیے نشانہ بنا رہا ہے۔ صحافیوں نے طویل عرصے سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف خطرات کا مقابلہ کیا ہے ۔لیکن ایک سال بعد ان کی صورتحال ڈرامائی طور پر بدتر ہو گئی ہے، حکومت کی نئی میڈیا پالیسی نے آزادانہ رپورٹنگ کی مذمت کے لیے پریس کو زیادہ مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، پوچھ گچھ اور تفتیش کی گئی۔

    بھارت میں پریس کی آزادی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے۔بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت کی قیادت میں، 2014 میں جب سے وہ پہلی بار منتخب ہوئے تھے، ہندوستان میں پریس کی آزادی بتدریج ختم ہو گئی ہے۔ مودی کے آٹھ سال بعد آزادی صحافت پر مسلسل حملوں کی وجہ سے ہندوستان کی جمہوریت کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت نے 2020 میں نام نہاد میڈیا پالیسی متعارف کرانے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزاد صحافت کو تقریباً نا ممکن بنا دیا ہے۔لہذا، ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 19(1)(a) کہتا ہے کہ تمام شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے ۔لیکن بھارت میں اظہار رائے کی آزادی مطلق ہے۔ بھارت نہ صرف اپنے آئین بلکہ آزادی اظہار کے بین الاقوامی کنونشنز جیسے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے آرٹیکل 19 اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 19 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔

    میڈیا کی حفاظت خطرے میں پڑ گئی ہے اور جیسے جیسے آزادی اظہار کی جگہ سکڑ رہی ہے، آن لائن اور روایتی میڈیا دونوں میں، صحافی اس ماحول کو اپنانے پر مجبور ہیں۔ میڈیا کے خلاف جرائم کے لیے احتساب کا فقدان، مواد کی نگرانی کے لیے قوانین بنانے کے نئے محاذ اور اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے جارحانہ طریقے خوف اور سنسرشپ کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے اور بھارت میں آزاد میڈیا کو بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ہندوستان پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ملک میں میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے دے کیونکہ جمہوریت صرف آزاد، غیر جانبدار اور آزاد میڈیا سے ہی فروغ ملتا ہے۔

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • آزادی صحافت پر حملہ

    آزادی صحافت پر حملہ

    آزادی صحافت پر حملہ

    کشمیری بھارتی جبر کا شکار ہیں جبکہ دنیا خاموش ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ایسے ایسے سانحات ہوئے کہ انسانیت بھی شرما گئی لیکن عالمی ضمیر بیدار نہ ہوسکا۔ اگست 2019 سے مقبوضہ علاقوں میں لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے۔ ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور بازار ایک سال سے زائد عرصے سے بند تھے جبکہ ہر طرف کرفیو نافذ تھا۔ شہری بنیادی سہولیات کے لیے سسکیاں لیتے رہے لیکن کوئی نرمی نہیں دکھائی گئی۔ کورونا کی عالمی وبا کے دوران بھی کشمیری ادویات اور ویکسین کے لیے ترستے رہے لیکن مودی سرکار کی بے حسی برقرار رہی۔لاکھوں کشمیری آبادی کے لیے چند وینٹی لیٹر تھے۔ تاہم مودی سرکار کی بربریت کم نہیں ہوئی۔ بھارت کی حکمران فاشسٹ جماعت بی جے پی مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہی ہے ۔ مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لیے خاص طور پر مسلم آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اب مقبوضہ کشمیر واحد ریاست ہے جہاں مسلمان اب بھی اکثریت میں ہیں۔فاشسٹ مودی سرکار کے حالیہ اقدام پر نظر ڈالی جائے تو آزادی صحافت پر حملہ ہوا ہے، کشمیر پریس کلب کو بند کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے کلب کو اپنی تحویل میں لے کراس کو تالہ لگا دیا ہے۔ تین بڑے کشمیری اخبارات کے اشتہارات بلاک کر دیے گئے ہیں۔گزشتہ تین سالوں میں درجنوں صحافیوں کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے ہراساں کیا ہے۔ ڈیوٹی کے دوران چھ صحافی جان کی بازی ہار گئے جبکہ چھ میڈیا اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ کشمیر کے صحافیوں کو ریاستی ایجنسیوں کی طرف سے اکثر سزائیں دی جاتی ہیں اور اس گھناؤنی جبر کی وجہ سے، انہوں نے طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں مختلف خطرات کا مقابلہ کیا اور خود کو متحارب فریقوں کے درمیان پایا۔ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق ہندوستان 142 ویں نمبر پر ہے جب کہ یہ 2016 میں 133 سے مسلسل نیچے آ گیا تھا۔ ہندوستان کو صحافت کے لیے "برے” سمجھے جانے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے اور صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل ہے۔

    ہندوستان کے پڑوسیوں میں، نیپال 106 پر ہے، سری لنکا 127 پر ہے، اور میانمار، فوجی بغاوت سے پہلے 140 پر ہے۔ صحافت کے لیے اور صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک میں ہندوستان کو "خراب” قرار دینے کی واحد وجہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی اور ہندوتوا نظریہ ہے جس نے صحافیوں کے لیے خوف کا ماحول پیدا کیا جو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انھیں "ملک دشمن” قرار دیتے ہیں۔ یا "مخالف ریاست”۔جس نے اپنا 2021 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس شائع کیا ہے کہ صحافیوں کو "ہر قسم کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بشمول نامہ نگاروں کے خلاف پولیس تشدد، سیاسی کارکنوں کی طرف سے گھات لگانا، اور مجرمانہ گروہوں یا بدعنوان مقامی اہلکاروں کی طرف سے انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ہندوستانی جو ہندوتوا کی حمایت کرتے ہیں، وہ نظریہ جس نے ہندو قوم پرستی کو جنم دیا، عوامی بحث سے ’ملک دشمن‘ سوچ کے تمام مظاہر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل نیٹ ورکس پر ان صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جاتی ہے جو ہندوتوا کے پیروکاروں کو ناراض کرنے والے موضوعات کے بارے میں بولنے یا لکھنے کی ہمت کرتے ہیں اور ان میں متعلقہ صحافیوں کو قتل کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں خاص طور پر اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ہندوستانی حکومت 2020 نے پریس کی آزادی کو دبانے کے لیے کرونا وائرس جیسی وبائی بیماری کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ کشمیر کی صورتحال اب بھی بہت تشویشناک ہے، کیوں کہ صحافیوں کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا رہا، جو کہ اس کے بقول "مکمل طور پر اورویلین مواد کے ضوابط کی وجہ سے ہے۔کولمبیا جرنلزم ریویو میگزین کے مطابق، بھارتی حکومت نے ٹویٹر سے کہا کہ وہ 2020 میں تقریباً 10,000 ٹویٹس کو ہٹائے جو کہ پچھلے دنوں میں 1200 کے مقابلے میں تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت بھارت اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے۔ مظلوم کشمیریوں کا کوئی سوال نہیں، کوئی سننے والا نہیں۔ ظلم کا یہ سلسلہ 1947 سے جاری ہے۔کشمیریوں کو صرف اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے ہر غم اور خوشی میں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اب دنیا کو کشمیریوں کو ان کا حق دینا ہوگا۔ ریفرنڈم کے وعدے کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ متنازعہ نئے شہریت قوانین کی آڑ میں غیر کشمیریوں کو کشمیر ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں۔ متنازعہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنا جنیوا کنونشنز کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے۔مقبوضہ علاقوں میں کرفیو کا نفاذ، انٹرنیٹ، فون، کیبل اور مواصلات کے دیگر ذرائع کو بند کرنا انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماورائے عدالت قتل، نوجوانوں کے اغوا اور قتل، لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی اور بوڑھوں کے خلاف تشدد ہندوستانی جمہوریت کا منہ کالا کرنے کے مترادف ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ ہندوتوا اور انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار کرنے والی ریاست ہے جہاں اقلیتوں اور مخالفین کی منظم نسل کشی کی جارہی ہے۔ کیا دنیا صرف دکھاوا کر سکتی ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا؟ ڈاکٹر گریگوری سٹینٹن کہتے ہیں کہ 1989 میں روانڈا میں ایسا ہی ہوا تھا۔ نسل کشی جو شروع ہوئی، اور نفرت انگیز تقریریں ہوئیں، یہ سب ابتدائی نشانیاں تھیں، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، کشمیر میں خونریزی ہو رہی ہے اور بھارتی عزائم اور اقدامات واضح طور پر ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔ امن اور انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس انسانی بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک متحد اور مربوط محاذ قائم کرے۔

  • بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟

    بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟
    صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خآن نے عثمان بزدار کو اپنا وسیم اکرام پلس کہا اور صوبہ پنجاب کو ایک ایسے انسان کے حوالے کر دیا جس کو صرف فائلیں پڑھنے پڑھانے کے لیے بھی ملازم چاہیے تھا، انتہائی کمزور انتظامییہ اور کمزور ریاستی رٹ نے صوبہ بھر کی عوام کو ہر وقت اضطراب میں رکھا حتی کہ عمران ریاض خان جیسے پرو پی ٹی آئی صحافیوں نے بھی مختلف موقعوں پرعثمان بزدار کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے لائے جس میں مانیکا خآندان کے کرتوت شامل تھے لیکن عمران خان اپنی ضد پر قائم رہے اور یوں آہستہ آہستہ عمران خان کے اتحادی ساتھ چھوڑنے لگے جس کے نتیجے میں پنجاب بھی نون لیگ عمران خان سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

    پنجاب میں ضمنی الیکشن کی آمد آمد ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہیں تو دوسری طرف تحریک لبیک اچھا خآصآ ووٹ بینک لینے والی ہے ان حالات میں پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات میں سیٹیں نکالنا مشکل ہو چکا ہے تو اب کھل کر آئی ایس آئی کے آفیسرز پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے اگر واقعی کوئی ثبوت ہیں تو عدالت جائیں اور کیس کریں لیکن اس طرح اپنے اداروں پر الزامات لگانا وہ بھی ثبوتوں کے بغیر سمجھ سے باہر ہے۔

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    پنجاب کی ناراض عوام کے غصے کو چھپانے کے لیے پی ٹی آئی لیڈران اداروں کے خلاف مہم چلا کراپنی نااہلی کو چھپانا چاہتے ہیں لیکن عوام سمجھ چکی ہے کہ کھوکھلے نعروں کے پیچھے چھپ کر اداروں پر حملے کرنے والوں کے پاس ادنی سا بھی ثبوت ہوتا تو عدالت پہنچ چکے ہوتے۔ کب تک پاکستان میں ایسے چلتا رہے گا کہ جب تک حکومت نہ ملے دھاندلی اور مل جائے تو ادارے اچھے، عمران خان جو یوٹرن خان بھی ہیں ،اپنے مفادات کے لئے ملکی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانا چاہتے ہیں، عمران خان صاحب ملک ہے تو آپ ہین، خدارا ہوش کریں، ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے قبل اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی پارٹی کے اندر جھاڑو پھیریں، لوٹوں کو ملا کر حکومت بنائی تھی وہ لوٹے چلے گئے تو اس میں اداروں کا کیا قصورہے، اسوقت لوٹے نہ لیتے اپنی پارٹی میں اور سادہ اکثریت نہیں تھی تو حکومت نہ بناتے

  • پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام سنتے آئے اور اب شیر آیا شیر آیا کے مصداق ملک واقعی اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ایک ہم اور ہمارے حکمرانوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی عملی اقدامات اٹھائے؟ کیا حکمرانوں ، اعلیٰ بیورو کریسی کے افسران، اعلیٰ اور نچلے درجے کے پولیس افسران ، سول انتظامیہ کے افسران ، ریونیو کے افسران، نے کرپشن سے توبہ کر لی؟ کیا ملک کی بڑی مچھیلوں نے رضاکارانہ طور پر زیادہ ٹیکس دینے کا اظہار کیا؟ کیا ملک میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران نے اپنی ضرورت سے زیادہ تنخواہ کم لینے کے جذبے کا اظہار کیا؟ کیا ہم نے گھاس کھا کر وطن کی آن بچانے کا عہد کیا؟

    ان تمام سوالات کا جواب اگر نہیں میں ہے تو ہم جس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں وہ ایک بھیانک انجام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ء کے عرصے میں جب یورپ میں معاشی بحران آیا تو جرمنی کے تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کو درخواست کی کہ ان پر ٹیکس زیادہ لگایا جائے حال ہی میں کینیڈا میں ایک شعبے کے ملازمین نے حکومت سے استدعا کی کہ ان کی تنخواہیں ان کی ضروریات سے زیادہ ہیں کم کی جائیں آج ملک میں کروڑوں کے پلاٹس، لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے موجود ہیں اعلیٰ انتظامی اور تکنیکی پوسٹوں پر سفارشی بنیادوں پر تعینات کئے جا رہے ہیں وزارتوں اسمبلیوں میں اور تکنیکی شعبوں میں محکمہ انکم ٹیکس و مالیات میں کرپٹ رشتہ داروں کو کھپایا جاتا ہے اور رونا رو رہے ہیں کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں اعلیٰ سیاستدانوں ، حکمرانوں ، مقتدر عہدوں پر فائز افسران سے لے کر تمام دفاتر میں براجمان چھوٹے بڑے ملازمین تک اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاکر حلف برداریاں آن ریکارڈ کریں کہ وہ بابائے قوم کے اقوال کے مطابق حقیقی طور پر ملک و قوم سے وفادار رہیں گے اور کوئی کرپشن ، اقربا پروری، سفارش نہیں کریں گے اور اس کے بعد آئی ایس آئی اور آئی بی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے تمام وزراء، مشیران، سول و ملٹری افسران کی کڑی نگرانی کی جائے اور ملکی مفاد کیخلاف کام کرنے کے مرتکب عہدیداروں کے لئے سخت سزائیں دی جائیں ایسا نظام لایا جائے تاکہ کوئی بھی پاکستان کے ستقبل سے کیلنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں اس کارخیر میں سب کا کردار ہے۔

  • وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کے لوگ اپنے قدرتی حسن، مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش لوگ خوشی کے ساتھ ساتھ غمی پر بھی اپنی مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اخروٹ والی روٹی بناکر فوتگی والے گھر بھجواتے ہیں اور اسی طرح خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ تفصیل کیلئے چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل ہے۔چیمبر آف کامرس

    بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل ہے۔چیمبر آف کامرس

    ڈیرہ غازیخان ۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈی جی خان کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ، نیپرا کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کومسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل قرار دے دیا ،بجلی پٹرول اور LPGکی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آفس کی قطعہ اراضی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان، ڈیر ہ غازیخان میں ایف بی آر کا آر ٹی او آفس اور کلکٹر کسٹم کا آفس فوری طور پر قائم کر نے کا اعلیٰ حکام سے مطالبہ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ تفصیلات کے مطابق چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈیرہ غازیخان کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اجلاس صدر چیمبرڈاکٹر محمد شفیق خان کی زیرِصدارت منعقد ہوا جس میں سینئرنائب سردار شہباز علی خان نصوحہ ، نائب صدرسردار خلیل احمد خان علیانی سابق صدور خواجہ محمد یونس ،سردار ذوالفقار علی خان نصوحہ، سابق سینئر نائب صدور محمد لطیف خان پتافی ،شیخ محمد طارق اسماعیل قریشی ، شیخ محمد زاہد نظام ، سابق نائب صدر مرزا محمد ظفر اقبال ممبران ایگزیکٹوکمیٹی ،سینئر ممبران چیمبر، سیکریٹری جنرل چیمبر محمد مجاہدملک کے علاوہ دیگر ٹریڈرز ایسو سی ایشن کے نمائندگان اور مرکزی انجمن تاجران کے سٹی اور ضلعی عہدیدارن و صدور نے شرکت کی اجلاس میں گذشتہ روز حکومت کی طرف سے نیپرا کے ذریعے بجلی اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل قرار دیتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا،اجلاس میں ممبر ایگزیکٹو کمیٹی عبدالکریم خان کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرا چیمبر آف کامرس کی توسط سے حکومت پاکستان،وزیراعظم پاکستان اورFBRکے اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ ڈیرہ غازیخان میں FBRاپنا RTOآفس قائم کرے جہاں FBRبڑی کمپنیوںاور بڑے اداروں کو درپیش مسائل حل کرے ان بڑے اداروں کے انکم ٹیکس کے گوشوارے ،ان کے ری فنڈ کے کیس دیگر اپیل کی سماعت اور فیصلے کرنے کیلئے فی الفور اپنا RTOآفس ڈیرہ غازیخان میں قائم کرے کیونکہ یہاں کی کاروباری برادری اور بڑی کمپنیوں اور اداروں کو ملتان جانا پڑتا ہے جس سے ان کا ایک تو وقت کا ضیا ع ہو تا ہے اور مزید کئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے ڈیرہ غازیخان میںRTO قائم ہونے سے ہماری آمدنی کا ٹیکس جو ایف بی آر ملتان میں جمع ہوتا ہے اس کا شماربھی ڈیرہ غازیخان میں ہو گا اور اس سے جو سہولیات اور مراعات حاصل ہوں گی ان کا ریلیف بھی ڈیرہ غازیخان کے تاجروں اور بڑی کمپنیوں کوحاصل ہوگااس سے ان کو وقتی پریشانیوں سے نجات مل جائے گی اور اس سے علاقے کی عوام کو فائدہ حاصل ہوگا۔ نیز انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ڈیرہ غازیخان کلکٹر کسٹم کا آفس بھی ڈیرہ غازیخان میں قائم کیا جائے کیونکہ ڈیرہ غازیخان بلوچستان کے بارڈر پر واقع ہے یہاں سے غیرملکی گاڑیو ں کا گزر اور دیگر مصنوعات کا بھی گز ر ہوتا ہے اگر یہاں کلکٹر آفس قائم کیا جائے اس ملک کی کسٹم آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہواور لوگوں کو ملتان کی بجائے ڈیرہ غازیخان میں یہ سہولیات میسر آئیں گی اس پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پاکستان ، وزیراعظم پاکستان اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈیر ہ غازیخان میں ایف بی آر کا آر ٹی او آفس اور کلکٹر کسٹم کا آفس فوری طور پر قائم کیا جائے ۔اجلاس میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آفس کی قطعہ اراضی کے لئے صدر چیمبر ڈاکٹر محمد شفیق خان پتافی نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیایہ کمیٹی سردار ذوالفقار علی خان نصوحہ سابق صدر و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹیز کی قیادت میں باہمی مشاورت سے کام کرے گی اس کمیٹی کاکام چیمبر آفس کی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے پرائیویٹ رقبہ کی شہر کے اندر یا شہرکے قریب ترین مقامات پر نشاندہی کرے گی اوراس کی قیمت کے بارے میں رپورٹ مرتب کرے گی جس کی روشنی میں ایگزیکٹو کمیٹی اپنی اگلی میٹنگ میں رقبہ کی خریداری کے لئے فیصلہ کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرے گی اجلاس میں ڈیرہ غازیخان میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے بارے میں غور کیا گیا ڈیرہ غازیخان میں چیمبر کی طرف سے ٹیکس فری انڈسٹریل زون اور انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کے بارے میں حکومت سے مطالبہ کیا کیونکہ کو ئٹہ روڈپر حکومت پنجاب کا وسیع رقبہ موجود ہے اور پچھلے دور حکومت میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کیلئے رقبہ ڈکلیئراور مختص کیاجاچکاتھا اس پر کام شروع کیا جائے حکومت وہاں انڈسٹری کے قیام کیلئے خصوصی مراعات اعلان کرے اور کم از کم دس سال کیلئے ٹیکس ہالیڈے کا علان کرے ۔اجلاس کے آخر میں چیمبر کی رکنیت کیلئے موصول ہونے والی نئی دس ممبر شپ درخواستوں کی منظور ی بھی دی گئی جوکہ چیمبر کے قواعد وضوابط کے مطابق ہر لحاظ سے مکمل تھیںاجلاس میں تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی گئی اور یکم جولائی سے کاروبارکی بندش کے اوقات کار کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

  • ایشیا کپ 2023 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

    ایشیا کپ 2023 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

    ایشیا کپ 2023 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کیلئے ایک خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کو ساؤتھ ایشین گیمز 2023 کی میزبانی مل گئی۔اس حوالے سے آنے والے سال کے آخری مہینوں اكتوبر اور نومبر میں مختلف شہروں میں ایونٹ کا انعقاد کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا جاتا ہے کہ ورچوئل اجلاس میں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کو دینے کا اصولی فیصلہ ساؤتھ ایشیا اولمپک کمیٹی نے کر لیا ہے۔

    اس حوالے سے ایک اور اہم خبر سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ ٹورنامنٹ کے میچز کے لیے کچھ شہروں کو بطور وینیو منظور کر لیا گیا ہے۔ ان شہروں میں اسلام آباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور ان تمام شہروں کو ٹورنامنٹ کیلئے بطور وینیو شامل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس یونٹ میم صرف ایک ہی کھیل نہیں کھیلا جائے گا۔ بلکے کھیلوں کا باقاعدہ طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔ اور 20 سے زیادہ کھیلوں کا انعقاد کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا۔