Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں  ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کامریڈ میدان جمہوریت میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کہتے ہیں کہ لالچ بری بلا ہے اور ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ایک اور بات بہت مشہور ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ایک معروف قصہ ہے کہ ایک حاجی صاحب کی دکان کے ساتھ والی کامریڈ صاحب کی دکان خوب چلتی تھی سارا دن رش رہتا اور ساتھ کی دکان والا کامریڈ خوب پیسہ کماتا جس سے حاجی صاحب نے بھی شارٹ کٹ مار کر پیسے حاصل کرنے کا سوچا-

    حاجی صاحب نے بات سن رکھی تھی کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے حاجی صاحب نے بھی تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن کامریڈ صاحب کی دکان پر گیا اور بولا کامریڈ صاحب سنا ہے پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے اور میں اس بات کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں سو مجھے اپنے گلے تک رسائی دیجئے-

    کامریڈ نے کہا حاجی صاحب سو بار کیجئے ہم بھی دیکھ لیں گے کہ کامیابی کیسے اور کتنے پیسے والے کی ہوتی ہے حاجی صاحب نے ایک چھوٹا سا سکہ جیب سے نکالا اور گلے میں بنے سکے ڈالنے والے سوراخ کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا مگر فضول کوئی ردعمل نا ہوا اور کامریڈ کا کوئی پیسہ حاجی صاحب کے پیسے کو نا چمٹا –

    خیر حاجی صاحب نے ہمت نا ہاری اور دوبارہ عمل شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب کا اپنا سکہ بھی سوراخ سے کامریڈ کے گلے میں گر گیا یہ دیکھ کر کامریڈ نے تالی ماری اور بولا واقعی جناب آپ نے سچ ہی سنا تھا کہ پیسے کو پیسہ ہی کھینچتا ہے مبارک ہو آپ کا تجربہ کامیاب رہا ہے-

    یہ سن کر حاجی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور مارے غصے سے چلانے لگے او نامراد غلط تجربہ ہوا ہے میرا تو اپنا بھی چلا گیا اب میں کیا کروں گا میرے پاس تو یہی ایک سکہ تھا جبکہ تمہارا تو گلا پیسوں سے بھرا ہوا ہے-

    اس بات پر کامریڈ مسکرایا اور بولا حاجی صاحب آپ نے دیہان نہیں دیا کہ زیادہ طاقت کم طاقت کو کھا جاتی ہے اسی طرح زیادہ پیسہ کم پیسوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور میرے گلے میں زیادہ پیسے تھے اور آپ کے پاس محض ایک سکہ آپ نے ایک معمولی طاقت سے میری زیادہ طاقت کو کھینچنے کی کوشش کی تھی اور لالچ میں اپنی طاقت بھی ضائع کروالی اب فرمائیں کہ سکون ہے آپ کو تجربے سے-

    کامریڈ حاجی صاحب سے مخاطب ہوا کہ آپ کو چائیے تھا کہ اس بات کو ذہن نشین رکھتے کہ پیسے کو پیسہ اس صورت کھینچتا ہے جب اس کا استعمال کرکے اس سے کاروبار کیا جائے مگر آپ نے لالچ میں آکر غلط رنگ کو اپنایا سو اب آپ اپنی بھی طاقت کھو بیٹھے ہیں-

    قارئین بلکل اسی حاجی صاحب کی طرح ہماری کچھ سیاسی جماعتیں بہت سے اسلامی نظریات کا نعرہ لگا کر میدان میں أتی ہیں کارکنان بھی بڑے پرجوش ہوتے ہیں کہ چلو کسی نے اسلام کی بات کی سو اس بار ووٹ ان کا پکا لیکن پھر وہی لالچ اور ہوس کہ جلد شہرت، اقتدار اور کرسی حاصل کرنے کیلئے کسی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہی حاجی صاحب والا طریقہ اپنا کر اپنی طاقت بھی ضائع کر بیٹھتی ہیں-

    ان کا مقصد ہوتا ہے کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی تعریفیں کرکے اپنے کارکنان تک اس جماعت کی حمایت کا پیغام پہنچانا اور بالآخر الیکشن کے بعد اپنے کارکنان بھی اس حاجی صاحب کی طرح کامریڈ کی جماعت میں پھینک چھوڑتی ہیں-

    حالانکہ کہ ہونا تو یہ چائیے کہ اپنی سیاست کی جائے اور آہستہ آہستہ اپنے نظریات کو اپنے کارکنان تک پہنچا کر کارکنان کو اس رنگ میں رنگا جائے اور پھر چند سالوں بعد مطلوبہ اقتداری ہدف حاصل کیا جائے مگر جلد بازی و لالچ میں غلط راستے کا انتخاب کرکے وہ جماعتیں آخر ختم ہی ہو جاتی ہیں اور کارکنان پہلے سے بنی بڑی اور مضبوط جماعت کی آواز بن کر اس کی أواز و نظریات کو بول جاتے ہیں-

  • وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس
    انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورحکم دیا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے،گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے، و زیراعلی پنجاب حمزہ شہبازنے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں ،انہوں مزیدکہا کہ ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا کا حقدار ہے، یاد رہے کہ جام پور میں بس کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ،متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں۔
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میںاکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ گئی کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔

  • جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ، متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میں اکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟

  • واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے مزید نئے فیچر پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہلوت اور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلیکیشن نے اپنے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی ہے۔


    واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    رپورٹ کے مطابق یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔


    اس کے علاوہ واٹس ایپ ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی مزید بہتری کے لیے بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو مستقبل میں گروپس میں کسی بھی پیغام کو حذف کرنے کے اہل ہوں گے۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں گروپس چیٹ کے حوالے سے چند نئے فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے ان فیچرز سے واٹس ایپ میں کسی گروپ کال کے حوالے سے صارف کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے ان فیچرز کی تفصیلات ایک ٹوئٹ میں شیئر کیں انہوں نے بتایا تھا کہ اب گروپ کال کے دوران اگر کوئی فرد اپنا مائیک میوٹ کرنا بھول جائے تو ہوسٹ یا کال میں شامل کوئی بھی فرد اسے میوٹ کرسکے گا تاکہ بات چیت متاثر نہ ہو۔


    اسی طرح گروپ کال میں اگر کوئی نیا فرد شامل ہوگا تو واٹس ایپ کی جانب سے الرٹ بھیجا جائے گا تاکہ ہر ایک کو اس کا علم ہوسکے ایک گروپ کال میں 32 افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے اسی طرح کال کے دوران مخصوص افراد کو میسجز بھیجنا بھی اب ممکن ہوگا۔

    ان نئے فیچرز سے واٹس ایپ زوم، گوگل میٹ اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کا ایک اچھا متبادل ثابت ہوگا جبکہ قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ اراکین کی تعداد کو 256 سے بڑھا کر 512 کر دیا تھا۔

  • ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے ،دوروزسے ٹریفک بند،گاڑیوں کی لمبی لائنیں ۔
    باغی ٹی وی ۔ہنزہ قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل کو مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کیلئے گذشتہ دو روزسے احتجاجی کیمپ لگاکربند کیا ہواہے،جس سے وہاں گئے ہوئے سیاح پھنس گئے ہیں اورانہیں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ،دو روز سے ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔


    روزگذرنے کے باوجود گلگت بلتستان اورہنزہ انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا،پھنسے ہوئے سیاحوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے فوری طورپرٹریفک بحال کرائی جائے۔

  • چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    آج تک بندروں اور چوہوں کو چیزیں چراتے اور لے کر بھاگتے دیکھا ہے لیکن ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جسے دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کیوں کہ اس مرتبہ بندر اور چوہے نہیں بلکہ چیونٹیاں سونے کی چین لے کر فرار ہور ہی ہیں-

    باغی ٹی وی : سونے کی چین کا کو چراتی ہوئی چیونٹوں کے اس قافلے کو عین موقع پر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔


    ویڈیو انڈین فاریسٹ سروس کے ملازم سوسانتا نندا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ سونے کے چھوٹے اسمگلر، آئی پی سی کے کس سیکشن کے تحت انہیں پکڑا جاسکتا ہے؟-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور دلچسپ کمنٹس کر رہے ہیں-

    قبل ازیں انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں نامعلوم چوہوں کے ایک گروہ نے 5 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری کرلیا تھا تاہم پولیس نے چوری شدہ سونا برآمد کر لیا تھا ممبئی پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ چوہے سونے کے ایک تھیلے کو گھسیٹ کر ایک گٹر میں لے گئے اور ان کی اس حرکت کا راز دو دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد فاش ہوا تھا

    سندری پالنیول نامی خاتون سونے کا ایک تھیلا لے کر بینک کے لاکر میں جمع کرانے جا رہی تھیں۔ اسی تھیلے میں انہوں نے وڈا پاؤ بھی رکھا تھا جو انہوں نے سڑک پر موجود کچھ بھکاریوں کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن غلطی سے کھانے کے بیگ کے ساتھ سونے کے زیورات بھی دے دیئے دو منٹ میں ایک بس آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئیں پھر احساس ہوا کہ ان کا پرس نہیں ہے، تب انہیں یاد آیا کہ یہ وڈا پاؤ کے ساتھ چلا گیا ہوگا۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    لیکن جب سندری پالنیوال جلدی سے واپس آئیں تو وہ بچے وہاں نہیں تھے تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ بچوں نے وہ بیگ پھینک دیا تھا جسے چوہے موقع ملتے ہی گھسیٹ کر گٹر کے اندر لے گئےپولیس نے بتایا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ چوہے بیگ کو گٹر لائن میں لے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے گٹر کی پوری لائن کو سکین کیا تو وہ پرس گٹر لائن میں پڑا ہوا مل گیا۔

    میکسیکو میں مئیر کی مادہ مگرمچھ سے شادی،تصاویر وائرل

  • ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    شکاگو: سائنس دانوں نے90 فیصد درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی سائنس” کے مطابق امریکا کی شیکاگو یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل ماضی کے جرم کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1000 مربع فٹ کے رقبے میں جرائم کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکا کے آٹھ بڑے شہروں میں آزمائی گئی جن میں شیکاگو، لاس اینجلس اور فلیڈیلفیا شامل ہیں۔

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت میں پیشرفت نے حکومتوں کی دلچسپی کو جنم دیا ہے جو جرائم کی روک تھام کے لیے پیشین گوئی کرنے والی پولیسنگ کے لیے ان ٹولز کو استعمال کرنا چاہیں گی۔ جرم کی پیشن گوئی کی ابتدائی کوششیں متنازعہ رہی ہیں، تاہم، کیونکہ وہ پولیس کے نفاذ میں نظامی تعصبات اور جرائم اور معاشرے کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

    شکاگو یونیورسٹی کے ڈیٹا اور سماجی سائنسدانوں نے ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے جو پرتشدد اور املاک کے جرائم پر عوامی ڈیٹا سے وقت اور جغرافیائی مقامات کے نمونوں کو سیکھ کر جرائم کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ماڈل تقریباً 90% درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے مستقبل کے جرائم کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    ایک الگ ماڈل میں، تحقیقاتی ٹیم نے واقعات کے بعد گرفتاریوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے اور مختلف سماجی اقتصادی حیثیت کے ساتھ محلوں کے درمیان ان شرحوں کا موازنہ کرکے جرائم کے خلاف پولیس کے ردعمل کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ امیر علاقوں میں جرائم کے نتیجے میں زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ پسماندہ علاقوں میں گرفتاریاں کم ہوئیں۔ غریب محلوں میں جرم زیادہ گرفتاریوں کا باعث نہیں بنتا، تاہم، پولیس کے ردعمل اور نفاذ میں تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔

    یونیورسٹی آف شیکاگو کے پروفیسر اِشانو کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے شہری ماحول کا ایک ڈیجیٹل جڑواں بنایا ہے۔ اگر اس میں ماضی میں ہونے والے وقوعات کا ڈیٹا ڈالا جائے تو یہ آپ کو بتادے گا کہ مستبقل میں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ جادوئی نہیں ہے، اس کی حدود ہیں تاہم سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کردی ہے۔

    یہ آلہ 2002 کی فل مائناریٹی رپورٹ میں دِکھائی گئی ایک ٹکنالوجی کی یاد تازہ کرتا ہے، ایسی ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی جاپان میں شہریوں کو ان علاقوں کے متعلق بتانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے جہاں جرائم کا تناسب زیادہ ہے۔

    تازہ ترین تحقیق کی تفصیلات سائنسی جرنل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع کی گئیں ہیں۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

  • امن مذاکرات کے سامنے ہی آ سکتا ہے

    امن مذاکرات کے سامنے ہی آ سکتا ہے

    جنوبی ایشیا آٹھ ریاستوں پر مشتمل ہے جن میں دو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں اور بڑے فریق بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ دو پڑوسی ریاستوں کے درمیان بہت سے مسائل اور وجوہات کی بنا پر کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے اور تنازعہ کشمیر ان میں سے ایک ہے۔یہ تنازعہ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تین میں سے دو بڑی جنگوں اور متعدد جھڑپوں کا سبب بنا ہے۔

    خشکی سے گھرا ہوا کشمیر کا علاقہ برصغیر پاک و ہند کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ کشمیر کو دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ شمال مشرق میں (چین کے دونوں حصے) سنکیانگ اور تبت کے اویگور خود مختار علاقے سے گھرا ہوا ہے، جنوب میں ہندوستان کی ریاستوں ہماچل پردیش اور پنجاب سے متصل ہے۔ شمال مغرب میں افغانستان اور مغرب میں پاکستان ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ بن گیا۔کشمیر کو اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد سے، یہ علاقہ ہندوستان کی ظالم حکمرانی میں جنت کا درجہ کھو چکا ہے۔

    تاریخی طور پر، 27 اکتوبر 1947 کو، ہندوستانی حکومت نے برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کو عملی طور پر مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ضم کر دیا۔ تقسیم کے فارمولے میں ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ یا تو پاکستان، ہندوستان میں شامل ہو جائیں یا آزاد رہیں۔کشمیری آبادی اور ان کی حقیقی قیادت، مثال کے طور پر سردار محمد ابراہیم خان، موجودہ مذہبی، ثقافتی، اقتصادی اور جغرافیائی لحاظ کے پیش نظر پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے تھے۔ تاہم بھارت نے ہندو مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط شدہ الحاق کے کے بہانے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا۔لہٰذا، ہندوستانی فوج کی غیر قانونی مداخلت اور پیش قدمی کو روکنے کے لیے، پاکستان نے بھی کشمیر میں فوجیں بھیجیں اور وسیع علاقے کو آزاد کرایا جسے اب آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1948/1949 میں قراردادیں منظور کیں، جن میں کہا گیا کہ اس کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کا انعقاد کیا جائے تاکہ جموں و کشمیر کے لوگ حق خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔لیکن بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے جو انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق دیا گیا تھا۔ بنیادی طور پر بھارت کی کشمیر پالیسی پوری تاریخ میں یکساں رہی۔ تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بینر تلے ہندو قوم پرستوں نے زیادہ بے رحمانہ قتل و غارت کی اور منظم نسل کشی میں ملوث رہے۔تاہم، 5 اگست 2019 کو، مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نہ صرف آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت مقامی مقننہ مالیات، دفاع، خارجہ امور، اور مواصلات کے علاوہ اپنے قوانین بنا سکتی ہے، بلکہ اس نے آرٹیکل 35A کو بھی منسوخ کر دیا۔ ، جس نے قانون ساز اسمبلی کو مستقل رہائشیوں کی تعریف کرنے اور انہیں خصوصی مراعات پیش کرنے کا اختیار دیا جیسے زمین کے خصوصی حقوق۔مودی نے سابقہ ​​ریاست جموں، کشمیر اور لداخ کے تین مختلف ڈویژنوں کو بھی دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔اس کے بعد، ان تبدیلیوں کا ہندوستانیوں نے خیرمقدم کیا جنہوں نے کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کے طور پر دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کے ساتھ خصوصی نہیں بلکہ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ تاہم کشمیریوں نے اسے وادی کی آبادی کو مسلم اکثریت سے غیر کشمیری اور غیر مسلم میں تبدیل کرنے کے خطرے کے طور محسوس کیا۔بی جے پی وہیں نہیں رکی۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ فیصلہ کشمیری عوام کی طرف سے شدید ردعمل کا باعث بنے گا، مودی حکومت نے 180,000 تازہ فوجیوں کو کشمیر روانہ کیا۔ یہ فوجی وہاں پہلے سے تعینات 700,000 فوجیوں کے علاوہ تھے۔ کرفیو نافذ کر دیا گیا اور ہر قسم کے مواصلات کا مکمل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا جو 6 ماہ کے وقفے کے بعد جاری رہا اور بعد میں کوویڈ 19 کا بہانہ بنا کر جاری رہا

    مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ اس لیے جنوبی ایشیا کے خطے میں امن و سکون کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اس سے دونوں ریاستوں کے درمیان عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تھے۔ غیر ریاستی عناصر بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دونوں ریاستوں کے درمیان انتشار اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ وہاں کے باشندوں کے درمیان انسانیت سوز مصائب ایک الگ بحث ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور لاکھوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔

    تنازعہ نے دونوں ریاستوں کے معاشی وسائل کو ضائع کر دیا ہے جسے غربت کے خاتمے، تعلیم کی بہتری اور افراد کی سماجی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔پاکستان اپنے ہمسایوں سمیت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان تمام مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں رہے گا۔ 2 اپریل 2022 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن پر زور دیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے لیکن پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ تمام مسائل کے حل کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعمیری بات چیت اور ترقی پسند مذاکرات خوش آئند اقدامات ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات بشمول کشمیر کو بات چیت اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے خطے سے آگ کے شعلے دور رہیں‘۔