Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل نےہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے صارفین کو پیغام دیا ہے کہ وہ گوگل چیٹ پرمنتقل ہوجائیں –

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ہینگ آؤٹس سروس کو نومبر میں ریٹائر کردیا جائے گا ہینگ آؤٹس موبائل ایپ استعمال کرنے والے افراد سے چیٹ ایپ پر سوئچ کرنے کا کہا جائے گا۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    کمپنی نے بتایا کہ اسی طرح ویب براؤزر پر جی میل کے ذریعے ہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے افراد کو جولائی میں چیٹ پر اپ گریڈ کردیا جائے گا صارفین کا چیٹ ڈیٹا خودکار طور پر ہینگ آؤٹس سے گوگل چیٹ پر منتقل ہوجائے گا۔

    کمپنی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا ایکسپورٹ ٹول گوگل ٹیک آؤٹ کو استعمال کرکے ہینگ آؤٹس سے اپنا ڈیٹا نومبر سے قبل ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

    واضح رہے کہ گوگل ہینگ آؤٹس کو 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا جو اس وقت گوگل پلس کے اندر چیٹ پلیٹ فارم تھا بعد ازاں گوگل نے اس پلیٹ فارم کو دیگر سروسز جیسے جی میل کا حصہ بنا دیا تھا۔

    2017 میں گوگل چیٹ کو متعارف کرایا گیا جو کاروباری صارفین کے لیے میسجنگ ٹول تھا گوگل کی جانب سے ہینگ آؤٹس سے چیٹ پر لوگوں کو منتقل کرنے کی وجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین بھی ہیں۔

    امریکا اور یورپی یونین قوانین کے مطابق گوگل چیٹ میں صارفین کو نقصان دہ لنکس سے زیادہ ٹھوس تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ 2 کی بجائے ایک سروس پر کام کرنا بھی زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • الہان ​​عمر کا دورہ پاکستان اور بھارتی ردعمل

    الہان ​​عمر کا دورہ پاکستان اور بھارتی ردعمل

    الہان ​​عمر کا دورہ پاکستان اور بھارتی ردعمل

    الہان ​​عمر ایک امریکی سیاست دان ہیں جو 2019 سے مینیسوٹا کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے لیے امریکی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ ڈیموکریٹک فارمر لیبر پارٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس نے 20-24 اپریل 2022 کو پاکستان کا پہلا دورہ کیا اور پاکستانی سیاست دان/قیادت سے ملاقاتیں کیں اور ثقافتی شہر لاہور کا دورہ کیا اور آزاد جموں و کشمیر کا بھی دورہ کیا۔ کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے جو جنوبی ایشیا کے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ رہا ہے جس کی وجہ سے 1947 میں برطانوی سلطنت سے آزادی کے بعد سے وہ تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔تاہم، کانگریس کی خواتین کے آزاد جموں و کشمیر کے دورے کی بھارتی حکام کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی کیونکہ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر امریکہ کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔لہذا، الہان ​​ایک امریکی خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں جو انسانی حقوق پر مرکوز ہے۔ یہ اسے کشمیر کے اس خطے میں لے آیا ہے جہاں بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کی دلچسپی ریاست کے زیر اہتمام اسلام فوبک تشدد اور استثنیٰ پر اس کے اعتراض سے پیدا ہوتی ہے۔

    کشمیر پر ان کا موقف
    اس کے بعد، کشمیر کے اپنے دورے پر، انہوں نے کہا کہ وہ امریکی کانگریس اور بائیڈن انتظامیہ کو مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نہیں مانتی کہ کشمیر کے بارے میں اس حد تک بات کی جا رہی ہے جس کی اسے کانگریس سے ضرورت ہے بلکہ انتظامیہ کے ساتھ بھی”۔پاکستان کے دارالحکومت میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے کشمیر کے سوال پر کہا کہ ہم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کو دیکھنے کے لیے خارجہ امور کی کمیٹی (کانگریس) میں سماعت کی۔ اس سے قبل، اپریل 2022 میں، اس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرنے میں امریکی حکومت کی پر سوال اٹھایا تھا۔کانگریس میں اور پھر ٹویٹر پر انہوں نے کہا کہ مودی انتظامیہ کو ہمارے کچھ کہنے کے لیے ہندوستان میں مسلمان ہونے کے عمل کو کتنا جرم قرار دینا ہے۔ مودی انتظامیہ اپنی مسلم اقلیتوں کے خلاف جو کارروائی کر رہی ہے اس پر ظاہری تنقید کرنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اس نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی بھرپور حمایت کی ہے اور اکثر اپنی رائے کو ٹویٹ کیا ہے۔ 2019 میں مودی کے ذریعہ کشمیر کے الحاق کے بعد، عمر نے مواصلات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق، جمہوری اصولوں اور مذہبی آزادی کا احترام؛ اور کشمیر میں کشیدگی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو زمین پر کیا ہو رہا ہے اس کی مکمل دستاویز کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ڈیموکریٹ رہنما اسلامو فوبیا کے خلاف بھی بولتے ہیں اور شدت پسند گروپوں کا اکثر نشانہ بنتے ہیں۔

    کشمیر تک رسائی: پاکستان پالیسی بمقابلہ انڈیا پالیسی
    پاکستان بین الاقوامی اور غیر جانبدار مبصرین کو آزاد کشمیر اور کنٹرول لائن کا دورہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور انہیں باقاعدگی سے سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ سرحد کے اس طرف کشمیری کتنے پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں۔لہٰذا کانگریس خواتین کا آزاد کشمیر کا دورہ پاکستان کی اس شفاف اور واضح پالیسی کا حصہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور جس نے یہ ظاہر کیا کہ کشمیری کس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔دوسری طرف، بھارت نے بین الاقوامی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی سختی سے اجازت نہیں دی۔ اس نے بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ اور غیر ملکی میڈیا کے افراد کو کشمیر میں کنٹرول لائن کے بھارتی حصے کا دورہ کرنے سے منع کیا ہے۔ ماضی میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کو مقبوضہ کا دورہ کرنے سے بھی منع کیا ہے۔غیر ملکی کا مقبوضہ کشمیر کا آخری ہائی پروفائل دورہ 2019 میں تھا، وہ بھی یورپی پارلیمنٹ کے انتہائی دائیں بازو کے اراکین نے جو اپنے انتہا پسندانہ خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ ساتھ حریفوں کے لیے انسانی حقوق کو اعلیٰ ترجیح دیتا ہے۔ لیکن بھارت اقلیتوں اور خاص طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکہ کا ناقابل اعتبار پارٹنر ثابت ہو رہا ہے۔امریکی حکام کے لیے اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرنا اب ممکن نہیں۔ سکریٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن نے اپریل کے اوائل میں ہندوستان کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا، "ہم ہندوستان میں کچھ حالیہ پیش رفتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن میں بعض حکومتوں، پولیس اور قیدیوں کے اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔بھارت کو طویل عرصے سے اپنے علاقے میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا ہے، لیکن نئی دہلی ہمیشہ اس کی تردید کی ہے

    دورے پر ہندوستان کا ردعمل
    لہٰذا، بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے الہان ​​عمر کے دورہ آزاد کشمیر کے بعد کے خلاف استعمال کی گئی غیر سفارتی زبان نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی ہے کہ بھارت امریکہ کا ناقابلِ بھروسہ ساتھی ہے۔ امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہونے کے باوجود بھارت امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن کے خلاف غیر سفارتی زبان استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ان کے آزاد کشمیر کے دورے پر تبصرہ کیا۔ ’’میں صرف اتنا کہوں کہ اگر ایسا سیاستدان گھر میں اپنی تنگ نظر سیاست کرنا چاہے تو یہ اس کا کاروبار ہے۔‘‘ . الہان ​​عمر کے خلاف بھی ایسا ہی مشاہدہ کیا گیا۔ الہان ​​عمر کے خلاف غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے بھارت نے ایک بار پھر تسلیم کر لیا ہے کہ وہ امریکہ کا ناقابل اعتماد اتحادی ہے جو اسے کسی بھی غیر متوقع لمحے میں شرمندہ کر سکتا ہے۔

    آگے بڑھنے کا راستہ
    آزاد کشمیر تک غیر ملکیوں کی آسان رسائی کشمیر کی پاکستانی جانب پرامن صورتحال کا ثبوت ہے۔ جبکہ ہندوستان کا غیر ملکی عہدیدار کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار دنیا سے اپنے مظالم اور طاقت کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش ہے۔ بھارت کو امریکی کانگریس کی خاتون رکن کا پاکستان کے آزاد کشمیر کے دورے کو حقیقت پسندانہ انداز میں لینا چاہیے اور تنقید کرنے کے بجائے غیر جانبدار غیر ملکیوں کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی دعوت دینی چاہیے۔ دنیا سے حقائق چھپانے سے تنازع حل نہیں ہو سکتا، بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے اختلافات کو حل کرے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

  • جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب

    جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب

    ڈیرہ غازی خان۔گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ کسی معاشرے کی ترقی میں اعلی تعلیم کا کردار مسلمہ ہے، جامعات کو انڈسٹریز، کامرس، آئی ٹی اور ای مارکیٹنگ کی ذمہ داریوں کے احساس کو سمجھتے ہوئے عملی فیلڈ میں آنا ہوگا، تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا بہت ضروری ہے.وفاق اورپنجاب حکومت اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور وسائل فراہم کررہی ہے .فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو کامیابیاں سمیٹنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،طلبہ کے چمکتے چہرے اس بات کے عکاس ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک و قوم کا نام روشن کرینگے۔
    باغی ٹی وی۔ گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری زندگیوں میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے جن کا احسان اتارا نہیں جا سکتا،اعلی تعلیم میں بہترین صلاحیتیوں کو غازی یونیورسٹی بروئے کار لا رہی ہے، اساتذہ طلبہ کو مل جل کر کام کرنا سکھائیں کیونکہ دنیا میں اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے،طلبائوطالبات سافٹ ڈیجیٹل فیلڈز میں نام پیدا کریں، انہوں نے کہاکہ ہم سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں،مل جل کر کام کرنے والی قومیں ہی دنیا میں عروج حاصل کرتی ہیں ، خوشی ہے کہ غازی یونیورسٹی اکیڈمک کیلنڈر بنانے والی پنجاب کی پہلی یونیورسٹی ہے، انہوں نے کہاکہ جدید علوم کے احیاء کے ساتھ جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے بھی کام کرنا ہوگا،طلبائوطالبات جو کام کریں اچھے طریقے سے کریں، ہمارا آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہئے .وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ غازی یونیورسٹی کے کانووکیشن کا مقصد پاس آوٹ طلبائو طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، یونیورسٹی میںطلبہ کو تعلیم حصول کے بعد درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ای روزگار کی ٹریننگ بھی دی گئی ہے،جدید ٹیکنالوجی سے متعلقہ ڈپارٹمنٹس کا قیام میری اولین ترجیح رہی ہے،طلبہ وطالبات تعلیم حصول کے بعد ملک و قوم کی ترقی کیلئے صلاحیتیں بروئے کار لائیں.غازی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن میں تین ہزار سے زائد طلبائو طالبات کو میڈلز اور ڈگریاں دی گئیں. قبل ازیںگورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے باقاعدہ کانووکیشن کے انعقاد کی اجازت دی اور یونیورسٹی کے پوزیشن ہولڈرطلبائو طالبات اور اساتذہ میں میڈلز تقسیم کیے۔

  • بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    یروشلم: سدابہار جوانی کا راز ڈھونڈنے کے لئے انسان صدیوں سے کوشاں تھا اور اکیسویں صدی میں آ کر میڈیکل سائنس پہلی بار اس میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاریخ میں پہلی بار سائنسدان بڑھتی ہوئی عمر کا پہیہ پیچھےکی جانب گھمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں ایک اہم پیشرفت 20 برس کی مسلسل تحقیق کے بعد اسرائیل سے سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی شہر حائفہ میں واقع ریمبام ہیلتھ کیئرکیمپس اور ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل دو عشروں تک غور و تحقیق کے بعد انسانوں کو کم ازکم بیرونی طور پر جوان رکھنے کا سائنسی طریقہ دریافت کیا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    اس ضمن میں چوہوں پر تجربات کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانوں پر بھی قابلِ اطلاق ہیں تاہم مستقبل میں ان سےانسانی اعضا کو بھی جوان رکھنا ممکن ہوسکے گااس تحقیق میں کئی بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہیں جن کے کام کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں بوڑھے چوہے کی جلد کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور اس کی تمام پرتوں کی سالماتی (مالیکیولر) ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    جوان چوہوں کو لیا گیا جو’سیویئر کمبائنڈ امیونوڈیفشنسی ڈیزیز‘ (ایس سی آئی ڈی) کے شکار تھے۔ اس کیفیت میں بی اور ٹی لمفوسائٹس بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان چوہوں میں بوڑھے انسانوں کے خلیات شامل کیے گئے کیونکہ اہم ہدف انسانی جلد ہی تھی۔ ماہرین کی مسلسل کوشش سے نہ صرف جلد میں خون کی نئی رگیں بنیں بلکہ جگہ جگہ سے بدلی رنگت ٹھیک ہونے لگی اور عمر رسیدگی کے بایومارکر بھی کم ہوئے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    ماہرین کے مطابق اس ضمن میں جلد ایک بہترین تحقیقی مقام تھی کیونکہ دنیا بھر میں جلد کو جوان رکھنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار سب سے پہلے جلد پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

    اسی ٹیم نے پہلے بھی ایس سی آئی ڈی کے شکار جوان چوہوں میں بوڑھے افراد کی جلد شامل کی تھی اور افادیت ناپنے کے لیے ویسکولر اینڈوتھیلیئل گروتھ فیکٹر اے (وی ای جی ایف اے) کو ناپا تھا۔ یہ ایک طبی پیمانہ ہے جو تجربہ گاہ میں انسانی اعضا کی جوانی اور تازگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی جلد کے بوڑھے خلیات اور جلد میں جوانی کے آثار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل درست سمت میں ایک قدم ہے اور کم ازکم ہم ایک تھراپی کے تحت انسانی جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتے ہوئے دوبارہ جوان کرسکتے ہیں۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    لندن: برطانوی پولیس نے سوشل میڈیا پر لائیو پوسٹ میں زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پولیس نے 39 سالہ خاتون کو حراست میں لے لیا۔ خاتون پر زندہ چوہا کھانے اور اس عمل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کرنے کا الزام ہے۔

    برطانیہ: 20 سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر کیخلاف انوکھا مقدمہ جیت لیا

    رپورٹس کے مطابق خاتون نے چوہا کھانے کے بعد پانی پیا اور منشیات کا بھی استعمال کیا۔ خاتون کے اس عمل کو سوشل میڈیا ہزاروں صارفین نے دیکھا اور شدید احتجاج کیا تھا جس پر پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون نے یہ عمل ایک چیلنج کے طور پر کیا۔ خاتون پر جانوروں کے خلاف ظالمانہ حرکت کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

    پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اس ویڈیو کو شیئر نہ کریں اور نہ ہی اس پر تبصرہ کریں تاکہ اس کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    شہزادی کیٹ مڈلٹن محقق بن گئیں

    قبل ازیں برطانوی خاتون کا کہنا تھا کہ غاروں میں پتھر کے عہد کی زندگی سے انہیں بچپن میں ہی محبت ہوگئی تھی برطانوی خاتون سارہ ڈے نے خود کو غار میں رہنے والی عورت قرار دیا وہ خیمےمیں رہتی ہیں،مردارجانورکھاتی ہیں اور ان کی کھال سے تن ڈھانپتی ہیں پیشے کے لحاظ سے 34 سالہ سارہ ڈے بچوں کو تاریخ اور مشکل حالات میں زندہ رہنے کے طریقے سکھاتی ہیں لیکن وہ خود شہر چھوڑ کر جنگلات میں جاتی ہیں۔

    گاڑیوں کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے جانور سارہ ڈے کی غذا بنتے ہیں جبکہ وہ جڑی بوٹیوں سے علاج کرتی ہیں اور حیوانات کی کھال سے لباس بناتی ہیں سارہ نے کبوتر کے پر، خرگوش، گلہری اور چوہے کا گوشت بھی کھایا ہے جن کی لاشیں ہفتے میں ایک مرتبہ مل ہی جاتی ہیں جو کاروں کی ٹکر سے مرجاتے ہیں لیکن وہ 24 گھنٹے سے زائد پرانی لاش نہیں کھاتیں وہ گرم اور حال میں ہی مرا ہوا جانور کھانا پسند کرتی ہیں۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے

  • بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    بابراعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    بابر اعظم نے ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے سابق بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اور ریکارڈ توڑ دیا۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ بابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ دن رہنے والے کھلاڑی بن گئے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان پچھلے 1025 دنوں سے ٹی 20 رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز صرف بھارت کے کپتان ویرات کوہلی کے پاس ہی تھا۔ویرت کوہلی آئی سی سی ٹی 20 رینکنگ میں 1013 دن تک پہلے نمبر پر رہے تھے۔

    مزید برآں یہ کہ انگلینڈ کے سابق کپتان اور بلے باز کیون پیٹرسن اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں، انہوں نے 729 دن تک آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ کی پہلی پوزیشن پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اور جنوبی افریقہ کے سابق اوپننگ بلے باز گریم سمتھ 690 دن اور سابق کیوی کپتان برینڈن میکولم 546 دن ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان رہے تھے۔

  • دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو انسانی آنکھ سے بغیر مائیکروسکوپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس عجیب و غریب بیکٹیریا کی لمبائی تقریبا 1 سینٹی میٹر ہے جو اس سے پہلے دریافت شدہ بڑے بیکٹیریوں سے 50 گنا ہے سفید لمبے دھاگے کے مانند یہ بیکٹریا سمندر کی طے میں موجود بوسیدہ مینگرو کے پتوں کی سطح پر پایا گیا۔

    لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی سائنسدان جین میری وولنڈ نے اس دریافت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم ایک ایسے انسان کے سامنے کھڑے ہوں جس کا قد ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر ہویہ جاندار سمندری حیاتیات کے پروفیسر اولیویر گروس نے مینگروو ماحولیاتی نظام میں ہم آہنگی کے بیکٹیریا کی تلاش کے دوران دریافت کیا تھا۔

    گروس نے کہا کہ جب میں نے انہیں دیکھا تو میں حیران رہ گیا، میں نے اس کو مائیکروسکوپک تجربات کئے تاکہ معلوم ہو کہ یہ ایک ہی خلیہ ہے۔

    دوسری جانب سائنس دانوں نے ایک مچھلی نما روبوٹ تیار کیا ہے جو پانی میں تیر کر مائیکرو پلاسٹک کو تیزی سے اکٹھا کرسکتا ہے یہ چھوٹا سا مچھلی نما روبوٹ اپنے جسم اور دم کو ہلا کر پانی میں حرکت کرتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے سمندروں سے پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اس کی لمبائی آدھا انچ کے برابر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی سی دراڑوں اور ایسی جگہوں سے پلاسٹک کو اکٹھا کر سکتا ہے جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہوتی چین کی سِچوان یونیورسٹی کی ایک ٹیم کی جانب سے بنائے جانے والے اس روبوٹ کی توانائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ نیئر انفراریڈ کی جھلکیوں سے حرکت کرتا ہے۔ ہمارے اطراف موجود روشنی نیئر انفراریڈ کا سب سے چھوٹا حصہ ہے۔

    جب اس روبوٹ کی دم پر روشنی پڑتی ہے تو یہ پانی کی سطح سے نیچے کی جانب مڑ جاتی ہے اور جب روشنی پڑنا بند ہوتی ہے تو واپس اپنی جگہ پر آجاتی ہے، اس طرح روبوٹ پانی میں تیرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے یہ روبوٹ اپنے سائز سے تین گُنا زیادہ کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں طے کرسکتا ہے جو ایک سافٹ بحری روبوٹ کے لیے ریکارڈ ہے۔

    جب یہ تیرتا ہے تو پولیسٹائرین مائیکرو پلاسٹکس اس کی سطح سے چپک جاتے ہیں اور یہ انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ یہ روبوٹ مستقبل میں سمندر سے اندازاً 24 ہزار ارب مائیکرو پلاسٹک کے ٹکڑوں کو نکالنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

    افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

    پاکستان جیو اکنامکس کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے غیر ملکی سفارت کاری کے تمام ممکن راستوں پر عمل کر رہا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے لیے غیر معمولی خارجہ پالیسی اقدامات اٹھا کر، پاکستان دنیا کے سامنے یہ ثابت کر رہا ہے کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے وہ شریک اسٹیک ہولڈر ہے۔ اس سلسلے میں چین میں افغانستان کے دوستوں کا اجلاس ہوا جس میں پانچ نکاتی مشترکہ بیان میں ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کی اور ایران، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان ،پاکستان کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا ایجنڈا افغانستان کے مسائل پر پڑوسیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا اور افغان عوام کو مستحکم کرنے اور ان کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، مستقبل کے مسائل سے بچنے کے لیے افغانستان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اجلاس میں شریک ممالک نے افغانستان کی آزادی، علاقائی خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام کا اظہار کیا۔ پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شرکاء نے ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے وعدوں کو ایمانداری سے پورا کریں۔اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا اور سی پیک کی توسیع کو افغانستان تک بڑھانے پر آمادگی کا اظہار کیا، یہ علاقائی روابط کے ذریعے افغانستان کو اس دھارے میں شامل کرنے کے لیے چینی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان اور چین افغان عوام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو کوویڈ 19 وبائی امراض اور سماجی انتشار کا شکار ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں عدم استحکام نہ صرف اس ملک کی عوام بلکہ خطے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر افغانستان سیاسی، اقتصادی طور پر غیر مستحکم رہا تو اس کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔بدقسمتی سے، طالبان اس طرح کا برتاؤ نہیں کر رہے ہیں جس طرح دنیا ان سے برتاؤ کی توقع کر رہی ہے، عالمی برادری کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے طالبان اب بھی اپنی ہی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں جیسا کہ حال ہی میں لڑکیوں کو اسکول کی تعلیم سے محروم کردیا گیا تھا۔طالبان کو کم از کم اپنے نقطہ نظر میں تھوڑا لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو سبھی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کے رویے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن طالبان کو دنیا کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

    علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کو دوبارہ انتشار کا مرکز نہ بننے دیں۔ اس وقت افغانستان کو نظر انداز کرنے سے صورتحال حل نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے، علاقائی ممالک نے افغانستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔

    گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے واضح طور پر افغانستان کا سیاسی حل کا نعرہ لگایا۔امریکہ بھی بالآخر اس راستے پر گیا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے افغانستان میں استحکام آ جائے کیونکہ یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ ہے۔ ایک بار جب چین، پاکستان اور خطے اور عالمی دنیا کے تمام اہم ممالک افغان عوام اور ملک کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو یہ نہ صرف افغان عوام بلکہ خطے بالخصوص ترقی کا باعث بنے گا۔

  • ٹیکس چورکون؟

    ٹیکس چورکون؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    حکومت نے بڑی صنعتوں پر10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کااعلان کر دیا، وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اوراسے کنٹرول کریں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس(تخفیف غربت ٹیکس) لگارہے ہیں ان صنعتوں اسٹیل،سیمنٹ، شوگر، ٹیکسٹائل، آئل اینڈ گیس، آٹو انڈسٹری، ہوا بازی، فرٹیلائزر، بینکنگ، انرجی اینڈ ٹرمینل سیکٹر پرسپرٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سگریٹ پر بھی ٹیکس لگے گا، 2 ہزار ارب روپے ٹیکس غائب ہو جاتا ہے، یہ پہلا بجٹ ہے جس میں اکنامک وژن دیا ہے، مہنگائی کا طوفان ہے، جان لگائیں گے اسے کنٹرول کریں گے۔شہباز شریف نے ایک اور ٹیکس لگانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ جو افراد سالانہ 15 کروڑ سے زائد کماتے ہیں ان کی آمدن پر1 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جا رہا ہے، سالانہ 20 کروڑ سے زائد پر 2 فیصد، 25 کروڑ پر 3 فیصد، 30 کروڑ سے زائد پر 4 فیصد تخفیف غربت ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں دو ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں پاکستان کی اشرافیہ اورامیرلوگ کیسے ٹیکس چوری کرتا ہے؟
    پاکستان میںٹیکس چوری کرنے میں سرفہرست حکمران طبقہ ہے جوپاکستان میں 75سال سے اقتدارمیں ہیں جن میں جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما ئے اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوں کا حصہ ہیں۔ حکمران طبقے کے سیاست دانوں کی اکثریت کا تعلق جاگیردار اور سرمایہ دار گھرانوں سے ہے جوبہت معمولی ٹیکس دیتے ہیں،زراعت پرمعمولی سا ٹیکس ہے، چاروں صوبوں میں جمع ہونے والا یہ ٹیکس کچھ ارب روپے کا ہوتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں زرعی ٹیکس لگایا جائے تو 500 ارب روپے سے 600ارب روپے کاریونیوآسانی سے جمع کیاجاسکتا ہے،یہاں جائیداد کے ٹیکسوںمیں بھی بہت ہیرا پھیری کی جاتی ہے،یہ سیاست دان جوسرکاری ریکارڈ میں اپنے اثاثے طاہرکرتے ہیںان اثاثوں یاجائیدادوں کی مالیت بہت کم لکھواتے ہیں، اگر دس سال پہلے ایک پلاٹ کی قیمت دس لاکھ تھی اور اب اس کی مارکیٹ ویلیو چھ کروڑ ہوچکی ہے تو وہ اپنے اثاثوں میں وہی 10سال پرانی قیمت محکمہ مال کے ریونیوافسران لکھوالیں گے۔ مثال کے طورپروزیر اعلی پنجاب حمزہ شریف نے اپنے گیارہ مکانات کی قیمت صرف تیرہ کروڑ روپے بتائی ہے،حالانکہ یہ بات ہرکوئی جانتا ہے جائیداد یں جتنی پرانی ہوتی جائیں گی ان کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گے لیکن سیاستدانوں کی سرکاری ریکارڈ میں ظاہرکردہ اثاثوں کی قیمتیں وہی برقرار رہتی ہیں ۔
    سوشل میڈیا پر مسلسل ان سیاستدانوں جن میں آصف علی زرداری، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور حمزہ شریف سمیت کئی سیاست دانوں کے اثاثوں کی سرکاری اداروں کو دی جانے والی قیمتوں پر بہت تنقید کی جاتی رہی ہے، مثال کے طور عمران خان نے بنی گالہ کے گھر کی قیمت جبکہ شریف اور زرداری گھرانوں نے اپنی جائیدادوں کی قیمتیں اپنے اثاثوں میں مارکیٹ ویلیو سے بہت کم لکھی ہیں،سوشل میڈیا صارفین برملایہ کہتے رہے ان کے گھروں کی ظاہرکردہ قیمتوں سے ہم تین گنازیادہ رقم دینے کوتیارہیں ،یہ گھر ہمیں دئے جائیں۔ دوسری طرف ماہرین کاکہناہے کہ کہ اگر 1200سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے مارکیٹ کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے تو اربوں روپے حاصل کیا جا سکتے ہیں، اگر یہ ٹیکس پوری ایمانداری سے پورے ملک میں نافذ ہوجائے تو عام آدمی پر جی ایس ٹی لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اُدھرتاجروں کابھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہی تعلق ہوتاہے،اسی سیاسی اثررسوخ اورطاقت کے بل بوتے پر یہ تاجر و مقامی صنعت کار انڈر انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس چوری کرتے ہیں،مثال کے طورپر گارمینٹس اور دوسری صنعتوں سے وابستہ سرمایہ دار اگر ڈسٹربیوٹرز یا ہول سیل سپلائرز کو اپنی پراڈکٹ 50 کروڑ کی بیچتے ہیں تو انوائس میں 25کروڑ ظاہر کرتے ہیں اور ٹیکس پھر 25 کروڑ کے حساب سے دیتے ہیں۔ تاہم ایکسپورٹرکیلئے ایساکرنامشکل ہے،ماہرین کامانناہے کہ ہمارے ملک کے سرمایہ دارسیاستدانوں نے اپنی ہی کوئی کمپنی دوسرے ملک میں کھولی ہے، تو وہ منی لانڈرنگ کر سکتا ہے اور اوور انوائسنگ بھی کرتا ہے،جہاں وہ ڈالرز بھیجتے ہیں اور بعد میں ایکسپورٹ کے نام پر اس پیسے کو وہ وائٹ کر لیتے ہیں۔ایف بی آر کی ویب سائٹس سے ریکارڈدیکھاجائے تو وہاں پیشے میں کئی سیاست دانوں نے زراعت لکھا ہے اور ٹیکس صفر ہے۔ حالانکہ ان پر ٹیکس بھی بہت معمولی ہے وہ یہ تھوڑا ساٹیکس بھی ادا نہیں کرتے جب کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی رہائش سے لے کر گاڑی تک سب ٹیکس فری ہے ،جوعوام کے دئے ہوئے ٹیکس کوشیرمادرسمجھ کرہڑپ کر رہے ہیں اور ہربارعوام سے ہی قربانی مانگی جاتی ہے ،دراصل ایوان اقتدار بیٹھے ہوئے یہ جاگیردار، سرمایہ دار اور تاجر مسلم لیگ ن، پی پی پی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ اور دوسری سیاسی جماعتوںسے تعلق رکھنے والے نام نہاد بڑے لیڈرجن سے پاکستان قوم کادکھ درد سہانہیں جارہااورجھوٹے ٹسوے بہارہے ہیں یہی مافیا ٹیکس چورہے ،عام پاکستانی بچے کی پیدائش سے لیکر میت کے کفن تک ٹیکس دیتا ہے پھر بھی عام پاکستانی پر الزام ہے یہ ٹیکس نہیں دیتے۔