کوئی فرد، کوئی جماعت کوئی ادارہ ریاست سے مقدم نہیں ہے. ریاست ہے تو یہ جماعتیں، شخصیات اور ادارے ہیں. ریاست کی بنیاد شخصیات پر نہیں بلکہ آئین اور نظریات پر ہوتی ہے. اکتہر میں ہمارے پاس دنیا کی کرشماتی شخصیات تھیں لیکن ملک دو لخت ہوا تھا وجہ یہ تھی کہ نظریہ پاکستان پر کمپرومائز ہوا تھا.
ریاست کی بقاء، ترقی اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب ریاست کے سبھی ستون اور عناصر اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے اپنے ذمہ کام کو سر انجام دیں. آپ جو مرضی کرلیں ورلڈ بینک کے پاس چلے جائیں یا آئی ایم ایف سے معاہدے ہوجائیں پاکستان کے مسائل کا حل بھی ان معاہدوں میں نہیں ہے.
کرپشن کا ناسور وطن عزیز کو بری طرح سے جکڑ چکا ہے. اربوں کی کرپشن کرنے والے ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں. وہ سارے جو نظریاتی طور پر ملک کو کھوکھلا کرتے رہے وہ حاکم بنے بیٹھے ہیں. قائد کے اسلامی نظریاتی پاکستان کا تشخص بری طرح سے مجروح ہوچکا ہے. ریاست پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی جو تھوڑی بہت عزت تھی وہ بھی مٹی میں ملائی جاچکی ہے.
چند چہرے و خاندان جو عشروں سے سیاست پاکستان کے ٹھیکدار بنے ہوئے ہیں ان کے پاس ملکی مسائل کا نہ حل ہے اور نہ وطن عزیز کے لیے کچھ بہتر سوچنے کا وقت ہے. ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہوتا رہا ہے جبکہ ان خاندانوں کے بزنس، جائدادوں اور مال و دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے.
وطن عزیز پاکستان کو ضرورت ہے تو نئے نظام اور نئے چہروں کی جو مخدوم نہیں بلکہ خادم ہوں. جو ذاتی کاروبار کرنے نہیں بلکہ پاکستان کی خاطر سیاست میں آئیں. جن کا اوڑنا بچھونا مغرب نہیں بلکہ پاکستان ہو. ایسے لوگوں کی پاکستان کو ضرورت ہے کہ جن کی سیاست، نظریات اور افکار کا محور و مرکز تل ابیب یا واشنگٹن نہیں بلکہ مکہ و مدینہ ہوں.
محمد عبداللہ
Category: بلاگ
-

چاک گریباں از محمد عبداللہ
-

ایک تاریخی فیصلہ
فعال جمہوریت کے چار ستونوں میں عدلیہ کو سب سے اہم مقام حاصل ہے۔ عدلیہ کا اولین کردار قانون کی حکمرانی کا تحفظ، آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ جمہوریت کسی فرد یا گروہ کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ خود مختار عدلیہ ایک منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آئینی طور پر مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ جج آزادانہ طور پر قانونی فیصلے کر سکتے ہیں چاہے وہ بااثر سیاست دان، سرکاری اہلکار یا عام شہری شامل ہوں۔
پاکستان جیسی نازک جمہوریت میں، عدلیہ کو سول سوسائٹی کو تقویت دینے اور بڑے پیمانے پر عوام میں آئینی ثقافت کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا آئین سپریم کورٹ کو آئین کے تحفظ، حفاظت اور حفاظت کی ذمہ داری تفویض کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 184 (3) اور 199 سپریم کورٹ آف پاکستان کو بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے احکامات دینے کا اختیار دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلا شبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور کسی بھی ادارے سے متاثر ہوئے بغیر قانون کی حکمرانی کے متوازی حکم نامے پاس کرکے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو برقرار رکھا ہے۔
پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے درمیان، جب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں غیر معمولی حالات دیکھنے میں آئے،تو ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی نظام کو مستحکم کرنے اور اپنے سیاسی مفادات کے لیے کچھ سیاستدانوں کی آئین کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش میں مداخلت کرنا پڑی۔ 3 اپریل کو پاکستان میں آئینی اور قانونی ہلچل مچ گئی جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کو روک دیا، جس میں مبینہ طور پر غیر ملکی سازش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران خان کی حکومت گرائی جائے۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی راہ میں رکاوٹ کے بعد، عمران خان نے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا جو صدر کی جانب سے ایک غیر معمولی جلد بازی میں مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں آئینی اور سیاسی انتشار شروع ہوا جس کے پہلے سے ہی زوال پذیر اسمبلی پر مکمل منفی اثرات مرتب ہوئے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے اپنی آئینی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بحران کا ازخود نوٹس لیا اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر پر مشتمل پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔ تاکہ بحران سے نمٹنے کے لیے آئین کی درست وضاحت فراہم کی جائے ۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے مقرر کردہ قانونی نمائندوں کے پانچ دن کی محنت سے سماعت اور دلائل کے بعد، 7 اپریل کو سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا اور 3 اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے اقدامات کو غلط قرار دیا۔اہم فیصلے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہر وقت زیر التوا اور موجود تھی اور اب بھی زیر التوا اور موجود ہے۔ عمران خان آئین کے آرٹیکل 58 کی شق (1) کی وضاحت کے ذریعے عائد پابندی کی زد میں ہیں اور تاحال پابندیاں برقرار ہیں۔ اس لیے وہ کسی بھی وقت صدر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے جیسا کہ آرٹیکل 58 کی شق (1) کے مطابق ہے۔
عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے جوڈیشل ایکٹوازم کی بہادری نے ایک ادارے کے طور پر ملک میں جمہوریت پسندوں اور سول سوسائٹی کو یقینی طور پر حوصلہ دیا ہے کہ ملک کا اعلیٰ قانونی ادارہ اس انداز میں تیار ہوا ہے۔ جوبغیر کسی مصلحت اور خوف کے آئین کی تائید کرتا ہے۔بعض سیاسی طبقات کی جانب سے توہین آمیز سوشل میڈیا مہمات اور جارحانہ بیانات کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کے باوجود، سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے کے ذریعے ترقی پسند جذبات اور جمہوری اصولوں کی حمایت کی ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ حالیہ فیصلہ نہ صرف جمہوریت کی بہت بڑی فتح ہے بلکہ نظریہ ضرورت کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ اس نے عالمی ایمفی تھیٹر میں پاکستان کی ایک مثبت تصویر کو ایک ایسے ملک کے طور پر بھی پیش کیا ہے جس کے پاس ایک مضبوط، نڈر، اور جمہوریت نواز قانونی نظام ہے جو قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے پرعزم ہے۔
-

دنیا کے سات مقدس ترین پودے
انسانیت، روحانیت اور پودوں کا تعلق قدیم ہے بہت سی مذہبی روایات میں پودوں کو روحانی علامت، شفایابی، قوت بخشی اور بعض اوقات خدائی تعلق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
باغی ٹی وی : موسیقارجانہوی ہیریسن نے ’مقدس نباتیات‘ کے نام سے ایک البم ترتیب دیا ہے جس میں سات قابل احترام سمجھے جانے والے پودوں کا ذکر ہے جس میں انہوں نے روشنی ڈالی ہے کہ ان مقدس پودوں میں کیا خصوصیات ہیں؟ کیا یہ پودے لوگوں کی زندگی میں ماضی کی طرح آج بھی اہمیت کے حامل ہیں؟ ان کا احترام کون لوگ کرتے ہیں؟ –
مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان
کنول کا پھول: کنول کا پودا کیچڑ میں اگتا ہے اگرچہ اس کی جڑیں کیچڑ میں ہوتی ہیں لیکن کنول کا پھول پانی کے اوپر تیرتا دکھائی دیتا ہے مشرقی روحانیت کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ کنول کا پودا کئی معانی اور بیانیوں کی پرتیں ظاہر کرتا ہے ہندوؤں کے لیے کنول کا خوبصورت پھول زندگی اور پیداوار اور بودھوں کے نزدیک یہ پاکیزگی کی علامت ہے۔

ہندو مذہب میں کنول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ کنول بھگوان وشنو کی ناف سے ابھرا، اور اس پھول کے درمیان برہما بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ بھگوان کے ہاتھ اور پاؤں کنول جیسے ہیں اور اس کی آنکھیں کنول کی پتیوں کی طرح اور اس کے چھونے کا احساس کنول کی کلیوں کی طرح نرم۔

خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق
امربیل: آج کل امربیل کو عموماً کرسمس کے جادو سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن اس کو علامت سمجھنے کی تاریخ قدیم سیلٹک پیشواؤں کے دور سے تعلق رکھتی ہے انھیں یقین تھا کہ امربیل سورج کے دیوتا تارنس کا جوہر ہے، اور جس درخت کی شاخوں کے ساتھ امربیل بڑھتی ہے وہ درخت بھی مقدس ہو جاتا ہے سردیوں میں روحانی پیشوا بلوط کے درخت سے امربیل کو سنہری درانتی سے کاٹتا ہے یہ خاص پودا اور اس کے پھل رسومات یا ادویات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ناگ پھنی: ناگ پھنی ایک چھوٹا سا گٹھلی کے بغیر کیکٹس کا پودا ہے جو امریکی ریاست ٹیکسس کی جنوب مغربی اور میکسیکو کے صحرائی علاقے میں قدرتی طور پر اگتا ہے اور اس کا استعمال مقامی افراد روحانی مقاصد کے لیے کرتے ہیں میکسیکو کے انڈینز اور شمالی امریکہ کے مقامی قبائیلیوں کا اعتقاد ہے کہ یہ مقدس پودا خدا کے ساتھ رابطے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس کا استعمال دعائیہ تقریبات میں کیا جاتا ہے۔"گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت
روحانی طاقتوں کے لیے صرف مقامی قبائل ہی اس کا استعمال نہیں کرتے1950 کی دہائی سے فنکار، موسیقار اور مصنفین بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں کین کیسی کا دعویٰ تھا کہ ‘ون فلیو اوور دی ککوز نیسٹ’ کے ابتدائی صفحات لکھتے ہوئے وہ ناگ پھنی کے نشے میں تھے۔

تلسی: ہندو مذہب کے مطابق دیوی ورندا نے بھگوان کرشنا اور اس کے پیروکاروں کی خدمت کرتے ہوئے وندراون کی مقدس زمین کی حفاظت کی تھی اگرچہ یہ دیوی انسانی شکل میں تھیں لیکن قدیم تحریروں کے مطابق کرشنا نے بذات خود انھیں تلسی کا پودا بننے کا کہا تھا، جس کی وجہ سے اب تلسی مقدس کہلاتی ہے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ہندو اپنے گھروں اور مندروں میں تلسی کی پوجا کرتے ہیں۔

برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت
صنوبر کا درخت:صنوبر کی ایک قسم یئو سدا بہار درخت ہے جسے تولید اور ابدی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درخت کی شاخیں جھک کر دوبارہ زمین میں داخل ہو جاتی ہیں اور ان سے نئے تنے جنم لیتے ہیں اس کے علاوہ یئو پرانے درخت کے کھوکھلے تنے سے بھی اگ سکتی ہے۔ اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ اسے تولید اور زرخیزی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے
بھنگ: بھنگ راستافاری فرقے کے ماننے والوں کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بائبل میں جسے ’زندگی کا درخت‘ کہا گیا ہے وہ بھنگ کا پودا ہے اور اس کا استعمال مقدس ہے وہ اس بارے میں بائبل سے کئی حوالے پیش کرتے ہیں اگرچہ اس پودے کو کئی نام دیئے جاتے ہیں (بھنگ، گانجا) لیکن راستافاری اسے مقدس جڑی بوٹی یا حکمت کی بوٹی کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اسے نوش کرنے سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی ہے اس کو سگریٹ یا چلم پائپ کے ذریعے پیا جاتا ہے اور اس سے قبل خصوصی دعا کی جاتی ہے

اوسیمم بازلیکم: اس کا سب سے زیادہ استعمال پیزا اور پاستا ساس میں ہوتا ہے لیکن آرتھوڈاکس مسیحیت اور یونانی چرچ میں یہ ایک مقدس بوٹی ہے آرتھوڈوکس مسیحیوں کا یقین ہے کہ یہ بوٹی وہاں اگی جہاں یسوع مسیح کا خون ان کے مقبرے کے نزدیک گرا تھا، اس وقت یہ اس کو صلیب کے ساتھ عبادات سے منسلک کیا جاتا ہے پادری مقدس پانی کو پاک کرنے اور لوگوں کے اجتماع پر پانی کے چھڑکاؤ کے لیے اس کی شاخوں کا استعمال کرتے ہیں۔یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل
-

عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا
عدلیہ نے آئینی بحران سے ملک کو بچایا
حالیہ سیاسی بحران میں، سابق اپوزیشن جماعتوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم ڈپٹی سپیکر نے عدم اعتماد کا ووٹ مسترد کر دیا اور عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کیں لیکن پھر سپریم کورٹ قانون کی علمدراری کے لئے میدان میں آئی اور تاریخی فیصلہ دیا ،سپریم کورٹ نے عمران خان کے غیر آئینی اقدام کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق عدالت آزاد ہوگی۔ "آزاد عدلیہ” کیا ہے اس کا بہتر اندازہ حاصل لگانے کے لیے عدالتی آزادی کے بنیادی اصولوں کا استعمال کریں۔عدالت کو "خودمختار” کہا جاتا ہے ایک جج کا انتخاب منصفانہ طریقے سے کیا جاتا ہے، اور وہ اپنا کام اس طریقے سے کرتا ہے جو انصاف کے اصولوں کے مطابق ہو۔ جہاں جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جہاں حکومت کا انتخاب انتخابی عمل سے ہوتا ہے جبکہ عدلیہ قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں آئین کی محافظ ہیں جو بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور قانون کی حکمرانی قائم کرتی ہیں۔
درحقیقت سیاسی جماعتیں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر سیاست کرتی ہیں جب بھی فیصلہ ان کے حق میں نہیں آتا۔لہٰذا مختصر یہ کہ یہ عدلیہ نہیں بلکہ کمزور سیاسی نظام ہے جو عدم استحکام اور انتشار پیدا کرتا ہے۔عدلیہ ان سیاسی مسائل کا حصہ بننے سے گریز نہیں کر سکتی کیونکہ اس میں آئین اور قانون کی حکمرانی شامل ہے اور عدلیہ آئین کی محافظ ہے۔ ملک کی عدالتی تاریخ بتاتی ہے کہ جج آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے بغیر کسی خوف اور حمایت کے فیصلے کرتے ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے بنچ نے آئینی تباہی کو ٹال دیا۔ جب سے یہ ملک بنا ہے پاکستان میں انصاف کا مستحکم نظام موجود ہے۔قانون کی حکمرانی برقرار ہے اور عدلیہ آزاد ہے۔ آزاد عدلیہ ہی ملک کے لئے اچھے فیصلے کر سکتی ہے اور قانون و آئین شکنوں کو سزا دے سکتی ہے
-

1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت
نیروبی: محققین نے 1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانے والے دیو ہیکل مگرمچھوں کی دو نئی اقسام دریافت کیں ہیں –
باغی ٹی وی :امریکا کی یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنس دان 2007 سے نیروبی میں میوزیم آف کینیا میں متعدد قدیم مگرمچھوں کی اقسام کا معائنہ کر رہے ہیں رواں مای کے شروع میں جرنل انیٹمِکل میں شائع کردہ مقالے کے مطابق تحقیق کے مصنف پروفیسر کرسٹوفر بروشو کا کہنا تھا کہ یہ وہ بڑے شکاری جانور ہیں جن سامنا ہمارے آبا و اجداد نے کیا۔
برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت
پروفیسر بروشو نے بتایا کہ دریافت ہونے والی اقسام آج کے مگرمچھوں کی طرح موقع پرست شکاری تھی۔ قدیم انسانوں کے لیے دریا میں جھک کر پانی پینا انتہائی خطرناک ہوگا ان کے جبڑے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بڑی مسکراہٹ رکھتے ہیں لیکن اگر انہیں موقع ملتا تو آپ کا پورا چہرہ نوچ ڈالتے۔
محققین کے مطابق موجودہ مگرمچھ کی قسم بمشکل چار سے پانچ فِٹ لمبی ہوتی ہے لیکن دریافت ہونے مگرمچھوں کی اقسام کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی لمبائی 12 فِٹ تک تھی۔
کِن یینگ قسم مشرقی افریقا کے وادی کے علاقے میں ابتدائی سے وسطی مائیوسین دور میں آباد ہوگی۔ یہ علاقہ آج کے دور کا کینیا ہے۔
قبل ازیں محققین نے سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت کی تھیں محققین کو بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔
ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت
قبل ازیں امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے تھے محققین کا کہنا تھا کہ اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔
محققین کا کہنا تھا کہ اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔
نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔
طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے-
انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت
-

مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان
صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جو ماضی میں کئی بار دہشتگردوں کے نشانہ پر رہا اور یہاں شدت پسندی کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں وہاں مسلم، ہندو اور عیساؤں کا مشترکہ قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ ہندوؤں عسائیوں کی تدفین بھی کی گئی ہے اور صدیوں بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔چاہ سید منور نامی اس قبرستان میں مسلمانوں کی قبروں پر مقدس قرآنی آیات، عیسائیوں کی قبروں پر صلیب کا نشان جبکہ ہندوؤں کی قبروں کے رنگ گلابی اور انکے مذہبی کلمات لکھے ہوئے ہیں۔

ماضی میں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو برادری اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کرتی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ شمشان گھاٹ پر محمکہ اوقاف کی ملکیت بن گیا۔ تاہم اب ہندو مذہب کے پیروکار اپنے مُردے جلاتے نہیں بلکہ انھیں مجبوراً چاہ سید منور قبرستان میں دفنا دیتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی کے علاوہ ہندو برادری کے سیکنڑوں جبکہ کرسچن برادری کے ہزاروں گھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں اور انھیں اپنی دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے میں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں ماسوئے مردہ کو جلانے کے۔
-

برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ اینڈی کیوری نے دو دہائیوں یعنی 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا۔
باغی ٹی وی : ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اینڈی ایک سپر مارکیٹ میں کام کرتے ہیں جنہیں گزشتہ 20 سالوں سے سافٹ ڈرنک پینے کی لت تھی اور وہ روزانہ 10 لیٹر کولڈ ڈرنک پی جایا کرتے تھے تاہم اب ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہیپنوتھراپی سیشن (نفسیاتی علاج) کی مدد سے اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے۔
اینڈی کیوری کے مطابق وہ ایک دن میں سافٹ ڈرنک کے 30 کینز تک پیتے تھےجس پر ان کے روز کے 20 پاؤنڈز جب کہ سالانہ تقریباً 7 سے 8 ہزار پاؤنڈز (19 لاکھ سے زائد روپے) خرچہ آتا تھا انہوں نےاعتراف کیا کہ وہ اپنےپسندیدہ سافٹ ڈرنک پر خرچ ہونے والی "رقم” سے ہر سال ایک کار خرید سکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں اینڈی کا بتانا تھا کہ انہیں اس وقت سوفٹ ڈرنکس کی لت لگی جب وہ 20 سال کے تھے، سپر اسٹور میں ان کی نائٹ شفٹ ہوا کرتی تھی جس کے باعث انہیں چینی کی طلب پوری کرنے کے لیے سافٹ ڈرنک باآسانی مل جاتی تھی، وہ دو لیٹر والی چار سے پانچ بوتلیں ایک ہی دن استعمال کرتے تھے۔مسٹر کیوری نے فیصلہ کیا کہ ان کا وزن 266 پاؤنڈ تک بڑھنے کے بعد سخت کارروائی ضروری ہے اور ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ انہیں ذیابیطس ہونے کا خطرہ ہے جس کے بعد اینڈی نے اپنے علاج کا فیصلہ کیا ورزش اور خوراک کے ذریعے وہ 28 پاؤنڈ وزن کم کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن پھر بھی پیپسی پینا بند نہ کر سکے۔
امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کورونا کا شکار ہو گئے
برطانوی شخص نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے لندن میں مقیم ایک تھراپسٹ اور ہپناٹسٹ ڈیوڈ کلموری سے رابطہ کیا، جس نے کیوری کو پرہیز کرنے والے محدود خوراک کی انٹیک ڈس آرڈر(Avoidant Restrictive Food Intake Disorder (ARFID) کی تشخیص کی۔ حیرت انگیز طور پر، محض 40 منٹ کے ایک آن لائن سیشن کے فوراً بعد، مسٹر کیوری صحت یاب ہوئے اور دو دہائیوں میں پہلی بار پانی پیا۔ چار ہفتوں میں، اس نے مزید 14 پاؤنڈ وزن کم کرلیا اور وہ نمایاں طور پر زیادہ صحت مند ہے۔
مسٹر کیوری نے دعویٰ کیا، "میں نے ایک مہینے میں انہیں (پیپسی کین) کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ہی کوئی منصوبہ ہے۔ مجھے اب پانی پسند ہے۔ میری بیوی سارہ کہتی ہیں کہ میری جلد اچھی لگتی ہے اور میرے پاس بہت زیادہ توانائی ہے۔
دوسری طرف مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ وہ "خوف زدہ” ہیں کہ 41 سالہ شخص نے اتنا سوڈا پیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اب تک کا سب سے برا شوگر تھا جس کے بارے میں میں نے کبھی سنا ہے ہپناٹسٹ نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس قسم کی لت "بہت خطرناک” ہے اور کسی شخص کے اہم اعضاء پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتی ہے۔
خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق
-

تحریک عدم اعتماد کے اثرات
تحریک عدم اعتماد کے اثرات
یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی دن تھا جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قومی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے صدر کو وزیراعظم کا مشورہ بھی واپس کر دیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ کروں تو حتمی فیصلہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے اسے جمہوریت اور عدلیہ کی فتح قرار دیا کیونکہ عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کیا اور نظریہ کو دفن کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سب نے دیکھا کہ اپوزیشن حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور بعد میں نے اسمبلی کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔اب پی ٹی آئی کے حامی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاس کیا آپشن رہ گئے ہیں، اپوزیشن کے اقدام کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے ہے۔ تاہم، شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ تنقید کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی اب بھی اسمبلی میں نمبر گیم کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ اب تک متحدہ اپوزیشن عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیت منا رہی ہے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا اور اسے حکومت کی تبدیلی قرار دیا گیا۔کئی سیاسی تجزیہ کار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لیٹر گیٹ کا معاملہ حقیقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ذمہ دار عہدے سے کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کی تردید نہیں کی۔لہٰذا، ایک بات یقینی ہے ایک خاص قسم کی سازش تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بہت سے مواقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو لیٹر گیٹ کے معاملے پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر کے دوران کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی اور اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی غیر ملکی سازش کی تصدیق ہوئی تو وہ پریمیئر شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ لیٹر گیٹ سکینڈل پر تشویش ہے۔ میں اسے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا سیاسی سٹنٹ کہوں گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی جمہوریت میں اپنی سیاسی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کیوں اور کیسے ناکام رہی؟
میرے خیال میں پہلے تو یہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہوا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بزدار حکومت سویلین بیوروکریسی کو تبدیل کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں نے اسے سیاسی پختگی کا فقدان اور حکومتی امور چلانے میں تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری قرار دیا۔دوسرا، یہ مہنگائی، ناقص گورننس، اصلاحات کا فقدان، عمران خان کی اشتعال انگیز سیاست، اور بہت سے سماجی مسائل تھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزارت دفاع میں اہم تقرریوں کے معاملات تھے جنہیں کسی نہ کسی طرح حکومت نے غلط طریقے سے سنبھالا تھا۔ اسی طرح خراب معاشی حالات بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے کمزور ہونے کی ایک وجہ تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ان کو سیاسی الزامات قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔
فی الحال، پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کھو بیٹھی اور متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھال لیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سیاسی صورتحال کی وجہ سے بدل رہی ہے، بین الاقوامی کرنسی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بیرونی ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام کے منتظر ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو کئی علاقائی مسائل پر سفارتی طور پر شامل کر سکیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی اور آئندہ جو کچھ ہے وہ آنے والی حکومت کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔
قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بنائی گئی حکومت تقریباً دس چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے لیے حکومتی امور کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔۔مسائل کی بات کی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو حل کرنا ہوگا۔ گورننس سے مہنگائی تک، امن و امان سے لے کر دہشت گردی تک، معاشی بحران سے آئی ایم ایف تک، اور بہت کچھ۔ کاش نئے وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’بھکاری سلیکٹرز نہیں ہو سکتے‘ آخر میں ایک اور بات جو سیاسی نظام کے لیے طنزیہ ہے وہ یہ کہ ایک شخص جو عدالتوں سے ضمانت پر رہا اور جس کے کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جیسا کہ لیڈر اپنی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پاکستان میں ایک فرد ہونے کے ناطے ہر ایک کو اپنے ضمیر پر نظر ثانی کرنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا لیڈر کون ہوگا اور کوئی بھی قوم بین الاقوامی میدان میں اپنی عزت کیسے پیدا کرتی ہے۔
-

خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق
جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔
کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات
تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔
صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔
مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات
جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔
امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو
-

ایپل اور گوگل معاشرے اور صارفین کے لئے اچھے نہیں،بانی پروٹون میل
جنیوا: انٹرنیٹ کمپنی پروٹون چیف اینڈی یین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل اور گوگل کا کاروباری سانچہ صارفین اور معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے۔
باغی ٹی وی :"انڈیپینڈنٹ کے مطابق "تجویز کردہپروٹون میل نامی اِنکریپٹڈ ای میل اور پروٹون وی پی این چلانے والی کمپنی پروٹون میل کے سی ای او اینڈی یین کا کہنا تھا کہ ٹِم برنرس-لی کے یہ ویب بنانے کی وجہ ’نگران سرمایہ دارنہ نظام‘ کا کاروباری سانچہ نہیں تھا۔
برنرس-لی ستمبر 2011 سے مشاورتی بورڈ میں بیٹھتے آ رہے ہیں ’نگران سرمایہ دارانہ نظام‘ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کیا جانا ہے تاکہ وہ اپنے صارفین پر مبنی پروفائلوں کو بنا سکیں اور تیسری فریق کمپنیوں کو بہتر اشتہاراتی معلومات فراہم کر سکیں۔
‘سروییلنس کیپٹلزم’ سے مراد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہیں جو ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین پر پروفائل بنا سکیں اور فریق ثالث کمپنیوں کو اشتہارات کی بہتر معلومات فراہم کر سکیں گوگل اور فیس بک کافی عرصے سے صارفین کی پرائیویسی کی قیمت پر ٹارگٹڈ اشتہارات سے منافع کما رہے ہیں جبکہ ایپل اپنا سرچ ایڈ کا اشتہاراتی کاروبار کھڑا کر رہا ہے۔
پروٹون نے حال ہی میں اپنی ایپ اِیکو سسٹم میں دو نئی ایپلی کیشن پروٹون ڈرائیو اور پروٹون کلینڈر کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایپس صارفین کو اِنکریپٹڈ سروسز پیش کرتی ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایپل اور گوگل کی جانب سے پیسوں کے عوض دی جانے والی خدمات سے زیادہ خفیہ ہے-
مسٹر ین کا کہنا ہے کہ صارفین دیگر مسابقتی خدمات کی ایک حد کے لیے بھی پوچھ رہے ہیں: آن لائن دستاویزات، پاس ورڈ مینیجر، چیٹ ایپس، اور بہت کچھ، جو کہ بڑھتے ہوئے پروٹون پیکج کا حصہ بن سکتے ہیں۔
نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا
مسٹر ین کہتے ہیں، "بڑی حد تک، مصنوعات اور خدمات ختم ہو چکی ہیں تین ماحولیاتی نظام ہیں، بنیادی طور پر: مائیکروسافٹ ہے، گوگل ہے، ایپل ہے۔ اور فیس بک، شاید، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس سے پوچھتے ہیں۔ رازداری کو ایک ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ آپ آس پاس کے زیادہ تر صارفین سے بات کرتے ہیں اور آپ ان سے پوچھتے ہیں: ‘کیا آپ کو ویب کے بارے میں گوگل کا وژن پسند ہے؟’ ایک بار جب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کیا ہے، تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔
اس دعوے کے باوجود، گوگل کی مصنوعات بے حد مقبول ہیں گوگل سرچ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے اور کروم سب سے عام ویب براؤزر ہے، جبکہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون پلیٹ فارم بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، مسٹر ین کا دعویٰ ہے کہ ایسا مقابلہ کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔
مسٹر ین کہتے ہیں، "اگر آپ کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ زیادہ رازداری اور سیکیورٹی چاہتے ہی ہر کوئی یہ چاہتا ہے”، لیکن صارفین کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے پاس کوئی انتخاب ہےجس طرح سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تمام ڈیفالٹ سیٹ کر رہے ہیں – ایک واضح طور پر مسابقتی انداز میں – ایک موبائل پہلی دنیا میں آپ اور کیا جانتے ہیں؟
مسٹر ین کا کہنا ہے کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ صارفین کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ وہ "کچھ چیزیں ترک کر رہے ہیں” کیونکہ "گوگل نے کئی بلین خرچ کیے ہیں اور اس کا آغاز 20 سال کا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خلا بند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔”
سری لنکا نے آئی ایم ایف سے پھر امیدیں جوڑ لیں
پروٹون کو امید ہے کہ یورپ سے قانون سازی انہیں چھوٹے حریفوں اور ایپل اور گوگل کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد کرے گی، جن کا اسمارٹ فون کی جگہ پر ڈوپولی ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ، جو صارفین کو آزادانہ طور پر اپنے براؤزر، ورچوئل اسسٹنٹس یا سرچ انجنوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آلات سے پہلے سے لوڈ کردہ سافٹ ویئر کو ان انسٹال کرنے کا حق اور کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلے رکھنے کے لیے ان کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی لگانے کی اجازت دے گا۔ مسٹر ین کا کہنا ہے کہ "کینڈی اسٹور میں ایک بچہ ہونے کے ناطے”۔ "لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یورپ، حقیقت میں اسے نافذ کر سکتا ہے اور ایک مختصر وقت میں فرق پیدا کر سکتا ہے؟”
مسٹر ین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ضروری ہیں، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صرف چھوٹے حریفوں پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے – ایسا کچھ جو ایپل نے کئی بار کیا ہے اس کے لیے ایک گالی ہےبڑی ٹیک کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ اگر وہ آج آپ سے مقابلہ نہیں کرتی ہیں، تو وہ پانچ، چھ سالوں میں آپ سے مقابلہ کریں گی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس صنعت میں ہیں۔ وہ صنعت تباہ ہونے والی ہے-
"اگر ہم موجودہ راستے کو جاری رکھتے ہیں، تو ہم امریکہ اور چین کی چار یا پانچ کمپنیوں کے زیر کنٹرول دنیا میں ختم ہو جائیں گے، اور ہم سب کی فلاح و بہبود ہو گی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صنعت سے ہم آہنگ رہنے کے لیےنہ صرف قانون سازی میں تبدیلیاں بلکہ ذہنیت کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہوگی۔ "ریگولیشن ہمیشہ اتنا پیچھے کیوں ہے؟ ہمیں صرف قانون سازی کرنے اور پھر ایک نسل کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ہر سال انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کی رفتار سے آگے بڑھنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے-
امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں