Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کل رات گئے جو عمران خان نے پشاور میں پاور شو کیا ہے کتنی تھی کتنی نہیں تھی اس بحث سے ہٹ کر ایک اچھی تعداد تھی اور بڑا جلسہ تھا اس چیز کو ماننا چاہیے مگر اس میں صوبائی حکومت کے وسائل کا بھی بے دریغ استعمال ہوا ۔ محمود خان خود سارے انتظام وانصرام دیکھتے رہے ۔ ۔ مگر عمران خان نے کچھ باتیں کیں جن کے بارے حقائق جاننا بہت ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے، وہ اپنے غیرت مند عوام کو بے غیرتوں کے خلاف کھڑا کریں گے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ اس سلسلے میں کپتان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کیونکہ فی الحال تو کپتان کے اپنے حواری ملک سے بھاگے ہوئے ہیں بھاگنے کی تیاری میں ہیں ۔ فرخ گجر سے لے کر زلفی بخاری کے کارنامے قوم کو زبانی یاد ہوگئے ہیں ۔ اس سلسلے میں لطفیے تک چلانا شروع گئے ہیں کہ کپتان آخری "گھڑی” تک "ہار” نہیں مانوں گا ۔ اس میں گھڑی محمد بن سلمان والی ہے اور ہار توشہ خانے والا ہے ۔

    پھر کپتان نے کہا کہا کہ جو بھی یہ سوچتا تھا کہ باہر سے امریکہ کی امپورٹڈ حکومت یہ قوم تسلیم کرلے گی تو کو ساری قوم نے سڑکوں پر نکل کر بتایا ہے کہ انہیں امپورٹڈ حکومت منظور نہیں ہے۔۔ مگر اس سلسلے میں حقائق یہ ہیں کہ دنیا تواس حکومت تسلیم کر رہی ہے چین روس ، یورپ اور مشرق وسطی کے بردار اسلامی ممالک سمیت ترکی ہر طرف سے مبارکبادیں آرہی ہیں ۔ سب شہباز شریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور جو گرم جوشی چین دیکھارہا ہے اس سے تو تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سی پیک کو چلانے میں سریس نہیں تھی ۔ ۔ پھر عمران خان نے شہباز شریف کے خلاف40 ارب روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں، ہم اس کو اپنا وزیر اعظم نہیں مانیں گے۔ ۔ اب یہ بات ہی بچوں والی ہے ۔ اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہے ۔ آپ دیکھیں کہ چیئرمین نیب تو انھوں نے ایک ویڈیو جاری کرکے قابو کیا ہوا تھا ۔ نیب میں یہ کچھ ابھی تک ثابت نہیں کرسکے ہیں صرف شہباز شریف نے باقیوں جیسے پیپلز پارٹی والوں کے خلاف بھی ۔ پھر شہباز شریف کے حوالے سے کپتان کو چاہیے کہ وہ شہزاد اکبر کو کٹہرے میں لائیں کیونکہ براڈشیٹ والی مثال ہمارے سامنے ہے کہ قوم کے ٹیکس کا پیسہ بھی ضائع ہوا ۔ الٹا برطانیہ کی عدالتوں سے شہباز شریف کو کلین چیٹ ملی ۔

    ۔ پھر عمران خان نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں چھ کروڑ سمارٹ فون ہیں، ہمارے نوجوانوں کے منہ کوئی بند نہیں کرسکتا، شہباز شریف ہمارے نوجوانوں کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، کان کھول کر سن لیں ، جس دن ہم نے کال دے دی تو تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔۔ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کی کال پریہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے یہ اداروں کے خلاف جو بھونڈی کمپین چلائی جا رہی تھی اس کا قلع قمع ہورہا ہے ۔ جس میں کبھی جنرل مرزا اسلم بیگ کی فیک آڈیو وائرل کرکے اداروں کو بدنام کیا جاتا ہے تو کبھی یہ افواہیں وائرل کی جاتی ہیں کہ جرنیلوں کے درمیان عمران خان کو لے کر اختلافات ہوگئے ہیں ۔ فوج ایک ڈسپلن ادارہ سب ڈسپلن کے پابند ہیں ۔ ایسے پراپیگنڈے کرواکر یہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔ ابھی بھی پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا کے زریعے خوب جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں ۔ جب یہ لوگ پکڑے گئے تو یہ بھی پراپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ ان کی جماعت کے نہیں یہ ٹی ایل پی کے لوگ اداروں نے پکڑے ہیں ۔ جس کی ٹی ایل پی نے سختی سے تردید کی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے بارہ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جب کہ نو ملزمان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ اگر عمران خان کو لگتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے تو قانون جنگ لڑیں عدالتیں کھولی ہوئی ہیں ۔

    پھر عمران خان نے نیوکلیئر پروگرام کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کے اداروں سے سوال پوچھا۔ کہ تمہارا نیوکلیئر پروگرام ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے، تم ان چوروں کے ہاتھوں میں ہماری سالمیت دے رہے ہو، کیا تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے۔۔ تو اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ نیوکلیئر پروگرام کسی ادارے کا نہیں اس ملک وقوم کا ہے ۔ پھر اس نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد بھٹو نے رکھی تھی ۔ جب اس نے کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے ۔ جس کی پاداش میں اس کو سولی پر چڑھنا پڑھا تھا ۔ اسکے بعد ضیاالحق اس کو لے کر آگے بڑھے ان کا طیارہ کریش ہوگیا مگر وہ اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ اس کے بعد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تھے جس کی پاداش میں ان کو اپنے خاندان سمیت جلاوطنی کاٹنی پڑی ۔ پھر میزائل پروگرام کی بنیاد بے نظیر بھٹو نے رکھی ۔ ساتھ ہی گزشتہ پینتالیس سالوں سے یہ ہی دو جماعتیں اور ادارے نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت بھی کررہے ہیں اور اس کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں ۔ تو عمران خان کو بتاتا چلوں کہ یہ جھوٹ کسی کو بتائیں یا سمجھائیں ۔ یہ بات کرکے دراصل عمران خان نے اداروں کو ٹینشن دینے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں پیغام جائے کہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ۔ یہ اپنی سیاست کی خاطر ملک کے ساتھ دشمنی پر اتر آئے ہیں ۔

    پھر کپتان نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوجاتا ہم نے سڑکوں پر رہنا ہے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ سوال یہ ہے کہ اتنی ہی زور کا الیکشن آیا ہوا تھا تو تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کروادیتے۔ تب تو اپوزیشن کا مطالبہ بھی تھا کہ الیکشن کراو۔ اس وقت آپشن تھی ۔ اب وقت گزر چکا ہے ۔ ۔ پھر عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ججز سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کو عدالتیں لگائی گئیں۔۔ یہ بہت ہی گندی عادت ہے عمران خان کی یہ ہر کسی کو متنازعہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ اس حوالے سے بڑا واضح ہے کہ جب عدالتی احکامات کو نہیں مانیں گے ۔ جب آپ آئین کو توڑیں گے ۔ جب آپ ایک فاشسٹ جماعت کی طرح کہیں گے کہ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرواں گا تو پھر عدالت نے تو اپنے حکم پر عمل درآمد کے لیے کھولنا ہی تھا ۔ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک آئین وقانون کے تحت چلتا ہے ۔ ان کی مرضی منشا اور خواہشات کے تحت نہیں ۔

    پھر کپتان نے سفید جھوٹ بولا کہ مجھے یہ قوم 45 سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، حالانکہ پی ٹی وی حملہ کیس سب کو یاد ہے ۔ بجلی کے بل جو جلائے گئے وہ بھی ہم کو یاد ہے ۔ ۔ عمران خان نے اس بار بڑی غلطی کر دی ہے اور اداروں سمیت ہر کسی سے پنگا لے لیا ہے جس کا خمیازہ ان کو لازمی بھگتنا پڑے گا ۔ اس حوالے سے آنے والے دنوں میں آپ کو بہت کچھ صاف دیکھائی دے گا۔ ۔ کیونکہ عمران خان اپنی سیاست کی خاطر لوگوں کی عزتیں اچھالنے اور ہر طرح کے گھناونا کھیل کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ جو سیاست میں تشدد اور نفرت کابیچ عمران خان بو رہے ہیں اس کا رزلٹ ملے گا ۔ ابھی تو کپتان حملے کر رہے ہیں جب مخالفین کریں گے تو تب پتہ چلے گا کہ کپتان کا عزم کتنا کو پختہ ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی تیزی سےبگڑتی ہوئی صورتحال:کشمیریوں پرخوف کےسائے

    مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی تیزی سےبگڑتی ہوئی صورتحال:کشمیریوں پرخوف کےسائے

    اسلام آباد:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے جہاں بھارتی فوجیوں نے لوگوںکی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے بھارتی آئین کی دفعہ 370کی منسوخی کے ذریعے علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑچکی ہے۔

    رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اور پولیس کے ہاتھوں قتل، جبری گرفتاریاں اور تشدد ایک معمول بن چکاہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 05اگست 2019سے اب تک 570سے زائد افرادکو شہید، 2240سے زائدکو زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیاہے جبکہ بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ قابض فوجیوں نے علاقے میں خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا ۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا استعمال کر رہے ہیں اور حریت رہنمائوں مشتاق الاسلام اور عبدالصمد انقلابی پر حال ہی میں کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا اس کی واضح مثال ہے۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیاگیا کہ بی جے پی کی فسطائی بھارتی حکومت رمضان کے مقدس مہینے میں بھی اپنی جابرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بارہا خبردارکیاہے۔

    اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کشمیریوں کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں عالمی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ بنانا چاہیے اور کشمیریوں کو بھارتی جارحیت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے۔

  • شہبازشریف عمران خان کوبرداشت نہ کرسکے

    شہبازشریف عمران خان کوبرداشت نہ کرسکے

    لاہورشہبازشریف عمران خان کوبرداشت نہ کرسکے،اطلاعات کے مطابق شہبازشریف کوابھی اقتدار میں آئے چند گھنٹے ہی ہوئے کہ انہون نے پی سی بی کوہدایت کی ہے کہ عمران خان کی تصویر پی سی بی ویب سائٹ سے ہٹا دی جائے

    اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان زبانی احکامات کے فوری بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی تصویر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کی ویب سائٹ سے ہٹا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے پیٹرن انچیف بن گئے ہیں۔ بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر عمران خان کی جگہ شہباز شریف کی تصویر لگادی گئی ہے۔

    کرکٹ بورڈ کے دفتر سے بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی تصویر ہٹادی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق ملک کا موجودہ وزیراعظم بورڈ کا پیٹرن انچیف ہوتا ہے۔یاد رہے کہ شہباز شریف گزشتہ روز ملک کے 23ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں۔

    ادھرچیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی )رمیز راجہ نے بطور چیئر مین پی سی بی کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے ۔

    نجی ٹی وی "جیو نیوز” کے مطابق چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے بطور چیئر مین پی سی بی کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ نئی حکومت کی جانب سے پیغام کے منتظر ہیں ۔

    رپورٹ کے مطابق رمیز راجہ نے استعفیٰ دیا تو نجم سیٹھی کو پی سی بی کے چیئر مین لگانے سے متعلق سوچا جائے گا ۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد متحدہ اپوزیشن کی حمایت سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم فرائض سنبھال لیے ہیں ۔

  • امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی

    موجودہ حالات میں آپ کسی یوتھیئے سے پوچھیں کہ بھئی یہ حظ والی کہانی کیا ہے؟

    تو وہ جواب دے گا کہ حظ امریکی گورنمنٹ نے خود لکھا ہے ہمارے وزیر اعظم کو اور دھمکی دی تھی ان کو

    دوبارہ پوچھیں بھائی حظ کے اندر لکھا کیا تھا اور حظ کیا امریکی گورنمنٹ نے پوسٹ کیا تھا وزیراعظم کے نام پر؟

    تو جواب تو جواب ہو گا ہاں تو اور کیا آپ کو نہیں پتہ فلاں فلاں مگر اس سے آگے اگر کچھ بتائیں ہمیں بتائیے گا ضروران بےچارے اندھے سیاسی مقلدین کو جو انکا لیڈر بول دے وہ ان سیاسی مقلدین (یوتھیئے . پٹواری. جیالے وغیرہ ) کے لئے وہ بات معاذاللہ قرآنی حکم اور حدیث کا درجہ رکھتی ہے یہ تحقیق کرنے کے عادی ہی نہیں اور پھر یہ سیاسی جماعتوں کے مقلدین اندھا دھند اپنی نفرت کا رخ افواج پاکستان کی جانب کرتے ہیں-

    اور یہ طریقہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ہے بشمول پی ٹی آئی کے، اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان انکے لیڈروں کے سامنے پنجاب پولیس کی طرح بن کر رہے یعنی ان کے گھروں کی لونڈی، ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی جائے تو مامے خان 27 فروری کو بھجوانا تھا نا اپنے کسی سورمے لیڈر کو تو خیر یہ تو ہونے والا نہیں کبھی قیامت تک بھی ان شاء اللہ کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو ملکی سلامتی کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی کے باعث لاء اینڈ آرڈر کا ہے اور نتیجتاً ہمارے خون کے پیاسے بھارتی ہندو کل ہی چڑھ دوڑیں گے پاکستان پر-

    خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں یہ حظ کیا تھا اور خان صاحب نے اس کو کیسے سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ خظ منٹ آف میٹنگ تھا جو امریکہ کے پاکستانی سفیر کے ساتھ امریکی آفیشل نے باتیں کی تھیں اور ان باتوں کا راوی ہمارا پاکستانی سفیر ہے جو امریکہ میں ہوتا ہے پاکستان کی گورنمنٹ کی طرف سے اور یہ خظ امریکی آفیشل کی جانب سے نہیں لکھا گیا تھا بلکہ یہ سفیر نے مراسلہ لکھا کہ یہ یہ میٹنگ میں باتیں ہوئی ہیں-

    جب روس یوکرائن پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو امریکہ اور اسکے تمام اتحادی یعنی نیٹو وغیرہ غصے میں تھے جبکہ ترکی کو بھی یہ حملہ قبول نہیں تھا کیونکہ وہ بھی نیٹو میں شامل ملک ہے اسی دوران خان صاحب کا دورہ روس ہونا تھا جو کہ پہلے سے طے شدہ تھا مگر پاکستانی سیکورٹی آفیشلز نے انہیں روکا کہ ابھی دورہ نا کریں کیوں کہ روس کی جانب سے یوکرائن پر حملے کی تیاریاں مکمل ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں-

    چونکہ ہماری تجارتی و معاشی منڈی ابھی تک یورپ اور امریکہ ہی ہیں ناکہ روس ہے اس لئے دورہ نا کیا جائےمگر ہمارا ہیرو خان نیازی کہاں سنتا ہے عسکری قیادت کو کہتا ہے کہ دورہ طے شدہ ہے اور انکل نیازی نکل پڑا تو اسی روز روس نے یوکرائن پر حملہ بھی کر دیا

    ہمارے یوتھیئے تصاویر شیئر کر کے خوش ہوتے رہے کہ دیکھا کپتان نے کیسے جنگ لگوائی فلاں فلاں او بھئی دو کافر ملکوں کی جنگ ایک تمہارا پرانا دشمن اور حالیہ ایک سے امداد لے کر اپنے ہی بندے اندر کر رہے ہو اور ساتھ قرض بھی لیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اس کے غلام نہیں او غلام نہیں تو اپنی ہی مذہبی جماعت کی دلالی تاحال کھانے والوں کرو رہا فوری اپنے جہادی ہے ہمت ایسا کرنے کی ؟-

    اگر فوج دفاعی نقطہ نظر سے قوم کا بھلا کرے تو غلط اکڑوں خان گردن میں سریا رکھے تو درست چاہے نئی دشمنی پڑ جائے اسے کیا اس نے تو پارلیمنٹ ہاؤس کی نکر یا پھر برطانیہ میں نکل جانا ہے دہشت گردی کی آگ میں جلنا بیچاری غریب عوام نے ہےخیر اسی مدعہ پر آتا ہوں-

    اسی دورہ روس کی خبر امریکی گورنمنٹ کو بھی تھی تو انہوں پہلے ہی ہمارے سفیر کو بلا کر سخت الفاظ میں کہا کہ اگر آپکا وزیر اعظم روس کا دورہ اس جنگی ماحول کے دوران کرتا ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہوگا اور اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لئے یہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے (یعنی دفاعی، معاشی اور دیگر پابندی وغیرہ وغیرہ جو امریکہ کرتا ہے ہر اپنے حریف کے ساتھ )-

    یہ ایک طویل میٹنگ تھی پاکستانی سفیر کے ساتھ ظاہری بات ہے امریکہ اور روس دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کولڈ وار چل رہی ہے اور پاکستان کا اتحادی امریکہ ہے آج بھی دفاعی اور معاشی امور پر نا کہ روس تو ایسے میں ابھی پاکستان کے کوئی ایسے معاملات ہوئے ہی نہیں کہ روس سے دفاعی و معاشی تو پھر ہمیں اس جنگ کا حصہ بننے کا فائدہ
    جبکہ جنگ بھی دو کافر ملکوں کے مابین ہے-

    روس تو آج بھی بھارت کی حمایت کرتا ہے دفاعی کھلے عام اور بھارت دنیا میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور کشمیر پر قابض بھی ہے
    سوچنے کی بات ہے بھئی کہ جب کسی ملک سے ایسے معاملات ہوں جیسے آپ کے امریکہ کے ساتھ ہیں تو ایسی صورت حال میں ہمیشہ ہر ملک اپنے ملک میں موجود سفیر کو طلب کرتا ہے اور سخت بات ہی کرتا ہے کہ جناب اگر آپ کی حکومت نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا ہم فلاں فلاں کر دیں گے-

    حتی کہ ایسے ہی ہمارے ملک میں بھی بہت بار دوسرے ممالک کے سفیروں کی طلبی کی جاتی رہی ہے اور سیکورٹی امور پر سخت الفاظ کہے جاتے رہے ہیں سفیر اور پھر وہ سفیر ان سب باتوں کو اپنی حکومت کو مراسلات میں لکھ کر سینڈ کر دیا کرتے ہیں یہاں اس خط میں بھی وہی معاملہ ہوا ہے-

    مراسلہ منجانب پاکستانی سفیر وزیراعظم کو منٹس آف میٹنگ لکھ کر سینڈ کر دئیے گئے اور اسی دوران بلکہ اس سارے معاملے سے قبل آپوزیشن نے پی ٹی آئی کے لوگ خریدنے شروع کر دئیے تھے تحریک عدم اعتماد کے لئے اب حظ جب آیا تو اسی وقت خان صاحب نے شور کیوں نہیں مچایا بلکہ جب دیکھا کہ تحریک کامیاب ہونے جا رہی اور کافی یار فروخت ہوچکے ہیں سیاسی منڈی میں تو پھر اچانک خان نے یہ چال چل دی کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے-

    خان صیب نے اپنے ہی سفیر کا لکھا مراسلہ اٹھا اٹھا کہنا شروع کر دیا کہ مجھے امریکہ سے ایک دھمکی والا حظ آیا ہے اور اپوزیشن کو انہوں نے میرے پیچھے لگایا ہے وغیرہ بھئی نیازی خان جمہوری رویہ اختیار کرو تم نے بھی تو کئی سال آپوزیشن بن کر اس وقت کی حکومت کو نتھ ڈالی رکھی تھی اور چینی حکومت کے دورے کے وقت بھی تم باز نہیں آئے تھے دھرنا اسلام آباد میں جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے کیا تھا تم نے یاد ہے کہ نہیں؟ وہ جلاؤ گھیراؤ،وہ پی ٹی وی پر حملہ تو کیا اس وقت تم نے بھی بھارت سے پیسے لے رکھے تھے پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لئے؟-

    اب جب وزیراعظم نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جناب مجھے امریکہ سے دھمکی آئی ہے ثبوت میرے پاس ہے تو اسی وقت پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا دھمکی ہے جو ہمیں بھی نہیں پتہ چلی اور بڑی خاموشی سے امریکہ نے آپ کو دی ہے (ورنہ امریکہ تو جب کسی ملک کو دھمکی دیتا ہے بڑی کھل کر دیتا ہے چاہئے دھمکی پر عمل کرے یا نا کرئے مگر ہوائی فائرنگ ضرور کرتا ہے)-

    تو خان صاحب نے وہ سفارتی مراسلہ دیکھایا اب نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے نارمل ہی لیا اور یہ طے ہوا کہ اس کا جواب مراسلہ ہی میں دیا جائے گا نا کہ احتجاجی طور پر کیوں کہ یہ مراسلہ جو آپ کے پاس ہے یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کی دھمکی نہیں ہے لحاظا جوابی کارروائی میں جوابی مراسلہ ہی کی صورت میں دیا گیا تھا-

    اور پھر امریکی گورنمنٹ کی آفیشل نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    تو بھائی یہ ہے ساری رام کہانی خط والی ،میری گزارش ہے قوم یوتھ سے خاص کر مقلدین مذہبی قوم یوتھ سے کہ اس سے أگے کچھ ہے تو لاؤ ورنہ فوج پر الزام نا لگاؤ-
    شکریہ

    غنی محمود قصوری
    کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
    #قصوریات

  • پی سی بی کی طرف سے چار ملکی ٹورنامنٹ کی تجویز:بھارت کی طرف سے سردمہری

    پی سی بی کی طرف سے چار ملکی ٹورنامنٹ کی تجویز:بھارت کی طرف سے سردمہری

    پی سی بی کی طرف سے چار ملکی ٹورنامنٹ کی تجویز:بھارت کی طرف سے سردمہری غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی ) نے ملٹی نیشنل ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے

    تفصیلات کے مطابق رمیز راجہ بھارت، پاکستان، انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل چار ملکی ٹورنامنٹ کے انعقاد کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اس تجویز کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے جاری اجلاس میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔

    جمعے کو دبئی میں منعقدہ آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن نے اسی طرح کے ماڈل کی سفارش کی۔

    ہیریسن نے تجویز پیش کی کہ اس طرح کے ملٹی ٹیم ایونٹس کو سائیکلیکل انداز میں منعقد کیا جانا چاہیے فی الحال، آئی سی سی سہ ملکی سیریز کے علاوہ دیگر ایونٹس کی اجازت نہیں دیتا اور تین سے زیادہ ٹیموں کے ٹورنامنٹس کا انتظام خود آئی سی سی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    ای سی بی اور پی سی بی ایک ہی صفحے پر ہیں جبکہ مبینہ طور پر فنانس اور کمرشل افیئرز کمیٹی کے کچھ ممبران کو خدشہ ہے کہ کثیر ملکی ایونٹس کی وجہ سے آئی سی سی ایونٹس کی اہمیت اور آمدنی کم ہو سکتی ہے۔

  • "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    عمران خان ایک چھوٹی سی کوشش ضرور تھی لیکن عقیدہ نہیں تھا. عقیدہ اللہ رب العزت کی ذات ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے. وہ ذات اپنے بندوں کا نہ ساتھ چھوڑتی ہے اور نہ مایوس ہونے دیتی ہے. جہاں تک بات عمران خان کی ہے تو دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی عمران خان سے کئی ایک اختلافات تھے، بیڈگورنس، کمزور پلاننگ اور چلے ہوئے کارتوسوں کے ساتھ میدان میں اتر کر سبھی کو ہی للکار دینا یہ سیاسی خودکشی ہی تھی جو خان نے کی اور اس کا نتیجہ بھی توقعات کے مطابق نکلا.
    یار لوگ یا تو اس پورے سسٹم کو سمجھتے نہیں ہیں یا پھر عمران خان کو کچھ زیادہ ہی اوتار سمجھ بیٹھے تو اب رخصت ہوا تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے ہیں. ہم نے نہ خان سے زیادہ توقعات باندھی تھی نہ ہم اتنے مایوس ہیں، ہاں دلگرفتہ ضرور ہیں کہ وہ ہوا کا اک تازہ جھونکا ثابت ہوا بھلے افکار سے ہی، اس نے غیرت و قومی حمیت کا درس دیا، سامراج اور یورپ کی ذہنی غلامی سے نکلنے کی ایک کوشش کی جس کا خمیازہ بھگت کر وہ واپس بنی گالا اور اپوزیشن بنچوں پر جاچکا ہے.
    پاکستان کا نظام سیاست چند ایک خاندانوں، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور دیگر کئی فیکٹرز کے چنگل میں اس بری طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ جو موجودہ نظام کی بھول بھلیوں سے آکر اس کو بدلنا چاہے گا اس کا حشر عمران خان ہے. آپ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں افراد سازی کریں، فقط اپنی ہی مضبوط ٹیم تیار کریں، اپنی پلاننگ اول دن سے زمینی حقائق کی بنیاد پر کریں. اقتدار کے لیے کوئی بھی کندھا استعمال کریں گے تو وہ کندھا وقت آنے پر آپ کو جھٹک دے گا.
    ہم امریکہ و روس کے فاتح ضرور ہیں لیکن امریکہ یورپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ہمت و حمیت ہمارے مقتدر لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے بھلے ہی ساری عوام "مرگ بہ امریکہ” کے راگ الاپے. یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکنز ادارے اور لابیز دنیا بھر میں حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں اس کے باوجود وہ بھی مات کھاتے ہیں اور کئی بار کھا چکے ہیں.
    اپنے مایوس لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ مایوسی سے نکلیں، نہ یہ دھرتی بانجھ ہوئی ہے اور نہ ہی مملکت خداداد پاکستان کو کچھ ہوا ہے. لاکھوں قربانیوں کے بعد رمضان المبارک میں اللہ رب العزت کے اس تحفے کا مستقبل یہ نہیں ہے کہ فقط خان کی ہار پر آپ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں. عمران خان ہرگز بھی آخری امید نہیں تھا، وہ پہلا قطرہ تھا جو آئندہ والوں کی راہیں متعین کرگیا ہے کہ دریا میں اگر مگرمچھوں سے بیر پالنا ہے تو آپ کن چیزوں سے لیس ہونے چاہیں.
    باقی جہاں تک موجودہ سیاسی گدھ ٹولے کی بات ہے تو ان مفاد پرستوں سے کسی کو کوئی امید نہیں ہے یہ گِدھوں کا وہ گروہ ہے جو مردار کھانے کے لیے جمع ہوا ہے کل تک یہ سب ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹ رہے تھے آج اقتدار کے لیے باہم شیر و شکر ہیں. نہ کل یہ عوام اور ریاست پاکستان کے سگے تھے اور نہ ہی آج ان کے دل میں عوام اور ریاست کا درد ہے.
    پاکستان کی قوت آپ سے ہے. قیام پاکستان کی واضح مثال ہمارے سامنے ہے. اس وقت بھی سیاسی وڈیرے، مذہبی وڈیرے اور دیگر عوام بانی پاکستان محمد علی جناح کے خلاف تھے لیکن عام مسلمان جب کھڑا ہوا تھا گوکہ قربانیاں دینی پڑی تھیں لیکن پاکستان ملا تھا کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا.
    آج استحکام پاکستان کے لیے بھی آپ کو اٹھنا ہوگا. متحد ہونا ہوگا اور اس گندی سیاست کی بساط لپیٹ کر صاف ستھری انبیاء کرام والی سیاست کو رواج دینا ہوگا. وہ سیاست کہ جس میں خدمت انسانیت ہو، جس میں مظلوم کے ساتھ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا ہو، جس میں نیکی کی بنیاد پر تعاون ہو اور جس میں عوام اور ریاست کی خیرخواہی ہو.
    اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

    محمد عبداللہ

  • عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    بغداد: عراق میں 103 سالہ شہری نے خود سے 66 سال چھوٹی خاتون سے شادی کرلی،شادی کی تقریب میں دولہا کے پوتوں اور پڑپوتوں نے بھی شرکت کی-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق دارالحکومت سے 180 کلومیٹر دور جنوبی علاقے کمشنری الدیوانیہ میں جشن کا منظر تھا جس کی وجہ کوئی علاقائی تہوار نہیں بلکہ 103 سالہ شہری کی شادی تھی گاؤں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا اور روایتی گیت گائے جا رہے تھے۔

    کۃ المکرمہ:بھکارن کےپاس1لاکھ17ہزار ریال اورسونےکےزیورات:سعودی جان کرحیران

    گلف ڈیلی نیوزکے مطابق معمر شہری مخلف فرہود المنصوری کی شادی کے یہ انتظامات ان کے پوتوں اور پڑپوتوں نے کیے تھے پانچ روز تک جاری رہنے والی شادی کی تقریب میں قریبی رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


    رپورٹ کے مطابق دلہن کی عمر 37 سال ہے اور وہ بھی شادی شدہ تھی۔شادی کی مرکزی تقریب سے قبل منگنی بھی ہوئی جس میں دولہا دلہن نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں پھر مہندی کی رسم ادا ہوئی اور اہل خانہ نے خوب ہلہ گلہ کیا۔ نکاح اور ولیمے کی تقاریب بھی ہوئیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    معمر شخص کے بیٹے عبدالسلام نے بتایا کہ ’ان کے والد 1919 میں پیدا ہوئے تھے۔ پہلی اہلیہ کا انتقال 1999 میں ہوا تو دوسری شادی کی جن سے بچے بھی ہوئے تاہم جھگڑوں کے باعث یہ شادی ختم ہوگئی جس کے بعد والد صاحب نے تیسری شادی کی خواہش کی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انتخاب ایک خوبصورت خاتون پر پڑا، جس کی پیدائش 1985 میں ہوئی، اور اس نے منگنی کر لی، اور اس کے بعد اس کے لیے مہندی کی تقریب منعقد کی گئی اور پھر شادی۔ ان کے باقی نو بچوں، پوتے پوتیوں اور نواسوں نے اس کی شادی میں شرکت کی۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے شمارے میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر الٹراساؤنڈ لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔

    تحقیق کے مطابق جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔

    کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

  • زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    حال ہی میں سائنسدانوں نے انسانی خون میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پہلی بار دریافت کیا تھا اور اب مائیکرو پلاسٹک آلودگی پھیپھڑوں کی گہرائی میں پہلی بار دریافت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجئین کے مطابق سائنسی جریدے ’سائنس آف ٹوٹل انوائرنمنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلی بار زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں گہرائی میں مائیکرو پلاسٹک آلودگی پائی گئی ہے، اس سلسلے میں جتنے نمونے تجزیے کے لیے لیے گئے تھے، تقریباً تمام نمونوں میں یہ ذرات پائے گئے ہوا گزرنے کے راستے انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے پہلے اس کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

    مائیکرو پلاسٹک اس سے پہلے انسانی کیڈور پوسٹ مارٹم کے نمونوں میں پائے گئے، لیکن یہ پہلی تحقیق ہے جس میں یہ زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں دکھائی دیئے ہیں۔

    یونیورسٹی آف ہل اور ہل یارک میڈیکل سکول کے محققین نے جن 13 مریضوں کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی، لگ بھگ ان سب میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کی آلودگی اب دنیا بھر میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ انسانوں کے لیے اس سے بچنا ممکن نہیں رہا اور صحت کے حوالے سے خدشات بڑٖھ رہے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوران سرجری کے عمل سے گزرنے والے 13 مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز کی جانچ پڑتال کی گئی اور 11 میں پلاسٹک ذرات کو دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے فضائی آلودگی، مائیکرو پلاسٹک اور انسانی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جو ہمیں معلوم ہوئی ہیں ان اقسام کی خصوصیات اور مائیکرو پلاسٹک کی سطح اب صحت پر اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری میں تجربات کے لیے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

    مائیکرو پلاسٹک کی اقسام اور سطحوں کی کردار سازی اب صحت کے اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری ایکسپوزر تجربات کے لئے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتی ہے۔

    ایسٹ یارکشائر کے کیسل ہل ہسپتال کے سرجنوں نے پھیپھڑوں کے زندہ ٹشو فراہم کیے۔ یہ ٹشو مریضوں پر کیے گئے سرجیکل طریقہ کار سے حاصل کیے گئے تھے جو ابھی تک زندہ تھے، یہ ان کی معمول کی طبی دیکھ بھال کا حصہ تھا۔ اس کے بعد یہ انہیں دیکھنے کے لیے فلٹر کیا گیا کہ ان میں کیا ہے۔.

    جن مائیکرو پلاسٹک کا پتہ چلا ان میں سے 12 اقسام ایسی تھیں جو عام طور پر پیکیجنگ، بوتلوں، کپڑے، رسی اور بہت سے مینوفیکچرنگ کے عمل میں پائی جاتی ہیں خواتین کے مقابلے میں مرد مریضوں میں مائیکرو پلاسٹک کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

    تحقیق میں شامل ایک محقق لورا ساڈوفسکی کا کہنا تھا کہ ہمیں پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں سب سے زیادہ ذرات یا اس سائز کے ذرات ملنے کی توقع نہیں تھی۔

    تحقیق سے پتہ چلا کہ پھیپھڑوں کے اوپری حصے میں 11 مائیکرو پلاسٹک، وسطی حصے میں 7 اور پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں 21 مائیکرو پلاسٹک پائے گئے جو ایک غیر متوقع دریافت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کیونکہ پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں ہوا گزرنے راستے چھوٹے ہوتے ہیں اور ہمیں توقع تھی کہ پھیپھڑوں کے اندر اتنی گہرائی میں جانے سے پہلے اتنے بڑے ذرات فلٹر ہوجائیں گے یا پھپھڑوں پھنس جائیں گے۔

    مارچ میں محققین نے انسانی خون میں پہلی بار پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا تھا ان نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ یہ ذرات خون کے ذریعے جسم میں سفر کرسکتے ہیں اور اعضا میں اکٹھے ہوسکتے ہیں ان ذرات سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تو ابھی معلوم نہیں مگر لیبارٹری تجربات میں ان ذرات سے انسانی خلیات کو نقصان پہنچنا ثابت ہوچکا ہے اسی طرح فضائی آلودگی کے ذرات کے بارے میں پہلے ہی علم ہے کہ وہ جسم میں داخل ہوکر ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتے ہیں۔

    اس سے قبل لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

    2021 میں برازیل میں ہونے والی ایسی ایک تحقیق میں 20 میں سے 13 لاشوں کے نمونوں میں پلاسک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔1998 میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی 100 نمونوں میں پلاسٹک اور کاٹن ذرات کو دریافت کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل اکتوبر 2020 میں آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں تحقیق میں زور دیا گیا کہ اس حوالے سے مزید جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے ان ننھے ذرات سے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک اور حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون کے سرخ خلیات کی اوپری جھلی سے منسلک ہوکر ممکنہ طور پر آکسیجن کی فراہمی کی صلاحیت کو محدود کرسکتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ

    مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کشمیری پنڈتوں کی بحالی کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت پنڈتوں کی بحالی کی آڑ میں وادی کشمیر میں غیر مقامی لوگوں کو بسانے کے لیے الگ کالونیاں تعمیر کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو مقبوضہ وادی میں اپنے مقامات پر واپس جانے کا پوراحق ہے لیکن انہیں بھارتی فوجیوں کے تحفظ میں منتخب بستیوں میں بسانے کا کوئی جواز نہیں ۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بہت سے پنڈت خاندان اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ وادی کشمیر میں خوشی سے رہ رہے ہیںجبکہ مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت پنڈتوں کو الگ کالونیوں میں آباد کرکے مقبوضہ علاقے میں سماجی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی حکومت وادی کشمیر میں پنڈتوں کی آڑ میں ہندو انتہا پسندوں کو بسانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں فوجیوں کو مستقل طور پر آباد کرنے کے لیے فوجی کالونیاں قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کے تحت پابند ہے کہ وہ مقبوضہ علاے کی آبادی کو تبدیل نہ کرے لیکن وہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے بھارتی اقدمات کو روکے۔