Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مودی حکومت بھی شیربن گئی:کشمیریوں کوکچلنےکیلیئے ایجنسیوں کوحکم دے دیا:تاریگامی

    مودی حکومت بھی شیربن گئی:کشمیریوں کوکچلنےکیلیئے ایجنسیوں کوحکم دے دیا:تاریگامی

    کنور: کشمیری سیاست دان اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میںسیاسی مخالفین کو ڈرانے اور خاموش کرانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔

    محمد یوسف تاریگامی نے جو کہ پارٹی کنونشن میں شرکت کے لیے بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کنور میں ہیں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کا ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔

    ان کا یہ تبصرہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو طلب کرنے کے بعد سامنے آیا۔فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور کئی دوسرے لیڈیوں کو بھی بھارتی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے طلب کیا جاچکا ہے۔

    انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ طریقہ ہے جس سے بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں امن بحال کرنے جا ررہی ہے۔ محمد یوسف تاریگامی نے کہ انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ(ای ڈی)، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور این آئی اے کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں چھاپوں کی کھلی چھٹی دی گئی ہے اور مخالفین پر کالا قانون یو اے پی اے لاگو کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماﺅں کو ڈرانے اور نیچا دکھانے کی کوشش ہے تاہم ہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائیں گے۔ محمد یوسف تاریگامی نے مزید کہا کہ بھارت کا کشمیر میں ترقی کا دعویٰ قطعی طور ہر بے بنیا د ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:اگست2019سے ابتک560 سے زائد کشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے:،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 5اگست 2019 سے اب تک 560 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے بھارتی فوجیوں نے 13خواتین سمیت 566کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی غیر قانونی حراست کے دوران وفات پا گئے جبکہ بزرگ حریت رہنما، سید علی گیلانی ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھر میں نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے جعلی مقابلوں اور حراست کے دوران شہید کیا ہے کیونکہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اغوا کرکے انہیں مجاہدین یا مجاہدکارکن قراردینے کے بعد انہیں قتل کردیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم دوہزار240افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ فوجیوں کے ہاتھوں شہادتوں کی وجہ سے 36خواتین بیوہ اور 85بچے یتیم ہو ئے۔

    رپورٹ میں بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے کے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیرمیں87شہریوں کے قتل کے دعوے کومسترد کردیا گیا۔ بھارتی وزیر نے بدھ کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا یہ دعویٰ کیاتھا ۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے پہلے ہزاروں حریت رہنمائوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، تاجروں، نوجوانوں اور کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور ان میں بیشتر اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

    کشمیری نظربندوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، غلام احمد گلزار، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد یوسف فلاحی، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، بشیر احمد قریشی، حیات احمد بٹ، عبدالصمد انقلابی، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، محمد احسن اونتو، صحافی آصف سلطان، سجاد گل اور فہد شاہ شامل ہیں،جنہیں مودی حکومت بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنا رہی ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔

  • پی ٹی اے کا ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کی بحالی کے لئے یوٹیوب سے اپیل

    پی ٹی اے کا ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کی بحالی کے لئے یوٹیوب سے اپیل

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے یوٹیوب سے مرحوم ڈاکٹراسرار احمد کی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے یوٹیوب چینل کو بلاک کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے یوٹیوب سے کہا کہ ایک ممتاز مسلم اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل کی یکطرفہ بندش آن لائن اظہار رائے کی من مانی حدود کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    پی ٹی اے نے کہا کہ مذکورہ چینل پر ڈاکٹراسرار احمد کی ویڈیوز نشر کی جاتی تھیں جن میں قرآن پاک میں پیش کردہ سماجی و اقتصادی تصورات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جاتی تھی ان ویڈیوز کا مقصد صرف ناظرین کو آگہی فراہم کرنا تھا۔

    دوسری جانب ڈاکٹر اسرار احمد کے یو ٹیوب چینل کی بحالی کے لئے 2500 ہزار ووٹوں پر آن لائن پٹیشن شروع کی گئی ہے جس میں اب تک 13 ہزار سے زائد لوگوں نے سائن کئے ہیں اورچینل کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    واضح رہے کہ یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کو بند کرنے کا فیصلہ یہودی اخبار’’ جیوش کرونیکل‘‘ میں ان کے خلاف مختلف رپورٹس شائع ہونے کے بعد کیا تھا جن کے مطابق اس چینل پر نشر کی جانے والی ویڈیوز میں ان سے متعلق نفرت انگیز مواد موجود ہوتا تھا۔

    ڈاکٹر اسرار کے چینل کے تقریباً 30 لاکھ سبسکرائبرز تھے اور ان کے لیکچرز کو مغربی ممالک میں رہنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے سراہا جاتا رہا ہے۔

    عوام ملک کی خودمختاری اورجمہوریت کےمضبوط ترین محافظ ہوتے ہیں ،عمران خان

    ڈاکٹر اسرار احمد کے بیٹے کی جانب سے چلائے جانے والے اس چینل پر مرحوم مذہبی اسکالر کی پرانی تقاریر کی ریکارڈنگ نشر کی جاتی تھی یہ ویڈیوز قرآنی آیات کی روشنی میں دنیا کے خاتمے اور تاریخ میں یہودیوں کے کردار کے بارے میں ان کے خیالات پر مشتمل تھیں۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار احمد آفیشل یوٹیوب چینل کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا اسلاموفوبیا کے اس شرمناک فعل کے جواب میں تنظیم اسلامی نے متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

    رمضان المبارک کا احترام :بلوچستان میں ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی

    ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک شاگرد نے یوٹیوب کے اس اقدام کو مغرب کی جانب سے آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا انجینیئر محمد علی مرزا نے اپنے یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ یہ اقدام مغرب کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے انہوں نے دوسرے فریق کو سنے بغیر محض یہودی گروپس کی شکایات کے مطابق عمل کیا-

    یوٹیوب کو درج کی گئی شکایات میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی تبلیغ مسلمانوں کے ذریعہ مغرب میں یہودیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دے سکتی ہے۔

    لاہورمیں پولیس مقابلہ : 2 ڈاکو ہلاک ، ڈولفن اہلکار اور ایک راہگیر زخمی

  • میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے کہا ہے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ اور غصہ پایا ہے اوروہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن نے اپنے اور میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک بیان میں پیغمبر اسلامﷺ کی پیاری بیٹی خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو وفات کی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حضرت فاطمہ الزہراءرضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی تقویٰ، پرہیزگاری اور سادگی کے ساتھ گزار کر مسلمانوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔

    بیان میں خاتون جنت کو صدیوں سے خواتین کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ ان کی زندگی تمام مسلمان خواتین ،بیٹیوں، بہنوں اور ماوں کے لیے ایک مثال ہے۔ انجمن اور میر واعظ نے بیان میں مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ اس راستے پر چلیں جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لیے منتخب کیا تھا ۔

    انجمن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میرواعظین کشمیر صدیوں پرانی روایت کے مطابق 3رمضان المبارک کو حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی وفات کی برسی پر تاریخی آستانہ عالیہ نقشبند صاحب میں منعقدہ محفل کے دوران انہیں خراج عقیدت پیش کیا کرتے تھے اور انکی مبارک زندگی پر روشنی ڈالتے تھے لیکن عمر واعظ عمر فاروق گزشتہ تین برس سے مسلسل نظر بندی کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

  • ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کے ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہونے کی تصدیق ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو پراگ اگروال نے کی۔ انہوں نے ٹوئٹ میں ایلون مسک کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد کمپنی کو یقین ہوگیا کہ وہ ان کے لیے فائدہ مند ہیں، اس لیے انہیں بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے


    جس پر ایلون مسک نے جواب دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹوئٹر میں نمایاں بہتری لانے کے لیے پیراگ اور ٹوئٹر بورڈ کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہوں!


    ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں گزشتہ ہفتے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں۔

    لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پر ایک پول میں صارفین سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ٹوئٹر آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے؟‘۔ جس کے جواب میں 70 فیصد افراد کا جواب نفی میں تھا۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر آزادی اظہار کے اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں ناکامی کی وجہ سے جمہوری قدروں کا ساتھ نہیں دے رہا۔

    ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی تھی ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں-

    القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی نئی ویڈیوجاری،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی مسکان کی تعریف

  • بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی

    بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی

    نئی دہلی: بھارت نے چار پاکستانی اور 18 مقامی یو ٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ تین ٹوئٹر، ایک فیس بک اکاؤنٹ اور ایک نیوز ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی بی) نے منگل کو 22 یوٹیوب چینلز کو بلاک کر دیا ہے ان میں 4 پاکستان میں قائم یوٹیوب نیوز چینلز ہیں ان میں دنیا میرے آگے، غلام نبی مدنی، حق ٹی وی، حقیت ٹی وی 2.0 شامل ہیں مذکورہ چینلز پر بھارت کےمتعلق جعلی و جھوٹی خبریں چلانے و پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں دسمبر 2021 سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 78 یوٹیوب چینلز اور متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیا جاچکا ہے-

    بھارتی وزارت آئی ٹی کے مطابق بلاک کیے جانے والے یوٹیوب چینلز ملک کی سلامتی اور بھارت کے بین الاقوامی تعلقات جیسے حساس امور کے متعلق جھوٹی جعلی و جھوٹی خبریں پھیلانے میں ملوث تھے۔

    دوسری جانب پہلی بار آئی ٹی رولز2021 کے تحت 18 ہندوستانی یوٹیوب نیوز چینلز کو بلاک کیا گیا ہے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    بھارت میں بلاک کیے گئے 18 یوٹیوب چینلز میں اے آر پی نیوز، اے او پی نیوز،ایل ڈی سی نیوز، سرکاری بابو، ایس ایس زون ہندی، اسمارٹ نیوز، نیوز 23 ہندی ،آن لائن خبر، ڈی پی نیوز، پی کے بی نیوز،کسان تک، بورانہ نیوز، سرکاری نیوز اپڈیٹ، بھارت موسم، آر جے زون 6، اکزام رپورٹ، ڈیجی گروکل، دن کی خبریں

    اس کے علاوہ انسٹاگرام اکاؤنٹ، دو ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے۔

    اعداد و شمار کے تحت دلچسپ بات یہ ہے کہ جن چینلز کو بلاک کیا گیا ہے انہیں 260 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا و سنا جا چکا ہے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

  • واحد ٹی 20 میچ: آسٹریلیا نے پاکستان کو3 وکٹ سے شکست دیدی

    واحد ٹی 20 میچ: آسٹریلیا نے پاکستان کو3 وکٹ سے شکست دیدی

    لاہور:قذافی اسٹیڈیم لاہور آج پھر ایک بار اہل لاہورکےلیے تفریح کا سامان بننے جارہا ہے،آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹاس جیت کر پہلے خود فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان نے واحد ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کو جیت کیلئے 163 رنز کا ہدف دے دی تھا۔جس کے جواب میں آسٹریلیا نے پاکستان کو واحد ٹی 20 میچ میں3 وکٹ سے شکست دے دی ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹی 20 میچ میں آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر قومی ٹیم کے قائد بابر اعظم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    آسٹریلیا اننگز

    163 رنز کا ہدف مہمان ٹیم نے7 وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں حاصل کرلیا، اوپنر ٹریوس ہیڈ 26، جوش انگلس 24، مارنس لبوشین 2، مارکس سٹوئنس 23 اور کیمرون گرین 2 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، کپتان ایرون فنچ نے سب سے زیادہ 55 رنز کی اننگز کھیلی اور شاہین آفریدی کی گیند پر باؤنڈری پر کیچ دے بیٹھے، شان ایبٹ صفر پر شاہین آفریدی کی گیند پر ہی کلین بولڈ ہوگئے۔

    شاہینوں کی جانب سے عثمان قادر ، شاہین شاہ آفریدی، محمد وسیم جونیئر نے 2،2 ، حارث رؤف نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔

    آسٹریلیا نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، قومی ٹیم نے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر162 رنز بنائے، کپتان بابر اعظم 66 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹاس کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ون ڈے سیریز جیتنے والی ٹیم کے ارکان کو برقرار رکھا گیا ہے۔

    پاکستان کی اننگز

    پاکستان ٹیم کی بیٹنگ کا آغاز اچھا رہا، اوپنرز محمد رضوان اور کپتان بابر اعظم کے درمیان 67 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر رضوان 23 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جبکہ نئے آنے والے بیٹر فخر زمان کوئی رنز بنائے بغیر پویلین لوٹے۔

    تاہم اس دوران بابر اعظم نے دلکش اسٹروک لگائے اور نصف سنچری اسکور کی لیکن وہ بھی 46 گیندوں پر 66 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    اس کے علاوہ خوشدل شاہ نے24 اور افتخار احمد 13 رنز بناسکے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے نتھن الیس نے 4 شکار کیے جبکہ کمیرون گرین نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

    پاکستانی ٹیم میں کپتان بابراعظم، محمد رضوان، فخر زمان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علی، محمد وسیم، حسن علی، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی اور عثمان قادر شامل ہیں۔

    آسٹریلیا کی ٹیم میں کپتان ایرون فنچ، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلس ، مارنس لبوشین، مارکس اسٹونس، کیمرون گرین، بین میکڈرموٹ، سین ایبٹ، بین ڈارشوئس، ناتھن الیس اور ایڈم زمپا شامل ہیں۔

    خیال رہے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اب تک 24 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشل میچز کھیلے جاچکے ہیں جس میں پاکستان 12 اور آسٹریلیا کو 10 میچوں میں کامیابی حاصل ہوئی جب کہ 2 میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

     

     

    آخری بار دونوں ٹیمیں متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں مدمقابل ہوئے تھے جہاں آسٹریلیا نے پاکستان کو 5 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا اور پھر فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بن گیا تھا۔

    واضح رہے آسٹریلیا کے تاریخی دورہ پاکستان میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے ابتدائی دونوں میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے تھے تاہم لاہور میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی تھی جب کہ قومی ٹیم کو پہلے ون ڈے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اگلے دونوں میچز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے کر ایک روزہ سیریز اپنے نام کرلی تھی۔

  • لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    برطانیہ میں لائبریری کو ایک قدیم "لاطینی” کتاب 50 برس بعد واپس مل گئی-

    باغی ٹی وی : کتابوں کے شوقین افراد لائبریریوں میں جاکر مطالعہ کرتے ہیں علاوہ وہاں سے کتاب ایشو کرا کے گھر بھی لے جاتے ہیں، جو ایک خاص مدت کے لیے ہی دی جاتی ہے۔اس کے بعد جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے تاہم برطانیہ میں اس کے طرعکس ایک عجیب و غریب کہانی سامنے آئی ہے-

    عقابوں کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس وی آئی پی اسپتال

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں ایک نامعلوم شخص نے یونیورسٹی کالج لندن کی لائبریری کو 50 برس کے بعد ڈاک کے ذریعے کتاب واپس بھجوائی، اور ساتھ ایک خط بھی بھیجا۔


    جسے لائبریری کے آفیشل آکاونٹ پر شئیر کیا گیا ہے، شہری نے خط میں لکھا ہے کہ ’ڈیئر لائبریرین، یہ کتاب 50 برس تک واپس نہیں کی گئی مہربانی فرما کر اسے ردی کی ٹوکری میں نہ پھینک دینا، کیونکہ اب یہ نوادرات میں شامل ہو چکی ہے۔

    لائبریری کے مطابق ’10 پینس فی دن کے حساب سے اس کتاب پر ایک ہزار 254 برطانوی پاؤنڈز جرمانہ بنتا ہے۔

    بھارت میں دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    برطانوی اخبار کے مطابق یہ کتاب ایک ڈرامے ’کیورولس‘ کا 1875 کا ایڈیشن ہے جسے 1974 کے موسم گرما میں یونیورسٹی کالج لندن لائبریری کو واپس کیا جانا تھا۔

    لائبریرین سوزین ٹراؤ نے گھر سے 18 ماہ کام کرنے کے بعد لائبریری واپس آنے پر یہ کتاب دریافت کی، جسے گمنام طور پر واپس پوسٹ کیا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی میز پر بہت سی کتابیں ملی ہیں جن میں کوئی نوٹ نہیں ہے کہ یہ بتانے کے لیے کہ وہ کون ہیں یا انہیں کیوں بھیجی گئی ہیں۔

    یہ کتاب پانچویں صدی کی ایک مزاحیہ کہانی پر مشتمل ہے اور اس میں ایک جادوگر کی کہانی ہے جو اپنی وراثت کے ایک غریب آدمی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے لائبریری میں اس کے اور بھی کئی ایڈیشن موجود تھے، لیکن واپس کی گئی کتاب اصل 1875 کے ایڈیشن کی ہارڈ کاپی تھی۔

    یونانی اور لاطینی شعبے کے سربراہ پروفیسر گیسین مانوالڈ نے کہا: "”یہ حیرت انگیز ہے کہ UCL لائبریری کے ایک سابق صارف کی طرف سے اتنی وفاداری دیکھ کر کہ انہوں نے تقریباً 50 سال بعد ایک کتاب واپس لوٹائی-

  • مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    سری نگر:کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش غیر قانونی طور پر بھارت کےزیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پرجاری کشمیری نوجوانوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوںکی منظم نسل کشی جاری رکھے ہوئے تاکہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیاجاسکے ۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارتی افواج مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اورنہتے کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ جعلی مقابلوں کے دوران شہید کررہی ہیں تاکہ انہیں اپنی حق پر مبنی تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار کرنے پر مجبور کیا جاسکے ۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے ۔حریت ترجمان نے حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ قتل عام ، گرفتاریوں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتا۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء سید بشیر اندرابی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل پر زوردیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیاکہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن و سلامتی قائم نہیں کوہوسکتی۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں خصوصا نوجوانوں کا مسلسل قتل عام جاری ہے اور بھارت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیریوںکی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بشیر اندرابی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کی ضد اورہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی ہے جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرایا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

  • روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    سرینگر: بین الاقوامی تنظیموں کی روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بے دخلی پر مودی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق بھارت اوراسکےغیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سےروہنگیا مسلمان مہاجرین کی جبری بے دخلی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بدترین خلاف ورزی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق کی متعدد مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریوں اورجبری بے دخلی کو بی جے پی حکومت کے مسلم مہاجرین کے خلاف کریک ڈائون کا حصہ قراردیا ہے۔حال ہی میں، بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع رام بن میں 25 روہنگیا مسلمانوں کو گرفتارکیاتھا۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیا خواتین کی ملک بدری اور جموں میں روہنگیا مہاجرین کی گرفتاریوں پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مودی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھارت میں ہندوتوا گروپوں کے پرتشدد حملوں کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سخت نگرانی، جبری گرفتاریوں اورتفتیش کے علاوہ باربار پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیاجاتا ہے ۔ہندوتوا گروپ بھارت میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی جاری مہم کے دوران جموں میں روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    انسانی حقو ق کی ایک اور بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کی پالیسی سے اس کا مسلمانوں کے ساتھ تعصب ظاہر ہوتا ہے ۔