Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں  نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    واٹس ایپ نے گروپ وائس کال میں نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    کیلیفورنیا: دنیا بھر کی معروف ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنی گروپ وائس کال میں متعدد نئے فیچرز اپ ڈیٹ کردیئے۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ سےآئی فون پر واٹس ایپ ڈیٹامنتقلی کے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی تھی اب ایپ کی جانب سے گروپ وائس کال میں نئی تبدیلیاں سامنے لائی گئیں ہیں گروپ کال فیچر میں نئے ٹولز شامل کرنے کا مقصد گفتگو کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنا ہے۔

    واٹس ایپ پر دوستوں کیساتھ ماضی کے بہترین گیمزکھیلیے

    تبدیلیوں کے بعد اب جب کوئی شخص گروپ وائس کال میں شامل ہوگا تو ایک بینر نوٹی فیکیشن ظاہر ہوگا جو یہ بتائے گا کہ کوئی شخص کال میں شامل ہوا ہے یہ بڑی چیٹس میں بھی ہوگا اور تب بھی ہوگا اگر کسی کا نام اسکرین پر ظاہر ہونے والی لسٹ میں موجود نہ ہو۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز متعارف کرا ئی جس کو استعمال کرتے ہوئے اب صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ جس کو چاہیں گے اس کو اپنی پروفائل پکچر، اپنے متعلق معلومات، لاسٹ سین اور واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھائیں گے-

    حالیہ ٹویٹ میں واٹس ایپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ کمپنی نے اپنے صارفین کے لیے سخت پرائیویسی کنٹرول سیٹنگز جاری کردیں ہیں۔ اب تک صارفین اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس، لاسٹ سین اور اپنے متعلق معلومات پر تین قسم کی پرائیویسی کا اطلاق کر سکتے ہیں 1) سب کے دیکھنے کے لیے دستیاب، 2) صرف آپ کے کانٹیکٹس دستیاب 3) مکمل طور پر پوشیدہ۔

    واٹس ایپ میں نئی سیکیورٹی خامی کی نشاندہی ،لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس نشانے پر

    لیکن اب ایک نیا آپشن شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق صارف اپنے کچھ کانٹیکٹس سے اپنی پروفائل پکچر وغیرہ پوشیدہ رکھ سکیں گے جبکہ یہ سب چیزیں باقیوں کے لیے عیاں رہیں گی۔ یہ بلیک لسٹ کرنے کی ہی ایک نئی شکل ہے ان سیٹنگز کے لیے اسکرین پر اوپری حصے میں دائیں جانب تین نقطوں پر ٹیپ کریں، سیٹنگز میں جائیں پھر اکاؤنٹ میں اور پھر پرائیویسی میں جاکر سیٹننگ کر لیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے یہ نیا فیچر گزشتہ برس بِیٹا ٹیسٹرز کے لیے جاری کیا گیا تھا لیکن اب کمپنی نے یہ فیچر عام صارفین کے لیے جاری دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ جلد ایک اور فیچر بھی متعارف کرائے گا جس میں دیگر لوگوں کی آواز بند کی جاسکے گی اس کا مطلب ہے کہ کال میں شامل افراد کے اطراف سے آنے والے شور کو بھی خاموش کرایا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کے مالک مارک زکر برگ خود کونسی ایپ استعمال کرتے ہیں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  • دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    کیلیفورنیا: دنیا کے سب سے بڑے آزمائشی طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے،طیارہ بنانے والی کمپنی Stratolaunch نے بھی ایک پریس ریلیز میں اس پرواز کے دوران چند اور پرزوں کی کامیاب جانچ کی تصدیق کی-

    باغی ٹی وی : کمپنی کے بانی پال ایلن کے انتقال کے بعد Roc کی پہلی پرواز کے بعد اسٹریٹولانچ کا مستقبل مشکوک تھا مائیکروسافٹ کے شریک بانی ایلن نے کمپنی کا آغاز زمین کے نچلے مدار میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے مقصد سے کیا جب ہوائی جہاز اسٹراٹاسفیئر میں تھا، جس کا مظاہرہ ورجن آربٹ نے 2021 کے اوائل میں کیا تھا۔

    نئی ملکیت کے تحت چند سال، اسٹریٹو لانچ نے چھوٹے سیٹلائٹس سے دور رہنے کے لیے کافی محور بنایا، اس کے بجائے ہائپرسونک ریسرچ گاڑیاں لانچ کیں۔ پچھلے سال کے آخر میں، کمپنی نے فوج کے لیے ہائپرسونک فلائٹ ٹیسٹ کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اب وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    385 فٹ (117 میٹر) کے پروں کے ساتھ،راک اس وقت دنیا کا سب سے بڑا طیارہ ہ۔اس بار ساتویں آزمائشی پرواز میں ایک نئے نصب شدہ سہارے کی جانچ بھی تھی جسے انجن سے جوڑا گیا تھا اس نئے پائلن یا سہارے سے جڑا ایک چھوٹا طیارہ چھوڑا جائے گا جو آواز سے پانچ گنا رفتار پر اڑان بھرے گا-

    تاہم یہ آزمائش اگلے مراحل میں کی جائے گی اسٹریٹو لانچ نامی اس مشین کو انسانوں کی بجائے راکٹ اور سیٹلائٹ کو اسٹریٹو سفیئر میں چھوڑنے میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کی قوت کا اندازہ یوں لگائیے کہ اس میں بوئنگ کے چھ انجن نصب ہیں اور اسے ہائپرسونک چھوٹے طیاروں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    دوبارہ قابل استعمال گاڑی، Talon-A کے پروں کا پھیلاؤ 11.3 فٹ (3.4 میٹر) ہے اور اس کی لمبائی 38 فٹ (8.5 میٹر) ہے۔ لانچ گاڑی میں مختلف قسم کے ریسرچ پے لوڈز لگائے جا سکتے ہیں جو کہ پھر Mach 5 – Mach 10 کی رفتار کے درمیان سفر کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے پچھلے سال دسمبر میں رپورٹ کیا تھا۔

    اگلے چند مہینوں میں، کمپنی نے کچھ اچھی پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں اپنی ساتویں فلائٹ کی ہے۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    تین گھنٹے سے زائد ایک منٹ تک جاری رہنے والی پرواز کے دوران راک نے 27,000 فٹ (8,200 میٹر) کی بلندی پر بھی اڑان بھری۔ یہ 15,000 فٹ (4,572 میٹر) سے ایک بڑی پیشرفت ہے جس تک ہوائی جہاز اپنی آخری پرواز کے دوران پہنچا تھا۔ Talon A کی لانچیں 35,000 فٹ (10,000 میٹر) کی کروزنگ اونچائی پر ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    اسٹریٹو لانچ کو توقع ہے کہ وہ 2023 میں اپنے صارفین کے لیے ہائپرسونک ٹیسٹنگ سروسز شروع کرے گا۔

    اس کا پہلا ورژن 2020 میں سامنے آیا تھا جسے ٹیلون ون کا نام دیا گیا تھا جو فوری طور پر آواز سے تیزرفتار بار بار فلائٹس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ معمول کے رن وے سے اڑ اور اترسکتا ہے۔ اب اس میں ٹا او نام کا ایک چھوٹا طیارہ لگایا گیا ہے جس کا وزن 3600 کلوگرام اور لمبائی 14 فٹ ہے۔

    اس طرح بڑا طیارہ چھوٹے طیارے کو چپکا کر ایک خاص بلندی اور رفتار تک جائے گا اور اس کے بعد وہاں سے چھوٹے طیارے کو لانچ کیا جائے گا۔ ساتویں آزمائشی پرواز میں اسے امریکا کے مشہور موحاوے صحرا سے اڑایا گیا اور وہ 8200 میٹر کی بلندی تک جاپہنچا۔

    واشنگٹن:سعودی سفارتخانے کی سڑک کا نام تبدیل کر کے’جمال خاشقجی وے‘ کر دیا گیا

  • کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    کیا ہائرایجوکیشن کمیشن ایم فل اور ایم ایس داخلہ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی؟

    ہائرایجوکیشن کمیشن نے تمام جامعات سے وابستہ کالجز میں ایم ایس اور ایم فل کے داخلوں پر پابندی لگادی جسکے سبب اب ان کالجز سے ایم فل اور ایم ایس پرواگرام نہیں ہوسکیں گے لہذا اب طلبہ کو جامعات میں سے ہی ایم ایس، ایم فل کی ڈگری کرنی گی۔
    اسلام آباد کے رہائشی طالب علم محمد رضوان نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایچ ای سی میں پروفیشنل لوگ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق ہوکر رہ گیا ہے اور اب انہوں نے جامعات سے وابستہ کالجز سے ایم ایس اور ایم فل کی ڈگری کرنے پر پابندی تو لگا دی لیکن ان طلبہ کا نہیں سوچا جو دوردراز علاقوں میں رہتے ہیں اور انکے قریب صرف کالج کی سہولت موجود ہے جبکہ جامعات ان سے کافی دور ہیں۔ لہذا میرا ایچ ای سی سے سوال ہے کہ اب ان طلبہ کا کیا بنے گا؟

    ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد سلطان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ہائرایجوکیشن کمیشن نے کالجز کی سطح پر ایم ایس اور ایم فل پروگرامز پر پابندی لگا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس ڈگری میں ریسرچ اور کورس ورک کیلئے جس قسم کے معیار کی ضرورت ہوتی ہے وہ کسی کالج میں برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جو معیار ایک جامع فراہم کرسکتی ہے وہ کالج میں مشکل ہے۔

    پروفیسر خالد سلطان نے مزید بتایا کہ: ایچ ای سی کے اس فیصلہ سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ خوش نہیں ہونگے کیونکہ ہر ایک کے قریب جامع نہیں ہوتی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایچ ای سی ایم ایس اور ایم فل کے داخلہ پر پابندی کے اس فیصلے کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں کیونکہ بعض اوقات ایسے فیصلوں سے کالجز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے جانب سے دباو آتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ لیکن جس قسم کے معیار کی ان ڈگریوں کیلئے ضرورت ہوتی ہے اسے برقرار رکھنا بھی ایچ ای سی کی ذمہ داری ہے۔

    اس سلسلے میں باغی ٹی وی نے ایچ ای سی کا موقف لینے کیلئے کوشش کی مگر ایچ ای سی ہیڈ آفس اسلام آباد میں کسی سے رابطہ نہ ہوسکا۔

  • یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی کرائی گئی نکاح خواں نے باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا-

    باغی ٹی وی : یمن میں ایک بلی اور بلے کی شادی اور ان کا باقاعدہ نکاح خواں کے ذریعےنکاح پڑھے جانےکی ہےخبرنےلوگوں کوحیران کر دیا ہےبلی اوربلی کےنکاح اور شادی کی تقریب کا واقعہ المعلا ڈاریکٹوریٹ میں ہوا بلی اور بلے کی شادی کی تقریب میں پڑوسیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


    یمن میں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں بلی اور بلی کی شادی اوران کے نکاح کی تقریب دیکھی جا سکتی ہے اس ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کےبعد سوشل میڈیا پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے نر اور مادہ بلیوں کے درمیان نکاح کا معاہدہ پڑھتے ہوئے دکھایا گیا اور اختتام پر نکاح فارم پر دونوں کے پنجے لگوائے گئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق تقریب سے قبل شادی کے معاہدے میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ چھپایا گیا۔ دعوت نامہ اسی علاقے کے متعدد قریبی لوگوں میں تقسیم کیے گیا۔اس واقعے نے کچھ لوگوں کی مخالفت کے باوجود بہت سے لوگوں نے اس کی حمایت کی نکاح کی تقریب کے لیے ایک مجاز نکاح خواں کو دعوت دی گئی اور نکاح فارم پر بلی اور بلے کے دستخط بھی ثبت کرائے گئے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا بعض صارفین نے اس نکاح پر تنقید کی جب کہ بعض نے اسے مزاحیہ واقعہ قرار دیا۔ کچھ لوگوں نے بلی اور بلے کی شادی کی تقریب منعقد کرنے پر منتظمین اور نکاح خوان کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ناقدین نے انسانوں اور حیوانوں کا موازنہ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور نکاح پڑھنے والے مولوی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • آئین کی پاسداری اور سربلندی کا عہد

    آئین کی پاسداری اور سربلندی کا عہد

    یہ ایک حقیقت ہے کہ افواج پاکستان نہ صرف ملکی دفاع کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اس کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن کے حصے کے طور پر علاقائی اور عالمی امن کے لیے قربانیاں دینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ حال ہی میں افریقی ملک کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دیتے ہوئے پاک فوج کے افسران اور جوان فضائی حادثے میں شہید ہو گئے۔ پاک فوج ملک میں امن و امان برقرار رکھنے اور ریاست کے خلاف کسی بھی انتشار کو روکنے کے لیے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتی ہے۔

    حال ہی میں جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک میجر اور ایک جوان شہید ہوگئے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں 7 اہلکار شہید جب کہ مقابلے میں 4 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ وطن کے دفاع اور تحفظ کے لیے پاک فوج کے بے پناہ جذبے اور قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہماری سیاسی قیادت ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ خوش آئند پیش رفت ہے کہ ملک کی عسکری قیادت نے پاکستانی افواج کو ملکی سیاسی معاملات سے لاتعلق رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا اور سیاستدانوں سے کہا کہ وہ اپنے تنازعات اور مسائل اپنے اپنے فورم پر حل کریں۔ کچھ قوتوں نے ملک کے ریاستی اداروں کی توڑ پھوڑ کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جس کا حکومت اور اداروں نے فوری اور سخت نوٹس لیا اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ریاستی اداروں اور عوام میں تقسیم پیدا کرنے کی پروپیگنڈہ مہم کا بھی نوٹس لیا گیا اور واضح پیغام دیا گیا کہ پوری فوج آئین اور قانون کی پاسداری کر رہی ہے۔ملکی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ خب دار کرنے کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن شیطانی مہم جاری ہے۔ اس ساری صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔پاک فوج ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے ہمہ وقت چوکس اور تیار ہے۔ عوام کی حمایت ہی فوج کی طاقت کا ذریعہ ہے اور اس کے خلاف کسی قسم کی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ بے بنیاد بدتمیزی اور الزام تراشی کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد عوام اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے جو کامیاب نہیں ہو گی۔تاہم، ایسے الزامات کو روکنا چاہیے جو اداروں اور بین الاقوامی تعلقات کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن یا کسی بھی سیاستدان کو قانونی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے قانون کے خلاف مہم چلانے کا حق حاصل ہے لیکن حد سے تجاوز کرنا ملکی نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

    مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے قومی مسائل پر پریس بریفنگ ایسے وقت میں دی گئی جب کچھ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے ملکی قیادت کے بارے میں گھناؤنا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف بعض قومی معاملات پر بعض سیاسی جماعتیں ایسے تبصرے کر رہی ہیں جس سے اداروں کا امیج خراب ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس صورتحال میں میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس سے عوام میں واضح پو گیا ہے کہ یہ محض الزامات ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کے سیاسی دھڑے معزز سابق فوجیوں کے جعلی آڈیو پیغامات اپ لوڈ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسلح افواج پر بے جا تنقید سب سے زیادہ اقتدار جانے والی پارٹی کی جانب سے کی جا رہی ہے اور جھوٹ، پروپیگنڈہ میں اپنے لیڈر کی طرح انکے کارکنان نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی، پروپیگنڈہ اتنا کیا جاتا ہےکہ شاید اسکو لوگ سچ ماننے پر مجبور ہو جائیں، افواج پاکستان ملکی دفاع کی ضامن ہیں، ملکی سلامتی کے اداروں پر بے جا تنقید کرنا دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل ہے، پاکستان جن حالات میں ہے ایسے میں پاک فوج کے شانہ بشانہ چلنے کی ضرورت ہے ، سیاست تو ہوتی ہی رہے گی لیکن خدارا اپنے سیاسی مفادات کے لئے اداروں کو بدنام کرنے والا کام چھوڑ دیں،

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    سائنسدانوں نے انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن وبا سیاہ موت یا ببونک طاعون کے آغاز کا معمہ لگ بھگ 700 سال بعد حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دی گارجئین کی رپورٹ کے مطابق محققین کا خیال ہے کہ انہوں نے بلیک ڈیتھ کی ابتدا کا تقریباً 700 سال پرانا معمہ حل کر لیا ہے، جو کہ ریکارڈ شدہ تاریخ کی سب سے مہلک وبا ہے، جو 14ویں صدی کے وسط میں یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ میں پھیلی تھی اور کروڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    ویسے تو طاعون اس سے بھی زیادہ پرانا مرض ہے مگر 14 ویں صدی میں اس کی ایک قسم ببونک طاعون نے تباہی مچائی تھی اور ممکنہ طور پرتجارتی راستوں کے ذریعے ایک سے دوسرے خطے تک پہنچی اس وقت سے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اس وبا کا آغاز کہاں سے ہوا مگر ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث جواب نہ مل سکا۔

    مگر اب سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ہم نے وبا کے آغاز کے مقام کو تلاش کرلیا ہے جس کو انہوں نے حیران کن دریافت قرار دیا ہے لیپزگ میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات کے پروفیسر جوہانس کراؤس نے کہا کہ ہم نے بنیادی طور پر وقت اور جگہ میں اصل کا پتہ لگایا ہے، جو واقعی قابل ذکر ہے ہمیں نہ صرف بلیک ڈیتھ کا آباؤ اجداد ملا ہے، بلکہ طاعون کی اکثریت کا اجداد بھی ملا ہے جو آج دنیا میں گردش کر رہے ہیں۔

    سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے مل کر اس وقت کام شروع کیاجب اسٹرلنگ یونیورسٹی کےایک تاریخ دان ڈاکٹر فلپ سلوین نے کرغزستان کےایک علاقے میں 1330 کی دہائی کے اواخر میں جدید دور کے شمال میں اسیک کل جھیل کے قریب دو قبرستانوں میں اموات میں اچانک اضافے کے شواہد دریافت کیے۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    1248 اور 1345 کے درمیان 467 مقبروں کے پتھروں میں سے، سلاوین نے موت میں بہت زیادہ اضافہ کا پتہ لگایا، 118 پتھروں کی تاریخ 1338 یا 1339 تھی۔ کچھ مقبروں پر لکھی ہوئی

    لیک اسیک کول نامی علاقے کے 2 قبرستانوں میں 1248 سے 1345 کے درمیان کے 467 کتبوں کا مشاہدہ کرنے پر ڈاکٹر فلپ نے دریافت کیا کہ 1330 کی دہائی میں وہاں اموات کی شرح میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا 1338 یا 1339 صدی عیسوی کے 118 کتبے وہاں موجود تھے کچھ کتبوں پر تحریروں میں موت کی وجہ "موتنا” کے طور پر ذکر کی گئی تھی، جو کہ "پیسٹیلنس” کے لیے شامی زبان کی اصطلاح ہے-

    اس مقام پر مزید تحقیق سے انکشاف ہوا کہ 1880 کی دہائی میں اس علاقے میں کھدائی کے دوران 30 ڈھانچوں کو قبروں سے نکالا گیا تھا اس کھدائی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دورانچھ باقیات کا سراغ لگایا اور انہیں نے ڈھانچوں کی کچھ باقیات کو دریافت کیا ڈائریوں کا مطالعہ کرنے کے بعد،قبرستانوں کے مخصوص مقبروں سے جوڑ دیا۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    اس کے بعد یہ تفتیش قدیم ڈی این اے کے ماہرین کے حوالے کر دی گئی، جن میں کراؤس اور جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبنگن میں ڈاکٹر ماریا سپائرو شامل ہیں جرمنی کے قدیم ڈی این اے کی جانچ پڑتال میں مہارت کرنے والے سائنسدانوں نے 7 ڈھانچوں کے دانتوں میں موجود جینیاتی مواد کا جائزہ لیا ان میں سے 3 میں Yersinia pestis نامی بیکٹریم کے ڈی این اے کو دریافت کیا گیا جو ببونک طاعون کا باعث بنتا ہے۔

    بیکٹریم کے جینوم کا مکمل تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اسی بیکٹریم سے طاعون کی وہ قسم بنی تھی جو کرغزستان سے 8 سال بعد دنیا بھر میں پھیل گئی تھی اس وبا کےنتیجےمیں براعظم یورپ کی 50 فیصد آبادی ہلاک ہوگئی تھی اب طاعون کی اس قسم سے ملتی جلتی قسم کرغز ستان کے چوہوں میں پائی جاتی ہےجبکہ لوگ اب بھی بوبونک طاعون سےمتاثر ہوتے ہیں، مگر اب بہتر حفظان صحت کی وجہ سے لوگوں میں اس جان لیوا بیماری کے کیسز کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں 2010 سے 2015 کے دوران اس بیماری کے 3248 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 584 مریض ہلاک ہوگئے تھے اس کو سیاہ موت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد کے مختلف اعضا جیسے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں سیاہ ہوجاتے تھے-

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    مصر میں ایک عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش ہوئی جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ عجیب وغریب واقعہ مصر کی غربیہ گورنری کے السنطہ سینٹر کے گاؤں رجبیہ میں سامنے آیا گاؤں میں 3 آنکھوں، دو جبڑوں، دو زبانوں، دو کان اور ایک دماغ والے بچھڑے کی پیدائش پر لوگ حیران ہیں۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    بچھڑے کا سر تو ایک ہی ہے مگر اس کی تین آنکھیں اور دو زبانیں ہیں پیدائش کے بعد بچھڑے کو ایک ہفتے تک نگرانی میں رکھا گیا۔ دو زبابوں کی وجہ سے اسے کوئی چیز پینے یا نگلنے میں دشواری کا سامنا تھا۔

    غربیہ میں ویٹرنری میڈیسن کے ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ کیس جنین کی غیر معمولی نشوونما کی وجہ سے ہوا ہے ماں گائے کسی بھی پیدائشی نقص کا شکار نہیں تھی اس حالت کی اصل وجوہات کا سائنسی طریقے سے پتا چلانے کے لیے الحال مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    قبل ازیں بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے راج نند گاؤں میں گائے نے تین آنکھوں والے بچھڑے کو جنم دیا تھا عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش کی خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی تھی اور لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے جبکہ کچھ لوگوں نے اس کی پوجا بھی شروع کردی تھی مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ علاقہ میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے جس میں ایک بچھڑا تین آنکھوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے ۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

  • امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    نائن الیون کے واقعے نے دنیا کا سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ افغانستان میں امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کو خطے کے کسی بھی ملک سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے 80,000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تقریباً 150 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ بڑی قربانیوں اور بھاری نقصان کے باوجود، امریکہ اور مغرب نے ہمیشہ ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے حملوں کی زد میں رہا۔

    دوسری جانب امریکا نے 2004 سے 2018 تک پاکستان کے اندر ڈرون حملے کیے ہیں جن میں سیکڑوں بے گناہ شہری مارے گئے۔ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد جب امریکا کو معلوم ہوا کہ وہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتے تو امریکا نے پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست کی تھی۔ پاکستان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دسمبر 2018 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جس نے 2020 کے امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔ پاکستان نے نہ صرف افغانستان میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے بلکہ ملک میں دو دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی حمایت بھی کی ہے۔ .

    پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن آئے گا۔پاکستان چین کے پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک میں اقتصادی ترقی، تجارت اور رابطے چاہتا ہے جو خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اگرچہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا۔ طالبان کی جانب سے پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر متعدد بار باڑ لگانے سے پاکستان میں غصہ پیدا ہوا ہے لیکن پاکستان نے پرسکون اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔ دوسری جانب پاکستان دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے اور افغانستان کی تباہ کن صورتحال کو بچانے کے لیے افغانستان کو معاشی مدد کرے۔یہ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے اور افغانستان میں امن کی کوششیں جاری رکھے۔

    دسمبر 2021 میں، پاکستان نے افغانستان کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کے لیے افغانستان پر ایک روزہ OIC اجلاس کی میزبانی کی، جس میں چین، امریکا، روس، اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ. پاکستان ہمیشہ اقتصادی رابطوں اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتا ہے جو خطے بالخصوص افغانستان میں امن و سلامتی لانے کی بنیاد ہے سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکی بلاک میں تھا اور روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے۔ اب پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اعلیٰ سطح پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے روس کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری واضح طور پر روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغرب نے پاکستان پر روس کی مذمت کے لیے دباؤ ڈالا لیکن پاکستان نے کسی کا ساتھ نہیں لیا اور امید ظاہر کی کہ "سفارت کاری فوجی تنازعہ کو ٹال سکتی ہے”۔ پاکستان یوکرین میں پرامن اور مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ اب پاکستان دوسرے تنازعات یا جنگوں میں الجھنا نہیں چاہتا۔پاکستان امریکہ، روس، مغرب اور باقی دنیا کے ساتھ باہمی احترام اور بغیر کسی نقصان کے اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت اور افغانستان کی صورتحال کی بدلتی ہوئی متحرک صورت حال پاکستان کے لیے تمام علاقائی اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے بغیر کسی بلاک میں شامل ہوئے یا تیسرے ملک کے تنازع میں ملوث ہوئے پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بین الاقوامی تنازع کا فریق نہیں بنے گا بلکہ امن میں شراکت دار بنے گا۔ پاکستان ہمیشہ بھارت کے ساتھ باہمی ،خوشگوار اور پرامن تعلقات چاہتا ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بارہا کہا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔ لیکن یہ خواہش بھارت کے جارحانہ رویے کی وجہ سے پاکستان اپنے وعدوں تک نہ پہنچ سکی۔

    2019 میں جب پاکستان نے اپنے مگ 21 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بعد ہندوستانی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو پکڑ لیا، تو اسے جذبہ خیر سگالی کے طور پر اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اس بڑے قدم سے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو دیکھ سکتے ہیں جہاں لوگ اچھا وقت گزار رہے ہیں، کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری بار جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ سال 25 فروری 2021۔ 18 سالوں میں پہلی بار بین الاقوامی سرحد پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک بار پھر 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے انتظامات کا عہد کیا تھا اور ان ‘بنیادی مسائل’ کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا جو "امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں”۔ امن اور ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششیں نئی ​​نہیں ہیں اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے 1970 کی دہائی میں چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جب 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دورہ چین کا اہتمام پاکستان نے کیا تھا۔ چین کے دورے پر 2022 کے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان چین اور امریکا کو ساتھ لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ’’ایک اور سرد جنگ‘‘ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو اس نے 1970 کی دہائی میں ادا کیا تھا جب اس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پاکستان نے نہ صرف اپنی سابقہ ​​حکومت بلکہ موجودہ حکومت میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہماری ثالثی نہیں رکی اور ہم آہستہ آہستہ ترقی کر رہے ہیں۔اب پاکستان نے 22-23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48 اجلاس "اتحاد، انصاف، امن، سلامتی اور ترقی کے لیے شراکت داری” کے لیے بلائے تھے۔ پاکستان ہمیشہ OIC کو مسلم دنیا کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ او آئی سی کی اس کانفرنس میں پاکستان نے کشمیر، فلسطین اور افغان انسانی بحرانوں کے پرامن حل کے لیے حمایت کا مطالبہ کیا۔او آئی سی کانفرنس کا ایک اور پہلو ’اسلامو فوبیا‘ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا کیونکہ یہ قدم پاکستان نے اٹھایا تھا۔

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران یہ اقدام اٹھایا، جس کے نتیجے میں ‘اسلامو فوبیا’ کو مذہبی اور نسلی امتیاز کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ روس اور چند دیگر ممالک نے پاکستان کی کوششوں اور اس کے موقف کی تائید کی ہے۔ اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا ہے۔ پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کے کردار کو بیرون ملک اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کی شرکت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہندوستان اور ایتھوپیا کے بعد اقوام متحدہ کی امن کی کوششوں میں فوجیوں کا تیسرا سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستانی فوجی اب تک 28 ممالک میں 60 مشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی قیام امن میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔پاکستانی افواج نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ ایک دہائی طویل جنگ لڑی۔ امن کی خاطر، پاکستان کی حکومت نے طالبان حکومت سے پاکستانی قانون کے دائرہ کار کے تحت پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کرنے کو کہا، لیکن ٹی ٹی پی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اگرچہ ایک عبوری جنگ بندی کی گئی تھی لیکن ان کے سخت مطالبات کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔پاکستان کی امن کے لیے کوششوں اور عزم کا اندازہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کے طور پر اس کے پیشہ ورانہ رویے سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے اس اہم وقت پر بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا، جب 9 مارچ 2022 کو بھارت سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں ایک میزائل داغا گیا۔ جوہری فلیش پوائنٹ کئی بھارتی مصنفین اور دفاعی ماہرین نے واقعے کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور میڈیا اس وضاحت کو قبول کر لیتا؟پاکستان نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں امن چاہتا ہے، امن کے لیے پاکستان اپنی صلاحیت اور بوجھ سے بڑھ کر سب کچھ کر رہا ہے۔ اب پاکستان محفوظ ہے، اور پاکستان میں سیاحت اور بین الاقوامی کرکٹ واپس آگئی ہے۔ غیر ملکی کہیں بھی جا سکتے ہیں اور بے خوف رہ سکتے ہیں۔ پاکستان کی امن کی خواہش کا مطلب پاکستان کی کمزوری نہیں ہے۔ یہ وہ خواہش ہے جو سرحد پار بسنے والے لاکھوں لوگوں کی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے امن کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ بھاری قیمت ادا کی ہے۔

  • برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    لندن: برطانیہ میں نورفوک کے ساحل پر ڈوبنے والے جہاز ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کوبالآخر 340 سال بعد دریافت کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ” ڈیلی میل "کے مطابق ایک شاہی جنگی جہاز کا ملبہ جو 340 سال قبل مستقبل کے بادشاہ جیمز II کو لے کر ڈوب گیا تھا اسے شوقیہ غوطہ خوروں نے دریافت کیا ہے نارفولک کے ساحل پر ایچ ایم ایس گلوسٹر کی دریافت کو 1970 کی دہائی میں میری روز کی دریافت کے بعد سب سے بڑی سمندری تلاش کے طور پر سراہا گیا ہے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    6 مئی 1682 کو یہ دیو ہیکل جہاز نورفوک میں بحیرہ نارتھ کے جنوب میں ایک ریت کے ٹیلے سے ٹکرانے کے بعد غرقاب ہوا تھاجہاز کو گریٹ یرماؤتھ کے ساحل سے 28 میل کے فاصلے سے دریافت کیا ہے جہاں یہ آدھا سمندر کی سطح میں دھنسا ہوا تھا لیکن اس تلاش کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

    ملبے کو تلاش کرنے کی کوششیں، بھائیوں جولین اور لنکن بارن ویل کی قیادت میں، 5,000 سمندری میل پر محیط چار سال کی تلاش کے بعد کامیاب ثابت ہوئی۔

    جہاز پر موجود نوادرات کی نمائش کے لیے منصوبے جاری ہیں جنہیں زمین پر لایا گیا ہے، بشمول کپڑے، شراب کی بوتلیں اور جہاز کی گھنٹی، جو حتمی طور پر اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ یہ ملبہ گلوسٹر تھا۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    یہ نمائش جو مشترکہ طور پر یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اور نورفولک میوزیم سروس کے ذریعہ تیار کی گئی ہے – اگلے سال موسم بہار سے نورویچ کیسل میوزیم اور آرٹ گیلری میں پانچ ماہ کے لیے منعقد کی جائے گی-

     

    جہاز خود بکھرا ہوا ہے اور اب بھی سمندری فرش پر ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال باقیات کے کسی حصے کو زمین پر لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر برطانوی سیاسی تاریخ میں ایک ‘تقریباً’ لمحے کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس نے پروٹسٹنٹ تخت کے کیتھولک وارث کی موت کے قریب سیاسی اور مذہبی تناؤ کے وقت ہوا تھاجیمز سٹورٹ، بعد میں انگلینڈ کے جیمز II، جو برطانیہ کے آخری کیتھولک بادشاہ ہوں گے، ڈوبنے سے بچ گئے لیکن تقریباً 250 ملاح اور مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کی بڑی وجہ اس کے اعمال تھے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    جیمز بمشکل زندہ بچ سکے، آخری لمحات تک جہاز کو چھوڑنے میں تاخیر کرتے ہوئے، جہاز میں موجود 130 سے ​​250 کے درمیان لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو پروٹوکول کی وجہ سے، رائلٹی سے پہلے جہاز کو ترک نہیں کر سکے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کا شمار ان ہزاروں جہازوں میں ہوتا ہے جن کا ملبہ برطانوی ساحلوں پر پھیلا ہواہے اور ان میں سے اکثریت کو صدیوں سے انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے ہِسٹارک انگلینڈ کے مطابق برطانیہ کے ساحل پر اندازاً 40 ہزار جہازوں کا ملبہ دریافت کیے جانے کے انتظار میں ہے۔

    لیکن ان میں کم از کم 90 ایسے ہیں جن کی موجودگی کے متعلق علم ہے اور ماہرین نے ان کی اصل جگہوں کا تعین کیا ہے۔ البتہ ان میں کئی جہاز ایسے ہیں جو زمین پر نہیں لائے جاسکیں گے اور آئندہ دہائیوں میں ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی