Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    اسلام آباد:دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے یہود مخالف لیکچرز کو بنیاد بناکر پاکستان کے معروف اسکالر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کا یوٹیوب چینل بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً 3 ملین (30 لاکھ ) کے قریب تھی اور پوری دنیا سے لاکھوں لوگ ان کے لیکچرز سے مستفید ہوتے اور انھیں سراہتے تھے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کو بند کرنے کا فیصلہ یہودی اخبار’’ جیوش کرونیکل‘‘ میں ان کے خلاف مختلف رپورٹس شائع ہونے کے بعد کیا۔

    رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ٹیکساس میں یہودی عبادت خانے کو یرغمال بنانے والا پاکستانی نژاد برطانوی ملک فیصل اکرام ڈاکٹر اسرار کے لیکچرز سے متاثر تھا۔

    یوٹیوب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے دو چینلز کو نفرت انگیز اور تشدد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بند کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار احمد آفیشل یوٹیوب چینل کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کی بدترین شکل قرار دیا کہا کہ یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا-

    امیر شجاع الدین شیخ کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے اس شرمناک فعل کے جواب میں تنظیم اسلامی نے متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    واضح رہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد ایک پاکستانی معروف اسلامی محقق تھے، جو پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور امریکا میں اپنا دائرہ اثر رکھتے تھے۔ وہ تنظیم اسلامی کے بانی تھے، جو پاکستان میں نظام خلافت کے قیام کی خواہاں ہے۔

    گوگل پر جاری وکیپیڈیا کے مطابق ڈاکٹراسرار 26 اپریل، 1932ء کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1954ء میں انہوں سے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1965ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔ آپ نے 1971ء تک میڈیکل پریکٹس کی۔

    دوران تعلیم آپ اسلامی جمیت طلبہ سے وابستہ رہے اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی تاہم جماعت کی انتخابی سیاست اور فکری اختلافات کے باعث آپ نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی اور اسلامی تحقیق کا سلسلہ شروع کر دیا اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے وہ بانی قائد مقرر ہوئے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    1981ء میں آپ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسی سال ستارہ امتیاز سے نوازا آپ مروجہ انتخابی سیاست کے مخالف تھے اور خلافت راشدہ کے طرز عمل پر یقین رکھتے تھے آپ اسلامی ممالک میں مغربی خصوصاً امریکی فوجی مداخلت کے سخت ناقد تھے۔

    تنظیم اسلامی کی تشکیل کے بعد آپ نے اپنی تمام توانائیاں تحقیق و اشاعت اسلام کے لیے وقف کردی تھیں۔ آپ نے 100 سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے کئی کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ آپ نے ‍قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئی جامع کتابیں تصنیف کیں۔

    مشہور بھارتی مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ان کے قریبی تعلقات تھے اسی ضمن میں انہوں نے بھارت کے کئی دورے بھی کیےعالمی سطح پر آپ نے مفسر قران کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں آڈیو، ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جن کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا صحیح تشخص ابھارنے میں وہ اہم ترین کردار ادا کیا جو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

    سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ…

    ڈاکٹر اسرار احمد نے کبھی بھی تشدد کی تبلیغ نہیں کی، وہ ہمیشہ اپنے سننے اور پڑھنے والوں کو دینی و دنیاوی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی ترغیب دیتے تھے انھیں نہ صرف تاریخ پر مکمل عبور حاصل تھا بلکہ وہ حالات حاضرہ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور اپنی بصیرت سے آنے والے وقت کا درست نقشہ پیش کرتے تھے۔

    انھوں نے اپنے ویڈیو لیکچرز میں یہود کی مکمل تاریخ، ان کی چالبازیاں اور ان کے مستقبل کے ممکنہ عزائم بڑی تفصیل سے بیان کر رکھے ہیں۔

    ڈاکٹر اسرار کے چینل کے ایک پارٹنر آصف حمید کے مطابق ڈاکٹر اسرار کی یہ تقاریر اب کی تو نہیں ہیں، وہ کئی سال پرانی ہیں۔ وہ قرآن و احادیث کی روشنی میں بات کرتے تھے۔ قرآن میں جو یہودیوں کا ذکر ہے اس کا حوالہ دیتے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کو بھڑکانے کی بات نہیں کی۔ ہمارے احتجاج بھی پرامن ہی ہوتے ہیں۔ تنظیم اسلامی قانون کو ہاتھ میں لینے کے ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی تصانیف میں لفوظات ڈاکٹر اسرار احمد، اصلاح معاشرہ کا قرانی تصور، نبی اکرم سے ہماری تعلق کی بنیادیں
    توبہ کی عظمت اور تاثیر، حقیقت و اقسام شرک، قرآن کے ہم پر پانچ حقوق، اسلام اور پاکستان، علامہ اقبال اور ہم، استحکام پاکستان، مسلمان امتوں کا ماضی, حال اور مستقبل، پاکستانی کی سیاست کا پہلا عوامی و ہنگامی دور شامل ہیں-

    ڈاکٹر اسرار احمد کافی عرصے سے دل کے عارضے اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے 14 اپریل، 2010ء کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

    امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

  • چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    لاس اینجلس: زمین پر لائی گئی، چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق چاند کی مٹی کا یہ نمونہ نیل آرمسٹرانگ نے 20 جولائی 1969 کے روز اس وقت جمع کیا تھا کہ جب اس نے چاند پر پہلا قدم رکھا۔ اس لحاظ سے یہ چاند کی مٹی کا تاریخی نمونہ بھی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    ’’بونہیمز‘‘ (Bonhams) نامی بین الاقوامی نیلام گھر کا دعویٰ ہے کہ یہ چاند کی مٹی کا وہ واحد نمونہ بھی ہے جسے قانونی طور پر نیلام کیا جاسکتا ہے کیونکہ چاند کی مٹی کے وہ تمام نمونے جو امریکی خلاء نورد آج تک زمین پر لائے گئے ہیں، انہیں امریکی ریاست اور عوام کی ملکیت قرار دیا جاتا ہے یعنی ان کی نجی طور پر خرید و فروخت یا نیلامی نہیں کی جاسکتی۔

    البتہ یہ نمونہ اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ 1969 میں زمین پر لائے جانے کے کچھ سال بعد یہ غائب ہوگیا اور کچھ نامعلوم ہاتھوں سے ہوتا ہوا میکس ایری نامی ایک شخص تک پہنچ گیا وہ ایک نجی خلائی عجائب گھر کا شریک بانی بھی تھا لیکن 2002 میں اسے چوری شدہ نوادرات خریدنے اور بیچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور اس کے پاس موجود تمام اشیاء سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    2015 میں جب یہ چیزیں سرکاری طور پر نیلام کی گئیں تو ان میں چاند کی مٹی کا نمونہ بھی شامل تھا جسے اس کی موجودہ مالکن نینسی لی کارسن نے صرف 995 ڈالر میں وہاں سے خرید لیا اس کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کےلیے نینسی نے یہ نمونہ ’’ناسا‘‘ کو بھجوا دیا، اور ناسا نے یہ کہہ کر اس نمونے کو واپس کرنے سے انکار کردیا کہ یہ ’’امریکی عوام کی ملکیت‘‘ ہے۔

    اس پر نینسی نے ناسا کے خلاف عدالت میں مقدمہ کردیا عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نینسی نے یہ نمونہ مکمل طور پر قانونی طریقے سے، اور ’’نیک نیتی کے ساتھ‘‘ خریدا ہے، لہٰذا یہ ان ہی کی ذاتی ملکیت قرار دیا جاتا ہے اپنی اسی غیرمعمولی خاصیت کے باعث، چاند کی مٹی کا یہ نمونہ بہت مہنگے داموں نیلام ہونے کی توقع ہے۔

    بونہیمز کے مطابق، مٹی کے اس نمونے کی نیلامی 13 اپریل 2022 کے روز، امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگی جبکہ بولی کا آغاز 8 لاکھ ڈالر سے کیا جائے گا۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے 9 فیصد سے زائد حصص خرید لیے۔

    باغی ٹی وی : ” سی بی ایس نیوز” کے مطابق ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں، انہوں نے گزشتہ ماہ آزادانہ اظہار رائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا۔

    انہوں نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ "آزادی تقریر ایک فعال جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ٹوئٹر اس اصول پر سختی سے عمل پیرا ہے؟”

    ایک اور ٹویٹ میں، مسک نے کہا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے لیے "سنجیدہ سوچ” دے رہے ہیں۔

    ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    گزشتہ ماہ بھی،ایلون مسک نے ایک وفاقی جج سے کہا کہ وہ سیکیورٹیز ریگولیٹرز کی جانب سے پیشی کو کالعدم قرار دے اور 2018 کے عدالتی معاہدے کو ختم کرے جس میں مسک کو ٹوئٹر پر اپنی پوسٹس کو پہلے سے منظور کروانا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے۔

    امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹرز کے حصص خریدنے کی خبر سامنے آنے کے بعد پیر کو ٹوئٹر کے شیئرز کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ، ٹوئٹر کا اسٹاک پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 26 فیصد بڑھ کر 49.50 ڈالر تک پہنچ گیا پچھلے سال کے مقابلے حصص میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔

    جیک ڈورسی نے گزشتہ سال نومبر میں سی ای او کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ٹویٹر میں مسک کا حصہ ڈورسی کے سائز سے چار گنا زیادہ ہے، جس نے کمپنی کی مشترکہ بنیاد رکھی اور مسک کے آنے تک سب سے بڑا انفرادی شیئر ہولڈر تھا۔

    "مسک کی اصل سرمایہ کاری اس کی دولت کا ایک بہت ہی چھوٹا فیصد ہے، اور ایک مکمل خریداری کو مسترد نہیں کیا جانا چاہئے بلو مبر گ بلینیئر انڈیکس کے مطابق، مسک دنیا کا امیر ترین شخص ہے، جس کی دولت 273 بلین ڈالر ہے۔

    روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

  • قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟    ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین چپقلش جاری تھی اور بالآخر کل یکم رمضان کو عدم اعتماد کی تحریک ریجیکٹ کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا اس ساری رام کہانی کا مہرہ بنے کئی ایم پی اے ،ایم این اے جو پہلے کسی پارٹی کے ساتھ تھے وہ اب دوسری پارٹی کا سہارا بذریعہ روکڑا بن گئے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا شروع سے ہی ہے اور یہ رسم جمہوریت ہے-

    اپوزیشن نے بھی اس قوم کو خوب برا بھلا کہا اور حکمران جماعت کے کارکنان و عہدیداروں نے بھی ،جماعت تبدیل کرنا حکومتیں گرانا نئی بات نہیں ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اور یہ آئین بنانے والے بھی یہی لوگ ہیں عام شہریوں کا آئین و قانون سازی سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہیں –

    تاریخ پاکستان میں موجودہ حکمران نے جہاں قوم کو انتہائی غربت و مہنگائی کی آگ میں جھونکا وہیں وقت کے فرعون امریکہ کو بھی للکارا جو کہ ایک بہت بڑی جرآت مندی کی بات ہے مگر پہلے دیکھئے کہ اس جرآت مندی کے محرکات کیا ہیں؟

    جب عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پڑوس میں امریکہ و چالیس ممالک کی ناٹو فورسز موجود تھیں اور ملک میں دہشت گردی کا راج تھا ہماری فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر جنرل مشرف کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر امریکہ سے ڈبل گیم کی اور امریکہ افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے بدترین ذلت کیساتھ افغانستان سے اپنے اتحادیوں سمیت نکلنا پڑا اور اس سب کیلئے لاکھوں پاکستانیوں اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں دینی پڑیں جبکہ سیاستدانوں کی کتنی جانیں اس جنگ میں گئی وہ یقیناً آپ بخوبی جانتے ہیں-

    خیر انخلا امریکہ کے بعد ہمارا ملک دہشت گردی سے کافی حد تک بچ گیا اور ہم نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ اور ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جیسے سخت الفاظ کہے جس سے امریکہ فرعون وقت بوکھلا گیا اور پاکستان میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ سے انتقام پر اتر آیا جس کا واضع ثبوت تمام تر پاکستان مخالف جماعتوں کا یک جان ہو کر بلوچستان و کے پی کے میں فورسز پر بار بار حملے کرنا ہے نیز ملک کے مختلف شہروں میں بھی بم دھماکے کروائے گئے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں ہر سیاسی مذہبی جماعت کے کارکنان شامل تھے تاہم ابھی تک حالیہ حملوں میں کوئی بھی اعلی سیاستدان ان دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنا-

    یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے اقتدار کے پہلے دو سال کوئی سخت الفاظ بخلاف امریکہ کیوں نا بولا؟ وجہ صاف ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں اور اگر ایسا کرتے تو یقیناً خمیازہ بہت زیادہ بھگتنا پڑا خیر بات اپوزیشن و حکومت پر لاتے ہیں22 کروڑ میں سے چند سیاستدانوں نے عمران خان کا ساتھ ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کیلئے چھوڑا تو فوری سوشل میڈیا پر خان صاحب کے تربیت یافتہ کارکنان و اپوزیشن کے کارکنان نے پاکستانی قوم پر فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ قوم راشن پرست یہ قوم بے غیرت ہے ان سب باتوں سکرین شاٹس بطور ثبوت میرے پاس موجود ہیں-

    مزید کہا گیا کہ اس قوم کو صحت کارڈ کی جگہ غیرت کارڈ جاری کرنا چائیے یہ بھکاری قوم ہے اور پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتی ہے وغیرہ وغیرہ نیز افواج پاکستان کو بھی کھلے عام گالیوں سے نواز گیا کہ جنرل باجوہ امریکی غلامی سے نکلنا نہیں چاہتا-

    مزید افسوس کہ مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر سرعام ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے اپنے گھروں کے چولہے اسی قوم کے چندے سے چلتے ہیں اور یہ لوگ عوام سے بلا تفریق سیاسی جماعتوں کی وابستگی پیسہ لیتے ہیں عوام پر بھی لگاتے ہیں اور اپنے بیوی بچے بھی پالتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو ان کی ساری وابستگیاں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہو جاتی ہیںافسوس صد افسوس ایسے مذہبی لوگوں پر سیاسی لوگوں پر تو کیا افسوس کرنا بنتا ہے-

    حضور والا قوم کو ان القابات سے نوازنے والوں میرے آپ سے چند سوال ہیں ذرا ان کا جواب تو دیجئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ چندہ،بندہ،پیسہ،شہرت پرست؟

    کیا فوجی دفاعی مضبوطی کے بغیر تمہارا خان ایبسولوٹلی ناٹ کہہ سکتا تھا؟ کیا قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اقتدار نا دلوایا؟ کیا تمہارے ہی چنے گئے سیاستدان پیسوں کے عوض نا بکے؟کیا ملک کے اندر غربت کی بہت بڑی لہر نہیں آئی؟کیا موجودہ حکمران جماعت کے چینی و آٹا و ادویات چور کھلے عام نہیں گھوم پھر رہے؟-

    کیا جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور قوم پر اطمینان تھی اور ملکی ترقی کا آغاز ہوا تھا تب تمہارے ہی خان صاحب نے نواز،زرداری،فضل الرحمن کیساتھ مل کر جنرل مشرف کے خلاف ان کی حکومت گرانے میں مدد نا کی تھی ؟؟

    کیا تحریک عدم اعتماد میں مجھ اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی رائے لی گئی اسمبلی میں؟کیا عام پاکستانی اسمبلی میں جا کر تجویز پیش کر سکتا ہے؟کیا ملک بھر میں بنے مدارس و مساجد اسی عوام کے چندے پر نہیں چل رہے ؟کیا ملک بھر میں رفاعی تنظیمیں بے لوث بغیر سیاسی وابستگی لوگوں کی مدد نہیں کر رہیں اور کیا وہ تنظیمیں گورنمنٹیں چلاتی ہیں؟آج بھی جن دیہات میں دیہاتیوں کے اپنے گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں کیا وہاں کی مساجد میں لینٹر اور دیگر سہولیات موجود نہیں اور یہ سہولیات فراہم یہی راشن پرست عوام مہیا کرتی ہے کہ گورنمنٹیں؟؟-

    سوال تو اور بھی بہت ہیں جناب تحریر لمبی ہونے کے باعث مختصر کر رہا ہوں جناب والا آپ تو پوری قوم کو چند بے ضمیروں کی بدولت راشن پرست وغیرہ کہہ رہے ہیں میں قوم کی غیرت کی ایک مثال اپنی ہڈ بیتی روزہ رکھ کر تمہارے سامنے رکھتا ہوں پھر تم اس قوم کو راشن پرست کہنا یا تمام سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس کے پجاری-

    میری ذاتی ہڈ بیتی ہے

    2005 کا زلزلہ آیا میں نے اپنے بچپن کے ساتھیوں سے مل کر اپنے علاقے سے ایک ٹرک سامان کا بھرا اور بالاکوٹ لے کر گیا تھا اور اس وقت جماعت الدعوہ کے زیر سایہ لے کر گیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ متحرک جماعت تھی ہوا کچھ یوں کہ ہم کم عمر لڑکے ہر گھر جاتے اور ان کو بتاتے کہ ہمارے کشمیری و صوبہ سرحد کے بھائیوں پر زلزلہ کی آزمائش آن پڑی ہے ان کی چھتیں چھن گئی ہیں اور بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہذہ مدد کرومجھے یاد ہے یہی ماہ مقدس رمضان تھا تب بھی ہم نے خود غریب ترین لوگوں سے ان کل کل ڈیہاری سے زیادہ کے کپڑے،سویٹر،جرسیاں،دالیں، گھی،چاول،گندم حتی کہ ادویات تک اکھٹی کیں اور بفضل تعالی لوگوں نے بخوشی دیا اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کیلئے ہاں اس وقت سیاستدانوں نے بھی بہت مدد کی تھی ہماری ایک اہم بات بتاتا ہوں-

    ہم ایک گھر میں گئے کہ جس گھر سے محض ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی شادی تھی ہم نے اس بوڑھی غریب ترین عورت کے سامنے مدعا بیان کیا تو وہ کہنے لگی پتر ذرا رکو اور بیٹھ جاؤہم بیٹھے تو اماں جی نے ہمیں آواز دی کہ پتر پیٹی کھولنے میں میری مدد کرو خیر ہم نے پیٹی کھولی تو ماں جی بولی بیٹا میری بیٹی کا جہیز ہے مگر یہ تو اور بن جائے گا یہ جو وزنی والا کمبل ہے نا یہ نکالو اور لے جاؤ اور ساتھ گرم چادر بھی لے لومیں نے کہا ماں جی ہماری آپی کی شادی قریب ہے آپ بس سو پچاس روپیہ دے دیں یہی کافی ہے-

    اس اللہ کی شیرنی نے کہا کہ اوئے پتر جھلا ہویا ایں ؟وہ بھی تو میری ہی بیٹیاں ہیں تو یہ چیزیں پکڑ اور ان تک پہنچاؤاللہ کی قسم ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں پیسے و چیزیں دیں جن کے اپنے گھروں کے خرچے بمشکل چلتے تھے ہم وہاں گئے تباہ شدہ پورا بالاکوٹ اپنی آنکھوں سے کئی دن دیکھتے رہے اور بہت سی مذہبی جماعتوں کے کام بھی دیکھے اگر قوم کا وہ جذبہ لکھنے لگوں تو محض 2005 کے زلزلہ پر میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اس کے علاوہ پھر بلوچستان کا زلزلہ آیا سندھ و بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہماری انہی راشن پرست لوگوں نے پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا بہت مثالیں میرے پاس ذاتی ہڈ بیتی موجود ہیں ان شاءاللہ پھر کبھی رقم کرونگا بس اتنا پوچھنا ہے مجھے ان لوگوں سے کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ شہرت پرست؟-

  • بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    آئینہ از عادل عباس چیمہ

    (بیوروکریسی اور حالات حاضرہ)
    کافی کچھ ریسرچ کرنے اور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بیورو کا مطلب محکمہ یا ڈیپارٹمنٹ، کریسی کا مطب ہے راج،یعنی سرکاری محکموں کا راج، محکمے جیسا کہ محکمہ پولیس، محکمہ ریونیو، محکمہ واپڈا، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم وغیرہ، محکمہ کوئی بھی ہو یہ کوئی طلسماتی چیز نہیں ہوتا بلکہ یہ مجموعہ ہوتا ہے ان لوگوں کا جنہیں ہم افسر کہتے ہیں اور انکی افسرشاہی کے تمام تر اخراجات ہمارے دئیے ہوئے ٹیکس سے پورے ہوتے ہیں ، ان افسروں کوعوام نے چنا تو نہیں ہوتا مگر سرکاری کاغذوں میں انہیں عوام کا خادم ہی بتایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں یہ عوام کو نہیں بلکہ اپنے سے اوپر والے افسر کو جوابدہ ہوتے ہیں اسی طرح اوپر جاتے جاتے صرف ایک افسر رہ جاتا ہے جسے سیکرٹری کہتے ہیں ہر محکمہ کا سربراہ ایک سیکرٹری ہوتا ہے پھر تمام سیکرٹری مل کر ایک چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوتے ہیں یہاں تک یہ سول بیورو کریسی کہلاتی ہے۔

    بیوروکریسی ریاست کے تین بنیادی ستون میں سے ایک ہے۔ عام تصوراور تاثریہ ہے کہ بیوروکریسی آئین اوردستور میںطے کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے پالیسی اور قوانین کے دیانت دارانہ نفاذ کے بجائے حکمرانوں کا دست و بازو بن کر رہ گئی ہے۔
    کوئی بھی نہیں چاہتا کہ بیوروکریسی میں ایسی کوئی اصلاحات ہوں جن سے انکی ‘چودھراہٹ’کو خطرہ لاحق ہوجائے۔
    ملک کی ترقی اور جمہوری استحکام کیلئے بیوروکریسی کے طرز عمل کی جامع اصلاح اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔ افسران کے انتخاب اور تربیت سے لے کر اس کے تمام مراحل اور پورے نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے سیاسی گٹھ جوڑ کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔ تب ہی جا کر بیوروکریسی کے ’ استحصال کا ایجنٹ ‘ والا کردار ختم ہوگا۔

    اس وقت میں اپنی لاڈلی بیورو کریسی کے شکوے نہیں کرنا چاہتا عرض یہ کرنی ہے کہ ریاست کے اس نہایت اہم ستون کو مضبوط کرنے کی کوشش بہت ضروری ہے کہ اسے ہی عملاً ملک چلانا ہے اور نئی حکومت کی پالیسیوں کا نفاذ کرنا ہے۔ مگر اب تو اس شعبے میں خرابیاں اتنی بڑھ گئی ہیںاور حالات نے بڑھا دی ہیں کہ اس کو درست کون کرے، کیا اس کو خراب کرنے والے اس کو درست کریں گے مگرکسی نہ کسی کو آغاز تو کرنا ہو گا۔

    یقینا اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں مگروہ اجتماعی سوچ اور رویے میں تحلیل ہو کر رہ جا تے ہیں۔ کام نہ کرنے کیلئے قانون، نظام، سیاسی مداخلت، عدالتی رکاوٹوں اور اختیار نہ ہونے جیسے بہانے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی افسر دیانتداری اور لگن سے کام کرنا چاہتے تو اُس کے لیے 24 گھنٹے بھی کم ہیں اور آج کے دور میں بھی چند افسروں نے دیانت، اخلاص اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کیا ہے۔ اگر کسی ضلع کا DCO یا DPO کام کر نا چاہے تو حاصل اختیارات اور موجودہ سیاسی ماحول کے اندر رہ کر بھی وہ اپنے ضلع کو ایک مثالی ضلع بنا سکتا ہے۔ کوئی پالیسی یا اقدام اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک افسر شاہی اُس میں اخلاص کے ساتھ شامل نہ ہو۔ خود احتسابی کا نظام عملاً ختم ہو چُکا ہے۔ قوانین اور ضابطوں کو کام نہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ آسانیاں پیدا کرنے کیلئے۔ ہماری افسرشاہی کی مجموعی سوچ آج بھی نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے۔

  • تیسرا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی

    تیسرا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی

    لاہور: ون ڈے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    آسٹریلیا کی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے 42 ویں اوورز میں 210 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جواب میں پاکستان نے 211 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر 38 ویں اوورز میں پورا کرلیا۔

    قومی ٹیم کی فاسٹ باؤلرز کی زبردست باؤلنگ کے آگے آسٹریلوی ٹیم نے گرین شرٹس کو 211 رنز کا ہدف دیدیا۔ وسیم جونیئر اور حارث رؤف نے 3.3 شکار کیے۔

    قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    آسٹریلیا کی بیٹنگ

    کینگروز کی ٹیم کی طرف سے اننگز کا آغاز ٹریوس ہیڈ اور ایرون فنچ نے کیا، دونوں بیٹرز کو حارث رؤف نے اپنے پہلے ہی میں پویلین بھیج دیا۔ دونوں بیٹرز کھاتہ نہ کھول سکے۔

    اس دوران مارنس لبوشین 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، حارث رؤف نے وکٹ حاصل کی۔ بین مک ڈرموٹ 36، سٹونز 19 رنز بنا کر کریز چھوڑ گئے، محمد وسیم اور زاہد محمود نے وکٹ حاصل کی۔

    اس دوران ایلکس کیری اور کیمرون گرین نے مزاحمتی اننگز کھیلی اور سکور کو آگے بڑھایا۔ تاہم 61 گیندوں پر 56 رنز بنا کر کیری افتخار احمد کا نشانہ بن گئے، گرین کو محمد وسیم نے بولڈ کیا، بہرن ڈروف اور ایلس کی باری بھی بالترتیب 2.2 پر ختم ہوئی۔

    آسٹریلیا کی ٹیم 42 ویں اوورز میں 210 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ محمد وسیم اور حارث رؤف نے 3.3 شکار کیے، شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں دو وکٹیں آئیں۔

    پاکستانی سکواڈ

    بابر اعظم، فخر زمان، امام الحق، محمد رضوان، افتخار احمد، آصف علی، خوشدل شاہ، شاہین شاہ آفریدی، محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف اور زاہد محمود

    آسٹریلوی سکواڈ

    فنچ، ٹریوس ہیڈ، بین میک ڈرمٹ، مارنس لبوشین، مارکس سٹوئنس، کیمرون گرین، ایلکس کیری، شان ایبٹ، نیتھن ایلس، ایڈم زمپا اور جیسن بہرن ڈروف

  • دوسرا ون ڈے میچ:امام اوربابرکی سنچریاں، پاکستان نےرنزکا کوہ ہمالیہ سرکرلیا:جیت کرسیریزبرابرکردی

    دوسرا ون ڈے میچ:امام اوربابرکی سنچریاں، پاکستان نےرنزکا کوہ ہمالیہ سرکرلیا:جیت کرسیریزبرابرکردی

    لاہور:دوسرا ون ڈے میچ: امام اور بابر کی سنچریاں، پاکستان نے رنز کا کوہ ہمالیہ سر کر لیا:جیت کرسیریزبرابرکردی ،اطلاعات کے مطابق امام الحق کی سنچری اور بابر اعظم کی قائدانہ اننگز کی بدولت پاکستان نے دوسرے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا 349 رنز کا کوہ ہمالیہ 6 وکٹ سے سر کر کے تین میچوں کی سیریز 1،1 سے برابر کر دی ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر آسٹریلوی قائد ایرون فنچ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    پاکستان اننگز

    آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا 349 رنز کا ہدف پاکستان نے کپتان بابر اعظم اور امام الحق کی سنچری کی بدولت صرف 4 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

    قومی ٹیم کے کپتان نے ایک مرتبہ پھر اپنی بلے بازی سے مخالف ٹیم پر دھاک بٹھا دی اور اپنے کیریئر کی 15 اور بطور کپتان چوتھی سنچری سکور کرکے آسٹریلیا کے خلاف یہ اعزاز حاصل کرنے والے والے پہلے قائد بن گئے، انہوں نے 1 چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے 83 گیندوں پر 114 رنز کی اننگز کھیلی۔

    امام الحق نے ایک مرتبہ پھر شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں مسلسل دوسری سنچری جڑ دی، انہوں نے 3 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 97 گیندوں پر 106 رنز بنائے، محمد رضوان 26 گیندوں پر 23 رنز بناکر پویلین لوٹے۔

    شکست خوردہ ٹیم کی جانب سے ایڈم زمپا نے 2، نیتھن ایلس اور مارکس سٹوئنس نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

    آسٹریلیا اننگز

    پاکستان کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کینگروز نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹ کے نقصان پر 348 رنز بنائے، بین مک ڈرموٹ نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 108 گیندوں پر 104 رنز کی باری کھیلی، ٹریوس ہیڈ 89 اور کپتان فنچ صفر،مارنس لبوشین 59، الیکس کیری، کیمرون گرین 5،5،مارکس سٹوئنس 49 اور شان ایبٹ 28 سکور بناکر آؤٹ ہوئے۔

     

     

    بابر الیون کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، محمد وسیم جونیئر نے 2، زاہد محمود اور خوشدل شاہ نے 1،1 وکٹ اپنے نام کی۔

    پاکستان سکواڈ

    آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ کے لئے پاکستان کے سکواڈ میں کپتان بابر اعظم، فخر زمان، امام الحق، محمد رضوان، سعود شکیل، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور زاہد محمود شامل تھے۔

    آسٹریلیا سکواڈ

    پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ کے لئے آسٹریلوی سکواڈ میں کپتان ایرون فنچ، ٹریوس ہیڈ، بین مک ڈرموٹ، مارنس لبوشین، مارکس سٹوئنس، ایلکس کیری، کیمرون گرین، شان ایبٹ، نیتھن ایلس، ایڈم زمپا اور مچل سویپسن شامل تھے۔

  • رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی  مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    بیلجیئم:مرکری کو’’سیال چاندی‘‘بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام درجہ حرارت پر مائع حالت میں ہوتا ہے تھرمامیٹر سے لے کر دندان سازی، برقی آلات کاسمیٹکس تک، سینکڑوں مصنوعات و آلات میں مرکری کا استعمال کیا جاتا ہےلیکن ہر شعبے میں پارے کے استعمال کی محفوظ حدود متعین ہیں جن کے حوالے سے عالمی قوانین بھی موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک عالمی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیگر مصنوعات کی بڑی تعداد میں پارے (مرکری) کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے…

    کاسمیٹک مصنوعات میں پارے کی ’’محفوظ مقدار‘‘ ایک حصہ فی دس لاکھ (1 پی پی ایم) یا اس سے کم قرار دی جاتی ہے لیکن 17 ممالک میں کی گئی تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے کی مقدار اس محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔

    تحقیق کیلئے ماہرین نے ایمیزون، ای بے اور علی ایکسپریس سمیت 40 ای کامرس پلیٹ فارمز سے رنگ گورا کرنے والی 271 مصنوعات خرید کر ان کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا۔

    جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 129 مصنوعات میں پارے کی مقدار 1 پی پی ایم کی محفوظ حد سے کہیں زیادہ تھی رپورٹ میں ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ مرکری والی 43 فیصد مصنوعات یا تو پاکستان میں تیار شدہ ہیں یا پھر ان کی پیکنگ پاکستان میں کی گئی ہے ان میں رنگ گورا کرنے والی کچھ مشہور پاکستانی کریموں اور دوسری متعلقہ مصنوعات کے نام بھی شامل ہیں۔

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مصنوعات ایمیزون اور ای بے سمیت، دنیا کے تقریباً تمام بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں جو امریکا سے آسٹریلیا تک 100 سے زیادہ ممالک میں بلا روک ٹوک خریدی جارہی ہیں-

    یہ تحقیقی رپورٹ پارے کی آلودگی کے خاتمے پر کام کرنے والے عالمی ادارے ’’زیرو مرکری ورکنگ گروپ‘‘ نے مختلف ملکوں میں غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون و اشتراک سے شائع کی ہے۔

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

  • مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی

    مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی

    نئی دلی:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اور ممتاز صحافیوں نے ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جنہیں گزشتہ روز بھارتی حکام نے ممبئی ائیر پورٹ پرصحافیوں کو ڈرانے اوردھمکانے کے موضوع پر انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس (آئی سی ایف جے) میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روک دیا تھا ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رعنا ایوب کو ممبئی ایئرپورٹ پر حکام نے گزشتہ روز تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کے خلاف جاری نوٹس کی وجہ سے لندن جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیاتھا۔ رعنا ایوب نے لندن میں یکم اپریل کو صحافیوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنائے جانے اور دھمکانے کے موضوع پر آئی سی ایف جے میں خطاب کرنا تھا ۔ اسی دن انہیں دی گارڈین اخبار کی ایڈیٹر کیتھرین وینر کی دعوت پر اخبار کے دفتر بھی جانا تھا۔6 اور 7اپریل کو انہیں اٹلی میں انٹرنیشنل جرنلزم فیسٹیول میں شرکت کرنے تھی ۔

    انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے بھارتی حکام کی طرف سے رعنا ایوب کو کھلے عام ہراساں کیے جانے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی ادارے نے بھارتی حکومت سے رعنا ایوب کے خلاف الزامات واپس لینے اور ان پر جاری حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے بھی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔انسٹیٹیوٹ نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ رعنا ایوب کو یورپ کا دورہ کرنے کی اجازت دے جہاں انہوں نے متعد د بین الاقوامی ایونٹس میں آن لائن ہراسگی کے پر بات کرنی تھی ۔ممبئی پریس کلب نے رعنا ایوب کو بھارت میں صحافیوں کوہراساں کئے جانے کے بارے میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام صحافیوںکو ہراساں کرنے کے مترادف ہے ۔

    دی بیورو کے گلوبل ایڈیٹر اور مصنف جیمز بال ،دی سٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولس ڈیوس ،ممتاز بھارتی صحافی اور دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے اپنے ٹویٹس میں رعنا ایوب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ رعنا ایوب کے پیغام کو سرحد پر روکا نہیں جا سکتا اور بھارت میں آزادی صحافت کے بارے میں ان کے انتباہات کو پابندی لگانے کی کوششوں سے روکا نہیں جاسکتا ۔ٹویٹس میں مزید کہاگیا کہ اس ہراسگی سے بھار تی جمہوریت کی حالت ظاہر ہوتی ہے اور پتہ چلتاہے کہ دنیا آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے۔رعنا ایوب نے اپنے خلاف ای ڈی کے تمام الزامات کومضحکہ خیزاور جھوٹ پر مبنی قراردیا ہے ۔

  • سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا

    سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا

    سرینگر:سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کر خاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ شب سرینگر شہر میں آتشزدگی کے بھیانک واقعے میں 22مکان جل کر خاکستر ہو گئے۔
    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہر کے علاقے گتاکالونی نور باغ میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے سے املاک کو بھاری نقصان پہنچا اور فائر بریگیڈ کے رکن سمیت چار افراد جھلس گئے۔فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایاہے کہ 22مکانات جن میں 33خاندان رہائش پذیر تھے آگ لگنے سے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ایک فائر فائٹر اور تین شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایک مقامی شخص شکیل احمد نے بتایاہے کہ آگ لگنے سے کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہو گئی ہے ۔

    ادھر سرینگر کے علاقے راجوری کدل میں بھی آگ لگنے سے ایک مکان کو نقصان پہنچاہے۔

    ادھرامریکہ نے حملوں اور عوامی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تازہ ترین ٹریول ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کومقبوضہ کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حملوں اور عوامی احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ہے ۔

    تاہم سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری مشرقی لداخ کا دورہ کرسکتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہاہے کہ کنٹرول لائن کے ساتھ واقع علاقوں اور سرینگر ، گلمرگ اورپہلگام کے سیاحتی مقامات سمیت وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔