Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    کیرالہ: بھارت میں ایک مرغی نے 6 گھنٹوں کے دوران 24 انڈے دے کر سب کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں میں پولٹری ماہرین اس وقت حیران رہ گئے، جب انہیں پتا چلا کہ ایک آٹھ ماہ کی مرغی نے 6 گھنٹے کے دوران 24 انڈے دیئے ہیں۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    جانور پالنے والوں خصوصا پولٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی بات ہےمرغی نے جب انڈے دینا شروع کیے تو یہ سلسلہ جاری ہی رہا اور وہ انڈے دینے کی رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مرغی کے مالک نے صبح کے وقت اسے لنگڑاتا دیکھ کر اس کی ٹانگوں پر تیل لگایا تھا، جس کے بعد وہ حیرت انگیز طور پر مسلسل انڈے دینے لگی یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 6 گھنٹے میں 24 انڈے دینے والی مرغی اب ایک مشہور اسٹار بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ متعلقہ حلقوں کے علاوہ دنیا بھر میں اس کے چرچے ہیں۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی ریاست کرناٹک سے بھی ایک دلچسپ خبر سامنے آئی تھی، جس کے مطابق مرغی نے کاجو کی شکل کے انڈے دیئے تھے یہ واقعہ جنوبی کنڑ ضلع کے بیلتھنگڈی تعلقہ میں واقع لیلا گاؤں میں پیش آیا۔ مرغی نے خاص کاجو کی شکل کے دس انڈے دئیے۔

    ابتدائی طور پر جب گھر والوں نے پہلا انڈا دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ لیکن، انہوں نے اس کے بارے میں کچھ کرنے سے پہلے ایک اور دن انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلسل تین دن گزرنےکےبعد بھی مرغی کاجو کی شکل کے انڈے دیتی رہی بعد ازاں لوگ اس قدرتی عجوبے کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق آنے لگے ہیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔

    بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا

    بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔

    بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .

    دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.

    حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔

  • ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سائنسدانوں نے ہماری ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ دعوٰی کیلیفورنیا میں قائم یونیورسٹی آف برکلے کے سائنسدانوں نے کیا ہے محققین کا ماننا ہے کہ جب بڑے ستارے تباہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی جسامت، توانائی اور مادہ خرچ کرنے کے لحاظ سے بلیک ہول یا دیگر اقسام کے اجسام میں بدل جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نظری طور پر ہماری کہکشاں میں بہت سارے بلیک ہول ہونے چاہئیں۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    لیکن سائنس دانوں کو ان کی تلاش میں مشکلات کا سامنا رہا ہے یہ بِکھرے ہوئے بلیک ہول بصری لحاظ سے ویسے بھی ہماری آنکھ سے اوجھل ہوسکتے ہیں ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں کے درمیان 100 ملین بلیک ہول گھومتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی مکمل طور پر الگ تھلگ بلیک ہول کی شناخت نہیں کی۔

    اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک آزادانہ گشت کرتے بلیک ہول کی نشان دہی کی ہے جو ہماری کہکشاں میں ایک لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کررہا ہے۔

    ایلون مسک کا رواں سال انسان نما روبوٹ متعارف کرانے کا اعلان

    سائنس دانوں نے اس کی نشان دہی گریویٹیشنل مائیکرولینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے کی ہے۔ اس عملی کو ثقلی لینسنگ بھی کہا جاتا ہے جس میں کسی بھاری بھرکم جسم ، مثلاً بلیک ہول کے وجہ سے پس منظر سے آنے والی روشنی کی شعاعیں خمیدہ ہوسکتی ہے اور یوں ہمیں ان دیکھے بڑے جسم کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

    یہ شے ہماری کہکشاں میں ہونے کے باوجود ہزاروں نوری سال کے فاصلے کی دوری پر ہے سائنس دانوں کے ایک گروپ کے مطابق اس بلیک ہول کا وزن سورج سے 1.6 سے 4.4 گُنا زیادہ ہے جبکہ دوسرے گروہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا وزن سورج سے 7.1 گُنا زیادہ ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

  • ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

    ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

       حکومت کے ساتھ ملکر پاک فوج,خارجہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے, اس لئے وقت فوقتا مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے, اس انعقاد سے دفاعی تعلقات کے ساتھ قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں, ان ہی کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند بڑی مشقوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    1.. دسمبر 2016 میں پاکستان فوج نے اردن کی فوج کے ساتھ مل کر فجر الشرق مشق کا انعقاد کیا
    2..اکتوبر 2017 اور اکتوبر 2018 میں پاکستان نے برطانیہ میں منعقدہ "مشق کیمبرین پیٹرول” میں گولڈ میڈل جیتے جس میں 31 ممالک کی 134 ٹیموں نے حصہ لیا۔
    3…جون 2017 میں پاک فوج کی ایس ایس جی نے نائجیرین اسپیشل فورسز بٹالین کے ساتھ 8 ہفتوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی تربیتی مشق کی
    4… پاکستان اور روس کی افواج  کے درمیان مشترکہ مشق DRUZBA 2017 ستمبر  میں روس میں منعقد ہوئی۔
    5.. 2017 میں ہی پاک-سعودی اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق انسداد دہشت گردی مشق ‘الشہاب  کے نام سے ہوئی
    6… دسمبر 2018 میں پاک چین مشترکہ فوجی مشق ‘واریر -VI 2018 کے نام سے ہوئی
    7..جنوری 2020 میں پاکستان نیوی اور پی ایل اے (نیوی) کے درمیان چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز-2020 ہوئی
    8… 14 اکتوبر 2020 کو، پاکستان آرمی نے مسلسل تیسری بار برطانیہ کے سینڈہرسٹ میں رائل ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی ملٹری ڈرل مقابلہ جیتا جسے پیس اسٹکنگ مقابلہ کہا جاتا ہے۔ پاک فوج نے پہلی بار 2018 میں ایونٹ میں شرکت کی تھی
    9.. پاکستان اور بحرین کی مشترکہ مشق "البدر 2020 فروری کے ماہ میں منعقد ہوئی
    10…  اتاترک-الیون 2021،  ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ اسپیشل فورسز کی مشق کا انعقاد بھی ہوچکا ہے
    11.. فروری 2021 میں  پاکستان اور مراکش کے درمیان مشترکہ مشقیں بھی ہوچکی ہیں
    12… اکتوبر 2021۔ میں 46 ممالک  نیول ایکس امن مشق 21 میں حصہ لے چکے ہیں ۔ جس میں امریکہ,  برطانیہ جیسے نیٹو اتحادی اور  روس بھی شامل تھا.
    13..مارچ 2022 میں،  پاکستان اور امریکہ کی فضائی افواج نے ایک مشترکہ مشق، فالکن ٹیلون 2022، پاکستان کے آپریشنل ایئر فورس بیس پر منعقد کی۔
    14..  پاک فوج کی ٹیم نے نیپال میں 18 سے 21 مارچ 2021 تک منعقدہ بین الاقوامی "ایڈونچر مقابلے” میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔ اس مقابلے کا مقصد شرکاء کی جسمانی برداشت اور ذہنی چستی کو جانچنا تھا اور اس میں کراس کنٹری دوڑ، سائیکلنگ اور رافٹنگ شامل تھے۔
      15.. پاکستان آرمی کے زیر اہتمام لاہور میں یکم سے 7 نومبر تک بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا, اس میگا ایونٹ تیسرا بین الاقوامی فزیکل ایگیلیٹی اینڈ کامبیٹ ایفیشنسی سسٹم (PACES) میں چھ ممالک نے حصہ لیا, جن میں عراق، اردن، فلسطین، سری لنکا، ازبکستان اور یو اے ای کے 107 فوجی اہلکار شامل تھے۔ اس تقریب نے پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر پیش کرکے وطن عزیز کا حقیقی چہرہ آشکار کیا۔

    16.. 53ویں عالمی ملٹری شوٹنگ چیمپئن شپ (شاٹ گن) 2021 کی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی جسے عرف عام میں انٹرنیشنل ملٹری اسپورٹس کونسل کہا جاتا ہے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب پاکستان نے انٹرنیشنل ملٹری چیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ جس میں روس، فرانس، سری لنکا، فلسطین، کینیا کے 41 بین الاقوامی شوٹرز سمیت 50 سے زائد شرکاء نے شرکت کی , اس ایونٹ کا مقصد ‘کھیلوں کے ذریعے دوستی’ کا تھا, اس ایونٹ میں ایران آور نیپال کے حکام نے بھی شرکت کی
    17…  نو تا سات مارچ 2022 کو، پانچواں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ (PATS) مقابلہ – پہاڑی قصبے پبی میں واقع نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں منعقد ہوا۔ مقابلے میں آٹھ پاکستانی اور آٹھ بین الاقوامی ٹیموں نے حصہ لیا جن میں اردن، مراکش، نیپال، ترکی، ازبکستان، کینیا، سعودی عرب اور سری لنکا شامل تھے
    دفاعی برآمدات کو بڑھانا
    فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی سفارت کاری نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ  معاشی لنگر اندازی فراہم کرنے میں ریاستی اداروں کی مدد کی, کامیاب فوجی سفارت کاری سے پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا،
    منسٹری آف ڈئفنس پروڈکیشن  کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 بلین روپے) اور اندرون ملک سیلز (تقریباً 70 بلین روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا ہے۔ سال 2019 میں، پاکستان ائیر کرفٹ کامرہ نے JF-17,  نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میں برآمد کیے اور عراق کو 33.33 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی, ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 قیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا کام کیا۔ جس کے بیرونی ممالک سودوں سے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 بلین روپے کا اضافہ ہوا اس کے علاوہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں 8000 ملازمتوں کا موقع فراہم ہوا,

    قیام امن کے لئے پاک فوج کا اقوام متحدہ سے تعلق
    پاکستان امن کا پیامبر ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے قیام امن چارٹر کا داعی ہے, پاکستان نے 1960 سے  امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستانی امن دستوں نے انسانیت کی مدد، اداروں کی تعمیر اور امن کو فروغ دینے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جسے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے پذئرائی دی, 1960 سے، اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ وابستگی کے دوران، پاکستان کے 200,000 فوجیوں نے خدمات سر انجام دئیں جبکہ 163 فوجیوں نے امن کی خدمت میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں کے ساتھ ساتھ، کانگو کے سیلاب میں 2,000 افراد کو بچانے کی پاکستان کی کوشش اور COVID-19 کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی خواتین امن دستوں کی خدمات کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا.پاک فوج کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی امن کی کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنے میں پاکستان کو پانچواں ملک کا اعزاز دلوایا، اس وقت اقوام متحدہ کے قیام من آپریشن کے تحت مختلف ممالک میں پاکستان کے 4,462 سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں, اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشنز میں 15% خواتین اسٹاف آفیسرز کو بھی تعینات کیا ہے ۔  جولائی 2019 میں کانگو میں پاک فوج کی خواتین کی ٹیم تعینات کی گئی تھی جس میں 20 افسران شامل تھیں, 26 مئی 2022 کو، اقوام متحدہ کی طرف سے ایک تقریب میں چھ پاکستانی امن فوجیوں کو ایوارڈ دیا گیا۔ جنھنوں نے امن کے حصول کی خاطر جانیں قربان کیں, جن میں طاہر اکرام، طاہر محمود، محمد نعیم، عادل جان، محمد شفیق، اور ابرار سید کا تعلق پاک فوج سے ہے, پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ 13 اگست 2013 کو، اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسلام آباد میں سینٹر فار انٹیل پیس اسٹڈیز  کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ سو سے زائد ممالک اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے فوج اور پولیس کے تحت تعاون کرتے ہیں۔ جس میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان کی خدمات کو اجاگر کیے بغیر اقوام متحدہ کی امن کاوشیں ناممکن ہیں۔

    اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے 17 فروری 2020 پاکستانی امن فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا, انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کی کوششوں میں سب سے زیادہ مستقل اور قابل اعتماد تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے خواتین کے امن دستے دیگر ممالک کی فوج  کے لیے اعلی مثال ہیں۔امن کے فروغ اور انسداد دہشت گردی کے لئے کام کرنا پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے, جو قائداعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ ‘ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور اپنے قریبی پڑوسیوں اور پوری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا کسی کے خلاف کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں ہے’ کی زندہ مثال ہے۔

    کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاحت کا فروغ:
    فرينٹير وركس اورگنائریشن نے کرتارپور کوریڈور تیار کیا، جو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کو ہندوستان میں گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک سے جوڑتا ہے, جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات پروان چڑھے اور مذہبی سیاحت کو فروغ ملا۔

    قومی کرکٹ کی بحالی:
    2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر  پابندی عائد ہوئی, جس میں بھارت کا اہم کردار تھا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میں کبھی بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔ مگر الله کے فضل سے پاک فوج کی کوششیں رنگ لائیں اور آسٹریلیا، انگلینڈ اور سری لنکا کی فوجی ٹیموں نے پاکستان آکر اعتماد کا اظہار کیا, دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام خدشات کو دور کرنے کے لیے میچز لاہور، راولپنڈی، پشاور اور حتیٰ کہ وزیرستان میں بھی کرائے گئے۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019 کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔
    ملٹری ڈپلومیسی کی وجہ سے وطن عزیز کو سعودی عرب اور چین سے فوری امداد ملی, چین کی جانب سے حالیہ دو ارب ڈالر کی امداد بھی فوجی سفارت کاری کی کامیابی ہے
    اسی طرح فوجی قیادت نے سعودی عرب اور چین کو اعتماد میں لیکر قرضوں کی ادائیگی پر قائل کیا ہے۔  حال ہی میں 31 مئی 2022 کو، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پرمحمد بن سلمان تین بلین کی رقم واپس لینے کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ہے.

  • مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو مستقل طور پر بند کردیا

    مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو مستقل طور پر بند کردیا

    مائیکرو سافٹ نے انٹرنیٹ کی پہچان بننے والے دنیا کے پرانے اور مقبول ترین براؤزر ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : 15 جون کے بعد صارفین انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تو مائیکروسافٹ ایج کا براؤزر کُھل جائے گا ونڈوز 10 رن سسٹمز پر نئی اپ ڈیٹ آئی ای کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے زور دیا جائے گااور لوگوں کو مائیکروسافٹ ایج استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ دوسرے براؤزرز کے ساتھ سخت مقابلہ کرنے والے براؤزر کو جو 1995 میں لانچ کیا گیا تھا اسے ریٹائر ہونا پڑا۔

    مائیکرو سافٹ نے 27 سال قبل 1995 میں ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ براؤزر کو متعارف کرایا تھا، کئی سالوں تک تنہا راج کرنے کے بعد 2004 میں موزیلا فاؤنڈیشن نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کے ٹکر میں فائر فوکس کو متعارف کرایا لیکن 2008 میں گوگل نے آکر باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔


    فائر فوکس اور گوگل کروم کے بعد صارفین انٹرنیٹ ایکسپلورر کو جیسے بھول ہی گئے، تاہم مائیکرو سافٹ نے نئے براؤزرز متعارف کرا کر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں ناکام ہو گیا۔


    ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ تمام ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں ڈیفالٹ براؤزر کے طور پر کام کرتا تھا، تاہم کمپنی نے 2020 میں اسے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور اب سے براؤزر کسی بھی ڈیسک ٹاپ پر موجود نہیں ہوگا۔
    https://twitter.com/Afia_Dimple/status/1535354820869111809?s=20&t=ymYcYjn3SDwn-1rj0-PNpg


    مائیکرو سافٹ نے گزشتہ چند سال میں متعدد بار صارفین کو ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ کی خامیوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے نئے براؤزر ‘مائیکرو سافٹ ایج’ استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔


    رپورٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ کا نیا براؤزر اسی ٹیکنالوجی کے تحت کام کرے گا جو معروف ویب براؤزر گوگل کرؤم میں استمال ہوتی ہے۔ مائیکروسافٹ ایج میں گوگل کرؤم سے مختلف اور جدید فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔

  • آخر خالص دودھ کب ملے گا؟  ازقلم:غنی محمود قصوری

    آخر خالص دودھ کب ملے گا؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    آخر خالص دودھ کب ملے گا؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کہتے ہیں جگ بیتی کی بجائے ہڈ بیتی بیان کرنی چائیے ،سو ہم آپ کی خدمت میں کچھ ہڈ بیتیاں رکھتے ہیں باقی ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ بات کہونگا کہ اللہ تعالی جھوٹ و ریاکاری لکھنے بولنے سے بچائے آمین

    ایک عرصہ سے گاؤں سے واسطہ ہے بڑی دیر سے ایک چوہدری صاحب سے دودھ لیتے تھے اور ان صاحب کو کئی بار بتایا کہ جناب دودھ بہت پتلا ہوتا ہے وہ صاحب کہنے لگے کہ قسم خدا کی میں پانی نہیں ڈالتا خیر کافی عرصہ اس سے دودھ خریدا مگر جناب کا دودھ گاڑھا نا ہواایک دن میں اور میرا دوست باتوں میں مشغول تھے اسی دودھ فروش کی جانوروں والی حویلی میں تو دیکھا کہ چوہدری صاحب کے کامے نے دودھ دھونے والے برتن میں کافی سارا پانی لیا اور گائے کے پاس رکھ دیا تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور اسی پانی کے برتن میں دودھ دھونا شروع کر دیا ہم دونوں دوستوں نے اس کے قریب جا کر پوچھا کہ بھئی کیا کر رہے تو وہ کہنے لگا انا ایں مطلب آپ اندھے ہیں دکھائی نہیں دیتا کیا –

    ہم نے اس کے چوہدری صاحب کو آواز دی کہ سرکار آپ تو قسمیں کھاتے ہو کہ میں دودھ میں پانی نہیں ڈالتا، تو اس چوہدری صاحب نے کمال جواب دیا میں ت ہالے وی سو کھانا میں پانی نئی پایا مطلب کہ میں تو ابھی بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے دودھ میں پانی نہیں ڈالا بلکہ میرے ملازم نے پانی ڈالا ہے-

    ہم نے کہا کہ بات ایک ہی ہے تو وہ بحث کرنے لگا کہ یہ ہے وہ ہے دودھ سے بچتا کچھ نہیں مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے وغیرہ رواں ہفتے ایک صاحب کے پاس بیٹھے تھے جو کہ دودھ فروش تھا اور دوسرے دودھ فروشوں کی بے ایمانی کی داستانیں سنا رہا تھا اور خود کو انتہائی ایماندار ثابت کرنے کے چکر میں تھا تاکہ دودھ فروشی میں خلل نا پڑے-

    کافی دیر اس سے بات چیت ہوئی ان صاحب نے اجازت مانگی کہ یار دودھ لانے کا ٹائم ہو گیا ہے اب چلتا ہوں پھر کبھی گپ شپ ہو گی
    وہ اٹھا ہم بھی کاموں میں مشغول ہو گئے کچھ دیر بعد وہ جناب اپنی موٹر سائیکل پر دودھ کے برتن ڈالے بازار میں وارد ہوئے اور برف والے پھٹے سے برف خرید کر دودھ میں ڈالنے لگے ہم سے رہا نا گیا اور اسے کہا کہ یار یہ تو پانی کی مانند ہے اس سے تو دودھ پتلا ہو جائے گا جو کہ ملاوٹ ہے ابھی تو آپ دوسروں کی پاؤڈر مکسنگ بارے بتا رہے تھے کہ وہ لوگ حرام کماتے ہیں-

    وہ صاحب بولے یار گرمی بہت ہے دودھ میں یہ نا ڈالی تو دودھ خراب ہوجائے گا ہم نے کہا یار وہ بات تو ٹھیک ہے مگر آپ دودھ دھوتے ہی دکان پر لیجائیں اور دکاندار سے کہیں کہ فریج میں رکھے تاکہ دودھ خراب نا ہو اور آپ کو برف ڈالنی ہی نا پڑے اور اس بدولت ملاوٹ ہو
    وہ صاحب بضد ہو گئے کہ یار برف ڈالنا ملاوٹ نہیں چاہے دودھ پتلا ہو کر وزن بڑھ جاتا ہے نیز صاحب نے دلیل دی کہ یہ بھی تو دیکھوں ہم برف خریدتے ہیں دوسروں کی طرح نلکے سے مفت میں پانی نہیں ڈالتے خیر بحث کا فائدہ نہیں تھا سو ہم چپ ہو گئےایک تیسری بڑی اہم ہڈ بیتی رقم کرتا ہوں-

    کچھ عرصہ قبل کسی بدولت ایک انتہائی قریبی دوست کو تھانہ اور پھر تھانہ سے عدالت پیش ہونا پڑا اور ہمیں بھی سارے معاملہ میں ساتھ رہنا پڑا جج نے فیصلہ سنایا اور آئی او (انکوائری آفیسر ،کم سے کم سب انسپکٹر رینک) کو حکم دیا کہ ہتھکڑی کھول دیں یہ اگلی پیشی پر خود حاضر ہونگےانسپیکٹر صاحب عدالت سے باہر لے آئے اور کہنے لگے کہ میرے سپاہی سے چابی لے آئیں-

    سپاہی کو کہا تو اس نے کہا کہ جناب ،رونق میلا، کریں ہم نے کہا کہ بھئی تمہارے بڑے صاحب نے کہا ہے کہ چابی دو تو وہ کہنے لگا پھر انہی سے ہتھکڑی کھلوا لیں ہم نے انسپیکٹر صاحب کو کہا کہ جناب آپ کا سپاہی رشوت مانگ رہا ہے انسپیکٹر صاحب نے قسم کھاتے ہوئے کہا کہ میں رشوت نہیں لیتا مگر یہ سپاہی لیتا ہے اسے پیسے دیں اور دفع ماریں-

    ہم حیران پریشان کہ یار یہ کیسا پولیس آفیسر ہے جو کہتا ہے کہ میں نہیں رشوت لیتا مگر میرا سپاہی لیتا ہے اور وہ بغیر رشوت بات نہیں مانتا حالانکہ اس انسپیکٹر کا کام تو جرائم روکنا ہے جو کہ اس کے تھانہ کی حدود میں ہو رہا ہو مگر یہ تو اپنے تھانہ کے اندر اپنے سپاہی کو روک نہیں سکتا تو پھر باہر کسی کو کیا روکے گا ؟خیر یہ تینوں واقعات ہڈ بیتی ہیں جو وجہ ہیں ہمیں اس خالص دودھ نا ملنے کی
    اور یہ خالص دودھ ہے انصاف،سہولیات،عزت،تحفظ جو کہ حکومت کا کام ہے ہمیں مہیا کرنا-

    اور اوپر رقم تینوں کردار ہیں سابقہ و موجودہ حکومتیں و حکمران اور چوہدری کا کاما ہے سیاسی جماعتوں کے سپورٹران جو کہ سارا کچھ جانتے ہوئے بھی دوسروں کہتے رہتے کہ آپ اندھے ہیں تحریر لمبی نا ہو اس لئے آپ سمجھ سکتے ہیں موجودہ سے لے کر سابقہ دور میں کس نے کس کا کردار ادا کیا ہےخود ہی اندازہ لگا لیں کہ وہ دودھ فروش چوہدری تھا کہ دودھ میں برف ڈالنے والا یا پھر پولیس انسپکٹر

  • ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے عدلیہ کا کردار اہم

    ریاستی مفادات کے تحفظ کیلئے عدلیہ کا کردار اہم

    عدالت قانون کی بیوروکریسی ہے۔ جب آپ کسی جج یا مجسٹریٹ کو عدالت میں بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں، تو آپ درحقیقت 1000 سال کے قانونی ارتقاء کا نتیجہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ عدلیہ کو آزاد، غیر جانبدار اور ریاستی اداروں سے نکلنے والے کسی بھی قسم کے دباؤ سے پاک ہونا چاہیے۔ عدلیہ کا بنیادی مقصد تمام لوگوں کو بغیر کسی امتیاز کے انصاف تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنا ہے۔عدلیہ کو پاپولسٹ قوتوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور پاپولسٹوں کے ہاتھوں آئینی اقدار کی بے حرمتی سے بچانا چاہیے عدلیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن، سیاسی بحران کی صورت میں جس سے ملک کے اندرونی استحکام کو خطرہ ہو، وہ ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے آئین کے دائرہ کار میں از خود نوٹس لے کر مداخلت کر سکتا ہے۔

    حال ہی میں، پاکستان میں کچھ آئینی اور سیاسی بحران دیکھنے میں آیا جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اسمبلی میں غیر آئینی حکم دے کر عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی طور پر ناکام بنا دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے آئینی آرٹیکل کا حوالہ دیا جس کے تحت انہیں پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم اس اقدام نے ملک کو شدید بحران میں ڈال دیا۔ اس سلسلے میں عدلیہ نے مداخلت کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ اسی طرح، عدلیہ اور جمہوری اخلاقیات دونوں میں علامتی تعلقات ہیں جہاں جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے تاکہ انتخابات اور عوام کی مرضی سے حکومت کا انتخاب کیا جائے، جو آئین اور قانون کی حکمرانی کے نفاذ کے لیے کام کرتا ہے۔پاکستان میں 1973 کے آئین کے مطابق عدلیہ ریاست کا انتہائی اہم ستون ہے جس کا کام آئینی اقدار پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن، یہ پارلیمانی بالادستی کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

    ہماری عدلیہ کا دوسرا کام عوام کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔دونوں جماعتوں نے سیاسی اور آئینی عمل کو آسان بنانے کے بجائے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی تھی جس سے پارلیمانی کارروائی میں عدالتی مداخلت کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن عدلیہ کا شکریہ جس نے آئینی حدود میں رہ کر سمجھدار اور ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا۔ اسی طرح یہ پہلا موقع نہیں جب عدلیہ کی مداخلت نے ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال کو دور کیا۔ ہم نے ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں عدلیہ ملک کے آئین کو بچانے کے لیے آئی۔

    بدقسمتی سے کچھ ریاست دشمن عناصر محض اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں سیاسی افراتفری عدلیہ کی مجموعی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثال کے طور پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ سیاسی مقدمات عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کو کم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کسی کو سمجھنا چاہیے کہ عدلیہ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سیاسی سیٹ اپ کا حصہ ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں آئین اور قانون کی حکمرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ملک کے سیاسی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے عدالتی نظام سے مجموعی دباؤ کو کم کرنے کے لیے عدلیہ کے ساتھ تعاون کریں۔چنانچہ جب ہم عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو ڈپٹی سپیکر کے فیصلے سے متعلق حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے کام کر رہی ہے جو کہ ملک میں عدالتی آزادی کے لیے نیک شگون ہے۔ حکومت کو ہماری عدالتی اخلاقیات کو مضبوط کرنا چاہیے اور کسی سیاسی بحران یا عدالتی سرگرمی کے لیے عدالتی برادری کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ اگر حکومت عدلیہ کو مزید سیاسی استحکام فراہم کرے تو ملک کی عدالتی کارکردگی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔

    ملک میں عدالتی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ کچھ میڈیا عناصر بھی اپنے حمایتیوں کی تعریف کرنے کے لیے ملک کی مجموعی عدالتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ میڈیا برادری عدالتی کارروائی کو تعصب کی نظر سے نہ دیکھے۔ وہ عدالتوں کے تنقیدی فیصلوں پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن مثبت اور پختہ انداز میں۔ ملک کے سیاسی، میڈیا اور علمی برادری کے تعاون کے بغیر عدالتی نظام چل نہیں سکتا۔ ریاستی اداروں کو آگے آنا چاہیے اور عدلیہ اور اس کے فیصلوں کے خلاف پروپیگنڈہ بند کرنا چاہیے۔ عدلیہ پر جانبدارانہ تنقید سے عدلیہ کی آزادی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    بیرونی جبر سے ریاست کی نظریاتی اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کووِڈ-19 کے انتہائی سنگین حالات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی تعزیرات کے گھمبیر خطرے کے درمیان ملک کے معاشی بحران کو حل کرنے میں مسلسل بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مستقل ادارہ جاتی ناکامی۔ فوج قومی سلامتی کے سوچنے والے آلات کے طور پر تیار ہوئی ہے اور اس نے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں تیار کی ہیں۔

    اگرچہ جنگ بندی اور فوجی حکمت عملی اس کی بنیادی بنیاد بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تنظیمی صلاحیت اور چستی نے اسے مسئلہ حل کرنے والی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی قیادت کی طرف سے ظاہر کی گئی نااہلی اور صلاحیت کی کمی نے فوج پر سول کام کے شعبے میں شامل ہونے کا بوجھ ڈالا ہے، خاص طور پر بحرانوں کے دوران۔ وبائی مرض کے دوران، جب کہ پوری دنیا بحرانوں کی زد میں تھی، پاکستان کی فوج نے حکمت عملی کی قیادت کی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) کے ایک نئے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنایا۔ فوج کی تنظیمی اور انتظامی مہارت کو اچھی طرح استعمال کیا گیا، اور ایک جدید ترین فوری لیکن پائیدار حل سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف غریبوں میں خوراک اور طبی آلات کی تقسیم میں حصہ ڈالا بلکہ CoVID-19 کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم بھی چلائی۔

    اس طرح کی موثر اور ہم آہنگی کی کوششوں کی بدولت پاکستان نے نہ صرف کووِڈ 19 کے بعد کی صورتحال سے بہت مؤثر طریقے سے نمٹا ہے بلکہ ایک آنے والے معاشی المیے کو بھی ٹال دیا ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ NCOC کے پاکستان ماڈل کا بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گہرائی سے مطالعہ اور تعریف کی گئی۔ بل گیٹس نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایسی اہم کوشش پر NCOC کو سراہا۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC) بنا کر ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے دوران اسی طرح کی حکمت عملی کو حرکت میں لایا گیا اور بڑی کوششوں کے بعد خطرہ ٹل گیا۔1993 میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے سونا اور تانبا نکالنے کے لیے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جسے ریکوڈک معاہدہ کہا جاتا ہے۔

    بعد ازاں، یہ ثابت ہوا کہ کینیڈین کمپنی کے ساتھ معاہدہ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس دوران کمپنی نے پاکستان کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل پر مسئلہ کو انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) کو بھیج دیا اور پاکستان کے خلاف 11.5 بلین ڈالر جرمانے کا مطالبہ کیا۔اتنی بڑی رقم پہلے سے نقدی کی کمی کا شکار پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ ایک عام علم ہے کہ فوج نقصان کو سنبھالنے اور کم کرنے کے لیے اوور ڈرائیو میں گئی۔

    سخت کوششوں کے بعد نہ صرف خطرہ ٹل گیا بلکہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان نہ صرف 11.5 بلین ڈالر کا جرمانہ معاف کروانے میں کامیاب ہوا بلکہ اسی کمپنی کو بلوچستان میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی آمادہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع میسر آئیں گے۔ 2008 میں، پی پی پی کی حکومت نے کارکی کراڈینیز الیکٹرک یوریٹین (KKEU) کو رینٹل پاور پروجیکٹ سے نوازا تھا۔ لیکن یہ 231 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہا جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار تھا، حالانکہ کمپنی کو صلاحیت کے چارجز کے طور پر 9 ملین ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے۔

    2013 میں، KKEU نے تقریباً 16 ماہ تک کراچی بندرگاہ کو چھوڑنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے اپنے جہازوں کو ہونے والے نقصانات یا قدر میں کمی کی مد میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگتے ہوئے ICSID کو منتقل کیا۔ ترکی کی کمپنی نے بعد میں 2017 میں مقدمہ جیت لیا اور پاکستان پر 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ شکر ہے، 2019 میں، ریاستی اداروں نے فوج کی سفارتی حکمت کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا اور جرمانے میں 1.2 بلین ڈالر کی بچت کی۔چمالنگ کول مائنز کی ملکیت کا تنازعہ بھی پاک فوج کی ثالثی سے حل ہو گیا جس کی مالیت 12 ارب ڈالر ہے۔

    جنوری 2006 میں، کوئٹہ میں قائم 41 ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے متحارب فریقوں کو اکٹھا کرکے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ایک پہل شروع کی۔ میرس، لونس اور ٹھیکیداروں کو فوج کی ثالثی پر مکمل اعتماد کرنا تھا۔ جب سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، 1.5 ملین ٹن کوئلے کی کھدائی ہو چکی ہے جس سے پاکستان کو 37 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ 2007 تک، کانوں نے بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے لیے 55,000 ملازمتیں پیدا کیں۔پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی بھی CPEC کے تقریباً 62 بلین ڈالر کے منصوبوں کو ہموار چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔

    فوجی اہلکار اس منصوبے کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوریڈور کو حکومت کے منصوبے کے مطابق تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فلیگ شپ پروجیکٹ کے تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا گیا ہے۔ فوجی انجینئر اس راہداری کے حصوں کی تعمیر میں مصروف ہیں، جہاں سڑک موجود نہیں ہے اور فوج نے اس کی حفاظت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔اس کے علاوہ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) پہلے ہی CPEC کے مغربی روٹ کے حصے کے طور پر بلوچستان میں 870 کلومیٹر کے روڈ نیٹ ورک میں سے 556 کلومیٹر مکمل کر چکی ہے۔

    بلوچستان کے پراجیکٹس پر FWO کے 12 یونٹ بھی تعینات کیے گئے تھے اور FWO علاقے کی تنہائی اور ناہمواری کے حالات کے پیش نظر لاجسٹک خدشات کے باوجود مشکل لیکن چیلنجنگ کام کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ناقابل تسخیر ہے۔

    پاکستانی فوج طویل عرصے سے قومی تعمیر کے کاموں میں شامل رہی ہے جس میں شاہراہ قراقرم جیسی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ ڈیموں کی مرمت؛ آبپاشی کی نہروں کی صفائی؛ مردم شماری کا انعقاد؛ اور انتخابات کا انعقاد۔ اس کے علاوہ، فوجی سفارت کاری اور اس کی مذاکراتی صلاحیتوں نے متعدد مواقع پر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کی تنظیمی طاقت، اس کی چستی اور اس کے محنتی دفتری کیڈر نے اسے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ قومی سطح کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کی ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، پاکستان کی فوج حکومت پاکستان کی مدد کرنے پر فخر کرتی ہے۔ اور مشکلات سے قطع نظر، اس نے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کے لیے بہت سے اسٹریٹجک چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔

  • میاں اکبر خاندان کے جانشین ، تحریر: ممتاز اعوان

    میاں اکبر خاندان کے جانشین ، تحریر: ممتاز اعوان

    میاں عمران مسعود ملک کی ضرورت ہیں جنہوں نے اپنی جوانی، اور تمام قیمتی سال ایک مربوط نظام تعلیم، اور نوجوانوں کی بہتری کے لیے انتھک محنت سے صرف کیے ہیں۔ آپ نے اپنا آغاز اس وقت کیا جب آپ کی عمر صرف 25 سال تھی، اپنے شہر کی خوف سے فتح تک نمائندگی کی، آپ زندگی کے کٹھن نشیب و فراز سے گزرے، 4 بار ایم پی رہے جن کی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں تھی۔
    آپ نے اپنے خاندان کے قاتلوں کو غیر مشروط معاف کر دیا جس میں کسی قسم کا کوئی مالی مفاد نہیں تھا۔ آپ کے اس عمل نے باقیوں کے لیے ایک مثال قائم کی، یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے بہت سے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
    آپ نے اس تجدید دوستی کو اپنے کسی سیاسی فائدے کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا۔ آپ ہمیشہ حسنِ اخلاق کے ساتھ کھڑے رہے۔

    پارلیمانی سیکرٹری صحت سے لے کر چیئرمین ٹاسک فورس ایجوکیشن، اور ایک معروف وزیر تعلیم تک، یہ سب کچھ اب VC-ship تک پہنچ کر آپ کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ ایچ ای سی کے رکن رہے، حکومت کے درمیان خلیج کو کم کرنے اور نجی یونیورسٹیوں کی بہتر کارکردگی کے لیے انتھک کوشش کی۔
    آپ ایک ایسا اثاثہ ہیں جن کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ اب 10 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ آپ نے یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء کو لگاتار اس کے وائس چانسلر کی حیثیت سے آگے بڑھایا۔ آپ نے اس ادارے کو اپنی محنت اور لگن سے چار چاند لگا دیے۔
    تمام حکومتوں کو ان سے مشورہ لینا چاہیے اور سائنس اور تعلیم کے اس شعبے میں ان کے تجربے کو ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ گجرات میں ایک یونیورسٹی کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں آپ کا حصہ رہا ہے۔ آپ نے گجرات شہر کی ثقافت کو بدلنے میں مدد کی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے 40 سال اس خوبصورت مقصد کے لیے دیے اور اب بھی مزید دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم آپ کے لازوال جوش اور ولولہ انگیز جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی دیانتداری اور مقصدیت کا خلوص ان کے خوش آئند عزائم کا خاصہ رہا ہے۔
    آپ نوجوانوں کے لیے روشنی کا مینار اور بہت سے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے. آپ نے کئی مواقع پر اپنے ملک اور محکمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے دور دور کا سفر کیا۔ البتہ یہ منفرد اور بے مثال ہے۔ آپ بیرون ملک کئی کانفرنسوں میں کلیدی مقرر رہے ہیں۔میاں عمران مسعود نے جو قابل ذکر کانفرنس اٹینڈ کیں ان میں ایک ماؤنٹ ٹریبلنٹ کانفرنس ہے ،کینیڈا کا ایک ایسا علاقہ ہے جو برف پوش ہے، وہاں کانفرنس ہوئی تھی، دنیا کے کئی ممالک کے صدور اس کانفرنس میں آئے تھے، بل کلنٹن بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے ، وہاں پر مختلف ممالک کا تذکرہ ہوا اور جب کلنٹن نے مختلف افریقی ممالک کا ذکر کیا لیکن کشمیر کا ذکر نہ کیا ، جب کانفرنس ختم ہوئی تو پاکستان کے وفد میں شامل میاں عمران مسعود آگے لپکے اور بل کلنٹن سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا اچھا ہوتا کہ آپ کشمیر کا بھی ذکر کرتے جس پر بل کلنٹن نے کہا کہ مجھے کشمیر کا ذکر کرنا چاہئے تھا جو مجھ سے رہ گیا، اس کانفرنس میں میاں عمران مسعود نے پاکستان کی بھر پور انداز میں نمائندگی کی تھی،

    میاں عمران مسعود بیرون ممالک میں بھی پاکستان کا چہرہ بنے رہے، انہوں نے ہمیشہ پاکستانیت پر بات کی، یہ سب کچھ اب سامنے آنا چاہیے۔ آپ نے دوستی، اعتماد، حب الوطنی، اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے تصور پر اعتبار کیا، ایک بیمار معاشرے میں جہاں دھوکہ دہی، عیب جوئی اور ہیکلنگ روز کا معمول بن گیا ہے۔ آپ ایک اثاثہ ہیں، جن پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ آنکھ بند کر کے آپ نے ثابت قدمی کے ساتھ انمول شراکتیں پیش کیں، اور درمیانی دھارے میں گھوڑوں کو کبھی نہیں بدلا۔ آپ نے ضربیں لگائیں لیکن سینہ تان کر کھڑے رہے۔ آپ کا ماضی آپ کے امید افزا کل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نئے اور آنے والے سیاستدانوں کے لیے آپ کی شخصیت قابل تحسین ہے۔ آپ بغیر کسی مراعات کے اپنی پارٹی اور عوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔

    سیاسی منظر نامے کو ایسے بے لوث لوگوں کی ضرورت ہے۔ گجرات کو فخر ہے کہ ایسا بیٹا اس عقیدتمندانہ مٹی سے ہے۔ آپ اپنے شہر میں، آپ ملکی سطح کے حلقوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کسی بھی فعال جمہوریت کی بنیاد ہے۔ آپ اپنی پارٹی کے ساتھ وفادار رہے۔ وہ پارٹی جس نے حال ہی میں طوفان کا سامنا کیا۔ آپ انتہائی مشکل وقت کے باوجود سختی سے ڈٹے رہے۔ اکبر خاندان اور چھوٹے لوگ آپ کے نئے خواب اور وژن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ اپنے زیادہ تر ہم عصروں کے برعکس، آپ نے خاندان کی چاندی اس شہر کی خدمت کے لیے دے دی جس سے آپ کا تعلق تھا، جس کے لیے آپ کو کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی دل آزاری ہوئی۔

    میاں عمران مسعود کے بھائی میاں ہارون مسعود گجرات کے تحصیل ناظم رہ چکے ہیں اور وہ انگلش کے آتھر بھی ہیں میاں ہارون مسعود نے بھی علاقہ عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انتہائی عاجز عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے اور انکے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھنے والے میاں ہارون مسعود اسی وجہ سے گجرات میں عوامی حلقوں میں مقبول ہیں کیونکہ وہ خود کو عوام میں سے سمجھتے ہیں جب وہ تحصیل ناظم تھے تو انہوں نے گجرات میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا ۔سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ہاوس میں زمیدارہ کالج کو یونیورسٹی بنانے کہ قرارداد پیش کی جو 92 ووٹوں سے منظور ہوئی بعد ازاں اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول گجرات گئے اور انہوں نے زمیدارہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ یوں میاں ہارون مسعود کا اپنے علاقے میں یونیورسٹی کا دیرینہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچا ۔تعلیم دوست خاندان کو نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب سمیت پاکستان بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس میں انکے کردار کا کمال ہے ،میان عمران مسعود، میاں ہارون مسعود دونوں بھائیوں نے انکے بزرگوں کے جو دوست تھے انکو اپنا اثاثہ جانا اور انکی ہر خوشی غمی میں انکا ساتھ دیا، جو محبت ،عزت انکے بزرگوں کی جانب سے انکے دوستوں کو ملتی تھی، اب اس سے کہیں بڑھ کر دونوں بھائی انکی عزت کرتے ہیں اور ہر لمحہ انکے ساتھ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں ، انہوں نے کبھی کسی کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا،

    میاں ہارون مسعود کے بیٹے میاں زورین مسعود، میاں اکبر اور میاں عمران مسعود کا بیٹا میاں ہاشم مسعود ایچی سن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک سے بھی ڈگری ہولڈر ہیں اور وہ بھی اب گجرات میں ہی والدین کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ میاں ہارون مسعود کے بیٹے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ان میں بھی عوامی خدمت کا جذبہ والد کی طرح موجود ہے وہ بھی گجرات کی عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور قوی امید ہے کہ وہ اپنے مشن خدمت خلق میں کامیاب ہوں گے کیونکہ جب نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے انسان کی زبان نہیں بلکہ اسکا کردار سب کے سامنے ہوتا ہے اور اس خاندان کا کردار سب کے لیے مشعل راہ ہے

    میاں اکبر خاندان اور اس کی اولاد زندہ باد
    پاکستان زندہ باد
    قدم بڑھاؤ عمران مسعود ہم تمہارے ساتھ ہیں

  • جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

    خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا،جیمز ویب کو دسمبر میں ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی کے مطابق ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوٹے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا دوربین بنانے والے انجینئرز خلا کی سختیوں سے بہت زیادہ واقف ہیں، اور ویب کو احتیاط سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔


    ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ ہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔


    اگرچہ میٹیورائڈ خلائی لحاظ سے چھوٹا تھا – یہ اس سے بڑا تھا جس کے خلاف دوربین کو لانچ کرنے سے پہلے ٹیسٹ کیا گیا تھا انتہائی تیز رفتاری جس سےچیزیں خلا میں منتقل ہوتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اگر کسی چیز سے ٹکراتی ہے تو اسے بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    ناسا نے مزید کہا کہ ٹیلی اسکوپ میں ایسے تصادمات برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے، چاہے چٹان کا ٹکڑا متوقع ٹکڑے سے بڑا ہی کیوں نہ ہوتشکیلی مراحل میں محقیقن نےآئینوں کےٹکڑوں پر حقیقی و مصنوعی تصادمات کا استعمال کیاتاکہ یہ دیکھ جاسکےکہ ٹیلی اسکوپ خلا میں تیرتے ایسے ٹکڑوں کی ٹکر کو کیسے برداشت کرتی ہے۔


    ناسا کے ٹیکنیکل ڈپٹی پروجیکٹ منیجر پال گِیتھنر کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کو یہ علم تھا کہ ویب کو خلائی ماحول کو برداشت کرنا ہوگا جس میں سورج سے آتی سخت الٹرا وائلٹ روشنی اور چارجڈ ذرّات، کہکشاں میں غیر معمولی ذرائع سے آتی خلائی شعائیں اور ہمارے نظامِ شمسی میں موجود چھوٹے شہابی پتھروں کی وقتاً فوقتاً ٹکر شامل ہے-


    ہم نےٹیلی سکوپ کو کارکردگی کے مارجن کے ساتھ ڈیزائن کیا اور بنایا ہے آپٹیکل، تھرمل، الیکٹریکل، مکینیکل – اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ خلا میں کئی سالوں کے بعد بھی اپنے سائنسی مشن کو انجام دے سکے-

    امریکی خلائی ایجنسی اب بھی نقصان کی جانچ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی سکوپ کافی اچھی طرح سے کام کر رہی ہے۔


    ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جیمز ویب دوربین کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر لانچ کرنے کے بعد سے یہ پانچویں مرتبہ تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ تازہ ترین واقعہ سب سے اہم رہا ہے دوربین فی الحال اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کائنات کے قریب اور دور کے مشاہدات کو اکٹھا کر رہی ہے۔ ماہرین فلکیات 12 جولائی کو دوربین کی خلا کی پہلی مناسب تصاویر جاری کرنے والے ہیں۔


    طویل مدتی، سائنس دان ویب کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ 13.5 بلین سال پہلے کائنات کو روشن کرنے والے پہلے ستاروں کو دیکھنے کی کوشش کریں وہ دوربین کی بڑی "آنکھ” کو دور دراز کے سیاروں کے ماحول پر بھی تربیت دیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ دنیائیں رہنے کے قابل ہو سکتی ہیں۔