Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت میں  دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    بھارت میں دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    مدھیا پردیش: بھارت میں جنم لینے والے دو سر والے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا ہے اس بچے کے تین ہاتھ ہیں اور سینے میں دو دل دھڑک رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق رواں 28 مارچ کو رتلام ، مدھیا پردیش میں پیدا ہونے والے بچے اب بھی ہسپتال میں ہیں اورڈاکٹر ان کی نگرانی کررہے ہیں اس پیدائشی نقص کو طب کی زبان میں ڈائی سیفیلک پیراپیگس کہا جاتا ہے جس میں ایک دھڑ پر ایک اور اضافی سر یا عضو بن جاتا ہے ایسے بچے عموماً مردہ پیدا ہوتے ہیں لیکن اب تک یہ بچے زندہ ہیں جو کہ ڈاکٹروں کے لئے ایک اور حیرت انگیز امر ہے۔

    تامل ناڈو کےاسلام قبول کرنےوالےمسلمانوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی شکایت


    بچے کے والدین سہیل اور شاہین خان کو پہلے ہی اس واقعے سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ رحم میں جڑواں بچے ہیں لیکن چند ماہ بعد دونوں سر ایک ہی جسم پر منتقل ہوئے اور اب سی سیکشن سرجری کے بعد دو سر والے لڑکے کی پیدائش ہوئی ہے جس کا ابتدائی وزن پونے چار کلوگرام بتایا گیا ہے۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    ہسپتال کی سینیئر ڈاکٹر لاہوتی نے زندہ بچوں کو ایک معجزہ قرار دیا ہے جس میں دو بچے ایک ہی دھڑ پر باہم پیوست ہوجاتے ہیں دونوں سروں کے عین درمیان ایک اور ہاتھ بھی ہے۔ تاہم اس وقت ڈاکٹروں نے کسی بھی قسم کی سرجری یا آپریشن سے انکار کیا ہے۔

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم

  • سندھ کو شکست:بلوچستان نے پاکستان کپ کے فائنل میں جگہ بنالی

    سندھ کو شکست:بلوچستان نے پاکستان کپ کے فائنل میں جگہ بنالی

    لاہور:سندھ کو شکست، بلوچستان نے پاکستان کپ کے فائنل میں جگہ بنالی ،اطلاعات کے مطابق حسیب اللہ خان کی سنچری کی بدولت بلوچستان نے سندھ کو 13 رنز سے شکست دے کر پاکستان کپ کے فائنل میں جگہ بنالی ہے۔

    ملتان میں کھیلے گئے دوسرے سیمی فائنل میچ میں سندھ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    سندھ اننگز

    264 رنز کا ہدف سندھ کی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی اور مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹ کے نقصان پر 250 سکور بناسکی، عمیر بن یوسف نے سب سے زیادہ 60 رنز بنائے، شرجیل خان 50، صائم ایوب 30، خرم منظور 55، سرفراز احمد 1، محمد طہٰ 1، حسن محسن 14 اور محمد عمر 1 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

    فاتح ٹیم کے کاشف بھٹی نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ خرم شہزاد اور یاسر شاہ نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    بلوچستان اننگز

    سندھ کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بلوچستان نے 263 رنز بنائے، حسیب اللہ خان نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 چھکے اور 18 چوکوں کی مدد سے 114 گیندوں پر 131 رنز کی اننگز کھیلی، عمران بٹ 11، عبدالواحد بنگلزئی 12، اسد شفیق 64، ایاز تصور 1، بسم اللہ خان 10، عماد بٹ 13، کاشف بھٹی 5 اور عاکف جاوید صفر پر آؤٹ ہوئے۔

    شکست خوردہ ٹیم کی جانب سے محمد عمر اور سہیل خان نے 3،3 جبکہ میر حمزہ نے 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مابین ایونٹ کا فیصلہ کن معرکہ یکم اپریل کو ہوگا۔

  • مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

    مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

    لندن: ایک طویل تحقیق کے بعد کئی اداروں کی جانب سے بنائی گئی مچھر دانی پردوسالہ آزمائش کے بعد ماہرین نے اسے بہت امید افزا قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے لینسٹ میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق روایتی مچھردانیوں میں دوا لگی ہوتی ہے جو مچھروں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے جبکہ مذکورہ مچھر دانی کی جالی میں مچھر پھنس کر بے بس ہوجاتے ہیں اوراور اڑنے کے قابل نہیں رہتے وہیں مرجاتے ہیں۔

    پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا…

    لندن اسکول ہر ہائجن اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ، کلیمنجارو میڈیکل یونیورسٹی کالج تنزانیہ اور کینیڈا کی جامعہ اوٹاوہ نے تنزانیہ میں دو برس تک اس مچھردانی کی آزمائش کی گئی ہے۔ مطالعے میں کل 39000 گھرانوں میں اسے لگایا گیا اور 6 ماہ سے 14 برس تک کے 4500 بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ مچھر دانی میں دو طرح کی مچھر مار ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ لگائی گئی تھیں۔ دونوں ادویہ لانگ لاسٹنگ انسیکٹی سائڈل نیٹ (ایل ایل آئی این)نامی مچھر دانی میں لگائی گئی تھی اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں ملیریا کے واقعات میں 44 فیصد کمی ہوئی جبکہ ملیریا پھیلانے والے مچھروں کو جکڑنے میں 85 فیصد کامیابی ملی۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    ملیریا اور مچھروں کے امراض سے اموات میں افریقہ سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن یہاں مچھردانی کو ہی ان سے بچاؤ کا کامیاب ذریعہ قرار دیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی سالانہ 6 لاکھ سے زائد بچے ملیریا کا لقمہ بن کر مرجاتے ہیں دوسالہ تحقیق میں 72 ایسے گاؤں منتخب کئے گئے جہاں ملیریا کی وبا ہولناک ہوچکی تھی کیونکہ مچھر روایتی ادویہ سے مزاحمت پیدا کرچکے تھے بارشوں کے موسم کے بعد دو سے تین اقسام کی مچھردانیاں آزمائی گئیں جن میں نئی دوا والی مچھر دانی بھی شامل تھی۔

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    اب جن بچوں کے بستروں پر کلورفیناپائر ایل ایل آئی این والی مچھردانیوں پر رکھا گیا تو ان میں ملیریا کے واقعات 37 فیصد کم دیکھے گئے۔ پہلے 12 ماہ میں روایتی پائرتھروئڈ ادویہ والی مچھردانی سے ملیریا کے مرض میں 27 فیصد کمی ہوئی لیکن مچھروں نے خود کو بدلا اور دوا کی تاثیر بھی کم ہوگئی اور مچھردانی میں سوراخ بھی بننے لگے۔ جب ان دونوں ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ کو استعمال کیا گیا تو بہترین نتائج سامنے آئے کیونکہ مچھر پرواز کے قابل نہ رہے تھے اور خون چوسنے والے مادائیں بھی نسل آگے نہ بڑھاسکیں جبکہ کلورفیناپائر ایل ایل این کی تیاری بہت کم خرچ ہے اور انسانی استعمال کے لیے یکسر مفید بھی ہے۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • مرکز قرآن و سنہ لاہور:۔۔۔۔:ایک نظر میں  ازابوبکر قدوسی

    مرکز قرآن و سنہ لاہور:۔۔۔۔:ایک نظر میں ازابوبکر قدوسی

    مرکز قرآن و سنہ بلاشبہ جذبے کا حقیقت کی دنیا میں آتا ہوا مظہر ہے۔ آج سے چند برس قبل ایک کنال زمین پر ایک ہال کمرے میں مسجد سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ الحمدللہ ایک ایکڑ کو عبور کر چکا ہے۔ اس دوران اس میں کتنے ہی شعبے قائم کیے گئے جو کامیابی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ بلاشبہ اس تمام تر محنت کا ثمرہ برادر عزیز ہشام الٰہی ظہیر اور ان کے قدم قدم ساتھ کھڑے معاونین کے نام ہے کہ جن میں آپ سب بھی شامل ہیں۔

    1۔ اس میں قائم مسجد سے اُٹھنے والی حق و صداقت کی صدا اب محض اس کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ جدید ذرائع ابلاغ کے عمدہ استعمال کی بدولت چار دانگ عالم میں سنی جاتی ہے۔ وہ عام عوام ہوں یا فیصلہ ساز اشرافیہ الحمدللہ اسی منبر سے اُٹھنے والی حریت فکر کی آواز کو اب نظر انداز نہیں کرسکتے جس کی مثال متعدد کیسز اور واقعات میں انہی خطوط پر فیصلے کرنا شامل ہے جس کو یہاں سے بیان کیا گیا

    2۔ شعبہ حفظ:
    بلاشبہ یہ شعبہ اس ادارے کے ماتھے کا جھومر ہے۔ جس میں بچوں کو نہایت عمدہ طریقے سے حفظ کروایا جاتا ہے، اور ان کی عزت نفس کو مجروح کیے بنا کسی قسم کی پٹائی سے محفوظ رکھتے ہوئے صرف حفظ نہیں کرایا جاتا بلکہ ان کی تربیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے، اور اس کو روایتی خیراتی انداز میں چلانے کی بجائے اس منفرد انداز میں شروع کیا گیا ہے اور متمول افراد سے مناسب فیس بھی لی جاتی ہے۔ اور مستحق طلباء کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے

    3۔ دستر خوان:
    کیا آپ یقین کریں گے کہ تقریباً بارہ سے پندرہ سو کے قریب افراد یہاں روزانہ تین وقت کھانا کھاتے ہیں۔ اس کثیر تعداد کے لیے ادارے سے ملحق آٹھ مرلے پر محیط ایک مکمل کچن بنایا گیا ہے، اور حافظ ہشام الٰہی ظہیر کے دست راست (فاعل خیر) اس تمام انتظام کو اپنے ذمے لیے ہوئے ہیں اور بہت محنت و جانفشانی سے اس کو سنبھالتے ہیں۔

    4۔ QRF سکول سسٹم:
    یہ اس ادارے کا سب سے اہم منصوبہ ہے۔ جو حافظ ہشام الٰہی ظہیر کے ذہن رسا کا نتیجہ ہے۔ صرف دو برس کے اندر یہ سکول اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے۔ جس کے پرنسپل راقب نعیم نہایت محنت سے اس سکول کو جدید انداز میں چلا رہے ہیں۔ اس سکول کی خوبی صرف تعلیم نہیں تربیت بھی ہے، اور ہاں جب یہ سکول شروع کیا گیا تو ہشام الٰہی ظہیر صاحب نے سب سے پہلے اپنے بچوں کو شہر کے مہنگے ترین سکولوں سے اُٹھا کر یہاں داخل کیا۔ تو کیا سبب تھا کہ یہ سکول ترقی نہ کرتا۔ اس اسکول کے شعبہ جات پر نوائے وقت کی کالم نگار عنبر شاھد نے ایک کالم لکھا جس میں اسکا مکمل تعارف موجود ہے

    5۔ رفاہ عامہ کے شعبہ جات:
    اس ادارے میں رفاہ عامہ کے بہت سے ضمنی شعبہ جات بھی کامیابی سے جاری ہیں۔
    # مقامی آبادی کے لیے تقریباً بیس لاکھ روپے لاگت کا انتہائی عمدہ اور معیاری پینے کے پانی کا فلٹر پلانٹ نصب کیا گیا ہے۔
    # عیدالاضحی کے دنوں میں بڑے پیمانے پر قربانی کی جاتی ہے اور گوشت غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
    # ہر جمعے کو سینکڑوں نمازیوں کے لیے کھانے کا وسیع انتظام ہوتا ہے۔
    # مرکز کے بالکل فرنٹ پر ایک ڈسپنسری زیر تعمیر ہے۔
    # ایک کمرہ غسل میت کے لیے تعمیر کیا گیا ہے جس میں تمام تعمیر عمدہ پتھر سے کی گئی ہے، اور ہر سہولت بہم پہنچائی گئی ہے۔

    6۔ خواتین کی مسجد:
    یہ المناک حقیقت ہے کہ جس عورت نے نسلوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے خود اس کی تربیت کا ہمارے ہاں کوئی سامان نہیں ہوتا۔ برادر ہشام الٰہی ظہیر جو ہر وقت کچھ نیا کرنے کا سوچتے رہتے ہیں ، اس برس انہوں نے مرکز کے پہلو میں ایک کنال کا پلاٹ لیا اور اس کو صرف خواتین کے لیے خاص کر دیا اسکی وجہ یہی تھی کہ خواتین کے رش کی وجہ سے سابقہ جگہ بہت کم پڑ چکی تھی اور اس رمضان المبارک میں ان شاء اللہ خواتین اسی میں تروایح اور نمازیِں ادا کریں گی اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل وکرم سے یہ تمام تعمیر صرف تین ماہ کے اندر مکمل ہوئی۔بلاشبہ ایک کنال کی چار منزلوں پر مشتمل عورتوں کی یہ مسجد اور مدرسہ جس میں فہم قرآن و دین کے متعدد کورسز جاری و ساری ہیں شاید لاہور میں عورتوں کے حوالے سے سب سے بڑا ادارہ ہو

    7۔ میڈیا سنٹر اور لائبریری:
    اس کمپلیکس میں اس برس تعمیر ہونے والی ایک شاندار عمارت میں ایک بڑے ہال میں میڈیا سنٹر قائم کیا جا رہا ہے جو اگرچہ پہلے بھی فعال تھا لیکن اب اس میں مزید جدت لائی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک وسیع تر لائبریری بھی زیر تعمیر ہے۔

    8۔ بہبود علماء کمیٹی:
    جناب حافظ ہشام الٰہی ظہیر کا یہ کارنامہ بلاشبہ سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق ہے۔ آپ نے اسی مرکز کے زیر اہتمام نادار اور ریٹائر علماء کرام کے لیے وظائف کا آغاز کیا۔ وہ علماء جنہوں نے اپنی جوانی دین اسلام کی خدمت میں وقف کی ہوتی ہے اور بڑھاپا آتا ہے تو بے یار و مددگار چھوڑ دیے جاتے ہیں ، مشکل کی اس گھڑی میں ان کے کام آنا بلاشبہ ایک سنہری کارنامہ ہے۔ اور یہ کام ماہانہ کی بنیاد پر گزشتہ تین چار برس سے جاری و ساری ہے

    9۔ دفاع علماء کمیٹی:
    یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا کہ جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی۔ ہوتا یہ تھا کہ علماء کے خطبے اور تقاریر سے مرضی کے جملے اور فقرے اُچک کر ان پر جھوٹے مقدمے دائر کر دیے جاتے اور وہ مجبور محض ہو کر تھانے کچہریوں میں خوار ہوتے رہتے اور کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر چند برس پہلے اس مرکز میں ایک اجلاس میں اس کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور کتنے ہی مظلوم علماء مساجد و مدارس کی داد رسی کی گئی واقفان حال جانتے ہیں اس اکیلے شعبے کا کام ایک جماعت کے کام سے بھی زیادہ ہے

    10. رمضان المبارک کی راتیں

    جب گھر میں ” وی آئی پی ” مہمان آتا ہے تو ہم کیسے شان دار طریقے سے اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور پھر کیسے اس کے آگے بچھ بچھ جاتے ہیں ۔۔۔

    اس مرکز میں رمضان المبارک ایسا ہی مہمان بن کر آتا ہے ۔

    اور اس رمضان المبارک کے توسط سے آنے والے نمازی اور روزہ دار اتنے ہی معتبر ہوتے ہیں کہ جو ان کا مقام ہے ۔۔
    حافظ ہشام الہی ظہیر اور ان کے ساتھی ان کے میزبان ہوتے ہیں اور ان مہمانوں کی خدمت میں آنکھیں بچھائے ہر وقت مستعد۔ ۔
    پچھلے صحن میں ایک طرف صفیں بچھی ہوتی ہیں اور تراویح و درس کی روحانی ضیافت کے ساتھ ساتھ طعام و خورو نوش کی محفل بھی بپا رہتی ہے ۔۔ایک طرف چائے ، عمدہ جلیبیوں اور بچوں کے لیے چپس بن رہے ہوتے ہیں اور بہترین کھجوریں دستر خوان پر سجی ہوتی ہیں ۔۔۔۔

    اور اندر ہال میں روحانیت کی مجلس ہشام الہی ظہیر سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ فجر اور طاق راتوں میں متعدد نامور اور جید علماء تعلیم و تزکیہ کورس کرواتے ہیں اس برس اس مرکز میں مدینہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کر کے آئے ارشاد الحسن ابرار بھی حافظ ہشام الہی ظہیر کے رفقاء خاص میں شامل ہو گئے ہیں

    نہایت خوش الحان قاری قران حافظ سہل الہیٰ ظہیر اور قاری امجد اور دیگر قراء کی تلاوت سے روح کو تروتازگی مل رہی ہوتی ہے۔ سہل الہیٰ برادر معتصم الہی ظہیر کے لائق بیٹے اور حضرت علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کے پوتے ہیں ۔۔۔۔۔

    11. فتویٰ کمیٹی
    اس مرکز یعنی شجر سایہ دار کا ایک نہائت اہم شعبہ فتویٰ کمیٹی کا ہے ۔جس کی سرپرستی اور نگرانی مفتی جماعت حضرت مولانا عبد الستار حماد حفظہ اللہ کر رہے ہیں اور مکرم ابتسام الہی ظہیر اور ہشام الہی ظہیر اس کے انتظامی امور کی نگرانی کرتے ہیں ۔۔پچھلے کچھ عرصے میں بہت سے پیش آنے والے واقعات و مسائل پر اس فتویٰ کمیٹی نے بروقت قوم و ملت کی رہنمائی کی اور مدت سے موجود ایک خلا پر کیا ۔بلاشبہ یہ اس مرکز کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت کا دروازہ ہے ۔۔۔۔
    حضرت علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بے حساب ہوں اور مسلسل و لگاتار ہوں کہ جن کی باقیات و صالحات کا سلسلہ ان کی ذریت کی صورت میں ہم پر سایہ فگن ہے فتوی کمیٹی کی تشکیل بھی انہی کا خواب تھا اب خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لجنہ علماء للافتاء کے جید علماء کے متفقہ فتاوی جات مطبوعہ حالت میں رمضان میں منظر عام پر بھی آجائیں گے ۔ ۔ علامہ شہید کے اک اور خواب کی تکمیل بھی ہو جائے گی

    رمضان المبارک قریب ہے ان شا اللہ یہ مینارہ رشد ہدایت اکناف عالم کو روشن کرے گا ، اور اس کے لیے احباب کو آگے بڑھنا چاہیے ۔۔۔۔
    اتنا بڑا ادارہ آپ احباب کے تعاون کے بغیر چلنا نا ممکن ہے آپ اپنی زکات صدقات و عطیات کا ایک وافر حصہ اس ادارے کے لئے مختص کریں یہاں خرچ ہونے والا ایک ایک پیسہ نا صرف محفوظ ہاتھوں میں ہے بلکہ آپکو یاد دلاتا چلوں اس مرکز کی ساری انتظامیہ اپنی جیب سے بھی انفاق فی سبیل اللہ کرنے والی ہے چاہے حاجی اکرام اسلام و اشفاق کا خاندان ہو چاہے ڈاکٹر اسد اللہ شیروانی و انس کا ہو چاہے چودھری نذیر احمد چدھڑ کا ہو یا خود حافظ ہشام الہی ظہیر کا اپنا خاندان ہو لیکن اتنے بڑے پراجیکٹس آپ سب کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتے

    رابطہ :برائے تعاون
    +92 302 4705802
    Hafiz sajjad
    +92 306 4544952
    Qari amjad
    Farukh ilyas
    +92 324 5140011
    واٹس ایپ رابطہ نمبر=03104563818

  • میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟ ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟ ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    میں بھی تو بلوچی ہوں میرا کیا قصور تھا ؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    20 جنوری 2022 کو لاہور انار کلی بازار میں الحبیب بینک لمیٹڈ کے سامنے ایک زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد شہید اور 3 درجن کے قریب زخمی ہوئے یہ دھماکہ پلانٹنڈ تھا اور دوپہر کے وقت ہوا جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں عین سامنے بینک ہے اور اس کے سامنے ریڑھی والے غریب لوگ اپنی ریڑھیاں لگاتے ہیں اور اپنے بچوں کیلئے رزق کماتے ہیں-

    راقم کا انار کلی بازار میں کافی آنا جانا ہے اور اکثر و بیشتر جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سے دھی بھلے،فروٹ چاٹ،کھیر اور بھٹورے وغیرہ بھی کھائے ہیں راقم نے دھماکہ سے دو دن بعد دوبارہ اسی جگہ کا چکر لگایا تو دیکھا جو جگہ غریب ریڑھی بانوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی وہ بلکل خالی پڑی ہے کافی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ،چہروں پر اداسیاں تھیں مگر رونق اسی طرح تھی مگر جس دھی بھلے والے سے راقم دھی بھلے کھاتا تھا وہ نظر نا آیا-

    خیر کافی دنوں بعد وہ مطلوبہ بندہ نظر آیا تو جو گفتگو اس سے ہوئی وہ آپ کے سامنے ہے اس کی عمر 35 سال ہے مگر اس کی ڈارھی کی سفیدی اسے 50 سے اوپر کا ظاہر کرتی ہےمیں نے جاتے ہی اس سے سلام لیا اور پوچھا حکم داد ( فرضی نام) یار کہاں تھے اتنے دنوں سے میں تو بہت پریشان تھا تمہارے دھی بھلے بڑے اچھے اور مزیدار ہوتے ہیں یار کئی بار میں آیا مگر تم موجود نا تھے ،کہیں گئے ہوئے تھے؟-

    وہ میرے نام سے تو ناواقف تھا مگر اتنا جانتا تھا کہ کئی سالوں سے میں اس کا گاہگ ہوں اس نے بڑی تکلیف دہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا کمال ہے صاحب آپ کو نہیں پتہ اس جگہ دھماکہ ہوا تھا ؟میں نے کہا ہاں بھئی پتہ ہے اسی لئے تو تمہارا ساتھ والے ریڑھی والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ آ نہیں رہا ویسے بس دھماکہ میں اس کی ریڑھی تباہ ہوئی تھی مگر وہ بچ گیا تھا-

    اس نے ایک لمبی سانس بھری اور مجھے دھی بھلے بنا کر دیئے اور نظریں جھکا لیں میں نے دھی بھلے کھانا شروع کئے تو اس کی طرف دیکھا غالباً اس کی آنکھوں میں أنسو تھے خیر میں نے دھی بھلے ختم کئے تب تک وہ بھی خود کو سنبھال چکا تھا میں نے کہا یار دھماکہ کس جگہ ہوا تھا ؟-

    اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا میری ریڑھی کے عین سامنے میں نے اسے دیکھا تو وہ گویا ہوا صاحب پریشان ہو گئے کہ میں بچ کیسے گیا ؟ میں نے کہا نہیں بھئی یہ تو اللہ کی ذات ہے جسے چاہے زندہ رکھے جسے چاہے موت دے میں نے پوچھا جب دھماکہ ہوا تم اس وقت کہا تھے ؟وہ کہنے لگا صاحب اسی جگہ موجود تھا مگر جب دھماکہ ہوا میں ساتھ والی بلڈنگ میں دھی بھلے دینے گیا تھا
    میں نے کہا یار یہ کیوں اور کیسے ہوا؟-

    وہ کہنے لگا صاحب کیوں ہوا کا تو مجھے پتہ نہیں مگر ہوا ایسے کہ انار کلی بازار کے وسط سے تھوڑا پہلے جہاں گارمنٹس و جوتوں کی دکانیں ہیں وہاں ایک شحض پہلے سے کھڑی ایک موٹر سائیکل پر بیگ رکھ کر جانے لگا تو دکانداروں نے دیکھ لیا اور اسے کہا کہ کون ہے تو اور بیگ کیوں رکھا یہاں کہتا وہ شحض جلدی سے بیگ پکڑ کر یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ میں تو تھک گیا تھا بیگ اٹھا کر اسی لئے بائیک پر رکھا تھا –

    مزید اس نے بتایا کہ میری ریڑھی کے بلکل سامنے اس شحض نے سامنے سڑک کے وسط میں کھڑی موٹر سائیکل پر بیگ رکھا اتنے میں مجھے ساتھ والی بلڈنگ سے آرڈر آیا دھی بھلے لانے کا تو میں ادھر چلا گیا ابھی گیا ہی تھا تو دیکھا کہ میری ریڑھی وہاں بکھری پڑی ہے اور ایک اور بچے کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں اور وہ چیخ رہا ہے جبکہ ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے اور آگ ہی آگ یوں لگتا تھا جیسے قیامت برپا ہو گئی ہے-

    وہ کہتا ہے میں چیخنے لگا اور چلانے لگا اتنے میں پولیس و ریسکیو بھی آن پہنچی اور میں بھی گھر سے فون آنے پر گھر پہنچ گیا مگر میری ساری جمع پونجی لٹ گئی تھی اس نے آنکھوں میں أنسو لاتے قسم اٹھا کر کہا صاحب میں پورے پندرہ دن تک گھر سے باہر نہیں نکلا
    مجھے وہ منظر یاد آتا تھا تو میں رونے لگتا تھا میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا کیونکہ صاحب میری ریڑھی ساری تباہ ہو چکی تھی اور مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ کس نے یہ کیا اور میری ان سے دشمنی بھی کیا ہے –

    وہ کہتا ہے میری ماں نے مجھے ہمت اور غیرت دلائی کہ تو غیور بلوچ ہے کیوں بچوں کی طرح ڈر کر گھر میں بیٹھ گیا ہے اگر یونہی بیٹھا رہا تھا ہم بھوکے مر جائیں گے جا جا کر ریڑھی لگا اللہ رزق دے گا اور ہمت بھی وہ کہتا میں نے کچھ محلے داروں کو حالات بتلائے تو کسی نے مجھے رقم دی تو کسی نے نئی ریڑھی خرید کر دی-

    اس نے مجھ سے سوال کیا کہ صاحب یہ دھماکہ کس نے کروایا تھا تو میں نے اسے بتایا کہ ایک بلوچ علیحدگی پسند جماعت نے کروایا ہے
    اس نے پوچھا کیوں کروایا انہوں نے میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرکے ایک الگ ملک بناؤ اسی لئے وہ پاکستان کے ہر علاقے میں بم دھماکے کرتے ہیں پاکستانی عوام و فوج پر حملے کرتے ہیں اس کی آنکھوں میں پھر آنسو آ گئے-

    کہنے لگا صاحب میں بھی تو بلوچ ہوں اور جب 5 سال کا تھا تب میرے بابا ہماری پوری فیملی لے کر بلوچستاں سے لاہور آ گئے تھے کیونکہ کراچی کے حالات سخت خراب تھے اور ہمارے آبائی علاقے بلوچستان کے ایک دیہات میں کاروبار نا ہونے کے برابر تھا اسی لئے بابا نے کراچی کام شروع کیا تو وہاں بھی حالات خراب ہو گئے اسی لئے پیٹ کی خاطر لاہور آئے تھے بابا نے شربت بیچا،چنے بیچے کئی کام کئے اور ایک چھوٹا سا مکان خرید لیا ہے-

    اب ہمارا تو یہی شہر بھی ہے اور وطن بھی یہیں جئے گے یہیں مرینں ے کیونکہ میرے بابا کی قبر بھی تو میانی صاحب قبرستان میں ہے
    کہنے لگا صاحب یہ دھماکہ کرنے والے بلوچی نہیں ہیں بلوچی ہم ہیں صاحب ہمارے رشتہ دار آج بھی بلوچستان میں رہتے ہیں وہ دور دراز علاقوں سے پینے کا پانی بھر کر لاتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے وہ اور ہم بلوچ تو بہت خودار ہیں ہم اپنی دشمنیوں کی خاطر جانیں دے بھی دیتے ہیں اور لے بھی لیتے ہیں میں اللہ گواہ ہے صاحب ہم کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے جس کے ساتھ دشمنی ہے اسے ہی قتل کرتے ہیں کیونکہ کسی کو ناجائز قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور بلوچی ایسا گناہ نہیں کرتے صاحب قسم لے لو صاحب بلوچی ایسا ظلم نہیں کرتے-

    وہ بتلانے لگا کہ ہمارے بڑھوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا اور اپنی جانیں دے دیں مگر انگریز کی غلامی نہیں کی اس نے مجھے پوچھا صاحب ان ناراض بلوچوں کی دشمنی کس سے ہے ؟ میں نے کہا ان کی دشمنی ہر محب وطن پاکستانی سے ہے ان کی دشمن پاک فوج و عوام سے ہے ان کی دشمنی ہر آنے والی گورنمنٹ سے ہے-

    وہ کہنے لگا صاحب یہ لوگ اتنا پیسہ بم دھماکوں پر لگاتے ہیں اور لوگوں کو ناجائز قتل کرتے ہیں تو پھر یہی پیسہ بلوچستان میں غریب بلوچوں پر کیوں نہیں لگاتے ؟میں نے کہا بات تو تمہاری قابل غور ہے مگر ان کا مقصد بلوچیوں کے علاوہ سندھیوں،پنجابیوں،پشتونوں کو حقوق کے نام پر قتل کرنا ہے-

    وہ چونک گیا کہنے لگا صاحب کون بلوچی ؟ کون سندھی ؟ کون پنجابی اور کون پشتون؟ ہم سبھی تو ایک محلے میں اکھٹے رہتے ہیں نہیں یقین تو ساتھ چل کر دیکھو ہمارے گھر میں پکا ہوا سالن کبھی پنجابی گھر سے آتا ہے تو کبھی پشتون گھرانے سے تو کبھی سندھی گھرانے سے صاحب ہم تو ایک ہیں ہم تو مسلمان ہیں ہم تو اردو بولتے ہیں کبھی ایک دوسرے کو سندھی،بلوچی،پنجابی پشتون نہیں کہا صاحب میری تین ہی بیٹیاں ہیں اور ایک بوڑھی ماں ہے-

    صاحب قسم لے لو وہ جو ملک صاحب ہیں نا پیٹرول پمپ والے وہ ہر عید کے دن میری ماں کو گلے لگا کر جاتے ہیں جاتے ہوئے 5 ہزار دے کر جاتے ہیں اور میری بیٹیوں کا اپنی بیٹیوں کی طرح ماتھا چوم کر جاتے ہیں اور وہ غریب پنجابیوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی جاتے ہیں اور دوسرے صوبوں کے رہائش پذیز لوگوں کے گھروں میں بھی ایسے ہی تو صاحب پھر یہ نفرت کیوں؟-

    ہمارا قصور کیوں میں بھی تو بلوچ ہوں مگر مجھے کیوں مارا انہوں نے ؟میری رہڑھی کیوں تباہ کی انہوں نے ؟ صاحب جی یہ نئی والی ریڑھی مجھے لکڑی کے ٹال کے مالک حشمت خان نے مفت میں خرید کر دی ہے اور 10 ہزار سودے کیلئے رحم بخش سندھی نے دیا ہے
    صاحب یہ نفرت کیوں ہے ؟-

    یہ تو بلوچی نہیں صاحب بلوچی تو بڑے غیور ہوتے ہیں صاحب کسی کو ناجائز قتل نہیں کرتے کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضہ اللہ عنہ سب سے پہلے بلوچستان میں ہی آئے تھے اور ان کی قبریں بھی ادھر آج بھی ہیں یہ کیسے بلوچی ہیں جو ہمیں بلوچستان میں بھی مارتے ہیں اور پنجاب میں بھی پہلے انہوں نے کراچی کا کاروبار تباہ کیا اور اب لاہور کا تباہ کرنے لگے ہیں صاحب اگر لاہور کراچی بن گیا کاروبار نا رہا تو میں اپنی تین چھوٹی چھوٹی بچیوں کو لے کر کہاں جاؤں گا ؟-

    اس کے اس سوال کا جواب میرے پاس نا تھا میں نے اسے کہا حوصلہ کر کچھ نہیں ہوتا ان شاءاللہ یہ ملک یہ صوبے یہ شہر یہ گلی محلے ان شاءاللہ قیامت تک آباد رہیں گے کیونکہ ان کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے-

  • پہلا ون ڈے میچ: آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کو 88 رنز سے شکست

    پہلا ون ڈے میچ: آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستان کو 88 رنز سے شکست

    لاہور: آسٹریلیا نے پاکستان کو پہلے ون ڈے میچ میں 88 رنز سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز میں ایک، صفر کی برتری حاصل کرلی ہے۔

     

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے آسٹریلوی قائد ایرون فنچ کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    پاکستان اننگز

    314 رنز کا ہدف پاکستانی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی اور45 اعشاریہ 2 اوورز میں 225 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، امام الحق کی سنچری بھی گرین شرٹس کو شکست سے نہ بچاسکی، انہوں نے 3 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 96 گیندوں پر 103 رنز کی اننگز کھیلی، فخر زمان 18، کپتان بابر اعظم 57، سعود شکیل 3، محمد رضوان 10، افتخار احمد 2، خوشدل شاہ 19، حسن علی 2 اور محمد وسیم جونیئر صفر اور حارث رؤف 7 سکور بناکر پویلین لوٹے۔

    فاتح ٹیم کی جانب سے ایڈم زمپا نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھاتے ہوئے اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا، ٹریوس ہیڈ،مچل سویپسن نے2، 2، شان ایبٹ، نیتھن ایلس نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔
    آسٹریلیا اننگز

    شاہینوں کے خلاف کینگروز بلے بازوں نے جارحانہ اننگز کا آغاز کیا، اوپننگ بلے باز ٹریوس ہیڈ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 72 گیندوں پر 3 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 101 رنز کی اننگز کھیلی، کپتان ایرون فنچ 23، بین مک ڈرموٹ 55، مارنس لبوشین 25، مارکس سٹوئنس 26 اور الیکس کیری 4 رنز بنا کر پویلین لوٹے، کیمرون گرین 40 اور نیتھین ایلس 3 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے ۔

     

     

    اس طرح آسٹریلیا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹ کے نقصان پر 313 رنز بنائے۔

    پاکستان کی جانب سے زاہد محمود، حارث رؤف نے 2،2 ، افتخار احمد اور خوشدل شاہ نے 1،1 وکٹ اپنے نام کی۔
    آسٹریلیا کی ٹیم:

    آسٹریلیا کے پلیئنگ الیون میں ایرون فنچ (کپتان)، ٹریوس ہیڈن، بین مکڈرموٹ، مارنوس لبوشین، مارکوس اسٹوئنس، کیمرون گرین، ایلکس کیری (وکٹ کیپر)، سین ایبٹ، نتھن ایلس، ایڈم زمپا اور میچل سوئپسن شامل ہیں۔

    پاکستان سکواڈ

    آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میں فخر زمان، بابر اعظم (کپتان)، امام الحق، محم رضوان (وکٹ کیپر)، سعود شکیل، افتخار احمد، خوشدل شاہ، حسن علی، محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف اور زاہد محمود شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ون ڈے سیریز کے دیگر 2 میچز بھی لاہور میں ہی 31 مارچ اور 2 اپریل کو شیڈول ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا نے ایک صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔

     

  • نیشنل مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز کے لیے ایک روزہ سیمینار

    نیشنل مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز کے لیے ایک روزہ سیمینار

    کراچی:نیشنل مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز کے لیے ایک روزہ سیمینار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے زیراہتمام نیشنل مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز کے لیے ایک روزہ سیمینار ہوا جس میں ملک بھر سے مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز نے شرکت کی۔

    پی ایس بی میں نیشنل مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز کے لیے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جمنازیم، کوئٹہ جس کا مقصد ریفریوں اور ججوں کو مکسڈ مارشل آرٹس اور قواعد کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔

    اس موقع پر مہمانان خصوصی میں مرکزی صدر انجمن تاجران بلوچستان عبدالرحیم کاکڑ، صدر پاکستان جو جِتسو فیڈریشن خلیل احمد خان، نائب صدر میر یاسین مینگل، ڈائریکٹر پاکستان سپورٹس بورڈ کوئٹہ سینٹر عمران یوسف، بلوچستان مکسڈ مارشل آرٹس کے صدر شرافت بٹ تھے۔ ، جنرل سیکرٹری آغا محمد مینگل اور پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس کے چیئرمین طارق علی اور دیگر موجود تھے۔

    اس موقع پر پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس کے چیئرمین طارق علی نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد ایونٹ میں شرکت کرنے والے ریفریز اور ججز کو مکسڈ مارشل آرٹس کے قواعد و ضوابط کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا۔ ایسے سیمینار سے ہمارے ریفریز اور ججز کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔

    ایک روزہ قومی مکسڈ مارشل آرٹس ریفری اور ججز سیمینار میں پاکستان پولیس، واپڈا، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس اور گلگت سمیت چاروں صوبوں سے منتخب مکسڈ مارشل آرٹس ریفریز اور ججز نے شرکت کی۔ سیمینار کے اختتام پر شریک ریفریز اور ججز کو اسناد اور مہمان خصوصی کی شیلڈز دی گئیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا اور ادھر گولگام میں‌ فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ٹرانسپورٹروں نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف کل بدھ سے پورے مقبوضہ علاقے میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے ایک بیان میںپہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کا اتحاد ہے ۔ ایسوسی ایشن اور دیگر فریقوں نے 7فروری کے قابض انتظامیہ کے ظالمانہ احکامات کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے جن کے تحت کمرشل گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ مدت استعمال مقررکی گئی ہے ۔

    انہوں نے کمرشل گاڑیوں کی 25برس تک استعمال کی مدت برقراررکھنے کا مطالبہ کیاتھا ۔تا ہم نئے حکم کے تحت جموں اور سرینگر میں 20برس کے بعد کمرشل گاڑیاں قابل استعمال نہیں رہیں گی۔ کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے اس حکمنامے کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسافر گاڑیوں میں ٹریکنگ کا نظام نصب کرنے پر زوردیاہے۔

    ایسوسی ایشن نے مسافر ٹیکس کی وصولی کے حکم کی بھی منسوخی کا مطالبہ کیا جو کہ روٹ پرمٹ کی تجدید سے وابستہ ہے ۔

    واضح رہے کہ کشمیر ی ٹرانسپورٹروں نے اس سے قبل قابض انتظامیہ کے متعددظالمانہ احکامات کا متنازعہ زرعی قوانین سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے خلاف بدھ سے بھوک ہڑتال اور9 اپریل سے عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک بھارتی فوجی اپنی رائفل گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ضلع کے علاقے بہی میں واقع بھارتی فوج کی 34راشٹریہ رائفلز کے کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فوجی نے دانستہ طورپر خود کو گولی مارکر زخمی کیا یا بندوق سے حادثاتی طورپر گولی چلنے سے وہ زخمی ہوا ہے کیونکہ بھارتی فوجیوں خاص طورپر مقبوضہ کشمیرمیں تعینات فوجیوں میں اعصابی تنائو کی وجہ سے خودکشی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔

  • برطانیہ میں چوری کی انوکھی واردات،چور گرفتار

    برطانیہ میں چوری کی انوکھی واردات،چور گرفتار

    لندن: پولیس نے ایک برطانوی شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر لگ بھگ 500 سائیکل چرانے کا الزام ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کے مطابق آکسفورڈ شائرکے 54 سالہ شخص پر سائیکلیں چرانے کا الزام ہے اور اس کے گھر کے پاس ہی ایک کھلی جگہ پر سینکڑوں سائیکلیں بھی موجود ہیں جو مٹی سے بے رنگ ہورہی ہیں اور وہاں چوہوں کا راج ہے۔ سائیکلیں گزشتہ پانچ برس میں چراکر جمع کی گئی ہیں اور اب ایک بڑے ڈھیر کی شکل اختیار کرچکی ہیں اور وہ گوگل میپ سے بھی دکھائی دیتی ہیں۔

    آکسفورڈ شائر میں ناراض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں چوہوں کی لپیٹ میں آنے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے، جو کہا جاتا ہے کہ ایک ہفتے تک تعمیر ہو جائے گی متعدد شکایات کے بعد، گھر میں رہنے والے ایک 54 سالہ شخص کو چوری شدہ سامان اور مجرمانہ املاک پر قبضے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ان سائیکلوں کی اکثریت چوری کی گئی ہے اور اب ان کے مالکان کی تلاش جاری ہے عوام اور خود پولیس بھی حیران ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سائیکل یہاں کیسے جمع ہوئیں، اب تک اسے پر نظر کیوں نہیں گئی اور اگر یہ فروخت نہیں کی گئیں تو پھر اس چوری کا مقصد کیا تھا۔

    میکسیکو:چھوٹا طیارہ سپر مارکیٹ میں تباہ،3 افراد ہلاک، 4 زخمی

    53 سالہ کولین بٹلر 32 سال سے وہاں مقیم ہیں انہوں نے بتایا کہ کئی برس سے سائیکلوں سے بھرا ٹرک رات میں آیا کرتا ہے کبھی دن میں لیکن ہم نے اس پر توجہ نہیں دی تاہم پڑوسی نے سائیکل چور سےپوچھا کہ اتنی سائیکلیں کس لیے جمع کی گئی ہیں؟ تو اس نے کہا کہا یہ غریب افریقی بچوں کو دی جائیں گی۔ تاہم ایک طویل عرصےبعد بھی یہ سائیکلیں وہیں موجود رہیں۔

    تاہم پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے جس کے بعد مزید حقائق سامنے آسکیں گے۔

    واضح رہے کہ آکسفورڈ شائر کا یہ علاقہ کئی برس سے سائیکل چوری کا ایک بڑا مرکز تھا یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ میں اسے سائیکل سواروں کے لیے بدترین مقام بھی کہا جانے لگا تھا۔

    پاکستان رینجرز سندھ کی کاروائی ، کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیاء برآمد

  • دنیا بھر میں ٹوئٹر کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں ٹوئٹر کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر کی سروسز متاثر ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی میل کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی سروس دنیا بھر میں متاثر ہونے کی وجہ سےکروڑوں صارفین پریشان ہوگئے جبکہ ٹوئٹر ایپلی کیشن کریش ہونے کی بھی رپورٹس سامنے آئیں تاہم ابھی تک بندش سے متعلق وجوہات سامنے نہیں آسکیں جبکہ ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف نہیں دیا گیا ہے۔


    رپورٹس کے مطابق 4,100 سے زیادہ رپورٹس ڈاؤن ڈیٹیکٹر پر لاگ ان کی گئیں متاثرہ صارفین میں 56 فیصد کے مطابق ویب سائٹ استعمال کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے،37 فیصد صارفین نے بتایا کہ ایپلی کیشن میں خرابی کا سامنا ہے جبکہ 7 فیصد کے مطابق ٹوئٹر فیڈ میں خرابی دیکھی جارہی ہے۔

    ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    ڈیلی میل کے مطابق تقریباً دو گھنٹوں بعد کچھ مایوس صارفین نے ٹوئٹر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی کے بعد بندش پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ناراضی کا اظہار کیا تاہم پاکستان میں ٹوئٹر کی سروس متاثر ہونے کی کوئی خاص شکایات سامنے نہیں آئیں۔

    یاد رہے اس سے قبل گزشتہ ماہ فروری میں بھی ٹوئٹر کے سافٹ ویئر میں خرابی کے باعث دنیا بھی میں ہزاروں صافین کو دشواری پیش آئی تھی۔