Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    ریاض: سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت ہوئی ہیں-

    باغی ٹی وی : ” عرب میڈیا ” کے مطابق سعودی عرب کے مغرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی لاکھوں سال قبل کی باقیات کی دریافت نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیران کردیا۔

    ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سے کیے گئے سروے کے دوران یہ باقیات ملیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کے ’سی ای او‘ جان پگانو نے کہا کہ ایڈونچر کی روح ہمیشہ دریافت کے جوہر سے وابستہ رہی ہے یہ جگہ پہلے سے ہی سعودی عرب میں زیر آب آثار قدیمہ کی کھدائی کا مرکز رہی ہے ارضیاتی سروسے پتا چلتا ہے کہ خشکی پر درفیات ہونے والے یہ فوسلز لاکھوں سال قبل زیر آب تھے یہ دریافت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس خطے میں زندگی لاکھوں سال پہلے بھی موجود تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی کے پختہ عزم کی توسیع ہے جو ان موجودہ قدرتی خزانوں کو تلاش کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور انہیں انتہائی مناسب طریقے سے دنیا کو دکھانے کے لیے کوشاں ہے۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    تم اقتدار کی ہوس اور انا کی جنگ لڑ لو۔
    عوام کی خیر ہے,گزر ہی جائے گی۔
    کہتے ہیں یہ حکمران عوام کی جنگ لڑتے ہیں بھٹو نے اقتدار کے لیے پھانسی دے دی اقتدار نہ چھوڑا. نواز شریف نے اقتدار نہ چھوڑا نااہل ہو گیا ماں مر گئی جنازے پہ نہ آیا بیوی مر گئی اس کی میت دیکھنے نہ آیا تابوت بھیج دیا ۔عمران خان دعائیں کرتا رہا کہ میرے حریف میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں اور جب عدم اعتماد آگئی تو ملکی سلامتی کو اداروں کو داو پر لگا دیا۔عمران خان نے جھوٹ بول کر امریکی خط کا شوشہ چھوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ تو بنا لیا مگر دنیا بھر میں اپنے ملک کو بدنام کر گیا ۔اپنے اداروں کو بدنام کر گیا ۔فرض کریں اگر یہ سچ بھی تھا تو پہلے آپ اپنی خارجہ پالیسی تو مضبوط بناتے اپنے ملک کو مضبوط بناتے ۔اتنا مضبوط کہ آپ جس ملک سے قرضہ لیکر اپنا ملک چلا رہے ہو ۔اس سے پنگا لینے کے بعد آپ کو اس سے قرضہ نہ لینا پڑے آپ نے پوری دنیا میں امریکہ امریکہ کر کہ خود کو ہی بدنام کیا آج عمران خان بھی حاکم ہوتا تو کوئی ملک آپکو قرضہ نہ دیتا۔کیونکہ اقتدار کی ہوس میں آپکی دس گز لمبی زبانیں آپ کی سیاسی ساکھ تو خراب کرتی ہے ساتھ ساتھ دنیا کو آپکا معیار بھی دکھاتی ہے کہ پلے نہی دھیلا تے کردی میلا میلا

    کچھ لوگ کہتے ہیں بھٹو برا ہو سکتا نواز شریف برا ہو سکتا لیکن عمران خان بہت اچھا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی عوام کا بہت خیال رکھا شاید وہ عوام حریم شاہ اور فرح گوگی تھی ۔کیونکہ عمران خان ہی تھا جس نے مہنگائ کی شروعات کی۔پانچ سال جو پہلے جو بجلی کا یونٹ پانچ روپے تھا وہ سترہ روپے کیا عمران خان نے ۔پٹرول جو پچپن روپے تھا ستر روپے کیا عمران خان نے ۔یہ عمران خان ہی تھا جس نے بجلی اور پٹرول کے معاہدے کیے آئ ایم ایف سے۔

    یہ عمران خان ہی تھا جس کا کہنا ہے کرسی مل جاے ورنہ ملک تین ٹکرے ۔کرسی مل جاے ورنہ فوج تباہ ہو جاے گی کرسی مل جاے ورنہ عوام لٹ جاے گی ۔کرسی مل جاے ورنہ اس ملک میں کوی بھی میری طرح مخلص لیڈر نہیں آے گا ۔بس ایک بار کرسی مل جاے لانگ مارچ دھرنوں سے ملکی ساکھ کو نقصان ہونا شروع ہو جاے گا ۔بس کرسی مل جاے پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔کرسی مل جاے پھر جنرل باجوہ جیسا نیک ایماندار دنیا میں کوی نہیں اور پاک فوج جیسی عظیم فوج کسی ملک پاس نہیں۔

    یہ عمران خان ہی تو تھا کہ جب کراچی پی آئی اے حادثہ کا شکار ہوا پائلٹ سواریاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا تو جناب نے سارا ملبہ پی آئی اے کے افسران پہ ڈال کر بہادری کی رقم قائم کر دی کہ پی آئی اے میں تمام افسران پائلٹ کی جعلی ڈگریاں ہے۔اور ان کو پی آئی اے سے نکال دیا گیا ۔لیکن پھر کیا ہوا کہ تمام ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا جو اب تک لگی ہوئی ہے اور جب تحقیقات کی تو دو کے سوا کسی کی ڈگری جعلی نہ تھی ۔

    یہ عمران خان ہی تھا جو گراونڈ میں کہتا تھا کہ فوج کے خلاف خلاف نہ بولو فوج ہے تو ملک ہے پھر اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے فوج کے خلاف گالی گلوچ کرواتا تھا ۔بعد میں اسی سوشل میڈیا ٹیم کو ملنے کے لیے پشاور بھی بلوا کر شاباش دیتا تھا ۔یہ عمران خان ہی تو تھا جو اپنے لانگ مارچ کو جہاد اور صحابہ انبیاء کرام کی جنگوں سے ملوا کر اپنے انصافین کو گھروں سے نکلنے کا جوش و جزبہ دلواتا رہا اور پھر جب وقت آیا تو مزاکرات کر کے راتوں رات پتلی گلی سے نکل گیا۔

    ۔کیونکہ عمران خان اور اس کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بڑا گیمر بندہ پاکستان میں کوئی نہیں لیکن یہ سوچ ہے ان کی۔ ملک کرکٹ کی پچ نہیں ہے نہ ہی ملک دس چوکوں چھکوں سے چلتے ہیں کیونکہ یہ ملک ہے کرکٹ نہیں ۔کہ جہاں بلا میرے ہاتھ میں ہے تو بس میرے ہاتھ میں رہے بس میں ہی کھیلوں گا۔ کیونکہ میں کرکٹ کا چیمپئن ہوں دنیا مجھے چاہتی ہے۔۔لیکن یہ بھول جانا اس سے پہلے بھی یہاں تخت نشین کوی اور تھا اس کی بھی یہی سوچ تھی۔۔

    کاش عمران خان وہ لیڈر ثابت ہوتا جو پانچ سال پہلے اوپزیشن میں تھا ۔سچا کھرا سنہرے خواب دکھانے والا۔۔۔چوروں اور ڈاکووں سے پیسہ واپس لانے کے دعوے کرنے والا۔۔
    پر کیا ہے کہ خان بھی تو سیاست دان ہی نکلا ۔۔اور سیاست دان عوام سے کیے اپنے وعدے پورے ایسا بھلا کیسے ممکن تھا۔
    حنا سرور

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان اقتدار سے گئے تو واقعی خطرناک ہو گئے پاکستان کے لیے ۔پاکستانی قوم کے لیے ۔اداروں کے لیے

    یو ٹرن خان کے نام سے مشہور عمران نیازی اقتدار میں آنے تو قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا ۔آئی ایم ایف کے پاس گئے لیکن خود کشی نہ کی. امریکہ جا کر کشمیر فروشی کی اور اسلام آباد میں ایک دن کشمیر کے لیے ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہ کر منافقت کی حد کر دی۔ دوست ممالک کو ناراض کیا .خارجہ پالیسی اتنی کمزور تھی کہ کبھی ترکی ناراض تو کبھی سعودی عرب کبھی ایران کبھی چین اور دعوے اتنے بلند و بالا جو کھوکھلے ہی رہے۔ کرکٹر عمران نیازی نے سمجھا وزیر اعظم بن کر یہاں بھی سب کو فتح کروں گا لیکن انکی اپنی وکٹیں گرتی رہیں کابینہ ایک بار نہیں درجنوں بار بدلی۔ مشیر بدلے وزیر بدلے لیکن عوام کی حالت نہ بدلی ۔بزدار کے حوالے پنجاب کر کے پنجاب کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا بیورو کریسی میں تبادلے ہر ماہ ہوتے رہے جو کام کرتا اسکا تبادلہ کر دیا جاتا فرح کے نام پر کرپشن کا بازار گرم کیا ۔ مشیر ملک لوٹتے رہے لیکن نیازی کا سارا زور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو جیلوں میں بھجوانے پر رہا ۔ڈالر مہنگا ہوتا چلا گیا مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا پھر حالات نے پلٹا کھایا اور عمران خان آئین شکن بنے ۔عمران نیازی کا نام تاریخ آئین شکن کے طور پر یاد کرے گی ۔کرسی اتنی عزیز کہ اپنوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے باوجود بھی وزیراعظم کی کرسی سے چپکے رہے ۔جب کرسی گئی تو عمران خان کا دوہرا معیار سامنے آنے لگا اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے اداروں کے خلاف ٹرینڈ کروائے گئے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ اداروں کو دھمکیاں دی گئیں افواج پاکستان کے افسران کی کردار کشی کی گئی ۔خفیہ خط والا بھانڈا پھوٹا تو جان سے مارے جانے کا انکشاف کیا حکومت نے سیکورٹی دینے کو کہا تو پھر بہادر عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ سے پشاور چھپ کر جا بیٹھے ۔اور اداروں کی کردار کشی کے علاوہ ملکی سالمیت کے خلاف بیان دینے لگے۔ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کو اب کسی دماغی ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہے یا پھر انہیں تین روز کے لئے صرف تین روز کے لیے رانا ثناء اللہ کے حوالہ کیا جائے تو انکا علاج ہو سکتا ہے۔عمران خان کی اداروں کے خلاف مہم سیاست میں شدت پسندی اراکین اسمبلی کو دھمکیاں سب ریکارڈ پر ہیں آئین شکنی کے ساتھ توہین عدالت بھی کرتے رہے اور بہادر اتنے کہ اب لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

    عمران خان کے دور حکومت میں جو ہوا اسے پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔ڈالر کا مہنگا ہونا۔ آٹے کا بحران چینی کا فقدان پٹرول کے لیے لمبی لائنیں ادویات کی قلت خود ساختہ مہنگائی سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈالنے کو عوام کبھی نہیں بھول پائے گی۔ پچاس لاکھ گھر جو عمران خان نے بنائے وہ بھی قوم نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کے دور میں کرائم میں اضافہ عثمان مرزا کیس نور مقدم قتل کیس وہ بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ سعودی عرب کا عمران خان سے قرض واپس مانگنا ترکی کا ناراض ہونا قوم نہیں بھول پائے گی۔ سارا دن سخت دھوپ میں مزدوری کرنے والے مزدور کو شام کے وقت اسی روپے کلو آتا اور ایک سو ستر والا گھی ساڑھے چار سو روپے میں خریدنے کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح کے کارناموں کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے مشیروں کی کارستانیاں بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ شہزاد اکبر کے دعوے بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے وزیروں کی جانب سے ایک روٹی کھانے کے مشورے کو قوم نہیں بھول پائے گی . عمران خان کے لانگ مارچ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کو قوم نہیں بھول پائے گی ۔مسلح افراد کی لانگ مارچ میں شرکت اور عمران خان کی اعتراف کو قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے ملکی سلامتی اداروں کے خلاف بیانات قوم نہیں بھول پائے گی۔ بلکہ اب تو عمران خان کو نظر آ گیا ہو گا جو بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے ساتھ ہوا. فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے تاخیری حربوں کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ ملک ٹوٹنے کے بیان کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کی جانب سے اپنے محسنون کی کردار کشی اپنے دوستوں کو بلاوجہ گرفتار کروانے مقدمہ بنانے کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔غرضیکہ عمران خان کا ایک ایک کارنامہ قوم یاد رکھے گی اور جب بھی الیکشن ہوئے قوم عمران خان کے ساتھ حساب برابر کرے گی.عمران خان جس کو اللہ نے عزت دی تھی اس عزت کو خاک میں ملانے کا ہاتھ بھی عمران خان کا ہی ہے۔ کرسی کے لالچ میں اتنے اندھے ہو گئے کہ ملک دشمنی پراتر آئے اور شاید اس وقت عمران خان کے ہوتے ہوئے کسی اور ملک دشمن کی ضرورت نہیں .قوم اب عمران خان کے دعوے یوٹرن ۔جھوٹ سب جان چکی اور قوم کو بھی اب انتظار ہے اگلے الیکشن کا جس میں قوم عمران خان کا ڈٹ کر محاسبہ کرے گی۔ پاکستانی قوم ایک خود دار قوم ہے عمران خان اگر قوم کے ساتھ سچ بولتے تو قوم انکے ساتھ تھی لیکن انہوں نے وہ کام شروع کر دیئے جو ملک دشمنوں کے تھے ایسے میں قوم کسی بھی ایسے شخص کو آگے نہیں آنے دے گی جو پاکستان میں رہتے ہوئے ملک دشمنی پر اتر آئےگا نہیں یقین تو الطاف حسین کو دیکھ لو جس کے ایک اشارے پر پورا کراچی بند ہوتا تھا آج کوئی کراچی میں اسکا نام لینے کو تیار نہیں عمران خان سوچ سمجھ لیں مکافات عمل ہوتا ہے اور اب وہی دن عمران خان پر آنے والے ہیں پھر عمران خان اکیلے ہی ہوں گے مشیر وزیر کوئی نہیں ہو گا کچھ پہلے ساتھ چھوڑ گئے مزید بھی چھوڑ جائیں گے اور عمران خان تنہا رہ جائیں گے پھر ایک ہی راستہ بچے گا کہ عمران خان کر کٹ اکیڈمی کھولیں اور قوم کے بچوں کو کرکٹ سکھا کر ثواب دارین کمائیں اور اب وزیر اعظم کی کرسی کو بھول جائیں

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا:شاداب خان عادل رشید کے فین ہوگئے

    عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا:شاداب خان عادل رشید کے فین ہوگئے

    لاہور:عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا:شاداب خان عادل رشید کے فین ہوگئے،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے لیگ اسپنر شاداب خان نے کہا ہے کہ یارکشائر سی سی سی کےلئےکھیلتے ہوئےاپنےساتھی لیگ اسپنر عادل رشید سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق شاداب خان نے انگلینڈ میں ویٹالٹی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کھیلنے کا اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ میں کھیلنے کا یہ ایک بہت اچھا تجربہ تھا، وہاں حالات قدرے سخت ہیں لیکن آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے عادل رشید کے ساتھ کام کیا ہے، امید ہے کہ میں اپنی ٹیم کے لیے اپنا بہترین پیش کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔

    شاداب خان نے کہا کہ چوٹ لگنا مجھے مایوس کرتا ہےلیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کے طور پر آپ کو اس پر کام کرنا ہوگا اور واپسی کرنا ہوگی جو بالکل آسان نہیں ہے۔

    شاداب خان نے ٹیم کے ساتھی زاہد محمود کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ زاہد ایک بہت اچھا باؤلر ہے اور اپنی شناخت بنانے کے لیے واقعی سخت محنت کرتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز 8 جون سے شروع ہوگی۔

    ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کا پریشر ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امید ہے ویسٹ انڈیز کے خلاف اچھی سیریز ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کاؤنٹی میں مشکل کنڈیشنز تھیں جس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔

    نائب کپتان کا کہنا تھا کہ زاہد محمود بھی زبردست پرفارم کر رہے ہیں، ٹیم میں مقابلے سے فائدہ پاکستان کو ہوتا ہے۔شاداب خان نے کہا کہ چھوٹی عمر میں زیادہ انجریز کا سامنا کیا، انجری کے بعد واپس پرفارمنس دینا مشکل ہوتا ہے۔ کوشش کر رہا ہوں فٹنس بہتر رکھوں تاکہ انجریز کم ہوں۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات اہم موڑ پر! ،تحریر: شاہد خان

    حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے ؟

    ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیاں مذاکرات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے پروگراموں میں تبصرہ نگار اور تجزیہ نگاروں سے یہ سوال اس لیے بار بار کیا جارہا ہے کیوں کہ اس سے قبل بھی مذاکرات کی کوششیں ہوچکی ہے تاہم ماضی کے مذاکرات کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اس بار مذاکرات جس انداز اور اعلی سطح پر جاری ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

    کابل میں طالبان حکومت کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسلسل کوششیں ہوتی رہی جس میں افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے تھے تاہم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ گزشتہ چار ماہ میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حملوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا وزیرستان اور باجوڑ میں افغانستان سے متصل بارڈر ایریاز میں سیکیورٹی فورسز کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔

    سیکیورٹی اور حکومتی حکام نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے بار بار افغان حکام سے شکایت کی تاہم حملوں میں کمی نہ آسکی۔

    چودہ اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے فضائیہ نے خوست اور کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان نے براہ راست افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہو۔

    ان فضائی حملوں کے بعد افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا اور حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششیں تیز ہوگئی۔ کیوں کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دھانی طالبان حکومت دنیا بشمول پاکستان کو کراچکی ہے جس کے بعد اب افغان طالبان کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس مشکل کا کوئی حل نکالیں کیوں کہ اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل اس سلسلے میں بار بار اپنی رپورٹوں میں افغان سرزمین ٹی ٹی پی کے جنگجووں کی موجودگی کا ذکر کرچکی ہے۔

    پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مختلف عمائدین نے اس سلسلے میں کابل کے کئی دورے کیے جس کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہوا۔

    اس بار مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کہ دونوں جانبین سے اعلی حکام مذاکرات کا حصہ ہے دونوں جانبین سے اعلی حکام براہ راست مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ ثالث کا کردار کرنے والے بھی بڑے اہم رہنما ہے جس میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی قابل ذکر ہے۔

    میرے اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکراتی عمل کو بڑھانے کے لیے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے علاؤہ افغان وزیر اعظم ملا حسن اخند اور وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں اور مذاکراتی نشستوں کا باقاعدہ حصہ بنے ہیں۔

    مذاکرات کے کامیابی اور پیش رفت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس بار سابقہ فاٹا اور پختونخوا کے مختلف علاقوں کے عمائدین پر مشتمل 133 سے زائد افراد کا جرگہ بھی اس سلسلے میں کردار ادا کررہے ہیں تاکہ قبائلی عمائدین کو نا صرف اعتماد میں لیا جائے بلکہ ان علاقوں میں امن کا پیغام ان کے ذریعے دیا جائے کہ امن و امان کا قیام اور مذاکرات سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔

    حکومت پاکستان کے ملٹری اور سیاسی حکام اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات میں دو کامیاب راؤنڈ کے بعد سیز فائر میں توسیع اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 53 افراد پر مشتمل قبائلی جرگہ یکم جون کو کابل بھیجا گیا جس میں تمام قبائلی علاقوں کے نمائندوں کے علاؤہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے وزرا بھی شامل ہے۔
    یکم جون کو ابتدائی نشست ہوئی جب کہ دوسری نشست 2 جون کی صبح 10 بجے رکھ دی گئی ہے جس کا سب سے اہم موضوع دائمی یا طویل سیز فائر کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

    فاٹا سے پاک فوج کی انخلاء، مالاکنڈ ڈویژن میں نظام العدل کا نفاذ، تمام قیدیوں کی رہائی سیمت، دیگر اہم ایجنڈا پوانٹس ہے جو ٹی ٹی پی کی جانب سے رکھے گئے ہیں جب کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی سے ہتھیار ڈالنے، آئین کو تسلیم کرنے سمیت دیگر اہم موضوعات مذاکرات کا حصہ ہے جس پر بات چیت ہورہی ہے اب تک کسی بھی ایجنڈا پوائنٹ پر اتفاق نہیں ہوا ہے تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بڑے پوائنٹس کا حل نکالا جائے گا کیوں کہ ٹی ٹی پی کے بعض مطالبات ایسے ہے جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے افغان طالبان کوشاں ہے کہ درمیانی راستہ نکالا جائے۔

  • ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کیلئے نیا طریقہ متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کیلئے نیا طریقہ متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے کمیونیٹیز میں انگیجمنٹ کو بڑھانے کے لیے ایک نیا طریقہ متعارف کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس نئے فیچر میں کمیونیٹی کے ایڈمن ٹیب کے اوپر ٹوئٹس کو پِن کر کے انگیجمنٹ بڑھا سکیں گے ٹوئٹر کمیونیٹی موڈ میں ’پِن ٹو کمیونیٹی‘ کاایک نیا آپشن کسی بھی کمیونیٹی ٹوئٹ کو فِیڈ کےاوپری سرے پرتعین کردے گا اوروہ ٹوئٹ بطور نوٹس کام میں لایا جاسکےگا یہ آپشن صارفین کی ٹوئٹر کمیونیٹیز میں مزید بہتر انگیجمنٹ لانے میں مدد گار ثابت ہو سکے گا۔

    ٹوئٹر نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ کچھ ٹویٹس اسپاٹ لائٹ کے مستحق ہیں، یہی وجہ ہے کہ موڈز اور ایڈمنز اب اپنی کمیونٹی ٹویٹس کو ویب پر پن کر سکتے ہیں۔ اس خصوصیت کی بہت زیادہ درخواست کی گئی تھی اور ہم یہ دیکھ کر بہت پرجوش ہیں کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں موڈز اور ایڈمنز کے لیے iOS اور Android پر اپنی کمیونٹی ٹویٹس کو پن کرنے کا یہ فیچر جلد پیش کیا جائے گا-

    یہ آپشن آپ کی ٹویٹر کمیونٹیز میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے میں مدد کر سکتا ہے – اگرچہ ٹویٹر کا زیادہ منسلک کمیونٹیز آپشن واقعی سروس کے لیے موزوں رہے گا یا نہیں یہ ایک اور سوال ہے اب تک کمیونیٹیز کی محدود انگیجمنٹ سامنے آنے کے باوجود یہ فیچر ٹوئٹر سے ہٹتا نہیں دِکھائی دے رہا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹوئٹر مختلف معاملات پر لوگوں کے خیال کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیتا ہے۔

    لیکن کمیونیٹیز اس کے مخالف سمت میں جاتی ہے اور گفتگو کو محدود رکھنے کےکچھ فوائد بھی ہو سکتے ہیں لیکن کیا یہ ٹوئٹر کے لیے کارگر ہے، جہاں صارفین کی اکثریت اپنے خیالات کو اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کرنے کا سوچتی ہے۔

    واضح طور پر، یقینی طور پر اس طرح کی گنجائش موجود ہے، ٹوئٹر صارفین مختلف موضوعات کے لیے متبادل ٹوئٹر ہینڈل بنا رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی صارف کرکٹ کا شوقین ہے اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی کرتا ہے تو اس کی مختلف فیڈ اور آڈینس ہو سکتی ہے، جس پر اس کے موضوع کے حساب سے ٹوئٹس موجود ہوں گی۔ فیڈ پر وہ غیر ضروری ٹوئٹس موجود نہیں ہوں گی جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

    کمیونٹیز اس کو حل کرنے کے لیے ایک ذریعہ فراہم کرتی ہیں – اگرچہ ٹویٹر کے پاس دوسرے، زیادہ عملی حل موجود ہیں جو صارف کے رویے کو تبدیل کرنے اور ان کی بات چیت کی رسائی کو محدود کرنے کے برعکس، ٹویٹر کے حتمی استعمال کے معاملے کے ساتھ بہتر طور پر موافق نظر آتے ہیں۔

    ‘Facets’ نامی یہ آپشن، جو ٹویٹر نے گزشتہ جولائی شیئر کیا تھا، صارفین کو ایک پروفائل سے مختلف عنوانات کے بارے میں ٹویٹ کرنے کے قابل بنائے گااس کے بعد ان کے فالوورز یہ منتخب کر سکیں گے کہ وہ کون سے عناصر اور ٹویٹس کی پرواہ کرتے ہیں، یا نہیں کرتے۔

  • حالات دیکھ کر ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا، بابر اعظم

    حالات دیکھ کر ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا، بابر اعظم

    حالات دیکھ کر ٹیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا جائے گا، بابر اعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی سیریز بہت اہم ہے۔یہ ون ڈے چیمپئن شپ کے میچز ہیں۔ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہم یہ میچز جیت جایئں اور پائنٹ اسکور کریں۔
    پریس کانفرنس کے دوران جب بابر اعظم سے رضوان کی ٹیسٹ پرفارمنس اور حارث کی ٹیسٹ میچ میں شمولیت سے متعلق سوال کیا گیا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ حارث کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنا جلد بازی ہو گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ محمد رضوان کی ٹیسٹ پرفارمنس بہت اچھی نہیں ہے۔ لیکن مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے یہ بہتر ہیں۔بابر اعظم نے کہا کہ محمد رضوان ہمیشہ مجھ سے اور ٹیم سے تعاون کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید کہا کہ کارکردگی تو کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے۔لیکن بطور ٹیم آپ کا اتحاد اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    بابر اعظم نے مزید کہا کہ ا اگر ایک اچھی ٹیم کھڑی کرنا چاھتے ہیں تو اس کے لیے کھلاڑیوں کو مسلسل کھلانا پڑتا ہے۔ اور اگر ٹیم میں تبدیلی بھی کرنی ہو تو ایسا حالات دیکھ کر ہی کیا جاۓگا۔
    جب بابر اعظم سے شان مسعود سے متعلقہ سوالات پوچھے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے نیچے نمبروں پر کھیلنا نا انصافی کی بات ہو گی کیونکہ وہ اوپنگ نمبرز پر کھلیتے ہیں۔اگر بہتر لگے گا تو ان کو ضرور ٹیم میں شامل کیا جاۓ گا۔
    ٹیم کے کچھ اراکین کو آرام دینے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پورے 2 ماہ ہم نے آرام کیا ہے۔اب دوبارہ سے ہماری بین ال قوامی کرکٹ شروع ہو رہی ہے۔
    جب بابر اعظم سے ان کے اپنے متعلق سوال کیا گیا تو اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میری پرفارمنس وائٹ بال میں اچھی چل رہی ہے ۔ٹیسٹ میچ میں مزید اچھی کرنے کی کوشش کروں گا۔

  • ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    23 سالہ جرمن لڑکی ہوائی جہاز سے شدی کی‌ خواہشمند ہے ہوائی جہاز سے محبت کرنے والی عورت کا اصرار ہے کہ اس کی خواہش پسندیدگی کی پرواز نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : "نیویارک پوسٹ” کے مطابق جرمنی کی رہائشی سارہ روڈو کا کہنا ہے کہ وہ طیاروں کی طرف جنسی کشش محسوس کرتی ہیں اور ایک اپنے ہی ایک کھلونے طیارے سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔

    روڈو کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ اس کا پسندیدہ طیارہ بوئنگ 737 ہے، جس پر وہ جتنی بار ہو سکے پرواز کرتی ہے۔ اس کے پاس گھر میں ہوائی جہاز کے 50 سے زیادہ ریپلیکا ماڈلز موجود ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ ان میں سے ایک سے شادی کر لے حالانکہ یہ جرمنی میں غیر قانونی ہے۔

    یوکرین روس جنگ میں ایک اور صحافی جاں بحق

    روڈو اپنے پسندیدہ ہوائی جہاز کے ماڈل کو “ڈکی” کہتی ہیں اور اسے اپنا بوائے فرینڈ مانتی ہیں روڈو خود کو Objectum Sexual کے طور پر شناخت کرتی ہیں، یعنی وہ بے جان اشیاء کی طرف جنسی طور پر راغب ہیں۔ وہ ماضی میں ایک ٹرین کے عشق میں بھی گرفتار ہوچکی ہیں اس نے کہا کہ مردوں کے ساتھ ماضی کے رومانس نے اسے بلند نہیں کیا۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    جب ان سے پوچھا گیا کہ طیارے میں انہیں خصوصی طور پر کیا اچھا لگتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب کچھ پسند ہے لیکن خاص طور پر ہوائی جہاز کا ’چہرہ‘، اُس کے پر اور انجن مجھے ’پُرکشش‘ لگتے ہیں-

    ڈرون سے خط،پارسل پہنچانے کا کامیاب تجربہ

  • پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں پر ایف آئی اےکا بیان سامنے آگیا

    پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں پر ایف آئی اےکا بیان سامنے آگیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان ایف آئی اے کے مطابق جعلی خبرگردش کر رہی ہےکہ پاکستان میں فیس بک کا دفتر کھولا جا رہا ہے تاہم ایف آئی اےکی جانب سے ایسا کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، ایف آئی اے اس جعلی خبرکی سختی سے تردید کرتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہےکہ خبرمیں ایف آئی اے کے ایک افسرکا نام بھی شائع کیا گیا جوگمراہ کن ہے، ایف آئی اے ایسی بے بنیاد خبروں کی بغیر تصدیق اشاعت کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سےخبریں تھیں کہ فیس بک نے پاکستان میں آفس کھولنےکيلئے بات چیت کا آغازکرديا ہے فيس بک کے نمائندے مسٹر مائيکل نے ڈائريکٹر ايف آئی اے سائبر کرائم ہمايوں بشير سےملاقات کی ہےساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات ميں معلومات کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کيا گيا ملاقات میں ڈائریکٹر ایف آئی اے نے فیس بک کے نمائندے پر زور دیا کہ سری لنکا، بھارت اور دیگر ممالک کی طرح فیس بک کو پاکستان میں بھی اپنا آفس کھولنے کی ضرورت ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ہمايوں بشير نے فیس بک کے نمائندے سے کہا کہ فیس بک ملک یا اداروں کے خلاف بات کرنے والوں کی معلومات نہیں دیتا جس پر فیس بک نمائندے کا کہنا تھا چائلڈ پورنو گرافی اور دہشتگردی سے متعلق معلومات پاکستان کو فراہم کی جاتی ہیں تاہم دیگر امور پر پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ فیس بک پاکستان میں اپنا دفتر کھولے فیس بک پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے کے لئے پاکستانی حکام سے بات چیت کرے گا اور اس سلسلے میں اگلی ملاقات جولائی میں منعقد ہوگی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی حیثیت سے فواد چوہدری نے فیس بک، گوگل اور دیگر پلیٹ فارمز کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے کی دعوت دی تھی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت نے فیس بک سے بات کی ہے کہ وہ اپنا دفتر پاکستان میں کھولے۔

    2017 میں پاکستان نے فیس بک کے ساتھ توہین آمیز مواد کا معاملہ بھی اٹھایا تھا اور وقت فیس بک کے نائب صدر جوئل کیپلان نے پاکستان کا دورہ کرکے اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی تھی اس ملاقات میں بھی چوہدری نثار نے فیس بک کے نائب صدر کو پاکستاان میں اپنا دفتر کھولنےکی دعوت دی تھی انہوں نے اس موقع پرکہا تھا اس اقدام سے ویب سائیٹ انتظامیہ اور حکومت پاکستان کے مابین روابط بڑھیں گے اور باہمی فائدہ مند شراکت داری کا موقع بھی ہاتھ آئے گا۔

    ایک سے زائد شادی کے قائل افراد شدید غلط فہمی کا شکار ہیں، سربراہ جامعہ الازہر

  • "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکی ملک چلی میں ’پڑ دادا‘ کے نام سے جانا جانے والے قدیم الیئرس کا درخت 5000 سال سے زیادہ پُرانا ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چلی کے ایلریس کوسٹیرو نیشنل پارک میں واقع Patagonian Cypress قسم کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم درخت سمجھا جارہا ہے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس درخت کی عمر 5484 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے اسے گریٹ گرینڈ پا کا نام بھی دیا گیا ہے۔

    سائنس دانوں کی جانب سے درخت کے تنے مین موجود چھلوں کا معائنہ کر کے درخت کی عمر کا تعین نہیں کیا جاسکا کیوں اس کے تنے کے غیر معمولی جسامت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک نتیجہ جو وہ اخذ کر سکے وہ یہ کہ یہ درخت دنیا کا سب سے قدیم درخت ہے۔

    عام طور سے درخت کے تنے میں موجود چھلوں کو گننے کے لیے ایک میٹر لکڑی کا سلینڈر تنے سے نکالا جاتا ہے لیکن اس قدیم درخت کے تنے کا قطر چار میٹر کا ہے ڈاکٹر جوناتھن نے بتایا کہ اس طرح کے بڑے درخت میں رنگ کے ذریعے عمر کا تعین کرنا ممکن نہیں، مگر اس سائنسی مسئلے پر اب قابو پالیا گیا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ سائنس دان جونیتھن بیرِیچِیوچ کا کہنا تھا کہ درخت سے حاصل کیے گئے نمونے اور عمر کا تعین کرنے والے دیگر طریقہ کار یہ بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5 ہزار 484 برس تک ہے اگر اس عمر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کیلیفورنیا میں موجود پائن کے ایک درخت سے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لے گا جس کی عمر 4853 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ ہمیں بتاتا ہے کہ نمو کے تمام ممکنہ اطوار کے 80 فی صد امکانات یہی بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5000 ہزار سے زیادہ ہے۔ صرف 20 فی صد امکانات یہ ہیں کہ درخت اس سے کم عمر کا ہے۔

    اس مقصد کے لیے انہوں نے 2020 کے شروع میں ایک خصوصی ڈرل سے نمونے لیے تھےعموماً کسی درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے پر موجود رِنگز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، یعنی ہر سال ایک رِنگ بن جاتا ہے۔

    جونیتھن نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں لوگ اس درخت کو دیکھنے آتے ہیں، اس کی جڑوں پر پیر رکھتے ہیں اور تنے کی چھالیں لے کر جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے چڑیا گھر میں جانور ناقابلِ برداشت حالات میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہو۔

    ان کو امید ہے کہ لوگ ضرور اس متعلق سوچیں گے کہ 5000 ہزار سال زندہ رہنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، اس جگہ اپنی زندگیوں کو رکھیں گے اور موسمیاتی تغیر کے نکتہ نظر سے سوچیں گے۔

    Patagonian Cypress قسم کے درخت چلی اور ارجنٹینا میں ہی پائے جاتے ہیں جو 70 میٹر تک بلند اور 5 میٹر تک چوڑے ہوسکتے ہیں مگر چلی میں اس قسم کے درختوں کو بقا کا خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ درختوں کی کٹائی اور اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔