Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارتی فوجی بیگناہ کشمیریو ں کا خون مسلسل بہا رہے ہیں:رپورٹ

    بھارتی فوجی بیگناہ کشمیریو ں کا خون مسلسل بہا رہے ہیں:رپورٹ

    اسلام آباد :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی فورسز اہلکار بے گناہ لوگوں کا خون بہانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے انہیں علاقے میں قتل عام کے مکمل اختیارات دے رکھے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب وحشیانہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو نشانہ نہ بناتے ہوں جبکہ اپنے تازہ ترین قتل عام میں انہوں نے ایک ہفتے کے دوران 11 نوجوانوں کو شہید کیا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بیگناہ نوجوانوں کے قتل میں حالیہ تیزی کے خلاف آج مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کی منظم نسل کشی میں مصروف ہیں۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر سے روزانہ قتل، تشدد اور اغوا کی دل دہلا دینے والی خبریں آ رہی ہیں اور یہ علاقہ ایک ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں کے باشندے تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت بیگناہ کشمیریوں کا خون سات دہائیوں سے مسلسل بہارہا ہے اور جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 95ہزار 9سو80 سے زائد کشمیریوںکو شہید کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں جبر و استبداد کی بھارتی پالیسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لیے ایک چیلنج ہے جبکہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کا قتل عام بند کرانے کا پابند ہے۔

  • اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    پارٹی شروع ہوگئی ۔۔۔۔ اس وقت جو خبریں چل رہی ہیں اس سے لگ یہ ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا جنازہ تیار ہے اب بس دفنانا باقی ہے ۔ یہ جنازہ نکلتا سندھ ہاوس سے دیکھائی دے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی ایم این ایز اس جنازے کو کندھے دیتے دفنانے جائیں گے ۔

    ۔ کیونکہ صرف ایم این ایز ہی نہیں بلکہ تین وفاقی وزراء کے بارے بتایا جا رہا ہے کہ وہ بھی ٹوٹ چکے ہیں ۔ یوں ثابت ہوچکا ہے کہ پوری کی پوری پارٹی لوٹا پارٹی تھی ۔ اتنی بڑی تعداد میں تو ن لیگ کے بندے نہیں ٹوٹے جب ان کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا ۔ یوں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جو حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا ہوچکا ہے ۔ ۔ ابھی تک سندھ ہاؤس میں موجود تحریک انصاف کے10 ارکان قومی اسمبلی کے نام سامنے آگئے ہیں ۔ جبکہ یہ تعداد دودرجن سے زائد بتا جا رہی ہے ۔ ۔ میرے خیال سے اس کے بعد پی ٹی آئی کا اتحادیوں سے گلہ کرنا بنتا نہیں ہے کہ وہ حکومت کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کی تو اپنی پوری کی پوری پارٹی میں بھونچال آیا ہوا ہے ۔ ابھی عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت میں ہے ۔ جب یہ حکومت میں نہیں ہوں گے توسوچیں پی ٹی آئی کا کیا حال ہوگا ۔ ۔ پھر جس طرح بلا کسی خوف و خطر یہ ایم این ایز سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح یہ میڈیا کو انٹرویوز دے رہے ہیں ۔ جس طرح کھل کر یہ باتیں کررہے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیل اتنی پکی ہوچکی ہے کہ یہ ایم این ایز اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

    ۔ کیونکہ نہ یہ فواد چوہدری اور شیخ رشید کی دھمکیوں سے ڈرے ہیں اور نہ ہی اب حکومت اس قابل رہی ہے کہ ان کو بھلا پھسلا کر واپس پی ٹی آئی کے کیمپ میں لا سکے ۔۔ اب عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ایم این ایز کو de seatکیا جائے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک تو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا نہیں ۔ کسی ایم این اے نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی نہیں تو سزا کیسے دی جا سکے گی ۔ یعنی کہ صرف ان کا ارادہ تھا تو اس پر سزا دے دی جائے ۔ میرے حساب سے اگر ایسا کوئی فیصلہ حکومت کرتی ہے تو ان کو آئینی اور قانونی لحاظ سے مزید ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

    ۔ دوسری جانب شیخ رشید نے بھوکلاہٹ میں سندھ میں گورنر راج لگانے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ اب پتہ نہیں شیخ صاحب عمران خان کے خیر خواہ ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ ایسا ہوجاتا ہے تو یہ سیدھا سیدھا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا ۔ مت بھولیں پی ڈی ایم نے لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب کرنا ہے اور اس لانگ مارچ میں پیپلزپارٹی بھی شامل ہے ۔ اپوزیشن تو خوش ہوگی کہ اگر عمران خان سندھ میں گورنر راج لگا دیں ۔ ۔ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سندھ ہاؤس میں موجود ارکان قومی اسمبلی کی فہرست آئی بی کی جانب سے پیش کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے راجہ ریاض، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، نورعالم خان، ریاض مزاری، باسط بخاری، احمد حسن ڈیہڑ، ‏نزہت پٹھان اور وجیہہ اکرم بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں۔۔ اس سے پہلے عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کچھ ارکان پارلیمنٹ کے مسنگ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مانیٹرنگ کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ سویلین حساس اداروں کو ارکان پارلیمنٹ کی لوکیشن، کال ڈیٹا اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کا کہا گیا ہے۔ عمران خان نے سویلین حساس اداروں کو سندھ ہاؤس کی بھی سخت مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ۔ اس نئی بنتی صورتحال پر وفاقی وزیر فواد چوہدری ، اسد عمر ، حماد اظہر نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس بھی کی ۔ جس میں فواد چوہدری بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے تھے کہ جہازوں میں بھر کر لوگوں کا لایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ وہ جہانگیر ترین کے جہاز کا ذکر کرنا بھول گئے ۔ وہ نہ اڑتا تو حکومت نہ بنتی ۔ وزراء نے اعلان کردیا ہے کہ ان ایم این ایز کے خلاف
    63Aکے تحت جلد کاروائی کی جائے گی ۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں ۔ ہر حوالے سے ان کی تیاری مکمل ہے ۔ سندھ ہاؤس کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں سندھ ہاؤس کی چار دیواری پر خاردار تارلگانے کا کام جاری ہے۔ سندھ ہاؤس کے تینوں داخلی راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف کے باغی اراکین میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ کیونکہ اب تو جیسے ڈوبتے ہوئے جہاز سے لوگ چھلانگیں لگاتے ہیں وہ وقت آگیا ہے ۔ ان خبروں کے بعد تو کسی کے ذہن میں کوئی شک تھا بھی ۔۔۔ تو دور ہوگیا ہے کہ حکومت نے اب بچنا نہیں ۔

    ۔ میرے خیال سے کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کو اب بھی یقین ہو کہ حکومت بچ جائے گی ۔ عنقریب لگ یوں رہا ہے کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہونے والے ہیں ۔ یوں اب آپ کپتان کے منہ سے سنیں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟

  • انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    انسٹاگرام اورفیس بک (میٹا) نے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنالیا-

    باغی ٹی وی : فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اس وقت چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اپنی سروسز کے لیے سب سے بڑا خطرہ خیال کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بھی وہ کئی بار کرچکے ہیں تاہم اب میٹااور انسٹاگرام بھی ٹک ٹاک کا حصہ بن گئے ہیں-

    عالمی خبررسان ادارے کے مطابق ٹک ٹاک پر فیس بک کا اکاؤنٹ ویریفائیڈ ہے جس کے اب تک 23 ہزار سے زیادہ فالورز ہوچکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے حالانکہ اس پر کوئی پوسٹ بھی نہیں کی گئی۔


    فیس بک کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ لوگ تنہا کی بجائے اکٹھے زیادہ کام کرسکتے ہیں اس کے ساتھ گوگل پلے اسٹور پر فیس بک ایپ کا لنک دیا گیا ہے۔


    انسٹاگرام نے بھی ٹک ٹاک میں اکاؤنٹ بنایا ہے جس میں ریلز کو پروموٹ کیا جاتا ہے یا اسے استعمال کرنے کی ٹپس شیئر کی جاتی ہیں۔

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ٹیک کرنچ کے مطابق میٹا کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ اصلی ہے ترجمان نے کہا کہ برانڈز متعدد چینلز کا فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں جو ان کی پراڈکٹس اور سروسز استعمال کرتے ہیں، پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک یا دیگر پر ہمارے برانڈ کی موجودگی کا مقصد بھی یہی ہے۔

    ایسا ممکن ہے کہ فیس بک ٹک ٹاک یا اس کے اشتہاری پلیٹ فارم کو استعمال کرکے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرسکے جو دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورک سے دور ہورہے ہیں 2021 کی آخری سہ ماہی میں پہلی بار فیس بک کو روزانہ اس سروس کو استعمال کرنے والے صارفین کی کمی کا سامنا ہوا تھا۔

    واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    واضح رہے کہ فیس بک اکثرٹک ٹاک ایپ کو اپنا اہم ترین حریف قرار دیتی ہے 2021 کے آخر میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ لوگوں کے پاس متعدد انتخاب ہیں کہ وہ اپنا وقت کیسے گزاریں اور ٹک ٹاک جیسی ایپس بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں ٹک ٹاک پہلے ہی ایک حریف کے طور پر بہت بڑی ہوچکی ہے اور اس کی توسیع بڑے پیمانے پر بہت تیزی سے ہورہی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ستارے پر فوکس کر کے تصویر حاصل کر لی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں، جن میں دور کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آزمائشی طور پر ایک ستارے کو فوکس کیا تھا اور تصویر کا معیار اُن کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ ہےتاہم ناسا کا کہنا ہے کہ دوربین کو مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال قرار دینے سے پہلے اب بھی بہت کام باقی ہے۔


    ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ زمین سے ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی کھینچی گئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی جن میں جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا ” رحیم یار خان میں تعینات سب انسپکٹر میری روز نے زندگی سے ناطہ توڑنے سے چند لمحات پہلے ان لفظوں میں لپٹی التجا کر کے معاشرے میں موجود عورت کی اصل حیثیت کی پوری داستان سنا ڈالی۔۔اس نے خود تو جیسے تیسے زندگی گزار دی مگر جاتے جاتے بیٹیوں کے مستقبل کے بارے دل میں موجود خوف کو عیاں کر گئی اس ایک جملے میں شکوہ بھی ہے اور وہ درد بھی جس نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔وہ عورت جس نے تعلیم حاصل کی ایک ایسے شعبے کو چنا جس میں مضبوط اعصاب کا ہونا پہلی شرط مانی جاتی ہے مگر نہ جانے ان اعصاب پر کیا کچھ بیتا تھا جس نے برداشت کی ہر حد کو کرچی کرچی کر کہ رکھ دیا جس نے اس سوچ کو ہی اعصاب سے کھینچ اتارا کہ معصوم بیٹیاں ماں بن ادھوری رہ جائیں گی بس سسکتی زندگی کے اس درد سے فرار کی جو راہ چُنی تو وہ محض جیتا جاگتا جہاں ہی چھوڑ جانا ٹھہرا۔۔

    معاملات کی چھان بین ہوگی میرا نہیں خیال کہ ہمارے قوانین میں کوئی ایسا قانون بھی ہے جو خود کشی کے پیچھے کار فرما عوامل اور عناصر تک ہاتھ ڈال سکے۔۔کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ روز میری ڈی پی او رحیم یار خان سے چھٹی کے معاملات پر دل برداشتہ تھیں جبکہ شوہر نے اسی شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود بیوی کے ذہنی تناؤ میں کمی کرنے کے بجائے اس قدر اضافہ کیا کہ اسے چاروں طرف کے در بند دکھائی دینے لگے۔بیوی کے لیے شوہر ہی وہ واحد سہارا ہوتا ہے جس سے دکھ درد میں امیدوں کا ہر دھاگہ بلا تکلف باندھ دیتی ہے جب حالات اس نہج پر لے آئے کہ خوشیوں میں ساتھ نبھانے والے سے اب الجھنوں میں بھی ساتھ مانگا جائے تو سوائے بے رخی اور اجنبیت کے کچھ دکھائی نہ دیا۔۔نہ جانے کتنی راتیں اس امید میں بتا دی گئیں ہونگی کہ صبح ہوتے میرا ہمسفر میری راہیں آسان کرنے کے لیے میرا ہاتھ تھام لے گا مگر دن گزرتے گئے بڑی بیٹی چار سال کی ہوگئی زندگی کھلکھلانے کے بجائے سسکنے لگی تو سب انسپکٹر روز میری نے آزمائش میں مایوسی دینے والے اس رشتے کو الوداع کہہ ڈالا۔۔اور راہ یہ ڈھونڈی کہ شوہر سے علیحدگی لینے کے بجائے اپنے وجود کو اس دنیا سے ہی الگ کر دیا جائے۔۔

    سوچتی ہوں کہ وہ سرخی جس سے الوداعی پیغام لکھ کر چلی گئی وہی لال شوخ رنگ کی سرخی جسکے کھلے رنگ میں نہ جانے کتنے خواب ہونگے کتنی حسیں خواہشات ہونگی ایک ہنستی بستی ازدواجی زندگی جسکی چاہ ہر عورت کے دل پر سجی تحریر ہوتی ہے پھر ان خوابوں کو روندتے مسلتے اور بے توقیر ہوتے دیکھ کر وہ کس قدر ٹوٹی ہوگی۔۔

    ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں بڑھ چڑھ کر خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے پلے کارڈز اٹھائے جاتے ہیں اعدادوشمار کا ایک چارٹ ہر سال پیش کیا جاتا ہے جس میں ان پر تشدد زیادتی انکے حقوق کی سلبی کے کئی واقعات شامل کیے جاتے ہیں ہم اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی چار سال کی اس بچی کا جنازہ اٹھاتے ہیں جس سے چالیس سال کے مرد نے زیادتی کی ہوتی ہے اور پھر اسکی سانسیں روک دینے پر بھی وہ با اختیار نظر آتا ہے ونی، وٹہ سٹہ اور قرآن سے شادیاں یہ وہ پست رسمیں ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں بلا خوف و خطر وڈیروں اور جاگیر داروں کا پسندیدہ کھیل سمجھا جاتا ہے۔۔
    ملک کی آبادی کا اکاون فی صد حصہ خواتین پر مشتمل ہے ملک کی مجموعی ترقی اور مہنگائی کے اس دور میں اگر پڑھی لکھی عورت شادی کے بعد اپنا کرئیر جاری رکھنا چاہتی ہے تو اکثریت کے لیے یہ جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے بچوں اور سسرال کی زمہ داری شوہر کے فرائض گھر کے کام کاج جیسی رکاوٹوں کو وہ خوشی خوشی عبور کر بھی لے تو اسکے لیے نوکری جاری رکھنا مشکل سے مشکل بنا دیاجاتا ہے۔۔میں کئی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ہر رات شوہر سے جنسی اور جسمانی تشدد بطور سزا اسلیے سہتیں کہ وہ صبح دفتر جاتے ہوئے خود کو مرد سے زیادہ با اختیار اور لائق فائق نہ سمجھ بیٹھیں۔انکے اعتماد کو روندنے کے لیے ہمسفر کہلانے والا مرد ہر حد تک جاکر اسے ذہن نشین کراتا ہے کہ عورت ہو لاکھ پیسہ کما لو یا نام بنا لو مرد کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی مرد طاقتور ہے۔۔یہ وہ پست سوچ ہے جسکا سامنا اس دور میں بھی کئی کام کرنے والی خواتین کرتیں ہیں اولاد در بدر نہ ہوجائے،باپ بھائی کی عزت پر آنچ نہ آجائے،اگر پولیس میں شکایت کی تو شوہر جان سے ہی نہ مار دے اور سب سے بڑھ کر طلاق کا خوف کیونکہ ہمارا معاشرہ موت کو طلاق پر ترجیح دیتا ہے یہ وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ تشدد تو برداشت کرتی رہتی ہیں مگر زبان نہیں کھول پاتیں کئی تو ایسی ہیں جو شوہروں کی جانب سے موٹی موٹی گالیاں اور کردار کشی پر بھی خاموش ہوجاتی ہیں۔۔ جو سب سے اہم نقطہ ہے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور وہ ہی کمزور خاندانی نظام میں گھسیٹے جانے والے ازدواجی رشتے۔۔رشتے کی نوعیت تو ایک جیسی ہوتی ہے مگر اپنی بیٹی اور دوسرے کی بیٹی کے متعلق ہماری سوچ تقسیم ہوجاتی ہے۔۔ہم اپنی بیٹی کے سکون کے لیے ہر ایک قدم اٹھانے کو تیار ہوتے ہیں داماد سے ہر ایک توقع پر پورا اترنے کا تقاضا کرتے ہیں۔۔بیٹی کے ہنستے بستے گھر کی تمنا ترجیح ہوتی ہے مجال ہے داماد کی جو بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی لانے کا گناہ گار ہو۔۔مگر بہو جو آپکے خاندان کا فرد بننے کے لیے اپنا گھر چھوڑ آئی اپنی عادتیں اپنی خواہشیں اپنے سارے ارمان بابل کے آنگن کو سونپ آئی۔۔اب یہ ذمہ داری اسکے شوہر سمیت سسرال کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے تحفظ فراہم کریں اسکی آسانی کے لیے اسکا ساتھ دیں اسکی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔۔مگر جب اسے نئے گھر میں اپنائیت کے بجائے اجنبیت، سکون کے بجائے ناچاقی،ساتھ کے بجائے تنہائی اور لاڈ کے بجائے تشدد ملے گا تو وہ ٹوٹے گی بھی اور بکھرے گی بھی۔۔قران بھی شوہر کو عورت کو قوام قرار دیتا ہے مگر جب محافظ اور رکھوالا ہے آپ کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلانے لگے تو پھر وہ عورت کہاں جائے۔۔گھر سے نکلتے سمے اسے کہا جاتا ہے سسرال میں نبھا کرنا اب وہی تمہارا گھر ہے۔۔کتنی عجیب سی بات ہے ناں کہ سرخ آنچل اوڑھ لینے کے بعد وہ بابل کے گھر سے تو عورت پرائی ہوئی تھی مگر پیا گھر میں بھی اسے اپنا نہیں سمجھاجاتا۔۔ تبھی روز میری نے سوچا ہوگا کہ شاید قبر ہی واحد جگہ ہے جو کم از کم اسکی اپنی تو ہوگی۔۔۔۔

    zakiya
    :زکیہ نیر ذکّی

    @NayyarZakia

  • مقبوضہ کمشیرہائی کورٹ بار کا اسلامو فوبیا کے خلاف کامیابی پروزیراعظم پاکستان عمران خان کوخراج تحیسن

    مقبوضہ کمشیرہائی کورٹ بار کا اسلامو فوبیا کے خلاف کامیابی پروزیراعظم پاکستان عمران خان کوخراج تحیسن

    سرینگر:مقبوضہ کمشیرہائی کورٹ بار کا اسلامو فوبیا کے خلاف وزیراعظم کی کوششوں کوخراج تحسین،اطلاعات کےمطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ جی این شاہین نے 15مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کی کوششوں کوامت کے لیے ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جی این شاہین نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلام فوبیا سے نمٹنے کے لئے 57مسلمان ممالک کے تعاون سے پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی تاریخی قرارداد منظور کی اور 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اسلام فوبیا کے خلاف کامیاب جدوجہد کی قیادت کی۔جی این شاہین نے کہا کہ مجھے عمران خان کویہ کہتے ہوئے سن کر خوشی ہوئی کہ میں بھارت کے خلاف نہیں بلکہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک طاقتور آواز بن کر ابھرے ہیں۔

    وزیراعظم کی ان کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دنیا بھر سے جاری ہے اوراس سلسلے میں عرب دنیا بھی وزیراعظم کوخراج تحیسن پیش کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ عمران خان عالم اسلام کے پہلےلیڈر ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر اسلام ،ختم نبوت اور اسلامی شعائر کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ دفاع کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے

  • مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر

    مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر

    سرینگر:مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر،ادھراسی حوالے سے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کہا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کشمیری پنڈتوں کے زخموں اور درد کو سیاسی مقاصد کیلئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر کے انتشار پھیلا رہی ہے۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ مودی حکومت جس طرح جارحانہ انداز میںمتنازہ فلم ”کشمیر فائلز”کو پروموٹ اور کشمیری پنڈتوں کے دکھ اور درد کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے اس سے ان کے مذموم عزائم واضح ہوتے ہیں کیونکہ اس سے دو کمیونٹیز کے درمیان دوریاں مزید بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت پنڈتوں کے زخموں پر مرہم لگانے اور دو کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کے بجائے ان کے درمیان دانستہ طورپر دوریاں بڑھا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ بالی ووڈ کے مسلم دشمنی کیلئے مشہور ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کی متنازعہ فلم ”کشمیر فائلز”کے بھارت میں انتخابات سے قبل ہندتوا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جی پی کے دیگر وزرا نے اس فلم کی تعریف کرتے ہوئے عوام کو یہ فلم دیکھنے کی تلقین کی ہے جبکہ ریاست آسام کی حکومت نے سرکاری ملازموں کو فلم دیکھنے کے لیے نصف دن کی تعطیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔

    ادھر کشمیری طلبا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متنازعہ فلم دی کشمیر فائلز دکھانے والے مختلف سینما گھروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کئے جانے والے اشتعال انگیز ویڈیو کلپس بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء پر ہندوتو ا دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

    جموں وکشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھوہامی نے جو کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دہرادون کالج میں زیر تعلیم ہیں ایک بیان میں کہاہے کہ بھارت میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ پر کسی بھی قسم کے حملے کا ذمہ دار فلم کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری پر عائد ہو گی جو اپنی مسلم دشمنی کیلئے مشہور ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فلم ریلیز ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر بے اعتمادی اور انتشار کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کسی بھی ایسی کوشش کی شدیدمذمت کرتی ہے۔

  • کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    مظفرآباد :کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرمیں نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کیخلاف آج مظفر آباد میں ایک بڑی بھارت مخالف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    بڑی تعداد میں مظاہرین نے گریڈ سٹیشن چوک سے سنٹرل پریس کلب بنک روڈ تک مارچ کیا ۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں وکشمیر کی بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔

    ریلی کی قیادت پاسبان حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین عزیراحمد غزالی اور چوہدری مشتاق، شوکت جاوید میر اوردیگر نے کی ۔اس موقع پر فلک شگاف بھارت مخالف نعرے بھی بلند کئے گئے ۔ مقررین نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیری نوجوانوں کو قتل کر کے کشمیری مسلمانوں کی منظم نسل کشی کر رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام ،انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، اور دیگر مظالم پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔مقررین نے کہاکہ بھارت مقبوضہ علاقے میں کھلے عام جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

    انہوں نے بھارتی تسلط سے آزادی تک جدوجہد آزادی کشمیر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو انکا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے اور بھارتی ظلم و تشدد بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی دیگ اس وقت اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چولہے پر چڑھی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی اپنی مرضی کے مصالحے اور اشیاء اس میں ڈالتا جا رہا ہے ۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ قورمہ بن رہا ہے ، بریانی پک رہی ہے یا پھر متنجن ۔۔۔

    ۔ اس تمام سیاسی ہلچل میں شہباز شریف نے ایک نیا فارمولہ دے دیا ہے کہ ہمیں پانچ سال کیلئے قومی حکومت بنانی چاہیے مگر قومی حکومت میں پی ٹی آئی شامل نہ ہو۔ پتہ نہیں یہ تمام اپوزیشن کی مشترکہ سوچ ہے یا پھر صرف شہباز شریف کی سوچ ۔۔۔ ۔ بہرحال جب سے ایمپائر نیوٹرل ہوا ہے کپتان کی حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک ایک کرکے روز کوئی نہ کوئی پیادہ یا تو داغا دے رہا ہے ۔ یا پھر کپتان کو ایک لمبی لسٹ تھما رہا ہے کہ یہ پوری کرو تو ساتھ دوں گا ۔ ۔ مگر کپتان بھی کپتانوں کے کپتان ہیں وہ روز جلسے کررہے ہیں ۔ دھمکیاں اور تڑیاں لگا رہے ہیں ۔ یوں ملکی موسم کے ساتھ سیاسی موسم بھی تیزی سے گرم ہوتا جا رہا ہے ۔

    ۔ تازہ تازہ سوات کے جلسے میں عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں لوگ نوٹوں کے بیگ لے کر ضمیر خریدنے بیٹھے ہیں۔ اب اتنے وثوق سے جب وہ یہ عوام کے سامنے دعوے کر رہے تھے تو ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایف آئی اے ، نیب ، اینٹی کرپشن یا دیگر اداروں نے بھنگ پی ہوئی ہے جو ان کو نہیں پکڑ پا رہے ہیں ۔ اور کپتان کس بنیاد پر روز کسی نہ کسی کی پگڑی اچھال رہے ہیں اور جب ایسے ہی اشارے یا باتیں ان سے منسوب کی جاتی ہیں یا پھر مخالفین ان کے گھر یا ذاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں تو کپتان کے تمام کھلاڑی یوں اچھالنا شروع کر دیتے ہیں جیسے ابلتے ہوئے انڈے اچھلتے ہیں ۔ ۔ دوسرا اگر کپتان کے اردگرد سب ہی بے ضمیر لوگ ہیں جن کی نوٹوں کی بوریاں دیکھ کر رالیں ٹپکنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ تو پھر کپتان نے کون سی ٹیم بنائی ہے اور کپتان کی وہ دور اندیشی کہاں گئی ۔ جو وہ قوم کو بتایا کرتے تھے ۔ کہ ان سے بہتر ٹیم کوئی بنا ہی نہیں سکتا ۔ دراصل جیسا حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا بھی ہے ۔ اب سے پہلے تو صرف خفیہ کالوں کی کرامات تھیں ۔ جب سے یہ ٹیلی فون نمبر بند ہوئے ہیں ۔ تب سے ہی یہ حالت ہوئی ہے کہ بقول شیخ رشید پانچ سیٹوں والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ پھر کپتان جو کہہ رہے تھے کہ قوم پر لازم ہے کہ برائی کے خلاف کھڑی ہو، الیکشن کمیشن سے بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آئین میں ہارس ٹریڈنگ کی اجازت ہے؟۔ یہ جو الیکشن کمیشن کو للکار رہے تھے ۔ کوئی ثبوت تو دیں جس پر وہ کاروائی کرسکے ۔ کیا خالی بیانات اور جلسوں میں تقریروں کو ہی ثبوت مان لیا جائے ۔ ۔ پھر اگر وہ سچے ہیں بھی تو سوال یہ ہے کہ کپتان نے پہلے لوٹوں کو پارٹی میں اکٹھا کیوں کیا ۔ اور جب ان کی اصلیت ان کو معلوم ہوگئی ہے تو پھر یہ ایکشن کیوں نہیں لیتے ۔ باتیں کرنا بہت آسان ہے سچ اور حق کے ساتھ کھڑے ہونا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ مسئلہ کرسی کا ہے ۔ کپتان نے کرسی کی خاطر جتنے یوٹرن لیے ۔ تمام دنیا جانتی ہے ۔ اب بھی جتنے جتن کپتان اس کرسی کو بچانے کے لیے کررہے ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہوگئے ہیں۔

    ۔ یہ جو کپتان سمیت باقی کھلاڑیوں کو مزاحمتی سیاست کرنے کا بخار چڑھا ہوا ہے تو سچائی میں انکو بتا دوں کہ پی ٹی آئی مزاحمتی جماعت نہیں ہے۔ ذرا تلاش کیجیے، کتنے ایسے ہیں جو جیل جا سکتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے گرفتاریاں برداشت کرسکتے ہیں ۔ عمران خان خود بھی ابھی تک جیل نہیں گئے۔ پھر ان کے ساتھ سیاسی لوگ نہیں ہیں، سب چوری کھانے والے دیہاڑی باز ہیں۔ ان سب نے عمران خان کو تب جوائن کیا تھا جب سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ اگلی باری عمران خان کی ہے۔

    ۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی مزاحمتی سیاست نہیں کی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی سیاسی نظریہ ہے۔ اقتدار میں گورا ہو، کالا ہو، داڑھی والا ہو یا کلین شیو ہو، یہ لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت ہی ان خطوط پر ہوئی ہے کہ ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرنا اور وہ نسل در نسل یہی سیاست کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس لیے اقتدار ختم ہونے کے بعد عمران خان کا ساتھ دینا ان کے منشور کے خلاف ہے ۔۔ سچ یہ ہے کہ بیساکھیاں ہٹ گئیں تو اپنے ارکان بھی ریت کے ذروں کی طرح مٹھی سے نکلنے لگے ہیں اور اتحادیوں کی نہ صرف آنکھیں بدل گئیں ہیں بلکہ انھوں نے آنکھیں دکھانا شروع کردیں، پہلے حکومت کا کھل کر ساتھ دینے سے گریز کیا،پھر اپوزیشن سے پینگیں بڑھانے لگے اور اب تو انھوں نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ۔ عمران خان پرلے درجے کے بے اصول ہیں۔ انھوں نے اپنے مفاد اور اقتدار کے لیے قانون، ضابطہ، اقدار، اخلاق اور جمہوری روایات سمیت ہر چیزکو روند ڈالا ہے۔ کپتان تقریروں میں تو پنجابی فلموں والے سلطان راہی بن جاتے ہیں مگر عملی طور پر وہ اپنے مفاد کے لیے جھکنا تو کیا، مکمل طور پر لیٹ جاتے ہیں۔۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنے چارسالہ اقتدار میں ملک کی معیشت کوبرباد کردیا ہے۔ بلکہ لوگ چینخ رہے ہیں کہ ستر سالوں میں اس سے بری گورننس نہیں دیکھی۔ پولیس، انتظامیہ، ایف آئی اے، ایف بی آر، نیب اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے جس طرح اس دور میں استعمال کیا گیا ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔۔ پھر جتنی کرپشن اس دور میں بڑھی ہے اس سے پہلے ایسی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ کرپشن کے الزامات کی زد میں آنے والے وزیروں اور مشیروں کو جیسے اس دور میں تحفظ دیا گیا کیا کبھی ایسا پہلے ہوا ہے ۔ ۔ میرا سوال ہے کہ مجھے کوئی ایک ادارہ بتا دیں جہاں بغیر رشوت کے آپ کا کام ہوجائے ۔ کپتان نے اپنے ہر دوست کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا ۔ اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی ۔ ۔ آج اگر عام پاکستانی دو وقت روٹی کھائے تو بجلی اور گیس کے بل ادا نہیں کرسکتا، بل ادا کرے تو دوائیوں کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتا۔ کسان بے چارے کھاد کی تلاش میں رُل گئے ہیں ۔ مگر آج بھی کپتان زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی جھوٹی کہانیاں سنا رہا تھا ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے بڑے بڑے علماء پر مغرب زدہ محمد علی جناح کواس لیے ترجیح دی تھی کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، جو کہا اس پر عمل کر کے دکھایا۔ کپتان کی طرح نہیں جو یوٹرن کو لیڈر کی خوبی سمجھتا ہو۔

    ۔ کپتان کا موجودہ غصہ اُن کے اندرونی اضطراب، گبھراہٹ اور فرسٹریشن کی غمازی کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے وزرائے اعظم اقتدار سے محروم ہوئے ہیں ۔ مگر انھوں نے ایک باوقار طریقے سے اقتدار چھوڑا۔ ہاؤس کی اکثریت یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تھی مگر ایک معمولی بات پر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انھیں توہین عدالت پر سزا دے کر معزول کردیا اور وہ کوئی واویلا مچائے بغیر پرائم منسٹر ہاؤس سے باہر آگئے۔۔ نوازشریف کو ایوان کی دوتہائی اکثریت حاصل تھی مگر جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہ میں سپریم کورٹ کے بینچ نے انھیں تاحیات نااہل قراردے دیا، مگر وہ پرسکون رہے۔ نہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کال دی اور نہ ہی اسپیکر کو کوئی غیر آئینی اقدام اُٹھانے پر مجبور کیا، مگر اب تو لگتا ہے کپتان نے حکومت اور اقتدار کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ وہ ایوان کی اکثریت کھو ہوچکے ہیں،زیادہ تر اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اپنے بہت سے ارکان باغی ہوچکے ہیں۔۔ اس صورت میں اُن کے لیے باوقار راستہ یہ تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیتے یا مڈٹرم الیکشن کا اعلان کردیتے۔ اس سے ان کی سیاسی ساکھ اور عزت بچ سکتی تھی مگر لگتا ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ اپوزیشن اپنا آئینی حق استعمال کررہی ہے مگر پرائم منسٹر غصے اور فرسٹریشن میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ سیاسی مخالفین کی نقلیں اُتار رہے ہیں اور انھیں توہین آمیز القاب سے نواز رہے ہیں۔

    ۔ عمران خان جس راستے پر چل رہے ہیں وہ انارکی اور تباہی کاراستہ ہے۔ اس پر چل کر نہ ان کی حکومت بچے گی اور نہ سیاست۔ کیونکہ کپتان کا ماننا ہے کہ ایمپائربغیر نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دوں گا ۔ ۔ عمران خان ہر صورت اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں،اس طرح کا رویہ اور بیانات فاشزم کو پسند کرنے کا اظہار ہے جس کے نتیجہ میں جمہوری نظام کا مستقبل خطرہ میں نظر آرہا ہے۔ ۔ غلطیاں ان کی اپنی ہیں یہ سیاست میں بھی اناڑی ثابت ہوئے ہیں ۔ یہ جو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی ہے اسکا حکومت کو فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔۔ کیونکہ اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا موقع مل گیا ہے۔ اگر قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلا لیا جاتا تو شاید اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو منانے کا اتنا وقت نہیں ملتا۔اب ہر گزرتا دن عمران خان کی سیاسی طاقت کو کمزورکر رہا ہے۔۔ اس وقت تمام اشارے عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کی طرف ہی نظر آرہے ہیں۔ باقی وقت بتائے گا کہ کیا وہ کوئی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں ہیں کہ نہیں۔

  • ٹرائنگولر ٹی 20 بلائنڈ ٹورنامنٹ،پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

    ٹرائنگولر ٹی 20 بلائنڈ ٹورنامنٹ،پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

    شارجہ:ٹرائنگولر ٹی 20 بلائنڈ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو8 وکٹوں سےشکست دے دی۔ ٹورنامنٹ کا تیسرا میچ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سکائی لینڈ یونیورسٹی کرکٹ گراؤنڈشارجہ میں کھیلا گیا۔ اس ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کا یہ دوسرا میچ تھا،

    اس سے قبل پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی۔ بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی باؤلرز نے بنگلہ دیشی بلے بازوں کو آزادانہ سکور کرنے نہیں دیا اور 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 111 رنز تک محدود کر دیا۔ بنگلہ دیش کے کپتان عاشق الرحمان نے 44 گیندوں پر 48 رنز بنائے۔

    پاکستان کی طرف سے مطیع اللہ نے 2 جبکہ محسن خان اور ساجد نواز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔جواب میں پاکستان نے 112 رنز کا ہدف با آسانی 11.5 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ ریاست خان اور بدر منیر نے بالترتیب 36 اور 34 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

    فیصل محمود اور مطیع اللہ 25 اور 4 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔مطیع اللہ کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا.ٹورنامنٹ ڈبل راؤنڈ راونڈ لیگ کی بنیاد پر کھیلا جائے گا اور ہر ٹیم کو ایک دوسرے کے ساتھ دو بار کھیلناہے۔پاکستانی ٹیم آج بدھ کو روایتی حریف بھارت سے پنجہ آزما ہو گی۔