Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایشیا کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی،ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

    ایشیا کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی،ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

    لاہور:ایشیا کپ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی، تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل،اطلاعات کے مطابق ایشیا کپ میں پاکستان ہاکی کی ناقص کارکردگی کی تحقیقات کے مطالبےمیں شدت آگئی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان مطالبات کے ساتھ ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے ایشیا ہاکی کپ میں ورلڈ کپ کوالیفائی نہ کرنے کی وجوہات جانچنے کیلئے اولمپیئن کلیم اللہ کی سربراہی میں اولمپیئن ناصر علی،کے پی کے ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ظاہر شاہ پر مبنی تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے ایشیاء ہاکی کپ جکارتہ میں قومی ہاکی ٹیم کی پرفارمنس اور ورلڈ کپ کوالیفائی نہ کرنے کی وجوہات جانچنے کے حوالے سے اولمپیئن کلیم اللہ کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی، کمیٹی میں اولمپیئن کلیم اللہ کے علاوہ اولمپیئن ناصر علی اور کے پی کے ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ظاہر شاہ بھی شامل ہونگے،انکوائری کمیٹی قومی ہاکی ٹیم کی وطن واپسی کے بعد 20 جون تک اپنی رپورٹ پی ایچ ایف صدر کو جمع کرائے گی، رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نےایک مطالبہ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم ہاکی کی تباہی کی وجوہات جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دیں اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کریں اور ان تمام لوگوں کو برطرف کریں جو ہمارے قومی کھیل کو بدنام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی ہاکی کی تباہی کے خلاف آواز کو ہر فورم پربلند کیا جارہا ہے ،ان مطالبات میں ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر (ر) خالد سجاد کھوکھر سمیت دیگر ذمہ داران سے مطالبات کیے جارہےہیں کہ پاکستان کے قومی کھیل کو بچالیں ورنہ اس سےبُری تباہی ہوگی

    ادھران مطالبات میں شدت آگئی ہے اور کہا جارہا ہےکہ پاکستان ہاکی کی تباہی کے ذمہ داران بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھرصدر پی ایچ ایف پاک ہاکی کی موجودہ قابل رحم اور ناقابل قبول صورتحال کی ذمہ داری قبول کریں۔

    اس مطالبے میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایشین ہاکی کپ میں 12 مردوں کی غلطی اور شرمندگی اور وہ بھی ہندوستان میں کتنی بڑی شرم کی بات ہے ، اس مطالبے میں کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ دے دیں۔آصف باجوہ سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف اور پوری پاکستان نیشنل ٹیم مینجمنٹ کو بھی اب ایسا ہی کرنا چاہیے۔
    انہوں نے ناقابل معافی غلطی اور غلطی کی ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان ہاکی سے محبت کرنے والے محبت وطنوں کا کہنا ہے کہ وہ ہاکی کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ جارہے ہیں‌ تاکہ ان تمام لوگوں کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا جائے جنہوں نے ہماری قوم کو شرمندہ کیا ہے۔

    پیٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی بڑے اضافے کا امکان

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں: پرویز الہیٰ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    نیب کوجو آزادی حاصل تھی اب وہ ختم ہوگئی:شاہ محمود قریشی

    سانحہ ماڈل ٹاؤن مشتاق سکھیرا،رانا عبدالجبارنے بریت کی درخواست دائر کر دی

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    ماہرین نےجھوٹ پکڑنے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا

    لندن: سائنسدانوں نے جھوٹ پکڑ نے کا نیا سائنسی طریقہ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی :ماہرین کا خیال ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران لوگوں سے مختلف کام کروانے سے ان کا جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سچائی بیان کرنے کے مقابلے میں جھوٹ بولنے میں بہت زیادہ دماغی قوت اور توانائی صرف ہوتی ہے اور اس دوران مشکوک شخص سے کوئی کام کروایا جائے تو وہ اسے ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے پاتا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ میں کی گئی تحقیق کے مطابق بڑے بڑے جھوٹے افراد سے تفتیش کے دوران ایک اور کام کرایا جائے تو وہ اس میں ناکام رہتے ہیں یا توجہ کھو دیتے ہیں مثلاً تفتیش کے دوران کسی مرد یاعورت کوسات ہندسوں والا گاڑی کارجسٹریشن نمبر دوہرانے کو کہا جائے تو اس سے جھوٹ پکڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    تجرباتی طورپر 164 افراد کو شامل کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ خبروں میں آنے والے سماجی معاملات یا رحجانات کی تائید کریں یا اس کے مخالفت کریں۔ پھر انہیں تین ایسے موضوعات پر بات کرنے کے لیے کہا گیا جنہیں وہ اہم ترین سمجھتے ہیں۔

    ان افراد کو جھوٹ اور سچ والے گروہوں میں بانٹا گیا یعنی سچ بولنےوالے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جس معاشرتی مسئلے پر سوچتے ہیں وہ درست انداز میں بیان کریں تاہم دوسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جو کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں اس کا الٹ اور جھوٹ نقطہ نظرفراہم کریں۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    اب جھوٹے افراد کےگروہ کو تفتیش کے دوران اچانک پوچھا گیا کہ ان کی گاڑی کا سات عددی رجسٹریشن نمبر کیا ہے حیرت انگیز طور پر آدھے افراد اپنی کار کا نمبر بیان کرنے سے قاصر رہے کیونکہ وہ جھوٹ بولنے میں مصروف تھےاور دماغ وہاں لگا ہوا تھاآخر میں ان سے کاغذ پر اپنی رائے لکھنے کو بھی کہا گیا۔

    سچ بولنے والے افراد کی اکثریت نے اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر دوہرایا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دروغ گوئی پر اتر آئے تو سوال و جواب کے دوران اس کی ذات سے وابستہ سچ باتیں اگلوائی جائیں تو وہ انہیں بیان کرنے میں ناکام رہتا ہے اس طرح کسی بھی شخص کے جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

    جامعہ کی شعبہ نفسیات کےپروفیسرایلڈرٹ رِج گزشتہ 15 برس سےجھوٹ پکڑنےوالےطریقوں پر غور کر رہے ہیں پروفیسر ایلڈرٹ کہتے ہیں کہ اس طرح جھوٹ پکڑنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب جھوٹ بولنے والے شخص کو کسی طرح کا سچ بولنے کا موقع دیا جائے تو وہ جھوٹ اور سچ دونوں کو ہی اہمیت دیتا ہے لیکن اگر اسے یہ موقع نہ دیا جائے تو وہ سچ بولنے کے عمل کو نظرانداز کرنے لگتا ہے۔

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

  • بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ سے پہلے رواں ہفتے میاں شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام پرمہنگائی کا بم گراتے ہوئے ایکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30روپے فی لیٹربہت بڑااضافہ کرکے عوام کوزندہ درگور کر دیا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیرہوگیاتھا کیونکہ یہ اضافہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی قسط حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر قرض جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    اس وقت پاکستان میں سیاسی بھونچال جمودکاشکار ہے۔عمران خان کی حکومت گر گئی اورپی ڈی ایم اتحادکی نئی حکومت بن گئی، کردار بدل گئے ،سابقہ حکمرانوں نے اپوزیشن کا درجہ حاصل کرلیا اور اپوزیشن حکمران بن گئی لیکن پاکستان کی اقتصادی بدقسمتی کا المیہ جاری ہے ۔جس کے سبب خدانخواستہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے سری لنکا کی طرح کے حالات پیداہونے کاخدشہ ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارت اورچین سمیت تینوں ملکوں نے امداد دینے کاکوئی وعدہ نہیں کیا ،جس سے میاں شہباز شریف کی حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہوگئیں ہیں،جس کاحل انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرنکالا۔پٹرولیم مصنوعات کی ہردورمیں ہرحکومت نے من چاہی قیمتیں مقررکیں اور آئی ایم ایف بھی ہربارپٹرول اوربجلی کی قیمت بڑھانے کامطالبہ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس تمباکوکی مصنوعات خاص طور پر سگریٹ کی قیمت بڑھانے کی کبھی بات نہیں کی گئی ،کافی عرصہ سے پاکستا ن میں سگریٹ پر ٹیکس نہیں لگایا گیا دنیابھر میں سب سے سستے سگریٹ پاکستان میں فروخت ہورہے ہیں ،کیاآئی ایم ایف کوپاکستان میںسستے سگریٹ دکھائی نہیں دیتے ؟اورسستے سگریٹس کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کے علاج پرخرچ ہونے والاخطیرزرمبادلہ دکھائی نہیںدیتا؟
    پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔یہ ٹیکس لاگو نہ ہونے سے پاکستان میں سگریٹ نوشی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریبا تین کروڑ پاکستانی سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے سالانہ اموات ایک لاکھ 60 ہزار ہیں، یعنی روزانہ تقریبا 300 کے قریب لوگ مرجاتے ہیں۔ اتنی اموات تو کرونا سے بھی نہیںہوئیں۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جان بچانے والی تقریبا 100 ادویات کی قیمتوں میں تو 260 فیصد تک اضافہ ہوا ہے لیکن جان لیوا سگریٹ پر ایک روپے کابھی ٹیکس نہیں لگایا گیا؟ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے ہونے والے معاشی نقصانات 615 ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔پاکستان میں دو قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں۔ ایک برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے اور دوسرا لوکل کمپنیاں جن کا مارکیٹ میں حصہ پانچ فیصد ہے۔

    پاکستان میں آئندہ بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن تمباکو کمپنیاں مضر سگریٹ پر ٹیکس کم کرنے اور مزید قیمت نہ بڑھانے کے لیے اشتہارات سے یہ دعوی کر رہی ہیں کہ یہ سگریٹ ہی ہیں، جس نے پاکستان کی معیشت کو سنبھال رکھا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یہ ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں اوران ٹوبیکوکمپنیوں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تمباکو کے باعث بیماریوں سے 615 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، اس رقم کا 71 فیصد صرف سرطان، امراض قلب اور پھیپڑوں کی بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ رقم سگریٹ کمپنیوں سے حاصل کردہ ٹیکس سے بھی 5 گنا زیادہ ہے۔ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سگریٹ نوشی نوعمری میں شروع کی جاتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے ترین سگریٹس کی دستیابی ہے جس سے نہ صرف نوجوان اس لت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ کچھ کیسز میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر 6 سال ہے۔

    تمباکونوشی کے عادی غریب طبقے سے وابستہ افراد سستے سگریٹ کی وجہ سے موت بآسانی خرید لیتے ہیں جبکہ اس کے باعث کینسر جیسے مہلک اور مہنگے مرض سے لڑ نہیں پاتے کیونکہ اس کا علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شوکت خانم ہسپتال کی ویب سائٹ پر بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس کے ایک سال کے علاج کا لگ بھگ خرچہ کچھ اس طرح ہوتا ہے؛سرجری پر 300000 روپے، ریڈی ایشن کیلئے125000روپے، کیموتھراپی کیلئے 150000روپے جبکہ کل لاگت تقریبا 1075000 روپے تک آتی ہے۔ اب کہاں 60،70 روپے کے سگریٹ سے ہونے والا کینسر اور کہاں یہ 1075000روپے کی نئی زندگی،جس کی ادویات ودیگراخراجات علیحدہ ہیں۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکا کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔ سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلائی جائے تو یقینا حکومت آئندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔ڈاکٹر ضیا الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف این ایچ ایس آر سی نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف پٹرول کی قیمت بڑھانے پرتوزوردیتا ہے لیکن سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگاکرسگریٹ مہنگاکرنے کی بات نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کاتحفظ کرتاہے،سگریٹ پرٹیکس بڑھانے کا ایسا کوئی بھی مطالبہ سگریٹ بنانے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کونقصان پہنچ سکتاہے اس لئے آئی ایم ایف کبھی بھی پاکستانی حکومت کوسگریٹ مہنگے کرنے کامطالبہ نہیں کریگا۔

    سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے فوری طور پر5 فیصد تمباکو نوشی میں کمی ہوگی ، اگر مہنگائی کے تناسب سے قیمتوں میںمسلسل اضافہ ہوتارہے تو 10 فیصد تمباکو نوشی کو کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سگریٹ مہنگی کرنے سے سب سے زیادہ نوجوان تمباکو نوشی ترک کرتے ہیں ۔ نوجوانوں میں یہ رجحان بوڑھے افراد سے 2 گنازیادہ ہے۔ سگریٹ نوشوں میں 10 فیصد کمی کا مطلب پاکستانی معیشت کو 60 ارب روپے سالانہ کی بچت جبکہ 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔ بہت سے ممالک نے سگریٹ کی قیمت میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔اب درست فیصلے کرنے کاوقت ہے، آنے والے بجٹ میں حکومت سیگریٹ پربھاری ٹیکس لگاکراس کی قیمت بڑھائے اس سے ایک توکثیرریونیوحاصل ہوگا دوسراسیگریٹ مہنگے ہونے سے نو جوانوں کی زندگیاں بھی بچ جائیں گی۔ وزیراعظم شہبازشریف صاحب آپ سگریٹ مافیا کیخلاف بھی کارروائی کا حکمنامہ جاری کر کے آپ لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ ان موت کے سوداگروں اور بین الاقوامی مافیا کو لگام آپ ہی ڈال سکتے ہیں ۔ اس مافیاکوپاکستان کی معیشت اور عوام کی جان سے کھیلنے نہ دیا جائے۔ بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچائیں، سگریٹ پر ایف ای ڈی میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کریں۔ ان کی قوت خرید سے باہر ہونے کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ بہت ضروری ہے۔سگریٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سے حکومت کے ریونیو میں اضافے کیساتھ یہ کم عمر افراد کی پہنچ سے دور ہوجائے گی مزید برآں اس کے بآسانی دستیاب نہ ہونے سے حکومت کے صحت کے شعبے پر اخراجات میں کمی ہوگی اور فضا بھی صاف ستھری ہوگی ماحولیاتی آلودگی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگاجس سے پاکستانی عوام صاف ستھرے ماحول میں سانس لیکر بیماریوں سے محفوظ پاکستان میں اپنی زندگیاں بسرکرسکے گی۔

  • ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

    ہائبرڈ وار ریاست کے امور کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم کی جاتی ہے, دشمن براہ راست پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین مہمان نواز ہیں نہ صرف زبردست ناشتہ کرواتے ہیں بلکہ ان کی چائے کے بھی کیا کہنے, دشمن نے بزدلوں کی طرح چھپ کا وار کرنے کا ایک اور حربہ آزمایا ہے جو ففتھ جنریشن وار کے نام سے جاننا جاتا ہے, جس کا مقصد ہے کہ ریاست کے اداروں خلاف اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے, دشمن ایک عرصے سے مختلف  ہتھکنڈوں کے ذریعے سے پاکستان کے دفاعی اداروں پر حملہ آور رہا ہے,  کبھی لسانیات کی سوچ کے تحت وطن عزیز کو نقصان پہنچایا تو کبھی چھوٹے اور بڑے صوبے کی بات کی,  کبھی مسنگ پرسن کا چورن فروخت کیا تو کبھی فرقہ وارانیت کا زہر گھول کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی

    ظاہر ہے دشمن یہ کام بذات خود نہیں بلکہ ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے, سب جانتے ہیں کہ دفاعی لحاظ سے افواج پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی فوج ہے اس تناظر میں دشمن سمجھتا ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے, جسے کمزور کرکے ناپاک عزائم میں کامیاب حاصل کی جاسکتی ہے, اس لئے وہ کچھ ناپختہ زہنوں کو اپنی جانب راغب کرکے اپنے بنائے تماشے میں استعمال کر رہا ہے. سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی ٹوئٹر ایکٹویٹی سے کون واقف نہیں ہے, وکالت سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ ایسی غیر اخلاقی حرکات اور الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جو پاکستانی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے, محترمہ کو نا * نہ* جانے کس بات پر افواج پاکستان سے شدید بغض ہے, ان کی غیر مہذب پوسٹس پر ان کی والدہ انہیں متنبے بھی کر چکی ہیں مگر انہوں نے اپنی والدہ کی ایک نہ سنی اور پاک فضائیہ کے سربراہ کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی اور ان کے گھر کی لوکیشن تک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردی, اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت تو عام آدمی نہیں دیتا  ہے جبکہ وہ وکیل ہیں اور با اثر قابل خاتون کی دختر ہیں مگر افسوس ان کی شخصیت میں کوئی مثبت اثر نظر نہیں آتا ہے.

    ایمان مزاری اپنی تربیت کی دھجیاں بکھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں, کبھی ٹوئٹر پر اپنا خاندانی پس منظر بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے سستی شہرت کی خاطر مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی نظر آتی ہیں, جس کا مقدمہ کوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج ہوا تھا, جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق ایمان مزاری معزز وکیل ہے, نوجوان ہیں اس لئے کچھ جذباتی ہیں,  انہوں نے اس مقدمے کو مزید آگے نہ چلنے دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا, سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر جذباتی وکیل کوئی کیس عقل کے دائرے میں رہ کر لڑ سکتا ہے? اس لحاظ سے تو ان کی ذہنی کیفیت خاصی مشکوک ثابت ہوتی ہے, کیا ان کی ڈگری نظام عدل کے لئے موزوں ہیں؟

    ایمان مزاری کی جانب سے پاک فوج کے خلاف پے در پے بے بیناد الزام تراشی کے تحت وار کرنے پر 27 مئی  2022 کو پاک فوج نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے, ایمان مزاری کے خلاف جج ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے, ایف ائی آر کے متن کے تحت بارہ مئی کی شام پانچ سے چھ بجے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے پاک فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف سرعام من گھڑت، بے بنیاد الزامات لگائے, 
    آرمی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
    جان بوجھ کر دیے گئے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اینڈ فائل میں اشتعال دلانا تھا۔
    یہ اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا جو ایک سنگین جرم ہے۔
    یہ بیان دینا پاک فوج کے افسروں، جوانوں کو حکم عدولی پر اکسانے کے مترادف ہے۔
    پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔
    متعلقہ قوانین کے تحت ایمان مزاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاک فوج کی جانب سے پہلی بار ایف آئی آر کا اندراج کر کے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے, یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ فوج عدلیہ کا احترام کرتی ہے, اس کے ساتھ ہی انہیں پاکستان کے نظام عدل پر پورا بھروسہ ہے,

    سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اور سول سوسائٹی پاک فوج کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کریں گے جیسے وہ  دیگر معاملات میں کرتے ہیں امید کی جا رہی تھی کہ عدالت حسب سابق ایمان مزاری کو معصوم, جذباتی, نوجوان, خاتون, یا وکیل ہونے کریڈٹ دیکر کلین چیٹ نہیں دئیگی بلکہ اب کی دفعہ انہیں باقاعدہ قانون کے دائرہ میں لاکر ان سے بازپرس کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق ایسی مثال قائم کی جائے گی, جس کے اثرات مثبت اور باوقار ہونگے, مگر فی الحال ایسا نہیں ہوا بلکہ ایمان مزاری کو محض ایک ہزار کے مچلکے کے عوض نو جون تک عبوری ضمانت مل گئی

    جیسے ہی ایمان مزاری پر ایف آئی آر  درج ہونے کی خبر آئی, ان کی جانب سے ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ نے عبوری ضمانت کی درخواست عدالت میں پیش کی, جو فوری  منظور ہوگئی, جس کے تحت عدالت نے 9 جون تک ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روک دیا,بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کیطرف سے دی گئی ضمانت قانون کی خلاف ورزی ہے, ایف آئی آر ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت ہے۔ عام آدمی کی طرح افواج پاکستان بھی وطن عزیز کے نظام عدل سے انصاف کے حصول کی منتظر ہے

  • فرانس :ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گے

    فرانس :ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گے

    پیرس: ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گےدنیا بھر میں موجود فٹ بال کے مداحوں کی نظریں آج فرانس کے اسٹیڈ ڈی فرانس اسٹیڈیم پر لگی ہوگی، جہاں دو تگڑے کلبز آج فتح اپنے نام کرنے کیلئے میدان میں اتریں گے۔

    فرانسیسی شہر پیرس میں ہونے والا فائنل ہسپانوی کلب ریال میڈرڈ اور انگلش کلب لیور پول کے درمیان ہوگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 5 سالوں کے درمیان لیور پول اور ریال میڈرڈ کی ٹیمیں دوسری بار فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔

    فائنل میچ کے موقع پر 80 ہزار تماشائی اسٹیڈیم میں موجود ہونگے، جس میں 20 ، 20 ہزار سپورٹر اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کریں گے۔ میچ پیرس کے مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے شروع ہوگا۔

    ریال میڈرڈ اور لیور پول کے درمیان چیمپئنز فٹبال لیگ کے فائنل میں دونوں ٹیموں نے جیت کیلئے محمد صلاح اور کریم بینزما کی مہارت پر نظریں جما لی ہیں۔ چیمپئنز لیگ کی بات کی جائے تو ریال میڈرڈ اب تک 13 بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہے، جب کہ لیور پول کو 6 بار یہ اعزاز حاصل ہوا۔

    دونوں ٹیموں کے مابین ہونے والے میچز میں ریال میڈرڈ نے 10 جب کہ لیور پول نے 8 گولز ایک دوسرے کے خلاف اسکور کیے۔ دونوں ٹیمیں سال 1981 میں پہلی بار مد مقابل آئی تھیں۔

    ہسپانوی کلب میں کریم بینزما ، جب کہ انگلش کلب میں محمد صالح اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور مداحوں کو بے صبری سے ان کی شاندار پرفارمنس کا انتظار ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فائنل میچ میں فٹ بال کے شائقین کو کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے سنسنی خیز مقابلہ 2017-18 میں ہوا، جس میں ریال میڈرڈ نے 3 ایک سے کامیابی اپنے نام کی۔ آخری مرتبہ ریال میڈرڈ نے بالترتیب 2016، 2017 اور 2018 میں ٹائٹل جیتا تھا جب کہ 19-2018 میں لیور پول نے ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

    اس وقت ریال میڈرڈ کی ٹیم کے پاس ان فارم کھلاڑی کریم بنزیما ہیں جو اس سیزن کے ٹاپ اسکورر ہیں۔

    انہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران 10 میچز کھیل کر 15 سے زائد گول اسکور کیے ہیں جن میں کوارٹر فائنل میں کیے گئے چار گول بھی شامل ہیں۔ لیور پول کی کارکردگی کا دارومدار اسٹرائیکر محمد صلاح کی فارم پر ہوگا جن کے آٹھ سے زائد گولز کی بدولت ان کی ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔

    لیورپول ہی کے رابرٹو فرمینو نے بھی ایونٹ میں اب تک پانچ گول اسکور کیے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹیم کے مداح ساتویں ٹائٹل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

  • نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    نعرہ تکبیر تک کا سفر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    انڈیا 1974 میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہر وقت پاکستان کو ختم کرنے کی باتیں سرعام کرتا تھا اس سے قبل 1971 میں مشرقی پاکستان کو اس نے باقاعدہ سازش سے دولخت کروایا تھا

    18 مئی 1974 کو راجھستان میں مسکراتا بدھا نامی مشن میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے اور خود کو پوری دنیا کا مالک سمجھ لیا خاص کر ایشا کا غنڈہ بننا اس کا خواب تھا
    انڈیا کے اس رویے کے باعث اب پاکستان پر فرض تھا کہ مساوی طاقت حاصل کی جائے

    اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے
    نان پرولیفیشن ٹیریٹری (ایٹمی طاقت نا بننے کا معاہدہ) پر دستخط نا کئے اور 1976 میں ڈاکٹر قدیر مرحوم علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں پاکستانی اٹامک انرجی کمیشن کا آغاز کیا گیا
    ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ الرحمہ نے قلیل وسائل کے باوجود جس محنت اور لگن سے کام کیا اس پر جتنا خراج تحسین انہیں پیش کیا جائے کم ہے

    1977 میں ضیاءالحق کی حکومت میں سخت عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے سنگاپور،یورپ اور مشرق وسطی سے بڑی دلیری اور خفیہ طریقوں سے حساس آلات خریدے اور پاکستان منتقل کئے
    کیونکہ امریکہ پاکستان کو کبھی بھی ایٹمی طاقت بننے نہیں دینا چاہتا تھا

    یہ بات بھی بہت مشہور اور مستند ہے کہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے انڈین اٹامک سنٹر سے بھی حساس آلات حاصل کئے جس پر انڈیا سخت پریشان بھی ہوا اور امریکہ کو رپورٹ کی تبھی امریکہ نے خطرہ بھانپ کر فرانس جرمنی اور کینیڈا پر پابندیاں لگا دیں کہ پاکستان کو کوئی بھی حساس آلات یا ٹیکنالوجی نا فروخت کی جائے –

    تاہم آئی ایس آئی نے بڑے ماہرانہ طریقے سے جرمنی سے حساس آلات اور ٹینالوجی حاصل کرکے انتہائی مشکل ترین طریقے سے پاکستان منتقل کیا کیونکہ امریکہ اور انڈیا پاکستان پر پوری نظر رکھے ہوئے تھےپاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بڑی محنت اور لگن سے اپنا کام جاری رکھا –

    امریکہ و انڈیا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور دھمکیاں بھی لگائیں اور 1986 میں راجھستان کے علاقے میں 6 لاکھ فوجیوں کو جمع کرکے پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی 1989 کی مسلح تحریک آزادی کشمیر کی شروعات پر بھارت نے پھر پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان نے اپنا کام جاری رکھا

    11 اور 13 مئی 1998 کو ایک بار پھر انڈیا نے چولستان میں ایٹمی دھماکے کئے اور اپنی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی
    اب وقت آگیا تھا کہ انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا جائے سو پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کئے

    پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں 28 مئی کو 5 اور 30 مئی کو 1 ایٹمی دھماکہ کیا ایٹمی دھماکوں کے بعد جنگ کی دھمکی دینے والا انڈیا پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا-

    انڈیا امریکہ کا خیال تھا کہ بے انتہاہ پابندیوں میں پاکستان ایٹمی قوت نا بن پائے گا مگر اللہ کے فضل اور پاکستان آئی ایس آئی،ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ رحمہ کی محنت و لگن سے اللہ نے وہ دن بھی دکھلایا کہ جب نعرہ تکبیر لگا کر بدمست ہاتھی انڈیا کو جواب دیا گیا اور اس کا غرور خاک آلود ہوا

    پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہےپاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر پوری اسلامی دنیا نے جشن منایا

    لکھنے بولنے کو تو ،یوم تکبیر، ایک معمولی بات ہے مگر اس کے پیچھے ہمارے حکمرانوں،آئی ایس آئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر و ان کی ٹیم کی بے شمار قربانیاں ہیں ایٹمی طاقت بننے کے بعد بظاہر انڈیا نے جنگ کی دھمکیاں دیں ہیں مگر ان دھمکیوں میں وہ پہلے سا غرور و رعب نہیں اور یہ سب نعرہ تکبیر کے مرہون منت ہی ہے

  • ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ،سری لنکا نےپاکستان کو پیچھےچھوڑدیا

    ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ،سری لنکا نےپاکستان کو پیچھےچھوڑدیا

    کولمبو:سری لنکا نے بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز میں فتح حاصل کرنے کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کے خلاف سیریز میں کامیابی کے بعد سری لنکا پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر آگیا جبکہ پاکستان پانچویں نمبر پر چلا گیا ہے۔سری لنکا نے بنگلہ دیش کو دوسرے ٹیسٹ میں 29 رنز کے ہدف کے تعاقب میں شکست دے کر سیریز 1-0 سے اپنے نام کر لی۔

    سری لنکا کے اسیتھا فرنینڈو کو 10 وکٹیں لینے پر پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔تجربہ کار اینجلو میتھیوز کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے دو میچوں میں دو سنچریوں سمیت 344 رنز بنا ئے۔

    پوائنٹس ٹیبل پر40 پوائنٹس کے ساتھ سری لنکا چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان 44نمبر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے ،تاہم سری لنکا کی بہتر وننگ اوسط نے پاکستان کو پانچویں نمبر پر پہنچا دیا۔پاکستان کا وننگ اوسط 52 اعشاریہ 38 ہے جبکہ سری لنکا کا 55.56 ہے۔ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر آسٹریلیا 75.00 وننگ اوسط کے ساتھ سر فہرست ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سری لنکا کے خلاف جولائی میں دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلے گا۔

    اس سے پہلے سری لنکا نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنگلادیش کو 10 وکٹوں سے شکست دے دی۔تفصیلات کے مطابق سری لنکا کو جیت کے لیے 29 رنز کا ہدف ملا جو اس نے بغیر کسی نقصان کے 3 اوورز میں ہی حاصل کرلیا۔اوشادا فرنانڈو 21 اور کپتان دیموتھ کرونا رتنے 7 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

    بنگلادیشی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 169 رزن پر ڈھیر ہوگئی تھی۔شکیب الحسن 58 اور لٹن داس 52 رنز بناکر نمایاں رہے تھےجبکہ مشفق الرحیم 23 اور محمود الحسن جوئے 15 رنز بناسکے۔ان کے علاوہ کوئی دیگر کھلاڑی ڈبل فیگرز میں داخل نہ ہوسکا ۔

    سری لنکا کی جانب سے اسیتھا فرنانڈو نے نے شاندار بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کی جانب سے چمندا واس کے بعد ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں لینے والے دوسرے فاسٹ بولر بن گئے۔کسوتھ راجیتھا نے 2 اور رمیش مینڈس نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    اس سے قبل بنگلا دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 365 رنز بنائے تھے۔ مشفق الرحیم نے ناقابل شکست 175 رنز کی اننگز کھیلی تھی جبکہ لٹن داس نے 141 رنز بنائے تھے۔سری لنکا کی جانب سے کسون راجیتھا نے 5 اور اسیتھا فرنانڈو نے 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

    سری لنکن نے ٹیم نے پہلی اننگز میں 506 رنز بنائے تھے۔اینجلو میتھیوز 145 رنز بناکر ناقابل شکست رہے تھے جبکہ دنیش چندیمل نے 124 ، کپتان دیموتھ کرونا رتنے نے 80 اور اوشادا فرنانڈو نے 57 رنز بنائے تھے۔

    بنگلا دیش کی جانب سے شکیب الحسن نے 5 اور عبادت حسین نے 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔اس فتح کے ساتھ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 0-1 سے سری لنکا کے نام ہوگئی۔یاد رہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا تھا۔

  • پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا

    پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا

    لاہور:پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر، ورلڈ کپ کیلئے بھی کوالیفائی نہ کرسکا،پاکستان ایشیا ہاکی کپ سے باہر ہونے کے ساتھ ساتھ ہاکی ورلڈ کپ 2023 کے لیے بھی کوالیفائی نہ کرسکا۔

    تفصیلات کے مطابق جاپان سے شکست کے بعد پاکستان ہاکی ورلڈ کپ 2023 میں کوالیفائی کرنے کے لیے بھارت کے رحم و کرم پر تھا۔

    بھارت کو ایشیا ہاکی کپ کے سیمی فائنل میں رسائی کے لیے انڈونیشیا کے خلاف 15 گول کرنے تھے اور پاکستان کو ایونٹ اور ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے لیے 16 گولز درکار تھے۔بھارت نے انڈونیشیا کو با آسانی 0-16 سے شکست دے کر دونوں سنگ میل عبور کرلیے۔

    یہ دوسرا موقع ہے کہ جب پاکستان ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرسکے گا۔اس سے قبل پاکستان ٹیم 2014 کے ہاکی ورلڈ کپ میں بھی کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    اس سے قبل پاکستان کا میچ جاپان کے ساتھ ہوا تھا جس میں پاکستان کو 2-3 سے شکست ہوئی تھی۔پاکستان کا ایک گول گراؤنڈ میں 12 کھلاڑیوں کی موجودگی کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا جبکہ ایک گول فاؤل کی وجہ سے مسترد ہوا۔

  • شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    رواں ماہ کی اکیس تاریخ کواسلام آباد پولیس کی جانب سے نے پی ٹی آئی کی رہنما شریں مزاری کو تحویل میں لینے کی اطلاعات نیوز چینلز پر بریک کی شکل میں گردش کرتی رہیں, سابق خاتون وزیر کی گرفتاری زمین کی ملکیت اور منتقلی کی معاملے کے تحت پیش آئی, شریں مزاری کو دن کی روشنی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تاہم ان کی بیٹی کی جانب سے گرفتاری کے لمحات کو یکسر غلط طریقے سے پیش کیا گیا, ایمان مزاری کے مطابق ان کی والدہ کو مرد پولیس اہلکار مارتے پیٹٹے لیکر گئے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہوا, جس کی تین بہت ٹھوس وجوہات ہیں, ایک تو شریں مزاری خاتون ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کی حرکات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اس قسم کی جرات کر بھی نہیں سکتے ہیں, دوسرے وہ سینئر شہری ہیں, تیسری اور سب سے اہم وجہ وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں, ان تین اہم وجوہات کیں بنا پر پاکستان کا ہر فرد ان کی اور جیسی ہر خاتون کی بہت عزت کرتا ہے جبکہ اسلام خاتون کو مقدم کہتا ہے تو بطور مسلماں ایسا عمل کرنے ہر گز زیب نہیں دیتا ہے اور نہ ہی یہ عمل وقوع پذیر ہوا ہے جس کا واضح ثبوت وہ وائرل ویڈیو  ہے, جس میں شریں مزاری اسلام آباد پولیس کی خاتون اہلکار کی زیر حراست دیکھی جا سکتی ہیں, جس میں کوئی پرتشدد واقعہ ہوتا کہیں نہیں دیکھائی دے رہا ہے البتہ مزاری صاحبہ بہت غصے میں نظر آرہی ہیں, اس ویڈیو کے ذریعے ایمان مزاری کا جھوٹ بے نقاب ہوکر سامنے آیا ہے, پاکستان کے دفاعی ادارے پر بے جا تنقید کرنا ایمان مزاری کی ان عادات کا حصہ ہے جس سے ان کی والدہ بھی نالاں رہی ہیں,  ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر حسب سابق ریاستی اداروں اور فوج کی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزامات اور مفروضوں کی بارش شروع کردی اور کہنا شروع کردیا کہ نہ جانے کون میرے ماں کو لے گیا, پتہ نہیں وہ کہاں ہیں,  ایمان مزاری جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں انہوں نے ایکبار پھر پاک فوج کی قیادت پر بنا ثبوت کے الزام عائد کیا کہ ان کی والدہ کو اغوا کیا گیا ہے جس کے پیچھے عسکری قیادت کی اعلی شخصیت کا ہاتھ ہے جبکہ اس دوران مذکورہ ویڈیو بھی وائرل ہوچکی تھی اور اینٹی کرپشن کی جانب سے شریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق بھی ہوچکی تھی

    سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی گرفتاری ضلع راجن پور میں تجاوزات سے متعلق کیس کی وجہ سے عمل میں آئی, ان کے خاندان پر صوبائی دارالحکومت لاہور سے 400 کلومیٹر دور ڈی جی خان ڈسٹرکٹ میں 800 کنال (100 ایکڑ) اراضی ہتھیانے کا الزام ہے۔معتدد دہائیوں کی عدالتی تاخیر کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران مارچ 2022 میں اس معاملے میں پولیس کیس درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف 11 مارچ 2022 کو شکایت درج کر کے اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کو معاملے کو دیکھنے کے لیے کہا گیا,  اے سی نے 8 اپریل 2022 کو کیس کی رپورٹ مرتب کی جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنے رولز 2014 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا۔مقدمہ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی درخواست پر درج کیا گیا۔ جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ایف آئی آر درج کی۔

    عوام سے سچ چھپانے کی خواہش کی خاطر ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر بے بنیاد جھوٹ پر جھوٹ بولے
    ماضی میں شریں مزاری نے ایمان مزاری کی جانب سے فوج پر بے ایمانی اور جھوٹے الزامات لگانے کو اپنے لئے ہتک آمیز  رویے کو قرار دیا تھا, انہؤں نے ایمان مزاری کے پاکستان آرمی کے خلاف ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ آپ ایسے گھٹیا، ذاتی نوعیت کے، غیر مصدقہ حملے کرتی ہیں,بطور وکیل آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے الزامات لگانا مناسب نہیں ہے ۔

    23   مئی 2018 کو شیریں مزاری نے ایمان مزاری سے فوج کے خلاف اپنے بیانات پر کہا، "آپ کو پاک فوج کے خلاف اپنی جنونی نفرت کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے تمام عقلیت کھو دی ہے,  میں اپنی اولاد کے گستا خانہ روئیے کو  درست نہیں کہونگی مگر بعد میں انہوں نے اپنی بیٹی کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کی ایمان مزاری نے مارچ 2022 میں پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مسلح افواج کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔جس کا مقدمہ جکوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج کیا گیا تھا،جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس کی مزید پیروی نہ کرنے کا حکم دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    مذکورہ کیس نے مزاری ماں اور بیٹی کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے, ان کا جھوٹ اور زمینوں پر قبضے کا معاملہ ان کے کمزور کردار اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاکستان کے عوام سوال کرتے ہیں کہ
    کیا ایمان مزاری کی طرف سے پاکستان کے معزز ادارے اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے پر قانون حرکت میں آئے گا ؟
    پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ایمان مزاری کے ہتک آمیز ریمارکس کے خلاف مناسب تحقیقات ہونی چاہئیں