Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    سلیکان ویلی: ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائبر سیکیورٹی کے یوٹیوب چینل ’’انفینیٹ لاگنز‘‘ نے اپنی تازہ ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ’’فشنگ‘‘ (phishing) کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہےیہ ویڈیو سائبر سیکیورٹی ماہرین کےلیے ہے جس میں ’’مسٹر ڈاکس‘‘ (mr.d0x) نامی ایک وائٹ ہیٹ ہیکر کے حوالے سے ’’بِٹ بی‘‘ (BitB) طریقے کی تفصیل بیان کی گئی ہے

    انفینیٹ لاگنز، مسٹر ڈاکس اور آرس ٹیکنیکا پراس بارے میں شائع ہونےوالی ایک خبر کےمطابق اس طریقے کو ’’براؤزر اِن دی براؤزر‘‘ (BitB) کہا جاتا ہے یہ نیا طریقہ اس قدر شاطرانہ ہے کہ ایک سمجھدار اور ہوشیار رہنے والا انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا سکتا ہے ’’بِٹ بی‘‘ کا انحصار ’’تھرڈ پارٹی لاگ اِن‘‘ پر ہے جو آج دنیا کی لاکھوں ویب سائٹس استعمال کررہی ہیں۔

    تھرڈ پارٹی لاگ اِن میں آپ کو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہونے کےلیے علیحدہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنے موجودہ گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ کی تصدیق کرواتے ہوئے اس ویب سائٹ پر لاگ اِن ہوسکتے ہیں۔

    اس مقصد کےلیے ’’او آتھ‘‘ (OAuth) نامی اوپن پروٹوکول استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن کےلیے گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ وغیرہ کی خودکار، فوری اور محفوظ تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے (کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جب کوئی خریدار ادائیگی کا طریقہ منتخب کرتا ہے جیسے پے پال۔)

    ’’بِٹ بی‘‘ طریقے کے تحت ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگویج (HTML) میں کاسکیڈنگ اسٹائل شیٹ (CSS) نامی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے، تھرڈ پارٹی لاگ اِن کےلیے ایک ایسی پاپ ونڈو بنائی جاتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصل تصدیقی (آتھورائزیشن) ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے اس ونڈو کی ایڈریس بار میں یو آر ایل بھی بالکل اصل دکھائی دیتا ہے جیسے کہ accounts.google.com وغیرہ ونڈو کی ترتیب اور طرز عمل اصل چیز سے یکساں نظر آتے ہیں۔

    ہینڈل mr.d0x استعمال کرنے والے ایک محقق نے پچھلے ہفتے تکنیک کی وضاحت کی۔ اس کا تصور کے ثبوت کا استحصال ایک ویب صفحہ سے شروع ہوتا ہے جس میں کینوا کی بڑی محنت سے درست جعل سازی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کوئی وزیٹر ایپل، گوگل، یا فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے لاگ ان کرنے کا انتخاب کرتا ہے، جعلی کینوا صفحہ ایک نیا صفحہ کھولتا ہے جو واقف نظر آنے والے OAuth صفحہ کی طرح نظر آتا ہے۔

    یہ نیا صفحہ بھی ایک دھوکہ ہے اس میں وہ تمام گرافکس شامل ہیں جو ایک شخص لاگ ان کرنے کے لیے گوگل کا استعمال کرتے وقت دیکھنے کی توقع کرے گا۔ اس صفحہ میں گوگل کا جائز پتہ بھی ہے جو ایڈریس بار میں ظاہر ہوتا ہے۔ نئی ونڈو براؤزر ونڈو کی طرح برتاؤ کرتی ہے اگر حقیقی Google OAuth سیشن سے منسلک ہو۔

    اگر کوئی ممکنہ شکار جعلی Canva.com صفحہ کھولتا ہے اور گوگل کے ساتھ لاگ ان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو "یہ ایک نئی براؤزر ونڈو کھولے گا اور URL accounts.google.com پر جائے گا،” mr.d0x نے ایک پیغام میں لکھا کہ جعلی کینوا سائٹ "کوئی نئی براؤزر ونڈو نہیں کھولتی ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی نئی براؤزر ونڈو کھولی گئی ہو لیکن یہ صرف HTML/CSS ہے۔ اب وہ جعلی ونڈو URL کو accounts.google.com پر سیٹ کرتی ہے، لیکن یہ ایک وہم ہے۔”

    ایک اچھا خاصا سمجھدار انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اس تھرڈ پارٹی لاگ اِن ونڈو میں اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ لکھ کر اینٹر کردیتا ہے… اور اس طرح وہ لاعلمی میں اپنی اہم ترین معلومات کسی نامعلوم ہیکر کو فراہم کردیتا ہے۔

    ایک ساتھی سیکیورٹی محقق نے اس مظاہرے سے کافی متاثر ہو کر ایک YouTube ویڈیو بنائی جس میں زیادہ واضح طور پر دکھا یا گیا ہے کہ تکنیک کیسی ہے یہ بھی واضح کیا کہ تکنیک کیسے کام کرتی ہے اور اس پر عمل کرنا کتنا آسان ہے۔

    آرس ٹیکنیکا کی متعلقہ پوسٹ میں سیکیورٹی ایڈیٹر ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ کو پہچاننے اور اس سے بچنے کےلیے کچھ مشورے بھی دیئے ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں کہ ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ میں نمودار ہونے والی لاگ اِن ونڈو علیحدہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ’’براؤزر کے اندر براؤزر‘‘ ونڈو ہوتی ہے جو بظاہر ایک الگ اور اصلی لاگ اِن ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے یہ لاگ اِن ونڈو اصلی ہے یا نقلی؟ اگر وہ دائیں بائیں حرکت دینے پر اپنی جگہ سے ہل رہی ہے تو وہ جعلی لاگ اِن ونڈو ہے کیونکہ اسے ’سی ایس ایس‘ کی مدد سے ظاہری طور پر ایسی شکل دی گئی ہے۔

    ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ پہچاننے کا جو دوسرا طریقہ بتایا ہے، وہ کچھ مشکل ہے۔

    اس میں آپ کو لاگ اِن ونڈو پر رائٹ کلک کرکے inspect سلیکٹ کرنا ہوگا، جس کے بعد نمودار ہونے والی انسپکشن ونڈو میں لکھی عبارت (ٹیکسٹ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا، جہاں اِن پُٹ کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ محفوظ کرنے کےلیے کسی نامعلوم ویب سائٹ کا ایڈریس درج ہوگا اس طرح آپ کو خود ہی اس جعلی لاگ اِن ونڈو کی حقیقت کا پتا چل جائے گا۔

    ان کے علاوہ، آپ چاہیں تو آزمائش کی غرض سے اس لاگ اِن ونڈو میں غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ اینٹر کیجیے۔ اگر یہ اصلی ہوگی تو غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ کا پیغام دے گی، لیکن جعلی لاگ اِن ونڈو انہیں ’’درست‘‘ کے طور پر قبول کرلے گی۔

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک فشنگ کے بیشتر حملوں کو پہچاننا بہت آسان ہوا کرتا تھا لیکن ’’بِٹ بی‘‘ طریقہ بہت پیچیدہ ہے جس سے بچنے کےلیے صارفین کو تصدیق کے متبادل طریقوں سے بھی باخبر رہنا ہوگا؛ اور اکثر صارفین سہل پسندی میں ایسا نہیں کرتے۔

    مسٹر ڈاکس کے مطابق، فشنگ کا نیا طریقہ اگرچہ کچھ ہفتے پہلے ہمارے علم میں آیا ہے لیکن ہیکرز اسے غالباً 2020 سے استعمال کررہے ہیں-

  • آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    سری نگر:آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق کل پاکستان میں 48 ویں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان نے جس طرح‌ مسئلہ کشمیر کے حل پرزور دیا کشمیری قوم کا کہنا ہے کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کشمیر کے لیے اس سے پہلے کسی نے آواز نہ اٹھائی

    اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت سمیت کشمیریوں کی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ مسئلہ کشمیر حل کے بہت قریب ہے ، ادھر پاکستان میں موجود کشمیری قیادت نے بھی وزیراعظم عمران خان کوخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جس طرح وزیراعظم نے کشمیری قوم کاکیس لڑا ہے اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی

    تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے 48ویں اجلاس کی شاندار میزبانی پر پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے مسلم بلاک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے متحد ہو کر کام کرے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راجہ فہیم کیانی نے لندن میں جاری ایک بیان میں کہا کہ سربراہی اجلاس کی میزبانی پاکستان پر مسلم دنیا کی قیادت اور عوام کے اعتماد کا ووٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں مسلم بلاک کو آئینہ دکھایا ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین کے تنازعات حل کرانے میں ناکام رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہر برس خلیجی ممالک سے صرف ترسیلات زر کی مد میں تقریباً 34 بلین ڈالر کماتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ممالک بھارت پر بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں لیکن ان خلیجی مسلمان ملکوں کو بہت کم معلوم ہے کہ بھارت ان کی سرزمین پر کمائی گئی رقم کو بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتا ہے جسکا او آئی سی کو اسکا نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف تحریک پیش کرنے اور اسے نسل کشی اور جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے کیونکہ اب بیانات اور مذمت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

  • 23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی،   ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی، ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    وطن سے محبت اسلام کا حصہ ہے کیوں کہ اگر وطن پیارا و آزاد ہو گا تو آپ اپنی مذہبی رسومات بآسانی انجام دے سکے گے اور آزادی کی زندگی گزار سکیں گے بصورت دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ شحضی آزادی بھی چھن جاتی ہے یوں تو محض یہ مملکت خداداد پاکستان ہی ہمارا ملک ہے مگر احادیث رسول کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری زمین ہی اللہ کی ہے اور ہم مسلمان اللہ کے خاص بندے اور اس ساری زمین پر حق ہمارا ہے-

    جس کی مثال یہ حدیث ہے

    عن النعمان بن بشیرؓ قال: قال رسول اللّٰہ مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد إذا اشتکی منہ عضوٌ تداعٰی لہٗ سائرُ الجسد بالسہر والحُمّٰی (مسلم)

    ترجمہ۔۔باہمی محبت اور رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں –

    اسی طرح جب ایک مسلمان آدمی و ملک کو تکلیف پہنچے تو تمام امت کو اس کا درد محسوس ہوتا ہے اور اس درد کو رفع کرنا اپنی بساط کے مطابق ہر ایک شحض و ملک پر فرض ہے-

    اسلام میں ذمیوں، کافروں کے حقوق بھی احادیث سے ثابت ہیں تاکہ وہ بھی عزت و احترام سے رہ سکیں اور اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ شحضی آزادی بھی برقرار رکھ سکیں مگر افسوس کہ آج کافر ہم امت مسلمہ پر ہاوی ہیں اور ہم پستی کی زندگیاں گزار رہے ہیں-

    نبی کریم کی اپنے وطن سے محبت کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے-

    ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ. (صحيح ابن حبان عن عبد الله بن عباس، الصفحة أو الرقم: 3709)

    ترجمہ۔۔۔ ہجرت کے موقع پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا-

    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ

    اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ). (صحيح ابن حبان عن عائشة، الصفحة أو الرقم: 5600)

    ترجمہ ۔۔ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرما دے-

    ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن سے محبت کی بڑی عمدہ مثال ملتی ہے نیز ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن کی توقیر و سلامتی کیلئے ہجرت کی جا سکتی ہے اور کفار کے غلبہ پر ان کا قبضہ ختم کروانے کیلئے جہاد لازمی ہے جیسا کہ نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو چھوڑا مدینہ میں سکونت اختیار کی ایک مضبوط جماعت بنائی اور کفار سے ٹکرا کر اپنے وطن کو فتح کیا انہیں احادیث کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ نے 1857 کی جنگ آزادی لڑی تھی اور اسی جذبے کے تحت علامہ اقبال و محمد علی جناح نے آزادی کی یلغار بلند کی تھی اور دو قومی نظریہ پیش کیا تھا

    آج 23 مارچ کا دن ہے 1940 کو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب دیکھا تھا ان کے رحلت کے بعد قائد و رفقاء نے اسے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں دنیا کے سامنے رکھا اور خوب جدوجہد کی اور أخرکار 14 اگست 1947 کو کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزتوں کی قربانیوں کے بعد یہ ملک ہمیں ملا اور آج اس کی تقریباً چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہےان شاءاللہ یہ وطن تاقیامت رہے گا مگر سارا عالم کفر اس کو توڑنے کے درپے ہے-

    جہاں پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں وہیں پوری دنیا کے مسلمان ممالک کے خلاف بھی سارا عالم کفر اکھٹا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ پر یہودی حملےکے بعد مراکش کے شہررباط میں او آئی سی نامی اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی-

    اس اورگنائزیشن اسلامک کوپریشن ( او آئی سی) 25 ستمبر 1969 کی کانفرنس کو کامیاب کروانے میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ،سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم نے کلیدی کردار ادا کیا تھا-

    1974 میں لاہور میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی اور فلسطینی وزیراعظم یاسر عرفات،سعودی عرب کے شاہ فیصل،یوگنڈا سے عیدی امین،تیونس سے بومدین،لیبیا سے معمر قذافی مصر سے انور سادات ،شام سے حافظ الاسد ،بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن ،ترکی سے کورو فخری سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وفد نے شرکت کی تھی-

    اب ایک بار پھر مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 57 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے 44 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور کچھ کے دیگر اعلی عہدیداران موجود ہیں جن کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے
    ان شاءاللہ اس کانفرنس میں 23 مارچ 1940 کی طرز پر پیش کئے گئے دو قومی نظریہ کی طرح امت مسلمہ کیلئے نظریات پیش کئے جائینگے جس کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کی اس تنظیم سے زیادہ سے زیادہ امت مسلمہ کی بقاء و سلامتی کا کام لے

    آمین

  • گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    حکومت جا رہی ہے کہ نہیں اس سے ہٹ کر ایک چیز جو کنفرم ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کے ستارے گردش میں ہیں ۔ حالانکہ بہت سے ستارہ شناس اور علم الاعداد والے اس بات سے متفق نہیں مگر کپتان کے پاس ایسا لگ رہا ہے کہ باولنگ کی تمام ورائٹی ختم ہو چکی ہے ۔ وہ جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر
    ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔

    مگر کل جو اہم تعیناتی کے حوالے سے انھوں نے قوم کے سامنے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے ۔ وہ صاف اشارہ ہے کہ کپتان اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ نہ ہی وہ عثمان بزدار کی قربانی دینے کو تیار ہیں نہ ہی وہ سب سے سینئر کو تعینات کرنے کو راضی ہیں ۔ اس سے پہلے ہمارے کپتان جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو بھی اپنے جلسے میں بیان کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے جو پاک فوج اور اہم عہدوں پر تعینات شخصیات پر پی ٹی آئی کی جانب سے تنقید کی گئی ۔ پھر نیوٹرل ہونے کو گالی بننا ۔ تو یہ تمام چیزیں بہت کچھ بیان کر رہی ہیں کہ موڈ چل کیا رہا ہے ۔ ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز مریم نواز نے موقع دیکھ کر اچھی پوائنٹ سکورننگ کر لی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ چاہتے ہیں کوئی آپ کی گنتی پوری کرکے دے، آپ کو اکیلا میدان میں رکھے، میڈیا کو مینج کرے کوئی یہ کرنے پر تیار نہیں تو آپ جانور کہہ رہے ہیں۔ نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے،  یہ تو اچھی بات ہے کوئی آئین کی پاسداری کررہا ہے تو ویلکم کرنا چاہیے۔۔ بہرحال وزیر اعظم کی کرسی میں طاقت تو بہت ہوتی ہے اور اب محسوس یہ ہو رہا ہے کہ وہ اس طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے والے ہیں ۔ بس یہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزرنے کی دیر ہے ۔ ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ جس تواترسے ان کے مشیر رنڈی اور دلے لفظ کی تشہیر کر رہے ہیں ۔ پنجابی زبان کو بدنام کررہے ہیں۔ اس سے کپتان کے میرٹ کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

    ۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا سچاجذبہ اگر اُن میں ہوتا تو اپنے اِس بازاری ترجمان کو فوری طورپر وہ فارغ کردیتے۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ یہاں سے تڑی لگاتے ہیں آگے سے بھی ویسا ہی ردعمل سامنے آجاتا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے رمیش کمار نے کہا ہے کہ حکومت کی پارٹی میں باغی ارکان کی تعداد 35 ہو چکی جبکہ منحرف ارکان میں سے کوئی بندہ واپس نہیں جائے گا۔ ہم میں سے زیادہ تر سینئیر سیاست دان ہیں کوئی ایسی ویسی صورت حال ہوئی تو نشست سے استعفیٰ دے دیں گے۔۔ احمد حسین ڈیہڑ نے کہا مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگایا گیا میں نے 40کروڑ روپے کی زمین مفت ریسکیو 1122 کو دے دی جبکہ میرے گھر پر غنڈہ بریگیڈ سے حملہ کرایا گیا۔ بات عزت کی ہے،کیا باپ ایسے ہوتے ہیں کہ بیٹی کے گھر میں بندے گھسا دیں۔۔ نور عالم خان نے کہا ہمیں گالیاں دینے کے بعد حکومت کس منہ سے ہماری واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے، عمران خان اگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھتے، شیرُو کتے کی نظر سے نہ دیکھتے تو یہ حالات نہ ہوتے۔۔ منحرف اراکین کے درعمل سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بات صرف عزت کی ہے ۔ جو کپتان سے کسی اور کو تو دور کی بات ۔۔۔۔ اپنے ہی ایم این ایز کو نہیں نہیں دی گی ۔ یوں اب وہ بدلہ لینے کے لیے کپتان کی عزت تار تار کرنے پر تلے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ میرے خیال سے حکومت اگر ہوش کے ناخن لے اور شیخ رشید ، فواد چوہدری ، شہباز گل جیسوں کو کچھ عرصے کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں پر یورپ بھیج دے تو معاملات زیادہ آسانی سے حل ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔

    ۔ پھر چوہدری نثار کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے ایک بے پرکی اڑائی گئی تھی کہ وہ پتہ ن ہیں کتنے ایم این ایز اور کتنے ایم پی ایز کے ساتھ 27کو پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلیں گے تو اس حوالے سے ان کی اپنی جماعت کے وفاقی وزیرغلام سرور خان نے کہا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے چوہدری نثار علی خان سے متعلق خبریں بلاجواز ہیں ۔ ایسی خبریں بے مقصد اور بے بنیاد ہیں ۔۔ یعنی چوہدری نثار والا فارمولا بھی نہیں لگ رہا ۔ منحرف اراکین کی گھر واپسی بھی نہیں ہو رہی ۔ خرید وفروخت کا کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں لایا جا رہا ۔ اس عدم اعتماد کو بیرونی سازش ثابت کرنے کے تمام فارمولے بھی ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ دنیا کیا ہر پاکستانی جانتا ہے کہ چلو بھٹو نے تو ایٹم بم بنایا، اسلامک بلاک بنانے کی کوشش کی ۔ عمران خان نے امریکی مفادات کو کون سی زک پہنچائی ہے جو وہ کپتان کے دشمن ہوجائیں ۔ الٹا اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا کر ریاست کے پیروں میں بیڑیاں ڈلوادی ہیں ۔ وزیر اعظم کے خلاف جب ان کی جماعت کے ارکان کی بغاوت سامنے آ چکی ہے، اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کے فیصلے کر رہے ہیں تو پھر پتا نہیں کیوں وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ابھی تک تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین کیے بیٹھے ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی پلاننگ سامنے آگئی ہے کہ پہلے وفاق،پھر پنجاب،چیئرمین سینٹ اورآخرمیں خیبر پختونخوا حکومت گرائینگے۔ جبکہ مخبریاں یہ بھی ہیں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بھی ہٹایا جائے گا ۔ ۔ پھر چڑیل نے گن کر بتایا ہے کہ ایک بال پر تین وکٹیں گرانے والے کی اپنی پچاس وکٹیں گر چکی ہے۔ جبکہ یہ مزید گرتی جا رہی تھیں ۔ یہ تو دوسری جانب سے کہا گیا کہ بھائی بس ۔۔۔ ہمارے پاس گنجائش ختم ہوچکی ہے کہ اور لوگوں کو اپنی پارٹی میں نہیں رکھ سکتے ۔ ۔ اس لیے یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ ہی اس وقت کیا جب انھیں یہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے اور ان کے ووٹ ڈلوانے میں کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم اس طرح کا جمہوری روایات اور اقدار کا حامل فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ حکومت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح پر تکیہ کیا ہوا ہے میری جتنی بھی قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے ان کی رائے میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہ صرف ووٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ ان کے ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو بطور پارٹی لیڈر یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کے خلاف پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی بنا پر defection clause لاگو کرنے کے لیے سپیکر کو خط لکھ سکتے ہیں۔ سپیکر اس خط یا یادداشت کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کو ان ارکان کی نااہلی کے ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔

    ۔ اسکے بعد بھی الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس پر کیا فیصلہ دیتا ہے کہ ان ارکان کو نا اہل قرار دیتا ہے یہ ان کو بدستور اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کی ہدایت کر تا ہے۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو یہ والے قانونی ماہرین کی شاید سہولت میسر نہیں ہے ۔ اس وقت وہ صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ۔۔۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ گیم از اور

  • کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    یہ ایک سوال جس کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ موجودہ دور میں زیادہ تو لوگوں کے منفی رویے ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں افسوس اس معاشرے میں بگاڑ اتنا پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے یہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں, انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پر کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہوتو اسکی ویڈیو بنانے کے لئے لوگ رکیں گے ضرور مگر اس کی مدد نہیں کریں گے
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں لوگوں کا وہ ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفاد کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے

    یہ کہانی کچھ پرانی نہیں ہے جب پاکستان میں کارونا کی پہلی لہر آئی تو ہر طرف خوف تھا عالم یہ تھا کہ میں خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی. گیٹ کو باہر سے تالا لگایا ہوا تھا کہ نہ کوئی جائے نہ کوئی آئے پر شوہر نے کام پر جانا تو تھا ہی
    اس لئے روز بحث ہوتی اور مجبوراً ہار مان کر گیٹ کھول دیتی تھی ایک دن ایسا ہوا کہ بیٹے کو کسی کام سے اسٹور تک جانا پڑا تو واپس تھوڑا دیر سے آیا میں پریشان ہوگئی جب واپس آیا تو اس نے بتایا ساتھ گلی میں ایک گھر کے سامنے کوئی بزرگ پڑے ہوئے تھے تو انکل نے ان کو اٹھا کے سامنے کچرے والے پلاٹ میں پھینک دیا ہے پھینک دیا لفظ پر مجھے حیرت ہوئی اور تجسس ہوا کہ وہ بزرگ کون ہیں جاکے دیکھنا چاہیے

    میں جب گیٹ سے نکلی تو سامنے گھروں کی عورتیں دروازوں میں کھڑی اسی بزرگ کی طرف دیکھ رہی تھیں, مجھے وہاں جاتے دیکھ کر بولیں باجی کیا کر رہی ہو وہاں نہ جاؤ لگتا ہے یہ کارونا کا مریض ہے اسی لئے کوئی اسے یہاں پھینک گیا ہے… میں نے کہا اگر کارونا بھی ہے اس کو مگر ہے تو ایک انسان ہی ناں مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے مگر انسانیت نہیں مرنی چائیے میں نے وضاحت دی مگر وہ عورتیں اپنا اپنا فلسفہ سنا کے مجھے روکنے کی کوشش کرتی رہیں میں نے ان کی باتیں ان سنی کرکے اس بزرگ تک پہنچی تو دیکھا وہ لگ بھگ 80 سال کے تھے اور بیماری کی وجہ سے اٹھنے کی ہمت کھو چکے تھے میں نے ان کو ہاتھ سے جیسے پکڑا تو اندازہ ہوگیا کہ ان کو سخت بخار ہو رہا ہے . میرے اٹھانے سے وہ اٹھ نہ پائے اتنے میں میرا بیٹا جو 14 سال کا ہے وہ آگیا میں نے اسے کہا کہ میری مدد کرو اس طرح ایک طرف سے اس نے اور ایک طرف سے میں نے اس بزرگ کو کندھا دیا اور بمشکل گھر تک لے آئی اور یہ منظر وہاں کھڑے مرد حضرات بھی دیکھ رہے تھے ( مگر بےحسی ایسی کہ کوئی مدد کو نہ آیا)

    گھر پہنچا کہ میں اس بزرگ کو صحن میں ہی بستر پر لیٹا دیا اور جلدی سے قہوہ بنا کہ ان کو چمچ سے پلایا ان کے میلے کپڑے پر ان کے چہرے سے وہ کسی اچھے گھر کے لگ رہے تھے جب قہوہ پی چکے تو ان کو پیناڈول ٹیبلٹ دی مگر وہ بخار کی ٹیبلٹ لینے سے انکاری تھے ہمارے اوپر والے پورشن میں ایک کرائے دار فیملی رہتی تھی ان کی ایک عورت چھت سے دیکھ رہی تھی کہنے لگی باجی یہ بخار کی گولی نہیں لے رہے کیا پتا کوئی جاسوس نہ ہو اس کو باہر جا کے چھوڑ کے آؤ میں نے کہا کہ بابا جی کی ایسی حالت نہیں کہ ان کو سڑک پر چھوڑا جائے میں یہ کہتے ہوئے اصرار کرنے لگی بابا جی یہ دیکھیں یہ کوئی اور ٹیبلٹ نہیں ہے یہ پیناڈول ہے اس سے آپ کا بخار کم ہوگا میرے اصرار پر انھوں نے میرے ہاتھ سے گولی لے کر منہ میں ڈالی مگر کچھ ہی دیر میں نکال لی, تب مجھے اپنے والد صاحب کا خیال آیا کہ وہ بھی ٹیبلٹ کے چار حصے کرکے تب لیتے ہیں میں نے ٹیبلٹ کو چار حصوں میں کرکے بابا جی کو دیا جو انھوں نے آسانی سے کھا لی
    اس وقت ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں ان سے ان کے متعلق کوئی سوال کرتی اس لئے ان کو آرام کرنے دیا ٹیبلٹ لینے کے بعد وہ سو گئے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد انھوں نے آواز دی نسرین کہاں ہو میں پاس گئی ماتھے پہ ہاتھ رکھا اب ان کا بخار اتر چکا تھا میں نے ان سے پوچھا آپکا نام کیا ہے

    تو بولے میرا نام ریاض ہے نسرین کہاں ہے اور ساتھ ہی نسرین کو آوازیں دینے لگے میں نے ان کی جیب کی تلاشی لی کہ شاید کوئی شناخت ملے مگر ایک کاغذ تک ان کی جیب میں سے نہ نکلا تو میری پریشانی بڑھ گئی. اس بزرگ کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کو کچھ بھی یاد نہیں تھوڑی دیر بعد ان کو کھانا کھلایا ان کی حالت کافی سنبھل چکی تھی مگر میں سوچوں میں گم کہ اب کیا کروں پولیس کو بتاؤں یا نہ بتاؤں میں نے ان بزرگ کی موبائل سے تصویر لے کر پہلے ہی سوشل میڈیا واٹس ایپ پر شئیر کردی تھی رات ہونے والی تھی اور میرے شوہر کے آنے کا وقت قریب تھا سوچا جب وہ آجائیں تو پولیس کو بتائیں گے تقریباً شام 8:30 پہ مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی میں نے اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے کوئی لڑکا بولا آپ نے سوشل میڈیا پر جو تصویر شئیر کی وہ بزرگ آپ کے گھر میں ہیں اس وقت ؟میں نے کہا جی ہاں میرے گھر پر ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں انکے رشتہ دار ہیں اور صبح سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں

    میں نے پوچھا کہ یہ کہاں کے ہیں تو اس نے بتایا کہ چکوال سے ہیں پر رہتے قاسم مارکیٹ کے پاس ہیں میں نے ان کو گھر کا ایڈریس بتایا اور ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کی فیملی میرے گھر آگئی ساتھ میں ایک عورت بھی تھی میں نے بتایا کہ بابا جی تو کچھ بتا نہیں رہے بس کسی نسرین کو آوازیں دے رہے ہیں تو وہ عورت بولی نسرین میرا نام ہے اور یہ میرے والد ہیں ان کی یاد داشت کھو گئی ہے اسی لئے ان کو میں اپنے پاس لے آئی تھی کہ ان کا علاج ہو سکے اور صبح نماز کے وقت گھر سے بنا بتائے نکل گئے تھے ہم تب سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں ،انھوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور نسرین نے بہت دعائیں دیں اور بابا جی بیٹی کو پہچان کے اس کے ساتھ چلے گئے دوسرے دن وہی عورتیں میرے گھر آئیں کہ باجی آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اس کا اجر آپ کو بہت ملے گا, ان کی باتیں سن کر میرے دماغ میں ان کی کل کی باتیں گونجنے لگیں کہ باجی اس کے پاس نہ جانا یہ کرونا کا مریض لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ

    ان میں سے ایک نے کہا آ پ کو ڈر نہیں لگا کیونکہ آپ تو گیٹ کو باہر سے بھی تالا لگا کر رکھتی ہیں, میں نے کہا ہاں مجھے ڈر لگا تھا ان بزرگ کو دیکھ کر کہ اگر اس بزرگ کی جگہ میرے اپنے والد ہوتے اور وہ اس حالت میں ہوتے تو ان کا ایسے کوئی تماشہ دیکھتا…
    میرے اس جواب پر وہ چپ ہوگئیں.

  • پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    اسلام آباد:پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف،اطلاعات کے مطابق بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے ہمسایہ ملک پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے پانی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی وسائل کو کنٹرول کر کے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور پاکستان کے لیے دانستہ طورپر پانی کی قلت پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اوراس سے پیچھے ہٹنے اور بین الاقوامی معاہدوں کو توڑنے کی کوششیں بھارت کی قومی پالیسی کاحصہ ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر 1960میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت تین مغربی دریائوں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریائوں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریائوں کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بھارت پہلے ہی ان دریائوں کا تقریبا 94 فیصد پانی استعمال کر رہا ہے اور ان دریائوںکاباقی ماندہ پانی بھی پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی واضح خواہش رکھتی ہے۔ ماضی میں،

    بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نتن گڈکری بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ بھارت پانی کاایک قطرہ بھی پاکستان نہ جانے دے اوریہ فیصلے حکومت کواعلی سطح پر لینے ہوں گے۔پانی روکنے کی دھمکیاں کسی بھی ملک خاص طورپر پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھارت کی طرف سے متعددڈیم بنائے جانے کی وجہ سے آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔

  • روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

    روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

    میسجنگ ایپ ٹیلی گرام نے دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن ایسا پوری دنیا میں نہیں بلکہ صرف روس میں ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیلی گرام ، واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے روس کی مقبول ترین میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 24 فروری کو یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد روس میں ٹیلی گرام کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق روس یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد لاکھوں صارفین نے واٹس ایپ کی بجائے ٹیلی گرام استعمال کرنا شروع کر دیا۔

    میگافون کے مطابق مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں مجموعی میسجنگ ٹریفک میں ٹیلی گرام کا حصہ 43 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گیا ہے جبکہ واٹس ایپ کا حصہ اسی عرصے میں 48 فیصد سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا۔

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    اس سے قبل واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ کی حمایت کرنے والے روسی شہریوں اور جنگ میں حصہ لینے والے روسی فوجیوں کے خلاف پرتشدد میسجزکی اجازت دے گی۔

    روس انسٹاگرام اور فیس بک کو شدت پسند قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر چکا ہے روس کا موقف ہے کہ یوکرین سے جنگ کے معاملے پر امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا روس مخالف مہم چلانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

    فرانس نے روس کےاثاثےمنجمند کر دیئے،سوئس حکام کا بھی سوئٹزرلینڈ میں پیوٹن کےقریبی ساتھی کی جائیداد پر…

  • ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

    سسلی کے مغربی ساحل پر واقع فونیشین جزیرے کا شہر موتیا طویل عرصے سے آثار قدیمہ کی تحقیق کا مرکز رہا ہے 1920 میں کھدائی کے دورن ایک مصنوعی جھیل دریافت ہوئی تھی جس کے بارے تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل ایک ’مقدس تالاب‘ تھا جسے ڈھائی ہزار سال پہلے ستاروں کی سمتیں اور سیدھ مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی :کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والے ریسرچ جرنل ’’اینٹیکیٹی‘‘ (Antiquity) کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق یہ مصنوعی جھیل (جو نئی تحقیق سے ایک مقدس تالاب ثابت ہوئی ہے) مغربی سسلی کے سان پینتالیو جزیرے پر ’موتیا‘ (Motya) نامی قدیم شہر کا حصہ تھی۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    ساتویں صدی قبل مسیح تک، یہ بستی وسطی اور مغربی بحیرہ روم میں ایک وسیع تبادلے کے نیٹ ورک کے ساتھ ایک اہم بندرگاہی شہر کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ نتیجے کے طور پر، موتیا جلد ہی شمالی افریقہ کے ساحل پر آبنائے سسلی کے مخالف سمت میں بڑھتی ہوئی طاقت کارتھیج کے ساتھ تصادم میں آگیا۔ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط کی طرف، جنرل مالکو کی قیادت میں کارتھیجین افواج نے موتیا کو تباہ کر دیا، لیکن شہر کو تیزی سے بحال کر دیا گیا-

    اس وقت شہر کے اندر دیگر یادگار تعمیرات میں دو بڑے مذہبی علاقے شامل تھے، ایک شمال میں اور دوسرا جنوب میں۔ شہر کی دیوار اور دو مذہبی مرکبات کلیدی تعمیر نو کی نمائندگی کرتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ شہر نے کارتھیج کے وسطی بحیرہ روم کے ہم منصب کے طور پر اپنی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔

    چین دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں اگلے سال شروع کر دے گا

    موتیا آج سے 2,500 سال پہلے کی فونیقی سلطنت کا اہم شہر تھا جو بندرگاہ کا درجہ بھی رکھتا تھادریافت کے تقریباً 100 سال بعد تک سمجھا جاتا رہا کہ یہ ایک مصنوعی جھیل تھی جسے کشتیوں اور چھوٹے جہازوں کی آمد و رفت کےلیے موتیا شہر کی بندرگاہ سے منسلک کیا۔

    دس سال تک جاری رہنے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خیال غلط تھا اور یہ کوئی مصنوعی جھیل بھی نہیں تھی بلکہ اس کے برعکس یہ ایک بڑا اور مقدس تالاب تھا جس میں ’بآل‘ (Ba’al) کہلانے والے ایک دیوتا کا مجسمہ بھی نصب تھا یہ مجسمہ اس تالاب کے بیچوں بیچ ایک چوکور پتھر پر تعمیر کیا گیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مجسمہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگیا لیکن اس کے پیروں کے نشانات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    یہ تالاب موجودہ زمانے میں اولمپکس کے تالاب سے بھی بڑا تھا جسے ایک قریبی چشمے سے پانی فراہم ہوتا تھاتالاب سے نکلنے والی بڑی نالیاں، جنہیں پہلے نہریں سمجھا گیا تھا، نکاسی کےلیے استعمال ہوتی تھیں اور استعمال شدہ پانی کو سمندر تک پہنچاتی تھیں البتہ، ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ اس تالاب کو بطورِ خاص ستاروں کی سمتیں اور ترتیب مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

    سال کی کچھ خاص راتوں میں ستاروں کا ایک جھرمٹ اس تالاب کے تقریباً اوپر (بآل دیوتا کے سر پر) آجاتا تھا جس کا عکس اس کے شفاف پانی میں دیکھا جاسکتا تھا ان تمام دریافتوں کے باوجود، ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ آیا ایسے مواقع پر یہاں مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں یا نہیں۔

    انسانی بالوں سے مضبوط سولر سیلوں کی تیاری

    بالفرض اگر ستاروں کے سیدھ میں آنے پر یہاں کچھ خاص مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں تو ان کی نوعیت کیا تھی؟ یہ جاننے کےلیے اس علاقے میں مزید کھدائی اور تحقیق کی ضرورت ہے یہ اور اس جیسی دیگر تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ستاروں کی سمتوں اور مقامات کی خصوصی اہمیت تھی، جسے ہم نے ابھی دریافت کرنا شروع ہی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہی بات اہرامِ مصر کےلیے بھی کہی جاتی ہے کہ انہیں ستاروں کی سیدھ میں تعمیر کیا گیا تھا البتہ یورپ میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

    آب و ہوا میں تبدیلی اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے…

  • یوم پاکستان پوٹھوہار کبڈی کپ ٹورنامنٹ  22 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔

    یوم پاکستان پوٹھوہار کبڈی کپ ٹورنامنٹ 22 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔

    اسلام آباد ۔ پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اور پاکستان کبڈی فیڈریشن کے تعاون سے یوم پاکستان پوٹھوہار کبڈی کپ ٹورنامنٹ 22 مارچ سے دھمیال سٹیڈیم، راولپنڈی میں شروع ہو گا۔ فائنل میچ کے مہمان خصوصی پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر و صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی راجہ شاہد اقبال نے پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل محمد سرور رانا نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور ٹورنامنٹ میں چار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں پوٹھوہار ریجن، سنٹرل پنجاب ریجن، ویسٹ پنجاب ریجن اور سائوتھ پنجاب ریجن کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ان ٹیموں میں ملک بھر سے نامور قومی اور انٹرنیشنل کھلاڑی حصہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹورنامنٹ کے لئے سات لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔

    اول آنے والی ٹیم کے لئے تین لاکھ روپے، دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو دو لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو ایک، ایک لاکھ روپے بطور انعام دیا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 23 مارچ کو سہ پہر تین بجے کھیلا جائے گا۔ جس کےمہمان خصوصی پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر و صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ ہونگے۔ جو فائنل کے اختتام پر کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں میں انعامات تقسیم کریں گے۔

  • محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    لاہور:محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش ،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ بیٹر محمد رضوان اپنی بیٹنگ کی وجہ سے تو دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، اب وہ ساتھی کرکٹر شاہین شاہ کے لیے حجام بھی بن گئے ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ نے محمد رضوان سے بال کٹواتے ہوئے اپنی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ ایسا کچھ نہیں جو رضوان نہیں کرسکتا۔

    شاہین شاہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کمال مہارت سے شاہین شاہ کے بالوں پر قینچی چلا رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی ایک کرسی پر بیٹھے ہیں اور محمد رضوان ان کے بال کاٹ رہے ہیں

    فاسٹ بولر شاہین شاہ نے لکھا کہ کراچی ٹیسٹ میں شاندار سنچری اسکور کرنے والے اور میچ بچانے والے محمد رضوان کی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں۔

    شاہین شاہ نے کہا کہ نیا ہیئر کٹ دینے کا شکریہ سُپر مین، آپ نے یہ کر دکھایا۔شاہین شاہ کی اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے فخر زمان نے بھی رضوان سے بکنگ کروالی۔

     

    فخر زمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرلکھا کہ ’یار لڑکے رضوان، میری بھی بُکنگ کرلو۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی ٹیسٹ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے کے بعد گزشتہ روز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

    پہلی اننگز میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم، نائب کپتان محمد رضوان اور اوپنر عبداللہ شفیق نے دوسری اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کو بچایا۔