Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سہیل خان پرمیچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد:جرمانے کی وجہ بھی سامنے آگئی

    سہیل خان پرمیچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد:جرمانے کی وجہ بھی سامنے آگئی

    لاہور:پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر سندھ کےفاسٹ باؤلر سہیل خان پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کی اننگز کے دوسرے اوور میں سہیل خان کی جانب سے ایل بی ڈبلیو کی اپیل پرامپائر نے ناٹ آؤٹ دیا ، جس پرغیرمناسب رویے کا اظہار کرنے پر فاسٹ باؤلر پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 2.8 کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

    یہ واقعہ پاکستان کپ میں سندھ اور خیبرپختونخوا کے مابین ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور میں کھیلے گئے میچ کے دوران پیش آیا۔ سہیل خان نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور میچ ریفری ندیم ارشد کی طرف سے تجویز کردہ سزا کو قبول کیا ہے۔ فاسٹ باؤلر پر چارجز آن فیلڈ امپائرز قیصر وحید اور ناصر حسین نے عائد کیے تھے۔

    دوسری جانب مقررہ وقت سے ایک اوور کم کروانے پر ناردرن کی ٹیم پر بھی جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 2.22کی خلاف ورزی کرنے پر پلیئنگ الیون میں شامل ناردرن کےکھلاڑیوں کو 10ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ کپتان حیدر علی نےغلطی تسلیم کرتے ہوئے میچ ریفری محمد انیس کی تجویز کردہ سزاکو قبول کیا ہے۔ اس میچ میں ثاقب خان اور عمران جاوید آن فیلڈ امپائرز کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ ناردرن اور سدرن پنجاب کے مابین میچ ہاؤس آف ناردرن اسلام آباد میں کھیلا گیا تھا.

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سرینگر میں 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے نوجوانوں کو سرینگر کے علاقہ نوگام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ فوجیوں نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجہ مقامات کی ناکہ بندی کردی اور لوگوں کو گھروںسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی ۔

    آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی ۔ ریلوے حکام نے بانہال سے بارہمولہ تک ریل سروس کو معطل کردیا ہے ادھر ذرائع کے مطابق کپواڑہ میں بھی ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا گیا ہے

    آزاد جموںوکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہاہے کہ عالمی برداری کو بھارتی حکومت کی جارحیت اور اسکے جنگی جنون کے رویے کا نوٹس لینا چاہیے جو جنوب ایشیائی خطے کے امن واستحکام کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آج مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت اپنی فوجی طاقت کا استعمال کرکے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے پر تلا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ آزادجموں وکشمیر کی حکومت نے جو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے ،ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کرائی جائے۔

  • حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    ۔ ایک طرف کپتان روز ٹی وی پر آکر اپوزیشن کو للکار رہے ہیں۔ اور اپنے ورکرز کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جبکہ لگتا یہ ہے کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر 172لوگ پورے ہوتے تو فورااسمبلی کا اجلاس بلا لیتے ۔ اور دس لاکھ لوگ ڈی چوک میں اکٹھے کرنے کا حکم صادر نہ فرماتے۔اب کل جو مولانا نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اس کے بعد سے حالات کسی بھی رخ جا سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپوزیشن اور حکومت دونوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اپنے پلانز کو ملتوی کردیں ۔ مگر یہ ملتوی ہوتے دیکھائی نہیں دیتے ۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ 23مارچ کے بعد سے پورے ملک میں ایک دھما چوکڑی لگنے والے ہے ۔ لگی ہوئی تو ابھی بھی ہے ۔ کیونکہ کپتان کیا ان کے وزیروں کی زبانیں بھی بند نہیں ہورہی ہیں ۔ ان کے منہ سے مسلسل ایسی آگ نکل رہی ہے جس کے شعلوں کی لپیٹ میں پورا کا پورا سسٹم رول بیک ہوسکتا ہے ۔

    ۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورت حال ووٹنگ والے دن اور ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو اپنے ارکان قومی اسمبلی اوراتحادیوں کو پارلیمنٹ ہاوس جانے سے ہر حال میں روکنا ہے جبکہ اپوزیشن کو تحریک انصاف کے باغی ارکان اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو ہر حال میں پارلیمنٹ ہائوس لانا ہے۔ فی الحال حکومت نے تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنانے اور اپوزیشن نے تحریک کو کامیاب بنانے کے لئےہر حربہ استعمال کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔ تحریک کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم عمران خان سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے اور تحریک کی ناکامی کی صورت میں اپوزیشن نے احتجاج کو گلی محلوں تک لے جانے کا پلان کررکھا ہے ۔ اسی طرح تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے بھی تصادم کے غیر معمولی حالات پیدا ہونے کے امکانات ہیں اور ووٹنگ کے بعد بھی غیر متوقع واقعات رونما ہو سکتے ہیں ۔

    ۔ حکومت کا تو دعوی ہے کہ وہ دس لاکھ لوگ لے ہی آئیں گے ۔ مگر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی بات کی جائے تو مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کو مشورہ دیا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ن لیگ کے قافلےکی قیادت مریم نواز کریں اورلاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچیں۔ جبکہ شہباز شریف اسلام آباد میں لانگ مارچ کے قافلے کا استقبال کریں۔ پھر یہ بھی تجویز ہے کہ جنوبی پنجاب کےکارکنان کولاہور میں جمع ہونےکی کال دی جائے ۔ باقی سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان سے بندوں کو لانے میں بھی مولانا خود بڑے کاریگر ہیں ۔ وہ پہلے بھی تن تنہا بڑے کامیاب دھرنے اسلام آباد میں دے چکے ہیں یوں اگر حکومت دس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرے گی تو پی ڈی ایم بھی کم تعداد میں بندوں کو اسلام آباد نہیں لائے گی ۔ یوں اگر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ان جلسوں کی کالز واپس نہیں لی جاتیں ۔ تواسلام آباد میں خدشہ ہے کہ وہ نہ ہوجائے جو کسی بھی جمہوریت پسند شخص کا سب سے بڑا ڈر ہوتا ہے ۔

    ۔ پھر آج عمران خان نے اورسیز کنویشن سے خطاب میں بھی ایک بار پھر اپنی طرف سے خوب چوکے چھکے لگائے ہیں ۔ حالانکہ اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ دور کی بات ان کے اپنے بھی ان کے ساتھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ بہرحال آج انکا فرمانا تھا کہ آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان اب اکھٹے ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، اگر ان تینوں نے ملک بچانا ہے تو بہتر ہے عمران خان کے ساتھ ڈوب جائیں۔ وہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے قوم کو ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بھلادیں۔ ن لیگ نے تقریباً 20 سال یہ کہا کہ آصف علی زرداری پاکستان کا کرپٹ ترین شخص ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا نام ’ڈیزل‘ بھی ن لیگ نے رکھا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کپتان کے جال میں پھنس گئے ہیں، ان کی عدم اعتماد تو ناکام ہوگی ہی 2023 کے الیکشن سے بھی یہ لوگ گئے۔۔ دوسری جانب وزیروں کو جب اپنی بات بنتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے تو انھوں نے بھی اپنے ٹوکے چھریاں پھر باہر نکال لی ہیں ۔ ۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کس مائی کے لعل میں کلیجہ ہے کہ دس لاکھ کے مجمع سے گزر کر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس جائے۔۔ تو شیخ رشید کا فرمانا تھا کہ امپائر پاکستان کے ساتھ ہیں اور جنہیں پاکستان کی فکر ہے وہ ان کو سمجھا رہے ہیں کہ اپنے معاملے افہام و تفہیم سے حل کریں۔ اپوزیشن کا اوپر والا خانہ خالی ہے، یہ ساری سامراجی سنڈیاں ڈی چوک میں فارغ ہو جائیں گی۔۔ جبکہ پرویز خٹک نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت الگ الگ نہیں، ان دونوں نے ایک ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ عمران خان بہت زیادہ پراعتماد ہیں، سیاسی جماعتوں کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، جس نے جانا ہے استعفیٰ دے دے، ورنہ اس طرح حلقے کے عوام سے دغا ہوگا۔

    ۔ پھر اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے خودکش بمبار بن کر ملک اور مذہب کے دشمنوں کے بیچ میں جاکر خود کو اڑانے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس سے پہلے وزیر اعظم نے آصف زرداری کو بندوق کے نشانے پر رکھنے کی بات کی تھی۔ اہم منصب پر ہوتے ہوئے ایسے بے مقصد بیانات دینا میری سمجھ سے باہر ہے ۔ پر ایک چیز ہے کہ اس وقت کپتان اور اسکے کھلاڑی شدید گھبرائے ہوئے ہیں ۔ ۔ میں نے گزشتہ دو تین مصروف دن اسلام آباد میں گزرے ہیں جس میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا ۔ یوں میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ کپتان یا ان کے وزیر جو مرضی کہیں مگر اسلام آباد میں خبریں کپتان اور ان کی ٹیم کے لیے اچھی نہیں ہیں ۔ ۔ اس وقت تمام لوگ عمران خان اور انکی ٹیم سے بدلہ لینے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں اور اس وقت اپوزیشن جماعتوں سمیت اکثر اتحادی بغیرکسی شرط کے حکومت کا مکو ٹھپانا چاہتے ہیں ۔ وجہ جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب ان چار سالوں میں اتنی زبان درازی ہوئی ہے کہ اب جس جس کو موقع مل رہا ہے وہ اپنا اسکور settleکرنا چاہتا ہے ۔ سب عمران خان اور ان کی ٹیم کو سبق سیکھانا چاہتے ہیں ۔ اب صرف سیاست نہیں ہو رہی ہے معاملہ ذاتیات تک پہنچ چکا ہے کیونکہ عمران خان نے مسلسل اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھا ہے ۔ گرفتاریوں اور پرچوں کے علاوہ بھی ان کے
    followersاپوزیشن والوں کے گھروں تک پہنچے ہیں ۔ یوں جو گند ان چار سالوں میں ڈالا گیا تھا اب اس کا حساب دینے کا وقت قریب دیکھائی دے رہا ہے ۔ کیونکہ کل میں نے مولانا سے ایک سوال کیا کہ اگر عمران خان آپ سے رابطہ کریں تو کوئی بات چیت ہوسکتی ہے معاملات حل ہوسکتے ہیں تو ان کا صاف جواب تھا کوئی چانس ہی نہیں ہے ۔ ۔ یوں جیسے ترین گروپ کو ٹارگٹ کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ اب جب ان کو موقع مل رہا ہے تو یہ بھی کاری ضرب لگانے کو تیار ہیں ۔ جبکہ صرف ترین گروپ ہی نہیں ق لیگ کے اکثریتی اراکین نے بھی عدم اعتماد پر اپوزیشن کا ساتھ دینے کی تجویز دے دی ہے ۔ پھر یہ جو سب اتحادی ہیں انھوں نے ایک اور چیز بھی مل کر طے کرلی ہے کہ اپوزیشن کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ اور اگر حکومت کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ ۔ ویسے خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت وفد کی آصف زرداری سے ملاقات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے تمام نکات پر اتفاق کرلیا ہے ۔ یعنی ان کے بھی معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    ۔ پھر اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کیلئے وزیراعظم کی بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ آپ دیکھیں وہ شخص جو کسی سے تعزیت کرنی ہو تو تب بھی لوگوں کو وزیر اعظم ہاوس بلا کر کیا کرتا تھا ۔ اب پارلیمنٹ لاجز جاکر مدد مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ یوں کپتان جی ڈی اے اور بی اے پی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے خود پارلیمنٹ لاجز گئے ۔ حالانکہ فہمیدہ مرزا، غوث بخش مہر اور ذوالفقار مرزا کے حوالے سے بتا دوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آصف زرداری کے کہنے پر حکومت کے خلاف ووٹ ڈال دیں ۔ مگر اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ کپتان کو مجبورا ان کے در کی خاک بھی چھانی پڑی ہے ۔ جبکہ سنا ہے کہ خالد مگسی نے جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کپتان کی اس confrontationکی سیاست سے متفق نہیں ۔ دیکھا جائے تو تحریک انصاف کا سیاسی بیانیہ دم توڑ چکا ہے ۔۔ میری نظر میں جس طرح عمران خان نے عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے ۔ اور جیسے یہ کنویشن اور جلسے کر رہے ہیں اس سے واضح تاثر ہے کہ وہ اگلے الیکشن کی تیاریوں میں جت گئے ہیں ۔ عدم اعتماد کی تحریک کا ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ انکے خلاف کامیاب ہی ہوگی ۔ یوں سرکاری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں کیونکہ میری چڑیل کے مطابق کپتان کے پاس اب صرف 140 سے 145ووٹ ہی بچے ہیں ۔ اس لیے لوگوں نے برملا کہنا شروع کر دیا ہے کہ ڈر کے کھڑی ہے پی ٹی آئی ۔۔۔

  • کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار

    کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار

    کراچی :کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار،اطلاعات کے مطابق کراچی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے وکٹوں کی ضرورت ، بابر اور شفیق کریز پر جم گئےپاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ جیتنے کے لیے آخری روز 314 رنز درکار ہیں جب کہ آسٹریلیا کو یہ میچ جیتنے کے لیے 8 وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ جاری ہے جہاں چوتھے دن کے کھیل کا اختتام ہوگیا اور دن کے اختتام پر پاکستان نے 2 وکٹ کے نقصان پر 192 رنز بنالیے ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم اور عبداللہ شفیق کے درمیان 171 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی۔ اس دوران بابراعظم نے کریئر کی چھٹی سنچری اسکور کی جب کہ عبداللہ شفیق نے پہلی ففٹی اسکور کی۔ کپتان بابراعظم 102 رنز اور عبداللہ شفیق 71 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

    اس سے قبل چوتھے دن کے کھیل میں آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگ صرف 97 رنز پر ڈکلیئر کردی تھی اور پاکستان کو جیت کے لیے 506 رنز کا ہدف دیا۔

    قومی ٹیم نے اپنی اننگ کا آغاز کیا تو اوپنر امام الحق صرف ایک بناکر پویلین لوٹ گئے جس کے پیچھے اظہر علی بھی 6 رنز بناکر کیمرون کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

    اوپنر عبداللہ شفیق کا ساتھ دینے کپتان بابر اعظم گراؤنڈ میں اترے تو دونوں کھلاڑیوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اوردونوں کھلاڑیوں نے اب تک 143 رنز کی شراکت قائم کرلی ہے۔پاکستان ٹیم نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز اسکور کرلیے ہیں جبکہ انہیں اب بھی جیت کے لیے 341 رنز درکار ہیں۔

    آسٹریلیا کی دوسری اننگ زیادہ لمبی نہ رہی اور انہوں نے صرف 97 رنز پر اننگ ڈکلیئر کردی تھی جبکہ آسٹریلیا کے صرف 2 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔مارنس لبوشنگ 44 اور ڈیوڈ وارنر 7 بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خواجہ 44 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

    پاکستان کی جانب سے اوپنر امام الحق اور عبداللہ شفیق نے اننگ کا آغاز کیا لیکن دونوں کھلاڑی ہی بڑی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے اور عبداللہ شفیق 13 رنز جبکہ امام الحق 20 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔اظہر علی 20 رنز بناکر کیچ دے بیٹھے تو اگلی ہی گیند پر فواد عالم بھی ایل بی ڈبلیو ہوگئے جس کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان 6 بناکر چلتے بنے۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم 36 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ نعمان علی 20 اور شاہین شاہ آفریدی 19 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور مچل سوئپسن نے دو وکٹیں حاصل کی۔

    آسٹریلوی بولر پیٹ کمنز، نتھن لیون اور کیمرون گرین نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا جبکہ پاکستان کے دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگ 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر 556 رنز پر ڈکلیئر کردی تھی جبکہ ان کی جانب سے عثمان خواجہ 160 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے ایلکس کیری نے 93 اور اسٹیو اسمتھ نے 72 رنز کی بڑی اننگ کھیلی تھی جبکہ پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف اورساجد خان نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

    علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی، حسن علی، نعمان علی اور کپتان بابر اعظم نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا تھا۔

  • انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی میچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک

    انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی میچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک

    نئی دہلی :انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی میچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک ،اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی سندیپ ننگل کو میچ کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی سطح کے کبڈی کھلاڑی پر فائرنگ کا واقعہ جالندھر کے ملیاں گاوں میں چل رہے ایک کبڈی کپ کے دوران پیش آیا۔حملہ آوروں کی بندوق سے نکلی بیس گولیاں سندیپ کے سر اور سینے میں لگیں۔

    کبڈی میچ کے دوران فائرنگ شروع ہوئی تو تماشیوں نے اپنی جان بچانے کےلیے دوڑ لگادی جب کہ سندیپ ننگل شدید زخمی حالت میں وہیں گرگئے۔لوگوں نے سندیپ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

    میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سندیپ نے ایک دہائی تک کبڈی کی دنیا پر راج کیا ہے، وہ پنجاب کے علاوہ وہ کنیڈا، امریکا اور برطانیہ میں بھی کھیل چکے تھے، مداح انہیں گلیڈیئیٹر کے نام جانتے تھے۔

    ادھر چند دن پہلے پاکستان میں فیصل آباد میں پاکستان کبڈی ٹیم کے کھلاڑی ملک بنیامین کی دعوت ولیمہ میں شرکت کرنے والا مہمان فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

    یہ واقعہ فیصل آباد کے نواحی گاؤں چک نمبر 102 رب بڈھے چک میں پیش آیا جہاں ملک بنیامین کے ولیمے کی تقریب ہورہی تھی جس میں جشن مناتے ہوئے شدید فائرنگ کی گئی جس کی زد میں ایک نوجوان علی شدید زخمی ہوگیا۔

    علی کے ساتھی اسے زخمی حالت میں لاہور لے گئے لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ ایس ایچ او کھڑیانوالہ محسن منیر نے کہا ہے کہ کھڑیانوالہ پولیس لاش لینے لاہور جا رہی ہے، لاش کا پوسٹ مارٹم کرو ا کر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے بعد ہمیں واقعہ کا علم ہوا اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ علی اپنی ہی گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔

  • سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں

    سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں

    سرینگر:سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں ،اطلاعات کےمطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور قصبے میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی ۔

    قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سوپورقصبے کی اقبال مارکیٹ کے قریب واقع سی آر پی ایف کیمپ میں آگ لگنے سے متعلقہ عمارت کو نقصان پہنچاہے۔انہوں نے کہا کہ آگ پر فوری طور پر قابو پالیا گیا ہے ۔ فوری طورپرکسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جارہی ہے۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع پلوامہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا جس سے جمعرات سے شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے چارسو میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔علاقے میں یہ کارروائی بھارتی فوج، سینٹرل ریزروپولیس فورس اور بھارتی پولیس نے مشترکہ طورپر شروع کی ہے ۔اس سے قبل بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں دو اور گاندربل اور کپواڑہ میں ایک ایک نوجوان کو شہید کردیاتھا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے،اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت سے متعلق پریس کونسل آف انڈیا کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے نتائج کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں مودی حکومت کے خلاف ایک فرد جرم قرار دیا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر خصوصا وادی کشمیرمیں اخبارات اور نیوز چینلوں سمیت ذرائع ابلاغ کی آواز کو بڑے پیمانے پر پابندیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ کشمیرمیں آزادی صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پرہمیشہ اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے نتائج نے علاقے میں قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافت کو کنٹرول کرنے کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہے۔قابض انتظامیہ کی طر ف سے کشمیر میں تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانا روز کا معمول بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیوں کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں معلومات تک رسائی کو روکا جارہا ہے ۔تنویرصادق نے کہا کہ آزادی صحافت پر پابندیوں کی وجہ سے مختلف مقامی اخبارات قابض حکام کی ناراضگی کے خوف سے مجبوراعوامی اہمیت کے مختلف مسائل کی کوریج نہیں کر رہے ہیں۔

    قابض انتظامیہ کی بے حسی اور تنازعہ کی صورت حال میں رپورٹنگ پر اندرونی دبائو کی وجہ سے کشمیر میں صحافتی برادری شدید خوف میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض ادا کر رہی ہے ۔ پارٹی رہنما نے کمیٹی کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بھارت میں لبرل اور جمہوری قوتوں کوجموں و کشمیر کی زمینی صورتحال سے آگاہ کیاجائے گا۔انہوں نے پریس کونسل آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں قید تمام صحافیوں کی رہائی کیلئے بھارتی حکومت پر دبائوڈالے۔

  • دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اس وقت ملک پاکستان تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جس کا فائدہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اٹھا رہا ہے ،بھارت نے پاکستان کے اندر کئی بار مداخلت کی اور علیحدگی کی تحریکوں کو پروان چڑھایا تاکہ پاکستان کا امن و سکون برباد ہواس وقت پاکستان میں ملک کا امن و سکون برباد کرنے والے کئی گروہ موجود ہیں جن میں سے بیشتر بلکہ زیادہ تر کو بھارت نے بنوایا اور فنڈنگ بھی بھارت،امریکہ اسرائیل مل کر رہے ہیں-

    ان گروہوں میں سے ایک معروف گروہ ٹی ٹی پی ہے جو کہ 3 درجن سے زائد گروہوں سے بنا تھا مگر آہستہ آہستہ اندرونی بغاوت کے باعث کم ہوتا چلا گیا تاہم اب ایک بار پھر بھارت اور امریکہ کے آشیر باد سے اس گروہ کو دوبارہ منظم کیا جا رہا ہے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ساتھ ملا کر یک جان ہو کر سیکیورٹی فورسز و مملکت پاکستان پر حملے کئے جا رہے ہیں –

    ایک نظر ڈالتے ہیں معروف دہشت گرد گروہوں کی تاریخ پر

    1964 کو بلوچ لبریشن فرنٹ کی بنیاد جمعہ خان مری نے رکھی تھی تاہم اس تنظیم نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1980 کی بلوچ بغاوت میں بڑا کردار ادا کیا تھا اس تنظیم نے وقفہ وقفہ سے علاقائی اور لسانی بنیاد پر پاکستان پر حملے جاری رکھے اور 2009 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو اس جماعت کا سربراہ مقرر کیا گیا یہ جماعت اب بھی پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر رہی ہے اور کئی معصوم پاکستانیوں سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شہید کر چکی ہے-

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے پاکستان پر مسلح حملے کئے مگر جنرل ضیاء الحق کی کاوش سے بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے مذاکرات کئے گئے جس کے باعث یہ جماعت منظر عام سے غائب ہو گئی-

    بہت عرصہ غائب رہنے کے بعد اس جماعت نے دوبارہ 2000 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد دوبارہ حملے شروع کر دیئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے-

    انٹرنیشنل لیول کی جماعت القاعدہ کی بنیاد اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام نے 1988 میں رکھی اس جماعت نے شروع میں تو روس کے خلاف جہاد کیا اور پاکستانی فورسز کا ساتھ بھی دیا تھا تاہم افغان امریکہ جنگ میں اس تنظیم نے پاکستان پر بھی حملے کئے-

    القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی نے 1999 میں داعش کی بنیاد رکھی تھی اور اسے 2014 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی جب اس نے انبار مہم کے دوران عراقی سیکورٹی فورسز کو اہم شہروں سے باہر نکال دیا تھا اور اپنی پاور شو کی تھی اس انٹرنیشنل لیول کی جماعت نے بھی پاکستان پر بہت سے حملے کئے اور یہ جماعت اس وقت دنیا کی تمام خطرناک دہشت پسند جماعتوں میں سے پہلے نمبر پر ہے اس جماعت میں زیادہ تر سلفی ( اہلحدیث) مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں-

    افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی پالیسی کو نا سمجھتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کا اتحادی سمجھتے ہوئے مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے دیوبندی مکتب فکر کے کچھ جید مفتیان کرام کی پشت پناہی میں چھوٹے چھوٹے مسلح قبائلی گروہوں نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تاہم 2004 میں جب پاکستانی فوج نے جب ان کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اوردیگر دیوبندی مکتب فکر کے مراکز کی طرف سے اس آپریشن کے خلاف شدید نوعیت کا فتویٰ جاری ہوا اور عوام کو افواج پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کا عزم کرکے دو درجن سے زائد گروپوں نے مل کر دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی اور بیت اللہ محسود کو ٹی ٹی پی کا امیر مقرر کیا گیا-

    خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان کو 34 گروہوں کے ساتھ اتحاد کرکے بنایا گیا تھا جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے اہلکاروں( جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے) سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے تھے-

    اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے تھے اس معاملہ پر اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا اس جماعت نے پاکستان میں آتش و خون کا وہ کھیل کھیلا کہ ہر پاکستانی ان سے نفرت کرنے لگا ہے-

    اتنی جماعتوں کے اکٹھ کے بعد ان میں کچھ اختلاف بھی ہوئے جس کے باعث کچھ گروپ تحریک طالبان پاکستان سے الگ بھی ہو گئے
    ٹی ٹی پی کمانڈر احسان اللہ احسان نے اگست 2015 میں تحریک طالبان کے کچھ کمانڈروں کی تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی اور الگ سے پاکستان پر حملے شروع کئے-

    کافی عرصہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا بڑی حد تک خاتمہ بھی کیا تاہم اب ایک بار سے پھر ان گروہوں نے اتحاد شروع کر دیا ہے جس کے باعث نئے حملوں کا خطرہ ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز و عوام کا ایک نیا امتحان شروع ہو گیا ہے-

    پاکستان پر نئے حملوں کی خاطر 7 مارچ 2022 کو قبائلی کمانڈر حافظ احسان اللہ نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان کی بیعت کر لی ہے اور اسی طرح 10 مارچ 2022 کو لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولوی ٹیپو گل کے تین گروپوں نے تحریک طالباں پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے جس کی تصدیق ترجمان تحریک طالبان محمد خراسانی نے کی ہے-

    یقیناً ان گروہوں کے اتحاد سے ایک بار پھر آتش و خون کا بازار گرم ہو گا مگر ان شاءاللہ رب العالمین کی رحمت اور افواج پاکستان کی قربانیوں سے ان کو بہت جلد بڑی شکشت ہو گی اور امید ہے کہ ان کی یہ شکشت ان کو دوبارہ نا اٹھنے دے گی ،ان شاءاللہ

    پاکستانی فورسز و عوام پہلے بھی یک جان اور تیار تھی اور اب بھی یک جان و تیار ہیں ،اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت فرمائے آمین-

  • روس نے انسٹاگرام  تک رسائی کو محدود کر دیا

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ماسکو: روس نے اپنے ملک میں میٹا کی زیرملکیت فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ روسی حکومت کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے غیرملکی ٹیک پلیٹ فارمز پر پابندیوں میں نیا اضافہ ہے روس کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کی وجہ میٹا کی جانب سے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا…

    روسی حکومت کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاستی انٹرنیٹ ریگولیٹر روسکومناڈزور کی جانب سے میٹا کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ تک رسائی کو محدود کی جائے گی اس پلیٹ فارم پر شائع مواد میں روسی شہریوں بشمول فوجیوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کے لیے اکسانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

    بیان کے مطابق پراسیکیوٹر جنرلز آف رشین فیڈریشن کی شرائط کے تحت روس کے انر انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے تاہم ابھی تک روس میں انسٹاگرام تک رسائی موجود ہے مگر بتدریج تمام موبائل آپریٹرز اور انٹرنیٹ پرووائڈرز کی جانب سے اسے بلاک کردیا جائے گا۔

    فیس بک اور ٹوئٹر کو پہلے ہی روس کے اندر پابندیوں کا سامنا ہے مگر انسٹاگرام جو وہاں بہت زیادہ مقبول ہے، کو اب تک پابندیوں کا ہدف نہیں بنایا گیا تھا ایک اندازے کے مطابق روس میں انسٹاگرام کے 6 کروڑ صارفین ہیں۔

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    اس سے قبل 25 فروری کو روس کے اندر فیس بک تک رسائی پر جزوی پابندی لگائی گئی تھی اور یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب سوشل میڈیا نیٹ ورک نے روسی ریاستی خبررساں اداروں کی رسائی کو محدود کردیا تھا۔

    ٹوئٹر نے بھی تصدیق کی کہ روس میں اس کے صارفین کو سروس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے بعد وہ کمپنی نے توراونین سروس کو متعارف کرایا تھا تاکہ ہر ایک ریاستی نگرانی کو بائی پاس کرکے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرسکے۔

    اب روس کی جانب سے انسٹاگرام کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب میٹا نے پالیسی میں تبدیلی کی گئی۔

    ٹک ٹاک نے بھی روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    کمپنی نے سیاسی تقریر کے لیے اپنے قوانین میں عارضی طور پر نرمی کی ہے، قوانین میں نرمی کے بعد "روسی حملہ آوروں کی موت جیسی پوسٹس کی اجازت دی گئی ہے جبکہ روسی شہریوں کے خلاف پرتشدد مطالبوں کی اجازت نہیں دی گئی۔

    میٹا کا کہنا ہے کہ عارضی تبدیلی کا مقصد سیاسی اظہار کی ایسے پہلوؤں کی اجازت دینا ہے جو عام طور پر اس کے قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ میٹا کی زیرملکیٹ واٹس ایپ کو بھی اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہوگا یا نہیں۔

    پابندیوں کے ساتھ ساتھ فیس بک کی جانب سے پالیسی تبدیل کیے جانے پر روسی حکومت نے سخت رد عمل دیتے ہوئے اس کی مالک کمپنی ’میٹا‘ کے خلاف مجرمانہ مقدمات کے تحت تفتیش شروع کی تھی روسی حکومت نے اپنے ملک کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ کی مالک کمپنی کو ’انتہاپسند تنظیم‘ قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر دیں

  • پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا کامیاب تجربہ

    پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا کامیاب تجربہ

    کراچی کےانجینئرز نے استعمال شدہ خوردنی تیل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنے کا آسان اور سستا طریقہ تلاش کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق این ای ڈی اور داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں بائیو ڈیزل پر تحقیق کرنے والے ملک کے نامور اساتذہ کی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوان انجینئرز نے استعمال شدہ خوردنی تیل کو 93 فیصد تک ری فائن کرکے بائیو ڈیزل بنانے کا طریقہ تلاش کیا اس طریقے سے تیار ہونے والے بائیو ڈیزل کو پاور جنریٹرز اور ہیوی ڈیوٹی وہیکلز میں استعمال کیا جاسکتا ہے-

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بائیو بینگ (Bio-Being) کے نام سے متعارف کرائے جانے والے اسٹارٹ اپ کے بانی اور سی ای او علی ریاض نے بتایا کہ استعمال شدہ خوردنی تیل Transesterification کے پراسیس سے گزار کر اس میں سے ہائیڈروکاربن کو چکنائی کےعناصر (گلیسرین) سے الگ کیا جاتا ہے اس طرح بائیو ڈیزل کے ساتھ کاسمیٹکس انڈسٹری کے صنعتی استعمال کی گلیسرین بھی پیدا ہوتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ عموماً اس عمل میں 24گھنٹے لگتے ہیں لیکن نوجوانوں کی ٹیم نے اپنے اساتذہ کی رہنمائی کے ساتھ ایسا طریقہ تلاش کیا جس کی مدد سے صرف ایک گھنٹہ میں خوردنی تیل کو بائیوڈیزل میں تبدیل کیا جاسکتا ہےیہ عام ڈیزل کے مقابلے میں بائیو بینگ کا تیار کردہ بائیو ڈیزل زیادہ حرارت اور توانائی کا حامل ہے-

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    علی ریاض نے بتایا کہ خوردنی تیل کو ایک مرتبہ فرائنگ کے لیے استعمال کرنے کے بعد اس میں کارسینو جینک مادے پیدا ہونے لگتے ہیں بار بار استعمال ہونے والے تیل میں کارسینو جینک مادوں کی مقدار بڑھتی جاتی ہے یہ مضر مادہ کینسر کے مرض کا سبب بنتا ہے-

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس
    ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر ٹھیلوں اور چھوٹی دکانوں پر بڑے ریسٹورنٹس کا استعمال شدہ خوردنی تیل ہی استعمال کیا جاتا ہے جو عوام کی صحت کے لیے خطرہ ہے، اب تک آزمائشی پلانٹ پران کی ٹیم نے اپنے وسائل سے 15لاکھ روپے خرچ کیے اور منصوبہ کو فروغ دینے کے لیے مزید 10لاکھ روپے کے فنڈز جمع کرلیے ہیں تاہم اراضی کے علاوہ بڑا پلانٹ نصب کرنے کے لیے انہیں مزید 50لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نہ صرف خوردنی تیل سے تیار کردہ بائیو ڈیزل عام ڈیزل کے مقابلے میں ماحول دوست ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج 78 فیصد تک کم جبکہ نائیٹروجن گیس کا اخراج 84 فیصد تک کم ہوگا بلکہ خوردنی تیل کو بائیو ڈیزل میں تبدیل کرکے ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ماحول کے تحفظ میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے