Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں عجیب و غریب سیاسی صورت حال ہے۔یوکرین اور روس معاملات کے بعد تو سیاسی دنیا میں مزید ایک گفتگو کی فزا بن رہی ہے اور چائنہ میں کورونا پھر سے نمودار ہو رہا ہےاور صیہونی سربراہ نے طیب اردوگان سے ملاقات کی ہے۔ دوسری طرف ہمارا پڑوسی بھارت غلطی سے میزائیلیں بھیج رہا ہے دنیا میں تقریباً ہر دوسرے سیاست دان اور حکمران کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    اب آتے ہیں وطن عزیز پاکستان کی سیاست میں۔تحریک انصاف اقتدار والی جماعت ہے،پیپلزپارٹی موجودہ وقت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سب سے زیادہ سرگرم ہے۔منہگائی اور غربت نے لوگوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے جب بھی مہنگائی ہوتی ہے اس کا ذمہ دار حکمراں جماعت کو ٹھرایا جاتا ہے سو اسی طرح تحریک انصاف مہنگائی کی ذمہ دار ہے اس کے علاوہ تحریک انصاف میں گروپس کی موجودگی نے جماعت کو کھوکھلا کر دیا۔یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف کو اپنے آپ سے خطرہ ہے۔

    اب ایک نظر اپوزیشن پر تحریک لبیک صوبہ پنجاب کی بڑی دینی جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے جس کی اتحادی بننے کے لیے تحریک انصاف اور ق لیگ بے تاب ہیں پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ق لیگ کو ترجیح دیں گے جب یہ بن جائے گی تو وہ یقیناً ن لیگ،پیپلزپارٹی کے خلاف ہی بنے گی کیوں کہ تحریک انصاف پہلے ہی گھر جانے کے موڈ میں ہے۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا فضل الرحمان ایک جمے ہوئے سیاستدان ہیں۔وہ اس وقت ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔جمیعت وفاق میں پیپلزپارٹی کی اتحادی ہے تو صوبے میں ان کی مخالف۔ کافی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم،پیر سائیں پاگارا،فہمیدہ مرزا اور جی ڈی اے کے دوسرے اتحادی دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے اقتدار کا صفایا کریں گی مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ دیہی سندھ میں وفاقی اتحادی پیپلزپارٹی اور جمیعت آمنے سامنے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ہر بیان پر ردعمل کوئی دے رہا ہے تو وہ جمیعت والے ہیں۔پیپلزپارٹی کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اسے جمیعت سے خطرہ ہے اس لیے مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری نے اسیمبلیوں میں استعفے دینے سے گریز بھی کیا۔پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے وفاقی اقتدار کے لیے اسے ایک صوبے کی مزید ضرورت ہے شاید اس کی نظریں بلوچستان پر ہیں کیوں کہ پنجاب میں پہلے ہی ق لیگ،ن لیگ اور لبیک کے نام ہو چکی ہے۔ایم کیو ایم کا سندھ کی وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کا خواب شاید 2023 میں پورا ہوتا ہوا دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا۔

    خیبر پختونخواہ اوربلوچستان میں بھی سیاسی سرگرمیان تیز ہیں۔بلوچستان کے دارالحکومت میں پشتون سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا پے جمال کمال خان کی وزارت کو چھیننے میں بھی پشتون سیاست کا حصہ تھا،بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی منزل بھی غیر واضح ہے۔خیبر پختونخواہ میں جمیعت کی بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد جمیعت کو ایک مزید صوبے کی تلاش ہے شاید ان کی نظریں سندھ پر ہیں۔پر زیادہ خوش ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ ابھی یہاں بھٹو زندہ اور پائندہ ہے۔

    سیاست کی جنگ میں کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں سب کی کانپیں اپنی اپنی جگہ ٹانگ رہیں ہے

  • خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    ملک میں ان دنوں انتشار اور غیر یقینی کی جو صورت حال چل رھی ھے وہ یقینن تکلیف دے ھے جب بھی کوئی حکمران غیرت کا مظاھرہ کرتا ھے تو چند مہرے دشمن کے اشارے پر اچھلنا کیوں شروع کر دیتے ھیں کیا انھیں ملک کی خوداری عزیز نہیں ؟؟ اگر وہ عوام کے درد میں بے حال ھو رھے ھیں تو پہلے اس سب کا حساب دیں جو وہ اپنے دور حکومت میں کر چکے ھیں پھر عمران خان سے حساب مانگیں ۔

    ایسا کیوں ھے کہ عمران خان اورسیز کو بغیر وطن واپس آئے ووٹ دینے کا حق دے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان الیکشن میں شفافیت کے لیے ای وی ایم کے زریعے الیکشن کروانےکا اعلان کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان گزشتہ حکومتوں کے پروجیکٹ مکمل کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان پٹرول سستا کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان ھیلتھ کارڈ جاری کرے تو اپوزیشن کو تکلیف اور عمران خان امریکہ اور یورپ کے ڈو مور کے جواب میں ابسولیٹلی ناٹ کہے تو اوزیشن کو تکلیف ۔پاکستانیوں کیا تمھیں سمجھ نھی آ رھی کہ اپوزیشن کس کے اشارے پر بندر کی طرح اچھل رھی ھے؟

    اسلام دشمن قوتوں نے بلحاظ ایک اسلامی ملک کے پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا توبرداشت کر لیا ھے مگر وہ پاکستان کو آگے بڑھتا ھواپھلتا پھولتا برداشت نھی کرسکتے۔ وہ جانتے ھیں پاکستان معاشی طور پر مضبوط ھو گا تو ایشیا ھی نھی دنیا بھر کے مسلم ممالک یہودی اور عیسائی طاقتوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ھوں گے تیسری نشاط اسلامیہ جنم لے گی اور سودی نظام اپنے بنانےوالوں سمیت اپنے بل میں پناہ لینے ہر مجبور ھو جاےت گا اور یہودی و عیسائی یہ سب نھی چاھتے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بار کہا تھا پاکستان کی بقا ھی خطے کے مسلمانوں کی بقاء ھے ۔ پاکستان کی جو جغرافیائی حیثیت ھے اس لحاظ سے تو عمران خان ھی بطور حکمران جچتے ھیں_

    پاکستان کی اس حیثیت سے خود پاکستان کو اتنا فاٸدہ نھی ھوا جتنا نقصان ھوا ھے۔ نواز شریف یا آصف علی زرداری کی اتنی اوقات ھے نہ ھی ان میں جرات کہ وہ امریکہ اور یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں یہ کام عمران خان اچھے سے کر سکتے ھیں اور کر بھی رھے ھیں ۔ میں یہ نھی کہتی کہ وہ قاٸد اعظم ثانی ھیں ھاں لیکن ان میں قاٸداعظم جیسی جرات بے باکی دو ٹوک انداز ضرور پایا جاتا ھے ۔ عمران خان نے بطور حکمران کچھ غلطیاں بھی کی ھوں گی بطور انسان ان میں خامیاں بھی ھوں گی کیونکہ وہ فرشتہ تو نھی ھیں انسان ھیں لیکن وطن اور قوم کے لیے ان کے اخلاص پر کوئی دو رائے نھی ھے۔

    اگر آپ مہنگائی سے نالاں ھیں تو وہ دنیا کے ھرملک میں ھے اور آپکو میں بتاتی چلوں کہ ایوب خان کے دور میں جب امن و امان مثالی تھا جب پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار پر دنیا حیران تھی اور پاکستان ایشین ٹاٸیگر بننے جا رھا تو نام نہاد جمھوریت پسندوں اور سویلین بالادستی کے شوقین سیاستدانوں نے مہنگاٸ کے نام پر یہ افراتفری تب بھی مچاٸ تھی۔ آپ اگرواقعی مہنگاٸ سے نالاں ھیں تو عمران خان پر تنقید کریں کوٸ آپکو نھی روکے گا مگر ان لوگوں کی حمایت نہ کریں جو اپنی خوداری تو بیچ ھی چکے ھیں اب وطن کی خود داری بھی بیچنا چاھتے ھیں ۔وقت آ گیا ھے سندھی بلوچی پنجابی کشمیری بننے کے بجاۓ اور پی پی , پی ایم ال این یا پی ٹی آئی کے فالور بننے کے بجائے اورموجودہ صورت حال پر ٹھٹھے اڑانے یا قہقہ لگانے کے بجائے اپنے وزیراعظم کے پیچھے دیوار بن کر کھڑے ھوں اور ایک لفظ "پاکستانی,, پر متحد ھو جاٸیں ۔ اور دشمن کو بتاٸیں کہ ھم پاکستانی ھیں اورھم بلحاظ قوم اپنے وطن کی خوداری پر سمجوتا نھی کریں گے آزاد ملک کا قیام 1947 میں ھوا تھا اور ان شاء اللہ خودار پاکستان کا قیام 2022 میں عمل میں آئے گا ۔ داٸیں یا باٸیں ھونے سے پہلے یاد رکھیں عالم اسلام کے قلب میں واقع آپ کا یہ نیو کلیر ملک صرف آپ کا نھی دنیا بھر کے مسلمانوں کا محافظ ھے۔

    جو جنگ لڑی جاری رھی ھے اسے آپ اسلام اور کفار کی جنگ بھی کہہ سکتے ھیں اور ان شاء اللہ ھم نے یہ جنگ ھر صورت جیتنی ھے ۔ اللہ پاک وزیراعظم پاکستان , وطن عزیز اور ھم وطنوں کا حامی و ناصر ھو آمین

  • واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    سان فرانسسكو: میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے نئے فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں جنہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے کمپنی کی جانب سے آئے روز نت نئے فیچرز یا سہولیات پیش کی جاتی ہیں۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والے ادارے ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خود بہ خود غائب ہونے والے فیچر کو مزید کارآمد بنانے کے لیے اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    صارف جب غائب ہونے والے پیغامات کے آپشن کو فعال کرتا ہے تو اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے شخص کے پڑھنے کے بعد پیغا ما ت غائب ہو جائیں لیکن بعض اوقات ایسا پیغام بھیجا جاتا ہے جو اہم ہو اور مستقبل کے لیے کارآمد ہوتا ہے ڈس اپیئر فیچر کے بعد صارف کو یہ شکایت تھی کہ اُن کے دوستوں کی جانب سے بھیجے جانے والے اہم پیغامات بھی غائب ہوجاتے ہیں، جس پر اب کمپنی نے کام شروع کردیا ہے۔

    اس مقصد کے لیے واٹس ایپ اس فیچر میں ایک ایسی سہولت کی آزمائش کر رہا ہے جس کی مدد سے صارفین غائب ہونے والے میسجز میں سے اہم پیغامات دیکھ بعد میں بھی سکیں گے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیچر ابتدائی مراحل میں ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا واٹس ایپ کی جانب سے مستقل طور پر اس کا انتخاب کب کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے 2018 میں وائرل افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے تمام صارفین پر پیغامات آگے 20 افراد تک فارورڈ کرنے کی پابندی عائد کی تھی، جسے 2019 میں مزید کم کرکے 5 کردیا گیا تھا اس سے پہلے میسجنگ ایپلیکشن میں صارفین جتنے مرضی افراد اور گروپس کو پیغامات بیک وقت فارورڈ کرسکتے تھے اب میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ نے میسجز فارورڈ کرنے کے حوالے سے مزید پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔

    واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والے سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب کمپنی کی جانب سے گروپ چیٹس میں فارورڈ میسجز کے حوالے سے پابندیوں کا عائد کیا جارہا ہے واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں فارورڈ میسجز کی نئی حد کو متعارف کرایا گیا ہے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    ابھی صارفین واٹس ایپ گروپس یا کسی انفرادی صارف کو میسج فارورڈ کرتے ہیں تو 5 بار کے بعد اس پر فارورڈڈ مینی ٹائمز کا لیبل آجاتا ہے مگر اب واٹس ایپ کی جانب سے جب کسی میسج پر فارورڈڈ کا لیبل لگادے تو اس پیغام کو ایک وقت میں ایک گروپ چیٹ سے زیادہ میں فارورڈ نہیں کیا جاسکے گا۔

    اگر آپ کو ایک سے زیادہ گروپس میں میسج فارورڈ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ عمل کئی بار (جتنے گروپس کو بھیجنا چاہتے ہیں) کرنا ہوگا یعنی ان کو ایک، ایک کرکے بھیجنا ہوگا اس پابندی کا اطلاق ان میسجز پر بھی ہوگا جن کو صرف ایک بار فارورڈ کیا گیا ہوگا یعنی یہ سابقہ حد سے مختلف ہے اور متعدد صارفین کے لیے واٹس ایپ کا تجربہ متاثر ہوگا مگر اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے لیے محفوظ ماحول کو فراہم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جعلی خبریں آسانی سے مت پھیلیں۔

    خیال رہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے فارورڈ میسج لیبل دنیا بھر میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ یہ ان کے دوست نے خود لکھ کر نہیں بھیجا اور وہ اس کی صداقت جانچ کر آگے پھیلانے کا فیصلہ کریں۔

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

  • نوجوان طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کرالجزائر سے فرانس پہنچ گیا

    پیرس: الجزائر سے ایک نوجوان طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کر فرانس پہنچ گیا،تاہم اسے فرانسیسی پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : کم ترقی یافتہ ممالک سے یورپ یا شمالی امریکہ جانے کی کوشش کرنے کے واقعات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں کچھ کیسز میں یہ لوگ اپنے ممالک میں تشدد یا جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ دیگر بہتر معاش کی تلاش کے لیے جان کی بازی لگا بیٹھتے ہیں-

    پاکستان میں رہوں گا میرے کپڑے بھجوا دیں، غیر ملکی تماشائی کا اپنی والدہ کو پیغام

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک نوجوان کو طیارے کے نچلے حصے کے خفیہ خانوں میں چھپا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جو نہایت گھبراہٹ کے عالم میں عملے کے ارکان کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔

    اس نوجوان نے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کسی طرح طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کر الجزائر سے فرانس تک کا سفر کیا نوجوان کی اس حرکت کا پول فرانس میں ڈیگول ہوائی اڈے پر کھلا جہاں طیارے نے لینڈنگ کی تھی۔

    تمام مسافروں کے اتر جانے کے بعد اور سامان آف لوڈ کرنے کے دوران نوجوان ایک خفیہ خانے میں پایا گیا۔ مسافر کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جو اسے الجزائر ڈی پورٹ کردیں گے۔

    پولیس میں بھرتی کا خواہشمند نوجوان مقابلے کی دوڑ کے دوران گر کرجاں بحق

    https://youtu.be/vJMfygpWrD8
    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کےبعد الجزائر میں بھی ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو نوجوان کے طیارے تک پہنچنے اور پھر میں اس میں خفیہ طور پر سفر کرنے کی تحقیقات کرے گی۔

    واضح رہے کہ یہ پرواز بدھ کے روز قسطنطنیہ کے محمد بوضیاف ہوائی اڈے سے پیرس کے چارل ڈیگول ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ 2019 میں برطانیہ میں طیارے کے اگلے پہیے کے لینڈنگ گیئر میں چھپ کر سفر کرنے والا مسافر دوران پرواز گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔ عینی شاہد نے پولیس کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے شخص نے جہاز کے پہیے سے چھلانگ لگائی تھی۔

    اس طرح طیاروں میں چھپ کر سفر کرنے والوں کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟

    بھائی کی شادی پر رقص کیوں کیا؟ بیوی کے بال اور ناک کاٹنے کی کوشش پر شوہر گرفتار

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طیارے کے نچلے حصے میں چھپ کر سفر کرنے والوں کے لیے شدید خطرات ہوتے ہیں ان میں لینڈنگ گیئر کے تلے دب جانے، فروسٹ بائٹ، قوت سماعت کھونا، ٹینیٹس اور ایسڈوس کے مرض شامل ہیں جو کہ کوما میں چلے جانے یا موت کا باعث بن سکتے ہیں پرواز کے دوران طیارے کے نچلے حصے میں درجہ حرارت منفی 63 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

    18000 فٹ کی بلندی پر ہائیپوکسیا ہو جاتا ہے جس میں پورے جسم یا پھر اس کے کسی حصے کو آکسیجن نہیں ملتی اور اس کی وجہ سے کمزوری اور بینائی کے مسائل ہو جاتے ہیں 33000 فٹ کی بلندی یا اس سے زیادہ پر انسانی پھیپھڑوں کو کام کرنے کے لیے مصنوعی فضائی دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے۔

    جب طیارہ 22000 فٹ کی بلندی پر پہنچتا ہے تو اس کے ذیلی حصے میں چھپے کسی بھی شخص کو ہوش میں رہنے میں مشکلات ہوتی ہیں کیوں کہ خون میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اس کے بعد جب چند ہزار فٹ کی اونچائی پر اس حصے کے دروازے طیارے کے پہیے نکالنے کے لیے کھلتے ہیں تو اس طرح چھپے افراد گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

    میزائل پاکستان میں کیسے داخل ہوا؟ وضاحت کافی نہیں:وزارت خارجہ نے بھارتی

  • دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر کا نام سامنے آگیا

    دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر کا نام سامنے آگیا

    پرتگال : دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر کا نام سامنے آگیاپرتگال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر بن گئے۔

    رونالڈو نے یہ کارنامہ انگلش پریمیئر لیگ میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے ٹوٹنھم کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک کر کے سرانجام دیا اور ان کی ٹیم نے میچ دو کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا۔

    رونالڈو نے ٹوٹنھم کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے کیرئیر کی 59 ویں ہیٹ ٹرک مکمل کی جبکہ وہ گزشتہ 13 برسوں میں ہر سال ہیٹ ٹرک کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔

    37 سالہ فٹبالر فٹبالر دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں اور ان کے گولز کی تعداد 807 ہو گئی ہے۔

    فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے مطابق رونالڈ سے قبل سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز آسٹرین چیک فاروڈر جوزف بیکن کو حاصل تھا جن کے گولز کی تعداد 805 تھی تاہم ان کے گولز کی تعداد کے حوالے سے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بیکن کے گولز کی تعداد 805 سے کہیں زیادہ ہے۔

  • لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    ۔ اس وقت لندن اور لاہور میں ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں ۔ اندازہ ہے کہ یہ ملاقاتیں رنگ لے آئیں تو تبدیلی اسلام آباد میں ہوگی ۔ ۔ کیونکہ لندن میں بدھ کو علیم خان کی نواز شریف سے اور جمعرات کو جہانگیر ترین سے ملاقات ہوگئی ہے ان ملاقتوں میں کیا طے ہوا ؟۔ کل پاکستان ایک اندھے کنوایں گرتا گرتا بچا ہے ۔ جو کچھ پارلیمنٹ لاجز میں جو کچھ ہوا صورتحال مزید بھی خراب ہوسکتی تھی ۔ مگر حکومت نے ہوش کے ناخن لیے اور ممبران اسمبلی سمیت تمام گرفتار لوگوں کو رہا کر دیا ۔ یوں مولانا فضل الرحمان نے ملک بھر میں احتجاجی کال واپس لے لے ۔ ورنہ رات سے ہی دیکھائی دینا شروع ہوگیا تھا کہ جمعہ کے روز پورا ملک بند ہوگا ۔ ۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا ایک آڈیو پیغام بھی چل رہا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکریہ کہ پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا، کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں۔ اب کارکنوں کی رہائی کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔۔ دوسری جانب شہباز گل کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بندوں کو چھڑوانے کے لیے معافیاں مانگتے رہے۔ جے یو آئی کے کارکنوں اور ایم این ایز کو آج صبح شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

    ۔ جو بھی جیتا یا ہارا اس بحث سے ہٹ کر اچھی بات یہ ہے کہ لڑائی جھگڑا خوش اسلوبی سے ٹل آگیا ہے ۔ اب خبریں یہ ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک تک پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے معاملات رینجرز اور ایف سی دیکھیں گی ۔ ۔ دوسری جانب لندن سے اہم خبر سامنے آگئی ہے ۔ عبدالعلیم خان کی نواز شریف سے خفیہ ملاقات ہوگئی ہے ۔ یوں اب یہ خفیہ نہیں رہی ہے ۔۔ تفصیل اسکی کچھ یوں ہے کہ ملاقات نواز شریف کے گھر پر مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجےہوئی، یہ تین گھنٹے طویل ملاقات تھی۔ ۔ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے بھی ملاقات میں موجود تھے۔ جبکہ لندن میں ہی موجود پی ٹی آئی رہنما جہانگیرترین ملاقات میں موجود نہیں تھے۔۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت وزیراعلی پنجاب کو تبدیل کرنے سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں شخصیات نے نمبرنگ کیساتھ ساتھ تحریک عدم اعتماد وزیراعلی پنجاب کے خلاف لانے سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا۔۔ علیم خان نے نواز شریف کو بتایا کہ ان کے ساتھ تین سال میں کیا ہوتا رہا اور انکی اپنی جماعت پی ٹی آئی نے ان کو کس طرح نشانہ بنایا۔ ۔ پھر ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ علیم خان نے پی ٹی آئی ایم پی ایز کو بھی ن لیگ کے ٹکٹ دینے کا کہا ہے ۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ پھر ن لیگ کے لوگوں کا کیا بنے تو اس حوالے سے فارمولہ یہ طے ہوا ہے کہ جو بھی لوگ دونوں جانب سے رہ جائیں گے ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جائے گا ۔ ۔ جبکہ علیم خان کی ن لیگ میں شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔۔ اب جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کا اکٹھے ایک دو روز میں پاکستان آنے کا امکان ہے، دونوں شخصیات پاکستان واپس آکر پاور شو کریں گی اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی جائے گی۔۔ جبکہ ق لیگ کی جانب سے اطلاعات ہیں کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں وہ اعلان کر دیں گے کہ وہ کس کا ساتھ دیں گے ۔ جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ صورتحال مزید واضح ہوجائے گی ۔۔ پھر اس حوالے سے طارق بشیر چیمہ نے دعویٰ کیا ہےکہ وزرا نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم عثمان بزدار کو بدلنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے سوال کیا کہ ایسا کب ہوگا؟ جس پر وزرا نے بتایا کہ پہلے وفاق کی عدم اعتماد گزرجائے۔۔ ذرائع کے مطابق طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے کہا کہ کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہے، کیسے یقین کر لیں کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ اپوزیشن کی جانب سے ہمیں وزیراعلیٰ کی پیشکش ہے مگر حکومت کی طرف سے ہمیں لولی پاپ ہے۔۔ طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو چیزیں سیریس لینا چاہئیں، انہوں نے انڈر 16 ٹیم میدان میں اتاری ہوئی ہے،ہمیں اگلے 48 گھنٹو ں میں فیصلہ کرنا ہے۔ پارٹی میں حتمی فیصلے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ۔ کل عمران خان کے دورہ لاہور کے دوران بھی اس حوالے سے پہلے خبریں یہ ہی سامنے آئیں ۔ کہ عثمان بزدار کو ہٹا دیا جائے گا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ عمران خان کسی صورت عثمان بزدار کو ہٹانا نہیں چاہتے ہیں ان کے خیال میں گھر جائیں گے تو اکٹھے جائیں گے اور حکومت کریں گے تو اکٹھے کریں گے ۔ اگر بہت ضروری بھی ہوا تو پھر بھی نیا وزیر اعلی پی ٹی آئی سے ہی ہوگا ۔ اس سلسلے میں کل عمران خان نے جس جس سے بھی ملاقات کی اس کو یہ ہی باور کروایا کہ آپ میرے ساتھ ساتھ عثمان بزدار کے ساتھ بھی کھڑے ہوں ۔ ۔ یوں پی ٹی آئی کی جانب بتایا یہ جارہا ہے کہ فی الحال اس کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک پر ہے اور وہ بزدار ایشو سے بعد میں نمٹے گی۔۔ پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے بات کی جائے توق لیگ کے ساتھ جیسے ہی علیم خان اور جہانگیر ترین واپس پہنچ کر اعلان کریں گے اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں ۔ البتہ جس طرح کے بیانات اور ملاقاتوں کی خبریں ق لیگ کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ عثمان بزدار کا گھر جانا طے ہے ۔ میرے حساب سے علیم خان اور جہانگیر ترین جتنا آگے جا چکے ہیں۔ یہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کو اپنوں نے مروانا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ ویسے تو عثمان بزدار بھی کافی ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ترین گروپ کے بندے توڑنے کے بھی دعوے کیا جا رہا ہیں اس حوالے سے پوری خبر یہ ہے کہ جن کے حوالے سے دعوی کیا جا رہا ہے ۔ دراصل یہ لوگ علیم خان سے رابطے میں تھے ۔ ترین گروپ کے چھبیس یا ستائیس لوگ پورے ہیں ۔ دوسرا جو ایک اور دعوی حکومت نے کیا کہ چارسے پانچ ایم پی ایز ہم نے ن لیگ کے بھی توڑ لیے اور عمران خان سے ان کی ملاقات بھی کروادی ہے ۔ یہ تو چار لوگ وہ ہی ہیں جو کافی عرصے سے ن لیگ سے منحرف ہیں اور عثمان بزدار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی کرسی کی بات کی جائے تو ق لیگ کی طرح ایم کیو ایم بھی کنفیوز دیکھائی دیتی ہے ۔ ایک جانب وہ حکومتی اتحادی ہیں مگر اگلے الیکشن پر بھی ان کی نظر ہے اس لیے خبریں یہ ہیں کہ ایم کیو ایم والے پیپلز پارٹی سے یقین دہانیاں مانگ رہے ہیں۔۔ کہا جارہا ہے کہ آصف زرداری نے چوہدریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرے گی اور جتنا ممکن ہو سکا اتنے مطالبات پورے کرے گی۔ پھر جی ڈی آے اور باپ والوں کو بھی زرداری صاحب نے قابو کیا ہوا ہے ۔۔ شاید اسی لیے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے بعد آصف زرداری کو اپنا ٹارگٹ نمبرون قراردیا ہوا ہے۔

    ۔ میں اس سلسلے میں یاد کروادوں کہ آصف زرداری نےانتخابی طاقت کےباوجودبلوچستان میں مسلم لیگ ن کےخلاف ہواکا رخ موڑا تھا ۔ پھر موجودہ دور میں جیسے سینٹ میں یوسف رضاگیلانی کو منتخب کروایا۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔۔ یوں عمران خان اب سمجھتےہیں کہ تحریک عدم اعتمادکے ماسٹر مائنڈ آصف زرداری ہیں اوروہ یہ بھی سمجھتےہیں کہ زرداری ٹیبل پرچیزوں کوبدل سکتے ہیں۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چودھری وزیراعظم سے زیادہ آصف زرداری پر اعتماد کرتے ہیں۔ ۔ اگرچہ ترین گروپ، ق لیگ اور ایم کیو ایم والے اپوزیشن کی طرف مائل نظر آ رہے ہیں اور حکمران جماعت کے مخالفین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔۔ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو پی ٹی آئی حکومت کا شیرازہ بکھیرتی جا رہی ہے۔ کیونکہ ایک منظم طریقے سے اپنے اپنے وقت پر ہر عمل ہوتا جا رہا ہے۔۔ مثالیں آپکو دے دیتا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ یہ بات کھل کرسامنے آچکی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی سپورٹ کے عوض ن لیگ نے حکومت سے منحرف اراکین کو اگلے عام انتخابات میں ٹکٹ کی یقین دہانی کروادی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور ہوگا ۔ مگر کیا آپ نے سوچا کہ یہاں بھی ن لیگ کی صفوں میں کوئی کھلبلی نہیں مچی، کسی نے ناراض ہو کر کسی پریس کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا اور پارٹی میں کوئی فارورڈ گروپ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہے اور حکومت کی جانب سے اٹھارہ سے بیس کروڑ روپے فی حمایت لینے کا الزام حکومت اس کی قیادت پر لگارہی ہے۔ تاہم حکومت اس الزام پر کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور عوام مہنگائی اور بیڈ گورننس سے اس قدر تنگ ہیں کہ حکومت کے اس الزام کا کوئی اثر نہیں لیا ہے اور میڈیا کاموڈ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ ۔ اپوزیشن کی تیسری بڑی شخصیت مولانا فضل الرحمٰن کا ٹکٹ چلا ہے نہ پیسہ، البتہ تیل میں ڈبوئی ہوئی لاٹھیوں کے بیان نے کام کردکھایا ہے۔ جبکہ عملی مظاہرہ اس کا ہم گزشتہ روز دیکھ چکے ہیں ۔ یوں متحدہ اپوزیشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔

    ۔ دوسری جانب عمران خان اس وقت agitationکی سیاست جانب بڑھتے دیکھائی دے رہےہیں ۔ کیونکہ حکومت نے ڈی چوک پر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جبکہ شہباز گل کا کہنا ہے کہ خان کسی وقت بھی آپ کے سامنے ایک ایسا سچ لائے گا کہ ان ضمیر فروشوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، پوری قوم انہیں جوتے مارے گی۔۔ اس حوالے سے پورا سچ یہ ہے کہ کپتان نے آج سے پہلے جتنے بھی میچ کھیلے ہیں اس میں اس کو ایمپائر کی مدد حاصل رہی ہے یہ پہلی بار ہے کہ ان کو اپنے زور بازو پر یہ میچ کھیلنا پڑ رہا ہے ۔ اوپر سے یہ میچ بھی ٹیسٹ میچ ہے۔ پھر گروانڈ میں موجود تماشائی یعنی عوام بھی اس بار ٹیم سے بدظن دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ مخالف کمیپ سے سیاست کے بڑے ہی منجھے ہوئے کھلاڑی میدان میں موجود ہیں جو کپتان کی تیزی سے ان سوئنگ اور آوٹ سوئنگ ہوتی گیندوں کو بڑی مہارت سے باونڈری لائن کے باہر پہنچا رہے ہیں ۔ یوں میچ اس وقت ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔

  • چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے پتھروں کو زمین پر لانے کے بعد فوراً ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس کی قیادت اپالو نیکسٹ جنریشن سیمپل اینالیسس پروگرام (ANGSA) کر رہی ہے، جو ایک سائنس ٹیم ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر آنے والے آرٹیمس مشن سے پہلے نمونے اور چاند کی سطح کے بارے میں مزید جاننا ہے۔

    ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، یہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

    آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سےامکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا کہ اپالو لینڈنگ سائٹس پر چاند کے نمونوں کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقاء کو سمجھنے سے ہمیں ان نمونوں کی تیاری میں مدد ملے گی جن کا سامنا آرٹیمس کے دوران ہو سکتا ہے آرٹیمس کا مقصد قطب جنوبی کے قریب سے ٹھنڈے اور مہر بند نمونے واپس لانا ہے۔ ان نمونوں کو جمع کرنے اور منتقل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے انہیں زمین پر ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آلات کو سمجھنے کا یہ ایک دلچسپ سیکھنے کا موقع ہے۔

    جب اپالو کے خلابازوں نے تقریباً 50 سال پہلے یہ نمونے واپس کیے تو NASA کے پاس ان میں سے کچھ کو نہ کھولے اور قدیم رکھنے کی دور اندیشی تھی۔

    ناسا ہیڈ کوارٹر میں پلینٹری سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر لوری گلیز نے کہاایجنسی جانتی تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی اور سائنس دانوں کو مستقبل میں نئے سوالات کو حل کرنے کے لیے مواد کا نئے طریقوں سے مطالعہ کرنے کی اجازت دے گی،اے این جی ایس اے کا اقدام ان خاص طور پر ذخیرہ شدہ اور سیل شدہ نمونوں کی جانچ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

  • پاکستان کے16 سالہ احسن رمضان نے ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیت لی

    پاکستان کے16 سالہ احسن رمضان نے ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیت لی

    لاہور:پاکستان کے16 سالہ احسن رمضان نے ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیت لی ،اطلاعات کے مطابق ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان کے کم عمر کھلاڑی احسن رمضان نے تاریخ رقم کردی۔

    تفصیلات کے مطابق 16 سالہ احسن رمضان نے دوحہ میں منعقدہ انٹرنیشنل بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن (آئی بی ایس ایف) ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی۔

    احسن رمضان نے فائنل میں ایران کے عامر سرکوش کو دلچسپ مقابلے کے بعد 5-6 سے شکست دی۔وہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے تیسرے کم عمر کھلاڑی ہیں۔

     

    یاد رہے کہ احسن رمضان نے سیمی فائنل میں اپنے سینئر ہم وطن اور دفاعی چیمپئن محمد آصف کو شکست دی تھی ۔فتح کے بعد وہ محمد آصف کے گلے لگ کر آبدیدہ ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستان چوتھی مرتبہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔اس سے قبل محمد آصف دو مرتبہ اور محمد یوسف ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکے ہیں۔

  • عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج کل وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی خبر سامنے آتی ہی رہتی ہے ۔ اس عدم اعتماد نے شاید عمران خان صاحب کو اپنے کچھ خاص لوگوں کے اصلی رنگ بھی دکھائے ۔ اس پورے عدم اعتماد کی تحریک کو بریک آ کر ان ہی کچھ ممبرانِ اسمبلی کی ہاں یا ناں پر لگی ہے جو میرے خیال سے جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ یہ وہی چند لوگ ہیں جو مشرف صاحب کے بعد ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن اور اب موجودہ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفادار بنے تھے ۔ تازہ ترین مثال ندیم افضل چن صاحب کی ہے جو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی برائیاں کی اور اب معاون حکومت کا عہدہ واپس لیے جانے کے بعد دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو ان کو پاکستان تحریک انصاف میں برائیاں نظر آنے لگی ۔ چن صاحب اور ان جیسے اور موسمی پرندے جمہوریت کے نام پر بدنما داغ ہیں ۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان بھی جمہوری لوگوں نے ہی پہنچایا ہے ۔

    عمران خان صاحب کی ایک بہت بڑی ناکامی یہ ہے کہ موجودہ حکومت عام لوگوں کی نظر میں صرف اس لیے ناکام ہے کیونکہ مہنگائی کا جن اس حکومت سے آج تک قابو نہ ہو سکا ۔ شاید جو اقدامات اس حکومت نے کیے ان کا ثمر آمدہ چند سالوں میں نظر آئے مگر "مہنگائی” نے حکومت کے سب اچھے اقدامات پر بھی پردہ ڈال رکھا ہے ۔ دوسری بڑی غلطی اس حکومت میں شاید نااہل لوگوں کو ملنے والے اعلی عہدے تھے ، حکومتی وزراء میں سے چند ایک کے سوا اپنا کام اس طرح نہ کر پائے جس کے دعوے کیے گئے تھے ۔ معاونین کے نام پر غیر منتخب نمائندوں کی ایک ایسی فوج وزیر اعظم کے ارد گرد بھارتی کی گئی جس نے وزیر اعظم اور ان کے منتخب نمائندوں میں نفرت کا نہ صرف بیج بویا بلکہ پروان بھی چڑھایا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین اور علیم خان صاحب ، اعظم خان کا رونا روتے نظر آئے ۔ شاید عمران خان صاحب کو اب یہ سمجھ آ گئی ہو گی اور ان کو مان بھی لینی چاہیے کہ اپنی حکومتی ٹیم بناتے وقت ان سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ تیسرا بڑا مسئلہ وزراء حکومت کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی بھی رہی جس نے اپوزیشن کے تمام دھڑوں کو اکھٹے لا کھڑا کیا ۔

    اپوزیشن اس وقت اس بات پر متفق ہے کہ عمران خان صاحب کو وزیر اعظم نہیں رہنا چاہیے – پر سوال یہ ہے کہ نیا وزیراعظم ہو گا کون ؟ اس کے پاس اختیارات کیا ہونگے ؟ ملک جس نہج پر ہے یا جو حالات اس وقت بین الاقوامی سطح پر ہیں ان میں کیا عدم اعتماد درست اقدام ہو گا ؟ 24 سال بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد کے موقع پر یہ سیاسی لڑائی کہیں وطن عزیز کو 2009 والی پوزیشن میں نہ لے جائے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر کوئی حقیقی معنوں میں جمہوری جماعت ہوتی تو شاید یہ دن دیکھنا ہی نہ پڑتا ۔ جب تک وارثتی سیاست ہو گی تو پھر ذاتی لڑائیاں بھی جمہوریت و جمہور کے نام پر لڑی جائیں گی ۔

    رہی سہی کسر انصار السلام کے رضاکاروں کی پارلیمنٹ لاجز میں موجودگی نے پوری کر دی ۔ پوری دنیا میں شاید ایسی مثال کہیں نہ ملے کہ منتخب نمائندوں کی حفاظت کے لیے ایک مذہبی و سیاسی جماعت کی عسکری ونگ میدان عمل میں آ جائے ۔ شاید یہ تحریک عدم اعتماد کو پرتشدد بنانے کی کوشش ہے ۔عمران خان صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو یہ بات سمجھنا ہو گی اب ان کو ہر بات ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ۔ خود وزیر اعظم صاحب کو اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ وزیر اعظم ریاست کا سربراہ ہوتا ہے ۔ باقی وزیر اعظم کوئی بھی ہو ، پاکستان زندہ باد رہنا چاہیے کیونکہ لوگ آتے جاتے رئیں گے پر ملک قائم رہے گا انشاء اللہ ۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوں میں اپنی تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں اورگھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھااورلوگوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنایا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے سرینگر، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، پلوامہ،راجوری،پونچھ، کشتواڑ،ادھمپور اور دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کیں اور گھروں پر چھاپے مارے۔ متعدد علاقوں کے رہائشیوں نے میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں نے ان کے گھروں میں زبردستی داخل ہو کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

    ادھر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی نے بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کے ہمراہ وادی کشمیر میں مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کی۔ این آئی اے نے چھاپوں کے دوران موبائل، لیپ ٹاپس، کمپیوٹر اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں اور ایجنسیوں کی طرف سے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا مقصدکشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کے جذبہ حریت کو کمزور کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اورمقبوضہ کشمیر میں اس کی انتظامیہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اپنی وحشیانہ کارروائیوں اور فوجی پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہیں اور بھارت مستقبل میں بھی اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماء شیخ عبدالمتین نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں بارہمولہ سب جیل میں نظربند کشمیریوں کے ساتھ جیل حکام کے غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام کشمیری نظربندوںکو مناسب خوراک اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نظربند جیل حکام کے غیر انسانی رویے کے خلاف گزشتہ دو روز سے بھوک ہڑتال پرہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مختلف جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیں اور ان کی رہائی میں کردار ادا کریں۔