Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یٰسین ملک کورہاکرو:دنیابھرمیں ٹویٹرٹرینڈ     بننےلگا،ہرکوئی کشمیریوں کےساتھ کھڑاہوگیا

    یٰسین ملک کورہاکرو:دنیابھرمیں ٹویٹرٹرینڈ بننےلگا،ہرکوئی کشمیریوں کےساتھ کھڑاہوگیا

    اسلام آباد:بطل حریت یٰسین ملک کورہا کرو:دنیا بھرمیں ٹویٹرٹرینڈ بننے لگا،ہرکوئی کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہوگیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی مظالم میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی نظریں بھی کشمیر پرلگ گئی ہیں اور اب تو یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ بھارت کشمیری کی تحریک آزادی سے اس قدر خائف ہوگیا ہے کہ وہ کشمیری قائدین کی جان کا دشمن ہوگیا ہے

     

    ادھریہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت نے ان کشمیری رہنماوں کوسخت سزائیں دینے اور ان کو جان سے مارنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے ، یہی وجہ ہے کہ چند دن پہلے جو بھارتی عدالتوں نے کیا وہ دنیا کے سامنے ہے ،

     

    ان حالات کو دیکھتے ہوئے بطل حریت یٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے پاکستان اور دنیا بھرمیں کشمیریوں سے محبت کرنے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ یٰسین ملک کی رہائی کے لیے آواز بلند کریں‌، یہی وجہ سہے کہ دنیا بھر میں آج ٹویٹر کا ٹرینڈ #ReleaseYasinMalik #FreeYasinMalik شام 7 بجے پاکستان، شام 3 بجے لندن، یوکے وقت کے وقت صبح 9 بجے، واشنگٹن یو ایس اے، جنیوا شام 4 بجے، ٹورنٹو کینیڈا، شام 5 بجے استنبول ترکی، رات 10 بجے کوالالمپور ملائیشیا، 10 بجے چین، سعودی عرب شام 10 بجے، بیجنگ شام 5 بجے ، شام 6 بجے دبئی 7 آوازخلق نقارہ خدا است بن گیا اور ہرکوئی اپنی آواز اس آواز کے ساتھ بلند کرنے لگا

     

    اصغرزیدی کہتے ہیں کہ بطل حریت یٰسین ملک کی رہائی کے لیے آئیے ہم بے آوازوں کی آواز بنیں! ہم
    GcuKashmir سوسائٹی آپ کو معصوم حریت رہنما یاسمین ملک کی ٹویٹر مہم کا حصہ بننے کی دعوت دیتی ہے ، جو ہمارے سرپرست کے شوہر ہیں۔

    براہ کرم 15 مئی شام 7 بجے ٹویٹر مہم میں شامل ہوں #ReleaseYasinMalik #FreeYasinMalik #KashmiriLivesMatter.کے تمام ہونہار طلباء کا شکریہ GcuKashmirاور اعزازی وائس چانسلر

    دوسری طرف مشال ملک کہتی ہیں‌ کہ اہل کشمیر سے وفا نے بہت حوصلے دیئے ہیں اور اب تو ہر ہیش ٹیگ اہمیت رکھتا ہے🙏🙏 میرے شوہر، کشمیری ہیرو کو بچانے کے لیے آواز اٹھائیں!

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یٰسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک اور سیکڑوں دیگر افراد نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ ایک آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے انسان ہیں اور آزادی کی جدوجہد کوئی جرم نہیں ہے، بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت انہیں جھوٹے الزامات میں سزائے موت دے سکتی ہے۔

    ایک بیان میں چیف ترجمان جے کے ایل ایف رفیق ڈار نے کہا کہ یٰسین ملک کے منصفانہ ٹرائل سے انکار نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کے کہنے پر ان کے خلاف سیاسی انتقام کا ایک اور واضح مظہر ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر متنازع ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے لوگوں کی سب سے طاقتور اور مقبول آواز کو خاموش کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2019 کو یٰسین ملک نے اپنی گرفتاری اور خاص طور پر 10 مئی 2019 کو نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ان کی منتقلی کے بعد جے کے ایل ایف کے سربراہ نے ان من گھڑت مقدمات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور غیر منصفانہ اور متعصب عدالتی کارروائیوں اور بھارتی حکومت کے ناپاک عزائم کے پیش نظر احتجاجاً اپنا دفاعی وکیل واپس لے لیا تھا۔

    گزشتہ روز پاکستان میں یٰسین ملک کے لیے ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ میں رہا، ہیش ٹیگ ReleaseYasinMalik# کے ساتھ ٹوئٹس کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی عدالت کے سامنے ان کے اعتراف جرم کے جھوٹے دعوے کو مسترد اور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان کو درپیش خطرے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

    آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’یٰسین ملک ایک سیاسی قیدی اور تحریک آزادی کے رہنما ہیں جو کشمیریوں کی آزادی کے منصفانہ مقصد کی پرامن طور پر حمایت کر رہے ہیں جس طرح مہاتما گاندھی اور نہرو نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی‘۔

  • رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن 16 مئی کو ہوگا تاہم اس کو پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی : مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ امریکا اور یورپ کے دیگر حصوں میں کیا جائے گا، چاند گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجکر 32 منٹ پر ہوگا –

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    مختلف ممالک میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجکر 13 منٹ پر چاند گرہن عروج پر ہوگا، اختتام دوپہر 11 بجکر 51 منٹ پر ہوگا جبکہ چاند گرہن کا اختتام پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر11بجکر51 منٹ پر ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری چاند گرہن 8 نومبرکو ہوگا،جو پاکستان میں جزوی دکھائی دے گا۔

    زمین کا وہ سایہ جو زمین کی گردش کے باعث کرہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آ جانے سے چاند کی سطح پر پڑتا ہے اور چاند تاریک نظر آنے لگتا ہے چاند گرہن کبھی جزوی ہوتا ہے اور کبھی پورا یہ اس کی گردش پر منحصر ہے۔

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا…

    چاند گرہن کو “خسوف” کہتے ہیں اور چاند گرہن کے وقت دو رکعت نماز دیگر نوافل کی طرح پڑھنا مسنون ہے، اس میں جماعت مسنون نہیں ہے، اس کا طریقہ عام نوافل کی طرح ہے، کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں، سوائے اس کے کہ نیت “صلاۃ الخسوف” کی ہوگی-

    اگر ایسی حالت میں سورج غروب ہوجائے یا کسی نماز کا وقت ہوجائے تو دعا ختم کر کے وقتی فرض نماز میں مشغول ہوجانا چاہیے اسی طرح مکروہ اوقات میں سورج گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ صرف دعا کرلی جائے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • چولستان کی پکار  ازقلم :غنی محمود قصوری

    چولستان کی پکار ازقلم :غنی محمود قصوری

    چولستان کی پکار

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پنجاب کے ضلع بہاولپور کے جنوب میں 30 کلومیٹر دوری پر واقع 66 لاکھ 55 ہزار ایکڑ طول اور 32 سے 480 کلومیٹر عرض والے صحرائی رقبے کو چولستان کہا جاتا ہے جو کہ دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے-

    اسی روہی بھی کہا جاتا ہے یہ صحرا جنوب مشرق میں انڈین راجھستان سے جا ملتا ہےاسی لئے اس علاقے میں سرائیکی زبان کیساتھ زیادہ تر راجھستانی زبان بھی بولی جاتی ہے-

    یہاں کے مقامی لوگ خانہ بدوش ہیں اور یہ لوگ بہت زیادہ غریب ہیں اور ان کا گزر بسر بھیڑ بکریاں و اونٹ پال کر ہوتا ہے کیونکہ اس ریت والے علاقے میں فی الحال اور کچھ ممکن ہی نہیں-

    اس صحرا میں پانی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں زندگی کی بہت بڑی ضرروت پانی کا بہت بڑا حصول بارشوں کے ذریعہ سے ممکن ہے-

    بارشوں کا پانی ٹوبھوں ( تالاب نما) میں جمع رہتا ہے جہاں سے مقامی باشندے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں اور جانور بھی انہیں ٹوبھوں سے پانی پیتے ہیں غربت کے باعث یہ لوگ کنویں وغیرہ نہیں بنوا پاتے اس لئے بارشیں ہی ان کیلئے پانی کا سب سے بڑا حصول ہیں-

    رواں سال پوری دنیا میں گرمی کی شدت ہے پاکستان میں بھی اس وقت شدید ترین گرمی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 1961 کے بعد پہلی بار اتنی گرمی پڑے گی –

    چولستان کا ٹمپریچر 50 درجہ سینٹی گریڈ سے اوپر کو جا رہا ہے اور گزشتہ 3 ماہ سے اس علاقے میںبارشیں بھی نہیں ہوئیں جس کےباعث یہاں کا سب سے بڑا پانی کا ذریعہ ٹوبھے خشک ہو گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق 3 ہزار کے قریب ٹوبھے خشک ہو چکے ہیں جس کے باعث 200 سے اوپر جانور مر چکے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور مجبوراً نقل مکانی شروع کر دی ہے-

    ہر روز بے چین کرنے والی نئی خبر مل رہی ہے حتیٰ کہ کل سے بلوچستان سے بھی خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث لوگوں و جانوروں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں-

    الحمدللہ پاکستانی ایک غیرت مند اور درد دل رکھنے والی قوم ہے جس نے زلزلہ،سیلاب،طوفان میں اپنے ملک کے علاوہ بیرون ممالک کے لوگوں کی بھی خدمات کی ہیں-

    اب ایک بار پھر پاکستانیوں تمہیں چولستان پکار رہا ہے آگے بڑھیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کریں ان کیلئے درختوں و کنوؤں کا انتظام کیجئے اور ان کی پیاس ختم کیجیئے یقین کریں آپ کی یہ کاوش اللہ تعالی بہت پسند کرے گا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے-

    وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ

    ترجمہ : اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے-

    پاکستان بھر میں بہت سے لوگ اور تنظیمیں اس وقت چولستان کیلئے کام کر رہی ہیں آپ بھی ساتھ دیجئے چولستانیوں کی پیاس بجھانے کا ان شاءاللہ پیاسوں کی پیاس کو بجھانے کے عیوض اللہ تعالی روز محشر جام کوثر نصیب فرمائے گا ان شاءاللہ جلدی کیجئے نیکی کے کاموں میں جلدی اللہ تعالی کو بہت پسند ہے-

  • رمیز راجہ کی چارملکی سیریز کی تجویز کوآئی سی سی نےمسترد نہیں کیا:پی سی بی

    رمیز راجہ کی چارملکی سیریز کی تجویز کوآئی سی سی نےمسترد نہیں کیا:پی سی بی

    لاہور:رمیز راجہ کی چارملکی سیریز کی تجویز کوآئی سی سی نےمسترد نہیں کیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کا کہنا ہے کہ بھارت، پاکستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل چار ملکی ٹورنامنٹ کے لیے چیئرمین رمیز راجہ کی تجویز ابھی بھی زیر غور ہے۔

    بورڈ کے مطابق اس تجویز پر برمنگھم میں ہونے والے آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں بحث کی جائے گی ،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس تجویز کو مسترد نہیں کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی کرکٹ گورننگ باڈی برمنگھم میں اپنے سالانہ اجلاس میں چار ممالک کی تجویز پر تبادلہ خیال کرے گی۔

    یاد رہے کہ یہ تجویز 10 اپریل کو آئی سی سی کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ ان دنوں ٹیموں کو ایک بھرے شیڈول کا سامنا تھا۔

    ادھررمیز راجہ نے گزشتہ سال پی سی بی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، صرف آئی سی سی ایونٹس میں کھیلنے کے علاوہ روایتی حریف بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے رکھنے پر بھ آواز اٹھائی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ اور محدود اوورز کے کرکٹرز کے لیے مختلف معاہدے کی پالیسیوں پر غور کر رہا ہے اور ان پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

    پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر سمیع الحسن برنی نے 13 مئی کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنٹرل کنٹریکٹ پر کافی بات چیت ہوئی ہے جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

    بورڈ ایک نئی پالیسی پر غور کر رہا ہے جس میں کھلاڑیوں کو ان کے معاوضے کھیل کے فارمیٹ کے مطابق ادا کیے جائیں گے اور ادائیگی کے مختلف درجے ہوں گے۔

    پی سی بی قومی کرکٹرز کی تنخواہوں میں اضافے اور دیگر ٹیموں کے ایلیٹ کرکٹرز سے موازنہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

  • مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    گذشتہ ہفتے گھرکاسودا سلف خریدنے کیلئے میں بازارجاناہوا جہا ںمہنگائی کاسونامی آیا ہوا تھا ،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں سن کر ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ۔اس ہوشرباء مہنگائی کی وجہ سے جسم وجاں کارشتہ برقراررکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے ،اپنے بجٹ کے مطابق خریدا ری کررہاتھاتواس دوران سگریٹ ڈسٹری بیوٹرکا ایک رکشہ ڈبہ آکررکا جس پر سے دونوجوان سیلزمین اترے ایک دکان کے اندرچلاگیا دوسرے نے کچھ پوسٹراٹھائے اور دکانوں کی دیواروں انہیں لگاناشروع کردیا،کچھ دیر کیلئے میں سودا سلف لینا بھول گیا اور سگریٹ کے پوسٹر لگانے والے کودیکھنے لگا جب اس نے دیوارپر پوسٹرچپکا لیا تو مجھے اس وقت شدید حیرت کااحساس ہوا،اس پوسٹرپر ایک نئے برانڈ کی 20سگریٹ کی ڈبی دکھائی گئی تھی جس کی قیمت صرف 30روپے درج تھی ،جس سے ایک جھٹکاسالگا،اس مہنگائی کے دور میں ایک سگریٹ کی ڈبی صرف 30روپے میں نوجوانوں کودی جارہی تھی جو 20 سگریٹ پرمشتمل تھی۔پاکستان میںآٹا،چینی ،دالیں ،سبزیاں ،ادویات سمیت ضرویات زندگی کی ہرچیزمہنگی ہے مگراس مہنگائی کے دور میں سگریٹ کاسستاہونابہت سے سوالات کوجنم دیتا ہے کہ سگریٹ اتنے سستے کیوں بیچے جارہے ہیں ۔۔؟

    اگرباقی دنیاسے سگریٹ کی قیمتوں کاتقابلی جائزہ لیاجائے تودنیامیں سب سے مہنگے سگریٹ سری لنکامیں ہیں جہاں سگریٹ کی ایک ڈبی کی قیمت نوڈالرکے قریب ہے اورپاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ 20سگریٹ ایک ڈبی کی قیمت صرف 30پاکستانی روپے ہے ،سگریٹ کی قیمت کم ہونے کی وجہ ایکسائزٹیکس کاکم ہونایا صحیح لاگونہ ہوناہے اورسگریٹ کی غیرقانونی سمگلنگ کانہ رکنے سلسلہ بھی اس میں شامل ہے ۔ نئی حکومت کو سگریٹ نوشی کے معاملے کوسنجیدہ لینا چاہئے ،سگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآمدکرائیں ،ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں کمی ممکن ہو گی اورتمباکونوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں درست فیصلہ سازی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی خزانے کو درپیش خسارہ پالیسی سازوں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ملکی خزانے کو دیرپا مدد نہیں کر سکتا۔ حکومت کو غیر ضروری اور مضر صحت اشیا جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف محصولات بڑھیں گی بلکہ صحت کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی،ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمباکو انڈسٹری کی جانب سے کی گئی کثیر خرچ مہمات اور گمراہ کن اشتہارات ومعلومات سے متاثر ہو کر پاکستان کے ارباب اختیار اور پالیسی سازوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کیونکہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں انہیں ہمیشہ راضی رکھتی ہیں،اس لئے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ سگریٹ کی آسان دستیابی اور سستی ہونے کی وجہ سے پاکستان میںتمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 2.9 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔تمباکو نوشی کرنے والے افرادکئی قسم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 170,000 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اس شخص کے لیے مضرہے جو اِس کی عادت کا شکار ہے بلکہ ان افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے موت کی چھ وجوہات تمباکو نوشی کی وجہ ہیں۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔

    ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہاتو2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ایک آدمی جو ایک سگریٹ پیتاہے تواس کی زندگی کے پانچ سے11منٹ کم ہوجاتے ہیں۔مجموعی طور پر ایک فرد سگریٹ نوشی کرکے اپنی زندگی کے 12سال کم کردیتا ہے۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی ہوتاہے دوسری طرف تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف ایک فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔

    سگریٹ نوشی بچوں کی صحت پر براہ راست اثرات مرتب کرتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔ دوسری طرف اقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے کئی منفی اثرات ہوتے ہیں جیسا کہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات اور تمباکو سے منسوب بیماریوں کی وجہ سے صارفین کی پیداواری صلاحیت میں کمی۔ دوسری طرف 2019 میں تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی 120 ارب تھی جو تمباکو نوشی کی کل لاگت کا تقریبا صرف 20 فیصد ہے،ماہرین کا یہ بھی کہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ اگرچہ تمباکو کی صنعت سطحی طور پر ایک بڑی ٹیکس دینے والی صنعت ہے لیکن تمباکو کی صنعت کا ادا کردہ ٹیکس تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ٹیکس قانون مارکیٹ میں فروخت ہونے والے تمام سگریٹ پر لاگو کردیا جائے تو حکومت کو سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس مل سکتا ہے جبکہ اس وقت حکومت کو سالانہ 114 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہورہا ہے۔ موجوہ نظام میں غیر قانونی سگریٹ کی سستے داموں پر فروخت تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ماہرین کایہ بتاناہے کہ تمباکو پر ٹیکس سب سے زیادہ کفایتی تمباکو کنٹرول اقدام ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس سگریٹ نوشی کے آغاز کو روکتا ہے، سگریٹ کا استعمال کم کرتا ہے، اور یہاں تک کہ تمباکو نوشی چھوڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تمباکو پر ٹیکس لگانے میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ موجودہ حکومت کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر عوام اور ملکی معیشت کی مدد کی جائے۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کیا جائے تواس سے ایک طرف اضافی ریونیو حاصل ہوگا دوسراسگریٹ کی قیمتیں زیادہ ہونے سے ہماری نوجوان نسل تباہی سے بچ جائے گی اورسگریٹ سے حاصل شدہ ریونیو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

  • اب گوگل میپ کےاسٹریٹ ویو میں فضائی مناظر بھی شامل

    اب گوگل میپ کےاسٹریٹ ویو میں فضائی مناظر بھی شامل

    سان فرانسسكو: گوگل 2022 ڈویلپر کانفرنس اسی ہفتے میں منعقد ہورہی ہے جس میں کئی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق گوگل میں پہلی تبدیلی یہ ہے کہ کئی ممالک کے لیے گوگل میپس کےاسٹریٹ ویو میں فضائی (ایئریل ) منظر بھی شامل کیے گئے ہیں –

    گوگل نے اپنے میپس پر روایتی نقشوں کو بہتر بنانے پر توجہ رکھی ہے اور دنیا کا قدرے بہتر اور انٹرایکٹو ماڈل سامنے آسکے گا لیکن یہ سہولت امریکہ اور یورپ کے لیے پیش کی گئی ہے۔

    اس ہفتے ہونے والے گوگل آئی او سمٹ میں ہونے والا ایک اہم اعلان سامنے آگیا ہے جس میں گوگل نقشے میں مختلف مقامات کی مزید تفصیلات، اہم عمارتوں، ریستورانوں، عوامی مقامات کی واضح تصاویر بھی دیکھی جاسکیں گی تاکہ آپ وہاں جانے سے قبل گھر بیٹھے ہی ان کے متعلق بہت کچھ جان سکیں گے-

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    گوگل میپس کی یہ تفصیلات صارفین کے ساتھ ساتھ خود تاجروں اور کاروباری حضرات کے لیے بہت مفید ہوگا۔ اس طرح لوگ آن لائن اپنے کاروبار کی بہتر تشہیر کرسکیں گے۔ اسکرین پر کسی جگہ کی مصنوعات کے اشتہارات اور دیگر تفصیلات بھی ازخود سامنے آجائے گی۔ اسی طرح سیاحتی مقامات کے متعلق مزید سہولیات جاننا بھی ممکن ہوگا۔

    یورپ کے سافٹ ویئر ڈویلپر ’اے آر کور جیوسپیشل اے پی آئی‘ نظام کے تحت میپس پر اپنی جانب سے اے آر (آگمینٹڈ ریئلٹی) فیچر بھی شامل کرسکیں گے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گوگل میپس میں اے آر کی شمولیت پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

  • چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کو ایسے نئے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا-

    باغی ٹی وی : "”سائنس ایڈوانسز جریدے ميں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کے ژو رونگ روبوٹک روور کو ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مریخ پر پانی پہلے کی سوچ سے زیادہ دیر تک موجود ہے۔

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریخ کی سطح پر پڑنے والے ایک بڑے آتش فشانی گڑھے میں ’ایمیزونیائی دور‘ کے دوران مائع پانی موجود تھا اور سرخ سیارے پر ہائیڈریٹڈ معدنیات موجود ہیں،جن سے اس سیارے پر مستقبل میں آنے والے انسان بردار مشنز ممکنہ طور پر فائدہ اٹھاسکیں گے۔

    یہ نتائج ان مفروضوں کو تقویت دیتے ہیں کہ مائع پانی کی سرگرمیاں مریخ پر اس سے پہلے پائی جانے والی سوچ سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہی ہوں گی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ مریخ کی اس مخصوص جگہ پر اس وقت ہائیڈریٹڈ معدنیات اور ممکنہ طور پر برف کی شکل میں پانی کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا طویل عرصے سے یہ خیال رہا ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ کی سطح پر ایک گاڑھا، گرم ماحول اور مائع پانی موجود تھا، لیکن یہ سیارہ ٹھنڈا ہوگیا کیونکہ اس نےاپنا حفاظتی مقناطیسی میدان تقریباً 4 ارب سال پہلے کھو دیا موجودہ ارضیاتی دور جسے Amazonian epoch کے نام سےجانا جاتا ہےجس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ 3.5 سے 1.8 بلین سال پہلے شروع ہوا تھا کو ایک ایسے وقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جب مریخ سرد اور خشک تھا، جس میں سطحی پانی نہیں تھا۔

    دوسری جانب سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • مدھیہ پردیش :فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک:کرناٹک میں احتجاجی تحریک

    مدھیہ پردیش :فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک:کرناٹک میں احتجاجی تحریک

    مدھیہ پردیش :فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک:کرناٹک میں احتجاجی تحریک ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے آج (ہفتہ ) صبح ضلع گونا میںفائرنگ کرکے تین پولیس اہلکار ہلاک کر دیے۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اس اعلان کہ وہ ایک آرڈیننس جاری کرکے تبدیلی مذہب مخالف قانون کو نافذ کرے گی ،کے ایک دن بعد ریاستی کانگریس نے کہا ہے کہ وہ اسکے خلاف عوامی تحریک (جن آندولن) شروع کرے گی۔

    اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما Siddaramaiahنے کہا کہ بی جے پی حکومت جو بدعنوانی اور بدانتظامی کے معاملے میں بے نقاب ہے، لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے” کرناٹک پروٹیکشن آف رائٹ ٹو فریڈم آف ریلجن بل” 2021 کو نافذ کرنے جارہی ہے۔

    انہوں نے گورنر سے تبدیلی مذہب مخالف بل کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے کہا کہ بی جے پی نے یہ قانون صرف اقلیتوں کو ڈرانے اور انہیں ہراساں کرنے کے ارادے سے لایا ہے۔ Siddaramaiah نے مزید کہا کہ موجودہ قانون زبردستی مذہب کی تبدیلی کو روکنے اور لالچ کے ذریعے مذہب کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کافی ہے پھر نئے قانون کی کیا ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو دھمکانا اور ہراساں کرناآر ایس ایس کا سیاسی ایجنڈا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سچے ہندو ہم آہنگی اور عالمگیر بھائی چارے پر عمل پیرا ہیں اور وہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ہم اقلیتوں پر مسلسل حملے دیکھتے ہیں، کرناٹک کے لوگ اس حکومت سے شرمندہ ہیں۔

    انہوں نے کہا آئین افراد کو آزادی سے اپنی مرضی کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور مذہب کی زبردستی تبدیلی کو روکنے کے لیے پہلے سے ایک قانون نافذ ہے جس پر عمل درآمد کے لیے پولیس اور عدالتیں موجود ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کشمیریوں کے گھروں پرچھاپے

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کشمیریوں کے گھروں پرچھاپے

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقای ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے وادی کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس دوران مکینوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے آج( ہفتے ) بتایا کہ این آئی اے کے دستے بھارتی پولیس اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہمراہ بارہمولہ اور شوپیاں اضلاع میں تلاشی لے رہے ہیں۔تحقیقاتی ایجنسی نے بارہمولہ ضلع کے نیو کالونی فتح پورہ میں مشتاق احمد بٹ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ مشتاق محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازم ہیں۔

    این آئی اے نے شوپیاں کے علاقے مراد پورہ میں علی محمد بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اسی طرح وادی کے دیگر حصوں میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ایک اہلکار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ چھاپے این آئی اے کے دفتر میں پہلے سے درج ایک کیس کے سلسلے میں مارے جا رہے ہیں۔آخری اطلاعات تک چھاپوں کی کارروائی جاری تھی۔

    دریں اثنا، کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی بدنام زمانہ تحقیقاتی ایجنسیوں ”این آئی اے، ایس آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) “ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ حق خود ارادیت کے حصول کی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبایا جا سکے۔ این آئی اے کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لیے بدنام ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں تحقیقاتی ایجنسی کے چھاپے معمول بن چکے ہیں جس کا مقصد ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو بی جے پی کی مذموم پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ حریت رہنماوں، میڈیا والوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور یہاں تک کہ عام کشمیریوں کو بھی فرضی مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ این آئی اے نے ایک جھوٹے مقدمے میں قید انسانی حقوق کے معروف کشمیری محافظ خرم پرویز کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے ۔ سرکردہ حریت رہنماوں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں غیر قانونی حراستوں کا نوٹس لینا چاہیے۔

  • سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    عربی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ گھر کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا ہمسایہ کیسا ہوگا کیونکہ ایک اچھا ہمسایہ آپ کے لئے رحمت اور ایک برا ہمسایہ آپ کے لئے بہت بڑی زحمت بن سکتا ہے۔لیکن جب ہم Globally
    دیکھتے ہیں تو ممالک کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہمسائے کا انتخاب کر سکیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کئی ایسے تنازعے ہیں جو کہ مختلف ہمسایوں کے درمیان ہیں جس میں ایک مثال پاکستان اور انڈیا کی ہے اس کے علاوہ فلسطین اور اسرائیل ہیں ساوتھ کوریا اور نارتھ کوریا ہیں۔ ایسے میں صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ آپ کو ہر حال میں ان کے ساتھ رہنا ہے جس کی وجہ سے کبھی ان ہمسایوں کے درمیان شدید لڑائی کا ماحول ہوتا ہے تو کبھی یہ اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاملات کسی نہ کسی طرح چلتے رہیں۔
    اور ایسا ہی کچھ معاملہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ دونوں ممالک آپس میں لڑتے رہے ہیں لیکن اب یہ ان لڑائیوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں سفارتی سطح پر کئی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ہیں جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چند ماہ پہلے تین ایرانی سفارت کار اسلامی تعاون تنظیم میں ذمہ داری سنبھالنے سعودی عرب بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔

    تہران وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
    اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا یہ بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک یعنی سعودی عرب صدر ریئسی کی انتظامیہ کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ایسا کیوں ہو رہا ہے؟؟
    اب ان دونوں ممالک کو یہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ تعلقات کو بہتر کیا جائے؟؟ماضی میں یہ کیوں آپس میں لڑتے رہے ہیں؟؟کیا ان کی لڑائی مذہبی تھی سیاسی تھی یا دونوں فیکٹر تھے؟؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ظاہری اختلاف تو ان کے فرقوں کی وجہ سے ہے سعودی عرب کا تعلق سنی فرقے سے ہے جبکہ ایران کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ ممالک اپنے تعلقات صرف فرقوں کی بنیاد پر نہیں بناتے اور نہ ہی فرقوں کی وجہ سے تعلقات خراب کرتے ہیں۔عالم اسلام پر یا دنیائے عرب پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سعودی عرب جو ایران کو ایک شیعہ ملک کہہ کر اس کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ پیش کیا کرتا تھا اس کے سنی ممالک سے بھی شدید گہرے اختلافات ہیں۔ترکی شیعہ ملک نہيں ہے لیکن اس کے ساتھ سعودی عرب کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔یمن شیعہ ملک نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔دوسری جانب ایران کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سعودی عرب کے ساتھ اس کے اختلافات رہے ہیں وہیں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات کا معاملہ تو اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فلسطینی تنظیموں کو ایران کی مکمل مدد حاصل رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں ہمیشہ ہی یا ہر ایک بات پر ہی اختلافات نہیں رہے ہیں بلکہ کئی موڑ ایسے بھی آئے ہیں جب دونوں مل کر چلتے رہے ہیں۔جس کی ایک مثال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی جنگ کی ہے جس میں سعودی عرب اور ایران دونوں نے امریکہ کی مدد کی تھی تاکہ روس کو خلیجی ممالک تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    اس کے بعد 1960میں جب مصر نے یمن میں چھیڑ چھاڑ شروع کی اس وقت بھی ریاض اور تہران نے مل کر یمن میں شیعہ فرقے کے لوگوں کی مدد کی تھی۔اس وقت تک یہ دونوں ممالک Regional security کے لئے امریکہ کے Twin pilars
    کہلائے جاتے تھے۔ اور ان کے آپس میں بہت گہرے سیاسی اور سفارتی تعلقات تھے۔1978تک جب ایران میں رضا پہلووی کی حکومت تھی اور سعودی عرب میں King khalidکی حکومت تھی دونوں ممالک کے بہترین تعلقات تھے ان کے درمیان مختلف موقعوں پر ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان دونون نے اپنے اپنے ممالک کو Modrenizeکرنے کے لئے آپس میں مل کر کئی پروگرام بھی شروع کر رکھے تھے۔لیکن صرف ایک سال بعد ہی سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ 1979میں جب ایران میں انقلاب نے سر اٹھایا اور اہل تشیعہ لوگ جو کہ اکثریت میں تھے انھوں نے آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں رضا پہلوون کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور ایران جو کہ ایک سیکولر اور ماڈرن ملک تھا اس کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔اور اسی سال
    1979میں ہی سعودی عرب مین بھی تبدیلی آئی جب مکہ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور سعودی عرب بھی ماڈرن ازم سے واپس اپنے Tribal systemاور بنیاد پرستی کی طرف مڑ گیا۔اور بات یہاں تک ہی نہیں رکی بلکہ ایران نے اپنے فرقے کے نظریات اور سعودی عرب نے اپنے نظریات کو اپنے بارڈر سے باہر دوسرے ممالک تک پھیلانا اور ان پر اثر انداز ہونا بھی شروع کر دیا۔

    اور یہ ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ دونوں کے پاس ایسا کرنے کے لئے وافر وسائل بھی موجود تھے۔لیکن ان کی ایک مزوری بھی تھی جو کہ بعد میں تمام خرابی کی جڑ بنی۔اور وہ کمزوری ان کی مذہبی اور Ethnic minorities
    تھیں اور مشکل یہ تھی کہ یہ اقلیتیں ان ممالک کے ان صوبوں میں آباد تھیں جو کہ تیل کے وسائل سے مالا مال تھے۔
    سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اسی طرح ایران کے صوبے خوزستان میں سنی آبادی کی اکثریت تھی۔ اور اسی صوبے میں ایران کے 80%تیل کے ذخائر بھی موجود تھے۔ اب ایران کو خطرہ یہ تھا کہ کہیں ان کے سنی لوگ سعودی عرب سے تعلق بڑھا کر ان کے ساتھ نہ مل جائیں اور ان کی حکومت کے لئے مشکلات نہ کھڑی کر دیں اور سعودی عرب کو بھی یہی ڈر تھا کہ ان کی شیعہ اقلیت ایران کے ساتھ مل کر حالات خراب کر سکتی ہے اس لئے ان دونوں ممالک کے لوگوں نے ان اقلیتوں کو کنٹرول کرنا اور دبانا شروع کر دیا۔ تاکہ ان کے وسائل کو کوئی خطرہ نہ ہو۔اور یہی بات فرقہ وارانہ تضادات کی بھی وجہ بنی۔ اور ان تضادات کو ختم کرنے یا ان کا کوئی حل نکالنے کی بجائے ان کو سیاسی مقاصد کے لئے ہوا دی جاتی تھی اور فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ اور آہستہ آہستہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ یہ فرقہ وارانہ تضادات ان دونوں ممالک سے نکل کرآس پاس کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔ پاکستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ دونوں فرقے کے لوگوں کے درمیان جب بھی حالات خراب ہوتے تو یہ ممالک اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کرتے اور معاملہ مزید الجھتا۔ اور2011میں ہونے والی عرب سپرنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو اختلافات تھے ان کو مزید بڑھا دیا تھا دونوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے مختلف ممالک کی پشت پناہی کی اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ بحرین میں ایران نے حکومت مخا لف لوگوں کو اسپورٹ کیا۔ جبکہ سعودی عرب نے بحرین کی حکومت کی مدد کرنے کے لئے اپنی فوج بھیج دی۔

    جبکہ سیریا میں سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی اور ایران نے اس کے الٹ وہاں کی حکومت کا ساتھ دیا۔لبنان میں ایران نے حزب اللہ کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب نے لبنان کی حکومت کو سپورٹ کیا۔اسی طرح میں یمن میں ایران نے حوثی باغیوں کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب دوسری سائیڈ پر تھا۔اور آخر میں اگر اسرائیل کی بات کی جائے تو حماس کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ جبکہ سعودی عرب سرکاری طور پر تو اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے لیکن وہ اس کے مخالف بھی نہیں ہے۔ ہاں ایران کو کاونٹر کرنے کے لئے دونوں کے درمیان الائنس ضرور موجود ہے۔یہ صرف کچھ مثالیں تھیں جو کہ میں نے آپ کو دیں یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کسی سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس نے کئی ممالک کو تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے حمایتی ممالک میں UAEKuwaitBahrainEgypt
    Jordanشامل ہیں۔ جبکہ ایران کے حمایتی ممالک میں عراق اور سیریا شامل ہیں۔ یمن لبنان اور قطر میں Splitپایا جاتا ہے۔ یہی وہ لڑائیاں ہیں جن کی وجہ سے شیعہ اور سنی فرقوںکے درمیان فاصلے ہمیشہ بڑھے ہیں یہ دوریاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔
    2016میں حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب سعودی عرب نے شیعہ عالم دین نمر النمر کو پھانسی دی تھی اور اس کے بعد ایرانی مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ریاض نے تہران کے ساتھ اپنے ہر طرح کے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔چھ سال بعد آخر یہ تبدیلی آئی امریکہ اس خطے سے نکل گیا۔ اور مختلف ممالک نے تیل پر اپنا انحصار بھی کم کرنے کی طرف توجی دینا شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے اب تیل پراپنی آمدن کا انحصار کرنے والے ممالک کے لئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو اپنا Vision 2030پورا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے تو ایران کو ضرورت ہے کہ اس پر سے معاشی پابندیاں ختم ہوں اس کی معیشت بہتر ہو اور وہ ترقی کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ دونوں ممالک اپنی لڑائیاں ختم کرکے دوستی کی طرف آنا چاہتے ہیں یعنی معاشی اور سیاسی دونوں مجبوریاں ہیں دونوں کو اپنی تجارت بڑھانی ہے معیشت کو بہتر کرنا ہے جس کے لئے یہ کو ششیں کی جا رہی ہیں کہ اتنی پرانی س=دشمنی کو ختم کیا جا سکے۔