Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مقبوضہ کشمیر:محبوبہ مفتی گھر میں نظربند:    جماعت اسلامی کےارکان کیخلاف فرد جرم عائد

    مقبوضہ کشمیر:محبوبہ مفتی گھر میں نظربند: جماعت اسلامی کےارکان کیخلاف فرد جرم عائد

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو سرینگر میں انکی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا ہے ۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ قابض حکام نے انہیں گزشتہ روز بڈگام میں ایک حملے میں ہلاک ہونے والے کشمیری پنڈت کے سوگواراہلخانہ سے اظہار تعزیت کیلئے جانے سے روکنے کیلئے گھر میں نظربند کردیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے تحفظ میں ناکامی پر بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیری پنڈتوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بڈگام جانا چاہتی تھی، کیونکہ کشمیری مسلمان اور پنڈت ایک دوسرے کے دکھ درد کوسمجھتے ہیں۔ تاہم انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے تحصیل دفتر چاڈورہ کے ملازم کشمیری پنڈت راہل بٹ کو دفتر کے احاطے میں فائرنگ کرکے شدیدزخمی کر دیا تھاجوبعدازاں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔

    ادھربھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے نئی دلی میں ایک عدالت میں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے چار ارکان کے خلاف ایک جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائد کی ہے ۔

    نئی دلی میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں جماعت اسلامی کے ارکان جاوید احمد لون، عادل احمد لون، منظور احمد ڈار اور رمیز احمد کونڈو کے خلاف ایک جھوٹے مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون اور آرمز ایکٹ کی متعدد دفعات تحت دائر کی گئی ہے ۔ این آئی اے نے ایک بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کے ارکان کے خلاف آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف سرگرمیوں پر ایک مقدمہ درج کیاگیا تھا ۔

  • "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    صحرائے چولستان جنوبی پنجاب میں موجود صحرا ہے جو سندھ کے صحرائے تھر اور بارڈر کے دوسری طرف انڈیا کے صحرائے راجستھان سے ملتا ہے. جنوبی پنجاب میں ہی پنجاب کا دوسرا صحرا "تھل” بھی واقع تھا.

    تھل کا صحرا کہ جس کو "تھل” نہر کے پانی سے سیراب کرکے آباد کیا جاچکا ہے اور اب خوشاب، میانوالی، لیہ اور بھکر کے علاقوِں میں ریت کے ٹیلوں سے ہی یہاں صحرا کا گمان ہوتا ہے جبکہ بیشتر زمینیں کاشتکاری کے اور دیگر مقاصد کے لیے کارآمد بنائی جاچکی ہیں.

    جبکہ چولستان کا صحرا بہاولنگر کے علاقوں سے شروع ہوکر، بہاولپور سے ہوتا ہوا رحیم یارخان سے سندھ کے صحرائے تھر سے مل جاتا ہے. ماضی میں یہ دریائے ہاکڑا کی بدولت یہ علاقہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صحرا بنتا چلا گیا.

    یہ صحرا بڑا اہم تجارتی روٹ تھا. اس صحراء میں موجود جابجا قلعے اسی تجارتی روٹ پر واقع تھے جن میں کچھ کی باقیات اور نشان ملتے جیسے رحیم یار خان میں بھاگلہ قلعہ وغیرہ ہیِں جبکہ کچھ اپنی حالتوں میں موجود ہیں جیسے بہاولپور میں دراوڑ قلعہ ہیں.

    گزشتہ دنوں میں پڑنے والی شدید گرمی اور بارشیں نہ ہونے کے باعث "ٹوبوں” میں موجود تالابوں وغیرہ میں پانی خشک ہوگیا جس کے باعث جانوروں کو پانی نہ ملنے سے جانوروں کے ہلاک ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سینکڑوں جانور ہلاک ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے غذائی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے.
    اب کیفیت یہ ہے کہ مسلسل خشک سالی کے باعث جانور تو جانور انسان بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انتہائی مجبوری کے عالم میں وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے.

    ایسے میں ہمشیہ کی طرح سے پاکستان کے رفاہی اور مددگار میدان میں آچکے ہیں اور پانی کے ٹینکرز اور خوراک کے ساتھ اللہ اکبر تحریک کے رضاکار ابتدائی امداد لے کر پہنچ چکے ہیِں گو کہ یہ بہت زبردست ہے لیکن یہ مدد فی الحال ناکافی ہے لہذا پوری قوم کو اس مشکل وقت میں چولستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے.
    محمد عبداللہ

  • 21سال مردہ بیوی کے ساتھ  زندگی گزارنے والا شہری

    21سال مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے والا شہری

    بنکاک: تھائی لینڈ کے بزرگ شہری نے 21 سال بعد اہلیہ کی آخری رسومات ادا کردیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے رہائشی 72 سالہ شخص دو دہائیوں سے اپنی مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا بزرگ تھائی شہری متعدد ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں اس کے باوجود ان کے گھر میں بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات تک موجود نہیں اور وہ انتہائی نامناسب حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    سگا باپ دو نوجوان بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بزرگ شخص نے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیوی کا جنازہ ایک باکس میں رکھا ہوا تھا اور جنازے سے ایسے گفتگو کرتا تھا جیسے بیوی زندہ ہو۔

    تاہم اب 72 سالہ چرن جنوٹچکل نامی شخص نےایک این جی اوکی مدد سےاپنی اہلیہ کی 30 اپریل 2022 کو تدفین کی ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ این جی او کے رضاکار چھوٹے سے کمرے سے باکس کو نکالتے ہیں جسے پلاسٹک میں لپٹا ہوتا ہے۔

    13 سال بعد "اوتار2” کا پہلا ٹیزر جاری

    رپورٹ کےمطابق بزرگ شخص کےخلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی کہ انہوں نے 2001 میں اپنی اہلیہ کےانتقال کی خبر متعلقہ حکام کودرج کروائی تھی اورلیکن اس کی آخری رسومات ادا نہیں کیں-

    معمر تھائی شہری نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھے مگر جب میں نے اپنی اہلیہ کے جنازے کو گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا تو میرے بیٹوں سے مجھے تنہا چھوڑ دیا۔

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

  • مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے:قمر زمان کائرہ

    مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے:قمر زمان کائرہ

    قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے۔وزیر اعظم کے مشیر برائے آمور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ سے آزاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم سردار محمد یعقوب خان کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔

    ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی اور آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق گفتگو کی گئی جبکہ ملاقات میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور عوام کے مسائل سے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کو دنیا کے تمام فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج وزرات خارجہ میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے بھارتی غیر قانونی منصوبوں سے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے آمور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے ضمن میں اپنا تمام تر تعاون جاری رکھے گی۔سردار یعقوب خان نے قمر زمان کائرہ کو مشیر برائے آمور کشمیر کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

    وزیر اعظم سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سلام پیش کرتے ہیں، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔

  • مودی کی فسطائی حکومت کشمیری طلباءکا مستقل تاریک کرنے پر تلی ہوئی ہے:حریت رہنما

    مودی کی فسطائی حکومت کشمیری طلباءکا مستقل تاریک کرنے پر تلی ہوئی ہے:حریت رہنما

    سری نگر:جموں وکشمیر میں آزادی پسند تنظیموں رہنماﺅں اور طلبہ تنظیموں نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کشمیری طلبہ کا مستقبل تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جموں وکشمیر پیپلز لیگ ، جموںوکشمیر مسلم لیگ ، جموں وکشمیر مسلم کانفرنس ، فلاح پارٹی جموںوکشمیر کے نائب چیئرمین ڈاکٹر اختر رسول ، جموںوکشمیر سٹوڈنٹس یونین ، ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں بھارتی حکومت کے حالیہ نوٹس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    جس میں پاکستان میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کی اسناد کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور نہ انہیں نوکریاں دی جائیں گی۔

     

     

    حریت تنظیموں رہنماﺅں اور دیگر نے کہا کہ بھارت کشمیری طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات فراہم نہیں کر رہا اور جو کشمیری بھارتی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں انہیں بھارتی انتہا پسند ہندوﺅں کے عتاب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کشمیریوں کو تعلیم کے میدان میں بھی پیچھے رکھ کر ان پر بھارتی ہندو افسروں کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کی اسناد کو قبول نہ کرنا بھارتی تعصب اور تکبر کی ایک اور نشانی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام تعلیم کے حصول کے حق کے عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    حریت تنظیموں رہنماﺅں اور دیگر نے مزید کہا کہ بھارت پہلے ہی کشمیری ملازمین کو بلا جواز طور پر نوکریوں سے نکال رہا ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے نوکریوں سے باہر رکھ کر کشمیر ی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا ایک اور ثبوت دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    حریت تنظیموں رہنماﺅں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں غیر قانونی بھارتی اقدامات کو نوٹس لے اور کشمیریوں کو اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کرے۔

  • کپتان سابق راشد لطیف کشمیر پریمئر لیگ کے ڈائریکٹر آپریشنز مقرر

    کپتان سابق راشد لطیف کشمیر پریمئر لیگ کے ڈائریکٹر آپریشنز مقرر

    کراچی :پاکستان میں کرکٹ کی دنیا کے ایک نامورکھلاڑی پاکستانی سٹار پاکستان ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کو کشمیر پریمئر لیگ کا ڈائریکٹر آپریشنز مقرر کردیا گیا ہے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق کشمیر پریمئر لیگ کے صدرعارف ملک نے سابق کپتان راشد لطیف کو کشمیر پریمئر لیگ کا ڈائریکٹر آپریشنز مقرر کیا ہے۔

     

    اس حوالے سے راشد لطیف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں کرکٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے بروقت تیار ہیں جبکہ پچھلے سال بھی کشمیر پریمئر لیگ کامیاب رہی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ٹیلنٹ کو کشمیر پریمئر لیگ میں شامل کیا جائے گا جبکہ پاکستان اورکشمیر میں بہت سے باصلاحیت کھلاڑی بھی موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف 37 ٹیسٹ اور166 ون ڈے میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں جبکہ وہ افغانستان کی قومی ٹیم کے بھی کوچ رہ چکے ہیں۔

    علاوہ ازیں راشد لطیف کو کئی نامورکھلاڑی متعارف کروانے کا بھی اعزاز حاصل ہے جبکہ پاکستان ٹیم کے سابق کپتان یونس خان کو بھی انہوں نے ہی متعارف کروایا تھا۔

    ادھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سابق پاکستانی کرکٹر منصور اختر کو فکسنگ الزامات سے کلیئر کردیا۔اکتوبر دوہزار انیس میں گلوبل ٹی ٹونٹی لیگ میں پاکستانی کرکٹر عمر اکمل کی جانب سے منصور اختر پر فکسنگ کے لیے اپروچ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سینئر منیجر سٹیو رچرڈسن کی جانب سے منصور اختر کو لکھے گئے خط میں واضح کیاگیاکہ ان پر فکسنگ کا کوئی چارج نہیں لگایا جارہا۔ الزامات کے حوالے سے جاری تفتیش کو ختم کردیاگیاتاہم اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی نئے شواہد سامنے آئے تو دوبارہ اس کیس کو کھولا جاسکتاہے۔

    امریکہ میں مقیم منصور اختر اس ٹیم کے ساتھ منسلک تھے جس کی طرف سے عمر اکمل نے حصہ لیا تھا، عمر اکمل نے پی سی بی اور آئی سی سی کو آگاہ کیا تھا کہ منصور اختر کی جانب سے انہیں میچز کے دوران فکسنگ پر اکسایا گیا تھا۔

  • بھارتی فلم "دی کشمیر فائلز”حقائق کےمنافی قرار،سنگاپورنےپابندی عائد کردی

    بھارتی فلم "دی کشمیر فائلز”حقائق کےمنافی قرار،سنگاپورنےپابندی عائد کردی

    سنگاپور: سنگاپورنے انڈیا فلم دی کشمیر فائلز پر دستخط کرتے ہوئے کہا سنگاپور کی حکومت کے مطابق فلم میں تنقید کو منفی طور پر اور ہندوستانی کشمیر سے ہندوستان کے انخلاء سے متعلق حق کویکطرفہ طور پر تسلیم کیا گیا۔

    اس حوالے سے سنگا پورحکومت کا کہنا ہے کہ فلم کی نمائش میں مسلم اور پاکستانی قوم کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے جس سے کثیر المذہبی اور کثیر النسلی ریاست میں سماجی رابطوں اور مذہبی ہم آہنگی متاثر ہو رہے ہیں۔

    وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارت کے انتہائی قدامت پسند ہندوؤں نے بھی اس فلم کی تعریف کی ہے اور اسی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ہوئی ہے تاہم ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فلم مسلم مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہے اور معاشرے میں تقسیم کا سبب بن سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس اس 170 منٹ طویل فلم کے مداح انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ اس فلم میں کشمیر کی تاریخ کا وہ پہلو دکھایا گیا ہے جسے میڈیا عام طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔ دوسری جانب بہت سے افراد اس فلم کو نریندر مودی کی مسلم مخالف مہم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سنگاپور 55 لاکھ افراد پر مشتمل ریاست ہے جہاں مسلمان، مالے اور ہندو آباد ہیں۔ اس جنوب مشرقی ریاست میں نسلی اور مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں۔

    اعتدال پسند بھارتی تجزیہ کار بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مسلم مخالف جذبات پروان چڑھے ہیں اور مودی حکومت کی جانب سے بھی ایسے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ معتصبانہ رویے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

  • آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    جنگ عظیم دوئم کے زمانے سے برمودا ٹرائی اینگل ساری دنیا کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے اور اس کے بارے میں غیر ماورائی معاملات مشہور ہیں برمودا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس کا ایک مخصوص حصہ ہے، اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا پورٹوریکو اور تیسرا میامی سے متصل ہے اور ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو برمودا تکون یا مثلث کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں جن کے باعث اس کو شیطانی مثلث بھی کہا گیا ہے، ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی واقعات شامل ہیں برمودا ٹرائی اینگل سمندر کے اندر ایک ایسا پُراسرار علاقہ ہےجہاں اب تک بہت سے طیارے،کشتیاں اور جہاز غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا

    سری لنکا میں پر تشدد جھڑپیں: 5 ہلاک، 190 سے زائد زخمی، مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر آتش، کرفیو نافذ

    اس حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جاتیں ہیں لیکن آج تک کوئی بھی واضح طور پر برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل نہیں کرسکا تاہم اب ایک آسٹریلوی سائنسدان نے برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ‘ کارل کروزیلنکی'(Karl Kruszelnicki) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں طیاروں اورکشتیوں کی پراسرار گمشدگی کے پیچھے مافوق الفطرت وجوہات نہیں ہیں۔

    ان کا خیال ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر خراب موسم اور انسانی غلطی کا نتیجہ تھے جبکہ انہوں نے ان مقبول نظریات کو بھی رد کیا ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ ان گمشدگیوں کا تعلق مافوق الفطرت اسباب سے ہے۔

    انہوں نے 2017 میں ایک جگہ کہا تھا کہ یہ علاقہ خط استوا کے قریب ہے اس لیے یہاں بہت ٹریفک ہے جبکہ لائیڈز آف لندن اور امریکن کوسٹ گارڈ کے مطابق برمودا ٹرائی نگل میں گمشدگیوں کی تعداد فیصد کی بنیاد پر دنیا میں کہیں گمشدہ ہونے کی تعداد کے برابر ہے اس کے علاوہ کارل نے اپنے نظریے میں اس فلائٹ 19 کا بھی ذکر کیا جو برمودا ٹرائی اینگل کی تمام گمشدگیوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔

    یہ پرواز پانچ طیاروں پر مشتمل تھی جس نے 5 دسمبر 1945 کو فلوریڈا کے فورٹ لاؤڈرڈیل سے اڑان بھری تھی اور اس میں عملے کے 14 ارکان سوار تھے لیکن امریکی بحریہ کے بمبار طیاروں کا (جو معمول کے تربیتی مشن پر کام کر رہے تھے) پانچوں طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ طیارے غائب ہوگئے اور عملہ یا ملبہ کبھی نہیں ملا جبکہ فلائٹ 19 کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا ایک طیارہ بھی اسی رات غائب ہو گیا تاہم کارل کا خیال ہے کہ فلائٹ 19 اس دن بحر اوقیانوس میں 15 میٹر کی بلند لہروں کی وجہ سے غائب ہوئی پرواز میں واحد تجربہ کار پائلٹ لیفٹیننٹ چارلس ٹیلر تھا جس کی انسانی غلطی اس سانحہ کا سبب بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک اس مقام پر 2 ہزار بحری جہاز اور 200 طیارے لاپتہ ہوچکے ہیں ایسی برقی لہریں اور مقناطیسی کشش بھی موجود ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو تروڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہیں امریکی میڈیا پر ان ہی جگہوں پر خلائی اور دیگر حقائق سامنے لانے والوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

    تاہم اس علاقے میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ ایسا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، یہ واقعہ ایسا ہے جسے سن کر ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ جاتی ہے4 دسمبر 1970 کی ایک روشن صبح بروس گارنن نامی ایک پائلٹ نے بہاماس کے جزیرے اینڈروس سے اڑان بھری، اس کے چھوٹے جہاز میں صرف 2 مسافر سوار تھے اور ان کی منزل فلوریڈا کا شہر میامی تھایہ ایک معمول کی پرواز تھی جس پر بروس اس سے پہلے درجنوں بار جاچکا تھا جب طیارہ 1 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا تو طیارے کے سامنے ایک چھوٹا سا سیاہ بادل آگیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ہی اپنا حجم بڑھانے لگا، بروس کو مجبوراً اس بادل کے اندر سے گزرنا پڑا۔

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    آگے جا کر جب طیارہ 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر پہنچا تو پائلٹ کے سامنے ایک اور پراسرار سیاہ بادل آگیا۔ یہ بادل بہت بڑا تھا اور طیارے کو اس کے اندر سے گزارنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا بروس نے طیارے کو بادل کے اندر داخل کردیا، اندر سیاہ گھپ اندھیرا تھا لیکن یہ طوفانی بادل نہیں تھا تھوڑی دیر بعد اچانک بادل کے اندر سفید روشنی کے جھماکے سے ہونے لگے۔ پائلٹ نے لمحے میں جان لیا کہ یہ روشنی آسمانی بجلی نہیں تھی، کچھ اور تھی بادل کے اندر طیارے کا سفر نصف گھنٹہ جاری رہا، اچانک بروس کو محسوس ہوا کہ یہ وہی بادل تھا جو 10 ہزار فٹ کی بلندی پر اس سے ٹکرایا تھا اور یہ احساس ہوتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

    بادل اب ایک سرنگ کی سی شکل اختیار کرچکا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اب یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اچانک پائلٹ کو سامنے روشنی کی ہلکی سی کرن دکھائی دی جس کا مطلب تھا کہ بادل کی سرنگ ختم ہورہی ہے پائلٹ کے جسم میں نئی جان دوڑ گئی، لیکن جیسے جیسے روشنی قریب آنے لگی اچانک طیارے کے آلات ایک کے بعد ایک خرابی کا سگنل دینے لگے تمام انڈیکیٹرز جلنے بجھنے لگے اور کچھ دیر بعد پائلٹ طیارے پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، لیکن طیارہ تب بھی اڑتا رہا۔

    بروس کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے طیارے کو کوئی اور قوت چلا رہی ہو، یا آسمان میں کوئی کرنٹ ہو جس کے باعث طیارہ خود بخود اڑ رہا ہو کچھ دیر بعد طیارہ بالآخر بادل کی سرنگ سے نکل آیا، اور اس کے ساتھ ہی طیارے کے آلات ایسے کام کرنے لگے جیسے ان میں کبھی کوئی خرابی ہوئی ہی نہیں تھی بادل سے نکلنے کے بعد بھی طیارہ کچھ منٹ مزید گہری سفید دھند میں سفر کرتا رہا۔ اس دوران اس نے گراؤنڈ کنٹرول سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسے اس کی موجودہ لوکیشن بتائیں۔

    کہاں ہوگی بارش؟ کہاں چلیں گی گرم ہوائیں؟

    گراؤنڈ کنٹرول کی جانب سے جواب ملا کہ طیارہ ریڈار پر دکھائی نہیں دے رہا جس سے بروس پریشان ہوگیا پھر اچانک دبیز دھند ختم ہوگئی اور بروس نے دیکھا کہ وہ عین میامی یعنی اپنی منزل کے اوپر تھا یہ ایک اور حیران کن بات تھی، یہ فاصلہ 217 میل تھا جسے ایک گھنٹہ 15 منٹ میں طے کیا جانا تھا، لیکن طیارے کو اپنا سفر شروع کیے صرف 47 منٹ ہی گزرے تھے بہرحال طیارہ بحفاظت میامی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔

    لینڈ کرتے ہی بروس نے طیارے کا فیول چیک کیا تو وہ اتنا خرچ نہیں ہوا تھا جتنا طے شدہ فاصلے کے مطابق اسے خرچ ہونا چاہیئے تھا بروس نے سفر سے متعلق تمام دستیاب معلومات چیک کیں تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا طیارہ سفر کے نصف وقت میں اپنی منزل پر پہنچا اس نے فوری طور پر ایوی ایشن ماہرین نے رابطہ کیا اور انہیں خود پر گزرنے والی صورتحال بتائی، لیکن کوئی بھی اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

    بالآخر بروس نے خود ہی اس بارے میں معلومات جمع کیں اور ان سے ایک نتیجہ نکالا کہ بادل کے اندر روشنی کے سفید جھماکے دراصل الیکٹر ک فوگ تھی کچھ افراد نے ایک ممکنہ خیال پیش کیا کہ بروس ڈارک انرجی کی وجہ سے وقت کو جلدی طے کرنے میں کامیاب ہوا، یہ وہی توانائی ہے جس کی وجہ سے ہماری کائنات پھیلتی ہے۔

    یہ توانائی بلیک ہول کی طرح وقت اور مقام میں خلل (ٹائم ٹریول قسم کے حالات) پیدا کرسکتی ہے، اسی کی وجہ سے بادل کی ایک سرنگ پیدا ہوئی، بروس اتفاق سے اس سرنگ میں جا نکلا اور خوش قسمتی سے زندہ سلامت نکلنے میں کامیاب رہا کچھ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بادل اس علاقے میں عام ہیں اور اکثر پائلٹس کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اس کی وضاحت کوئی نہ دے سکا کہ بروس نے اپنے سفر کا نصف وقت کیسے پار کرلیا، بروس گارنن کی یہ فلائٹ آج بھی ایک راز ہے جو حل طلب ہے۔

    دشمن ممالک کو خوش کرنے کیلئےعمران نیازی ایک خطرناک ایجنڈے پر گامزن ہیں،شرجیل میمن

    کیا دجال برمودا ٹرائی اینگل میں رہتا ہے؟

    رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے دجال کے رہنے کی جگہ ایک غیرآباد جزیرہ ہے، اس کے کارندے لمحہ با لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، دجال کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

    صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں، وہ مشرق میں ہے اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو ’ڈیول سی‘ یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے ’برمودا ٹرائی اینگل‘ ہی وہ دو جگہیں جنہیں یہودی بھی جہنم کا دروازہ مانتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی آخری سرا امریکا سے جا کر ملتا ہے۔

    مصری محقق عیسیٰ داؤد نے اپنی کتاب ’مثلث برمودا‘ میں کہا کہ دجال بحر الکاہل کے ان غیرآباد اور ویران جزائر میں تھا، اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا تھا مگر آخری رسول ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اور وہ آزاد ہوگیا، مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی، لہذا اب وہ ’ڈیول سی‘ سے ’برمودا ٹرائی اینگل تک رابطے میں ہےجس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نقطہ عروج کو پہنچنے والی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کی چارج شیٹ جاری کردی

  • مقبوضہ کشمیر:ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6 افراد جاں بحق

    مقبوضہ کشمیر:ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6 افراد جاں بحق

    مقبوضہ کشمیر:ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6 افراد جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف واقعات میں ایک لاپتہ نوجوان سمیت 6افراد لقمہ اجل بن گئے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے بانہال قصبے میں ایک 25سالہ لاپتہ نوجوان کی لاش پراسرار حالات میں برآمد کی گئی۔ جس کی شناخت شوپیاں کے عارف گنائی کے طور پر ہوئی ہے جو تین دن پہلے لاپتہ ہو گیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مقتول کی شادی کی تقریب اگلے ہفتے طے تھی، حکام نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب جموں کے علاقوں برمن اور پنچھاری میں دو الگ الگ واقعات میں دو افراد نے خودکشی کرلی۔

    دریں اثناء ضلع رامبن کے علاقے میترا کے قریب دو کمسن لڑکے دریائے چناب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے جبکہ ایک اور نوجوان ضلع جموں کے علاقے میرپور کے قریب دریائے چناب میں نہاتے ہوئے ڈوب گیا۔

    ادھر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں معروف آزادی پسند رہنما حاجی محمد سلطان شاہ آج مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مرحوم ضلع بانڈی پورہ کے علاقے نادی ہل کے رہائشی تھے۔ حاجی محمد سلطان کا شمار تحریک آزادی کے اولین رہنماﺅں میں ہوتا تھا ۔ وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے اور ایک انتہائی نڈر اور بے باک رہنما تھے۔

    دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس آزادجموں وکشمیرشاخ کے کنوینر محمد فاروق رحمانی نے ایک بیان میں حاجی محمد سلطان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک آزادی میں مرحوم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    حریت آزاد جموں وکشمیر کے رہنما امتیاز احمد وانی نے بھی انکی وفات پر رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے غمزدہ لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

  • پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیارپورٹ کےمطابق سنہ 2016 میں راجستھان کے دارالحکومت میں ششھی کانت کا قتل ہوا تھا جس کی لاش تین دن بعد ملی تھی، بعد ازاں مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج پر معاملہ عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوا تھا اب جہاں ہائی کورٹ کی جانب سے کیس کا فیصلہ قریب تھا تو پولیس نے شواہد گم ہونے کا الزام بندر پر عائد کردیا ہے۔

    گجرات کے بعد اوکاڑہ کے قبرستان میں کمسن بچی کی نعش نکال کر بیحرمتی کا واقعہ

    رپورٹ کے مطابق راجستھان کی ہائی کورٹ میں ششھی کانت نامی شہری کے قتل کا کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے پولیس سے قتل کے شواہد مانگے تو اس نے عجیب وغریب منطق پیش کی اور کہا بندر نے پولیس اسٹیشن سے تمام ثبوت چوری کرلیے ہیں جس میں قتل میں استعمال ہونے والا تیز دھار آلہ بھی شامل تھا۔

    رپورٹس کے مطابق پولیس نے عدالت میں تحریری بیان جمع کرایا جس میں لکھا ہے کہ مذکورہ کیس کے شواہد بیگ میں موجود تھے اور بیگ بندر اٹھا کر غائب ہوگئے ہیں۔

    معذور لڑکی کی نعش قبر سے نکال کر بیحرمتی،ملزمان گرفتار نہ ہو سکے