Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    ۔ ملک میں سیاسی ہلچل اور سیاسی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر پانچ منٹ بعد کوئی نہ کوئی بریکنگ نیوز آرہی ہے ۔ کوئی نہ کوئی گروپ ، اتحادی ، حکومتی ارکان یا اپوزیشن لیڈر پریس کانفرنس کر رہا ہے ۔ یوں کراچی سے پشاور تک اور کوئٹہ سے لاہور تک اسلام آباد میں تخت بدلے جانے کی خبریں گردش میں ہیں ۔
    ۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی بات کریں تو دھمکیاں دینے سے وہ باز نہیں آرہے ہیں لگ یوں رہا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ڈرانا چاہ رہے ہیں مگر اپوزیشن مزید تگڑی ہوکر سامنے آرہی ہے ۔ بلکہ دیکھائی یوں دیتا ہے کہ اپوزیشن اب عمران خان کے ہر حملے کا جواب ان کی ہی زبان ، انکے ہی انداز اور ان کے ہی طریقے میں دینے کے لیے مکمل تیار ہے ۔
    ۔ کراچی کے بعد آج لاہور میں عمران خان نے دوبارہ اس بات کو دوہرایا ہے کہ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد سب کا حساب چکتا کر دوں گا۔ پنجاب میں پیدا ہونے والے حالات پر بھی قابو پا لیں گے، تمام ارکان میرا ساتھ دیں گے، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔۔ کیونکہ میرے کپتان نے اپنی جارجانہ انداز بیان سے گرما گرمی خوب بڑھا دی ہے تو آج پارلیمنٹ لاجز میں موجود اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کی سکیورٹی کیلئے جے یوآئی کی سکیورٹی تنظیم انصارالاسلام کے سکیورٹی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے ۔۔ پھر انصار الاسلام کے کارکنوں کی موجودگی پر اسلام آباد پولیس نے آپریشن کرکے متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔ پولیس جے یو آئی کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو بھی گرفتار کر کے لے گئی جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے اپنے کارکنوں کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جو کارکن اسلام آباد نہ پہنچ سکے وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں کو جام کردیں۔۔ کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے ارکان کے لاپتہ کیے جانے اور سکیورٹی پر خدشات ظاہر کیے تھے جس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انصار الاسلام کے کارکن اپوزیشن کے تمام ارکان کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔

    ۔ اب اس پر شہباز گل سمیت دیگر تو خوب سیخ پا ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اس معاملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا یہ سیکورٹی لیپس ہے۔ بلکہ آئی جی اسلام آباد کوکوس رہے تھے۔ بہرحال آئی جی اسلام آباد نے اسکا فوری نوٹس لے کر کئی پولیس افسران معطل کر دیے ۔۔ مگر ن لیگ کی مریم اورنگ زیب اور دیگر اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ جب کھلے عام دھمکیاں دی جائیں گی تو ہم اپنے ارکان کی سیکورٹی کابندوبست تو کریں گے ۔ ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عمران خان اگر مزید ایک دو دن ایسے بیانات دیتے رہے تو معاملات کس نہج تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ خود ان کی اپنی حکومت اور پارٹی کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ کیونکہ بیانات دینا ، ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنوانا کچھ اور چیز ہے اور عملی طور پر گراونڈ پر حالات کچھ اور معاملہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے عمران خان کی اس وقت عوامی حمایت ویسی نہیں ہے جیسے 2018کے الیکشن سے پہلے تھی اور اس چیز کو ہی اپوزیشن سب سے زیادہ کیش کررہی ہے ۔ مگر عمران خان اب بھی اپنے پرانے اسٹائل میں ہی اپوزیشن کو ڈیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اب وہ حکومت میں ہیں اور دیگر جماعتیں اپوزیشن میں ہیں ۔ ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو بلاول بھٹو زرداری نے دھواں دار پریس کانفرنس کی ہے ۔ جس میں وہ کافی غصہ میں بھی دیکھائی دیئے ۔ مگر غصے کے باوجود انھوں نے کسی نازیبا لفظ کا استعمال نہ کیا ۔ مگر چھوڑا انھوں نے کسی کو نہیں ۔۔ گزشتہ روز کی کپتان کی دھمکیوں کا بڑا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے باور کروا دیا کہ اگر بندوق کی بات ہوگی تو چلائی تو کبھی نہیں مگر ایسا نہیں کہ وہ چلا نہیں سکتے ۔ بلاول نے یہ بھی یاد کروایا کہ عمران خان کے والد اکرام اللہ نیازی کو کرپشن الزامات پر نوکری سے نکالا گیا ۔ پھر اس بات کو بنیاد بنا کر انھوں نے کہا کہ۔ عمران خان کو شرم نہیں آتی، اپنی والدہ کے نام پر اسپتال کے پیسے پر ڈاکا ڈال کر اپنی پارٹی چلائی، امریکی عدالت نے آپ کے خلاف فیصلہ سنایا ہے لیکن آپ دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہو۔۔ پھر بشری بی بی کو بھی نہیں چھوڑا اور کہا کہ میں نے کبھی بھی خاتون اول کے بارے میں کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی لیکن خاتون اول کی کرپشن کے بارے میں جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں کوئی ٹرانسفر اور پوسٹنگ اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک خاتون اول کو پیسے نہ دیے جائیں۔
    ۔ جبکہ مولانا کے حوالے سے کہا کہ ہمارا مولانا کی فیملی سے 1971 سے سیاسی اختلاف ہے لیکن میں نے کبھی بھی مولانا فضل الرحمان کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کی۔ آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ مولانا فضل الرحمان کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔

    ۔ بلاول کے بعد اپوزیشن کی جانب سے دوسرا بڑا حملہ ن لیگ کی طرف سے ہوا ۔ مریم نواز نے عمران خان شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری جماعت کے بخیے ادھڑ رہے ہیں اور اس کی ذمہ دار نہ اپوزیشن ہے اور نہ کوئی ملکی یا غیر ملکی سازش۔ اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں، آپ کی گندی زبان ہے، آپ کا تکبر اور غرور ہے اور اپنے ممبران کو احترام نہ دینا ہے۔ اب بہت دیر ہو چکی۔ آپ کی خالی دھمکیاں اب کسی کام کی نہیں۔
    ۔ غصہ، اشتعال، دھمکیاں، گالیاں، زبان درازی، گھبرا گئے ہو نا ۔۔۔
    ۔ تم نے پاکستان کو تباہی و بربادی کے گڑھے میں پھینک دیا ہے ۔
    ۔ مزید سازش کا واویلا کر کے تم قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
    ۔ تمہارا کارنامہ یہ ہے کہ تم نے پاکستان کو اندرونی طور پر تباہ و برباد اور بیرونی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ اپنا انجام دیکھ کر گھبراؤ نہیں- ڈرامہ بازی بند کرو۔۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے زرا شائستہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اپنا انجام نظر آنے لگا ہے جس کے باعث وہ چور چور کا واویلا مچا کر غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ گھٹیا سیاست کر رہے ہیں ۔ ۔ تو اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی نے اپنی تقاریر میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ ان کے ساتھیوں کو چاہئے کہ جب کچھ ایسا کہنے لگیں ان کے منہ پر ٹیپ لگا دیں ۔ ۔ دراصل آج بلاول اور مریم سمیت دیگر نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ جو سمجھتے ہیں اپوزیشن ڈر جائے گی اور پیچھے ہٹ جائے گی۔ ایسا نہیں ہوگا ۔ اور اگر عمران خان اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی کوشش کریں گے تو رہتے وہ خود بھی شیشیے کے گھر میں ہی ہیں باقی بھی پتھر مارسکتے ہیں۔۔ دیکھا جائے تو گزشتہ کئی روز سے عمران خان کافی جارحانہ انداز میں اپوزیشن کو باونسرز مار رہےتھے ۔ مگر آج اپوزیشن نے بھی میدان عمل میں آکر کپتان کو چوکے چھکے لگا دیے ہیں۔ ۔ کیونکہ جس طرح آج اپوزیشن نے آکر حملہ کیا ہے اب عمران خان اپنے بیانات کے حوالے سے بیک فٹ پر نہ گئے تو نقصان زیادہ ان کا ہی ہوگا ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ پیچھے نہیں جائیں گے بلکہ مزید غصہ دیکھانے کی کوشش کریں گے ۔ مگر اس بار حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں ۔ ۔ کیونکہ جب بلاول یا مریم یا شہباز یا مولانا ۔۔۔۔ عمران خان کی بیگم بشری بی بی ، والد گرامی ، شوکت خانم ہسپتال اور انکی بہن پر بات کریں گے تو یہ چیزیں پھر میڈیا پر بھی ڈسکس ہوں گی ۔ اور جب یہ وہاں ڈسکس ہوں گے تو یہ چیزیں عمران خان کو بہت دکھی کریں گی ۔ ۔ مراد سعید سے پریس کانفرنس کرواکر اس کو کور اپ کرنے کی کوشش تو کی ہے ۔ مگر یہ مراد سعید کے بس کی بات نہیں کیونکہ اپوزیشن کی تمام لیڈر شپ نے خود سامنے آکر عمران خان کو جواب دیا ہے ۔

    ۔ یوں اپوزیشن صرف ڈرائنگ روم کی سیاست میں ہی نہیں عمران خان کو ٹف ٹائم دے رہی ہے بلکہ بیانیہ کی جنگ میں بھی خوب رگڑا لگا رہی ہے ۔ اس وقت دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بھی ضرورت ہے کہ وہ لوگ جو کپتان کی وفاداری کادم بھرتے تھے ۔ خاص طور پر عمر ایوب ، خسرو بختیار ، غلام سرور ، اعظم سواتی ، اعجاز شاہ ، فخر امام وغیرہ ۔۔۔ ایسی ناموں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ یہ بالکل منظر سے غائب ہیں ۔ اب یہ نہ تو کوئی پریس کانفرنس کررہے ہیں ۔ نہ ٹی وی شوز میں جارہے ہیں ۔ ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یہ وہ کردار ہیں۔ جو موسم بہار ہو تو سب سے آگے یہ ہوتے ہیں اور جب موسم خزاں کا ہو تو یہ اردگرد تو دور کی بات یہ بھی شائبہ نہیں ہونے دیتے کہ یہ اس مشکلات میں گھیری سیاسی جماعت کے وزیر ہیں ۔۔ آخر میں یہ بھی بتا دوں کہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی ایک ہی حملہ میں دو وکٹیں گرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔ ۔ پھر ترین گروپ میں تنازعات کی بہت سے خبریں گردش کررہی ہیں ۔ اس میں پی ٹی آئی والوں کی زیادہ کارستانی ہے ۔ حالانکہ صورتحال یہ ہے کہ ق لیگ کی دوبارہ انٹری کے بعد ممکن ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلی ق لیگ کا ہو ۔ اور اسپیکر ترین گروپ کا یا پیپلزپارٹی کا ۔ آج اس حوالے سے بھی تمام چیزیں تقریباً فائنل ہوجائیں گی ۔ ۔ میری چڑیل کے مطابق جس طرح اپوزیشن نے پلاننگ کی ہے اگر ویسا ہوگیا تو ۔ نیا صدر پیپلزپارٹی سے ، اسپیکر جے یوآئی ف سے ، وزیر اعظم ن لیگ سے اور وزیر اعلی ق لیگ سے آتا دیکھائی دے رہا ہے ۔

  • کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل کو انگریزی بولنے پر ٹوک دیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی۔

    درخواست گزار کے وکیل کوکب اقبال نے موقف اپنایا کہ اردو زبان کے نفاذ کا حکم 2015 میں دیا گیا لیکن آج تک عمل نہیں ہوا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت سی ایس ایس امتحانات میں بھی اردو شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔

    وکیل کوکب اقبال نے عدالت سے کہا کہ میں نے 2003 میں درخواست دائر کی تھی اور چاہتا ہوں میری زندگی میں کیس کا فیصلہ ہو جائے، سپریم کورٹ وزیر اعظم کو ہدایات دیں کہ اردوزبان کو سرکاری زبان کےطور پر رائج کرے بیوروکریسی سپریم کورٹ کےبجائےوزیراعظم کے حکم کو مانتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے از خود دائرہ اختیار کو ریگولیٹ کرنے والی آئینی ترمیم منظور

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ حکومت اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے وکیل کوکب اقبال نے کہا کہ امیر کا بچہ سی ایس ایس کر لیتا ہے اور غریب بس کلرک ہی بنتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، ہمارے بزرگ انگریزی کے بجائے عربی اور فارسی جانتے تھے۔

    سپریم کورٹ نے وفاق اور پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پرنافذ کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریری فیصلہ بھی اردو میں جاری کیا تھا سائلین بھی متعدد بار یہ شکایت کرچکے ہیں کہ کیس کی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھ ہی نہیں آتی، جو بعد میں انہیں وکیل سے پوچھنی پڑتی ہے۔

    گذشتہ برس اردو زبان رائج نہ کرنے پر وکیل کوکب اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی گذشتہ برس ستمبر اور رواں ماہ جنوری میں بھی اس کیس کی ایک سماعت ہوئی تھی جس میں حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

    ستمبر 2015 میں جاری کیے گئے اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ

    آئین کا آرٹیکل 251 اس معاملے پر واضح ہے، جس کی شق نمبر ایک کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور سرکاری سطح پر اس کے فروغ کے انتظامات ہونے چاہییں شق نمبر دو کے مطابق دفتری زبان انگریزی رہے گی، جب تک اردو کو اُس کا مکمل متبادل نہیں بنا دیا جاتا اسی طرح شق نمبر تین کے مطابق صوبائی اسمبلی قومی زبان کے ساتھ ساتھ صوبائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی اقدامات کرے۔

    اسی بنیاد پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ ‘آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔’

    کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں

    بارہ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں مزید لکھا گیا تھا:

    قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں، تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کریں۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں، جو آرٹیکل189 کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماَ اردو میں ترجمہ کروایا جائے اور عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔‘

    مزید کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے اجرا کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

    پاکستان کو 60 کی دہائی کی معیشت بنانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ

  • کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    برسلز: کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کشمیری رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سمیت بھارتی اعلیٰ حکام کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے۔اراکین یورپی پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ خرم پرویز اور دیگر اسیران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سنگین صورتحال پربحث کرنے کی درخواست کریں گے کہ نئی دہلی یو این جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی مکمل پاسداری کرے۔

    واضح رہے کہ کشمیری کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی کارکن خرم پرویز اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی رہائی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کے 21 ارکان کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ بھارتی حکام کو لکھے گئے کھلے خط کو بھی سراہا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے طلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی طرف کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اپنے مکینوں کے لیے جہنم بن چکا ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔الطاف وانی نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس برس سے انسانی حقو ق کونسل اور اس سے قبل کمیشن برائے انسانی حقوق میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر مظالم 2018اور 2019میںعالمی اداے نے اس وقت کچھ توجہ مبذول کی جب انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں دو رپورٹیںجاری کی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مساوات اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔الطاف وانی نے کہاکہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی گزشتہ 33 بر س سے نہتے کشمیریوں کے خلاف برسر پیکار ہیں تاہم انسانی حقوق کونسل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جس سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دے ۔

  • بندر نے اڑتے بگلے کو پکڑ کر بے رحمی سے مار ڈالا، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

    بندر نے اڑتے بگلے کو پکڑ کر بے رحمی سے مار ڈالا، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

    لندن: برطانوی چڑیا گھر میں بے رحم بندر نے اڑتے ہوئے سمندری بگلے کو پکڑکر بے رحمی سے لکڑی کے کھمبے پر پٹخ کر مارڈالا۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ کے چیس شائر میں واقع چیسٹر چڑیا گھر میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بندر نے سمندری بگلے کو گرفت میں لے رکھا ہے اور اسے لکڑی کے بانس سے ٹکراکر کر مارڈالا ہے-

    پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    یہ ویڈیو چڑیا گھر آنے والے ایک 32 سالہ شخص ، بیک ایڈمسن نے بنائی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بندر نے جنون میں آکر ایک بڑے پرندے کو سر سے پکڑ رکھا ہے اور بار بار اس کی ضرب کھمبے پر لگارہا ہے یہاں تک کہ نیم مردہ پرندہ نیچے گرجاتا ہے اور بندر تیزی سے نیچے اترکر دوبارہ اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

    ایڈمسن نے بتایا کہ اس عمل میں بندر کی انگلیاں بھی زخمی ہوگئیں جس کے بعد اس نے نیچے اتر کر پرندے کو نوچا اور اسے کھانے لگا یہ ویڈیو جب ٹک ٹاک پر ڈالی گئی تو بہت تیزی سے وائرل ہوئی جسے اب تک لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں-

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بعض صارفین کا خیال ہے کہ بندر نے پرواز کرتے پرندے کو پکڑا تھا لیکن یہ منظر ویڈیو میں نہیں آسکا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ سی گل پرندے نے خود بندر کو ستایا ہوگا کیونکہ یہ بے باک پرندے سیاحوں کو ٹھونگیں مارنے اور ان سے کھانا چھیننے میں بہت ماہر ہیں-

    کچھ صارفین نے اس خوفناک منظر کو کنگ کانگ کی فلم سے تعبیر کیا ہے جس میں وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ پر چڑھ کر ہیلی کاپٹر کو ہاتھ مارکر گرادیتا ہے لیکن اس منظر میں کوئی عمارت نہیں تھی بلکہ 20 فٹ بلند ایک کھمبا تھا جسے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تعمیر کیا تھا۔

    انسانی جسم میں سور کا دل ٹرانسپلانٹ کرانے والا شہری چل بسا

     

  • بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    ٹوکیو: جاپان میں مبینہ طور پر بدروح سے بھرا ایک بڑا پتھر ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی "دی گارجئین” کے مطابق جاپان میں پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک بڑے پتھر کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے خیال ہے کہ اب اس کے منفی اثرات باہر آچکے ہیں-

    پورے جاپان کے سوشل میڈیا میں لوگ اس پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اب یہ حال ہے کہ اس تمام کہانی پر یقین رکھنے والے بعض افراد اس واقعے سے سخت مضطرب اور خوفزدہ ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جو بھی اس کے پاس گیا وہ یقینی طور پر مرجائے گا۔

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…


    جاپانی دیومالا کے مطابق اس پتھر کا نام ’سیشو سیکائی‘ ہے اور اس میں 9 دموں والی خونخوار طلسمی لومڑی بند ہے یا اس کی روح قید میں ہے۔

    تفصیل کے تحت سال 1107 سے 1123 کے درمیان جاپان پر شہنشاہ ٹوبا کا راج تھا اسے قتل کرنے کے لیے ایک عفریت نے خوبصورت عورت کا روپ دھارا۔ آسیبی جانور لومڑی تھی جس نے حسین عورت کا روپ اختیار کیا اور اس عورت کو ’تمامو نو مائی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بعد 9 دم والی لومڑی اپنا روپ بدلتی ہے پھر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پتھر سے زہریلا مواد نکلتا ہے لیکن درحقیقت یہ علاقہ زیرِ زمین تیزابی چشمے پر مشتمل ہے اور وہیں سے گیس اور تیزاب بہتا رہتا ہے۔

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت


    تاہم یہ عجیب واقعہ ہے کہ اچانک یہ بہت بڑا پتھر ٹوٹا ہے اور دو یکساں حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بدھ مت کے ایک بھکشو نے چندروز قبل اپنے علم کے زور پر اسے توڑا ہے اور پتھر کے ٹکڑے جاپان بھر میں پھیل چکے ہیں بہت سے جاپانی یہ ماننا پسند کرتے ہیں کہ اس کا گھر ماؤنٹ ناسو کی ڈھلوان پر ہے۔

    اس واقعے سے قبل سیاحوں کی بڑی تعداد اس چٹان کو دیکھنے آیا کرتی تھی لیکن پتھر ٹوٹنے کے بعد اب لوگ اس علاقے میں بھی نہیں جارہے کیونکہ ان پر خوف طاری ہے۔ یہ علاقہ ٹوکیو کے قریب واقع ہے جسے ٹوچائگی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی افراد ٹویٹر اور فیس بک پر اس کے طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اور بعض افراد نے کہا ہے کہ سال 2022 بھی کچھ اچھا نہیں گزرے گا۔ دوسرے نے لکھا کہ ایک خونخوار بدروح اب جاپان میں آزاد ہوچکی ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    "مجھے لگتا ہے کہ میں نے کچھ دیکھا ہے جو نہیں دیکھا جانا چاہئے،” ایک ٹویٹر صارف نے ایک پوسٹ میں کہا جس نے تقریبا 170,000 لائکس کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    جب کہ دوسروں نے قیاس کیا کہ ’تمامو نو مائی‘ کی شیطانی روح تقریباً ایک ہزار سال بعد دوبارہ زندہ ہوئی تھی، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے چٹان میں دراڑیں نمودار ہوئی تھیں، ممکنہ طور پر بارش کا پانی اندر داخل ہونے کی وجہ سے اس کی ساخت کمزور ہو گئی تھی-

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

  • آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر

    آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر

    لاہور:آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں تاریخی سیریز کے لئے موجود آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کے بعد فاسٹ باؤلر جوش ہیزل ووڈ نے بھی راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے دوران اذان کی آواز کو سب سے بہترین لمحہ قرار دے دیا۔

    راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے بغیر نتیجہ ختم ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کینگروز فاسٹ باؤلر نے لکھا کہ پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی شائقین بہت پرجوش دکھائی دیئے اور وہ کھیل سے محظوظ ہوئے۔

     

    https://twitter.com/JoshHazIewood38/status/1501307181840412677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1501307181840412677%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FCricket%2F644651

     

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا ٹیسٹ میچ کے دوران ٹیم میں ہم سب کے لئے نماز کے لئے پکارا جانا (اذان) کی آواز بہترین لمحہ تھا اور اذان کی یہ آواز انتہائی پرسکون محسوس کرانے والی تھی، ہم نے اسے سے قبل ایسی حیرت انگیز اور پیار بھری آواز نہیں سنی تھی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے کہا تھا کہ میرے لیے وہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا جب ہم پریکٹس سیشن میں مصروف تھے اور راولپنڈی سے بلند ہونے والی اذان کی آواز گراؤنڈ میں گونج رہی تھی جب کہ پس منظر میں پہاڑ تھے۔

    آسٹریلین ویب سائٹ کے لیے تحریر کیے گئے اپنے بلاگ میں پیٹ کمنز نے ’دورے کو غیرمعمولی‘ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی اور دیگر کھلاڑیوں کی ’زندگیوں اور کیریئر کا خاص لمحہ‘ قرار دیا تھا۔

  • آسٹریلیا اور پاکستان کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری، تحریر: زین العابدین شاہ

    آسٹریلیا اور پاکستان کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری، تحریر: زین العابدین شاہ

    ڈیجیٹل باونڈریاں، رنگ برنگی کرسیاں ، سو فیصد شائقین ۔
    کرکٹ آسٹریلیا 24 سال بعد راولپنڈی ٹیسٹ سے تاریخی سیریز کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

    ایک طرف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کے نمبر ون بیٹسمین بابر اعظم ٹیسٹ کے نمبر ون بالر پیٹ کمنز کا سامنا کریں گے تو دوسری جانب ٹیسٹ کے نمبر ون بلے باز مارنوس لبوشین کرکٹر آف دی ایئر "شاہین شاہ آفریدی” کے مدمقابل کھڑے ہوں گے۔
    کرونا کے باعث حارث رؤف پہلے میچ میں شرکت نہیں کر پائیں گے ان کی جگہ اسی سٹیڈیم میں دنیا کے کم عمر ترین ٹیسٹ ہیٹرک کرنے والے نسیم شاہ جلوہ گر ہوں گے جبکہ وکٹوں کے پیچھے ٹی ٹونٹی کرکٹر آف دی ایئر محمد رضوان کھڑے ملیں گے۔

    ماضی میں ایک نظر دیکھیں تو پاکستان اور آسٹریلیا کے ایک دوسرے کیلئے کبھی بھی آسان حریف ثابت نہیں ہوئے۔
    آسٹریلیا نے بہت سے اہم مواقعوں پر پاکستان کو شکست دی 1999 ورلڈکپ فائنل میں پاکستان کو بدترین شکست ہوئی اور 2010 ورلڈکپ سیمی فائنل میں جب پاکستان جیت کے انتہائی قریب تھا تو سعید اجمل کی پٹائی کر کے مائیک ہسی نے پاکستانی شائقین کی ہنسی رنج میں بدل دی۔ 2021 ورلڈکپ سیمی فائنل میں جب پاکستان پیچھلے بدلے لینے کے قریب تھا کے حسن علی نے کیچ چھوڑا اور پاکستان نے میچ۔لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو 1999 کے ورلڈکپ سے 2011 ورلڈکپ تک مسلسل 34 میچوں میں ناقابلِ شکست رہنے والی آسٹریلیا کو آخری دفعہ 1999 ورلڈکپ میں پاکستانی شاہینوں نے شکست دی تھی جبکہ 2011 میں 34 میچوں کے بعد پاکستان نے ہی شکست دے کر یہ سٹریک توڑی۔ اگر پاکستان اور آسٹریلیا کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری کو دیکھا جائے تو پاکستان اور آسٹریلیا پہلی دفعہ 1956 میں نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں مدمقابل آئے اور پاکستان نے وہ میچ 9 وکٹوں سے باآسانی جیت لیا۔

    یہاں پے آپ کو ایک انٹرسٹنگ بات بتاتے ہیں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوسرا میچ 1959 میں ڈھاکا میں کھیلا گیا لیکن ڈھاکا تب پاکستان کا حصہ تھا اور اسٹیڈیم میں پاکستان ذندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین آج تک 66 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے کینگروز نے 33 اور شاہینوں نے 15 میچز جیتے جبکہ 18 مقابلے برابر قرار پائے۔

    104 ایک روزہ مقابلوں ہوئے 68 میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی جبکہ 32 مقابلوں میں پاکستانی سرخرو ہوئے 4 مقابلے بلا نتیجہ ختم ہوئے۔ 24 ٹی ٹونٹی میں 13 کامیابیوں کے ساتھ شاہینوں کا پلڑا بھاری رہا جبکہ 10 مقابلوں میں شکست اور برابر رہا۔ کرکٹ آسٹریلیا اور پاکستان نے دو لیگ سپنرز "ریچی بینو” اور "عبدالقادر” کی یاد میں اس ٹرافی کا نام ‘بینو قادر ٹرافی” رکھا ہے۔ اور انٹرسٹنگلی پاکستانی پلینگ سکواڈ میں اس دفعہ کوئی لیگ سپنر نہیں کیونکہ "یاسر شاہ” ریزروز میں ہیں جبکہ آسٹریلین سکواڈ میں موجود لیگ سپنر ” میچل سویپسن "ابھی تک ٹیسٹ ڈیبیو کے منتظر ہیں۔ کرکٹ ایکسپرٹس کے مطابق اس سیریز میں فاسٹ باؤلرز کا رول زیادہ اہم ہوگا۔

  • سیاسی سونامی تبدیلی کو بہا لے جائے گا ؟؟ تحریر: نوید شیخ

    سیاسی سونامی تبدیلی کو بہا لے جائے گا ؟؟ تحریر: نوید شیخ

    مائنس عمران خان اور مائنس عثمان بزدار کی ہوا چل پڑی ہے اور اس بار لگتا ہے کہ جتنے مرضی کالے بکروں کی بلی چڑھا دی جائے معاملات حل نہ ہوں گے۔ کیونکہ اپوزیشن بڑی ہی پراعتماد ہے ۔ نمبر گیم کے حوالے سے جو اطلاعات آرہی ہیں وہ حکومتی کیمپوں کے لیے بہت ہی خوفناک اور درد ناک دیکھائی دیتی ہے ۔۔ آج پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن کے تین بڑوں آصف علی زرادری ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے جہاں حکومت کو خوب رگڑا لگایا وہاں یہ بھی دعوی کیا کہ ہم ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے۔

    ۔ اس وقت عمران خان اپنی حکومت کو بچانے کی خاطر مسلسل ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ۔ ملاقاتوں ، ٹیلی فونز ، نئے وعدوں اور آفرز کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ کپتان کو وکٹ کے دونوں جانب کھیلنا پڑ رہا ہے کیونکہ بیک وقت پنجاب اور وفاق پر حملہ ہوچکا ہے ۔ اسی لیے بہت سوں کے خیال میں پاکستان تبدیلی کی جانب گامزن ہوگیا ہے ۔۔ فی الحال آج جو نئی صورتحال بننے کے بعد پہلا قدم کپتان نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ اپنے حامی یوٹیوبرز کو بلا کر عالمی سازش والا بیانیہ تشکیل دینا شروع کردیا ہے ۔ پھر شہباز گل نے پوری کی پوری پریس کانفرنس ہی اسی ایک پوائنٹ پر داغ دی ہے ۔ ۔ مگر اس سازشی تھیوری کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے بھی تابڑ توڑ حملے کردیے ہیں انکا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ چن دیا ، کیا یہ غیر ملکی سازش ہے ۔ حکومت کی چینی ،ادویات ، مالم جبکہ ،پشاور میٹرو اور بلین ٹری منصوبہ میں کرپشن کیا بین الاقوامی سازش ہے ، اس سے زیادہ احمقانہ بات نہیں ہو سکتی ۔ خارجہ محاذ پر جنہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا انہیں ناراض کردیا گیا ۔ عمران خان نے سی پیک میں کرپشن کے بے جا الزامات لگا کر چین کو ناراض کیا ۔ یورپی یونین کے خلاف بیان دیا ۔ ۔ اس وقت عمران خان کے حامی خاص طور پر ٹویٹر پر اس سازشی تھیوری پر یقین کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر بہت سے لوگ اس پوائنٹ سے متفق نہیں یہاں تک کہ بہت سے حکومت کے حامی صحافیوں کی رائے بھی آج کچھ تبدیل دیکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ سب سے پہلے پنجاب کی بات کی جائے تو ایک کیچڑی پکی دیکھائی دیتی ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ کنفوژین ہی کنفوژین ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ عثمان بزدار کے نام پر راضی نہیں ۔ ق لیگ اور عثمان بزدار علیم خان کو قبول نہیں کرناچاہتے ۔ تحریک انصاف کے اپنے سینئر وزراء کو بھی بزدار قبول نہیں ۔ یوں جس کو بھی عمران خان ناراض کریں گے وہ اپوزیشن کے دروازہ کھڑا سکتا ہے ۔

    ۔ فی الحال عثمان بزدار کی جانب سے دیا گیا استعفی وزیراعظم عمران خان نے قبول نہیں کیا ہے اور کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس پر عثمان بزدار کا کہنا تھاکہ استعفے سے معاملات حل ہوتےہیں تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیتا ہوں۔ عمران خان اور پارٹی کے ساتھ ہوں اور رہوں گا۔ ۔ جبکہ بزدار کے حوالے سے کپتان نے پھر یہ بات دہرائی ہے کہ عثمان بزدار ایک آسان ٹارگٹ ہیں، جو وزیراعلی کے امیدوار ہیں صرف انہیں عثمان بزدار برا لگتا ہے۔۔ اس پر جہانگیر ترین گروپ نے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ ہمارا ایک ایک رکن متفق ہے کہ مائنس عثمان بزدار سے آگے بات چلے گی۔ یعنی پہلے عثمان بزدار کو گھر بھیجیں پھر بات کریں گے ۔ اس حوالے سے نعمان لنگڑیال نے اعلان کیا ہے کہ ترین گروپ متحد ہے۔ ہم نےعبدالعلیم خان کوبھی بتادیاکہ وہ جہانگیرترین کےفیصلوں کےپابندہوں گے، تمام اختیارات جہانگیرترین کے پاس ہیں، ان کے فیصلے سے کسی کواختلاف نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں دو بڑی جماعتوں کے بعد ترین گروپ کی تیسری بڑی اکثریت ہے۔۔ اس حوالے سے یہ بھی خبریں ہیں کہ علیم خان لندن جا رہے ہیں ۔ دنیا نیوز کی دعوے کے مطابق جہاں ان کی جہانگیرترین کے علاوہ نواز شریف سے بھی ملاقات متوقع ہے ۔۔ وفاق کی بات کی جائے تو حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے اپوزیشن کے آٹھ لوگ توڑ لیے ہیں ۔ اورانھوں نے وزیروں سے ملاقاتیں کرکے معاملات طے بھی کر لیے ہیں ۔ ۔ بہرحال اپوزیشن نے اپنے لوگوں کو تین ہفتے کے لیے اسلام آباد سے نہ جانے کی ہدایت کردی ہے ۔ بلکہ تنبیہ کردی ہے کہ غیرحاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ۔ ساتھ ہی حکومت کی جانب سے پکڑ دھکڑ کی صورتحال سے بچنے کے لیے مختلف سینیر لوگوں کی سربراہی میں گروپس بنا دیے گئے ہیں جس کے بعد وہ اپنے اپنے گروپ کے ایم این ایز کے ذمہ دار ہوں گے کہ وہ غائب نہ کیے جاسکیں ۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے اپنے لوگوں کو زیادہ وقت پارلیمنٹ لاجز میں رہنے کی ہدایت بھی کر دی ہے ۔ واٹس ایپ گروپس بھی تشکیل کروادیے گئے ہیں ۔ جس کے بعد اب سے روزانہ کی بنیاد پر ان کی حاضری بھی لگوائی جائے گی ۔ ۔ اپوزیشن کے دعووں کے مطابق ان کے پاس 28سے زائد پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے ساتھ ایک اتحادی بھی ہے ۔ ذرائع کا کہناہےکہ آئی بی کے توسط سے تحریک انصاف کے 28 ممبران کے نام وزیراعظم کے علم میں ہیں۔ پھر چڑیل کی یہ بھی مخبریاں ہیں کہ اپوزیشن نے 197 سے 202 ارکان قومی اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کل کراچی کا ایک روزہ دورہ کررہے ہیں جہاں وہ ایم کیوایم سے ملیں گے ۔ لگتا یہ ہی ہے کہ ہر حال میں ایم کیو ایم کو راضی کیا جائے گا ۔ ۔ پھر عمران خان کی اٹارنی جنرل آف پاکستان سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے متعلق قانونی نکات پر بریفنگ دی ہے ۔ اس حوالے اڑتی اڑتی خبر ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی بات بھی کارڈز پر موجود ہے ۔ ۔ اس وقت وزیروں اور عمران خان کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ پریشانی کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ جہاں عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت کہیں نہیں جارہی بلکہ مزید تگڑی ہو کر آئے گی۔ تو دوسری جانب فرماتے ہیں اپوزیشن کے پیچھے ایک نہیں کئی بیرونی ہاتھ ہیں، ارکان کو 18، 18 کروڑ کی آفرز کی جارہی ہیں میں نے ارکان سے کہا ان سے پیسے لیں اور غریبوں میں بانٹ دیں، جواب میں ہماری بھی حکمت عملی تیار ہے، کپتان ایک دم اپنی حکمت عملی نہیں بتاتا، نومبر بہت دور ہے، جب وقت آئے گا تو فیصلہ کریں گے۔

    ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ کے قافلے کو اسلام آباد پولیس نے ٹی چوک پر روک لیا جس کے بعد بلاول بھٹو بھی راستے میں رک گئے۔۔ اطلاعات کے مطابق جس کنٹینر پر بلاول بھٹو سوار ہیں اس سے پیچھے موجود گاڑیوں کو مختلف مقامات پر رکاوٹیں لگا کر روکا گیا جس کے بعد بلاول نے بھی آگے بڑھنے سے انکار کردیا ہے ۔۔ اس حوالے سے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنوں کو جگہ جگہ رکاوٹیں لگا کر روکا گیا ہے، فیض آباد بلاک کریں گے، ڈی چوک بھی جائیں گے۔۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں عمران خان کر کیا سکتے ہیں ۔ تو اس جواب یہ ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ بے انتہا اختیارات سمیت فنڈز، وزارتیں اور دینے کو بہت کچھ ہے ۔ کیونکہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے میں کافی دن ہیں تو کرنے کو تو وہ بہت کچھ سکتے ہیں ۔ جیسے نیب کا استعمال ، ایف آئی اے کا استعمال ، پولیس کا استعمال وغیرہ وغیرہ ۔ پھر حکومت کے پاس ابھی بھی بہت سی ای ٹی ایمز ایسی ہیں جو آج مارکیٹ میں نکل آئیں تو روپے تو دور کی بات ڈالرز کی ریل پیل ہوسکتی ہے ۔ اس سے پھانسا پلٹ سکتا ہے ۔ خاص طور پر جو بلوچستان سے سینیٹرز پی ٹی آئی نے الیکٹ کروائے ہیں وہ میدان میں نکل آئے تو بہت سے لوگوں کی زندگی بھر کی دیہاڑیاں بھی لگ سکتی ہیں ۔ اس لیے ممکن ہے کہاگر بات چیت سے معاملات نہ حل ہوئے ۔ تو آنے والوں دنوں میں گرفتاریاں بھی ہوں ۔ اغواء بھی ہوں ۔ بندے بھی غائب ہوں ۔ کیونکہ بلاول کے لانگ مارچ کو روک کر کپتان نے سنگنل دے دیا ہے کہ وہ confrontationکے موڈ میں ہیں ۔

    ۔ میرے حساب سے کپتان کے پاس safe exit کا ایک ہی آپشن ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ دیں ۔ اور قبل ازوقت الیکشن کروا دیں کیونکہ دونوں صورتوں میں حکومت جاتی دیکھائی دیتی ہ۔ اس میں ہی کپتان کی عزت ہے ۔ ورنہ جتنا یہ زور لگائیں گے یا زبردستی کریں گے تو اتنا ہی کام خراب بھی ہوگا ۔ ۔ یاد رکھیں ماحول کی کشیدگی ہمیشہ اپوزیشن کے حق میں جاتی ہے جبکہ ٹھہراؤ ہمیشہ حکومت کے لئے ساز گار ثابت ہوتا ہے۔ یہ تاثر دینے سے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی ہزاروں لاکھوں افراد موجود ہیں۔ تو یاد رکھنا چاہیے اتنے ہی لوگ اپوزیشن کے پاس بھی ہیں ۔ ۔ یاد رکھیں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب کپتان کے اپنے کرم ہیں ۔ کیونکہ جب آپ پارٹی سمیت حکومت کو ڈکیٹر شپ کی طرز پر چلائیں گے جب آپ اپنے اردگرد صرف خوشامدی رکھیں گے ۔ جب آپکو صرف ہاں میں ہاں ملانا پسند ہو۔ جب آپکو میڈیا سمیت کسی قسم کی تنقید گوارا نہ ہو۔ اوپر سے آپ کی کارکردگی صفر ہو ۔ تو پھر یہ سب کچھ جمہوریت میں نہیں چل سکتا ۔ پھر جب آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں اخلاقی جواز کے بغیر حکومت نہیں چلتی ۔

  • راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا

    راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا

    راولپنڈی :راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا پر ختم ہو گیا اور پاکستانی اوپنرز نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔

    راولپنڈی میں کھیلا گیا سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ بلے بازوں کے لیے بہترین بیٹنگ پریکٹس ثابت ہوا اور دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے رنز کے انبار لگا دیے۔میچ کے پانچویں اور آخری دن آسٹریلیا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 449 رنز 7کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تو 3.1 اوورز میں صرف 10 رنز کے اضافے سے بقیہ تینوں وکٹیں بھی گنوا بیٹھی۔

     

    آسٹریلیا کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 459رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے پہلی اننگز میں 17رنز کی معمولی برتری حاصل کی۔پاکستان کے لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرواتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے 8 ٹیسٹ میچز میں تیسری بار 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

    پاکستانی اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز کا آغاز بھی پراعتماد انداز میں کیا اور کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔دونوں نے بہترین بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے سنچری شراکت قائم کرتے ہوئے نصف سنچریوں تک بھی رسائی حاصل کی۔

    میچ یقینی طور پر ڈرا کی جانب جاتا دیکھ کر آسٹریلیا نے بھی اپنے مرکزی فاسٹ باؤلرز کو تھکانا مناسب نہ سمجھا اور پارٹ ٹائم باؤلرز کو گیند تھما کر اوورز پورے کرنے کی پالیسی اپنائی۔

     

     

    پاکستانی اوپنرز نے بھی ناتجربہ کار اور کمزور باؤلنگ کو تختہ مشق بناتے ہوئے رنز کے ڈھیر لگا دیے اور دونوں نے اپنی اپنی سنچریاں اسکور کیں۔عبداللہ نے کیریئر میں پہلی مرتبہ سنچری اسکور کی جبکہ امام الحق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی سنچری کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    دونوں اوپنرز نے اسکور 252 تک پہنچایا تھا کہ دونوں کپتانوں نے امپائرز سے مشاورت کے بعد میچ کے خاتمے پر اتفاق کیا۔پاکستان کی جانب سے عبداللہ نے 136 اور امام نے 111 رنز کی اننگز کھیلی۔دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کرنے پر امام الحق کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 مارچ سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم میں 21مارچ سے تیسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا۔