Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معروف حریت رہنما غلام حسن لون انتقال کرگئے ہیں

    معروف حریت رہنما غلام حسن لون انتقال کرگئے ہیں

    سری نگر: معروف حریت رہنما غلام حسن لون انتقال کرگئے ہیں ،اطلاعات کے مطابق معروف حریت رہنما غلام حسن لون مقبوضہ کشمیر میں انتقال کرگئے ہیں۔

    حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا ہے کہ معروف حریت رہنما غلام حسن لون مقبوضہ کشمیر میں انتقال کرگئے ہیں
    عبدالحمید لون کے مطابق غلام حسن لون کا انتقال آج اپنے آبائی گھر کپواڑہ میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔

    حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ غلام حسن لون کا شمار تحریک آزادی کشمیر کے اولین حریت رہنماؤں میں ہوتا ہے، غلام حسن لون تحریک آزادی کشمیر کے بے باک اور نڈر حریت پسند رہنما تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں غلام حسن لون کا کلیدی کردار رہا ہے۔

    ادھر حکومت آزاد کشمیر نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی انتخابی حد بندیوں کو مسترد کردیا ہے۔

    مظفرآباد کے مرکزی ایوان صحافت میں آزاد کشمیر کے وزیر عبدالماجد خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم عزائم کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    انہوںنے کہا کہ اسی مقصد کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی الیکشن کمیشن کے حد بندی کمیشن نے جموں کے لیے نئی 6 اور وادی کشمیر کے لیے صرف 1 اسمبلی نشست کا اضافہ کیا ہے۔

  • ماؤں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے لاپتہ و اسیر بچوں کی منتظر

    ماؤں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے لاپتہ و اسیر بچوں کی منتظر

    اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں خواتین بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکارہونے والے اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے ماں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔

    جس کے نتیجے میں 1989سے 8 مئی 2022 تک خواتین اور بچوں سمیت 96 ہزار 25 کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور 22 ہزار 944 خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران 11 ہزار 255 خواتین کی بے حرمتی کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کی ماؤں، بیویوں اور بیٹیوں سمیت رشتہ داروں نے بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیرکی مختلف جیلوں میں نظر بند اپنے پیاروں کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ 62 سالہ مزاحمتی رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، شازیہ اختر اور انشا طارق سمیت تقریباً دو درجن خواتین جھوٹے الزامات کے تحت بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ سمیت مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں نے اس عرصے کے دوران تقریبا 8 ہزارکشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کردیا ہے اور لاپتہ ہونے والے افراد میں سے اکثر کی مائیں آج بھی ان کی واپسی کی منتظر ہیں۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری مائیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا خمیازہ بھگت رہی ہیں کیونکہ ماؤں سمیت کشمیری خواتین نے اپنے قریبی عزیزوں کو بھارتی گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھ کر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب تک متعدد کشمیری مائیں لاپتہ ہونے والے اپنے بیٹوں کوتلاش کرتے ہوئے اس دارفانی سے کوچ کرگئی ہیں جبکہ کشمیری ماؤں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے بیٹوں کی موت پر سوگ منانے اور انہیں اپنی پسند کی جگہوں پر دفنانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

  • اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں  ازقلم: غنی محمود قصوری

    اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں ازقلم: غنی محمود قصوری

    اتنا ہی ڈال پلیٹ میں جتنا سما سکے تیرے پیٹ میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ابھی چند دن قبل ہی ماہ رمضان تھا جس میں زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت زیادہ افطار پارٹیاں کی گئیں اور اب شادیوں کا سیزن ہے جبکہ ہماری شادیوں بیاہوں و دیگر دعوتوں کیساتھ افطار پارٹیوں میں بھی کھانے کا بہت زیادہ ضیاع کیا جاتا رہا-

    زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے کہ جو کھانا ہم اپنے کھانے کیلئے پلیٹ میں ڈالتے ہیں اس کا چوتھائی حصہ عموماً ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے اور نئی ڈش کھانا شروع کر دی جاتی ہے-

    ایسا کام ہر بندہ بھی نہیں کرتا مگر زیادہ تر ایسا کیا جاتا ہےکھانے کے اس ضیاع کو کفران نعمت کہا جاتا ہے یعنی سامنے پڑی یا دی گئی نعمت کا انکار کرنا اور اسے ضائع کرنا اور یہ عمل اللہ کو سخت نا پسند ہے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں-

    فذكُرُونِي أَذكُركُم وَشكرُوا لِي وَاتَكَفُرُونَ
    ترجمہ: پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کرو اور نعمتوں کا انکار نہ کرو-

    یقین کیجئے ہماری پستی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ کفران نعمت بھی ہےآج ہماری شادیوں،بیاہوں و دیگر دعوتوں میں اسے فیشن سمجھا جاتا ہے گناہ نہیں بلکہ ہماری عادت بن چکی ہے کہ کولڈ ڈرنک کی بوتل میں سے تھوڑی سی چھوڑ دی جاتی ہے-

    مہمان کی عزت کرنا اسلام میں فرض ہے مگرمیزبان کو بھی اسلام کی رو سے مہمان کی طرف سے عزت اور اس کے مال و جان کی حفاظت کا عندیہ دیا گیا ہے کیونکہ اسلام ہر کسی کے جان و مال و عزت کا محافظ ہے اور میزبان کی طرف اے پیش کیا گیا کھانا اس کا مال ہوتا ہے-

    اپنے گھروں میں ہم 6 افراد محض ایک کلو گوشت پکا کر سیر ہو جاتے ہیں مگر افسوس کہ کسی باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کی شادی پر مہمانوں کی طرف سے لاکھوں کا کھانا دینے والے باپ کی عزت کی ہم لوگ قدر نہیں کرتے کیا گزرتی ہو گی اس باپ پر کہ جس نے اپنی جمع پونجی سے آپ کیلئے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے اعلی سے اعلی ضیافت کا اہتمام کیا ؟-

    چاہے میزبان کھرب پتی ہی کیوں نا ہو کھانوں کی اس طرح بے قدری شعائر اسلام اور اخلاقی طور پر قطعاً درست نہیں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم مہمان ہیں اور بطور مہمان کھانے کی بے حرمتی کسی صورت جائز نہیں بلکہ اس عمل سے ہماری تربیت وضع ہوتی ہے-

    کھانوں کی بے قدری سے ایک تو کفران نعمت ہوتا ہے تو دوسری میزبان کی دل آزاری بھی ہوتی کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے گھر میں پکے کھانوں کیساتھ ایسا سلوک کیا ہوا اور اپنے گھروں میں اپنی پلیٹوں میں ایسے کھانا چھوڑا ہو جیسا ہم دعوتوں میں کرتے ہیں-

    خدارہ اگر کوئی کسی دعوت میں آپ کے سامنے ایسی حرکت کرتا ہے تو کوشش کیا کریں آپ پہلے وہ چھوڑے گئے نان کے ٹکڑے اور پلیٹوں میں ڈالا گیا سالن کھا لیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روٹی نان کے چھوڑے گئے سخت کنارے اس کے دانتوں و معدے کو تکلیف دیتے ہو اور اگر آپ کو ان چیزوں کے کھانے سے صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تو یہ نیکی ضرور کیجئے-

    ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا جوٹھا کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ عمل آپس میں پیار و محبت کا باعث بھی بنتا ہے اور تکبر جیسی لعنت کو ختم کرتا ہے یقین کیجئے اس عمل سے ہماری شان میں کوئی گستاخی نا ہو گی اور نا ہی پکے کھانے کا ذائقہ بدلا ہوتا ہے –

    ہاں یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے ہمارا رب ضرور راضی ہو گا اور ہو سکتا ہے کفران نعمت کرنے والوں کو بھی اللہ ہدایت دے دیں اور وہ آئندہ سے نادم ہو کر اس عمل سے باز آ جائیں-

    آئیے عہد کیجئے کھانوں کی بے بے قدری نہیں کرینگے اتنا ہی پلیٹ میں ڈالیں گے جتنا ہم کھا سکتے ہیں یقین کیجئے یہ عمل شروع کیجئے ہمارا معاشرہ تہذیب کی جانب گامزن ہو گا اور آج کھانے کو ضائع کرنے والا کل افسر بھرتی ہو کر سیاستدان بن کر ضرور ان شاءاللہ کھانے کے علاوہ دی گئی نعمتوں اور ہماری امانتوں کو ضائع نہیں کرے گا-

  • بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بھارتی شہر جودھ پور میں ہندو مسلم فسادات، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چاند رات کو مسلمانوں کی جانب سے عید کی مناسبت سے اپنا جھنڈا لگانا تھا جب کہ اسی جگہ ہندو تہوار پرشورام جینتی کے سلسلے میں ہندئووں نے بھی اپنا جھنڈا لگانے کی ضدکی، جس پر دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیااورعید کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔گذشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔

    مقامی مسلمان رہنمائوں کا کہنا ہےکہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اورپولیس انتہا پسندہندوئوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔کچھ روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔جہانگیر پوری میں ہندوئوں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئیں۔

    اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمان شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دبائو میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔جس پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور تھانے کے سامنے احتجاج کیا، پولیس کی لاٹھی چارج پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میںکئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

    ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوئوں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ ادھر دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے 16مسلمان طلبا پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلباء کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد یا برا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن نریندرمودی کی حکومت میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اورزندگی گذارنامشکل ہوگئی ،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔ کیونکہ بھارت میں ایک ہندوتواکی متعصب حکومت ہے ایک ایسی حکومت جو سرکاری سطح پر ہندوئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ آئے دن ہندوئوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیںاورمسلمان خاص نشانہ ہیں۔ جنونی ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کی کئی ویڈیوزسوشل میڈیاکی وجہ سے دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ،17ویں صدی سے لے کر آج تک لاکھوں فسادات ہوچکے ہیں 18مئی 2001کو شائع شدہ مضمون کے مطابق اگر کرائم ریکارڈ کے اعدادو شما ر کو سچ مانا جائے تو 1947سے لیکر اب تک بھارت میں 20لاکھ سے زائد فسادات تھانوں میں درج ہوئے ،ان میں اتر پردیش میں 4لاکھ 25ہزار،بہار میں 3لاکھ75ہزار، ہریانہ میں 1لاکھ 50ہزار ،پنجاب میں 2لاکھ،مہاراشٹر میں 3لاکھ50ہزار ،راجستھان میں 1لاکھ25 ہزار مقدمات درج ہیں ۔ 1947میں بٹوارے کے فوراََ بعد نوا کھالی سے شروع ہونے والے فسادات ،خانپور،علی گڑھ،مرادآباد،حیدرآباد،بہارشریف،بھاگلپور، جمشیدپور وغیرہ سے ہوتے ہوئے گجرات پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچ گئے ،جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تمام حدیں پارکر دی گئیں۔

    عزیزبرنی کی لکھی کتاب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کے مطابق بھارت میں فسادات کی شروعات 1713 میں شروع ہو چکی تھی،1713میں گائے ذبح کرنے پر ہندو دہشت گردوں نے پہلا فساد برپا کیا ،20-1719میں کشمیر میں ایک مسلمان اور ہندو کی آپسی لڑائی فسادات کا باعث بنی،اسی طرح کئی چھوٹے بڑے نسلی فسادات ہوئے ۔1782میں سلہٹ ،آسام میں محرم کے موقع پرہندوؤں کو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں مذہبی جلسے کرنے سے روکنے پر فسادات بھڑکائے گئے جس میں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا-

    1809 میں بنارس میں اورنگزیب کے ہاتھوں بنائی گئی مسجد پر ہندوؤں کے قبضہ کرنے کی کوشش پر فسادات بھڑک اٹھے، 1840 میں مرادآباد میں فسادات ہوئے ،1851میں ممبئی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کے خلاف ایک گجراتی اخبار میں شائع مضمون فسادات کی وجہ بنا، 1857میں بجنو ر اور مرادآبادمیں فسادات ہوئے ۔1871میں بریلی میں محرم اور رام نومی کے ایک دن ہونے سے فسادات ہوئے-

    1874میںممبئی میںآر۔ایچ جلمئے کی ایک کتاب”گریٹ پروفیٹ آف دی ورلڈ”کے خلاف فساد بھڑکا یہ کتاب انگریزی میں تھی اس میں حضرت محمد ۖ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ۔1890میں علی گڑھ میں ایک مسجد میں سور کا گوشت اور ہندو ؤں کے ایک کنویں میں گائے کا گوشت ڈالنے پر فساد بھڑکایا گیا ۔1892میں بھاش پٹم ،اگست 1893میںممبئی۔ستمبر 1893میں قلابہ اور 1893میں گئو رکشا کے نام پر اتر پردیش کے بلیا میں فسادات ہوئے ۔1894میں مدراس،ناسک کے یلالہ، 1895میں پوربندراورچھلیا میں بھی فسادات ہوئے ،1907میں مورگھٹ میں بنگال کی تقسیم پر، 1912میں ایودھیہ میں بقر عید پر گائے کی قربانی کرنے سے روکنے پر، 1913میں نیلور میں ایک مسجد شہیدکرنے پر، 1916میں پٹنہ میں بقر عید پرہندوؤں کا قربانی روکنے پر، 1921میں گیا اور شاہ آباد میںبھی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے قربانی سےروکنے پرفسادات بھڑکے،1921میں مالےگاؤں میںانڈین کونسل ایکٹ1919کےسوال پرفسادات ہوئےاسی طرح بنگلور میں تحریک عدم تعاون کے دوران فسادات ہوئے ،24-1923 میں امرتسر،لاہور،سہارنپور، الٰہ آباد،کلکتہ اور دوسرے شہروں میں راجہ رام موہن رائے کی شدھی تحریک فسادات کاسبب بنی ۔

    1923میں ممبئی، 1932میںالور،1933 میں کلکتہ ،1935میں ہزاری باغ میں محرم کا جلوس اور رام نوی ایک ساتھ ہونے کے باعث فسادات پھوٹ پڑے اور ساتھ میں چمپارن اور سکندرآباد میں بھی مسلمانوں کو بے دردی سے تہ و تیغ کیا گیا ،1937میں گئو کشی کے مسئلے پر فسادات بھڑکائے گئے ،1939میں اترپردیش اور کلکتہ میں ہولی کے موقع پر مسجد کے سامنے میوزک بجانے سے روکنے پر مسلمانوں کو تختہ مشق بنا یا گیا ،اسی طرح اسی سال خانپور میں ایک جلوس پر حملے کے سبب جھگڑا ہوا جس سے فسادات بھڑکا دیے گئے ۔1941میں کلکتہ میں محرم کے موقع پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔1950میں کالی کٹ ،دہلی ،پیلی بھیت،علی گڑھ اور ممبئی میں آر ۔ایس۔ایس کے دہشت گردوں کے ذریعے مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنے پر فسادات ہوئے ۔1953میں ہندومہاسبھا کے ایک جلوس پر پتھر پھینکنے کا بہا نہ بنا کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے فسادات برپا کئے گئے،اسی سال احمدآباد،ناسک اور پونے میں گن پتی اور محرم ایک ساتھ ہونے پر فساد بھڑکا یا گیا-

    1956 میں اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ بدیہ بھون کے ذریعے حضرت محمدۖ کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے پر فسادات ہوئے ، اسی طرح کوئی سال ایسا نہیں گیا جس میں مسلمانوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے بہانوں سے فسادات نہ بھڑکائے گئے ہوں۔1962میں مالدہ میںحضرت محمد ۖ کی شبیہ مبارک شائع کرنے پر فساد برپا ہوا ،1963میں ندیا،کلکتہ میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہونے پر فسادات ہوئے ،1966میں رانچی میں اردو کے خلاف نکالا گیا جلوس فسادات کا سبب بنا ۔1974میں شیوسینا کے ذریعے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جوگیشوری میں فسادات ہوئے 1975میں جوگیشوری میں شیوسینا کے دہشتگردوں کے مسلمانوں پر حملے فسادات کا باعث بنے ۔

    1987میں میرٹھ،ہاشم پور ملیانہ،پھرشیلاپوجن اور رام جنم بھومی تنازع نے زور پکڑنے کے بعد بھارت میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھم نہ سکا۔1990میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم و تشددکو نقطہ عروج پر پہنچا دیا جو 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئیں ان کی دکانیں اور جائیدادیں زبردستی چھین لی گئیں اور مسلمانوں کا سنگینوں اور تلواروں کے ذریعے قتل عام کیا گیا ، جس میں شیو سینا، آر ایس ایس اور بجرنگ دل و دیگر ہندو دہشتگرد تنظیموں کو سرکاری آشیرباد اور پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔

    مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک سازش کے تحت ہندوانتہاپسندوں کے مفروضوں پرمبنی محبت جہاد(love jehad)،، کرونا جہاد اور سول سروسز جہاد ، ریڑھی جہاد، لینڈ جہادتوکبھی گئورکشاکے نام پرمسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں پولیس نے کبھی بھی مسلمانوں کوتحفظ نہیں دیا،ہمیشہ ہی آر ایس ایس اور دیگر ہندوانتہاپسند دہشت گردتنظیموں کی آلہ کاربن کر مسلمانوں پر ظلم وجبر کے علاوہ سیدھی گولیاں مار کر انہیں قتل کرتی رہی ہے ،جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،بھارت میں ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی توکب سے شروع کی ہوئی ہے لیکن اب یہ نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،حکومت کی جانب سے اس نفرت کو عام کیا جارہا ہے،انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں قوانین بنوائے جارہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اب ا دارہ جاتی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور نازی مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں ۔

  • نسلی تعصب پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا ایسیکس کاؤنٹی پر بھاری جرمانہ

    نسلی تعصب پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا ایسیکس کاؤنٹی پر بھاری جرمانہ

    بورڈ میٹنگ کے دوران نسل پرستانہ تبصروں پر ای سی بی نے ایسیکس کاؤبٹی پر بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کرکٹ بورڈ(ای سی بی) نے ایسیکس کاؤنٹی پر 2017 میں بورڈ میٹنگ کے دوران کیے گئے نسل پرستانہ تبصروں پر 50,000 پاؤنڈز جرمانہ عائد کیا ہے۔

    ایسیکس کاؤنٹی کے سابق چیئرمین جان فراغر کو ریمارکس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے اعتراف جرم کرنے سے انکار کردیا۔

    ایسیکس کاؤنٹی کو دو الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ایک سابق چیئرمین فراغر کے نسل پرستانہ ریمارکس کا استعمال کرنے پر اور دوسرے کلب کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات نہ کیے جانے پر۔

    واضح رہے کہ فراغر نے 2021 میں الزامات لگنے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    انگلینڈ کرکٹ میں نسل پرستی ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ اس سے قبل عظیم رفیق کا کیس کافی عرصے تک خبروں میں رہا کیونکہ انہوں نے ڈریسنگ رومز کے اندر ہونے والی نسل پرستانہ کارروائیوں کو بے نقاب کیا تھا۔

  • اولمپک کونسل آف ایشیا نے ایشین گیمز ملتوی ہونے کی تصدیق کردی

    اولمپک کونسل آف ایشیا نے ایشین گیمز ملتوی ہونے کی تصدیق کردی

    بیجنگ :اولمپک کونسل آف ایشیا نے ایشین گیمز ملتوی ہونے کی تصدیق کردی،اطلاعات کے مطابق او سی اے کاکہنا ہےکہ اس حوالے سے ایگزیکٹو بورڈ، ایشین گیمز کمیٹی اور چینی حکام نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا، گیمز میں شرکا کی تعداد اور وبا کی صورتحال کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اولمپک کونسل آف ایشیا کا کہنا ہےکہ ایشین گیمز کی نئی ناریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”490945″ /]

    او سی اے کے مطابق دسمبر میں چین میں ہونیوالے ایشین یوتھ گیمز کو مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا جب کہ ایشین یوتھ گیمز 2021 کو پہلے ہی ایک سال کیلئے ملتوی کیا جاچکا تھا، اب ایشین یوتھ گیمز 2025 میں تاشقند میں ہوں گے۔

  • بھارت کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کر کے اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے:قمر زمان کائرہ

    بھارت کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کر کے اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے:قمر زمان کائرہ

    اسلام آباد:بھارت کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کر کے اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، اطلاعات کے مطابق قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کر کے اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو نام نہاد سرچ آپریشنز کی آڑ میں شہید کر رہا ہے، بھارت کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کر کے اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کا جذبہ حریت بھارتی سفارتخانہ اقدامات سے کئی درجے زیادہ مضبوط ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشگردی کا فوری نوٹس لے۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کشمیریوں سے متعلق اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کرے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

    ادھر کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع اسلام آباد میں قابض بھارتی فوج نے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا جس کے دوران بزرگوں اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے بہانے ایک گھر پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والے نوجوان نہتے تھے اور مقامی کالج میں پڑھتے تھے۔بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے نوجوانوں کو عسکریت پسند ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا اور لاشوں کو سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا۔

    دوسری جانب متعصب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وفاقی اکائی میں شامل کرنے کے بعد اب اپنی مرضی کی حلقہ بندیاں بھی کرلیں تاکہ الیکشن میں اپنی جماعت کو بآسانی جیتوا سکیں۔

  • سائوتھ ایشین گیمز اور ایشین گیمز کے لیئے پاکستان بیس بال ٹیم کی تیاریاں شروع

    سائوتھ ایشین گیمز اور ایشین گیمز کے لیئے پاکستان بیس بال ٹیم کی تیاریاں شروع

    کوٹری:سائوتھ ایشین گیمز اور ایشین گیمز کے لیئے پاکستان فیڈریشن بیس بال کی جانب سے ٹریننگ کیمپ لگانے کا فیصلہ احسن قدم ہے۔ پہلے مرحلے میں پچرز وکیچرز کی تربیت کے مذکورہ کیمپ اجوہ سٹی گجرانوالہ میں اگلے ہفتے میں شروع کردیا جائے گا جسکی نگرانی اجوہ سٹی کے سی ای او  محمد تنویر کریں گے جبکہ ہیڈ کوچ مصدق  حنیف، کوچ طارق ندیم اور 7 اپریل کو پاکستان پہنچ رہے امریکن کوچ رینڈل آرمز، پاکستان فیڈریشن بیس بال  کے ٹریننگ اسٹاف کے ہمراہ کوچنگ مہیا کرینگے۔پاکستان فیڈریشن بیس بال کے صدر سید فخر علی شاہ کے کیمپ لگانے کے اس بروقت فیصلے کو بیس بال اور اسپورٹس حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔اس ضمن میں سید فخر علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان چیمپیئن شپس میں ہمارا مقابلہ ایشین و ورلڈ کی ٹاپ ٹیموں سے ہونا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل صورتحال ہوگی تاہم ہم پاکستان ٹیم کو بہتر سے بہتر بنا کر دنیا بھر میں پاکستان کو بہتر ٹیم کے طور پر سامنے لانا چاہتے ہیں تاکہ وطن عزیز کا نام روشن ہو اور ہمارے کھلاڑی بھی اپنے آپ کو کسی سے کم نہ سمجھیں اور مقابلے کی فضا قائم رہے۔

    فیڈریشن نے پہلےفروری میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کو اسلام آباد میں کیمپ لگانے کی درخواست دی تھی اور کوئی جواب نہ ملنے پر گزشتہ ماہ یاد دہانی کرائی گئی تھی۔اس ضمن میں ڈی جی  پاکستان اسپورٹس بورڈ کرنل(ر) آصف زمان نے جلد کیمپ کا آغاز کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔چونکہ ہمارا مقابلہ دنیا کی ان ٹاپ تھری رینکنگ ٹیموں یعنی جاپان، تائیوان اور کوریا ہے سے ہے کہ جہاں ہزاروں کی تعداد میں بیس بال اسٹیڈیم ہونے کے ساتھ ساتھ حکومتی، کووآپریٹو سیکٹر اور عوامی سپورٹ حاصل ہے۔ جاپان ورلڈ نمبر 1 ہونے کے ساتھ ساتھ اولمپک چیمپیئن بھی ہے جبکہ کوریا نے کویڈ 19 کے بعد سب سے پہلے بیس بال لیگ شروع کرکے اپنی تمام تر تیاریاں شروع کردی تھیں۔ہمیں معلوم ہے کہ ہم ترقی پذیر ملک ہیں مگر بے پناہ صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کی مالک پی ایف بی چاہتی ہے کہ ہم ان ٹیموں سے بہترین مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں۔ اس لیئے  "کہیں دیر نہ ہوجائے” کو زہن میں رکھتے ہوئے سید فخر علی شاہ نے امریکن کوچ سے معاہدہ کیا اور اپنے طور پر گجرانوالہ میں کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ جب پی ایس بی سگنل دے گی تو مذکورہ کیمپپ اسلام آباد شفٹ کردیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان ایشیائی رینکنگ میں نمبر 5 اور ورلڈ رینکنگ میں 31 ویں نمبر پر ہے جبکہ ویسٹ ایشیائی چیمپیئن شپس میں زیادہ تر گولڈ میڈلسٹ یا سلور میڈلسٹ ہی رہتا ہے۔اس لیئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر فیڈریشن کی مکمل سرپرستی کی جائے اور صوبوں کے دارالخلافوں میں 1-1 بیس بال اسٹیڈیم اور انکے اہم ڈویژنز میں کم از کم 1-1 بیس بال گرائونڈز بنائے جائیں جنکی پاکستان فیڈریشن بیس بال کی نگرانی میں حکومت سطح پر باقائدہ طور سرپرستی کی جائے تاکہ پاکستان کی رینکنگ میں مذید بہتری آسکے۔حکومت کے علاوہ مختلف اسپانسرز اور سول سوسائیٹی اور اسپورٹس لوورز شخصیات کو بھی پاکستان کی گزشتہ کارکردگی اور رینکنک کو نظر میں رکھتے ہوئے بیس بال کھیل پر بھی توجہ دینی چاہیئے تاکہ پاکستان میں اس کھیل کے بانی سید خاور شاہ مرحوم کے مشن کو مذید کامیابیوں کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا رہے۔ 

  • گھر کے اندر خودکار طریقے سے سبزیاں اگانے والا سمارٹ گارڈن

    گھر کے اندر خودکار طریقے سے سبزیاں اگانے والا سمارٹ گارڈن

    کیلیفورنیا:خاتون ڈیزائنر نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو ایک جانب تو کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے تو دوسری جانب مضر کیمیائی اجزا سے پاک روزانہ کی سبزیاں اگاتا ہے۔

    باغی ٹی وی :اسے بنانے والی کمپنی نے ’ہائیڈروآرٹ پوڈ‘ کا نام دیا ہے گھر کے اندر مکمل طور پر خود بخود سبزیاں اگانے کے لیے ایک سمارٹ گارڈن ہے، جس میں عملی طور پر کوئی وقت یا محنت درکار نہیں ہے اس کو گھر کے کسی بھی کمرے میں پینٹنگ کی طرح ٹانگا جاسکتا ہے جو صرف پانی کی بدولت ہرے پتوں والی تازہ سبزیاں کسی کیمیائی اجزا کے بغیر کاشت کرسکتا ہے۔

    اسے ایک خاتون ڈیزائنر نے تین سال کی محنت اور کامیابیوں اور ناکامیوں کے بعد بنایا ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اب سبزیاں اگانا کافی یا چائے بنانے سے بھی زیادہ آسان ہے عموماً گھروں میں جگہ نہیں ہوتی اور اسی بنا پر پورا ہائیڈروآرٹ پوڈ کا پورا نظام تشکیل دیا گیا ہے جسے کم جگہ پر سبزیوں کا باغیچہ قرار دیا گیا ہے اپنی بہترین صلاحیت کی بنا پر یہ سارا سال تازہ سبزیاں کاشت کرتا رہتا ہے۔

    اس میں چھوٹے ٹماٹر، مرچیں، اسٹرابری، دھنیا، کھیرا، پودینہ، پالک، چولائی، کڑھی پتے اور باورچی خانے کے لیے ضروری دیگرسبزیاں آسانی سےاگائی جاسکتی ہیں افزائش کا پورا نظام ہرقسم کےکیمیکل سےپاک ہےایک مرتبہ کی سرمایہ کاری سے پورے سال سبزیوں کا خرچ بچایا جاسکتا ہے ہائیڈروآرٹ پوڈ صرف 120 واٹ بجلی صرف کرتا ہے۔

    اس کی پشت پر 10 لیٹر پانی کی ٹنکی لگی ہے جو ہر دو گھنٹے بعد خودکار انداز میں چند منٹوں کے لیے پانی سبزیوں تک پہنچاتی ہے ہائیڈروآرٹ پوڈ پر ہر سبزی کے لیے ایک چھوٹا خانہ بنایا گیا ہے جس میں پہلے بیج ڈالا جاتا ہے، پھر پودوں کو غذائیت دینے والے اجزا انڈیلے جاتے ہیں اور اس کے بعد ہائیڈروآرٹ پوڈ کا سوئچ آن کردیا جاتا ہے نظام کے اطراف پر لگی روشنیاں سبزیوں کی افزائش کو تیزتر کردیتی ہیں-

  • امریکی افواج نے  1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    امریکی افواج نے 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    اٹلی: امریکی افواج نے 90 سالہ اطالوی خاتون کو کیک واپس کر دیا جو 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں امریکی فوجیوں نے چراکر کھالیا تھا اس کیک کی واپسی کے لئے باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خاتون میری مایون نے بتایا کہ ان کی عمر اس وقت صرف 13 برس تھی جب وہ ویسینزا، اٹلی کے پاس سان پیٹرو کے دیہات میں رہائش پذیر تھی یہاں جرمن اور امریکی افواج میں شدید جنگ ہورہی تھی میری کی والدہ نے اس کے لیے سالگرہ کیک تیار کیا تھا اور اسے کھڑکی کے باہر ٹھنڈا ہونے لیے رکھنے کو کہا جبکہ تھوڑی دیر بعد کیک وہاں سے غائب تھا اور محاذ پر لڑتے ہوئے امریکی فوجیوں نے اسے کھالیا تھا میری نے کیک کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہ ملا اور یقین ہوچلا کہ کیک کسی نے چرایا ہے۔

    تاہم اب ایک لمبے عرصے بعد امریکی افواج نے باقاعدہ ایک تقریب میں یہ کیک واپس کیا ہے جمعرات کو اٹلی کے ایک گیارڈائنی سالوی پارک میں خاتون، ان کے اہلِ خانہ، امریکی فوجیوں اور دیگر شہریوں کو مدعو کیا گیا تھا اور انہیں اطالوی اور انگریزی زبان میں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی گئی تھی۔

    اس موقع پر خاتون نے فرطِ جذبات سے کہا کہ وہ یہ لمحہ بھول نہیں سکتیں کیونکہ وہ زندگی کا ایک یادگار دن بھی تھا انہوں نے کہا کہ وہ کیک کا بقیہ حصہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی پیش کریں گی اس موقع پر امریکی سارجنٹ پیٹر ویلس نے کہا کہ اگرچہ یہ تھوڑا عجیب واقعہ ہے لیکن وہ کیک واپس کرتے ہوئے مسرت محسوس کررہے ہیں

    اس واقعے میں 19 امریکی سپاہی ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی ٹینک بھی راکھ ہوگئے تھے۔ اٹلی کے اس گاؤں نے امریکیوں کے لیے کھانے اور شراب بھی پیش کی تھیں تاہم کیک بنا اجازت اٹھایا گیا تھا امریکی افواج نے اس موقع پر جنگ میں ان کا ساتھ دینے پر اطالوی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔