Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    غیر شادی شدہ خواتین کو جس طرح معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح شادی شدہ خواتین کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے, کہیں پہ عورت کے کندھوں پہ تہذیب کا بوجھ ہوتا ہے تو کہیں پہ طلاق کا دھبہ اس کے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے
    کئی جگہوں پر تو عورت کی خود مختاری ضبط کر لی جاتی ہے تو کہیں اس کا کام صرف گھر سنبھالنا ہی طے ہوتا ہے کیونکہ اس معاشرے میں اکثر عورت کے حقوق کو سبو تاژ کیا جاتا رہا ہے کہیں عورت کو ہمیشہ عیش اور عشرت پرستی کا ذریعہ سمجھ کر حکمرانی کی جاتی ہے.
    ابھی بھی کچھ لوگ عورت کو اس کا اصل مقام دینے کے حامی نہیں ہیں اور یہی لوگ آزادی نسواں کے خلاف بھی ہیں.
    یہی وجہ ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع مختلف تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے
    مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے عورتوں کے ساتھ جبروتششدد کے واقعات میں زیادہ تر مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن
    پس منظر کو دیکھیں تو ایک عورت ہی کہیں نہ کہیں آ لےکار ثابت ہوئی ہے ایک عورت پر ظلم کرنے میں خواہ وہ سوتن کے روپ میں, نند کے روپ میں یا پھر ساس کے روپ میں..
    بےشک معاشرے میں بےشمار خرابیاں ہیں مگر اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سب میں کہیں تھوڑا سا قصور عورت کا بھی تو نہیں ہے

    ایسا ہی کچھ دنوں پہلے کشمیر کے ایک گاؤں کاچلیاں میں ہوا
    لڑکی کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہوا ایک بیٹی ایک سال کی اور وہ دوسرے بچے کی امید سے تھی. اس بےخبر کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے تعلقات اپنی کزن کے ساتھ ہیں
    لڑکی کا شوہر کام کے سلسلے میں دوبئی میں رہتا تھا پر اپنی کزن کے ساتھ رابطے میں تھا.
    یہ لڑکی دوسری بار ماں بن رہی تھی اور اسے پتا نہیں تھا کہ اس کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس کی ساس اور شوہر منصوبہ بندی کر رہے ہیں
    ایک دن لڑکی اپنی بچی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی کہ ساس نے اپنی بھتیجی ( لڑکی کے شوہر کی معشوقہ) کو فون کرکے بتایا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کرسکتی ہے.

    گاؤں میں گھر دور دور ہوتے ہیں جب شوہر کی معشوقہ چھری لے کے لڑکی کے گھر گئی تو وہ سو رہی تھی, اسکے سر پر کسی چیز سے ایسا وار کیا کہ لڑکی بے ہوش ہوگئی اور بےہوشی میں ہی اس کے ہاتھ پیر کی سب انگلیاں کاٹ دی جب گلے پہ چھری رکھی تو لڑکی کو ہوش آگیا مزاحمت کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کی دو سال کی بچی کے رونے کی آواز اور لڑکی کے چلانے کی آواز کھیت میں کام کرنے والے ایک آدمی کو سنائی دی وہ بھاگ کے مدد کو آیا تو دیکھا شوہر کی معشوقہ نے لڑکی کی گردن پہ چھری رکھی ہوئی ہے اور لڑکی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کے ساتھ واسطے دے رہی ہے کہ میں نے کیا کیا ہے مجھے مت مارو

    اس آ دمی نے اس عورت سے چھری چھین لی اور اسے کمرے میں بند کرکے پولیس کو کال کی.
    زخمی لڑکی کو اسپتال لے جایا گیا مگر اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث راولپنڈی اسپتال ریفر کر دیا گیا. گاؤں والوں نے لڑکی سے پوچھا ایسا کیوں کیا تو اس نے بتایا کہ میرے کزن نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو راستے سے ہٹاؤ تو تم سے شادی کرونگا اور اس منصوبہ بندی میں میری پھپھو ( لڑکے کی ماں) بھی شامل ہے.
    خیر یہ اچھا ہوا مظلوم لڑکی کی جان بچ گئی اور مجرمہ جیل چلی گئی پر اس کے اقرار جرم اور اس کے عمل نے یہ ثابت کردیا کہ عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے. شاہد یہ بات سننے میں عجیب لگے پر آپس کی دشمنی یا لالچ کی وجہ سے دوسری عورت کو مارنے یا برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی. اور کئی گھرانوں میں عام دیکھا گیا ہے کہ مرد کو ہتھیار بنایا جاتا ہے جب اس کو ایک عورت خواہ ماں ہو یا بہن یا بیوی) اسے دوسری عورت کے خلاف اکساتی ہے تو وہ قہر برسانے لگتا ہے…

    ہمیں اپنی خامیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی لڑائی کو ختم کرنا ہوگا, اور جب عورت ہی عورت کی ڈھال بن جائے تو ہھر کوئی عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتا.

    @Rehna_7

  • شین اور میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا  ،تحریر:نوید شیخ

    شین اور میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا ،تحریر:نوید شیخ

    ن میں سے شین اور شین میں سے میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا !!!

    ۔ اس وقت پی ٹی آئی والوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ
    ۔ چل کیا رہا ہے ۔
    ۔ ہو کیا رہا ہے ۔
    ۔ اور ان کا بنے گا کیا ؟؟؟

    ۔ کیونکہ ایک جانب پنجاب میں اپنوں اور مخالفوں دونوں نے مل کر سیاسی محاذ مزید گرم کر دیا ہے ۔ تو اسلام آباد میں بھی تمام اپوزیشن جماعتوں کے بڑے حملے کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ تیسرا بلاول کا لانگ مارچ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کو پہنچنے والا ہے ۔ یوں جو بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا تھا، وہ لگتا ہے کہ بکھر رہا ہے ۔ پنجاب میں کھپ کچھ زیادہ دیکھائی دے رہی ہے اور ق لیگ نے شاید ٹرین مس کردی ہے ۔ اب معاملات کسی اور طرف جاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اسی حوالے پرویز الٰہی نے مشورہ دیا ہے کہ حالات تیزی سے حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں، جو پہلے فیصلہ لیتا ہے سیاست میں اس کوبرتری حاصل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا اہم اجلاس ہوگیا ہے ۔ جس میں علیم خان نے جہاں جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت اختیار کی وہاں بڑے اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں ۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا جہانگیر ترین اور علیم خان کا ہدف صرف پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہوگی؟
    یا
    پھر پی ٹی آئی کا بڑا حصہ اب جہانگیر ترین اور علیم خان مل کر چلائیں گے ۔ یعنی عمران خان کی جانب سے جس ڈر سے ان دونوں کو سائیڈ لائن کیا گیا تھا کہ یہ پارٹی کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ویسا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ وزیر اعظم کے رابطہ کار بھی ایکٹو ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانےکیلئے جدوجہد شروع ہوگئی ہے ۔ چڑیل کے مطابق پرویز الٰہی یا ق لیگ کے امیدوار کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ حتمی نتیجہ ایک دوروزمیں سامنےآجائے گا۔

    ۔ عبد العلیم خان نے بھی نئی پرانی ساری باتیں کردی ہیں کہ اگر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو ہم سب مل کر فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دینا ہے ۔ پنجاب میں جیسی حکومت ہے اس پر تشویش ہے۔۔ پھر لندن سے خبر یہ ہے کہ ڈاکٹرز نے جہانگیرترین کو سفر کی اجازت دے دی ہے ۔ جلد وہ پاکستان پہنچ جائیں گے ۔ ۔ کپتان کے لیے مشکل صورتحال یہ بھی ہے کہ وہ ابھی تک جہانگیر ترین گروپ کو ہی نہیں منا پائے تھے کہ ان کے سابق بااعتماد ساتھی اور جہانگیر ترین کے ہم پلہ فنانسر علیم خان نے گروپ شکیل دیدیا ہے ۔ ۔ یوں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ مرکزو پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اپوزیشن تحریک کا باقاعدہ حصہ بن جائیں ۔۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عمران حکومت کا اصل بحران اندرونی ہے۔ تحریکِ انصاف کے الیکٹ ایبلز حکومت کی خراب کارکردگی پہ بہت ناراض ہیں اور اُنہیں اپنے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ کچھ تو پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں۔ لیکن جتنی درخواستیں ہیں اتنی اسامیاں خالی نہیں۔ جہانگیر ترین اورعلیم خان کے ہم خیالوں کے گروپ کے سامنے آنے کی اہم وجہ بھی یہ ہی معلوم ہوتی ہے ۔۔ اب اس مشکل صورتحال میں حکومت کی پلاننگ ذرا چیک کریں ۔ سپیکرقومی اسمبلی کا پلان یہ ہے کہ حکومتی خرچے پر اپوزیشن کے ایم این ایز کو یورپ اور امریکہ کے دورے کروائے جائیں۔ خود حساب لگالیں کہ جہاں اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے لوگوں کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا ہے تو یہ ملک سے باہر بھیجنے کی پلاننگ کر رہے ہیں ۔ ویسے میرے حساب سے جس بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کے اپنے اندر اکھاڑ پچھاڑ دیکھائی دے رہی ہے ۔ ان کو چاہیے کہ اپنے ایم این ایز کو یورپ اور امریکہ کے ٹور کروائیں ۔ ۔ دوسری جانب پرویز خٹک اور شبلی فراز اپوزیشن کے پندرہ سے زیادہ ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ فرض کریں یہ ٹھیک بھی کہہ رہے ہوں تو نمبر گیم اس وقت پندرہ سے اوپر جا چکی ہے ۔ ۔ اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کو چیلنج ہے کہ تم لوگ کہتے ہوکہ ہمارے پندرہ لوگ تمہاری طرف چلے گئے ہیں، ایک نام بتاؤ میں تمہیں سولہ لوگوں کے نام بتاتا ہوں۔ پھر ان کا دعوی ہے کہ حکومت کے قریبی وزرا بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔

    ۔ آپ دیکھیں کل آصف زرداری سے پی ٹی آئی بلوچستان کے سابق صدر سرداریارمحمد رند نے ملاقات کی ہے ۔ اس سے پہلے ندیم افضل چن پھر سے جیالا بن گئے ہیں ۔۔ اس اہم سیاسی موڑ پر اگر کوئی پارٹی مستعدی سے کھیلی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے۔ جس کے ایک co chairmanآصف علی زرداری اسلام آباد میں بیٹھے تمام تر سیاسی جوڑ توڑ میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، تو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو ایک زبردست لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ کر رہے ہیں۔ ۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ بری طرح فلاپ ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے حیدرآباد میں جلسے میں شاہ محمود قریشی نے شرکت نہیں کی۔ پھر وفاقی وزیر اسد عمر بھی جلسے میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے حیدرآباد پہنچے لیکن وہ بھی اسٹیج پر آئے، ہاتھ ہلایا اور چلے گئے۔ جانا بنتا ہی تھا کیونکہ خالی کرسیوں سے توبندہ خطاب نہیں کر سکتا ۔ جبکہ ارباب غلام رحیم بھی کارکنوں سے ناامید نظر آئے اور حیدرآباد والوں کو بے مروت کہا۔

    ۔ جب ایمپائر نیوٹرل ہوتا ہے تو ٹیموں کو اپنے زور بازو پر کھیلنا پڑتا ہے۔ دکھانا پڑتا ہے کہ ان کے پاس کھیل کھیلنے کی کتنی مہارت ہے اور وہ ایک مشکل صورت حال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ لیکن وہ کھلاڑی کسی مشکل سے کیا نکلے گا جس نے اپنے غلط فیصلوں سے پوری ٹیم کو ایک بڑی مشکل میں دھکیل دیا ہو۔ شاید یہ حالات کی نزاکت کا ہی تقاضا ہے کہ عمران خان کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے ۔ کیونکہ کل میلسی میں جو کچھ انھوں نے کہا وہ ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی تقریر تھی جس کے ہاتھ میں جب کچھ نہیں رہا تو وہ ایک جانب اپنے سیاسی مخالفین کو تو دھمکیاں دے ہی رہا تھا مگر دوسری جانب امریکہ اور یورپ کو برا بھلا کہنے کا مقاصد صرف ایک تھا کہ جب کپتان گھر جائیں تو وہ اور انکے لوگ کہہ سکیں کہ ہماری خلاف عالمی سازش ہوئی تھی حالانکہ کون نہیں جانتا کہ اگر اتنے ہی بڑے یہ انقلابی تھے تو لابنگ فرمز کے زریعے کون کوشش کرتا رہا ہے کہ جوبائیڈن ان کو صرف کال ہی کرلے ۔ ویسے فون کال والا رونا دھونا تو ہم کپتان کی ہر دوسری تقریر اور انٹرویو میں سنتے رہے ہیں ۔ یہ تو کچھ نہیں جو عوام کو دنیا میں دو کیمپوں والی سیاست کا بتا کرگمراہ کررہے تھے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ امریکی خوش نودی کے لیے جب سے یہ حکومت آئی اس نے سی پیک کو کھڈے لائن لگا دیا ۔ امریکہ پھر بھی راضی نہیں ہوا ۔

    ۔ اب عمران خان کی اس بلاجواز بیان بازی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا ہوگا ۔ یاد رکھیں امریکہ یا یورپ ہم کو دھمکی نہیں لگائیں گے ۔ بس جیسے پہلے عمران خان کے روس پہنچنے پر اسٹیٹ بینک کو جرمانہ کیا ہے ویسے کسی مد میں ہم کو مزید مجبور کردے گا ۔ یہ جو خوشیاں منا رہے تھے کہ ہماری ٹیکسٹائل پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے ۔ وہ سب یورپ کی منڈیوں کے مرہون منت ہے ۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی بدولت ہے ۔ اس سلسلے میں ایک بھی پابندی لگی تو سمجھیں ہم پھر سے زیرو پر آجائیں گے ۔ مت بھولیں کہ دو دن پہلے برطانیہ نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔ حالانکہ شیرقومی سلامتی کو برطانوی حکومت نے خود دورے کی دعوت دی تھی۔

    ۔ پھر گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی صدر کے قومی سلامتی مشیر Jack Salonنے ایک خصوصی ٹیلیفون کال میں مشیرقومی سلامتی معید یوسف کو پاکستان کے روسی جارحیت پر خاموشی کے نتائج سمجھانے کی کوشش کی ۔ لیکن عمران خان نے جواب میں امریکہ کو دوبارہ شٹ اپ کال بھجوا دی ہے ۔ امریکہ یورپ کے ساتھ پاکستانی معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، اب کوئی معجزہ ہی پاکستان کو امریکہ اور یورپ کے جوابی رد عمل سے بچا سکتا ہے ۔ ۔ کپتان باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتے ہیں ۔ مگر سچائی یہ ہے مانگنے والے ہاتھ مار نہیں سکتے ۔ عمران خان نے ملک کو اتنے قرضوں میں پھنسا دیا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کو بھی کاٹ چکے ہیں ۔ آسان الفاظ میں جب آپ کشکول لے کر در در کے چکر لگا رہے ہوں تو پھر ایسی تقریریں اس ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتی ۔ اپنی سیاست کی خاطر یوں ملکی خارجہ پالیسی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مثال میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی آپ دیکھیں شہباز گل جیسے ترجمان بھی اس پر قوم کو بتا رہے ہیں کہ عدم اعتماد انٹرنیشنلی سپانسرڈ پلان ہے ۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نہیں عالمی طاقتیں لارہی ہیں اپوزیشن والے تو صرف کرائے کے بروکر ہیں ۔ پتہ نہیں حکومت کے ادارے اور ایجنسیاں کیا کر رہے ہیں اس سلسلے میں کہ حکومت کے خلاف ایک عالمی سازش ہو رہی ہے اور ان کو کچھ پتہ نہیں ۔ مگر وزیر اعظم کے ترجمان کو پتہ لگ گیا ہے ۔ ویسے میری سمجھ سے باہر ہے کہ جب اپنے پر بات آتی ہے تو ثبوت مانگتے ہیں کسی اور پر بات تو ہو بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ اتنے سینئر ترجمان سے ایسی خالی خولی بیان بازی جچتی نہیں ۔ کیونکہ سوال تو پھر پی ٹی آئی پر بھی بنتا ہے کہ جب اسلام آباد میں 126دن کا دھرنا دیا تھا تو اس وقت ان کو کون سی عالمی طاقت مدد فراہم کر رہی تھی ۔ ۔ دراصل عمران خان کی حکومت آخری ہچکولے لے رہی ہے، تحریک عدم اعتماد میں ان کو اپنی شکست واضح نظرآرہی ہے ، ان کو سمجھ نہیں آرہا کہ کس طریقے سے اس بحران سے نکلیں۔

  • خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    نئی دلی:
    بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے جو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کہاہے کہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید نہ کریں کیونکہ اگر وہ خاموش رہیں تو انہیں ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ انہیں ان عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

    ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف جنڈ کے گائوں کنڈیلا میں کنڈیلا کھاپ اور ماجرا کھاپ کے زیر اہتمام کسان سمان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سمیت متعدد معاملات پر بی جے پی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ۔ جنوری میں ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیاتھا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر وزیرا عظم سے ملنے گئے تھے ۔

    تاہم انہوں نے کہاکہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ پی ایم مودی نے انہیں کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ملاقات تھی اور مودی نے اس موقع پر ان سے لڑائی کی ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کریں گے ۔ستیہ پال نے کہاکہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیاتھا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو انہیں صدر یا نائب صدر بنایاجا سکتاہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان عہدوں کو لات مارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سارے واقعے سے ناراض ہوکر انہوں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اورکسانوں کی تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ وہ بھارتی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے کیلئے بھی گیا کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن تب تک استعفیٰ نہ دیں جب ان سے اس بارے میں کہاجائے۔

    ستیہ پال ملک نے کسانوں پرنئی دلی میں حکومت کی تبدیلی کیلئے متحدہونے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر کسان متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔

  • بلا عنوان   ،تحریر : فضیلت اجالہ

    بلا عنوان ،تحریر : فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے کہ

    زمین و آسماں ، ہر جگہ پر خدا کی بادشاہت ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔( سورۃ الشوریٰ ۴۹)

    آج میرے قلم پہ لفظوں کا قحط طاری ہے ، احساسات ششدر اور دل و دماغ میں حشر برپا ہے ۔ نوک قلم ایک ماں کا، پورے میانوالی کا یا شائد پورے پاکستان کا رنج و الم الفاظ میں سمونے سے قاصر ہے
    کتنی اندوہناک اور لرزا دینے والی خبر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں
    ایک ننھی پری عورتوں کے عالمی دن سے صرف ایک دن پہلے اپنے ہی سفاک باپ کے ہاتھوں رب کی جنت میں واپس چلی گئی ۔ ایک ننھا سا گوشت پوست اور اس قدر بربریت کیا کیا ازیت نا جھیلی ہوگی اس ننھی جان نے یا شائد اس کی سانس تو گولی چلنے کی آواز سے ہی سہم کے ساکن ہوگئ ہوگی۔ سوچتی ہوں تو روح لرز جاتی ہے کہ کیا وہ معصوم کلی رب کی بارگاہ میں سوال نہیں کرے گی کہ میرے مالک مجھے کہاں بھیجا تھا؟میں نے کیا خطا کی تھی ؟ باپ تو تپتے صحرا میں چھاؤں کا نام ہے نا پھر میرے اپنے ہی باپ نے مجھ میں اتنی آگ کیوں انڈیل دی۔
    یہ خبر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ افسردگی سی افسردگی ہے ۔ تکلیف زیادہ ہے کہ غصہ ، دل اظہار کرنے سے قاصر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعے سے عرب کے دور جہالت کی یاد تازہ ہوگئی ۔
    جہاں بیٹیوں کو زندہ ہوتے ہی دفنا دیا جاتا تھا۔
    وہ اسلام جس نے بیٹیوں کو رحمت خداوندی کا درجہ دیا آج اسی اسلام کے نام پہ حاصل کردہ ملک میں کبھی نئے کپڑے مانگنے کی پاداش میں تین تین بیٹیوں کو موت کا لباس اوڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بیٹا نا پیدا ہونے کی جرم میں معصوم سات روزہ کلی کی سانسیں کھینچ لی جاتی ہیں لیکن کوئ قیامت برپا نہیں ہوتی ، نا کہیں بجلی گرتی ہے اور نا آسمان ہی ٹوٹتا ہے ، کیوں بے بس و لاچار ماں کی آہیں عرش و فرش کو نہیں ہلاتی
    آخر کیوں فرشی منصفوں کا ضمیر نہیں جاگتا؟ کیوں ایسے ظالم کرداروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا
    کب تک آخر کب تک ریاست اس گھناؤنے واقعات کو نجی مسائل کہہ کر درگزر کرتی رہے گی کب تک حوا کی بیٹی نا کردہ جرائم کی سزا پاتی رہے گی

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول

    اک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
    اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن

    اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

    یہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے عورت ہمیشہ مرد کی نام نہاد انا و غیرت اور ظلم و بر بریت کا نشانہ بنتی رہی ہے اس ننھی پری کے سفاک باپ جیسے کردار دنیا میں ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ دل کو اطمینان دینے والا احساس یہ ہے کہ اس سے کئی سو گنا زیادہ تعداد ان مردوں کی ہے جن کے لیے ان کی بیٹیاں ان کے جگر کا ٹکڑا ہیں۔

    ہمارے اطراف موجود ملنے جلنے والوں رشتے داروں دوستوں میں اکثریت ایسے گھرانوں کی ہے جہاں باپ کی جان ان کی بیٹیوں کا وجود ہے ۔ جہاں بیٹیاں کو رحمت سمجھ کر ان کو مان سمان اور پیار سے پالا جاتا ہے ۔

    اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات ہر معاشرے میں قابل نفرین سمجھے جاتے ہیں کسی بھی معاشرے میں ایک سفاک باپ کے ایسے سفاک عمل کے پیچھے صرف غلط معاشرتی سوچ ہی نہیں کبھی کھی ذہنی مرض ، نفسیاتی الجھنیں اور کئی دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں ۔

    ورنہ حقیقی صورتحال کیا ہے اس کو جاننا مشکل نہیں۔ آج صرف سوشل میڈیا کی ہی مثال لیں کسی بھی صنفی امتیاز کے بنا مردوں کی اکثریت اس واقعے کی مذمت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کررہے ہیں ۔

    کیونکہ ایک باپ کے لئے بیٹیاں تو خالق کی اتنی پیاری مخلوق ہے جن کے وجود کا جن کے ہونے کا صرف شکرانہ ہی ادا کیا جاسکتا ہے ۔

    اللہ سب کے گھر کی رحمتوں کو سلامت رکھے ۔ آمین
    اس خاندان کے معتبر بزرگوں سے بہتے اشکوں کے ساتھ التماس ھے کہ اس کیس ک مدعی صلح یا رشوت کے پیسوں کی بجائے اس ننھی کلی کو سامنے رکھے اگر آج ایک بیٹی کا خون بخش دو گے یا خون بہا لے کر چپ کر جاؤ گے تو کل دوسری اور تیسری بیٹی کی قبر کھودنے کے لئیے بھی تیار رہنا

    یہ کیس ایک خاندان یا ایک ماں کا نہیں پورے پاکستان کا ہے ،یہ کیس ہر لاچار و مجبور ماں کا ہے جو نام نہاد غیرت مند مردوں کے ہاتھوں روز قتل ہوتی ہیں یہ کیس ہر ہر اس بنت حوا کہ ہے جس کا جرم اس دنیا میں سانس لینا ہے ۔ اس کیس کا نتیجہ ایسے تمام گھناؤنے کرداروں کے لئیے ایک پیغام ایک واضح نشان عبرت ہونا چاہیئے ۔
    @_Ujala_R

  • خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ارضی تجزیاتی مرکز سے وابستہ طالبہ کیٹی مک کوئلن نے انکشاف کیا ہے کہ خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں-

    باغی ٹی وی : انہوں نے امریکا میں بلیو رج ماؤنٹین کے پہاڑی سلسلے پر لگے جنگلات اور درختوں پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خشک موسم زیادہ دیر برقرار رہیں تو پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں درخت جتنی بلندی پر ہوں گے وہ اتنا ہی پانی استعمال کریں گے-

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…

    ان کی تحقیق سے ثابت ہے کہ پہاڑی علاقے کے لوگوں کو یہ جاننا ہوگا کہ اگر پہاڑوں پر جنگلات ہیں اور آبادی بلندی سے آنے والے پانی استعمال کرتی ہے تو خشک سالی میں اس پانی کی کمی ہوسکتی ہے یہاں تک کہ پانی کا کال پڑسکتا ہے۔

    اس ضمن میں گریٹ اسموکی ماؤنٹین پارک پر تحقیق کی گئی ہےجو اوک رج پہاڑی سلسلے کا ہی حصہ ہے اس ضمن میں 1984 سے 2020 تک سیٹلائٹ تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا یہ تصاویر تھرمل انفراریڈ پر مبنی تھیں۔ اس ضمن میں لگ بھگ 15000 مربع میل جنگلات کا ڈیٹا پڑھا گیا تھا جو کئی امریکی ریاستوں پر محیط ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    پہاڑیوں پر واقع جنگلات انتہائی صاف اور صحت بخش پانی بناتے ہیں جو کسی معدنی مائع سے کم نہیں ہوتا اس طرح یہ قیمتی پانی ہوتا ہے۔ ڈیٹا کےمطابق جب بھی خشک سالی آئی درختوں نے پانی زیادہ استعمال کیا اور یوں پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہوا کیونکہ یہ پانی ہزاروں لاکھوں درختوں سے گزرتا ہے اور ہر درخت اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرتا ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ اس کیفیت کو سمجھ کر ہم پہاڑی جنگلات کے دامن میں موجود آبادیوں، جانداروں اور کھیتوں میں پانی پہنچنے یا اس کی قلت کی پیشگوئی کرسکتے ہیں یہ پیشگوئی بالخصوص خشک سالی کے دوران بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    8 مارچ عورتوں کا عالمی دن جو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے
    اس دن کا مقصد مظلوم عورتوں کے حقوق پر آواز اٹھانا ہوتا ہے
    لیکن میرے پاکستان میں 8 مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا جاتا ہے
    جہاں ایک طرف مدارس کی باپردہ عورتیں حجاب کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے تو دوسری طرف کچھ کالجز اور یونیورسٹیز کی عورتیں اپنے مردوں سے آزادی لینے کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے
    ان کے نعرے بھی مختلف ہوتے ہیں
    ایک طرف یہ
    مجھے وراثت میں حق دو
    میری پیدائش پر دکھی مت ہو
    میں اللہ کی رحمت ہوں مجھے بوجھ مت سمجھو
    مجھے تعلیم دو
    میری عزت کرو
    تو دوسری طرف نعرے ہوتے ہیں
    لو بیٹھ گئ ایسے ۔۔۔
    کھانا خود گرم کرو
    نہی پہنوں گی پورے کپڑے
    میں اپنی مرضی سے بچہ پیدا کروں گی
    مجھے اپنے مردوں سے آزادی چاہیے
    علی وزیر کو رہا کرو
    منظور پشتین کو ریاست مخالف جلسوں کی آزادی دو
    فوج بری ہے فوج یہ ہے فوج وہ ہے ۔بلوچستان دہشتگرد تنظمیں معصوم ہے ان کو کچھ نہ کہو
    اس کے علاوہ اسلام کے خلاف توہین آمیز بینر ہوتے ہیں۔۔پچاس مرد تو بیس عورتیں ہوتی ہے مردوں کے گلے میں پٹا ڈال کر بظاہر مرد کو کتا کہتی ہے۔۔اور وہ مرد خود خوشی خوشی اپنی تذلیل برداشت کررہے ہوتے ہیں ۔پتہ ہے کیوں؟

    کیونکہ یہ عورتیں ان کے ہی اشاروں پہ ناچ رہی ہوتی ہے
    پاکستان کو عورتوں کے لیے دنیا بھر کی نظروں میں برا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے
    2020 عورت مارچ پہ پابندی لگانے کے لیے عدالت میں درخواست بھی دی گئ تھی کہ عورت مارچ کے روپ میں یہ بیکار گروہ ہماری نوجوان نسل کا برین واش کررہا ہے
    ‏میرا جسم میری مرضی کے نعرے اور عورت مارچ کے پیچھے لادینیت اور الحاد کا ایجنڈا کارفرما ہے ورنہ اسلام نے تو عورت کو بہت ذیادہ حقوق دے رکھے ہیں.عورت ماں، بہن، بیٹی کے طور پر پاکستان میں بہت اچھا رول پلے کر رہی ہیں ہمیں کسی نئے حقوق، نعرے یا عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے
    اس پر 6 مارچ 2020 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا ‏عورت مارچ کے نعرے درست ہیں خواتین اسلام میں دیےگئےاپنے حقوق مانگ رہی ہیں اور جج صاحب نے عورت مارچ پہ پابندی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔۔

    حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بیٹھے اعلی عہدوں کے لوگ خود اس ایجنڈے کو پرموٹ کررہے ہیں خواہ وہ شیریں مزاری ہو یا فواد چوہدری جیسا لبرل ۔جس نے ہمیشہ خود کو ایک خودساختہ مولانا بنایا ہوا ہے ۔کہ ہمیشہ جب اسلام پہ بات آتی ہے فواد صاحب جن کو شاید چھ کلمے بھی نہ آتے ہوں لیکن لبرل کہ روپ میں علماء والے کام بھی خود ہی کرنے لگ جاتے ہیں کہ جیسے ان صاحب کا ایک ہی کام ہے اور وہ علماوں اور لوگوں کے درمیان انتشار پھیلانے کا
    ورنہ اکثر ایسے موضوع پر جن پر بولنا ہو موصوف ہمیشہ خاموش ہی رہتے ہیں اور خاموشی سے ایسے ایجنڈوں کو پرموٹ کرتے ہیں

    اور سب سے اہم بات ۔جب ہمارے ٹی وی چینلز پر اخلاق سے گرئے ہوئے ڈرامے دیکھائے جائیں گے جب اک اسلامی ریاست کے نام پر بننے والے ملک میں عورت مارچ کے نام پر میرا جسم میری مرضی جیسے گھٹیا نعرے کے ساتھ ملکی شاہراوں پر سرعام بےحیائی پھیلای جاے گی تو پھر اس کا رزلٹ ایسے ہی یونیورسٹیز اور کالجوں نکلے گا۔
    کبھی سوچا ہے آپ نے یہ کیسی عورتیں ہیں ، ان کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ، یہ نعرے یہ سلوگنز کہاں پے ترتیب دیے جا رہے ہیں ، حکومتی مشینری کو فعال ہونے کی اشد ضرورت ہے ، ورنہ ! بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے ، ہر سال انکے ڈرامے بڑھتے جارہے ہیں ، پہلے یہ صرف (کھانا) گرم کرنے کی بات کرتی تھیں اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے

    جب بھی عورت مارچ پہ پابندی کی بات ہوتی ہے عورت مارچ کے منتظمین ہمیشہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ غیر اخلاقی سلوگنز اور پلے کارڈز نہیں ہوں گے اور پھر تحریر شدہ بیہودہ اور انتہائی غلیظ نعروں والے بینر پکڑے ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ بھی کیے ہوتے ہیں سعودیہ میں ڈانس کلب کھلے ہوں تو آپ میں یہاں بیٹھے غیرت جاگنے لگتی ہے اور آپ سعودیہ کے خلاف ہیش ٹیگ چلاتے ہیں گستاخ سعودیہ ۔ترکی میں کچھ ایسا ہو تو آپ دین اسلام کہ ٹھیکدار بن کر ترکی خلاف ٹرینڈ چلاتے ہیں گستاخ ترکی اور خود نیک اچھے مسلمام بن جاتے ہو ۔

    لیکن آپ کے اپنے ملک میں پچھلے چند سالوں میں ہر سال یہ ہوتا ہے ۔اور دنیا بھر کا میڈیا اسے کوریج کرتا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوتے ہو ۔

    کیا ہماری عدالت ان پر ایکشن لے گی۔یا یوں ہی فحاشی کی ذمہ دار بنتی رہیں گی.
    ایک بار پھر دینی حلقوں علماء و اکابرین سے درخواست ہے کہ آپسی رنجشیں اور فرقہ پرستی سے نکلیں اور یک جان ہو کر خدارہ ایسے فتنوں کی سر کوبی کریں۔
    حنا سرور

  • عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    اسلام میں عورت کا بہت خوبصورت اور بلند مقام ہے.

    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے والی پہلی شخص تھی.
    زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل عورتوں پیدا ہوتے دفنا دیا جاتا تھا اور ماہواری کے دونوں میں گھر سے نکال دیا جاتا تھا لیکن اسلام آنے کے بعد اسلام نے عورتوں کے حقوق کا صحیح طرح تحفظ کیا.اور معاشرے میں ان کے اہم کردار کی صحیح طرح تشریح کی عورت ماں ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود کو ماں کے پیار سے تشبیہہ دی۔

    غلط فہمیوں کے باوجود اسلام میں عورت کی حیثیت ایک محبوبہ کے برابر ہے۔ ایک گہرے جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی منفرد شراکت کا جشن منانا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرنا اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلانا۔

    اکثر لوگ آپ کو بحث کرتے نظر آتے ہیں کے عورتوں کے ساتھ معاشرے میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کے آخر معاشرے میں ہوتی عورت کے ساتھ زیادتی کی وجوہات کیا ہیں؟؟
    اسلام میں خواتین کے بارے میں بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں،خاص کر ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ پارٹیشن سے پہلے کچھ غلط رسم و رواج شامل ہوئے جو کے ہم معاشرے میں آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں.
    جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی توہین کرتے ہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے براہ راست مخالف بھی ہیں۔ .

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام عورت کو عزت دینے، اس کی حفاظت کرنے، اسے بنی نوع انسان کے بھیڑیوں سے بچانے، اس کے حقوق کی حفاظت اور اس کے درجات کو بلند کرنے کے لیے آیا ہے۔

    تاریخ، ثقافت اور مذہب کے درمیان تمام الجھنوں کے ساتھ، اپنے آپ سے سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن اور احادیث اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں ہمیں کیا درس دیتی ہیں؟

    اسلام ہمیں صنفی مساوات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا ایک ہی روح سے پیدا ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر مجرم، یکساں ذمہ دار اور یکساں قابل قدر۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک پاکیزہ حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور عورت – اور ہمیں اس پاکیزگی کو ایمان کے ساتھ ساتھ نیک نیتوں اور اعمال کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    مساوات کا موضوع دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعے بھی چلتا ہے۔ قرآن کی ایک اہم آیت میں ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔

    یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔

    ایک اور قرآنی آیت میں عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی مرد ہو یا عورت، نیک عمل کرے گا اور ایمان لائے گا، ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دیں گے۔‘‘ (16:97)

    اسلام سے قبل یورپ سے لے کر عربی دنیا تک عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام بذات خود جزیرہ نما عرب میں پیدا ہوا، جو اب سعودی عرب ہے، جہاں خواتین کے پاس کاروبار، جائیداد یا وراثت میں پیسہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لیے تعلیم نایاب تھی، اور لڑکیوں کو اکثر پیدا ہوتے پھینک دیا جاتا تھا یا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کی کاروباری زوجہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت سے غیر منصفانہ طریقوں کے خلاف کھڑے ہوئے، مردوں کو عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق، تمام زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مردوں اور عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کریں اور ان پر کبھی زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔

    اسلامی قوانین کے تحت خواتین کو جائیدادیں بیچنے اور خریدنے، کاروبار چلانے، شادی کے دوران کسی بھی موقع پر اس سے جہیز کا مطالبہ کرنے، ووٹ ڈالنے اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق بھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے کئی اسلامی ممالک میں خواتین صدر رہ چکی ہیں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک مساوی رسائی کو بھی فروغ دیا، ہمیں یہ سکھایا کہ، "علم کا حصول ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محترم تھیں۔ اس سے ثابت ہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اپنی نشست ان کو دے دیتے۔آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ایسے کئی واقعات ہیں جن سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کے کس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات اور اپنے عمل سے بتایا کے ایک اچھے معاشرے میں عورت کی کیا اہمیت ہے.
    سوشل میڈیا پے چلتی عورتوں کی آزادی کی بحث میں پڑنے کے بجائے اسلام میں عورت کے حقوق اور عورت کے کردار کے بارے میں پڑھیں اور ایک اچھے معاشرے کے لیے عورت کے کردار کو صحیح طرح جانیں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    سان فرانسسكو:یوٹیوب نے مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اگرچہ یوٹیوب نے اس کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا لیکن چند مؤقر ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیوب نے مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ آواز پر مبنی پوڈکاسٹ کی ویڈیو اور ڈاکیومینٹری بناسکیں۔

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    رپورٹس کے مطابق یہ رقم 50 یزار ڈالر سے تین لاکھ ڈالر تک ہوسکتی ہے جو انفرادی یا کسی نیٹ ورک کو دی جارہی ہےاسے فلم اور ویڈیو بنانے کے لیے ہی خرچ کرنے کی اجازت ہوگی جس میں کیمرے اور ویڈیو ایڈیٹنگ کی سہولیات بھی شامل ہیں لیکن اس سے واضح ہے کہ یہ پیشکش مشہور اور بڑے پوڈکاسٹر کو کی جائے گی۔

    اگرچہ یوٹیوب ویڈیو پلیٹ فارم ہے لیکن اس پر کئی مشہور آڈیو پوڈ کاسٹ بھی جاری ہیں ان میں ایچ تھریاور فل سینڈ پوڈکاسٹ بھی شامل ہیں۔ یوٹیوب نے اکتوبر سے ہی اس پر کام شروع کردیا تھا۔

    سب سے پہلے کینیڈا کے صارفین کو ایپ کھولے بغیر آڈیو سننےکی سہولت فراہم کی گئی اس کے بعد کائی چوک کو بھرتی کیا گیا تو پوڈکاسٹنگ کا ماہر ہے اور اسے یوٹیوب پر لایا گیا۔ دوسری جانب اسپاٹیفائی نے آڈیو سے ویڈیو تک کا سفر شروع کیا۔

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    دی ورج نامی مشہور ویب سائٹ نے یوٹیوب سے اس کا مؤقف جاننے کے لیے بارہا رابطہ کیا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں مل سکا ہے۔

    قبل ازیں یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا تھا کہ ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

    نٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا تھا کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

  • واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    سان فرانسسكو: واٹس ایپ نے کمیونٹی کو دیگر گروپس سے منفرد اور علیحدہ رکھنے پر کام شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے اپنے دنیا بھر میں موجود 2 ارب سے زائد صارفین کے لیے آئے روز نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں، جن کا مقصد صارفین کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سرفہرست رہنا ہے واٹس ایپ نے اب گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کے لیے ایک نئی تبدیلی پر کام شروع کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

    ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے کمیونٹی کو دیگر گروپس اور نمبروں سے علیحدہ رکھنے کے لیے ایپ میں ایک نیا ٹیب شامل کیا ہے، جس پر کلک کرنے کے بعد تمام گروپس نظر آجائیں گے۔

    غیرمصدقہ اطلاع کے مطابق صارف جب مستقبل میں واٹس ایپ کھولے گا تو بائیں جانب کمیونٹی گروپ کا نشان نظر آئے گا، جس پر کلک کرنے کے بعد تمام گروپس نظر آجائیں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ چیٹ کے حوالے سے ایک بہترین فیچر کو آزمائشی طور پر متعارف کرا یا تھا نئے فیچر کا نام ‘کمیونیٹیز’ ہے جس کے ذریعے مختلف گروپس کو ایک ساتھ آپریٹ کرنے کی سہولت ہوگی۔

    صارفین کمیونیٹیز فیچر میں ایک سے زائد گروپس کو ایڈ کرسکیں گے جس کے بعد ممکنہ طور پر ایڈمن یا گروپ میں پیغامات بھیجنے کی رسائی رکھنے والے ممبرز بہ یک وقت تمام گروپس میں میسج کرسکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

  • فٹبال میچ کے دوران شائقین لڑ پڑے،17 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

    فٹبال میچ کے دوران شائقین لڑ پڑے،17 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

    میکسیکو:فٹبال میچ کے دوران شائقین لڑ پڑے،17 افراد کے مرنے کی اطلاعات ، تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ میکسیکو میں ایک فٹبال میچ کے دوران شائقین گتھم گتھا ہوگئے جس کے نتیجے میں 22 افراد زخمی ہوگئے جبکہ 17 کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز میکسیکو کی فٹبال لیگ (لیگا ایم ایکس) میں کوئریٹارو اور اٹلاس کے درمیان کھیلے جانے والا میچ میدان میں موجود شائقین کے درمیان لڑائی کی وجہ سے کھیل کے63 منٹ کے بعدختم کردیا گیا۔

     

    رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں نے بھی میدان میں شائقین کے درمیان جھگڑے کو روکنے کی کوشش کی جبکہ اس واقعے میں کم از کم 22 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔

    دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقعے میں17 افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی۔فٹبال میچ میں تماشائی کی پھینکی گئی بوتل کھلاڑی کو جالگی، میچ ختم کرنا پڑگیا

    لیگ کے صدر نے کہا کہ اتوار کے روز کھیلے جانے والے تمام میچز زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے معطل کر دیے گئے ہیں۔انہوں ے کہا کہ اسٹیڈیم میں سیکورٹی کے ذمہ داروں کو مثالی سزا دی جائے گی۔