Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان مملکت میں ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ہفتے کے روز ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی (ACES) نے سعودی عرب میں مقامی طور پر ڈرون پے لوڈ سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک عالمی سائنسی کی منتقلی کمپنی کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    سعودی عرب نے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی

    یہ ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی کی جانب سے مملکت میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے لیے ایریل سلوشنز کے نام سے ایک نئی کمپنی کے قیام کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

    نئے معاہدے پر چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ (CETC) کے ساتھ دستخط کیے گئے جو کہ دوہری استعمال کے الیکٹرانکس میں مہارت رکھنے والی سرکاری چینی دفاعی کمپنی ہے۔ یہ دُنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ چینی کمپنی کو ایک تحقیقی اور ترقیاتی مرکز کے قیام میں مدد کرے گی۔

    ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    مختلف قسم کے UAV پے لوڈ سسٹم کے لیے مینوفیکچرنگ ٹیم بشمول کمیونیکیشن یونٹس، فلائٹ کنٹرول یونٹس، کیمرہ سسٹم، ریڈار سسٹم، اور وائرلیس ڈٹیکشن سسٹم، تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے-

    معاہدہ اور کمپنی کی حکمت عملی ویژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ سعودی عرب کا مقصد فوجی صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانا، اسے سعودی معیشت کا ایک اہم معاون بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سرمایہ کاروں کی مدد، اس میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے امید افزا شعبہ اور قومی معیشت میں اس شعبے کی شراکت کو زیادہ سے زیادہ کرنا۔

  • شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا صرف 2 ماہ میں اب تک 9 میزائل تجربات کر لئے ہیں-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا نے اپنے سخت ترین حریف جنوبی کوریا میں انتخابات کے قریب آتے ہی میزائل تجربات میں ضافہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز رواں برس کا نواں میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ مزید ایسے تجربات ہوسکتے ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سے شمالی کوریا نے میزائل تجربات تیز تر کردیئے ہیں اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 27 فروری کو کیا گیا تھا –

    جبکہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں ایک اور ’نامعلوم میزائل‘ فائر کیا ہے۔ شمالی کوریا رواں برس اب تک نو بار مختلف طرح کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر کی طرف ایک نامعلوم قسم کا میزائل فائر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل کا تجربہ تھا۔

    اس بیان کے بعد ہی جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی کہا تھا کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں میزائل فائر کیا ہو۔ جاپان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا کہ مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    سلامتی کونسل نے اس میزائل لانچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل سے متعلق تمام تنصیبات کی سختی سے نگرانی کرے گا۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ تازہ ترین میزائل سونان کے قریب ایک مقام سے لانچ کیا گیا۔ سونان شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کا ایک شمال مغربی ضلع ہے اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا ماضی میں بھی کئی بار اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربے کے لیے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کرتا رہا ہے 27 فروری کو بھی اس نے اپنے جاسوس سیٹلائیٹ سسٹم کا تجربہ بھی یہیں سے کیا تھا۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ میزائل نے زیادہ سے زیادہ 550 کلومیٹر کی بلندی پر 300 کلومیٹر مشرق کی جانب پرواز کی۔ جاپانی وزیر دفاع کے مطابق پرواز کے بعد میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرا۔

    واشنگٹن میں واقع ولسن سینٹر کے ایک فیلو جین لی کا کہنا ہے کہ اس وقت چونکہ تمام تر عالمی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے، اس لیے ہمارے لیے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا یہ وقت بڑا عجیب سا ہےلیکن شمالی کوریا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کے لیے یہ بالکل مناسب بات ہے، جہاں سائنسدانوں کی توجہ نئے ہتھیار تیار کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ وہ اپریل کے وسط میں ہونے والی ایک بڑی فوجی پریڈ میں ان کی نمائش کر سکیں۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے بظاہر میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات سے محض چار دن پہلے کیا ہے۔ اس برس یہ اس کی جانب سے اب تک کا ہتھیاروں کا نوواں تجربہ ہے شمالی کوریا نے جنوری میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر جو خود سے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے بھی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں شمالی کوریا مستقبل قریب میں جاسوسی سٹیلائٹ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل کی تیاری کی بحالی کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں صدارتی الیکشن ہورہے ہیں جس کی ابتدائی ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور اس موقع پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوگیا۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

  • پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے

    پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے

    راولپنڈی :پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے،اطلاعات کے مطابق راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستانی بلے بازوں کی آسٹریلیا کے خلاف شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری ہے اور گرین کیپس نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 450 رنز بنالیے ہیں۔

    کھیل کے دوسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 245 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔پنڈی ٹیسٹ کا پہلا روز پاکستان کے نام، گرین کیپس نے ایک وکٹ پر 245 رنز بنالیے

     

     

    پاکستانی بیٹرز امام الحق اور اظہر علی دوسرے روز کے پہلے سیشن میں بھی آسٹریلوی بولرز پر حاوی نظر آئے اور اسی دوران امام الحق نے 150 رنز مکمل کیے۔کھانے کے وقفے کے بعد کھیل کا دوبارہ آغاز ہوا تو اظہر علی نے بھی 8 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 19 ویں سنچری مکمل کی۔

    پاکستان کی دوسری وکٹ 313 رنز پر گری جب امام الحق 157 رنز بنا کر پیٹ کمنز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔پاکستان کی تیسری وکٹ 414 رنز پر گری اور قومی کپتان بابراعظم 36 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

    بابر کے بعد 444 کے مجموعے پر پاکستان نے چوتھی وکٹ گنوائی، امام کی طرح اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے اور 185 رنز پر کیچ دے بیٹھے۔

  • مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں کے عارضی ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔جموں وکشمیر کیجول لیبررز یونائیٹڈ فرنٹ کے بینر تلے بڑی تعداد میں ملازمین نے پریس کلب جموں کے قریب جمع ہوکر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

    احتجاج کرنے والے ملازمین باقاعدہ کرنے، کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور زیر التوا اجرت کے اجراءکا مطالبہ کر رہے تھے۔دیہات دفاعی کمیٹیوں(وی سی ڈی) کے خصوصی پولیس افسروں نے جموں خطے کے ضلع ڈوڈہ میں بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انہیں کمیٹیوں کے دیگر اراکین کے برابر لایا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 25 برس سے وی ڈی سی میں بطور ایس پی او خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں تمام مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے فیصلے کے مطابق ان کی تنزلی کی گئی ہے اور ان کا اعزازیہ کم کر کے 4500 سوروپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محکمہ پولیس کے مستقل ملازمین میں شامل کرنے کے بجائے رضاکاروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نےکل ضلع شوپیا ں میں تین کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ نے اشفاق احمد ڈار، ندیم رفیق راتھر اور رئوف مشتاق نجار نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے Khudpora میں ایک چوکی سے گرفتار کیا۔ پولیس نے نوجوانوں کو مجاہد تنظیم کے کارکن قراردے دیا ہے ۔

  • پشاور دھماکہ اور بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    پشاور دھماکہ اور بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    جب سے آسٹریلیا کا دورہ پاکستان کا اعلان ہوا تھا تو ہمارے دشمن تو اسی دن سے سازشیں کرنے میں مصروف ہوگئے تھے ۔ پہلے ای میلز کا سہارا لیا گیا ۔ مگر جب یہ فارمولا کامیاب نہ ہوا تو آج ایک بار پھر پاکستان کو لہو میں نہلا دیا گیا ۔ پشاور قصہ خوانی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں اب تک پچاس سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں ۔ جبکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ بتایا جارہا ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ شدید زخمی بھی ہیں ۔ ۔ عینی شاہدین کے مطابق کالے لباس میں ملبوس خودکش حملہ آور نے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر پانچ سے چھ فائر کیے اور پھر تیزی سے مسجد کے اندر داخل ہوا ۔ اور منبر کےسامنے پہنچ کر خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا ۔ دھماکے کے بعد مسجد کے ہال میں ہر طرف انسانی اعضا پھیل گئے۔ ایک افراتفری کا عالم اور قیامت خیز منظر تھا ۔ ۔ یہ بہت ہی افسوس ناک سانحہ ہے کیونکہ مت بھولیں چوبیس سالوں کی کوشش کے بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے اتنے برسوں تک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہی پاکستان کا دورہ نہیں کیا تھا۔

    ۔ اس دھماکے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ۔ مسجد اور نماز جمعہ کو ہی نشانہ بننا خاص پلاننگ کا حصہ لگتا ہے ۔ اور آج ہی آسٹریلیا پاکستان ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ آپکو یاد ہو تو آسٹریلیا کے ٹور سے پہلے نیوزی لینڈ کا ٹور بھی میچز شروع ہونے سے پہلے ہی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کینسل ہوا تھا ۔ وہ پاکستان آکر واپس چلے گئے تھے ۔ جبکہ انگلینڈ نے بھی طے شدہ دورہ پاکستان ملتوی کردیا تھا۔۔ ہمارے لیے آج یہ ایک تاریخی دن تھا ۔ کیونکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان یہ سیریز کرکٹ سے بڑھ کر تھی۔ حالیہ سیریز سے دنیا کو مثبت اور مضبوط پیغام جانا تھا۔ مگرحکومت کی کوتاہی کے سبب اب دنیا بھر کے میڈیا میں یہ ہیڈ لائنز بننے کے بجائے کہ آسٹریلیا چوبیس سال بعد پاکستان میں کھیل رہی ہے ۔ ہیڈ لائنز یہ چل رہی ہیں کہ پاکستان میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے میں پچاس سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ پھر بھارتی میڈیا تو اس سانحہ کو ایسے رپورٹ کر رہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم فورا ٹور کینسل کرکے گھر واپس چلے جائے ۔ ۔ دراصل یہ ہمارے دشمنوں کی جانب سے آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان محفوظ نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جو کام حکومت نے کرنے تھے وہ کیوں نہ کیے گئے ۔ جب معلوم تھا کہ یہ کرکٹ سیریز پاکستان میں بے اتنہا مشکلات اور کوششوں کے بعد شروع ہو رہی ہیں تو پورے ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ کیوں نہ گئ ۔ کیوں صرف آسٹریلیا کی ٹیم کو تو خوب سیکورٹی دی گئی مگر باقی ملک اللہ بھروسے چھوڑ دیا گیا ۔ کیا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ دشمن کہیں اور بھی حملہ کرکے یہ ٹور کینسل کروانے کی سازش رچ سکتا ہے ۔ چلیں ٹور نہ بھی کینسل ہو تو کم ازکم ہم کو بدنام کروانے میں تو کامیاب ہوجائے گا ۔

    ۔ ان سوالوں کے جواب اس حکومت کو دینا ہوں گے ۔ کیونکہ سالوں کی کوششوں سے سرزمین پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ آخر کیوں عمران خان کے دور میں یہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے ۔ ایسا کیا ہے جو اس دور میں حکومت کر نہیں پارہی ہے ۔ ۔ یاد کروادوں آج کے سانحہ کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز پشاور کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور سکیورٹی کے لیے مسجد کے گیٹ پر دو کانسٹیبل تعینات تھے۔ عین شاہدین کے مطابق بھی دہشتگردوں کا ان سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ ۔ مگر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پشاور دھماکے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ بھی جاری نہیں ہوا تھا۔۔ یوں ایک بار پھر حکومت ، عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ اور وزیر اعلی محمود خان کی جانب انگلیاں اٹھ گئی ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر بھی سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے ۔ کہ کیوں اس کو سفارشات کو لاگو نہیں کیا جاتا ۔ کیونکہ حکومت کے لیے میڈیا سے لے سیاسی مخالفین اور پیکا آرڈیننس تو بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ مگر نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گردی پنپ رہی ہے ۔ ۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر کیوں ہم معاملات کو سیریس نہیں لیتے ۔ ایسا واقعہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک سب بڑے سر جوڑ کر بیٹھے ہوتے ۔ اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کا آپریشن اسٹارٹ ہوچکا ہوتا ۔ ۔ شیخ رشید یہ سریز شروع ہونے سے پہلے تو بہت بلند وبانگ دعوے کررہے تھے ۔ مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ دشمن تاک میں بیٹھا تھا ۔ صرف بیانات اور باتوں سے معاملات حل ہوتے تو چاہیے کیا تھا ۔
    ۔ لگتا یوں ہے کہ پورا ملک سیاست میں مگن تھا ۔ حکومت کو ملکی سیکورٹی اور عالمی معاملات سے زیادہ اپنی کرسی بچانے کی فکر تھی ۔ اب بھی حکومت کوئی خاص سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ ہمیشہ کی طرح گنگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے عمران خان نے پشاور دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی وہ ہی رٹا رٹایا بیان جاری کردیا ہے کہ پشاور دھماکا سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سازش کون کررہا ہے ۔ دشمن ہے کون ۔ البتہ شیخ رشید نے بھی چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔ مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی کوئی بھی واقعہ ہوجائے فورا انکوئری رپورٹ طلب کرلی جاتی ہے ۔ اسکے بعد اس رپورٹ کا کیا بنتا ہے ۔ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے کہ نہیں ۔ کبھی قوم کو کچھ معلوم نہیں ہوپاتا ۔ مگر جن کے پیارے جاتے ہیں ۔ کبھی ان سے جا کر پوچھیں ان پر کیا گزرتی ہے ۔ ۔ پھر وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم عمران خان کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی پر بریفنگ بھی دی ہے ۔ تو وزیر اعلی کے پی کے محمود خان ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور دیگر نے بھی مذمت کرکے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کیوں سر جوڑ کر نہیں بیٹھ رہی ہے ۔ آخر کیوں دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے کہ وہ جب چاہیں لاہور ہو، پشاور ہو ، کوئٹہ ہو ، کراچی ہو ۔۔۔ حملہ کرکے پاکستان کو destablize کردیں ۔ ۔ پتہ نہیں اسکے بعد بھی عمران خان بضد رہیں گے یا اپنی سوچ کو بدلیں گے ۔ کہ دہشتگرد بات چیت کی زبان نہیں سمجھتے ان کو ان زبان میں جواب دینا ضروری ہے ۔ آپ نے ایک بار بات چیت کی آفر کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے ۔ اب ریاست پاکستان کو ان سے آہنی ہاتھوں سے ڈیل کرنا ہوگا اور جب تک اس پاک سرزمین پر ایک دہشتگرد موجود ہو چین نہیں بیٹھنا چاہیئے ۔ جن جن ہمسایہ ممالک میں انکی محفوظ پناہ گاہیں ۔ ان سے بات بھی کرنی چاہیے کہ یا تو وہ خود ان کا قلع قمع کریں یا پھر پاکستان کو خود کوئی کاروائی یا کوئی اور طریقہ نکالنا چاہیے ۔

    ۔ پھر اوپر سے لے کر نیچے تک جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی بیرونی دشمن دشمن کا راگ الاپانا شروع ہوجاتا ہے ۔ مگر اس دشمن کو کبھی دنیا کے سامنے ایکسپوز کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ کبھی ہمارا فارن آفس ، ہمارا میڈیا اس دشمن کا غلطی سے بھی نام نہیں لیتا ۔ جبکہ بھارت میں کوئی پٹاخہ بھی چل جائے تو تعین بعد میں ہوتا ہے کہ یہ کس نوعیت کا ہوا ہے مگر الزام سب سے پہلے پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے ۔ ۔ وزیر اعظم عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ رشید اور اداروں کو vigilant ہونا ہوگا کیونکہ اس وقت ملک سیاسی افراتفری کا بھی شکار ہے ۔ اور بلاول بھٹو ایک بڑا لشکر لے کر اسلام آباد جا رہے ہیں ۔ جس میں ہزاروں لاکھوں لوگ موجود ہیں ۔ اگر دہشتگرد لاہور ، بلوچستان اور پشاور میں نماز جمعہ کے دوران حملہ کر سکتے ہیں تو بلاول بھٹو اور انکے لانگ مارچ کو سیکورٹی دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ مت بھولیں ایسی صورتحال میں دشمن تاک میں بیٹھا ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ احتجاج کرنا ، جلسے جلوس اور لانگ مارچ کرنا ہر کسی کا جمہوری حق ہے۔ سیکورٹی دینا حکومت کا کام ہے ۔ مت بھولیں یہ soft target ہیں ۔ خدانخواستہ یہاں کچھ ہوگیا تو دشمن پاکستان کو بڑانقصان اور بڑے مسائل کا شکار کرسکتا ہے ۔ اسی طرح اور بھی چیزوں اور دیگر مقامات پر فورا سیکورٹی ہائی الرٹ کردینی چاہئے جو دہشتگردوں کے لئے آسان ٹارگٹ ہو ۔ پھر یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلین کرکٹ بورڈ کو فوراengageکرلے ۔ ساتھ ہی ہمارے فارن آفس کو بھی چاہیے کہ وہ آسٹریلوی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ کرے ۔ صورتحال سے خود آگاہ کرے ۔ ان کی کرکٹ ٹیم کو جو سیکورٹی اور سہولیات دی جارہی ہیں اس بارے پھر سے آگاہ کرے ۔ کیونکہ پشاور سانحہ کو لے کر بھارتی میڈیا نے تو پراپیگنڈہ بھی شروع کر دیا ہے ۔ اس وقت بھارت کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یہ دورہ آسٹریلیا کینسل ہوجائے ۔ ۔ یاد رکھیں غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ۔ جو ہوگیا اس سے آگے نکل کر سوچنا ہوگا ۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی کامیابی صرف ایک ہی ہے کہ آسٹریلیا کا یہ ٹور خیر خیریت سے ہوجائے ۔ پورے ملک میں دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو ۔ اگر حکومت ، ادارے اور قوم ملک کر کام کریں تو یہ ناممکن نہیں ۔

  • فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    قاہرہ : جاپان اور مصر کے ماہرین نے فرعون توتنخ آمون کے مقبرے سے ملنے والے ایک شاہی خنجر کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے شہابِ ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی:’میٹیورائٹس اینڈ پلینٹری سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع مقالے کے مطابق اس خنجر کا دستہ سونے سے بنا ہے جس میں موتی جڑے ہیں جبکہ اس کا پھل لوہے کا ہے جس پر سیاہی مائل داغ دھبے پڑ چکے ہیں-

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    آئرن ایج وہ وقت تھا جب لوگوں نے آئرن پروسیسنگ ٹیکنالوجی حاصل کی تھی اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1200 قبل مسیح کے بعد شروع ہوا تھا لوہے کے شہابیوں سے بنے کچھ پراگیتہاسک لوہے کے نمونے کانسی کے زمانے کے ہیں۔

    قدیم مصر کے بادشاہ توتنخمین (1361-1352 قبل مسیح) کے مقبرے میں ایک اچھی طرح سے محفوظ شدہ میٹیوریٹک لوہے کا خنجر ملا تھا۔ پھر بھی، اس کی تیاری کا طریقہ اور اصلیت غیر واضح ہے یہاں، ہم قاہرہ کے مصری میوزیم میں کیے گئے توتنخمین لوہے کے خنجر کے غیر تباہ کن دو جہتی کیمیائی تجزیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

    توتنخ آمون، جسے اکثر ’توتن خامن‘ بھی کہا جاتا ہے، اٹھارواں اور آخری فرعون تھا جو آج سے 3,300 سال پہلے مصر پر حکمران تھا اس کا عظیم الشان مقبرہ 1925 میں دریافت ہوا تھا جس میں سے ہزاروں قدیم اشیاء برآمد ہوئیں، جن پر آج تک تحقیق جاری ہے توتنخ آمون کا شاہی خنجر بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوچکا تھا کہ یہ خنجر اصل میں شادی کا تحفہ تھا جو توتنخ آمون کے دادا ایمن ہوتپ سوم کو سلطنت ’میتانی‘ کے بادشاہ نے دیا تھا جو نسل در نسل ہوتے ہوئے بالآخر توتنخ آمون تک پہنچا تھا۔

    فروری 2020 میں قاہرہ عجائب گھر اور جاپان کے ’چیبا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے ماہرین نے اس خنجر کے بارے میں مزید باتیں جا ننے کےلیے جدید ایکسرے آلات استعمال کئے اس سے پہلے 2016 میں اس خنجر کے پھل پر لگے دھبوں میں نکل اور کوبالٹ دھاتوں کی معمولی مقداریں دریافت ہوچکی تھیں جدید ایکسرے آلات سے 2020 میں نئے مشاہدات سے ان ہی دھبوں میں سلفر، کلورین، کیلشیم اور زِنک بھی معمولی مقدار میں دریافت ہوئے۔

    فرعون کا زمانہ وہ تھا کہ جب فولاد سازی کو بہت خاص ہنرسمجھا جاتا تھاجبکہ لوہے/ فولاد سے بنے خنجروں اور تلواروں کو شاہی تحائف کا درجہ حاصل تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    نئی تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اس خنجر کو تقریباً 950 ڈگری سینٹی گریڈ پر کسی بھٹی میں ڈھالا گیا تھا، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس میں معمولی مقداروالےمادّے (ٹریس مٹیریلز) ٹھیک اسی ترتیب میں ہیں کہ جیسی’فولادی شہاب ثاقب‘ میں ہوتی ہے اس قسم کےشہابیوں میں دوسرے مادوں کی نسبت لوہے کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں لوہے والے یعنی ’فولادی شہابِ ثاقب‘ بھی کہا جاتا ہے جاپان میں ایسا ہی ایک شہابِ ثاقب کچھ سال پہلے دریافت ہوچکا ہے۔

    توتنخ آمون کے شاہی خنجر اور اس شہابیے میں ٹریس مٹیریلز کی ترکیب بالکل یکساں ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خنجر کی تیاری کےلیے جس جگہ سے بھی کھدائی کرکے کچدھات نکالی گئی تھی، وہاں شاید لاکھوں کروڑوں سال پہلے کوئی فولادی شہابِ ثاقب ٹکرا چکا تھا۔

    عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ لوہے کا زمانہ تقریباً 1200 قبلِ مسیح میں شروع ہوا تھا لیکن اس خنجر میں لوہے کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاید لوہے کے زمانے کا آغاز 1400 قبلِ مسیح کے آس پاس ہوچکا تھا۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

  • شین وارن کےانتقال پردنیائےکرکٹ سوگوار،خراج عقیدت بھی پیش:شین وارن کےکیریئرپرایک نظر

    شین وارن کےانتقال پردنیائےکرکٹ سوگوار،خراج عقیدت بھی پیش:شین وارن کےکیریئرپرایک نظر

    برلن :شین وارن کےانتقال پر دنیائے کرکٹ سوگوار، ساتھی کھلاڑیوں نے خراج عقیدت پیش کیا ہے: اطلاعات کےمطابق آسٹریلیا کے لیجنڈری لیگ اسپنر شین وارن دل کا دورہ پڑنے کے سبب 52 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    دنیا کے مایہ ناز لیگ اسپنر شین وارن 52 سال کی عمر میں چل بسے جبکہ ان کے انتقال کی خبر نے ساتھی کرکٹرز اور شائقین کرکٹ کو سوگوار کردیا ہے۔

    آسٹریلوی میڈیا کے مطابق شین وارن تھائی لینڈ کے علاقے کو ساموی میں اپنے ولا میں مردہ حالت میں پائےگئے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ شین وارن کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا، میڈیکل ٹیم نے انہیں بچانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔شین وارن کے انتقال پر دنیائے کرکٹ سوگوار ہے اور شائقین بھی صدمے سے دوچار ہیں۔

    جادوئی لیگ اسپنر کی موت کی خبر پر سابق ساتھی کرکٹرز نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور اپنے ردعمل کا بھی اظہار کیا۔ اپنی ٹوئٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا تھاکہ میں اپنے دوست وارن کی ناگہانی موت کے بارے میں سن کر صدمے میں ہوں اور انتہائی غمگین ہوں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ شین وارن کے انتقال کا یقین کرنا مشکل ہے، یہ کرکٹ کیلئے بہت بڑا نقصان ہے، انہوں نے اپنی جادوئی اسپن سے نسلوں کو متاثر کیا۔

    سابق انگلش کرکٹر آئن بیل نے لکھا کہ ’الفاظ نہیں ہیں، شین وارن میرا ہیرو اور سب سے بڑا کھلاڑی رہا جس کے خلاف میں نے کبھی کھیلا ہے، مجھے اس خبر پر یقین نہیں آ رہا‘

    بھارتی کرکٹر اورکمنٹیٹر ہرشا بوگلے نے اسے انتہائی تکلیف دہ خبر قرار دیا اور لکھا کہ’ غم اور الفاظ نہیں ہیں، میں خوش قسمت تھا کہ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں، جادو ہمیشہ رہے گا’۔

    کرکٹ کی تاریخ کے ہیرو شین وارن کے تاریخی کیریئر پر نظر ڈالیں تو بےشمار فتوحات اور کئی اعزازات ان کے نام کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں۔

    1992 میں بھارت کے خلاف میچ میں ٹیسٹ ڈیبیو اور 1993 میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں ون ڈے ڈیبیو کرنے والےشین وارن نے اپنا آخری انٹرنیشنل ون ڈے میچ 2005 میں ورلڈ الیون کی جانب سے ایشیا الیون کے خلاف جبکہ آخری ٹیسٹ میچ 2007 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔

    15 سال پر محیط اس کیریئر میں انہوں نے 145 ٹیسٹ اور 194 ون ڈے میچز میں بےشمار کامیابیاں سمیٹیں۔وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 700 اور مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد وکٹیں لینے والے دنیا کے دوسرے بالر تھے۔

    ٹیسٹ کرکٹ میں شین وارن کی وکٹوں کی تعداد 708 جبکہ ون ڈے میں 293 ہے۔انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے میں بالترتیب 3154 اور 1018 رنز بھی بنائے۔ٹیسٹ کلینڈر ایئر میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ بھی وارن کے نام ہے۔

    شین وارن نے اپنے کیریئر میں بڑے بڑے بکے بازوں کو اپنی خطرناک لیگ اسپن سے پریشان کیے رکھا۔انہوں نے چند ایسی ناقابل یقین گیندیں بھی کیں جو آج تک دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔

    لیجنڈری لیگ اسپنر شین وارن کی 1993 کی ایشیز سیریز میں مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ میں کی گئی گیند کو ’بال آف دی سینچری‘ قرار دیا گیا۔’بائبل آف کرکٹ ‘ کا لقب پانے والے کرکٹ میگزین ’وزڈن ‘نے شین وارن کو صدی کے 5بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا تھا۔

    شین وارن کو 2004 اور 2005میں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر بھی قرار دیا گیا۔شین وارن پاکستان کے لیجنڈری لیگ اسپنر عبدالقادر کے بہت بڑے فین تھے جس کا اظہار وہ خود بھی کئی مرتبہ کرچکے تھے۔

  • سابق آسٹریلوی کرکٹر شین وارن انتقال کرگئے

    سابق آسٹریلوی کرکٹر شین وارن انتقال کرگئے

    سڈنی :سابق آسٹریلوی کرکٹر شین وارن انتقال کرگئے ،اطلاعات کے مطابق سابق آسٹریلوی اسپن باولر شین وارن 52 سال کی عمرمیں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے شین وارن کے جاننے والوں نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ "شین اپنے گھر میں بے ہوش پائے گئے تھے اور طبی عملے کی بہترین کوششوں کے باوجود انہیں زندہ نہیں کیا جا سکا۔”

    دوسری طرف شین وارن کی فیملی کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ غم میں‌ ڈوبے ہوئے ہیں مناسب وقت پر مزید تفصیلات فراہم کریں گے

    شین بڑے اسپنر کے طور پر جانے جاتے رہے ہی ں‌،انہوں نے آسٹریلیا کے لیے 145 ٹیسٹ کھیلے اور ان کی 708 وکٹیں ہیں- یہ خبر آسٹریلوی کرکٹ کے لیے دوسرا دھچکا ہے جس کے ساتھی عظیم، راڈ مارش بھی گزشتہ ہفتے دل کا دورہ پڑنے سے جمعہ کو انتقال کر گئے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پچھلے سال اگست میں آسٹریلیا کے سابق لیجنڈ باؤلر شین وارن بھی عالمی وبا کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئےتھے ، انہوں نے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خود کو آئسولیٹ کر لیاتھا ۔

    اس دوران ان کو صحت خرابی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ انہوں نے کورونا کی تمام علامات محسوس کرنے پر خود کو ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہوں نے تمام اہلخانہ سے خود کو علیحدہ کرتے ہوئے گھر میں ہی قرنطینہ کر لیا تھا ۔لیکن اس کےبعد شین وارن کی طبیعت سنبھل گئی تھی لیکن آج اچانک وفات کی خبر نے ان کے چاہنے والوں کے لیے غم کی داستان چھوڑ دی ہے

  • اور عمران خان جھک گئے، تحریر: نوید شیخ

    اور عمران خان جھک گئے، تحریر: نوید شیخ

    آخر کار وہ خبر آگئی ہے جس کے بعد کپتان ، حکومت ، وزیروں اور مشیروں کے دل کی دھڑکن تیزی سے مزید تیز ہوتی جارہی ہے ۔ اس وقت اپوزیشن اپنی کاری ضرب لگانے کو مکمل تیار ہے ۔ کیونکہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں جس میں پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیارکر رکھی ہے۔ یوں تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کے لیے ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے جس کے لیے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے چیمبر کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔

    ۔ اپوزیشن کے اس تیار کیے گئے مسودے میں کہا گیاہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اورغیریقینی صورتحال ہے۔ خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جب کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔۔ رانا ثنااللہ توبڑےconfidence سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ کیونکہ چوہا رپورٹس ہیں کہ اپوزیشن نے حکمران جماعت کے 24 ارکان کی حمایت حاصل کرلی ہے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کو 16 پیپلز پارٹی کو 6 اور جے یو آئی کو 2 حکومتی ارکان نے ہاں کہہ دی ہے۔ یقینی طور پر انھوں نے آئندہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کے بدلے ووٹ اپوزیشن کو دینے کے لیے حامی بھری ہوگی اب اگر یہ چوبیس لوگ اپوزیشن کے ساتھ چلتے ہیں تو عمران خان کا گھر جانا یقینی ہے کیونکہ نمبر گیم میں حکومت کو 17
    ووٹوں کی برتری ہے ۔ پر ان چوبیس لوگوں کی بدولت نمبر گیم میں اپوزیشن اوپر آجائے گی اور ساتھ اگر حکومتی اتحادی اپوزیشن کا ساتھ نہ بھی دیں تو تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونا ناممکن نہیں ۔ ۔ اپوزیشن نے مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے دوبارہ بھی رابطے کیے ہیں۔ ان تینوں جماعتوں کے کل 17 ارکان ایوان میں موجود ہیں صرف ان تینوں جماعتوں کا ساتھ بھی مل گیا تو اپوزیشن کو ایوان میں سادہ اکثریت سے زیادہ ووٹ مل جائیں گے۔

    ۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو تو بہت ہی زیادہ پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں انھوں نے تو آج وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے پانچ دن کی مہلت تک دے دی ہے ۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ہمارے نمبر پورے ہو چکے ، ایوان میں ہر ایم این اے عدم اعتماد میں ہمارے ساتھ ہے۔۔ یوں اس نئی پیش رفت کے سبب سیاست کے میدان میں خوب تیزی چل رہی ہے ۔ عون چوہدری نے بھی اعلان کر دیا کہ جلد جہانگیر ترین وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ ۔ پھر طارق بشیر چیمہ کے بعد آج پرویز الہٰی نے کہا دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ پرویز الہٰی کا کہنا تھاکہ ہانڈی میں سامان چلا گیا دھواں اٹھنے کے بعد پہلا ابالا آتا ہے۔ پہلا ابالا آ جائے پھر آپ کو بتائیں گے۔ اتنی بڑی ہانڈی چڑھی ہے کچھ تو نکلے گا۔۔ صحافیوں کی جانب سے جب پرویز الٰہی سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کا جانب سے بھی وزیراعظم کو گھبرانا نہیں ہے کا پیغام ہے؟ اس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قہقہہ لگایا اور کہا عمران خان بالکل بھی گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ ۔ جبکہ مولانا ہوں یا بلاول یا ن لیگی رہنما سب اس چیز پر بھی متفق دیکھائی دیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہے ۔ کسی کو کوئی فون کال نہیں آرہی ہے ۔ ۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کا دکھ لگتا ہے سب سے زیادہ حکومت کو ہے ۔ اس بات کا اندازہ وزیروں کے بیانات سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔ جہاں گیٹ نمبر چار کے پرانے کھلاڑی شیخ رشید احمد کوئی سگنل نہ ملنے پر گھبرائے گھبرائے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ تو فواد چوہدری اپنے لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ادارے حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں ،نیوٹرل نہیں ہوتے۔ اسی لیے خبریں یہ ہیں کہ حکومت نے اپنی تمام ترامیدیں آئی بی سے وابستہ کر لی ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ جو ناراض لوگ راضی نہیں ہونگے شاید وہ تحریک عدم اعتماد کے روزغائب کردئیے جائیں کیونکہ اس روز ایوان میں اکثریت ثابت کرنا حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہوگی۔ اس سلسلے میں باخبر زرائع کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی فہرستیں بن چکی ہیں اور ان پرکڑی نظربھی رکھی جارہی ہے۔ پھر جیسا کہ میں نے آپکو اپنے گزشتہ روز بتایا تھا کہ لندن میں نواز شریف کی دولوگوں سے اہم ملاقات میں اہم معاملات طے ہوگئے ہیں تو ایک روز بعد ہی نواز شریف نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پرگرین سگنل دے دیا ۔

    ۔ پھر جو دوسری بڑی اور اہم خبر ہے کہ اپوزیشن کے تینوں بڑوں کا تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد فوری انتخابات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی فوری انتخابات کی بجائے آئینی مدت پوری کرنے پر بضد تھی اور حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی آئینی مدت پوری ہونے کا چارٹر آف ڈیمانڈ دیا تھا۔ ایم کیو ایم اور ق لیگ فوری انتخابات پر راضی نہیں تھیں اور پیپلز پارٹی حکومتی اتحادی جماعتوں کے مؤقف کی حامی تھی۔ تاہم اب اس سلسلے میں معاملہ افہام وتفہیم سے طے ہوگیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں میں ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کو فوری انتخابات پر قائل کر لیا گیا ہے۔۔ اس بات کی تصدیق گزشتہ روز بلاول بھٹو نے جیو ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں بھی کردی ہے جس میں انھوں نے کہا کہ آنے والا سیٹ اپ مختصر مدت کا ہوگا، نئے آنے والے سیٹ اپ کا واحد مینڈیٹ شفاف انتخابات ہو گا۔۔ یعنی ملک میں قبل ازوقت الیکشن کا چاند کسی بھی وقت نمودار ہوسکتا ہے ۔ ۔ ویسے عمران خان کی بھاگ دوڑ سے بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ اسی لیے وزیرِ اعظم عمران خان سے مسلم لیگ ق کی قیادت کی آج ایک اور ملاقات ہو گی۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان ق لیگ کے رہنما وفاقی وزیر مونس الٰہی سے ون آن ون ملیں گے ۔ چڑیل کے مطابق شاید کوئی ڈپٹی پرائم منسٹر کی کہانی ہے ۔ کل تو یہ بھی چڑیل نے بتایا تھا کہ عین ممکن ہے کہ اپوزیشن کے پے در پے حملوں کے سبب ایک دو دن میں ہی حکومت پنجاب میں تبدیلی کی نوید سنا دی جائے اور صوبے کی چابیاں ق لیگ کو تھما دی جائیں گے ۔ ۔ دیکھا جائے تو اس وقت عمران خان حکومت بچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار دیکھائی دیتے ہیں ۔ آپ دیکھیں یک دم حکومت اب پیکا آرڈیننس سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے ۔ ۔ یہ سیاسی منظر اس لئے ابھرا ہے کہ حکومت نے پونے چار برسوں میں وہ وعدے پورے نہیں کئے جو اس نے اقتدار میں آنے سے پہلے کیے تھے کہ اب خوشحالی آئے گی برس ہا برس سے درپیش مسائل سے نجات ملے گی بنیادی انسانی حقوق کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی جائیں گی۔
    ۔۔۔ سٹیٹس کو ۔۔۔ کو ختم کر دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

    ۔ اب جب صورتحال خراب ہوئی ہے۔ عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ آمرانہ طرز عمل سے پورے ملک میں ایک کہرام کی سی کیفیت ہے۔ پہلے حکومت نا نا کرتی رہی ہے ۔ اب ان کو احساس ہوا ہے کہ ان کے پیروں سے تو زمین سرکنے والی ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں خان صاحب کی آنکھ دیر بعد کھلتی ہے یہ سلسلہ انہیں بہت پہلے شروع کرنا چاہیے تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں اور ساتھیوں کے ساتھ سیاسی تعلقات کو مضبوط بناتے کچھ ان کی مانتے اور کچھ اپنی منواتے مگر انہوں نے خوشامدیوں کو نوازا باقی ہرکسی کو نظر انداز کیا۔ جب کبھی وہ ناراض ہوئے اور انہوں نے گلے شکوے کیے تو ہمیشہ رعونت سے دیکھا گیا۔ اب جب اپوزیشن والے حکومت کے گلے تک پہنچ گئے ہیں تو حکومت کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اپنے آپ کو بدلہ جائے ۔ ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ عمران خان اب بھی ان کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے مگر انہیں سمجھایا گیا کہ وہ سیاست کریں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ صورتحال کو غور سے دیکھا جائے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے لہذا وزیراعظم کو اپنا رخ ادھر ادھر موڑنا پڑا ہے۔ جھکنا پڑا ۔ اپنے آپ کو بدلنا پڑا ۔ ۔ ورنہ انا اتنی بڑھ چکی تھی کہ اتحادی تو دور کی بات اپنے جماعت کے ناراض لوگوں کو کپتان منہ نہیں لگانا چاہتے تھے ۔ الٹا ان کو بھی سبق سیکھنا چاہتے تھے یہاں تک کہ ایک شخص بارے تو ان کی خواہش تھی کہ یہ بھی جیل میں جائے ساتھ اس کا فرزند بھی جیل کی ہوا کھائے ۔ مگر ایسا ہونہ سکا ۔ ۔ مجھے ویسے بہت حیرت ہے کہ صرف چار سالوں میں عمران خان کو اپنی کرسی سے بڑی محبت ہو گئی ہے۔ وگرنہ وہ تو خود جانتے ہیں کہ اب عوام کی خدمت کا وقت گزر چکا ہے۔ ۔ یاد رکھیں جب عوام کے ذہنوں میں کسی حکمران سے متعلق یہ خیال بیٹھ جائے کہ وہ ان سے مخلص نہیں تو پھر اس کے ریلیف کسی کام کے نہیں ہوتے۔ باقی ان کے اردگرد لوگ چاہے اپنی جماعت کے ہوں یا پھر اتحادی وہ ان کا کردار اور اخلاق باخوبی دیکھ چکے ہیں ۔ ۔ یقینی طور پر جب ایمپائر کی جانب سے کوئی پریشر نہیں ہوگا تو یہ سب کپتان کے بارے اپنے تجربات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں گے ۔ فی الحال یہ تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی یا ناکام ۔ مگر حکومت کی ضرور ہوائیاں اُڑی ہوئی ہیں ۔

  • ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    نئی دہلی :ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پادری نے کہاہے کہ نامعلوم افراد کے ایک گروپ نے انہیں مارا پیٹا گیا، ان کی تذلیل کی اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ۔

    یہ واقعہ رواں برس 25 فروری کو جنوبی دہلی کے علاقے فتح پوری بیری میں پیش آیا تھا لیکن پادریKelom Tet نے واقعے کی دو دن بعد میدان گڑھی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ۔

    دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اسے 27 فروری کی شام کو پادری کی شکایت موصول ہوئی تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے۔پینتیس سالہ پادری جو گزشتہ 18 برس سے جنوبی دہلی کے اسولا میں مقیم ہے، نے کہا کہ انہیں کہ 15 سال قبل بھی دہلی کی سنجے کالونی میں ایک نامعلوم گروہ نے نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایک درگاہ میں پوجا کااہتمام کرنے کی مذموم کوشش کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے 150سے زائد مسلمانوںکو گرفتار کر لیا ہے۔

    ریاست کے ضلع کالبرگی کے قصبے کا الند میں اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جب ایک بدنام زمانہ ہندو انتہا پسند گروپ سری راما سین نے لاڈلے مشک درگاہ میں پوجا کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا۔تاہم حکام نے امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے گروپ کو درگاہ جانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن مرکزی وزیر بھتوانت کھویاسمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں کی قیادت میں لوگوں کا ایک گروپ درگاہ پہنچا اور پوجا شروع کی جس کے باعث علاقے میں تناو پیدا ہو گیا۔

    الند کے سابق کانگریس ایم ایل اے بی آر پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ حکام احکامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہے اور بی جے پی رہنماﺅں کو درگاہ پہنچنے کی اجازت دی جس کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انہیں گرفتار کر رہی ہے حالانکہ تمام اشتعال انگیزی ہندو دائیں بازو کے گروپ سے وابستہ لوگوں کی طرف سے کی گئی تھی۔