Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے پتھروں کو زمین پر لانے کے بعد فوراً ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس کی قیادت اپالو نیکسٹ جنریشن سیمپل اینالیسس پروگرام (ANGSA) کر رہی ہے، جو ایک سائنس ٹیم ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر آنے والے آرٹیمس مشن سے پہلے نمونے اور چاند کی سطح کے بارے میں مزید جاننا ہے۔

    ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، یہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

    آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سےامکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا کہ اپالو لینڈنگ سائٹس پر چاند کے نمونوں کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقاء کو سمجھنے سے ہمیں ان نمونوں کی تیاری میں مدد ملے گی جن کا سامنا آرٹیمس کے دوران ہو سکتا ہے آرٹیمس کا مقصد قطب جنوبی کے قریب سے ٹھنڈے اور مہر بند نمونے واپس لانا ہے۔ ان نمونوں کو جمع کرنے اور منتقل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے انہیں زمین پر ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آلات کو سمجھنے کا یہ ایک دلچسپ سیکھنے کا موقع ہے۔

    جب اپالو کے خلابازوں نے تقریباً 50 سال پہلے یہ نمونے واپس کیے تو NASA کے پاس ان میں سے کچھ کو نہ کھولے اور قدیم رکھنے کی دور اندیشی تھی۔

    ناسا ہیڈ کوارٹر میں پلینٹری سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر لوری گلیز نے کہاایجنسی جانتی تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی اور سائنس دانوں کو مستقبل میں نئے سوالات کو حل کرنے کے لیے مواد کا نئے طریقوں سے مطالعہ کرنے کی اجازت دے گی،اے این جی ایس اے کا اقدام ان خاص طور پر ذخیرہ شدہ اور سیل شدہ نمونوں کی جانچ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

  • پاکستان کے16 سالہ احسن رمضان نے ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیت لی

    پاکستان کے16 سالہ احسن رمضان نے ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیت لی

    لاہور:پاکستان کے16 سالہ احسن رمضان نے ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیت لی ،اطلاعات کے مطابق ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان کے کم عمر کھلاڑی احسن رمضان نے تاریخ رقم کردی۔

    تفصیلات کے مطابق 16 سالہ احسن رمضان نے دوحہ میں منعقدہ انٹرنیشنل بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن (آئی بی ایس ایف) ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی۔

    احسن رمضان نے فائنل میں ایران کے عامر سرکوش کو دلچسپ مقابلے کے بعد 5-6 سے شکست دی۔وہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے تیسرے کم عمر کھلاڑی ہیں۔

     

    یاد رہے کہ احسن رمضان نے سیمی فائنل میں اپنے سینئر ہم وطن اور دفاعی چیمپئن محمد آصف کو شکست دی تھی ۔فتح کے بعد وہ محمد آصف کے گلے لگ کر آبدیدہ ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستان چوتھی مرتبہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔اس سے قبل محمد آصف دو مرتبہ اور محمد یوسف ایک مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکے ہیں۔

  • عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    عدم اعتماد ! اور پاکستان ،تحریر : تابش عباسی

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج کل وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی خبر سامنے آتی ہی رہتی ہے ۔ اس عدم اعتماد نے شاید عمران خان صاحب کو اپنے کچھ خاص لوگوں کے اصلی رنگ بھی دکھائے ۔ اس پورے عدم اعتماد کی تحریک کو بریک آ کر ان ہی کچھ ممبرانِ اسمبلی کی ہاں یا ناں پر لگی ہے جو میرے خیال سے جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ یہ وہی چند لوگ ہیں جو مشرف صاحب کے بعد ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن اور اب موجودہ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفادار بنے تھے ۔ تازہ ترین مثال ندیم افضل چن صاحب کی ہے جو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی برائیاں کی اور اب معاون حکومت کا عہدہ واپس لیے جانے کے بعد دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو ان کو پاکستان تحریک انصاف میں برائیاں نظر آنے لگی ۔ چن صاحب اور ان جیسے اور موسمی پرندے جمہوریت کے نام پر بدنما داغ ہیں ۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان بھی جمہوری لوگوں نے ہی پہنچایا ہے ۔

    عمران خان صاحب کی ایک بہت بڑی ناکامی یہ ہے کہ موجودہ حکومت عام لوگوں کی نظر میں صرف اس لیے ناکام ہے کیونکہ مہنگائی کا جن اس حکومت سے آج تک قابو نہ ہو سکا ۔ شاید جو اقدامات اس حکومت نے کیے ان کا ثمر آمدہ چند سالوں میں نظر آئے مگر "مہنگائی” نے حکومت کے سب اچھے اقدامات پر بھی پردہ ڈال رکھا ہے ۔ دوسری بڑی غلطی اس حکومت میں شاید نااہل لوگوں کو ملنے والے اعلی عہدے تھے ، حکومتی وزراء میں سے چند ایک کے سوا اپنا کام اس طرح نہ کر پائے جس کے دعوے کیے گئے تھے ۔ معاونین کے نام پر غیر منتخب نمائندوں کی ایک ایسی فوج وزیر اعظم کے ارد گرد بھارتی کی گئی جس نے وزیر اعظم اور ان کے منتخب نمائندوں میں نفرت کا نہ صرف بیج بویا بلکہ پروان بھی چڑھایا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین اور علیم خان صاحب ، اعظم خان کا رونا روتے نظر آئے ۔ شاید عمران خان صاحب کو اب یہ سمجھ آ گئی ہو گی اور ان کو مان بھی لینی چاہیے کہ اپنی حکومتی ٹیم بناتے وقت ان سے غلطیاں ہوئی ہیں ۔ تیسرا بڑا مسئلہ وزراء حکومت کی جانب سے غیر ضروری بیان بازی بھی رہی جس نے اپوزیشن کے تمام دھڑوں کو اکھٹے لا کھڑا کیا ۔

    اپوزیشن اس وقت اس بات پر متفق ہے کہ عمران خان صاحب کو وزیر اعظم نہیں رہنا چاہیے – پر سوال یہ ہے کہ نیا وزیراعظم ہو گا کون ؟ اس کے پاس اختیارات کیا ہونگے ؟ ملک جس نہج پر ہے یا جو حالات اس وقت بین الاقوامی سطح پر ہیں ان میں کیا عدم اعتماد درست اقدام ہو گا ؟ 24 سال بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد کے موقع پر یہ سیاسی لڑائی کہیں وطن عزیز کو 2009 والی پوزیشن میں نہ لے جائے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اگر کوئی حقیقی معنوں میں جمہوری جماعت ہوتی تو شاید یہ دن دیکھنا ہی نہ پڑتا ۔ جب تک وارثتی سیاست ہو گی تو پھر ذاتی لڑائیاں بھی جمہوریت و جمہور کے نام پر لڑی جائیں گی ۔

    رہی سہی کسر انصار السلام کے رضاکاروں کی پارلیمنٹ لاجز میں موجودگی نے پوری کر دی ۔ پوری دنیا میں شاید ایسی مثال کہیں نہ ملے کہ منتخب نمائندوں کی حفاظت کے لیے ایک مذہبی و سیاسی جماعت کی عسکری ونگ میدان عمل میں آ جائے ۔ شاید یہ تحریک عدم اعتماد کو پرتشدد بنانے کی کوشش ہے ۔عمران خان صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو یہ بات سمجھنا ہو گی اب ان کو ہر بات ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ۔ خود وزیر اعظم صاحب کو اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ وزیر اعظم ریاست کا سربراہ ہوتا ہے ۔ باقی وزیر اعظم کوئی بھی ہو ، پاکستان زندہ باد رہنا چاہیے کیونکہ لوگ آتے جاتے رئیں گے پر ملک قائم رہے گا انشاء اللہ ۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوں میں اپنی تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں اورگھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھااورلوگوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنایا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے سرینگر، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، پلوامہ،راجوری،پونچھ، کشتواڑ،ادھمپور اور دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کیں اور گھروں پر چھاپے مارے۔ متعدد علاقوں کے رہائشیوں نے میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں نے ان کے گھروں میں زبردستی داخل ہو کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

    ادھر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی نے بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کے ہمراہ وادی کشمیر میں مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کی۔ این آئی اے نے چھاپوں کے دوران موبائل، لیپ ٹاپس، کمپیوٹر اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں اور ایجنسیوں کی طرف سے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا مقصدکشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کے جذبہ حریت کو کمزور کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اورمقبوضہ کشمیر میں اس کی انتظامیہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اپنی وحشیانہ کارروائیوں اور فوجی پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہیں اور بھارت مستقبل میں بھی اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماء شیخ عبدالمتین نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں بارہمولہ سب جیل میں نظربند کشمیریوں کے ساتھ جیل حکام کے غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام کشمیری نظربندوںکو مناسب خوراک اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نظربند جیل حکام کے غیر انسانی رویے کے خلاف گزشتہ دو روز سے بھوک ہڑتال پرہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مختلف جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیں اور ان کی رہائی میں کردار ادا کریں۔

  • کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    کپتان کے وار اور اپوزیشن کا سخت جواب ،تحریر: نوید شیخ

    ۔ ملک میں سیاسی ہلچل اور سیاسی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہر پانچ منٹ بعد کوئی نہ کوئی بریکنگ نیوز آرہی ہے ۔ کوئی نہ کوئی گروپ ، اتحادی ، حکومتی ارکان یا اپوزیشن لیڈر پریس کانفرنس کر رہا ہے ۔ یوں کراچی سے پشاور تک اور کوئٹہ سے لاہور تک اسلام آباد میں تخت بدلے جانے کی خبریں گردش میں ہیں ۔
    ۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی بات کریں تو دھمکیاں دینے سے وہ باز نہیں آرہے ہیں لگ یوں رہا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ڈرانا چاہ رہے ہیں مگر اپوزیشن مزید تگڑی ہوکر سامنے آرہی ہے ۔ بلکہ دیکھائی یوں دیتا ہے کہ اپوزیشن اب عمران خان کے ہر حملے کا جواب ان کی ہی زبان ، انکے ہی انداز اور ان کے ہی طریقے میں دینے کے لیے مکمل تیار ہے ۔
    ۔ کراچی کے بعد آج لاہور میں عمران خان نے دوبارہ اس بات کو دوہرایا ہے کہ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد سب کا حساب چکتا کر دوں گا۔ پنجاب میں پیدا ہونے والے حالات پر بھی قابو پا لیں گے، تمام ارکان میرا ساتھ دیں گے، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔۔ کیونکہ میرے کپتان نے اپنی جارجانہ انداز بیان سے گرما گرمی خوب بڑھا دی ہے تو آج پارلیمنٹ لاجز میں موجود اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کی سکیورٹی کیلئے جے یوآئی کی سکیورٹی تنظیم انصارالاسلام کے سکیورٹی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے ۔۔ پھر انصار الاسلام کے کارکنوں کی موجودگی پر اسلام آباد پولیس نے آپریشن کرکے متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔ پولیس جے یو آئی کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی کو بھی گرفتار کر کے لے گئی جبکہ متعدد رضا کاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے اپنے کارکنوں کو ملک بھر سے اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جو کارکن اسلام آباد نہ پہنچ سکے وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں کو جام کردیں۔۔ کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے ارکان کے لاپتہ کیے جانے اور سکیورٹی پر خدشات ظاہر کیے تھے جس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انصار الاسلام کے کارکن اپوزیشن کے تمام ارکان کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔

    ۔ اب اس پر شہباز گل سمیت دیگر تو خوب سیخ پا ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اس معاملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا یہ سیکورٹی لیپس ہے۔ بلکہ آئی جی اسلام آباد کوکوس رہے تھے۔ بہرحال آئی جی اسلام آباد نے اسکا فوری نوٹس لے کر کئی پولیس افسران معطل کر دیے ۔۔ مگر ن لیگ کی مریم اورنگ زیب اور دیگر اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ جب کھلے عام دھمکیاں دی جائیں گی تو ہم اپنے ارکان کی سیکورٹی کابندوبست تو کریں گے ۔ ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عمران خان اگر مزید ایک دو دن ایسے بیانات دیتے رہے تو معاملات کس نہج تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ خود ان کی اپنی حکومت اور پارٹی کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ کیونکہ بیانات دینا ، ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنوانا کچھ اور چیز ہے اور عملی طور پر گراونڈ پر حالات کچھ اور معاملہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے عمران خان کی اس وقت عوامی حمایت ویسی نہیں ہے جیسے 2018کے الیکشن سے پہلے تھی اور اس چیز کو ہی اپوزیشن سب سے زیادہ کیش کررہی ہے ۔ مگر عمران خان اب بھی اپنے پرانے اسٹائل میں ہی اپوزیشن کو ڈیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اب وہ حکومت میں ہیں اور دیگر جماعتیں اپوزیشن میں ہیں ۔ ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو بلاول بھٹو زرداری نے دھواں دار پریس کانفرنس کی ہے ۔ جس میں وہ کافی غصہ میں بھی دیکھائی دیئے ۔ مگر غصے کے باوجود انھوں نے کسی نازیبا لفظ کا استعمال نہ کیا ۔ مگر چھوڑا انھوں نے کسی کو نہیں ۔۔ گزشتہ روز کی کپتان کی دھمکیوں کا بڑا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے باور کروا دیا کہ اگر بندوق کی بات ہوگی تو چلائی تو کبھی نہیں مگر ایسا نہیں کہ وہ چلا نہیں سکتے ۔ بلاول نے یہ بھی یاد کروایا کہ عمران خان کے والد اکرام اللہ نیازی کو کرپشن الزامات پر نوکری سے نکالا گیا ۔ پھر اس بات کو بنیاد بنا کر انھوں نے کہا کہ۔ عمران خان کو شرم نہیں آتی، اپنی والدہ کے نام پر اسپتال کے پیسے پر ڈاکا ڈال کر اپنی پارٹی چلائی، امریکی عدالت نے آپ کے خلاف فیصلہ سنایا ہے لیکن آپ دوسروں پر الزام تراشی کرتے ہو۔۔ پھر بشری بی بی کو بھی نہیں چھوڑا اور کہا کہ میں نے کبھی بھی خاتون اول کے بارے میں کوئی غلط زبان استعمال نہیں کی لیکن خاتون اول کی کرپشن کے بارے میں جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں کوئی ٹرانسفر اور پوسٹنگ اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک خاتون اول کو پیسے نہ دیے جائیں۔
    ۔ جبکہ مولانا کے حوالے سے کہا کہ ہمارا مولانا کی فیملی سے 1971 سے سیاسی اختلاف ہے لیکن میں نے کبھی بھی مولانا فضل الرحمان کے خلاف غلط زبان استعمال نہیں کی۔ آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ مولانا فضل الرحمان کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔

    ۔ بلاول کے بعد اپوزیشن کی جانب سے دوسرا بڑا حملہ ن لیگ کی طرف سے ہوا ۔ مریم نواز نے عمران خان شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری جماعت کے بخیے ادھڑ رہے ہیں اور اس کی ذمہ دار نہ اپوزیشن ہے اور نہ کوئی ملکی یا غیر ملکی سازش۔ اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں، آپ کی گندی زبان ہے، آپ کا تکبر اور غرور ہے اور اپنے ممبران کو احترام نہ دینا ہے۔ اب بہت دیر ہو چکی۔ آپ کی خالی دھمکیاں اب کسی کام کی نہیں۔
    ۔ غصہ، اشتعال، دھمکیاں، گالیاں، زبان درازی، گھبرا گئے ہو نا ۔۔۔
    ۔ تم نے پاکستان کو تباہی و بربادی کے گڑھے میں پھینک دیا ہے ۔
    ۔ مزید سازش کا واویلا کر کے تم قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
    ۔ تمہارا کارنامہ یہ ہے کہ تم نے پاکستان کو اندرونی طور پر تباہ و برباد اور بیرونی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ اپنا انجام دیکھ کر گھبراؤ نہیں- ڈرامہ بازی بند کرو۔۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے زرا شائستہ زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو اپنا انجام نظر آنے لگا ہے جس کے باعث وہ چور چور کا واویلا مچا کر غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ گھٹیا سیاست کر رہے ہیں ۔ ۔ تو اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا کہ عمران نیازی نے اپنی تقاریر میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں ۔ ان کے ساتھیوں کو چاہئے کہ جب کچھ ایسا کہنے لگیں ان کے منہ پر ٹیپ لگا دیں ۔ ۔ دراصل آج بلاول اور مریم سمیت دیگر نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ جو سمجھتے ہیں اپوزیشن ڈر جائے گی اور پیچھے ہٹ جائے گی۔ ایسا نہیں ہوگا ۔ اور اگر عمران خان اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی کوشش کریں گے تو رہتے وہ خود بھی شیشیے کے گھر میں ہی ہیں باقی بھی پتھر مارسکتے ہیں۔۔ دیکھا جائے تو گزشتہ کئی روز سے عمران خان کافی جارحانہ انداز میں اپوزیشن کو باونسرز مار رہےتھے ۔ مگر آج اپوزیشن نے بھی میدان عمل میں آکر کپتان کو چوکے چھکے لگا دیے ہیں۔ ۔ کیونکہ جس طرح آج اپوزیشن نے آکر حملہ کیا ہے اب عمران خان اپنے بیانات کے حوالے سے بیک فٹ پر نہ گئے تو نقصان زیادہ ان کا ہی ہوگا ۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ پیچھے نہیں جائیں گے بلکہ مزید غصہ دیکھانے کی کوشش کریں گے ۔ مگر اس بار حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں ۔ ۔ کیونکہ جب بلاول یا مریم یا شہباز یا مولانا ۔۔۔۔ عمران خان کی بیگم بشری بی بی ، والد گرامی ، شوکت خانم ہسپتال اور انکی بہن پر بات کریں گے تو یہ چیزیں پھر میڈیا پر بھی ڈسکس ہوں گی ۔ اور جب یہ وہاں ڈسکس ہوں گے تو یہ چیزیں عمران خان کو بہت دکھی کریں گی ۔ ۔ مراد سعید سے پریس کانفرنس کرواکر اس کو کور اپ کرنے کی کوشش تو کی ہے ۔ مگر یہ مراد سعید کے بس کی بات نہیں کیونکہ اپوزیشن کی تمام لیڈر شپ نے خود سامنے آکر عمران خان کو جواب دیا ہے ۔

    ۔ یوں اپوزیشن صرف ڈرائنگ روم کی سیاست میں ہی نہیں عمران خان کو ٹف ٹائم دے رہی ہے بلکہ بیانیہ کی جنگ میں بھی خوب رگڑا لگا رہی ہے ۔ اس وقت دیکھنے اور سمجھنے کی یہ بھی ضرورت ہے کہ وہ لوگ جو کپتان کی وفاداری کادم بھرتے تھے ۔ خاص طور پر عمر ایوب ، خسرو بختیار ، غلام سرور ، اعظم سواتی ، اعجاز شاہ ، فخر امام وغیرہ ۔۔۔ ایسی ناموں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ یہ بالکل منظر سے غائب ہیں ۔ اب یہ نہ تو کوئی پریس کانفرنس کررہے ہیں ۔ نہ ٹی وی شوز میں جارہے ہیں ۔ ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یہ وہ کردار ہیں۔ جو موسم بہار ہو تو سب سے آگے یہ ہوتے ہیں اور جب موسم خزاں کا ہو تو یہ اردگرد تو دور کی بات یہ بھی شائبہ نہیں ہونے دیتے کہ یہ اس مشکلات میں گھیری سیاسی جماعت کے وزیر ہیں ۔۔ آخر میں یہ بھی بتا دوں کہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد صدر مملکت کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی ایک ہی حملہ میں دو وکٹیں گرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔ ۔ پھر ترین گروپ میں تنازعات کی بہت سے خبریں گردش کررہی ہیں ۔ اس میں پی ٹی آئی والوں کی زیادہ کارستانی ہے ۔ حالانکہ صورتحال یہ ہے کہ ق لیگ کی دوبارہ انٹری کے بعد ممکن ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلی ق لیگ کا ہو ۔ اور اسپیکر ترین گروپ کا یا پیپلزپارٹی کا ۔ آج اس حوالے سے بھی تمام چیزیں تقریباً فائنل ہوجائیں گی ۔ ۔ میری چڑیل کے مطابق جس طرح اپوزیشن نے پلاننگ کی ہے اگر ویسا ہوگیا تو ۔ نیا صدر پیپلزپارٹی سے ، اسپیکر جے یوآئی ف سے ، وزیر اعظم ن لیگ سے اور وزیر اعلی ق لیگ سے آتا دیکھائی دے رہا ہے ۔

  • کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل کو انگریزی بولنے پر ٹوک دیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی۔

    درخواست گزار کے وکیل کوکب اقبال نے موقف اپنایا کہ اردو زبان کے نفاذ کا حکم 2015 میں دیا گیا لیکن آج تک عمل نہیں ہوا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت سی ایس ایس امتحانات میں بھی اردو شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔

    وکیل کوکب اقبال نے عدالت سے کہا کہ میں نے 2003 میں درخواست دائر کی تھی اور چاہتا ہوں میری زندگی میں کیس کا فیصلہ ہو جائے، سپریم کورٹ وزیر اعظم کو ہدایات دیں کہ اردوزبان کو سرکاری زبان کےطور پر رائج کرے بیوروکریسی سپریم کورٹ کےبجائےوزیراعظم کے حکم کو مانتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے از خود دائرہ اختیار کو ریگولیٹ کرنے والی آئینی ترمیم منظور

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ حکومت اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے وکیل کوکب اقبال نے کہا کہ امیر کا بچہ سی ایس ایس کر لیتا ہے اور غریب بس کلرک ہی بنتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، ہمارے بزرگ انگریزی کے بجائے عربی اور فارسی جانتے تھے۔

    سپریم کورٹ نے وفاق اور پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پرنافذ کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریری فیصلہ بھی اردو میں جاری کیا تھا سائلین بھی متعدد بار یہ شکایت کرچکے ہیں کہ کیس کی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھ ہی نہیں آتی، جو بعد میں انہیں وکیل سے پوچھنی پڑتی ہے۔

    گذشتہ برس اردو زبان رائج نہ کرنے پر وکیل کوکب اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی گذشتہ برس ستمبر اور رواں ماہ جنوری میں بھی اس کیس کی ایک سماعت ہوئی تھی جس میں حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

    ستمبر 2015 میں جاری کیے گئے اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ

    آئین کا آرٹیکل 251 اس معاملے پر واضح ہے، جس کی شق نمبر ایک کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور سرکاری سطح پر اس کے فروغ کے انتظامات ہونے چاہییں شق نمبر دو کے مطابق دفتری زبان انگریزی رہے گی، جب تک اردو کو اُس کا مکمل متبادل نہیں بنا دیا جاتا اسی طرح شق نمبر تین کے مطابق صوبائی اسمبلی قومی زبان کے ساتھ ساتھ صوبائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی اقدامات کرے۔

    اسی بنیاد پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ ‘آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔’

    کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں

    بارہ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں مزید لکھا گیا تھا:

    قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں، تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کریں۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں، جو آرٹیکل189 کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماَ اردو میں ترجمہ کروایا جائے اور عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔‘

    مزید کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے اجرا کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

    پاکستان کو 60 کی دہائی کی معیشت بنانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ

  • کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    برسلز: کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کشمیری رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سمیت بھارتی اعلیٰ حکام کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے۔اراکین یورپی پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ خرم پرویز اور دیگر اسیران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سنگین صورتحال پربحث کرنے کی درخواست کریں گے کہ نئی دہلی یو این جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی مکمل پاسداری کرے۔

    واضح رہے کہ کشمیری کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی کارکن خرم پرویز اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی رہائی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کے 21 ارکان کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ بھارتی حکام کو لکھے گئے کھلے خط کو بھی سراہا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے طلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی طرف کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اپنے مکینوں کے لیے جہنم بن چکا ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔الطاف وانی نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس برس سے انسانی حقو ق کونسل اور اس سے قبل کمیشن برائے انسانی حقوق میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر مظالم 2018اور 2019میںعالمی اداے نے اس وقت کچھ توجہ مبذول کی جب انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں دو رپورٹیںجاری کی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مساوات اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔الطاف وانی نے کہاکہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی گزشتہ 33 بر س سے نہتے کشمیریوں کے خلاف برسر پیکار ہیں تاہم انسانی حقوق کونسل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جس سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دے ۔

  • بندر نے اڑتے بگلے کو پکڑ کر بے رحمی سے مار ڈالا، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

    بندر نے اڑتے بگلے کو پکڑ کر بے رحمی سے مار ڈالا، ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل

    لندن: برطانوی چڑیا گھر میں بے رحم بندر نے اڑتے ہوئے سمندری بگلے کو پکڑکر بے رحمی سے لکڑی کے کھمبے پر پٹخ کر مارڈالا۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ کے چیس شائر میں واقع چیسٹر چڑیا گھر میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بندر نے سمندری بگلے کو گرفت میں لے رکھا ہے اور اسے لکڑی کے بانس سے ٹکراکر کر مارڈالا ہے-

    پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    یہ ویڈیو چڑیا گھر آنے والے ایک 32 سالہ شخص ، بیک ایڈمسن نے بنائی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بندر نے جنون میں آکر ایک بڑے پرندے کو سر سے پکڑ رکھا ہے اور بار بار اس کی ضرب کھمبے پر لگارہا ہے یہاں تک کہ نیم مردہ پرندہ نیچے گرجاتا ہے اور بندر تیزی سے نیچے اترکر دوبارہ اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

    ایڈمسن نے بتایا کہ اس عمل میں بندر کی انگلیاں بھی زخمی ہوگئیں جس کے بعد اس نے نیچے اتر کر پرندے کو نوچا اور اسے کھانے لگا یہ ویڈیو جب ٹک ٹاک پر ڈالی گئی تو بہت تیزی سے وائرل ہوئی جسے اب تک لاکھوں صارفین دیکھ چکے ہیں-

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بعض صارفین کا خیال ہے کہ بندر نے پرواز کرتے پرندے کو پکڑا تھا لیکن یہ منظر ویڈیو میں نہیں آسکا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ سی گل پرندے نے خود بندر کو ستایا ہوگا کیونکہ یہ بے باک پرندے سیاحوں کو ٹھونگیں مارنے اور ان سے کھانا چھیننے میں بہت ماہر ہیں-

    کچھ صارفین نے اس خوفناک منظر کو کنگ کانگ کی فلم سے تعبیر کیا ہے جس میں وہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ پر چڑھ کر ہیلی کاپٹر کو ہاتھ مارکر گرادیتا ہے لیکن اس منظر میں کوئی عمارت نہیں تھی بلکہ 20 فٹ بلند ایک کھمبا تھا جسے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تعمیر کیا تھا۔

    انسانی جسم میں سور کا دل ٹرانسپلانٹ کرانے والا شہری چل بسا

     

  • بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    بدروح سے بھرا جاپانی پتھر ایک ہزار سال بعد دو حصوں میں ٹوٹ گیا

    ٹوکیو: جاپان میں مبینہ طور پر بدروح سے بھرا ایک بڑا پتھر ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی "دی گارجئین” کے مطابق جاپان میں پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک بڑے پتھر کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں ایک ہزار سال بعد دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے خیال ہے کہ اب اس کے منفی اثرات باہر آچکے ہیں-

    پورے جاپان کے سوشل میڈیا میں لوگ اس پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اب یہ حال ہے کہ اس تمام کہانی پر یقین رکھنے والے بعض افراد اس واقعے سے سخت مضطرب اور خوفزدہ ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جو بھی اس کے پاس گیا وہ یقینی طور پر مرجائے گا۔

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…


    جاپانی دیومالا کے مطابق اس پتھر کا نام ’سیشو سیکائی‘ ہے اور اس میں 9 دموں والی خونخوار طلسمی لومڑی بند ہے یا اس کی روح قید میں ہے۔

    تفصیل کے تحت سال 1107 سے 1123 کے درمیان جاپان پر شہنشاہ ٹوبا کا راج تھا اسے قتل کرنے کے لیے ایک عفریت نے خوبصورت عورت کا روپ دھارا۔ آسیبی جانور لومڑی تھی جس نے حسین عورت کا روپ اختیار کیا اور اس عورت کو ’تمامو نو مائی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال بعد 9 دم والی لومڑی اپنا روپ بدلتی ہے پھر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پتھر سے زہریلا مواد نکلتا ہے لیکن درحقیقت یہ علاقہ زیرِ زمین تیزابی چشمے پر مشتمل ہے اور وہیں سے گیس اور تیزاب بہتا رہتا ہے۔

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت


    تاہم یہ عجیب واقعہ ہے کہ اچانک یہ بہت بڑا پتھر ٹوٹا ہے اور دو یکساں حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بدھ مت کے ایک بھکشو نے چندروز قبل اپنے علم کے زور پر اسے توڑا ہے اور پتھر کے ٹکڑے جاپان بھر میں پھیل چکے ہیں بہت سے جاپانی یہ ماننا پسند کرتے ہیں کہ اس کا گھر ماؤنٹ ناسو کی ڈھلوان پر ہے۔

    اس واقعے سے قبل سیاحوں کی بڑی تعداد اس چٹان کو دیکھنے آیا کرتی تھی لیکن پتھر ٹوٹنے کے بعد اب لوگ اس علاقے میں بھی نہیں جارہے کیونکہ ان پر خوف طاری ہے۔ یہ علاقہ ٹوکیو کے قریب واقع ہے جسے ٹوچائگی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی افراد ٹویٹر اور فیس بک پر اس کے طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں اور بعض افراد نے کہا ہے کہ سال 2022 بھی کچھ اچھا نہیں گزرے گا۔ دوسرے نے لکھا کہ ایک خونخوار بدروح اب جاپان میں آزاد ہوچکی ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    "مجھے لگتا ہے کہ میں نے کچھ دیکھا ہے جو نہیں دیکھا جانا چاہئے،” ایک ٹویٹر صارف نے ایک پوسٹ میں کہا جس نے تقریبا 170,000 لائکس کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    جب کہ دوسروں نے قیاس کیا کہ ’تمامو نو مائی‘ کی شیطانی روح تقریباً ایک ہزار سال بعد دوبارہ زندہ ہوئی تھی، مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے چٹان میں دراڑیں نمودار ہوئی تھیں، ممکنہ طور پر بارش کا پانی اندر داخل ہونے کی وجہ سے اس کی ساخت کمزور ہو گئی تھی-

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے