Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج  ہند کی بیٹی کی للکار ہے   ازقلم :غنی محمود قصوری

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہندو کی بدمعاشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس کرہ ارض کا ہر ظلم ہندو ظالم نے ہند کے مسلمانوں پر کیا ہے اور کر بھی رہا ہے بلکہ ہر آنے والے دن کیساتھ اس میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے جسے روکنے کی طاقت نا تو وہاں کے نام نہاد بڑے بڑے ایم ایل ایز میں ہے اور نا ہی کسی بہت بڑے عالم دین میں
    میں ان لوگوں کا نام لینا گوارہ نہیں کرتا کیونکہ نام اس کا لیا جاتا ہے جو کسی قابل ہو اور تاریخ بھی اسے ہی یاد رکھتی ہے جس میں جرآت و بہادری ہو
    بزدل و بے شرم کی نا تو تعریف ہوتی ہے نا ہی رقم تاریخ ہوتی ہے –

    ہندوستان میں مقیم مسلمانوں کی حالت زار اور وہاں کے بڑے بڑے لیڈروں کے دعوؤں کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے میرا رب جب کسی قوم کی حد سے تجاوز کرتی بے بسی کو دیکھتا ہے تو وہ ابابیلوں سے ہاتھی مروا دیتا ہے بلکل اسی طرح ہندوستان کے مسلمانوں کی بے بسی پر میرے رب نے ہندو دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گرد مودی گورنمنٹ کو ایک نہتی لڑکی سے ٹھپر مروایا ہے اور ٹھپر اتنا کرارا اور آواز دار ہے کہ پوری دنیا میں اس کی آواز سنی جا رہی ہے –

    جو کام 75 سالوں سے بڑے بڑے پھنے خان قسم کے لیڈر اور بڑے بڑے نام نہاد ملاں نا کر سکے وہ ایک اکیلی لڑکی نے کر دکھلایا کئی صدیاں پہلے کی بات ہے ہند کی ایک مظلوم عورت کی آواز پر ہمارا ایک شیر جوان عرب سے آیا تھا اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کی عزت و توقیر اور اسلام کی سربلندی کیلئے مگر آج ہند کی ایک مسلمان شیرنی نے ایک آواز پہنچا دی عرب کے حکمرانوں کے نام پاکستان و دنیا بھر کے سیاسی مستانوں کے نام-

    ہوا کچھ یوں کہ انڈین شہر کرناٹک میں ہماری ایک مسلمان غیور بہن خولہ خنساء کی شجاعت اور فاطمہ رضی اللہ جیسی حیا والی اپنی درسگاہ میں حجاب پہن کر داخل ہوئی تو حجاب کے مخالف درجنوں ہندو انتہاہ پسند ہندوؤں نے اسلام و حجاب کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیئے اللہ کی اس شیرنی نے مشرک پلید ہندو کے گندے نعروں کا جواب نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے پاک نعروں سے تن تنہاہ دیا جس سے ان نعرے بازوں کے چہروں کی رنگت بدل گئی کہ ایک نہتی اکلوتی لڑکی تن تنہاہ ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کر گئی اللہ اکبر کبیرہ-

    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی دیکھ کر دل خوش ہو گیا اور بے ساختہ منہ سے نکلا میری بہن تو نے تو ٹھپر مار دیا ان سیاستدانوں کے منہ پر جو کہتے کہ ہم اقتدار میں آ کر ہندو کو مزہ چکھائے گے اور 75 سالوں سے لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود مزے لوٹ رہے ہیں ہندو کی دی ہوئی عیاشیوں کے
    میری بہن تو نے تو بہت بڑا ٹھپر مارا ہے ان نام نہاد خود ساختہ مفتیان و ملاں کرام کے منہ پر کہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا جہاد ہندو کے خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارا ملک ہندوستان ہے حالانکہ ان کے لئے واضع مثال ہے کہ میرے نبی ذیشان صل اللہ علیہ وسلم نے اپنا شہر مکہ چھوڑا اور پھر مدینہ میں تیاری کرکے اپنا شہر ظالموں مشرکوں سے آزاد کروایا کیونکہ وہاں کے مشرکوں نے بھی آج کے ہندو کی طرح مسلمانوں کا جینا محال کر دیا تھا-

    یقیناً میری بہن آپ نے ظالم کے سامنے کلمہ حق کا نعرہ لگا کر جہاد کیا ہے کیونکہ اللہ کے راستے میں اللہ کے دین کی سر بلندی اور مسلم کی حرمت کے لیے لڑنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے
    اور اس جہاد کی دو اقسام ہیں
    اول ۔۔دفاعی جہاد
    دوم۔۔اقدامی جہاد

    دفاعی جہاد یہ ہے کہ جب کفار و کوئی بھی مشرک پلید کافر مسلمانوں کے کسی علاقہ پر حملہ آور یا پھر قابض ہو جائے اور مسلمانوں پر ظلم ستم کا بازار گرم کر دے تو اسے روکنے کے لیے کوشش کرنا جہاد کرنا کہلاتا ہے کیونکہ سورہ النسا میں فرمان الہی ہے کہ

    وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً

    ترجمہ۔۔اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستہ میں قتال کیوں نہیں کرتے جبکہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے کہہ رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی ساتھی اور مدد گار بنا دے

    اقدامی جہاد سے مراد یہ ہے کہ کافروں مشرکوں کی عہد شکنیوں، دعوت و دین کے راستے میں رکاوٹوں عبادتوں میں پابندیوں اور شعائر اسلامی کی توہین کی وجہ سے ان کافروں پر حملہ کرنا جہاد ہے کیونکہ اس بارے اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتے ہیں

    وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَواْ فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ

    اور انکے خلاف قتال کرو، حتى کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ کے لیے ہو جائے
    تو اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کی جائے

    نیز حدیث رسول ہے کہ

    عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ جَاہِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مشرکوں سے جہاد کرو،اپنے مالوں کے ساتھ،اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ
    دوسری حدیث ہے کہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَحُبُّ الْجِھَادِ إِلَی اللّٰہِ کَلِمَۃُ حَقٍّ تُقَالُ لِاِمَامٍ جَائِزٍ۔

    ترجمہ۔۔اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ جہاد ظالم بادشاہ کو حق بات کہنا ہے-

    أج ہند میں مسلمانوں کی عبادت پر پابندی مسلمانوں کی رسم و رواج پر پابندی حتی کہ مسلمانوں کی عزتیں غیر محفوظ جب جس مشرک ہندو کا دل چاہے کسی بھی مسلمان مرد و زن بچے بوڑھے کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور کلمہ حق کہنے کی توفیق کسی کو بھی نہیں مگر سلام اے میری بہن تجھ پر کہ تو نے ظالم مشرک بادشاہ ہند مودی پلید کے سامنے کلمہ حق بیان کیا نا صرف تو خود خوش قسمت ہے بلکہ خوش قسمت ہے وہ باپ جس نے تجھے جنا خوش قسمت ہے وہ ماں جس نے تجھے جنم دیا خوش قسمت ہے وہ بھائی جس کی تو عزت ہے خوش قسمت ہے وہ بہن جس کی تو راز دان سہیلی اور بہن ہے اور خوش قسمت ہے وہ خاندان جس کی تو توقیر ہے اللہ تیرا حامی و ناصر ہو ان شاءاللہ تیرے بطن سے محمد بن قاسم ،سلطان صلاح الدین ایوبی،نورالدین زنگی اور ٹیپو سلطان جیسے مر حر مرد مجاھد جنم لیں گے ان شاءاللہ

  • میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    اسلام آباد:میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید کا کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کے ویبنار سے خطاب،اطلاعات کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے اسلام آباد میں ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سینیٹرمشاہد حسین سید نے مرکزی خطاب کیا

    کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس ویبنار میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میرے وطن کے جوانوں پر اب یہ ذمہ داری ہے آگئی ہے کہ وہ جید وسائل کے ساتھ اپنی کوششوں اور توانائیوں‌کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اجاگر کریں اور کشمیریوں کو جلد از جلد بھارتی کی غلامی سے نجات دلائیں

    اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کشمیریوتھ الائنس کی جدوجہد کی تعریف بھی کی اور کشمیریوں کےلیے آواز بلند کرنے پرخراج تحسین پیش کیا

    کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کہ نام سے منعقد ویبنار سے کشمیر یوتھ الائنس کے سینیئر نائب صدر طہٰ منیب نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک میں اہل پاکستان کو پہلے سے زیادہ بھرپور اندازسے مدد کرنی چاہیے اور ہر فورم پرکشمیریوں‌ کے لیے آواز بھی بلند کرنی چاہیے ، طہٰ منیب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ اب وہ کشمیریوں کی آزادی کےلیے عملی اقدامات کرے باتوں سے نکل کر اب میدان عمل میں آئے تاکہ کشمیریوں کو بھی یہ احساس ہو کہ پاکستان نے ان کے لیے فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے

    کشمیر کے حوالے سے منعقد اس ویبنار میں کشمیر یوتھ الائنس کے صدر سید مجاہد گیلانی نے بھی شرکت کی اور گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس پروگرام کو منظم کرنے والے دو نوجوان رہنما جن میں ایک انعم امیتاز اور دوسرے محمد اختر ہیں جن کو بطور ماڈیٹرز کے خدمات سرانجام دینے اور کشمیریوں کے لیے یہ ویبنار منقعد کرنے پر خراج تحیسن بھی پیش کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا

    اس موقع پر سید مجاہد گیلانی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہمارے نوجوان اہل کشمیر کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے والے ہیں اور انہیں بھرپور امید ہےکہ یہی نوجوان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بن کران کی آزادی کےلیے جدوجہد کریں گے اور ایک دن آئے گا جب اس جدوجہد کے نتیجے میں اہل کشمیر بھارت کی غلامی سےنکل کر ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر زندگی گزار سکیں گے

  • محبت کا ایک ایسا واقعہ جس نے میری زندگی کو روشن کر دیا۔

    محبت کا ایک ایسا واقعہ جس نے میری زندگی کو روشن کر دیا۔

    ہم ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے اور اس وقت کے کافی عرصے سے ہم اچھے دوست ہیں۔ میں ائیر پورٹ پر اُس کے استقبال کے لیے تھا۔ ٹھنڈا اور پرسکون رویہ رکھنے کی کوشش کے باوجود، نیلی جینز اور ہلکے نیلے رنگ کے ٹاپ میں ملبوس اس کی پہلی جھلک نے میرا دم توڑ دیا۔ میں کبھی نہیں جانتا تھا کہ میں اس کی طرف راغب ہوں۔
    تبادلے دوستانہ تھے، زبردستی آرام دہ تھے۔ شائستہ گفتگو کے بعد جب میں نے اس کا سامان گاڑی میں لاد دیا۔ اس کے پیچھے مسافر کا دروازہ بند کرتے ہوئے میں ادھر ادھر گیا اور ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میرا دل توقع سے دھڑک رہا تھا۔ ٹیکسٹنگ کے دوران چھیڑ چھاڑ کرنا اور ٹھنڈا لگنا ایک چیز تھی۔ اب جب کہ واقعات حقیقی طور پر سامنے آ رہے تھے، میں گھبرا رہا تھا۔
    میرے ذہن میں لاکھوں سوال چمک رہے تھے۔ کیا یہ غلطی ہے؟ کیا اس کے بعد وہ میرے بارے میں کم سوچے گی؟ کیا میں اسے مایوس کروں گا؟ کیونکہ میں کسی بھی حالت میں اس کی دوستی کھونا نہیں چاہتا تھا۔ ہم نے پہلی بار ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ان تمام شرارتی پیغامات کے تبادلے کے بعد، اور اس ٹرسٹ کو ترتیب دینے کے بعد۔ میرے اندر کی گہرائیوں سے، سوال ابھرا، مجھے اس کا احساس بھی نہیں ہوا۔
    "میں اب تمہیں چومنا چاہتا ہوں!” اب میں گھبرا گیا! کیا میں پاگل ہوں؟ کیا وہ ناراض ہے؟ لیکن اس کے نرم جواب نے میرے خوف کو پورا کر دیا۔
    وہ میری طرف دیکھ رہی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا اشارہ تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر، میں جھک گیا اور ہم نے پہلی بار بوسہ لیا۔ اس وقت میں جانتا تھا، یہ ایک آرام دہ اور پرسکون جھڑپ سے زیادہ ہونے والا ہے۔ دو دوست محبت کرنے والوں میں بدل چکے تھے۔
    ہوائی اڈے سے ہوٹل تک کا سفر ایک کھیل جیسا تھا۔ جنسی تناؤ کو چھپانے کے لیے آرام دہ اور پرسکون مذاق بری طرح ناکام ہو گیا، اور پھر بھی اسے کھیل کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ ہوٹل میں، جلدی سے باہر آنے والے بیل بوائے کے پیچھے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرنے کے چند ہی لمحوں میں، ہم ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے اور کپڑے اتار رہے تھے۔ یہ ایک خواب کی طرح جینا تھا۔ ہم نے زبردست سیکس کیا، ہنسا، بات کی، شراب پی، کھانا کھایا، ڈانس کیا اور بہترین دوستوں کی طرح بندھے ہوئے تھے۔
    جسمانی کیمسٹری بہت زیادہ تھی؛ ہم ایک جیگس پہیلی کے ٹکڑوں کی طرح ایک ساتھ فٹ ہوجاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خوبصورت وہ سکون اور خوشی تھی جو ہم نے ایک دوسرے کی صحبت میں محسوس کی۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی، جو ہفتے کے آخر تک جاری رہی۔
    ہمارے تعلقات کی حرکیات سادہ تھیں۔ کوئی تار منسلک نہیں ہے۔ صرف باہمی احترام، مشترکہ جذبات اور ہمارے درمیان ناقابل یقین جسمانی کشش کی بنیاد پر۔ لیکن ماحولیاتی نظام پیچیدہ تھا، کیونکہ ہم شادی شدہ تھے، نہ کہ ایک دوسرے سے۔ یہ اپنی برہنہ شکل میں غیر روایتی اور خوبصورت تھی، لیکن معاشرتی اصولوں میں ملبوس ہونے کے باوجود گناہ اور زناکار تھی۔
    مجھے بالکل واضح کرنے دو: کوئی ‘بری’ شادی یا بدسلوکی یا ایسی کوئی وجہ ہمیں اکٹھا نہیں کر سکی۔ ہم دونوں کی شادی کو کافی عرصہ ہو چکا تھا، ہمارے بچے تھے اور ہماری ازدواجی زندگی معمول کے اتار چڑھاو کے ساتھ مستحکم تھی۔ ناخوش نہیں۔
    بغیر کسی رکاوٹ کے گہرے فکری مباحثوں سے دل چسپی زبانی ہنسی مذاق اور دلچسپ جوابات کی طرف بڑھتے ہوئے۔ میں کبھی کسی اور کی صحبت میں اتنا نہیں ہنسا۔ اور جادوئی جنسی…
    عجیب بات ہے، میں نے کوئی جرم محسوس نہیں کیا۔ میں اب بھی اپنے شریک حیات سے پیار کرتا تھا اور اس کی دیکھ بھال کرتا تھا اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اپنے شوہر کے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتی تھی۔ لیکن ہم دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ رشتہ ہمارے خاندانوں اور دوستوں کے لیے افراتفری اور خرابی کا باعث بن سکتا ہے، اگر یہ کھلے عام سامنے آئے۔ سیدھے الفاظ میں، ہماری زندگی صرف علیحدہ ریلوں پر ہی چل سکتی ہے۔ اگر زندگی حادثات کے بغیر آگے بڑھنی ہے تو فاصلہ ضروری تھا۔ اور اس طرح ایک مقدس قاعدہ تھا۔ ہم اسے سنجیدہ تعلقات میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دیں گے۔
    وقت گزرتا گیا، مزید کوششیں ہوئیں اور جب اس نے اپنا سودا ختم کیا، میں نے اس ایک اصول کو توڑ دیا۔ مجہے محبت ہو گئ ہے. مجھے نہیں ہونا چاہئے تھا، لیکن میں نے کیا اور ایسا کرتے ہوئے میں نے اپنے اتحاد کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ہم نے اس کے ارد گرد کام کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کام کرنے سے کہیں زیادہ آسان تھا۔ اس انتظام میں جذبات کو لانا ایک معاہدہ توڑنے والا تھا۔ مجھے جذباتی طور پر لڑکھڑاتے ہوئے محسوس کرتے ہوئے، ہماری بھلائی کے لیے، اس نے پلگ کھینچ لیا اور تمام رابطہ توڑ دیا… اور میرا دل۔
    اگرچہ استدلال کے ساتھ صلح ہو گئی، میں اب بھی متضاد ہوں۔ جو چیز بہت اچھی اور صحیح محسوس ہوتی ہے اسے برا اور غلط کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا میری اخلاقی ریشہ اتنی کرپٹ ہے؟ کیا کسی فرد کی خوشی ہمیشہ کے لیے اخلاقیات کا شکار ہو جاتی ہے؟ کیا محبت اور پیار کے جذبات، جن کو انسانی اقدار میں سب سے پاکیزہ اور اعلیٰ ترین قرار دیا جاتا ہے، ان کو چند لوگوں کے لیے راشن دیا جائے؟ کیا کچھ کو دینے سے دوسروں کی دستیابی کم ہو جائے گی؟ میں جانتا ہوں کہ ان سوالات کے کوئی حقیقی جواب نہیں ہیں، صرف آسان تشریحات ہیں۔

  • محبت میں ناکامی کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟؟

    محبت میں ناکامی کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟؟

    اپنے پیارے کو کھونے کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ اور آزمائشی چیلنجوں میں سے ایک ہے جو زندگی ہمارے راستے پر ڈالتی ہے۔ اس کے باوجود، ٹوٹے ہوئے دل کی پرورش ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر کوئی گزرتا ہے اور ایک ایسا واقعہ ہے جس سے ہم سب کو کسی نہ کسی وقت نمٹنا پڑتا ہے۔ شاید، یہاں تک کہ کئی بار. اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کتابیں، فارمولے، ریاضی، آرٹ کے ٹکڑے یا موسیقی نہیں ہیں۔ انہیں سیکھا، سمجھا یا نیویگیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بجائے، لوگ خیالات، جذبات اور طرز عمل کا محض ایک مجموعہ ہیں۔
    سیدھے الفاظ میں، لوگ پیچیدہ ہوتے ہیں، خاص طور پر جب بات دل کے معاملات کی ہو۔ ہم کچھ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ پسند کرتے ہیں، انہیں بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں اور شدت سے ان کی توجہ چاہتے ہیں۔ ہم اپنا سارا وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان سے متاثر ہو جائیں اور پھر جلد ہی پیار ہو جائیں۔ جس طرح سے دو افراد اکٹھے ہوتے ہیں گویا کسی جادوئی قوت سے قریب ہو کر انہیں ایک جیسی طاقت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
    جب ایسا ہوتا ہے تو، اپنی زندگی کے ٹکڑوں کو اٹھانا اور یہ جاننا کہ ٹوٹے ہوئے دل کو کیسے ٹھیک کیا جائے اور آگے بڑھنا ایک مشکل تجویز ہو سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہو گا کہ آپ کی زندگی مکمل طور پر الگ ہو گئی ہے۔ لہذا اگر آپ اپنے آپ کو ایسی صورتحال میں پاتے ہیں، تو ہم آپ کو دل ٹوٹنے اور دھوکہ دہی سے نمٹنے میں مدد کے لیے حاضر ہیں۔
    اگر آپ پوچھ رہے ہیں کہ دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے، تو آپ شاید پہلے ہی اس کے ساتھ آنے والے دردناک درد سے بہت واقف ہوں گے۔ آپ کی زندگی کی محبت کا نقصان، دھوکہ دہی، دھوکہ دہی یا محض اس شخص سے الگ ہو جانا جسے آپ اپنا جیون ساتھی سمجھتے ہیں آپ کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچانے اور جذباتی طور پر گزارا کر سکتا ہے۔ مایوسی کے ایسے لمحات میں یہ سوچنا فطری ہے کہ دل ٹوٹنے سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق، آپ کا دماغ دل کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہونے والی جذباتی تکلیف پر اسی طرح عمل کرتا ہے جس طرح یہ چوٹ یا بیماری کی وجہ سے ہونے والے جسمانی درد پر عمل کرتا ہے۔ اگر آپ ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کچھ عام تاثرات پر دھیان دیتے ہیں – "میرا دل میرے سینے سے پھٹ گیا”، "جلد والا دل”، "گٹ رینچنگ ہارٹ بریک” – یہ سب جذباتی درد کو کم کرنے کے لیے جسمانی درد کا استعمال کرتے ہیں۔ . اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹوٹا ہوا دل درحقیقت آپ کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچاتا ہے۔ تو یہ سب آپ کے دماغ میں نہیں ہے۔
    نتیجے کے طور پر، جسم کی لڑائی یا پرواز کا ردعمل متحرک ہو جاتا ہے اور تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ جسم میں ہونے والی تمام ناخوشگوار تبدیلیاں جیسے کہ بھوک میں کمی، متلی، وزن میں اضافہ یا کمی، مہاسے یہ سب اس سائیکل کے حرکت میں آنے کا نتیجہ ہیں۔ بعض صورتوں میں، متاثرہ شخص کو اس رجحان کی وجہ سے دل ٹوٹنے، ڈپریشن اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درحقیقت، بعض انتہائی صورتوں میں، دل کا ٹوٹنا لفظی طور پر آپ کے دل کو توڑ سکتا ہے۔
    اسے بروکن ہارٹ سنڈروم، یا طبی اصطلاح میں Takotsubo Cardiomyopathy کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں دل کو توڑنے والی صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے والا شدید تناؤ دل کے بائیں ویںٹرکل کو عارضی طور پر فالج میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس سے ہارٹ اٹیک جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ شکر ہے، حالت مہلک نہیں ہے اور زیادہ تر معاملات میں خود ہی حل ہوجاتی ہے۔
    1. یاد رکھیں کہ آپ دل ٹوٹنے کا مقابلہ کرتے وقت تنہا نہیں ہیں۔
    ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا تجربہ آپ سے چھین لیا جائے لیکن ہمیں آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ دنیا کے پہلے شخص نہیں ہیں جو دل ٹوٹنے اور مسترد ہونے سے نمٹتے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوئے اور اس سے نکل آئے ہیں اور لاکھوں لوگ روزانہ اس کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو آپ کو ادا کرنی پڑتی ہے جب آپ محبت میں پڑ جاتے ہیں۔ چوٹ لگنے اور گرنے کا خطرہ۔
    جی ہاں، درد ناقابل برداشت معلوم ہوتا ہے جب تک یہ رہتا ہے، جس سے آپ کو ناامید، مایوسی اور اعتماد کے مسائل سے چھلنی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم، یہ تجربات آپ کے کردار، پختگی اور لوگوں کو سمجھنے اور تعلقات کو سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم پر بھروسہ کریں جب ہم آپ کو بتائیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس وقت سب کچھ کتنا ہی اداس نظر آتا ہے، یہ تجربہ آپ کو مستقبل میں آپ کے تعلقات میں بہت بہتر بنائے گا۔ اگرچہ یہ کوئی خوشگوار احساس نہیں ہے اور اس پر قابو پانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، لیکن یہ بالکل معمول کی بات ہے۔
    2. آپ کو ایک صاف سلیٹ کی ضرورت ہے۔
    دل ٹوٹنے سے نمٹنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ ٹھیک ہے، یہ آپ کے لئے سب سے اہم تجاویز میں سے ایک ہے. اور یہ بہت آسان بھی ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے آپ کو صاف ستھری حالت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کا ذہن یادوں، امیدوں، توقعات اور خیالی تصورات سے گدلا ہے جو کہ سب بیکار ہیں، تو یہ عمل مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
    لہذا، ایسی چیزیں کریں جو آپ کو اس شخص کے ساتھ گزارے گئے وقت کی یادوں میں واپس جانے سے روکنے میں مدد کریں۔ فون، ٹیبلیٹ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے تمام چیٹس، ای میلز اور تصاویر کو حذف کریں۔ اگر آپ ایسا کرنے کی ہمت نہیں جمع کر سکتے ہیں، تو کسی دوست سے کہیں کہ وہ ان سب کو ایک پوشیدہ فولڈر میں لے جائے۔ تحائف اور رشتے کی یادگاروں کو ختم کر دیں، تاکہ آپ کو اس شخص کی یاد نہ آئے جس نے آپ کو ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑا ہے۔
    3. دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے لیے تمام مواصلات بند کریں۔
    جب آپ دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو بغیر رابطہ کا اصول آپ کا بہترین حلیف ہوتا ہے۔ اس کے ارد گرد پینتریبازی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ صرف ایک ایسی چیز ہے جس پر آپ کو پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔ اپنے سابقہ ​​یا کسی ممکنہ محبت کی دلچسپی کے ساتھ تمام مواصلت بند کر دیں جس نے آپ کو ٹھکرا دیا ہے، اس لمحے جب وہ چلے جاتے ہیں۔ تمام مشترکہ دوستوں کو ہدایت دیں کہ وہ آپ کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم نہ کریں چاہے دوسرا شخص آپ سے ان کی زندگی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کچھ پوچھے یا بتائے۔ جو کچھ بھی کرنا پڑے کریں، لیکن اپنے آپ کو ان سے بات کرنے کی اجازت نہ دیں۔
    لوگ جب چاہیں تمام مواصلات کو معطل کر سکتے ہیں لیکن کمزور لمحات میں اچانک دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ لہذا، مواصلاتی چینلز کو روکنے میں مدد ملتی ہے. ان کو انسٹا، فیس بک، اسنیپ چیٹ اور ان تمام چیزوں پر بلاک کریں جس پر آپ لوگ بات چیت کرتے تھے۔ جب آپ کو کال کی توقع نہیں ہے یا آپ کو کال نہیں کرنی چاہیے تو پھر آپ کے فون پر فون نمبر کیوں درج ہے؟
    4. دل کے ٹوٹنے پر کیسے قابو پایا جائے؟ اپنے جذبات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔
    ایک بار جب آپ دل کے ٹوٹنے کے بعد اپنے آپ کو بہتر طور پر قابو میں رکھتے ہیں، تو یہاں تک پہنچنے کے لیے اپنی پیٹھ تھپتھپائیں۔ لیکن خبردار رہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کا سفر قطعی خطی نہیں ہے اور یقینی طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ صحیح سمت میں پیشرفت کرنے کے دنوں کے بعد، ایسے وقت آئیں گے جب آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ اس کھوئی ہوئی محبت تک پہنچنا ہے اور اسی وقت ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے آپ کی ساری پیشرفت ختم ہو گئی ہے۔
    ہوسکتا ہے کہ آپ نے انہیں تین ہفتوں تک کامیابی سے نظر انداز کیا ہو لیکن اچانک آپ کی ماں نے ان کا ذکر کیا اور آپ اپنے فون پر ان کا نمبر کھودتے ہوئے ان سے آپ کو واپس لے جانے کے لیے کہنا چاہتے ہیں۔ خواہش، الجھن اور امید آپ کو غلط قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس لیے اس امکان کو روکنے کے لیے، آپ کو اپنے جذبات کے بارے میں کسی دوست یا مشیر سے بات کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ وہ آپ کو یاد دلائیں گے کہ آپ کو واقعی کیا کرنا چاہئے کیونکہ وہ صرف آپ کے لئے بہترین چاہتے ہیں۔
    5. جتنی آپ کو ضرورت ہو گی
    اگر آپ بریک اپ کے نتیجے میں اداسی، مایوسی اور اذیت کے جذبات کو دباتے ہیں جس نے آپ کو واضح طور پر مکمل طور پر توڑ دیا ہے تو آپ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہے ہیں۔ آپ کے جذبات کو بوتل میں ڈالنا آپ جو محسوس کر رہے ہیں اس پر عملدرآمد کرنے اور اسے اپنے سسٹم سے نکالنے کا موقع چھین لیتا ہے – جو حقیقت میں کافی کیتھرٹک ہو سکتا ہے۔ جب آپ پہلے سے ہی سمجھدار اور نارمل رہنے میں مدد نہیں کرسکتے ہیں، تو اپنے آپ کو تھوڑا سا اداس محسوس کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اگر یہ طویل مدت میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
    دل کی خرابی پر کیسے قابو پایا جائے؟ جتنی آپ کو ضرورت ہو گی، اگر آپ کی طرح محسوس ہو تو اسے اونچی آواز میں پکاریں۔ اور ہاں، مردوں کا رونا بھی ٹھیک ہے۔ رونا انسان کو پہلے سے بہت بہتر محسوس کرتا ہے اور بہت زیادہ رونے جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ رونے کی ایک قسط کے بعد آپ ہمیشہ بہت ہلکا، پر سکون اور تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔ بہادر چہرہ نہ لگائیں اور اس کے بجائے اپنے جذبات کو تسلیم کریں۔
    6. اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ آپ کسی اور کو کنٹرول نہیں کر سکتے
    دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟ ٹھیک ہے، آپ کو اس حقیقت کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی اور کی رہنمائی، انتظام اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اپنے آپ کو اس کی جگہ پر رکھیں اور تصور کریں کہ کیا آپ وہ کرنا چاہتے ہیں جو دوسرے آپ سے چاہتے ہیں یا آپ آزاد مرضی اور خود مختار شخص بننا پسند کریں گے۔ وہ کیوں برتاؤ کریں جس طرح آپ ان سے چاہتے ہیں؟
    اگر آپ نے ایک بار کسی سے پیار کیا ہے تو ، اس کے یا اس کے فیصلے کا احترام کریں جو اس نے کیا ہے۔ اگر وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ان کے ہر کام کی جانچ پڑتال کرنے اور ان سے آپ کی توقعات کو مزید بڑھانے کے بجائے انہیں جانے دیں۔ جو آپ کنٹرول کر سکتے ہیں وہ آپ کے اپنے اعمال اور ان کے فیصلے پر ردعمل ہیں۔ لہذا، اس پر توجہ مرکوز کریں.
    7. دل کے ٹوٹنے پر کیسے قابو پایا جائے؟ ’بلیم گیم‘ سے دور رہیں
    اگر کوئی رشتہ ختم ہو گیا ہے یا چیزیں ممکنہ محبت کی دلچسپی کے ساتھ کام نہیں کرتی ہیں جس طرح آپ کو پسند ہے، آپ دونوں نے اس میں کردار ادا کیا ہوگا۔ یہ واقعی ان کی یا آپ کی غلطی نہیں ہوسکتی ہے۔ الزام تراشی سے معاملات کو بالکل بھی مدد نہیں ملے گی کیونکہ آپ دونوں یقینی طور پر غلط ہیں۔
    لہٰذا دوسرے شخص یا حالات کی خامیاں تلاش کرنے سے گریز کریں اور ہر چیز کے لیے ان پر الزام لگا کر اپنی مایوسی کے لیے ان کا استعمال کریں۔ اس کے بجائے، موجودہ صورتحال کو جیسا کہ ہے قبول کرنا شروع کریں۔ ایک بار جب آپ حقیقت کے قریب ہو جائیں گے تو آپ کے لیے درد سے خود کو دور کرنا اور اس سب سے صلح کرنا آسان ہو جائے گا۔
    8. دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے لیے ایپی سوڈ کے بعد نئے دوست بنانے کی کوشش کریں۔
    کیا ٹوٹنے کا درد کبھی دور ہو جاتا ہے؟ شاید، ایک طویل وقت کے لئے نہیں. لیکن آپ کو اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا اور آگے بڑھنا بھی ہوگا۔ درد برقرار رہ سکتا ہے لیکن آپ اس سے نمٹنے اور اپنے لیے ایک خوشگوار زندگی کو جاری رکھنے میں بہتر ہو سکتے ہیں۔ نئی شروعات کرنا ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
    لہذا، باہر جائیں، نئے لوگوں سے ملیں، دوست بنائیں اور اپنے آپ کو ان لوگوں اور چیزوں میں لگائیں جو آپ کو خوش کرتے ہیں۔ خوشی سے سنگل رہنا حقیقی ہے! اس لیے اس کا بھرپور استعمال کریں۔
    9. ایک اچھا، طویل سفر کریں۔
    اگر کسی پیارے کے کھو جانے سے آپ کو شدید متاثر ہوا ہے اور آپ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دل کے ٹوٹنے اور افسردگی سے کیسے نمٹا جائے تو اپنے لیے منظر کی تبدیلی پر غور کریں۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے ایک اچھا ساحل اور کچھ R&R ٹھیک نہیں کر سکتا! اس ایک رکاوٹ کو آپ کو اپنی زندگی کے بہترین دن گزارنے سے روکنے نہ دیں۔
    خاندان یا دوستوں کے ساتھ سفر یا چھٹی کا منصوبہ بنائیں۔ نئی اور خوشگوار یادیں تخلیق کریں جو آپ کے لیے کہانیوں کا نیا خزانہ ہوں گی، جب آپ تنہا اور اداس محسوس کریں گے۔ اپنے پیاروں کے ساتھ کچھ معیاری وقت گزاریں۔ اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے کے لیے نئی تصاویر پر کلک کریں!
    10. مدد کا ہاتھ بڑھائیں۔
    ایک بار جب آپ نے دل کی دھڑکنوں سے نمٹنا سیکھ لیا یا کم از کم اس محاذ پر کچھ پیش رفت کر لی، تو ایسے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کریں جو اسی طرح کے صدمے سے گزر رہا ہو۔ ایک رہنما بنیں اور اس مشکل مرحلے میں ان کا ہاتھ پکڑیں ​​کیونکہ وہ اسی طرح دل کے ٹوٹنے سے نمٹ رہے ہیں جس طرح آپ نے پہلے کیا تھا۔
    آپ نے زندگی میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کے ساتھ آپ یقیناً اس شخص کے ساتھ کچھ قیمتی ٹپس شیئر کر سکتے ہیں جو تکلیف میں ہے۔ وہ یقینی طور پر مدد استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ کو اپنے اندر ہونے والی تبدیلی کا احساس کرنے میں بھی مدد ملے گی اور یہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی کہ آپ کتنی دور آ چکے ہیں!

  • افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    سری نگر :افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیری رہنما افضل گورو کی برسی کے موقع پر کل یومِ سیاہ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعے کو مقبول بٹ کی برسی پر بھی ہڑتال کی جائےگی۔

    کشمیر میڈیاسروس کےمطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان کا کہناہے کہ دونوں شہید رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی اور اب کشمیریوں کی چوتھی نسل جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانےکے لیے پر عزم ہے ۔

    ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں،تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔

    حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں تہاڑ جیل سے مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    خیال رہےکہ کشمیری رہنماافضل گورو کو 9 فروری 2013 اور مقبول بٹ کو 11 فروری 1984میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، بعدازاں ان کی میتوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا تھا۔

  • قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    لاہور:قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے، پھر بات آگے بڑھے گی ورنہ اگرسابقہ حکمرانوں کی طرح کشمیرپالیسی رہی توپھرکشمیری کبھی آزاد نہیں ہوسکیں گے،کچھ کرنا ہوگا:ڈاکٹرشعیب پرویز نے سیدھی اور سچی بات کرکے پالیسی سازوں کو ایک نہایت ہی مفید مشورہ دے کر ایک گائیڈ لائن دے دی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے کشمیریوں کی تحریک آزادی پر یہ محققانہ مشورہ یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں‌ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئےدیا ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے پاکستان کے ذمہ داروں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ براہ مہربانی قومی سلامتی پالیسی کیطرح قومی کشمیرپالیسی بھی بنانی چاہیے ، ایک ٹھوس پالیسی ہوگی تو معاملات آگے بڑھیں گے

    یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرشعیب پروز کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے جس طرح کوششیں جاری ہیں اس سے تو کبھی بھی کشمیریوں کو آزادی نہیں مل سکے گی ، اس کےلیے ایک فیصلہ کن راونڈ کھیلنا پڑے گا ،ڈاکٹرشعیب پرویز نے جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ ایک وقت تھا جب جماعت الدعوۃ جیسی جماعتیں جہاد کشمیر کے لیے فنڈز اکھٹا کیا کرتی تھیں اور کشمیری مجاہدین کی مدد کو پہنچتے تھے آج اسی جماعت کو ایف اے ٹی ایف کی خواہش پرکالعدم قرارد ے کر کُھڈے لائن لگا دیا گیا ہے

     

     

     

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں‌ پر کشمیر کی آزادی کا بوجھ ہے ، پوری قوم پاک افواج کے ساتھ ہیں ،اس لیے قومی مقتدر ادارے کو کشمیرپالیسی کے حوالے سے دلیرانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے ، اسٹیبلشمنٹ کو سابقہ حکومتوں کی کوتاہوں پر قابو پاتے ہوئے اب فیصلہ کن مرحلے کی طرف آگے بڑھنا چاہے ،

    ڈاکٹر شعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی عجیب رویے اور منتشرالمزاج افراد اور جماعتیں ہیں جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کےلیے کوشاں اداروں اور افراد کے خلاف دشمن کی خواہشات کے مطابق اپنی توبوں کا رُخ کیے ہوئے ہیں جبکہ ہمارا پاکستانیوں اور کشمیریوں کا ازلی دشمن اپنی افواج کے پیچھے اس قدر مضبوط کھڑا ہے کہ پاکستان میں‌ بھارتی افواج کی ناک کٹوانے والے ابھی نندن کو پھر بھی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے ،

    ڈاکٹرشعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام بین الاقوامی ادارے بھارتی نواز ہیں، وہ نہ تو کشمیریوں کے قتل عام پر دُکھ کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی کوششوں کوخاطرمیں لاتے ہیں بلکہ حالات تو یہ ہیں کہ ہم کشمیریوں کے لیے آوازبلند کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کی طرف سے جواب ناں میں ملتا ہے ، ہم کشمیریوں‌ کے قتل عام پر دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے ہیں تو ایف اے ٹی ایف اور دیگربھارتی نوازادارے ہماری سُنتے ہی نہیں اور ہماری کوششوں‌ پر نو کمنٹس کہہ کرپانی پھیر دیتے ہیں‌

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا کہنا تھا کہ ہمیں‌ اپنی پاک افواج پر بھروسہ ہے اور ہماری دعائیں بھی ان کے ساتھ ہیں جب ساری دنیا ایک طرف ہے تو پھر کشمیریوں پرمظالم روکنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا اور پھر ہی کشمیر آزاد ہوگا اور یہ صرف پاک افواج اور کشمیری مجاہدین ہی کریں‌گے ، ان کا بار بار یہ کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کوعالمی برادری کی بھارتی نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کشمیری پالیسی پر نظرثانی کرکے کشمیری مجاہدین کی کھُل کر مدد کرنی چاہیے ، پھر حالات بھی بدلتے دیکھیں گے اور اس کی برکت سے پاکستان میں‌ دہشت گردی کو ختم ہوتا بھی دیکھیں گے

    ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم کئی سالوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایسے کب تک منائیں گے ، انہوں نے اپنی گفتگو میں سینیئر صحافی مبشرلقمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں وہ شخصیت بھی موجود ہے جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے ایک مجاہد کی طرح ہر وقت زبان اور قلم سے اپنے حصے کا جہاد کررہی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے مبشرلقمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کے لیے کوشاں نوجوانوں‌ کاتعارف بھی کروایا اور اس مسئلے کو ہرفورم پراٹھانے کا عہد بھی کیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی مبشرلقمان کی طرح کشمیریوں کی آزادی کے لیے ہر فورم پرآوازاٹھاتے رہیں گے اور ضرورت پڑی تو عملی طور بھی جدوجہد میں شامل ہوں گے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب پچھلی کوتاہیوں ناکامیوں‌ کو دھو کر نئے سرے سے کشمیرکی آزادی کےلیے فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوں

    یاد رہے کہ و ایم ٹی میں ” پاکستان کشمیر پالیسی، آبجیکٹوز اینڈ اپروچز پر سیمینار کا انعقاد “سیمینار میں وفاقی وزیر و چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، سینئر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان، ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر آصف رضا، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی چیئر مین کشمیر یوتھ ایسوسی ایشن، پروفیسر ڈاکٹر شعیب پرویز نے شرکت فرمائیں اور ایک پالیسی ساز گفتگو کی

  • ٹیکنالوجی باعث رحمت ہے یازحمت:تحریر .ارم شہزادی

    جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رہن سہن کتنا سادہ تھا، کتنا خوبصورت تھا، لوگ کیسے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ کیسے کھانا، پینا، اوڑھنا، سادہ تھا کوئی بناوٹ نہیں تھی۔کوئی جلن حسد جیسی خرافات عام نہیں تھیں۔رشتوں کا کیسے احترام تھا۔ صبح کا آغاز موبائل فون اور ٹی وی کے بجائے نماز، تلاوت قرآن سے ہوتا تھا۔ناشتہ بریڈ جام، جیسے غیر معیاری اور غیر صحت بخش غذا سے نہیں بلکہ روٹی، دیسی انڈے، مکھن، لسی، دودھ سے ہوتا تھا۔ سارا دن موبائل پر نظر جمانے کے بجائے جسمانی کھیل کود ہوتا تھا۔زمینوں پر کام کرنا پینڈو ہونا باعث شرمندگی نہیں بلکہ باعث فخر ہوتا تھا۔ بھینسیں پالنا قابل فخر تھا کتا پالنا نہیں۔ دودھ، دہی، مکھن گھر کی خوراک تھی۔سبزیاں اپنی زمینوں پر اگائی یجاتی تھیں۔سادہ بیج بغیر کھاد کے بغیر سپرے کے صاف پانی سے بڑھنے والی سبزیاں زائقے میں تو اچھی ہوتی ہی تھیں ساتھ صحت مند بھی ہوتی تھیں۔ ایک گھر اگر سبزی اگاتا تھا تو سارا گاؤں یا تو بغیر پیسوں کے یا بہت تھوڑے سے پیسوں کے عوض خرید لیتا تھا۔ ایک گھر میں اگر کوئی حادثہ ہوجاتا تھا تو سارا گاؤں اکٹھا ہوجاتا تھا۔ جیسے دیوار اینٹ سے جڑی اینٹ کی طرح ہوتی ہے بلکل ویسے جڑے ہوئے تھے۔

    جیسے حدیث مبارکہ ہے کا مفہوم ہے کہ” مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم میں کسی ایک حصہ کی تکلیف سارا بدن محسوس کرتا ہے” گاؤں گنجان آباد تھے۔ شہروں کی آبادی بہت کم تھی دیہاتوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی بہت ہی کم تھی۔ ٹی وی کی نشریات سے پہلے ریڈیو پر پروگرام پورا پورا گاؤں مل کرسنتا تھا کیونکہ ہرگھر میں ریڈیو موجود نہیں تھا۔ پھر وقت میں تھوڑی تبدیلی ہوئی اور ریڈیو کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر اور ٹی وی کی آمد نے جہاں شہروں کی زندگی میں تبدیلی رونما کی وہاں دیہات میں بھی یہ چیز عام ہونے لگی۔ لوگوں کا ویژن بدلا تو جو علاج دیسی جڑی بوٹیوں-سے ہوتا تھا وہ شہروں سے جا کر کروانا شروع کیا۔ دیہاتوں میں ڈسپنسری تو نا تھی لیکن بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافعت ضرور تھی۔ سکول کالج بھی دیہاتوں میں نا تھے لیکن مدارس تھے قران کی تعلیم ہر بچے کے پاس تھی۔ وقت کی تبدیلی نے دیہاتوں میں رہنے والوں کو سوچنے پر مجبور کیا اور وہ بچے پڑھانے کے لیے شہروں کا رخ کرنے لگے کسی حد تک تو یہ درست تھی اور تعلیم ہر بچے کا حق تھا لیکن بدقسمتی سے اس ایک حق نے باقی بہت سے حقوق چھین لیے۔ اگر کوشش، کر کے تمام سہولیات دیہاتوں میں لی جاتیں تو آج دیہات ویران اور شہر گنجان آباد نا ہوتے۔ آبادی کا تناسب قائم رہتا، لمبی چوڑی گھریلو بلڈنگز نا بنتیں تو شہروں کے صفائی کے معاملات اتنے خراب نا ہوتے جتنے ہیں۔ ریڈیو ٹی وی کو ترقی جاننے والی قوم جب لیب ٹاپ اور سمارٹ فونز تک پہنچی تو بلکل ہی بدل چکی تھی یہ نسل ترقی کا یہ سفر انکی پہنچ میں سائنس تو لے آیا لیکن خالق سے دور کردیا۔رزق کے پیچھے دوڑتے دوڑتے صحت تو گنوا بیٹھے لیکن زمینیں بنجر کررہے ہیں۔ رشتے داریاں اب وٹس ایپ سٹیٹس تک رہ گیئں ہیں رشتے نام کے رہ گئے۔باپ کی بہن پھپھو گھر کی رانی سے ڈاکو رانی بنا دی گئی۔ اماں مم بن گئی ابا جی ڈیڈ بن گیا۔ فیشن کے نام پے کپڑے پہلے چھوٹے ہوئے اب پھٹنے لگ گئے۔ سردیوں کی شامیں جو سارا خاندان ایکساتھ مناتا تھا اب الگ الگ کمروں میں بظاہر تنہا گزار دیتا ہے۔ بہت ساری چیزوں کو خود پر حاوی کرکے مہنگائی کا ازھاد اپنے گلے ڈالا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو سمارٹ فونز لے کر دیے ہیں اور انہیں انکی اصل سے الگ کردیا ہے۔

    ترقی یہ نہیں ہوتی کہ آپ اپنا اصل بھول جائیں غیر کا کلچر اپنائیں بلکہ ترقی یہ ہوتی ہے کہ اپنے اصل کو پروموٹ کریں انہیں اگے بڑھائیں۔ دنیا کے اگے لگ جانے کے بجائے اپنی چیزوں کو اگے لائیں۔اپنے دیہات، کھلیان سجائیں، آپنی زمینوں پر نئے نئے تجربات کریں فصلیں اگائیں کسی دفتر میں چند ہزار کی ملازمت سے بہتر اپنے باغات اگائیں ملازم بننے کے بجائے ملازم رکھیں۔ صحت مند سبزیاں اگائیں۔ صحت بخش فروٹس اگائیں۔ دیہاتوں میں صحت کی سہولیات پہنچائیں، سکول کالج بنائیں، اچھےاچھے رروڈز اور سڑکیں بنائیں۔ دیہات آباد کریں۔زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی نئی فصلیں اگائیں۔ موجودہ فصلوں کی مقدار بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ تاکہ آبادی کی آباد کاری اور ضروریات کو متناسب کیا جاسکے۔ شہروں پر بڑھتے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ رشتوں میں خود غرضی جو گھل چکی ہے اسے کم کیا جاسکے۔ دلوں کو شہری گھروں اور سڑکوں کی طرح تنگ بنانے کی بجائے دیہاتوں اور کھلیانوں کی طرح کھلا اور کشادہ کریں۔ ٹیکنالوجی کو رحمت بنائیں زحمت نہیں۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • پی ٹی آئی ایک اور باری لے پائے گی؟ تحریر: نوید شیخ

    پی ٹی آئی ایک اور باری لے پائے گی؟ تحریر: نوید شیخ

    جہاں یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی مزید ایک اور باری لے گی ۔ تو فی الحال مجھے یہ پانچ سال بھی پورے کرتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ جس تیزی حالات تو ایک طرف اپوزیشن کے آپسی اختلافات ختم ہورہے ہیں ۔ میں خود حیران ہوگیا ہوں کہ یک دم پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی ملاقات میں بغیر کسی شرائط کے اصولی طور پر طے کر لیتے ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے ۔ اور اکیلے اکیلے نہیں بلکہ کے مل کر یہ کام کرنا ہے ۔ یہ بات زیادہ اہم ہے ۔ پھر اسی دن شہباز شریف نواز شریف سے تمام پلان شیئر بھی کر لیتے ہیں اس کے بعد نواز شریف بھی بغیر کسی حیل وحجت کے
    go aheadکہہ دیتے ہیں ۔ تومولانا سے بھی بات ہوجاتی ہے ۔ ان کو بھی onboard کر لیا جاتا ہے ۔ پھر ایمرجنسی پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کی تیاری بھی ہوجاتی ہے۔ ویسے اتنی تیزی سے چیزیں تو تب بدلتی ہیں جب کسی فلم کا climax
    قریب آرہا ہو ۔

    ۔ آخری بارجومجھے یاد ہے ایسا تب ہوا تھا جب مشرف کو صدر کے عہدے سے ہٹانا تھا یا پھر جب اٹھارویں ترمیم آنی تھی تب یہ تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئی تھیں ۔ میرے خیال سے ایک بار پھر اسٹیج تیار ہوچکا ہے ۔ اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے ۔ جس کے بعد حکومت ہر حال بھی گھر ہی جائے گی ۔۔ بس وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ کہ puzzle solve کرنے کا ایک آخری ٹکڑا رہ گیا ہے جس دن اس کا پتہ چل گیا کہ وہ کہاں ہے ۔ تمام سوالوں کے جواب کنفرم ہوجائیں گے ۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں جہانگیر ترین کی ۔ اب سب کچھ تو ہوچکا ہے ۔ بس ان کے جہاز کی لینڈنگ دیکھنی ہے کہ وہ کہاں جا کر رکتا ہے ۔ لاہور ، کراچی ، پشاور یا پھر ملتان میں ہی پارک رہے گا ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی اس وقت مزید حکومت کرنے کا اخلاقی سمیت تمام سیاسی جواز بھی کھو بیٹھی ہے ۔ کیونکہ اب عوامی مطالبہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ حکومت جائے گی کب ۔۔۔۔ یہ ہی سوال احتساب عدالت کے باہر شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت گھر چلی جائے گی جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کو بہتر پتہ ہے ، لیکن ہماری پوری کوشش ہو گی ۔۔ تومولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بلاول، زرداری سے ملاقات پر مجھے اعتماد میں لے لیا ہے ۔ ہم جلد عوام کو اس ناجائر حکومت سے چھٹکارا دلوائیں گے۔ ۔ انکے بعد بلاول بھٹو نے تو پوری کہانی ہی بیان کردی ہے کہ پلان ہے کیا ۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ، اب اسمبلی میں بھی ہوگا۔ عمران خان کے گھبرانے اور جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔۔ اس حوالے سے حمزہ شہباز نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ حکومت ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر جنگ لڑی جائے گی ۔

    یعنی اپوزیشن ان ہاوس تبدیلی کی تیاریوں میں ہے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اب تو اسمبلی کے اندر سوائے یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر بننے کے علاوہ اپوزیشن کو ہمیشہ سبکی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اور اگر یہ عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لانی کی تیاری ہے تو اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے ہوتے ہوئے مجھے یہ کامیاب ہوتی دیکھائی نہیں دیتی ۔ اس کے لیے مجھے لگتا ہے کہ اپوزیشن کو پہلے اسد قیصر کو ہٹانا پڑے گا ۔ پھر اگلا وار عمران خان پر کرنا ہو گا ۔ ۔ اب اگر نمبر گیم کو دیکھا جائے تو اپوزیشن کو خود اکٹھے ہونے اور عمران خان کے کسی بھی ایک اتحادی کو توڑنے کی ضرورت ہے ۔ on paperیہ بہت آسان لگتا ہے مگر یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔ سب سے پہلے تو یہ make sure
    کرنا کہ اپوزیشن کی اپنی گنتی پوری ہو ۔ کیونکہ کوئی بیمار بھی ہوسکتا ہے ۔ کوئی ملک سے باہر ہوسکتا ہے ۔ پھر کوئی خوشی غمی ہوسکتی ہے ۔ اس کے بعد حکومت کا جو دعوی ہے کہ اپوزیشن کے پندرہ سے بیس لوگ عمران خان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا ۔ اب اگر پہلے اپوزیشن اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لے تو دوسرا اہم مرحلہ کسی اتحادی کو توڑنا یا پھر پی ٹی آئی کے اندر نقب لگانے کا ہے ۔ اس میں اپوزیشن اگر خالی ق لیگ یا پھر ایم کیو ایم کو ہی حکومت سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوگی تو سمجھو کام بن گیا ۔ مگریہاں ٹھہریں زرا ۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ نہ ہی ق لیگ اور نہ ہی ایم کیوایم حکومت سے اس وقت تک علیحدہ ہوں گی جب تک اس گھر سے حکم نہ آجائے جو ان کا قبلہ ہے ۔

    پھر یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی اپوزیشن سے رابطے میں ہیں۔ یہ بات بذاتِ خود اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اندرونِ خانہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ بیس ارکانِ اسمبلی سے رابطوں کا دعویٰ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب تازہ تازہ اپوزیشن کو سینیٹ میں شکست ہوئی ہے، جہاں اُس کی اکثریت ہے۔ تو کیا جن ہاتھوں نے سینیٹ میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا وہ دوسری سمت کو چلے گئے ہیں۔ کیا انہوں نے یقین دلایا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے وہ اسے کامیاب کرا دیں گے۔۔ میرے خیال سے اس یقین دہانی کے بغیر اپوزیشن کبھی بھی اسپیکر یا وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائے گی،کیونکہ حکومتی بنچوں کے ووٹ ملنا تو دور اپوزیشن کے اپنے ارکان عین موقع پر غائب ہو جاتے ہیں۔ ۔ یوں بات ایک بار پھر گھوم کر اسٹیبلشمنٹ پر آکر رک جاتی ہے کہ وہ اگر چاہتی ہے حکومت گھر جائے تو صبح حکومت گھر چلی جائے گی اور اگر وہ چاہتی ہے کہ حکومت پانچ سال پورے کرے یا پھر اگلے پانچ سال بھی پی ٹی آئی ہی عوام پر مسلط رہے تو یہ کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں ہے ۔ ۔ مگر اس بار بہت سے لوگوں کو امید ہوچلی ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتیں بغیر کسی شرط اکٹھی ہو رہی ہیں ۔ یہ اشارہ ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔ ۔ پھر جو جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی کا تُک ہی نہیں بنتا، چور اور قاتل سزا کاٹنے کے بعد الیکشن لڑسکتے ہیں اور تاحیات نااہل بھی نہیں ہوتے۔ اسکے بعد انھوں نے کہا کہ بحران انتہا پر پہنچ جاتا ہے،تب حکومت حرکت میں آتی ہے۔ ۔ میرےخیال سے ان کی باتوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے آئیڈیل حالات ہیں ۔ ۔ کیونکہ حکومت کے پاس عوام حمایت ختم ہوچکی ہے ۔ ۔ اپوزیشن اکٹھی ہوچکی ہے ۔ ۔ پھر حکومت کے اپنے لوگوں سمیت اتحادی بھی ناراض ہیں ۔ ۔ پھر حالیہ دِنوں میں کچھ ایسے پے در پے واقعات ہوئے ہیں، جن سے لگتا ہے کہ اب کچھ ہوگا ضرور۔

    مگر یاد رکھیں عمران خان کو ہٹانے کے لئے کوئی غیبی طاقت نہیں آئے گی، جو تبدیلی بھی آنی ہے، وہ آئینی طریقے ہی سے آسکتی ہے۔ ۔ مگر اس حوالے سے حکومت کےجتنے لوگوں سے میری بات ہوئی ہے انکا ماننا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن صرف سیاسی طور پر خود کو زندہ رکھنے کے لئے یہ سب جتن کر رہی ہیں۔ کیونکہ اب حکومت کی مدت اتنی کم رہ گئی ہے کہ اسے گھر بھیج کر شہید بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ معاشی شعبے میں حکومت کی کارکردگی اتنی بری رہی ہے کہ عام انتخابات میں اُس کا جیتنا اپوزیشن کے نزدیک کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو نکال کے مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کا وزیراعظم لانے سے حکومت کی تمام ناکامیاں اُس کے حصے میں آ جائیں گی۔ اور تحریک انصاف ایک نئے عزم اور دعوؤں کے ساتھ انتخابات میں جائے گی اور کوئی شک نہیں عمران خان واقعی اپوزیشن کے لئے خطرناک ثابت ہوں۔ ۔ مگر جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ایسی کوئی بات سمجھانا ممکن نہیں۔ وہ پہلے دن سے حکومت کو غیر آئینی اور مسلط کردہ کہہ کر اُسے نکالنے کے در پے ہیں۔ وہ اس کے لئے ایک لانگ مارچ بھی کر چکے ہیں، جس کے اختتام پرانہوں نے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا،وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ دھرنا ختم کرانے کے لئے اُن سے حکومت ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جسے پورا نہیں کیا گیا۔ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں، البتہ یہ چاہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے دیں اور لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو نکال باہر کیا جائے۔ یہ سب کچھ وہ بہت آسان سمجھتے ہیں،حالانکہ حالات ایسے نہیں کہ اب کسی کو دھرنا دے کر حکومت سے نکالا جا سکے۔ دوسری طرف استعفوں کے آپشن پر اپوزیشن کا متفق ہونا ممکن نہیں ۔ ۔ یوں حکومتی وزیروں کا ماننا ہے کہ اس بار بھی اپوزیشن کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچے گی اور امکان یہی ہے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی حالیہ پیار کی پینگیں سوائے ایک دوسرے کے خلاف لفظی سیز فائر کے کوئی بڑا بریک تھرو ثابت نہیں ہونگی۔۔ مگر سچ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے ۔ حکومت کیا سمجھتی ہے ۔ یا اپوزیشن کی خواہش کیا ہے ۔ اس سب سے زیادہ اہم چیز ہے کہ عوام کیا سوچتی ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت عوامی رائے یہ ہے کہ حکومت نے جھوٹ بولنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف کی بیڑیاں ، کرپشن ، لاقانونیت ، دہشتگردی ان کے سرکا تاج ہے ۔ اسی لیے آج صورتحال یہ ہے کہ کپتان کا نام سن کر عوام صرف بدعائیں نہیں وہ وہ کہہ رہے ہیں جو میں یہاں بیان نہیں کر سکتا ۔ ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اب کپتان کو ہرصورت جانا ہی ہوگا ۔

  • طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ
    معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات نے لکھنے پے مجبور کیا.
    پاکستان میں طلاق کی شرح بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ طلاق کے لیے آنے والے زیادہ تر کیس میں معاملات خراب ہونے کی وجہ جوڑوں کے سسرال والے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے جوڑے جو جوائنٹ فیملی/ مشترکہ خاندانوں میں رہتے ہیں رازداری کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ خاندان کے افراد سے کچھ فاصلہ برقرار نہ رکھنے یا اس کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے باعث، گھریلو تشدد لڑائی جھگڑے کے بہت سے واقعات اور پارٹنر پر تشدد کے واقعات کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔اسی طرح پولیس رپورٹس کے مطابق صرف 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کراچی میں طلاق کے تین ہزار آٹھ سو مقدمات درج ہوئے۔ ابھی حال ہی میں، جنوری سے نومبر 2021 کے درمیان، راولپنڈی کی ضلعی عدلیہ نے طلاق، خلع، سرپرستی اور نفقہ سے متعلق دس ہزار تین سو بارہ کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ اسی ضلع میں فیملی کورٹس میں مزید تیرا ہزار کیس فیصلے کے منتظر پائے گئے۔ طلاق کے لیے گئے ایک ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں طلاق کے کیسز خاص طور پر بڑھ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ طلاق کے زیادہ واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نام نہاد ‘خاندانی عزت’ کے دباؤ میں جبری شادیاں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں،
    اگر ایک ماہ میں تیرا ہزار طلاق کے لیے رابطہ کر رہے ہیں تو سوچیں وہ کیس جو رپورٹ نہں ہوتے انکو ملا کر یہ گنتی کہاں جائے گی.
    آئیں اب ذرا نظر ڈالتے ہیں طلاق سے ہونے والے نقصانات پر
    طلاق لینا بہت ہی آسان ہوگیا ہے ایک بار جب آپ نے سوچ لیا ہے اور اپنی زندگی میں اس فیصلہ پر قدم اٹھانے تیار ہیں تو پھر بھی ایک بار آپ اپنا خود سے محاسبہ کر لیں اور ایک بار خود سے کریں اور کچھ اچھے دوستوں سے بھی مشورہ ضرور کریں اس کام کو انجام دینے سے پہلے.
    شادی دو لوگوں کا نہں دو خاندانوں کا میل ہے اور شادی کے اگر آپ کے بچے بھی ہیں تو آپکے اس طلاق کے فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان آپکے خاندان میں آپ کے بچوں کو ہوگا کیوں کے جب آپ الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو بچوں کے لیے ی سب سے زیادہ مشکل فیصلہ ہے کے ماں باپ کی الگ ہونے کے بعد وہ کس کے ساتھ رہیں کیوں ان کے لیے دونوں رشتوں کی اہمیت برابر ہی ہے ماں ہو یا باپ بچہ دونوں کو توجہ چاہتا ہے اور اس کی پرورش اور تربیت میں دونوں کا ہے ایک اہم کردار ہے تو اگر آپ اپنی اولاد کو اس معاشرے میں ایک ایک اچھا فرد بنانا چاہتی ہیں یا چاہتے ہیں تو آپ کا الگ ہونے کا فیصلہ یا طلاق کا فیصلہ آپ کے بچے کے کردار کو معاشرے میں خراب کر سکتا ہے کیوں کے جب ماں باپ الگ ہوجائیں تو الگ گھروں میں رہنے کی وجہ سے بچے کبھی ماں کے پاس اور کبھی باپ کے پاس ہوتے ہیں اور ماں باپ دونوں اپنی زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے ان پر صحیح طرح سے توجہ نہں دے پاتے ہیں.اس طرح آپ کا اپنے بچوں کو معاشرے کے لیے بہتر بنانے اور انکا مستقبلِ بہتر بنانے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے یہ تھی سب سے اہم بات اس بعد اگر آپ خود اپنی زندگی میں اس فیصلے کو لیے جانے کی وجہ سے آنے والی تبدیلی کے بعد دیکھیں تو یہ بھی ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے چاہے آپ دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں یہ بھلے اکیلے زندگی گزارتے ہیں دونوں صورتوں میں ایک بار پھر نئی زندگی کو شروع کرنے کی مشکلات سے گزرنا ہوگا تو اس بات کو سوچتے ہوئے آپ دوبارہ اپنے فیصلے پے نظر ڈالیں کے جب اس طلاق جیسے فیصلے کے بعد بھی آپ کو دوبارہ زندگی میں جدوجھد کرنا ہے تو کیوں نہ اسی رشتے پر توجہ دے کر ایک بار دوبارہ حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور اپنے رشتے کو سہی طرح چلانے کی کوشش کی جائے اس طرح آپ زندگی کچھ بہتر طریقے سے گزر جائے گا نا صرف آپکی بلکے آپ کے ساتھ جُڑے رشتوں کو خصوصاََ آپ کے بچوں کی زندگی جو کے والدین کا اولین مقصد ہوتا ہے اپنے بچوں کا مستقبلِ بہتر بنانا.

    طلاق لینا ہی مسئلے کا حل نہں اگر ہم سوچیں اور اپنے اِرد گرد کے اس طلاق جیسے فیصلے سے ہونے والے نقصانات پے نظر ڈالیں تو یقناً آپ بھی کسی صورت یہ قدم نہں اٹھانا چاہئیں گے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے رشتوں کا ختم کرنا ضروری نہں ان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • 24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    الحمراء کے 24واں سات روز تھیٹر فیسٹیول ٗڈرامہ کی روایت کو تقویت ملی ہے۔
    تھیٹر فیسٹیول ٗوزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کلچر دوست پالیسیوں کا عکا س تھا۔ سربراہ الحمراء
    محکمہ اطلاعات وثقافت کی مکمل سرپرستی میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو ٗ سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور کی خصوصی توجہ حوصلہ کا باعث ہے۔ذوالفقار علی زلفی
    الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے۔عالمی شہرہ آفاق آرٹسٹ قوی خان
    الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان
    پاکستان میں آرٹ کا روح رواں الحمراء ہے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی
    24ویں سات روزالحمراء تھیٹر فیسٹیول کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ذوالفقار علی زلفی
    دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔
    فیسٹیول میں ٗجنون،داستان حضرت انسان، میڈاعشق وی تو، ہور دا ہور،سانوری،لپڑا۔مریا ہوا کتا،دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کئے گئے،درجنو ں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔
    فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

    الحمراء ایک آرٹ لونگ کمپلیکس ہے۔آپ جب بھی الحمراء آئیں جہاں آپ کو عوام اور آرٹ ”گیٹ ٹو گیڈر “(GETTOGETHER)نظر آئیں گے۔نئے سال کی آمد پر یہاں ادبی وثقافتی سرگرمیاں روز پڑگئیں۔فروری کا مہینہ تھیٹر کی روایت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوا۔جب لاہور آرٹس کونسل نے 24واں سات روز الحمراء تھیٹر فیسٹیول سجایا۔اس فیسٹیول کو ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے دیکھا بلکہ الحمراء کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے باعث تو یہ تعدار لاکھوں میں پہنچ گئی۔پاکستان بھر کے میڈیا نے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے الحمراء کا بھرپور ساتھ نبھایا۔شام 6بجتے ہی لوگ الحمراء ہال نمبر دو کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔کوویڈ نے انسانی معاشرہ کو تھوڈا زیادہ ہی DISCIPLINED بنا دیا ہے۔داخلی دروازے پر لوگ قطار در قطار کھڑے اپنا کوویڈ ویکیسی نیشن کارڈ دیکھاتے،اور ایک سیٹ چھوڑ کر اپنی اپنی جگہوں پر اطمینا ن سے بیٹھ جاتے۔
    الحمراء کے اس فیسٹیول سے تھیٹر کی روایت پھر توانائی پکڑ گئی ہے، اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اس فیسٹیول کو سجانے کے پس پردہ محنت اور لگن کاایک طویل عمل پنہاں ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقارعلی زلفی نے اپنا تجرنہ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔اسے تھیٹر گروپس کو اس فیسٹیول میں شامل کیا گیا جن کے پاس بامعنی کہانیاں اور با صلاحیت ادارکار تھے۔اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں دُنیا کے نامور اداکار قوی خان مہمان خصوصی تھے۔انھوں نے اپنے خیالات کو اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے، انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان کے یہ جملے الحمراء انتظامیہ کے لئے حوصلہ کا باعث ہیں۔ الحمراء کے تمام پروگرامز کوحکومت پنجاب کا مکمل تعاو ن حاصل ہوتا ہے،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ثقافت دوست پالیسوں کی بدولت صوبہ پنجاب کی اقدار کو احسن انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو،سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور کی خصوصی دل چسپی الحمراء کی انتظامیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔وگ الحمراء آنا کیوں پسند کرتے ہیں۔جس جگہ پر انسان کو عزت دی جائے انسان وہی پر ہی تو جانا پسند کرتا ہے۔ سو الحمراء لوگوں کو بہت عزت دیتا ہے، انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے،یہاں ان کے ساتھ عزت و احترام پیش آیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کے فیسٹیول کے ساتوں روز الحمراء کا ہال نمبر دو لوگوں سے بھرا رہا۔گزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی تو اپنی ہر گفتگو میں برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمراء آپ سب کا ہے،جس کسی کے پاس بھی ٹیلنٹ ہے وہ آئے اور اس عظیم پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔بلاشبہ مواقعے فراہم کرنے میں الحمراء کا کردار قابل تقلیدہے۔مستنداور معتبر آرٹسٹ کا اپنی نظر سے آرٹسٹوں کا کام دیکھانا اور اسے پسند کرنا حقیقت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔الحمراء کے 24ویں سات روز تھیٹر فیسٹیول کو پاکستان کے آرٹسٹوں نے خود آکر دیکھا اور الحمراء کے پلیٹ فارم کی تعریف کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز عکس تھیٹر نے اپنا ڈرامہ جنون پیش کیا،ڈرامہ افضال نبی نے تحریر کیا جس میں کوویڈ کا شکار بیوی سے شوہر کی لازوال محبت کو شائقین فن کے سامنے پیش کیا گیا۔ڈرامہ میں افضال نبی،سفیرہ راجپوت،ظہیر تاج،محمد اعظم،ندا منیر،کرن منیز،رائے علی،رضا اور محمد نظام نے اپنا کردار نبھایا۔ڈرامہ کی حاض بات افضال نبی کا شوہر کا رول تھا جس میں انھوں نے اپنی اداکاری سے ہال میں بیٹھے سینکڑوں حاضرین کو اپنے سحر میں باندھے رکھا۔فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔فیسٹیول کے دوسرے روز غیور تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”داستان حضرت انسان“ پیش کیا۔ڈرامے کے نہایت شاندار تھے،ڈرامہ میں اپنی احسن روایات سے دور ہوتے انسان کو دیکھایا گیا،لالچ،فریب،جھوٹی شان و شوکت کے لئے تگ ودو کرنے کی دوڑ میں انسان کو اپنے رنگ روپ چھوڑ کر انسانیت سے گرتے دیکھایا گیا۔جودیکھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی تھی اور توجہ طلب تھی۔ ڈرامہ ہلکے پھلکے کامیڈی کے انداز میں سماجی رویوں کا عکاس تھا، اداکاروں کے زبردست اداکاری متاثر کن تھی۔ڈرامہ کو عارف متین نے تحریر کیا جبکہ حمزہ غیور اختر کی ہدایات تھیں۔نوجوان آرٹسٹوں مرزا عمیراور حمزہ غیور ڈرامہ کے اداکار تھے۔ذوالفقارعلی زلفی نے اپنے پیغام میں کہاکہ فیسٹیو ل دیکھنے والے معاشرتی بہتری میں اپنا فعال کردار ادا کریں،تھیٹر کی روایت الحمراء کی کاوشوں کی بدولت زندہ ہے،فیسٹیول دیکھنے والوں کو تادیر یاد رہے گا۔اس فیسٹیول کے بعد الحمراء نے یہ بات ثابت کی دی ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ڈرامہ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، اچھی کہانی لکھنے والے بھی موجو د ہیں اور اس کہانی پر پرفارم کرنے کا ہنر جاننے والے بھی۔لاہور آرٹس کونسل الحمراء نہ صرف ڈرامہ بلکہ فنون لطیفہ کی تمام اصنا ف میں پینری فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔آج ہمیں جو ہر سو فن و ثقافت کے شعبے میں ترو تازگی نظر آتی ہے اس میں کسی نہ کسی صورت الحمراء کا رول ضرور ہے۔ الحمراء تھیٹر فیسٹیول کے تیسرے روز سلامت پروڈکشن کا پنجابی ڈرامہ ”ہور دا ہور“ پیش کیا گیا۔یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کے ریڈیائی ڈرامہ ”تلون“ سے ماخوذ تھا۔جسے تنویر حسن نے تحریر کیا۔ڈرامہ کی کہانی تین رومانیوں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دیکھنے والا ڈرامہ کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا یہی ڈرامہ کا اصل ہوتا ہے۔مزیدکہا جائے تو یہ ڈرامہ عشق کی راہ و رسم اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیوں سے عبارت تھا،کہانی دل چسپ مراحل سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ڈرامہ دیکھنے والے ہر داد ٗ دینے والے سین پر بڑھ چڑ ھ کر داد دیتے رہے۔کہانی میں انسانی جذبات نمایاں تھے۔نامور آرٹسٹوں ذیشان حیدر،عثمان چوہدری،شیزاخان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تھیٹر فیسٹیول میں توجہ بڑھ رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈرامے کہانی میں معتبر،زبان وبیاں میں معیاری اور عمدہ اسلوب کے حامل تھے۔فیسٹیول دیکھنے والے شائقین بہت باذوق تھے جب بھی کسی بھی ڈرامہ کا کلائمکس آتا،شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر داد دیتے رہے جس سے اداکاروں کو حوصلہ ملتا۔یہ فیسٹیول زبان و ادب کی خدمات میں بھی اہم پیش رفت تھا،آج کی نوجوان نسل کو اپنی زبان سے قربت پیدا کا ذریعہ بھی۔ فیسٹیول کے چوتھے روز کریٹو پروڈکشن نے عظیم صوفی شاعر خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی تو“ پرمبنی اپنا ڈرامہ پیش کیا۔ڈرامہ رفقہ کاشف نے تحریر کیا تھا۔جبکہ زوہیب حیدر نے ڈائریکٹر کیا۔شاندار کہانی اور اداکاری کے سبب ڈرامہ دیکھنے والوں کو مدتوں یاد رہے گا۔نامور آرٹسٹوں اقرا پریت،عثمان ریحان،عمر قریشی،انیق احمد،بلال احمد، اویس، ڈاکٹر تبسم،علی حید ر،عمران ارمانی،عابد علی نے ڈرامہ کے کردار تھے۔

    ہر ڈرامہ تھیٹر فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کا باعث تھا۔اس حوالے سے تمام تھیٹر گروپس بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔الحمراء آرٹس کونسل ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا موقع باربار فراہم کرتا رہے گا۔الحمرا کے پروگرامز کی کامیابی یہاں کی تجربہ کار ٹیم کے سر جاتی ہے۔فیسٹیول کے پانچویں روز نورتن کا ڈرامہ سانور ی پیش کیا گیا۔ٹھنڈے پانیوں کے دیس کے سب ٹائٹل کے ساتھ ڈرامہ سانوری کے لکھاری اور ڈائریکٹر شاہد پاشا تھے۔نامور آرٹسٹوں سہیل طارق،سمیرا سہیل،فرح فاروقی،جاوید حسین،منصور بھٹی،شاہ رلعلی،ارسلان لوہار،راؤ محسن کریم،عدیل جاوید،ماروی،عمران ساحل اور نشا ملک ڈرامے کے اہم کردار تھے۔کہانی میں چولستان کے لوگوں کو مختلف مسائل کا دلیری سے مقابلہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز اجوکاء تھیٹر نے اپنا ڈرامہ لپڑا۔مریا ہوا کتا پیش کیا۔جبکہ فیسٹیول کے آخری روز آزادتھیٹر نے اپنا ڈرامہ دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی اختتامی تقریر میں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکار کو سراہا اور کہا کہ ہمارا نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے،الحمرا ء انکے ٹیلنٹ کو جلا بخش رہا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ تھیٹر کی روایت کو تقویت دینا ہماری ذمہ داری تھی جو پوری کی،پورے تھیٹر فیسٹیول میں سماجی مسائل اور انکے معاشرتی حل کو موضو ع بنایا گیا جو خدمت کے درجے میں آتا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ میں دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔فیسٹیول کو الحمراء سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔یہ الحمراء انتظامیہ کا اثاثہ ہے۔الحمراء جلد تازہ جذبوں کے ساتھ مزید پروگرام پیش کرئے گا۔