Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر

    آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر

    لاہور:آذان کی آوازاتنی مسحورکن کہ میں اپنے جزبات بیان نہیں کرسکتا:آسٹریلوی کپتان کےبعد باولربھی متاثر ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں تاریخی سیریز کے لئے موجود آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کے بعد فاسٹ باؤلر جوش ہیزل ووڈ نے بھی راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے دوران اذان کی آواز کو سب سے بہترین لمحہ قرار دے دیا۔

    راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے بغیر نتیجہ ختم ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کینگروز فاسٹ باؤلر نے لکھا کہ پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی شائقین بہت پرجوش دکھائی دیئے اور وہ کھیل سے محظوظ ہوئے۔

     

    https://twitter.com/JoshHazIewood38/status/1501307181840412677?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1501307181840412677%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FCricket%2F644651

     

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا ٹیسٹ میچ کے دوران ٹیم میں ہم سب کے لئے نماز کے لئے پکارا جانا (اذان) کی آواز بہترین لمحہ تھا اور اذان کی یہ آواز انتہائی پرسکون محسوس کرانے والی تھی، ہم نے اسے سے قبل ایسی حیرت انگیز اور پیار بھری آواز نہیں سنی تھی۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے کہا تھا کہ میرے لیے وہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا جب ہم پریکٹس سیشن میں مصروف تھے اور راولپنڈی سے بلند ہونے والی اذان کی آواز گراؤنڈ میں گونج رہی تھی جب کہ پس منظر میں پہاڑ تھے۔

    آسٹریلین ویب سائٹ کے لیے تحریر کیے گئے اپنے بلاگ میں پیٹ کمنز نے ’دورے کو غیرمعمولی‘ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی اور دیگر کھلاڑیوں کی ’زندگیوں اور کیریئر کا خاص لمحہ‘ قرار دیا تھا۔

  • آسٹریلیا اور پاکستان کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری، تحریر: زین العابدین شاہ

    آسٹریلیا اور پاکستان کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری، تحریر: زین العابدین شاہ

    ڈیجیٹل باونڈریاں، رنگ برنگی کرسیاں ، سو فیصد شائقین ۔
    کرکٹ آسٹریلیا 24 سال بعد راولپنڈی ٹیسٹ سے تاریخی سیریز کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

    ایک طرف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کے نمبر ون بیٹسمین بابر اعظم ٹیسٹ کے نمبر ون بالر پیٹ کمنز کا سامنا کریں گے تو دوسری جانب ٹیسٹ کے نمبر ون بلے باز مارنوس لبوشین کرکٹر آف دی ایئر "شاہین شاہ آفریدی” کے مدمقابل کھڑے ہوں گے۔
    کرونا کے باعث حارث رؤف پہلے میچ میں شرکت نہیں کر پائیں گے ان کی جگہ اسی سٹیڈیم میں دنیا کے کم عمر ترین ٹیسٹ ہیٹرک کرنے والے نسیم شاہ جلوہ گر ہوں گے جبکہ وکٹوں کے پیچھے ٹی ٹونٹی کرکٹر آف دی ایئر محمد رضوان کھڑے ملیں گے۔

    ماضی میں ایک نظر دیکھیں تو پاکستان اور آسٹریلیا کے ایک دوسرے کیلئے کبھی بھی آسان حریف ثابت نہیں ہوئے۔
    آسٹریلیا نے بہت سے اہم مواقعوں پر پاکستان کو شکست دی 1999 ورلڈکپ فائنل میں پاکستان کو بدترین شکست ہوئی اور 2010 ورلڈکپ سیمی فائنل میں جب پاکستان جیت کے انتہائی قریب تھا تو سعید اجمل کی پٹائی کر کے مائیک ہسی نے پاکستانی شائقین کی ہنسی رنج میں بدل دی۔ 2021 ورلڈکپ سیمی فائنل میں جب پاکستان پیچھلے بدلے لینے کے قریب تھا کے حسن علی نے کیچ چھوڑا اور پاکستان نے میچ۔لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو 1999 کے ورلڈکپ سے 2011 ورلڈکپ تک مسلسل 34 میچوں میں ناقابلِ شکست رہنے والی آسٹریلیا کو آخری دفعہ 1999 ورلڈکپ میں پاکستانی شاہینوں نے شکست دی تھی جبکہ 2011 میں 34 میچوں کے بعد پاکستان نے ہی شکست دے کر یہ سٹریک توڑی۔ اگر پاکستان اور آسٹریلیا کی باہمی کرکٹنگ ہسٹری کو دیکھا جائے تو پاکستان اور آسٹریلیا پہلی دفعہ 1956 میں نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں مدمقابل آئے اور پاکستان نے وہ میچ 9 وکٹوں سے باآسانی جیت لیا۔

    یہاں پے آپ کو ایک انٹرسٹنگ بات بتاتے ہیں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوسرا میچ 1959 میں ڈھاکا میں کھیلا گیا لیکن ڈھاکا تب پاکستان کا حصہ تھا اور اسٹیڈیم میں پاکستان ذندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین آج تک 66 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے کینگروز نے 33 اور شاہینوں نے 15 میچز جیتے جبکہ 18 مقابلے برابر قرار پائے۔

    104 ایک روزہ مقابلوں ہوئے 68 میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی جبکہ 32 مقابلوں میں پاکستانی سرخرو ہوئے 4 مقابلے بلا نتیجہ ختم ہوئے۔ 24 ٹی ٹونٹی میں 13 کامیابیوں کے ساتھ شاہینوں کا پلڑا بھاری رہا جبکہ 10 مقابلوں میں شکست اور برابر رہا۔ کرکٹ آسٹریلیا اور پاکستان نے دو لیگ سپنرز "ریچی بینو” اور "عبدالقادر” کی یاد میں اس ٹرافی کا نام ‘بینو قادر ٹرافی” رکھا ہے۔ اور انٹرسٹنگلی پاکستانی پلینگ سکواڈ میں اس دفعہ کوئی لیگ سپنر نہیں کیونکہ "یاسر شاہ” ریزروز میں ہیں جبکہ آسٹریلین سکواڈ میں موجود لیگ سپنر ” میچل سویپسن "ابھی تک ٹیسٹ ڈیبیو کے منتظر ہیں۔ کرکٹ ایکسپرٹس کے مطابق اس سیریز میں فاسٹ باؤلرز کا رول زیادہ اہم ہوگا۔

  • سیاسی سونامی تبدیلی کو بہا لے جائے گا ؟؟ تحریر: نوید شیخ

    سیاسی سونامی تبدیلی کو بہا لے جائے گا ؟؟ تحریر: نوید شیخ

    مائنس عمران خان اور مائنس عثمان بزدار کی ہوا چل پڑی ہے اور اس بار لگتا ہے کہ جتنے مرضی کالے بکروں کی بلی چڑھا دی جائے معاملات حل نہ ہوں گے۔ کیونکہ اپوزیشن بڑی ہی پراعتماد ہے ۔ نمبر گیم کے حوالے سے جو اطلاعات آرہی ہیں وہ حکومتی کیمپوں کے لیے بہت ہی خوفناک اور درد ناک دیکھائی دیتی ہے ۔۔ آج پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن کے تین بڑوں آصف علی زرادری ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے جہاں حکومت کو خوب رگڑا لگایا وہاں یہ بھی دعوی کیا کہ ہم ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے۔

    ۔ اس وقت عمران خان اپنی حکومت کو بچانے کی خاطر مسلسل ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ۔ ملاقاتوں ، ٹیلی فونز ، نئے وعدوں اور آفرز کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ کپتان کو وکٹ کے دونوں جانب کھیلنا پڑ رہا ہے کیونکہ بیک وقت پنجاب اور وفاق پر حملہ ہوچکا ہے ۔ اسی لیے بہت سوں کے خیال میں پاکستان تبدیلی کی جانب گامزن ہوگیا ہے ۔۔ فی الحال آج جو نئی صورتحال بننے کے بعد پہلا قدم کپتان نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ اپنے حامی یوٹیوبرز کو بلا کر عالمی سازش والا بیانیہ تشکیل دینا شروع کردیا ہے ۔ پھر شہباز گل نے پوری کی پوری پریس کانفرنس ہی اسی ایک پوائنٹ پر داغ دی ہے ۔ ۔ مگر اس سازشی تھیوری کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے بھی تابڑ توڑ حملے کردیے ہیں انکا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ چن دیا ، کیا یہ غیر ملکی سازش ہے ۔ حکومت کی چینی ،ادویات ، مالم جبکہ ،پشاور میٹرو اور بلین ٹری منصوبہ میں کرپشن کیا بین الاقوامی سازش ہے ، اس سے زیادہ احمقانہ بات نہیں ہو سکتی ۔ خارجہ محاذ پر جنہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا انہیں ناراض کردیا گیا ۔ عمران خان نے سی پیک میں کرپشن کے بے جا الزامات لگا کر چین کو ناراض کیا ۔ یورپی یونین کے خلاف بیان دیا ۔ ۔ اس وقت عمران خان کے حامی خاص طور پر ٹویٹر پر اس سازشی تھیوری پر یقین کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر بہت سے لوگ اس پوائنٹ سے متفق نہیں یہاں تک کہ بہت سے حکومت کے حامی صحافیوں کی رائے بھی آج کچھ تبدیل دیکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ سب سے پہلے پنجاب کی بات کی جائے تو ایک کیچڑی پکی دیکھائی دیتی ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ کنفوژین ہی کنفوژین ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ عثمان بزدار کے نام پر راضی نہیں ۔ ق لیگ اور عثمان بزدار علیم خان کو قبول نہیں کرناچاہتے ۔ تحریک انصاف کے اپنے سینئر وزراء کو بھی بزدار قبول نہیں ۔ یوں جس کو بھی عمران خان ناراض کریں گے وہ اپوزیشن کے دروازہ کھڑا سکتا ہے ۔

    ۔ فی الحال عثمان بزدار کی جانب سے دیا گیا استعفی وزیراعظم عمران خان نے قبول نہیں کیا ہے اور کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس پر عثمان بزدار کا کہنا تھاکہ استعفے سے معاملات حل ہوتےہیں تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دیتا ہوں۔ عمران خان اور پارٹی کے ساتھ ہوں اور رہوں گا۔ ۔ جبکہ بزدار کے حوالے سے کپتان نے پھر یہ بات دہرائی ہے کہ عثمان بزدار ایک آسان ٹارگٹ ہیں، جو وزیراعلی کے امیدوار ہیں صرف انہیں عثمان بزدار برا لگتا ہے۔۔ اس پر جہانگیر ترین گروپ نے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ ہمارا ایک ایک رکن متفق ہے کہ مائنس عثمان بزدار سے آگے بات چلے گی۔ یعنی پہلے عثمان بزدار کو گھر بھیجیں پھر بات کریں گے ۔ اس حوالے سے نعمان لنگڑیال نے اعلان کیا ہے کہ ترین گروپ متحد ہے۔ ہم نےعبدالعلیم خان کوبھی بتادیاکہ وہ جہانگیرترین کےفیصلوں کےپابندہوں گے، تمام اختیارات جہانگیرترین کے پاس ہیں، ان کے فیصلے سے کسی کواختلاف نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں دو بڑی جماعتوں کے بعد ترین گروپ کی تیسری بڑی اکثریت ہے۔۔ اس حوالے سے یہ بھی خبریں ہیں کہ علیم خان لندن جا رہے ہیں ۔ دنیا نیوز کی دعوے کے مطابق جہاں ان کی جہانگیرترین کے علاوہ نواز شریف سے بھی ملاقات متوقع ہے ۔۔ وفاق کی بات کی جائے تو حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے اپوزیشن کے آٹھ لوگ توڑ لیے ہیں ۔ اورانھوں نے وزیروں سے ملاقاتیں کرکے معاملات طے بھی کر لیے ہیں ۔ ۔ بہرحال اپوزیشن نے اپنے لوگوں کو تین ہفتے کے لیے اسلام آباد سے نہ جانے کی ہدایت کردی ہے ۔ بلکہ تنبیہ کردی ہے کہ غیرحاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ۔ ساتھ ہی حکومت کی جانب سے پکڑ دھکڑ کی صورتحال سے بچنے کے لیے مختلف سینیر لوگوں کی سربراہی میں گروپس بنا دیے گئے ہیں جس کے بعد وہ اپنے اپنے گروپ کے ایم این ایز کے ذمہ دار ہوں گے کہ وہ غائب نہ کیے جاسکیں ۔ ساتھ ہی اپوزیشن نے اپنے لوگوں کو زیادہ وقت پارلیمنٹ لاجز میں رہنے کی ہدایت بھی کر دی ہے ۔ واٹس ایپ گروپس بھی تشکیل کروادیے گئے ہیں ۔ جس کے بعد اب سے روزانہ کی بنیاد پر ان کی حاضری بھی لگوائی جائے گی ۔ ۔ اپوزیشن کے دعووں کے مطابق ان کے پاس 28سے زائد پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے ساتھ ایک اتحادی بھی ہے ۔ ذرائع کا کہناہےکہ آئی بی کے توسط سے تحریک انصاف کے 28 ممبران کے نام وزیراعظم کے علم میں ہیں۔ پھر چڑیل کی یہ بھی مخبریاں ہیں کہ اپوزیشن نے 197 سے 202 ارکان قومی اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کل کراچی کا ایک روزہ دورہ کررہے ہیں جہاں وہ ایم کیوایم سے ملیں گے ۔ لگتا یہ ہی ہے کہ ہر حال میں ایم کیو ایم کو راضی کیا جائے گا ۔ ۔ پھر عمران خان کی اٹارنی جنرل آف پاکستان سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے متعلق قانونی نکات پر بریفنگ دی ہے ۔ اس حوالے اڑتی اڑتی خبر ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی بات بھی کارڈز پر موجود ہے ۔ ۔ اس وقت وزیروں اور عمران خان کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ پریشانی کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ جہاں عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت کہیں نہیں جارہی بلکہ مزید تگڑی ہو کر آئے گی۔ تو دوسری جانب فرماتے ہیں اپوزیشن کے پیچھے ایک نہیں کئی بیرونی ہاتھ ہیں، ارکان کو 18، 18 کروڑ کی آفرز کی جارہی ہیں میں نے ارکان سے کہا ان سے پیسے لیں اور غریبوں میں بانٹ دیں، جواب میں ہماری بھی حکمت عملی تیار ہے، کپتان ایک دم اپنی حکمت عملی نہیں بتاتا، نومبر بہت دور ہے، جب وقت آئے گا تو فیصلہ کریں گے۔

    ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ کے قافلے کو اسلام آباد پولیس نے ٹی چوک پر روک لیا جس کے بعد بلاول بھٹو بھی راستے میں رک گئے۔۔ اطلاعات کے مطابق جس کنٹینر پر بلاول بھٹو سوار ہیں اس سے پیچھے موجود گاڑیوں کو مختلف مقامات پر رکاوٹیں لگا کر روکا گیا جس کے بعد بلاول نے بھی آگے بڑھنے سے انکار کردیا ہے ۔۔ اس حوالے سے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنوں کو جگہ جگہ رکاوٹیں لگا کر روکا گیا ہے، فیض آباد بلاک کریں گے، ڈی چوک بھی جائیں گے۔۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں عمران خان کر کیا سکتے ہیں ۔ تو اس جواب یہ ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ بے انتہا اختیارات سمیت فنڈز، وزارتیں اور دینے کو بہت کچھ ہے ۔ کیونکہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے میں کافی دن ہیں تو کرنے کو تو وہ بہت کچھ سکتے ہیں ۔ جیسے نیب کا استعمال ، ایف آئی اے کا استعمال ، پولیس کا استعمال وغیرہ وغیرہ ۔ پھر حکومت کے پاس ابھی بھی بہت سی ای ٹی ایمز ایسی ہیں جو آج مارکیٹ میں نکل آئیں تو روپے تو دور کی بات ڈالرز کی ریل پیل ہوسکتی ہے ۔ اس سے پھانسا پلٹ سکتا ہے ۔ خاص طور پر جو بلوچستان سے سینیٹرز پی ٹی آئی نے الیکٹ کروائے ہیں وہ میدان میں نکل آئے تو بہت سے لوگوں کی زندگی بھر کی دیہاڑیاں بھی لگ سکتی ہیں ۔ اس لیے ممکن ہے کہاگر بات چیت سے معاملات نہ حل ہوئے ۔ تو آنے والوں دنوں میں گرفتاریاں بھی ہوں ۔ اغواء بھی ہوں ۔ بندے بھی غائب ہوں ۔ کیونکہ بلاول کے لانگ مارچ کو روک کر کپتان نے سنگنل دے دیا ہے کہ وہ confrontationکے موڈ میں ہیں ۔

    ۔ میرے حساب سے کپتان کے پاس safe exit کا ایک ہی آپشن ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ دیں ۔ اور قبل ازوقت الیکشن کروا دیں کیونکہ دونوں صورتوں میں حکومت جاتی دیکھائی دیتی ہ۔ اس میں ہی کپتان کی عزت ہے ۔ ورنہ جتنا یہ زور لگائیں گے یا زبردستی کریں گے تو اتنا ہی کام خراب بھی ہوگا ۔ ۔ یاد رکھیں ماحول کی کشیدگی ہمیشہ اپوزیشن کے حق میں جاتی ہے جبکہ ٹھہراؤ ہمیشہ حکومت کے لئے ساز گار ثابت ہوتا ہے۔ یہ تاثر دینے سے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی ہزاروں لاکھوں افراد موجود ہیں۔ تو یاد رکھنا چاہیے اتنے ہی لوگ اپوزیشن کے پاس بھی ہیں ۔ ۔ یاد رکھیں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب کپتان کے اپنے کرم ہیں ۔ کیونکہ جب آپ پارٹی سمیت حکومت کو ڈکیٹر شپ کی طرز پر چلائیں گے جب آپ اپنے اردگرد صرف خوشامدی رکھیں گے ۔ جب آپکو صرف ہاں میں ہاں ملانا پسند ہو۔ جب آپکو میڈیا سمیت کسی قسم کی تنقید گوارا نہ ہو۔ اوپر سے آپ کی کارکردگی صفر ہو ۔ تو پھر یہ سب کچھ جمہوریت میں نہیں چل سکتا ۔ پھر جب آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں اخلاقی جواز کے بغیر حکومت نہیں چلتی ۔

  • راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا

    راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا

    راولپنڈی :راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈراہوگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا پر ختم ہو گیا اور پاکستانی اوپنرز نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری اننگز میں سنچریاں اسکور کیں۔

    راولپنڈی میں کھیلا گیا سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ بلے بازوں کے لیے بہترین بیٹنگ پریکٹس ثابت ہوا اور دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے رنز کے انبار لگا دیے۔میچ کے پانچویں اور آخری دن آسٹریلیا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 449 رنز 7کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تو 3.1 اوورز میں صرف 10 رنز کے اضافے سے بقیہ تینوں وکٹیں بھی گنوا بیٹھی۔

     

    آسٹریلیا کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 459رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان نے پہلی اننگز میں 17رنز کی معمولی برتری حاصل کی۔پاکستان کے لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرواتے ہوئے 6 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے 8 ٹیسٹ میچز میں تیسری بار 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

    پاکستانی اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز کا آغاز بھی پراعتماد انداز میں کیا اور کھانے کے وقفے تک کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔دونوں نے بہترین بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے سنچری شراکت قائم کرتے ہوئے نصف سنچریوں تک بھی رسائی حاصل کی۔

    میچ یقینی طور پر ڈرا کی جانب جاتا دیکھ کر آسٹریلیا نے بھی اپنے مرکزی فاسٹ باؤلرز کو تھکانا مناسب نہ سمجھا اور پارٹ ٹائم باؤلرز کو گیند تھما کر اوورز پورے کرنے کی پالیسی اپنائی۔

     

     

    پاکستانی اوپنرز نے بھی ناتجربہ کار اور کمزور باؤلنگ کو تختہ مشق بناتے ہوئے رنز کے ڈھیر لگا دیے اور دونوں نے اپنی اپنی سنچریاں اسکور کیں۔عبداللہ نے کیریئر میں پہلی مرتبہ سنچری اسکور کی جبکہ امام الحق نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی سنچری کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    دونوں اوپنرز نے اسکور 252 تک پہنچایا تھا کہ دونوں کپتانوں نے امپائرز سے مشاورت کے بعد میچ کے خاتمے پر اتفاق کیا۔پاکستان کی جانب سے عبداللہ نے 136 اور امام نے 111 رنز کی اننگز کھیلی۔دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کرنے پر امام الحق کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 مارچ سے کراچی میں کھیلا جائے گا جبکہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم میں 21مارچ سے تیسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا۔

  • عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    غیر شادی شدہ خواتین کو جس طرح معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح شادی شدہ خواتین کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے, کہیں پہ عورت کے کندھوں پہ تہذیب کا بوجھ ہوتا ہے تو کہیں پہ طلاق کا دھبہ اس کے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے
    کئی جگہوں پر تو عورت کی خود مختاری ضبط کر لی جاتی ہے تو کہیں اس کا کام صرف گھر سنبھالنا ہی طے ہوتا ہے کیونکہ اس معاشرے میں اکثر عورت کے حقوق کو سبو تاژ کیا جاتا رہا ہے کہیں عورت کو ہمیشہ عیش اور عشرت پرستی کا ذریعہ سمجھ کر حکمرانی کی جاتی ہے.
    ابھی بھی کچھ لوگ عورت کو اس کا اصل مقام دینے کے حامی نہیں ہیں اور یہی لوگ آزادی نسواں کے خلاف بھی ہیں.
    یہی وجہ ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع مختلف تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے
    مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے عورتوں کے ساتھ جبروتششدد کے واقعات میں زیادہ تر مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن
    پس منظر کو دیکھیں تو ایک عورت ہی کہیں نہ کہیں آ لےکار ثابت ہوئی ہے ایک عورت پر ظلم کرنے میں خواہ وہ سوتن کے روپ میں, نند کے روپ میں یا پھر ساس کے روپ میں..
    بےشک معاشرے میں بےشمار خرابیاں ہیں مگر اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سب میں کہیں تھوڑا سا قصور عورت کا بھی تو نہیں ہے

    ایسا ہی کچھ دنوں پہلے کشمیر کے ایک گاؤں کاچلیاں میں ہوا
    لڑکی کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہوا ایک بیٹی ایک سال کی اور وہ دوسرے بچے کی امید سے تھی. اس بےخبر کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے تعلقات اپنی کزن کے ساتھ ہیں
    لڑکی کا شوہر کام کے سلسلے میں دوبئی میں رہتا تھا پر اپنی کزن کے ساتھ رابطے میں تھا.
    یہ لڑکی دوسری بار ماں بن رہی تھی اور اسے پتا نہیں تھا کہ اس کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس کی ساس اور شوہر منصوبہ بندی کر رہے ہیں
    ایک دن لڑکی اپنی بچی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی کہ ساس نے اپنی بھتیجی ( لڑکی کے شوہر کی معشوقہ) کو فون کرکے بتایا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کرسکتی ہے.

    گاؤں میں گھر دور دور ہوتے ہیں جب شوہر کی معشوقہ چھری لے کے لڑکی کے گھر گئی تو وہ سو رہی تھی, اسکے سر پر کسی چیز سے ایسا وار کیا کہ لڑکی بے ہوش ہوگئی اور بےہوشی میں ہی اس کے ہاتھ پیر کی سب انگلیاں کاٹ دی جب گلے پہ چھری رکھی تو لڑکی کو ہوش آگیا مزاحمت کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کی دو سال کی بچی کے رونے کی آواز اور لڑکی کے چلانے کی آواز کھیت میں کام کرنے والے ایک آدمی کو سنائی دی وہ بھاگ کے مدد کو آیا تو دیکھا شوہر کی معشوقہ نے لڑکی کی گردن پہ چھری رکھی ہوئی ہے اور لڑکی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کے ساتھ واسطے دے رہی ہے کہ میں نے کیا کیا ہے مجھے مت مارو

    اس آ دمی نے اس عورت سے چھری چھین لی اور اسے کمرے میں بند کرکے پولیس کو کال کی.
    زخمی لڑکی کو اسپتال لے جایا گیا مگر اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث راولپنڈی اسپتال ریفر کر دیا گیا. گاؤں والوں نے لڑکی سے پوچھا ایسا کیوں کیا تو اس نے بتایا کہ میرے کزن نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو راستے سے ہٹاؤ تو تم سے شادی کرونگا اور اس منصوبہ بندی میں میری پھپھو ( لڑکے کی ماں) بھی شامل ہے.
    خیر یہ اچھا ہوا مظلوم لڑکی کی جان بچ گئی اور مجرمہ جیل چلی گئی پر اس کے اقرار جرم اور اس کے عمل نے یہ ثابت کردیا کہ عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے. شاہد یہ بات سننے میں عجیب لگے پر آپس کی دشمنی یا لالچ کی وجہ سے دوسری عورت کو مارنے یا برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی. اور کئی گھرانوں میں عام دیکھا گیا ہے کہ مرد کو ہتھیار بنایا جاتا ہے جب اس کو ایک عورت خواہ ماں ہو یا بہن یا بیوی) اسے دوسری عورت کے خلاف اکساتی ہے تو وہ قہر برسانے لگتا ہے…

    ہمیں اپنی خامیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی لڑائی کو ختم کرنا ہوگا, اور جب عورت ہی عورت کی ڈھال بن جائے تو ہھر کوئی عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتا.

    @Rehna_7

  • شین اور میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا  ،تحریر:نوید شیخ

    شین اور میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا ،تحریر:نوید شیخ

    ن میں سے شین اور شین میں سے میم نکالنے والوں کی اپنی جماعت میں سے جیم اور عین نکل گیا !!!

    ۔ اس وقت پی ٹی آئی والوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ
    ۔ چل کیا رہا ہے ۔
    ۔ ہو کیا رہا ہے ۔
    ۔ اور ان کا بنے گا کیا ؟؟؟

    ۔ کیونکہ ایک جانب پنجاب میں اپنوں اور مخالفوں دونوں نے مل کر سیاسی محاذ مزید گرم کر دیا ہے ۔ تو اسلام آباد میں بھی تمام اپوزیشن جماعتوں کے بڑے حملے کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔ تیسرا بلاول کا لانگ مارچ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کو پہنچنے والا ہے ۔ یوں جو بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا تھا، وہ لگتا ہے کہ بکھر رہا ہے ۔ پنجاب میں کھپ کچھ زیادہ دیکھائی دے رہی ہے اور ق لیگ نے شاید ٹرین مس کردی ہے ۔ اب معاملات کسی اور طرف جاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اسی حوالے پرویز الٰہی نے مشورہ دیا ہے کہ حالات تیزی سے حکومت کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں، جو پہلے فیصلہ لیتا ہے سیاست میں اس کوبرتری حاصل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا اہم اجلاس ہوگیا ہے ۔ جس میں علیم خان نے جہاں جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت اختیار کی وہاں بڑے اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں ۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا جہانگیر ترین اور علیم خان کا ہدف صرف پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہوگی؟
    یا
    پھر پی ٹی آئی کا بڑا حصہ اب جہانگیر ترین اور علیم خان مل کر چلائیں گے ۔ یعنی عمران خان کی جانب سے جس ڈر سے ان دونوں کو سائیڈ لائن کیا گیا تھا کہ یہ پارٹی کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ویسا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ وزیر اعظم کے رابطہ کار بھی ایکٹو ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانےکیلئے جدوجہد شروع ہوگئی ہے ۔ چڑیل کے مطابق پرویز الٰہی یا ق لیگ کے امیدوار کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ حتمی نتیجہ ایک دوروزمیں سامنےآجائے گا۔

    ۔ عبد العلیم خان نے بھی نئی پرانی ساری باتیں کردی ہیں کہ اگر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو ہم سب مل کر فیصلہ کریں گے کہ کس کا ساتھ دینا ہے ۔ پنجاب میں جیسی حکومت ہے اس پر تشویش ہے۔۔ پھر لندن سے خبر یہ ہے کہ ڈاکٹرز نے جہانگیرترین کو سفر کی اجازت دے دی ہے ۔ جلد وہ پاکستان پہنچ جائیں گے ۔ ۔ کپتان کے لیے مشکل صورتحال یہ بھی ہے کہ وہ ابھی تک جہانگیر ترین گروپ کو ہی نہیں منا پائے تھے کہ ان کے سابق بااعتماد ساتھی اور جہانگیر ترین کے ہم پلہ فنانسر علیم خان نے گروپ شکیل دیدیا ہے ۔ ۔ یوں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ مرکزو پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اپوزیشن تحریک کا باقاعدہ حصہ بن جائیں ۔۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عمران حکومت کا اصل بحران اندرونی ہے۔ تحریکِ انصاف کے الیکٹ ایبلز حکومت کی خراب کارکردگی پہ بہت ناراض ہیں اور اُنہیں اپنے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہے۔ کچھ تو پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں۔ لیکن جتنی درخواستیں ہیں اتنی اسامیاں خالی نہیں۔ جہانگیر ترین اورعلیم خان کے ہم خیالوں کے گروپ کے سامنے آنے کی اہم وجہ بھی یہ ہی معلوم ہوتی ہے ۔۔ اب اس مشکل صورتحال میں حکومت کی پلاننگ ذرا چیک کریں ۔ سپیکرقومی اسمبلی کا پلان یہ ہے کہ حکومتی خرچے پر اپوزیشن کے ایم این ایز کو یورپ اور امریکہ کے دورے کروائے جائیں۔ خود حساب لگالیں کہ جہاں اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے لوگوں کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا ہے تو یہ ملک سے باہر بھیجنے کی پلاننگ کر رہے ہیں ۔ ویسے میرے حساب سے جس بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کے اپنے اندر اکھاڑ پچھاڑ دیکھائی دے رہی ہے ۔ ان کو چاہیے کہ اپنے ایم این ایز کو یورپ اور امریکہ کے ٹور کروائیں ۔ ۔ دوسری جانب پرویز خٹک اور شبلی فراز اپوزیشن کے پندرہ سے زیادہ ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ فرض کریں یہ ٹھیک بھی کہہ رہے ہوں تو نمبر گیم اس وقت پندرہ سے اوپر جا چکی ہے ۔ ۔ اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کو چیلنج ہے کہ تم لوگ کہتے ہوکہ ہمارے پندرہ لوگ تمہاری طرف چلے گئے ہیں، ایک نام بتاؤ میں تمہیں سولہ لوگوں کے نام بتاتا ہوں۔ پھر ان کا دعوی ہے کہ حکومت کے قریبی وزرا بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔

    ۔ آپ دیکھیں کل آصف زرداری سے پی ٹی آئی بلوچستان کے سابق صدر سرداریارمحمد رند نے ملاقات کی ہے ۔ اس سے پہلے ندیم افضل چن پھر سے جیالا بن گئے ہیں ۔۔ اس اہم سیاسی موڑ پر اگر کوئی پارٹی مستعدی سے کھیلی ہے تو وہ پیپلزپارٹی ہے۔ جس کے ایک co chairmanآصف علی زرداری اسلام آباد میں بیٹھے تمام تر سیاسی جوڑ توڑ میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، تو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو ایک زبردست لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پر حملہ کر رہے ہیں۔ ۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ بری طرح فلاپ ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے حیدرآباد میں جلسے میں شاہ محمود قریشی نے شرکت نہیں کی۔ پھر وفاقی وزیر اسد عمر بھی جلسے میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے حیدرآباد پہنچے لیکن وہ بھی اسٹیج پر آئے، ہاتھ ہلایا اور چلے گئے۔ جانا بنتا ہی تھا کیونکہ خالی کرسیوں سے توبندہ خطاب نہیں کر سکتا ۔ جبکہ ارباب غلام رحیم بھی کارکنوں سے ناامید نظر آئے اور حیدرآباد والوں کو بے مروت کہا۔

    ۔ جب ایمپائر نیوٹرل ہوتا ہے تو ٹیموں کو اپنے زور بازو پر کھیلنا پڑتا ہے۔ دکھانا پڑتا ہے کہ ان کے پاس کھیل کھیلنے کی کتنی مہارت ہے اور وہ ایک مشکل صورت حال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ لیکن وہ کھلاڑی کسی مشکل سے کیا نکلے گا جس نے اپنے غلط فیصلوں سے پوری ٹیم کو ایک بڑی مشکل میں دھکیل دیا ہو۔ شاید یہ حالات کی نزاکت کا ہی تقاضا ہے کہ عمران خان کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے ۔ کیونکہ کل میلسی میں جو کچھ انھوں نے کہا وہ ایک ہارے ہوئے کھلاڑی کی تقریر تھی جس کے ہاتھ میں جب کچھ نہیں رہا تو وہ ایک جانب اپنے سیاسی مخالفین کو تو دھمکیاں دے ہی رہا تھا مگر دوسری جانب امریکہ اور یورپ کو برا بھلا کہنے کا مقاصد صرف ایک تھا کہ جب کپتان گھر جائیں تو وہ اور انکے لوگ کہہ سکیں کہ ہماری خلاف عالمی سازش ہوئی تھی حالانکہ کون نہیں جانتا کہ اگر اتنے ہی بڑے یہ انقلابی تھے تو لابنگ فرمز کے زریعے کون کوشش کرتا رہا ہے کہ جوبائیڈن ان کو صرف کال ہی کرلے ۔ ویسے فون کال والا رونا دھونا تو ہم کپتان کی ہر دوسری تقریر اور انٹرویو میں سنتے رہے ہیں ۔ یہ تو کچھ نہیں جو عوام کو دنیا میں دو کیمپوں والی سیاست کا بتا کرگمراہ کررہے تھے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ امریکی خوش نودی کے لیے جب سے یہ حکومت آئی اس نے سی پیک کو کھڈے لائن لگا دیا ۔ امریکہ پھر بھی راضی نہیں ہوا ۔

    ۔ اب عمران خان کی اس بلاجواز بیان بازی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا ہوگا ۔ یاد رکھیں امریکہ یا یورپ ہم کو دھمکی نہیں لگائیں گے ۔ بس جیسے پہلے عمران خان کے روس پہنچنے پر اسٹیٹ بینک کو جرمانہ کیا ہے ویسے کسی مد میں ہم کو مزید مجبور کردے گا ۔ یہ جو خوشیاں منا رہے تھے کہ ہماری ٹیکسٹائل پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے ۔ وہ سب یورپ کی منڈیوں کے مرہون منت ہے ۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی بدولت ہے ۔ اس سلسلے میں ایک بھی پابندی لگی تو سمجھیں ہم پھر سے زیرو پر آجائیں گے ۔ مت بھولیں کہ دو دن پہلے برطانیہ نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔ حالانکہ شیرقومی سلامتی کو برطانوی حکومت نے خود دورے کی دعوت دی تھی۔

    ۔ پھر گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی صدر کے قومی سلامتی مشیر Jack Salonنے ایک خصوصی ٹیلیفون کال میں مشیرقومی سلامتی معید یوسف کو پاکستان کے روسی جارحیت پر خاموشی کے نتائج سمجھانے کی کوشش کی ۔ لیکن عمران خان نے جواب میں امریکہ کو دوبارہ شٹ اپ کال بھجوا دی ہے ۔ امریکہ یورپ کے ساتھ پاکستانی معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، اب کوئی معجزہ ہی پاکستان کو امریکہ اور یورپ کے جوابی رد عمل سے بچا سکتا ہے ۔ ۔ کپتان باتیں تو بہت بڑی بڑی کرتے ہیں ۔ مگر سچائی یہ ہے مانگنے والے ہاتھ مار نہیں سکتے ۔ عمران خان نے ملک کو اتنے قرضوں میں پھنسا دیا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کو بھی کاٹ چکے ہیں ۔ آسان الفاظ میں جب آپ کشکول لے کر در در کے چکر لگا رہے ہوں تو پھر ایسی تقریریں اس ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتی ۔ اپنی سیاست کی خاطر یوں ملکی خارجہ پالیسی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مثال میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی آپ دیکھیں شہباز گل جیسے ترجمان بھی اس پر قوم کو بتا رہے ہیں کہ عدم اعتماد انٹرنیشنلی سپانسرڈ پلان ہے ۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نہیں عالمی طاقتیں لارہی ہیں اپوزیشن والے تو صرف کرائے کے بروکر ہیں ۔ پتہ نہیں حکومت کے ادارے اور ایجنسیاں کیا کر رہے ہیں اس سلسلے میں کہ حکومت کے خلاف ایک عالمی سازش ہو رہی ہے اور ان کو کچھ پتہ نہیں ۔ مگر وزیر اعظم کے ترجمان کو پتہ لگ گیا ہے ۔ ویسے میری سمجھ سے باہر ہے کہ جب اپنے پر بات آتی ہے تو ثبوت مانگتے ہیں کسی اور پر بات تو ہو بغیر کسی ثبوت کے الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ اتنے سینئر ترجمان سے ایسی خالی خولی بیان بازی جچتی نہیں ۔ کیونکہ سوال تو پھر پی ٹی آئی پر بھی بنتا ہے کہ جب اسلام آباد میں 126دن کا دھرنا دیا تھا تو اس وقت ان کو کون سی عالمی طاقت مدد فراہم کر رہی تھی ۔ ۔ دراصل عمران خان کی حکومت آخری ہچکولے لے رہی ہے، تحریک عدم اعتماد میں ان کو اپنی شکست واضح نظرآرہی ہے ، ان کو سمجھ نہیں آرہا کہ کس طریقے سے اس بحران سے نکلیں۔

  • خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    نئی دلی:
    بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے جو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کہاہے کہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید نہ کریں کیونکہ اگر وہ خاموش رہیں تو انہیں ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ انہیں ان عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

    ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف جنڈ کے گائوں کنڈیلا میں کنڈیلا کھاپ اور ماجرا کھاپ کے زیر اہتمام کسان سمان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سمیت متعدد معاملات پر بی جے پی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ۔ جنوری میں ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیاتھا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر وزیرا عظم سے ملنے گئے تھے ۔

    تاہم انہوں نے کہاکہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ پی ایم مودی نے انہیں کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ملاقات تھی اور مودی نے اس موقع پر ان سے لڑائی کی ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کریں گے ۔ستیہ پال نے کہاکہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیاتھا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو انہیں صدر یا نائب صدر بنایاجا سکتاہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان عہدوں کو لات مارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سارے واقعے سے ناراض ہوکر انہوں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اورکسانوں کی تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ وہ بھارتی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے کیلئے بھی گیا کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن تب تک استعفیٰ نہ دیں جب ان سے اس بارے میں کہاجائے۔

    ستیہ پال ملک نے کسانوں پرنئی دلی میں حکومت کی تبدیلی کیلئے متحدہونے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر کسان متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔

  • بلا عنوان   ،تحریر : فضیلت اجالہ

    بلا عنوان ،تحریر : فضیلت اجالہ

    ارشاد باری تعالی ہے کہ

    زمین و آسماں ، ہر جگہ پر خدا کی بادشاہت ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔( سورۃ الشوریٰ ۴۹)

    آج میرے قلم پہ لفظوں کا قحط طاری ہے ، احساسات ششدر اور دل و دماغ میں حشر برپا ہے ۔ نوک قلم ایک ماں کا، پورے میانوالی کا یا شائد پورے پاکستان کا رنج و الم الفاظ میں سمونے سے قاصر ہے
    کتنی اندوہناک اور لرزا دینے والی خبر ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں
    ایک ننھی پری عورتوں کے عالمی دن سے صرف ایک دن پہلے اپنے ہی سفاک باپ کے ہاتھوں رب کی جنت میں واپس چلی گئی ۔ ایک ننھا سا گوشت پوست اور اس قدر بربریت کیا کیا ازیت نا جھیلی ہوگی اس ننھی جان نے یا شائد اس کی سانس تو گولی چلنے کی آواز سے ہی سہم کے ساکن ہوگئ ہوگی۔ سوچتی ہوں تو روح لرز جاتی ہے کہ کیا وہ معصوم کلی رب کی بارگاہ میں سوال نہیں کرے گی کہ میرے مالک مجھے کہاں بھیجا تھا؟میں نے کیا خطا کی تھی ؟ باپ تو تپتے صحرا میں چھاؤں کا نام ہے نا پھر میرے اپنے ہی باپ نے مجھ میں اتنی آگ کیوں انڈیل دی۔
    یہ خبر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ افسردگی سی افسردگی ہے ۔ تکلیف زیادہ ہے کہ غصہ ، دل اظہار کرنے سے قاصر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعے سے عرب کے دور جہالت کی یاد تازہ ہوگئی ۔
    جہاں بیٹیوں کو زندہ ہوتے ہی دفنا دیا جاتا تھا۔
    وہ اسلام جس نے بیٹیوں کو رحمت خداوندی کا درجہ دیا آج اسی اسلام کے نام پہ حاصل کردہ ملک میں کبھی نئے کپڑے مانگنے کی پاداش میں تین تین بیٹیوں کو موت کا لباس اوڑھادیا جاتا ہے تو کبھی بیٹا نا پیدا ہونے کی جرم میں معصوم سات روزہ کلی کی سانسیں کھینچ لی جاتی ہیں لیکن کوئ قیامت برپا نہیں ہوتی ، نا کہیں بجلی گرتی ہے اور نا آسمان ہی ٹوٹتا ہے ، کیوں بے بس و لاچار ماں کی آہیں عرش و فرش کو نہیں ہلاتی
    آخر کیوں فرشی منصفوں کا ضمیر نہیں جاگتا؟ کیوں ایسے ظالم کرداروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا
    کب تک آخر کب تک ریاست اس گھناؤنے واقعات کو نجی مسائل کہہ کر درگزر کرتی رہے گی کب تک حوا کی بیٹی نا کردہ جرائم کی سزا پاتی رہے گی

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول

    اک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
    اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن

    اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

    یہ پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے عورت ہمیشہ مرد کی نام نہاد انا و غیرت اور ظلم و بر بریت کا نشانہ بنتی رہی ہے اس ننھی پری کے سفاک باپ جیسے کردار دنیا میں ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ دل کو اطمینان دینے والا احساس یہ ہے کہ اس سے کئی سو گنا زیادہ تعداد ان مردوں کی ہے جن کے لیے ان کی بیٹیاں ان کے جگر کا ٹکڑا ہیں۔

    ہمارے اطراف موجود ملنے جلنے والوں رشتے داروں دوستوں میں اکثریت ایسے گھرانوں کی ہے جہاں باپ کی جان ان کی بیٹیوں کا وجود ہے ۔ جہاں بیٹیاں کو رحمت سمجھ کر ان کو مان سمان اور پیار سے پالا جاتا ہے ۔

    اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات ہر معاشرے میں قابل نفرین سمجھے جاتے ہیں کسی بھی معاشرے میں ایک سفاک باپ کے ایسے سفاک عمل کے پیچھے صرف غلط معاشرتی سوچ ہی نہیں کبھی کھی ذہنی مرض ، نفسیاتی الجھنیں اور کئی دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں ۔

    ورنہ حقیقی صورتحال کیا ہے اس کو جاننا مشکل نہیں۔ آج صرف سوشل میڈیا کی ہی مثال لیں کسی بھی صنفی امتیاز کے بنا مردوں کی اکثریت اس واقعے کی مذمت کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کررہے ہیں ۔

    کیونکہ ایک باپ کے لئے بیٹیاں تو خالق کی اتنی پیاری مخلوق ہے جن کے وجود کا جن کے ہونے کا صرف شکرانہ ہی ادا کیا جاسکتا ہے ۔

    اللہ سب کے گھر کی رحمتوں کو سلامت رکھے ۔ آمین
    اس خاندان کے معتبر بزرگوں سے بہتے اشکوں کے ساتھ التماس ھے کہ اس کیس ک مدعی صلح یا رشوت کے پیسوں کی بجائے اس ننھی کلی کو سامنے رکھے اگر آج ایک بیٹی کا خون بخش دو گے یا خون بہا لے کر چپ کر جاؤ گے تو کل دوسری اور تیسری بیٹی کی قبر کھودنے کے لئیے بھی تیار رہنا

    یہ کیس ایک خاندان یا ایک ماں کا نہیں پورے پاکستان کا ہے ،یہ کیس ہر لاچار و مجبور ماں کا ہے جو نام نہاد غیرت مند مردوں کے ہاتھوں روز قتل ہوتی ہیں یہ کیس ہر ہر اس بنت حوا کہ ہے جس کا جرم اس دنیا میں سانس لینا ہے ۔ اس کیس کا نتیجہ ایسے تمام گھناؤنے کرداروں کے لئیے ایک پیغام ایک واضح نشان عبرت ہونا چاہیئے ۔
    @_Ujala_R

  • خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ارضی تجزیاتی مرکز سے وابستہ طالبہ کیٹی مک کوئلن نے انکشاف کیا ہے کہ خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں-

    باغی ٹی وی : انہوں نے امریکا میں بلیو رج ماؤنٹین کے پہاڑی سلسلے پر لگے جنگلات اور درختوں پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خشک موسم زیادہ دیر برقرار رہیں تو پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں درخت جتنی بلندی پر ہوں گے وہ اتنا ہی پانی استعمال کریں گے-

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…

    ان کی تحقیق سے ثابت ہے کہ پہاڑی علاقے کے لوگوں کو یہ جاننا ہوگا کہ اگر پہاڑوں پر جنگلات ہیں اور آبادی بلندی سے آنے والے پانی استعمال کرتی ہے تو خشک سالی میں اس پانی کی کمی ہوسکتی ہے یہاں تک کہ پانی کا کال پڑسکتا ہے۔

    اس ضمن میں گریٹ اسموکی ماؤنٹین پارک پر تحقیق کی گئی ہےجو اوک رج پہاڑی سلسلے کا ہی حصہ ہے اس ضمن میں 1984 سے 2020 تک سیٹلائٹ تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا یہ تصاویر تھرمل انفراریڈ پر مبنی تھیں۔ اس ضمن میں لگ بھگ 15000 مربع میل جنگلات کا ڈیٹا پڑھا گیا تھا جو کئی امریکی ریاستوں پر محیط ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    پہاڑیوں پر واقع جنگلات انتہائی صاف اور صحت بخش پانی بناتے ہیں جو کسی معدنی مائع سے کم نہیں ہوتا اس طرح یہ قیمتی پانی ہوتا ہے۔ ڈیٹا کےمطابق جب بھی خشک سالی آئی درختوں نے پانی زیادہ استعمال کیا اور یوں پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہوا کیونکہ یہ پانی ہزاروں لاکھوں درختوں سے گزرتا ہے اور ہر درخت اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرتا ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ اس کیفیت کو سمجھ کر ہم پہاڑی جنگلات کے دامن میں موجود آبادیوں، جانداروں اور کھیتوں میں پانی پہنچنے یا اس کی قلت کی پیشگوئی کرسکتے ہیں یہ پیشگوئی بالخصوص خشک سالی کے دوران بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    عورتوں کا عالمی دن یا عورت مارچ ،تحریر: حنا سرور

    8 مارچ عورتوں کا عالمی دن جو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے
    اس دن کا مقصد مظلوم عورتوں کے حقوق پر آواز اٹھانا ہوتا ہے
    لیکن میرے پاکستان میں 8 مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا جاتا ہے
    جہاں ایک طرف مدارس کی باپردہ عورتیں حجاب کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے تو دوسری طرف کچھ کالجز اور یونیورسٹیز کی عورتیں اپنے مردوں سے آزادی لینے کے لیے سڑکوں پہ نکلتی ہے
    ان کے نعرے بھی مختلف ہوتے ہیں
    ایک طرف یہ
    مجھے وراثت میں حق دو
    میری پیدائش پر دکھی مت ہو
    میں اللہ کی رحمت ہوں مجھے بوجھ مت سمجھو
    مجھے تعلیم دو
    میری عزت کرو
    تو دوسری طرف نعرے ہوتے ہیں
    لو بیٹھ گئ ایسے ۔۔۔
    کھانا خود گرم کرو
    نہی پہنوں گی پورے کپڑے
    میں اپنی مرضی سے بچہ پیدا کروں گی
    مجھے اپنے مردوں سے آزادی چاہیے
    علی وزیر کو رہا کرو
    منظور پشتین کو ریاست مخالف جلسوں کی آزادی دو
    فوج بری ہے فوج یہ ہے فوج وہ ہے ۔بلوچستان دہشتگرد تنظمیں معصوم ہے ان کو کچھ نہ کہو
    اس کے علاوہ اسلام کے خلاف توہین آمیز بینر ہوتے ہیں۔۔پچاس مرد تو بیس عورتیں ہوتی ہے مردوں کے گلے میں پٹا ڈال کر بظاہر مرد کو کتا کہتی ہے۔۔اور وہ مرد خود خوشی خوشی اپنی تذلیل برداشت کررہے ہوتے ہیں ۔پتہ ہے کیوں؟

    کیونکہ یہ عورتیں ان کے ہی اشاروں پہ ناچ رہی ہوتی ہے
    پاکستان کو عورتوں کے لیے دنیا بھر کی نظروں میں برا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے
    2020 عورت مارچ پہ پابندی لگانے کے لیے عدالت میں درخواست بھی دی گئ تھی کہ عورت مارچ کے روپ میں یہ بیکار گروہ ہماری نوجوان نسل کا برین واش کررہا ہے
    ‏میرا جسم میری مرضی کے نعرے اور عورت مارچ کے پیچھے لادینیت اور الحاد کا ایجنڈا کارفرما ہے ورنہ اسلام نے تو عورت کو بہت ذیادہ حقوق دے رکھے ہیں.عورت ماں، بہن، بیٹی کے طور پر پاکستان میں بہت اچھا رول پلے کر رہی ہیں ہمیں کسی نئے حقوق، نعرے یا عورت مارچ کی ضرورت نہیں ہے
    اس پر 6 مارچ 2020 جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا ‏عورت مارچ کے نعرے درست ہیں خواتین اسلام میں دیےگئےاپنے حقوق مانگ رہی ہیں اور جج صاحب نے عورت مارچ پہ پابندی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔۔

    حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بیٹھے اعلی عہدوں کے لوگ خود اس ایجنڈے کو پرموٹ کررہے ہیں خواہ وہ شیریں مزاری ہو یا فواد چوہدری جیسا لبرل ۔جس نے ہمیشہ خود کو ایک خودساختہ مولانا بنایا ہوا ہے ۔کہ ہمیشہ جب اسلام پہ بات آتی ہے فواد صاحب جن کو شاید چھ کلمے بھی نہ آتے ہوں لیکن لبرل کہ روپ میں علماء والے کام بھی خود ہی کرنے لگ جاتے ہیں کہ جیسے ان صاحب کا ایک ہی کام ہے اور وہ علماوں اور لوگوں کے درمیان انتشار پھیلانے کا
    ورنہ اکثر ایسے موضوع پر جن پر بولنا ہو موصوف ہمیشہ خاموش ہی رہتے ہیں اور خاموشی سے ایسے ایجنڈوں کو پرموٹ کرتے ہیں

    اور سب سے اہم بات ۔جب ہمارے ٹی وی چینلز پر اخلاق سے گرئے ہوئے ڈرامے دیکھائے جائیں گے جب اک اسلامی ریاست کے نام پر بننے والے ملک میں عورت مارچ کے نام پر میرا جسم میری مرضی جیسے گھٹیا نعرے کے ساتھ ملکی شاہراوں پر سرعام بےحیائی پھیلای جاے گی تو پھر اس کا رزلٹ ایسے ہی یونیورسٹیز اور کالجوں نکلے گا۔
    کبھی سوچا ہے آپ نے یہ کیسی عورتیں ہیں ، ان کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے ، یہ نعرے یہ سلوگنز کہاں پے ترتیب دیے جا رہے ہیں ، حکومتی مشینری کو فعال ہونے کی اشد ضرورت ہے ، ورنہ ! بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے ، ہر سال انکے ڈرامے بڑھتے جارہے ہیں ، پہلے یہ صرف (کھانا) گرم کرنے کی بات کرتی تھیں اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے

    جب بھی عورت مارچ پہ پابندی کی بات ہوتی ہے عورت مارچ کے منتظمین ہمیشہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ غیر اخلاقی سلوگنز اور پلے کارڈز نہیں ہوں گے اور پھر تحریر شدہ بیہودہ اور انتہائی غلیظ نعروں والے بینر پکڑے ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ سے ٹویٹ بھی کیے ہوتے ہیں سعودیہ میں ڈانس کلب کھلے ہوں تو آپ میں یہاں بیٹھے غیرت جاگنے لگتی ہے اور آپ سعودیہ کے خلاف ہیش ٹیگ چلاتے ہیں گستاخ سعودیہ ۔ترکی میں کچھ ایسا ہو تو آپ دین اسلام کہ ٹھیکدار بن کر ترکی خلاف ٹرینڈ چلاتے ہیں گستاخ ترکی اور خود نیک اچھے مسلمام بن جاتے ہو ۔

    لیکن آپ کے اپنے ملک میں پچھلے چند سالوں میں ہر سال یہ ہوتا ہے ۔اور دنیا بھر کا میڈیا اسے کوریج کرتا ہے اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوتے ہو ۔

    کیا ہماری عدالت ان پر ایکشن لے گی۔یا یوں ہی فحاشی کی ذمہ دار بنتی رہیں گی.
    ایک بار پھر دینی حلقوں علماء و اکابرین سے درخواست ہے کہ آپسی رنجشیں اور فرقہ پرستی سے نکلیں اور یک جان ہو کر خدارہ ایسے فتنوں کی سر کوبی کریں۔
    حنا سرور