Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا، تحریر: نوید شیخ

    دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا، تحریر: نوید شیخ

    عمران خان کے حالیہ بیانات سے لگتا ہے کہ لوگوں کو گبھرانا نہیں کا مشورہ دینے والے خان صاحب خود بہت گھبرا گئے ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات احساس شکست کا پتہ دیتے ہیں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سڑکوں پر آئے تو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سڑکوں پر آنے کے لئے آپ کے پلے بھی کچھ ہونا چائیے جو وہ اپنی ناقص کارکردگی کے سبب کھوچکے ہیں۔

    ۔ موجودہ حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کہیں خیر نظر نہیں آتی۔ آمدن کے لحاظ سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید کم سے کم تر ہو رہی ہے۔ ۔ مگر عمران خان کے اردگرد خوشامدیوں کے ٹولے اکٹھے ہیں جو انہیں یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی بنائی ہوئی ریاست مدینہ میں لنگر خانے کھلے ہیں اور غریب کو روٹی مل رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو جو حکمران ان خوشامدیوں کے جھانسے میں آیا اس کا انجام بھیانک ہی ہوا ۔ ۔ پہلے سب سے بڑے جھوٹ سے شروع کرتے ہیں کہ حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 5.3 ظاہر کی ھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ گروتھ ریٹ واقعی ٹھیک اور حقیقت پر مبنی ھے تو پھر اس کا فائدہ عام شہری کو کیوں حاصل نہیں ہورہا۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش جو نصف صدی پہلے ہم سےعلیحدہ ہوگیا تھا آج وہ بھی ہم سے بہت آگے ھے اس کا ایک ٹکا ہمارے
    2.06 روپے بنتے ہیں یعنی اب ہم ایک ٹکے کے بھی نہیں رہے- – جیسے یہ پہلے کہتے تھے کہ نواز شریف دور میں اسحاق ڈار نے مصنوعی طور پر روپے کو مضببوط رکھ کر مارکیٹ میں ڈالر کو استحکام پر رکھا ہوا ہے اسی طرح آج کی جی ڈی پی گروتھ بھی مصنوعی ہی لگتی ھے۔

    ۔ کیونکہ دیکھیں کوئی ماہرین معیشت ایسا نہیں جو یہ نہ کہتا ہو کہ غیر ملکی قرضوں کے سہارے کسی بھی ملک کی معیشت نہ تو مضبوط ہو سکتی ہے نہ عوام خوشحال ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے اسی تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو پی ٹی آئی نے ان تین سالوں میں ریکارڈ غیر ملکی قرضے حاصل کئے ہیں ۔ ۔ لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کے ترجمانوں، وزیر خزانہ اور مالیاتی مشیروں کی طرف سے ایسے ایسے خوش کن بیانات اور دعوے تسلسل سے آ رہے ہیں کہ جیسے اس وقت ملک میں ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہے اور عوام حکومت کی مثالی کارکردگی کی وجہ سے شادیانے بجا رہے ہیں۔ ۔ عمران خان کو پتہ نہیں یہ کون اعداد وشمار دیتا ہے جو وہ ہر جگہ یہ راگ الاپتے پھرتے ہیں کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کی آمدن میں 73 فیصد اضافہ ہوا اور انہیں 1400 ارب روپے کی اضافی آمدنی ملی ہے۔ اگر واقعی ایسی صورتحال ہوتی تو ملک میں ہر طرف کسانوں کی احتجاجی ریلیاں نہ ہوتیں۔ دھرنے نہ ہوتے ۔ ۔ اسی طرح عمران خان کا ماننا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 40 سے 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ہم ان سے کہیں گے کہ وہ ورکروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کریں ۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ ہمارے کارپوریٹ سیکٹر میں بوم آیا ہوا ہے جبکہ کنسٹرکشن انڈسٹری اور اس سے منسلک 30 صنعتیں ترقی کر رہی ہے ملک میں لاکھوں گھر بن رہے ہیں عوام نے گھروں کی تعمیر کے لیے بنکوں سے 290 ارب روپے کے قرضے مانگے تھے اب تک انہیں 20 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں۔
    مگر حقیقت یہ ہے کہ سب رو رہے ہیں ۔ کوئی وزیراعظم کے نام اخباروں میں اپیلیں چھپوا رہا ہے تو کوئی سٹرکوں پر نکل کر احتجاج کر رہا ہے کوئی ہر دوسرے دن پریس کانفرنسیں کرکے حکومت کو کوس رہا ہے ۔ ۔ مہنگائی کے بارے میں تو عمران خان اکثر فرماتے ہیں کہ اس خطے میں سب سے کم مہنگائی پاکستان میں ہے حالانکہ ہمارے عوام ریکارڈ توڑ مہنگائی کی وجہ بے حد پریشان ہیں۔

    ۔ سچائی یہ ہے کہ اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مہنگائی کی بلند ترین سطح کے لحاظ سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جبکہ حکومت پاکستان کا اپنا ادارہ شماریات ہر ہفتے مہنگائی کے بارے اعداد و شمار جاری کرتا رہتا ہے۔ وہ رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے ۔ ۔ پھر بھی عمران خان کا یہ دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت مضبوط سے مضبوط ہو رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیوں سے 30 ارب ڈالر اور برآمدات سے 31 ارب ڈالر حاصل ہوئے اس سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں مگر حکومت یہ نہیں بتاتی کہ اس کے دور میں پاکستان نے ریکارڈ بیرونی قرضے بھی لیے ہیں اور آئی ایم ایف کی ڈِکٹیشن پر انوکھا منی بجٹ بھی پاس کروایا ہے اور اسٹیٹ بنک کے بارے میں قانون سازی کی جس پر ہر کوئی حکومت کو پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہا ہے۔ مگر عمران خان سمیت نو رتنوں کا ماننا ہے کہ سب اچھا ہے ۔ ۔ ویسے تو پی ٹی آئی والے معیشت کی تباہی سمیت کرپشن کے تمام الزامات سابقہ حکومتوں پر لگاتے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے تین سالہ دور حکومت میں بیرونی قرضے حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہر شرط ماننے کے سوا کیا ہی کیا ہے؟ ۔ کیا حکومت نے گردشی قرضوں اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے کچھ کیا ہے؟ ۔ فیول ایڈجسٹمنٹ ، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سمیت کئی قسم کے ٹیکس لئے جا رہے ہیں جو بڑھتے بڑھتے بجلی کی اصل قیمت کے تقریباً برابر پہنچ چکے ہیں۔ لیکن کسی کو اس کی پروا نہیں ہے۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایل این جی نہ لانے کی وجہ سے ہمارے پاور ہائوسز مہنگے ڈیزل پر چل رہے ہیں۔۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔۔ حکمران نہ جانے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سب سے مسائل ہی بڑھیں گے۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔ پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ہے ۔ ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات الٹا بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ ۔ یہ کرپشن ختم کرنے کے نعرے پر آئے تھے مگر مکمل ناکام ہیں۔ کرپشن پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں، وہ پہلے سے زیادہ ہے۔ان کے خیال میں ان کے دور میں کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ۔ سچ یہ ہے کہ سکینڈل ہمیشہ حکومت جانے کے بعد آتے ہیں اور یہ زیادہ دن کی بات نہیں۔ کیونکہ ان کی نااہلیوں اور کرپشن کی ایک لمبی داستان ہے۔ ۔ دراصل عمران خان نے جیسے 92 کے ورلڈ کپ میں ایک ٹیم بنائی تھی ویسے اپنی حکومت کیلئے نہیں بنا سکے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے میرٹ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا اور یہی بات بحیثیت وزیرِ اعظم اُنکی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

    ۔ اس میں کوئی برائی نہیں کہ عمران خان اپنے دوستوں یاروں کو ضرور ایڈجسٹ کریں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی رکھیں جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ لیکن عمران خان پرانے پاکستان کے معماروں سے ہی نیا پاکستان تعمیر کروانا چاہتے ہیں۔ ۔ کون نہیں جانتا کہ عمران خان کے وزیر مشیر گزشتہ حکومتوں میں بھی اہم ترین عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ اس لیے وہ لوگ حق بجانب ہیں کہ یہ اتنے ہی قابل ہوتے تو پاکستان اس حال کو پہنچتا ہی کیوں۔۔ اس وقت عوام کو سیاست کی تماشا گری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ انہیں تو یہ پتا ہے کہ وہ عمران خان کی حکمرانی میں اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کے قابل بھی نہیں رہے۔۔ کیونکہ پاکستان اشرافیہ کے لئے کسی جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں ۔ یہ واحد ملک ھے جہاں
    15-20 ہزار ماہوار کمانے والا تو ادویات، ٹیکس اور بلز سمیت تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا پابند ھے لیکن لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے عوام کے خادموں اور ملازموں کے لئے پیٹرول بلز اور دیگر تمام سہولیات زندگی مفت ہیں-

    ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس وقت اصولی سیاست کے بجائے وصولی سیاست ہو رہی ہے۔ کیونکہ اصولی طور پر تو عمران خان کو اپنے اس بیان کی لاج رکھنی چاہیے تھی کہ میں کسی کی بیساکھیوں کے سہارے ہرگز اقتدار میں نہیں آئوں گا اور مجھے حکومت کی تشکیل کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا قبول کرلوں گا پر اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک نہیں ہونگا۔ مگرعمران خان نے اصولی سیاست کے نعرے لگاتے ہوئے اقتدار کے حصول کیلئے ہر وہ کام کیا جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نہیں کریں گے ۔ یوں دیکھا جائے تو عمران خان کی اقتدار کی ہوس نے تبدیلی جنازہ نکال دیا ہے ۔ ۔ سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ اور یہ ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے ہیں ہی نہیں ۔ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ مگر پی ٹی آئی بھی کسی بھی لحاظ سے ان سے کم نہیں ۔ اسلیے عوام کی بس ہو چکی ہے ۔۔ حالت یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس نئے پاکستان سے بہتر تھا۔۔ اس لیے اب عمران خان کوبہت جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ مزید ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا ۔ کیونکہ عمران خان سے حساب مانگنے اور پی ٹی آئی کا احتساب کرنے کا وقت آن پہنچا ہے

  • "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    آج صبح میئو اسپتال لاہور میں جانا ہوا. وہاں OPD پر پرچی کے لیے لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں. خواتین کی لائن میں بھی خواتین کی کثیر تعداد تھی اچانک ایک کالے کوٹ اور سفید سوٹ میں ملبوس خاتون (ان کے میک اپ اور شکل پر تبصرہ نہیں کیونکہ وہ ذاتی معاملہ ان کا) لائن کو کراس کرتے ہوئے بالکل فرنٹ پر آن موجود ہوئیں. وہاں پہلے سے موجود خواتین جو بےچاری لمبے انتظار کے بعد آگے پہنچی تھی ان کو غصہ آیا اور انہوں نے "کالے کوٹ” والی محترمہ کو روکنا چاہا…
    اسی اثنا میں سیکیورٹی پر معمور نوجوان آگے آیا اور اس نے ان محترمہ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں تو محترمہ نے کہا میں نے پرچی بنوانی ہے. سیکیورٹی والے نوجوان نے کہا کہ باجی آپ لائن کے پیچھے تشریف لے جائیں اور اپنی باری پر آکر پرچی بنوائیں تو کالے کوٹ میں ملبوس خاتون نے جو جواب دیا وہ "آب زر” سے لکھوا کر ہر عدالت اور ہر وکلاء بار کے دروازوں پر آویزاں کرنے کی ضرورت ہے …

    محترمہ نے باآواز بلند "فرمایا” بلکہ دھاڑا کہ ” میں ایڈووکیٹ ہوں میں اب لائن میں لگوں گی کیا” ….

    قانون پڑھنے پڑھانے والوں، قانون کی بالادستی کے نعرے لگانے والوں اور قانون کی کمائی کھانے والوں کا یہ وہ رویہ ہے جو قدم قدم پر آپ کو باور کرواتا ہے کہ وہ "اعلیٰ ارفعٰ” ہیں اور باقی عوام کمی کمین ہے. یہ جب چاہتے جہاں چاہتے بدمعاشی شروع کردیتے ہیں. پنجاب انسٹیوٹ پر ان کا حملہ ایسے تھا جیسے کوئی فاتح لشکر کسی مقبوضہ علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجاتا ہے.
    یہ رویہ درست ہوئے بغیر معاشرے کی اصلاح اور ترقی ناممکن ہے. کوئی قانون ان قانون دانوں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے بھی ہونا چاہیے.

    محمد عبداللہ

  • پہلی ملاقات کے لیے 10 لباس ، پہلی ملاقات  پر لڑکی کو کیا پہننا ہے؟؟

    پہلی ملاقات کے لیے 10 لباس ، پہلی ملاقات پر لڑکی کو کیا پہننا ہے؟؟

    اپنی پہلی ملاقات پر باہر جانا ہمیشہ ایک خاص موقع ہوتا ہے۔ آپ ہمیشہ اپنی بہترین نظر آنا چاہیں گے، چاہے وہ آپ کے کپڑوں میں ہو، آپ کے میک اپ یا لوازمات میں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے پہلی تاریخ کے لیے کچھ پیارے کپڑے درج کیے ہیں جو آپ کو مکمل طور پر ہیڈ ٹرنر بنا دیں گے۔

    پینے کے لئے پہلی تاریخ پر کیا پہننا ہے؟ پلس سائز کیزول ڈیٹ کا لباس یا کافی ڈیٹ کا لباس کیا ہونا چاہئے؟ گرمیوں کے لیے پہلی تاریخ کے بہترین لباس کون سے ہیں؟ آپ کی کتنی خواہش تھی، آپ کے پاس کوئی تھا جو آپ کو ان تمام چیزوں پر مشورہ دے… ٹھیک ہے، میں آپ کو بہترین نظر آنے میں مدد کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ میرے پاس آپ تمام خواتین کے لیے 10 لباسوں کے لیے آئیڈیاز ہیں اور اس بارے میں بھی آئیڈیاز ہیں کہ آپ انہیں لوازمات، میک اپ کے ساتھ ساتھ کیسے رکھ سکتے ہیں اور شاندار شکلیں بنا سکتے ہیں۔
    آرام دہ اور پرسکون لباس سے لے کر موسم سرما کی پہلی تاریخ تک، جینز کے جوڑے میں ڈیٹ نائٹ لباس کو کیسے روکنا ہے، میں نے یہ سب ایک ساتھ رکھا ہے۔ آئیے کچھ پہلی تاریخ کے لباس پر ایک نظر ڈالیں جن کی خواتین قسم کھاتی ہیں۔
    پہلی تاریخ کے لباس کا پتہ لگانا ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔ آپ موسم، دن کے وقت وغیرہ کی بنیاد پر ان تمام امکانات اور تمام شکلوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو آپ ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آپ کیا پہننا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسا پہنیں جس سے آپ کو اچھا لگے۔ اگر آپ کو اپنا لباس یا اپنے جوتے یا اپنے بال پسند نہیں ہیں تو آپ کا وقت اچھا نہیں گزرے گا۔
    آخری چیز جو آپ پہلی تاریخ پر چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ واضح ہو کہ آپ بے چین ہیں۔ پہلی ملاقات کے لیے ایک اچھا لباس کسی کو یہ دکھانے کا ایک چھوٹا سا طریقہ ہے کہ آپ ان کی پرواہ کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ساتھ ان کے وقت میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔
    یہ آپ کی بڑی رات ہے! آپ مہینوں سے اس لمحے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن اب جب کہ تاریخ آ گئی ہے، آپ کو یقین نہیں ہے کہ کیا پہننا ہے۔ کیا آپ کو تیار ہونا چاہئے؟ عام کپڑے پہننا؟ جینز پہنو؟ تاریخ کامیاب ہونے یا نہ ہونے میں صحیح لباس اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مجھے پہلی تاریخ کے لیے بہترین لباس تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرنے دیں۔

    1. کلاسیکی شکل
    موسم گرما کچھ ہلکا، ہوا دار اور رنگین پہننے کے بارے میں ہے۔ آئیے ایک بہت ہی بنیادی شکل کے ساتھ شروع کریں جو، تاہم، ایک مطلق کلاسک ہے۔ اور شاید پہلی تاریخ کے لیے بہترین لباس۔ انڈگو یا ہلکے نیلے ڈینم کے جوڑے کے ساتھ ایک سفید لینن کی قمیض/ٹاپ/ٹیونک۔ خاکستری/ٹین پمپ۔ ہلکے زیورات جیسے موتیوں کی جڑیں اور شاید ایک چیکنا انگوٹھی۔
    آنکھوں کا کم سے کم میک اپ استعمال کریں، شاید صرف ایک آئی لائنر۔ ایک بہت ہی عریاں نظر ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔ گہرے خاکستری رنگ کے شیڈز میں لپ گلوس بہت اچھا لگے گا۔ کچھ پھولوں کے لہجوں کے ساتھ اچھی خوشبو چھڑکنا نہ بھولیں۔ اپنی ضرورت کی ہر چیز کو لے جانے کے لیے خاکستری یا ٹین ٹوٹ بیگ۔
    اگر آپ کے بال چھوٹے ہیں تو آپ اسے ڈھیلے چھوڑ سکتے ہیں، بصورت دیگر، آپ بیک کے بالوں کو بن میں بند کر سکتے ہیں۔ براؤن (فریم) کے شیڈز میں دھوپ کا چشمہ لازمی ہے۔ یہ پہلی تاریخ کے لباس میں سے ایک ہے جو لوگ پسند کرتے ہیں اور جس لمحے آپ چلتے ہیں وہ آپ کے آس پاس آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ کافی کی تاریخ کا ایک مثالی لباس ہے۔
    2. کچھ لباس والا آزمائیں۔
    اس نظر کے لیے، میں ڈریپ ڈریس تجویز کروں گا۔ ٹخنوں سے تھوڑا اوپر، تعصب سے کٹا ہوا، پیلے آڑو کے رنگوں میں اور پھولوں کے پرنٹس کے ساتھ گلابی یا شاید ایک کفتان لباس میں رومن سینڈل کے جوڑے کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے۔
    یہ جوڑے آپ کو آزاد اور ہلکے ہونے کا احساس دلائیں گے، آپ کے پیروں کو جھکا ہوا محسوس نہیں ہوگا۔ یہ موسم گرما کے لیے پہلی تاریخ کے بہترین لباس ہیں اور موسم بہار کی تاریخ کے لباس کی طرح واقعی خوبصورت نظر آتے ہیں۔ صرف مکس میں صحیح پہلی تاریخ کی گفتگو کو پھینک دیں، آپ اپنی تاریخ کو ان کے پیروں سے صاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    پہلی تاریخ کے لیے اس جدید لباس کو مکمل کرنے کے لیے ایک ٹین ٹوٹ لے کر جائیں۔ جہاں تک آپ کے بالوں کا تعلق ہے، اسے ڈھیلے ہونے دیں – لفظی اور علامتی دونوں طرح۔ آپ فانوس کے ایئر پیس پہن کر اس شکل کو بڑھا سکتے ہیں۔ میک اپ کے لیے، میں ایک بار پھر ہلکی چیز کی سفارش کروں گا کیونکہ میرے خیال میں عریاں میک اپ پتھروں کو روکتا ہے اور آپ کے لباس سے اہمیت کو دور نہیں کرتا ہے۔ اپنے ہونٹوں کے لیے میٹ ڈیپ بیج استعمال کریں۔
    3. رات کے کھانے کے لیے پہلی تاریخ کا لباس
    اس نظر کے لیے – میں نے اسے یہ سمجھا کہ یہ شام کا نظر آئے گا – میں کلریٹ یا وائن ریڈ گھٹنے کی لمبائی، گردن اور آرم ہول کے گرد سیاہ لہجے کے ساتھ لیلن میں بغیر آستین کا لباس تجویز کرنا چاہتا ہوں۔ کالی دھات میں سیاہ پتھر کے سیٹ میں چوکر کے ساتھ ملبوسات بنائیں۔ یہ پہلی تاریخ کو رات کے کھانے پر پہننے کے لئے مثالی ہے یا رات کے باہر جانے کا ایک عمدہ لباس ہے۔
    اپنے بالوں کو کھلا رکھیں، اپنی آنکھوں اور مارسالہ ہونٹوں کے لیے دھواں دار شکل بنائیں۔ سیاہ نوک دار اسٹیلٹو اور ایک سیاہ کلچ آپ کے جوڑ کو مکمل کریں۔ اگرچہ اس طرح کی پہلی تاریخ کے لباس کے خیالات اس سازگار پہلا تاثر بنانے میں ایک طویل سفر طے کریں گے، لیکن اس کے بعد چیزیں کیسے ترقی کرتی ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ لہذا، ان چیزوں کو ذہن میں رکھیں جو آپ کو پہلی تاریخ پر کبھی نہیں کرنا چاہئے.
    4. آرام دہ اور پرسکون موسم بہار کی تاریخ نظر
    ایک سیاہ فرش کی لمبائی والا جارجٹ لباس جس میں کم پلنگنگ ڈریپ نیک لائن اور اونچی سائیڈ سلِٹس پہلی تاریخ پر پہننے کے لیے خوبصورت لباس بنا سکتی ہیں۔ بالوں کو میس اسٹائل بن میں کیا جا سکتا ہے۔ زیورات کے ٹکڑوں کے لیے، بیان بنانے والے قدیم لمبے ایئر پیس کا ایک جوڑا استعمال کریں۔
    گلے میں کچھ نہیں۔ ایک آکسائڈائزڈ بریسلٹ جس میں کچھ سیاہ کرسٹل/پتھر لگے ہوئے ہیں۔ یقینی طور پر Stilettos اور ایک قدیم دھاتی کلچ۔ کوہل کے ساتھ آنکھوں پر کام کریں اور سرخ لپ اسٹک استعمال کریں۔ گلاب کے لطیف اشارے کے ساتھ ایک خوشبو شام کا آغاز صحیح نوٹ پر کرے گی۔
    5. بارش میں چمکدار رنگ پہنیں۔
    مون سون ہمیشہ تاریک، مدھم اور گیلے ہوتے ہیں، اور کسی حد تک سٹائل ڈیمپنر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس موسم میں متاثر کرنے کے لیے لباس نہیں پہن سکتے تو آپ غلط ہیں۔ چال یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز پہنیں جو عملی ہونے کے ساتھ ساتھ جمالیاتی لحاظ سے بھی خوبصورت ہو۔ ہلکے کپڑے، ڈرامائی میک اپ، اور بھاری لوازمات تمام اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
    مجھے لگتا ہے کہ زنگ جیسی رنگت اداسی کو روشن کر دے گی۔ آف شوڈر جمپ سوٹ مطلوبہ مقدار میں ڈرامہ بنائے گا۔ پچروں کے آرام دہ نسوار کے جوڑے کے ساتھ مل کر پوری شکل میں مناسب مقدار میں آرام دہ اور پرسکون اضافہ کرے گا۔
    سونے اور موتی کے فانوس کی بالیوں کے ساتھ بالوں کو اوپر کی گرہ میں باندھ دیا گیا ہے۔ موتیوں سے جڑی ایک لمبی سونے کی زنجیر کو نیک پیس کی طرح ایک دو بار مڑا۔ خاکستری ہونٹوں کے ساتھ پھیکا گولڈ میک اپ تاریخ کو یادگار بنا دے گا۔ مجموعی طور پر، یہ پہلی تاریخ پر پہننے کے لیے واقعی چند خوبصورت لباسوں میں سے ہے۔
    6. ڈرامائی قمیض کا لباس
    مجھے قمیض کا لباس پسند ہے اور یہ پہلی تاریخ کے لباس کے خیالات میں اعلیٰ ہے۔ ڈرامہ شامل کرنے کی جگہ میں، اگلی شکل اومبری رنگی قمیض کا لباس ہوگا۔ ایک کتان کی قمیض کا لباس جس میں روشن سرسوں کے رنگوں میں رنگے ہوئے ہلکے بھوری رنگ کے لہجوں کے ساتھ سرخ رنگ کے لہجے ہیں۔
    زیورات کے ساتھ لباس کو سونے اور یاقوت کے چھوٹے کانوں کے جڑوں سے نمایاں کریں، تاکہ یاقوت سونے کی بنیاد سے بالکل صحیح مقدار میں چمکے۔ بالوں کو ڈھیلا رکھا جائے۔ میک اپ کو زیادہ قدرتی رکھنا بہتر ہے، صرف ہونٹوں کو روبی ریڈ میں نمایاں کیا جائے۔ سرخ چمڑے اور سرخ چمڑے کے اسٹیلیٹوس میں ایک چھوٹا کلچ اس سب کو ایک ساتھ لانے کے لیے۔
    7. سردیوں میں کچے ریشمی لباس اور بولیرو پہنیں۔
    موسم سرما رومانوی، یکجہتی کا موسم ہے اور اس وجہ سے، آپ کو حصہ تیار کرنا ہوگا. میں آپ کی شکل کو تیز کرنے کے لیے ایک شاندار بولیرو کے لیے ہوں۔ آدھی رات کے نیلے رنگ کی خام ریشمی قمیض کا لباس جس میں گردن کی لکیریں گرے بولیرو جیکٹ کے ساتھ بنائی گئی ہیں یا متضاد ریشم کے استر کے ساتھ کچے ریشم سے بنی ہوئی شرٹ حیرت انگیز کام کر سکتی ہے۔
    صرف چاندی کے زیورات ہی اس لباس کو نمایاں کریں گے۔ لہذا سلور بیس ایئر پیس کے ساتھ نیلم سٹڈز کا جوڑا بہت اچھا لگے گا۔ ایک چاندی کی گھڑی بھی بہت اچھی طرح سے نظر کو مکمل کرے گی۔ پونی ٹیل میں پیچھے سے بنے ہوئے بالوں کو ایک بہت ہی چیکنا اور خوبصورت نظر آئے گا۔ نیلے رنگ میں ہلکا آئی شیڈو اور نیلے آئی لائنر کے ذریعے نمایاں کردہ آنکھیں۔
    ہونٹوں کی چمک کے ساتھ ہونٹ۔ ایک سرمئی سلک کلچ اور سیاہ ہائی ہیل پمپ کا ایک جوڑا نظر کو مکمل کرے گا۔ پودینہ کے اشارے کے ساتھ ایک میٹھی خوشبو جو شام کو کچھ تازگی دے گی۔ آپ کا لباس سردیوں میں آپ کی پہلی تاریخ کے لیے مکمل لگتا ہے۔
    8. ایک پتلون میں جدید
    ہمارے پاس کافی کپڑے ہیں، اب ٹراؤزر اور ٹاپس کے ساتھ مزہ کریں۔ وہ بھی پہلی تاریخ کے لیے ایک بہترین لباس بناتے ہیں۔ چوڑی ٹانگوں والے ہلکے اونی پتلون کے جوڑے کے ساتھ مل کر پن اسٹریپ کی تفصیل والی سیاہ قمیض۔ اوپری ساٹن کے ساتھ نوکیلی ہیلس، دوسری صورت میں طاقتور ڈریسنگ میں نرم صفات شامل کرتی ہے۔
    دونوں کانوں پر چھوٹے ہیرے کی جڑیں، ایک ہلکے ہیرے کا نیک پیس، اور نظر کو مکمل کرنے کے لیے چھوٹے ہیروں سے جڑی ایک انگوٹھی۔ کوہل رمڈ آنکھیں، سرخ لپ اسٹک، اور ایک سرخ چمڑے کے چھوٹے کلچ کے ساتھ ہلکا میک اپ۔
    9. ایک کارسیٹ میں شاندار نظر آتے ہیں
    ایک کارسیٹ اس شکل کی خاص بات ہوگی، جس سے نظر میں اومف کی صحیح مقدار شامل ہوگی۔ بہت سے لوگ کارسیٹ کو پہلی تاریخ کے لئے ایک تنظیم کے طور پر نہیں سوچیں گے، لیکن مجھ پر بھروسہ کریں یہ ایک جرات مندانہ اور شاندار بیان ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اس شکل کے لیے میں ایک خام ریشمی کڑھائی والی کارسیٹ کا مشورہ دوں گا جو سیاہ بھڑکتے ہوئے پتلون کے جوڑے کے ساتھ تیار کیا گیا ہو۔
    جیکٹ کے بجائے، باہر کے دوران کور کے طور پر استعمال کرنے کے لیے سیاہ پشمینہ کا استعمال کریں اور پھر جب گھر کے اندر ہوں تو اسے ہٹا دیں اور شاندار طریقے سے تیار کردہ کارسیٹ کی نمائش کریں۔ نوکیلی ایڑیوں کے سرخ جوڑے کے ساتھ اس کی ٹیم بنائیں۔ گالوں پر ہلکا بلش آن، سرخ ہونٹ (چمکا) اور ہلکی کالی آنکھیں۔ بیضوی شکل میں ایک سیاہ کلچ، جو انداز اور کلاس کو ظاہر کرتا ہے۔ بال گندے پونی ٹیل میں ہونے چاہئیں۔ سونے اور موتیوں کے ایئر پیس کے جوڑے کے ساتھ پہلی تاریخ کے اس شاندار منظر کو ختم کریں۔
    10. پہلی تاریخ کے لیے مکمل طوالت والا سرسوں کا لباس
    ایک پوری لمبائی والا، بغیر آستین کا، A-لائن سرسوں کا لباس جو کمر پر چٹکی ہوئی ہے۔ سامنے اور پیچھے دونوں طرف ایک گہری U کے سائز کی گردن کی لکیر۔ ایک خوبصورت فال اور ڈریپ کے ساتھ بھاری ملاوٹ شدہ ریشم سے تیار کیا گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی کالی کراپ جیکٹ جس میں چائنیز کالر کے ساتھ سرسوں کے لہجے سامنے والے حصے کے ساتھ لباس کو مکمل طور پر مکمل کریں گے۔ کالر پر اور نیچے کے نیچے ہلکے سنہری دھاگے کا کام، کرسٹل کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے۔
    سنہری اور سیاہ فانوس سٹیٹمنٹ ایئر پیس کے ساتھ بالوں کو اوپر کی گرہ میں باندھنا رات کے کھانے کے لیے پہلی تاریخ کا ایک مثالی لباس ہے۔ سنہری اور سیاہ چوکر نیک پیس اور سنہری اسٹیلیٹوز۔ لباس کی تعریف کرتے ہوئے ہلکے سونے کے رنگوں میں میک اپ کرنا چاہیے۔ ہلکے سنہری گلابی ہونٹ۔ سنہری دھاگے کے کام والے کلچ کے ساتھ اس خصوصی شکل کو ختم کریں۔

  • جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟

    جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟

    جب کوئی عورت اس سے دور ہو جائے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟ اگر اس سوال نے آپ کو یہاں تک پہنچایا، تو آپ شاید اس کے بہادر چہرے سے الجھن میں ہوں گے۔ اس کی مبہم سوشل میڈیا کہانیاں زیادہ مددگار نہیں ہیں اور اس کے دوست واقعی نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے۔

    یہ سمجھنا کہ جب آپ چلے جاتے ہیں تو وہ کیا سوچتا ہے ایک معمہ کی طرح لگتا ہے جسے آپ کو حل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن، جیسا کہ پتہ چلتا ہے، یہ واقعی اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ سب کے بعد، مرد واقعی پیچیدہ نہیں ہیں، کیا وہ ہیں؟

    اس کے باوجود، وہ جو ملے جلے اشارے بھیج رہا ہے وہ شاید آپ کا کوئی فائدہ نہیں کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، "U UP؟” صبح 2 بجے کے نشے میں موجود متن نے آپ کے پاس جوابات سے زیادہ سوالات چھوڑے ہیں۔ آئیے آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دے کر آپ کے ذہن کو آرام دیں۔
    سب سے پہلے سب سے پہلے، ایک عورت ایک مرد سے دور چلنا ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نہیں ہو سکتا. وہ جس طرح سے ردعمل ظاہر کرتا ہے وہ آپ کی متحرک، آپ اور وہ جن واقعات سے گزرے ہیں، اور وہ کس قسم کے شخص سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
    اگر وہ اپنے آپ کو "آدمی” ہونے پر فخر کرتا ہے، تو آپ شاید اس کی انا کو لاکھوں ٹکڑوں میں پھٹتے ہوئے دیکھیں گے۔ اس کے بعد غصہ یا ان خطوط پر کچھ اور ہوسکتا ہے۔ اگر، تاہم، آپ نے ایک آدھے مہذب آدمی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تو وہ دو طریقوں میں سے کسی ایک میں ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ یا تو احترام کے ساتھ، یا اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے جدوجہد کر کے۔
    مزید یہ کہ، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جب آپ چلے جاتے ہیں تو وہ کیا سوچتا ہے اس پر بھی عمل ہوتا ہے کہ آپ کب اور کیوں ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر آپ زہریلے حرکیات سے باہر نکل گئے ہیں، تو امکانات ہیں، وہ آپ کے فیصلے پر زیادہ سوال نہیں کر سکے گا۔
    لیکن اگر آپ اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے کے لیے اس سے جوڑ توڑ کرنے کی امید میں چلے گئے ہیں، تو اس کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ فلموں کے برعکس، ہیرو عورت کے جانے کے بعد اس کا پیچھا کرنے کے بجائے صرف "اس کے ساتھ جہنم” کہہ سکتا ہے۔ فلموں میں محبت واقعی اس کی درست نمائندگی نہیں ہے کہ یہ حقیقی زندگی میں کیسی ہے۔
    یہ کہنے کے ساتھ، آئیے اس سوال کے تمام ممکنہ نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہیں، "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” تاکہ آپ اپنے بالوں کو کھینچتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔
    1. اس کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
    "میں کافی اچھا نہیں ہوں، وہ مجھے برداشت بھی نہیں کر سکتی تھی،” ہو سکتا ہے وہ وہی سوچتا ہو جب آپ چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے تناسب کو مسترد کرنا اس کی شخصیت کے رد کی طرح محسوس ہوتا ہے اور اس حقیقت کو قبول کرنا اس کی ذہنی صحت کو نیچے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
    خاص طور پر اگر آپ کی زندگی میں اس کی جگہ کسی اور آدمی نے لے لی ہے، تو یقینی طور پر عدم تحفظ کے مسائل جنم لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر یہ یکطرفہ تعلقات کی طرح لگتا ہے، تو اس کی جگہ لینا تکلیف کا باعث ہے۔
    جب آدمی کسی رشتے سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا غرور برقرار رہتا ہے اور اس کی عزت نفس کم نہیں ہوتی۔ لیکن جب ہم ایک عورت کو مرد سے دور ہوتے دیکھتے ہیں تو اس کا غرور متاثر ہوتا ہے اور دور ہونے سے ذلت ہوتی ہے۔
    2. غم کا خود کو کم کرنے والا مرحلہ: سودے بازی
    ہاں، یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ آدمی سے دور ہونے کی طاقت سودے بازی کی مایوس کن کوشش کو بھڑکا سکتی ہے۔ جو کچھ اس نے کھویا ہے اسے واپس کرنے کی کوشش کرنے کے لیے، وہ شاید وہ سب کچھ کہنے والا ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ مردانہ نفسیات کے سب سے بڑے اجزاء میں سے ایک ہے۔
    چاہے وہ خالی وعدے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کے لیے ہے۔ مواصلات کی کمی جو اچانک واقع ہوئی ہے اسے مایوسی کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے سکتا ہے۔ "میں ایک بدلا ہوا آدمی ہوں گا،” یا "میں بہتر کروں گا، براہ کرم واپس آجائیں،” شاید اس کی زبان آسانی سے نکل جائے، لیکن ان بیانات کے پیچھے عزم اہم ہے۔
    3. آپ کی اپنی دوا کا ذائقہ: غصہ
    سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، وہ رونما ہونے والے واقعات سے ناراض ہو سکتا ہے۔ چاہے یہ سودے بازی ہو یا غصہ جو اس پر زیادہ گرفت رکھتا ہے اس کا انحصار اس شخص پر ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔ اس کے باوجود، یہ کوئی دور کی حقیقت نہیں ہے کہ اسے آپ پر میزیں پھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھیں۔
    اگر یہ سوال، "کیا مرد کسی عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی جاتی ہے؟” آپ کے ذہن میں رہا ہے، جس طرح سے وہ رد عمل ظاہر کرتا ہے وہ آپ کو وہ سب بتائے گا جو آپ کو جاننے کی ضرورت ہے۔ رد کو احسن طریقے سے قبول کرنے کے لیے جذباتی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک، دماغ کی اس ہلچل کی حالت میں، عمل کا بہترین طریقہ انسٹاگرام پر آپ کے نام کے ساتھ والے "بلاک” بٹن کو مارنے جیسا نظر آتا ہے۔
    اس سوال کا ایک اور ناگوار جواب، "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” یہ ہے کہ وہ دقیانوسی تصورات قائم کرنا شروع کر سکتا ہے۔ اس کے کندھے پر لگی چپ مستقبل کے رومانوی مفادات کی طرف گہرے بد اعتمادی کے جذبات کو جنم دے سکتی ہے۔
    نتیجے کے طور پر، ایک آدمی سے دور چلنے کی "طاقت” ختم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں اس کے لیے تعلقات کو نقصان پہنچانے کا ایک چکر بن سکتا ہے۔ وہ اعتماد کے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور یہاں تک کہ اسے کھولنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، ان دقیانوسی تصورات سے بچنے اور ان پر قابو پانے کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔
    4. "مجھے اپنی محبت ثابت کرنے کی ضرورت ہے”
    "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” کا جواب وہ جس چیز سے متاثر ہوا ہے اس سے بھی تشکیل پا سکتا ہے۔ بڑی اسکرین نے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے شراب نوشی اور غم کے دور سے گزرنے والے مردوں کو رومانٹک بنایا ہے۔ ان فلموں میں، دور چلنا پرکشش انتخاب ہے۔ اس کے بعد، ہم اس آدمی کو غم سے لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں جب کہ اس کی محبت کو "ثابت” کرنے کے لیے کچھ بڑا کام بھی کرتے ہیں۔
    یہ ممکن ہے کہ محبت کو کیا سمجھا جاتا ہے اس کا یہ ناقص خیال اسے اسی طرح کے مرحلے سے گزرنے پر مجبور کر دے۔ اسے اب اپنی محبت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اشارہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔
    کیا مرد عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی جاتی ہے؟ کچھ معاملات میں، فلموں سے متاثر ہو کر، اس طرح کا رد کرنا اس کے لیے اپنے کھیل کو تیز کرنے کی دعوت کی طرح لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ صورتحال کو قبول نہ کرنے اور آگے بڑھنے کے عمل میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔
    5. تنہا ہونے کے بارے میں گھبراہٹ
    جب کوئی آدمی کسی رشتے سے دور ہو جاتا ہے، تو اسے عام طور پر تنہا محسوس کرنے کی فکر نہیں ہوتی۔ تاہم، جب عورت مرد سے دور ہوتی ہے، تو گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اور جب گھبراہٹ ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد کی جانے والی حرکتیں عام طور پر زیادہ منطقی نہیں ہوتیں۔
    جب کوئی شخص اپنی خواہش سے محروم ہوجاتا ہے، تو ایک کمیابی ذہنیت غلط فیصلہ سازی کا باعث بن سکتی ہے۔ "مجھے مسترد کر دیا گیا ہے، میں اکیلے مرنے جا رہا ہوں،” ہو سکتا ہے کہ آپ کے چلے جانے پر وہ کیا سوچتا ہے۔
    آپ کو زیادہ حیران نہیں ہونا چاہئے اگر وہ صحت مندی کے رشتے میں کودتا ہے یا اسراف خریداری کرنا شروع کردیتا ہے۔ آئیے صرف امید کرتے ہیں، سب کی خاطر، کہ یہ "آپ کے 50 کی دہائی میں لیمبوروگھینی خریدنے” کے مرحلے پر نہیں جائے گا۔
    6. وہ مجرم محسوس کرنے لگے
    اگر آپ نے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی طرف سے زہریلا سلوک دکھایا گیا ہے، تو یہ ممکن ہے کہ آدمی سے دور جانے کی طاقت اسے احساس دلائے گی کہ اس نے کیا غلط کیا ہے۔
    رشتے میں رہتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ وہ اس نقصان سے اندھا ہو گیا ہو جو وہ پہنچا رہا تھا، لیکن اس کے حقیقی نتائج کو دیکھ کر، وہ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے کے بعد وہ جو راستہ اختیار کرتا ہے اس کا انحصار اس شخص پر ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔
    وہ خلوص دل سے معافی مانگنے کا انتخاب کر سکتا ہے، یا ہو سکتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ذمہ داری لینے سے گریز کرنا چاہے۔ جب تک آپ بندش کی تلاش میں نہیں ہیں اور صرف چیزوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کرتا ہے۔
    7. وہ آگے بڑھنے کے موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    کیا مرد اس عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی گئی ہے؟ یہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کا شخص ہے، لیکن اگر وہ اس قسم کا شخص ہے جس کا احترام کیا جائے گا، تو وہ شاید اسے آگے بڑھنے کے موقع کے طور پر دیکھے گا۔
    اگر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ شخص جو باہر چلا گیا ہے اسے ماضی میں چھوڑنا بہتر ہے، تو آگے بڑھنا ایک اچھا خیال لگے گا۔ یہ خاص طور پر اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسے بہت واضح طور پر جوڑ توڑ کی وجوہات کی بنا پر باہر کر دیا گیا ہو۔
    کوئی بھی ہٹائے جانے کی تعریف نہیں کرتا ہے اور اسے صرف یہ احساس ہوسکتا ہے کہ وہ دماغی کھیلوں کا مستحق نہیں ہے جس کا اسے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لہذا اس سے پہلے کہ آپ اپنی تمام امیدوں کو کسی قسم کا نقطہ نظر بنانے کے لئے دور چلنے کی طاقت پر لگائیں ، جان لیں کہ وہ نتیجہ کے طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔
    اب جب کہ آپ اس سوال کا جواب جان چکے ہیں، "جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” آپ شاید کچھ اور سوچ کے ساتھ حکمت عملی سے رجوع کریں گے۔ آپ کے تعلقات کی حرکیات اس کے اعمال اور رد عمل میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں، اور یہاں واقعی ایک ہی سائز کے فٹ ہونے والا طریقہ نہیں ہے۔ امید ہے کہ، اب جب کہ آپ کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ ایک عورت مرد سے دور چلتی ہوئی اس کے ساتھ کیا کرتی ہے، تو آپ اپنے دماغ کو اس کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں چھوڑیں گے۔

  • اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں دفاعی میزائل نظام ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ امریکی صدر نے سال کے آخر میں اسرائیل کے دورے کا عندیہ بھی دیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرجو بائیڈن اوراسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نےٹیلی فونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ بالخصوص شام، ایران اور افغانستان میں سیکیورٹی معاملات کے علاوہ دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ…

    دونوں رہنماؤں نے 4 سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے جانے والے میزائل اور گولوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دفاعی نظام آئرن ڈوم سسٹم کی تیاری پر اتفاق کیااس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے امریکی تعاون اور ٹھوس حمایت پر صدر بائیڈن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیراعظم بینیٹ نفتالی کو بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں اسرائیل کا دور ہ کریں گے جب کہ شام میں امریکی فوجی کارروائی میں داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی ہلاکت پر بھی گفتگو کی گئی۔

    علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی جس میں خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    خیال رہے امریکی ثالثی میں اسرائیل کیساتھ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت 4 عرب ممالک نے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرلیے تھے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور روس پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یوکرائن پر حملہ کرنے والا ہے۔

    روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے باعث مغربی ممالک سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سرگرم ہو گئے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے بھی تناؤ میں کمی کے لیے کمر کس لی ہےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ فوج کشی کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے جس کے باعث فرانسیسی صدر اپنے روسی ہم منصب سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا ہے۔

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی…

    یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں ادھر یوکرائن نے مغربی ممالک کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم روس کے جلد حملہ کرنے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرانسیسی صدر نے یوکرائن، روس اور مغربی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یوکرائن کے مسئلے پر امریکی صدر جوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس کے بعد آج وہ روسی صدر سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ اگلے روز یوکرائن جائیں گے۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    اسی طرح جرمنی کے چانسلر نے یوکرائن میں اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے اور وہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے لیے پُرامید بھی ہیں جرمنی نے یوکرائن اور روس تنازع میں امریکی مؤقف کی حمایت کی ہے تاہم جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر اقتصادی پابندی کے باعث توانائی کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جو کورونا سے نبرد آزما دنیا کیلیے ایک اور امتحان ہوگا۔

    واضح رہے کہ روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن چینی ہم منصب سے ملنے بیجنگ کے دورے پر گئے تھے جہاں چین کو گیس فروخت فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا تھا جب کہ امریکا نے روس یوکرائن جنگ کے باعث ممکنہ توانائی بحران پر قطر کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔

    پیرو میں مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ،ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق

  • وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    سوات: پاکستانی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے وادی سوات کے شہر بریکوٹ میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت کرلی ہے –

    باغی ٹی وی : پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ اس علاقے کے دوسرے آثارِ قدیمہ 150 اور 100 سال قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ ان سے بھی زیادہ قدیم ہےان کا خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبلِ مسیح میں چندرگپت موریا کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس خیال کی حتمی تصدیق ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے بعد ممکن ہوگی جس میں کچھ وقت لگے گا۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    بریکوٹ (Barikot) اس زمانے میں علاقہ گندھارا تہذیب کے اہم شہروں میں بھی شامل تھا جسے قدیم یونانی اور اطالوی مؤرخین نے ’’بزیرا‘‘ اور ’’واراستھانا‘‘ بھی لکھا ہے اپنے منفرد ماحول کی بنا پر یہاں سال میں دومرتبہ گندم اور چاول کی فصلیں اگائی جاتی تھیں یہ فصلیں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ ان کی اضافی پیداوار دوسرے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی تھی۔

    قدیم بدھ مت کے اہم مراکز میں شامل ہونے کے باوجود، اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کہ بریکوٹ میں بدھ مت کی آمد کیسے ہوئی اور وہ کس طرح یہاں مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے قدیم ترین مقبرے سے اس بارے میں جاننے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم جب چوتھی صدی قبلِ مسیح میں ہندوستان پر حملہ کرنے کےلیے یہاں سے گزرا تو زرخیز مقام دیکھ کر اس نے پہلے بریکوٹ پر قبضہ کیا اور اپنی فوج کےلیے وافر مقدار میں گندم اور دیگر اناج جمع کرنے کے بعد آگے بڑھا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    واضح رہے کہ پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے وسیع البنیاد اشتراک سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گندھارا تہذیب کے آثارِ قدیمہ پر 1955 سے کام جاری ہے جسے متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی ثقافتی اداروں کی سرپرستی بھی حاصل ہےیہ ایشیا میں آثارِ قدیمہ کا سب سے پرانا عالمی مشن بھی ہے جسے 67 سال ہونے والے ہیں۔ اس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر لیوکا ماریا ہیں جن کا تعلق کفوسکاری یونیورسٹی، وینس سے ہے بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا یہ سلسلہ اس سال بھی جاری رہے گا کیونکہ ماہرین کو یہاں سے مزید دریافتوں کی پوری امید ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    خیال رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس پاکستان میں بدھ مت کے دور کی پینٹنگز دریافت ہوئی تھیں جو ماہرین کے مطابق دو ہزار سال قدیم ہیں یہ پینٹنگز فریسکو آرٹ میں بنائی گئی ہیںریسکو آرٹ کا آغاز کیسے ہوا، اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ فریسکو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور فریسکو پینٹنگز کا آغاز اٹلی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ہوا یعنی آج سے تقریباً سات سو سال قبل ہوا تھا اس بارے میں مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ 3300 قبل عیسوی یعنی زمانہ قدیم میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پینٹنگز کا ذکر سامنے نہیں آیا۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    پاکستان میں بدھ مت کی مذکورہ دریافت میں ایسے نایاب فن پارے ملے تھے جو تقریباً دو ہزار سال قدیم ہیں۔ اس دریافت کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ کا آغاز اس خطے میں بدھ مت کے دور میں ہو چکا تھا جبکہ مصر میں زمانہ قدیم میں اس فن کے آثار پائے جاتے تھے پاکستان میں خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے قریب عباس چینہ میں بدھ مت دور کا ایک بڑا کمپلیکس دریافت ہوائے یعنی یہ تخت بھائی کی طرح ایک بڑا علاقہ ہے جہاں پر متعدد ایسے آثار ملے ہیں جو دو ہزار سال قدیم ہیں۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

  • سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر“پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر“پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور:سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر “پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف آواز اور مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

     

     

     

     

    تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو یکجہتی کشمیر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،کشمیر یوتھ الائنس کیجانب سے #5thFebKashmirSolidarityDay ہیش ٹیگ 4 فروری شام 6 بجے جاری کیا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں 800 سے زاہد سوشل میڈیا صارفین نےحصہ لیا اور یہ ہیش ٹیگ دنیا بھر کے 16.1 ملین سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا، جبکہ کشمیر سے متعلق دیگر ٹرینڈ بھی ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل رہے۔

     

    اس موقع پر سربراہ کشمیر یوتھ الائنس ٹیوئٹر ٹیم محمد اختر کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ کشمیر یوتھ الائنس اسی جذبے اور مستعد قدمی سے ہندوستان کا مکروہ چہرہ عالمی برداری کے سامنے بے نقاب کرتا رہے گا کہ کس طرح بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کرتے ہوۓ جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

    مزید یہ کہ اب مسئلہ کشمیر محض دنوں پر محیط نہیں رہے گا بلکہ اب پورا سال ٹرینڈ کے ذریعہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرتے رہیں گے۔

  • فتح چھینی نہیں جاتی:عطا کی جاتی ہے      :بابراعظم کی قیادت میں کراچی کنگزکومسلسل 5ویں شکست

    فتح چھینی نہیں جاتی:عطا کی جاتی ہے :بابراعظم کی قیادت میں کراچی کنگزکومسلسل 5ویں شکست

    لاہور:فتح چھینی نہیں جاتی بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے:بابراعظم کی قیادت میں کراچی کنگزکومسلسل 5ویں شکست،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے42 رنز سے فتح سمیٹ لی اور کراچی کنگز کو مسلسل پانچویں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا پہلا مرحلہ جاری ہے ، ایونٹ کے 14ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کے قائد بابر اعظم کو فیلڈنگ کی دعوت دی تھی۔

    کراچی کنگز اننگز

    178 رنز ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی جانب سے کپتان بابر اعظم اور شرجیل خان نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم شرجیل خان 6 اور کپتان بابر اعظم صرف 8 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے، صاحبزادہ فرحان نے 25 رنز بنائے ، مگر وہ رن آؤٹ ہوکر واپس لوٹ گئے، آئن کوکبین 2، عماد وسیم 9 اور لوئس گریگوری 15 سکور بناکر وکٹ گنوا بیٹھے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کپتان شاداب خان نے 4، حسن علی، وقاص مقصود اور محمد وسیم جونیئر نے 1،1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔کراچی کنگز کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ اننگز

    کراچی کنگز کے خلاف یونائیٹد کی جانب سے پال سٹرلنگ اور الیکس ہیلز نے اننگز کا آغاز کیا۔

    پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹ کے نقصان پر177 رنز بنائے، پال سٹرلنگ 39، الیکس ہیلز 30، کپتان شاداب خان 29 اور آصف علی 10 ،اعظم خان 16 اور کولن منرو 33 رنز بنا کر پویلین لوٹے، کراچی کنگز کے عماد وسیم، عثمان شنواری، محمد نبی اور عمید آصف نے ایک، ایک وکٹ اپنے نام کی جبکہ کرس جورڈن نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

     

    کراچی کنگز سکواڈ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کراچی کنگز کے سکواڈ میں کپتان بابر اعظم، شرجیل خان، آئن کوکبین، محمد نبی، صاحبزادہ فرحان، لوئس گریگوری، عماد وسیم، کرس جورڈن، عمید آصف، محمد طہٰ خان اور عثمان شنواری شامل ہیں۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ سکواڈ

    کراچی کنگز کے خلاف اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ میں کپتان شاداب خان ، الیکس ہیلز، پال سٹرلنگ، کولن منرو، آصف علی، اعظم خان، مبصر خان، فہیم اشرف، محمد وسیم جونیئر، حسن علی اور وقاص مقصود شامل ہیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ فتح کا تعلق شخصیات ، رعب اور قوت سے نہیں بلکہ کامیابی ہمیشہ عاجزی اور انکساری میں ہوتی ہے اور یہ اللہ کے فضل کے سوا ممکن نہیں‌، اس موقع پر سمجھ لینا ضروری ہے کہ اگر ٹیم بابر اعظم کی وجہ سے جیتتی رہی توبابراعظم کی قیادت میں اب بھی کراچی کنگز کو جیتنا چاہیے تھا ، لیکن ایسا نہیں ہے ،دوسرا اس میں یہ بھی پیغام ہے کہ وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس جیت میری وجہ سے ہے آج ان کو یہ نظریہ بدل لینا چاہیے کہ جیت کا تعلق فرد اورشخصیات سے نہیں ، بلکہ یہ اللہ کی رحمت ہے جو کسی کے بھی حصے میں آسکتی ہے

  • واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

    واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

    واشنگٹن :واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں قائم ’ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس‘ کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت کو سراہاہے۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے جمع ہونے والے شرکاءنے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کی طرف مبذول کرائی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاکہ وہ اس دیرینہ تنازعے کے حل میں مدد دینے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ” سب کی آزادی: کشمیر کی آزادی“، ”ہم انسانی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں“ ،”جاگوجاگو اقوام متحدہ جاگو“ ،”بھارتی فوج کوکشمیر سے نکال دو“اور ”بھارت: کشمیر کو آزاد کرو“جیسے نعرے درج تھے۔

    اس احتجاج کا اہتمام ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم اورکونسل فار سوشل جسٹس نے کیا تھا۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن کشمیر میں اس کے اقدامات اس کے برعکس ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو درست کرنے کے بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی اپنی دہشت گردی کو قانونی شکل دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموںو کشمیر میں نافذ کیے گئے کالے قوانین سے ایک ایسی صورتحال بن گئی ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے بھارتی فورسز کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

    ڈاکٹر فائی نے کہا کہ یہ قوانین بھارتی فوج کو مکمل استثنیٰ کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گھناونے جرائم کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے شعور کے باوجود بھارت کشمیر میں بے گناہ شہریوں کو قتل اور تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انسانی حقوق کے نگران ادارے بھارت کو اس طرح کشمیر کے لوگوں کو قتل، تشدد اور معذور بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    انہوں نے کہاکہ آزاد دنیا کے رہنما کی حیثیت سے امریکہ پر یہ فرض ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں قائدانہ کردار ادا کرے۔کونسل فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر زاہد بخاری نے کہا کہ ان کی تنظیم نے ہمیشہ بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہارکرنے کے لیے یہاں موجود ہیں جو دنیاکی سب سے بڑی کھلی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم کے پروفیسر امتیاز خان نے کہا کہ بھارتی فوج نے ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہریوں کا قتل عام کیا جو بھارتی قبضے کے خلاف پرامن مظاہرے کررہے تھے۔ ہزاروں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، 10ہزر سے زائد لاپتہ افراد اور اجتماعی قبروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ مظالم 5 اگست 2019 کے بعد کئی گنا بڑھ گئے جب دفعہ 370اور A 35کو منسوخ کیاگیا جن کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ پروفیسر خان نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کوخوفزدہ کرنے کے لیے ان پرمظالم ڈھا رہی ہے تاکہ وہ حق خودارادیت کے بارے میں بات بھی نہ کریں۔

  • یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    یمن میں فوڈ ڈلیوری کے لیے گھوڑوں کا استعمال

    یمن میں مقامی افراد نے کھانے پینے کی اشیاء کو گھروں تک پہنچانے (ہوم ڈلیوری) کے لیے گھوڑوں کا استعمال کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غییر ملکی میڈیا کے مطابق یمنی دارالحکومت صنعاء میں ایک ڈلیوری کمپنی نے اپنے صارفین کی طلب کردہ اشیاء کی حوالگی کے واسطے گھوڑوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

    شہزادہ چارلس بادشاہ اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر ملکہ برطانیہ ہوں گی،ملکہ الزبتھ نے اعلان کر دیا


    سوشل میڈیا پر صنعاء کے ایک ریستوران کی تصاویر گردش میں آ رہی ہیں ریستوران انتظامیہ گھوڑوں کے ایک مجموعے کے ذریعے مطلوبہ کھانے گاہکوں کے گھروں تک پہنچا رہی ہے۔


    سوشل میڈیا پر صارفین نے اس اقدام کو دور جاہلیت اور جدید زمانے کا امتزاج قرار دیا ہے اس اقدام کی وجہ صنعاء میں پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت اور ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت کا سلسلہ موقوف ہوجانا ہے صارفین کے لیے اشیاء گھروں تک پہنچانے والے مذکورہ گھوڑ سواروں کو "فرسان التوصیل” کا نام دیا گیا ہے۔

    لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں


    یمنی شہریوں کے مطابق صنعاء اور حوثیوں کے زیر قبضہ دیگر صوبوں میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایندھن کے اسٹیشنوں پر فروخت کا سلسلہ مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔

    بلیک مارکیٹ میں ایک گیلن (تقریبا 20 لیٹر) پٹرول کی قیمت تقریبا 25 ہزار یمنی ریال پہنچ چکی ہے یہ قیمت 40 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے