Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    عورت اور اسلام،تحریر،ام سلمیٰ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    اسلام میں عورت کا بہت خوبصورت اور بلند مقام ہے.

    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے والی پہلی شخص تھی.
    زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل عورتوں پیدا ہوتے دفنا دیا جاتا تھا اور ماہواری کے دونوں میں گھر سے نکال دیا جاتا تھا لیکن اسلام آنے کے بعد اسلام نے عورتوں کے حقوق کا صحیح طرح تحفظ کیا.اور معاشرے میں ان کے اہم کردار کی صحیح طرح تشریح کی عورت ماں ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود کو ماں کے پیار سے تشبیہہ دی۔

    غلط فہمیوں کے باوجود اسلام میں عورت کی حیثیت ایک محبوبہ کے برابر ہے۔ ایک گہرے جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی منفرد شراکت کا جشن منانا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرنا اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلانا۔

    اکثر لوگ آپ کو بحث کرتے نظر آتے ہیں کے عورتوں کے ساتھ معاشرے میں زیادتی ہوتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کے آخر معاشرے میں ہوتی عورت کے ساتھ زیادتی کی وجوہات کیا ہیں؟؟
    اسلام میں خواتین کے بارے میں بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے پیدا ہوتے ہیں،خاص کر ہمارے پڑوسی ملک کے ساتھ پارٹیشن سے پہلے کچھ غلط رسم و رواج شامل ہوئے جو کے ہم معاشرے میں آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں.
    جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی توہین کرتے ہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے براہ راست مخالف بھی ہیں۔ .

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام عورت کو عزت دینے، اس کی حفاظت کرنے، اسے بنی نوع انسان کے بھیڑیوں سے بچانے، اس کے حقوق کی حفاظت اور اس کے درجات کو بلند کرنے کے لیے آیا ہے۔

    تاریخ، ثقافت اور مذہب کے درمیان تمام الجھنوں کے ساتھ، اپنے آپ سے سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن اور احادیث اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں ہمیں کیا درس دیتی ہیں؟

    اسلام ہمیں صنفی مساوات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔

    قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا ایک ہی روح سے پیدا ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر مجرم، یکساں ذمہ دار اور یکساں قابل قدر۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک پاکیزہ حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور عورت – اور ہمیں اس پاکیزگی کو ایمان کے ساتھ ساتھ نیک نیتوں اور اعمال کے ذریعے برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    مساوات کا موضوع دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعے بھی چلتا ہے۔ قرآن کی ایک اہم آیت میں ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔

    یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔

    ایک اور قرآنی آیت میں عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جو کوئی مرد ہو یا عورت، نیک عمل کرے گا اور ایمان لائے گا، ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دیں گے۔‘‘ (16:97)

    اسلام سے قبل یورپ سے لے کر عربی دنیا تک عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام بذات خود جزیرہ نما عرب میں پیدا ہوا، جو اب سعودی عرب ہے، جہاں خواتین کے پاس کاروبار، جائیداد یا وراثت میں پیسہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لیے تعلیم نایاب تھی، اور لڑکیوں کو اکثر پیدا ہوتے پھینک دیا جاتا تھا یا زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اور ان کی کاروباری زوجہ، خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت سے غیر منصفانہ طریقوں کے خلاف کھڑے ہوئے، مردوں کو عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق، تمام زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مردوں اور عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کریں اور ان پر کبھی زبردستی نہیں کی جانی چاہیے۔

    اسلامی قوانین کے تحت خواتین کو جائیدادیں بیچنے اور خریدنے، کاروبار چلانے، شادی کے دوران کسی بھی موقع پر اس سے جہیز کا مطالبہ کرنے، ووٹ ڈالنے اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق بھی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے کئی اسلامی ممالک میں خواتین صدر رہ چکی ہیں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک مساوی رسائی کو بھی فروغ دیا، ہمیں یہ سکھایا کہ، "علم کا حصول ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محترم تھیں۔ اس سے ثابت ہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اپنی نشست ان کو دے دیتے۔آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے ایسے کئی واقعات ہیں جن سے ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کے کس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات اور اپنے عمل سے بتایا کے ایک اچھے معاشرے میں عورت کی کیا اہمیت ہے.
    سوشل میڈیا پے چلتی عورتوں کی آزادی کی بحث میں پڑنے کے بجائے اسلام میں عورت کے حقوق اور عورت کے کردار کے بارے میں پڑھیں اور ایک اچھے معاشرے کے لیے عورت کے کردار کو صحیح طرح جانیں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    سان فرانسسكو:یوٹیوب نے مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اگرچہ یوٹیوب نے اس کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا لیکن چند مؤقر ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیوب نے مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ آواز پر مبنی پوڈکاسٹ کی ویڈیو اور ڈاکیومینٹری بناسکیں۔

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    رپورٹس کے مطابق یہ رقم 50 یزار ڈالر سے تین لاکھ ڈالر تک ہوسکتی ہے جو انفرادی یا کسی نیٹ ورک کو دی جارہی ہےاسے فلم اور ویڈیو بنانے کے لیے ہی خرچ کرنے کی اجازت ہوگی جس میں کیمرے اور ویڈیو ایڈیٹنگ کی سہولیات بھی شامل ہیں لیکن اس سے واضح ہے کہ یہ پیشکش مشہور اور بڑے پوڈکاسٹر کو کی جائے گی۔

    اگرچہ یوٹیوب ویڈیو پلیٹ فارم ہے لیکن اس پر کئی مشہور آڈیو پوڈ کاسٹ بھی جاری ہیں ان میں ایچ تھریاور فل سینڈ پوڈکاسٹ بھی شامل ہیں۔ یوٹیوب نے اکتوبر سے ہی اس پر کام شروع کردیا تھا۔

    سب سے پہلے کینیڈا کے صارفین کو ایپ کھولے بغیر آڈیو سننےکی سہولت فراہم کی گئی اس کے بعد کائی چوک کو بھرتی کیا گیا تو پوڈکاسٹنگ کا ماہر ہے اور اسے یوٹیوب پر لایا گیا۔ دوسری جانب اسپاٹیفائی نے آڈیو سے ویڈیو تک کا سفر شروع کیا۔

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    دی ورج نامی مشہور ویب سائٹ نے یوٹیوب سے اس کا مؤقف جاننے کے لیے بارہا رابطہ کیا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں مل سکا ہے۔

    قبل ازیں یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا تھا کہ ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

    نٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا تھا کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

  • واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    سان فرانسسكو: واٹس ایپ نے کمیونٹی کو دیگر گروپس سے منفرد اور علیحدہ رکھنے پر کام شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے اپنے دنیا بھر میں موجود 2 ارب سے زائد صارفین کے لیے آئے روز نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں، جن کا مقصد صارفین کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سرفہرست رہنا ہے واٹس ایپ نے اب گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کے لیے ایک نئی تبدیلی پر کام شروع کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

    ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے کمیونٹی کو دیگر گروپس اور نمبروں سے علیحدہ رکھنے کے لیے ایپ میں ایک نیا ٹیب شامل کیا ہے، جس پر کلک کرنے کے بعد تمام گروپس نظر آجائیں گے۔

    غیرمصدقہ اطلاع کے مطابق صارف جب مستقبل میں واٹس ایپ کھولے گا تو بائیں جانب کمیونٹی گروپ کا نشان نظر آئے گا، جس پر کلک کرنے کے بعد تمام گروپس نظر آجائیں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ چیٹ کے حوالے سے ایک بہترین فیچر کو آزمائشی طور پر متعارف کرا یا تھا نئے فیچر کا نام ‘کمیونیٹیز’ ہے جس کے ذریعے مختلف گروپس کو ایک ساتھ آپریٹ کرنے کی سہولت ہوگی۔

    صارفین کمیونیٹیز فیچر میں ایک سے زائد گروپس کو ایڈ کرسکیں گے جس کے بعد ممکنہ طور پر ایڈمن یا گروپ میں پیغامات بھیجنے کی رسائی رکھنے والے ممبرز بہ یک وقت تمام گروپس میں میسج کرسکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

  • فٹبال میچ کے دوران شائقین لڑ پڑے،17 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

    فٹبال میچ کے دوران شائقین لڑ پڑے،17 افراد ہلاک،درجنوں زخمی

    میکسیکو:فٹبال میچ کے دوران شائقین لڑ پڑے،17 افراد کے مرنے کی اطلاعات ، تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ میکسیکو میں ایک فٹبال میچ کے دوران شائقین گتھم گتھا ہوگئے جس کے نتیجے میں 22 افراد زخمی ہوگئے جبکہ 17 کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز میکسیکو کی فٹبال لیگ (لیگا ایم ایکس) میں کوئریٹارو اور اٹلاس کے درمیان کھیلے جانے والا میچ میدان میں موجود شائقین کے درمیان لڑائی کی وجہ سے کھیل کے63 منٹ کے بعدختم کردیا گیا۔

     

    رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں نے بھی میدان میں شائقین کے درمیان جھگڑے کو روکنے کی کوشش کی جبکہ اس واقعے میں کم از کم 22 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔

    دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقعے میں17 افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی۔فٹبال میچ میں تماشائی کی پھینکی گئی بوتل کھلاڑی کو جالگی، میچ ختم کرنا پڑگیا

    لیگ کے صدر نے کہا کہ اتوار کے روز کھیلے جانے والے تمام میچز زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے معطل کر دیے گئے ہیں۔انہوں ے کہا کہ اسٹیڈیم میں سیکورٹی کے ذمہ داروں کو مثالی سزا دی جائے گی۔

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان مملکت میں ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ہفتے کے روز ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی (ACES) نے سعودی عرب میں مقامی طور پر ڈرون پے لوڈ سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک عالمی سائنسی کی منتقلی کمپنی کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    سعودی عرب نے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی

    یہ ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی کی جانب سے مملکت میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے لیے ایریل سلوشنز کے نام سے ایک نئی کمپنی کے قیام کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

    نئے معاہدے پر چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ (CETC) کے ساتھ دستخط کیے گئے جو کہ دوہری استعمال کے الیکٹرانکس میں مہارت رکھنے والی سرکاری چینی دفاعی کمپنی ہے۔ یہ دُنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ چینی کمپنی کو ایک تحقیقی اور ترقیاتی مرکز کے قیام میں مدد کرے گی۔

    ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    مختلف قسم کے UAV پے لوڈ سسٹم کے لیے مینوفیکچرنگ ٹیم بشمول کمیونیکیشن یونٹس، فلائٹ کنٹرول یونٹس، کیمرہ سسٹم، ریڈار سسٹم، اور وائرلیس ڈٹیکشن سسٹم، تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے-

    معاہدہ اور کمپنی کی حکمت عملی ویژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ سعودی عرب کا مقصد فوجی صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانا، اسے سعودی معیشت کا ایک اہم معاون بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سرمایہ کاروں کی مدد، اس میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے امید افزا شعبہ اور قومی معیشت میں اس شعبے کی شراکت کو زیادہ سے زیادہ کرنا۔

  • شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا صرف 2 ماہ میں اب تک 9 میزائل تجربات کر لئے ہیں-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا نے اپنے سخت ترین حریف جنوبی کوریا میں انتخابات کے قریب آتے ہی میزائل تجربات میں ضافہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز رواں برس کا نواں میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ مزید ایسے تجربات ہوسکتے ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سے شمالی کوریا نے میزائل تجربات تیز تر کردیئے ہیں اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 27 فروری کو کیا گیا تھا –

    جبکہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں ایک اور ’نامعلوم میزائل‘ فائر کیا ہے۔ شمالی کوریا رواں برس اب تک نو بار مختلف طرح کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر کی طرف ایک نامعلوم قسم کا میزائل فائر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل کا تجربہ تھا۔

    اس بیان کے بعد ہی جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی کہا تھا کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں میزائل فائر کیا ہو۔ جاپان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا کہ مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    سلامتی کونسل نے اس میزائل لانچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل سے متعلق تمام تنصیبات کی سختی سے نگرانی کرے گا۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ تازہ ترین میزائل سونان کے قریب ایک مقام سے لانچ کیا گیا۔ سونان شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کا ایک شمال مغربی ضلع ہے اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا ماضی میں بھی کئی بار اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربے کے لیے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کرتا رہا ہے 27 فروری کو بھی اس نے اپنے جاسوس سیٹلائیٹ سسٹم کا تجربہ بھی یہیں سے کیا تھا۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ میزائل نے زیادہ سے زیادہ 550 کلومیٹر کی بلندی پر 300 کلومیٹر مشرق کی جانب پرواز کی۔ جاپانی وزیر دفاع کے مطابق پرواز کے بعد میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرا۔

    واشنگٹن میں واقع ولسن سینٹر کے ایک فیلو جین لی کا کہنا ہے کہ اس وقت چونکہ تمام تر عالمی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے، اس لیے ہمارے لیے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا یہ وقت بڑا عجیب سا ہےلیکن شمالی کوریا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کے لیے یہ بالکل مناسب بات ہے، جہاں سائنسدانوں کی توجہ نئے ہتھیار تیار کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ وہ اپریل کے وسط میں ہونے والی ایک بڑی فوجی پریڈ میں ان کی نمائش کر سکیں۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے بظاہر میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات سے محض چار دن پہلے کیا ہے۔ اس برس یہ اس کی جانب سے اب تک کا ہتھیاروں کا نوواں تجربہ ہے شمالی کوریا نے جنوری میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر جو خود سے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے بھی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں شمالی کوریا مستقبل قریب میں جاسوسی سٹیلائٹ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل کی تیاری کی بحالی کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں صدارتی الیکشن ہورہے ہیں جس کی ابتدائی ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور اس موقع پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوگیا۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

  • پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے

    پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے

    راولپنڈی :پاک آسٹریلیا ٹیسٹ: اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے،اطلاعات کے مطابق راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستانی بلے بازوں کی آسٹریلیا کے خلاف شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری ہے اور گرین کیپس نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 450 رنز بنالیے ہیں۔

    کھیل کے دوسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 245 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔پنڈی ٹیسٹ کا پہلا روز پاکستان کے نام، گرین کیپس نے ایک وکٹ پر 245 رنز بنالیے

     

     

    پاکستانی بیٹرز امام الحق اور اظہر علی دوسرے روز کے پہلے سیشن میں بھی آسٹریلوی بولرز پر حاوی نظر آئے اور اسی دوران امام الحق نے 150 رنز مکمل کیے۔کھانے کے وقفے کے بعد کھیل کا دوبارہ آغاز ہوا تو اظہر علی نے بھی 8 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 19 ویں سنچری مکمل کی۔

    پاکستان کی دوسری وکٹ 313 رنز پر گری جب امام الحق 157 رنز بنا کر پیٹ کمنز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔پاکستان کی تیسری وکٹ 414 رنز پر گری اور قومی کپتان بابراعظم 36 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

    بابر کے بعد 444 کے مجموعے پر پاکستان نے چوتھی وکٹ گنوائی، امام کی طرح اظہر علی بھی ڈبل سنچری نہ کرسکے اور 185 رنز پر کیچ دے بیٹھے۔

  • مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں کے عارضی ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔جموں وکشمیر کیجول لیبررز یونائیٹڈ فرنٹ کے بینر تلے بڑی تعداد میں ملازمین نے پریس کلب جموں کے قریب جمع ہوکر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

    احتجاج کرنے والے ملازمین باقاعدہ کرنے، کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور زیر التوا اجرت کے اجراءکا مطالبہ کر رہے تھے۔دیہات دفاعی کمیٹیوں(وی سی ڈی) کے خصوصی پولیس افسروں نے جموں خطے کے ضلع ڈوڈہ میں بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انہیں کمیٹیوں کے دیگر اراکین کے برابر لایا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 25 برس سے وی ڈی سی میں بطور ایس پی او خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں تمام مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے فیصلے کے مطابق ان کی تنزلی کی گئی ہے اور ان کا اعزازیہ کم کر کے 4500 سوروپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محکمہ پولیس کے مستقل ملازمین میں شامل کرنے کے بجائے رضاکاروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نےکل ضلع شوپیا ں میں تین کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ نے اشفاق احمد ڈار، ندیم رفیق راتھر اور رئوف مشتاق نجار نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے Khudpora میں ایک چوکی سے گرفتار کیا۔ پولیس نے نوجوانوں کو مجاہد تنظیم کے کارکن قراردے دیا ہے ۔

  • پشاور دھماکہ اور بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    پشاور دھماکہ اور بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    جب سے آسٹریلیا کا دورہ پاکستان کا اعلان ہوا تھا تو ہمارے دشمن تو اسی دن سے سازشیں کرنے میں مصروف ہوگئے تھے ۔ پہلے ای میلز کا سہارا لیا گیا ۔ مگر جب یہ فارمولا کامیاب نہ ہوا تو آج ایک بار پھر پاکستان کو لہو میں نہلا دیا گیا ۔ پشاور قصہ خوانی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں اب تک پچاس سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں ۔ جبکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ بتایا جارہا ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ شدید زخمی بھی ہیں ۔ ۔ عینی شاہدین کے مطابق کالے لباس میں ملبوس خودکش حملہ آور نے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر پانچ سے چھ فائر کیے اور پھر تیزی سے مسجد کے اندر داخل ہوا ۔ اور منبر کےسامنے پہنچ کر خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا ۔ دھماکے کے بعد مسجد کے ہال میں ہر طرف انسانی اعضا پھیل گئے۔ ایک افراتفری کا عالم اور قیامت خیز منظر تھا ۔ ۔ یہ بہت ہی افسوس ناک سانحہ ہے کیونکہ مت بھولیں چوبیس سالوں کی کوشش کے بعد آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی ہے اور اس نے اتنے برسوں تک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہی پاکستان کا دورہ نہیں کیا تھا۔

    ۔ اس دھماکے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ۔ مسجد اور نماز جمعہ کو ہی نشانہ بننا خاص پلاننگ کا حصہ لگتا ہے ۔ اور آج ہی آسٹریلیا پاکستان ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ آپکو یاد ہو تو آسٹریلیا کے ٹور سے پہلے نیوزی لینڈ کا ٹور بھی میچز شروع ہونے سے پہلے ہی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کینسل ہوا تھا ۔ وہ پاکستان آکر واپس چلے گئے تھے ۔ جبکہ انگلینڈ نے بھی طے شدہ دورہ پاکستان ملتوی کردیا تھا۔۔ ہمارے لیے آج یہ ایک تاریخی دن تھا ۔ کیونکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان یہ سیریز کرکٹ سے بڑھ کر تھی۔ حالیہ سیریز سے دنیا کو مثبت اور مضبوط پیغام جانا تھا۔ مگرحکومت کی کوتاہی کے سبب اب دنیا بھر کے میڈیا میں یہ ہیڈ لائنز بننے کے بجائے کہ آسٹریلیا چوبیس سال بعد پاکستان میں کھیل رہی ہے ۔ ہیڈ لائنز یہ چل رہی ہیں کہ پاکستان میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے میں پچاس سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ پھر بھارتی میڈیا تو اس سانحہ کو ایسے رپورٹ کر رہا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم فورا ٹور کینسل کرکے گھر واپس چلے جائے ۔ ۔ دراصل یہ ہمارے دشمنوں کی جانب سے آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان محفوظ نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جو کام حکومت نے کرنے تھے وہ کیوں نہ کیے گئے ۔ جب معلوم تھا کہ یہ کرکٹ سیریز پاکستان میں بے اتنہا مشکلات اور کوششوں کے بعد شروع ہو رہی ہیں تو پورے ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ کیوں نہ گئ ۔ کیوں صرف آسٹریلیا کی ٹیم کو تو خوب سیکورٹی دی گئی مگر باقی ملک اللہ بھروسے چھوڑ دیا گیا ۔ کیا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ دشمن کہیں اور بھی حملہ کرکے یہ ٹور کینسل کروانے کی سازش رچ سکتا ہے ۔ چلیں ٹور نہ بھی کینسل ہو تو کم ازکم ہم کو بدنام کروانے میں تو کامیاب ہوجائے گا ۔

    ۔ ان سوالوں کے جواب اس حکومت کو دینا ہوں گے ۔ کیونکہ سالوں کی کوششوں سے سرزمین پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا تھا ۔ آخر کیوں عمران خان کے دور میں یہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے ۔ ایسا کیا ہے جو اس دور میں حکومت کر نہیں پارہی ہے ۔ ۔ یاد کروادوں آج کے سانحہ کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز پشاور کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور سکیورٹی کے لیے مسجد کے گیٹ پر دو کانسٹیبل تعینات تھے۔ عین شاہدین کے مطابق بھی دہشتگردوں کا ان سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ ۔ مگر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پشاور دھماکے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ بھی جاری نہیں ہوا تھا۔۔ یوں ایک بار پھر حکومت ، عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ اور وزیر اعلی محمود خان کی جانب انگلیاں اٹھ گئی ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر بھی سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے ۔ کہ کیوں اس کو سفارشات کو لاگو نہیں کیا جاتا ۔ کیونکہ حکومت کے لیے میڈیا سے لے سیاسی مخالفین اور پیکا آرڈیننس تو بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ مگر نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گردی پنپ رہی ہے ۔ ۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر کیوں ہم معاملات کو سیریس نہیں لیتے ۔ ایسا واقعہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک سب بڑے سر جوڑ کر بیٹھے ہوتے ۔ اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کا آپریشن اسٹارٹ ہوچکا ہوتا ۔ ۔ شیخ رشید یہ سریز شروع ہونے سے پہلے تو بہت بلند وبانگ دعوے کررہے تھے ۔ مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ دشمن تاک میں بیٹھا تھا ۔ صرف بیانات اور باتوں سے معاملات حل ہوتے تو چاہیے کیا تھا ۔
    ۔ لگتا یوں ہے کہ پورا ملک سیاست میں مگن تھا ۔ حکومت کو ملکی سیکورٹی اور عالمی معاملات سے زیادہ اپنی کرسی بچانے کی فکر تھی ۔ اب بھی حکومت کوئی خاص سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ ہمیشہ کی طرح گنگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے عمران خان نے پشاور دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی وہ ہی رٹا رٹایا بیان جاری کردیا ہے کہ پشاور دھماکا سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سازش کون کررہا ہے ۔ دشمن ہے کون ۔ البتہ شیخ رشید نے بھی چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔۔ مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی کوئی بھی واقعہ ہوجائے فورا انکوئری رپورٹ طلب کرلی جاتی ہے ۔ اسکے بعد اس رپورٹ کا کیا بنتا ہے ۔ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے کہ نہیں ۔ کبھی قوم کو کچھ معلوم نہیں ہوپاتا ۔ مگر جن کے پیارے جاتے ہیں ۔ کبھی ان سے جا کر پوچھیں ان پر کیا گزرتی ہے ۔ ۔ پھر وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم عمران خان کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی پر بریفنگ بھی دی ہے ۔ تو وزیر اعلی کے پی کے محمود خان ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور دیگر نے بھی مذمت کرکے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کیوں سر جوڑ کر نہیں بیٹھ رہی ہے ۔ آخر کیوں دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے کہ وہ جب چاہیں لاہور ہو، پشاور ہو ، کوئٹہ ہو ، کراچی ہو ۔۔۔ حملہ کرکے پاکستان کو destablize کردیں ۔ ۔ پتہ نہیں اسکے بعد بھی عمران خان بضد رہیں گے یا اپنی سوچ کو بدلیں گے ۔ کہ دہشتگرد بات چیت کی زبان نہیں سمجھتے ان کو ان زبان میں جواب دینا ضروری ہے ۔ آپ نے ایک بار بات چیت کی آفر کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے ۔ اب ریاست پاکستان کو ان سے آہنی ہاتھوں سے ڈیل کرنا ہوگا اور جب تک اس پاک سرزمین پر ایک دہشتگرد موجود ہو چین نہیں بیٹھنا چاہیئے ۔ جن جن ہمسایہ ممالک میں انکی محفوظ پناہ گاہیں ۔ ان سے بات بھی کرنی چاہیے کہ یا تو وہ خود ان کا قلع قمع کریں یا پھر پاکستان کو خود کوئی کاروائی یا کوئی اور طریقہ نکالنا چاہیے ۔

    ۔ پھر اوپر سے لے کر نیچے تک جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی بیرونی دشمن دشمن کا راگ الاپانا شروع ہوجاتا ہے ۔ مگر اس دشمن کو کبھی دنیا کے سامنے ایکسپوز کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ کبھی ہمارا فارن آفس ، ہمارا میڈیا اس دشمن کا غلطی سے بھی نام نہیں لیتا ۔ جبکہ بھارت میں کوئی پٹاخہ بھی چل جائے تو تعین بعد میں ہوتا ہے کہ یہ کس نوعیت کا ہوا ہے مگر الزام سب سے پہلے پاکستان پر تھوپ دیا جاتا ہے ۔ ۔ وزیر اعظم عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ رشید اور اداروں کو vigilant ہونا ہوگا کیونکہ اس وقت ملک سیاسی افراتفری کا بھی شکار ہے ۔ اور بلاول بھٹو ایک بڑا لشکر لے کر اسلام آباد جا رہے ہیں ۔ جس میں ہزاروں لاکھوں لوگ موجود ہیں ۔ اگر دہشتگرد لاہور ، بلوچستان اور پشاور میں نماز جمعہ کے دوران حملہ کر سکتے ہیں تو بلاول بھٹو اور انکے لانگ مارچ کو سیکورٹی دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ مت بھولیں ایسی صورتحال میں دشمن تاک میں بیٹھا ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ احتجاج کرنا ، جلسے جلوس اور لانگ مارچ کرنا ہر کسی کا جمہوری حق ہے۔ سیکورٹی دینا حکومت کا کام ہے ۔ مت بھولیں یہ soft target ہیں ۔ خدانخواستہ یہاں کچھ ہوگیا تو دشمن پاکستان کو بڑانقصان اور بڑے مسائل کا شکار کرسکتا ہے ۔ اسی طرح اور بھی چیزوں اور دیگر مقامات پر فورا سیکورٹی ہائی الرٹ کردینی چاہئے جو دہشتگردوں کے لئے آسان ٹارگٹ ہو ۔ پھر یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ آسٹریلین کرکٹ بورڈ کو فوراengageکرلے ۔ ساتھ ہی ہمارے فارن آفس کو بھی چاہیے کہ وہ آسٹریلوی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ کرے ۔ صورتحال سے خود آگاہ کرے ۔ ان کی کرکٹ ٹیم کو جو سیکورٹی اور سہولیات دی جارہی ہیں اس بارے پھر سے آگاہ کرے ۔ کیونکہ پشاور سانحہ کو لے کر بھارتی میڈیا نے تو پراپیگنڈہ بھی شروع کر دیا ہے ۔ اس وقت بھارت کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یہ دورہ آسٹریلیا کینسل ہوجائے ۔ ۔ یاد رکھیں غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ۔ جو ہوگیا اس سے آگے نکل کر سوچنا ہوگا ۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی کامیابی صرف ایک ہی ہے کہ آسٹریلیا کا یہ ٹور خیر خیریت سے ہوجائے ۔ پورے ملک میں دوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو ۔ اگر حکومت ، ادارے اور قوم ملک کر کام کریں تو یہ ناممکن نہیں ۔

  • فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    قاہرہ : جاپان اور مصر کے ماہرین نے فرعون توتنخ آمون کے مقبرے سے ملنے والے ایک شاہی خنجر کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے شہابِ ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی:’میٹیورائٹس اینڈ پلینٹری سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع مقالے کے مطابق اس خنجر کا دستہ سونے سے بنا ہے جس میں موتی جڑے ہیں جبکہ اس کا پھل لوہے کا ہے جس پر سیاہی مائل داغ دھبے پڑ چکے ہیں-

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    آئرن ایج وہ وقت تھا جب لوگوں نے آئرن پروسیسنگ ٹیکنالوجی حاصل کی تھی اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1200 قبل مسیح کے بعد شروع ہوا تھا لوہے کے شہابیوں سے بنے کچھ پراگیتہاسک لوہے کے نمونے کانسی کے زمانے کے ہیں۔

    قدیم مصر کے بادشاہ توتنخمین (1361-1352 قبل مسیح) کے مقبرے میں ایک اچھی طرح سے محفوظ شدہ میٹیوریٹک لوہے کا خنجر ملا تھا۔ پھر بھی، اس کی تیاری کا طریقہ اور اصلیت غیر واضح ہے یہاں، ہم قاہرہ کے مصری میوزیم میں کیے گئے توتنخمین لوہے کے خنجر کے غیر تباہ کن دو جہتی کیمیائی تجزیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

    توتنخ آمون، جسے اکثر ’توتن خامن‘ بھی کہا جاتا ہے، اٹھارواں اور آخری فرعون تھا جو آج سے 3,300 سال پہلے مصر پر حکمران تھا اس کا عظیم الشان مقبرہ 1925 میں دریافت ہوا تھا جس میں سے ہزاروں قدیم اشیاء برآمد ہوئیں، جن پر آج تک تحقیق جاری ہے توتنخ آمون کا شاہی خنجر بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوچکا تھا کہ یہ خنجر اصل میں شادی کا تحفہ تھا جو توتنخ آمون کے دادا ایمن ہوتپ سوم کو سلطنت ’میتانی‘ کے بادشاہ نے دیا تھا جو نسل در نسل ہوتے ہوئے بالآخر توتنخ آمون تک پہنچا تھا۔

    فروری 2020 میں قاہرہ عجائب گھر اور جاپان کے ’چیبا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے ماہرین نے اس خنجر کے بارے میں مزید باتیں جا ننے کےلیے جدید ایکسرے آلات استعمال کئے اس سے پہلے 2016 میں اس خنجر کے پھل پر لگے دھبوں میں نکل اور کوبالٹ دھاتوں کی معمولی مقداریں دریافت ہوچکی تھیں جدید ایکسرے آلات سے 2020 میں نئے مشاہدات سے ان ہی دھبوں میں سلفر، کلورین، کیلشیم اور زِنک بھی معمولی مقدار میں دریافت ہوئے۔

    فرعون کا زمانہ وہ تھا کہ جب فولاد سازی کو بہت خاص ہنرسمجھا جاتا تھاجبکہ لوہے/ فولاد سے بنے خنجروں اور تلواروں کو شاہی تحائف کا درجہ حاصل تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    نئی تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اس خنجر کو تقریباً 950 ڈگری سینٹی گریڈ پر کسی بھٹی میں ڈھالا گیا تھا، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس میں معمولی مقداروالےمادّے (ٹریس مٹیریلز) ٹھیک اسی ترتیب میں ہیں کہ جیسی’فولادی شہاب ثاقب‘ میں ہوتی ہے اس قسم کےشہابیوں میں دوسرے مادوں کی نسبت لوہے کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں لوہے والے یعنی ’فولادی شہابِ ثاقب‘ بھی کہا جاتا ہے جاپان میں ایسا ہی ایک شہابِ ثاقب کچھ سال پہلے دریافت ہوچکا ہے۔

    توتنخ آمون کے شاہی خنجر اور اس شہابیے میں ٹریس مٹیریلز کی ترکیب بالکل یکساں ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خنجر کی تیاری کےلیے جس جگہ سے بھی کھدائی کرکے کچدھات نکالی گئی تھی، وہاں شاید لاکھوں کروڑوں سال پہلے کوئی فولادی شہابِ ثاقب ٹکرا چکا تھا۔

    عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ لوہے کا زمانہ تقریباً 1200 قبلِ مسیح میں شروع ہوا تھا لیکن اس خنجر میں لوہے کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاید لوہے کے زمانے کا آغاز 1400 قبلِ مسیح کے آس پاس ہوچکا تھا۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت