Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ایس ایل:ملتان کےسلطانزنے پشاورزلمی کو57 رنز سے شکست دے کرمسلسل پانچویں کامیابی حاصل کرلی

    پی ایس ایل:ملتان کےسلطانزنے پشاورزلمی کو57 رنز سے شکست دے کرمسلسل پانچویں کامیابی حاصل کرلی

    کراچی :پی ایس ایل:ملتان کےسلطانزنے پشاورزلمی کو57 رنز سے شکست دے کرمسلسل پانچویں کامیابی حاصل کرلی،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2022 کے 13 ویں میچ میں ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 3 وکٹوں پر 222 رنز بنا ئے ہیں اور پشاور زلمی کو جیت کے لیے ناقابل گرفت 223 کا ہدف دیا ہے

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جارہے پی ایس ایل کے 13 ویں میچ میں پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    ملتان سلطان کے اوپنرز شان مسعود اور کپتان محمد رضوان نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو شان دار آغاز فراہم کیا۔

    شان مسعود نے 25 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 35 رنز کی اننگز کھیلی اور جب ٹیم کا اسکور 85 رنز پر پہنچا تھا تو شعیب ملک کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

    کپتان محمد رضوان نے بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

    صہیب مقصود نے 127 کے اسکور تک کپتان کا ساتھ دیا اور ایک چوکا اور چھکوں کی مدد سے 27 رنز کھیل کر عثمان قادر کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

    ملتان سلطانز نے 20 اوورز میں 3 وکٹوں پر 222 رنز بناکر پشاور زلمی کو 223 کا ناقابل گرفت ہدف دیا ہے

    خیال رہے کہ ملتان سلطانز اب تک کھیلے گئے چاروں میچوں میں کامیابی کے ساتھ 8 پوائنٹس حاصل کرکے ٹیبل پر سرفہرست ہے۔پشاور زلمی کو 4 میچوں میں سے دو میں کامیابی اور دو میں ناکامی ہوئی۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں:

    ملتان سلطانز: محمد رضوان (کپتان)، شان مسعود، صہیب مقصود، جانسن چارلس، خوشدل شاہ، ٹم ڈیوڈ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ مزاربانی، شاہنواز دھانی

    پشاور زلمی: وہاب ریاض (کپتان)، حضرت اللہ زازئی، کامران اکمل، حیدر علی، شعیب ملک، شرفین ردرفورڈ، بین کٹنگ، ثاقب محمود، محمد عمر، عثمان قادر، سلمان ارشاد

  • کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    بیجنگ : کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری،اطلاعات کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کا آغاز رنگارنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، جس میں کئی ممالک کے سربراہ شریک ہوئے۔

    سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ کے علاوہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ازبکستان کے صدر اور دیگر ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

    کوویڈ-19 کے خطرات کے باوجود سخت قواعد کے ساتھ سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا، اس کے علاوہ امریکا سمیت متعدد ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

    سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے جن ممالک نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے سرکاری نمائندے نہیں بھیجے ان میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سرفہرست ہیں۔

    افتتاحی تقریب کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چیئرمین تھامس بیچ کے برڈز نیسٹ اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی ہوا جہاں گیمز میں شریک 91 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

    بیجنگ سرمائی اولمپکس کے ڈائریکٹر ژینگ یمو ہیں جنہوں نے بیجنگ سمر گیمز 2008 کے انتظامات بھی کیے تھے۔

    افتتاحی تقریب میں 3 ہزار فنکاروں نے سرمائی اولمپکس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جو بیجنگ اور قریبی صوبے ہیبے کے عام فنکار تھے اور اس کا عنوان ‘اسٹوری آف سنوفلیک’ تھا۔

  • پاکستان ریلوے کے پنشنرز اور مشکلات ،تحریر: محمد انور بھٹی

    پاکستان ریلوے کے پنشنرز اور مشکلات ،تحریر: محمد انور بھٹی

    پیارے ملک پاکستان میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین پنشنرز کیلئے اس آسما ن کو چھوتی مہنگائی کے دور میں حکومت وقت کی طرف سے کچھ آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی اور بڑھاپے کے یہ ایام جو کہ آرام اور سکون کے ساتھ گزارنے کیلئے ہوتے ہیں کو آسان اور سہل طریقے سے گزار سکیں ۔
    پینشن حاصل کرنے والے ملازمین اپنی زندگی کے قیمتی سال مُلک اور قوم کی خدمت میں صرف کردیتے ہیں۔ خواں وہ کسی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔ وہ بڑی محنت ۔ لگن اور جانفشانی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ جب وہ اپنی جوانی اپنے محکموں پر قربان کرکےبڑھاپے کی دہلیز کو چھوتے ہیں تو ریٹائرڈ ہوتے ہیں ۔

    اس دورانِ باقی کئی اقسام کے مسائل کے ساتھ ساتھ بڑے مالی مشکلات کا سامنا درپیش ہوتا ہے۔ایک طرف اولاد جوانی میں قدم رکھ چکی ہوتی ۔جہاں بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے ہوتے ہیں اور بیٹوں کے سر پر سہرے سجانے کے ساتھ ساتھ سر پر چھت نہ ہونے کے سبب خاندان کیلئے رہائش جیسے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے ۔جبکہ ریٹائر منٹ کے بعد تنخواہ بھی آدھی رہ جاتی ہے اخراجات کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے چلےجاتے ہیں آج مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ جس کے سبب یوں تو ملک کے تمام پنشنرز سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں ۔

    مگر میں یہاں پر سرِدست پاکستان ریلوے کے پنشنرز بیواؤں اور ان کے یتیم بچوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ کیوں کہ حکومت وقت کی طرف سے محکمہ ریلوے کے پنشنرز بیواؤں اور یتیم بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک اور برتاؤ رواں رکھا جارہاہے۔بلکہ ان ریٹائرڈ ملازمین کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اس معاملے میں حکمران طبقہ کی بے حسی اپنی آخری حدود کراس کر چکی ہے۔پاکستان ریلوے کے ملازمین اپنی سروس مکمل کرکے ریٹائرڈ ہوکر دو دو سال سے اپنے گھروں کو جاچکے ہیں ۔ مگر فنڈ کی کمی کا بہانہ بناکر تا حال اُنکو اُنکی گریجویٹی اور باقی مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے جو کہ اُن کا بنیادی حق ہے۔اسی طرح سروس کے دوران یا بعد از ریٹائرمنٹ جو ملازم وفات پاچکے ہیں ۔ ظلم کی یہ حد ہے کہ اُن کی بیواؤں اور یتیم بچوں کو بھی اُ ن ملنے والی ہر سہولت سے محروم رکھا جارہا ہے۔اُ ن کے تمام کیسسز دفتروں کی نظر ہوئے پڑے ہیں ۔ اُن بیواؤں اور اُ ن کے یتیم بچوں کی داد اور فریاد سننے والاکوئی نہیں ہے ۔ آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں ،

    اسی طرح پچھلے دوسال سے بیواؤں کو ملنے والا بہبود فنڈ ، میرج گرانڈ فنڈ،فیئر ویل گرانٹ اور باقی تمام دوسرے فنڈ تعطل کا شکار ہیں ۔پاکستان ریلوے سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین ، بیوائیں اور ان کے یتیم بچے بے سرو سامانی اور کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ ان کی داد رسی کرنے والے اور فریاد سننے والے بے حسی کی چادر لپیٹ کر سوئے ہوئے ہیں ۔ اور سب اچھا ہے کے راگ الانپ رہے ہیں۔

    پنشن اتنی قلیل ہے کہ وہ بمشکل دس پندرہ روز سے زیادہ کا ساتھ نہیں دیتی ہے دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اس منہ زور مہنگائی کے آگے گورنمنٹ کے وہ ملازمین جو کہ سولہ اور سترہ اسکیل سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں وہ بھی پہلی تاریخ تک نہ جانے کتنی بار اُنگلیوں پر دن گنتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔تو پھر اندازہ کیجئےگا جن بوڑھے ضعیفوں اور بیواؤں کو پنشن بارہ سے پندرہ ہزار ملتی ہوگی تو ذرا سوچئے نہ جانے ان کے گھروں کے چولہے کیسے جلتے ہونگے ۔ وہ کس قدر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے ۔ اُن کے بچوں کی زندگی کیسی ہوگی۔ کیا اُن کو کھانے کے لیے گوشت،مرغی یاپھر چائے، انڈا اوراور پراٹھا میسر آتا ہوگا۔ تو پھر بتائیے گا جب اِن غریبوں کے بچونکومتوازن غذا اور آسودہ ماحول میسر نا آپائے گا تو اُن کی جوانی کیسے پروان چڑھے گی ۔اِنکی جسمانی اور دماغی کیفیت کیسی ہوگی۔ تو وہ بچے کس طرح سے ملک وقوم کے معمار بن پائیں گے۔

    یہ تمام صورت احوال حالات وواقعات تو اپنی جگہ پر موجود تھے ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ پچھلے چند ماہ سے ریلوے کے ریٹائرڈ پنشنرز کو ایک اور گھمبیر مشکل کا سامنہ درپیش ہے کہ اب ریلوے پنشنرز کو اُن کی ماہانہ ملنے والی پنشن بھی بروقت ادا نہیں کی جارہی ہے۔ اور یہ معاملہ صرف اور صرف ریلوے کے پنشنرز کو درپیش ہے۔ جوکہ سب اچھا ہے کا راگ الانپنے والوں کے چہرے پر زور دار طمانچہ ہے۔

    آخر یہ کس کی ذمہ داری ہے کس کے فرائض منسبی میں شامل ہے کیا اس کے ذمہ دار ی موجودہ حکمرانوں پر نہیں ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا حل تلاش کریں ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مہنگائی کے تناسب سے انکی پنشن میں خاطر خواں اضافہ کیا جاتا ان ضعیفوں اور لاچار بزرگوں کی صحت اور علاج ومعالجہ کی مد میں کوئی خاطر خوان اقدامات اُٹھائے جاتے۔ نا کہ ان کو عمر کے اس حصے میں دھکے کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس کو ریل کے پنشنرز کے ساتھ ظلم اور ناانصافی اور سوتیلی ماں والا برتاؤ نا کہا جائے تو پھر اس کو کیا نام دیا جائے۔بجائے اس کے کہ اُن کو اُنکی پنشن ٹائم پر ادا کی جائے اس کہ جگہ نت نئے بہانے بناکر اُن کی روز مرہ زندگی کو عذاب بنایا جارہا ہے ۔

    میری ارباب اختیار سے جوکہ ان کے مسائل اور مصائب سے آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے اِن ضعیفوں ،لاچار ،بیواؤں اور یتیموں کی مشکلات پریشانیوں سے نظریں چرا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان سے اپیل ہے کہ خدارا اپنی آنکھیں کھولئیے ان کی مشکلات اور پریشانیوں سے قطعہ نظر نہ فرمائیں ۔ یہ بہت مظلوم اور لاچار ہیں ۔
    لہذا ان کے درد اور دکھ کا احساس کریں اِ ن ریلوے ملازمین ، بیواؤں اور یتیموں کے تمام واجب الادا بقایا واجبات عزت اور وقار کے ساتھ بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اِ نکو ملنے والی پیشن کو بھی مقررہ تاریخ پر ادائیگی کے لئیے یقینی بنایا جائے۔تاکہ وہ اس کمپرسی اور مایوس کن زندگی سے باہر آسکیں ۔

    اور یاد رکھنا ان ان کے ساتھ یہی رویے رواں رکھے جاتے رہےتو جو مجھے نظر آرہا مجھے ایک ہی صورت حال بنتی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ مایوس اور بد دل ہوکر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے ۔ اور ایسے میں جب یہ ضعیف العمر بوڑھے ،بیوائیں اور یتیم بچے اپنے جائز حقوق کے حصول کی خاطر جب ریلوے اسٹیشنوں اور ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر بیٹھ جانے پر مجبور ہوجائیں گے تو پھر ناتو ارباب اختیار کے پاس اور نا ہی حکومت وقت کے پاس ایسی طاقت اور قوت ہوگی جو کہ انہیں وہاں سے اُٹھا پائے گی۔کیونکہ یہ پھر روزانہ گھٹ گھٹ کر مرجانے کی بجائے ایک ہی بار مرجانے کو ترجیح دیں گے۔اس سے پہلے کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں ۔ حکومت وقت اور ارباب اختیار کو پہلی فرصت میں اس طرف اپنی توجہ مبذول کر لینی چاہئے ابھی بھی وقت ہے ایسا نا ہوکہ وقت گزر جائے ۔ حالات بگڑ جائیں ۔ پھر ناتو بانس رہے گا اور ناہی بانسری اور ناہی کوئی سب ٹھیک ہے کی بانسری بجانے والا بچے گا۔
    لفظوں کو بیچتا ہوں پیالے خرید لو
    شب کا سفر ہے کچھ تو اُجالے خرید لو
    مجھ سے نہ امیرِ شہر کا ہوگا احترام
    میری زباں کے لئے تالے خرید لو

  • بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    واشنگٹن: خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں قابلِ قدر خدمات اور دریافتوں کے بعد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو آخرکار 2031 تک سمندر کی سمت پھینکا جائے گا-

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی ویب سائٹ گیجٹس کے مطابق کانگریس نے ناسا کے ماہرین سے کہا تھا کہ وہ اسٹیشن کے قابلِ عمل ہونے کے متعلق بتائیں اور یہ بھی کہ اس کا مستقبل کیا ہوسکتا ہےاس پر ناسا نے کانگریس کو پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کا مدار مزید نیچے یعنی نچلے ارضی مدار تک کھسکھا کر اسے نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے لیکن آخر کار طے پایا کہ نو برس بعد اس کا رخ زمین ہی ہوگا۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    ناسا نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بعض حصے قابلِ مرمت ہیں لیکن آخرکار اسے ریٹائر کرنا ہی ہے منصوبے کے تحت اسے بحرالکاہل کے ایک مقام ’پوائنٹ نیمو‘ میں گرایا جائے گا جو ایک غیرآباد اور ویران خطہ بھی ہے۔

    ناسا نے کہا کہ پوائنٹ نیمو ایک ایسا علاقہ ہے جو آبادی سے بہت دور ہے اور یہاں 2001 میں روسی خلائی اسٹیشن میر کو بھی پھینکا گیا تھا۔ اس سے قبل بڑے بڑے سیٹلائٹ بھی اس رخ پر مدار بدر یعنی ڈی آربٹ کئے جاتے رہے ہیں اسے ماہریں خلائی اجسام اور سیٹلائٹ کا قبرستان بھی کہتے ہیں۔

    ناسا نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 2030 تک اس کے معمول کے آپریشنز جاری رہیں گے جبکہ اسے بتدریج بند کرکے مکمل خاموش کردیا جائے گا اس کے بعد اسے مدار سے بے دخل کیا جائے گا جو کئی مراحل میں ممکن ہوسکے گا۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…

    1998 سے آئی ایس ایس خلا میں رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔ اسے دنیا کے پانچ خلائی اداروں نے بنایا تھا اور 2000 سے یہاں انسانوں کی آمدورفت جاری ہے اس کی مشہور خردثقلی تجربہ گاہ میں 3000 سے زائد انوکھے اور دلچسپ تجربات کئے گئے جو زمینی ماحول میں ممکن نہ تھے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

  • عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج سے برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کئی صدیوں سے برطانیہ میں کھلنے والے پھول گویا کسی گھڑی کے پابند تھے لیکن اب موسمِ بہار سے قبل ہی یہ پھول کھل چکے ہیں اور ان میں لگ بھگ ایک ماہ کا وقفہ ہوا ہے-

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    ماہرین کے مطابق پھول کھلنے کا دورانیہ دھیرے دھیرے پیچھے ہوا ہے۔ ورنہ 1980 سے قبل پھول اپنے وقت پر کھل رہے تھے اور موسمِ بہار پر رنگ بکھیرتے رہے تھے لیکن اب پھولوں کے کھلنے کا وقت ایک ماہ تک پیچھے آچکا ہے۔

    برطانوی سائنسدانوں نے 1753 سے 2019 تک 406 اقسام کے پھولوں کا جائزہ لیا ہے ڈیٹا کے تجزیئے کے بعد پریشان کن صورتحال سامنے آئی ہے معلوم ہوا کہ 1986 کے مقابلے میں 2019 میں پھول کھلنے کا دورانیہ ایک ماہ پیچھے چلا گیا ہےلیکن تمام اقسام کے پھولوں کے کھلنے کا وقت یکساں نہیں تھا تمام پودے ایک ہی وقت میں نہیں کھلتے۔ جڑی بوٹیاں اور درخت سب سے پہلے پھول ہوتے ہیں، کبھی اپریل کے وسط میں۔ جب کہ جھاڑیوں کو کھلنے میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگتا ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    ماہرین نے اس کی وجہ عالمی تپش اور کلائمٹ چینج کو قرار دیا ہے اور یوں بہار آنے سے پہلے ہی پھول کھلنے لگے ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے برفبار، گرمی، بارش اور برف پگھلنے کے معمولات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس طرح بعض فصلوں کی کونپلیں اور پھول وقت سے پہلے ہی کھلنے لگے ہیں۔

    ان میں وہ پھول سرِ فہرست ہیں جن کی زندگی کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے یعنی وہ بدلتے درجہ حرارت کو زیادہ تیزی سے اختیار کررہے ہیں اگر درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہتا ہے تو ماہرین کو خدشہ ہے کہ پہلے پھول آنے کی تاریخوں میں مزید تبدیلی آئے گی، ممکنہ طور پر مارچ یا اس سے بھی پہلے تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ یہی سلسلہ جاری رہا تو اس سے فصلیں شدید متاثر ہوں گی اور غذائی تحفظ کو دھچکا لگے گا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    دوسری جانب پھول کھلنے کے بعد مکھیاں اور دیگر جاندار زردانوں کو ایک سے دوسرے مقام تک لے جاکر پھولوں کے فروغ میں اہم اضافہ کرتے ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ پھول کھلے رہ جائیں لیکن اس پر منڈلانے والے بھنورے اور شہد کی مکھیاں غائب ہوں اس عمل سے کئی امراض ، جانوروں کی نقل مکانی اور دیگر مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں –

    دوسری جانب عین اسی طرح کی کیفیت جاپان میں بھی دیکھی گئی ہے جہاں چیری کے پھول وقت سے پہلے کھلنے لگے ہیں۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

  • ستر برس اور پاکستان کیخلاف بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    ستر برس اور پاکستان کیخلاف بھارتی سازشیں،تحریر: نوید شیخ

    ستر سال گزر چکے ہیں ۔ مگر بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ۔ پاکستان پر جنگیں مسلط کرنا ہو ، پاکستان کو دولخت کرنا ہو ، کشمیر پر قبضہ کرنا ہو ، ایف اے ٹی ایف ہو کے پی کے اور بلوچستان میں حالات کو خراب کرنا ہو۔ ہر طرف اور ہر جگہ آپکو بھارت ہی دیکھائی دے گا ۔ پھر پاکستان معاشی طور پر مستحکم نہ ہوجائے اس سلسلے میں بھی ہر جانب اور ہر طرف سامنے بھارت ہی کھڑا سازشیں کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ ابھی حالیہ جو پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر شروع ہوئی ہے ۔ اس کے پیچھے بھی بھارتی ہاتھ ایکسپوز ہوچکے ہیں ۔ پاکستان دنیا اور عالمی اداروں کو بھارت کی سازشوں بارے بتا بتا تھک چکا ہے ۔ مگر ان کے کان پر جون تک نہیں رینگتی کیونکہ بھارت سے سب کے تجارتی مفادات وابستہ ہے ۔

    ۔ اچھا میں نے جو چیزیں گنوائی ہیں یہ تو وہ ہیں جن کے بارے سب ہی جانتے ہیں مگر اب بھارت نے پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار بھی شروع کر رکھی ہے ۔ یعنی پراپیگنڈہ ایسا کیا جا رہا ہے کہ پاکستانیوں کو ہی اپنے اداروں سے متنفر کیا جائے ۔ ایسی جھوٹی چیزیں پھیلائی جائیں کہ پاکستانی اندرونی طور پر آپس میں لڑنا شروع کر دیں ۔ اس معاملے میں بھی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھارت کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے ۔ وجہ صرف بھارت کا ایک بڑی مارکیٹ ہونا ہے ۔ ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے آفسسز بھارت میں ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان کی بار بار درخواست کے باوجود یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھارتی ایماء پر پاکستان میں اپنے آفسسز نہیں کھولتے ہیں ۔ الٹا پاکستان سے چلنے والے یوٹیوب چینلز ہوں یا فیس بک پیجز ۔۔۔ جو بھی ان پلیٹ فارمز پر بھارت کو ایکسپوز کرتا ہے یا کشمیر پر حق کی آواز بلند کرتا ہے ان کو بھارتی حکومت کے ایماء پر بند کروادیا جاتا ہے ۔

    ۔ اب جوں جوں کرونا کا زور کم ہورہا ہے ۔ مودی پھر سے اپنے پر پرزے نکال رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازشیں رچائی جارہی ہیں ۔ ایسی ہی ایک سازش بارے پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے ۔ ۔ دراصل ایک روز قبل بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بھارتی آرمی چیف Manoj Makand Narawane کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنگ بندی اس لیے جاری ہے کیونکہ بھارت نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی۔ جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہہ دیا ہے کہ بھارتی چیف کا یہ دعویٰ کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اس لیے ہے کہ انہوں نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی۔ واضح طور پر گمراہ کن ہے۔۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جنگ بندی پر صرف ایل او سی کے اطراف بسنے والے کشمیریوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کے باعث اتفاق کیا گیا تھا۔ کسی کو جنگ بندی کو اپنی طاقت اور دوسرے کی کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔۔ اچھا یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کبھی بھارتی آرمی چیف سیاچین بارے بے پرکی اڑا دیتے ہیں تو کبھی کشمیر بارے ۔۔۔

    ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ یہ حملے کرنے آتے ہیں تو چائے پی کر معافی مانگ کر یہاں سے بھاگنا پڑتا ہے تو کبھی یہ اپنا ہیلی کاپٹر کریش کرواکر اپنے ہی سی ڈی ایس کی موت کا سبب بن جاتے ہیں ۔ ۔ یہ صرف سازش رچ سکتے ہیں حالیہ لاہور اور بلوچستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں ۔ جو پاکستان دنیا کے سامنے لے آیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی یہ افغانستان اور ایران کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے قبائلی علاقوں سمیت بلوچستان اور کے پی کے کو destablizeکرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کے حاضر سروس جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے ۔ ۔ شیخ رشید نے بھی حالیہ یہ ہی بات کی ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد کاروائیاں کرنے کے پیچھے لوگ بھارت اور افغانستان سے رابطے میں ہیں۔ ۔ تو عمران خان نے اپنے حالیہ چین کے دورے پرچین کے معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات میں بھی یہ ہی بات کہی ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ موجودہ بھارتی قیادت خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے۔۔ میں اتنا جانتا ہوں ۔ چاہے کوئی وقتی سیاسی یا دوسرے فائدے کیلئے یہ نہ سمجھے کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ون ہے ۔ ۔ مگر سچ بھی یہ ہی ہے اور حقیقت بھی یہ ہی ہے ۔ آپ چاہے بھارت کے ساتھ جتنا مرضی پیار سے بات کر لیں ۔ جتنا مرضی کاروبار یا دیگر معاملات کی طرف لے آئیں ۔ مگر بھارت نے اپنی جبلت کو نہیں چھوڑنا ۔ اس نے کسی نہ کسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم رہنا ہے ۔

    ۔ پاکستان جو ڈیفنس پر اتنا خرچ کرتا ہے پاکستان نے جو ایٹمی قوت حاصل کررکھی ہے اسکی بنیادی وجہ ہی بھارتی جارحیت ہے ۔ ورنہ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو خطے میں اور کسی سے نہ تو کوئی خطرہ ہے ۔ نہ ہی کوئی مسئلہ ہے ۔ الٹا اگر آپ دیکھیں ۔ تو پاکستان سے اوپر یعنی افغانستان ، سینڑل ایشیا اور ایران کی جانب ٹریڈ نہ ہونے ایک بڑی وجہ بھی بھارت ہی ہے ۔ اسکی سازشیں ہیں ۔ یہ تو میں نے آپ کو چیدہ چیدہ چیزیں بتائی ہیں ۔ اگر indepthدیکھا جائے تو چاول سے لے کر نمک تک ، کنوں سے لے کر آم تک اور ٹیکسٹائل سے لے کر سپورٹس کے سامان تک ۔۔۔ دنیا میں ہر جگہ بھارت پاکستان کی صنعتوں اور تعلقات کو خراب کرنے میں باقاعدہ اپنا مال اور اپنے لوگوں کو سرگرم رکھتا ہے ۔ پھر پاکستان آنے والے دریاوں کے پانی کا رخ موڑنا ہو ۔ یوں ہر بڑے مسئلے کے پیچھے آپکو بھارت ہی دیکھائی دے گا ۔ ۔ اسی لیے تاریخ سے تھوڑی بہت شد بد رکھنے والا کوئی بھی شخص پاکستان کے دشمن نمبر ون کے بارے میں کسی مغالطے میں نہیں رہتا۔۔ کیونکہ گذشتہ ستر سال سے ہم بھارتی جارحیت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ۔ ہم میدان جنگ میں لڑے ہیں۔ ۔ ہم اقوام متحدہ میں بھارتی سازشوں کو مقابلہ کر رہے ہیں ۔۔ ہم تجارتی محاذ پر انکا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ۔ ہم ایف اے ٹی ایف میں بھارت کا مقابلہ کررہے ہیں ۔۔ ہم سفارتی محاذ پر انکا مقابلہ کررہے ہیں ۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ بھارت کے ساتھ پائیدار امن کا راستہ تجارت یا کرکٹ نہیں بلکہ اصل حل طلب مسائل پر سنجیدہ بات چیت سے نکلتا ہے۔ جس میں اول نمبر پر کشمیر ہے۔ مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں سے قبل ، پاکستان کا ایک مخصوص طبقہ یہ پرچار بھی کرتا تھا کہ اگر پاک بھارت تجارت اس حد تک پہنچ جائے کہ دونوں ممالک کے عوام اور معیشت ایک دوسرے پر انحصار کرنے لگ جائیں تو یہ ممالک اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی اقدام یا ایک دوسرے سے کوئی مطالبہ نہ کر سکیں ۔ کیا اسکا مطلب یہ نہ ہو گا کہ پاکستان موجودہ صورتحال قبول کر لے؟ ایسی صورتحال میں بھارت یک طرفہ طور پر فائدے میں رہے گا کیونکہ پاکستان نہ تو کسی بھارتی علاقے پر قابض ہے اور نہ کسی بھارتی دریا کا پانی روک رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ بھارت کی معیشت پاکستان کی معیشت سے اتنی بڑی ہے کہ وہ کبھی پاکستان پر منحصر نہیں ہو سکتی ۔

    ۔ اسی لیے جب بھی پاک بھارت مذاکرات یا تعلقات بہتر بنانے کی بات ہو تو کشمیر، سیاچین، سر کریک اور متنازعہ ڈیموں جیسے حقیقی حل طلب مسائل کی بجائے حیرت انگیز طور پر تجارت اور کرکٹ کی باز گشت سنائی دینے لگتی ہے۔۔ ساتھ ہی ایک آواز یہ بھی سنائی دینے لگتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ یعنی تجارت کے لیے ایک دوسرے کو راہداری دینے کا معاہدہ بھی ہونا چاہئیے۔ کیا بھارت کے پاس بندرگاہوں اور زمینی راستوں کی کمی ہے جو اسے پاکستان کے راستے تجارت کی ضرورت ہے؟ ۔ واحد اہم ملک جس سے بھارت کا سمندری یا زمینی رابطہ نہیں ہے وہ ہے افغانستان۔ افغانستان کے راستے بھارت پاکستان میں کیا گل کھلاتا رہا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔۔ اس لیے تجارت میں فروغ کے نام پر بھارت کو افغانستان تک کھلی زمینی رسائی دینے میں پاکستان کا کونسا مفاد ہو گا؟ ۔ مودی سرکار سے قبل ایک دور ایسا بھی رہا ہے جب پاک بھارت تجارت خوب پھل پھو ل رہی تھی۔ اگر ہم اس دور میں ہونے والی پاک بھارت تجارت کے سیاسی پہلو نظر انداز کر کے صرف اقتصادی پہلو بھی دیکھیں تو پاکستان کا مفاد کم ہی نظر آتا ہے۔ ۔ اس دور میں ہونے والی تجارت کے لیے بھی ہمیشہ دو طرفہ تجارت کا لفظ ہی استعمال ہوتا تھا لیکن عملی طور پر پاک بھارت تجارت بہت حد تک یک طرفہ تھی ۔ ۔ دراصل دکھانے کو بھارت نے 1996میں پاکستان کو most favourite nation کا درجہ دے دیا تھا اور خواہش کی تھی کہ پاکستان بھی ایسا ہی کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انڈیا کی پاکستان کے ساتھ تجارتی پالیسی میں بہت سے ایسے
    tariff اورnon tariff berarers تھے۔ جنھیں بھارت ختم کرنے کی بجائے آہستہ آہستہ مزید بڑھاتا گیا ۔ اسطرح پاکستان کو
    most favourite nation کا درجہ دیے جانے کے باوجود پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بھارت کے ساتھ تجارت میں بہت سی بڑی اور عملی رکاوٹیں پیدا کر دی گئیں جنہو ں نے اس دو طرفہ تجارت کے تمام فائدے بھارت کے تاجروں اور معیشت کے لیے مخصوص کر دیے۔ اسی طرح زراعت میں بھارت اپنے کاشتکار کو ٹیوب ویلوں کی بجلی سے لے کر بیجوں اور دیگر مدوں میں اتنی سبسڈی دیتا ہے کہ پاکستانی کاشتکار قیمتوں میں بھارتی زرعی اجناس کا مقابلہ کرہی نہیں سکتے ۔

    ۔ رہی بات پاک بھارت سیاسی اور سرحدی تعلقات بہتر بنانے کی تو اسکی چابی دراصل حل طلب مسائل کے حقیقی اور عملی حل میں چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم ان مسائل کو حل نہیں کرتے یا ان پر بات نہیں کرتے تو جتنی مرضی تجارت ہو جائے، مسائل تو وہیں کے وہیں رہیں گے۔

  • پی ایس ایل7،لاہور قلندر ز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے دی

    پی ایس ایل7،لاہور قلندر ز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے دی

    کراچی :پی ایس ایل7،لاہور قلندر ز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے دی

    لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 8رنز سے شکست دی ، لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے 175 رنز کا ہدف دیا تھا عبداللہ شفیق 44،فخرزمان38اورہیری بروک37رنزکی اننگزکھیلی ،اسلام آباد یونائیٹڈ175 رنز کے تعاقب میں 166 رنز بنا سکی ، کولن منرواور شاداب خان کی نصف سنچریاں رائیگاں چلی گئیں لاہور قلندرز کے حارث رﺅف نے 2 ، شاہین ، زمان اور راشد نے ایک ایک وکٹ لی .

    لاہور قلندرز آج کا میچ جینے پر پوائینٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر آگئی۔۔ملتان سلطانز پہلے اور کراچی کنگز آخری نمبر پر موحود ہے۔

    نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جانیوالے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو بیٹںگ کی دعوت دی۔

    لاہور قلندرز بیٹنگ:

    لاہور قلندرز کے اوپنر بلے بازوں نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا، فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے 81 رنز کی شرکت داری قائم کی۔ عبداللہ شفیق 24 گیندوں پر 44 رنز بنا کر شاداب خان کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ فخر زمان بھی زیادہ دیر تک ٹیم کو سہارا نہ دے سکے اور 38 رنز پر شاداب کی گیند کا شکار بنے۔

    اس دوران مڈل آرڈر لڑکھڑا گیا اور ایک بعد ایک بلے باز پویلین لوٹ گیا۔ محمد حفیظ 5، کامران غلام 1، فل سالٹ 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    تاہم ڈیوڈ ویزے اور ہیری بروک نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے سکور کو آگے بڑھایا، ڈیوڈ ویزے 20 سکور بنا کر پویلین لوٹے، بروک کی اننگز 37 سکور پر ختم ہوئی۔ شاہین شاہ آفریدی 4 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ حارث رؤف صفر پر آؤٹ ہوئے، راشد خان 13 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لاہور قلندرز نے مقررہ اوورز میں 174 رنز بنائے۔ شاداب خان اور وقاص مقصود نے 4.4 شکار کیے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں کپتان شاداب خان، ایلکس ہیلز، پال اسٹرلنگ، کولن منرو، آصف علی، اعظم خان، مبصر خان، فہیم اشرف، محمد وسیم، حسن علی اور وقاص مقصود شامل ہیں۔

    لاہور قلندرز

    لاہور قلندرز کے سکواڈ میں فخر زمان، عبد اللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، زمان خان

    یاد رہےکہ اس سے پہلے آج کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے 7ویں ایڈیشن کے 12ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے لاہور قلندرز کے خلاف ٹاس جیت کے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور قلندرز کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی ۔

  • وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر  ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر

    تقسیم پاکستان سے قبل ہی اس وقت کے ظالم راجے نے کشمیر کو بیچ کر کشمیری قوم کی آزادی پر شب خون مارا تھا اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیئے جائیں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو مگر ہندو اور انگریز کی مشترکہ منافقت سے کشمیر مقبوضہ ہو گیا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر پاکستان نے 1947 میں جنگ لڑی اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا جسے ہم آج ازاد ریاست کشمیر کے نام سے جانتے ہیں
    یکم جنوری 1948 میں انڈیا سلامتی کونسل پہنچا اور سلامتی کونسل کے یقین استصواب رائے پر جنگ بندی ہوئی تاہم آج دن تک وہ استصواب رائے کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا-

    26 جنوری 1950 کو کشمیری قوم کی خصوصی حیثیت کیلئے آرٹیکل 370 اے نافذ کرکے کشمیر کو خودمختاری کی حیثیت دی گئی بظاہر نا چاہتے ہوئے بھی سلامتی کونسل نے ابتک 13 قراردادیں کشمیریوں کے حق میں دی ہیں مگر سب بے سودکسی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا23 مارچ 1987 کو کشمیری جماعت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں واضع برتری حاصل کی تاہم فاروق عبداللہ کی گورنمنٹ نے دھاندلی کا الزام لگایا اور مظاہرے شروع ہو گئے جو کہ رفتہ رفتہ 1989 میں مسلح تحریک میں بدل گئے 1947 سے 1989 تک کشمیریوں نے ہر حد تک کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم بھارت و سلامتی کونسل کی طرف سے مکمل انکار و منافقت دیکھ کر کشمیری قوم نے بندوق اٹھائی اور ہندو کے خلاف ڈٹ گئے اب تک کشمیریوں نے ایک ہی نعرہ لگایا ہے کشمیر بنے گا پاکستان تیرا میرا رشتہ کیا ؟لا الہ الا اللہ

    یہی نعرے سلامتی کونسل اور انڈیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں کہ اگر رائے شماری کروائی گئی اور کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا گیا تو پوری کشمیری قوم الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اور کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا تاریخ کشمیر اور ہندو کی خصلت کو دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ قرار دادوں سے ہونا ناممکن ہے اس کا واحد حل جنگ ہے جیسا کہ 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں آزاد کشمیرکا علاقہ حاصل کیا گیا پھر پاک بھارت 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے پہل کی 1965 کی جنگ شروع کی کشمیر کا وکیل ہونے کی حیثیت سے بھارت نے 1971 کی جنگ کی شروعات کی اور بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کروا کر 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو الگ کروایا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہوتے ہوئے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ سینڈوچ بنا ہوا تھا-

    21 جنوری 1999 کو پاکستان و بھارت کے اس وقت کے وزرائے اعظموں نے دو طرفہ معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر مئی 1999 میں بھارت نے خود ہی پنگے بازی کرتے ہوئے کارگل جنگ کا آغاز کیا جو کہ جولائی میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر ختم ہوااس سارے دورانیہ میں کشمیری قوم نے نا تو اپنا نعرہ بدلا اور نا ہی اپنے عزائم کشمیری قوم کے اس جذبہ حریت کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے 1949 میں کشمیر کی خودمختاری کی حیثیت کو ختم کرنے کی خاطر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے و 35 اے کا خاتمہ کر دیا جس سے کشمیری قوم کا غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کشمیری قوم نے مجاھدین کشمیر کا ماضی کی طرح کھل کر ساتھ دیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے-

    بات اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی کی جائے تو سوائے جنگ کے اس کا حل ناممکن ہے کشمیری مجاھدین کی گوریلا جنگ نے بھارتی فوج و عوام کا مورال بہت ڈاؤن کر دیا ہے جس کے باعث آئے روز بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے جیسے جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی بھارتی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اوسطاً ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کشمیر میں خودکشی کرتا ہے تاہم دوسری جانب مجاھد تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کا رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی مسلح تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بن کا اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کشمیر بزور شمشیر اس کے علاوہ آزادی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے-

    پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس تو بہت نکالے جاتے ہیں جو کہ اظہار کی ایک اچھی مثال بھی ہیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو گا کیونکہ ہندو کو پتہ ہے اگر کشمیر اس کے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر اس کے بعد 36 سے زائد شورش زدہ بھارتی علاقے بھی نا ٹک سکیں گے اور ہندوستان ٹوٹ جائے گا سو انڈیا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنا بہت سارا پیسہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لگا رہا ہے اور پوری دنیا کا کافر اس کی مدد کو ہے جبکہ اس کے برعکس اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک آدھ ملک ہی ساتھ ہے باقی محض بیانات ہی دیتے ہیں اور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث آج دن تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ورنہ بفضل تعالی 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے قبائل مجاھدین و پاک فوج موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کروانے کیساتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مگر پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سلامتی کونسل کی منافقت سے جنگ بندی ہوئی اور جھوٹے وعدے کروائے گئے جو کہ آج دن تک ایفاء نا ہو سکے ہیں-

  • پی ایس ایل 7: کراچی کنگز کو مسلسل چوتھی شکست، پشاور زلمی نے 9 رنز سے میچ جیت لیا

    پی ایس ایل 7: کراچی کنگز کو مسلسل چوتھی شکست، پشاور زلمی نے 9 رنز سے میچ جیت لیا

    کراچی :پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو ہرا دیا، شہر قائد کی ٹیم کو ایونٹ کے دوران مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے گیارہویں میچ میں کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

    کراچی کنگز بیٹنگ:

    ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی طرف سے اننگز کا آغاز شرجیل خان اور بابر اعظم نے کیا، تاہم پہلے ہی اوور میں شعیب ملک نے لیفٹ ہینڈ بیٹسمین کو پویلین بھیج دیا۔ 3 کے مجموعی سکور پر صاحبزادہ فرحان بھی آؤٹ ہو گئے، محمد عمر نے وکٹ حاصل کی۔

    این کوکبین کی اننگز کا خاتمہ عثمان قادر نے کیا، بیٹر 19 گیندوں پر 31 رنز کی باری کھیل کر کریز چھوڑ گئے۔ محمد نبی کی باری 10 سکور پر ختم ہوئی، حسین طلعت نے وکٹ حاصل کی۔

    عامر یامین 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، عماد وسیم صفر پر آؤٹ ہوئے۔ کنگز کی ٹیم مقررہ اوورز میں 164 رنز بنا سکی۔ کپتان بابر اعظم نے 90 رنز کی ناٹ آؤٹ باری کھیلی تاہم ٹیم کو فتح نہ دلوا سکے۔نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عمر نے 3، شعیب ملک اور حسین طلعت نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    پشاور زلمی بیٹنگ:

    اس سے قبل پشاور زلمی کی طرف سے اننگز کا آغاز وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے حضرت اللہ زازئی نے کیا۔

    دونوں نے بیٹرز نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے وکٹ کے چاروں اطراف خوبصورت شارٹس کھیلے، تاہم 6 ویں اوورز کی آخری گیند پر حضرت اللہ زازئی 27 گیندوں پر 41 سکور بنا کر عمید آصف کا نشانہ بن گئے، 74 کے مجموعی سکور پر کامران اکمل کی اننگز کا خاتمہ ہوا، انہوں نے 19 گیندوں پر 21 رنز بنائے۔

    حیدر علی کی باری 16 سکور پر ختم ہوئی، عامر یامین نے وکٹ حاصل کی۔ بین کٹنگ کی اننگز 24 سکور تک محدود رہی، عمید آصف نے شرجیل خان کی مدد سے کھلاڑی کو پویلین بھیجا۔

    اس دوران شعیب ملک نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 52 سکور کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔ پشاور زلمی نے مقررہ اوورز میں 173رنز بنا لیے ہیں۔ عمید آصف 3 اور عامر یامین نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    کراچی کنگز سکواڈ:

    بابر اعظم (کپتان) ، شرجیل خان، صاحبزادہ فرحان، این کوکبین، عامر یامین، محمد نبی، لوئس گریگورے، عماد وسیم، محمد طہ، عمید آصف، محمد عمران

    پشاور زلمی سکواڈ:

    کامران اکمل، حضرت اللہ زازئی، حیدر علی، حسین طلعت، شعیب ملک، ردرفورڈ، بین کٹنگ، وہاب ریاض (کپتان)، محمد عمر، عثمان قادر، سلمان ارشاد

    پی ایس ایل7:کراچی کنگزکی فیلڈنگ پشاور زلمی کی بیٹنگ جاری:جلد پتہ چل جائے گا کون ہے بھاری،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے پہلے مرحلے میں کراچی کنگز نے پشاور زلمی کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جارہے میچ میں کراچی کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پشاور کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی تھی ۔

     

    ٹاس کے موقع پر کراچی کے کپتان بابر نے کہا کہ پشاور کو جلد آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے ، دوسری جانب زلمی کے کپتان وہاب کاکہنا تھا کہ ٹاس جیت کر ہم بھی بولنگ کرنےکا ہی فیصلہ کرتے۔

    پوائنٹس ٹیبل کی بات کی جائے تو پشاور زلمی 3 میں سے ایک میچ جیت کر 2 پوائنٹس کے ساتھ 5ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ کراچی کی ٹیم ابھی تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی، اسے مسلسل 3 میچز میں شکست کاسامنا ہے۔

  • جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    سرینگر :جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل :مسلسل 27جمعہ بھی نہ ہوسکا ،میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش ،اطلاعات کے مطابق جامع مسجد سرینگر کے منبرو محراب مسلسل 27ویں جمعہ کو بھی خامو ش، میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل،اغیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ایک با ر پھر لوگوں کو مسلسل 27ویں مرتبہ بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

    انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں افسوس ظاہر کیا ہے کہ اسلامی دعوت و تبلیغ کا سر چشمہ تاریخی اور مرکزی جامع مسجد سرینگر کا منبر و محراب بدستور خاموش ہے جبکہ انجمن کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی گھر میں مسلسل غیر قانونی نظر بندی کوآج ڈھائی سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق5اگست 2019سے مسلسل گھر میں نظر بند ہیں اور قابض انتظامیہ نے میر واعظ کی تمام سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر بھی قدغن عائد کر رکھی ہے ۔ انجمن کے مطابق قابض انتظامیہ کی طر ف سے جامع مسجد میں مسلسل نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں اور یہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے ۔

    انجمن نے کہا کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہ دینے اور میر واعظ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی سے قابض انتظامیہ کی متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، جو انسانیت اور انصاف سے عاری ہیں۔بیان میں کشمیری عوام اور مذہبی تنظیموں سے پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں قابض انتظامیہ پر دبائو ڈالیں تاکہ جامع مسجد میں ایک بار پھر قال اللہ وقال الرسول ۖ کی ایمان افروز صدائیں بلند ہو سکیں۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام میں نماز جمعہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن کی شدید مذمت کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن کشمیری مسلمانوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ آمریت کے طولانی دور میں بھی یہ دینی مرکز اتنی مدت تک کبھی مقفل نہیں رہا ۔