Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    کبڈی صدیوں پرانا کھیل ہے جو جنوبی ایشیاء کے ہر ملک میں کھیلا جاتا ہے ربع صدی پہلے تک پاکستان اور خاص طور پر یہ جنوبی پنجاب میں یہ کھیل مقبول تھااور شہہ زور اپنے فن اور قوت کے اظہار کیلئے اس کھیل کو اولین ترجیح قرار دیتے تھے۔یہ کھیل کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے کبڈی کے میدان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے درمیان میں ایک حد فاصل قائم کی جاتی ہے میدان کا ایک حصہ ایک ٹیم کو جبکہ دوسرا حصہ ڈوسری ٹیم کیلئے مختص کیا جاتا ہے ہر ٹیم کے دو کھلاڑی مد مقا بل ہوتے ہیں جن میں پکڑنے والے کھلاڑی کو جاپھی اور دوسرے کو ساہی کہا جاتا ہے اس کبڈی کے میچ میں صرف دو کھلاڑی مد مقابل ہوتے ہیں۔

    کبڈی واقعی ایک دلچسپ کھیل ہے۔اس کے کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتاہے۔ یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ گرمی اور برسا ت کے موسم میں شام کے وقت یہ کھیل بہت لطف دیتا ہے۔ جب دوڑتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بدن کولگتی ہے تو طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔کبڈی کے کھیل کے لیے کسی خاص سازوسامان یا اہتمام کی ضرورنہیں ہوتی۔ دیہاتی بچے اور نوجوان پچھلے پہر کسی کھلے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ کھیل میں حصہ لینے والے برابر کھلاڑیوں کی دو ٹولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ درمیان میں ایک ایک لکیر کھینچی جاتی ہے اسے ”پالا” کہا جاتا ہے۔ اس لکیر کے دونوں سروں پر اینٹیں یا کچھ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس درمیانی لکیر کے دونوں طرف دائرہ بناتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا ایک کھلاڑی لکیر سے اندر آکر کبڈی کبڈی کہتا ہوا مخالف ٹیم کی طرف جاتا ہے اور کوشش کرتاہے کہ کسی کھلاڑی کو چھو کر ایک سانس ہی میں واپس آجائے۔ راستہ میں کہیں دم نہ ٹوٹے۔ اس طرف کے کھلاڑی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اسے پکڑ لے اور ایک ہی سانس میں اسے واپس جانے نہ دے۔جب سانس ٹو ٹ جاتا ہے تو کھلاڑی ہار جاتا ہے۔ کھیل کی زبان میں کہاجاتا ہے کہ یہ کھلاڑی مر گیا ہے۔ اگر وہ واپس آجائے تو پھر جس کھلاڑی کو اس نے چھوا تھا، مرا ہوا کھلاڑی کہتے ہیں۔ جس ٹیم کے سارے کھلاڑی پہلے مر جائیں وہ ٹیم ہار جاتی ہے۔ مرا ہوا کھلاڑی کھیل میں واپس حصہ نہیں لے سکتا جب تک مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی مر نہ جائے۔آج کل اس کھیل کے میں کافی اصلاح کردی گئی ہے۔ ا ب اس میں کھلاڑی مرتے نہیں بلکہ ہار جیت کا فیصلہ پوائنٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس ٹیم کے پوائنٹس زیادہ ہوتے ہیں وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ لوگ لمبی کبڈی بھی کھیلتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھو کر ایک ہی سانس میں واپس آجاتا ہے۔ مخالف ٹیم اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اس سے دور بھاگتی ہے تاکہ وہ انہیں چھو نہ لے۔شہری نوجوان کافی مد ت تک اس کھیل کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے گنواروں کا کھیل کہتے رہے لیکن جب تک محکمہ تعلیم نے اس کھیل کواپنایا اور اسکول کے دوسرے کھیلوں کے ساتھ اس کے بھی باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو شہری نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔ ا ب یہ کھیل دیہا ت اور شہر میں یکساں دلچسپی سے کھیلا جاتاہے۔کبڈی کا کھیل پرانے زمانے کی لڑائیوں کا سماں پیش کرتا ہے۔ اس دورمیں جنگ لڑنے کا یہی انداز تھا۔ ایک جواں مرد میدان میں اترتا تھا اوراپنے حریف کو للکارتا تھا۔ دس ت بدس ت لڑائی شروع ہو جاتی۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہارجیت کا فیصلہ،یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیا ت ہیں۔اس کھیل سے مقابلہ کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو تقویت ملتی ہے۔ پسینہ آنے سے بدن کھل جاتا ہے۔ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔انہی خصوصیا ت کو مدنظر رکھتے ہوئے کبڈی کا کھیل انسانی جسم کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔

    کھیل کے آغاز پر ایک ٹیم کا ساہی حد فاصل سے بھاگتا ہوا دوسری ٹیم کے جاپھی کھلاڑی کی طرف لپکتا ہے جاپھی اسے پکڑتا ہے اگر ساہی جاپھی کی گرفت سے نکل کر واپس حد فاصل کو عبور کر لے تو ساہی ٹیم کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے اگر ساہی اپنے آپ کو جاپھی کی گرفت سے نہ چھڑاسکے تو جاپھی ٹیم پوائنٹ حاصل کر لیتی ہے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی باری باری ایک دوسرے کے مقابل آتے رہتے ہیں آخری کھلاڑی تک جوٹیم زیادہ نمبر لے وہ کامیاب قرار دی جاتی ہے۔اس بین الاقوامی کھیل کو وہ سہولیات میسر نہیں جو کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں حالانکہ یہ کھیل اتنی مقبولیت حاصل کرچکاہے کہ اب اس میں خواتین کی ٹیمیں بھی شامل ہو کر مردوں کے شانہ با شانہ حصہ لے رہی ہیں عوامی شخصیات اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کھیل روبہ انحطاط ہے۔

    جنوبی پنجاب میں ثقافتی میلے جو میں گندم کی فصل کی کٹائ کے بعد منعقد ہوتے ہیں ان میلوں پر بھی کبڈی کے شور سے میدان سجایا جاتا ہے ان میں دنیا بھر کے کبڈی کے پلیئرز حصہ لیتے ہیں انکی بھر پھور حوصلہ افزائ کی جاتی ہے۔
    اس زوال پذیر کھیل کے فروغ اور اس کو زندہ رکھنے کیلئے میلسی کے نواحی گاؤں الہ آباد میں آج سے بیس سال قبل کبڈی میچ کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے پورے پنجاب میں الہ آباد واحد گاؤں ہے یہاں کبڈی کلب کا قیام عمل میں لایا گیاجس کے تحت ہر جمعہ کو میچ کا انعقاد ہوتا ہے اس کے منتظمین جو اپنے دور کے کبڈی کے مشہور کھلاڑی تھے ان میں حافظ عبدالرحمن،ماسٹر حفیظ احمد،سابق کونسلر غلام شبیر اور ملک محمد صادق ٹھوٹھہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس سلسے کو جاری رکھا ہوا ہے کلب کے منتظمین کھلاڑیوں کے انعامات اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں ان مقابلوں میں بین الاضلاعی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔کبڈی گراؤنڈ نہر فدہ اور کرم پور وہاڑی روڈ کے درمیان واقع ہے نہر کا کنارہ اسٹیڈیم کا کام دیتا ہے ہر جمعہ کو قرب و جوار اور دور دراز کے شائقین جمع ہوتے ہیں اور میلے کا سماں ہوتا ہے قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ تفریحی پروگرام صرف دیہی سطح پر محدود ہے اگر حکومتی ادارے اور محکمہ سپورٹس اسکی سر پرستی کرے تو اچھی کار کردگی کے حامل کھلاڑی ملکی سطح پر اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دیہاتی کھلاڑی بہتر آب و ہوا میں پروان چڑھنے کے باعث زیادہ تنومند اور طاقت ور ہوتے ہیں اگر انکی صحیح خطوط پر تربیت ہو تو وہ کھیل کے میدان میں بہت آگے جا سکتے ہیں۔

  • گھبرانے کا وقت شروع، تحریر: نوید شیخ

    گھبرانے کا وقت شروع، تحریر: نوید شیخ

    پہلا رزلٹ موصول ہوگیا ہے۔ اس اہم موقع پر جو الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کو نااہل قرار دے کر جھٹکا دیا ہے ۔ اس کے آفٹر شاکس کافی عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے ۔ اہم چیز یہ ہے کہ فیصل واوڈا جھوٹا بیان حلفی دینے پر آرٹیکل
    62 ون ایف کا شکار ہوئے ہیں ۔ یعنی اب پی ٹی آئی کے جھوٹ پکڑے جانے کا وقت آگیا ہے ۔ ایسے ہی اگر کسی دن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی آگیا تو سمجھیں پی ٹی آئی کی کہانی ختم ۔۔۔۔ یہ بتا دوں کہ فیصل واڈا اگر سپریم کورٹ سے ریلیف لینے میں کامیاب نہ ہوئے تو سینٹ کی اس سیٹ پر پیپلزپارٹی کا کوئی سینیٹر بآسانی منتخب ہوسکتا ہے ۔ اسی لیے فیصل واڈا کی نااہلی کی اصل خوشی پیپلزپارٹی کے کیمپوں میں ہے ۔ پھر اب امید کرنی چاہیئے کہ اس فیصلے کے بعد اب فیصل واڈا کی
    ۔۔۔ اکٹر ۔۔۔ بھی ختم ہوجائی گی اور زبان بھی کنڑول میں واپس آجائے گی ۔

    ۔ ویسے پی ٹی آئی کی کہانی اپوزیشن نے بھی ختم کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے ۔ کیونکہ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے بعد عنقریب مولانا بھی لاہور پہنچ رہے ہیں ۔ اور جمعہ کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی متوقع ہے ۔ جبکہ شہباز شریف ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کے خواہشمند ہیں جو کہ جلد ممکن ہے ۔ یوں لاہور سے تبدیلی کوتبدیل کرنے کا آغاز ہوچکا ہے ۔۔ پھر لندن میں نوازشریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن اس ظالم حکمران سے نجات دلانے کے لیے قدم بڑھائے گی اور یہ عین وقت کی ضرورت ہے۔۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی حکومت ایک بدترین ناکامی سے دو چار ہے ۔ اگر آپ نوٹ کریں تو گزشتہ چند ماہ سے خود کابینہ کے اندر بھی کچھ لوگوں میں یہ ہمت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں اختلاف کرنے کے ساتھ اونچا بھی بول سکیں۔ ۔ ابھی دو روز قبل ہی ایمنسٹی سکیم منظور کرانے کے لئے بلایا جانے والا اجلاس اختلافات کی نذر ہو گیا اور عمران خان نے کہہ دیا کہ یہ سکیم اتفاق رائے کے بغیر منظور نہیں کی جائے گی۔ کابینہ میں ردوبدل کی خبریں آئیں تو وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو ان کا پی ٹی آئی میں رہنا بے مقصد ہوگا۔ یہ ساری باتیں ایک کھچڑی کا پتہ دیتی ہیں جو پک رہی ہے اور پکتی چلی جا رہی ہے۔

    ۔ پھر جہانگیر ترین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لینے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے پی ٹی آئی میں اپنا ایک الگ ہی دھڑا تیار کیا ہوا ہے۔ مت بھولیں عمران خان کی وفاقی اور پنجاب حکومت کو چلتا کرنے کے لیے ایم کیو ایم اور جہانگیر ترین گروپ ہی کافی ہے۔ مگر صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ۔۔۔ باپ ۔۔۔ والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ شاید اسی لیے آدھے سے زیادہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی پارٹی بدلنے کے چکروں میں ہیں ۔ ۔ اسی لیے حالات کی نزاکت کو دیکھتے شیخ رشید کی پیش گوئیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی دوبارہ زور پکڑ گیا ہے۔ وہ اور فواد چوہدری روزانہ ٹی وی پر آکر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار اور منتخب حکومت کے ساتھ ہے۔ لگتا ہے آجکل کپتان نے ان دونوں کی صرف یہ ہی ڈیوٹی لگا رکھی ہے ۔ ۔ پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوگئی ہے ۔ اسی لیے تو اتحادی بھی ۔۔۔ پر ۔۔۔ پرزے ۔۔۔ نکال رہے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھوں کی گھبراہٹ میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ اب تو بات یہ شروع ہوگئی ہے کہ دیکھیں پہلے عمران خان جاتے ہیں یا عثمان بزدار ۔ اس حوالے سے سعد رفیق تو اتنے پر اعتماد ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ چند دن میں فیصلہ ہوجائے گا کہ پہلا دھاوا کہاں بولنا ہے ۔

    ۔ میں شہباز شریف کو بذات خود جتنا جانتا ہوں وہ مفروضوں پر بات نہیں کرتے نہ سنتے ہیں ۔پھر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور یہ ان کی سیاسی بصیرت ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی کو دوبارہ سے پی ڈیم ایم اتحاد کا حصہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ ۔ پھر اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجا جائے گا تو سمجھ جائیں یہ تیاری پہلے کی ہے ۔ اب صرف عوام اور میڈیا کو دیکھانے کے لیے ملاقاتیں ہورہی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ماحول بنایا جا رہا ہے ۔ بس ۔۔۔ پلاننگ ان کی پہلے کی تھی ۔۔ پھر جو آصف علی زرداری تین سالوں میں دوسری بار بذاتِ خود سیاسی میدان میں اترے ہیں یہ بھی بہت اہم ہے۔ یاد رکھیں آصف علی زرداری کے بارے کہا جاتا ہے کہ انکی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ ۔ مت بھولیں گزشتہ سال سینٹ انتخابات کے موقع پر آصف علی زرداری کی حکمت عملی کامیابی سے دوچار ہوئی تھی ۔ جب یوسف رضا گیلانی نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اُمیدوار حفیظ شیخ کو چاروں شانے چت کر ڈالا اور عمران خان کے مخالفین کے علاوہ حامیوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ متحدہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔ ۔ کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی اطلاع ملنے پر عمران خان اپنی پارلیمانی پارٹیاتحادیوں اور اسٹیبلشمنٹ پر خوب گرجے برسے اور حفیظ شیخ کی ناکامی کو اپنے اوپر عدم اعتماد سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت چھوڑنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس لیے زرداری کا سندھ سے نکل کر پنجاب میں ڈیرے جما دینا بہت معنی خیز ہے ۔

    ۔ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو سمجھنے والوں کولگتا ہے کہ ان کو چودھری برادران کو راضی کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے ۔ کیونکہ چودھری برادران کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ عثمان بزدار کو اگر ہٹانا ہے تو پھر چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے مگر مسلم لیگ ن کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں، اس لئے زرداری صاحب نے یقیناً چودھری برادران کو رام کرنے کی کوشش کی ہو گی، اب پتہ نہیں یہ کھچڑی پکی ہے یا نہیں؟ مگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے صورتحال واضح ہوجائے گی ۔ ویسے عثمان بزدار کو ہٹانے کی آفر تو اب عمران خان بھی کرنے لگے ہیں ۔ کہ کسی اور لانا ہے تو لے آتے ہیں بس میری کرسی بچی رہنی چاہیے ۔ مگر یاد رکھیں اپوزیشن تحریک عدم اعتماد اس وقت ہی لائے گی جب نمبر گیم پوری ہوگی اور اسکو یقین ہوگا کہ ان کو کامیابی مل جائے گی کیوں کہ اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد میں ناکام رہتی ہے تو اگلے چھ ماہ تک ایوان میں وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں پیش ہو سکے گی اور اگلے انتخابات کو ویسے بھی ڈیڑھ سال رہ گیا ہے۔ تو آخری سال میں جا کر اگر حکومت کو گرایا جاتا ہے تو پھر وہ اسے سیاسی طور پر شہید کرنے کے مترادف ہو گا۔۔ تو یقینا آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سارے کھیل میں شہباز شریف کا کردار سب سے اہم ہو گا کیوں کہ وہ ایوان میں اپوزیشن کے کپتان ہیں۔

    ۔ سیاست نام ہی تجربات کا ہے تو اپوزیشن تجربے کرتی رہتی ہے کبھی لانگ مارچ تو کبھی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا ماحول بنانا یہ سب کر کے ہی اپوزیشن سیاسی ماحول کو برقرار رکھ سکتی ہے جس کیلئے شہاز شریف تگ و دو کر رہے ہیں۔ اسی لیے نوازشریف نے بھی شہباز شریف کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ کہ وہ حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں تا کہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا جا سکے جو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عوامی عدالت میں رسوا ہو چکی ہے۔ ۔ یوں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت کرنے کے اعلانات محض گیدڑ بھبھکیاں نہیں ۔ ۔ کیونکہ اب کوئی شک نہیں رہ گیا کہ مارچ بہت اہم ہونے جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ان میں ملک کی اہم ترین تقرری کے بارے فیصلہ کرنا ہے۔کون جانے، وزیراعظم کاامیدوار کون سا ہے اور اپوزیشن کا امیدوار کون سا۔ ۔ اس حوالے سے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان سے تیس نومبر کی تقرری کا والا فیصلہ کروانا ہی نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس نے نہیں کروانا، یہ کس کے مفادات کے خلاف جا رہا ہے اور اس پر اپوزیشن کو متحرک کون کر رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ آصف زرداری ، شہباز شریف، باپ ، ایم کیو ایم اور ق لیگ کو جو اچانک ہو گیا ہے۔ وہ اشارے کے بغیر نہیں ہوتا ۔ ۔ اس لیے اب چاہے عمران خان کہیں کہ ۔ میں مزید خطرناک ہوجاوں گا ۔ یا ۔ ہمارے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ۔ یا
    ۔ اگلی باری بھی ہماری ہوگی ۔۔ اصل سچ یہ ہے کہ عمران خان کے لیے گھبرانے کا وقت شروع ہوگیا ہے ۔

  • پاکستان پی ایس ایل 7 : میچز شروع ہونے سے قبل شہریوں کو خبردار کر دیا گیا

    پاکستان پی ایس ایل 7 : میچز شروع ہونے سے قبل شہریوں کو خبردار کر دیا گیا

    لاہور:پاکستان پی ایس ایل 7 : میچز شروع ہونے سے قبل شہریوں کو خبردار کر دیا،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل کا میلا قذافی سٹیڈیم میں سجنے کو تیار، ٹیمز کو پی سی ہوٹل سے قذافی سٹیڈیم تک لے جانے کیلئے مختلف شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھا گیا، ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا.

    ٹریفک پولیس نے پی ایس ایل میچز شروع ہونے سے قبل ہی شہریوں کو خبردار کر دیا ہے کہ شہری دوپہر اور شام کے اوقات میں فیروز پور روڈ اور کینال روڈ پر سفر مت کریں۔ ٹیمز کو پریکٹس سیشن کے لیےقذافی سٹیڈیم لےجانے کے لیے کینال روڈ کو نومنٹ تک ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا۔مال روڈ الحمرا سے کینال روڈ کی جانب جانے والی ٹریفک کو تیرہ منٹ تک بند رکھا گیا۔

    کینال روڈ کو دھرم پورہ سے مسلم ٹاؤن تک نو منٹ تک بند کیا گیا۔جیل روڈ سے ٹریفک کو صدیق ٹریڈ سینٹر کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔صدیق ٹریڈ سینٹر سے لبرٹی کی جانب بھی ٹریفک معطل رہی۔فیروز پور روڈ مسلم ٹاؤن سے ٹریفک کو وحدت روڈ کی جانب ڈائیورٹ کیا گیا۔

    فیروز پور کو مسلم ٹاؤن سے کلمہ چوک تک بند کیا گیا۔ جس کے باعث قرطبہ چوک سے مسلم ٹاؤن ، مال روڈ ، وحدت روڈ ، فیروز پور روڈ ، مین بلیووارڈ میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ ٹریفک جام کی اذیت میں مبتلا شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے کمنٹیٹرز کی تلاش کا بیڑا اُٹھالیا ہے۔کمنٹیٹر کی تلاش کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مقابلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مقابلہ جیتنے والے کو 5 لاکھ روپے اور پی ایس ایل سیون کے فائنل میں کمنٹری کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

    پی سی بی کےمطا بق پی ایس ایل سیون کے دوران نئے کمنٹیٹرز کی تلاش کے لیے مہم شروع کی جارہی ہے اور اس کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ کمنٹری کو پروفیشنل کیرئیر بنانے کے خواہشمند افراد اس مقابلے میں حصہ لے سکتے ہیں، مقابلے میں 18 سال سے زائد عمر اور پاکستانی ہونا شرط ہے۔

    پی سی بی کے مطابق پہلے مرحلے میں 20 کمنٹیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا، اس کے بعد اُن میں سے 5 کمنٹیٹرز کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا جو فائنل راؤنڈ میں حصہ لیں گے اور پھر فاتح کا فیصلہ ہوگا۔

    پی سی بی کے مطابق کامیاب اُمیدوار کو 5 لاکھ روپے انعام اور پی ایس ایل سیون کے فائنل میں کمنٹری کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

  • چونیاں سےآزادکشمیرتک پیدل یکجہتی مارچ کرنیوالےمنشا    ساجد کےاعزازمیں تقریب:مقررین کاخطاب وخراج تحسین

    چونیاں سےآزادکشمیرتک پیدل یکجہتی مارچ کرنیوالےمنشا ساجد کےاعزازمیں تقریب:مقررین کاخطاب وخراج تحسین

    چونیاں:چونیاں سےآزاد کشمیرتک پیدل یکجہتی مارچ کرنے والےمنشا ساجد کے اعزاز میں تقریب:مقررین کا خطاب وخراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم و ریاستی دہشتگردی کی جانب مبذول کروانے کیلئے چونیاں سے آزاد کشمیر تک پیدل یکجہتی کشمیر مارچ کرنے والے امن کے سفیر محمد منشاء ساجد کے اعزاز میں مقامی ہال میں تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب کا اہتمام تنازعہ کشمیر کو بین قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے نوجوانوں تنظیمات کے اتحاد پر مشتمل کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے کیا گیا،

    تقریب میں نوجوانوں، صحافیوں وکلاء اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی، اس موقع پر کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے منشاء ساجد کو کشمیر کاز کیلئے ان کی خدمات پر سیکرٹری انفارمیشن کشمیر یوتھ الائنس نوید احمد نے اعزازی شیلڈ اور تعریفی سند پیش کی،

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری انفارمیشن کشمیر یوتھ الائنس نوید احمد ، صدر پریس کلب چونیاں ملک شرافت علی گوہر، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن طارق چغتائی ایڈووکیٹ، سینیئر صحافی عامر حسین تقوی، رانا کامران اشرف، حمزہ عباس، مسیح کمیونٹی کے نوجوان رہنما طارق عمانوائل ،امیدوار یوتھ کونسلر مہر اشفاق مکی، میاں زوہیب بگا ویگر کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ منشاء ساجد نے پیدل یکجہتی کشمیر مارچ کر کے کشمیری بھائیوں بہنوں کے ساتھ منفرد انداز میں یکجہتی کا اظہار کیا،

    مقررین کا کہنا تھا کہ دنیا کا ہر انسان دوست شخص مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں اور ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیت کا جینا مشکل کر رکھا ہے، پاکستان کے نوجوان آر ایس ایس کی غنڈہ گردی اور اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کریں،

    سیکرٹری انفارمیشن کشمیر یوتھ الائنس نوید احمد کا مزید کہنا تھا کہ ففتھ جنریشن وار میں ہر شہری اور نوجوان سپاہی ہے، نوجوان سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان کے مظلوم لوگوں کی آواز دنیا بھر میں اٹھائیں

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کے”مختارکل” سلمان نصیرکے بارے میں مزید انکشافات سامنےآگئے

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے”مختارکل” سلمان نصیرکے بارے میں مزید انکشافات سامنےآگئے

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ کے”مختارکل” سلمان نصیرکے بارے میں مزید انکشافات سامنےآگئے ،اطلاعات ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس وقت ایک طاقتورشخص کے نرغے میں ہے اور یہی شخص کرکٹ بورڈ کا مختارکل بھی ہے ، یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سلمان نصیرنے اپنے عہدے اور ترقیاں حاصل کرنے اور ان پر قابض رہنے کے لیے کرکٹ بورڈ کی باڈی کے ساتھ ساز باز کی گیم کھیلی ہے

    پچھلے دو دن سے جس طرح ہر پاکستانی اس بات پر ماتم کدہ ہے کہ کس طرح غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کےکرکٹ بورڈ کا یہ شخص بٹوارے کررہا ہے ، یہ بھی سخت ردعمل اس وقت سوشل میڈیا پر جاری ہے کہ اس شخص کا سکیل کیا ہے اور کیا یہ شخص ان پڑھے لکھے افراد اور ماہرین سے زیادہ تعلیم اور معزز ہے جو ساری زندگی بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتے ہیں اور ان کو سکیل کی دنیا کا پابند کرکے ان کی تنخواہیں عمر اور تعلیم کے ساتھ مشروط کی جاتی ہیں لیکن سلمان نصیر کیا چیز ہے اور اس کا سکیل کیا ہے اور کیا یہ پاکستان کے کروڑوں سے ممتاز ہے جو ساری زندگی گزار دیتے ہیں لیکن ان کی تنخواہیں ہزاروں میں رہتی ہیں اور شاید کسی ایک آدھے کی لاکھ سے تجاوز کرجائے

    یہ بحث جاری ہے کہ دوسری طرف مزید انکشافات نے پاکستانیوں کو مزید غصہ دلا دیا ہے ،یہ باتیں اب منظرعام پر آنا شروع ہوگئی ہیں کہ سربراہ سلمان نصیر فی الحال پی سی بی میں ون مین شو کے طور پر کام کر رہا ہے، ۔ پہلے یہ کرکٹ بورڈ کے قانونی امور کے سربراہ اور اب سرکاری طور پر COO کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اکیلے ہی بورڈ کا مکمل کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    موجودہ سی او او سلمان نصیر سابق لیگل ایڈوائزر ابھی قانونی معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے ، کرکٹ بورڈ کے کمرشل ہیڈ کی سیٹ خالی کو نہ تو پُر کیا جارہا ہے اور پھر اس سیٹ کے اختیارات بھی سلمان نصیراستعمال کرتے ہوئے تمام تجارتی سودے خود ہی کرتے ہیں۔

    پی ایس ایل کے لیے ڈائریکٹر کی سطح کے عہدے کے لیے ایسا معیار طلب کیا جاتا ہے کہ سلمان نصیر کی موجودگی میں کوئی اہل سے اہل شخص بھی سلیکٹ نہیں ہوسکتا پھر اس صورت میں سلمان نصیر یہ اختیار استعمال کرنے میں بڑی ہوشیاری سے کام لیتے ہیں خود کو COO کے عہدے پر فائز کرنے کے لیے اس قسم کے حربے ہر بار استعمال کیے جاتے ہیں ۔مثال کے طور پر، ڈائریکٹر کی سطح کے عہدے کے لیے 15 سال کا متعلقہ تجربہ اور ماسٹرز ڈگری کی ضرورت جب کہ COO کی سیٹ کے لئے صرف 7 سال کا تجربہ اور ایک انڈرگریجویٹ بیچلر ڈگری یہ کیسا تضاد ہے ؟

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سلمان نصیر کرکٹ بورڈ کےاندر شکایات کو بھی اپنے تک محدود رکھتے ہیں اور پھران شکایات کی آڑ میں فریقین کو دباو میں رکھتے ہوئے اپنا سفر تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں اہم ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سلمان نصیر کو وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے کی شفقت بھی حاصل ہے جس کا وہ بھرپورفائدہ اٹھاتے ہیں اوریوں یہ شخص اس وقت کرکٹ بورڈ کا سب سے طاقتور شخص بن چکا ہے جے اگرکرکٹ بورڈ میں ایک آمر کا نام دیا جائے تو وہ غلط نہیں ہوگا

    ان تمام ترحقائق کے بعد اب اگلاسوال باقی ہے کہ کیا چیئرمین کرکٹ بورڈ ان سارے معاملات کی چھان بین کرتے ہیں یا پھروہ بھی سلمان نصیر سے خوف زدہ ہیں اور عوامی مطالبے کی بجائے سلمان نصیر کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں اس کا تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا ؟

    چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی

     پی ایس ایل سیون کیلئے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 20بیڈز پر مشتمل عارضی ہسپتال قائم 

    پی ایس ایل دیکھنے والوں کو فری ماسک دینے کا اعلان

    آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

  • مقبوضہ کشمیر:مقبول بٹ کےیوم شہادت پرہڑتال کااعلان:    حریت کانفرنس کےخلاف بھارتی سازشوں کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:مقبول بٹ کےیوم شہادت پرہڑتال کااعلان: حریت کانفرنس کےخلاف بھارتی سازشوں کی مذمت

    سرینگر: مقبوضہ جموں وکشمیر:مقبول بٹ کے یوم شہادت پر کل ہڑتال کا اعلان:حریت کانفرنس کے خلاف بھارتی سازشوں کی مذمت ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ممتاز کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی شہادت کی 38 ویں برسی کے موقع پر کل بروز جمعہ مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے۔بھارت نے محمد مقبول بٹ کو تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ادا کی پاداش میں 11 فروری 1984 کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر انکا جسد خاکی جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا تھا۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے اپنے بیانات میں محمد مقبول بٹ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکی عظیم قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو ہر قیمت پر پایہءتکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

    تحریک آزادی جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر پولیٹیکل موومنٹ کی طرف سے بھی سرینگر اور دیگر علاقوں میں پوسٹرز چسپاں کیے گئے میں جن کے ذریعے لوگوں سے کل مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے ۔ لوگوں سے کشمیری شہداءکے لیے دعائیہ اجتماعات منعقد کرنے کو بھی کہا گیا۔

    ھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری مولوی بشیر احمد عرفانی نے حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے بھارتی جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو تحریک آزادی کو بدنام کرنے کے حوالے سے بھارتی سازشوں اور مذموم عزائم کا تلخ تجربہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں حالات پر امن ہونے کا غلط تاثر دے کر بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

    مولوی بشیر احمد عرفانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ کی طرف سے محمد مقبول بٹ کے یوم شہادت پر دی جانے والی ہڑتال کی کال کا اعادہ کرتے ہوئے آزادی پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کو بھر پور طریقے سے کامیاب بنائیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام شہید محمد مقبول بٹ کے مقدس مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عہد کرتے ہیں۔

  • جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    ٹوکیو: جنوبی جاپان کے ساحل کے نیچے ایک آتشیں چٹان دریافت ہوئی ہے جسے ’کومانو پلوٹون‘ کا نام دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یہ چٹان ایک طرح سے مقناطیس یا برقی سلاخ کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہےاس کےمفصل تھری ڈی نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکٹانوک پلیٹوں کی توانائی اس چٹان کی اطراف پہنچتی ہے اور دھیرے دھیرے جمع ہورہی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    2006 میں سائنسدانوں نے کومانو پلوٹان پر توجہ کی تھی جو پگھلے ہوئے ارضی مادے سے بنی ایک چٹان ہے پلوٹون اس چٹان کو کہتے ہیں جو زیرزمین دیگر پتھروں کو ہٹا کر ایک ابھار کی صورت میں باہر پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے سرد ہوکر سخت ہوجاتی ہے-

    ماہرین نے تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ نانکائی سبڈکشن زون میں ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ میں دھنس رہی ہے جسے سبڈکشن کا عمل کہا جاتا ہے اس سے پلیٹوں پر توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور زلزلوں کی وجہ بنتی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک مقام پر پلوٹون چٹان موجود ہے ماہرین نے اس کے بعد مزید 20 سال کا ڈیٹا جمع کیا اور چٹان کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مزید نقشہ سازی کی۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    بحری ارضی سائنس و ٹیکنالوجی ایجنسی کے سینیئر سائنسداں سیوشی کوڈیرا کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے جاپان میں رونما ہونے والے ممکنہ زلزلوں کی پیشگوئی میں سہولت ہوگی تو دوسری جانب آتشیں چٹان اور ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ربط جاننے میں بھی مدد ملے گی ہم درست طور پر نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کہاں اور کس وقت بڑے زلزلے رونما ہوں گے لیکن ڈیٹا اور ماڈلنگ سے اس کا درست اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ معمولی ہو یا بڑا اس کے اثرات اپنے مقام سے تالاب میں دائروں کی طرح پھیلتےہیں، تباہی مچاتے ہیں اور دوبارہ لوٹ آتے ہیں ماہرین نے اس پورے عمل کی نقشہ سازی کی ہے جو نہایت محنت طلب کام ہے اسی مقام سے 1944 اور 1946 کے ہولناک زلزلے بھی پھوٹے تھے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پلوٹون کا کردار بہت اہم تھا۔

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

  • آپ کا باس (Boss) آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے، کیسے معلوم کریں؟؟

    آپ کا باس (Boss) آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے، کیسے معلوم کریں؟؟

    "میں نے اس شخص کو مہینوں پہلے رکھا تھا، وہ پرکشش، ہوشیار اور چالاک ہے۔ وہ ہمیشہ میرے ذہن میں رہتی ہے۔ میں نے اس کے لیے اپنے جذبات کو چھپا رکھا ہے اور اس کی طرف سے بھی مجھے کوئی نشان نہیں ملا۔ لیکن، میرے خدا، ایسا کرنا مشکل ہے۔ میں ہر ایک دن اس کے لئے زیادہ محسوس کرتا ہوں، اس کے ساتھ بات چیت کرنا میرے دن کا بہترین حصہ ہے، یہاں تک کہ اگر یہ صرف کام کے بارے میں ہو یا کچھ ہلکے پھلکے مذاق کے بارے میں۔ میں اس طرح محسوس کرنا بند کرنا چاہتا ہوں… لیکن میں یہ سوچنا نہیں روک سکتا کہ کیا احساسات باہمی ہیں‘‘۔ ایک باس نے ہمیں ای میل پر اعتراف کیا۔

    کیا آپ کا باس آپ کو حال ہی میں خصوصی توجہ دے رہا ہے؟ کیا آپ اسے اپنی طرف گھورتے ہوئے پکڑتے ہیں؟ کیا آپ سوچ رہے ہیں کہ کیا آپ کا باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے؟ کیا آپ اپنے آپ کو اس مخمصے کے ساتھ کشتی کرتے ہوئے پاتے ہیں کہ "کیا میرے باس کو مجھ سے پیار ہے اور میں اسے کیسے سنبھالوں؟” کام کی جگہ پر حدود کو برقرار رکھنا مشکل ہے کیونکہ آپ اپنے دن کا بڑا حصہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔
    کام کے ان تمام اوقات اور اضافی شفٹوں کے ساتھ، آپ اپنے ساتھی کارکنوں کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہوگا اگر یہ ذاتی تعلقات آپ کے باس میں رومانوی جذبات کو جنم دیتے ہیں؟ کوئی اس سے کیسے نمٹتا ہے؟
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا باس آپ میں دلچسپی رکھتا ہے، تو آپ کو اسے ہینڈل کرنے کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے، کیونکہ آپ کی نوکری، شاید ترقی بھی، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔ پیشہ ورانہ سیٹ اپ کی وجہ سے آپ صرف اس بات کو کم نہیں کر سکتے اور اسے گولی مار نہیں سکتے جسے آپ اس کی رومانوی پیش قدمی سمجھتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسے بتایا جائے کہ آیا آپ کا باس آپ کو ضروری پسند کرتا ہے۔
    کیا ہوگا اگر آپ اس کے ارادوں کو غلط سمجھتے ہیں اور یہ فرض کرنے میں درست نہیں ہیں کہ آپ کا باس آپ کی طرف متوجہ ہے؟ اپنے باس پر الزام لگانا اگر یہ سچ نہیں تھا تو اس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں اور یہ آپ کے لیے HR ڈراؤنا خواب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کا باس رومانوی طور پر آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو جاننا ہے؟ آپ یقینی طور پر کیسے جان سکتے ہیں؟ جواب نشانیوں میں ہے۔

    آپ کو ان علامات کے بارے میں مکمل طور پر یقین ہونا چاہیے جو آپ کا مینیجر آپ کو پسند کرتا ہے یا آپ کا باس آپ کو احمقوں کی طرح نظر آنے، دفتری گپ شپ کا مرکز بننے، اور شاید آپ کی ملازمت اور ساکھ کھونے سے بچنے کے لیے آپ کو پسند کرتا ہے۔ اسے پرانے زمانے کے طریقے سے کرو۔ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ان علامات پر عمل کریں جو باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے۔
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا باس آپ میں دلچسپی رکھتا ہے، تو آپ کو اسے ہینڈل کرنے کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے، کیونکہ آپ کی نوکری، شاید ترقی بھی، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔ پیشہ ورانہ سیٹ اپ کی وجہ سے آپ صرف اس بات کو کم نہیں کر سکتے اور اسے گولی مار نہیں سکتے جسے آپ اس کی رومانوی پیش قدمی سمجھتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسے بتایا جائے کہ آیا آپ کا باس آپ کو ضروری پسند کرتا ہے۔
    کیا ہوگا اگر آپ اس کے ارادوں کو غلط سمجھتے ہیں اور یہ فرض کرنے میں درست نہیں ہیں کہ آپ کا باس آپ کی طرف متوجہ ہے؟ اپنے باس پر الزام لگانا اگر یہ سچ نہیں تھا تو اس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں اور یہ آپ کے لیے HR ڈراؤنا خواب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کا باس رومانوی طور پر آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو جاننا ہے؟ آپ یقینی طور پر کیسے جان سکتے ہیں؟ جواب نشانیوں میں ہے۔
    آپ کو ان علامات کے بارے میں مکمل طور پر یقین ہونا چاہیے جو آپ کا مینیجر آپ کو پسند کرتا ہے یا آپ کا باس آپ کو احمقوں کی طرح نظر آنے، دفتری گپ شپ کا مرکز بننے، اور شاید آپ کی ملازمت اور ساکھ کھونے سے بچنے کے لیے آپ کو پسند کرتا ہے۔ اسے پرانے زمانے کے طریقے سے کرو۔ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ان علامات پر عمل کریں جو باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے۔
    احتیاط کا ایک لفظ، جب تک آپ کو یقین نہ ہو اسے کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، خاص طور پر دفتر میں۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ کون آپ کی پوزیشن کے پیچھے ہے یا آپ کو بس کے نیچے پھینک کر آپ کے باس کے ساتھ پوائنٹ سکور کرنا چاہتا ہے۔ احتیاط سے چلیں، اور ان 10 علامات کو نوٹ کریں جو آپ کے باس کو آپ پر پسند ہے اور وہ آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے:
    1. آپ کا باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے اگر وہ بہت مددگار ہو رہا ہو۔
    اگر آپ کا باس آپ کے ساتھ بات چیت کرنے اور دوسرے ساتھی کارکنوں کے مقابلے میں آپ کی زیادہ مدد کرنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کا باس آپ کے ساتھ سونا چاہتا ہے یا آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے۔ آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کا باس ایک اچھا سرپرست ہے، لیکن کیا صرف یہ ہے، اس کی اچھائی اس رویے کو فروغ دے رہی ہے؟ کیا ہوگا اگر آپ کا باس آپ کی غلطیوں کو دوسروں کے مقابلے میں آسانی سے جانے دے؟ کیا ہوگا اگر وہ زیادہ صبر کرے اور آپ کو اضافی مواقع فراہم کرے؟
    جب کوئی مدد کرنے کے لیے اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے (اپنے وقت اور توانائی کی قیمت پر) اور اکثر ایسا کرتا ہے، تو اس کا شاید یہ مطلب ہے کہ آپ کا مطلب کچھ اور ہے۔ خبردار، مددگار رویے پر اس کی حوصلہ افزائی نہ کریں کیونکہ آپ کا باس اسے اس علامت کے طور پر بیان کر سکتا ہے کہ آپ اس کے جذبات کا بدلہ لیتے ہیں (جب تک کہ آپ نہ چاہیں)۔
    2. آپ کا باس آپ کو تحائف دیتا ہے۔
    آپ میں رومانوی دلچسپی رکھنے والے باس کی مخمصہ اتنی پیچیدہ ہو جاتی ہے اگر وہ پہلے سے شادی شدہ ہوں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو ان کے آپ پر گزرنے کے واضح آثار نظر آتے ہیں، تو ان کی انگلی میں موجود انگوٹھی آپ کے لیے یا تو ان کی پیش قدمی کا بدلہ لینا یا گولی مارنا مشکل بنا سکتی ہے۔ آپ کو ان کی آپ میں دلچسپی کے قطعی اشارے درکار ہیں، لیکن سوال باقی ہے: یہ کیسے بتایا جائے کہ آیا آپ کا شادی شدہ باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے؟
    دیکھیں کہ کیا آپ کا باس آپ کو خصوصی، غیر ضروری توجہ دیتا ہے۔ کیا آپ اپنے باس سے خصوصی تحائف حاصل کرنے والے واحد ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ وہ نیا پرنٹر یا کوئی دفتری سپلائی جس کے لیے آپ پوچھ رہے ہوں کہ واقعی اتنا ضروری نہیں تھا؟ جب آپ دیکھتے ہیں کہ پینٹری میں آپ کے پسندیدہ برانڈ کے ٹی بیگز اور بسکٹوں کا ذخیرہ موجود ہے؟ کیا ہوگا اگر آپ کے سیکشن کو نیا ایئر کنڈ مل جائے؟
    اور پھر، وہاں براہ راست بھی ہوسکتے ہیں – ایک بہتر تشخیص جو شاید آپ کو لگتا ہے کہ آپ واقعی مستحق نہیں ہیں یا اس کی طرف سے اسکارف کی طرح تعریف کا ایک چھوٹا نشان بھی؟ آپ کی ٹیم میں دیگر مستحق ملازمین ہیں جن کی تعریف کی جانی چاہیے، لیکن یہ خصوصی سلوک حاصل کرنے والے صرف آپ ہیں۔
    اگر آپ کا باس آپ کو تحفے دیتا ہے، شاید پرفیوم یا سپا واؤچر کی طرح لیکن آپ کو سمجھدار رہنے کو کہتا ہے، تو آپ کے پاس مشکوک ہونے کی مزید وجوہات ہیں۔ اب، اگر آپ بھی اسے پسند کرتے ہیں، تو آپ اپنے تحائف کے ساتھ یہ پیغام بھیج سکتے ہیں کہ یہ کشش باہمی ہے۔
    تاہم، جب تک کہ آپ اس کے ساتھ ذاتی تعلقات کا اشتراک نہیں کرتے ہیں، اس سے زیادہ ذاتی چیز نہ لیں جیسے قمیض یا لباس کا کوئی دوسرا ٹکڑا۔ ایک ٹائی، اسکارف، ایک خصوصی محدود ایڈیشن قلم، ان کے پسندیدہ سپر ہیروز کے ایکشن فیگرز آپ کو شروع کرنے میں مدد کرنے کے لیے قابل تحفہ خیالات ہیں۔
    3. آپ کا باس آپ کے ساتھ مسلسل چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔
    کیا وہ ہمیشہ آنکھ سے رابطہ رکھتا ہے؟ کیا وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ وہ کیسا لگتا ہے (اس کے بارے میں آپ کی رائے اہم ہے)؟ کیا وہ آپ سے آپ کی پسند اور ناپسند کے بارے میں پوچھتا ہے؟ کیا وہ اکثر اپنے چہرے کو چھوتا ہے جب وہ آپ سے بات کرتا ہے، اپنی ٹھوڑی کو رگڑتا ہے، اپنے کانوں کو چھوتا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کی چاپلوسی کرنے کے لیے "آپ کے پاس خوبصورتی اور دماغ دونوں کیسے ہوں، یہ دوسروں کے لیے مناسب نہیں ہے” جیسی خوش گوار لائنیں استعمال کرتا ہے۔
    اگر آپ سوچ رہے ہیں، "کیا میرے باس کو مجھ سے پیار ہے؟”، آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی ان واضح کوششوں سے آپ کے لیے اس کے جذبات کو روز روشن کی طرح واضح کرنا چاہیے۔ یہ حقیقی تعریف کے طور پر گزر سکتے ہیں، لیکن اگر وہ ہمیشہ آپ کے ذاتی طور پر، آپ کے لباس یا آپ کی شکل کے بارے میں ہوتے ہیں، تو کچھ اور پک رہا ہے۔
    دل چسپ پیغامات کو لائنوں کے درمیان پڑھنا پڑتا ہے، اور یہ یقینی علامت ہے کہ آپ کا باس آپ کی طرف متوجہ ہے۔ آپ کا باس آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ آپ کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ پیشہ ورانہ حدود کو برقرار رکھنے والا کوئی بھی شخص دیر سے اپنے ماتحتوں کو دل پھینک پیغامات نہیں بھیجتا ہے۔ یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا باس آپ کے ساتھ سونا چاہتا ہے۔
    یہ بھی چیک کریں کہ کیا آپ کے باس نے اپنے ڈریسنگ کا انداز بدلا ہے؟ شاید ایک نیا بال کٹوانے، ایک نئی ٹائی، جوتے spick اور span ہیں. کیا وہ تھوڑا زیادہ کولون استعمال کرتا ہے؟ یہ سب چھیڑچھاڑ کی لطیف نشانیاں ہیں۔ مذاق کرنا بھی چھیڑخانی کی ایک شکل ہے۔
    4. آپ کا باس آپ کو رات کے کھانے/ مشروبات کے لیے مدعو کرتا ہے۔
    کیسے بتائیں کہ اگر آپ کا باس آپ کو پسند کرتا ہے؟ وہ دفتری اوقات سے آگے آپ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں ایک مضبوط اشارہ ہے۔ آپ کا باس آپ کو دفتری اوقات کے بعد بھی واپس رہنا چاہتا ہے اور آپ کو بھی اٹھنے کی پیشکش کرتا ہے۔ وہ تقریباً آپ کا PA بن جاتا ہے اور کام ختم کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ اور دیر سے کام کرنے کے لیے، وہ اتفاق سے آپ سے پوچھتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ آپ کو دیر سے کام کرنے کی تلافی کر رہے ہیں۔
    آپ کا باس آپ کو پینے یا رات کے کھانے پر بھی مدعو کر سکتا ہے۔ وہ آپ کی پسند کے کھانے کو یاد رکھیں گے اور صرف وہی جگہیں پیش کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ شراب کی اپنی پسند کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کریں۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کسی وجہ کا حوالہ دیتے ہوئے باس کو ٹھکرا دیتے ہیں، لیکن کچھ دنوں بعد وہ آپ سے دوبارہ پوچھتے ہیں۔
    اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا باس آپ کی طرف متوجہ ہے اور ایسے ماحول میں آپ کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے جس میں کام شامل نہ ہو۔ وہ آپ کو ذاتی طور پر جاننا چاہتا ہے۔ آپ ان دعوتوں اور اوورچرز کا کیا جواب دیتے ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی انہیں پسند کرتے ہیں، تو یقینی بنائیں کہ آپ اس کے جرابوں کو اتارنے کے لیے تیار ہو کر باہر جائیں۔
    اپنے آپ کو ایک نیا لباس آرڈر کریں جو آپ کے جسم کو صحیح جگہوں پر اکسائے اور اس کے ساتھ جوڑنے کے لیے بہترین جوتے، اپنے بالوں کو مکمل کریں، کچھ میک اپ کریں اور ایک نشہ آور خوشبو۔ لیکن اسے ٹھیک ٹھیک رکھنا یاد رکھیں۔ آپ کے باس کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ آپ نے اس کے لیے تیار ہونے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں۔ کلید یہ ہے کہ اپنے جادو کو کام میں لاتے ہوئے اس کے بارے میں آرام دہ اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔
    5. باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے اگر وہ اکثر آپ کی تعریف کرتے ہیں۔
    "آپ آفس کی جگہ روشن کرتے ہیں۔” "اگر آپ اس پروجیکٹ کو شروع کرتے ہیں تو ہمارے کلائنٹ نہیں کہہ سکیں گے” "ماؤو آپ پر بہت اچھا لگتا ہے۔” "پرفیوم میں آپ کا انتخاب بہت اچھا ہے، یہ کون سا ہے؟” اگر آپ کا باس آپ کے کام کے لیے آپ کی تعریف کرتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ایک مستحق ملازم ہیں۔
    لیکن اگر یہ تعریف ان تعریفوں میں بدل جاتی ہے جو کام سے متعلق نہیں ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا باس رومانوی طور پر آپ کی طرف متوجہ ہے۔ لیکن اوپر کی سطریں وہ نہیں ہیں جو عام طور پر ایک باس اپنے ماتحتوں کو کہتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا باس آپ کی جسمانی خصوصیات کا مشاہدہ کر رہا ہے اور آپ کی طرف متوجہ ہے۔
    کیسے بتائیں کہ آیا آپ کا شادی شدہ باس آپ کو رومانوی طور پر پسند کرتا ہے؟ اگر آپ یہ بتانے کے قابل نہیں ہیں کہ آیا آپ کا باس جس سے پہلے سے ہیچ ہے وہ آپ کے لیے جذبات رکھتا ہے، تو یہ آزمانے کے لیے ایک چال ہے: اپنی ظاہری شکلوں کے ساتھ تھوڑا تجربہ کریں – شاید، نیا بال کٹوائیں یا رنگ لیں، اپنے ڈریسنگ اسٹائل کو تبدیل کریں، رنگ پہنیں۔ جو آپ عام طور پر نہیں کرتے – اور دیکھیں کہ وہ کیسا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اگر وہ نہ صرف نوٹس لیتے ہیں بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے لیے ایک نقطہ بناتے ہیں، تو آپ یقین کر سکتے ہیں کہ کچھ پک رہا ہے۔

  • لڑکی سے اس کا نمبر مانگنے کے 8 سمارٹ طریقے (بغیر خوفناک آواز کے)

    لڑکی سے اس کا نمبر مانگنے کے 8 سمارٹ طریقے (بغیر خوفناک آواز کے)

    تم اس عورت کو جانتے ہو۔ تم اسے پسند کرتے ہو۔ اگر آپ کر سکتے تو آپ اسے سارا دن پیارے کتے کے ایموجیز بھیجتے۔ کیا ہم سب وہاں نہیں گئے؟ لیکن بات یہ ہے: آپ کے پاس اس کا نمبر نہیں ہے۔ زیادہ اہم بات، آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے یہ آپ کو روک رہا ہے۔ اگر آپ کے پاس صرف اس کا نمبر ہے، تو آپ اسے دلکش شخص کو دکھا سکتے ہیں جو آپ واقعی ہیں، اور – کسی بھی وقت نہیں – آپ دونوں ڈیٹس پر جائیں گے، پیار کریں گے، اور آنے والے بچوں کے ناموں کی منصوبہ بندی کریں گے! لیکن خوفناک آواز کے بغیر کسی لڑکی سے اس کا نمبر کیسے طلب کیا جائے؟ واقعی ایسا کرنے کے زبردست طریقے ہیں۔

    ٹھیک ہے، یہ ایک لمبا ہوسکتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ 10 ہندسوں کا یہ فاصلہ ایسی چیز سمجھا جاتا ہے جو ممکنہ تعلق کو بنا یا توڑ سکتا ہے۔ اوہ، اور خوفناک سوال: "کیا ہوگا اگر میں رینگتے ہوئے آؤں؟” حضرات، ہمارے پاس اچھی اور بری خبر ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ عورت سے اس کا نمبر پوچھنا درحقیقت اتنا مشکل نہیں ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں نے اتنی سادہ چیز میں خوفناک سلوک کیا ہے، اور یہ کہ مردوں کی وجہ سے خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کے ساتھ ساتھ، ہم پر ان کے ایمان سے سمجھوتہ ہو گیا ہے۔
    ہم یہاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہیں کہ آپ اس کے ذہن میں ‘کریپ’ زون اور اس کے سوشل میڈیا پر بلاک لسٹ میں شامل نہ ہوں۔ یہاں 8 روشن خیال نکات ہیں جو آپ کی زندگی کو آسان بنائیں گے اور آپ کو اسے بہتر طور پر جاننے کی طرف پہلا قدم اٹھانے میں مدد کریں گے۔
    1. فرض کو استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں۔
    ہم سب کم از کم ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں۔ یہ ‘اچھا آدمی’ ہے۔ یہ وہ لڑکا ہے جو، بریک اپ کے بعد، ان چیزوں کی فہرست بناتا ہے جو اس نے اپنے ساتھی کے لیے کیے تھے، اس کے بارے میں روتا ہے کہ وہ کتنی ‘ناشکری’ تھی۔ اس کے نزدیک محبت کاروباری لین دین کا ایک گروپ ہے!
    یہ وہ لڑکا بھی ہے جو عورت سے اس کا نمبر مانگنے سے پہلے اس پر کئی احسانات کرے گا۔ اور ناکامی کی صورت میں، یہ نمونہ اپنے دوستوں کے ساتھ مزید ناشکری عورتوں کی کہانیوں کے ساتھ دوڑتا ہے! اگر آپ اس کے بارے میں ایک شریف آدمی بننے جا رہے ہیں، تو اس کا نمبر حاصل کرنے کے لیے ذمہ داری کو کبھی بھی استعمال نہ کریں۔
    کسی لڑکی سے اس کا نمبر مانگتے وقت، ہمیشہ یاد رکھیں کہ وہ آپ کی درخواست کا احترام کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ لہذا اسے آواز نہ دیں کہ اسے بالکل اپنا نمبر بانٹنا ہے اور اگر وہ انکار کرتی ہے تو اسے غم نہ دیں۔ یہ اس کی پسند ہے اور آپ کو اس کا احترام کرنا ہوگا۔
    2. اس کے دوستوں کے پاس نہ جائیں۔
    اگر کسی عورت کے پاس ہر بار کوئی آدمی اس طریقے کا سہارا لے تو اس کے لیے ایک روپیہ ہوتا تو وہ کروڑ پتی ہو جاتی۔ ٹیوشن کلاسز میں نوعمروں سے لے کر کام کی جگہ پر بڑوں تک، ان لوگوں سے عورت کا نمبر حاصل کرنا جن کے پاس پہلے سے موجود ہے اس کے بارے میں جانے کا سب سے مقبول طریقہ ہے۔
    یہ سراسر خوفناک بھی ہے، لہذا اگر آپ کو پڑھنا چھوڑ دیا جائے یا اس سے بھی بدتر، فوراً بلاک کر دیا جائے تو حیران نہ ہوں۔ اگر آپ اس کا نمبر تلاش کر رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ اسے اس مرد دوست سے حاصل کرنا پرکشش ہو جس کے پاس یہ پہلے سے موجود ہے، لیکن ہم پر بھروسہ کریں: یہ اقدام الٹا فائر کرے گا۔ مزید برآں، کیا آپ اس کے ساتھ رہنے کے موقع کو اڑا دینے کا آسان طریقہ چاہیں گے جو آپ کو دوسری صورت میں مل سکتا تھا؟
    3. اسے واٹس ایپ گروپس سے حاصل کرنا بہترین خیال نہیں ہے۔
    چاہے آپ کا روزمرہ کا معمول آپ کو کلاس رومز یا دفاتر میں لے جائے، اس بات کے امکانات ہیں کہ آپ کم از کم کچھ WhatsApp گروپس کے رکن ہوں۔ اور کیا ہوگا اگر آپ جس عورت سے بات کرنے کے لیے مر رہے ہیں وہ اسی گروپ کا حصہ ہے؟ عام واٹس ایپ گروپ سے اس کا نمبر حاصل کرنے اور اسے پی ایم بھیجنے کا لالچ ہوسکتا ہے۔ لیکن ابھی تک اس پر عمل نہ کریں۔
    اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ اس عورت کو جانتے ہیں، اور اگر آپ جانتے ہیں، تو کیا آپ اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سے رابطہ کر سکیں؟ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسے پہلے ہی عجیب و غریب مردوں کی طرف سے لاتعداد پیغامات مل رہے ہیں، آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ کو اس فہرست میں شامل کیا جائے۔ اگرچہ اس کے متعلق کوئی سخت اصول نہیں ہے، اس سے بات کرنے سے پہلے اجازت طلب کریں، اور ہمیشہ شائستہ رہیں۔
    چاہے آپ کسی لڑکی سے کام پر اس کا نمبر مانگنا چاہتے ہیں یا کسی سے آپ نے ڈیٹنگ ایپ پر رابطہ کیا ہے، اس کے بارے میں براہ راست رہنا ہی جانے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس کی اجازت یا رضامندی کے بغیر اس کے DMs میں گھسنا صرف اسے ختم کرنے والا ہے۔
    4. چپکے نہ رہو
    ہم سے لے لو۔ اگر وہ آپ کو اپنا فون نمبر دینا چاہتی ہے تو وہ دے گی۔ اس کا نمبر مانگتے وقت، اپنے سوال کو جملوں کے درمیان بہت آرام سے پھسلائیں۔ اگر اس نے آپ سے اپنے نمبر کا وعدہ کیا ہے لیکن اسے ابھی تک نہیں بھیجا ہے، تو اپنی اداس موسیقی کو شروع کرنے سے پہلے اسے وقت دیں۔
    اسے ہر روز یاد دلانا اسے مزید خراب کرنے والا ہے، اور، آپ سب جانتے ہیں، اس کے حاصل کرنے کے جو بھی امکانات ہو سکتے ہیں اسے ختم کر دیں! لڑکی سے اس کا نمبر مانگنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا کریں۔ آپ نہیں چاہتے ہیں کہ ممکنہ چپٹی بوائے فرینڈ کے انتباہات اس کے سر میں چلے جائیں۔ آپ جانتے ہیں، جیسا کہ ہم کرتے ہیں، یہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔
    ایک بار جب وہ یہ سرخ جھنڈا دیکھ لے گی، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی لڑکی سے اس کا نمبر مضحکہ خیز انداز میں کیسے پوچھنا ہے یا اس کے بارے میں ہموار رہنا ہے۔ وہ آپ کی درخواست کو ٹھکرا دے گی۔
    5. سیدھے رہو
    آپ اپنے آپ سے سوچ رہے ہوں گے کہ اس کے بارے میں جانے کا یہ سب سے واضح اور خوفناک طریقہ ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ آپ کو اپنا نمبر دینے کا بہانہ لے کر آئے، کیوں نہ ایماندار ہو؟ بے نام اور بے چہرہ فیس بک پروفائلز کی اس دنیا میں خواتین کو ان کے نمبروں کے لیے برا بھلا کہنا، سیدھا سادا ہونا ماضی کی بات بن چکی ہے۔
    لہذا، اس کے پاس چلیں، اسے بتائیں کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں، اور جب اس سے یہ پوچھیں کہ کیا وہ آپ کو اپنا نمبر دینے میں برا مانے گی تو آپ سب سے زیادہ شائستہ خود بنیں۔ کسی چیٹ باکس پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر بات چیت کرنے کی کوشش کرنا آپ کو بھیڑ سے الگ ہونے دیتا ہے۔ تاہم، اگر وہ آپ کو نہیں جانتی ہے، تو امکان یہ ہے کہ وہ بے چینی محسوس کرے گی، اور ہم اس پر الزام نہیں لگا سکتے۔
    نوٹ کریں کہ دلچسپ گفتگو اور اعتماد کی بنیاد آپ کے حق میں ترازو کو ٹپ کر سکتی ہے! مثال کے طور پر، اگر آپ جانتے ہیں کہ کسی لڑکی سے اس کا نمبر مضحکہ خیز انداز میں پوچھنا ہے تو اس سے مدد مل سکتی ہے۔ ایک تو، مزاح آپ دونوں کی درخواست کو ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اسے ایسا محسوس نہیں ہوگا کہ اسے کسی جگہ پر رکھا گیا ہے، اور اگر آپ اسے اپنے مضحکہ خیز ون لائنر سے دلکش بنا سکتے ہیں، تو آپ کے پاس اس کا نمبر حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے۔
    6. اپنی ساکھ کو آپ کے لیے بولنے دیں۔
    آپ نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک صاف ساکھ بنائی ہے۔ اسے ابھی استعمال کریں۔ اگر آپ واقعی اسے پسند کرتے ہیں، تو اس کا نمبر مانگنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ آپ کو اپنا نمبر دینے سے پہلے اسے آپ پر چیک کرنے کو کہے۔ اس سے اسے یہ اعتماد ملے گا کہ آپ رینگنے والے یا شکاری نہیں ہیں۔
    اسے بتائیں کہ کوئی جلدی نہیں ہے، وہ جب چاہے اپنا نمبر دے سکتی ہے، اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پوری تندہی سے کام کر سکتی ہے کہ وہ اسے صحیح شخص کو دے رہی ہے۔ یہ ایک مطلق فاتح ہوسکتا ہے۔ کسی لڑکی سے اس کا نمبر مانگنا اس سے زیادہ آسان نہیں ہوتا۔ آپ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور اس چیز کو اس رفتار سے آگے لے جانے کے لئے اس کے بشکریہ کو بڑھا رہے ہیں جس کے ساتھ وہ آرام دہ ہے۔ اس سے زیادہ دلکش اور کیا ہو سکتا ہے!
    7. اسے اپنا نمبر دیں۔
    لڑکی سے اس کا نمبر مانگنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنا نمبر دیں۔ اسے بتائیں کہ آپ کسی لڑکی سے اس کا نمبر نہ پوچھیں لیکن اگر وہ کبھی فون پر بات چیت میں دلچسپی رکھتی ہے، تو وہ آپ کو کال کر سکتی ہے یا پیغام بھیج سکتی ہے۔ اس طرح آپ گیند کو اس کے کورٹ میں چھوڑ دیتے ہیں اور اسے محسوس نہیں ہوتا کہ آپ اسے اس کے نمبر کے لیے ہراساں کر رہے ہیں۔
    اس طرح آپ ان ڈراؤنے، چپکے ہوئے لڑکوں میں سے ایک بننے سے بچیں گے جن سے زیادہ تر لڑکیاں ڈرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایسا کرنے سے ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ آپ کسی کے جنون میں مبتلا نہیں ہیں۔ اس سے اس کے دماغ کو سکون ملنا چاہئے اور اسے اعتماد دینا چاہئے کہ اگر وہ آپ میں دلچسپی رکھتی ہے تو اس تک پہنچنے کے لئے۔
    8. ہر لڑکی سے اس کا نمبر نہ پوچھیں۔
    یہ سب سے اہم ٹپ ہے۔ چونکہ ہم نے آپ کو لڑکی سے اس کا نمبر مانگنے کے زبردست طریقے بتائے ہیں، اس لیے اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ان تمام لڑکیوں کے نمبر حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں جن سے آپ ملتے ہیں۔ منتخب ہو. کسی لڑکی سے صرف اس کا نمبر پوچھیں اگر آپ واقعی اس کے ساتھ دوستی یا رشتہ ممکن محسوس کرتے ہیں۔
    اگر آپ کسی لڑکی سے کام پر ایک دن اور دوسرے دن اس کا نمبر مانگتے ہیں، تو جلد ہی بات پھیل جائے گی اور آپ اس مشکل جگہ پر واپس آ جائیں گے کہ آپ کو ایک رینگنے والے کے طور پر دیکھا جائے گا جو ہر کسی کے DM میں پھسلنا چاہتا ہے۔ اسے فتح کے طور پر مت دیکھو کیونکہ آخرکار وہ اسے سمجھ جائے گی۔

  • مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    قاہرہ: توبنجن یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین نے مصر میں ’أتریب‘ (Athribis) کے مقام سے مٹی کی 18,000 قدیم تختیاں دریافت کی ہیں –

    باغی ٹی وی : ’بطلیموس خاندان‘ کے دورِ حکومت میں أتریب کا شہر مصری ریاست کا دارالحکومت تھا جو دریائے نیل کے کنارے آباد تھا البتہ قدیم مصری حکمرانوں کے اس خاندان میں سب سے زیادہ شہرت ملکہ قلوپطرہ کو حاصل ہوئی جو آج تک مشہور ہے۔

    کھدائی کے دوران جرمن سائنسدانوں نے مصر میں ’أتریب‘ کے مقام سے مٹی کی 18,000 قدیم تختیاں دریافت کی ہیں جو اپنے زمانے میں بچوں کو پڑھانے کے علاوہ روزمرہ کاموں کی تفصیلات لکھنے والی ’ڈائریاں‘ ہوا کرتی تھیں۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت


    قدیم زمانے میں ٹوٹے برتنوں کے ٹکڑوں سے لکھنے کےلیے تختیوں کا کام بھی لیا جاتا تھا کیونکہ وہ بہت کم خرچ ہوتے تھے اور آسانی سے دستیاب ہوجاتے تھے لکھائی کی تختیوں کے طور پر استعمال ہونے والے، مٹی کے ان ٹکڑوں کو ’اوسٹراکون‘ (ostracon) کہا جاتا ہے جس کی جمع ’اوسٹراکا‘ (ostraca) ہے یہ دنیا میں ’اوسٹراکا‘ کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی ہے جو وسطی مصر سے أتریب کے آثارِ قدیمہ سے دریافت ہوا ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    مٹی کی ان تختیوں پر پکی روشنائی سے مختلف عبارتیں لکھی ہوئی ہیں جو تیسری صدی قبلِ مسیح سے چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اسی مناسبت سے ان ’اوسٹراکا‘ پر الگ الگ ادوار کی زبانیں بھی لکھی ہوئی ہیں جن میں تصویروں اور الفاظ پر مشتمل مصری، قدیم یونانی زبانیں، قبطی (کوپٹک) اور عربی تک شامل ہیں۔

    البتہ ’ڈومینک‘ (Dominic) زبان میں لکھے گئے ’اوسٹراکا‘ کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو یہ پہلی صدی قبلِ مسیح میں ملکہ قلوپطرہ کے والد (بادشاہ بطلیموس دوازدہم/ 12) کے زمانے میں سرکاری اور انتظامی زبان تھی کئی ’اوسٹراکا‘ پر خریداری کےلیے سامان کی فہرست (شاپنگ لسٹ)، تجارتی حساب کتاب اور ادبی نگارشات درج ہیں جبکہ زیادہ تعداد ایسے ’اوسٹراکا‘ کی ہے جو بچوں نے اپنی پڑھائی کے دوران لکھی تھیں اور جن میں تحریر کے علاوہ تصویریں بھی شامل ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس طرح کی تدریسی ’اوسٹراکا‘ پر بچوں نے مہینوں کے نام، اعداد، حسابی مسائل، گرامر کی مشقیں اور ’پرندہ حرف‘ بھی لکھا ہوا ہے جو غالباً مختلف پرندوں کے ناموں میں سب سے پہلے حرف کو تصویری شکل میں ظاہر کرتا ہے سینکڑوں ’اوسٹراکا‘ پر ایک ہی عبارت لکھی ہے جو بچوں کی تحریری مشقوں کو ظاہر کرتی ہے، جن کے دوران ایک ہی عبارت ان سے بار بار لکھوائی گئی ہوگی۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تدریس کے اس انداز میں جدید اسکولوں کی جھلکیاں بہت واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ ’اوسٹراکا‘ کا یہ ذخیرہ بھی سائنسدانوں کی اسی ٹیم نے دریافت کا ہے۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت