Baaghi TV

Category: بلاگ

  • 4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ تقریباً 4,500 سال پہلے تیسری صدی قبل مسیح کے اواخر میں میسوپوٹیمیا موجودہ جنوبی عراق اور شمالی شام میں جنگی مقاصد کےلیے پالتو گدھوں اور جنگلی خچروں کے ملاپ سے پیدا کئے گئے جانور استعمال ہوتے تھے جنہیں ’جنگی گدھے‘ کہا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ، کے تازہ شمارے کے مطابق شاید یہ اوّلین مخلوط نسل کے جانور تھے جنہیں انسان نے تیار کیا تھا ان کے بھی 500 سال بعد جنگوں میں گھوڑوں کا استعمال شروع ہوا تھا۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والی قدیم تختیوں پر بنی علامتی تصاویر، جانوروں کے ڈھانچوں اور دوسری دستاویزات پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ انہیں ’کُنگا‘ (Kunga) کہا جاتا تھا اور یہ جنگ میں رتھوں کو کھینچنے میں استعمال کیے جاتے تھے آثارِ قدیمہ کے دوسرے شواہد سے یہ بھی پتا چلا کہ ’کُنگا‘ بہت طاقتور تھے اور تیزی سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    البتہ، جب ماہرین نے ’کنگا‘ کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو پریشان ہوگئے کیونکہ یہ جانور جسامت میں قدیم گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے تھے لیکن گھوڑوں سے چھوٹے تھے اگر یہ گھوڑا، گدھا یا جنگلی خچر نہیں تھا تو پھر ’کُنگا‘ آخر کونسا جانور تھا؟یہ الجھن پچھلے کئی سال سے یونہی چلی آرہی تھی جسےامریکا، فرانس، جرمنی اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین ایک ٹیم نے جینیاتی تجزیئے سے حل کرلیا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    تحقیق کی غرض سے انہوں نے آخری شامی خچر کےٹشوز جین کے نمونے حاصل کیے صرف 3 فٹ اونچائی والا یہ خچر آسٹریا کے ایک چڑیا گھر میں رکھاتھا اور 1927 میں یہ مرچکا تھا لیکن اس کا مُردہ جسم پوری احتیاط سے محفوظ کرکے آسٹریا ہی میں رکھ لیا گیا تھا۔

    میسوپوٹیمیا کی قدیم دستاویزات میں ’کُنگا‘ کو بہت قیمتی اور ’انعام میں دیا جانے والا‘ جانور بھی قرار دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش بہت مشکل کام ہوا کرتی تھی اس کےلیے نر جنگلی خچر پکڑے جاتے تھے جن کا ملاپ گدھی سے کروا کر ’کُنگا‘ پیدا کیے جاتے

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس کے علاوہ انہوں نے جنوب مشرقی ترکی میں گوئبیکلی تیپ نامی علاقے سے ملنے والے، گیارہ ہزار سال قدیم جنگلی خچر کا جین بھی علیحدہ کیا جو خاصی مکمل حالت میں تھا دونوں جانوروں کے جینوم کا موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جنگلی خچروں کا ارتقاء بہت تیزی سے ہوا اور اس کا جسم چھوٹا ہوتا چلا گیا تاہم جب میسوپوٹیمیا کے ’کُنگا‘ سے ان کا موازنہ کیا گیا تو واضح طور پر معلوم ہوا کہ ’کُنگا‘ اِن دونوں کے ساتھ ساتھ گدھے سے بھی مشابہت رکھتے تھے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    اس تجزیئے کی روشنی میں ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’کُنگا‘ دراصل جنگلی خچروں اور میسوپوٹیمیا کے مقامی گدھوں کے ملاپ سے تیار کیے جاتے تھے وہ جسامت میں عام گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے ہونے کے علاوہ طاقتور اور تیز رفتار بھی تھے لیکن مخلوط (ہائبرڈ) ہونے کی وجہ سے وہ اپنی نسل آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والے ’کُنگا‘ کے ڈھانچوں میں دانتوں اور ہڈیوں پر کچھ مخصوص نشانات ظاہر کرتے ہیں ان کے پورے جسموں پر زرہ بکتر جیسے خول چڑھائے جاتے تھے جبکہ طاقت اور تیز رفتاری کی غرض سے انہیں مخصوص غذائیں کھلائی جاتی تھیں ان تمام خصوصیات کی بناء پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے انہیں ’جنگی گدھے‘ کا نام دے دیا ہے-

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب، تحریر:نوید شیخ

    مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب، تحریر:نوید شیخ

    بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس حکومت کو پانچ سال گزار لینے دیے جائیں مگر اس عرصے میں ملک کا کیا بنے گا۔ یہ سب سے تشویشناک بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حکومت مزید کچھ وقت گزار لے۔ مگر حکومت نام کی چیز ختم ہو چکی ہے۔

    ۔ اب جب آئی ایم ایف کی شرائط سامنے آ رہی ہیں کہ اپنا دفاعی حساب کتاب بھی پورے کا پورا سٹیٹ بنک میں رکھو اور سٹیٹ بنک کو پارلیمنٹ یا وزیر اعظم یا پاکستان کی عدالتوں کے سامنے جوابدہ ہونے سے مستثنیٰ کر دیں تو شک تو ابھرتا ہے کہ ہو نہ ہو ان کی نظریں ہمارے ایٹمی پروگرام پر ہیں۔۔ اس لیے بہت سی باتیں ایسی ہو رہی ہیں جو بتاتی ہیں کہ آنے والے دن کسی حکومت کے لئے ہی نہیں اس ملک پر بھی کٹھن ہیں۔ اسے آپ تین ماہ کہہ لیجیے یا 90دن والا پرانا راگ الاپ لیجیے مطلب یہی ہے کہ مستقبل قریب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ اسی لیے وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا ہے کہ آئندہ تین ماہ ان کی حکومت کے لئے مشکل ہیں۔ ۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معاشی حالت پتلی ہے۔ ہمارے پاس اتنی مصنوعات نہیں کہ دنیا کو بیچ کر اپنی ضرورت کے مطابق ڈالرز کما سکیں۔ ملک میں ستّر برسوں میں صنعتی ترقی نہیں ہوسکی۔ ہماری حکومتوں کے اخراجات ان کی آمدن سے دو گنا ہیں۔

    ۔ جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو پاکستان گندم اور چینی برآمد کر رہا تھا۔ آج یہ دونوں چیزیں درآمد کر رہا ہے۔۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے سال پاکستان میں کپاس کی تقریباً 11 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی۔پچھلے سال اس نے تقریباً 5.5 ارب گانٹھیں پیدا کیں جو 1983-84کے بعد سب سے کم ہیں۔۔ اس سیزن میں ہماری زرعی پیداوار کیسی ہو گی اس کا اندازہ یوریا کی خرید، قلت اور بلیک مارکیٹنگ کے لیے لمبی قطاروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ۔ پی ٹی آئی گردشی قرض ختم کرنے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھا رہی ہے۔ اس کے باوجود بجلی کے نرخوں میں دوگنا اضافے کے ساتھ گردشی قرض بھی دوگنا ہو گیا ہے۔۔ حکومت نے سستی گیس کی تلاش میں ایل این جی کو 4 ڈالر میں لینے سے انکار کیا اور پھر بعد میں اسے 30 ڈالر میں خریدا۔۔ پولیس کا رونا تو سب روتے ہیں مگر بزدار کی جانب سے پنجاب کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے تیرہ اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے آٹھ سیکرٹری تبدیل ہوچکے ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں انھوں نے سائیکل پر وزیر اعظم ہاوس آنا تھا، مگر انھوں نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔ ۔ گورنر ہاوس کی دیواریں گرانا تھی اور وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی میں بدلنا تھا۔ ۔ نئے پاکستان کا نعرہ لگایا تھا وہ تو انھوں نے کیا بنانا تھا پرانے پاکستان کا بھی انھوں نے بیڑاغرق کرکے رکھ دیا ہے ۔ ۔ چن چن کر عمران خان نے اس قماش کے لوگ وزیر اور ترجمان لگائے ۔ جو صرف زبان چلانے میں ماہر تھے ۔ واحد کارکردگی ان کی یہ تھی کہ وہ پالش اچھی کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔

    ۔ انھوں نے ملک کو ویلفیر اسٹیٹ ، ریاست مدینہ پتا نہیں کیا کیا بنانا تھا ۔۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود کشی کرنی تھی ۔ ۔ پولیس ریفارمز لانی تھیں۔ لیکن آٹھ آٹھ IGبدل کر بھی ریفارمز نہیں لائی جا سکیں ۔ ۔ نوے دن میں کرپشن سمیت تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنا تھا۔۔ بیرونی قرضے ختم کرنے تھے۔ ۔ صاف شفاف احتساب کرنا تھا ۔ ۔ ڈالر کو روپے کے مقابلے میں ٹکے ٹوکری کرنا تھا۔ ۔ امریکہ کو اوقات میں رکھنا تھا ۔ ۔ مسلم امہ کو لیڈ کرنا ۔۔ یہ سب جھوٹ تھا ۔ نہ ان کو معیشت کا پتہ ہے ، نہ گورننس کا ، نہ قانون کا اور نہ ہی اخلاقیات کا ۔۔۔ ۔ تو یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔

    دوسری جانب جہاں حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر رشوت لے کر سودے کرنے کا الزام عائد کیے ہیں۔۔ تومریم نواز بھی کسی بھی صورت اس حکومت کو گھر بھیجنے کا عندیہ دے چکی ہیں۔ ۔ پھر پہلے حکومت خود نواز شریف کو باہر بھیجتی ہے ۔ اب نواز شریف کو اپنی شرائط پر واپس لانے کے لیے بے تاب ہے۔ ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نواز شریف بڑی شان و شوکت سے وطن واپس آئیں گے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کی خواہش رکھنے والے ایوان اقتدار کے پنچھی انہیں ٹی وی پر دیکھ کر خوب آگ بگولہ ہوں گے ۔۔ عمران خان نیوٹرل ایمپائر کی صدائیں تو بہت لگاتے رہے ہیں ۔ مگر سچ یہ ہے کہ ایمپائر کےبغیر تو یہ ایک اورر بھی گزار نہیں سکتے ۔ ۔ بیس سال سے تحریک انصاف کے اہم رکن اور عمران خان کے پرانے ساتھی احمد جواد نے مبینہ طور پر یہ انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی سے ایک ہفتہ پہلے تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت نے عمران خان کو نواز شریف کی نااہلی کی خبر دے دی تھی اور ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے ساتھ تحریک انصاف کی اہم اور سینئر شخصیت کو بھی نااہل کیا جائے گا تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ اور اس وقت جہانگیر ترین بھی اس مقام پر موجود تھے جب یہ خبر آئی۔۔ مگر پی ٹی آئ کا سوشل میڈیا وہ غلاظت ہے جو پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کے کھاتے میں جاۓ گی۔ کوئی ان حقائق اور چیزوں پر بات کرے تو یہ اسے غدار اور پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازانا شروع کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ گزشتہ چند ماہ کے واقعات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اب مزید ایسا نہیں چل سکتا ۔ عوام کے ساتھ ساتھ اداروں کی بس ہوچکی ہے ۔۔ اب منی بجٹ مسلط کرنے والے غریب دشمن کرپٹ مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ عام انتخابات پی ٹی آئی کا آخری انتخاب ثابت ہوگا۔

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے قومی ٹیم کے سابق بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں دینے کی وجہ بتائی ہے۔

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک انٹرویو میں محمد رضوان نے بتایا ہم جب نماز پڑھتے تو وہ ہمیں باجماعت نماز کی ادائیگی کرتے دیکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ہی ایسی چیزیں ڈالیں، وہ ہم سے اس موضوع پر سوال کرتے تھے۔

    کرکٹر کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے دوران بات چیت ہوئی تو میں نے ہیڈن سے کہا کہ اگر تقدیر میں ہوا تو ہم یہ میچ جیت جائیں گے، اگر ہماری محنت کم ہوئی تو بھارت ضرور جیت جائے گا، انہیں یہ سب چیزیں محسوس ہوئیں۔

    محمد رضوان نے کہا کہ وہ وقت کچھ مختلف تھا، میں نے ایک شخص سے قرآن مجید منگوایا، جب وہ لے آیا تو میں میتھیو کے کمرے میں گیا اور انہیں یہ تحفے کے طور پر دے دیا، میتھیو کو یہ تحفہ بہت پسند آیا، ہمارے ذمہ یہ کام ہے کہ جو چیز خود کے لیے پسند کریں وہی دوسروں کے لیے بھی منتخب کریں۔

    انہوں نے بتایا کہ میری میتھیو سے بات ہوتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ انہیں بہت مزہ آرہا ہے اور وہ اکثر قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے ہیں۔انٹرویو کے دوران رضوان نے قوم سے اپیل بھی کی کہ میتھیو ہیڈن کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

    واضح رہے کہ محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹورنامنٹ میں پاکستان کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں دیا تھا۔

    میتھیو ہیڈن نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں اپنے کمرے میں تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے رضوان کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں قران پاک تھا، وہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا جسے میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

    یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

     

     

    چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

  • گنہگارانسان ہوں میں یہ کام نہیں کروں گا:محمد رضوان

    گنہگارانسان ہوں میں یہ کام نہیں کروں گا:محمد رضوان

    لاہور:لڑکیوں کے ساتھ تصاویر کیوں نہیں لیتے؟ رضوان نے وجہ بتادی ،محمد رضوان کہتے ہیں‌کہ میں تو ایک گنہگارانسان ہوں میں کسی کے لیے تکلیف کا سبب نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی میں‌ اس عادت کو پسند کرتا ہوں

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے لڑکیوں کے ساتھ تصاویر نہ بنوانے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    سوشل میڈیا پر رضوان کا ایک ویڈیو انٹرویو وائرل ہورہا ہے جس میں انہیں خواتین کے ساتھ تصاویر نہ لینے سے متعلق گفتگو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    اس انٹرویو میں رضوان کا کہنا تھا کہ میرے لیے خواتین بہت قابل احترام ہیں اور میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ جب کوئی ماں یا بہن میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کا کہتی ہے تو میں ان کے ساتھ تصویر کھنچواؤں، ان خواتین کا معیار میرے نزدیک بہت اعلیٰ ہے۔

    انہوں نے کہا اگر چہ میری خواہش ہے کہ اس عمل پر ہماری مداح ماں بہنیں مجھ سے خفا نہ ہوں لیکن اس کے باوجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعے میں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    اس سے پہلے ایک موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے اپنے پیغام میں عوام سے دعاؤں کی درخواست کردی۔

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ’نظام چلانے والی ذات صرف اللہ پاک کی ہے، آپ کے خواب آپ کو اس وقت تک جگائے رکھیں جب تک وہ پورے نہ ہوجائیں۔

  • جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرا ٹیسٹ ہرا کر سیریز 1-2سے جیت لی

    جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرا ٹیسٹ ہرا کر سیریز 1-2سے جیت لی

    جوہانسبرگ :جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرا ٹیسٹ ہرا کر سیریز 1-2سے جیت لی،اطلاعات کے مطابق جوہانسبرگ میں بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلا جانے والاتیسرا اورآخری ٹیسٹ جیت کر جنوبی افریقہ نے بھارت سے سیریز بھی جیت لی ہے ،

    کرکٹ کے میدان سے ملنے والی خبروں کے مطابق بھارت جنوبی افریقا میں ساتویں ٹیسٹ سیریز ہارا ہے، بھارت انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد جنوبی افریقا سے جنوبی افریقا میں ٹیسٹ سیریز نہ جیت سکا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے جنوبی افریقا نے دوسرے ٹیسٹ میں بھارت کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز برابر کر دی تھی

    جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پروٹیز کپتان ڈین ایلگر نے 96 رنز کی ناقابل شکست ‏اننگز کھیل کر ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کروایا۔

    دوسرے ٹیسٹ میچ کے ہیرو ایلگر نے بھارتی گیند بازوں کے سامنے جم کر بلے بازی کی اور 240 کے تعاقب میں چٹان کی طرح ‏کھڑے رہے۔پروٹیز نےبھارت کا 240 رنز کا ہدف صرف 3 وکٹوں پر حاصل کر لیا۔ وین ڈر ڈوسن 40، مارکرم 31 اور پیٹرسن 28 ‏بناکر نمایاں رہے۔

    بھارت کی جانب سے محمدشامی، شاردل ٹھاکر اور ایشون نے 1،1وکٹ حاصل کی۔ 3میچوں پرمشتمل سیریز1-1 ‏سے برابر ہو گئی تھی لیکن آج جنوبی افریقا نے تیسرے ٹیسٹ میں بھارت کوشکست دے کریہ سیریز جیت لی ہے اور ایک بار پھر جنوبی افریقا ہوم گراونڈ میں ناقابل شکست رہا ہے

  • ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہفتہ کی رات تھی اور ایک بہت بہترین پروگرام کا انعقاد کیا گیا (کراچی میڈیا کلب) کی جانب سے انہوں نے اس پروگرام کو نام دیا (Digital Media Summit 2022)
    اب دیکھا جائے تو یہ ایک بہت اہم ٹاپک ہے اس وقت ڈسکس کرنے کےلئے کیوں کہ اس وقت ہر کسی کہ ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون آگئے ہیں پر ہمیں اس کا استعمال ٹھیک سے نہیں آیا اسی پروگرام میں ایک پینل اسپیکر نے موبائل کو Gun کا نام دیا پر میں کہتا ہوں یہ Gun سے زیادہ خطرناک ہے آپ اپنے فون کا کیمرہ آن کریں کسی کی بھی ویڈیو یا تصویر بنائے اور پوسٹ کر دیں کہ اس نے گستاخی کی آپ دیکھیں کتنے لوگ قتل ہو جائیں گی اس کو کہا جاتا ہے Fifth war Generation اب آپ کو پستول نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی بس آپکی ایک پوسٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ میں نے جس پروگرام کا زکر کیا اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہمارے پاس موبائل فونز تو آگئے پر ہم انکا صحیح استعمال کیسے کریں؟

    یہاں پر پروگرام کے مینجمنٹ نے ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مختلف اسپیکر بلائے جن میں صحافی، پروگرامر، مشہور یوٹیوبر اور اسلام 360 کے Founder بھی موجود تھے تو وہاں ایک بات جو سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ ہماری نوجوان نسل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کسی مشہور اچھے یوٹیوبر کو دیکھ لیا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کی ویڈیوز بناتا ہے اور اپلوڈ کرتا ہے تو اچھے کما بھی لیتا ہے چلو اب ہم کہتے ہیں کہ میں اس کی طرح کی ویڈیوز بنائوں پھر آپ کوئی اور یوٹیوب چینل دیکھتے ہیں یا پھر کسی Web Developer کو دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کورس کریں اور پیسہ کمائیں ہمارے اسٹوڈنٹس پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں کامرس میں ڈپلومہ کر رہے ہوتے ہیں (Graphic Design) کا مطلب پڑھائی وہ کرتا اکائونٹن کی اور پھر مارکیٹ میں بیٹھ کر ڈیزائننگ کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنا ٹارگٹ کلیئر نہیں کرتے ڈگری ہماری کچھ اور کام کچھ اور، زائد چھیپا بانی Islam360 انہوں نے وہاں موجود اسٹوڈنٹس سے کہا کہ پروگرامنگ کریں بہت بڑا اسکوپ ہے آپ کو کسی کہ پاس جانے کی ضرورت نہیں لوگ آئیں گے آپکے پاس آپکی (CV) لینے۔

    اگر آپ آج عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری نوجوان نسل بربادی کی جانب بڑھ رہی ہے، کوئی نشے کی لت میں کوئی لڑکیوں کے چکر میں اپنی زندگی میں آگے جاکر کیا کرنا ہے کیا نہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں بس ایک بات آپ انکے منہ سے زیادہ سنیں گے اور وہ ہوگی یار کوئی اچھی نوکری مل جائے اچھی تنخواہ ہو یہ ہو وہ ہو۔ اب جب وقت ہے کچھ بننے کا کچھ کرنے کا تو ہماری آدھی سے زیادہ نوجوان نسل پیار میں ہیں کچھ محبت میں ہارے ہوئے نشے کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور جو کچھ بچے کچے ہیں وہ پب جی، ٹک ٹاک وغیرہ وغیرہ میں اپنا وقت اور اپنی صلاحیت دونوں برباد کر رہے ہیں، اب اگر ہم بات کریں کہ ہماری نسلیں اس طرف اتنی تیزی سے کیوں جا رہی ہے تو اس میں سب سے بڑی وجہ میں کہتا ہوں وہ ہمارے اسکول سسٹم کی ہے، ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ میٹرک پاس لڑکے آج آپکو مختلف سکولوں کے پرنسپل نظر آئیں گے، پھر ان سکولوں میں تعلیم کے نام پر ایک بہت بڑا بزنس چل رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی یونیورسٹی میں چلے جائیں وہاں آپکو ایسا ماحول ملے گا آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ کسی اسلامی جمہوریہ یا ایسے ملک کی یونیورسٹی میں جو بنا ہی لا اللّٰہ اللہ محمد رسول کی بنیاد پر ہے۔

  • منظر نامہ تبدیل ہونا شروع، تحریر: نوید شیخ

    منظر نامہ تبدیل ہونا شروع، تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے مارچ قریب آرہا ہے ۔ حالات ، واقعات اور منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ ویسے تو روز ہی قومی اسمبلی میں آجکل ہنگامہ ہورہا ہے ۔ آج بھی ہوا ۔ جس سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ حکومت دھونس اور زبردستی سے تو ایوان کو چلاسکتی ہے ۔ ویسے اب اسمبلی چلتی نہیں دیکھائی دیتی ۔

    ۔ پھر اس وقت پاکستان کو درپیش چیلنجز ایک طرف اور عمران خان ایک طرف ۔۔۔ ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں ۔ کہ بات دعاؤں سے بدعاؤں تک پہنچ چکی ہے ۔ بات منت سماجت سے گالم گلوچ تک پہنچ چکی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب بجلی اور دوسری جانب پیڑول کی قیمتیں بڑھا بڑھا کپتان نے عوام کو دن میں تارے دیکھا دیئے ہیں ۔ ۔ تو دوسری جانب اس وقت سیاسی محاذ خاصا گرم ہوچکا ہے کہیں ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں اور کہیں لانگ مارچ کے انتظامات جاری ہیں۔ حکومت اپنے لئے تین ماہ اہم قرار دے رہی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ایک دن بھی دینے کے لئے تیار نہیں ایسے میں نوازشریف کی نا اہلی ختم کرانے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے نے ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ ۔ اسی لیے تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کافی حیران کن ہیں۔ سات سال بعد فارنگ فنڈنگ کیس میں سکروٹنی رپورٹ کا سامنے آنا۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی واضح شکست، منی بجٹ منظور کرانے میں حد درجہ بڑھتی مشکلات، نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ، آصف علی زرداری کا متحرک ہونا۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کے فیصلے، ایسے عوامل ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ حالات نارمل نہیں۔ اس لیے لوگ بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے برے دنوں کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔؟

    ۔ میرے حساب سے ایک بار پھر عدالتی جنگ کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ اور کورٹ رپورٹرز کی چاندی ہونے والی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نوازشریف کی تاحیات نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں تو حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے شہباز شریف کی نا اہلی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ یعنی دونوں طرف شریف برادران ہیں، ایک طرف نا اہلی ختم کرانے کی کوشش ہے اور دوسری طرف نا اہل کرانے کی۔۔۔ ۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ اس حوالے سے بہت سے سازشی تھیوریاں مارکیٹ میں چل رہی ہیں کہ دونوں اطراف سے عدالتی جنگ کے لئے یہی وقت کیوں چنا گیا ہے۔ خاص طور پر نوازشریف کی تا حیات نا اہلی ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اب ہی کیوں متحرک ہوئی ہے۔ دیکھا جائے تو عام انتخابات ہونے میں تقریباً ڈیڑھ برس کا عرصہ رہ گیا ہے۔ حکومت نے مدت پوری نہ کی تو انتخابات پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نوازشریف کو تا حیات نا اہلی سے نکال کر انہیں اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ نکالی جا رہی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب ایک بار پھر لوگ ہواؤں کا رخ دیکھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کس طرف کو یہ رواں دواں ہیں ۔ کیونکہ چین ، سعودی عرب اور ترکی کی میاں صاحب کے لیے سفارشوں کی خبریں بھی بڑے زور و شور سے جاری ہیں ۔

    ۔ فی الحال نوازشریف کا معاملہ بہت زیادہ ہائی پروفائل بن چکا ہے۔ اس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی توجہ اس پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ کیونکہ نوازشریف کی نا اہلی اور سزا ختم ہو جاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا سیاسی دھماکہ ہوگا۔ مسلم لیگ ن کو پھر روکنا شاید ممکن نہ رہے۔ آج جو پرویز خٹک کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اور جو عثمان بزادر کے دیے گئے ڈنر سے تیس سے زائد ارکان غائب رہے ۔ تو کل پرویز خٹک کے بھانجوں جلال خٹک اور بلال خٹک نے پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے علاوہ بھی پی ٹی آئی والے دھڑا دھڑ پیپلز پارٹی ، جے یوآئی ف سمیت دیگر کی جانب بھاگے جا رہے ہیں ۔ یہ سب اس جانب اشارہ ہے کہ خوب اکھاڑ پچھاڑ چل رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خاص طور پر پنجاب میں الیکشن لڑنا اور جیتنا تقریباً ناممکن دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے ۔ ظاہر ہے حکومت اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ بار کی جانب سے نااہلی والی درخواست کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ دو فروری کو سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہوں گے۔ وہ اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے نوازشریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ احسن بھون نے اگرچہ یہ خواہش ظاہر کی ہے نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے والے بنچ میں عمر عطا بندیال شامل ہوں۔ تاہم یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔ احسن بھون نے اس کی سماعت کے لئے فل بنچ بنانے کی درخواست بھی کی ہے کیونکہ اس درخواست میں ایسے نکات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ سپریم کورٹ جب اس کیس کا فیصلہ دے گی تو یقیناً بہت سے وہ معاملات بھی واضح ہو جائیں گے جن کے بارے میں ابھی ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کسی شخص کو نمائندگی کے لئے تا حیات نا اہل قرار دینا آئین کی بنیادی روح اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اگر سپریم کورٹ کیس کی سماعت کے بعد اس نکتے کو مان لیتی ہے تو یہ ایک نئی تاریخ رقم ہو گی۔

    ۔ پر سوال ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہے؟ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا ہی فیصلہ پڑا ہے، جس پر نظرثانی کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں جہانگیر ترین بھی نا اہل قرار پائے اور ان کی نظر ثانی اپیل بھی خارج ہو گئی تھی۔ یقیناً یہ درخواست اگر سماعت کے لئے منظور ہو جاتی ہے تو ایک بہت اہم قانونی و آئینی نکتے کی وضاحت کا باعث بن جائے گی۔ درخواست کے حق میں فیصلہ آیا تو ملک کا سیاسی منظر نامہ ہی تبدیل ہو جائے گا اور اگر رد ہو گئی تو نواز شریف سمیت جہانگیر ترین کی سیاسی زندگی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ ابھی تو ن لیگی اس امید میں مبتلا ہیں کہ نوازشریف اہل ہو کر سیاست اور ملک میں واپس آئیں گے۔ اگر ان کی نا اہلی پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت ہو گئی تو تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ اس وقت حکومت اور کسی سے اتنی خوفزدہ نہیں جتنی نوازشریف سے ہے۔ وزراء یہ جانتے ہیں وہ نوازشریف کو کسی بھی قانون کے تحت پاکستان واپس نہیں لا سکتے مگر اس کے باوجود وہ تاثر یہی دیتے ہیں جیسے نوازشریف کو وطن واپس لانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہوں۔

    ۔ دوسری طرف حکومت شہباز شریف کو نا اہل کرانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہے۔ اگرچہ ماہرین قانون نے حکومت کی اس خواہش کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کیونکہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نوازشریف کو زبردستی ملک سے فرار نہیں کرایا تھا بلکہ وہ عدالت کے حکم اور حکومت کی دی گئی میڈیکل رپورٹوں کے بعد بیرون ملک روانہ ہوئے تھے۔ میرے خیال سے یہ صرف ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی یہ کیس جلد ختم ہونے والا نہیں، فیصلہ ہوتے ہوتے کئی برس بھی گزر سکتے ہیں۔ صاف لگ رہا ہے حکومت صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے ایک تیرسے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کے لئے وہ بہت سنجیدہ ہے اور دوسری طرف شہباز شریف کو ایک جھوٹا اور وعدہ خلاف شخص ثابت کرنا چاہتی ہے۔ پھر آج نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں چار روپے تیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے ۔ بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ ویسے ابھی عوام گزشتہ ماہ جو بجلی کے بل ملے تھے اس shock باہر نہیں نکلی ہے جو یہ نیا بم عوام پر پھوڑ دیا گیا ہے ۔

    ۔ پھر پیڑول کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول 150 روپے فی لیٹر ہونے کا خدشہ ہے۔ یونکہ آئل مارکیٹنگ ذرائع کا کہناہےکہ 16 جنوری سے پیٹرولیم قیمتیں 6 روپے لیٹر تک بڑھنے کا امکان ہے جس میں پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 6 روپے فی لیٹر تک جانے کا تخمینہ ہے۔ اس کے بعد کل جو اختر مینگل نے کہا تھا وہ بات یاد آجاتی ہے کہ اس حکومت صرف موت پر ٹیکس نہیں لگایا ۔ باقی تو انھوں نے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ یاد رکھیں ابھی منی بجٹ کے اثرات آنے ہیں ۔ اس کے بعد عوام کا کیا حال ہوگا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ دیکھا جائے تو آئی ایم ایف ماضی میں بھی یہ مطالبہ کرتا رہا مگر کسی نے غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ایسے فیصلے کئے جن کا فائدہ عوام کو نہیں صرف اشرافیہ کو پہنچا ۔ سچ یہ ہے کہ نئے پاکستان میں ہر نیا سال گذشتہ برس کی نسبت زیادہ مہنگا ثابت ہوا ہے ۔ ۔ آپ ان کی فنکاریاں دیکھیں کہ پنجاب میں ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو ختم کرکے عمران خان 400 ارب روپے سے انشورنس اور پرائیویٹ کلینکس کا کاروبار چمکانے جارہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں کسانوں کوکھاد کی قلت کا سامنا ہے کھاد افغانستان میں سمگل کی جا رہی ہے۔ آج عمران خان نے اس پر سخت نوٹس لے لیا ہے اور اب کسان مزید پریشان ہوگئے ہیں ۔ ۔ عمران خان تبدیلی کانعرہ لگاکر سیاست میں آئے تھے۔ دعویٰ ان کا یہ تھا کہ وہ اقتدار میں آکرملک کے لئے معاشی وسماجی حالات،سیاسی ماحول کو تبدیل کردیں گے۔ روزگار،خوشحالی اورانصاف کادوردورہ ہوگا۔اقتدار میں آنے کے بعد مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا ۔ تبدیلی مثبت کی بجائے منفی انداز میں رونما ہوئی۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    سری نگر:جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ۔راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔

    کشمیری قوم کا کہنا تھا کہ جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں دو بھارتی فوجی فائرنگ کے پراسرارواقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ کنٹرول لائن کے ساتھ راجوری کے علاقے Hanjanwaliمیں پیش آیا جس میں دو بھارتی فوجی زخمی ہو گئے بعدازاں و ہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں اس واقعے کو فوجیوں کی آپس میں فائرنگ کا نتیجہ قراردیاگیا ہے ۔