Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    تہران: ایران نے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق ایران نے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل ’خیبرشکن ‘ کا تجربہ کیا ہے ایرانی میزائل 1 ہزار450 کلومیٹرفاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کونشانہ بنایا میزائل ’خیبرشکن‘ میزائل شیلڈ سے پارہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اورمیزائل کولانچ کرنے کے لئے سولڈ فیول کا استعمال کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بیلسٹک میزائل ’خیبرشکن‘ مکمل طورپرایران میں تیارکیا گیا ہے۔

    یہ میزائل تجربہ ایران کی جانب سے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر جبو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سےایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا شرو کی گئیں-

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نےایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا دوبارہ شروع کر دیں۔ انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں نافذ کیا تھا امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے 4 فروری جمعہ کو ایران کی پابندیوں سے استثنیٰ کو بحال کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی پر بالواسطہ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب ،یواے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری

    ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی-

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔

    تاہم بعد ازاں مریکی صدرجو بائیڈن کے مشرق اوسط میں نامزداعلیٰ فوجی جنرل مائیکل کوریلا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جاتا ہے یا ان میں نرمی کی جاتی ہے تو اس سے وہ خطے میں اپنی آلہ کار تنظیموں کی مالی معاونت کرسکتا ہے اور اس کی جانب سے دہشت گردی کے لیے حمایت کو مہمیز مل سکتی ہے پابندیوں سے نجات کی صورت میں اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران غیرمنجمد کی جانے والی رقوم میں سے کچھ رقم خطے میں اپنے آلہ کاروں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرے گا۔

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    لیفٹیننٹ جنرل مائیکل کوریلا نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگرانھوں نے ایران پرعاید پابندیوں کاخاتمہ کیا تو اس سے خطے میں ہماری افواج کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

    55 سالہ کوریلا ریاست شمالی کیرولائنا میں واقع فورٹ بریگ میں امریکی فوج کی جوابی فورسزسمیت 18ویں ایئربورن کور کی قیادت کرتے ہیں صدربائیڈن نےان ہی کے زیرقیادت ایئربورن کور کے ارکان کویورپ میں یوکرین کی حمایت میں تعینات کرنے کاحکم دیا ہے اور جنرل کوریلا سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت کے بعد اسی سلسلے میں یورپ روانہ ہونے والے تھے۔

    دریں اثناء امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں۔انھوں نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ابوظبی اور سعودی عرب پرحال ہی میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو امریکا کی فوجی امداد بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

  • کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے لگے،ہیکرز ان اکاؤنٹس سے کیا کام لیتے ہیں ؟چونکا دینے والے انکشاف

    کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے لگے،ہیکرز ان اکاؤنٹس سے کیا کام لیتے ہیں ؟چونکا دینے والے انکشاف

    لاہور: ہیکرز کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے لگے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کرتے رہیں، اگر کم استعمال کریں گے تو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے سائبر فراڈیے ان کے اکاؤنٹس ہیک کر لیں گے، پھر ان اکاؤنٹس کے ذریعے مالی فراڈ کریں گے،غیر اخلاقی وڈیوز شیئر ہو سکتی ہیں۔

    ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے:عالمی برادری نوٹس لے: وزیر خارجہ

    ایف آئی اے سائبر ونگ کے اعداد وشمار کے مطابق سوشل میڈیا ہیکنگ کی وارداتیں پنجاب بھر میں پھیل چکی ہیں، ایف آئی اے سائبر ونگ کو لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں سے ڈھائی ہزار آن لائن ہیکنگ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں فون ریکارڈ نگ ہیکنگ، کمپنیوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گر گئی، بلاول

    ایف آئی اے کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کو لاکھوں، کروڑوں روپے سے محروم کر دیا گیا، ایف آءی کو ایسی شکایات موصول بھی ہوئیں جن میں فیس بک اور ٹوئٹر، انسٹاگرام کو ہیک کر کے اس پر غیراخلاقی وڈیوز اپ لوڈ کی گئیں اس کیلئے چوری شدہ سافٹ ویئر کا سہارا لیا گیا۔

    الیکشن کمیشن میں اسحاق ڈار نااہلی کیس سماعت کیلئے مقرر

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت سے ایسے صارفین جو اپنے فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹوئٹر اکاؤنٹس خود نہیں بنا سکتے، ان کی ساری تفصیلات ان کے پاس ہوتی ہیں جو یہ اکاؤنٹس بناتے ہیں ۔

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج  ہند کی بیٹی کی للکار ہے   ازقلم :غنی محمود قصوری

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہندو کی بدمعاشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس کرہ ارض کا ہر ظلم ہندو ظالم نے ہند کے مسلمانوں پر کیا ہے اور کر بھی رہا ہے بلکہ ہر آنے والے دن کیساتھ اس میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے جسے روکنے کی طاقت نا تو وہاں کے نام نہاد بڑے بڑے ایم ایل ایز میں ہے اور نا ہی کسی بہت بڑے عالم دین میں
    میں ان لوگوں کا نام لینا گوارہ نہیں کرتا کیونکہ نام اس کا لیا جاتا ہے جو کسی قابل ہو اور تاریخ بھی اسے ہی یاد رکھتی ہے جس میں جرآت و بہادری ہو
    بزدل و بے شرم کی نا تو تعریف ہوتی ہے نا ہی رقم تاریخ ہوتی ہے –

    ہندوستان میں مقیم مسلمانوں کی حالت زار اور وہاں کے بڑے بڑے لیڈروں کے دعوؤں کو دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے میرا رب جب کسی قوم کی حد سے تجاوز کرتی بے بسی کو دیکھتا ہے تو وہ ابابیلوں سے ہاتھی مروا دیتا ہے بلکل اسی طرح ہندوستان کے مسلمانوں کی بے بسی پر میرے رب نے ہندو دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گرد مودی گورنمنٹ کو ایک نہتی لڑکی سے ٹھپر مروایا ہے اور ٹھپر اتنا کرارا اور آواز دار ہے کہ پوری دنیا میں اس کی آواز سنی جا رہی ہے –

    جو کام 75 سالوں سے بڑے بڑے پھنے خان قسم کے لیڈر اور بڑے بڑے نام نہاد ملاں نا کر سکے وہ ایک اکیلی لڑکی نے کر دکھلایا کئی صدیاں پہلے کی بات ہے ہند کی ایک مظلوم عورت کی آواز پر ہمارا ایک شیر جوان عرب سے آیا تھا اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کی عزت و توقیر اور اسلام کی سربلندی کیلئے مگر آج ہند کی ایک مسلمان شیرنی نے ایک آواز پہنچا دی عرب کے حکمرانوں کے نام پاکستان و دنیا بھر کے سیاسی مستانوں کے نام-

    ہوا کچھ یوں کہ انڈین شہر کرناٹک میں ہماری ایک مسلمان غیور بہن خولہ خنساء کی شجاعت اور فاطمہ رضی اللہ جیسی حیا والی اپنی درسگاہ میں حجاب پہن کر داخل ہوئی تو حجاب کے مخالف درجنوں ہندو انتہاہ پسند ہندوؤں نے اسلام و حجاب کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیئے اللہ کی اس شیرنی نے مشرک پلید ہندو کے گندے نعروں کا جواب نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے پاک نعروں سے تن تنہاہ دیا جس سے ان نعرے بازوں کے چہروں کی رنگت بدل گئی کہ ایک نہتی اکلوتی لڑکی تن تنہاہ ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کر گئی اللہ اکبر کبیرہ-

    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی دیکھ کر دل خوش ہو گیا اور بے ساختہ منہ سے نکلا میری بہن تو نے تو ٹھپر مار دیا ان سیاستدانوں کے منہ پر جو کہتے کہ ہم اقتدار میں آ کر ہندو کو مزہ چکھائے گے اور 75 سالوں سے لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود مزے لوٹ رہے ہیں ہندو کی دی ہوئی عیاشیوں کے
    میری بہن تو نے تو بہت بڑا ٹھپر مارا ہے ان نام نہاد خود ساختہ مفتیان و ملاں کرام کے منہ پر کہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا جہاد ہندو کے خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارا ملک ہندوستان ہے حالانکہ ان کے لئے واضع مثال ہے کہ میرے نبی ذیشان صل اللہ علیہ وسلم نے اپنا شہر مکہ چھوڑا اور پھر مدینہ میں تیاری کرکے اپنا شہر ظالموں مشرکوں سے آزاد کروایا کیونکہ وہاں کے مشرکوں نے بھی آج کے ہندو کی طرح مسلمانوں کا جینا محال کر دیا تھا-

    یقیناً میری بہن آپ نے ظالم کے سامنے کلمہ حق کا نعرہ لگا کر جہاد کیا ہے کیونکہ اللہ کے راستے میں اللہ کے دین کی سر بلندی اور مسلم کی حرمت کے لیے لڑنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے
    اور اس جہاد کی دو اقسام ہیں
    اول ۔۔دفاعی جہاد
    دوم۔۔اقدامی جہاد

    دفاعی جہاد یہ ہے کہ جب کفار و کوئی بھی مشرک پلید کافر مسلمانوں کے کسی علاقہ پر حملہ آور یا پھر قابض ہو جائے اور مسلمانوں پر ظلم ستم کا بازار گرم کر دے تو اسے روکنے کے لیے کوشش کرنا جہاد کرنا کہلاتا ہے کیونکہ سورہ النسا میں فرمان الہی ہے کہ

    وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً

    ترجمہ۔۔اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستہ میں قتال کیوں نہیں کرتے جبکہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے کہہ رہے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی ساتھی اور مدد گار بنا دے

    اقدامی جہاد سے مراد یہ ہے کہ کافروں مشرکوں کی عہد شکنیوں، دعوت و دین کے راستے میں رکاوٹوں عبادتوں میں پابندیوں اور شعائر اسلامی کی توہین کی وجہ سے ان کافروں پر حملہ کرنا جہاد ہے کیونکہ اس بارے اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتے ہیں

    وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَواْ فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ

    اور انکے خلاف قتال کرو، حتى کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالص اللہ کے لیے ہو جائے
    تو اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کی جائے

    نیز حدیث رسول ہے کہ

    عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ جَاہِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَاَلْسِنَتِکُمْ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مشرکوں سے جہاد کرو،اپنے مالوں کے ساتھ،اپنی جانوں کے ساتھ اور اپنی زبانوں کے ساتھ
    دوسری حدیث ہے کہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَحُبُّ الْجِھَادِ إِلَی اللّٰہِ کَلِمَۃُ حَقٍّ تُقَالُ لِاِمَامٍ جَائِزٍ۔

    ترجمہ۔۔اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ جہاد ظالم بادشاہ کو حق بات کہنا ہے-

    أج ہند میں مسلمانوں کی عبادت پر پابندی مسلمانوں کی رسم و رواج پر پابندی حتی کہ مسلمانوں کی عزتیں غیر محفوظ جب جس مشرک ہندو کا دل چاہے کسی بھی مسلمان مرد و زن بچے بوڑھے کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے اور کلمہ حق کہنے کی توفیق کسی کو بھی نہیں مگر سلام اے میری بہن تجھ پر کہ تو نے ظالم مشرک بادشاہ ہند مودی پلید کے سامنے کلمہ حق بیان کیا نا صرف تو خود خوش قسمت ہے بلکہ خوش قسمت ہے وہ باپ جس نے تجھے جنا خوش قسمت ہے وہ ماں جس نے تجھے جنم دیا خوش قسمت ہے وہ بھائی جس کی تو عزت ہے خوش قسمت ہے وہ بہن جس کی تو راز دان سہیلی اور بہن ہے اور خوش قسمت ہے وہ خاندان جس کی تو توقیر ہے اللہ تیرا حامی و ناصر ہو ان شاءاللہ تیرے بطن سے محمد بن قاسم ،سلطان صلاح الدین ایوبی،نورالدین زنگی اور ٹیپو سلطان جیسے مر حر مرد مجاھد جنم لیں گے ان شاءاللہ

  • میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید

    اسلام آباد:میرے نوجوانوں مسئلہ کشمیرکوعالمی فورم پراٹھانے کے لیے آگے آئیں:مشاید حسین سید کا کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کے ویبنار سے خطاب،اطلاعات کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے اسلام آباد میں ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سینیٹرمشاہد حسین سید نے مرکزی خطاب کیا

    کشمیر یوتھ الائنس اور ملٹی اومکس کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس ویبنار میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ میرے وطن کے جوانوں پر اب یہ ذمہ داری ہے آگئی ہے کہ وہ جید وسائل کے ساتھ اپنی کوششوں اور توانائیوں‌کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اجاگر کریں اور کشمیریوں کو جلد از جلد بھارتی کی غلامی سے نجات دلائیں

    اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کشمیریوتھ الائنس کی جدوجہد کی تعریف بھی کی اور کشمیریوں کےلیے آواز بلند کرنے پرخراج تحسین پیش کیا

    کشمیر ایک انسانی المیہ ہے کہ نام سے منعقد ویبنار سے کشمیر یوتھ الائنس کے سینیئر نائب صدر طہٰ منیب نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک میں اہل پاکستان کو پہلے سے زیادہ بھرپور اندازسے مدد کرنی چاہیے اور ہر فورم پرکشمیریوں‌ کے لیے آواز بھی بلند کرنی چاہیے ، طہٰ منیب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ اب وہ کشمیریوں کی آزادی کےلیے عملی اقدامات کرے باتوں سے نکل کر اب میدان عمل میں آئے تاکہ کشمیریوں کو بھی یہ احساس ہو کہ پاکستان نے ان کے لیے فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے

    کشمیر کے حوالے سے منعقد اس ویبنار میں کشمیر یوتھ الائنس کے صدر سید مجاہد گیلانی نے بھی شرکت کی اور گفتگو کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس پروگرام کو منظم کرنے والے دو نوجوان رہنما جن میں ایک انعم امیتاز اور دوسرے محمد اختر ہیں جن کو بطور ماڈیٹرز کے خدمات سرانجام دینے اور کشمیریوں کے لیے یہ ویبنار منقعد کرنے پر خراج تحیسن بھی پیش کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا

    اس موقع پر سید مجاہد گیلانی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہمارے نوجوان اہل کشمیر کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے والے ہیں اور انہیں بھرپور امید ہےکہ یہی نوجوان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بن کران کی آزادی کےلیے جدوجہد کریں گے اور ایک دن آئے گا جب اس جدوجہد کے نتیجے میں اہل کشمیر بھارت کی غلامی سےنکل کر ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر زندگی گزار سکیں گے

  • محبت کا ایک ایسا واقعہ جس نے میری زندگی کو روشن کر دیا۔

    محبت کا ایک ایسا واقعہ جس نے میری زندگی کو روشن کر دیا۔

    ہم ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے اور اس وقت کے کافی عرصے سے ہم اچھے دوست ہیں۔ میں ائیر پورٹ پر اُس کے استقبال کے لیے تھا۔ ٹھنڈا اور پرسکون رویہ رکھنے کی کوشش کے باوجود، نیلی جینز اور ہلکے نیلے رنگ کے ٹاپ میں ملبوس اس کی پہلی جھلک نے میرا دم توڑ دیا۔ میں کبھی نہیں جانتا تھا کہ میں اس کی طرف راغب ہوں۔
    تبادلے دوستانہ تھے، زبردستی آرام دہ تھے۔ شائستہ گفتگو کے بعد جب میں نے اس کا سامان گاڑی میں لاد دیا۔ اس کے پیچھے مسافر کا دروازہ بند کرتے ہوئے میں ادھر ادھر گیا اور ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میرا دل توقع سے دھڑک رہا تھا۔ ٹیکسٹنگ کے دوران چھیڑ چھاڑ کرنا اور ٹھنڈا لگنا ایک چیز تھی۔ اب جب کہ واقعات حقیقی طور پر سامنے آ رہے تھے، میں گھبرا رہا تھا۔
    میرے ذہن میں لاکھوں سوال چمک رہے تھے۔ کیا یہ غلطی ہے؟ کیا اس کے بعد وہ میرے بارے میں کم سوچے گی؟ کیا میں اسے مایوس کروں گا؟ کیونکہ میں کسی بھی حالت میں اس کی دوستی کھونا نہیں چاہتا تھا۔ ہم نے پہلی بار ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ان تمام شرارتی پیغامات کے تبادلے کے بعد، اور اس ٹرسٹ کو ترتیب دینے کے بعد۔ میرے اندر کی گہرائیوں سے، سوال ابھرا، مجھے اس کا احساس بھی نہیں ہوا۔
    "میں اب تمہیں چومنا چاہتا ہوں!” اب میں گھبرا گیا! کیا میں پاگل ہوں؟ کیا وہ ناراض ہے؟ لیکن اس کے نرم جواب نے میرے خوف کو پورا کر دیا۔
    وہ میری طرف دیکھ رہی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا اشارہ تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر، میں جھک گیا اور ہم نے پہلی بار بوسہ لیا۔ اس وقت میں جانتا تھا، یہ ایک آرام دہ اور پرسکون جھڑپ سے زیادہ ہونے والا ہے۔ دو دوست محبت کرنے والوں میں بدل چکے تھے۔
    ہوائی اڈے سے ہوٹل تک کا سفر ایک کھیل جیسا تھا۔ جنسی تناؤ کو چھپانے کے لیے آرام دہ اور پرسکون مذاق بری طرح ناکام ہو گیا، اور پھر بھی اسے کھیل کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ ہوٹل میں، جلدی سے باہر آنے والے بیل بوائے کے پیچھے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرنے کے چند ہی لمحوں میں، ہم ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے اور کپڑے اتار رہے تھے۔ یہ ایک خواب کی طرح جینا تھا۔ ہم نے زبردست سیکس کیا، ہنسا، بات کی، شراب پی، کھانا کھایا، ڈانس کیا اور بہترین دوستوں کی طرح بندھے ہوئے تھے۔
    جسمانی کیمسٹری بہت زیادہ تھی؛ ہم ایک جیگس پہیلی کے ٹکڑوں کی طرح ایک ساتھ فٹ ہوجاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خوبصورت وہ سکون اور خوشی تھی جو ہم نے ایک دوسرے کی صحبت میں محسوس کی۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی، جو ہفتے کے آخر تک جاری رہی۔
    ہمارے تعلقات کی حرکیات سادہ تھیں۔ کوئی تار منسلک نہیں ہے۔ صرف باہمی احترام، مشترکہ جذبات اور ہمارے درمیان ناقابل یقین جسمانی کشش کی بنیاد پر۔ لیکن ماحولیاتی نظام پیچیدہ تھا، کیونکہ ہم شادی شدہ تھے، نہ کہ ایک دوسرے سے۔ یہ اپنی برہنہ شکل میں غیر روایتی اور خوبصورت تھی، لیکن معاشرتی اصولوں میں ملبوس ہونے کے باوجود گناہ اور زناکار تھی۔
    مجھے بالکل واضح کرنے دو: کوئی ‘بری’ شادی یا بدسلوکی یا ایسی کوئی وجہ ہمیں اکٹھا نہیں کر سکی۔ ہم دونوں کی شادی کو کافی عرصہ ہو چکا تھا، ہمارے بچے تھے اور ہماری ازدواجی زندگی معمول کے اتار چڑھاو کے ساتھ مستحکم تھی۔ ناخوش نہیں۔
    بغیر کسی رکاوٹ کے گہرے فکری مباحثوں سے دل چسپی زبانی ہنسی مذاق اور دلچسپ جوابات کی طرف بڑھتے ہوئے۔ میں کبھی کسی اور کی صحبت میں اتنا نہیں ہنسا۔ اور جادوئی جنسی…
    عجیب بات ہے، میں نے کوئی جرم محسوس نہیں کیا۔ میں اب بھی اپنے شریک حیات سے پیار کرتا تھا اور اس کی دیکھ بھال کرتا تھا اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اپنے شوہر کے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتی تھی۔ لیکن ہم دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ رشتہ ہمارے خاندانوں اور دوستوں کے لیے افراتفری اور خرابی کا باعث بن سکتا ہے، اگر یہ کھلے عام سامنے آئے۔ سیدھے الفاظ میں، ہماری زندگی صرف علیحدہ ریلوں پر ہی چل سکتی ہے۔ اگر زندگی حادثات کے بغیر آگے بڑھنی ہے تو فاصلہ ضروری تھا۔ اور اس طرح ایک مقدس قاعدہ تھا۔ ہم اسے سنجیدہ تعلقات میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دیں گے۔
    وقت گزرتا گیا، مزید کوششیں ہوئیں اور جب اس نے اپنا سودا ختم کیا، میں نے اس ایک اصول کو توڑ دیا۔ مجہے محبت ہو گئ ہے. مجھے نہیں ہونا چاہئے تھا، لیکن میں نے کیا اور ایسا کرتے ہوئے میں نے اپنے اتحاد کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ ہم نے اس کے ارد گرد کام کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کام کرنے سے کہیں زیادہ آسان تھا۔ اس انتظام میں جذبات کو لانا ایک معاہدہ توڑنے والا تھا۔ مجھے جذباتی طور پر لڑکھڑاتے ہوئے محسوس کرتے ہوئے، ہماری بھلائی کے لیے، اس نے پلگ کھینچ لیا اور تمام رابطہ توڑ دیا… اور میرا دل۔
    اگرچہ استدلال کے ساتھ صلح ہو گئی، میں اب بھی متضاد ہوں۔ جو چیز بہت اچھی اور صحیح محسوس ہوتی ہے اسے برا اور غلط کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا میری اخلاقی ریشہ اتنی کرپٹ ہے؟ کیا کسی فرد کی خوشی ہمیشہ کے لیے اخلاقیات کا شکار ہو جاتی ہے؟ کیا محبت اور پیار کے جذبات، جن کو انسانی اقدار میں سب سے پاکیزہ اور اعلیٰ ترین قرار دیا جاتا ہے، ان کو چند لوگوں کے لیے راشن دیا جائے؟ کیا کچھ کو دینے سے دوسروں کی دستیابی کم ہو جائے گی؟ میں جانتا ہوں کہ ان سوالات کے کوئی حقیقی جواب نہیں ہیں، صرف آسان تشریحات ہیں۔

  • محبت میں ناکامی کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟؟

    محبت میں ناکامی کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟؟

    اپنے پیارے کو کھونے کے بعد دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ اور آزمائشی چیلنجوں میں سے ایک ہے جو زندگی ہمارے راستے پر ڈالتی ہے۔ اس کے باوجود، ٹوٹے ہوئے دل کی پرورش ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر کوئی گزرتا ہے اور ایک ایسا واقعہ ہے جس سے ہم سب کو کسی نہ کسی وقت نمٹنا پڑتا ہے۔ شاید، یہاں تک کہ کئی بار. اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کتابیں، فارمولے، ریاضی، آرٹ کے ٹکڑے یا موسیقی نہیں ہیں۔ انہیں سیکھا، سمجھا یا نیویگیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بجائے، لوگ خیالات، جذبات اور طرز عمل کا محض ایک مجموعہ ہیں۔
    سیدھے الفاظ میں، لوگ پیچیدہ ہوتے ہیں، خاص طور پر جب بات دل کے معاملات کی ہو۔ ہم کچھ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ پسند کرتے ہیں، انہیں بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں اور شدت سے ان کی توجہ چاہتے ہیں۔ ہم اپنا سارا وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان سے متاثر ہو جائیں اور پھر جلد ہی پیار ہو جائیں۔ جس طرح سے دو افراد اکٹھے ہوتے ہیں گویا کسی جادوئی قوت سے قریب ہو کر انہیں ایک جیسی طاقت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
    جب ایسا ہوتا ہے تو، اپنی زندگی کے ٹکڑوں کو اٹھانا اور یہ جاننا کہ ٹوٹے ہوئے دل کو کیسے ٹھیک کیا جائے اور آگے بڑھنا ایک مشکل تجویز ہو سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہو گا کہ آپ کی زندگی مکمل طور پر الگ ہو گئی ہے۔ لہذا اگر آپ اپنے آپ کو ایسی صورتحال میں پاتے ہیں، تو ہم آپ کو دل ٹوٹنے اور دھوکہ دہی سے نمٹنے میں مدد کے لیے حاضر ہیں۔
    اگر آپ پوچھ رہے ہیں کہ دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے، تو آپ شاید پہلے ہی اس کے ساتھ آنے والے دردناک درد سے بہت واقف ہوں گے۔ آپ کی زندگی کی محبت کا نقصان، دھوکہ دہی، دھوکہ دہی یا محض اس شخص سے الگ ہو جانا جسے آپ اپنا جیون ساتھی سمجھتے ہیں آپ کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچانے اور جذباتی طور پر گزارا کر سکتا ہے۔ مایوسی کے ایسے لمحات میں یہ سوچنا فطری ہے کہ دل ٹوٹنے سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے۔
    ایک تحقیق کے مطابق، آپ کا دماغ دل کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہونے والی جذباتی تکلیف پر اسی طرح عمل کرتا ہے جس طرح یہ چوٹ یا بیماری کی وجہ سے ہونے والے جسمانی درد پر عمل کرتا ہے۔ اگر آپ ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کچھ عام تاثرات پر دھیان دیتے ہیں – "میرا دل میرے سینے سے پھٹ گیا”، "جلد والا دل”، "گٹ رینچنگ ہارٹ بریک” – یہ سب جذباتی درد کو کم کرنے کے لیے جسمانی درد کا استعمال کرتے ہیں۔ . اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹوٹا ہوا دل درحقیقت آپ کو جسمانی طور پر تکلیف پہنچاتا ہے۔ تو یہ سب آپ کے دماغ میں نہیں ہے۔
    نتیجے کے طور پر، جسم کی لڑائی یا پرواز کا ردعمل متحرک ہو جاتا ہے اور تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ جسم میں ہونے والی تمام ناخوشگوار تبدیلیاں جیسے کہ بھوک میں کمی، متلی، وزن میں اضافہ یا کمی، مہاسے یہ سب اس سائیکل کے حرکت میں آنے کا نتیجہ ہیں۔ بعض صورتوں میں، متاثرہ شخص کو اس رجحان کی وجہ سے دل ٹوٹنے، ڈپریشن اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درحقیقت، بعض انتہائی صورتوں میں، دل کا ٹوٹنا لفظی طور پر آپ کے دل کو توڑ سکتا ہے۔
    اسے بروکن ہارٹ سنڈروم، یا طبی اصطلاح میں Takotsubo Cardiomyopathy کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں دل کو توڑنے والی صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے والا شدید تناؤ دل کے بائیں ویںٹرکل کو عارضی طور پر فالج میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس سے ہارٹ اٹیک جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ شکر ہے، حالت مہلک نہیں ہے اور زیادہ تر معاملات میں خود ہی حل ہوجاتی ہے۔
    1. یاد رکھیں کہ آپ دل ٹوٹنے کا مقابلہ کرتے وقت تنہا نہیں ہیں۔
    ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا تجربہ آپ سے چھین لیا جائے لیکن ہمیں آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ دنیا کے پہلے شخص نہیں ہیں جو دل ٹوٹنے اور مسترد ہونے سے نمٹتے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوئے اور اس سے نکل آئے ہیں اور لاکھوں لوگ روزانہ اس کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو آپ کو ادا کرنی پڑتی ہے جب آپ محبت میں پڑ جاتے ہیں۔ چوٹ لگنے اور گرنے کا خطرہ۔
    جی ہاں، درد ناقابل برداشت معلوم ہوتا ہے جب تک یہ رہتا ہے، جس سے آپ کو ناامید، مایوسی اور اعتماد کے مسائل سے چھلنی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم، یہ تجربات آپ کے کردار، پختگی اور لوگوں کو سمجھنے اور تعلقات کو سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہم پر بھروسہ کریں جب ہم آپ کو بتائیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس وقت سب کچھ کتنا ہی اداس نظر آتا ہے، یہ تجربہ آپ کو مستقبل میں آپ کے تعلقات میں بہت بہتر بنائے گا۔ اگرچہ یہ کوئی خوشگوار احساس نہیں ہے اور اس پر قابو پانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، لیکن یہ بالکل معمول کی بات ہے۔
    2. آپ کو ایک صاف سلیٹ کی ضرورت ہے۔
    دل ٹوٹنے سے نمٹنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ ٹھیک ہے، یہ آپ کے لئے سب سے اہم تجاویز میں سے ایک ہے. اور یہ بہت آسان بھی ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے آپ کو صاف ستھری حالت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کا ذہن یادوں، امیدوں، توقعات اور خیالی تصورات سے گدلا ہے جو کہ سب بیکار ہیں، تو یہ عمل مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
    لہذا، ایسی چیزیں کریں جو آپ کو اس شخص کے ساتھ گزارے گئے وقت کی یادوں میں واپس جانے سے روکنے میں مدد کریں۔ فون، ٹیبلیٹ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سے تمام چیٹس، ای میلز اور تصاویر کو حذف کریں۔ اگر آپ ایسا کرنے کی ہمت نہیں جمع کر سکتے ہیں، تو کسی دوست سے کہیں کہ وہ ان سب کو ایک پوشیدہ فولڈر میں لے جائے۔ تحائف اور رشتے کی یادگاروں کو ختم کر دیں، تاکہ آپ کو اس شخص کی یاد نہ آئے جس نے آپ کو ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑا ہے۔
    3. دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے لیے تمام مواصلات بند کریں۔
    جب آپ دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو بغیر رابطہ کا اصول آپ کا بہترین حلیف ہوتا ہے۔ اس کے ارد گرد پینتریبازی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ صرف ایک ایسی چیز ہے جس پر آپ کو پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔ اپنے سابقہ ​​یا کسی ممکنہ محبت کی دلچسپی کے ساتھ تمام مواصلت بند کر دیں جس نے آپ کو ٹھکرا دیا ہے، اس لمحے جب وہ چلے جاتے ہیں۔ تمام مشترکہ دوستوں کو ہدایت دیں کہ وہ آپ کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم نہ کریں چاہے دوسرا شخص آپ سے ان کی زندگی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کچھ پوچھے یا بتائے۔ جو کچھ بھی کرنا پڑے کریں، لیکن اپنے آپ کو ان سے بات کرنے کی اجازت نہ دیں۔
    لوگ جب چاہیں تمام مواصلات کو معطل کر سکتے ہیں لیکن کمزور لمحات میں اچانک دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ لہذا، مواصلاتی چینلز کو روکنے میں مدد ملتی ہے. ان کو انسٹا، فیس بک، اسنیپ چیٹ اور ان تمام چیزوں پر بلاک کریں جس پر آپ لوگ بات چیت کرتے تھے۔ جب آپ کو کال کی توقع نہیں ہے یا آپ کو کال نہیں کرنی چاہیے تو پھر آپ کے فون پر فون نمبر کیوں درج ہے؟
    4. دل کے ٹوٹنے پر کیسے قابو پایا جائے؟ اپنے جذبات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔
    ایک بار جب آپ دل کے ٹوٹنے کے بعد اپنے آپ کو بہتر طور پر قابو میں رکھتے ہیں، تو یہاں تک پہنچنے کے لیے اپنی پیٹھ تھپتھپائیں۔ لیکن خبردار رہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کا سفر قطعی خطی نہیں ہے اور یقینی طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ صحیح سمت میں پیشرفت کرنے کے دنوں کے بعد، ایسے وقت آئیں گے جب آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ اس کھوئی ہوئی محبت تک پہنچنا ہے اور اسی وقت ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے آپ کی ساری پیشرفت ختم ہو گئی ہے۔
    ہوسکتا ہے کہ آپ نے انہیں تین ہفتوں تک کامیابی سے نظر انداز کیا ہو لیکن اچانک آپ کی ماں نے ان کا ذکر کیا اور آپ اپنے فون پر ان کا نمبر کھودتے ہوئے ان سے آپ کو واپس لے جانے کے لیے کہنا چاہتے ہیں۔ خواہش، الجھن اور امید آپ کو غلط قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس لیے اس امکان کو روکنے کے لیے، آپ کو اپنے جذبات کے بارے میں کسی دوست یا مشیر سے بات کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ وہ آپ کو یاد دلائیں گے کہ آپ کو واقعی کیا کرنا چاہئے کیونکہ وہ صرف آپ کے لئے بہترین چاہتے ہیں۔
    5. جتنی آپ کو ضرورت ہو گی
    اگر آپ بریک اپ کے نتیجے میں اداسی، مایوسی اور اذیت کے جذبات کو دباتے ہیں جس نے آپ کو واضح طور پر مکمل طور پر توڑ دیا ہے تو آپ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہے ہیں۔ آپ کے جذبات کو بوتل میں ڈالنا آپ جو محسوس کر رہے ہیں اس پر عملدرآمد کرنے اور اسے اپنے سسٹم سے نکالنے کا موقع چھین لیتا ہے – جو حقیقت میں کافی کیتھرٹک ہو سکتا ہے۔ جب آپ پہلے سے ہی سمجھدار اور نارمل رہنے میں مدد نہیں کرسکتے ہیں، تو اپنے آپ کو تھوڑا سا اداس محسوس کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اگر یہ طویل مدت میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
    دل کی خرابی پر کیسے قابو پایا جائے؟ جتنی آپ کو ضرورت ہو گی، اگر آپ کی طرح محسوس ہو تو اسے اونچی آواز میں پکاریں۔ اور ہاں، مردوں کا رونا بھی ٹھیک ہے۔ رونا انسان کو پہلے سے بہت بہتر محسوس کرتا ہے اور بہت زیادہ رونے جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ رونے کی ایک قسط کے بعد آپ ہمیشہ بہت ہلکا، پر سکون اور تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔ بہادر چہرہ نہ لگائیں اور اس کے بجائے اپنے جذبات کو تسلیم کریں۔
    6. اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ آپ کسی اور کو کنٹرول نہیں کر سکتے
    دل کے ٹوٹنے سے کیسے نمٹا جائے؟ ٹھیک ہے، آپ کو اس حقیقت کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی اور کی رہنمائی، انتظام اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اپنے آپ کو اس کی جگہ پر رکھیں اور تصور کریں کہ کیا آپ وہ کرنا چاہتے ہیں جو دوسرے آپ سے چاہتے ہیں یا آپ آزاد مرضی اور خود مختار شخص بننا پسند کریں گے۔ وہ کیوں برتاؤ کریں جس طرح آپ ان سے چاہتے ہیں؟
    اگر آپ نے ایک بار کسی سے پیار کیا ہے تو ، اس کے یا اس کے فیصلے کا احترام کریں جو اس نے کیا ہے۔ اگر وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ان کے ہر کام کی جانچ پڑتال کرنے اور ان سے آپ کی توقعات کو مزید بڑھانے کے بجائے انہیں جانے دیں۔ جو آپ کنٹرول کر سکتے ہیں وہ آپ کے اپنے اعمال اور ان کے فیصلے پر ردعمل ہیں۔ لہذا، اس پر توجہ مرکوز کریں.
    7. دل کے ٹوٹنے پر کیسے قابو پایا جائے؟ ’بلیم گیم‘ سے دور رہیں
    اگر کوئی رشتہ ختم ہو گیا ہے یا چیزیں ممکنہ محبت کی دلچسپی کے ساتھ کام نہیں کرتی ہیں جس طرح آپ کو پسند ہے، آپ دونوں نے اس میں کردار ادا کیا ہوگا۔ یہ واقعی ان کی یا آپ کی غلطی نہیں ہوسکتی ہے۔ الزام تراشی سے معاملات کو بالکل بھی مدد نہیں ملے گی کیونکہ آپ دونوں یقینی طور پر غلط ہیں۔
    لہٰذا دوسرے شخص یا حالات کی خامیاں تلاش کرنے سے گریز کریں اور ہر چیز کے لیے ان پر الزام لگا کر اپنی مایوسی کے لیے ان کا استعمال کریں۔ اس کے بجائے، موجودہ صورتحال کو جیسا کہ ہے قبول کرنا شروع کریں۔ ایک بار جب آپ حقیقت کے قریب ہو جائیں گے تو آپ کے لیے درد سے خود کو دور کرنا اور اس سب سے صلح کرنا آسان ہو جائے گا۔
    8. دل کے ٹوٹنے سے نمٹنے کے لیے ایپی سوڈ کے بعد نئے دوست بنانے کی کوشش کریں۔
    کیا ٹوٹنے کا درد کبھی دور ہو جاتا ہے؟ شاید، ایک طویل وقت کے لئے نہیں. لیکن آپ کو اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا اور آگے بڑھنا بھی ہوگا۔ درد برقرار رہ سکتا ہے لیکن آپ اس سے نمٹنے اور اپنے لیے ایک خوشگوار زندگی کو جاری رکھنے میں بہتر ہو سکتے ہیں۔ نئی شروعات کرنا ٹوٹے ہوئے دل کو ٹھیک کرنے اور آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
    لہذا، باہر جائیں، نئے لوگوں سے ملیں، دوست بنائیں اور اپنے آپ کو ان لوگوں اور چیزوں میں لگائیں جو آپ کو خوش کرتے ہیں۔ خوشی سے سنگل رہنا حقیقی ہے! اس لیے اس کا بھرپور استعمال کریں۔
    9. ایک اچھا، طویل سفر کریں۔
    اگر کسی پیارے کے کھو جانے سے آپ کو شدید متاثر ہوا ہے اور آپ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دل کے ٹوٹنے اور افسردگی سے کیسے نمٹا جائے تو اپنے لیے منظر کی تبدیلی پر غور کریں۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے ایک اچھا ساحل اور کچھ R&R ٹھیک نہیں کر سکتا! اس ایک رکاوٹ کو آپ کو اپنی زندگی کے بہترین دن گزارنے سے روکنے نہ دیں۔
    خاندان یا دوستوں کے ساتھ سفر یا چھٹی کا منصوبہ بنائیں۔ نئی اور خوشگوار یادیں تخلیق کریں جو آپ کے لیے کہانیوں کا نیا خزانہ ہوں گی، جب آپ تنہا اور اداس محسوس کریں گے۔ اپنے پیاروں کے ساتھ کچھ معیاری وقت گزاریں۔ اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے کے لیے نئی تصاویر پر کلک کریں!
    10. مدد کا ہاتھ بڑھائیں۔
    ایک بار جب آپ نے دل کی دھڑکنوں سے نمٹنا سیکھ لیا یا کم از کم اس محاذ پر کچھ پیش رفت کر لی، تو ایسے شخص کی مدد کرنے کی کوشش کریں جو اسی طرح کے صدمے سے گزر رہا ہو۔ ایک رہنما بنیں اور اس مشکل مرحلے میں ان کا ہاتھ پکڑیں ​​کیونکہ وہ اسی طرح دل کے ٹوٹنے سے نمٹ رہے ہیں جس طرح آپ نے پہلے کیا تھا۔
    آپ نے زندگی میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کے ساتھ آپ یقیناً اس شخص کے ساتھ کچھ قیمتی ٹپس شیئر کر سکتے ہیں جو تکلیف میں ہے۔ وہ یقینی طور پر مدد استعمال کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ کو اپنے اندر ہونے والی تبدیلی کا احساس کرنے میں بھی مدد ملے گی اور یہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی کہ آپ کتنی دور آ چکے ہیں!

  • افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان

    سری نگر :افضل گورو کی برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ اور ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیری رہنما افضل گورو کی برسی کے موقع پر کل یومِ سیاہ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعے کو مقبول بٹ کی برسی پر بھی ہڑتال کی جائےگی۔

    کشمیر میڈیاسروس کےمطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان کا کہناہے کہ دونوں شہید رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونکی اور اب کشمیریوں کی چوتھی نسل جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانےکے لیے پر عزم ہے ۔

    ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لیں،تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔

    حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں تہاڑ جیل سے مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

    خیال رہےکہ کشمیری رہنماافضل گورو کو 9 فروری 2013 اور مقبول بٹ کو 11 فروری 1984میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، بعدازاں ان کی میتوں کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کردیا گیا تھا۔

  • قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے:ڈاکٹرشعیب پرویزکا کشمیرسیمنارسے خطاب

    لاہور:قومی سلامتی پالیسی کی طرح حکومت قومی کشمیر پالیسی بنائے، پھر بات آگے بڑھے گی ورنہ اگرسابقہ حکمرانوں کی طرح کشمیرپالیسی رہی توپھرکشمیری کبھی آزاد نہیں ہوسکیں گے،کچھ کرنا ہوگا:ڈاکٹرشعیب پرویز نے سیدھی اور سچی بات کرکے پالیسی سازوں کو ایک نہایت ہی مفید مشورہ دے کر ایک گائیڈ لائن دے دی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے کشمیریوں کی تحریک آزادی پر یہ محققانہ مشورہ یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں‌ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئےدیا ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے پاکستان کے ذمہ داروں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ براہ مہربانی قومی سلامتی پالیسی کیطرح قومی کشمیرپالیسی بھی بنانی چاہیے ، ایک ٹھوس پالیسی ہوگی تو معاملات آگے بڑھیں گے

    یو نیورسٹی آ ف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرشعیب پروز کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے جس طرح کوششیں جاری ہیں اس سے تو کبھی بھی کشمیریوں کو آزادی نہیں مل سکے گی ، اس کےلیے ایک فیصلہ کن راونڈ کھیلنا پڑے گا ،ڈاکٹرشعیب پرویز نے جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ ایک وقت تھا جب جماعت الدعوۃ جیسی جماعتیں جہاد کشمیر کے لیے فنڈز اکھٹا کیا کرتی تھیں اور کشمیری مجاہدین کی مدد کو پہنچتے تھے آج اسی جماعت کو ایف اے ٹی ایف کی خواہش پرکالعدم قرارد ے کر کُھڈے لائن لگا دیا گیا ہے

     

     

     

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں‌ پر کشمیر کی آزادی کا بوجھ ہے ، پوری قوم پاک افواج کے ساتھ ہیں ،اس لیے قومی مقتدر ادارے کو کشمیرپالیسی کے حوالے سے دلیرانہ اقدامات اٹھانے ہوں گے ، اسٹیبلشمنٹ کو سابقہ حکومتوں کی کوتاہوں پر قابو پاتے ہوئے اب فیصلہ کن مرحلے کی طرف آگے بڑھنا چاہے ،

    ڈاکٹر شعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی عجیب رویے اور منتشرالمزاج افراد اور جماعتیں ہیں جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کےلیے کوشاں اداروں اور افراد کے خلاف دشمن کی خواہشات کے مطابق اپنی توبوں کا رُخ کیے ہوئے ہیں جبکہ ہمارا پاکستانیوں اور کشمیریوں کا ازلی دشمن اپنی افواج کے پیچھے اس قدر مضبوط کھڑا ہے کہ پاکستان میں‌ بھارتی افواج کی ناک کٹوانے والے ابھی نندن کو پھر بھی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے ،

    ڈاکٹرشعیب پروز کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام بین الاقوامی ادارے بھارتی نواز ہیں، وہ نہ تو کشمیریوں کے قتل عام پر دُکھ کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی کوششوں کوخاطرمیں لاتے ہیں بلکہ حالات تو یہ ہیں کہ ہم کشمیریوں کے لیے آوازبلند کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کی طرف سے جواب ناں میں ملتا ہے ، ہم کشمیریوں‌ کے قتل عام پر دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے ہیں تو ایف اے ٹی ایف اور دیگربھارتی نوازادارے ہماری سُنتے ہی نہیں اور ہماری کوششوں‌ پر نو کمنٹس کہہ کرپانی پھیر دیتے ہیں‌

    ڈاکٹرشعیب پرویز کا کہنا تھا کہ ہمیں‌ اپنی پاک افواج پر بھروسہ ہے اور ہماری دعائیں بھی ان کے ساتھ ہیں جب ساری دنیا ایک طرف ہے تو پھر کشمیریوں پرمظالم روکنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا اور پھر ہی کشمیر آزاد ہوگا اور یہ صرف پاک افواج اور کشمیری مجاہدین ہی کریں‌گے ، ان کا بار بار یہ کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کوعالمی برادری کی بھارتی نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کشمیری پالیسی پر نظرثانی کرکے کشمیری مجاہدین کی کھُل کر مدد کرنی چاہیے ، پھر حالات بھی بدلتے دیکھیں گے اور اس کی برکت سے پاکستان میں‌ دہشت گردی کو ختم ہوتا بھی دیکھیں گے

    ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم کئی سالوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایسے کب تک منائیں گے ، انہوں نے اپنی گفتگو میں سینیئر صحافی مبشرلقمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں وہ شخصیت بھی موجود ہے جو کشمیریوں کی تحریک آزادی کے لیے ایک مجاہد کی طرح ہر وقت زبان اور قلم سے اپنے حصے کا جہاد کررہی ہے ، ڈاکٹر شعیب پرویز نے مبشرلقمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیریوں کے لیے کوشاں نوجوانوں‌ کاتعارف بھی کروایا اور اس مسئلے کو ہرفورم پراٹھانے کا عہد بھی کیا ، ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی مبشرلقمان کی طرح کشمیریوں کی آزادی کے لیے ہر فورم پرآوازاٹھاتے رہیں گے اور ضرورت پڑی تو عملی طور بھی جدوجہد میں شامل ہوں گے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب پچھلی کوتاہیوں ناکامیوں‌ کو دھو کر نئے سرے سے کشمیرکی آزادی کےلیے فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوں

    یاد رہے کہ و ایم ٹی میں ” پاکستان کشمیر پالیسی، آبجیکٹوز اینڈ اپروچز پر سیمینار کا انعقاد “سیمینار میں وفاقی وزیر و چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، سینئر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان، ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر آصف رضا، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی چیئر مین کشمیر یوتھ ایسوسی ایشن، پروفیسر ڈاکٹر شعیب پرویز نے شرکت فرمائیں اور ایک پالیسی ساز گفتگو کی

  • ٹیکنالوجی باعث رحمت ہے یازحمت:تحریر .ارم شہزادی

    جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رہن سہن کتنا سادہ تھا، کتنا خوبصورت تھا، لوگ کیسے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ کیسے کھانا، پینا، اوڑھنا، سادہ تھا کوئی بناوٹ نہیں تھی۔کوئی جلن حسد جیسی خرافات عام نہیں تھیں۔رشتوں کا کیسے احترام تھا۔ صبح کا آغاز موبائل فون اور ٹی وی کے بجائے نماز، تلاوت قرآن سے ہوتا تھا۔ناشتہ بریڈ جام، جیسے غیر معیاری اور غیر صحت بخش غذا سے نہیں بلکہ روٹی، دیسی انڈے، مکھن، لسی، دودھ سے ہوتا تھا۔ سارا دن موبائل پر نظر جمانے کے بجائے جسمانی کھیل کود ہوتا تھا۔زمینوں پر کام کرنا پینڈو ہونا باعث شرمندگی نہیں بلکہ باعث فخر ہوتا تھا۔ بھینسیں پالنا قابل فخر تھا کتا پالنا نہیں۔ دودھ، دہی، مکھن گھر کی خوراک تھی۔سبزیاں اپنی زمینوں پر اگائی یجاتی تھیں۔سادہ بیج بغیر کھاد کے بغیر سپرے کے صاف پانی سے بڑھنے والی سبزیاں زائقے میں تو اچھی ہوتی ہی تھیں ساتھ صحت مند بھی ہوتی تھیں۔ ایک گھر اگر سبزی اگاتا تھا تو سارا گاؤں یا تو بغیر پیسوں کے یا بہت تھوڑے سے پیسوں کے عوض خرید لیتا تھا۔ ایک گھر میں اگر کوئی حادثہ ہوجاتا تھا تو سارا گاؤں اکٹھا ہوجاتا تھا۔ جیسے دیوار اینٹ سے جڑی اینٹ کی طرح ہوتی ہے بلکل ویسے جڑے ہوئے تھے۔

    جیسے حدیث مبارکہ ہے کا مفہوم ہے کہ” مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم میں کسی ایک حصہ کی تکلیف سارا بدن محسوس کرتا ہے” گاؤں گنجان آباد تھے۔ شہروں کی آبادی بہت کم تھی دیہاتوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی بہت ہی کم تھی۔ ٹی وی کی نشریات سے پہلے ریڈیو پر پروگرام پورا پورا گاؤں مل کرسنتا تھا کیونکہ ہرگھر میں ریڈیو موجود نہیں تھا۔ پھر وقت میں تھوڑی تبدیلی ہوئی اور ریڈیو کے ساتھ ٹیپ ریکارڈر اور ٹی وی کی آمد نے جہاں شہروں کی زندگی میں تبدیلی رونما کی وہاں دیہات میں بھی یہ چیز عام ہونے لگی۔ لوگوں کا ویژن بدلا تو جو علاج دیسی جڑی بوٹیوں-سے ہوتا تھا وہ شہروں سے جا کر کروانا شروع کیا۔ دیہاتوں میں ڈسپنسری تو نا تھی لیکن بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافعت ضرور تھی۔ سکول کالج بھی دیہاتوں میں نا تھے لیکن مدارس تھے قران کی تعلیم ہر بچے کے پاس تھی۔ وقت کی تبدیلی نے دیہاتوں میں رہنے والوں کو سوچنے پر مجبور کیا اور وہ بچے پڑھانے کے لیے شہروں کا رخ کرنے لگے کسی حد تک تو یہ درست تھی اور تعلیم ہر بچے کا حق تھا لیکن بدقسمتی سے اس ایک حق نے باقی بہت سے حقوق چھین لیے۔ اگر کوشش، کر کے تمام سہولیات دیہاتوں میں لی جاتیں تو آج دیہات ویران اور شہر گنجان آباد نا ہوتے۔ آبادی کا تناسب قائم رہتا، لمبی چوڑی گھریلو بلڈنگز نا بنتیں تو شہروں کے صفائی کے معاملات اتنے خراب نا ہوتے جتنے ہیں۔ ریڈیو ٹی وی کو ترقی جاننے والی قوم جب لیب ٹاپ اور سمارٹ فونز تک پہنچی تو بلکل ہی بدل چکی تھی یہ نسل ترقی کا یہ سفر انکی پہنچ میں سائنس تو لے آیا لیکن خالق سے دور کردیا۔رزق کے پیچھے دوڑتے دوڑتے صحت تو گنوا بیٹھے لیکن زمینیں بنجر کررہے ہیں۔ رشتے داریاں اب وٹس ایپ سٹیٹس تک رہ گیئں ہیں رشتے نام کے رہ گئے۔باپ کی بہن پھپھو گھر کی رانی سے ڈاکو رانی بنا دی گئی۔ اماں مم بن گئی ابا جی ڈیڈ بن گیا۔ فیشن کے نام پے کپڑے پہلے چھوٹے ہوئے اب پھٹنے لگ گئے۔ سردیوں کی شامیں جو سارا خاندان ایکساتھ مناتا تھا اب الگ الگ کمروں میں بظاہر تنہا گزار دیتا ہے۔ بہت ساری چیزوں کو خود پر حاوی کرکے مہنگائی کا ازھاد اپنے گلے ڈالا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو سمارٹ فونز لے کر دیے ہیں اور انہیں انکی اصل سے الگ کردیا ہے۔

    ترقی یہ نہیں ہوتی کہ آپ اپنا اصل بھول جائیں غیر کا کلچر اپنائیں بلکہ ترقی یہ ہوتی ہے کہ اپنے اصل کو پروموٹ کریں انہیں اگے بڑھائیں۔ دنیا کے اگے لگ جانے کے بجائے اپنی چیزوں کو اگے لائیں۔اپنے دیہات، کھلیان سجائیں، آپنی زمینوں پر نئے نئے تجربات کریں فصلیں اگائیں کسی دفتر میں چند ہزار کی ملازمت سے بہتر اپنے باغات اگائیں ملازم بننے کے بجائے ملازم رکھیں۔ صحت مند سبزیاں اگائیں۔ صحت بخش فروٹس اگائیں۔ دیہاتوں میں صحت کی سہولیات پہنچائیں، سکول کالج بنائیں، اچھےاچھے رروڈز اور سڑکیں بنائیں۔ دیہات آباد کریں۔زمینوں پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی نئی فصلیں اگائیں۔ موجودہ فصلوں کی مقدار بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ تاکہ آبادی کی آباد کاری اور ضروریات کو متناسب کیا جاسکے۔ شہروں پر بڑھتے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ رشتوں میں خود غرضی جو گھل چکی ہے اسے کم کیا جاسکے۔ دلوں کو شہری گھروں اور سڑکوں کی طرح تنگ بنانے کی بجائے دیہاتوں اور کھلیانوں کی طرح کھلا اور کشادہ کریں۔ ٹیکنالوجی کو رحمت بنائیں زحمت نہیں۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae