Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے اسکولوں میں سوریہ نمسکارکرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مذمت،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدیدمخالفت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ آخر ہمیشہ مسلمان طلبہ کوہی یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک ہندو رسومات کی ادائیگی کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیاہے۔

    عمرعبداللہ نے ٹویٹ میں کہاکہ یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم طلبہ کو یہ سب کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ہندوئوںکاایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نا منانا ہرکسی کا نجی معاملہ ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جب غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں سکولوں میں کشمیری طلبہ کو سوریہ نمسکار کرانے کے حکمنامے کو کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی قراردیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری طلبہ اور اسٹاف کو زبردستی طورپر ہندو رسومات کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اس حکمنامے سے اس کی مذہبی انتہا پسندی ظاہرہوتی ہے ۔

    اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ سوریہ نمسکار، ایک قسم سے سورج کی پوجا ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میںبھارتی حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔

  • کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    5 جنوری ایوان صدر اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے 29 سال سے انڈیا میں قید حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی تقریب رونمائی کی گئی ۔جس میں صدر پاکستان ، کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار خان آفریدی، علی محمد خان ، دیگر ایم این ایز، ایم پی ایز، صحافی حضرات اور مجھ سمیت سینکڑوں کشمیری و پاکستانی نوجوانوں نے شرکت کی ۔ تقریب میں ڈاکٹر قاسم فکتو کے صاحبزادہ احمد بن قاسم نے مسلئہ کشمیر کو آسان الفاظ میں بیان کیا جس کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور پورا ایوان تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور احمد بن قاسم کا پورے ایوان نے کھڑے ہوکراستقبال کیا۔ احمد بن قاسم کا کہنا تھا کہ ” ہمارا مسلئہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بھارتی جارحانہ قبضہ ہے ۔اگربھارت جارحانہ قبضہ ختم کر دے تو نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی اور نہ ہی کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہوں گی ۔ ”

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ ” میں وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیر پر کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو گی اور نہ کسی کو کرنے دیں گے اور وہ دن دور نہیں جب انڈیا میں پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرائے گا ۔” چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھی ایوان سے پر جوش خطاب کیا ۔ شہریار خان آفریدی کا ایک جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ” قانونی حربہ استعمال کر کے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کی آواز بلند کریں گے اگر قانون واقعی اندھا ہے اور مظلوم کی آواز کوئی نہیں سنے گا تو پھر غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے باہر نکلنا ہوگا، آزادی کیلئے معصوم ہاتھوں میں پتھر اٹھانے ہوں گے ، آزادی لینے کیلئے بندوق اٹھانی پڑےگی ، آزادی کے حصول کیلئے برہان وانی بننا پڑےگا اور آزادی لینے کیلئے کلمہ حق پڑھ کر جہاد کی راہ اختیار کرنی پڑےگی ۔” سینئر صحافی عمران ریاض خان نے بھی کشمیری ہونے کے ناطے اپنے آبائی وطن بانڈی پورہ جانے کا اظہار کیا اور ایوان میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگوائے اور پورا ایوان کشمیر کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو جو کہ گزشتہ 29 سال سے انڈیا کی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے حوصلے پست نہ کر سکے ، ان کی امید کو توڑ نہ سکے اور آزادی کی آواز کو بند نہ کر سکے ۔ بھارت نے اس آواز کو بند کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن آواز بند کرنے کی بجائے ڈاکٹر قاسم فکتو کی کئی آوازیں اب کشمیر کی آزادی کیلئے بلند ہو رہی ہیں جس کا ثبوت کشمیر یوتھ الائنس ہے ۔کشمیر یوتھ الائنس کا ہر نوجوان کشمیر کی آزادی کی آواز ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو کی طرح کئی حریت رہنما انڈین جیلو ں میں قید ہیں جو گمنامی کی زندگی بسر کر ہے ہیں ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو نے جیل میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب ” بانگ” ہے ۔ جس میں سادہ اور آسان لفظوں میں مسلئہ کشمیر کو بیان کیاگیا ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو نے کشمیر سے متعلق بھارتی خفیہ منصوبوں کی نشاندہی کچھ اس طرح سے کی کہ : کشمیر کی ملت اسلامیہ کے خلاف سامراجی سازش کے تین بنیادی کردار ہیں۔موہن داس گاندھی اور پنڈت نہروجنہوں نے کشمیر پرقبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ماﺅنٹ بیٹن اور ریڈکلف جس نے جغرافیائی راستہ فراہم کیا اور ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ نے اس کے لئے سیاسی ماحول فراہم کیا۔ لکھتے ہیں کہ "بھارتی سرکار کے پاس مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کا ایک ہی آپشن ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے ،اب اسی آپشن کے تحت بھارتی سرکار سرعت کے ساتھ کام کررہی ہے۔” بھارت سرکار کروڑوں بھارتی ہندوﺅں کے مذہبی جذبات کا سیاسی استحصال کرکے ان کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کشمیرہندﺅں کی اہم مذہبی جگہ ہے، اسطرح بھارتی سرکار کشمیر کو ہندﺅں کا مذہبی مسئلہ بنانا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر شہہ رگ ہے اور دوسری طرف اٹوٹ انگ لیکن کشمیریوں کی کسی کو پراہ نہیں ۔

  • اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    سائنس فکشن جیسی اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی،اس کار کو دیکھ کر آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ بیٹ مین کی گاڑی لگتی ہے اور اپنے جدید ترین ڈیزائن کی بنیاد پر رن وے کے بغیر سیدھا اوپر اٹھنے والے کار ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق برطانوی کمپنی بیل ویدر نےاسے بنایا ہےاوراس کی نصف جسامت (ہاف اسکیل) ماڈل نے ٹیسٹ فلائٹ میں متوقع نتائج دکھائے ہیں جس کی ویڈیو دیکھ کرآپ خود حیرت میں ڈوب جائیں گے۔ اسے وولر ای وی ٹی او ایل کا نام دیا گیا ہے ماہرین اسے ہائپرکار قرار دے رہے ہیں۔

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ماحول دوست، برق رفتار اور بے آواز وولر کارمکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی اور پرواز کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا اولین نمونہ نومبر 2021 میں تیارہوچکا تھا۔ بس کمپنی بہترموقع کی تلاش میں تھی اور اب اسے دبئی میں اڑا کر اس کی پہلی ویڈیو جاری کی گئی ہے-

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    آٹوموبائل تجزیہ کار ماہرین نے اس کی ڈیزائننگ، افادیت اور کارکردگی کو متاثرکن اور امید افزا قرار دیا ہے ویڈیو میں اسے اوپراٹھتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن یہ ہوا میں سیدھی رہنے کی بجائے ادھر ادھر ڈولتی دکھائی دیتی ہے اس خامی کو شاید اگلے مراحل میں دور کیا جائے گا۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    تکنیکی طور پر وولر ملٹی کاپٹر سواری ہے جس کے پنکھے اس کے ڈیزائن کے اندر چھپائے گئے ہیں۔ لیکن اس میں اضافی پروپلشن کا معلوم نہیں ہوسکا ہے تاہم ڈیزائن سے دو دونشستی اڑن کار ہے۔ لیکن کمپنی کے مطاق اگلے ڈیزائن میں چار سے پانچ افراد بیٹھ سکیں گے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد یہ ڈیڑھ گھنٹے تک پرواز کرسکے گی نظری طور پر یہ 135 (215 کلومیٹر) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لگ بھگ 3000 فٹ کی بلندی پر جاسکتی ہے۔

    کمپنی نے اس کی کوئی قیمت تو نہیں بتائی تاہم تجارتی تیاری 2028 میں شروع ہوجائے گی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

  • لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    جنوب مشرقی ایشیا کے ملک کمبوڈیا میں لوگوں کو زیر زمین نصب بارودی مواد سے بچانے والا چوہا 8 سال کی عمر میں چل بسا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کے خیراتی ادارے اپوپو کا تربیت یافتہ یہ چوہا اپنے ہینڈلرز کو مہلک بارودی سرنگوں سے آگاہ کرتا تھا تاکہ انہیں بحفاظت طریقے سے ہٹایا جا سکے مگاوا نامی خصوصی تربیت یافتہ چوہے نے اپنے پانچ سالہ شاندار کیریئر میں کمبوڈیا میں 100 سے زائد بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگایا۔

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر


    مگاوا، جو بارودی سرنگوں میں ایک کیمیائی مرکب کو سونگھ کر دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگاتا تھا، نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 41 ہزار مربع میٹر سے زیادہ زمین میں موجود بارودی سرنگوں کا پتہ لگایا جو کہ فٹ بال کے20 میدانوں کے برابر ہے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور38ایسےدھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکےمیگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سےادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کافریضہ سرانجام دیا۔

    انجیکشن سےخوفزدہ شہری کورونا سے ہلاک

    اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی


    خیراتی ادارے اپوپو نے بتایا کہ اس مادہ چوہے نے ’گذشتہ ہفتے کا زیادہ تر حصہ اپنے معمول کے جوش و خروش کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزارا‘ اور ہفتے کے آخر میں پر سکون انداز میں انتقال کر گیا ویک اینڈ تک مگاوا نے ’سست ہونا شروع کر دیا تھا، زیادہ سوتا تھا اور اپنے آخری دنوں میں کھانے میں دلچسپی بھی کم کر دی تھی ہم سب کو مگاوا کے جانے کا دکھ ہے اور ہم اس کے ناقابل یقین کام کے لیے شکر گزار ہیں۔‘


    انہوں نے چوہے کی ’سونگھنے کی حیرت انگیز حِس‘ کی تعریف کی جس کی وجہ سے ’کمبوڈیا میں لوگوں کو زندگی یا اعضا کھونے کے خوف کے بغیر رہنا، کام کرنا اور کھیلنا نصیب ہوا۔

    گذشتہ سال جون میں جب مگاوا ریٹائر ہوا تو اس کی ہینڈلر ملین نے کہا کہ یہ ’سست‘ ہو رہا ہے اور وہ ’اس کی ضروریات کا احترام‘ کرنا چاہتی ہیں مگاوا کی کارکردگی ناقابل شکست رہی ہے اور مجھے اس کے شانہ بشانہ کام کرنے پر فخر ہے وہ چھوٹا ہے لیکن اس نے بہت سی جانیں بچانے میں مدد کی ہے جس سے ہمیں انتہائی ضروری محفوظ زمین جلد از جلد اور کم لاگت سے اپنے لوگوں کو واپس کرنے کا موقع ملا ہے۔


    ملک میں 1998 میں ختم ہونےوالی تین دہائیوں کی خانہ جنگی کےدوران 60 لاکھ تک بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جنکی وجہ سےہزاروں افراد ہلاک ہوئےتنزانیہ میں پرورش پانے والے مگاوا کو کمبوڈیا میں بم تلاش کرنے سے پہلے ایک سال کی تربیت سے گزرنا پڑا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    چوہے کا وزن اور قد عام چوہوں کی نسبت قدرے زیادہ تھا مگر اس کے باوجود وہ زیر زمین دبائی گئی بارودی سرنگ کو محسوس نہیں ہوتا تھا افریقی جائنٹ پاؤچڈ ریٹ نسل کا چوہا مگاوا 70 سینٹی میٹر لمبا اور 1.2 کلوگرام وزنی تھا۔ وہ صرف 20 منٹ میں ٹینس کورٹ کے جتنے بڑے میدان کو کھوجنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس میں عام طور پر میٹل ڈیٹیکٹر سے لیس کسی شخص کو چار دن تک لگ جاتے تھے –

    دو سال قبل مگاوا کو برطانیہ میں جانورں کے فلاحی ادارے پی ڈی ایس اے نے ’کمبوڈیا میں مہلک بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے اور انہیں صاف کرنے میں مخلصانہ کام کرنے پر‘ گولڈ میڈل سے نوازا تھا ایوارڈ حاصل کرنے والے 30 جانوروں میں سے مگاوا یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا چوہا تھا۔

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    12 جنوری کو قائم ہونے والے اس ڈیجٹیل پلیٹ فارم کو آج دس سال ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی جس کا مرکزی دفتر لاہور میں ہے۔ اپنے اندر بے پناہ کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹیے ہوئے ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 195 ممالک میں اسکی نشریات دیکھی جاتی ہے اور یہ بذات خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔چینل بنانے کا مقصد معاشرے میں پھیلی بدعنوانی، جہالت، ظلم اور زیادتی کے خلاف موٴثر آواز اٹھانا تھاتاکہ ان مسائل سے معاشرے کو نکال کر نئی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔ اس چینل کے ذریعے برائیوں پر جہاں آواز اٹھائی جارہی ہے وہیں معاشرے میں موجود مظلوم، محکوم لوگوں کی اواز بن کر انکے مسائل بھی حل کیے جارہے ہیں۔باغی ٹی وی کی رپورٹس پر حکام بالا نے کئی دفعہ کاروائی کرکے مطلوبہ مسائل بھی حل کیے جسکی وجہ سے لوگوں میں اسکے حق میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔ اس چینل کے ذریعے پچھلے سال رمضان میں 24گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلا کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔

    اور یہ منفرد اعزاز باغی ٹی وی کے علاوہ کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے پاس نہیں ہے۔باغی ٹی وی کا ایک صوبائی دفتر کراچی میں بھی ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں خبریں اور تجزیے، تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں۔ باغی کی نشریات اس وقت چار بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہے زبانوں میں اردو کے علاوہ انگریزی، چینی، اور اب پشتو میں بھی نشریات ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسکے مزید پھیلاؤ کے لیے ہمسایہ ممالک میں انکی زبانوں میں نشریات پیش کرنے پر کام جاری ہے۔ اور ان شاء اللہ بہت جلد ہمسایہ ملک بھارت کے کونے کونے میں باغی ٹی وی کی گونج ہوگی۔ یوں تو باغی ٹی وی کی پہچان ما شاء اللہ 195 ممالک تک ہے اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار بھی ہورہا ہے۔لیکن اسکو اس مقام تک پہنچانے کے لیے اگر اس ہستی کا نام نا لیا جائے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔جسکی وجہ سے آج باغی ٹی وی اس مقام پر ہے۔ جی ہاں بات ہورہی ہےسنئیر جرنلسٹ، تجزیہ نگار مبشر لقمان صاحب کی جو اس وقت باغی کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی آیا اس، پلیٹ فارم پر جب بڑے میڈیا مالکان نے اپنے ملازمین کی نا صرف تنخواہیں ضبط کیں بلکہ نوکری سے بھی نکالا، ان حالات میں بھی مبشر لقمان نا صرف اپنے ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوئے بلکہ انہیں ہر طرح سے حوصلہ دیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف ویب چینلز پر عریاں تصاویر اور خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں جبکہ باغی ٹی وی پر اپ ایسا کچھ نہیں دیکھتے ہیں اس کی وجہ مبشر لقمان صاحب کا وہ نظریہ ہے کہ یہ چینل عوام کی اواز اور فلاح کے لیے ہے ناکہ عریانی کو فروغ دینے کے لیے۔

    ان دس سالوں میں جب بھی کوئی مشکل آئی تو باغی ٹی وی نے اگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا۔ کورونا کی مثال ہی لیجے جب یہ مشکل وقت چین سے شروع ہوا تب سے ہی باغی ٹی وی نے آگاہی کا کام شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ جب بہت سے ادارے مشکل کی لپیٹ میں اکر خاموشی طاری کر لی اس وقت بھی باغی ٹی وی اپنی منفرد انداز اور منیجمنٹ کے ساتھ قائم بھی رہا اور مسائل سے لڑتے ہوئے اگاہی بھی فراہم کرتا رہا۔ معاشرتی مسائل میں سگریٹ نوشی پر بہت کام کیا ہےاور باغی کے پلیٹ فارم سے بہت سیمنار ہوچکے ہیں اگاہی پروگرام اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مسائل پر نا صرف گہری نظر ہے بلکہ اسکے لیے کسی بھی پریشانی کو خاطر میں نالاتے ہوئے کام جاری رکھا ۔ جس کی وجہ سے کئی بار مشکلات بھی پیش آئیں لیکن عزم و استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس پلیٹ سے جب کشمیر کے مظلوم لوگوں کی اواز دنیا تک پہنچائی گئی تو اکاؤنٹ پر انتظامیہ کی جانب کی سے دباؤ بھی بڑھا لیکن دباؤ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے کام جاری رکھا۔ اس پلیٹ فارم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نئے لکھنے والوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے خیالات الفاظ کے زریعے یا زبان کے زریعے عام لوگوں تک پہنچائیں۔اس پلیٹ فارم کے زریعے بہت بہترین لکھنے والوں کو موقع ملا اور آج سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں پہچان دی ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس میں کام کرنے والوں کا جذبہ ہے جو اس میں جان ڈال دیتا ہے۔اس وقت یہ ادارہ ایک منظم اور مربوط جڑیں لیے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ آئیے دعا کرتے ہیں اپنے ادارے کے لیے کہ یہ یونہی کام کرتا رہے محنت سے لگن سے اور دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

    عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

    قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دوںوں کی جانب سے ایک بار پھر خوب الزام تراشی ہوئی ۔ منی بجٹ ایجنڈا نمبرون رہا ۔ ایک دوسرے کو خوب آئینہ دیکھانے کی بھی کوشش ہوئی ۔ دیکھا جائے تو حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت منی بجٹ کو منظور کرانے کے لیے جتنی بے تاب ہے اپوزیشن اتنا ہی اس معاملے میں رخنہ اندازی کررہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ یہ بات سچ بھی ہے ۔ پر پاکستان کی اس معاشی صورتحال کو عالمی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے آگے چل کر تفصیل سے آپکو بتاتا ہوں ۔

    ۔ فی الحال تحریک انصاف جس طرح عوام پر آئی ایم ایف کو ترجیح دے رہی ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اس پر اعتماد نہیں کریں گے۔اور اس چیز کا کپتان کو جھٹکا ضرور لگے گا ۔۔ میں آپکو بتاوں یہ طے شدہ بات ہے کہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اس پر بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے اور ان شرائط کے ذریعے وہ اس کی ملک کی آزادی اور خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے علاوہ معاشی حوالے سے زیادہ تر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ۔ پھر یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ اور مختلف تھنک ٹینکس گزشتہ کئی برسوں سے ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ انتہاپسندی ، شدت پسندی اور غیر یقینی سیاسی حالات کو جواز بنا کر پاکستان کے جوہری اثاثوں، بلوچستان اور آزاد قبائلی علاقوں کے حوالے سے جارحانہ اور اشتعال انگیزانہ پراپیگنڈہ بھڑکاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ان ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کے مفروضات پر مبنی خیالات دراصل اُن کے ما فی الضمیر میں چھپے مذموم عزائم ہیں۔ اسی لیے امریکی حکام کا رویہ پاکستان سے ٹھیک نہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں ماضی میں بھی اور اب بھی قرضہ دیتے ہوئے پاکستان سے کئی ایسی شرائط منوائی گئیں جن سے شاید حکمران اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ان شرائط کی وجہ سے مہنگائی میں ہونے والے اضافے نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔ ریاست سے عوام کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ خاص طور پر جو ان علاقوں میں جو باقی ملک کے مقابلے میں پیچھے ہیں ۔

    ۔ عالمی کیا اب تو لوکل ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت اس سطح پر آچکا ہے کہ آج ڈیفالٹ ہوا یا تو کل ۔ کیونکہ اس بار تو پاکستان کی زراعت کو ایسے لگتا ہے کہ سازش کے تحت تباہ کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ زراعت ہی ہماری backbone تھی ۔ جس کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ چاہے ہم ڈیفالٹ کرجائیں پر ہم اپنی عوام کو بھوکا نہیں مرنے دیں گے کیونکہ ہم اپنا اناج خود اگاتے ہیں پر اب ایسا نہیں ہے ۔ اب تو ہم گندم تک باہر سے امپورٹ کر رہے ہیں ۔ ۔ پھر اس وقت سی پیک کو لے کر بھی پاکستان پر بہت پریشر ہے کہ کسی طرح اس کو رول بیک کیا جائے ۔ چین کو یہاں سے نکالا جائے ۔ دراصل امریکی مفاد یہ ہے کہ پاکستان یوں ہی آئی ایم ایف کی بیساکھیوں کے سہارے چلتا رہے ۔ اور اپنے پیروں پر کبھی کھڑا نہ ہوسکے ۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ بھی کر جاتا ہے تو کرجائے کیونکہ اب امریکی ماننے لگے ہیں کہ یہ بھی ان کے مفاد میں ہے ۔ کیونکہ چین تو کئی تیس بلین ڈالرز سے زیادہ پاکستان میں لگا چکا ہے ۔ اور اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تو چین ۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ۔۔۔ ہر صورت پاکستان کو ریسکیو کرنے کو آئے گا ۔ اوریوں چین پر پاکستان ایک اضافہ بوجھ سا بن جائے ۔ جس فائدہ بالآخر امریکہ کو ہی ہوگا ۔

    ۔ میں کوئی conspiracy theory پیش کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہے صرف حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ نتیجہ آپ خود اخذ کر لیں ۔ ۔ اب جب اس تمام صورتحال میں یہ چیز سامنے آئے کہ تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت ہمارے دشمن نمبرون ممالک سے فنڈز بھی موصول ہوئے ہیں ۔ تو انسان سوچنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے کہ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو پاکستان کو گروی نہیں رکھوایا جارہا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو نہیں چن چن کر نااہل لوگ ادارے میں لگائے جا رہے ہیں کہ نظام بالکل ہی بیٹھ جائے ۔ پاکستان بالکل ہی فیل ہوجائے ۔ اس فارن فنڈنگ کیس کو آپ معمولی چیز نہ سمجھیں ۔ جن ممالک سے فنڈنگ کے الزامات ہیں وہ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں جب آپ معاشی طور پر فیل ہوگے تو نہ تو ایٹمی قوت برقرار رکھ سکیں گے نہ ہی اتنی بڑی فوج کو مینج کرسکیں گے ۔

    ۔ میرے خیال سے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پی ٹی آئی کو شائد نئے نام سے جماعت رجسٹر کرانی پڑے ۔ اس رپورٹ نے جہاں ملک بھر کے اہل علم کو ششدر کر دیا ہے وہیں دنیا بھر میں پی ٹی آئی کے دوستوں کوبھی حیران کیا ہے جبکہ چندہ دینے والے افراد تنظیمیں اور ادارے بھی تذبذب کاشکار ہیں ۔ ۔ آپ دیکھیں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے کل بارہ جنوری کو اپنے ایک اجلاس میں اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ پاکستان نے کس حد تک اس کی شرائط کو نافذ کیا ہے۔ اس جائزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک ارب پانچ کروڑ ڈا لر کی قسط دینے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا۔ ۔ اب پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے درخواست کی کہ جائزہ اجلاس مؤخر کردیا جائے کیونکہ شرائط کے نفاذ کے لیے منی بجٹ اور سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل تاحال پارلیمان سے منظور نہیں ہوئے۔

    ۔ اس پر پاکستان میں آئی ایم ایف کی ترجمان Esther Perez فوراً نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے چھٹے جائزے پر غور پاکستان کی درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے ۔ اب امکان ہے کہ اجلاس اسی مہینے کی 28 یا 31 کو ہوگا اور حکومت کوشش کررہی ہے کہ اس اجلاس سے پہلے دونوں بلوں کو پارلیمان سے منظور کرالے۔ ۔ منی بجٹ کی منظوری سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اس بل کا جائزہ لے کر آئین کی شق 73 کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کررہی ہے۔ قومی اسمبلی ان سفارشات کی پابند نہیں اور وہ ان پر غور کیے بغیر بھی منی بجٹ کی منظوری دے سکتی ہے۔ ۔ پھر سینیٹ کسی بھی بل سے متعلق اپنی سفارشات مرتب کرنے کے لیے چودہ دن کا وقت لیتا ہے تاہم چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 4 جنوری کو ارکان سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اس بل سے متعلق سفارشات تیار کریں جس پر ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اتنی کم مدت میں بل پر غور نہیں کرسکتے۔ ۔ آپ دیکھیں عمران خان مسلسل خود کو پاک اور شفاف قرار دیتے آرہے ہیں بلکہ صادق و امین کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ لگاتے ہیں اپنی ہر تقریر میں اپنے مخالفین کی خوب لیتے ہیں انہیں چور ،بد عنوان اور نہ جانے کیا کیا کہتے آرہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ ان کا اوڑھنابچھونا ہے۔ مگر جس طرح یہ آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے گلے میں ڈال رہے ہیں ۔ اور جو فارن فنڈنگ کیس کے راز کھل کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔ وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونے چاہیئں ۔

    ۔ میں آپکو بتاؤں کہ فارن فنڈنگ کیس میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے کے بعد عمران خان خود اور پی ٹی آئی بھی اخلاقی پیمانوں میں وہیں کھڑی ہے جہاں وہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اب تو انکے حمائتی بھی انکی حمایت میں بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ بالکل ان کے اپنے ترجمان جیسے احمد جواد انھوں نے تو آج سیریز آف ٹویٹس کی ہیں کہ
    ” پی ٹی آئی کے دور میں کروڑ پتی اور ارب پتی بننے والے پی ٹی آئی کے وزیروں اور لیڈروں کی فہرست بنا رہا ہوں ۔ ریاست مدینہ میں انصاف اور احتساب سب کا ہوگا ۔ ادھر ترکی میں بھی کچھ کھرے ملے ہیں ”
    ۔ اسے کہتے ہیں اونٹ کا پہاڑ کے نیچے آنا یا مکافات عمل کا شکار ہونا، پی ٹی آئی اس الزام کے بعد عوام کی نظروں میں مزید گر چکی ہے مہنگائی ،لاقانونیت اندرونی اور بیرونی سطح پر بھی اسکی کوئی شاندار کارکردگی نہیں تھی لیکن اس معاملے نے تو پی ٹی آئی کی رہی سہی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ۔ کیونکہ یاد رکھیں یہ سب کچھ کوئی پی ٹی آئی کے خلاف سازش نہیں بلکہ یہ تمام آوازیں ، الزامات اور حقائق پی ٹی آئی میں موجود اچھے لوگ سامنے لائے ہیں جو عمران خان کی تقریروں کے دھوکے میں آگئے تھے ۔ پر جب انھوں نے حقائق دیکھے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ فارن فنڈنگ کیس کا علم بھی سابق پی ٹی آئی کے لیڈر اکبر ایس بابر نے اٹھایا ہوا ہے ۔ پھر حکیم سعید سے لے کر ڈاکٹر اسرار کے عمران خان کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔ تو موجودہ دور میں فضل الرحمان تو بغیر کسی لگی لپٹی کے عمران خان کو جن کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں ۔ اگر خوانخواستہ یہ رتی برابر بھی ٹھیک نکلا تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الحال پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ عالمی طاقتیں جہاں پاکستان کو زیر نگیں رکھنا چاہتی ہیں تو ہماری حکمران اشرافیہ ان کی رکھیل بنی ہوئی ۔ ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات ، اپنی پارٹی ، اپنے رشتہ دار اور اپنے کاروبار کا تو خیال ہے ۔ عوام کا کیا بنے گا ۔ اس ملک کا کیا ہو ۔ اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ۔ حکمرانوں کی عالمی اسٹیبلشمنٹ سے پیار کی پینگیں اور عوام سے یہ ہی وہ لاتعلقی ہے ۔ جو سب کچھ ملیا میٹ کرسکتی ہے ۔

  • اسپورٹس کیلنڈر 2022 جاری:کتنے ٹورنامنٹس اور کتنے میچ ساری تفصیلات بھی بتادیں

    اسپورٹس کیلنڈر 2022 جاری:کتنے ٹورنامنٹس اور کتنے میچ ساری تفصیلات بھی بتادیں

    لاہور:اسپورٹس کیلنڈر 2022 جاری:کتنے ٹورنامنٹس اور کتنے میچ ساری تفصیلات بھی بتادیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ہاکی ٹیم رواں سال 6 انٹرنیشنل ایونٹس سمیت 7 ڈومیسٹک ایونٹس میں حصہ لے گی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اسپورٹس کیلنڈر برائے سال 2022 جاری کیا ہے جس میں 6 انٹرنیشنل ایونٹس سمیت 7 ڈومیسٹک ایونٹس اسپورٹس کیلنڈر کا حصہ ہیں جبکہ 16 آل پاکستان ٹورنامنٹس اور 4 ٹریننگ ورکشاپس بھی اسپورٹس کیلنڈر کا حصہ ہیں۔

    پی پی آئی کے مطابق انٹرنیشنل ایونٹس میں ایشیاءکپ، کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز سمیت 6 ایونٹس شامل ہیں.پی پی آئی کے مطابق امپائرز، کوچز اور ٹیکنیکل آفیشلز کی استعداد کو بڑھانے کے لئے چار ٹریننگ ورکشاپس بھی پلان میں شامل ہیں۔

    خواتین کی سینئر و جونیئر ہاکی چیمپئن شپس سمیت چار قومی ایونٹ اسپورٹس کیلنڈر کا حصہ ہیں جبکہ انٹر اسکول، انڈر 16 ہاکی چیمپئن شپ سمیت انٹرکلب چیمپئن شپ بھی اسپورٹس کیلنڈر میں شیڈول ہیں۔

  • "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    ‏باغی ٹی وی کی آج دسویں سالگرہ ہے جو کہ آج ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پہ ہے الحمدللہ تو سوچا اس خوشی میں کوئی ارٹیکل ہی لکھ دوں تو معاشرتی موضوع پر ہی لکھنے کو دل کیا ۔۔۔!!!

    شادی ایک مقدس بندھن ہے جس کو دونوں طرف سے پورے دل اور خوشی سے نبھایا جانا چاہئیے جس میں وفا ۔ایمانداری صاف نیت اس کی بنیاد ہو لیکن کچھ لوگ شارٹ کٹ سے اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ کسی معافی کے قابل نہیں ہوتے ان کو اگر متاثرہ شخص سزا نہ بھی دے لیکن میں نے ایسے لوگوں پر اللہ کی بےآواز لاٹھی ضرور برستی دیکھی ہے۔۔۔!!
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے اگر داماد اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے تو اس کی سرے عام تعریفیں کی جاتی ہیں اور اگر بیٹا بہو کے آگے پیچھے پھرے تو اسے زن مریدی کا طعنہ دیا جاتا ہے

    بیٹی اور داماد کا رومانس تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن بہو اور بیٹے کا رومانس بےشرمی لگتا ہےاگر بیٹے کو بہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے ساس دیکھ لے تو اپنی 40 سال پرانی مثالیں دینی شروع کردیتی ہیں کہ ہم تو جب تک ہمارے ساس سسر ذندہ رہے کبھی ان کے سامنے بات بھی نہیں کرتے تھے ایک دوسرے کے سامنے ایک ساتھ بیٹھ کر یوں بےشرمی سے لاڈ کرنا تو بڑے دور کی بات ہے اور نئی نویلی دلہن دل ہی دل میں اس بات پر شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے وہ دلہن جس کو شادی سے پہلے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے اپنے اصلی گھر مطلب سسرال میں جاکر اپنے سارے شوق پورے کرنا اپنی مرضی کے فیشن کرنا جیسے دل کیا رہنا ۔(70 فیصد لڑکیوں کی بات بتارہی ہوں 30 فیصد وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو اچھی قسمت لیکر دنیا میں آتی ہیں بنا کسی امتحان کے سب کچھ پلیٹ میں سجا اسے ملتا ہے سسرال میں والدین کے گھر جیسا ماحول پیار ملتا ہے عزت ملتی ہے اور بنا محنت کے دنیا کی ہر آسائش ملتی ہے اور ان 30 فیصد لڑکیوں جیسی قسمت پانے کے لیے کچھ لڑکیوں کو اپنی آدھی ذندگی مشکل ترین حالت کا سامنا کرنے کے ساتھ انگاروں پر ایک طویل سفر کرنے کے بعد ملتی ہے) وہ دن جو میاں بیوی کے ایک دوسرے کے سمجھنے کے ہوتے ہیں لاڈ اٹھانے اٹھوانے کے ہوتے ہیں وہ دن سسرال والوں کے دل جیتنے میں صرف ہوجاتے ہیں سالوں سال لگ جاتے ہیں اس کوشش میں کوئی خوش قسمت لڑکی ہی ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوتی ہے۔عمومآ لڑکی کی شادی 19سال سے بیس بائیس سال تک ہوجاتی ہے شادی شدہ ذندگی اس کے لیے خوبصورت خوابوں کے جیسی ہوتی ہے جہاں اس نے اپنے سارے ارمان خواب پورے کرنے کا سوچا ہوتا ہے وہ خوبصورت خواب اپنے ہم سفر کے ساتھ مل کر پورے کرنے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ دو الگ الگ انسان ایک دوسرے سے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کریں ہوتا کیا ہے لڑکی کے سسرال میں موجود کچھ لوگ لڑکی کو ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کرتے ہیں کہ آخر انیس بیس سال کی لڑکی کے سب خواب مرجاتے ہیں لڑکی میں پچاس سالہ روح سرائیت کر جاتی ہے۔جو خواب اس نے اس خوبصورت بندھن میں بندھ جانے کے بعد کے سوچے ہوتے ہیں وہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں یوں ایک کالج گرل دنوں میں 19 سالہ سے 50 سالہ عورت کی روح اپنے اندر محسوس کرنے لگتی ہے اور اپنا درد تکلیف اپنے والدین کو بھی نہیں بتاسکتی۔یوں درد سہتے سہتے اچھے وقت کے انتظار میں اپنی جوانی کے قیمتی سال ضائع کردیتی ہے پھر جب اچھا وقت آتا ہے تو اپنا مشکل وقت ایک فلم کی طرح اس کے دماغ کے ایک کونے میں ہمیشہ کے لیے سیو ہوجاتا ہے اب یہ اس لڑکی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں خود پر جھیلی ہوئی تکلیفیں اپنی نئی نسل کو ان تکلیفوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے یا وہ یہ روائت جاری رکھتی ہے۔۔ یہ تو کہانی بیان کی مظلوم عورت کی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔

    ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ اگر عورت ایک جگہ مظلوم ہے تو دوسری طرف ایسی عورتیں بھی دیکھی جو ہر نعمت ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود "ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں "مارتی بھی دیکھیں لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مرد کا جینا حرام کردیتی ہیں ان کا سکون ختم کردیتی ہیں لایعنی باتوں سے ۔ہر بات میں جھوٹ بولتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اسی مرد نے انھیں زمین سے اٹھا کر تخت پر بٹھایا ہوتا ہے دنیا کی ہر سہولت دی ہوتی ہے بقول شاعر کے
    "جن پتھروں کو ہم نے زباں بخشی تھی

    جو ملی انھیں زباں تو وہ ہمیں پہ برس پڑے”

    احسان فراموشی کی حد ختم کردیتی ہیں جب دیکھتی ہیں سب کچھ ہتھیا لیا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر لڑجھگڑ کر نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں ۔جب تک شوہر کے ساتھ رہتی ہیں گھر کو میدان جنگ بنائے رکھتی ہیں اچھے خاصے خوش مزاج شوہر کو نفسیاتی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ایسے شوہر کو جس میں اقدار ہیں، ناموس ہے، ایمان ہے۔ باوقار، با حیا، اور خوبرو ہے۔لیکن خودغرض اور کانوں کی کچی عورت ایسے نیک فطرت شوہر کو دکھ دینے سے پہلے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتی کہ اس مرد کی وجہ سے مجھے معاشرے میں اتنی عزت ملی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں خودغرضی کی ایسی پٹی بندھی جاچکی ہوتی ہے کہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوکر رہ جاتی ہے ۔۔!! لیکن اللہ نے شائد مرد میں برداشت کرنے کی قوت کچھ ذیادہ ہی رکھی ہوئی ہے شائد اسی لیے قرآن مجید میں بھی عورت سے مرد کا ایک درجہ اوپر رکھا گیا ہے اس کا حوصلہ آئرن کی طرح سخت ہوتا ہے کہ ہر درد تکلیف برداشت کرنے کے باوجود جب آپ اس سے ملیں گے، تو آپ اس انسان کے لیے دل میں بےحد عزت محسوس کریں گے اس کی اعلی ظرفی آپکو متاثر کرے گی آپکو وہ انسان اپنی سچائی اور فیاضی کی وجہ سے پسند آئے گا اگرچہ اسے دھوکے ملے ہیں،درد ملا ہے تکلیف پہنچی ہے لیکن آپ اسے اللہ کا شکر ادا کرتے پائیں گے اور شکر ایک ایسا عمل ہے جس نے کیا اللہ نے اسے پھر اپنے خزانوں سے بےحد بےشمار نوازا ہے ہر مومن جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہمارا بگاڑ سکتا ہے، اور کب تک بگاڑ سکتا ہے.جب تک اللہ نہ چاہے کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا نہ ہمیں نقصان دے سکتا نہ نفع دے سکتا ہے ہم تو بس اس کے’کن” کے محتاج ہیں وہ ‘کن”کہہ دے . پلک جھپکتے ہی سب کچھ سنور جاتا ہے وہ کچھ اللہ عطا فرما دیتا ہے جو ایک بندے کے گمان میں بھی نہیں ہوتا بس اس پر یقین کامل رکھنا چاہئیے بےشک وہ اپنے بندے سے بےانصافی نہیں کرتا اس کو صبر کا بہترین انعام ایک اچھے باوفا ہمسفر کی شکل میں ضرور عطا فرماتاہے

  • باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    سوشل میڈیا پے میری پہچان باغی ٹی وی کے زریعے ہوئی
    اور آج باغی ٹی وی کی 10 ویں سالگرہ ہے ایک ایسا ادارہ جس نے نئے لکھنے والوں کا اپنا پلیٹ فارم دیا ایسے وقت میں جب کوئی بھی اچھا ادارہ پہلے ریفرینس مانگتا ہے ایسے وقت میں میری پہلی ہی تحریر باغی ٹی وی پر شائع ہوئی بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی ریفرینس کے.اور یہ ہی نہں مجھ جیسے اور کئی لکھاریوں کو باغی ٹی وی نے ایک پلیٹ فارم دیا جو پچھلے کئی سالوں سے باغی ٹی وی سے جُڑے ہیں. آئیں تھوڑا سا جانتے ہیں آج باغی ٹی وی کے بارے میں کون ہے جو اس ادارے کی سربراہی کر رہا ہے اور کس طرح صحافت کی دنیا میں نئے قدم رکھنے والوں کو بغیر کسی سفارش کے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے ؟اس ادارے کی سربراہی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں مبشر لقمان صاحب سینئر تجزیہ نگار دفاعی امور کے ماہر صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت جن کی سربراہی میں یہ ادارہ پچھلے 10 سال سے بہت محنت سے ڈیجیٹل میڈیا میں اپنا ایک خاص مقام پیدا کر چکا ہے.باغی ٹی وی اس وقت چار زبانوں میں اپنی نشریات لوگوں تک پہنچا رہا ہے اور باغی ٹی وی اپنی نشریات کا دائرہ کار اور وسیع کر رہا ہے. باغی ٹی وی اس وقت اردو , انگلش,پشتو, چینی زبان میں نشریات آپ تک پہنچا رہا ہے.

    باغی ٹی وی کا سینٹرل آفس اس وقت لاہور سے آپریٹ کر رہا ہے اور اس کے علاوہ ایک اور مین آفس کراچی میں بھی کام کر رہا ہے.

    باغی ٹی وی جس کا آغاز آج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ہی باغی ٹی وی کے چّا ہنے والے موجود ہیں ، سوشل میڈیا کے اس ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکوبھرپور طریقے سے بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا باغی ٹی وی اس کام کو بہترین طریقے سے انجام دے رہا ہے اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے.اور معاشرے میں بہتری میں باغی ٹی وی کے کردار کو سراہتے بھی ہیں.

    باغی ٹی وی نہ صرف معاشرے میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہا ہے بلکہ معاشرے میں ہونے والے برائیوں کے سد باب کے لیے مستقل سوشل میڈیا پے ٹرینڈ کی صورت میں مہم جا رہی رکھتا ہے۔باغی ٹی وی کی سگریٹ نوشی کے خلاف بھرپور مہم کا میں بھی حصہ رہی اور باغی ٹی وی مستقل اس معاشرتی برائی کو ختم کرنے اور گورمنٹ سے اس پر ٹیکس بڑھانے کی بھرپور قسم کی مہم چلا رہا ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی کئی اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں۔

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا.

    باغی ٹی وی کے ذریعے پورے پاکستان میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ ہر طرح کی خبر آپ تک پہنچاتے ہیں.اُمید ہے باغی ٹی وی اس ہی طرح اپنے قارئین کو تازہ ترین خبریں پہنچتا رہے گا اور نئے آنے والے لکھاریوں کو بھی ضرور موقع دے گا جیسا ماضی میں کرتا رہا ہے.ایک بار پھر باغی ٹی وی کو 10 ویں سالگرہ مبارک ہو.
    Twitter
    Handle
    @umesalma_