Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے نئے آفیچر پر کام کا آغاز کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مزکوری فیچر کے تحت صارفین کو طویل پیغامات سننے کے لیے ایپ کھلی رکھنے یا اس کا انٹرفیس سامنے رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور یوں بیک گراؤنڈ میں بھی آڈیو پیغامات چلتے رہیں گے۔

    واٹس ایپ کے اندرونی حلقوں کے مطابق لوگوں کی اکثریت نے اس آپشن پر زور دیا تھا اس سے قبل واٹس ایپ نے وائس میسج کی رفتار کنٹرول کرنے اور انہیں بھیجنے سے قبل خود سننے کا آپشن بھی پیش کیا تھا جو بہت مقبول ہوا ہے-

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    اب عوامی اصرار پر بہت جلد واٹس ایپ پیغامات کو پس منظر میں سننا ممکن ہوسکے گا اس طرح آپ کا وقت بچے گا کیونکہ پیغامات چلتے رہیں گے اور آپ دیگر دوستوں کے پیغامات اور تصاویر کو دیکھ سکیں گے۔ اس طرح واٹس ایپ کے ایک آپشن سے جڑے رہنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔


    واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ‘گلوبل وائس میسج پلیئر’ کا فیچر متعارف کروادیا ہے جسے ابتدائی طور پر آئی فون کے بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کروایا گیا ہے یہ فیچر جلد ہی اینڈرائیڈ کے صارفین کے لیے بھی متعارف کروادیا جائے گا۔

    گلوبل وائس میسج پلیئر :کثر صارفین لمبے وائس میسج سے اکتا جاتے ہیں اور چیٹ بھی نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ چیٹ چھوڑنے کی صورت میں وائس میسج کی آواز بند ہوجاتی ہے گلوبل وائس میسج پلیئر کے تحت آپ وائس میسج سنتے ہوئے مذکورہ چیٹ چھوڑ کر دوسری چیٹ پر جاسکیں گے اور اس صارف کو باآسانی جواب دے سکیں گے، ساتھ ہی آڈیو نوٹ بھی پس منظر میں چلتا رہے گا اسے گلوبل نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ آپ کی اسکرین کے بالکل اوپر دکھائی دے گا، آپ جب چاہیں اسے سنتے ہوئے روک سکتے ہیں یا اسکرین سے ہٹا بھی سکتے ہیں۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

  • موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اہم کردار ٹکنالوجی کا ہے خاص کر موبائل فون،
    جتنی اس موبائل فون کے آنے سے سہولیات مہیا ہوئی اتنا ہی اس کے آنے سے معاشرہ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،
    جب موبائل فون ایجاد کیا گیا تھا تو اس وقت اٹھارہ گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد صرف دو گھنٹے استعمال کر سکتے تھے، اور آج دو گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد اٹھارہ
    گھنٹے استعمال کرتے ہیں، اس وقت لوگ ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا کرتے تھے،

    اب جبکہ موبائل فون ہماری مجبوری بن چکا ہے دن ہو یا رات صبح ہو یا شام جیسے انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اب اس میں اس موبائل کو بھی ساتھ ملا لیں اس کے بغیر زندگی گزارنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے، اگر چوبیس گھنٹے میں موبائل فون استعمال نہ کریں تو جیسے ویٹامن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے کتنے اہم رشتے اپنائیت دینے والے بزرگوں اور نایاب دوستوں کو بچھڑتے دیکھا، یہ سوشل میڈیا یہ دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے اصل رشتے بھول بیٹھے ہیں، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ہمارے پاس بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے تو ہماری نوجوان نسل کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ دو گھڑی توجہ دیں اور انکے ساتھ باتیں کر لیں یہ سوشل میڈیا کا پیار سب فراڈ ہے اصل محبت اور خلوص اس شخص کا ہے جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا ہے،

    پہلے جب کوئی خوشی کا موقع اتا تھا شادی بیاہ یا عیدین کے موقع پر ہم اپنے اپنے پیاروں کو ملنے انکے گھر جایا کرتے تھے صرف وہ ہی ایک موقع ہوتا تھا جب سب خاندان والے ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہوتے تھے لیکن اس ایک موقع کو بھی اس موبائل فون نے چھین لیا کیونکہ آج کل لوگ صرف ایک میسج کر دیتے ہیں،

    موبائل فون استعمال کرنے کی ہر کسی کی اپنی وجہ ہے کوئی ٹائم پاس کرتا ہے تو کوئی سوشل میڈیا،اور ان سب میں سے ایک نشہ اور بھی ہے اور وہ گیمز کھیلنے کا ہے حال ہی میں ایک گیم متعارف کروائی گئی ہے جس گیم کا نام پب جی ہے جو اس نشے میں آگیا ہے اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہیں سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی زندگیاں نگل گئی یہ یم،المختصر اس موبائل فون نے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر لگا دیا،لیکن اس کی ایک خاص بات ہے کہ اس موبائل فون نے جتنی بھی ترقی کر لی لیکن اپنا بنیادی مقصد نہیں بھولا،پہلے ون جی یعنی صرف کال کرنے کی سہولت،پھر ٹو جی یعنی میسج کرنے کی سہولت،

    پھر تھری جی یعنی فوٹو بھیجنے اور دیکھنے کی سہولت، پھر فور جی یعنی ویڈیو کال کرنے کی سہولت اور پوری دنیا کو آپ گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے دیکھنے کی سہولت، اب ماہرین ٹکنالوجی فائیو جی کے تجربات کر رہے ہیں، چاہے جتنی بھی ترقی کر لی اس موبائل نے لیکن اپنا اصل کام نہیں بھولا آپ نے دیکھا ہوگا کہ چاہے جتنا بھی ضروری کام کر رہےہیں موبائل پر لیکن جب کال آتی ہے تو موبائل فوراً سب ہٹا کر پہلے کہتا ہے کہ کال سنو، افسوس کہ موبائل اپنے کام نہیں بھولا لیکن انسان بھول بیٹھے ہیں کیونکہ انسان کو بھی دن میں پانچ بار کال آتی ہے اللہ کی طرف سے لیکن ہم لوگ جاننے کے باوجود بھی انجان بن جاتے ہیں،
    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
    اللہ ہو آپ سب کا حامی و ناصر پاکستان ذندہ باد

  • چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    بیجنگ: گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    غالباً بہت زیادہ فاصلے اور کیمرے میں دھندلاہٹ کی وجہ سے ابتدائی تصویروں میں یہ پتھر ایک جھونپڑی جیسا دکھائی دے رہا تھا حالانکہ حقیقت اس سے بالکل ہی مختلف ہےغرض چاند پر چرخہ کاتنے والی بڑھیا کی طرح ’پراسرار جھونپڑی‘ کا معاملہ بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

  • باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب ایگزیکٹو ایڈیٹر باغی ٹی وی

    باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب ایگزیکٹو ایڈیٹر باغی ٹی وی

    تین سال قبل ملک کے نامور اینکر مبشر لقمان کی زیر نگرانی باغی ٹی وی کے ساتھ بحثیت ایڈیٹر اپنی ٹیم کے ہمراہ شروع ہونے والا سفر تاحال جاری ہے، ان تین سالوِں میِں بے خوف صحافت ، حق ک پرچار، مظلوموں کا ساتھ اور ظلم ، بد عنوانی، دہشتگردی نا انصافی کے خلاف ڈٹ کر کام کرنے اور بہت کچھ کا موقع ملا۔
    باغی ٹی وی اردو انگلش کے ساتھ ساتھ پشتو زبان میں بھی رپورٹنگ کرنے والا پاکستان کا واحد ڈیجیٹل میڈیا چینل ہے، جو ملک بھر میں اپنے نمائندوں سمیت ایک بڑی ٹیم کے ہمراہ کام کر رہا ہے۔
    باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا کے برعکس باغی ٹی وی نے ہمشیہ نئے لکھاریوں کو اپنا پلیٹ فارم مہیا کر کے حوصلہ افزائی کی اور عام آدمی کی آواز بنا۔

    مظلوم کشمیریوں کے حق میں بے دھڑک اور آگے بڑھ کر رپورٹنگ کی، آج سے سوا دو سال قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم تو باغی ٹی وی واحد ادارہ تھا جو آگے بڑھ کر بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کرنے میں لیڈ کر رہا تھا جسکی گواہیاں دنیا بھر سے موصول ہوئیں۔
    باغی ٹی وی افغانستان میں امریکی قیادت میں مغرب کی مسلط کرتا نام نہاد وار آن ٹیرر کے خلاف نبرد آزما حریت پسندوں کی ہمیشہ آواز رہا اور جب یہ ظلم پر مبنی جنگ اپنے انجام کو پہنچنے لگی تو باغی ٹی وی پاکستان کا واحد ارادہ تھا جس نے دنیا کی افغانستان کے زمینی حقائق سے آگاہی دینے کیلئے باغی پشتو و دری پر مشتمل مقامی ٹیم ہائر کی جس نے لمحہ بہ لمحہ امریکی انخلا اور اس سے متصل معاملات پر حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا، یہ ٹیم تاحال ایکٹو ہے اور افغان بھائیوں کے مسائل دنیا بھر میں اجاگر کر رہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان کی وہ آوازیں جن پر قومی سطح پر قدغنیں لگی تھیں باغی ٹی وی نے کسی قسم کے دباؤ کے بغیر انہیں آواز دی اور اس کی پاداش میں قربانیاں بھی دیں۔
    بڑے بڑے مافیاز کی کرپشن کی بے نقابی میِں ہمیشہ کسی کو خاطر میں نہیں لائے، چاہے سول ایوی ایشن سے متعلق بے ضابطگیاں ہوں یا آٹو موبائلز کی چلتی پھرتی قاتل گاڑیاں باغی نے عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔
    باغی ٹی وی کے قارئین ،ناظرین اور خیر خواہوں کا شکریہ کہ یہ سب ان کے تعاون سے ہی ممکن ہوا، باغی ٹی وی اپنی دسویں سالگرہ پر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اپنی زریں روایات کے عین مطابق حق سچ کی آواز بنتا رہے گا ان شا اللہ
    Baaghi اردو Baaghi TV پشتو Baaghi News

  • سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    ریاض: سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل کُھل گیا-

    باغی ٹی و: عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل سب کی توجہ کا مرکز بن گیاکھلے صحرا میں کورونا کی احتیاطی تدابیرکے ساتھ بنائے گئے اونٹوں کے اوپن ائیرہوٹل تتمان میں ایک رات کا کرایہ 400 ریال یا 100 ڈالرسےکچھ زیادہ ہےان پیسوں میں اونٹوں کی دھلائی، ٹرمنگ اورگرم گرم دودھ سے تواضح سب شامل ہیں۔

    سعودی عرب:250 ملین ریال انعامات کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑےاونٹ میلے کا آغاز

    سرد موسم سے بچاؤ کے لئے اونٹوں کے لئے خصوصی طورپرگرم انکلوژرز بھی بنائے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی چیک کیا جاتا ہے کہ کہیں اونٹوں کا بوٹوکس یا خوبصورتی کے لئے کوئی اورمصنوعی طریقہ تواستعمال نہیں کرایا گیا۔

    اونٹوں کے لئے لگژری ہوٹل دراصل ان اونٹوں کے لئے بنایا گیا ہے جوسعودی عرب میں ہونے والے شاہ عبدالعزیز فیسٹول میں اونٹوں کے سالانہ مقابلہ حسن میں حصہ لیتے ہیں جس کی مجموعی انعامی رقم 66.6 ملین ڈالرز ہے۔

    سعودی عرب: خوبصورتی کے انجکشن لگوانے کی وجہ سے 40 اونٹ مقابلہ حسن کی دوڑ سے باہر

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں اونٹوں کے سب سے بڑے میلے کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا آغاز ہوگیاعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاض میں کنگ عبدالعزیز کیمیل فیسٹیول جاری ہے جس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی کورونا وبا کے باوجود لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔

    فارمولا-ای کار ریس28 جنوری کو سعودی عرب کے تاریخی مقام درعیہ میں شروع ہو گی

    اس فیسٹیول کا سب سے دلچسپ حصہ اونٹنیوں کے درمیان ہونے والا مقابلہ حسن ہے۔ اس مقابلے کے فاتح اونٹنی کے مالک کو 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر انعام دیا جاتا ہے مقابلہ حسن میں اونٹنی کی خوبصورتی کا معیار لمبےاورلٹکے ہوئے ہونٹ، بڑی ناک اور کوہان کی شکل ہے تاہم کچھ برسوں سے مصنوعی طریقےسےحسن میں اضافہ کیےجانےکاانکشاف ہےاس لیےمنتظیمن اچھی طرح جانچ پڑتال کےبعد مقابلےمیں شرکت کی اجازت دیتے ہیں اس سال بھی 40 کے لگ بھگ اونٹنیوں کو خوبصورتی کے لیے بوٹوکس انجیکشن لگانے پر نااہل قرار دیا گیا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے”جدہ ڈاؤن ٹاؤن” جدید منصوبے کا…

    مقابلے میں شرکت کی خواہش مند اونٹنیوں کا ماہرین نے ان کی ظاہری شکل و صورت اور چلنے کے انداز کا معائنہ کیا۔ پھر جدید ایکسرے اور 3 ڈی الٹرا ساؤنڈ سے سر، گردن اور دھڑ کے عکس لیے اور جنیاتی معائنے سمیت خون کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    واضح رہے کہ اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا انعقاد ہر سال کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں کیا جاتا ہے جو دنیا کا اونٹوں کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔

    سعودی عرب: کنگ عبدالعزیزاونٹ میلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی شرکت

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    سیئول: شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا ایک اورتجربہ کرلیا،شمالی کوریا کا جانب سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل سن 2022 میں شمالی کوریا کا دوسرا میزائل تجربہ ہے-

    باغی ٹی وی :جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق شمالی کوریا نے منگل کی صبح میزائل کا تجربہ کیا شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو زمین سے مشرقی سمندر کی جانب لانچ کیا گیا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی فائرکی گئی بیلسٹک میزائل جیسی چیز کی تصدیق کی ہے۔شمالی کوریا کا 6 روز کے دوران بیلسٹک میزائل کا یہ دوسرا تجربہ ہے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے عالمی تنقید کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے ملکی دفاع مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی مشن برائے اقوام متحدہ جس میں امریکا، فرانس، آئرلینڈ، جاپان، برطانیہ اورالبانیہ شامل ہیں نے گزشتہ ہفتے کئے گئے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی تھی۔

    شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں تاہم وہ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اکثر تجربات کرتا رہتا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    قبل ازیں شمالی کوریا نے 5 جنوری بدھ کو بھی میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا بدھ کے روز داغا جانے والا بیلسٹک میزائل سن 2022 میں شمالی کوریا کا پہلا میزائل تجربہ تھا

    بعد ازاں جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا "شمالی کوریا اکثر میزائل داغتا رہتا ہے، جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔”

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے اپنے ایک بیان میں کہا، "ہماری فوج ممکنہ مزید میزائل داغنے کی تیاری کی صو رت میں پوری طرح تیار ہے اور ہم امریکا کی معاونت سے صورت حال پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ شمالی کوریا کی طرف سے میزائل داغنے کے بعد کی صورت حال کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

    جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی اور کہا کہ میزائل داغنے کا یہ واقعہ "ایسے وقت پیش آیا ہے جب داخلی اور خارجی استحکام انتہائی اہم ہیں۔” کونسل نے شمالی کوریا سے مذاکرات بحال کرنے کی اپیل کی۔

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    جاپان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ جاپانی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع جمعے کے روز اپنے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ سیکورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے گزشتہ ہفتے حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ اکتوبر 2021 میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اسے ایک آبدوز سے داغا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    امریکا میں پاکستانی ڈاکٹر نے میڈیکل سائنس کی دنیا میں شاندار کارنامہ انجام دے کر ملک کا نام روشن کر دیا-

    باغی ٹی وی : کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے گریجویٹ پاکستانی ڈاکٹرمنصور محی الدین نے امریکا میں دل کی تبدیلی کا کامیاب کارنامی سرانجام دے کر پہلی بار یہ ثابت کر دیا کہ دل کی تبدیلی کیلئے کسی انسان کا انتظار کرنے کی ضروت ختم ہوگئی انسان کسی جانور کے دل کے ساتھ بھی زندہ رہ سکتا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل اسکول کے مطابق ایک مریض میں کامیابی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا دل لگایا گیا جس کے بعد امریکا سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ دنیا کے پہلے انسان بن گئے ہیں جن میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا دل لگایا گیا ہے-

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ کی حالت سات گھنٹے تک جاری رہنے والے تجرباتی ہارٹ ٹرانسپلانٹ (دل کی پیوند کاری) کے تین دن بعد بہتر ہے۔ یہ ہارٹ ٹرانسپلاٹ امریکی ریاست بالٹیمور میں کیا گیا ہے بینیٹ کی زندگی بچانے کے یہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ آخری امید اور انتہائی ناگزیر تھا۔ تاہم اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ مستقبل میں اُن کی زندہ رہنے کے کتنے امکانات ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق مریض نے اپنے آپریشن سے پہلے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں پتا ہے یہ اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے مگر ان کے لیے یہ آخری چوائس تھی کہ موت کو قبول کریں یا پھر ٹرانسپلانٹ کرائیں۔

    امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے اس سرجری کے لیے امریکی میڈیکل ریگولیٹر سے یہ کہتے ہوئے خصوصی اجازت لی تھی کہ اگر یہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ نہ کیا گیا تو بینیٹ کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ بینیٹ کی خرابی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو ٹرانسپلانٹ کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا تھا یہ سرجری، ٹرانسپلانٹ سرانجام دینے والی میڈیکل ٹیم کی برسوں کی محنت اور تحقیق کا ثمر ہے اور یہ دنیا بھر میں انسانی زندگیوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    ڈاکٹر منصور نے نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کے دوران کہا کہ ابتدائی تجربات میں بندر کا دل لگایا جاتا تھا لیکن وہ مفید ثابت نہ ہوا البتہ خنزیر پر تجربہ مفید رہاہم نے سارے جانوروں کا معائنہ کیا کہ کونسا جانور انسان کے قریب ہے، شروع میں بندروں کا دل لگایا گیا تو وہ اتنا مفید ثابت نہیں ہوا چند مہینوں کے خنزیر کا دل بڑے انسان کے دل کے برابر کے سائز پر آجاتا ہے، اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں جس بنا پر ہم نےتمام ریسرچ خنزیرپرکی

    Dr.Mansoor

    ان کا کہنا تھا کہ خنزیر کے دل کے جینیاتی کوڈ کو ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اس میں کوئی بھی جینیاتی تبدیلی کی جا سکتی ہے مغرب میں خنزیر کو روز مرہ کی غدا میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اس کا دل لگانے میں کچھ معیوب نہیں سمجھا گیا مریض میں خنزیر کے دل کے ٹرانسپلانٹ پر ایک کروڑ 75 لاکھ پاکستانی روپے لاگت آئی۔

    اس حوالے سے ڈاکٹر منصور کا کہنا تھا کہ ابتدائی تجربے کی وجہ سے لاگت زیادہ ہے لیکن ٹرانسپلانٹ میں فکر کرنے کی زیادہ ضرورت نہیں جس مریض میں دل لگایا وہ بہت بیمار تھا، سوائے اس کے ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، اس معاملے پر مریض اور اس کے دل کو مسلسل مانیٹر کرنا پڑتا ہے، خیال رکھنا پڑتا ہے کہ ہم نے مریض کو نیا دل دیا ہے لیکن کیا باقی جسم بھی اس چیز کو قبول کرے گا۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

  • موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    2021 دسمبر کے وسط تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی ہر طرف یہ چامگویئاں ہورہی تھیں کہ شاید اب سردی ویسے نا رہے جیسے چند سال پہلے تک تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ستمبر کے اینڈ سے موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔لیکن دنیا میں مختلف نیو کلئیر تجربات، بےہنگم ٹریفک سبزہ کی کمی کی وجہ سے موسم گرما میں ناصرف شدت آئی ہے بلکہ وہ زیادہ ماہ پر محیط ہوگیا ہے۔ جو سردی کی رات ستمبر کے آخر تک محسوس ہوتی تھی وہ اب نومبر میں محسوس ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نومبر تک پنکھے بھی چلتے ہیں۔ اس بار بھی شدت دسمبر کے آخر سے شروع ہوئی ہے لیکن بہت شدید 2022 کا آغاز شدت سردی سے شروع ہوا۔ بارشیں نا ہونے کی وجہ سے جہاں پہلے خشک سردی کا راج تھا ساتھ نزلہ، زکام، بخار کاوہیں فصلوں کو بھی نقصان ہورہا تھا جنوری کی چار سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔ دیہاتوں شہروں میں عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی کو فکر کہ پکوڑوں کے ساتھ بریانی بنائی جائے یا اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کیا جائے ۔گھر رہا جائے یا دوسرے شہروں خصوصا اسلام آباد جایا جائے تو کسی کو فکر کہ رات کا کھانے کا بندوبست کیا جائے؟ کیونکہ موسم کی شدت کسی بھی لحاظ سے ہو غریب کے لیے بہت مشکل لاتی ہے۔نا دیہاڑی ملتی ہے اور نا کوئی مدد کرتا ہے۔ ہم اپنے چاہ تو سارے پورے کرتے ہیں لیکن مدد کرنے کے لیے دو کام کرتے ہیں ایک تو تصاویر لگا کر انکی عزت نفس کو مجروح کرنا اور دوسرا سوشل میڈیا کا، مین سٹریم میڈیا کا اور پرنٹ میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو حکومت وقت کے مشتعل کرنا۔اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت وقت کی زمہ داری ہے معاملات کو کنٹرول رکھنا مواقع بنانا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحثیت معاشرہ کا مفید رکن ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم صرف تصاویر لگا کر یا گالیاں دے کر اپنی فرسٹریشن نکال کر بری الزمہ نہیں ہوجاتے ہیں لیکن ہم نے اپنے اس رویے پر غور ہی نہیں کیا کبھی۔ بس دیکھا دیکھی اپنی خواہشات اور اسائشات کو ضرویات بنالیا ہے۔ اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر کام کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں۔جب کہیں ناکام ہوتے ہیں تو اسکا الزام اپنی غلطیوں کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیتے ہیں انکے خلاف بات کرتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ جبکہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے ہیں۔بات ہورہی ہے موسم کی شدت اور ہمارے رویوں کی کہ کیسے ہم اللہ کے معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردیتے ہیں اس بار کئی سالوں بعد مری میں برفباری اتنی شدید ہوئی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔مری کو ملکہ کوہسار کہاجاتا ہے۔گہرے سبزرنگ کے قدآور، گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی ‘ملکہ کوہسار مری’ میں ان دنوں رش بےپناہ ہے۔ ہزاروں فٹ اونچی وہ چوٹیاں جو دسمبر سے فروری تک برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

    پنڈی سے 39 کلو میٹر دور سطح سمندر سے اسکی بلندی7500 فٹ ہے۔ پہلی تعمیر یہاں 1851 میں ہوئی تھی۔ رقبہ بہت زیادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں پانچ سے دس، ہزار تک گاڑیاں آسانی اور سہولت کے ساتھ آ جا سکتی ہیں مسلہ تب ہوتا ہے جب سیاح بڑی تعداد میں مری داخل ہوتے ہیں ،چونکہ زیادہ دور نا ہونے کیوجہ سے بیرونی سیاحوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک سیاحوں کی بڑی تعداد سارا سال آتی جاتی رہتی ہے خصوصاً موسم گرما کی تعطیلات اور سرما کی تعطیلات میں۔ موسم گرما میں موسم خوبصورت رہتا ہے گوکہ مشکلات ہوتی ہیں جب تعداد تجاوز، کر جائے۔ لیکن حالات کنٹرول میں رہتے ہیں مسلہ تب بنتا ہے جب موسم سرما میں برفباری میں لوگ زیادہ تعداد میں مری پہنچتے ہیں فیملی کے ساتھ۔ اور یہ تعداد ہزاروں سے لاکھوں افراد تک جب پہنچتی ہے تو نا صرف انتظامیہ کے لیے مشکل ہوتی ہے بلکہ فیمیلز کے لیے بہت مشکل حالات بن جاتے ہیں جیسا کہ ابھی ہورہا ہے۔ نارمل حالات میں بھی جب گاڑیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرجائے تو مشکل ہوتی ہےوہاں۔ اب دس ہزار کے بجائے بجائے ایک لاکھ تک جا پہنچی ہے تو ٹریفک جام ہو گیا ہے لوگوں کو سڑکوں پر دن رات گزارنا پڑرہے ہیں اور یہ بچوں کے لیے خاص طور پر مشکل حالات ہوتے ہیں۔ اس بار برفباری شدید ہورہی ہے اور برفباری دیکھنے کے شوقین افراد نے بغیر موسمی حالات کا اندازہ کیے فیملیز سمیت اندھا دھند مری پہنچے جس برفباری کا تو پتہ نہیں انجوائے کرسکے یا نہیں لیکن حالات بہت مشکل دیکھے۔سڑکوں پر رات گزارنی پڑی، ہوٹلوں کی بکنگ نا ملی اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی میں تعطل نے بہت پریشان کیا۔ انتظامیہ کئی دن سے مسلسل منع کررہی تھی کہ مزید گنجائش نہیں ہے اور برفباری شدید ہے اس لیے مزید لوگ نا آئیں لیکن جذباتی قوم جس کام پے لگ جائے نفع نقصان سوچے بغیر دوڑ پڑتی ہے۔ اس موسمی حالات میں جہاں 18،19 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ابھی بھی سڑکوں پر پھنسی ہوئی ہے عوام۔ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے علاقہ کو آفت زدہ کراردےدیا گیا ہے فوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔ جو کہ ریسکیو آپریشن جاری کیے ہوئے ہیں۔ برف ہٹائی جارہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپنی غلطی تسلیم کرنے بجائے عوام انتظامیہ کو ہی برا بھلا کہہ رہی ہے۔ اور مری روڈ پر الجھ رہی ہے کہ مری جانے دیا جائے جبکہ پنڈی کمیشنر نے مری روڈ جانے کے لیے بند کردیا ہے۔ یہ برفباری تو فروری کے آؤاخر تک رہنی ہے اپنی جانوں کو مشکل میں نا ڈالیں احتیاط اور صبر سے کام لیں۔ اگر عوام اس طرح بغیر سوچے سمجھے رش نا لگاتی تو شاید اتنی مشکلات نا پیش آاتیں۔ جان ہے تو جہاں ہے اپنی حفاظت کریں لوگوں کے لیے آپ محض گنتی یا تعداد ہیں لیکن اپنی فیملی کے لیے سب کچھ ہیں۔ کچھ دن ٹھہر کے پروگرام بنائیے تاکہ نا آپ مشکل میں ہوں اورناہی انتظامیہ۔ کیونکہ سمھبالنا تو انہوں نے ہی ہے نا۔ جو پھنسے ہوئے ہیں انکے لیے دعا کریں کہ خیر و عافیت سے گھر لوٹیں۔ اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
    @irumrae

  • خطرناک کار لفٹرز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ

    خطرناک کار لفٹرز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ

    پولیس کو انتہائی خطرناک مفرور اور مطلوب کار لفٹرز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اے وی ایل سی نے انتہائی مطلوب ملزمان کے سروں پر انعام رکھنے کیلئے اعلیٰ حکام کو خط ارسال کردیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خط ایس ایس پی بشیر بروہی کی جانب سے آئی جی سندھ کو لکھا گیا ہے۔

    خط کے متن میں9ملزمان کے سروں کی مجموعی قیمت6کروڑ40لاکھ رکھنے کی درخواست کی گئی، ملزم غلام یاسین بھائیو کے سر کی قیمت1کروڑ روپے رکھے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزمان عمران بھائیو،کاشف ابڑو عرف انورعلی، اکبرعلی بھائیو اور نذیر بھائیو کے سروں کی قیمت بھی ایک ،ایک کروڑ روپے رکھی جائے۔

    اس کے علاوہ خط میں سفارش کی گئی ہے کہ ملزم مجاہد جمال میرانی کے سر پر50لاکھ کا انعام جبکہ محمد خان ملاح، ممتاز بھائیو، حکیم بگٹی کے سروں پر فی کس 30لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی بشیر بروہی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام ملزمان انتہائی خطرناک، اشتہاری اورعادی جرائم پیشہ ہیں، ہر ملزم کے خلاف درجنوں مقدمات ہیں، کار لفٹرز گینگز کئی سالوں سے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔