Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ٹی آئی ایک اور باری لے پائے گی؟ تحریر: نوید شیخ

    پی ٹی آئی ایک اور باری لے پائے گی؟ تحریر: نوید شیخ

    جہاں یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی مزید ایک اور باری لے گی ۔ تو فی الحال مجھے یہ پانچ سال بھی پورے کرتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں کیونکہ جس تیزی حالات تو ایک طرف اپوزیشن کے آپسی اختلافات ختم ہورہے ہیں ۔ میں خود حیران ہوگیا ہوں کہ یک دم پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی ملاقات میں بغیر کسی شرائط کے اصولی طور پر طے کر لیتے ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجنا ہے ۔ اور اکیلے اکیلے نہیں بلکہ کے مل کر یہ کام کرنا ہے ۔ یہ بات زیادہ اہم ہے ۔ پھر اسی دن شہباز شریف نواز شریف سے تمام پلان شیئر بھی کر لیتے ہیں اس کے بعد نواز شریف بھی بغیر کسی حیل وحجت کے
    go aheadکہہ دیتے ہیں ۔ تومولانا سے بھی بات ہوجاتی ہے ۔ ان کو بھی onboard کر لیا جاتا ہے ۔ پھر ایمرجنسی پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کی تیاری بھی ہوجاتی ہے۔ ویسے اتنی تیزی سے چیزیں تو تب بدلتی ہیں جب کسی فلم کا climax
    قریب آرہا ہو ۔

    ۔ آخری بارجومجھے یاد ہے ایسا تب ہوا تھا جب مشرف کو صدر کے عہدے سے ہٹانا تھا یا پھر جب اٹھارویں ترمیم آنی تھی تب یہ تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئی تھیں ۔ میرے خیال سے ایک بار پھر اسٹیج تیار ہوچکا ہے ۔ اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے ۔ جس کے بعد حکومت ہر حال بھی گھر ہی جائے گی ۔۔ بس وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ کہ puzzle solve کرنے کا ایک آخری ٹکڑا رہ گیا ہے جس دن اس کا پتہ چل گیا کہ وہ کہاں ہے ۔ تمام سوالوں کے جواب کنفرم ہوجائیں گے ۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں جہانگیر ترین کی ۔ اب سب کچھ تو ہوچکا ہے ۔ بس ان کے جہاز کی لینڈنگ دیکھنی ہے کہ وہ کہاں جا کر رکتا ہے ۔ لاہور ، کراچی ، پشاور یا پھر ملتان میں ہی پارک رہے گا ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی اس وقت مزید حکومت کرنے کا اخلاقی سمیت تمام سیاسی جواز بھی کھو بیٹھی ہے ۔ کیونکہ اب عوامی مطالبہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ حکومت جائے گی کب ۔۔۔۔ یہ ہی سوال احتساب عدالت کے باہر شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت گھر چلی جائے گی جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کو بہتر پتہ ہے ، لیکن ہماری پوری کوشش ہو گی ۔۔ تومولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بلاول، زرداری سے ملاقات پر مجھے اعتماد میں لے لیا ہے ۔ ہم جلد عوام کو اس ناجائر حکومت سے چھٹکارا دلوائیں گے۔ ۔ انکے بعد بلاول بھٹو نے تو پوری کہانی ہی بیان کردی ہے کہ پلان ہے کیا ۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ، اب اسمبلی میں بھی ہوگا۔ عمران خان کے گھبرانے اور جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔۔ اس حوالے سے حمزہ شہباز نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ حکومت ہٹانے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر جنگ لڑی جائے گی ۔

    یعنی اپوزیشن ان ہاوس تبدیلی کی تیاریوں میں ہے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اب تو اسمبلی کے اندر سوائے یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر بننے کے علاوہ اپوزیشن کو ہمیشہ سبکی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اور اگر یہ عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لانی کی تیاری ہے تو اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کے ہوتے ہوئے مجھے یہ کامیاب ہوتی دیکھائی نہیں دیتی ۔ اس کے لیے مجھے لگتا ہے کہ اپوزیشن کو پہلے اسد قیصر کو ہٹانا پڑے گا ۔ پھر اگلا وار عمران خان پر کرنا ہو گا ۔ ۔ اب اگر نمبر گیم کو دیکھا جائے تو اپوزیشن کو خود اکٹھے ہونے اور عمران خان کے کسی بھی ایک اتحادی کو توڑنے کی ضرورت ہے ۔ on paperیہ بہت آسان لگتا ہے مگر یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔ سب سے پہلے تو یہ make sure
    کرنا کہ اپوزیشن کی اپنی گنتی پوری ہو ۔ کیونکہ کوئی بیمار بھی ہوسکتا ہے ۔ کوئی ملک سے باہر ہوسکتا ہے ۔ پھر کوئی خوشی غمی ہوسکتی ہے ۔ اس کے بعد حکومت کا جو دعوی ہے کہ اپوزیشن کے پندرہ سے بیس لوگ عمران خان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا ۔ اب اگر پہلے اپوزیشن اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لے تو دوسرا اہم مرحلہ کسی اتحادی کو توڑنا یا پھر پی ٹی آئی کے اندر نقب لگانے کا ہے ۔ اس میں اپوزیشن اگر خالی ق لیگ یا پھر ایم کیو ایم کو ہی حکومت سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوگی تو سمجھو کام بن گیا ۔ مگریہاں ٹھہریں زرا ۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ نہ ہی ق لیگ اور نہ ہی ایم کیوایم حکومت سے اس وقت تک علیحدہ ہوں گی جب تک اس گھر سے حکم نہ آجائے جو ان کا قبلہ ہے ۔

    پھر یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی اپوزیشن سے رابطے میں ہیں۔ یہ بات بذاتِ خود اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اندرونِ خانہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ بیس ارکانِ اسمبلی سے رابطوں کا دعویٰ ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب تازہ تازہ اپوزیشن کو سینیٹ میں شکست ہوئی ہے، جہاں اُس کی اکثریت ہے۔ تو کیا جن ہاتھوں نے سینیٹ میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا وہ دوسری سمت کو چلے گئے ہیں۔ کیا انہوں نے یقین دلایا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے وہ اسے کامیاب کرا دیں گے۔۔ میرے خیال سے اس یقین دہانی کے بغیر اپوزیشن کبھی بھی اسپیکر یا وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں لائے گی،کیونکہ حکومتی بنچوں کے ووٹ ملنا تو دور اپوزیشن کے اپنے ارکان عین موقع پر غائب ہو جاتے ہیں۔ ۔ یوں بات ایک بار پھر گھوم کر اسٹیبلشمنٹ پر آکر رک جاتی ہے کہ وہ اگر چاہتی ہے حکومت گھر جائے تو صبح حکومت گھر چلی جائے گی اور اگر وہ چاہتی ہے کہ حکومت پانچ سال پورے کرے یا پھر اگلے پانچ سال بھی پی ٹی آئی ہی عوام پر مسلط رہے تو یہ کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں ہے ۔ ۔ مگر اس بار بہت سے لوگوں کو امید ہوچلی ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتیں بغیر کسی شرط اکٹھی ہو رہی ہیں ۔ یہ اشارہ ہے کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔ ۔ پھر جو جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی کا تُک ہی نہیں بنتا، چور اور قاتل سزا کاٹنے کے بعد الیکشن لڑسکتے ہیں اور تاحیات نااہل بھی نہیں ہوتے۔ اسکے بعد انھوں نے کہا کہ بحران انتہا پر پہنچ جاتا ہے،تب حکومت حرکت میں آتی ہے۔ ۔ میرےخیال سے ان کی باتوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے آئیڈیل حالات ہیں ۔ ۔ کیونکہ حکومت کے پاس عوام حمایت ختم ہوچکی ہے ۔ ۔ اپوزیشن اکٹھی ہوچکی ہے ۔ ۔ پھر حکومت کے اپنے لوگوں سمیت اتحادی بھی ناراض ہیں ۔ ۔ پھر حالیہ دِنوں میں کچھ ایسے پے در پے واقعات ہوئے ہیں، جن سے لگتا ہے کہ اب کچھ ہوگا ضرور۔

    مگر یاد رکھیں عمران خان کو ہٹانے کے لئے کوئی غیبی طاقت نہیں آئے گی، جو تبدیلی بھی آنی ہے، وہ آئینی طریقے ہی سے آسکتی ہے۔ ۔ مگر اس حوالے سے حکومت کےجتنے لوگوں سے میری بات ہوئی ہے انکا ماننا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن صرف سیاسی طور پر خود کو زندہ رکھنے کے لئے یہ سب جتن کر رہی ہیں۔ کیونکہ اب حکومت کی مدت اتنی کم رہ گئی ہے کہ اسے گھر بھیج کر شہید بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ معاشی شعبے میں حکومت کی کارکردگی اتنی بری رہی ہے کہ عام انتخابات میں اُس کا جیتنا اپوزیشن کے نزدیک کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو نکال کے مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کا وزیراعظم لانے سے حکومت کی تمام ناکامیاں اُس کے حصے میں آ جائیں گی۔ اور تحریک انصاف ایک نئے عزم اور دعوؤں کے ساتھ انتخابات میں جائے گی اور کوئی شک نہیں عمران خان واقعی اپوزیشن کے لئے خطرناک ثابت ہوں۔ ۔ مگر جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ایسی کوئی بات سمجھانا ممکن نہیں۔ وہ پہلے دن سے حکومت کو غیر آئینی اور مسلط کردہ کہہ کر اُسے نکالنے کے در پے ہیں۔ وہ اس کے لئے ایک لانگ مارچ بھی کر چکے ہیں، جس کے اختتام پرانہوں نے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا،وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ دھرنا ختم کرانے کے لئے اُن سے حکومت ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جسے پورا نہیں کیا گیا۔ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں، البتہ یہ چاہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے دیں اور لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو نکال باہر کیا جائے۔ یہ سب کچھ وہ بہت آسان سمجھتے ہیں،حالانکہ حالات ایسے نہیں کہ اب کسی کو دھرنا دے کر حکومت سے نکالا جا سکے۔ دوسری طرف استعفوں کے آپشن پر اپوزیشن کا متفق ہونا ممکن نہیں ۔ ۔ یوں حکومتی وزیروں کا ماننا ہے کہ اس بار بھی اپوزیشن کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچے گی اور امکان یہی ہے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی حالیہ پیار کی پینگیں سوائے ایک دوسرے کے خلاف لفظی سیز فائر کے کوئی بڑا بریک تھرو ثابت نہیں ہونگی۔۔ مگر سچ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے ۔ حکومت کیا سمجھتی ہے ۔ یا اپوزیشن کی خواہش کیا ہے ۔ اس سب سے زیادہ اہم چیز ہے کہ عوام کیا سوچتی ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت عوامی رائے یہ ہے کہ حکومت نے جھوٹ بولنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف کی بیڑیاں ، کرپشن ، لاقانونیت ، دہشتگردی ان کے سرکا تاج ہے ۔ اسی لیے آج صورتحال یہ ہے کہ کپتان کا نام سن کر عوام صرف بدعائیں نہیں وہ وہ کہہ رہے ہیں جو میں یہاں بیان نہیں کر سکتا ۔ ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اب کپتان کو ہرصورت جانا ہی ہوگا ۔

  • طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ

    طلاق آسان حل مشکل نتیجہ ،تحریر.ام سلمیٰ
    معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات نے لکھنے پے مجبور کیا.
    پاکستان میں طلاق کی شرح بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ طلاق کے لیے آنے والے زیادہ تر کیس میں معاملات خراب ہونے کی وجہ جوڑوں کے سسرال والے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے جوڑے جو جوائنٹ فیملی/ مشترکہ خاندانوں میں رہتے ہیں رازداری کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ خاندان کے افراد سے کچھ فاصلہ برقرار نہ رکھنے یا اس کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے باعث، گھریلو تشدد لڑائی جھگڑے کے بہت سے واقعات اور پارٹنر پر تشدد کے واقعات کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔اسی طرح پولیس رپورٹس کے مطابق صرف 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کراچی میں طلاق کے تین ہزار آٹھ سو مقدمات درج ہوئے۔ ابھی حال ہی میں، جنوری سے نومبر 2021 کے درمیان، راولپنڈی کی ضلعی عدلیہ نے طلاق، خلع، سرپرستی اور نفقہ سے متعلق دس ہزار تین سو بارہ کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ اسی ضلع میں فیملی کورٹس میں مزید تیرا ہزار کیس فیصلے کے منتظر پائے گئے۔ طلاق کے لیے گئے ایک ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں طلاق کے کیسز خاص طور پر بڑھ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ طلاق کے زیادہ واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نام نہاد ‘خاندانی عزت’ کے دباؤ میں جبری شادیاں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں،
    اگر ایک ماہ میں تیرا ہزار طلاق کے لیے رابطہ کر رہے ہیں تو سوچیں وہ کیس جو رپورٹ نہں ہوتے انکو ملا کر یہ گنتی کہاں جائے گی.
    آئیں اب ذرا نظر ڈالتے ہیں طلاق سے ہونے والے نقصانات پر
    طلاق لینا بہت ہی آسان ہوگیا ہے ایک بار جب آپ نے سوچ لیا ہے اور اپنی زندگی میں اس فیصلہ پر قدم اٹھانے تیار ہیں تو پھر بھی ایک بار آپ اپنا خود سے محاسبہ کر لیں اور ایک بار خود سے کریں اور کچھ اچھے دوستوں سے بھی مشورہ ضرور کریں اس کام کو انجام دینے سے پہلے.
    شادی دو لوگوں کا نہں دو خاندانوں کا میل ہے اور شادی کے اگر آپ کے بچے بھی ہیں تو آپکے اس طلاق کے فیصلے کا سب سے زیادہ نقصان آپکے خاندان میں آپ کے بچوں کو ہوگا کیوں کے جب آپ الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو بچوں کے لیے ی سب سے زیادہ مشکل فیصلہ ہے کے ماں باپ کی الگ ہونے کے بعد وہ کس کے ساتھ رہیں کیوں ان کے لیے دونوں رشتوں کی اہمیت برابر ہی ہے ماں ہو یا باپ بچہ دونوں کو توجہ چاہتا ہے اور اس کی پرورش اور تربیت میں دونوں کا ہے ایک اہم کردار ہے تو اگر آپ اپنی اولاد کو اس معاشرے میں ایک ایک اچھا فرد بنانا چاہتی ہیں یا چاہتے ہیں تو آپ کا الگ ہونے کا فیصلہ یا طلاق کا فیصلہ آپ کے بچے کے کردار کو معاشرے میں خراب کر سکتا ہے کیوں کے جب ماں باپ الگ ہوجائیں تو الگ گھروں میں رہنے کی وجہ سے بچے کبھی ماں کے پاس اور کبھی باپ کے پاس ہوتے ہیں اور ماں باپ دونوں اپنی زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے ان پر صحیح طرح سے توجہ نہں دے پاتے ہیں.اس طرح آپ کا اپنے بچوں کو معاشرے کے لیے بہتر بنانے اور انکا مستقبلِ بہتر بنانے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے یہ تھی سب سے اہم بات اس بعد اگر آپ خود اپنی زندگی میں اس فیصلے کو لیے جانے کی وجہ سے آنے والی تبدیلی کے بعد دیکھیں تو یہ بھی ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے چاہے آپ دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں یہ بھلے اکیلے زندگی گزارتے ہیں دونوں صورتوں میں ایک بار پھر نئی زندگی کو شروع کرنے کی مشکلات سے گزرنا ہوگا تو اس بات کو سوچتے ہوئے آپ دوبارہ اپنے فیصلے پے نظر ڈالیں کے جب اس طلاق جیسے فیصلے کے بعد بھی آپ کو دوبارہ زندگی میں جدوجھد کرنا ہے تو کیوں نہ اسی رشتے پر توجہ دے کر ایک بار دوبارہ حالت کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور اپنے رشتے کو سہی طرح چلانے کی کوشش کی جائے اس طرح آپ زندگی کچھ بہتر طریقے سے گزر جائے گا نا صرف آپکی بلکے آپ کے ساتھ جُڑے رشتوں کو خصوصاََ آپ کے بچوں کی زندگی جو کے والدین کا اولین مقصد ہوتا ہے اپنے بچوں کا مستقبلِ بہتر بنانا.

    طلاق لینا ہی مسئلے کا حل نہں اگر ہم سوچیں اور اپنے اِرد گرد کے اس طلاق جیسے فیصلے سے ہونے والے نقصانات پے نظر ڈالیں تو یقناً آپ بھی کسی صورت یہ قدم نہں اٹھانا چاہئیں گے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے رشتوں کا ختم کرنا ضروری نہں ان کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • 24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    24واں تھیٹر فیسٹیول ٗ الحمراء کا عظیم کارنامہ ثابت ہوا!: تحریر:صبح صادق

    الحمراء کے 24واں سات روز تھیٹر فیسٹیول ٗڈرامہ کی روایت کو تقویت ملی ہے۔
    تھیٹر فیسٹیول ٗوزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کلچر دوست پالیسیوں کا عکا س تھا۔ سربراہ الحمراء
    محکمہ اطلاعات وثقافت کی مکمل سرپرستی میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو ٗ سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انور کی خصوصی توجہ حوصلہ کا باعث ہے۔ذوالفقار علی زلفی
    الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے۔عالمی شہرہ آفاق آرٹسٹ قوی خان
    الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان
    پاکستان میں آرٹ کا روح رواں الحمراء ہے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی
    24ویں سات روزالحمراء تھیٹر فیسٹیول کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ذوالفقار علی زلفی
    دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔
    فیسٹیول میں ٗجنون،داستان حضرت انسان، میڈاعشق وی تو، ہور دا ہور،سانوری،لپڑا۔مریا ہوا کتا،دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کئے گئے،درجنو ں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکاری دیکھنے کو ملی۔
    فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

    الحمراء ایک آرٹ لونگ کمپلیکس ہے۔آپ جب بھی الحمراء آئیں جہاں آپ کو عوام اور آرٹ ”گیٹ ٹو گیڈر “(GETTOGETHER)نظر آئیں گے۔نئے سال کی آمد پر یہاں ادبی وثقافتی سرگرمیاں روز پڑگئیں۔فروری کا مہینہ تھیٹر کی روایت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوا۔جب لاہور آرٹس کونسل نے 24واں سات روز الحمراء تھیٹر فیسٹیول سجایا۔اس فیسٹیول کو ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے دیکھا بلکہ الحمراء کی سوشل میڈیا حکمت عملی کے باعث تو یہ تعدار لاکھوں میں پہنچ گئی۔پاکستان بھر کے میڈیا نے اس فیسٹیول کو کامیاب بنانے کے لئے الحمراء کا بھرپور ساتھ نبھایا۔شام 6بجتے ہی لوگ الحمراء ہال نمبر دو کے باہر اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے۔کوویڈ نے انسانی معاشرہ کو تھوڈا زیادہ ہی DISCIPLINED بنا دیا ہے۔داخلی دروازے پر لوگ قطار در قطار کھڑے اپنا کوویڈ ویکیسی نیشن کارڈ دیکھاتے،اور ایک سیٹ چھوڑ کر اپنی اپنی جگہوں پر اطمینا ن سے بیٹھ جاتے۔
    الحمراء کے اس فیسٹیول سے تھیٹر کی روایت پھر توانائی پکڑ گئی ہے، اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اس فیسٹیول کو سجانے کے پس پردہ محنت اور لگن کاایک طویل عمل پنہاں ہے۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقارعلی زلفی نے اپنا تجرنہ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔اسے تھیٹر گروپس کو اس فیسٹیول میں شامل کیا گیا جن کے پاس بامعنی کہانیاں اور با صلاحیت ادارکار تھے۔اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں دُنیا کے نامور اداکار قوی خان مہمان خصوصی تھے۔انھوں نے اپنے خیالات کو اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء ہی وہ جگہ ہے جہاں تھیٹر کی روایت کو تقویت مل سکتی ہے، انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ الحمراء کے بھاگ دوڑ ایک ایسے افسر کے ہاتھ میں ہے جو خود ایک آرٹسٹ ہے۔قوی خان کے یہ جملے الحمراء انتظامیہ کے لئے حوصلہ کا باعث ہیں۔ الحمراء کے تمام پروگرامز کوحکومت پنجاب کا مکمل تعاو ن حاصل ہوتا ہے،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ثقافت دوست پالیسوں کی بدولت صوبہ پنجاب کی اقدار کو احسن انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو،سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ جہانگیر انور کی خصوصی دل چسپی الحمراء کی انتظامیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔وگ الحمراء آنا کیوں پسند کرتے ہیں۔جس جگہ پر انسان کو عزت دی جائے انسان وہی پر ہی تو جانا پسند کرتا ہے۔ سو الحمراء لوگوں کو بہت عزت دیتا ہے، انھیں اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے،یہاں ان کے ساتھ عزت و احترام پیش آیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کے فیسٹیول کے ساتوں روز الحمراء کا ہال نمبر دو لوگوں سے بھرا رہا۔گزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی تو اپنی ہر گفتگو میں برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمراء آپ سب کا ہے،جس کسی کے پاس بھی ٹیلنٹ ہے وہ آئے اور اس عظیم پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔بلاشبہ مواقعے فراہم کرنے میں الحمراء کا کردار قابل تقلیدہے۔مستنداور معتبر آرٹسٹ کا اپنی نظر سے آرٹسٹوں کا کام دیکھانا اور اسے پسند کرنا حقیقت میں ایک بڑا کارنامہ ہے۔الحمراء کے 24ویں سات روز تھیٹر فیسٹیول کو پاکستان کے آرٹسٹوں نے خود آکر دیکھا اور الحمراء کے پلیٹ فارم کی تعریف کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز عکس تھیٹر نے اپنا ڈرامہ جنون پیش کیا،ڈرامہ افضال نبی نے تحریر کیا جس میں کوویڈ کا شکار بیوی سے شوہر کی لازوال محبت کو شائقین فن کے سامنے پیش کیا گیا۔ڈرامہ میں افضال نبی،سفیرہ راجپوت،ظہیر تاج،محمد اعظم،ندا منیر،کرن منیز،رائے علی،رضا اور محمد نظام نے اپنا کردار نبھایا۔ڈرامہ کی حاض بات افضال نبی کا شوہر کا رول تھا جس میں انھوں نے اپنی اداکاری سے ہال میں بیٹھے سینکڑوں حاضرین کو اپنے سحر میں باندھے رکھا۔فیسٹیول کے آغاز پر ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی تقریر میں کہا کہ الحمراء معاشرہ کی خوبصورتی کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے،تھیٹر فیسٹیول سماجی اقدار کا عکاس ہے،الحمراء کو اپنی سماجی خدمت کا وقار حاصل ہے،نوجوانوں کو اپنی اعلی روایات سے جوڑا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔فیسٹیول کے دوسرے روز غیور تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”داستان حضرت انسان“ پیش کیا۔ڈرامے کے نہایت شاندار تھے،ڈرامہ میں اپنی احسن روایات سے دور ہوتے انسان کو دیکھایا گیا،لالچ،فریب،جھوٹی شان و شوکت کے لئے تگ ودو کرنے کی دوڑ میں انسان کو اپنے رنگ روپ چھوڑ کر انسانیت سے گرتے دیکھایا گیا۔جودیکھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی تھی اور توجہ طلب تھی۔ ڈرامہ ہلکے پھلکے کامیڈی کے انداز میں سماجی رویوں کا عکاس تھا، اداکاروں کے زبردست اداکاری متاثر کن تھی۔ڈرامہ کو عارف متین نے تحریر کیا جبکہ حمزہ غیور اختر کی ہدایات تھیں۔نوجوان آرٹسٹوں مرزا عمیراور حمزہ غیور ڈرامہ کے اداکار تھے۔ذوالفقارعلی زلفی نے اپنے پیغام میں کہاکہ فیسٹیو ل دیکھنے والے معاشرتی بہتری میں اپنا فعال کردار ادا کریں،تھیٹر کی روایت الحمراء کی کاوشوں کی بدولت زندہ ہے،فیسٹیول دیکھنے والوں کو تادیر یاد رہے گا۔اس فیسٹیول کے بعد الحمراء نے یہ بات ثابت کی دی ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ڈرامہ آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا، اچھی کہانی لکھنے والے بھی موجو د ہیں اور اس کہانی پر پرفارم کرنے کا ہنر جاننے والے بھی۔لاہور آرٹس کونسل الحمراء نہ صرف ڈرامہ بلکہ فنون لطیفہ کی تمام اصنا ف میں پینری فراہم کرنے والا ادارہ بن چکا ہے۔آج ہمیں جو ہر سو فن و ثقافت کے شعبے میں ترو تازگی نظر آتی ہے اس میں کسی نہ کسی صورت الحمراء کا رول ضرور ہے۔ الحمراء تھیٹر فیسٹیول کے تیسرے روز سلامت پروڈکشن کا پنجابی ڈرامہ ”ہور دا ہور“ پیش کیا گیا۔یہ ڈرامہ سعادت حسن منٹو کے ریڈیائی ڈرامہ ”تلون“ سے ماخوذ تھا۔جسے تنویر حسن نے تحریر کیا۔ڈرامہ کی کہانی تین رومانیوں کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔دیکھنے والا ڈرامہ کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا یہی ڈرامہ کا اصل ہوتا ہے۔مزیدکہا جائے تو یہ ڈرامہ عشق کی راہ و رسم اور اس راہ میں دی جانے والی قربانیوں سے عبارت تھا،کہانی دل چسپ مراحل سے گزرتی ہوئی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ڈرامہ دیکھنے والے ہر داد ٗ دینے والے سین پر بڑھ چڑ ھ کر داد دیتے رہے۔کہانی میں انسانی جذبات نمایاں تھے۔نامور آرٹسٹوں ذیشان حیدر،عثمان چوہدری،شیزاخان نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

    ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تھیٹر فیسٹیول میں توجہ بڑھ رہی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ تھیٹر فیسٹیول کے تمام ڈرامے کہانی میں معتبر،زبان وبیاں میں معیاری اور عمدہ اسلوب کے حامل تھے۔فیسٹیول دیکھنے والے شائقین بہت باذوق تھے جب بھی کسی بھی ڈرامہ کا کلائمکس آتا،شائقین اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر داد دیتے رہے جس سے اداکاروں کو حوصلہ ملتا۔یہ فیسٹیول زبان و ادب کی خدمات میں بھی اہم پیش رفت تھا،آج کی نوجوان نسل کو اپنی زبان سے قربت پیدا کا ذریعہ بھی۔ فیسٹیول کے چوتھے روز کریٹو پروڈکشن نے عظیم صوفی شاعر خواجہ فرید کی کافی ”میڈا عشق وی تو“ پرمبنی اپنا ڈرامہ پیش کیا۔ڈرامہ رفقہ کاشف نے تحریر کیا تھا۔جبکہ زوہیب حیدر نے ڈائریکٹر کیا۔شاندار کہانی اور اداکاری کے سبب ڈرامہ دیکھنے والوں کو مدتوں یاد رہے گا۔نامور آرٹسٹوں اقرا پریت،عثمان ریحان،عمر قریشی،انیق احمد،بلال احمد، اویس، ڈاکٹر تبسم،علی حید ر،عمران ارمانی،عابد علی نے ڈرامہ کے کردار تھے۔

    ہر ڈرامہ تھیٹر فیسٹیول کے وقار میں اضافہ کا باعث تھا۔اس حوالے سے تمام تھیٹر گروپس بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔الحمراء آرٹس کونسل ڈرامہ دیکھنے والوں کو ایسا موقع باربار فراہم کرتا رہے گا۔الحمرا کے پروگرامز کی کامیابی یہاں کی تجربہ کار ٹیم کے سر جاتی ہے۔فیسٹیول کے پانچویں روز نورتن کا ڈرامہ سانور ی پیش کیا گیا۔ٹھنڈے پانیوں کے دیس کے سب ٹائٹل کے ساتھ ڈرامہ سانوری کے لکھاری اور ڈائریکٹر شاہد پاشا تھے۔نامور آرٹسٹوں سہیل طارق،سمیرا سہیل،فرح فاروقی،جاوید حسین،منصور بھٹی،شاہ رلعلی،ارسلان لوہار،راؤ محسن کریم،عدیل جاوید،ماروی،عمران ساحل اور نشا ملک ڈرامے کے اہم کردار تھے۔کہانی میں چولستان کے لوگوں کو مختلف مسائل کا دلیری سے مقابلہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔فیسٹیول کے چھٹے روز اجوکاء تھیٹر نے اپنا ڈرامہ لپڑا۔مریا ہوا کتا پیش کیا۔جبکہ فیسٹیول کے آخری روز آزادتھیٹر نے اپنا ڈرامہ دیوانہ بکار خیش ہشیار پیش کیا۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنی اختتامی تقریر میں نوجوان آرٹسٹوں کی اداکار کو سراہا اور کہا کہ ہمارا نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے،الحمرا ء انکے ٹیلنٹ کو جلا بخش رہا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ تھیٹر کی روایت کو تقویت دینا ہماری ذمہ داری تھی جو پوری کی،پورے تھیٹر فیسٹیول میں سماجی مسائل اور انکے معاشرتی حل کو موضو ع بنایا گیا جو خدمت کے درجے میں آتا ہے۔ذوالفقار علی زلفی نے کہا کہ میں دنیا بھر میں الحمراء،اس کے پروگرامز کو چاہنے اور پسند کرنے والوں،اپنی ٹیم اور دیگر سٹیک ہولڈر کا مشکور ہوں۔فیسٹیول کو الحمراء سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔یہ الحمراء انتظامیہ کا اثاثہ ہے۔الحمراء جلد تازہ جذبوں کے ساتھ مزید پروگرام پیش کرئے گا۔

  • دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا، تحریر: نوید شیخ

    دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا، تحریر: نوید شیخ

    عمران خان کے حالیہ بیانات سے لگتا ہے کہ لوگوں کو گبھرانا نہیں کا مشورہ دینے والے خان صاحب خود بہت گھبرا گئے ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات احساس شکست کا پتہ دیتے ہیں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ سڑکوں پر آئے تو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سڑکوں پر آنے کے لئے آپ کے پلے بھی کچھ ہونا چائیے جو وہ اپنی ناقص کارکردگی کے سبب کھوچکے ہیں۔

    ۔ موجودہ حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کہیں خیر نظر نہیں آتی۔ آمدن کے لحاظ سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید کم سے کم تر ہو رہی ہے۔ ۔ مگر عمران خان کے اردگرد خوشامدیوں کے ٹولے اکٹھے ہیں جو انہیں یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی بنائی ہوئی ریاست مدینہ میں لنگر خانے کھلے ہیں اور غریب کو روٹی مل رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو جو حکمران ان خوشامدیوں کے جھانسے میں آیا اس کا انجام بھیانک ہی ہوا ۔ ۔ پہلے سب سے بڑے جھوٹ سے شروع کرتے ہیں کہ حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 5.3 ظاہر کی ھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ گروتھ ریٹ واقعی ٹھیک اور حقیقت پر مبنی ھے تو پھر اس کا فائدہ عام شہری کو کیوں حاصل نہیں ہورہا۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش جو نصف صدی پہلے ہم سےعلیحدہ ہوگیا تھا آج وہ بھی ہم سے بہت آگے ھے اس کا ایک ٹکا ہمارے
    2.06 روپے بنتے ہیں یعنی اب ہم ایک ٹکے کے بھی نہیں رہے- – جیسے یہ پہلے کہتے تھے کہ نواز شریف دور میں اسحاق ڈار نے مصنوعی طور پر روپے کو مضببوط رکھ کر مارکیٹ میں ڈالر کو استحکام پر رکھا ہوا ہے اسی طرح آج کی جی ڈی پی گروتھ بھی مصنوعی ہی لگتی ھے۔

    ۔ کیونکہ دیکھیں کوئی ماہرین معیشت ایسا نہیں جو یہ نہ کہتا ہو کہ غیر ملکی قرضوں کے سہارے کسی بھی ملک کی معیشت نہ تو مضبوط ہو سکتی ہے نہ عوام خوشحال ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے اسی تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو پی ٹی آئی نے ان تین سالوں میں ریکارڈ غیر ملکی قرضے حاصل کئے ہیں ۔ ۔ لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کے ترجمانوں، وزیر خزانہ اور مالیاتی مشیروں کی طرف سے ایسے ایسے خوش کن بیانات اور دعوے تسلسل سے آ رہے ہیں کہ جیسے اس وقت ملک میں ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہے اور عوام حکومت کی مثالی کارکردگی کی وجہ سے شادیانے بجا رہے ہیں۔ ۔ عمران خان کو پتہ نہیں یہ کون اعداد وشمار دیتا ہے جو وہ ہر جگہ یہ راگ الاپتے پھرتے ہیں کہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کی آمدن میں 73 فیصد اضافہ ہوا اور انہیں 1400 ارب روپے کی اضافی آمدنی ملی ہے۔ اگر واقعی ایسی صورتحال ہوتی تو ملک میں ہر طرف کسانوں کی احتجاجی ریلیاں نہ ہوتیں۔ دھرنے نہ ہوتے ۔ ۔ اسی طرح عمران خان کا ماننا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 40 سے 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ہم ان سے کہیں گے کہ وہ ورکروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کریں ۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ ہمارے کارپوریٹ سیکٹر میں بوم آیا ہوا ہے جبکہ کنسٹرکشن انڈسٹری اور اس سے منسلک 30 صنعتیں ترقی کر رہی ہے ملک میں لاکھوں گھر بن رہے ہیں عوام نے گھروں کی تعمیر کے لیے بنکوں سے 290 ارب روپے کے قرضے مانگے تھے اب تک انہیں 20 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں۔
    مگر حقیقت یہ ہے کہ سب رو رہے ہیں ۔ کوئی وزیراعظم کے نام اخباروں میں اپیلیں چھپوا رہا ہے تو کوئی سٹرکوں پر نکل کر احتجاج کر رہا ہے کوئی ہر دوسرے دن پریس کانفرنسیں کرکے حکومت کو کوس رہا ہے ۔ ۔ مہنگائی کے بارے میں تو عمران خان اکثر فرماتے ہیں کہ اس خطے میں سب سے کم مہنگائی پاکستان میں ہے حالانکہ ہمارے عوام ریکارڈ توڑ مہنگائی کی وجہ بے حد پریشان ہیں۔

    ۔ سچائی یہ ہے کہ اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مہنگائی کی بلند ترین سطح کے لحاظ سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جبکہ حکومت پاکستان کا اپنا ادارہ شماریات ہر ہفتے مہنگائی کے بارے اعداد و شمار جاری کرتا رہتا ہے۔ وہ رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے ۔ ۔ پھر بھی عمران خان کا یہ دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت مضبوط سے مضبوط ہو رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیوں سے 30 ارب ڈالر اور برآمدات سے 31 ارب ڈالر حاصل ہوئے اس سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں مگر حکومت یہ نہیں بتاتی کہ اس کے دور میں پاکستان نے ریکارڈ بیرونی قرضے بھی لیے ہیں اور آئی ایم ایف کی ڈِکٹیشن پر انوکھا منی بجٹ بھی پاس کروایا ہے اور اسٹیٹ بنک کے بارے میں قانون سازی کی جس پر ہر کوئی حکومت کو پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہا ہے۔ مگر عمران خان سمیت نو رتنوں کا ماننا ہے کہ سب اچھا ہے ۔ ۔ ویسے تو پی ٹی آئی والے معیشت کی تباہی سمیت کرپشن کے تمام الزامات سابقہ حکومتوں پر لگاتے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے تین سالہ دور حکومت میں بیرونی قرضے حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہر شرط ماننے کے سوا کیا ہی کیا ہے؟ ۔ کیا حکومت نے گردشی قرضوں اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے کچھ کیا ہے؟ ۔ فیول ایڈجسٹمنٹ ، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سمیت کئی قسم کے ٹیکس لئے جا رہے ہیں جو بڑھتے بڑھتے بجلی کی اصل قیمت کے تقریباً برابر پہنچ چکے ہیں۔ لیکن کسی کو اس کی پروا نہیں ہے۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایل این جی نہ لانے کی وجہ سے ہمارے پاور ہائوسز مہنگے ڈیزل پر چل رہے ہیں۔۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔۔ حکمران نہ جانے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سب سے مسائل ہی بڑھیں گے۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔ پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ہے ۔ ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات الٹا بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ ۔ یہ کرپشن ختم کرنے کے نعرے پر آئے تھے مگر مکمل ناکام ہیں۔ کرپشن پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں، وہ پہلے سے زیادہ ہے۔ان کے خیال میں ان کے دور میں کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ۔ سچ یہ ہے کہ سکینڈل ہمیشہ حکومت جانے کے بعد آتے ہیں اور یہ زیادہ دن کی بات نہیں۔ کیونکہ ان کی نااہلیوں اور کرپشن کی ایک لمبی داستان ہے۔ ۔ دراصل عمران خان نے جیسے 92 کے ورلڈ کپ میں ایک ٹیم بنائی تھی ویسے اپنی حکومت کیلئے نہیں بنا سکے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے میرٹ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا اور یہی بات بحیثیت وزیرِ اعظم اُنکی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

    ۔ اس میں کوئی برائی نہیں کہ عمران خان اپنے دوستوں یاروں کو ضرور ایڈجسٹ کریں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی رکھیں جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ لیکن عمران خان پرانے پاکستان کے معماروں سے ہی نیا پاکستان تعمیر کروانا چاہتے ہیں۔ ۔ کون نہیں جانتا کہ عمران خان کے وزیر مشیر گزشتہ حکومتوں میں بھی اہم ترین عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ اس لیے وہ لوگ حق بجانب ہیں کہ یہ اتنے ہی قابل ہوتے تو پاکستان اس حال کو پہنچتا ہی کیوں۔۔ اس وقت عوام کو سیاست کی تماشا گری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ انہیں تو یہ پتا ہے کہ وہ عمران خان کی حکمرانی میں اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کے قابل بھی نہیں رہے۔۔ کیونکہ پاکستان اشرافیہ کے لئے کسی جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں ۔ یہ واحد ملک ھے جہاں
    15-20 ہزار ماہوار کمانے والا تو ادویات، ٹیکس اور بلز سمیت تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا پابند ھے لیکن لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے عوام کے خادموں اور ملازموں کے لئے پیٹرول بلز اور دیگر تمام سہولیات زندگی مفت ہیں-

    ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس وقت اصولی سیاست کے بجائے وصولی سیاست ہو رہی ہے۔ کیونکہ اصولی طور پر تو عمران خان کو اپنے اس بیان کی لاج رکھنی چاہیے تھی کہ میں کسی کی بیساکھیوں کے سہارے ہرگز اقتدار میں نہیں آئوں گا اور مجھے حکومت کی تشکیل کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا قبول کرلوں گا پر اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک نہیں ہونگا۔ مگرعمران خان نے اصولی سیاست کے نعرے لگاتے ہوئے اقتدار کے حصول کیلئے ہر وہ کام کیا جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نہیں کریں گے ۔ یوں دیکھا جائے تو عمران خان کی اقتدار کی ہوس نے تبدیلی جنازہ نکال دیا ہے ۔ ۔ سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ اور یہ ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے ہیں ہی نہیں ۔ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ مگر پی ٹی آئی بھی کسی بھی لحاظ سے ان سے کم نہیں ۔ اسلیے عوام کی بس ہو چکی ہے ۔۔ حالت یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس نئے پاکستان سے بہتر تھا۔۔ اس لیے اب عمران خان کوبہت جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ مزید ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے کام نہیں چلنا ۔ کیونکہ عمران خان سے حساب مانگنے اور پی ٹی آئی کا احتساب کرنے کا وقت آن پہنچا ہے

  • "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    "میں ایڈووکیٹ ہوکر لائن میں لگوں گی کیا؟؟” تحریر: محمد عبداللہ

    آج صبح میئو اسپتال لاہور میں جانا ہوا. وہاں OPD پر پرچی کے لیے لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں. خواتین کی لائن میں بھی خواتین کی کثیر تعداد تھی اچانک ایک کالے کوٹ اور سفید سوٹ میں ملبوس خاتون (ان کے میک اپ اور شکل پر تبصرہ نہیں کیونکہ وہ ذاتی معاملہ ان کا) لائن کو کراس کرتے ہوئے بالکل فرنٹ پر آن موجود ہوئیں. وہاں پہلے سے موجود خواتین جو بےچاری لمبے انتظار کے بعد آگے پہنچی تھی ان کو غصہ آیا اور انہوں نے "کالے کوٹ” والی محترمہ کو روکنا چاہا…
    اسی اثنا میں سیکیورٹی پر معمور نوجوان آگے آیا اور اس نے ان محترمہ سے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں تو محترمہ نے کہا میں نے پرچی بنوانی ہے. سیکیورٹی والے نوجوان نے کہا کہ باجی آپ لائن کے پیچھے تشریف لے جائیں اور اپنی باری پر آکر پرچی بنوائیں تو کالے کوٹ میں ملبوس خاتون نے جو جواب دیا وہ "آب زر” سے لکھوا کر ہر عدالت اور ہر وکلاء بار کے دروازوں پر آویزاں کرنے کی ضرورت ہے …

    محترمہ نے باآواز بلند "فرمایا” بلکہ دھاڑا کہ ” میں ایڈووکیٹ ہوں میں اب لائن میں لگوں گی کیا” ….

    قانون پڑھنے پڑھانے والوں، قانون کی بالادستی کے نعرے لگانے والوں اور قانون کی کمائی کھانے والوں کا یہ وہ رویہ ہے جو قدم قدم پر آپ کو باور کرواتا ہے کہ وہ "اعلیٰ ارفعٰ” ہیں اور باقی عوام کمی کمین ہے. یہ جب چاہتے جہاں چاہتے بدمعاشی شروع کردیتے ہیں. پنجاب انسٹیوٹ پر ان کا حملہ ایسے تھا جیسے کوئی فاتح لشکر کسی مقبوضہ علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجاتا ہے.
    یہ رویہ درست ہوئے بغیر معاشرے کی اصلاح اور ترقی ناممکن ہے. کوئی قانون ان قانون دانوں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے بھی ہونا چاہیے.

    محمد عبداللہ

  • پہلی ملاقات کے لیے 10 لباس ، پہلی ملاقات  پر لڑکی کو کیا پہننا ہے؟؟

    پہلی ملاقات کے لیے 10 لباس ، پہلی ملاقات پر لڑکی کو کیا پہننا ہے؟؟

    اپنی پہلی ملاقات پر باہر جانا ہمیشہ ایک خاص موقع ہوتا ہے۔ آپ ہمیشہ اپنی بہترین نظر آنا چاہیں گے، چاہے وہ آپ کے کپڑوں میں ہو، آپ کے میک اپ یا لوازمات میں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے پہلی تاریخ کے لیے کچھ پیارے کپڑے درج کیے ہیں جو آپ کو مکمل طور پر ہیڈ ٹرنر بنا دیں گے۔

    پینے کے لئے پہلی تاریخ پر کیا پہننا ہے؟ پلس سائز کیزول ڈیٹ کا لباس یا کافی ڈیٹ کا لباس کیا ہونا چاہئے؟ گرمیوں کے لیے پہلی تاریخ کے بہترین لباس کون سے ہیں؟ آپ کی کتنی خواہش تھی، آپ کے پاس کوئی تھا جو آپ کو ان تمام چیزوں پر مشورہ دے… ٹھیک ہے، میں آپ کو بہترین نظر آنے میں مدد کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ میرے پاس آپ تمام خواتین کے لیے 10 لباسوں کے لیے آئیڈیاز ہیں اور اس بارے میں بھی آئیڈیاز ہیں کہ آپ انہیں لوازمات، میک اپ کے ساتھ ساتھ کیسے رکھ سکتے ہیں اور شاندار شکلیں بنا سکتے ہیں۔
    آرام دہ اور پرسکون لباس سے لے کر موسم سرما کی پہلی تاریخ تک، جینز کے جوڑے میں ڈیٹ نائٹ لباس کو کیسے روکنا ہے، میں نے یہ سب ایک ساتھ رکھا ہے۔ آئیے کچھ پہلی تاریخ کے لباس پر ایک نظر ڈالیں جن کی خواتین قسم کھاتی ہیں۔
    پہلی تاریخ کے لباس کا پتہ لگانا ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔ آپ موسم، دن کے وقت وغیرہ کی بنیاد پر ان تمام امکانات اور تمام شکلوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو آپ ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آپ کیا پہننا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسا پہنیں جس سے آپ کو اچھا لگے۔ اگر آپ کو اپنا لباس یا اپنے جوتے یا اپنے بال پسند نہیں ہیں تو آپ کا وقت اچھا نہیں گزرے گا۔
    آخری چیز جو آپ پہلی تاریخ پر چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ واضح ہو کہ آپ بے چین ہیں۔ پہلی ملاقات کے لیے ایک اچھا لباس کسی کو یہ دکھانے کا ایک چھوٹا سا طریقہ ہے کہ آپ ان کی پرواہ کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ساتھ ان کے وقت میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔
    یہ آپ کی بڑی رات ہے! آپ مہینوں سے اس لمحے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن اب جب کہ تاریخ آ گئی ہے، آپ کو یقین نہیں ہے کہ کیا پہننا ہے۔ کیا آپ کو تیار ہونا چاہئے؟ عام کپڑے پہننا؟ جینز پہنو؟ تاریخ کامیاب ہونے یا نہ ہونے میں صحیح لباس اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مجھے پہلی تاریخ کے لیے بہترین لباس تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرنے دیں۔

    1. کلاسیکی شکل
    موسم گرما کچھ ہلکا، ہوا دار اور رنگین پہننے کے بارے میں ہے۔ آئیے ایک بہت ہی بنیادی شکل کے ساتھ شروع کریں جو، تاہم، ایک مطلق کلاسک ہے۔ اور شاید پہلی تاریخ کے لیے بہترین لباس۔ انڈگو یا ہلکے نیلے ڈینم کے جوڑے کے ساتھ ایک سفید لینن کی قمیض/ٹاپ/ٹیونک۔ خاکستری/ٹین پمپ۔ ہلکے زیورات جیسے موتیوں کی جڑیں اور شاید ایک چیکنا انگوٹھی۔
    آنکھوں کا کم سے کم میک اپ استعمال کریں، شاید صرف ایک آئی لائنر۔ ایک بہت ہی عریاں نظر ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔ گہرے خاکستری رنگ کے شیڈز میں لپ گلوس بہت اچھا لگے گا۔ کچھ پھولوں کے لہجوں کے ساتھ اچھی خوشبو چھڑکنا نہ بھولیں۔ اپنی ضرورت کی ہر چیز کو لے جانے کے لیے خاکستری یا ٹین ٹوٹ بیگ۔
    اگر آپ کے بال چھوٹے ہیں تو آپ اسے ڈھیلے چھوڑ سکتے ہیں، بصورت دیگر، آپ بیک کے بالوں کو بن میں بند کر سکتے ہیں۔ براؤن (فریم) کے شیڈز میں دھوپ کا چشمہ لازمی ہے۔ یہ پہلی تاریخ کے لباس میں سے ایک ہے جو لوگ پسند کرتے ہیں اور جس لمحے آپ چلتے ہیں وہ آپ کے آس پاس آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ کافی کی تاریخ کا ایک مثالی لباس ہے۔
    2. کچھ لباس والا آزمائیں۔
    اس نظر کے لیے، میں ڈریپ ڈریس تجویز کروں گا۔ ٹخنوں سے تھوڑا اوپر، تعصب سے کٹا ہوا، پیلے آڑو کے رنگوں میں اور پھولوں کے پرنٹس کے ساتھ گلابی یا شاید ایک کفتان لباس میں رومن سینڈل کے جوڑے کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے۔
    یہ جوڑے آپ کو آزاد اور ہلکے ہونے کا احساس دلائیں گے، آپ کے پیروں کو جھکا ہوا محسوس نہیں ہوگا۔ یہ موسم گرما کے لیے پہلی تاریخ کے بہترین لباس ہیں اور موسم بہار کی تاریخ کے لباس کی طرح واقعی خوبصورت نظر آتے ہیں۔ صرف مکس میں صحیح پہلی تاریخ کی گفتگو کو پھینک دیں، آپ اپنی تاریخ کو ان کے پیروں سے صاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    پہلی تاریخ کے لیے اس جدید لباس کو مکمل کرنے کے لیے ایک ٹین ٹوٹ لے کر جائیں۔ جہاں تک آپ کے بالوں کا تعلق ہے، اسے ڈھیلے ہونے دیں – لفظی اور علامتی دونوں طرح۔ آپ فانوس کے ایئر پیس پہن کر اس شکل کو بڑھا سکتے ہیں۔ میک اپ کے لیے، میں ایک بار پھر ہلکی چیز کی سفارش کروں گا کیونکہ میرے خیال میں عریاں میک اپ پتھروں کو روکتا ہے اور آپ کے لباس سے اہمیت کو دور نہیں کرتا ہے۔ اپنے ہونٹوں کے لیے میٹ ڈیپ بیج استعمال کریں۔
    3. رات کے کھانے کے لیے پہلی تاریخ کا لباس
    اس نظر کے لیے – میں نے اسے یہ سمجھا کہ یہ شام کا نظر آئے گا – میں کلریٹ یا وائن ریڈ گھٹنے کی لمبائی، گردن اور آرم ہول کے گرد سیاہ لہجے کے ساتھ لیلن میں بغیر آستین کا لباس تجویز کرنا چاہتا ہوں۔ کالی دھات میں سیاہ پتھر کے سیٹ میں چوکر کے ساتھ ملبوسات بنائیں۔ یہ پہلی تاریخ کو رات کے کھانے پر پہننے کے لئے مثالی ہے یا رات کے باہر جانے کا ایک عمدہ لباس ہے۔
    اپنے بالوں کو کھلا رکھیں، اپنی آنکھوں اور مارسالہ ہونٹوں کے لیے دھواں دار شکل بنائیں۔ سیاہ نوک دار اسٹیلٹو اور ایک سیاہ کلچ آپ کے جوڑ کو مکمل کریں۔ اگرچہ اس طرح کی پہلی تاریخ کے لباس کے خیالات اس سازگار پہلا تاثر بنانے میں ایک طویل سفر طے کریں گے، لیکن اس کے بعد چیزیں کیسے ترقی کرتی ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ لہذا، ان چیزوں کو ذہن میں رکھیں جو آپ کو پہلی تاریخ پر کبھی نہیں کرنا چاہئے.
    4. آرام دہ اور پرسکون موسم بہار کی تاریخ نظر
    ایک سیاہ فرش کی لمبائی والا جارجٹ لباس جس میں کم پلنگنگ ڈریپ نیک لائن اور اونچی سائیڈ سلِٹس پہلی تاریخ پر پہننے کے لیے خوبصورت لباس بنا سکتی ہیں۔ بالوں کو میس اسٹائل بن میں کیا جا سکتا ہے۔ زیورات کے ٹکڑوں کے لیے، بیان بنانے والے قدیم لمبے ایئر پیس کا ایک جوڑا استعمال کریں۔
    گلے میں کچھ نہیں۔ ایک آکسائڈائزڈ بریسلٹ جس میں کچھ سیاہ کرسٹل/پتھر لگے ہوئے ہیں۔ یقینی طور پر Stilettos اور ایک قدیم دھاتی کلچ۔ کوہل کے ساتھ آنکھوں پر کام کریں اور سرخ لپ اسٹک استعمال کریں۔ گلاب کے لطیف اشارے کے ساتھ ایک خوشبو شام کا آغاز صحیح نوٹ پر کرے گی۔
    5. بارش میں چمکدار رنگ پہنیں۔
    مون سون ہمیشہ تاریک، مدھم اور گیلے ہوتے ہیں، اور کسی حد تک سٹائل ڈیمپنر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس موسم میں متاثر کرنے کے لیے لباس نہیں پہن سکتے تو آپ غلط ہیں۔ چال یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز پہنیں جو عملی ہونے کے ساتھ ساتھ جمالیاتی لحاظ سے بھی خوبصورت ہو۔ ہلکے کپڑے، ڈرامائی میک اپ، اور بھاری لوازمات تمام اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
    مجھے لگتا ہے کہ زنگ جیسی رنگت اداسی کو روشن کر دے گی۔ آف شوڈر جمپ سوٹ مطلوبہ مقدار میں ڈرامہ بنائے گا۔ پچروں کے آرام دہ نسوار کے جوڑے کے ساتھ مل کر پوری شکل میں مناسب مقدار میں آرام دہ اور پرسکون اضافہ کرے گا۔
    سونے اور موتی کے فانوس کی بالیوں کے ساتھ بالوں کو اوپر کی گرہ میں باندھ دیا گیا ہے۔ موتیوں سے جڑی ایک لمبی سونے کی زنجیر کو نیک پیس کی طرح ایک دو بار مڑا۔ خاکستری ہونٹوں کے ساتھ پھیکا گولڈ میک اپ تاریخ کو یادگار بنا دے گا۔ مجموعی طور پر، یہ پہلی تاریخ پر پہننے کے لیے واقعی چند خوبصورت لباسوں میں سے ہے۔
    6. ڈرامائی قمیض کا لباس
    مجھے قمیض کا لباس پسند ہے اور یہ پہلی تاریخ کے لباس کے خیالات میں اعلیٰ ہے۔ ڈرامہ شامل کرنے کی جگہ میں، اگلی شکل اومبری رنگی قمیض کا لباس ہوگا۔ ایک کتان کی قمیض کا لباس جس میں روشن سرسوں کے رنگوں میں رنگے ہوئے ہلکے بھوری رنگ کے لہجوں کے ساتھ سرخ رنگ کے لہجے ہیں۔
    زیورات کے ساتھ لباس کو سونے اور یاقوت کے چھوٹے کانوں کے جڑوں سے نمایاں کریں، تاکہ یاقوت سونے کی بنیاد سے بالکل صحیح مقدار میں چمکے۔ بالوں کو ڈھیلا رکھا جائے۔ میک اپ کو زیادہ قدرتی رکھنا بہتر ہے، صرف ہونٹوں کو روبی ریڈ میں نمایاں کیا جائے۔ سرخ چمڑے اور سرخ چمڑے کے اسٹیلیٹوس میں ایک چھوٹا کلچ اس سب کو ایک ساتھ لانے کے لیے۔
    7. سردیوں میں کچے ریشمی لباس اور بولیرو پہنیں۔
    موسم سرما رومانوی، یکجہتی کا موسم ہے اور اس وجہ سے، آپ کو حصہ تیار کرنا ہوگا. میں آپ کی شکل کو تیز کرنے کے لیے ایک شاندار بولیرو کے لیے ہوں۔ آدھی رات کے نیلے رنگ کی خام ریشمی قمیض کا لباس جس میں گردن کی لکیریں گرے بولیرو جیکٹ کے ساتھ بنائی گئی ہیں یا متضاد ریشم کے استر کے ساتھ کچے ریشم سے بنی ہوئی شرٹ حیرت انگیز کام کر سکتی ہے۔
    صرف چاندی کے زیورات ہی اس لباس کو نمایاں کریں گے۔ لہذا سلور بیس ایئر پیس کے ساتھ نیلم سٹڈز کا جوڑا بہت اچھا لگے گا۔ ایک چاندی کی گھڑی بھی بہت اچھی طرح سے نظر کو مکمل کرے گی۔ پونی ٹیل میں پیچھے سے بنے ہوئے بالوں کو ایک بہت ہی چیکنا اور خوبصورت نظر آئے گا۔ نیلے رنگ میں ہلکا آئی شیڈو اور نیلے آئی لائنر کے ذریعے نمایاں کردہ آنکھیں۔
    ہونٹوں کی چمک کے ساتھ ہونٹ۔ ایک سرمئی سلک کلچ اور سیاہ ہائی ہیل پمپ کا ایک جوڑا نظر کو مکمل کرے گا۔ پودینہ کے اشارے کے ساتھ ایک میٹھی خوشبو جو شام کو کچھ تازگی دے گی۔ آپ کا لباس سردیوں میں آپ کی پہلی تاریخ کے لیے مکمل لگتا ہے۔
    8. ایک پتلون میں جدید
    ہمارے پاس کافی کپڑے ہیں، اب ٹراؤزر اور ٹاپس کے ساتھ مزہ کریں۔ وہ بھی پہلی تاریخ کے لیے ایک بہترین لباس بناتے ہیں۔ چوڑی ٹانگوں والے ہلکے اونی پتلون کے جوڑے کے ساتھ مل کر پن اسٹریپ کی تفصیل والی سیاہ قمیض۔ اوپری ساٹن کے ساتھ نوکیلی ہیلس، دوسری صورت میں طاقتور ڈریسنگ میں نرم صفات شامل کرتی ہے۔
    دونوں کانوں پر چھوٹے ہیرے کی جڑیں، ایک ہلکے ہیرے کا نیک پیس، اور نظر کو مکمل کرنے کے لیے چھوٹے ہیروں سے جڑی ایک انگوٹھی۔ کوہل رمڈ آنکھیں، سرخ لپ اسٹک، اور ایک سرخ چمڑے کے چھوٹے کلچ کے ساتھ ہلکا میک اپ۔
    9. ایک کارسیٹ میں شاندار نظر آتے ہیں
    ایک کارسیٹ اس شکل کی خاص بات ہوگی، جس سے نظر میں اومف کی صحیح مقدار شامل ہوگی۔ بہت سے لوگ کارسیٹ کو پہلی تاریخ کے لئے ایک تنظیم کے طور پر نہیں سوچیں گے، لیکن مجھ پر بھروسہ کریں یہ ایک جرات مندانہ اور شاندار بیان ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اس شکل کے لیے میں ایک خام ریشمی کڑھائی والی کارسیٹ کا مشورہ دوں گا جو سیاہ بھڑکتے ہوئے پتلون کے جوڑے کے ساتھ تیار کیا گیا ہو۔
    جیکٹ کے بجائے، باہر کے دوران کور کے طور پر استعمال کرنے کے لیے سیاہ پشمینہ کا استعمال کریں اور پھر جب گھر کے اندر ہوں تو اسے ہٹا دیں اور شاندار طریقے سے تیار کردہ کارسیٹ کی نمائش کریں۔ نوکیلی ایڑیوں کے سرخ جوڑے کے ساتھ اس کی ٹیم بنائیں۔ گالوں پر ہلکا بلش آن، سرخ ہونٹ (چمکا) اور ہلکی کالی آنکھیں۔ بیضوی شکل میں ایک سیاہ کلچ، جو انداز اور کلاس کو ظاہر کرتا ہے۔ بال گندے پونی ٹیل میں ہونے چاہئیں۔ سونے اور موتیوں کے ایئر پیس کے جوڑے کے ساتھ پہلی تاریخ کے اس شاندار منظر کو ختم کریں۔
    10. پہلی تاریخ کے لیے مکمل طوالت والا سرسوں کا لباس
    ایک پوری لمبائی والا، بغیر آستین کا، A-لائن سرسوں کا لباس جو کمر پر چٹکی ہوئی ہے۔ سامنے اور پیچھے دونوں طرف ایک گہری U کے سائز کی گردن کی لکیر۔ ایک خوبصورت فال اور ڈریپ کے ساتھ بھاری ملاوٹ شدہ ریشم سے تیار کیا گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی کالی کراپ جیکٹ جس میں چائنیز کالر کے ساتھ سرسوں کے لہجے سامنے والے حصے کے ساتھ لباس کو مکمل طور پر مکمل کریں گے۔ کالر پر اور نیچے کے نیچے ہلکے سنہری دھاگے کا کام، کرسٹل کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے۔
    سنہری اور سیاہ فانوس سٹیٹمنٹ ایئر پیس کے ساتھ بالوں کو اوپر کی گرہ میں باندھنا رات کے کھانے کے لیے پہلی تاریخ کا ایک مثالی لباس ہے۔ سنہری اور سیاہ چوکر نیک پیس اور سنہری اسٹیلیٹوز۔ لباس کی تعریف کرتے ہوئے ہلکے سونے کے رنگوں میں میک اپ کرنا چاہیے۔ ہلکے سنہری گلابی ہونٹ۔ سنہری دھاگے کے کام والے کلچ کے ساتھ اس خصوصی شکل کو ختم کریں۔

  • جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟

    جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟

    جب کوئی عورت اس سے دور ہو جائے تو مرد کیسا محسوس کرتا ہے؟ اگر اس سوال نے آپ کو یہاں تک پہنچایا، تو آپ شاید اس کے بہادر چہرے سے الجھن میں ہوں گے۔ اس کی مبہم سوشل میڈیا کہانیاں زیادہ مددگار نہیں ہیں اور اس کے دوست واقعی نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے۔

    یہ سمجھنا کہ جب آپ چلے جاتے ہیں تو وہ کیا سوچتا ہے ایک معمہ کی طرح لگتا ہے جسے آپ کو حل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن، جیسا کہ پتہ چلتا ہے، یہ واقعی اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ سب کے بعد، مرد واقعی پیچیدہ نہیں ہیں، کیا وہ ہیں؟

    اس کے باوجود، وہ جو ملے جلے اشارے بھیج رہا ہے وہ شاید آپ کا کوئی فائدہ نہیں کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، "U UP؟” صبح 2 بجے کے نشے میں موجود متن نے آپ کے پاس جوابات سے زیادہ سوالات چھوڑے ہیں۔ آئیے آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دے کر آپ کے ذہن کو آرام دیں۔
    سب سے پہلے سب سے پہلے، ایک عورت ایک مرد سے دور چلنا ہمیشہ ایک ہی نتیجہ نہیں ہو سکتا. وہ جس طرح سے ردعمل ظاہر کرتا ہے وہ آپ کی متحرک، آپ اور وہ جن واقعات سے گزرے ہیں، اور وہ کس قسم کے شخص سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
    اگر وہ اپنے آپ کو "آدمی” ہونے پر فخر کرتا ہے، تو آپ شاید اس کی انا کو لاکھوں ٹکڑوں میں پھٹتے ہوئے دیکھیں گے۔ اس کے بعد غصہ یا ان خطوط پر کچھ اور ہوسکتا ہے۔ اگر، تاہم، آپ نے ایک آدھے مہذب آدمی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تو وہ دو طریقوں میں سے کسی ایک میں ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ یا تو احترام کے ساتھ، یا اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے جدوجہد کر کے۔
    مزید یہ کہ، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جب آپ چلے جاتے ہیں تو وہ کیا سوچتا ہے اس پر بھی عمل ہوتا ہے کہ آپ کب اور کیوں ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر آپ زہریلے حرکیات سے باہر نکل گئے ہیں، تو امکانات ہیں، وہ آپ کے فیصلے پر زیادہ سوال نہیں کر سکے گا۔
    لیکن اگر آپ اپنی مرضی کے مطابق کچھ کرنے کے لیے اس سے جوڑ توڑ کرنے کی امید میں چلے گئے ہیں، تو اس کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ فلموں کے برعکس، ہیرو عورت کے جانے کے بعد اس کا پیچھا کرنے کے بجائے صرف "اس کے ساتھ جہنم” کہہ سکتا ہے۔ فلموں میں محبت واقعی اس کی درست نمائندگی نہیں ہے کہ یہ حقیقی زندگی میں کیسی ہے۔
    یہ کہنے کے ساتھ، آئیے اس سوال کے تمام ممکنہ نتائج پر ایک نظر ڈالتے ہیں، "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” تاکہ آپ اپنے بالوں کو کھینچتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش نہ کریں کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔
    1. اس کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
    "میں کافی اچھا نہیں ہوں، وہ مجھے برداشت بھی نہیں کر سکتی تھی،” ہو سکتا ہے وہ وہی سوچتا ہو جب آپ چلے جاتے ہیں۔ اس طرح کے تناسب کو مسترد کرنا اس کی شخصیت کے رد کی طرح محسوس ہوتا ہے اور اس حقیقت کو قبول کرنا اس کی ذہنی صحت کو نیچے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
    خاص طور پر اگر آپ کی زندگی میں اس کی جگہ کسی اور آدمی نے لے لی ہے، تو یقینی طور پر عدم تحفظ کے مسائل جنم لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر یہ یکطرفہ تعلقات کی طرح لگتا ہے، تو اس کی جگہ لینا تکلیف کا باعث ہے۔
    جب آدمی کسی رشتے سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا غرور برقرار رہتا ہے اور اس کی عزت نفس کم نہیں ہوتی۔ لیکن جب ہم ایک عورت کو مرد سے دور ہوتے دیکھتے ہیں تو اس کا غرور متاثر ہوتا ہے اور دور ہونے سے ذلت ہوتی ہے۔
    2. غم کا خود کو کم کرنے والا مرحلہ: سودے بازی
    ہاں، یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ آدمی سے دور ہونے کی طاقت سودے بازی کی مایوس کن کوشش کو بھڑکا سکتی ہے۔ جو کچھ اس نے کھویا ہے اسے واپس کرنے کی کوشش کرنے کے لیے، وہ شاید وہ سب کچھ کہنے والا ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ مردانہ نفسیات کے سب سے بڑے اجزاء میں سے ایک ہے۔
    چاہے وہ خالی وعدے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ کے لیے ہے۔ مواصلات کی کمی جو اچانک واقع ہوئی ہے اسے مایوسی کے ہتھکنڈوں کا سہارا لے سکتا ہے۔ "میں ایک بدلا ہوا آدمی ہوں گا،” یا "میں بہتر کروں گا، براہ کرم واپس آجائیں،” شاید اس کی زبان آسانی سے نکل جائے، لیکن ان بیانات کے پیچھے عزم اہم ہے۔
    3. آپ کی اپنی دوا کا ذائقہ: غصہ
    سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، وہ رونما ہونے والے واقعات سے ناراض ہو سکتا ہے۔ چاہے یہ سودے بازی ہو یا غصہ جو اس پر زیادہ گرفت رکھتا ہے اس کا انحصار اس شخص پر ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔ اس کے باوجود، یہ کوئی دور کی حقیقت نہیں ہے کہ اسے آپ پر میزیں پھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھیں۔
    اگر یہ سوال، "کیا مرد کسی عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی جاتی ہے؟” آپ کے ذہن میں رہا ہے، جس طرح سے وہ رد عمل ظاہر کرتا ہے وہ آپ کو وہ سب بتائے گا جو آپ کو جاننے کی ضرورت ہے۔ رد کو احسن طریقے سے قبول کرنے کے لیے جذباتی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک، دماغ کی اس ہلچل کی حالت میں، عمل کا بہترین طریقہ انسٹاگرام پر آپ کے نام کے ساتھ والے "بلاک” بٹن کو مارنے جیسا نظر آتا ہے۔
    اس سوال کا ایک اور ناگوار جواب، "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” یہ ہے کہ وہ دقیانوسی تصورات قائم کرنا شروع کر سکتا ہے۔ اس کے کندھے پر لگی چپ مستقبل کے رومانوی مفادات کی طرف گہرے بد اعتمادی کے جذبات کو جنم دے سکتی ہے۔
    نتیجے کے طور پر، ایک آدمی سے دور چلنے کی "طاقت” ختم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں اس کے لیے تعلقات کو نقصان پہنچانے کا ایک چکر بن سکتا ہے۔ وہ اعتماد کے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور یہاں تک کہ اسے کھولنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، ان دقیانوسی تصورات سے بچنے اور ان پر قابو پانے کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔
    4. "مجھے اپنی محبت ثابت کرنے کی ضرورت ہے”
    "جب ایک عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” کا جواب وہ جس چیز سے متاثر ہوا ہے اس سے بھی تشکیل پا سکتا ہے۔ بڑی اسکرین نے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے شراب نوشی اور غم کے دور سے گزرنے والے مردوں کو رومانٹک بنایا ہے۔ ان فلموں میں، دور چلنا پرکشش انتخاب ہے۔ اس کے بعد، ہم اس آدمی کو غم سے لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں جب کہ اس کی محبت کو "ثابت” کرنے کے لیے کچھ بڑا کام بھی کرتے ہیں۔
    یہ ممکن ہے کہ محبت کو کیا سمجھا جاتا ہے اس کا یہ ناقص خیال اسے اسی طرح کے مرحلے سے گزرنے پر مجبور کر دے۔ اسے اب اپنی محبت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اشارہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔
    کیا مرد عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی جاتی ہے؟ کچھ معاملات میں، فلموں سے متاثر ہو کر، اس طرح کا رد کرنا اس کے لیے اپنے کھیل کو تیز کرنے کی دعوت کی طرح لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ صورتحال کو قبول نہ کرنے اور آگے بڑھنے کے عمل میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔
    5. تنہا ہونے کے بارے میں گھبراہٹ
    جب کوئی آدمی کسی رشتے سے دور ہو جاتا ہے، تو اسے عام طور پر تنہا محسوس کرنے کی فکر نہیں ہوتی۔ تاہم، جب عورت مرد سے دور ہوتی ہے، تو گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اور جب گھبراہٹ ہو جاتی ہے، تو اس کے بعد کی جانے والی حرکتیں عام طور پر زیادہ منطقی نہیں ہوتیں۔
    جب کوئی شخص اپنی خواہش سے محروم ہوجاتا ہے، تو ایک کمیابی ذہنیت غلط فیصلہ سازی کا باعث بن سکتی ہے۔ "مجھے مسترد کر دیا گیا ہے، میں اکیلے مرنے جا رہا ہوں،” ہو سکتا ہے کہ آپ کے چلے جانے پر وہ کیا سوچتا ہے۔
    آپ کو زیادہ حیران نہیں ہونا چاہئے اگر وہ صحت مندی کے رشتے میں کودتا ہے یا اسراف خریداری کرنا شروع کردیتا ہے۔ آئیے صرف امید کرتے ہیں، سب کی خاطر، کہ یہ "آپ کے 50 کی دہائی میں لیمبوروگھینی خریدنے” کے مرحلے پر نہیں جائے گا۔
    6. وہ مجرم محسوس کرنے لگے
    اگر آپ نے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی طرف سے زہریلا سلوک دکھایا گیا ہے، تو یہ ممکن ہے کہ آدمی سے دور جانے کی طاقت اسے احساس دلائے گی کہ اس نے کیا غلط کیا ہے۔
    رشتے میں رہتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ وہ اس نقصان سے اندھا ہو گیا ہو جو وہ پہنچا رہا تھا، لیکن اس کے حقیقی نتائج کو دیکھ کر، وہ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو قبول کرنے کے بعد وہ جو راستہ اختیار کرتا ہے اس کا انحصار اس شخص پر ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کا ہے۔
    وہ خلوص دل سے معافی مانگنے کا انتخاب کر سکتا ہے، یا ہو سکتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ذمہ داری لینے سے گریز کرنا چاہے۔ جب تک آپ بندش کی تلاش میں نہیں ہیں اور صرف چیزوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کرتا ہے۔
    7. وہ آگے بڑھنے کے موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    کیا مرد اس عورت کی عزت کرتا ہے جو چلی گئی ہے؟ یہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کا شخص ہے، لیکن اگر وہ اس قسم کا شخص ہے جس کا احترام کیا جائے گا، تو وہ شاید اسے آگے بڑھنے کے موقع کے طور پر دیکھے گا۔
    اگر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ شخص جو باہر چلا گیا ہے اسے ماضی میں چھوڑنا بہتر ہے، تو آگے بڑھنا ایک اچھا خیال لگے گا۔ یہ خاص طور پر اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسے بہت واضح طور پر جوڑ توڑ کی وجوہات کی بنا پر باہر کر دیا گیا ہو۔
    کوئی بھی ہٹائے جانے کی تعریف نہیں کرتا ہے اور اسے صرف یہ احساس ہوسکتا ہے کہ وہ دماغی کھیلوں کا مستحق نہیں ہے جس کا اسے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لہذا اس سے پہلے کہ آپ اپنی تمام امیدوں کو کسی قسم کا نقطہ نظر بنانے کے لئے دور چلنے کی طاقت پر لگائیں ، جان لیں کہ وہ نتیجہ کے طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔
    اب جب کہ آپ اس سوال کا جواب جان چکے ہیں، "جب عورت چلی جاتی ہے تو مرد کیسا محسوس ہوتا ہے؟” آپ شاید کچھ اور سوچ کے ساتھ حکمت عملی سے رجوع کریں گے۔ آپ کے تعلقات کی حرکیات اس کے اعمال اور رد عمل میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں، اور یہاں واقعی ایک ہی سائز کے فٹ ہونے والا طریقہ نہیں ہے۔ امید ہے کہ، اب جب کہ آپ کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ ایک عورت مرد سے دور چلتی ہوئی اس کے ساتھ کیا کرتی ہے، تو آپ اپنے دماغ کو اس کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں چھوڑیں گے۔

  • اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    اسرائیل اور امریکا کا دفاعی میزائل ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق

    واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں دفاعی میزائل نظام ’’ آئرن ڈوم سسٹم‘‘ کی تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ امریکی صدر نے سال کے آخر میں اسرائیل کے دورے کا عندیہ بھی دیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرجو بائیڈن اوراسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نےٹیلی فونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ بالخصوص شام، ایران اور افغانستان میں سیکیورٹی معاملات کے علاوہ دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ…

    دونوں رہنماؤں نے 4 سے 70 کلومیٹر فاصلے سے مار کیے جانے والے میزائل اور گولوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دفاعی نظام آئرن ڈوم سسٹم کی تیاری پر اتفاق کیااس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے امریکی تعاون اور ٹھوس حمایت پر صدر بائیڈن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیراعظم بینیٹ نفتالی کو بتایا کہ وہ اس سال کے آخر میں اسرائیل کا دور ہ کریں گے جب کہ شام میں امریکی فوجی کارروائی میں داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی ہلاکت پر بھی گفتگو کی گئی۔

    علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے دیگر اہم علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی جس میں خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    خیال رہے امریکی ثالثی میں اسرائیل کیساتھ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت 4 عرب ممالک نے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کرلیے تھے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اور روس پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس جلد یوکرائن پر حملہ کرنے والا ہے۔

    روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے باعث مغربی ممالک سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سرگرم ہو گئے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے بھی تناؤ میں کمی کے لیے کمر کس لی ہےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ فوج کشی کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے جس کے باعث فرانسیسی صدر اپنے روسی ہم منصب سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ جرمنی کے چانسلر نے امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا ہے۔

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی…

    یوکرائن کی سرحد کے نزدیک روس نے ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کردیئے ہیں جس کے جواب میں مغربی ممالک نے نیٹو کے اہلکار یوکرائن بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ روس اور مغربی ممالک اس تناؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں ادھر یوکرائن نے مغربی ممالک کے خدشات کو درست قرار دیتے ہوئے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم روس کے جلد حملہ کرنے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے فرانسیسی صدر نے یوکرائن، روس اور مغربی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یوکرائن کے مسئلے پر امریکی صدر جوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے متعدد بار ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس کے بعد آج وہ روسی صدر سے ملنے ماسکو پہنچیں گے جب کہ اگلے روز یوکرائن جائیں گے۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    اسی طرح جرمنی کے چانسلر نے یوکرائن میں اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی صدر سے ملنے وائٹ ہاؤس کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے اور وہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے لیے پُرامید بھی ہیں جرمنی نے یوکرائن اور روس تنازع میں امریکی مؤقف کی حمایت کی ہے تاہم جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر اقتصادی پابندی کے باعث توانائی کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جو کورونا سے نبرد آزما دنیا کیلیے ایک اور امتحان ہوگا۔

    واضح رہے کہ روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن چینی ہم منصب سے ملنے بیجنگ کے دورے پر گئے تھے جہاں چین کو گیس فروخت فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ طے پایا تھا جب کہ امریکا نے روس یوکرائن جنگ کے باعث ممکنہ توانائی بحران پر قطر کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔

    پیرو میں مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ،ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق

  • وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    سوات: پاکستانی اور اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے وادی سوات کے شہر بریکوٹ میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت کرلی ہے –

    باغی ٹی وی : پریس ریلیز کے مطابق اگرچہ اس علاقے کے دوسرے آثارِ قدیمہ 150 اور 100 سال قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کی یہ عبادت گاہ ان سے بھی زیادہ قدیم ہےان کا خیال ہے کہ یہ تیسری صدی قبلِ مسیح میں چندرگپت موریا کے زمانے میں تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم اس خیال کی حتمی تصدیق ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے بعد ممکن ہوگی جس میں کچھ وقت لگے گا۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    بریکوٹ (Barikot) اس زمانے میں علاقہ گندھارا تہذیب کے اہم شہروں میں بھی شامل تھا جسے قدیم یونانی اور اطالوی مؤرخین نے ’’بزیرا‘‘ اور ’’واراستھانا‘‘ بھی لکھا ہے اپنے منفرد ماحول کی بنا پر یہاں سال میں دومرتبہ گندم اور چاول کی فصلیں اگائی جاتی تھیں یہ فصلیں اتنی زیادہ ہوتی تھیں کہ ان کی اضافی پیداوار دوسرے علاقوں میں بھی فروخت کی جاتی تھی۔

    قدیم بدھ مت کے اہم مراکز میں شامل ہونے کے باوجود، اب تک یہ پوری طرح واضح نہیں کہ بریکوٹ میں بدھ مت کی آمد کیسے ہوئی اور وہ کس طرح یہاں مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے قدیم ترین مقبرے سے اس بارے میں جاننے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم جب چوتھی صدی قبلِ مسیح میں ہندوستان پر حملہ کرنے کےلیے یہاں سے گزرا تو زرخیز مقام دیکھ کر اس نے پہلے بریکوٹ پر قبضہ کیا اور اپنی فوج کےلیے وافر مقدار میں گندم اور دیگر اناج جمع کرنے کے بعد آگے بڑھا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    واضح رہے کہ پاکستانی اور اطالوی ماہرین کے وسیع البنیاد اشتراک سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں گندھارا تہذیب کے آثارِ قدیمہ پر 1955 سے کام جاری ہے جسے متعدد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی ثقافتی اداروں کی سرپرستی بھی حاصل ہےیہ ایشیا میں آثارِ قدیمہ کا سب سے پرانا عالمی مشن بھی ہے جسے 67 سال ہونے والے ہیں۔ اس کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر لیوکا ماریا ہیں جن کا تعلق کفوسکاری یونیورسٹی، وینس سے ہے بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا یہ سلسلہ اس سال بھی جاری رہے گا کیونکہ ماہرین کو یہاں سے مزید دریافتوں کی پوری امید ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    خیال رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس پاکستان میں بدھ مت کے دور کی پینٹنگز دریافت ہوئی تھیں جو ماہرین کے مطابق دو ہزار سال قدیم ہیں یہ پینٹنگز فریسکو آرٹ میں بنائی گئی ہیںریسکو آرٹ کا آغاز کیسے ہوا، اس بارے میں کوئی واضح تحقیق موجود نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ فریسکو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور فریسکو پینٹنگز کا آغاز اٹلی میں تیرھویں صدی عیسوی میں ہوا یعنی آج سے تقریباً سات سو سال قبل ہوا تھا اس بارے میں مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ 3300 قبل عیسوی یعنی زمانہ قدیم میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی پینٹنگز کا ذکر سامنے نہیں آیا۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    پاکستان میں بدھ مت کی مذکورہ دریافت میں ایسے نایاب فن پارے ملے تھے جو تقریباً دو ہزار سال قدیم ہیں۔ اس دریافت کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریسکو آرٹ کا آغاز اس خطے میں بدھ مت کے دور میں ہو چکا تھا جبکہ مصر میں زمانہ قدیم میں اس فن کے آثار پائے جاتے تھے پاکستان میں خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے قریب عباس چینہ میں بدھ مت دور کا ایک بڑا کمپلیکس دریافت ہوائے یعنی یہ تخت بھائی کی طرح ایک بڑا علاقہ ہے جہاں پر متعدد ایسے آثار ملے ہیں جو دو ہزار سال قدیم ہیں۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

  • سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر“پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر“پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    لاہور:سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر “پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر“ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف آواز اور مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

     

     

     

     

    تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو یکجہتی کشمیر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،کشمیر یوتھ الائنس کیجانب سے #5thFebKashmirSolidarityDay ہیش ٹیگ 4 فروری شام 6 بجے جاری کیا گیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں 800 سے زاہد سوشل میڈیا صارفین نےحصہ لیا اور یہ ہیش ٹیگ دنیا بھر کے 16.1 ملین سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا، جبکہ کشمیر سے متعلق دیگر ٹرینڈ بھی ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل رہے۔

     

    اس موقع پر سربراہ کشمیر یوتھ الائنس ٹیوئٹر ٹیم محمد اختر کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ کشمیر یوتھ الائنس اسی جذبے اور مستعد قدمی سے ہندوستان کا مکروہ چہرہ عالمی برداری کے سامنے بے نقاب کرتا رہے گا کہ کس طرح بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کرتے ہوۓ جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

    مزید یہ کہ اب مسئلہ کشمیر محض دنوں پر محیط نہیں رہے گا بلکہ اب پورا سال ٹرینڈ کے ذریعہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرتے رہیں گے۔