Baaghi TV

Category: بلاگ

  • منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین پولیس میں فرشتہ صفت انسان
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق ابھی کچھ دیر پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین میں ایک غریب فیملی کے پاس ڈیڈ باڈی گھر لے جانے کے لئے خرچے کے پیسے نہیں تھے. اسی وقت ان دو پولیس کانسٹیبلز نے اپنی جیب سے پیسے دیئے اور ساتھ مل کر ڈیڈ باڈی کو لے جانے میں مدد کی. ایک بھائی کا نام یاسر ہے دوسرے کا نام احمد .
    ہمارے نمائندے کو وہاں موجود ایک فارمیسی والے نے بتایا کہ یہ دونوں پہلے بھی لوگوں کی ایسے ہی مدد کرتے ہیں اور فارمیسی والے کو کہا ہوا ہے کہ جس کے پاس دوائی لینے کے پیسے نہ ہوں ان کو دوائی دے دیا کرے اور بل ہم سے لے لیا کرے.
    ایسے فرشتہ صفت لوگوں کے متعلق ایسی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کرنی چاہیے تا کہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور باقی لوگ بھی ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

    #haqeeqikhabar #mandinews #phalia #malakwal #pakistannews #MandiBahauddin #punjabpolice

  • جرمن نوجوان نے  ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    جرمن نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    میونخ: جرمنی کے ایک شخص نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : دنیا میں عمومی طور پر انسان اپنی ظاہری شخصیت کے نکھار کے لیے کئی جتن کرتا ہےخود کو فٹ اور خوبصورت دلکش بنانے کے لئے طرح طرح کی ٹپس آزمات اہے لیکن جرمنی کے 28 سالہ نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں-

    دنیا کی کم عمر خاتون زارا دنیا کے گرد چکر لگاتے ہوئے سعودی عرب پہنچ گئیں

    یہ جرمن نوجوان انسٹاگرام پر بلیک ڈپریشن کے نام سے مشہور ہے اور خوفناک دکھنے کے لیے اب تک 17 ہزار ڈالر خرچ کرچکا ہے اس نے خود کو ’انسانی پزلز‘ میں تبدیل کرنے کے لیے کئی برس صرف کردیئے ہیں اور یہ صرف جسم کے ٹیٹو نہیں ہے۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے


    بلیک ڈپریشن نے اپنے دانتوں کی دونوں قطاروں کو ٹائٹینیم میں ڈھانپنے کے ساتھ اپنی آنکھوں اور چہرے پر بھی سیاہی لگائی ہےنوجوان نےسرجری کےذریعے اپنے کان کے کارٹلیج کے ٹکڑوں کو ہٹانے کا بھی انتخاب کیا ہے جبکہ اس کے نتھنے چھیدے ہوئے ہیں۔

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

    28 سالہ نوجوان نے کہا کہ میں نے 20 سال کی عمر میں جسمانی تبدیلی شروع کی تھی، میرا پہلا طریقہ میری زبان کو الگ کرنا تھا پھر میرے آدھے آدھے کان (بیرونی کان کا دکھائی دینے والا حصہ) دونوں طرف سے کاٹ دیا گیا تھا۔

    بندروں نے ایک کے بدلے 250 کتوں کو ہلاک کردیا

  • کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاون، سڑکوں کی بندش، راشن کی قلت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے حکام کے بلند و بانگ دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی(ایم )کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ شدید برفباری خطے کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن جو بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے، وہ ایک مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاون کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے پوری وادی کو مکمل تاریکی میں ڈبو دیاہے، کہا کہ حکام بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں ناکام رہے۔

    انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ ٹھپ ہوکررہ جاتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ ابھی تک کئی سڑکوں سے برف نہیں ہٹایاگیا ہے اور وادی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ابھی تک ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دریں اثناوادی چناب کے کشتواڑ، رامبن اور ڈوڈہ اضلاع میں بھی بارش اور شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔

    اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کشتواڑ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران شدید برف باری ہوئی جبکہ ضلع کے علاقوںبھجواہ، چھاترو، پڈر، ناگسنی، گندوہ، بھدرواہ، مرمت، ڈیسا اور ضلع ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں بھی بھاری سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔اسی طرح ضلع رامبن کے بہت سے علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی اور سڑک کی پھسلن اور بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے باعث حکام نے جموں سرینگر ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے۔

  • کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    الینوئے: ایک امریکی کمپنی کی جانب سے خودکار طور پر ہل چلانے کے علاوہ کاشت کاری کے دوسرے متعلقہ کام بڑی مہارت سے انجام دینے والا ٹریکٹر پیش کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کمپنی ’جان ڈیئر‘ کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ ٹریکٹر امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقدہ ’کنزیومر الیکٹرونکس شو 2022‘ میں رکھا گیا جو 5 سے 8 جنوری تک جاری رہی یہ دنیا میں جدید ترین ایجادات کی سب سے بڑی سالانہ نمائش بھی ہے اس ٹریکٹر کو ’ڈیئر 8 آر‘ (Deere 8R) کا نام دیا گیا ہے جو 40 ہزار پاؤنڈ (18 ٹن سے زیادہ) وزنی ہے۔

    ٹریکٹر اپنے اسٹیریو کیمروں کے چھ جوڑوں کی مدد سے کھیت پر نظر رکھتا ہے اور جی پی ایس سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے مطلوبہ راستوں پر ہل چلاتا ہے اس کا خودکار نظام طاقتور مائیکروپروسیسرز، سینسرز اور مصنوعی ذہانت والے ایک پروگرام سے لیس ہے جو موبائل ایپ کے ذریعے کسان کے اسمارٹ فون سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ


    کسان کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ٹریکٹر سے ہل یا کوئی دوسرا متعلقہ زرعی آلہ منسلک کرے اورایپ کے ذریعےاس اراضی کی نشاندہی کردے کہ جہاں ٹریکٹر سے ہل چلانا یا کوئی اور کام لینا مقصود ہے کسان ایپ سے ٹریکٹر کو کام شروع کرنے کی ہدایت دے اور اس کے بعد چاہے تو اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارے یا پھر کچھ اور کرے۔

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    یہ ٹریکٹر ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سارا کام خودکار طور پر سنبھالتا ہے جبکہ اس دوران وہ ہل چلانے کے علاوہ کھیت میں فصلوں اور مٹی کی صحت،مٹی میں نمی کی مقدار اور دوسری اہم زرعی معلومات بھی جمع کرتا رہتا ہے۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    اس پورے عمل میں ویسے تو کسان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر کبھی کبھار ٹریکٹر کا سامنا کسی غیر متوقع صورتِ حال سے ہوجائے کہ جسے اس کا سافٹ ویئر سنبھالنے کے قابل نہ ہو، تو پھر اس کا نظام فوری طور پر ایپ کے ذریعے کسان کو اس کی خبر دیتا ہے تاکہ وہ اس مشکل یا رکاوٹ کا ازالہ کرنے کےلیے اس کی مدد کرے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    جان ڈیئر کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جیمی ہنڈمین کا کہنا ہے کہ خودکار ٹرک اور کار کے مقابلے میں خودکار ٹرک بنانا زیادہ مشکل کام تھا کیونکہ ٹریکٹر کو ان دوسری گاڑیوں سے کہیں زیادہ کام کرنے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہونے کے علاوہ اپنی اپنی جگہ بہت پیچیدہ بھی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ’ڈیئر 8 آر‘ کو زرعی ٹیکنالوجی میں ایک نیا انقلاب قرار دے رہے ہیں اب تک کمپنی کی جانب سے اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • پی ایس ایل (7):2022: سپلیمنٹری اور متبادل ڈرافٹنگ مکمل:   تفصیلات جاریں

    پی ایس ایل (7):2022: سپلیمنٹری اور متبادل ڈرافٹنگ مکمل: تفصیلات جاریں

    لاہور:پی ایس ایل 2022: سپلیمنٹری اور متبادل ڈرافٹنگ مکمل:تفصیلات جاریں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شرکت کرنے والی ٹیموں نے 2022 کے سیزن کے لیے سپلیمنٹری اور ریپلیسمنٹ (متبادل) ڈرافٹ میں کھلاڑیوں کا انتخاب کر لیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈرافٹنگ کاعمل ورچوئل ہوا اور ٹیموں نے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔ سپلیمنٹری سیشن میں پہلا انتخاب کا موقع 2020 کی چیمپئن کراچی کنگز کو ملا اور سابق چمپیئن ٹم نے ڈومیسٹک کرکٹر آف دی ایئر صاحبزادہ فرحان کو اپنے اسکواڈ میں شامل کیا۔

     

     

    دوسرا موقع لاہور قلندرز کو ملا اور انہوں نے فاسٹ باؤلر محمد عمران رندھاوا کو منتخب کیا، جس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ نے فاسٹ باؤلر موسیٰ خان، ملتان سلطانز نے انگلینڈ کے فاسٹ بولر ڈیوڈ ولی اور پشاور زلمی نے محمد عمر کو منتخب کیا۔

    ڈرافٹنگ کے عمل میں دوسرا مرحلہ ریورس آرڈر کے بعد ہوا جہاں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز نے رضوان حسین ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے غلام مدثر، اسلام آباد یونائیٹڈ نے ظاہر خان، لاہور قلندرز نے عاکف جاوید اور کراچی کنگز نے جارڈن تھامپسن کا انتخاب کیا۔

    پی سی بی کے مطابق ہر فرنچائز کو دو سپلیمنٹری انتخاب میں زیادہ سے زیادہ ایک غیر ملکی کرکٹر کو منتخب کرنے کی اجازت تھی۔

    اسی طرح ری پلیسمنٹ ڈرافٹ میں ملتان سلطانز نے اوڈین اسمتھ کی جگہ وکٹ کیپر جانسن چارلس کو ڈائمنڈ کیٹیگری سے منتخب کیا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے نوید الحق کی جگہ لیوک ووڈ، جیمز ونس کی جگہ ول اسمیڈ، جیسن رائے کی جگہ شمرون ہیٹمائر اور افغانستان کے نور احمد کی جگہ علی عمران کو اسکواڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

    کراچی کنگز نے انجری کے باعث دستیاب نہ ہونے والے ٹام ایبل کی جگہ اویشیکا فرنینڈو، قومی انڈر-19 ٹیم کے کپتان قاسم اکرم کی جگہ اسپنر محمد طحہ خان کو اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔

    قاسم اکرم آئی سی سی انڈر- 19 ورلڈ کپ میں شرکت کی وجہ سے پی ایس ایل کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ نے سینٹ کٹس میں موجود قومی انڈر-19 کے اسکواڈ میں شامل ذیشان ضمیر کی جگہ محمد ہریرہ کو منتخب کرلیا ہے، جنہوں نے اپنے ڈیبیو فرسٹ کلاس سیزن میں شاندار ٹرپل سنچری بنائی تھی اور قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ رنز بھی بنائے تھے۔

    لاہور قلندرز کی ٹیم میں ابتدائی چند میچوں کے لیے انگلش وکٹ کیپر فل سالٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بین ڈنک کو دوبارہ حصہ بنا لیا ہے۔

    پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنی ایک ایک سپلیمنٹری انتخاب محفوظ رکھا ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے علاوہ باقی پانچوں فرنچائزز نے متبادل راؤنڈ میں کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیا۔

    منتخب کھلاڑیوں کی فہرست

    اسلام آباد یونائیٹڈ: موسیٰ خان، ظاہر خان، محمد حریرا

    کراچی کنگز: صاحبزادہ فرحان، جارڈن تھامپسن، اویشا فرنینڈو، محمد طحہ خان

    لاہور قلندرز: محمد عمران رندھاوا، عاکف جاوید، بین ڈنک

    ملتان سلطانز: ڈیوڈ ولی، رضوان حسین، جانسن چارلس

    پشاور زلمی: محمد عمر

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: غلام مدثر، لیوک ووڈ، ول سمیڈ، شیمرون ہیٹمائر، علی عمران

  • سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
    برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
    مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
    صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
    جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو ‏محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
    اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
    موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔

    Zakia nayyar

    @Nayyarzakia

  • بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارے اس وقت بہت پریشان دکھائی دے رہےہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں اپنی بقاکی جنگ لڑرہی ہیں‌، اس حوالے سے بہت سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک فسطائی ریاست اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک بن گیا ہے جو ملک کو مکمل طور پر ایک ہندوتوا ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی بھارت کو اقلیتوں سے صاف کرنے کے مشن کے سلسلے میں ان کے خلاف آر ایس ایس کے نظریے کو مسلسل نافذ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملے معمول بن چکے ہیں اور ملک میں مسلمان، عیسائی، سکھ اور نچلی ذات کے ہندو خوف و دہشت کی حالت میں رہ رہے ہیں کیونکہ جب سے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے ان کے ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے ہندو انتہا پسندوں کو اس قدر شہ ملی ہے کہ وہ کھلے عام اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی کی دائیں بازو کی حکومت کے تحت ملک میں مذہبی عدم رواداری بڑھ رہی ہے جس کی پالیسیاں ہندوتوا نظریے کی عکاس ہیں اور وہ سب پر ہندو برہمن ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

    بھارت میں اقلیتوں‌کے خلاف مودی ڈاکٹرائن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا فسطائی نظریہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اس خطرناک ذہنیت سے نمٹنے اور بھارت میں اقلیتوں کو بچانے کے لیے مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا

    طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا

    چارسدہ ( ) گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ کے شعبہ انگریزی کے طالب علم شاہ فہد نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    انہوں نے اپنے بی ایس تھیسز جس کا عنوان "A comparative study of pantheism in William Wordsworth and Mirza Khan Ansari’s poetry”تھا کو انٹرنیشنل جرنل آف پختونخواہ نے شائع کردیا۔

    انہوں نے اس کامیابی کو اپنے اساتذہ کی مرہون منت کا نتیجہ قرار دیا اور اپنے اساتذہ کرام، سپروائزر کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے اس کامیابی کو اپنے والدہ کا نام کیا۔

    یاد رہے کہ یہ واحد طالب علم ہے جس کا بی ایس لیول کے ریسرچ تھیسز ایک انٹرنیشنل جرنل نے شائع کیں۔

  • محمد رضوان 2021 کے سب سے قیمتی کھلاڑی قرار:حسن علی،شاہین آفریدی اورباقی بھی پیچھے نہ رہے

    محمد رضوان 2021 کے سب سے قیمتی کھلاڑی قرار:حسن علی،شاہین آفریدی اورباقی بھی پیچھے نہ رہے

    لاہور:دلوں کی دھڑکن ،پاکستان کی شان:محمد رضوان 2021 کے سب سے قیمتی کھلاڑی قرار،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی جان ،دلوں کی دھڑکن جنہیں پاکسعتانی محمد رضوان کے نام سے یاد کرتے ہیں نے اس وقت کیلنڈر ایئر 2021 میں وکٹوں کے پیچھے 56 شکار کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ میں 455 رنز، ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 134 رنز اور ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں ریکارڈ ساز 1326 رنز بناکر سال کے سب سے قیمتی کھلاڑی کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔

    اس ایوارڈ کے لیے محمد رضوان کے علاوہ بابر اعظم، حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی کو نامزد کیا گیا تھا۔2021 میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے سال کے سب سے قیمتی کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کرنے کے علاوہ سال کے بہترین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹر کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرلیا ہے۔

    محمد رضوان:

    محمد رضوان نے کہا کہ انہیں کیلنڈر ایئر 2021 کے سب سے قیمتی کرکٹر کا ایوارڈ جیتنے پر فخر ہے۔ وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے 2021 میں اپنی کارکردگی سے تمام فارمیٹس میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں یہ ان کا ایک غیر معمولی سال تھا۔ سال کے آغاز میں ہی انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں سنچری بنا ڈالی اور پھر اسی اعتماد کے ساتھ باقی سال بھی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھا۔

    9 ٹیسٹ میچز میں 41 وکٹیں حاصل کرنے پر فاسٹ باؤلر حسن علی کو سال کا بہترین ٹیسٹ کرکٹر قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سال ایک مرتبہ ایک اننگز میں 10 وکٹیں جبکہ پانچ مرتبہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دو پلیئر آف دی میچ اور ایک پلیئر آف دی سیریز کے ایوارڈز بھی جیتے۔

    حسن علی:
    حسن علی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار پانا ان کے لیے باعث فخر لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2021 میں نہ صرف بین الاقوامی کرکٹ میں کامیاب واپسی کرنے میں کامیاب رہے بلکہ گزشتہ سال انہوں نے ٹیم کی مجموعی کامیابی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔حسن علی نے کہا کہ راولپنڈی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 10 وکٹیں حاصل کرنا کیلنڈر ایئر 2021 میں ان کا یادگار لمحہ ہے۔

    بابراعظم
    پاکستان کے کپتان بابر اعظم کو 6 ون ڈے میچز میں 2 سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 405 رنز بنانے پر ون ڈے کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

    شاہین شاہ آفریدی:
    24 اکتوبر کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 میں دبئی میں بھارت کے خلاف شاہین شاہ آفریدی کے31 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھانے والے باؤلنگ اسپیل کو سال کا سب سے متاثرکن کارکردگی کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

    محمد وسیم
    محمد وسیم جونیئر نے 2021 میں 45 وکٹیں لے کر ابھرتے ہوئے کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس میں 15 انٹرنیشنل وکٹیں بھی شامل ہیں۔

    ندا ڈار
    ندا ڈار کو 604 رنز بنانے اور 25 وکٹیں لینے پر سال کی بہترین خاتون کرکٹر قرار دیا گیا۔

    صاحبزادہ فرحان
    صاحبزادہ فرحان نے پاکستان کپ میں 487 رنز، قومی ٹی ٹوئنٹی میں 447 رنز اور قائداعظم ٹرافی میں 935 رنز بنا کر ڈومیسٹک کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

    آصف یعقوب
    مسلسل دوسرے سال، پی سی بی کے ایلیٹ میچ آفیشلز نے آصف یعقوب کو امپائر آف دی ایئر منتخب کیا ہے۔آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں کامیابی کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کا نمیبیا کے ڈریسنگ روم کا دورہ کرکے ان کے کھیل کی تعریف کرنے پر اسپرٹ آف کرکٹ کا ایوارڈ ملا ہے۔

    رمیز راجہ، چیئرمین پی سی بی:
    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ وہ پی سی بی کی طرف سے ہر ایوارڈ جیتنے والے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی داد و تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے 2021 کے دوران شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور پاکستانی کرکٹ شائقین نے ان کی اس کارکردگی کا بڑے پیمانے پر اعتراف بھی کیا ہے۔

  • صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی

    صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی

    صحافت ٹوکریوں کی زد، میں ،تحریر:ارم شہزادی
    ایک وقت تھا جب صحافت کو معزز پیشہ سمجھا جاتا تھا، جب لوگ کسی صحافی سے مل کر اس لیے خوش، ہوتے تھے کہ انکے مسائل کو ایوانوں تک پہنچایا جائے گا اور یقیناً کوئی نا کوئی حل بھی نکلےگا۔اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ مسائل نا صرف احکام بالا تک پہنچتے تھے بلکہ حل بھی ہوتے تھے۔ دوسری طرف لوگ صحافت سے یا صحافیوں سے ڈرتے بھی تھے کہ کوئی غلطی کی ایک بار منفی طرز، زندگی کی وجہ سے نام اخبارات کی زینت بنا تو باقی زندگی بہت مشکل ہوجائے گی۔ عزت خاک میں مل جائے گی۔ یعنی صحافت کی وجہ سے لوگوں کے طرز زندگی مختلف تھا۔ اخبارات بھی چند گنے چنے تھے، جنگ، نوائےوقت، ڈان، وغیرہ وغیرہ۔ ان اداروں سے وابستہ صحافیوں کا معاشرے میں ایک مقام تھا، نام تھا، ایک ہی چینل تھا پی ٹی وی اس، پے چلنے والے پروگرام حکومت پاکستان سے منظورشدہ ہوتے تھے۔ عام طور پر اپوزیشن کی نمائندگی ناہونے کے برابر تھی۔ پھر وقت بدلا پرائیویٹ چینل دھڑا دھڑ بنے ساتھ اخبارات بھی، اور یوں صحافت معزز پیشے سے نکل کر کمرشلائز ہوگیا۔ حکومتی اراکین نے اور اپوزیشن نے اپنے اپنے چینل چنے اور ان میں کام کرنے والے ملازمین کو اپنے ساتھ ملا لیا اپنی اپنی راہ ہموار کرنے میں لگ گئے اوراس راہ کی ہمواری میں وطن اوراسکی محبت کہیں دور رہ گئی۔ میڈیا چاہے پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، یا پھر سوشل رائے عامہ ہموار کرنے کا بہترین زریعہ ہے اور عوام کی رائے اپنے حق میں استعمال کرنے کرنے کے لیے ہر طریقہ ازمایا گیا۔ کہیں پیسے دیےگئے، کہیں پلاٹ دیے گئے، کہیں دھمکایا گیا، اور کہیں بچے صحافیوں کے باہر سیٹ کیے گئے۔

    آج پاکستان کے نامور صحافی کسی نا کسی جماعت کے کانے ہیں پورے پورے چینلز مخالفین کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں اس وقت جب پاکستان مسلم۔لیگ ن کی وائس چیئرمین مریم نواز نے مخالفین کی غیر اخلاقی ویڈیوز ریلیز کرنے کی دھمکی دی تو کئی چینلز جو کہ اس سیاسی جماعت کے پے رول پر ہے خوب پروپیگنڈہ کیا مریم نواز کو اس کا کوئی خاص فائدہ ابھی تک نہیں ہوا تھا کہ مریم کی اپنی آڈیوزریلز ہونا شروع ہوگئیں جس، میں وہ میڈیا کو مینج کرنے کا اعتراف کرتی نظر آئیں۔ جبکہ اس سے پہلے جب حکومت نے کہا تھا کہ مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا بند کی جائیں اور فیک نیوز پھیلانے پر میڈیا کو ریگولائز کیا جائے تو یہی مسلم۔لیگ ن نے بہت شور مچایا اور میڈیا کی آزادی پر سٹینڈ لیا جبکہ یہخود میڈیا مینج کرتی آئیں تھیں اور ساتھ فیک نیوز، پھیلانے کا سہرا بھی مریم نواز کے سر ہیں۔ ابھی ایک دن پہلے پھر ایک آڈیو لیک ہوئی جس میں مریم نواز نے پرویز رشید سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے کچھ صحافی جیو کے انکے خلاف ہیں بلکہ ایک لفظ استعمال کیا کہ "بھونکنے والے کتے بٹھا دیے گئے ہیں”۔ کیا یہ لفظ ایک جماعت کی وائس چیئرمین جوکہ خود کو مستقبل کی وزیراعظم سمجھتی ہیں سوٹ کرتا ہے؟ اور صحافیوں کو مینج کرنے کا کل ایک نیا طریقہ بتایا کہ کہ انکے والد صاحب آذربائیجان سے ٹوکریاں لائے تھے وہ ایک صحافی اور اینکر ہیں نصرت جاوید انکو دینی ہے اور دوسری ٹوکری رانا جواد کو دینی ہے۔ یعنی میڈیا مینجمنٹ جو لفافوں اور پلاٹوں سے شروع ہوئی تھی وہ ٹوکریوں تک جا پہنچی ہے۔ کل اس پرسوشل میڈیا پر بہت شور سنا گیا پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے باقاعدہ ٹوکریوں کی صحافت پر ٹرینڈ کیے۔ نہیں معلوم کہ اب مزید صحافت کہاں تک بدنام ہوگی۔ افسوس اس بات پر ہے کہ عمران خان کے لفظ اوئے کہنے پر سارا سارا دن پروگرام کرنے والے صحافی اور چینلز خود کے لیے لفظ کتا سن کر بھی تاحال خاموش ہیں۔ اس سے پہلے اسی لفظ سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری بھی کہہ چکا ہے۔

    @irumrae