Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر  ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر

    تقسیم پاکستان سے قبل ہی اس وقت کے ظالم راجے نے کشمیر کو بیچ کر کشمیری قوم کی آزادی پر شب خون مارا تھا اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیئے جائیں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو مگر ہندو اور انگریز کی مشترکہ منافقت سے کشمیر مقبوضہ ہو گیا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر پاکستان نے 1947 میں جنگ لڑی اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا جسے ہم آج ازاد ریاست کشمیر کے نام سے جانتے ہیں
    یکم جنوری 1948 میں انڈیا سلامتی کونسل پہنچا اور سلامتی کونسل کے یقین استصواب رائے پر جنگ بندی ہوئی تاہم آج دن تک وہ استصواب رائے کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا-

    26 جنوری 1950 کو کشمیری قوم کی خصوصی حیثیت کیلئے آرٹیکل 370 اے نافذ کرکے کشمیر کو خودمختاری کی حیثیت دی گئی بظاہر نا چاہتے ہوئے بھی سلامتی کونسل نے ابتک 13 قراردادیں کشمیریوں کے حق میں دی ہیں مگر سب بے سودکسی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا23 مارچ 1987 کو کشمیری جماعت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں واضع برتری حاصل کی تاہم فاروق عبداللہ کی گورنمنٹ نے دھاندلی کا الزام لگایا اور مظاہرے شروع ہو گئے جو کہ رفتہ رفتہ 1989 میں مسلح تحریک میں بدل گئے 1947 سے 1989 تک کشمیریوں نے ہر حد تک کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم بھارت و سلامتی کونسل کی طرف سے مکمل انکار و منافقت دیکھ کر کشمیری قوم نے بندوق اٹھائی اور ہندو کے خلاف ڈٹ گئے اب تک کشمیریوں نے ایک ہی نعرہ لگایا ہے کشمیر بنے گا پاکستان تیرا میرا رشتہ کیا ؟لا الہ الا اللہ

    یہی نعرے سلامتی کونسل اور انڈیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں کہ اگر رائے شماری کروائی گئی اور کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا گیا تو پوری کشمیری قوم الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اور کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا تاریخ کشمیر اور ہندو کی خصلت کو دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ قرار دادوں سے ہونا ناممکن ہے اس کا واحد حل جنگ ہے جیسا کہ 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں آزاد کشمیرکا علاقہ حاصل کیا گیا پھر پاک بھارت 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے پہل کی 1965 کی جنگ شروع کی کشمیر کا وکیل ہونے کی حیثیت سے بھارت نے 1971 کی جنگ کی شروعات کی اور بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کروا کر 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو الگ کروایا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہوتے ہوئے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ سینڈوچ بنا ہوا تھا-

    21 جنوری 1999 کو پاکستان و بھارت کے اس وقت کے وزرائے اعظموں نے دو طرفہ معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر مئی 1999 میں بھارت نے خود ہی پنگے بازی کرتے ہوئے کارگل جنگ کا آغاز کیا جو کہ جولائی میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر ختم ہوااس سارے دورانیہ میں کشمیری قوم نے نا تو اپنا نعرہ بدلا اور نا ہی اپنے عزائم کشمیری قوم کے اس جذبہ حریت کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے 1949 میں کشمیر کی خودمختاری کی حیثیت کو ختم کرنے کی خاطر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے و 35 اے کا خاتمہ کر دیا جس سے کشمیری قوم کا غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کشمیری قوم نے مجاھدین کشمیر کا ماضی کی طرح کھل کر ساتھ دیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے-

    بات اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی کی جائے تو سوائے جنگ کے اس کا حل ناممکن ہے کشمیری مجاھدین کی گوریلا جنگ نے بھارتی فوج و عوام کا مورال بہت ڈاؤن کر دیا ہے جس کے باعث آئے روز بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے جیسے جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی بھارتی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اوسطاً ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کشمیر میں خودکشی کرتا ہے تاہم دوسری جانب مجاھد تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کا رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی مسلح تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بن کا اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کشمیر بزور شمشیر اس کے علاوہ آزادی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے-

    پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس تو بہت نکالے جاتے ہیں جو کہ اظہار کی ایک اچھی مثال بھی ہیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو گا کیونکہ ہندو کو پتہ ہے اگر کشمیر اس کے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر اس کے بعد 36 سے زائد شورش زدہ بھارتی علاقے بھی نا ٹک سکیں گے اور ہندوستان ٹوٹ جائے گا سو انڈیا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنا بہت سارا پیسہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لگا رہا ہے اور پوری دنیا کا کافر اس کی مدد کو ہے جبکہ اس کے برعکس اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک آدھ ملک ہی ساتھ ہے باقی محض بیانات ہی دیتے ہیں اور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث آج دن تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ورنہ بفضل تعالی 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے قبائل مجاھدین و پاک فوج موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کروانے کیساتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مگر پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سلامتی کونسل کی منافقت سے جنگ بندی ہوئی اور جھوٹے وعدے کروائے گئے جو کہ آج دن تک ایفاء نا ہو سکے ہیں-

  • پی ایس ایل 7: کراچی کنگز کو مسلسل چوتھی شکست، پشاور زلمی نے 9 رنز سے میچ جیت لیا

    پی ایس ایل 7: کراچی کنگز کو مسلسل چوتھی شکست، پشاور زلمی نے 9 رنز سے میچ جیت لیا

    کراچی :پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو ہرا دیا، شہر قائد کی ٹیم کو ایونٹ کے دوران مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے گیارہویں میچ میں کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

    کراچی کنگز بیٹنگ:

    ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی طرف سے اننگز کا آغاز شرجیل خان اور بابر اعظم نے کیا، تاہم پہلے ہی اوور میں شعیب ملک نے لیفٹ ہینڈ بیٹسمین کو پویلین بھیج دیا۔ 3 کے مجموعی سکور پر صاحبزادہ فرحان بھی آؤٹ ہو گئے، محمد عمر نے وکٹ حاصل کی۔

    این کوکبین کی اننگز کا خاتمہ عثمان قادر نے کیا، بیٹر 19 گیندوں پر 31 رنز کی باری کھیل کر کریز چھوڑ گئے۔ محمد نبی کی باری 10 سکور پر ختم ہوئی، حسین طلعت نے وکٹ حاصل کی۔

    عامر یامین 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، عماد وسیم صفر پر آؤٹ ہوئے۔ کنگز کی ٹیم مقررہ اوورز میں 164 رنز بنا سکی۔ کپتان بابر اعظم نے 90 رنز کی ناٹ آؤٹ باری کھیلی تاہم ٹیم کو فتح نہ دلوا سکے۔نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عمر نے 3، شعیب ملک اور حسین طلعت نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    پشاور زلمی بیٹنگ:

    اس سے قبل پشاور زلمی کی طرف سے اننگز کا آغاز وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے حضرت اللہ زازئی نے کیا۔

    دونوں نے بیٹرز نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے وکٹ کے چاروں اطراف خوبصورت شارٹس کھیلے، تاہم 6 ویں اوورز کی آخری گیند پر حضرت اللہ زازئی 27 گیندوں پر 41 سکور بنا کر عمید آصف کا نشانہ بن گئے، 74 کے مجموعی سکور پر کامران اکمل کی اننگز کا خاتمہ ہوا، انہوں نے 19 گیندوں پر 21 رنز بنائے۔

    حیدر علی کی باری 16 سکور پر ختم ہوئی، عامر یامین نے وکٹ حاصل کی۔ بین کٹنگ کی اننگز 24 سکور تک محدود رہی، عمید آصف نے شرجیل خان کی مدد سے کھلاڑی کو پویلین بھیجا۔

    اس دوران شعیب ملک نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 52 سکور کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔ پشاور زلمی نے مقررہ اوورز میں 173رنز بنا لیے ہیں۔ عمید آصف 3 اور عامر یامین نے ایک وکٹ حاصل کی۔

    کراچی کنگز سکواڈ:

    بابر اعظم (کپتان) ، شرجیل خان، صاحبزادہ فرحان، این کوکبین، عامر یامین، محمد نبی، لوئس گریگورے، عماد وسیم، محمد طہ، عمید آصف، محمد عمران

    پشاور زلمی سکواڈ:

    کامران اکمل، حضرت اللہ زازئی، حیدر علی، حسین طلعت، شعیب ملک، ردرفورڈ، بین کٹنگ، وہاب ریاض (کپتان)، محمد عمر، عثمان قادر، سلمان ارشاد

    پی ایس ایل7:کراچی کنگزکی فیلڈنگ پشاور زلمی کی بیٹنگ جاری:جلد پتہ چل جائے گا کون ہے بھاری،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے پہلے مرحلے میں کراچی کنگز نے پشاور زلمی کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جارہے میچ میں کراچی کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پشاور کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی تھی ۔

     

    ٹاس کے موقع پر کراچی کے کپتان بابر نے کہا کہ پشاور کو جلد آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے ، دوسری جانب زلمی کے کپتان وہاب کاکہنا تھا کہ ٹاس جیت کر ہم بھی بولنگ کرنےکا ہی فیصلہ کرتے۔

    پوائنٹس ٹیبل کی بات کی جائے تو پشاور زلمی 3 میں سے ایک میچ جیت کر 2 پوائنٹس کے ساتھ 5ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ کراچی کی ٹیم ابھی تک ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی، اسے مسلسل 3 میچز میں شکست کاسامنا ہے۔

  • جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    سرینگر :جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل :مسلسل 27جمعہ بھی نہ ہوسکا ،میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش ،اطلاعات کے مطابق جامع مسجد سرینگر کے منبرو محراب مسلسل 27ویں جمعہ کو بھی خامو ش، میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل،اغیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ایک با ر پھر لوگوں کو مسلسل 27ویں مرتبہ بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

    انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں افسوس ظاہر کیا ہے کہ اسلامی دعوت و تبلیغ کا سر چشمہ تاریخی اور مرکزی جامع مسجد سرینگر کا منبر و محراب بدستور خاموش ہے جبکہ انجمن کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی گھر میں مسلسل غیر قانونی نظر بندی کوآج ڈھائی سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق5اگست 2019سے مسلسل گھر میں نظر بند ہیں اور قابض انتظامیہ نے میر واعظ کی تمام سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر بھی قدغن عائد کر رکھی ہے ۔ انجمن کے مطابق قابض انتظامیہ کی طر ف سے جامع مسجد میں مسلسل نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں اور یہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے ۔

    انجمن نے کہا کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہ دینے اور میر واعظ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی سے قابض انتظامیہ کی متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، جو انسانیت اور انصاف سے عاری ہیں۔بیان میں کشمیری عوام اور مذہبی تنظیموں سے پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں قابض انتظامیہ پر دبائو ڈالیں تاکہ جامع مسجد میں ایک بار پھر قال اللہ وقال الرسول ۖ کی ایمان افروز صدائیں بلند ہو سکیں۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام میں نماز جمعہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن کی شدید مذمت کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن کشمیری مسلمانوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ آمریت کے طولانی دور میں بھی یہ دینی مرکز اتنی مدت تک کبھی مقفل نہیں رہا ۔

  • یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب؟ تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب؟ تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب؟ تحریر: نوید شیخ
    ہم اپنے اندرونی مسائل مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف ، اسٹیٹ بینک اور نواز شریف کی بیماری میں اتنا پھنسے ہوئے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک نئی جنگ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں ۔ اور اس جنگ کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلنے والے ہیں اس تنازعہ کا نام ہے ۔۔۔ یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب ؟؟؟
    اس سلسلے میں بھی دنیا دو حصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک جانب مغرب ہے تو دوسری طرف مشرق ۔ ابھی تو ہر کوئی یہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ جنگ ٹلتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے اور ساتھ ہی یہ جنگ چھڑ گئی تو معاملہ مزید آگے ہی بڑھے گا ۔ کیونکہ یوکرائن کے معاملے پر دو بڑے پہلوان امریکہ اور روس زور آزمائی کررہے ہیں ۔

    ۔ خود امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس سے دنیا کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ جبکہ روس کے صدر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں یوکرائن کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔ دراصل یہ پھڈا شروع ہی یوکرائن میں امریکی میزائلوں کی تنصیب سے ہوا ہے ۔۔۔ اب جب امریکہ روس کی ناک کے نیچے اسکی سرحد ساتھ اپنا جدید اسلحہ لگائے گا تو روس بھی جواب دے گا ۔ اور اسی جواب میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرائن کی سرحدوں پر تقریباً ایک لاکھ کے قریب فوج اکھٹی کردی ہے۔ اس حوالے سے امریکی جنرل مارک میلی کا کہنا ہے کہ اگر یوکرائن پر روس کا حملہ ہوگیا تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں گی۔ انھوں نے حالیہ روسی فوجیوں کی موجودگی کو بھی سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی قرار دیا ہے۔

    ۔ جنگ کی تیاری میں ہی امریکہ نے اب تک تین سو کے قریب Juvenile missile اور بنکر نیست و نابود کرنے والے انتہائی مہلک بم یوکرائن پہنچادیے ہیں۔ جنگ کی صورت میں روس سے گیس کی ترسیل بند ہونے کی صورت میں یورپی ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ امریکہ اگلے چند روز میں 8,500فوجی یوکرائن یا اس کے آس پاس متعین کر رہا ہے اور یورپ میں موجود 64,000 سپاہیوں کو تیاررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ۔ اسی لیے روس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے Moldova اور Crimea میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں ۔ اس کے علاوہ بحیرہ عرب میں چین کے اشتراک کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی ہیں ۔ روس اپنے میزائلوں کو بھی حالت تیاری میں رکھے ہوئے ہے اور یوکرائن کی سرحد پر
    60جنگی جہاز اور بمبار تیاری کی انتہائی حالت میں ہیں۔۔ ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے ۔ دوسری جانب روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ہے ۔ ۔ وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی اور یہ فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا ہے ۔۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔۔ پھر روس کے حملے کے پیش نظر صرف امریکا ہی نہیں برطانیہ نے بھی یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے نیٹو افواج کو پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    ۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر جاری مذاکرات کے باوجود روس اور امریکا اب تک اس کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے کے حوالے سے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ۔ اگرچہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرائن پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس نے یہ بھی مطالبہ کر رکھا ہے کہ نیٹو پہلے یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی بھی اپنے اتحاد میں Kiev
    کٓو رکنیت کی اجازت نہیں دے گا۔ روس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نیٹو اتحاد مشرقی یورپ سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور روس کی سرحدوں کے قریب ہتھیاروں کی تعیناتی اور فوجی سرگرمیوں کو ختم کرے۔ ۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور نیٹو دونوں نے ہی روس کے مطالبات کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماسکو نے سرحد پر اپنی فوجی کارروائی جاری رکھی تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔۔ دراصل یہ سارا مسئلہ شروع ہی تب ہوا جب امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد نے یوکرائن کی ممبر شپ کی درخواست کو منظور کر لیا۔ یوکرائن ابھی تک نیٹو کا شراکت دار ملک ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرائن کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن مغرب اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔

    ۔ امریکی وزیر خارجہ Anthony Blanken اور ان کے روسی ہم منصب Sergei Lavrov کے درمیان جنوری کے اوائل میں اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم ان سفارتی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ۔ صدر جو بائیڈن اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی تاہم اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔۔ اب برطانوی وزیر اعظم Boris Johnson بھی یوکرائن کے صدر Vladimir Zelensky سے بات کرنے کے لیے Kievپہنچے ہیں تاکہ کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جا سکے۔۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرائن ہمارا ہمسایہ اور ساجھے دار ہے۔ اس کی سلامتی ہماری بھی سلامتی ہے۔ تو ترکی کے صدر ایردوگان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ روس یوکرائن پر حملے یا قبضے کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اگر روس اور یوکرائن کے صدور چاہیں تو ہم انہیں اپنے ملک میں مذاکراتی میز پر لا کر بحالی امن کے لئے راستہ کھول سکتے ہیں۔ ۔ پھر یوکرائن کے اس مسئلے کو بھارت میں خاصی تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ 1962 میں جب بڑی طاقتیں کیوبا میں روسی میزائل کے معاملے کو سلجھانے میں مصروف تھیں تو اس کا فائدہ اٹھاکر چین نے بھارت پر فوج کشی کرکے اس سے 43,000مربع کلومیٹر کا علاقہ ہتھیا لیاتھا۔ تاریخ شاید ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ کیونکہ 2020ء سے 60 سال کے بعد چینی اور بھارتی افواج ایک بار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بڑی طاقتیں یوکرائن میں برسر پیکار ہیں۔ کل تو راہول گاندھی نے بھی اس حوالے سے خوب چینخ وپکار کی ہے ۔ اور مودی کو خوب کوسا بھی ہے ۔ ۔ یوکرائن کے تنازعہ کی وجہ سے امریکہ فی الحال چین کو قابو میں رکھنے کی اپنی ایشیا پیسفک پالیسی بھی بھول چکا ہے اور اس خطے میں اس نے اپنے اتحادیوں کو بڑی حد تک اب چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ چین بھی 1962ء کے مقابلے اب خودہی ایک فوجی اور اقتصادی طاقت ہے۔ جو بڑی حد تک امریکہ کے ہم پلہ ہے اور روس اسکے ایک اتحادی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسی لیے بھارت اپنے آپ کو مزید تنہا محسوس کر رہا ہے ۔

    ۔ پھر یوکرائن والے معاملے کو لے کر سلامتی کونسل میں بھی بہت شور شرابہ ہوا ہے ۔ بلکہ اس کاروائی کو رپورٹ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ منظر بالکل ایسا تھا جیسے ہماری پارلیمان کے اجلاس کا ہوتا ہے ۔۔ اب اس اجلاس میں جہاں واشنگٹن نے کہا کہ روسی فوج کی تعیناتی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تو روس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کو PR Stunt قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر Hysteria پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔۔ پھر امریکا نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ روس آنے والے ہفتوں میں بیلاروس میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 30,000 کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ وہ یوکرائن کی سرحد کے قریب منتقل ہونے والے اپنے ایک لاکھ فوجیوں میں مزید اضافہ کر سکے۔ تاہم بیلاروس کے نمائندے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اسے یوکرائن پر روسی حملے کے لیے
    staging ground کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس اس معاملے پر کھلے اجلاس کے مطالبے کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امریکا سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 10 کو عوامی اجلاس کی حمایت کرنے پر راضی کر سکا۔ لیکن سلامتی کونسل کی طرف سے اس معاملے میں کسی بھی رسمی کارروائی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف جہاں روس کو ویٹو پاور حاصل ہے وہیں چین سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ جنہوں نے اس مسئلے پر کھلی میٹنگ کو روکنے کی ماسکو کی کوششوں کی حمایت بھی کی ہے۔۔ اقوام متحدہ میں بیجنگ کے ایلچی Zhang Jun نے کہا۔ واقعی یہی مناسب وقت ہے کہ خاموش سفارت کاری کا مطالبہ کیا جائے۔

    ۔ یوں سلامتی کونسل کے اس دو گھنٹے سے زائد وقت کے اجلاس میں خوب گرما گرمی رہی ۔ ماسکو کی نمائندہ Vasily Nebenzia نے الزام لگایا کہ امریکا Kiev میں خالصتاً نازیوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو اس پر امریکی سفیر Linda Thomas Greenfield نے جواباً کہا کہ یوکرائن کی سرحدوں پر روس کی جانب سے ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت یورپ میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے سائبر حملوں اور غلط معلومات پھیلانے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وہ بغیر کسی حقیقت کے ہی یوکرائن اور مغربی ممالک کو حملہ آور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حملے کا بہانہ بنایا جا سکے۔ اس کے جواب میں روسی سفیر نے مغرب پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ہمارے مغربی ساتھی کشیدگی میں کمی کی ضرورت کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم، سب سے پہلے، وہ خود ہی کشیدگی اور بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ تھوڑا پیچھے جائیں تویوکرائن 1991تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یوکرائن میں رہنے والے روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے ان کے روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ یوں روس یوکرائن کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے۔ روس کا خیال ہے کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی مزید اسلحہ اسکی سرحد کے پاس اکٹھا کریں گے۔ دیکھا جائے تو افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ روس کو اور چین کو قابو میں کرنے کیلئے ایشیاء بحرالکاہل کے خطے سمیت بلقان ملکوں کے علاوہ وسط ایشیاء میں بھی پیر جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر روس اور چین ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ دونوں امریکی اتحادیوں کو سبق بھی سیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے روس نے یوکرائن سمیت یورپ اور چین نے بھارت سمیت تائیوان کو خوب ٹائٹ کیا ہوا ہے

  • انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مافیا، تحریر:عفیفہ راؤ

    انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مافیا، تحریر:عفیفہ راؤ

    ویسے توبحیثت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جس نے یہ دنیا بنائی ہے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمارا مالک ہے ہماری زندگی اور موت کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اس کا حکم نہ ہوکسی جاندار کو موت نہیں آسکتی اور موت کا جب وقت لکھا ہو تو اس کو اللہ کے علاوہ کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک کارٹل مافیا ایسا بھی ہے جو کہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ انسانوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوششوں میں ہے۔ یہ مافیا طے کرتا ہے کہ اگر ایک بار کوئی بیماری انسان کو ہو جائے تو اس کے بعد کیسے انسان کو مرتے دم تک دوائیوں کے چنگل میں پھنسا کر رکھنا ہے۔

    یہ کارٹل کیسے کام کرتا ہے؟میں نے آپ کو ایک ویڈیو میں الیکٹرک بلب اور مشینری بنانے والے کارٹل کے بارے میں بتایا تھا کہ کیسے جان بوجھ کر ایسیElectronic machinesبنائی جاتی ہیں جو کہ چند سال بعد خود بخود Expireہو جاتی ہیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور اس کے بعد ہمیں مجبور ہو کر اس مشین کو پھینکنا پڑتا ہے اور نئی مشین خریدنی پڑتی ہے۔ اور اب جس فارما کارٹل کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ یہی کام انسانوں کے ساتھ کررہے ہیں ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ چند ادویات اور ویکسینز بنانے والی کمپنیاں اب یہ طے کر رہی ہیں کہ دنیا میں کتنے فیصد لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے اور کتنے فیصد لوگوں کو مر جانا چاہیے۔ جس کی وجہ سے یہ کارٹل خطرناک حد تک پاورفل ہو چکا ہے کہ حکومتیں بھی ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ فارما کارٹل کیسے یہ سب کر رہا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟اور یہ آنے والے وقت میں عام انسانوں کے لئے کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں؟اور کوئی بھی حکومتیں اب تک ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ سب سے پہلے امریکہ کی ایک مثال سے شروع کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایک شخص ہے جس کا نام Martin Shkreliہے۔ یہ Vyera Pharmaceuticals LLCکا سی ای او رہا ہے اس کے علاوہ اس نے Bio technology company Ritrofinبنائی۔ یہ Toring Pharmaceuticalsکا بھی مالک ہے لیکن اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ He used to be America’s most hated manاب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک دوائیاں بنانے والی کمپنی کے مالک نے ایسا کیا کیا کہ لوگوں کو اس سے نفرت ہو گئی۔دراصل ایک دوائی ہے Daraprimجو کہ ملیریا کے علاج کے لئے بہت اہم ہے۔ ایک وقت تھا جب اس دوائی کی قیمت 13.50$تھی۔ اب ہوا یہ کہMartin shkreliکی کمپنی نے یہ دوائی بنانے کا لائسنس حاصل کیا اور اس دوائی کی قیمت کو پانچ ہزار گنا تک بڑھا کر 750$کردیا۔ جس پر ڈاکٹرز، Law makersاور عام انسان سب کو بہت زیادہ تشویش ہوئی اور اس کے خلاف امریکہ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ آخر قانون حرکت میں آیا اس شخص کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور اسے سات سال کی جیل ہوئی۔ لیکن حال ہی میں اس نے 40 million dollarsادا کرکے اپنے اوپر لگے Allegationsکو Settleکرلیا ہے۔

    اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اس نے عام ادویات بنانے والوں کے ساتھ غیر قانونی معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ ادویات کی قیمت میں اضافے کے بعد دوائی کے سستے ورژن کو مارکیٹ میں لانے میں دیر کی جا سکے اور لوگوں کو مجبورا مہنگی دوائی خریدنی پڑے۔اور جب میڈیا کی جانب سے اس شخص سے قیمتیں بڑھانے پر سوالات کئے گئے تو ان کے جواب میں بھی اس نے صاف صاف کہا کہ میں قیمتوں میں ضرور اضافہ کروں گا تاکہ میں منافع کما سکوں۔اوریہ
    Martin shkreliتو صرف ایک مثال ہے اصل میں فارما انڈسٹری کا پورا نظام ہی اسی طرح سے کام کرتا ہے۔ ان کا کام لوگوں کی بیماریوں سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانا ہے۔ اور یہ وہ انڈسٹری ہے جس کا واسطہ ہر ایک انسان سے ہے وہ چاہے امیر ہو یا غریب۔۔ انسان کی عمر کوئی بھی ہو اس انڈسٹری سے واسطہ پڑنا لازمی ہے۔ اس لئے یہ فارما کمپنیاں اب اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ حکومتوں کے لئے بھی ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سب سے پہلے ڈاکٹرز کو اپنے شکنجے میں لیتی ہیں ان کو مراعات دیتی ہیں اور جب ایک ڈاکٹر مریض کو یہ کہتا ہے کہ یہ دوا استعمال کرکے آپ کی جان بچ سکتی ہے تو اس انسان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ان ادویات کا استعمال کرے اس طرح یہ کپمنیاں ڈاکٹرز کے زریعے اپنی ادویات بکواتی ہیں۔ اپنی ادویات کی افادیت کے بارے میں اچھی اچھی خبریں چلواتی ہیں جس سے عام انسان کو لگتا ہے کہ بس اب اس کی زندگی انہیں دوائیوں کے سہارے چل سکتی ہے جس کے بعد وہ اس شکنجے میں ایسا پھنستا ہے کہ مرنے کے بعد ہی اسے ان سے نجات ملتی ہے۔اس کی بہترین مثالOpioidsکی ہے جو کہ ایک Pain killerہے اور اس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ہیروئین کی طرح کام کرتی ہیں یہ آپ کی تکلیف کو دور نہیں کرتی بلکہ آپ کے محسوس کرنے کی حس کو بلاک کرتی ہے جس سے صرف آپ کو محسوس ہونا بند ہو جاتا ہے کہ آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ شروع میں امریکہ میں اس بات پر خاصCheck and balanceرکھا جاتا تھا کہ یہ Pain killersلوگوں کو ضرورت سے زیادہ Prescribed
    نہ کی جائے۔ لیکن 1990کے بعد ان بڑی فارما کمپنیوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ یہ Addictiveنہیں ہیں۔ ایک بڑی امریکی فارما کمپنی Purdue pharmaجس کی Opioid drug کا نام OxyContinتھا انہوں نے اپنے Salerepresentatives
    پورے امریکہ میں پھیلا دئیے جو صرف ڈاکٹرز کے پاس جاتے اور ان کو اس بات پر Convinceکرتے کہ یہPain killers
    نقصان دہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو استعمال کرنے سے کوئی Addictionہوتی ہے جبکہ اس دعوے کو کبھی کسی ڈاکٹر یا ریسرچر نے کراس چیک نہیں کیا کہ اس میں کتنی صداقت ہے صرف کمپنی کی جانب سے بھیجے گئے Sale representatives کی بات پر ہی یقین کر لیا گیا اور 1997میں جہاں اس دوائی کے 670,000 prescription لکھے جا رہے تھے ان کی تعداد 2002تک بڑھ کر 6.2 millionتک پہنچ گئی۔ یعنی اس میں دس گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اور اس طرح صرف اس ایک دوائی سے Purdue pharma نے30 billion dollarsکا منافع کمایا۔Purdue pharmaکے علاوہ Johnsons & johnsonsاورTevaکمپنی کی Pain killersنے جو منافع کمایا وہ الگ تھا۔ اور آہستہ آہستہ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ
    2012تک ایک سال میں صرف امریکہ میں 255 millionPrescriptionsمیں یہ دوائیاں لکھ کر مریضوں کو دی گئیں۔ جس کا رزلٹ یہ ہوا کہ ہزاروں لوگ کو اس کی لت پڑ گئی وہ اس کے Addictہو گئے۔ اور انہوں نے ضرورت سے زیادہ اس کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ Over doseکی وجہ سے1999سے2016کے درمیان453,300امریکی ان گولیوں کے استعمال کی وجہ سے مارے گئے۔

    2019میں 71000لوگوں کی Opioids drug کےOver doseکی وجہ سے ڈیتھ ہوئی۔ اور جب لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہوا تو انہوں نے Purdue pharmaپر Law suit fileکرنا شروع کر دئیے۔ لیکن کمپنی نے اپنے اکاونٹ سے 10.8 billion dollars shiftکرکے اس کو دیوالیہ ڈکلئیر کر دیا گیا اور کمپنی مالکان نے صرف 4.5 billion dollarجرمانے کی رقم ادا کرکے اپنی جان چھڑا لی اور اتنے بڑے ظلم کے باوجود ان کو کوئی سزا نہیں سنائی گئی صرف جرمانہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔
    اور صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ فارما کارٹل اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کسی بیماری کے علاج کے لئے ایسی ادویات بھی ریگولیٹری اتھارٹیز سے Approveکروا لیتے ہیں جو کہ علاج میں اتنی زیادہ کارآمد بھی نہیں ہوتیں۔ اور بغیر ٹیسٹ کے یہ دوائیں نہ صرف پاس ہو جاتیں ہیں بلکہ سیل بھی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔Bioginکمپنی کی دوا Aduhelmاس کی بہترین مثال ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ Alzhimer کے علاج کے لئے بہترین ہے لیکن جب کچھ عرصے بعد اس پر ریسرچ کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ دعوی غلط ہے۔ وہ کمیٹی جس کے سامنے اس دوا کو Approvalکے لئے پیش کیا گیا تھا اس کے گیارہ ممبر تھے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اس کو پاس کرنے کے حق میں نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ دوا پاس ہو گئی جس کے بعد اس کمیٹی کے تین ممبرز نے احتجاجا اس کمیٹی سے استعفی بھی دے دیا تھا۔اور جب اس معاملے کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ایف ڈی اے جو کہ ان فارما کمپنیوں کے لئے Watch dogکا کام کرتی ہے اس کے کل بجٹ کا 45%حصہ انہیں فارما کمپنیوں کی فنڈنگ سے آتا ہے جس کی وجہ سے ان کو ایف ڈی اے میں اتنا اثر و رسوخ ہے کہ کمیٹی کے انکار کے باوجود کوئی مشکل نہیں کہ وہ اپنی ادویات کو آسانی کے ساتھApproveکروا سکتیں ہیں۔ اور یہ سب سامنے آجانے کے بعد بھی ابھی تک امریکہ میں یہی سسٹم چل رہا ہے کیونکہ ان فارما کمپنیوں کا اثرورسوخ صرف ایف ڈی اے تک نہیں ہے بلکہ امریکی
    Lawmakerتک بھی ہے جو ان کی مرضی کے خلاف کوئی قانون نہیں بناتے۔ یہاں تک کہ امریکی سیاستدانوں کی الیکشن کمپئین کو بھی یہ فارما کمپنیاں سپانسر کرتی ہیں۔2020میں ہونے والے امریکی الیکشن میں ان کمپنیوں کی طرف سے گیارہ ملین ڈالر کی فنڈنگ کی گئی تھی۔ اور اس سے بھی کہیں زیادہ رقم یہ کمپنیاں اپنی لابنگ پرخرچ کرتی ہیں۔ لیکن اپنی فنڈنگ اور لابنگ کی وجہ سے یہ کمپنیاں اتنی آزاد ہیں کہ یہ اپنی ادویات کی قیمتوں کا تعین خود کرتی ہیں ان کو کوئی پوچھ نہیں سکتا۔

    اور یہ وہ تمام ہتھکنڈے ہیں جن کے تحت یہ فارما کارٹل کام کرتا ہے۔ یہ جس بیماری کا علاج چاہیں سستا کر دیں اور جس بیماری کا چاہیں علاج اتنا مہنگا کر دیں کہ کوئی عام انسان وہ علاج کروا ہی نہ سکے۔ اورایک عام غریب انسان اگر دوائی مہنگی ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر مر بھی رہا ہے تو ان کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ ان کا کام منافع کمانا ہے۔ اب پچھلے دو سالوں میں جو کچھ ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ کرونا آنے کے بعد کس تیزی کے ساتھ مختلف کمپنیاں اس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہو گئیں اور دنیا میں شاید ہی کسی بیماری کی ویکسین اتنے کم عرصے میں بنی ہو گی جتنے کم ٹائم میں کرونا کی ویکسین تیار کر لی گئی اور پھر حکومتوں کو استعمال کرتے ہوئے بڑی چالاکی کے ساتھ ان فارما کمپنیوں نے یہ لازمی کروا لیا کہ ہر ایک انسان کو یہ ویکسین لگوائی جائے پہلے اس کی ایک ڈوز لگائی گئی پھر دوسری۔۔۔ لیکن اب جس طرح سے اومی کرون کے کیسز بڑھ رہے ہیں تو اس سے بچاو کے لئے جو لوگ پہلے ویکسین لگوا چکے ہیں ان کو اب بوسٹر شاٹس لگائے جا رہے ہیں اور یہاں تک بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اگر ہمیں خود کو کرونا وائرس اور اس کی مختلف اقسام سے بچانا ہے تو ایک مختصر وقفے کے بعد مستقل بنیادوں پر یہ بوسٹر شاٹس ہمیں باقاعدگی سے لگوانے ہوں گے۔ اور اس کے بدلے میں ہو یہ رہا ہے کہ ان فارما کمپنیوں کا کاروبار بڑھ رہا ہے یہ کمپنیاں پیسہ بنا رہی ہیں۔ دولت کی ایک غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے یہ اپنی ہر طرح کی شرائط حکومتوں سے منوا رہی ہیں۔ اپنی مرضی کی پالیسیاں لاگو کروانے کے لئے یہ کمپنیاںSecret dealsتک کر رہی ہیں لیکن ایک عام انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اس فارما کارٹل سے۔۔۔ انہیں کی شرائط پر۔۔۔ ان کی ادویات اور ویکسینز خریدیں اور استعمال کریں۔ یہ وہ اصل طاقت ہے جو یہ کمپنیاں حاصل کر چکی ہیں جس کے زریعے اب یہ لوگوں کی زندگیوں اور موت کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اور یہ کسی ایک ملک میں نہیں ہو رہا بلکہ ہرایک ملک میں اس کارٹل کی جڑیں خطرناک حد تک مضبوط ہو چکی ہیں

  • 15 نشانیاں جو آپ کا مرد ساتھی آپ کو پسند کرتا ہے۔

    15 نشانیاں جو آپ کا مرد ساتھی آپ کو پسند کرتا ہے۔

    دفتر ہمیشہ سرگرمی اور توانائی سے بھرا رہتا ہے، یہ کسی کو دلچسپ تلاش کرنے کے لیے ایک اچھی جگہ بناتا ہے۔ کام کی جگہ پر کسی کی طرف متوجہ ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، اس وقت آپ جو وہاں گزارتے ہیں۔ تاہم، کام کی جگہ کے تعلقات آپ کے معمول کے تعلقات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اس لیے زیادہ احتیاط سے چلنا ضروری ہے۔ کیا آپ سوچ رہے ہیں کہ کیا کوئی مرد ساتھی آپ کی طرف راغب ہوتا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایک مرد ساتھی آپ کو پسند کرتا ہے؟ کیا آپ یہاں ہیں کیونکہ آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کون سے نشانات یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرد ساتھی کارکن آپ میں ہے؟

    ٹھیک ہے، اگر کوئی مرد ساتھی کارکن آپ کو پسند کرتا ہے، تو یہ آپ کے لیے الجھن کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر ساتھی ایک دوسرے کے لیے مددگار ہوتے ہیں اور کام کی جگہوں پر بہت سے مضبوط دوستیاں کھلتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی مرد ساتھی آپ کو معمول سے زیادہ توجہ دے رہا ہے، تو وہ آپ میں دلچسپی لے سکتا ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آپ کے بھی ایسے ہی احساسات ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ جاننا چاہیں کہ کیا آپ اس کے رویے کی صحیح ترجمانی کر رہے ہیں اس سے پہلے کہ یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ آپ کا مرد ساتھی آپ کو پسند کرتا ہے۔ کسی بھی صورت میں، ایک غلط اقدام نہ صرف اس کے ساتھ آپ کے رشتے یا دوستی کو بلکہ آپ کی پیشہ ورانہ زندگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے، اس مضمون کو پڑھنے کے بعد آپ باخبر فیصلہ کر سکیں گے۔
    عام طور پر، آپ کو پسند کرنے والے لڑکے کی علامات آپ کو پسند کرنے والے مرد ساتھی کی علامات سے کافی ملتی جلتی ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو سبوتاژ کرنے کے خوف سے آپ سے رابطہ کرنے میں اتنا آگے نہ ہو۔ اپنے آپ کو ایک سیکنڈ کے لیے اس کے جوتوں میں رکھیں، وہ زیادہ سے زیادہ پیشہ ورانہ اور قابل احترام بننا چاہتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ وہ آپ کو یہ بتانے میں شرم محسوس کرے کہ وہ آپ کو پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علامات کو دیکھنا ضروری ہے جو آپ کے ساتھی کارکن آپ کے لیے جذبات رکھتے ہیں۔
    آپ ایک ساتھی ہو سکتے ہیں یا آپ درجہ بندی میں مختلف پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی، جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ وہ آپ کو پسند کرتا ہے، آپ کو کسی چیز کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ "کیا میرا مرد ساتھی مجھے پسند کرتا ہے؟” کیونکہ اس نے آپ کو وہ فائل تھوڑی بہت اچھی طرح سے سونپی ہے، آپ شاید اپنے ہی دماغ میں گم ہو جائیں۔
    پیشہ ورانہ تعلقات کھٹے اور بدصورت ہو سکتے ہیں اگر آپ کسی آدمی کے دوستانہ رویے کی غلط تشریح کرتے ہیں اور انہیں چھیڑ چھاڑ کے برابر کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایسی کسی بھی قبل از وقت حرکت کے نتیجے میں آپ کی یا اس کی نوکری بھی آن لائن ہو سکتی ہے۔ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے، آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آیا آپ ان علامات کی صحیح تشریح کر رہے ہیں جو کام پر آدمی آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور اگر آپ اس کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے اور یہاں تک کہ کام کی جگہ پر رومانس کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    1. وہ آپ سے نظریں نہیں ہٹا سکتا
    کام کی جگہ پر باڈی لینگویج ارادوں کو بہت مؤثر طریقے سے بتاتی ہے۔ آپ کو ایک دو دن تک اس کا مشاہدہ کرنا پڑے گا، لیکن آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ آپ کے بارے میں کیا سوچ سکتا ہے۔

    کیا آپ دیکھتے ہیں کہ وہ مسلسل آپ کی طرف دیکھ رہا ہے؟ شاید ہال بھر سے یا اجلاسوں کے دوران؟ جب آپ دونوں ایک ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں، تو وہ اپنی آنکھوں کے کونے سے آپ کو دیکھنے کا موقع نہیں گنواتا۔ اگر آپ کے مرد ساتھی کی نظریں ہمیشہ آپ کو ڈھونڈتی رہتی ہیں، تو یہ پہلی علامت ہے اور یہ جاننے کے لیے کہ وہ آپ کی طرف متوجہ یا دلچسپی لے سکتا ہے۔
    اگر آپ بھی اس کے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتے ہیں، تو اس پر زیادہ دیرپا اثر چھوڑنے کے لیے اپنے ڈریسنگ گیم کو تھوڑا سا بڑھانے پر غور کریں۔ لیکن اسے لطیف رکھیں۔ آپ مکمل تبدیلی کے ساتھ دفتر میں نہیں جانا چاہتے۔ یہ ایک مردہ تحفہ ہوگا۔ اس کے بجائے، چھوٹی لیکن قابل توجہ تبدیلیاں کریں۔ کچھ نئے ہونٹوں کے رنگوں کا آرڈر دیں جو آپ کے ہونٹوں کو تیز کریں اور انہیں ناقابل تلافی لگیں۔
    2. وہ آپ سے ٹکرانے یا آپ کے ساتھ کام کرنے کے طریقے تلاش کرے گا۔
    آپ دفتر میں جہاں بھی جائیں گے، آپ اسے آس پاس پائیں گے۔ ابتدائی طور پر، یہ ایک اتفاق ہو سکتا ہے اور اسے اس طرح ڈالنے میں خوشی ہوگی۔ لیکن آہستہ آہستہ، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ جب وہ آپ کے ساتھ انہی منصوبوں پر کام کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے یا آپ سے ٹکرانا کرتا رہتا ہے، چاہے یہ کیفے ٹیریا ہو یا اس وقت بھی جب آپ کسی دوسرے ساتھی کے آس پاس ہوں۔ اگر وہ آپ کے دفتر کے قریبی دوستوں کے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایک مردہ تحفہ ہوگا۔
    اگر وہ آپ کو دوپہر کے کھانے اور کافی کے لیے کمپنی دینے کے لیے موجود ہے، چاہے آپ نے اپنے معمول کے اوقات بدل لیے ہوں، تو یہ واضح ہے کہ یہ آدمی آپ کو کام پر پسند کرتا ہے۔ اگر آپ اسے اکثر دیکھتے ہیں، تو ہمارے پاس آپ کے لیے ایک زبردست چال ہے۔ اپنے آپ کو ایک پریمیم پرفیوم حاصل کریں جو آپ کی دستخطی خوشبو سے مختلف ہو۔ اس طرح، آپ اُس کے پیچھے سے گزر کر اُس کو اُکسا سکتے ہیں، اُس کے پیچھے اٹل پگڈنڈی چھوڑ کر۔
    3. یہ مرد ساتھی ہمیشہ آپ کی مدد کے لیے بے تاب رہتا ہے۔
    لہذا آپ کے پاس ایک بہت مددگار ساتھی ہے، جو آپ کے کاموں کو مکمل کرنے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ وہ آپ کی مدد کے لیے ہمیشہ موجود ہے۔ نہ صرف مدد، بلکہ وہ آپ کی رہنمائی کرے گا یا آپ کو نوکری یا دفتر کے کچھ اچھی طرح سے محفوظ رازوں سے آگاہ کرے گا۔ درحقیقت، وہ آپ کو دوسرے ساتھیوں سے مدد مانگنے سے بھی روک سکتا ہے۔ یہ آپ کا اشارہ ہونا چاہیے کیونکہ بے لوث لوگ کم ہی ملتے ہیں۔ اپنے کیوبیکل دوست کو رومانس کرنا مشکل نہیں ہے جب آپ اسے مددگار حیرتوں کے ساتھ ملائیں۔
    اگرچہ یہ ذہن میں رکھیں کہ وہ شاید کوئی ایسا شخص ہو جو عام طور پر مددگار ہو۔ اگر ایسا ہے تو، اس کا لازمی طور پر مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے ساتھی کارکن آپ کو پسند کرتے ہیں۔ اس بات کا جواب کیسے بتایا جائے کہ اگر کوئی لڑکا آپ کو کام پر پسند کرتا ہے تو وہ واقعی سمائلیز میں نہیں مل سکتا اور "مدد کرنے میں ہمیشہ خوش” وہ اپنے کام کی ای میلز کو ختم کرتا ہے، آپ کو اس سے تھوڑا گہرائی میں دیکھنا ہوگا۔
    اگر وہ آپ کی مدد کرنے کے لیے اپنے راستے سے ہٹ رہا ہے، تب ہی آپ کو معلوم ہوگا کہ یہاں کچھ ہے۔ ایک سادہ متن یا ایک ای میل یا 5 منٹ کا احسان درحقیقت ان بہترین علامات میں سے ایک نہیں ہے جو ایک مرد ساتھی کارکن آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ کسی ایسے پروجیکٹ میں آپ کی مدد کرنے کے لیے آپ کے ساتھ دیر کر رہا ہے جس سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ گھر واپسی پر آپ کے بارے میں بھی سوچے گا۔
    4. نشانیاں کہ آپ کے ساتھی کارکن آپ کے لیے جذبات رکھتے ہیں: وہ ہر تفصیل کو نوٹ کرتا ہے۔
    ہو سکتا ہے کہ اس کی یادداشت مضبوط نہ ہو، لیکن وہ آپ کی کہی ہوئی ہر بات یا آپ کی ہر چیز کو یاد رکھتا ہے۔ شاید ایک دن آپ نے اس کے پسندیدہ رنگ کا لباس پہنا ہو اور اس نے کچھ دیر بعد گفتگو میں اس کا ذکر کیا ہو۔ وہ بڑی چیزیں نہیں ہوسکتی ہیں، لیکن بہت چھوٹی تفصیلات جیسے جوتے آپ پہنتے ہیں یا ایک کڑا جسے آپ عام طور پر پہنتے ہیں لیکن کسی دن بھول گئے اور وہ اس کے بارے میں پوچھتا ہے۔
    اس بات کا یقین نہیں ہے کہ آیا وہ واقعی آپ پر توجہ دے رہا ہے یا آپ اسے اپنے دماغ میں پکا رہے ہیں کیونکہ آپ کو اس کے لئے جذبات ہیں؟ ٹھیک ہے، اپنے لباس کے بارے میں چیزوں کو تھوڑا سا ملانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ عام طور پر کام کرنے کے لیے پتلون پہنتے ہیں، تو چند پنسل اسکرٹس کا آرڈر دیں۔ یا اپنی دھاری دار قمیضوں کو فینسیر سلک سے بدل دیں۔ اگر وہ اسے فوری طور پر دیکھ لیتا ہے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کا اندازہ درست ہے۔ وہ آپ پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے۔
    5. وہ ہمیشہ کام سے باہر چیزوں کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
    وہ ان موضوعات کو تلاش کرے گا جن کے بارے میں آپ بات کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ ان پر بات چیت شروع کرنے کے لئے آس پاس آئے گا۔ صرف کام کے بارے میں بات کرنے سے اسے آپ کے آس پاس رہنے کے لئے کافی وقت نہیں مل سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کرتے ہیں۔ اس لیے ان بات چیت کا آغاز کرنا آپ کو بہتر طریقے سے جاننے اور آپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا طریقہ ہے۔
    یہ کسی بھی سماجی مسائل، قریبی فروخت، بہترین ریستوراں یا آپ کی دلچسپی کے بارے میں ہو سکتا ہے۔ وہ آپ کے بارے میں ایک شخص کے طور پر مزید جاننا چاہتا ہے، نہ کہ صرف ایک ساتھی کارکن۔ بعض اوقات وہ اس کے برعکس بھی کر سکتا ہے، ان چیزوں کے بارے میں بات چیت شروع کر دیں جو آپ کو پسند نہیں ہیں کیونکہ آپ ان موضوعات کے خلاف مزاحمت نہیں کر سکتے اور آپ بحث میں کود پڑیں گے۔
    ایک دن تصور کریں کہ آپ اسے کہیں گے کہ آپ کتابوں میں ہیں، اگلے دن وہ آپ کے پسندیدہ مصنف کا ناول اپنے ہاتھ میں لے کر کام کرنے آئے گا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ آپ اس کی میز پر کتاب دیکھ سکتے ہیں۔ وہ آپ سے بات کرنے کے لیے جو کوششیں کرتا ہے وہ اس بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے کہ آپ کا مرد ساتھی آپ کو کتنا پسند کرتا ہے۔
    6. وہ آپ کو لاڈ پیار کرتا ہے اور آپ کے ساتھ کسی اور سے بہتر سلوک کرتا ہے۔
    ایسا لگتا ہے کہ وہ دوسرے ساتھی کارکنوں سے بھی بخوبی واقف ہے، لیکن آپ اسے انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نہیں دیکھتے ہیں۔ لیکن جب آپ کی بات آتی ہے تو کھیل بدل جاتا ہے۔ وہ آپ کے لیے چاکلیٹ یا پیسٹری لے کر آئے گا اور کہے گا کہ میں ابھی وہاں سے گزر رہا تھا اس لیے آپ کے لیے یہ لانے کا سوچا۔
    وہ کبھی کبھی آپ کے لیے کافی بھی لے سکتا ہے۔ یا اگر آپ کام سے دلدل میں ہیں، تو وہ آس پاس آئے گا اور آپ کو ان وقفوں کی یاد دلائے گا جو آپ کو لینے کی ضرورت ہے۔ وہ چاہے گا کہ آپ وقفے کے دوران بھی اس کے ساتھ وقت گزاریں۔ ہاں، جان، آپ کا مرد ساتھی آپ میں ضرور ہے۔
    دوسری طرف، یہ اتنا ہی شرمناک ہو سکتا ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس نے آپ کو جو کافی لی ہے وہ سب سے بڑی علامتوں میں سے ایک تھی جو کہ ایک مرد ساتھی کارکن آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، لیکن پھر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ ہر ایک کے لیے کافی لے رہا ہے کیونکہ یہ صرف اس قسم کا شخص ہے۔ وہ ہے. تو اپنے اونچے گھوڑے پر بیٹھنے سے پہلے یہ سوچ کر کہ "کیا میرا مرد ساتھی مجھے پسند کرتا ہے؟” صرف اس وجہ سے کہ اس نے آپ کو کافی دی، نوٹس کریں کہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
    7. وہ تمام چھوٹی بڑی چیزوں کے لیے آپ کی تعریف کرتا ہے۔
    "آپ آج بہت اچھے لگ رہے ہیں، یہ رنگ آپ پر بہت اچھا لگتا ہے۔” "میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنے بالوں کو مختلف طریقے سے پہنا ہوا ہے، یہ اچھا ہے۔” "کیا آپ نیا پرفیوم لگا رہے ہیں؟ بڑی خوشبو آ رہی ہے۔” یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جو ایک غیر دلچسپی رکھنے والا ساتھی کارکن آپ کو دیکھے گا اور آپ کی تعریف کرے گا، اس لیے اس پر نظر رکھیں کہ وہ آپ کو کس قسم کی تعریفیں دیتا ہے۔
    اگر وہ آپ کے بالوں یا بالیوں میں فرق محسوس کرتا ہے جو آپ کام کرنے کے لیے پہنتے ہیں، تو اس بارے میں کوئی بحث بھی نہیں ہوتی کہ آیا یہ اس علامت میں سے ایک ہے کہ ایک مرد ساتھی کارکن آپ کو پسند کرتا ہے یا نہیں۔ جب تک کہ وہ میک اپ انڈسٹری میں نہیں ہے اور ہیئر اسٹائلسٹ بننا چاہتا ہے، امکانات ہیں، وہ اس بات کو نوٹ کر رہا ہے کہ آپ کس طرح کا لباس پہننا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ سے نظریں نہیں ہٹا سکتا۔
    یہ ایک بہت واضح نشانی ہے۔ اگر کوئی لڑکا اکثر آپ کی تعریف کرتا ہے، تو وہ واضح طور پر آپ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ کہو کہ آپ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ایک گروپ کے ساتھ لنچ کر رہے ہیں، پھر بھی اس سے اس کا دماغ پھسل جاتا ہے اور لاشعوری طور پر وہ آپ کی تعریف کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتا۔ وہ دفتری کاموں میں آپ کی اچھی کارکردگی کی تعریف بھی کر سکتا ہے۔ یہ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ مرد ساتھی کارکن آپ کو کتنا پسند کرتا ہے۔

    8. وہ دفتر کے بعد آپ کے ساتھ باہر جانا چاہتا ہے۔
    آپ کے پاس ایک بانڈ ہے جو دفتر سے باہر بھی پھیلا ہوا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ آخر کار ہمارے ساتھی آہستہ آہستہ ہمارے دوست بن جاتے ہیں۔ لیکن جب بھی وہ آپ سے دفتر کے بعد منصوبوں کے بارے میں پوچھتا ہے، تو وہ چاہتا ہے کہ یہ صرف آپ دونوں ہی ہوں۔ یہ کبھی بھی دوستوں کا گروپ نہیں ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ آپ کے ارد گرد لوگوں کے گروپ کی بجائے صرف آپ کے ساتھ فلم، کافی یا رات کا کھانا چاہے گا۔ آپ لوگ بہت زیادہ ٹیکسٹ کرتے ہیں، دفتر کے بعد آپ کی فون پر بات چیت ہوتی ہے جہاں وہ واضح طور پر "کوئی دکان پر بات نہیں” کا ذکر کرتا ہے۔

    ہوشیاری سے اسے ایک تبدیلی میں ڈالتے ہوئے، وہ کہہ سکتا ہے کہ "یہ زبردست نئی کافی شاپ ہے جو قریب ہی کھلی ہے، کیا آپ اسے میرے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں؟” یہاں جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ صرف آپ دونوں میں سے ہو۔ اس طرح یہ بتانا ہے کہ آیا کوئی لڑکا آپ کو کام پر پسند کرتا ہے یا نہیں۔
    9. وہ بہت فلرٹ کرتا ہے۔
    چھیڑ چھاڑ ایک اور واضح نشانی ہے اور تمام لڑکیوں کی طرح آپ اسے بہت مؤثر طریقے سے پڑھ سکتے ہیں۔ وہ آپ کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنگ کرے گا، آپ کو ناراض کرے گا، اور پھر اسے آپ تک پہنچانے کے لیے خوبصورت طریقے تلاش کرے گا۔ وہ آپ کو ہنسانے کے لیے بہت سے لطیفے سنائے گا، کبھی کبھی وہ آپ کو مسکرانے کے لیے خوش کن تعریفیں بھی دے گا۔
    اگر آپ اب بھی اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں "کیا میرا مرد ساتھی مجھے پسند کرتا ہے؟” جب وہ آپ کے ہنسنے کے انداز کو پیارا کہتا ہے، تو ہو سکتا ہے آپ ان تمام علامات کو نظر انداز کر رہے ہوں جو آپ کے ساتھی کارکن کے آپ کے لیے جذبات ہیں۔ جی ہاں، مسلسل تعریفیں اور ہنسی اور مسکراہٹ جو وہ آپ کو دیتا ہے وہ چھیڑچھاڑ کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے، لہذا اس پر آنکھیں بند نہ کریں۔
    اگر یہ صرف آپ ہی ہیں جس کے ساتھ وہ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، تو اس کے ارادے صاف ہیں۔ وہ آپ میں دلچسپی رکھتا ہے، چاہے وہ آپ سے کام کی جگہ پر ملا ہو۔ یہ بالکل واضح نشانی ہے کہ آپ کا ساتھی کارکن آپ کو پسند کرتا ہے۔
    10. وہ ایک شخص کے طور پر آپ کی تعریف کرتا ہے۔
    وہ اکثر اس بات کا ذکر کرے گا کہ آپ کی شخصیت کی کون سی خصوصیات اسے پسند ہیں، اور وہ ایسی باتیں کہے گا – اس نے آپ جیسی لڑکی کبھی نہیں دیکھی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کی ذہانت، مضبوطی، یا بہت سی دوسری چیزوں کی تعریف کرے۔ وہ اس بارے میں بات کرے گا کہ آپ نے اسے کبھی کبھار اچھا کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔
    اگر آپ کام میں اس سے برتر ہیں، تاہم، وہ شاید اضافے کے بعد ہی ہو گا۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے اعمال سے یہ واضح ہے کہ وہ آپ سے کچھ فائدہ حاصل کرنے کے لیے آپ کی تعریف نہیں کر رہا ہے، اور یہ کہ اس کا حقیقی مطلب ہے۔ ایک تعریف اس سے پہلے کہ وہ آخرکار کہے "تو، کیا آپ اس ہفتے کے آخر میں میرے لیے کور کر سکتے ہیں؟” واقعی ایک تعریف نہیں ہے.
    11. وہ آپ کی حفاظت کرتا ہے۔
    آپ ایک میٹنگ میں ہیں اور آپ اپنے خیالات پیش کرتے ہیں، لیکن وہ عوام کی طرف سے مسترد کر دیتے ہیں اور یہاں تک کہ جب وہ جانتا ہے کہ یہ خیال کافی اچھا نہیں ہے، تو وہ بات چیت کے دوران اس کی حمایت کرے گا۔ وہ آپ کا دفاع کرتا ہے یا جلسوں یا مباحثوں میں عوام میں آپ کے نقطہ نظر کی حمایت کرتا ہے۔
    یا وہ آپ کی مدد کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کی رہنمائی کرے گا اگر اسے لگتا ہے کہ آپ میٹنگ کے دوران موضوع سے ہٹ رہے ہیں۔ آپ اسے ہمیشہ آپ کو بچانے کے لیے اپنے آس پاس پائیں گے کیونکہ وہ آپ کی طرف متوجہ ہے اور آپ کو بے حد پسند کرتا ہے۔
    12. اگر آپ اپنا کام بدلنے کی بات کرتے ہیں تو وہ گھبرا جاتا ہے۔
    کام پر ایک برے دن کے بعد، آپ ظاہر ہے کہ اچھا محسوس نہیں کرتے۔ اگر آپ کا کام پر اچھا دن نہیں گزرا تو وہ آپ کو ہمدردی اور تسلی دے گا۔ وہ آپ کو اچھا محسوس کرنے یا آپ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ادھر ادھر رہے گا۔ اگر آپ اپنی موجودہ نوکری چھوڑنے اور دوسری تلاش کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو وہ پریشان ہو جائے گا۔
    13. وہ آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔
    وہ آپ کی پیشہ ورانہ زندگی سے زیادہ آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں متجسس ہے۔ وہ آپ کی ذاتی زندگی کو کثرت سے پیش کرنے کے بہانے تلاش کرے گا۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ آپ کے تعلقات کی حیثیت کیا ہے یا اگر آپ کام سے باہر کسی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
    جلد ہی وہ آپ کے خاندان، دوستوں اور آپ کی ذاتی زندگی کی دیگر تفصیلات کے بارے میں سب کچھ جان لے گا۔ "تو تم تفریح ​​کے لیے کیا کرنا پسند کرتے ہو؟” اس کے بعد صرف آپ کے بارے میں 2 گھنٹے طویل گفتگو ہوتی ہے جو لوگ کسی کے ساتھ نہیں کرتے جس میں انہیں دلچسپی نہ ہو۔ ساتھی کارکن آپ کے لیے جذبات رکھتا ہے۔
    14. آپ دوسرے لڑکوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے ناراض کر دیں گے۔
    جب بھی آپ اس کے ساتھ اپنی پسند کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو یہ اسے بے چین کر دیتا ہے۔ وہ حسد کرتا ہے؛ یا تو وہ موضوع سے گریز کرتا ہے یا جب بھی ایسے عنوانات شروع ہوتے ہیں تو وہ گفتگو سے معذرت کر لیتا ہے۔ کیونکہ وہ آپ کو کسی اور کے ساتھ تصور نہیں کرنا چاہتا۔ آپ کا یہ خاص مرد ساتھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ آپ دفتر میں دوسرے مردوں کے ساتھ بھی دوستانہ گفتگو کریں۔ تو آپ کیسے بتائیں گے کہ اگر کوئی مرد ساتھی آپ کو پسند کرتا ہے؟ ٹھیک ہے، اگر کوئی دوسرا آدمی جب آپ کی میز کے قریب آتا ہے تو وہ جھنجھلاتا ہے، حالانکہ یہ کام کے لیے ہے، وہ یقیناً آپ کو پسند کرتا ہے۔
    15. آپ دیکھیں گے کہ آپ کے آس پاس اس کے دوست اسے چھیڑتے ہیں۔
    جب بھی آپ اس کے قریب ہوں گے، آپ دیکھیں گے کہ اس کے دوست اس کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں یا اسے بالواسطہ چھیڑ رہے ہیں۔ اس طرح کے لطیفے بہت عام ہوتے ہیں اور اگرچہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کو بالواسطہ چھیڑ رہے ہیں اور لڑکیاں شاید سمجھ نہ پائیں، لیکن اگر آپ سمجھنے میں کافی ہوشیار ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ اسے چھیڑ رہے ہیں اور یہ آپ کے بارے میں ہے۔
    اپنے ساتھی کارکن کے بارے میں ان علامات کو پڑھنے کے بعد، آپ کو کال کرنے کی ضرورت ہے۔ کام کے ساتھی کے ساتھ ڈیٹنگ کرنے کے کچھ کام ہیں اور نہ کرنا، یقینی بنائیں کہ آپ ان کا خیال رکھیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ خوش ہوں کہ یہ مرد ساتھی آپ کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ آپ کو آزماتا ہے۔ یہ دوسری طرح سے بھی ہوسکتا ہے: آپ اس حقیقت سے خوش نہیں ہیں کہ آپ کا مرد ساتھی آپ میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ آپ کو اس میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں تھی یا آپ کو پہلے ہی لے لیا گیا ہے۔

  • بریک اپ کے بعد کسی Ex کے ساتھ دوستی کرنا

    بریک اپ کے بعد کسی Ex کے ساتھ دوستی کرنا

    سابق کے ساتھ دوستی کرنے کا خیال ایک ایسی چیز ہے جسے لوگ اب بھی کانپتے ہیں یا سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے سابقہ ​​کے ساتھ دوستی کرتے ہیں تو یا تو آپ کو پہلے کبھی ان سے پیار نہیں ہوا یا پھر پہلے کی طرح ان کے دیوانے ہیں لیکن یقین کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ٹھیک ہے کہنے کے لئے معذرت، لیکن ان میں سے کوئی بھی سچ نہیں ہونا چاہئے۔ لوگ اور ان کے تعلقات کافی منفرد ہو سکتے ہیں اور ایسی چیزوں کے بارے میں ہر ایک سے یکساں طول موج پر رہنے کی توقع رکھنا ناانصافی ہے۔

    کیا آپ اپنے سابقہ ​​کے ساتھ دوستی کر سکتے ہیں؟ میں کہتا ہوں، ہاں، بالکل۔ یہ ناممکن یا دل کش یا خوفناک خیال نہیں ہے۔ اگر آپ کافی حد تک خود آگاہ ہیں اور صحیح فیصلے کرنے کے لیے اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہیں، تو کسی سابق کے ساتھ دوستی کرنا واقعی ممکن ہے اور درحقیقت آپ کے لیے بہت اچھا بھی ہو سکتا ہے۔
    "اگر آپ اب بھی اپنے سابقہ ​​کے ساتھ دوست ہیں تو یا تو آپ کبھی محبت میں نہیں تھے یا اب بھی ہیں۔” میں یہ اقتباس ہر جگہ تیرتا ہوا دیکھ رہا ہوں لیکن میں واضح طور پر نہیں جانتا کہ اس سے کیا بننا ہے، شاید اس لیے کہ میں احساسات اور رشتوں کو سیاہ اور سفید میں نہیں دیکھتا۔ میرا سابق – جو نام نہیں رکھنا چاہتا ہے – اب بھی میری زندگی کے سب سے اہم لوگوں میں سے ایک ہے اور میرا سب سے قریبی دوست ہے، حالانکہ ہمارا 16 سال قبل رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ جی ہاں، کسی سابق کے ساتھ دوستی کرنا بالکل ٹھنڈا ہے اور حقیقت میں ایسا ہوتا ہے!
    یہ آپ کے کالج کے باقاعدہ رومانس کے طور پر شروع ہوا تھا۔ ہم کالج کے پہلے دن ملے، اسے فوراً ہی ختم کر دیا، بہترین دوست بن گئے، اور اس سے پہلے کہ ہم یہ جانتے، ہم ایک جوڑے بن چکے تھے۔ لڑکا، کیا وہ واقعی جانتا تھا کہ کالج میں لڑکی کو کیسے آمادہ کرنا ہے؟

    اس کے طویل اور مختصر میں جانے کے بغیر، اگر ہمارے تین سالہ طویل تعلقات نے ہمیں کچھ سکھایا ہے، تو وہ یہ تھا – ہم دوست کے طور پر بہت اچھے تھے لیکن جوڑے کے طور پر خوفناک تھے۔ اور نہیں، یہ کوئی ‘خوشگوار’ بریک اپ بھی نہیں تھا۔ اس طرح کے بریک اپ کے بعد، میں نے کبھی نہیں سوچا کہ ‘کیا آپ اپنے سابقہ ​​کے ساتھ دوستی کر سکتے ہیں؟’ کا جواب درحقیقت ہاں میں ہو سکتا ہے۔
    جس طرح سے معاملات چل رہے تھے، مجھے یقین نہیں تھا کہ ہم دوبارہ کبھی بات کریں گے۔ ہمارا بریک اپ بدصورت، پرتشدد اور ہم دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ کہ ہمیں کلاس میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا تھا اور مل کر پروجیکٹس پر کام کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کچھ کیا تھا اس سے صحت یاب ہونے میں ہم نے اپنا وقت لیا۔ چھ ماہ۔ اور پھر، برف اپنے وقت پر ٹوٹ گئی، ایک بار جب ہم نے ایک دوسرے کو معاف کر دیا، آگے بڑھے اور دوسرے لوگوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔
    یہ قبول کرنے میں وقت لگا کہ ہم کامل جوڑے نہیں تھے۔
    میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہماری گفتگو ہمیشہ ہموار یا دوستانہ تھی۔ ماضی کے سائے اکثر چھپ جاتے ہیں، لیکن ہم نے دور دیکھنے کا انتخاب کیا، صرف اس لیے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنے رشتے سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یہ بالکل واضح تھا کہ ہمارا مقصد نہیں تھا، لیکن ایک ہی وقت میں، اس جیسے حیرت انگیز شخص کو چھوڑ دینا کوئی نقصان نہیں تھا جسے میں برداشت کرنے کو تیار تھا۔

    آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر، ہم اس جگہ میں واپس آ گئے جہاں سے ہم نے شروعات کی تھی – گرمجوشی، اعتماد، افہام و تفہیم اور باہمی احترام کا رشتہ جو سالوں سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے آس پاس کے لوگوں کا خیال تھا کہ ہم دوبارہ اکٹھے ہو جائیں گے لیکن اس بار، ہم بہتر جانتے تھے۔
    ہم دوبارہ وہی غلطی کرنے اور ہمارے پاس جو کچھ تھا اسے برباد کرنے والے نہیں تھے۔ ہم بحیثیت دوست بہترین فٹ بیٹھتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد یہی ہے۔ کسی سابق کے ساتھ دوستی تب ممکن ہے جب آپ کو اس بڑے پیمانے پر احساس ہوتا ہے – کہ بعض اوقات آپ شراکت دار بننے سے بہتر ہوتے ہیں لیکن بغیر کسی رومانس کے۔
    کیا اپنے سابق کے ساتھ دوستی کرنا ٹھیک ہے؟
    آج، ہم دونوں خوشی سے دوسرے لوگوں سے شادی کر رہے ہیں اور ہمارے بچے بھی ہیں۔ میرا سابق میرے شوہر کے ساتھ اور اس کے برعکس بہت اچھا ہے۔ اس کی بیوی ایک بہترین باورچی ہے اور ہم اکثر متن پر ایک دوسرے کے ساتھ ترکیبیں بانٹتے ہیں! یہ کتنا پیارا ہے؟
    جب کسی سابق کے ساتھ دوستی رکھنے کی بات آتی ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے ایک شاندار کام کیا ہے۔ ہم اپنے ہنگامہ خیز ماضی اور ان تمام پاگل چیزوں کے بارے میں سنجیدگی سے مذاق کر سکتے ہیں جو ہم نے عجیب و غریب ہونے کے اشارے کے بغیر کیے ہیں۔ یہ عجیب لگ سکتا ہے لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمارے دونوں حصوں میں کافی پختگی کی ضرورت ہے۔ ہر کوئی اسے نہیں سمجھتا لیکن پختگی کی یہ سطح کسی سابق کے ساتھ دوستی کرنے کی کلید ہے۔
    ہمارے حامی اور پیارے شریک حیات کو بھی بہت سا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے حسد یا عدم تحفظ کے بغیر ہمارا رشتہ جوڑ لیا۔ یہ ایک نعمت ہے کہ کوئی ایسا شخص ہو جس نے آپ میں سے سب سے اچھے اور برے کو دیکھا ہو اور آپ کے ساتھ پروان چڑھا ہو۔ وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ واقعی اس محبت اور کوشش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتے جو آپ نے برسوں سے کسی کے ساتھ کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تعلقات اہم ہیں لیکن لیبلز کو دور کیا جا سکتا ہے۔
    ہماری مشترکہ تاریخ انمول ہے۔
    پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، ہم ایسے دو بچوں کی طرح محسوس کرتے ہیں جو بالغ ہو چکے ہیں اور راستے میں بہت سارے نوٹوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے مشورہ لیتے ہیں، اپنے گہرے رازوں کو بانٹتے ہیں اور جب دونوں کے لیے مشکل ہو جاتی ہے تو ہم ایک دوسرے کو انڈے دیتے ہیں۔ وہ مجھے اپنے آپ سے بہتر جانتا ہے اور میں اس جیسی خوبصورت اور پیاری چیز کو کھونا نہیں چاہتا۔
    جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں بے حد مشکور ہوں۔ ہاں، میں اپنے بریک اپ کے بعد ایک طویل عرصے تک دکھی اور مایوس رہی اور آگے بڑھنا آسان نہیں تھا لیکن اس کے بغیر میں شاید ہی آج کی آزاد اور باہمت عورت بن سکتی۔ لہذا اگر آپ پوچھ رہے ہیں – کیا مجھے اپنے سابقہ ​​​​کے ساتھ دوستی کرنی چاہئے، میں آپ کو یہ بتاتا ہوں: اگر آپ کا دل اسے سنبھال سکتا ہے، تو فیصلہ کریں۔ کسی ایسے شخص کو ضائع نہ کریں جس نے کبھی آپ کی دیکھ بھال کی تھی صرف اس وجہ سے کہ آپ اب رومانوی طور پر مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔
    میں بہت خوش ہوں کہ میں نے ایک ایسا رشتہ کھو دیا جس نے مجھے خوشی نہیں دی، لیکن اس شخص کو نہیں کھویا جس نے کیا۔ محبت کی کوئی ایک شکل یا سانچہ نہیں ہوتا جیسا کہ ہم میں سے اکثر لوگ مانتے ہیں۔ یہ ایک شیپ شفٹر کی طرح ہے، جو وقت کے ساتھ تیار اور تبدیل ہوتا ہے۔ کیا یہ اس کی ساری خوبصورتی نہیں ہے؟

  • پی ایس ایل 7: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرزسے جیت چھین لی

    پی ایس ایل 7: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرزسے جیت چھین لی

    لاہور:پی ایس ایل 7:اکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 43 رنز سے ہرا کر فتح اپنے نام کرلی۔

    کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیدیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل 7 کے پہلے مرحلے کے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اننگز

    اسلام آباد کے 230 رنز ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے احسن علی اور عبدالواحد بنگلزئی نے اننگز کا آغاز کیا،احسان علی 50، عبدالواحد بنگلزئی 14، جیمز ونس صفر اور بین ڈکٹ 11 رنز بناکر آؤٹ ہوئے،محمد نواز 5 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 22 گیندوں پر 47 سکور بناکر حسن علی کی گیند پر الیکس ہیلز کو کیچ دے بیٹھے، سہیل تنویر اور نسیم شاہ نے صفر پر وکٹ گنوا دی جبکہ جیمز فالکنر30 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    کپتان سرفراز احمد 11، بین ڈکٹ11،افتخار احمد6 اور شاہد آفریدی صرف 4 سکور بناکر آؤٹ ہوگئے، شاداب خان نے 5، حسن علی اور محمد وسیم جونیئر نے 2،2 اور وقاص مقصود نے 1 کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    اس طرح 230رنز ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 19 اعشاریہ 3 اوورز میں 186رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کولن منرو اور اعظم خان کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جیت کیلئے 230 رنز کا ہدف دے دیا تھا جو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی

    کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیدیم میں کھیلے جارہے پی ایس ایل 7 کے پہلے مرحلے کے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ اننگز

    یونائیٹڈ کی جانب سے پال سٹرلنگ اور الیکس ہیلز نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ کوئٹہ کے محمد نوازنے پہلا اوور کرایا۔

    اسلام آباد یونایئٹڈ کے اوپنر ایلکس ہیلز اور آئر لینڈ سے تعلق رکھنے والے پاؤل سٹرلنگ نے شروع سے ہی طوفانی آغاز کیا اور وکٹ کے چاروں طرف جارحانہ شارٹس کھیلے۔ دونوں کے درمیان ففٹی کی شراکت داری قائم ہوئی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو پہلا نقصان الیکس ہیلز کی صورت میں اٹھانا پڑا جب بیٹر 9 گیندوں پر 22 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، اسی دوران کولن منرو اور پاؤل سٹرلنگ نے رنز کو تیزی سے آگے بڑھایا۔

    تاہم 8 ویں اوور میں 102 رنز کے مجموعی سکور پر آئرش بلے باز 28 گیندوں پر 58 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ شاداب خان کی اننگز اس بار 9 رنز تک محدود رہی اور محمد نواز نے وکٹ حاصل کی، اعظم خان 65 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، کولن منرو 71 سکور بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ نے مقررہ 20 اوورز 4 وکٹ کے نقصان پر229 رنز کا پہاڑ کھڑا کردیا۔

    اس سے پہلے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلا ف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیاتھا ۔

     

    کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیدیم میں کھیلے جارہے پی ایس ایل 7 کے پہلے مرحلے کے میچ میں شاداب خان اسلام آباد یونائیٹڈ اور سرفراز احمد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کپتانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ اننگز

    یونائیٹڈ کی جانب سے پال سٹرلنگ اور الیکس ہیلز نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ کوئٹہ کے محمد نوازنے پہلا اوور کرایا۔

     

     

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سکواڈ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سکواڈ میں چار تبدیلیاں کی گئی ہیں اور شاہد آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، دیگر کھلاڑیوں میں کپتان سرفراز احمد، جیمز ونس، احسن علی، بین ڈکٹ، افتخار احمد، محمد نواز، سہیل تنویر، جیمز فالکنر، نسیم شاہ اور عبدالواحد بنگلزئی شامل ہیں۔

    اسلا آباد یونائیٹڈ سکواڈ

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میچ کیلئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ میں کپتان شاداب خان، الیکس ہیلز، پال سٹرلنگ، کولن منرو، آصف علی، اعظم خان، مبصر خان، فہیم اشرف، محمد وسیم جونیئر، حسن علی اور وقاص مقصود شامل ہیں۔

  • جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

    تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں بہت عرصے بعد جی میل نے بھی بہت سی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے یہ تبدیلیاں 8 فروری سے جی میل میں نمودار ہونا شروع ہوں گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوگل نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنے مقبول ای میل کلائنٹ جی میل کے لیے ایک نیا ڈیزائن لائے گی۔ دوبارہ ڈیزائن گوگل ورک اسپیس کے لیے کمپنی کے نئے منصوبوں کا حصہ بننے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو جی میل کو Gmail ونڈو کے اندر گوگل چیٹ، میٹ اور اسپیس کے قریب لے آئے گا۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ انٹیگریٹڈ ویو کے ساتھ نیا جی میل 2022 کی دوسری سہ ماہی تک تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ آپ اس سال جون سے پہلے نیا انٹرفیس دیکھ سکتے ہیں۔

    فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    گوگل ورک اسپیس بلاگ یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ ورک اسپیس کے صارفین 8 فروری سے نئے انٹیگریٹڈ ویو کی جانچ شروع کر سکتے ہیں اس کے بعد اپریل میں یہ ازخود (ڈیفالٹ) شامل ہونے لگیں گی سب سے پہلے اس میں چیٹ، گوگل میٹ اور اسپیسس کو باہم منسلک کیا جائے گا کاروباری اور کام والے جی میل اکاؤنٹس میں ورک اسپیس کو اہمیت دی جائے گی اس طرح اب ای میل میں چھوٹی ونڈوز تیرتی نظرآئیں گی اور بائیں ہاتھ پر لگے بڑے بٹن سے اس کی مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

    نئے جی میل انٹرفیس میں جی میل، میٹ، چیٹ اور اسپیسز کے لیے الگ الگ حصے ہوسکتے ہیں۔ فوٹو بشکریہ گوگل
    اپریل میں تمام صارفین اس نئے لے آؤٹ پرمنتقل ہوسکیں گے نئے لے آؤٹ کے تحت نوٹی فکیشن بلبلوں کے صورت میں نمودار ہوکر آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائیں گے اور جی میل بہت انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا جائے گا۔

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ گوگل اپنے ای میل پلیٹ فارم پر بطورِ خاص کاروباری اور دفاتر کے ای میل کے لیے بہتر آپشن پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح آپ بہت تیزی سے ای میل، چیٹ، اسپیس اور دیگرآپشن تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے بہت آسان اور واضح انٹرفیس بنایا گیا ہے۔

    گوگل کے مطابق نئے لے آؤٹ کو اپ ڈیٹ کرنے والے صارفین آج دستیاب میل اور لیبل آپشنز کی وہی فہرست دیکھ سکیں گے۔ ورک اسپیس ٹولز میں تبدیلیوں کا سب سے پہلے اعلان ستمبر 2021 میں کیا گیا تھا۔ اس میں شامل خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ صارفین Google Meet لنک کے بغیر دوسرے Gmail صارفین کے ساتھ ون آن ون کال کر سکتے تھے-

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

  • کپتان صاب، قوم دیر نہیں کرتی،تحریر: نوید شیخ

    کپتان صاب، قوم دیر نہیں کرتی،تحریر: نوید شیخ

    مارچ کا مہینہ تو اہم ہے ہی مگر اصل دھما چوکڑی اس فروری کے مہینے سے شروع ہونی ہے ۔ کیونکہ اس مہینے سے ہی لانگ مارچوں ، دھرنوں اور احتجاجوں کا سیزن باقاعدہ شروع ہونے جارہا ہے ۔۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے لانگ مارچ بارے تو سب ہی جانتے ہیں ۔ مگر اس کھیل میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی بھی شامل ہیں ۔ ۔ ستائیس فروری کو جب پیپلزپارٹی اسلام آباد جانب مارچ کررہی ہوگی تو پی ٹی آئی گھوٹکی سے کراچی کی جانب مارچ کررہی ہو گی ۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے بھی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف 101 دھرنے پورے پاکستان میں کرنے ہیں ۔ جبکہ 101
    ان کا مارچ ہوگا ۔ اور سب سے آخر میں پی ڈی ایم کا 23 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔

    ۔ حکومت کی کارکردگی ایک طرف ۔ مگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بھی اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ عوامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں یا پھر اگلے جنرل الیکشن کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ یہ واضح ہے کہ اگر ان کا مقصد واقعی ہی حکومت کو گھر بھیجنا ہوتا تو سب سے پہلے یہ تحریک عدم اعتماد لاتے۔ سپیکر اسمبلی کے خلاف پھر وزیر اعظم کے خلاف ۔ ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو بھی اپنی اکثریت سے ہٹاتے ۔

    ۔ چلیں مان لیں یہ نہ کرنے کا حوصلہ نہیں تھا یا واضح الفاظ میں اجازت نہ تھی ۔ تو کم ازکم احتجاج تو یہ تمام جماعتیں مل کر ۔ پی ڈی ایم یا کسی بھی ایک پلیٹ فارم سے کرسکتی تھیں ۔ یقین جانئے یہ مل کر احتجاج کریں تو حکومت ایک دن بھی ٹھہر نہ سکے ۔ مگر سب کی اپنی اپنی سیاست ہے ۔ اس لیے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عوام کن مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ۔ اس سے اپوزیشن کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ اپوزیشن اس وقت متحد نہیں اسی لیے شیخ رشید بھی چوڑے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بلاول 27 فروری کو آئیں، دیگر 23 مارچ کو آئیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ دھرنے سے کچھ ہوگا نہ لانگ مارچ سے کچھ ہوگا۔ فضل الرحمان کو سب سے زیادہ تحریک عدم اعتماد کا شوق ہے، اپوزیشن کے چودہ سے پندرہ ارکان اندر سے عمران خان کے ساتھ ہیں۔ بہرحال شیخ رشید نے یہ کنفرم کردیا ہے کہ عمران خان بھی روایتی سیاستدان ہیں اوریہ بھی اپنے فائدے کے لیے دیگر سے کم نہیں ۔۔ یوں حکومت اور اپوزیشن کا میچ ایک طرف مگر اس بات میں اب کوئی ابہام باقی نہیں بچا ہے کہ حکومت انتظامی، معاشی، سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے ۔

    ۔ کیونکہ تحریک انصاف کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی سے لگتا ہے کہ اس نے 20، 25 سالہ جدوجہد اقتدار میں آنے کے لئے نہیں بلکہ اس ملک کو تباہی سے دوچار کرنے کے لئے کی تھی ۔ یعنی کوئی ایک پالیسی بھی تو ایسی نہیں جس سے قوم کو فائدہ ہوا ہو۔ ابھی حال ہی میں ایک نیا سروے ہوا ہے ۔ جس میں 70 فیصد پاکستانیوں نے ملکی معاشی سمت پر پریشانی کا اظہار کیا ہے اور معاشی سمت کو غلط بھی کہا ہے ۔ جبکہ ملکی سیاسی سمت پر بھی 66فیصد پاکستانیوں نے اعتراض کیا اور اسے غلط قرار دیا۔ اس کے باوجود عمران خان اور ان کے وزیروں کی خواہش ہے کہ اگلے پانچ سال بھی ان کو ہی ملیں گے ۔ حالانکہ ان تین سالوں میں انھوں نے عوام کی اتنی خدمت کردی ہے کہ عوام نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا ہے اور توبہ کرلی ہے کہ آئندہ کبھی کسی تبدیلی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ۔

    ۔ کیونکہ آج کی ہی خبر ہے کہ پاکستان میں مہنگائی 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ pakistan bureau of statistics کے مطابق جنوری میں مہنگائی کی شرح 12.96 فیصد رہی ۔ دراصل تبدیلی لانے کے لئے، سچائی اور عوام سے مخلص ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہ حکومت تو ہے ہی یوٹرن ایکسپرٹ ۔ جھوٹ بولنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک یہ صرف عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں سیڑھی بنا کر دوبارہ اقتدار کی منزل تک پہنچ سکیں۔۔ آج کا نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید نظر آتا ہے۔ بے روز گاری اتنی ہے کہ اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حکومت جانتی تھی کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بے روز گاری ہے، اس لئے انتخابی مہم میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔ اب تو بے روز گاری اتنی ہے کہ دو کروڑ نوکریاں بھی کم پڑ جائیں۔ ناخواندہ سے لے کر خواندہ تک ہر نوجوان روز گار کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی کی سیاست کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ عوام کو دھوکے میں رکھو، انہیں دعووں کے سبز باغ دکھا کر وقت گزارو، حکومت میں ہو تو بڑھکیں مارو اور اپوزیشن میں ہو تو انہیں یہ باور کراؤ ہم اقتدار میں ہوتے تو تمہارے لئے آسمان سے تارے توڑ لاتے۔ حالانکہ وہی پرانے چہرے، وہی وعدے، وہی لوٹ مار، وہی عوام کے نام پر بندر بانٹ ان کا کھیل ہے ۔

    ۔ یوں نیا پاکستان بنانے کے دعویداروں نے عوام کو جتنا مایوس کیا ہے، اتنا پرانے پاکستان والوں نے بھی نہیں کیا تھا۔ مہنگائی کو تو رکھیں ایک طرف باقی کس شعبے میں کوئی نیا کام ہوا ہے۔ کرپشن پہلے سے بڑھ گئی ہے، پولیس کے مظالم بڑھ چکے ہیں۔ پیسے دے کر تقرریاں کروانے کی خبریں عام ہیں۔ ۔ سچ یہ ہے کہ پنجاب میں چھوٹے بڑے سرکاری افسروں کی ٹرانسفر پوسٹنگز لاکھوں روپے میں بیچنے کے قصے عام مشہور ہیں اور سب سے زیادہ نام صوبہ کے چیف ایگزیکٹو اور ان کے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے جاتے ہیں۔۔ پھر وفاق کے کچھ وزیروں کے بارے میں بھی عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں کہ کس طرح انہوں نے پچھلے تین سال میں بار بار اربوں کی دہاڑیاں لگائی ہیں۔ ۔ مزے کی بات ہے کہ عمران خان اور گوئیبلز اکیڈمی سے فارغ التحصیل وزیروں کو بھی ساڑھے تین سال تک پتہ نہیں چلا تھا کہ ملک سے کرپشن تو تین سال پہلے ختم ہو چکی تھی۔ ۔ کیونکہ عمران خان کو پتہ نہیں اب کہاں سے یاد آگیا ہے کہ انہوں نے ملک سے کرپشن اپنے اقتدار کے پہلے 90 دن میں ہی ختم کر دی تھی۔ سمجھ نہیں آتی کہ 22 کروڑ پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کی جائے یا اظہار افسوس کیا جائے۔۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اوروفاقی وزرا ء شرمندگی کی بجائے اب بھی مسلسل جھوٹ بولنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ اس وقت مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن نے عوام سے ان کے چہروں کی مسکراہٹ چھین لی ہے۔۔ میں نام کسی کا نہیں لینا چاہتا مگر سب جانتے ہیں اس وقت دو وزیر ایسے ہیں جو اگرچہ پیشہ ورانہ معاملات میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے لیکن دن رات جھوٹے اعدادو شمار پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کے چکروں میں ہیں۔۔ حالانکہ دو ہفتے قبل سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے میرے پروگرام کھرا سچ میں بیٹھ کر جو پاکستان کی معیشت کا نقشہ کھینچا تھا۔ وہ انتہائی پریشان کن اور قابلِ فکر تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان تو معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اب ہماری مرضی ہے ہم مانیں یا نہ مانیں۔

    ۔ پھر ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے تو جو کہا ہے وہ رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہونا چاہیے ۔ کہ پاکستان قرضوں کے ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے کہ اب اگر حالات کو درست نہ کیا گیا تو ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ ہمارے معاشی بحران کے تناظر میں ہم سے یہ تقاضہ کر دیا جائے کہ اپنا ایٹمی پروگرام ہمارے حوالے کر دو۔ جو بات قیصر بنگالی نے کی وہ بالکل ممکن ہے۔ کیونکہ یاد رکھیں اب اسٹیٹ بینک ہمارا نہیں رہا آئی ایم ایف کا ہوگیا ہے ۔ اسی سچ بولنے کی پاداش میں پی ٹی آئی والے اور ان کا سوشل میڈیا ڈاکٹر قیصر بنگالی کا دشمن بن گیا ہے ۔ ۔ میرے خیال سے عمران خان نے تین سال جتنا زور اپوزیشن اور مخالفین کو مجرم ثابت کرنے پر لگایا ہے اگر اس سے آدھا زور بھی معیشت بہتر کرنے پر لگاتے تو آج ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بے شک نہ بہہ رہی ہوتیں لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آج ملکی حالات اتنے بدتر نہیں ہوتے، جتنے ہو چکے ہیں۔ ۔ پورا سچ یہ ہے کہ عمران خان نے صرف اپوزیشن کو ہی دیوار سے لگانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی کچھ اچھا سلوک نہیں کیا، تحریک انصاف نے ہر اس سیاستدان کو جس سے اسے خطرہ ہو سکتا تھا۔ ہر طریقے سے دبانے کی کوشش کی۔ ۔ دراصل عمران خان نے اپنی حکومت کی کامیابی کے لئے پراپیگنڈا فارمولے پر عمل کیا اور اس تواتر سے روانی کے ساتھ جھوٹ پر جھوٹ بول بول کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری اور ان کے خاندان سمیت ملک کے ڈھائی تین سو خاندانوں نے ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اسے تباہ کر دیا، حکومت نے بڑے دعوے کئے کہ ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، ان خاندانوں کو نشان عبرت بنا دیں گے لیکن اس کے برعکس، دولت تو کیا واپس آنی تھی، الٹا انہیں مجرم ثابت کرنے کے چکر میں ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹایا گیا، ان کا بدترین میڈیا ٹرائل کیا گیا اور جب اندازہ ہو گیا کہ کچھ ثابت نہیں ہو سکے گا تو شہزاد اکبر صاحب سے استعفے لے لیا گیا۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کے اربوں روپے واپس لانے کے لئے شہزاد اکبر صاحب نے جو کھربوں روپے خرچ کئے اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ اس سب پر اب عمران خان دھمکیاں دیتے ہیں کہ مجھے نکالا گیا تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ یوں عمران خان ایک بار پھر بلیک میلنگ پر اترآئے ہیں ۔ ڈرامہ بازی ان کی چیک کریں کہ خود کچھ کرتے نہیں اور الزامات انہیں دیتے ہیں جن کے بل بوتے پر آج یہ اس مقام پر ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان نے صرف جھوٹ اور پراپیگنڈا پر اپنی حکومت کی بنیاد رکھی جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ عمران خان کو یہ جو خوش فہمی ہے کہ لوگ اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اس میں سے نکل آئیں۔ اقتدار سے الگ ہو کر جس دن عوام میں گئے ان کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنے خطرناک ہیں۔ کیونکہ انڈے ، ٹماٹر اور جوتیاں مارنے میں یہ قوم دیر نہیں کرتی