Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی ایوان صدر تقریب رونمائی:تحریر: طہٰ منیب

    ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی ایوان صدر تقریب رونمائی:تحریر: طہٰ منیب

    ڈاکٹر قاسم فکتو سالار حریت جو اپنی زندگی کی انتیس بہاریں بھارتی جیلوں میں کاٹ چکے ہیں ، جہاں ان پر بھارتی ظلم و ستم کے توڑے گئے پہاڑ بھی انہیں توڑ نا سکے بلکہ ہر گزرتا دن ہفتہ ماہ و سال انکے عزم و استقلال کو اور بڑھاتے رہے ، کتابیں اور خطوط انکا اپنی اولاد اور فیملی سے رابطہ کا واحد زریعہ تھا،

    احمد بن قاسم جو والد کی دوبارہ گرفتاری کے وقت محظ دو ماہ کے تھے انکے بقول والد صاحب ڈاکٹر قاسم فکتو جو ہمیں پیغام دینا یا ہماری تربیت کرنا چاہتے کتب میں کچھ لائنوں کو ہائی لائٹ کر دیتے، ڈاکٹر قاسم فکتو جو نیلسن منڈیلا سے زیادہ قید کاٹ چکے اور آگے بھی بھارتی حکومت انہیں کسی قسم کا ریلیف دئے بغیر متعدد پابندیاں لگا رہی ہے تاکہ انہیں جھکا سکے،

    ان پابندیوں میں ان تک کتب اور مزید تعلیم کے دروازے بند کرنے کے ساتھ ساتھ قید تنہائی اور جبر و ستم کے سلسلے وسیع کرنا شامل ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے پاکستان اور دنیا بھر انکا تعارف انکے شایان شان نا تھا۔ انہوں نے جیل سے ہی متعدد کتب لکھنے کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہیں کتب میں سے "بانگ” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی گئی جس میں بھارتی اکھنڈ بھارت نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس کتاب کی تقریب رونمائی کی پروقار تقریب کشمیر یوتھ الائنس کے زیر اہتمام ڈاکٹر مجاہد گیلانی کی کاوشوں سے گزشتہ روز ممکن ہو پائی۔ جہاں ملک بھر سے کشمیر یوتھ الائنس کی درجنوں ممبر تنظیمات کے سینکڑوں کارکنان ڈاکٹر قاسم فکتو کے پیغام حریت کو سننے ایوان صدر تشریف لائے۔

    جہاں ڈاکٹر قاسم فکتو کے فرزند احمد بن قاسم نے مسئلہ کی اساس کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بلکہ بھارتی جارحانہ قبضہ ہے، جبکہ انہوں اپنے بچپن کی یادیں شئر کیں تو ہال میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر قاسم فکتو سمیت تمام جانثاران حریت کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ہر طرح سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور انکا مقدمہ اقوام عالم تک پہنچانے میں کوئی کثر اٹھا نا رکھیں گے، تقریب کے مہمان چئیرمین کشمیر کمیٹی نے مسئلہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم و ستم کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور ہر طرح کے وسائل بروئے کار لانے کا عزم کیا۔

    پروگرام کے ایک اور مقرر ملک کے نامور اینکر عمران ریاض خان تھے، جنکی فیملی مقبوضہ کشمیر و پاکستان میں منقسم ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آبائی گھر کے خواب آنکھوں میں سجائے کشمیر کی آزادی کے منتظر ہیں اور اپنی بساط میں میڈیا کے محاذ کو بھرپور استعمال کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور یہی پیغام اپنی میڈیا برادری کو بھی دیا۔

    استقبالیہ پروگرام کے روح رواں صدر کشمیر یوتھ الائنس جناب ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے دیا، اس قدر خوبصورت پروگرام یقیناً ڈاکٹر مجاہد کی انتھک کوششوں کے بعد ہی ممکن ہو پایا ہے، پروگرام میں نقابت کے فرائض سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر اور وائس پریزیڈنٹ کشمیر یوتھ الائنس پلوشہ سعید نے بخوبی سرانجام دئے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اسلام آباد اور راولپنڈی کی ٹیم کی مسلسل محنت کا اس پروگرام کی کامیابی میں بنیادی کردار تھا جبکہ کشمیر یوتھ الائنس کی نوے سے زائد ممبر تنظیمات کے سینکڑوں کارکنان و قیادت کی ملک کے طول و عرض سے شرکت نے پروگرام کو چار چاند لگا دئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس معمولی کاوش کو شرف قبولیت بخش کر آزادی کی منزلوں کے پانے تک استقامت کی توفیق دے۔ آمین

  • پی ایس ایل 7: پشاور زلمی نے نئی کٹ لانچ:کرکٹ سے محبت کرنے والے دیکھتےہی رہ گئے

    پی ایس ایل 7: پشاور زلمی نے نئی کٹ لانچ:کرکٹ سے محبت کرنے والے دیکھتےہی رہ گئے

    پشاور:پی ایس ایل 7: پشاور زلمی نے نئی کٹ لانچ:کرکٹ سے محبت کرنے والے دیکھتےہی رہ گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں سیزن کے لیے فرنچائز پشاور زلمی نے نئی کٹ متعارف کروادی۔

    پشاور زلمی نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ویڈیو شیئر کی جس میں ٹیم کے کھلاڑیوں نے نئی کٹ زیب تن کر رکھی ہے۔

     

     

    ویڈیو کے کیپشن میں لکھا گیا کہ انتظار ختم ہو گیا کیونکہ فرنچائز نے 27 جنوری سے شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے لیے نئی کِٹ کی نقاب کشائی کردی ہے۔

    ویڈیو میں آل راؤنڈر شعیب ملک سمیت، حیدر علی، کامران اکمل، عثمان قادر اور وہاب ریاض کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کا ساتواں ایڈیشن 27 جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہوگا، ایونٹ کا پہلا میچ کراچی کنگز اور پی ایس ایل 6 کی چیمپئن ٹیم ملتان سلطان کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    ادھر عوامی مطالبے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے افسران اور اسٹاف کی مراعات اور تنخواہوں کی تفصیلات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق فزیوتھراپی کے کنسلٹنٹ کی تنخواہ 21 لاکھ 15 ہزار910 روپے ہے جبکہ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کی تنخواہ 13 لاکھ 59 ہزار651 روپے ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر محمد ندیم خان کی تنخواہ 13 لاکھ 15 ہزار روپے، ہیڈ انٹرنیشنل پلیئرز ڈویلپمنٹ ثقلین مشتاق کی تنخواہ 12 لاکھ 77 ہزار711 روپے ہے۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کی تنخواہ 12لاکھ 45 ہزار روپے ہے جبکہ چیف فنانشل افسر جاوید مرتضیٰ کی تنخواہ 12 لاکھ 40 ہزار 417 روپے، چیف میڈیکل افسر نجیب اللہ سومرو کی تنخواہ 12 لاکھ 15 ہزار روپے ہے۔

    چیئرمین سلیکشن کمیٹی محمد وسیم کی تنخواہ 10 لاکھ روپے، ڈائریکٹر ہیومن ریسورس سرینا آغا کی تنخواہ 8 لاکھ 65 ہزار روپے اور ڈائریکٹرانٹرنیشنل کرکٹ آپریشن ذاکرخان کی تنخواہ 8 لاکھ 44 ہزار 708 روپے ہے۔

    ڈائریکٹر سکیورٹی آصف محمود کی تنخوا ساڑھے 6 لاکھ روپے، ایس جی ایم آپریشنز لاجسٹکس اسد مصطفیٰ کی تنخواہ 6 لاکھ 13 ہزار345 روپے ہے جبکہ ایس جی ایم فنانس عتیق رشید کی تنخواہ 6لاکھ روپے ہے۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسرز محمد عبدالصبور، انورسلیم کاسی، بابرخان، نجیب صادق اور عبداللہ خرم نیازی کی تنخواہ 5، 5 لاکھ روپے ہے۔

  • مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی

    مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی ,اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے” سٹریٹجک ایریاز‘ ‘کے نام پر گلمرگ میں مزید 1034 کنال اور سونمرگ میں 354 کنال اراضی قابض فوج کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈویڑنل کمشنر کشمیر Pandurang Kondbarao Pole نے تصدیق کی کہ حکومت نے فوج کو تربیتی مقاصد کے لیے زمین کے استعمال کی اجازت دینے کی منظوری دی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ دونوں مقامات (گلمرگ اور سونمرگ) پرفوج کوتربیت دی جاتی ہے جس کے لیے فوج نے پہلے ہی وہاں زمین حاصل کر لی ہے۔انہوں نے کہاکہ فوج کو تربیتی ہال وغیرہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے اور یہ ضروری انفراسٹرکچر حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ اہم تھا اور انتظامیہ نے اس کی منظوری دی ہے۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے فوج کے لئے سیاحتی علاقوں میں زمین مختص کرکے جموں و کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے گلمرگ میں 1034 کنال اور سونمرگ میں 354 کنال اراضی بھارتی فوج کے لیے مختص کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پرکہاکہ سیاحتی علاقوں میں ہزاروں کنال اراضی فوج کے لیے مختص کرنے سے جموں و کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرنے کے بھارتی حکومت کے عزائم کی کی تصدیق ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ”ریاستی زمین“ کے بہانے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور زخموں پرنمک چھڑکنے کے لئے مقامی لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر Pandurang Kondbarao Pole نے تصدیق کی ہے کہ قابض حکومت نے بھارتی فوج کومذکورہ علاقوں میںزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

  • اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ

    اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ

    بیلجیم :اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ،اطلاعات کے مطابق بیلجیم میں پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے اقوام متحدہ اورعالمی برادری پرزور دیا ہے کہ اقوام عالم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے،ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج پھر5 جنوری کا دن ہے جب جموں و کشمیر تنازعہ کے جمہوری عمل کے ذریعے اس کی سرپرستی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کی 73 ویں سالگرہ ہے۔

    ظہیر احمد جنجوعہ نے اپنے بیان میں‌کہا ہے کہ 5 جنوری 1949 کی بھارت اور پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ کے کمیشن کی قرارداد کشمیر کے عوام کو ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہے، جسے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح نظر اندازی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ، بھارت نے مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل اور سب سے زیادہ عسکری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر من مانی حراستوں، عصمت دری اور تشدد، حراستی قتل، جبری گمشدگیوں اور اسٹیجڈ مقابلوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ظلم و ستم میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں 5 اگست 2019 سے اب تک 500 سے زائد کشمیریوں کی شہادت ہوئی ہے۔ یہ بھارتی ریاست کے مکروہ رویے اور اخلاقی دیوالیہ پن کا واضح مظہر ہے۔

    ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے، ہندوستان اپنے غیر قانونی قبضے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بشمول زمینوں پر قبضے، غیر کشمیریوں کی آمد اور متنازعہ علاقے میں اجنبی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون بالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ یو این ایس سی کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیریوں نے اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس کا اقوام متحدہ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ بھارتی مظالم کی جتنی بھی مقدار کشمیری عوام کو دبا یا جا سکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قربانیاں بہت جلد رنگ لائیں گی۔

    بیلجیم میں‌ پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے کہاہے کہ ہم عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ، یورپی یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ادراک کرے اور بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے لیے وضاحت طلب کرے

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر پرعزم ہے اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول تک ان کی ہر طرح کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

    آخر میں ظہیر احمد جنجوعہ نے کہا میں آپ سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں کشمیریوں کی آواز بنیں اور ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا اظہار کریں۔تاکہ کشمیریوں کو جلد آزادی مل سکے

  • مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں ،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یو م حق خود ارادیت اس تجدید عہدکے ساتھ منارہے ہیں کہ اپنے حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد آزادی کو جاری رکھا جائے گا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1949 ء میں آج ہی کے دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظورکی تھی جس میں عالمی ادارے کے زیر اہتمام رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے کشمیریوں کے حق کی حمایت کی گئی تھی۔

    آج دنیا بھر میں ریلیوں ، سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ اقوام متحدہ کو یاد دلایا جائے کہ وہ تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچائے۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قراردارتنازعہ کشمیر کے حل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی ادارہ اپنی منظورکردہ قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کراسکاہے جس کی وجہ سے کشمیری مسلسل شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

  • ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت تاریخ کی نئی اونچائیوں پر پہنچ رہی ہے-

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کے شئیرز سکائی راکٹ کی طرح پرواز کر رہے ہیں، جس کے بعد چیف ایلون مسک نے فی گھنٹہ 1.4 ارب ڈالرز یعنہ 3 کھرب،34 ارب کما کے ریکارڈ قائم کر دیا ٹیسلا کے حصص، پیر کو 13.5 فیصد بڑھ کر 1,199.78 ڈالر ہو گئے، جس کے بعد ایلون مسک کی دولت میں ایک دن میں 30 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان بلوم برگ انڈیکس میں ان کی دولت 304 ارب ڈالرز بتائی جا رہی ہے۔

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    جبکہ کئی عرصے سے دنیا کے امیر ترین شخص کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہنے والے ایمازون کے مالک جیف بیزوس، 196 بلین ڈالرز کے ساتھ ایلون مسک سے کہیں پیچھے رہ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک نے 2021 میں دنیا کا امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا، لیکن اب مسک دنیا کی امیر ترین فہرست میں بھی اپنی جگہ مسلسل مضبوط کر رہے ہیں امریکی کار کمپنی ٹیسلا نے 2021 میں تقریباً 10 لاکھ نئی گاڑیاں اپنے صارفین تک پہنچائیں یہ تعداد ایک سال پہلے کے مقابلے میں 87 فیصد زیادہ بنتی ہے۔

    ٹیسلا نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ گاڑیوں کی ڈلیوری میں ہر سال 50 فیصد اضافہ کریں گے، تاہم گزشتہ برس حاصل کردہ نتائج اس سالانہ ہدف سے کہیں زیادہ تھے۔ گزشتہ برس کی صرف چوتھی سہ ماہی میں ہی ٹیسلا نے 3 لاکھ 8 ہزار 600 کاریں فروخت کی تھیں۔

    ٹیسلا کو اکتوبر میں سب سے بڑی کامیابی اس وقت ملی جب اسے کار رینٹل کمپنی ہیرٹز نے ایک لاکھ الیکٹرک گاڑیوں کا آرڈر دیا، جس کی سپلائی اس سال مکمل ہو جائے گی یہ اعلان اس کار کمپنی کو امریکی سٹاک مارکیٹ میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کی کمپنیوں کے کلب میں لے آیا تھا۔

    دی گارجئین کے مطابق الیکٹرک کاروں کے ذریعے ٹیسلا کو دنیا کی سب سے قیمتی کار ساز کمپنی بنانے کے ساتھ ساتھ، مسک نے اسپیس ایکس کی بنیاد رکھ کر خلائی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ایک نجی راکٹ کمپنی جو دسیوں ہزار کے نیٹ ورک کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن کا ایک بڑا ادارہ بننے کی کوشش کر رہی ہے۔

    SpaceX پہلے ہی 1,600 سے زیادہ سیٹلائٹس لانچ کر چکا ہے، جس میں 18 دسمبر کو ایک حالیہ لانچ بھی شامل ہے جس میں مزید 52 سیٹلائٹس کا اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ خلا کے ریگولیشن کی کالوں کا مرکز بن گیا ہے جبکہ ایلون مسک نے ان تنقیدوں کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی کمپنی خلا میں بہت زیادہ جگہ لے رہی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے ہزاروں منصوبہ بند سیٹلائٹس بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر رہ سکیں گے۔

    ایلون مسک ‘پرسن آف دا ایئر’ قرار

    فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مسک نے ان تنقیدوں کو مسترد کر دیا کہ SpaceX ریڈیو فریکوئنسیز اور مداری سلاٹس پر حاوی ہے مسک نے کہا کہ خلا بہت زیادہ ہے، اور سیٹلائٹ بہت چھوٹے ہیں۔ "یہ کوئی ایسی صورتحال نہیں ہے جہاں ہم مؤثر طریقے سے دوسروں کو کسی بھی طرح سے روک رہے ہیں۔ ہم نے کسی کو کچھ کرنے سے نہیں روکا ہے اور نہ ہی ہم اس کی توقع رکھتے ہیں۔”

    یوروپی اسپیس ایجنسی کے سربراہ جوزف اسبچر نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ مسک خلا میں "قواعد بنا رہی ہے”۔ جوزف اسبچر نے یورپ اور دیگر ممالک سے مربوط کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ SpaceX کا نکشتر دوسرے ممالک یا کمپنیوں کو اپنے سیٹلائٹ لانچ کرنے سے نہ روکے۔

    دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    مسک نے مصنوعی سیاروں کی تعداد کا موازنہ زمین کی سطح پر موجود 2 بلین گاڑیوں سے کیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ "دسیوں اربوں” سیٹلائٹس کی گنجائش موجود ہے۔ ایف ٹی نے ایک فلکیاتی طبیعیات دان کا حوالہ دیا جس نے اس دعویٰ پر اختلاف کیا کہ سیٹلائٹس کو تصادم سے محفوظ طریقے سے بچنے کے لیے بڑے خلاء کی ضرورت ہے۔

    SpaceX پر چین کی طرف سے بھی تنقید کی گئی ہے، جس نے اس ہفتے عوامی طور پر امریکہ پر چینی خلائی سٹیشن اور سٹار لنک سیٹلائٹس کے درمیان دو قریب گم ہونے کے بعد بین الاقوامی معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔ چین نے کہا کہ خلائی اسٹیشن کو جولائی اور اکتوبر میں مصنوعی سیاروں سے بچنے کے لیے ہتھکنڈوں پر مجبور کیا گیا تھا۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

  • کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    سرینگر:کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مزیدآزادی پسند کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی غرض سے بھارتی پولیس کو مہلک امریکی سگِ اسالٹ رائفلوں اور پستولوں سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پہلے ہی اپنی فوج کو مقبوضہ کشمیرمیں جدید ترین رائفلوں سے لیس کردیا ہے ۔ حکام کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس جدید ترین امریکی سگِ اسالٹ رائفل حاصل کرنے والی پہلی فورس ہو گی ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی فورس 500 سگ سوئر 716 رائفلیں اور 100سگ سوئر ایم پی ایکس نائن ایم ایم پستول خریدے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے حال ہی میں ان مہلک ہتھیاروں کی خریداری کیلئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سگ سوئراسالٹ 716رائفلزکشمیرمیں پولیس کے زیر استعمال انساس رائفلوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک اور جدید ہے ۔ حکام کے مطابق رائفل جس کا وزن میگزین کے بغیر 3.82کلو ہے، ساڑھے چھ سے ساڑھے آٹھ سو رائونڈ فی منٹ فائر کرتی ہے اور 500میٹر تک کے فاصلے تک نشانہ بنا سکتی ہے ۔ یہ جدید ترین رائفل اپنی ان خصوصیات کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام ، گرفتاریوں اور انہیں عمر بھر کیلئے معذور کرنے کیلئے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں ۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیرمیں95ہزار950سے زائد کشمیریوں کو شہید اور 11ہزار246خواتین کی بے حرمتی کی ہے ۔

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔

  • خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    نیو جرسی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے ایک نئے پروگرام کے تحت 24 مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کرلی ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق ناسا نے جن 24 مذہبی رہنماؤں کی خدمات حاصل کیں ان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیشوا بھی شامل ہیں جب خلائی ایجنسیاں زمین سے باہر رہنے کے قابل سیاروں اور اجنبی زندگی کی تلاش کے لیے نئی دوربینیں، روور اور تحقیقات شروع کر رہی ہیں، ایک برطانوی پادری ناسا کی یہ سمجھنے میں مدد کر رہا ہے کہ کس طرح ماورائے زمین کی دریافت کائنات کو دیکھنے کے انداز کو بدل دے گی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ریو ڈاکٹر اینڈریو ڈیوسن، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پادری اور ماہر الہیات، آکسفورڈ سے بائیو کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کے ڈگری ہولڈر، ان 24 ماہرینِ الہیات میں شامل ہیں جنہوں نے پرنسٹن میں سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری (CTI) میں ناسا کے زیر اہتمام پروگرام میں حصہ لیا۔ امریکہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ دنیا کے بڑے مذاہب اس خبر پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے کہ ہمارے علاوہ اور ہمارے جیسی اور بھی مخلوق ہے-

    رپورٹ کے مطابق قریباً ایک سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا مقصد خلائی مخلوق سے رابطے کی صورت میں مذہبی نقطہ نگاہ کو جاننا، سمجھنا، اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ترین ردِعمل کا تعین کرنا ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    کائنات میں زمین جیسے سیاروں کے علاوہ وہاں پر انسان جیسی ذہین اور ترقی یافتہ مخلوق ملنے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن اب تک ایسی کسی ’خلائی مخلوق‘ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آنے والے ہزاروں سال تک ہمیں خلائی مخلوق کا کوئی سراغ نہ ملے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران ہمیں اپنے جیسی کسی ذہین خلائی مخلوق کا پیغام موصول ہوجائے۔

    ایسی صورت میں ایک پوری نوعِ انسانی کی حیثیت سے ہمارا جامع ترین جواب کیا ہونا چاہیے جو ہماری علمی سطح کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد کا اظہار بھی کرے؟ اس منصوبے کا مقصد یہی تعین کرنا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    سال بھر جاری رہنے والے اس پروگرام کو ’فلکی حیاتیات کے سماجی مضمرات‘ کا عنوان دیا گیا ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی کے ’مرکز برائے مذہبی تحقیق‘ (سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری) یا مختصراً ’سی ٹی آئی‘ میں منعقد کیا جارہا ہے۔

    امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں اس پروگرام کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد سے یہ چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ شاید ناسا نے خلائی مخلوق دریافت کرلی ہے یا اس کا رابطہ کسی ذہین خلائی مخلوق سے ہوگیا ہے تاہم اس بارے میں اب تک ناسا کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

  • نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک بیماری ہے جس کا علاج انتہائ ضروری ہے ۔نشہ موت ہے زندگی انمول ہے ہر گلی محلے میں چرس آئس وغیرہ کی فروخت سرے عام ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بربادی کی طرف گامزن ہے

    منشیات اور ہماری نوجوان نسل خاص کر طالبعلم طبقہ منشیات چرس،ایس،افیوم وغیره وغیره اگر ہم تھوڑا سوچ لے تو منشیات یا نشے کے جو عادی زیادہ تر ہمارے سٹوڈنٹس ہے وہ اس بیہودہ عمل میں مبتلا ہے.یہ زہر اج کل ہمارے طالب علموں میں اگ کی طرح پھیل رہا ہے.زیادہ تر لوگ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس وبا کو اس اگ کو ختم کرنے والے کچھ سپیشل فورسیز ہے.پر میں ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ اگر اس کی روک تھام کےلے کچھ کچھ سپیشل departments ہے تو اس وقت کہا رہتی ہے جب ہمارے طالب علموں کے ہاسٹلوں تک یہ زہر پہنچایا جاتا ہے ؟اس وقت وہ افیسرز کہا رہتے ہے جب ھمارے جوان بھای ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر افیوم پیتے ہے.؟وہ ادارہ کہا ہے جو کہتے ھیں کہ ھم اس کو روکینگے. اپ کے آفسز کے کے قریب اس کی جو فکٹریاں ہے جہاں یہ زہر تیار ھوتا ہے اس وقت اپ کے فورس کہا رہتی ہے؟کیا اپ لوگ ساری عمر خرام کی کماٸ کھاے گے .کیا ساری عمر اپ کو لوگ خبر دیتے رہیں گے؟خود بھی کچھ انویسٹیگیشن کرے گے یا نہیں؟اس باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس اگ اس زھر کو پھیلانے میں اور جوان نسل کو برباد کرنے میں اس ڈیپارٹمنٹس کے خود اپنے لوگ ہے

    اہم بات کی طرف آتے ہیں ۔جو لوگ نشہ بیچتے ہیں ان کو یہ احساس نہیں کہ اس سے لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔نوجوان نسل میں بڑھتے ہووے منشیات کے استعمال کی وجہ سے ملک بھر میں ایسے سینٹر ہسپتال بن چکے ہیں جہاں نشہ کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ان کو واپس زندگی کی طرف لایا جاتا ہے۔۔آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں سے رابطہ کیا ہوگا ۔جو نشے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان سے یہ سوال کیا جاے ۔کہ تم نشہ کیوں کرتے ہو ۔تمھاری فیملی خاندان بچے لاوارثوں کی سی زندگی جی رہے ہیں کیا تمھیں ان پر ترس نہیں آتا ۔۔تو وہ ایک ہی جواب دے گا ۔۔کہ جی دوست نے نشہ پر لگا دیا تھا ۔۔یا کسی رشتہ دار نے ۔۔لیکن جب آپ پوچھو گے کہ تم نے اس سے کبھی چھٹکارہ پانا چاہا ۔۔تو اس کے پاس کوی جواب نہیں ہوگا ۔۔یاد رکھیے نشہ کے عادی انسان کا علاج تب تک ممکن نہیں جب تک وہ خود نشہ کو نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ورنہ جو اس کی زندگی بچانے کی خطیر رقم اور کوشش کرتے ہیں ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب وہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیتا ہے آپ نے اکثر نشئ لوگوں کو گند کہ ڈھیڑ پر کچڑے پر ہی بیٹھے دیکھا ہوگا ۔۔ایسی جگہوں پر ایک عام انسان کا کچھ لمحے رکنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن نشہ کہ عادی لوگ ہمیشہ ایسی ہی جگہوں پر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ گند پیتے گند کھاتے ان کی رگوں میں بھی وہی گند سراہیت کر جاتا ہے کہ ان کو گٹر پاس بیٹھ کر بھی بدبو محسوس نہیں ہوتی ۔۔ بدبو میں رہنے والے ایک انسان کی سوچ نارمل کیسے ہو سکتی ہے نشہ انسان کو انسان سے حیوان بنا دیتا ہے ۔وہ بچوں کو بیچتے مارتے بیوی کو پیٹتے بھی درد محسوس نہیں کرے گا اکثر ایسے لوگ اپنی ماوں تک بھی کو نہیں چھوڑتے ۔لیکن ایک بات سمجھنے والی ہے ۔کہ نشہ ڈھونڈنے والا سترہ سال کا لڑکا زمین کی تہ سے بھی نشہ ڈھونڈ لیتا ہے جبکہ پولیس نشہ سپلائ کرنے والوں کو نہیں ڈھونڈ پاتی ۔۔کیسے نشہ سپلائ والا جیلوں تک ہسپتالوں تک بھی پہنچ جاتا ہے ۔۔کیسے صحت مند ہووے نشے کے عادی لوگ پھر سے نشے پر لگ جاتے ہیں ۔۔بظاہر دیکھنے سننے میں یہ عام سا لفظ ہے ڈائیلاگ مکالمہ ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ کیسے ۔آپکو شاید یاد ہو کہ منشیات کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے کتنے ایسے انسان قتل ہو چکے اس مافیا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئ ایسے لوگ لاپتہ ہو گے ۔۔آخر کیوں کیا یہ مافیا ہماری حکومت کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں کم از کم 67 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔۔کہتے ہیں ہمارے ملک میں منشیات پر قانون بہت سخت ہے ۔۔حیرت ہے اتنے سخت قانون کے باوجود لاکھوں لوگ نشہ کررہے ہیں اور قانون دیکھ کر ان دیکھی کررہا ہے ۔۔

    ایک بات ماہرین کا خیال ہے کہ انسان پہلے پہل نشے کو بطور تفریح یا موج مستی استعمال کرتا ہے، جو رفتہ رفتہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی مک گیل یونیورسٹی کے ماہرین نے اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے رضاکاروں کی مدد سے انسانی دماغ کا تجزیہ کیا۔‏رسرچ جرنل میں شائع رپورٹ کےمطابق ماہرین نےرضاکاروں کو اپنےان دوستوں کےساتھ کوکین استعمال کرنے کے لیے کہا جو پہلےسےہی کوکین استعمال کرتےتھے۔ماہرین نے اس عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی،جس کے بعد ان رضاکاروں کے دماغ کا پی ای ٹی اسکین کیا گیا،جنہیں کوکین استعمال کرنےکے لیے کہا گیا۔ ‏اسکین کے وقت ان رضاکاروں کو دوستوں کی وہ ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ دوستوں کے ساتھ کوکین استعمال کر رہے تھے۔ ماہرین نے اس دوران رضاکاروں کے دماغ کی حرکت کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ انکے دماغ کے وہ حصے جو کسی بھی چیز کی خواہش کرنےکے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہ متحرک ہو گئے۔‏ماہرین نے بتایا کہ ہر انسان کے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر ہوتا ہے، جو انسان کی خواہش اور اس کی تکمیل سے متعلق نظام کا کام کرتا ہے، یہ سسٹم اس وقت متحرک ہو جاتا ہے، جب کسی بھی کام کو پہلے پہل تفریح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏ماہرین کے مطابق کئی لوگ کوکین کو پہلے بطور تفریح یا موج مستی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر وہ اپنے دوستوں یا ارد گرد کے ماحول میں اس کا بار بار استعمال دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ کا نیوروٹرانسمیٹر متحرک ہو جاتا ہے، جس کے بعد یہ عمل ان کی عادت بن جاتا ہے۔۔۔اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایڈز پھیلنے کی سب سے بڑی بیماری نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے ۔خیال رہے ایڈز کا مرض ایک وائرس کے زریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی حالت میں کوی بھی بیماری جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے

    آج کل ہمارے ڈراموں میں فلموں میں چینلوں میں شراب اور سگریٹ کو واضع دکھایا جاتا ہے اور اوپر لکھا ہوتا ہے شراب حرام ہے ۔سگریٹ نوشی حرام ہے ۔سمجھ سے باہر ہے نہ ۔کہ جب شراب سگریٹ حرام ہے تو آپ چینلوں پر لوگوں کو پلاتے دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو آپ خود لوگوں کو اس پر لگا رہے ہو ۔کم عمر بچے بچیاں وہ جو دیکھیں گی وہی سیکھیں گے ۔۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ نوجوان ڈراموں فلموں سے غلط چیزیں سیکھ رہی ہیں تو ہمارے کچھ مہان لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ نہیں جی ۔ تربیت تو والدین دیتے اب چینلوں کا کیا قصور ۔۔شاید آپ بھول گے ہیں کہ ایک تربیت معاشرہ بھی دیتا ہے ۔انسان اپنے آس پاس رہنے والوں سے جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے وہی کرتا ہے ۔۔۔آپ اپنی ریٹنگ کے لیے اس حد تک گر گے ہو کہ آپ اداکاروں کو ڈراموں میں شراب تک پلاتے ہو ۔۔کہنے کو یہ میرا اسلامی جہموریہ پاکستان ہے اور کرنے کو ہم نے ہر وہ کام کرنا ہے جو اسلام کے خلاف ہو جس سے اسلام نے منع کیا ہو ۔۔۔یا حرام اور ناجائز کہا ہو ۔۔

    نشہ کے عادی لوگ اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے ناشکرگزار بندے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسل کو تباہ کرکے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں خداراہ اپنے بچوں پہ نظر رکھیں ان کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھیں ۔۔۔وہ کہاں جارہے ہیں کیا کررہے ہیں ان کے دوست کون سے ہیں کہاں رہتے ہیں ۔یہ باتیں آجکل بہت چھوٹی لگتی ہے کیونکہ آج کہ دور کو جنریشن ماڈرن کہتی ہے اور والدین کا یوں پوچھنا ناگوار گزرتا ہے ان کو ۔۔دور کتنا ہی ماڈرن ہو جاے ایک وقت آتا ہے جب آپ کو پچھتاوا ہوتا ہے کہ والدین ٹھیک کہتے تھے ۔کاش ہم ان کی سن لیتے ۔۔لیکن پھر نہ والدین ہوتے ہیں اور نہ وہ لمحہ ۔۔سواے پچھتاوے کے۔۔