Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    عوامی مطالبہ: اسٹریٹیجک تحمل سے نمایاں بازداریت تک،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدکاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈویلپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک سوگوار قوم بھی ہے — اور ایک ایسی قوم بھی جو سخت سوالات پوچھ رہی ہے۔
    خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کے ریگزاروں تک، سبز ہلالی پرچم بار بار ان تازہ قبروں پر سرنگوں ہو رہا ہے جن میں وہ سپاہی آسودۂ خاک ہیں جو ایک ایسے غیر مرئی دشمن سے لڑتے رہے — ایسا دشمن جو پراکسیز، محفوظ پناہ گاہوں اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے وار کرتا ہے۔
    گلیوں میں غصہ حقیقی ہے۔
    شہداء کے گھروں میں غم حقیقی ہے۔
    اور پورے ملک میں گونجنے والا مطالبہ اب واضح ہوتا جا رہا ہے:
    پاکستان آخر کب تک صرف وار سہتا رہے گا؟
    وہ نقشہ جو عوام دیکھ رہے ہیں
    بلوچستان میں مربوط حملے، سکیورٹی تنصیبات کے خلاف کواڈ کاپٹرز کا استعمال، وفاقی دارالحکومت میں دھماکہ، فوجیوں کا اغوا، حتیٰ کہ ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا — یہ الگ الگ واقعات نہیں۔
    عوام کے ذہن میں یہ سب ایک ہی تصویر بناتے ہیں:
    پاکستان کو ایک مسلسل پراکسی جنگ کے ذریعے لہولہان کیا جا رہا ہے۔
    اور جب تابوت مسلسل آتے رہیں تو اسٹریٹیجک تحمل عام شہری کی نظر میں اسٹریٹیجک غیر فعالیت محسوس ہونے لگتا ہے۔

    جوابِ آں غزل” کا ابھرتا ہوا بیانیہ
    سوشل میڈیا، ڈرائنگ رومز، جامعات اور سابق فوجیوں کے حلقوں میں ایک جملہ قومی گفتگو پر حاوی ہے:
    بازداریت کا اثر محسوس ہونا چاہیے، صرف بیان نہیں ہونا چاہیے
    عوام اب صرف دفاعی کامیابی پر مطمئن نہیں۔
    یہ مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ:
    جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کرتے ہیں، انہیں اس کی قیمت چکانی چاہیے۔
    پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی محفوظ پناہ گاہیں مزید مفت نہیں رہنی چاہئیں۔
    ہائبرڈ جنگ کا جواب اسی میدان میں دیا جانا چاہیے جس میں یہ لڑی جا رہی ہے۔
    یہ کسی مہم جوئی کی پکار نہیں — بلکہ ایک زخمی قوم کا ردعمل ہے جو اپنے سپاہیوں کو جرات سے لڑتے دیکھتی ہے جبکہ اسٹریٹیجک ماحول تبدیل نہیں ہوتا۔
    بازداریت ایک نفسیاتی مساوات ہے
    جدید تنازعات میں بازداریت صرف صلاحیت سے حاصل نہیں ہوتی۔
    یہ تب حاصل ہوتی ہے جب دشمن کو یقین ہو جائے کہ:
    پاکستان کو نقصان پہنچانے کی قیمت کسی بھی ممکنہ فائدے سے زیادہ ہوگی۔
    اس وقت عوامی تاثر یہ ہے کہ قیمت صرف پاکستان ادا کر رہا ہے۔
    یہ تاثر — چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو — تزویراتی طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ داخلی اعتماد کو کمزور اور مخالف بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔

    کشمیر: بنیادی سیاسی و اخلاقی محاذ
    علاقائی سلامتی کی کوئی بحث کشمیر کے بغیر مکمل نہیں — تقسیم کا نامکمل ایجنڈا اور دنیا کا سب سے زیادہ فوجی محاصرہ زدہ خطہ۔
    کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کوئی وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ تاریخی اور قانونی مؤقف ہے۔

    آج عوام چاہتے ہیں کہ یہ حمایت
    مزید نمایاں ہو
    مزید تسلسل کے ساتھ ہو
    عالمی سطح پر مزید فعال ہو
    بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے بغیر — مگر اس انداز میں کہ مسئلہ دوبارہ متحرک ہو اور اس جمود کو توڑا جا سکے جسے دشمن منجمد رکھنا چاہتا ہے۔
    ردعمل سے پہل کی جانب
    عوام کا ابھرتا ہوا مطالبہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ پہل ہے۔
    ہائبرڈ جنگ کے ماحول میں جامع جواب میں شامل ہیں:
    انٹیلی جنس کی بنیاد پر درست اور بروقت صلاحیت
    خطرات کو جنم لینے سے پہلے ختم کرنے کی صلاحیت۔
    علاقائی انسدادِ دہشت گردی سفارت کاری
    پاکستان کے خلاف سرگرم نیٹ ورکس کو عالمی توجہ کا مرکز بنانا۔
    اطلاعاتی جنگ میں برتری
    بین الاقوامی اور داخلی سطح پر بیانیے کی جنگ جیتنا۔
    داخلی استحکام
    بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کا سب سے مضبوط جواب سیاسی و معاشی طور پر مستحکم پاکستان ہے۔
    نمایاں بازدارانہ اشارے
    کشیدگی نہیں — بلکہ یہ واضح پیغام کہ پاکستان کی سرخ لکیریں حقیقی اور قابلِ نفاذ ہیں۔
    بے عملی کی قیمت
    ہر شہید کی نمازِ جنازہ صرف غم کا لمحہ نہیں — یہ ایک اسٹریٹیجک پیغام بھی ہے جسے دوست اور دشمن دونوں دیکھتے ہیں۔
    اگر قوم قیمت عائد کرنے سے قاصر دکھائی دے تو پراکسی جنگ کا ماڈل مخالف قوتوں کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔
    اگر قوم عزم دکھائے تو مساوات بدل جاتی ہے۔
    قومی مزاج بدل چکا ہے
    پالیسی سازوں کے لیے سب سے اہم حقیقت یہ ہے:
    پاکستانی عوام اب صبر کے مرحلے میں نہیں — مطالبے کے مرحلے میں ہیں۔
    مطالبہ برائے:
    سلامتی
    جواب میں برابری
    نمایاں بازداریت
    اسٹریٹیجک وضاحت
    ریاست فیصلے جذبات پر نہیں کرتی — مگر قومی مزاج سے کٹ کر بھی نہیں رہ سکتی۔

    خلاصہ
    بازداریت کی نئی ترتیب کا وقت
    پاکستان تنازع نہیں چاہتا۔
    مگر پاکستان ایسی صورتِ حال بھی قبول نہیں کر سکتا جس میں:
    ہمارے سپاہی روز شہید ہوں،
    ہمارے شہر نشانہ بنتے رہیں،
    اور ہمارے مخالف محفوظ رہیں۔
    آگے کا راستہ غیر ذمہ دارانہ کشیدگی نہیں۔
    آگے کا راستہ بازداریت کی نئی ترتیب ہے — ذہین، متوازن، کثیر جہتی اور غیر مبہم۔
    کیونکہ ہائبرڈ جنگ میں بقا سب سے زیادہ صبر کرنے والی ریاست کو نہیں ملتی —
    بلکہ اس ریاست کو ملتی ہے جو اپنے دشمن کو یقین دلا دے:
    پاکستان کو لہولہان کرنے کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوگی۔

  • سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

    قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویم کی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کا یومِ تاسیس بھی ایسا ہی دن ہے جو تقریباً تین صدیوں پر محیط ریاستی تسلسل، قیادت، جدوجہد اور عوامی خدمت کی علامت ہے۔ 22 فروری 1727ء کو درعیہ میں امام محمد بن سعودؒ نے پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی اور یوں ایک ایسے سیاسی و سماجی سفر کا آغاز ہوا جس کے آج 299 سال مکمل ہو چکے ہیں۔

    امام محمد بن سعودؒ کی سیاسی بصیرت اس تاریخی عمل کا مرکزی نقطہ تھی۔ انہوں نے ایک منتشر قبائلی معاشرے کو منظم ریاستی ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت محض اقتدار کے حصول تک محدود نہ تھی بلکہ نظم و نسق، استحکام اور اجتماعی مفاد کے قیام پر مبنی تھی۔ درعیہ کو مرکز بنا کر انہوں نے ریاستی اداروں کی بنیاد رکھی اور علاقائی وحدت کو مضبوط کیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے سعودی ریاست کو وقتی اتحاد کے بجائے مستقل سیاسی وجود عطا کیا۔

    اسی دور میں امام محمد بن عبدالوهابؒ کی فکری اور اصلاحی تحریک نے معاشرتی اور دینی سطح پر نئی بیداری پیدا کی۔ اصلاحِ عقیدہ اور سماجی تطہیر کی اس تحریک نے ریاست کو فکری اساس فراہم کی۔ امام محمد بن سعودؒ اور امام محمد بن عبدالوهابؒ کے درمیان اشتراک نے سیاسی قیادت اور فکری رہنمائی کو یکجا کیا، جس کے نتیجے میں پہلی سعودی ریاست کو نظریاتی اور اخلاقی استحکام حاصل ہوا۔ یہی امتزاج سعودی تاریخ کی ایک منفرد خصوصیت بن گیا۔

    سعودی تاریخ تین ادوار سے گزری: پہلی سعودی ریاست (1727–1818ء)، دوسری سعودی ریاست (1824–1891ء) اور تیسری سعودی ریاست، جس نے بالآخر 1932ء میں مملکتِ سعودی عرب کی شکل اختیار کی۔ ان ادوار میں آزمائشیں، جنگیں اور جلاوطنی کے مراحل آئے، مگر آلِ سعود کی قیادت نے ریاستی تصور کو برقرار رکھا۔ یہی استقامت بعد ازاں جدید سعودی عرب کی تشکیل کا سبب بنی۔

    جدید مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعودؒ نے مختلف علاقوں کو متحد کر کے 23 ستمبر 1932ء کو مملکت کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اسی وژن کو آگے بڑھایا۔ شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ اور موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ادوار میں ریاستی استحکام، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔

    تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی سمت دی، مگر قیادت نے اس دولت کو محض معاشی استحکام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قومی ترقی، جدید ادارہ سازی اور عالمی کردار کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ آج وژن 2030 کے تحت سعودی عرب معیشت کی تنوع، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سماجی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہے، جو قیادت کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔

    سعودی ریاست کی شناخت کا ایک اہم ستون حرمین شریفین کی خدمت ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توسیع، جدید سہولیات اور لاکھوں حجاج و معتمرین کی خدمت آلِ سعود کی اولین ترجیح رہی ہے۔ یہ خدمت نہ صرف مذہبی ذمہ داری بلکہ ریاستی وقار اور عالمی اسلامی قیادت کی علامت بھی ہے۔

    یومِ تاسیس دراصل اسی تاریخی تسلسل کا جشن ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سعودی عرب محض جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ قیادت، نظریہ اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔ امام محمد بن سعودؒ سے لے کر آج تک آلِ سعود کی حکومت نے جدوجہد، حکمت اور عوامی خدمت کے ذریعے اس ریاست کو جدید اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    299 سالہ یہ سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مضبوط قیادت اور قومی یکجہتی قوموں کو تاریخ کے نشیب و فراز سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یومِ تاسیس سعودی عرب کے شاندار ماضی کو خراجِ تحسین اور روشن مستقبل کے عزم کا اظہار ہے۔

  • ہماری ترجیحات  صرف پروٹوکول  یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    ہماری ترجیحات صرف پروٹوکول یا معیشت ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    وقت نے ثابت کر دیا کہ ہماری ترجیحات عوامی نہیں کیونکہ پچھلے 78 سالوں سے ہم بطور پاکستان ایک لیبارٹری کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کبھی ہم الف انار سے آگے نہیں بڑھ سکے اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے برسر اقتدار لوگوں کو اپنے پروٹوکول سے عرض ہے اور اگر ہم الف انار سے آگے نکل گئے تو الف سے اللہ پڑھ لیا تو لوگوں کے ذہنوں میں اللہ کی محبت جاگنے لگے گی جو کہ پروٹوکول والوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس لیے الف انار ہی کافی ہے ۔

    پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈی سی، اے سی اور پرائس کنٹرول والے ادارے بے بس نظر آتے دکھائی دیتے ہیں شائد سسٹم میں خرابیاں ہیں جو ہم دور نہیں کرنا چاہتے پکڑ دھکڑ ایف آئی آر حوالات میں بند کرنا جو حل نہیں مسلئہ کی روح کو سمجھنا ضروری ہے جو ہم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

    بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار سکڑ رہے ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ لیکن اگر ہمارے ریاستی اور انتظامی رویّوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اصل مسائل معیشت، روزگار اور عوامی فلاح نہیں بلکہ پروٹوکول، نمائشی دورے اور عہدوں کی شان و شوکت بن چکے ہیں۔

    آج بھی کسی سرکاری شخصیت کی آمد کی اطلاع ملے تو سڑکیں بند، ٹریفک معطل اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ معمول کی بات ہے۔ مریض ایمبولینس میں انتظار کرتے رہتے ہیں، طلبہ امتحان کے لیے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی وقار کا تقاضا عوام کو تکلیف دینا ہے؟ یا اصل وقار عوام کی سہولت اور خدمت میں ہے؟

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک انتظامی ضرورت سے بڑھ کر اختیار اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔ لمبے لمبے قافلے، درجنوں گاڑیاں، غیر ضروری سکیورٹی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ایک ایسا کلچر بن چکا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔دوسری طرف ملک کی معیشت کمزور ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔لاکھوں کی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں جن میں ڈاکٹر انجینئر اور پڑھا لکھا طبقہ دیدارِ غیر کی پرواز کرچکا ہے اور باقی انتظار میں ۔چھوٹے کاروبار مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ صنعتوں کی رفتار سست ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی اولین ترجیح معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر زیادہ توجہ نمائشی سرگرمیوں اور رسمی تقریبات پر دی جا رہی ہیں۔

    یہ پروٹوکول کلچر صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے میں بھی سرائیت کر چکا ہے۔ عہدہ، دولت یا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد خود کو عام شہری سے مختلف اور برتر سمجھنے لگے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم اور احساسِ محرومی کو بڑھا دیا ہے۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ قانون اور سہولیات سب کے لیے برابر نہیں تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں اعلیٰ حکام سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے آتے جاتے ہیں، اور ریاستی وسائل کا ہر ممکن بچاؤ کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہاں کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے، نمود و نمائش کو نہیں۔جب کہ اسلام بھی اس منع کرتا ہے ۔

    پاکستان کو بھی اسی سوچ کی ضرورت ہے جب کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ غیر ضروری پروٹوکول اور نمائشی اخراجات کو کم کر کے وسائل کو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ سرکاری افسران اور منتخب نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا عہدہ اختیار نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری ہے۔مگر یہ اب تک ممکن نہیں ہوسکا بہرحال امید قوی ہے اتنا انتظار مزید کرنے سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے خاص طور پر ضلعی اور مقامی سطح پر بھی اس سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوامی مسائل—ٹوٹے ہوئے روڈ، سیوریج کے مسائل، پینے کے پانی کی کمی، سرکاری اداروں کی کارکردگی—ان پر توجہ دینے کے بجائے اگر سارا زور استقبال، پروٹوکول اور رسمی سرگرمیوں پر ہو تو عوام کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ دونوں مل کر ایک نئی سوچ کو اپنائیں۔ سادگی، خدمت اور کارکردگی کو عزت دی جائے ووٹ والی بات الگ ہے جبکہ نمود و نمائش اور غیر ضروری پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جائے۔مگر کون کرے گا جو پروٹوکول کے دلدادہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی طاقت لمبے قافلوں یا بند سڑکوں میں نہیں، بلکہ خوشحال عوام، مضبوط معیشت اور برابر کے نظام میں ہوتی ہے۔جب حکمرانی کا مرکز عوام بن جائیں گے تو ترقی خود راستہ بنا لے گی۔ پہلے قوم بننا ضروری ہے ، آخر کب تک امید کا دامن تھامے رکھو گے ؟

  • ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    21 فروری محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ شناخت، شعور اور ثقافتی بقا کا دن ہے۔ ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی حافظے کی محافظ ہوتی ہے۔ جس قوم کی زبان کمزور پڑ جائے، اس کی تہذیبی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔

    پنجاب کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب، صوفیانہ فکر اور ثقافتی رنگا رنگی کی امین رہی ہے۔ پنجابی زبان نے محبت، مزاحمت، حکمت اور روحانیت کے ایسے نقوش چھوڑے جو برصغیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہیں۔ مگر افسوس کہ اپنے ہی گھر میں یہ زبان اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ بچے اسکول میں اپنی مادری زبان بولنے سے جھجکتے ہیں، اور والدین اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف لسانی بلکہ فکری بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجابی زبان، ثقافت اور تہذیب کے فروغ کے حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب اس مسئلے کو محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ پالیسی کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پنجابی کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف زبان کی بقا بلکہ نئی نسل کی شناخت کے تحفظ کی ضمانت ہوگا۔

    یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو پڑھایا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ مؤقف دراصل آئینی تقاضوں اور ثقافتی ذمہ داری کا عکاس ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس فیصلے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کب ہوگا؟

    گزشتہ برس 21 فروری 2025 کو مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجابی زبان کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، پنجابی کتب کی اشاعت کو فروغ دیا جائے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں پنجابی کو مناسب مقام دیا جائے۔ یہ قرارداد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے جاری مطالبے کی آئینی صورت تھی۔ اگر اس قرارداد پر عملی اقدامات کیے جائیں تو پنجاب کی لسانی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مجھے آج بھی 21 فروری 2014 کی وہ دوپہر یاد ہے جب لاہور کی شملہ پہاڑی پر پنجابی تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کا موقع ملا۔ مختلف جماعتوں، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے ایک ہی مطالبہ دہرا رہے تھے: پنجابی کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ وہ کوئی سیاسی اجتماع نہیں تھا بلکہ شناخت کی جنگ تھی۔ اس تحریک سے وابستہ تمام تنظیمیں اور افراد قابلِ قدر ہیں کہ انہوں نے مسلسل اور پُرامن انداز میں یہ مطالبہ زندہ رکھا۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پنجابی کو کیوں پڑھایا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے کیوں نہ پڑھایا جائے؟ دنیا کی مہذب اقوام اپنی مادری زبان میں تعلیم کو بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس امر پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو بچے کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجابی کو نصاب کا حصہ بنانا کسی دوسری زبان کے خلاف اقدام نہیں بلکہ لسانی توازن کی بحالی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان کا فروغ صرف حکومتی نوٹیفکیشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معاشرتی قبولیت، ادبی سرگرمی، نصابی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور میڈیا کا مثبت کردار ضروری ہے۔ اگر پنجابی میں معیاری نصاب، جدید ادب، بچوں کی کہانیاں اور سائنسی مواد تیار کیا جائے تو یہ زبان نئی نسل کے لیے کشش بھی پیدا کرے گی اور افادیت بھی۔

    آج جب ماں بولی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے محض ثقافتی تقریب تک محدود نہ رکھا جائے۔ یہ دن ہمیں اجتماعی احتساب کا موقع دیتا ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی آئندہ نسل کو اس کی اصل شناخت سے جوڑ رہے ہیں؟

    امید کی کرن موجود ہے۔ حکومتی سطح پر اقدامات، عدالتی فیصلے، اسمبلی کی قراردادیں اور سماجی تحریکیں اس بات کی علامت ہیں کہ شعور بیدار ہو رہا ہے۔ اگر نیت اور پالیسی میں تسلسل رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پنجابی باوقار انداز میں پڑھائی جائے گی، بچے اسے فخر سے بولیں گے اور ماں بولی کو احساسِ کمتری نہیں بلکہ شناخت کی علامت سمجھا جائے گا۔

    ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں مرنے نہیں دی جاتیں، انہیں زندہ رکھا جاتا ہے — شعور سے، محبت سے اور عملی اقدامات سے۔ پنجاب کی دھرتی آج بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے سننے اور سکھانے کا حوصلہ پیدا کریں۔

  • امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران: جنگ کی آہٹ یا سفارت کی ضرورت؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دہائیوں پر محیط ہے۔ کبھی جوہری پروگرام کا معاملہ، کبھی مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور کبھی اسرائیل سے وابستہ تنازعات،یہ سب عوامل دونوں ممالک کو بارہا آمنے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

    حقیقت یہ ہے کہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا امکان کم ضرور ہے، مگر خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ ایران کوئی کمزور ملک نہیں۔ اس کے پاس میزائل صلاحیت موجود ہے، خطے میں اس کے اتحادی گروہ ہیں، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر اس کا جغرافیائی اثر نمایاں ہے۔ دوسری طرف ایران بھی سمجھتا ہے کہ براہِ راست جنگ اس کی معیشت اور داخلی استحکام کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے دونوں ممالک عمومی طور پر براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں، مگر محدود کارروائیاں یا پراکسی محاذ آرائی کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔

    اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے خلیجی خطہ متاثر ہوگا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات موجود ہیں، دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔عراق، شام اور لبنان جیسے ممالک پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ ایران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ ممالک ممکنہ پراکسی جنگ کا میدان بن سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں دہشت گردی، خانہ جنگی اور سیاسی افراتفری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

    ایران کے پڑوسی ممالک بھی اس صورت حال سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستان کو سرحدی کشیدگی، مہاجرین کے ممکنہ دباؤ اور سفارتی توازن کے نازک مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترکی اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کریں گی، مگر معاشی اثرات سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت کو سست روی کا شکار کر سکتا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت صف بندی کریں گی، جس سے عالمی سیاست میں نئی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی بدامنی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایک اور جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مسئلے کا حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہے۔

  • بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    بسنت بے شمار خرابیوں، بربادیوں کا مجموعہ، معاشرتی اقدار اور ریاستی رٹ کے قتلِ عام کی علامت بن گئی ۔ جس کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں، اعضا اور محنت کی کمائی سے ادا کرتے رہے ، اگر چہ بسنت کو خوشی کے ایک تہوار کا نام دیا حالانکہ یہ خوشی کا تہوار نہیں بلکہ ایک ایسا خونی تہوار اور سفاکیت کی علامت بن گیا جس کی ڈور تلوار کی طرح گردنیں کاٹ دیتی ہے ، موٹر سائیکل سوار موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ، جس کے شیشے، کیمیکل اور دھات سے بنے دھاگوں نے شہر میدانِ جنگ بنا دیے !

    پرویز مشرف حکومت کے خاتمہ کے بعد جب نئے انتخابات ہوئے تو پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے انھوں نے بسنت منانے ، پتنگیں اڑانے پر سخت پابندی لگا دی ۔ اس پابندی کی وجہ سے پنجاب کے عوام نے سکھ اور سکون کا سانس لیا ۔ کئی سال تک پنجاب میں امن اور سکون رہا لیکن معلوم نہیں کیا وجہ بنی کہ میاں شہباز شریف کی بھتیجی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو یہ سکون پسند نہ آیا انھوں دوبارہ سے سرکاری سطح پر بسنت منانے اور پتگیں اڑانے کی اجازت دے دی ہے ۔ شنید ہے کہ لاہور کے بعد پنجاب کے باقی شہروں میں بھی یہ ہندووانہ خونی تہوار منایا جائے گا ۔

    نام نہاد تفریح کے نام پر معصوم شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئیں ۔ اس خونی ہندووانہ رسم کی وجہ سے کئی بچے یتیم ہوئے ، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لاتعداد گھر اجڑ گئے ہیں ۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ بسنت تفریح نہیں بلکہ ایک قاتل سرگرمی بن چکی ہے۔
    کہنے کی حد تک ایک ڈور ہے ، ایک پتنگ ہے اور ایک وہ ہے جو اس پتنگ کو اڑانے والا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک قاتل ڈور ہوتی ہے جو ا نسانی لاشیں گراتی ہے ۔ بسنت کے دوران استعمال ہونے والی ڈوریں براہِ راست انسانی قتل کا ذریعہ بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے اس بار بھی کئی افراد موت کے گھاٹ اترے اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے ، کئی افراد کے سر قلم ہوئے یا گردن کٹنے جیسے ہولناک حادثات کی وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔یہ ایک ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار، مزدور، طالب علم یہاں تک کہ اسکول جاتے بچے محفوظ نہیں۔
    اس دفعہ جب بسنت منائی گئی اس دن سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی، ڈاکٹر اور نرسیں اضافی ڈیوٹیاں انجام دیتے رہے ، ریاست لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کرتی ہے کہ چند لوگ آسمان پر کاغذ اڑا سکیں۔
    سوال یہ ہے کہ یہ اخراجات کس نے ادا کئے ؟
    کیا ریاست نے ؟ نہیں۔
    کیا حکومت نے ؟ نہیں۔
    یہ قیمت عام شہری، ٹیکس دہندہ اور متاثرہ خاندانوں سے وصول کی گئی ۔
    بسنت کا سب سے تاریک پہلو وہ معصوم بچے ہیں جو چھتوں پر پتنگ لوٹتے ہوئے گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یا جن کی گردن قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کے لیے بسنت ایک دن نہیں بلکہ عمر بھر کا زخم بن جاتی ہے ، کوئی قانون، کوئی روایت، کوئی ثقافت اس دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔
    بسنت کی وجہ سے صرف معاشی نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ چھتوں سے زیادہ قبرستان آباد ہوتے ہیں ۔
    بسنت کو سیاحت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے والے یہ حقیقت جان بوجھ کر چھپاتے ہیں کہ اس تہوار سے ہونے والا مالی اور جانی نقصان اس کے مبینہ فوائد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بجلی کے تار کٹتے ہیں ، ٹرانسفارمر جلتے ہیں ، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہوتی ہے ، عمارتوں، گاڑیوں اور سولر سسٹمز کو نقصان پہنچتا ہے ، پولیس، ریسکیو اور ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے
    افسوس کہ بسنت مافیاجس میں صنعتکار، سیاست دان اور بااثر حلقے شامل ہیں بڑے بڑے پلازوں اور حویلیوں کی چھتوں پر پتنگیں اڑاتے جبکہ لاشیں ہمیشہ غریبوں کے حصے میں آتی ہیں۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات مت بھولیں کہ ہمارے دین نے انسانی جان کو سب سے قیمتی قرار دیا ہے۔ ایک جان کا ضیاع پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ایسے میں ایک ایسی سرگرمی جو مسلسل جانیں لے رہی ہو، اسے ثقافت کے نام پر جائز قرار دینا بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے ۔
    معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جو تفریح اور ذمہ داری کے درمیان حد قائم رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے یہ حد کب کی پار کر لی ہے۔
    میڈیا اور اشرافیہ کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔میڈیا بسنت کو رنگین مناظر، ڈرون شاٹس اور موسیقی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اشرافیہ محفوظ فارم ہاؤسز اور بلند عمارتوں پر جشن مناتی ہے، جبکہ سڑکوں پر مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں۔یہ طبقاتی تفریق بسنت کو مزید قابلِ نفرت بنا دیتی ہے۔ حل کیا ہے؟ حل کوئی مشکل نہیں، بس نیت کی ضرورت ہے مکمل اور مستقل پابندی قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے پر پابندی اور ناقابلِ ضمانت سزائیں ۔
    اس سلسلہ میں عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ جب تک لاشوں کے بدلے صرف بیانات آتے رہیں گے تب تک بسنت قاتل ہی رہے گی۔
    آخری سوال
    کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم ہیں جو چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے اپنے بچوں کی جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں؟یا پھر اب بھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں ۔۔۔۔بسنت یا انسان۔۔۔۔؟ یہ فیصلہ ریاست کو بھی کرنا ہے، معاشرے کو بھی اور ہر اس فرد کو بھی جو بسنت کو محض تفریح کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
    یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ بسنت پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی تھی جو قیمتی انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع کے بعد لگائی گئی تھی۔ عدالتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خود حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھیں کہ بسنت ایک خطرناک، جان لیوا اور ناقابلِ کنٹرول سرگرمی بن چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں بسنت منانے کا اقدام نہ صرف افسوسناک بلکہ اخلاقی، انتظامی اور انسانی سطح پر مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
    جب ایک حکومت خود اس سرگرمی کو فروغ دے جس پر وہ ماضی میں پابندی لگا چکی ہو تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستی فیصلے لاشوں کی تعداد کے مطابق بدلتے رہیں گے؟ کیا وہی سرگرمی جو کل قاتل تھی، آج محض اس لیے ثقافت بن گئی کہ سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کی جا سکے؟ یہ دوغلا پن دراصل عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جانوں کی کوئی مستقل قدر نہیں، سب کچھ سیاسی مفاد کے تابع ہے۔
    سرکاری سطح پر بسنت کی اجازت دینا درحقیقت بسنت مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے، جو اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب حکومت خود پشت پناہی کر رہی ہے تو پابندی، قانون اور احتیاط کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس سرکاری سرپرستی نے نہ صرف قانون کی ساکھ کو مجروح کیا ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے زخم بھی ہرے کر دیے ہیں جنہوں نے ماضی میں بسنت کی نذر ہو کر اپنے پیارے کھوئے تھے ۔
    یہ فیصلہ دراصل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے:آج بسنت، کل کوئی اور جان لیوا روایت۔۔۔۔ یوں ریاست خود اپنے شہریوں کی قاتل بن جاتی ہے۔

  • گجر خان گرین بس سروس  پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گجر خان گرین بس سروس پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گجر خان گرین بس سروس کو صرف پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کر دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی سہولت کے وژن کو محدود کرنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ جب مریم نواز شریف نے گجر خان سے راولپنڈی تک آرام دہ اور محفوظ سفری سہولت کا اعلان کیا تو اس کا بنیادی مقصد طلبا و طالبات، بزرگ شہریوں، ملازمت پیشہ افراد اور خصوصاً خواتین کو باوقار اور سستا سفر فراہم کرنا تھا۔لیکن اگر اس سروس کو شہر کے مرکزی مقامات تک پہنچانے کے بجائے پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود رکھا گیا ہے تو اس سے اصل فائدہ اٹھانے والے طبقات کو مکمل سہولت میسر نہیں آ سکے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر کالجز، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دفاتر جانے والوں کے لیے منزل تک رسائی ہی اصل سہولت ہوتی ہے، نہ کہ نصف راستے تک۔

    ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے اس اقدام سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید نچلی سطح پر منصوبہ بندی میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی گئی جس کی عوام توقع رکھتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ کی نیک نیتی اور عوامی ریلیف کے وژن کو بیوروکریسی کی سطح پر مکمل عملدرآمد نہ ملے تو ایسے منصوبے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ٹریفک، سیکیورٹی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا؟ اگر ایسا ہے تو عوام کو اعتماد میں لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ شفافیت ہی اعتماد کو جنم دیتی ہے۔گجر خان کے عوام خصوصاً طلبا، طالبات اور خواتین یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں مکمل اور براہِ راست سفری سہولت فراہم کی جائے، تاکہ حکومتی وعدہ عملی شکل میں نظر آئے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور گرین بس سروس کو اس کے اصل روٹ تک توسیع دے، تاکہ وزیراعلیٰ کے عوامی وژن کی حقیقی تعبیر سامنے آ سکے۔

  • امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بورڈ آف پیس کانفرنس تک محدود،فلسطینیوں کا قتل عام جاری
    امریکہ ،ایران کشیدگی نے خطے کاامن دائو پر لگادیا،دنیا خاموش کیوں؟
    دنیا کو نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت،اعتماد سازی بھی ناگزیر
    تجزیہ،شہزادقریشی
    ایک طرف امن کاپرچاردوسری طرف جنگ کے سائے،دنیا ایک عجیب دو راہے پر کھڑی ہے،امریکہ میں امن کے نام پر کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں،پالیسی ساز مستقبل کے نقشے بنا رہے ہیں،تھنک ٹینکس عالمی استحکام کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے افق پر بارود کی بو تیز ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ امن کی محفلیں واقعی جنگ کو روکنے کے لئے ہیں یا آنے والے کسی بڑے تصادم کی تمہید؟امریکہ میں ہونے والی حالیہ ’’بورڈ آف پیس‘‘نوعیت کی کانفرنسیں دراصل عالمی طاقتوں کی صف بندی کا حصہ ہیں،یہاں فیصلے کم اور سمت کا تعین زیادہ ہوتا ہے،بیانات میں امن کی بات کی جاتی ہے مگر پس منظر میں طاقت کا توازن،دفاعی حکمتِ عملی اور اتحادیوں کی ترجیحات زیرِ غور آتی ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ دو ستونوں پر کھڑی رہی ہے، سفارت کاری اور دباؤ، مسکراتے چہروں کے پیچھے سخت فیصلوں کی تیاری بھی جاری رہتی ہے،دوسری جانب ایران ہے،جو گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے،ایرانی انقلاب کے بعد سے اعتماد کی خلیج کبھی پوری نہ ہو سکی،ایٹمی پروگرام، خطے میں اثر و رسوخ، اسرائیل کے ساتھ تناؤ اور خلیجی سیاست،یہ سب وہ عوامل ہیں جو واشنگٹن اور تہران کو آمنے سامنے رکھتے ہیں، 2015 کا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن تھا، مگر پابندیوں کی واپسی نے فضاء پھر مکدر کر دی،کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟نظریاتی طور پر ہاں، عملی طور پر یہ فیصلہ آسان نہیں،ایران پر براہِ راست حملہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے،خلیج کی تیل گزرگاہیں، عالمی منڈیاں اور پہلے سے کمزور عالمی معیشت شدید متاثر ہوں گی،مزید یہ کہ ایران روایتی اور غیر روایتی دونوں انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مکمل جنگ کے امکانات کم اور محدود کارروائیوں، سائبر حملوں یا پراکسی کشمکش کے امکانات زیادہ سمجھے جاتے ہیں،اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی،چین اور روس جیسے ممالک طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،ایسے ماحول میں امریکہ کسی بھی بڑے عسکری قدم سے پہلے عالمی ردعمل اور اتحادیوں کی حمایت کا حساب ضرور لگائے گا،ایران بھی سفارتی تنہائی کے باوجود مکمل طور پر تنہا نہیں،

    یہ تمام صورتحال ہمیں ایک نئے دور کی یاد دلاتی ہے،سرد جنگ کا نہیں بلکہ ’’سرد کشیدگی‘‘ کا دور، جہاں مکمل جنگ سے گریز کیا جاتا ہے مگر دباؤ، پابندیاں اور محدود تصادم جاری رہتے ہیں،امن کی کانفرنسیں ہوتی رہیں گی،بیانات جاری ہوتے رہیں گے،مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں تصادم کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کا حوصلہ رکھتی ہیں؟دنیا کو اس وقت نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے،اگر امن کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی پر زور دینا ہوگا،ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر کانفرنس ہالوں کی خاموشیوں میں جنم لیتی ہیں اور میدانوں کی گرج میں پروان چڑھتی ہیں۔

  • قومی سلامتی، عالمی وقار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    قومی سلامتی، عالمی وقار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری۔تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک نئے جغرافیائی و معاشی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت کا محور تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی سیاست میں بیانیے، سفارت کاری، معیشت اور دفاع—چاروں عناصر مل کر کسی بھی ریاست کا مقام متعین کرتے ہیں۔ ایسے نازک دور میں پاکستان کا عالمی منظرنامے پر کھڑا ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔
    پاکستان آج امریکہ سے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی، سفارتی سرگرمیوں اور دفاعی پیشہ ورانہ صلاحیت نے ملک کا تشخص مضبوط کیا ہے۔ خاص طور پر عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ جس اعتماد کے ساتھ پیش کیا، اس نے ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مستحکم کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم اس مقام کی قدر بھی کر رہے ہیں؟

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف اکثر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے میں بدل جاتا ہے۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر بے بنیاد الزام تراشی، افواہ سازی اور عالمی سطح پر اپنے ہی اداروں کو متنازع بنانے کی روش قومی مفاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دنیا میں کوئی بھی سنجیدہ ریاست اپنے دفاعی و سلامتی کے ڈھانچے کو داخلی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھاتی۔

    ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سرحدوں پر کھڑا سپاہی کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں ہوتا—وہ ریاست پاکستان کا محافظ ہوتا ہے۔ محدود وسائل اور نسبتاً کم تنخواہوں کے باوجود، وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس قربانی کو محض تنخواہ کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ قومیں اپنے محافظوں کو مالی معاوضے سے زیادہ اخلاقی اعتماد دیتی ہیں—اور یہی اعتماد ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔
    بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی، اطلاعاتی جنگ اور پراپیگنڈا شامل ہیں۔ ایسے میں داخلی انتشار بیرونی قوتوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم خود اپنے بیانیے کو کمزور کریں گے تو دنیا ہمیں سنجیدگی سے کیوں لے گی؟

    یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں بدلیں گے یا اسے تعمیری مکالمے میں ڈھالیں گے۔ سیاسی قیادت، دانشور طبقہ اور میڈیا—سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کریں۔ ریاستی اداروں پر تنقید ہو سکتی ہے، مگر وہ شواہد اور ذمہ داری کے ساتھ ہو—نہ کہ سوشل میڈیا کی افواہوں یا بیرونی بیانیوں کے زیر اثر۔
    دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، عالمی معیشت نئے مراکز کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اور اطلاعاتی جنگیں روایتی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو اندرونی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

    قوموں کی تاریخ میں ایسے موڑ آتے ہیں جب انہیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ داخلی تقسیم کا شکار رہیں گی یا مشترکہ مفاد پر متحد ہوں گی۔ پاکستان اس وقت اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو شعلہ بنانے کے بجائے چراغ بنانا ہوگا۔ اختلاف کو نفرت میں بدلنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔

    اگر ہم واقعی پاکستان کو عالمی سطح پر باوقار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے قومی بیانیے میں سنجیدگی، ذمہ داری اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں—بلکہ اپنے شہریوں کے شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔

  • بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات نے ملکی سیاست میں ایک نئی کروٹ پیدا کی ہے۔ عوامی رائے کے نتیجے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نمایاں اکثریت کے ساتھ سامنے آئی اور اس کے قائد طارق الرحمان ایک بار پھر قومی قیادت کے مرکز بن گئے۔ یہ انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی دور کا آغاز قرار دیے جا رہے ہیں جس میں عوام نے واضح طور پر اپنی ترجیحات کا اظہار کیا۔

    یہ انتخابی مرحلہ ایک ایسے وقت میں آیا جب بنگلہ دیش داخلی سیاسی کشیدگی، معاشی چیلنجز اور آئینی اصلاحات کی بحث سے گزر رہا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور مہم چلائی، جلسے جلوس منعقد ہوئے اور نوجوان ووٹرز نے خاص طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عوام کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر کے یہ ثابت کیا کہ جمہوری عمل پر ان کا اعتماد برقرار ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی بحالی، مہنگائی پر قابو، شفاف طرز حکمرانی اور متوازن خارجہ پالیسی کو مرکزی نکات کے طور پر پیش کیا، جسے عوامی سطح پر پذیرائی ملی۔

    انتخابی نتائج کے بعد سیاسی منظرنامہ واضح ہوا کہ عوام ایک مضبوط اور فعال حکومت چاہتے ہیں جو داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی ملک کی مؤثر نمائندگی کرے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی انتخابی عمل میں نمایاں کردار ادا کیا، جس سے سیاسی مسابقت اور جمہوری تنوع کی جھلک نظر آئی۔ان نتائج پر پاکستان کی قیادت کی جانب سے فوری اور مثبت ردعمل سامنے آیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور طارق الرحمان کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ یہ سفارتی پیغام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت چاہتا ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، تاہم موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے لیے معاشی تعاون، تجارتی روابط، تعلیمی تبادلے اور علاقائی ہم آہنگی کے نئے مواقع موجود ہیں۔ اگر نئی قیادت داخلی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرتی ہے تو جنوبی ایشیا میں تعاون کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔یہ انتخابات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام جمہوری عمل کے ذریعے اپنی سمت متعین کرنا جانتے ہیں۔ پاکستان کی بروقت مبارکباد اور خیرسگالی کا پیغام مستقبل میں بہتر ورکنگ تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اب یہ دونوں ممالک کی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو باہمی اعتماد، عملی تعاون اور خطے کے استحکام کے لیے کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔