Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اگلا پیٹرول کس پر چھڑکا جائے گا ؟تحریر: نعیم خان

    اگلا پیٹرول کس پر چھڑکا جائے گا ؟تحریر: نعیم خان

    شام کے ڈھلتے سائے اور سڑک کے بیچوں بیچ جلتی موٹر سائیکل سے اٹھتا بوجھل دھواں محض لوہے اور پلاسٹک کے راکھ ہونے کا منظر نہیں بلکہ ایک بے بس انسان کے ٹوٹتے ہوئے صبر کی روح فرسا تصویر ہے۔ میں ایک ٹک اس دلخراش منظر کو تکتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے آگ کے یہ بے رحم شعلے محض پیٹرول کی خوراک پر نہیں بھڑک رہے بلکہ ایک عام شہری کی محرومیوں ، معاشی تنگ دستی اور اس کے سینے میں سلگتے ہوئے شدید غصے پر ماتمی رقص کر رہے ہیں۔ اسی لمحے ایک سنسناتا ہوا خوفناک سناٹا میرے وجود میں اترنے لگتا ہے اور دل میں یہ بھیانک سوال سر اٹھاتا ہے کہ آج تو اس دکھیار نے اپنے ابلتے ہوئے غصے اور لاچاری کا بدلہ اس بے زبان سواری سے لے لیا لیکن اگر کل کو یہ تلخی برداشت کی تمام حدیں پار کر گئی اور یہ جلتا ہوا پیٹرول کسی سڑک پر کھڑے اہلکار کا پہناوا بن گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ کیا یہ منظر اس بات کا اعلان نہیں کر رہا کہ ہم ایک ایسے تباہ کن موڑ پر آ پہنچے ہیں جہاں سے آگے صرف افراتفری ، ہجوم کا تشدد اور قانون کی شکست کا اندھیرا ہمارا منتظر ہے؟

    ہمارے شہروں کی سڑکیں اس وقت کسی جنگل کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ بے ہنگم گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ایک ایسا طوفان ہے جو ہر لمحہ حادثات کو دعوت دے رہا ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی عوام کا ایک بڑا حصہ بدقسمتی سے غیر تربیت یافتہ ، غیر مہذب اور بنیادی اخلاقیات سے مکمل طور پر محروم نظر آتا ہے۔ غلط سمت میں گاڑی چلانا ، اشارہ توڑنا ، پیدل چلنے والوں کا راستہ روکنا اور بات بات پر گالی گلوچ اور بدتمیزی کرنا اب ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ شاہراہوں پر بد ہیئت چنگ چی اور آٹو رکشوں کا اژدھام اور موٹر سائیکل سواروں کی من مانیاں اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ ہم سڑک کے آداب اور اخلاقیات یکسر بھول چکے ہیں۔ دوسری طرف وہ عام شہری ہے جو صبح سے شام تک کمر توڑ مہنگائی ، پیٹرول کی ہوش ربا قیمتوں اور روزمرہ زندگی کے عذابوں سے پس کر سڑک پر نکلتا ہے۔ جب یہ ذہنی طور پر نڈھال انسان سڑک پر آتا ہے اور اسے اصلاح کی بجائے چالان اور جرمانوں کی صورت نچوڑنے کا ہدف بنا لیا جاتا ہے تو اس کے اندر سالوں سے پکتا ہوا غصہ ایک دم دھماکے کی صورت باہر آتا ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تباہی کا راستہ محض رونے دھونے پر ختم ہو جاتا ہے؟ یا ایک ذمہ دار اور سمجھدار انسان کے طور پر ہم اس دکھ کو ایک روشن حل کی طرف موڑ سکتے ہیں؟
    حقیقت یہ ہے کہ اس بگاڑ کی تہہ میں صرف قانون کی ناکامی نہیں بلکہ حکومت کا اپنے لوگوں کو بہتر سہولیات نہ دینا ہے ، لوگ شوق سے موٹر سائیکل یا رکشے پر نہیں بیٹھتے یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ حکومت نے انہیں سواری کے لیے کوئی اچھا اور باوقار انتظام نہیں کر کے دیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ جلتی موٹر سائیکلوں کا یہ سلسلہ اور ممکنہ خونریز افراتفری رک جائے تو ہمیں کچھ کڑوے اور بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔

    سب سے پہلے قانون کے نفاذ کو عتاب یا شکار کی بجائے اصلاح اور سدھار کا وسیلہ بنانا ہوگا۔ سڑکوں پر ایستادہ پولیس اہلکاروں کو محض ریونیو اکٹھا کرنے والے جابروں کی جگہ شہریوں کا حقیقی محافظ اور مددگار نظر آنا چاہیے۔ جب تک چالان کے نظام میں مساوات قائم نہیں ہوگی اور عام شہری یہ محسوس نہیں کرے گا کہ قانون کی نظر میں امیر اور غریب ایک برابر ہیں تب تک دلوں میں پلتا ہوا غبار یوں ہی آتش فشاں بن کر پھٹتا رہے گا۔ سڑک پر پولیس اور عوام کے مابین پیدا ہونے والے ان زہریلے تنازعات کو ختم کرنے کے لیے کیمروں اور خودکار چالان کا جدید طریقہ کار بلا تفریق نافذ کرنا ہوگا تاکہ انسان کو انسان کے سامنے لا کر دست و گریبان ہونے کے مواقع ہی ختم کیے جا سکیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سڑکوں پر گاڑیوں ، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے باوقار بسوں کا نظام لانا پڑے گا۔ جب ایک مزدور اور طالب علم کو سستی اور آرام دہ بس مل جائے گی تو وہ موٹر سائیکل کا خطرہ اور پیٹرول کا بوجھ کیوں اٹھائے گا؟ چنگ چی رکشوں کو یکسر بند کرنا غریبوں کا معاشی قتل ہوگا مگر انہیں گلیوں اور محلے تک محدود کر کے بڑی سڑکوں کو عام گاڑیوں کے لیے صاف بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ڈرائیونگ کا پروانہ یعنی لائسنس دینے کا طریقہ رشوت سے پاک لیکن انتہائی سخت ہونا چاہیے تاکہ سڑک پر آنے والا ہر شخص گاڑی چلانے کے ساتھ ساتھ سڑک کے اخلاقی قاعدے اور صبر سے بھی واقف ہو۔

    اگر کسی شہری کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ناحق چالان ہوا ہے تو اس کے پاس شکایت کا ایک ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جہاں اس کی بات جلدی سنی جائے۔ جب انسان کے تمام جائز راستے بند کر دیے جاتے ہیں تو وہ سڑک پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لکڑی کو آگ تب ہی لگتی ہے جب وہ سوکھی ہوئی ہو ، ہمارے سماج کے عام لوگ معاشی تپش سے خشک ہوچکے ہیں انہیں مزید جلا کر راکھ کرنے کی بجائے امید ، انصاف اور سہولتوں کا ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے نظام اور اپنے رویوں کی اصلاح نہ کی تو کل کی افراتفری میں کسی کا دامن محفوظ نہیں رہے گا۔ راستہ اب بھی موجود ہے شرط صرف اتنی ہے کہ حکومت عقل سے کام لے اور عوام صبر اور شعور کا دامن تھام لیں

  • میرا تعارف،ظفر اقبال ظفر

    میرا تعارف،ظفر اقبال ظفر

    رائیونڈ لاہور سے ادب کا وہ طالب علم ہوں جوعرصہ دس سال سے لکھنے کی کوشش میں مصروف عمل ہوں پہلا کالم ہی کتاب کالم پوائنٹ میں شائع تھا پھرپاکستان کے نامور اخبارات و میگزین میں کالم،فیچرز،مضمون اور نامور شخصیات کے کیے گئے انٹریوز شائع ہوتے رہے،میرا قلم انسانیت،مسلمانیت اور پاکستانیت،کا ترجمان ہے۔ہرتحریر ادب کے تناظر میں لکھتا ہوں جس کی خاصیت یہ ہے کہ وہ کبھی پرانی نہیں ہوتیں یعنی اپنے پڑھنے والوں کو خالی الذہن نہیں رہنے دیتا۔ دو کتابوں کے مصنف ہوں پہلی کتاب ظفریات اور دوسری کلیات ظفرہے۔ٖظفریات کتاب کی تین سو کاپیاں بغیر دنیاوی مفادات کے خدمت ادب اور ترویج اردو میں مفت تقسیم کیں۔

    پہلی ظفریات پر پاکستان کے تاریخ ساز فلمی رائٹر جناب ناصر ادیب نے مسودہ پڑھنے کے بعد اس اظہار خیال نوازا۔
    ظفر رہتا اس دور میں ہے مگر بات ہر دور کی کرتا ہے حلانکہ اکثر رائٹر اپنے آپ کو لکھتے ہیں مگر ظفر وہ لکھتا ہے جیسے محسوس کرتا ہے۔
    ظفر سطح سمندر پر آنے والی مچھلیوں کو نہیں پکڑتا بلکہ چھلانگ لگا دیتا ہے سمندر میں اور اس کی گہرائیوں میں اتر کر وہاں سے ہیرے، موتی،جوہرات اپنے لفظوں کے جال میں سمیٹ کر لاتا ہے اور اسے ہمارے سامنے رکھ دیتاہے۔ ظفر وہ رائٹر ہے جس کے بارے میں،میں کہہ سکتا ہوں کہ اس کی کتاب وہ کتاب ہے جو ہر صاحب اولاد آدمی کے تکیے کے نیچے ہونی چاہیے۔
    ریڈیو،ٹی وی پروگرام بھی بطور میزبان،ہوسٹ کیے۔ اصول قلم میں دنیاوی مفاد کو ترک کرنافرض سمجھتے ہوں تاکہ تحریروں میں تاثیرقائم رہے، جو الفاظ اثر سے خالی ہوں وہ الفاظ نہیں فقط سیاہی کے دبے ہیں۔
    میں اپنے قلم و تحریر میں نکھارو تاثیر سے نوازنے والے استادوں اور کتابوں کا احسان مند ہوں
    zafar

    zafar

  • خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے، ماضی کی یاد سے مستقبل کے سفر تک،تحریر:  رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے، ماضی کی یاد سے مستقبل کے سفر تک،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

    خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن صرف لوہے کی پٹڑی نہیں تھی بلکہ اس پورے خطے کی معاشی، زرعی، سماجی اور سفری زندگی کی ایک متحرک علامت تھی۔ اس تاریخی ریلوے لائن کا منصوبہ 1909ء میں منظور ہوا اور 1911ء میں اسے باقاعدہ کھول دیا گیا۔ یہ لائن سابق ریاست بہاولپور کے دربار کی مالی معاونت سے تعمیر ہوئی اور برطانوی دور کی نارتھ ویسٹرن ریلوے کے ذریعے اس کا انتظام و آپریشن کیا جاتا تھا۔ خانپور سے چاچڑاں شریف تک تقریباً 36 کلومیٹر طویل اس ریلوے لائن پر پانچ اہم اسٹیشن خانپور جنکشن، کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں، ظاہر پیر اور چاچڑاں شریف قائم تھے۔ برسوں تک اس پٹڑی پر چلنے والی ٹرین ہزاروں مسافروں کے لیے آسان، محفوظ اور نسبتاً سستا ذریعۂ آمدورفت تھی۔ کسان اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچاتے، کاروباری سرگرمیاں بڑھتیں اور دور دراز علاقوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ترقی کا پہیہ واقعی ریل کی پٹڑی پر دوڑ رہا ہو۔ افسوس کہ وقت کے ساتھ یہ تاریخی سلسلہ ماند پڑ گیا۔ دستیاب مختلف حوالوں میں مسافر سروس کی بندش کا سال مختلف بیان ہوا ہے؛ بعض حوالوں کے مطابق 1998ء تک یہاں مسافر ٹرین چلتی رہی، جبکہ مقامی طور پر اس سے پہلے بندش کا ذکر بھی ملتا ہے۔ بعد ازاں ٹریک بھی اکھاڑ دیا گیا اور ایک ایسا سفری و معاشی باب بند ہوگیا جس کی یاد آج بھی اس خطے کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ریلوے کو صرف آمدورفت نہیں بلکہ سیاحت، خوشی، سہولت اور معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں ایک تاریخی ریلوے راستہ وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ ریلوے کی قیمتی اراضی کے بعض حصوں پر تجاوزات اور قبضوں کے باعث گھر، دکانیں اور کھیت بن گئے، جس نے بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا۔ چاچڑاں شریف کی اپنی ایک منفرد روحانی اور تاریخی شناخت ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جسے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی نسبت حاصل ہے اور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے یہاں مذہبی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت بھی موجود ہے۔ اگر خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن ازسرِنو تعمیر کی جائے تو یہ صرف ٹرین کی بحالی نہیں بلکہ زراعت، تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ آج خانپور، ظاہر پیر، ججہ عباسیاں، کوٹلہ پٹھان اور چاچڑاں شریف کے عوام کی آواز ایک ہی ہے کہ اس تاریخی ریلوے لائن کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ ماضی کی وہ پٹڑی جو کبھی خوشحالی کا راستہ تھی، اگر آج جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ بچھا دی جائے تو شاید دفن شدہ ماضی کا یہ شاندار باب ایک بار پھر روشن مستقبل کی بنیاد بن جائے۔

  • جہادِ افضل،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    جہادِ افضل،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    جہادِ افضل وہ عظیم جدوجہد ہے جو انسان اپنے اندر موجود کمزوریوں، خواہشوں اور لغزشوں کے خلاف کرتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جسے نہ دنیا دیکھتی ہے، نہ لوگ اس کا شور سنتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک یہی سب سے اعلیٰ جہاد ہے۔ ہر شخص کے دل میں ایک محاذ قائم ہے۔ کوئی اپنی زبان کی تلخی سے لڑ رہا ہے۔ کوئی حسد کے زہر کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔ کوئی برائی سے بچنے کی جدوجہد میں ہے۔ اور کوئی مایوسی کے طوفان کو روکنے میں مصروف ہے۔ یہی اندرونی کشمکش انسان کے اصل حوصلے اور کردار کا امتحان بنتی ہے۔

    جہادِ افضل کا مجاہد وہ ہوتا ہے جو تنہائی میں بھی اپنے آپ کو برائی سے روکے، کیونکہ وہاں نہ تعریف کا لالچ اور نہ ہی بدنامی کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ دل کو پاک رکھنے، نیت کو درست رکھنے اور عمل کو بہتر بنانے کے لیے روز کوشش کرتا ہے۔ جب انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھ لیتا ہے۔ تو دنیا کا کوئی میدان اس کے لیے مشکل نہیں رہتا، کیونکہ جو اپنے اندر کے دشمن کو شکست دے دے، اسے باہر کا دشمن کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

    یہ جدوجہد انسان کو مضبوط بناتی ہے اور دل میں یقین دلاتی ہے۔
    یہ جہاد مسلسل ہے، عمر بھر جاری رہتا ہے۔ کبھی انسان جیتتا ہے، کبھی ہار جاتا ہے مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ کوشش نہ چھوڑے۔ ہر نیا دن ایک نئی امید اور موقع لے کر آتا ہے۔ جو شخص خود کو بہتر بنانے کی نیت کے ساتھ اٹھے، وہی اللہ کے نزدیک حقیقی مجاہد ہے۔
    جہادِ افضل یہی ہے کہ انسان خود کو بدلنے کی جدوجہد جاری رکھے، نیکی سے جڑے، برائی سے لڑے اور اللہ کی رضا کو اپنا سب سے بڑا مقصد بناۓ۔

  • ستمبر ،شاعر:  سمیرا اکرام

    ستمبر ،شاعر: سمیرا اکرام

    ستمبر آ کے چیختا ہے کہ ٹوٹ کر بکھرنا ہے
    گرے گا جو بھی آج یہاں کل اسی نے سنورنا ہے

    درد کی رات کالی ہے مگر امید کا دیا ہے
    اندھیرا جتنا گہرا ہو اجالا اتنا ہی قریب ہے

    شجر سے پتے گرتے ہیں تو جڑیں اور مضبوط ہوں
    زخم جو آج دل پر ہیں کل یہی تیرے فخر ہوں

    نہ رکنا ہے نہ جھکنا ہے اٹھو اور چل پڑو تم
    ستمبر کا یہ پیغام ہے کہ خود سے جیت لو تم

    گرا کے پھر اٹھنے والے ہی تاریخ لکھتے ہیں
    ستمبر سکھا رہا ہے کہ پتھر بھی تراشتے ہیں

  • دو بوند،تحریر:ایمن ریاض

    دو بوند،تحریر:ایمن ریاض

    دادا جان پریشانی سے اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہے تھے۔ ان کے چہرے کی جھریاں اور پریشان نگاہیں اس بات کا پتہ دے رہی تھیں کہ ان کے ذہن میں بہت بڑا خدشہ پنپ رہا ہے۔ وہ بچوں کے بے باک اور لاپروا رویے سے شدید پریشان تھے اور سوچ رہے تھے کہ آخر کس طرح ان معصوموں کے دل و دماغ میں پانی جیسی نایاب اور عظیم نعمت کی اہمیت کو اتارا جائے۔
    کچھ ہی دیر میں کمرے کا دروازہ ٹھاہ کی زوردار آواز سے کھلا اور تین بھاگتے، دوڑتے بچے اندر داخل ہوئے۔

    السلام علیکم دادا جان! جلدی سے کہانی سنانا شروع کریں!
    بچوں نے پھولی سانسوں کے ساتھ السلام علیکم کہا اور ساتھ ہی اپنی دیرینہ فرمائش بھی پیش کر دی۔
    دادا جان نے بچوں کی طرف غور سے دیکھا، ان کے معصوم اور نادان چہروں کو تکا اور پھر کچھ سوچ کر ان کے بوڑھے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے بچوں کو اپنے قریب بٹھایا اور لمبا سانس لے کر کہانی کا آغاز کیا۔
    پیارے بچو! یہ کہانی کسی دور دراز دیس کی نہیں، بلکہ ہمارے ہی جیسے ایک گھرانے کی ہے… دادا جان نے دھیمی اور پراسرار آواز میں بولنا شروع کیا۔
    صبح ہوتے ہی اس نے روز کی طرح گاڑی دھونے اور نہانے کے نام پر پانی بہانا شروع کر دیا تھا۔ پائپ سے تیز رفتار پانی بہہ رہا تھا اور گلی میں کیچڑ اور پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بن چکے تھے۔
    احمد! کتنی بار تم سے کہا ہے کہ پانی کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا کرو۔ اگر ہم سب اسی طرح بے دریغ پانی بہاتے رہے تو بہت جلد ہم پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں گے۔
    دادا جان نے ہمیشہ کی طرح آج پھر احمد کو سمجھانے کی کوشش کی، ان کے لہجے میں فکر اور التجا تھی۔
    اوہو دادا جان! جب وہ وقت آئے گا تب کی تب دیکھی جائے گی۔ ابھی تو آپ مجھے یوں ڈرانا چھوڑ دیں!” احمد نے پائپ کا رخ دوسری طرف کرتے ہوئے دادا جان کی بات کو ہوا میں اڑا دیا۔
    احمد کا لاپروا جواب سن کر دادا جان نے تاسف سے سر ہلایا، ان کی آنکھوں میں نمی تیر گئی اور وہ زیرِ لب استغفار کا ورد کرنے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نعمتوں کی ناشکری کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے۔
    سال گزرتے گئے اور احمد کی لاپرواہی میں کوئی کمی نہ آئی۔ لیکن قدرت کا اپنا ایک نظام ہے۔ چند ہی سالوں میں اس علاقے کو بدترین خشک سالی نے گھیر لیا۔ بارشیں تھم گئیں، ندی نالے سوکھ گئے اور زمین کے نیچے سے پانی کی سطح مسلسل نیچے گرتی چلی گئی۔ جو کنویں اور بورنگ کل تک شاداب تھے، وہ اب گرد و غبار کے سوکھے گڑھے بن چکے تھے۔
    ایک دن ایسا بھی آیا کہ پینے کے پانی کا ایک ایک قطرہ سونے کے بھاؤ ملنے لگا۔
    پانی… پانی… دادا جان کی نحیف و نزار آواز نے یوسف کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا اور وہ ماضی کے حسین اور شاداب دن یاد کرتا ہوا اچانک حال کی خوفناک حقیقت میں آ کھڑا ہوا۔
    یوسف بھاگ کر کچن کی طرف گیا۔ کچن کے ایک ایک برتن کو ٹٹولتے ہوئے وہ صرف دو گھونٹ پانی کی تلاش میں تھا، لیکن ہر مٹکا، ہر جگ اور ہر بوتل خالی پڑی تھی۔ نلکے سے نکلنے والی خشک ہوا اس کے بے بس وجود کا مذاق اڑا رہی تھی۔
    پانی نہ پا کر وہ الٹے قدموں دادا جان کے پاس واپس لوٹا اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر اونچا اونچا رونے لگا۔ وہ تڑپ رہا تھا کہ کاش اس کے پاس صرف دو بوند پانی ہوتا جو وہ اپنے بسترِ مرگ پر پڑے دادا جان کے خشک حلق میں ٹپکا سکتا۔ لیکن حسرت اور پچھتاوے کے سوا وہاں کچھ نہ تھا۔
    پھر کیا ہوا دادا جان؟
    بچوں نے بے قراری اور خوف سے سوال کیا۔ ان کے ننھے چہروں پر کہانی کی دہشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔

    دادا جان نے ایک گہری آہ بھری اور بولے:
    مسلسل قحط سالی کی وجہ سے گاؤں میں بہت سی اموات ہوئیں، جن میں ایک وہ بوڑھا دادا بھی شامل تھا جو پیاس کی شدت سے دم توڑ گیا… اور وہ احمد کوئی اور نہیں، بلکہ ماضی کا وہی لاپروا لڑکا تھا جس کی ناشکری نے اپنے ہی گھر کی خوشیاں نگل لیں۔
    کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ تینوں بچے سہمے ہوئے دادا جان کو دیکھ رہے تھے۔
    دادا جان نے بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور درد بھرے لہجے میں کہا:
    پیارے بچو! یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ صرف زندگی گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ خود زندگی ہے۔ اور قدر نہ کرنے پر اکثر نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ جب تک پانی بہتا رہتا ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن جس دن یہ رک جائے گا، اس دن انسان اپنا سب کچھ دے کر بھی پانی کا ایک قطرہ خرید نہیں سکے گا۔
    کہانی ختم ہو چکی تھی لیکن بچوں کے دائرہ فکر میں انقلاب آ چکا تھا۔ وہ تینوں خاموشی سے اٹھے۔ سب سے چھوٹے بچے نے فوراً جا کر واش روم کا وہ نلکا مضبوطی سے بند کیا جس سے ہلکی سی بوند ٹپک رہی تھی۔

    بچوں نے دادا جان کے گرد اپنے معصوم ہاتھ لپیٹ لیے اور عہد کیا:
    دادا جان! ہم آج کے بعد کبھی پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں کریں گے۔ ہم اس نعمت کی حفاظت کریں گے۔ دادا جان کے چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ پھیل گئی۔ ان کی آنکھوں میں شکرانے کے آنسو چمک رہے تھے، کیونکہ ان کی بات بچوں کے دلوں میں اتر چکی تھی اور آفت سے بچنے کا پہلا قدم اٹھایا جا چکا تھا۔

  • گیس، بجلی اور پٹرول،تحریر:خالد شہزاد

    گیس، بجلی اور پٹرول،تحریر:خالد شہزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ عوام کو ہمیشہ پُرکشش نعروں، سبز باغوں اور جذباتی وعدوں کے ذریعے بہلایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخ ساز نعرے "روٹی، کپڑا اور مکان” نے 1970ء کے عشرے میں عوام کو امید کی ایک نئی کرن دکھائی تھی۔ غریب طبقے نے سوچا تھا کہ شاید اب آٹے کا کنستر خالی نہیں رہے گا، سر پر اپنی چھت ہوگی اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا میسر ہوگا۔ لیکن دہائیاں گزر جانے کے بعد، بھٹو تو زندہ رہا مگر غریب کی آس ٹوٹ گئی۔بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں توانائی کے سنگین بحران کے حل کے لیے معاہدے تو کیے گئے، لیکن بدعنوانی اور دیرپا پالیسیوں کے فقدان نے بجلی کے مسائل کو مزید سنگین کر دیا۔ آصف علی زرداری کے "پاکستان کھپے” کا نعرہ اور عمران خان کے "ریاستِ مدینہ” کا خواب بھی عام پاکستانی کی حالتِ زار بدلنے میں ناکام رہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جو حکومتیں خود کو معاشیات کی ماہر گردانتی ہیں، وہ بھی بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سیکنڈز کے حساب سے اضافہ کر کے غریب اور متوسط طبقے سے زندہ رہنے کی آخری امید بھی چھین رہی ہیں۔

    یہ مانا کہ عالمی حالات و واقعات اور جیو پولیٹیکل دباؤ نے پاکستان کا موجودہ معاشی اور توانائی کا بحران محض داخلی بدانتظامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ عالمی حالات و واقعات نے بھی اس میں پٹرول کا کام کیا ہے، عالمی سپلائی چین کا بحران نے روس-یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی قیمتوں کو تاریخی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ تو پاکستان نے توانائی کے لیے غیر ملکی خام مال پر انحصار اپنی بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی ضرورت کے لیے شدید حد تک در آمدی تیل و گیس پر انحصار کرتا رہا،عالمی منڈی میں معمولی تحرک بھی مقامی سطح پر پٹرول، گیس اور بجلی کے بم پھوڑنے کا سبب بنتا ہے۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضہ جات اور کڑی شرائط کی وجہ سے پاکستان کا معاشی ڈھانچہ دہائیوں سے ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (IMF) کے سہارے پر چل رہا ہے۔ لیکن یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے جب قرض دیتے ہیں، تو ساتھ سخت ترین شرائط بھی عاید کرتے ہیں: آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر دی جانے والی تمام سبسڈی ختم کی جائے۔ توانائی کے شعبے پر نافذ لیوی اور سیلز ٹیکس میں تسلسل سے اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کر سکے اور حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں۔

    سرکولر ڈیٹ (گردشی قرضہ): توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کے حساب کتاب سے باہر ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی ادارے حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ یہ قرضہ عوام کی جیبوں سے فی یونٹ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر وصول کرے، حکومت گردشی قرضہ جات واپس کرنے کے لیے پٹرول پر لیوی کی مد میں ناجائز بوجھ عام عوام پر ڈالتی ہے۔ موجودہ حکومت اور تکنیکی ماہرین کا دعویٰ تھا کہ وہ سخت فیصلے کر کے معیشت کو پٹری پر لائیں گے، مگر ان کی اصلاحات زبانی جمع خرچ اور عوام دشمن ثابت ہوئی ہیں۔

    ظالمانہ کیپسیٹی پیمنٹس (Capacity Payments): آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے وہ معاہدے جن کے تحت بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، اربوں روپے کی اداؤگیاں ڈالرز میں کی جاتی ہیں، ان کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔

    گیس اور بجلی کی ریکارڈ قیمتیں اصلاحات کے نام پر ٹیرف میں بار بار اضافہ کر کے عام شہری، صنعتکار اور تاجر طبقے کی کمر توڑ دی گئی ہے، جس سے پیداوری لاگت بڑھ گئی ہے اور معاشی پہیہ جام ہو رہا ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھنے سے بنیادی اشیائے خورونوش آٹے، دال اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

    "روٹی، کپڑا اور مکان” سے شروع ہونے والا سفر آج اس نقطے پر پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی عوام کے لیے بجلی، گیس اور پٹرول کا حصول بھی ایک خواب بن چکا ہے۔ جب تک پاکستان اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں لاتا، در آمدی ایندھن کے بجائے مقامی و تجدید پذیر وسائل (شمسی اور پن بجلی) کی طرف منتقل نہیں ہوتا، اور بین الاقوامی اداروں کی عوام دشمن شرائط پر اندھا دھند عمل درآمد بند نہیں کرتا، تب تک کوئی بھی سیاسی نعرہ غریب پاکستانی کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔

  • دل کا بوجھ اتار دیجیے،تحریر: زینب جہانزیب

    دل کا بوجھ اتار دیجیے،تحریر: زینب جہانزیب

    کبھی کبھی ہم اپنے دل میں اتنا کچھ جمع کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود بھی یاد نہیں رہتا کہ ہم آخر کس کس سے ناراض ہیں۔ کسی کی ایک بات، کسی کا بدلتا ہوا رویہ، کسی کی بے رخی، کسی کا دھوکا… کچھ باتیں وقت کے ساتھ بھلا دی جاتی ہیں، مگر کچھ دل کے کسی کونے میں ویسے ہی پڑی رہتی ہیں۔ ہم زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، ہنستے ہیں، اپنی مصروفیات میں لگے رہتے ہیں، مگر اندر کہیں وہ ایک چھوٹی سی رنجش زندہ رہتی ہے۔

    اور شاید ہم یہ نہیں سمجھتے کہ دل میں کسی کے لیے ناراضی رکھنا بھی ایک بوجھ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے سزا دے دی، اس سے بات نہیں کی، اسے معاف نہیں کیا… مگر حقیقت میں اس سب کا بوجھ ہم خود اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ جس شخص سے ہم ناراض ہوتے ہیں، ضروری نہیں وہ ہر وقت ہماری ناراضی کے بارے میں سوچ رہا ہو، مگر ہم اسے اپنے ساتھ ہر جگہ لیے پھرتے ہیں۔

    کبھی اپنے دل سے پوچھ کر دیکھیں، آخر کتنی پرانی باتیں ہیں جنہیں ہم آج بھی اپنے اندر زندہ رکھے ہوئے ہیں؟ کتنے لوگوں کے نام ایسے ہیں جنہیں سوچتے ہی دل میں ایک چبھن سی محسوس ہوتی ہے؟ اور کتنے ایسے ہیں جنہیں ہم نے زبان سے تو معاف کر دیا، مگر دل ابھی تک ان کے خلاف گواہی دے رہا ہے؟
    شاید دل صاف کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ہم ایک دن خاموشی سے بیٹھیں اور اپنے اندر دیکھیں۔ جو گزر گیا، اسے ہر روز دوبارہ جینے کی کیا ضرورت ہے؟ جس نے غلطی کی، وہ اپنی جگہ جواب دہ ہے، مگر ہم اپنی روح کو اس غلطی کی سزا کب تک دیتے رہیں گے؟
    معاف کرنا ہمیشہ اس لیے نہیں ہوتا کہ سامنے والا صحیح تھا۔ کبھی کبھی ہم اس لیے معاف کرتے ہیں کیونکہ ہم مزید اس درد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ ہم اپنے دل کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ پرانی تکلیف سے باہر نکل سکے۔
    لیکن ایک بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

    ہم اکثر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ رحیم ہے، وہ ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔ اور بے شک اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن جب معاملہ بندوں کا ہو تو ہمیں ذرا رک کر سوچنا چاہیے۔ کسی کا حق مارا ہو، کسی کا دل دکھایا ہو، کسی کی عزت کو نقصان پہنچایا ہو، کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو… تو صرف یہ کہہ دینا کہ "اللہ معاف کر دے گا” شاید کافی نہیں۔
    کیونکہ اللہ کے حقوق کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، مگر بندوں کے حقوق میں ایک انسان بھی شامل ہے۔
    ہم کبھی کبھی بہت آسانی سے کسی کو تکلیف دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے بات چھوٹی تھی، اتنی بھی بڑی نہیں تھی۔ مگر جس دل پر گزرتی ہے، شاید اس کے لیے وہ بات اتنی چھوٹی نہ ہو۔ ہم تو ایک جملہ کہہ کر بھول جاتے ہیں، لیکن سامنے والا شاید وہی جملہ کئی راتوں تک اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔
    اس لیے کبھی اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔
    کیا کبھی ہماری وجہ سے کسی نے اکیلے میں آنسو بہائے؟ کیا کبھی کسی کا حق ہمارے پاس رہ گیا؟ کیا کبھی ہم نے کسی کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیا؟ کیا کبھی اپنی انا کی وجہ سے کسی ایسے انسان سے معافی نہیں مانگی جسے واقعی ہماری معافی کی ضرورت تھی؟
    یہ سوال آسان نہیں ہیں، لیکن شاید ضروری ہیں۔

    ہمیں نہیں معلوم ہماری زندگی میں کون سی ملاقات آخری ملاقات ہے۔ کس سے ہوئی آخری گفتگو واقعی آخری تھی۔ کبھی کبھی انسان سوچتا رہتا ہے کہ ابھی وقت ہے، بعد میں بات کر لیں گے، بعد میں معافی مانگ لیں گے، بعد میں سب ٹھیک کر لیں گے… اور پھر وہ "بعد میں” کبھی نہیں آتا۔
    زندگی کا سب سے بڑا دکھ شاید یہی ہے کہ کچھ باتیں ہم وقت پر کہہ نہیں پاتے۔ کچھ معافیاں ہم وقت پر مانگ نہیں پاتے اور کچھ لوگوں کو وقت پر معاف نہیں کر پاتے۔
    اس لیے اگر کسی سے ناراضی ہے اور دل کہتا ہے کہ اسے چھوڑ دینا چاہیے، تو چھوڑ دیجیے۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو اپنی انا کو تھوڑا سا پیچھے کر دیجیے۔ اگر کسی کا حق آپ کے پاس ہے تو واپس کر دیجیے۔ ہر چیز کو کل پر مت ڈالیے، کیونکہ ہمیں کل کا وعدہ نہیں ملا۔
    اور ہاں، اگر کسی نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اسے معاف کرنے میں بھی جلدی نہ ہو تو کوئی بات نہیں۔ انسان ہیں، دل ہے، وقت لگتا ہے۔ مگر کم از کم اس نفرت کو اپنی پوری زندگی کا حصہ نہ بنائیے۔ کسی کے کیے ہوئے ظلم کو اپنی روح میں ہمیشہ کے لیے گھر نہ بنانے دیجیے۔
    آخر میں ہم سب نے اپنے رب کے پاس جانا ہے۔ وہاں شاید یہ اہم نہ ہو کہ دنیا میں ہم کتنے صحیح ثابت ہوئے، کتنے لوگوں کو خاموش کرایا، کتنی بحثیں جیتیں۔ شاید اصل سوال یہ ہو کہ ہم نے کتنے دل بچائے اور کتنے دل توڑے؟
    اس لیے آج ذرا اپنے دل کو دیکھیں۔ اگر اس میں کسی کے لیے شکوہ ہے تو اسے اللہ کے حوالے کر دیں۔ اگر کسی کا حق ہے تو لوٹا دیں۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو مانگ لیں۔
    اور اگر کسی کو معاف کرنا ہے تو کر دیں۔
    دل بہت چھوٹی سی جگہ ہے، اسے لوگوں کی نفرتوں اور پرانے حسابوں سے مت بھریں۔
    کیا خبر، جس دن ہمیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہو، اس دن ہمارے پاس دنیا کے سارے جواب ہوں… مگر دل کا سکون نہ ہو۔
    اس سے پہلے کہ زندگی ہمیں مہلت دینا چھوڑ دے، اپنے دل کا بوجھ اتار دیجیے۔

  • ویلیو ایبل کنٹینٹ کی خصوصیات، ضرورت اور اہمیت،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی خصوصیات، ضرورت اور اہمیت،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    مثالی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہوتا ہے جہاں بے راہ روی کی آلودگی کا نام و نشان نہ ہو , جہان تعلیم کی روشنی سے آراستہ لوگ روایات کی پاسداری کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کا استعمال سمجھداری سے کیا جاتا ہے، جہاں سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں کو فروغ دیا جاتا ہے، اور منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاط برتی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں ایک دوسرے کی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے، اور ہر فرد کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں ذہنی سکون، خوشحالی، اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے، جو کہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ یہ معاشرہ نہ صرف اپنے افراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھتا ہے، جہاں سب مل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔

    کسی بھی ذی شعور کے لیے معاشرے کے بدلتے رویوں پر نظر رکھنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ حالیہ دہائیوں میں معاشرتی رویے نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں، جن میں سب سے بڑی تبدیلیاں میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے آئی ہیں۔ اور ان پریشان کن معاشرتی تبدیلیوں کے اس دور میں، ویلیو ایبل کنٹینٹ کی ضرورت اور اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ ایسا مواد ہوتا ہے جو معاشرتی ترقی، اخلاقی اقدار اور تعلیم کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے مواد کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ نہ صرف ذہنی نشوونما کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ معاشرتی اصلاحات کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ معاشرے میں میڈیا کے پھیلاؤ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے بے تحاشا معلومات تک رسائی نے ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں یہ فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ کیا دیکھنا، کیا سننا، اور کیا پڑھنا بہتر ہے۔

    موجودہ دور میں، جہاں سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ویڈیوز، تصاویر اور مضامین آتے ہیں، وہاں ان مواد کا معیاری ہونا بہت ضروری ہے۔ نوجوان نسل جو کہ ان پلیٹ فارمز کا سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے، انہیں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایسا کنٹینٹ بنانا ضروری ہے جو ان کی اخلاقی اور تعلیمی نشوونما میں مدد کرے۔

    آج کے جدید دور میں ڈیجیٹل دنیا نے انسانی زندگی کے ہر پہلو پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات اور تفریح کا حصول اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود بے شمار وسائل نے علم، ہنر اور رابطے کی دنیا کو ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا ہے، لیکن اس ترقی کے ساتھ ہی بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کا ایک سیلاب بھی نمودار ہوا ہے جس نے ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو تباہی کے دہانے کے نزدیک کردیا ہے۔ ٹک ٹاک ، اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، لائیکی، بیگو لائیو، ٹوئٹر، کیک، ریڈٹ، ویمو، ٹمبلر، او میگل، چیٹروولیٹ، ہاؤس پارٹی، میوی، یوبو، کلب ہاؤس، ڈسکارڈ، پیتھ جیسی بے شمار ایپس اخلاقیات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے سر گرم ِ عمل ہیں۔

    بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کا پھیلاؤ ڈیجیٹل دنیا میں ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے۔ اب یہ بے حیائی اور فحاشی صرف تفریح تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے نوجوان نسل کے ذہنوں میں غیر حقیقی توقعات، جنسی بے راہ روی اور معاشرتی اقدار کی پامالی کو فروغ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں فیملی سسٹم کمزور ہو رہا ہے، اور باہمی احترام کی کمی کا سامنا ہو رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس مواد کی دستیابی نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اخلاقی پسماندگی اور گھریلو بے چینی کو فروغ دیا ہے۔

    اس بے چینی کا ایک بہت بڑا سبب وی لاگرز بھی ہیں جو اکثر فیملیوں کی زندگی کو خوشگوار اور مثالی دکھاتے ہیں، جس سے ناظرین میں غیر حقیقی توقعات پیدا ہوتی ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ وی لاگرز کی زندگی ہمیشہ خوشیوں سے بھرپور ہوتی ہے ۔اور وہی سٹیٹس حاصل کرنے کے لیے ڈی ٹریک ہو جاتے ہیں۔بعض فیملی وی لاگرز اپنے ویوز بڑھانے کے لیے غیر مناسب یا غیر اخلاقی مواد پیش کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں اخلاقی زوال کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ مواد بچوں اور نوجوانوں پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔

    اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک مربوط اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، والدین اور اساتذہ کو بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کے سامنے اخلاقی قدروں کی اہمیت کو واضح کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور سماجی اداروں کو غیر اخلاقی مواد کے خلاف سخت قوانین اور پالیسیز کا نفاذ کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ایسی ایپس اور پلیٹ فارمز کو فروغ دینا ہوگا جو مثبت، تعلیمی، اور اخلاقی مواد پیش کریں۔اگر ہم اس چیلنج کا مقابلہ صحیح طریقے سے کریں، تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر، محفوظ اور اخلاقی ماحول فراہم کر سکیں گے۔

    ان سب مایوس کن حالات کا سامنا کرنے کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کا تصور سامنے آتا ہے جس کا مقصد صرف انٹرٹینمنٹ نہیں بلکہ وہ مواد ہوتا ہے جو کسی کو نیا سکھائے، انہیں موٹیویٹ کرے یا ان کی زندگی کے کسی مسئلے کا حل پیش کرے۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی خصوصیات
    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ناظرین یا قارئین کو کوئی نیا علم فراہم کرے۔ ایسا مواد جس میں صرف تفریح ہو، لیکن کوئی نئی معلومات نہ ہو، اسے قیمتی نہیں کہا جا سکتا۔ مثال کے طور پر، ایک ویڈیو جس میں کسی نئے ٹیکنالوجی کے استعمال کا طریقہ بتایا جائے یا کسی سائنسی تحقیق کا جائزہ لیا جائے، وہ ویلیو ایبل کنٹینٹ کے زمرے میں آئے گا۔یوٹیوب پر بہت سے چینلز ایسے ہیں جو جدید سائنسی موضوعات پر بات کرتے ہیں، جیسے کہ "Kurzgesagt – In a Nutshell”۔ یہ چینل پیچیدہ سائنسی تصورات کو آسان الفاظ میں اور دلچسپ اینیمیشنز کے ذریعے سمجھاتا ہے، جس سے ناظرین کو نہ صرف تفریح ملتی ہے بلکہ وہ نئی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔

    معاشرتی مسائل سے آگاہی
    ویلیو ایبل کنٹینٹ وہ ہوتا ہے جو معاشرتی مسائل کو اجاگر کرے اور ان کے حل کی طرف اشارہ کرے۔ دنیا بھر میں مختلف موضوعات جیسے ماحولیاتی تبدیلی، تعلیمی مسائل یا صنفی برابری جیسے مسائل پر ویڈیوز، بلاگز اور دیگر مواد تخلیق کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا مواد ناظرین کو نہ صرف آگاہی فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں ان مسائل پر سوچنے اور عمل کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔
    مثال کے طور پر، نیٹ فلیکس پر "Our Planet” نامی ڈاکیومینٹری سیریز نے دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اجاگر کیا ہے اور لوگوں کو ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ اس سیریز نے نہ صرف لوگوں کو قدرت کی خوبصورتی سے روشناس کروایا بلکہ انہیں یہ بھی بتایا کہ اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو ہماری زمین کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔

    قابل اطلاق ہونا
    ویلیو ایبل کنٹینٹ وہ ہوتا ہے جس میں دی گئی معلومات کو ناظرین اپنی روزمرہ زندگی میں لاگو کر سکیں۔ ایسا مواد جو محض خیالی یا نظریاتی ہو اور جسے عملی زندگی میں نافذ نہ کیا جا سکے، وہ قیمتی نہیں کہلایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر، ایک ویڈیو یا آرٹیکل جو لوگوں کو مالیاتی منصوبہ بندی، بہتر تعلیم، یا صحت مند طرز زندگی کے بارے میں عملی مشورے دے، وہ ویلیو ایبل کنٹینٹ کے زمرے میں آئے گا۔”TED Talks” کا پلیٹ فارم اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہاں مختلف موضوعات پر ماہرین کی تقریریں ہوتی ہیں، جن میں سامعین کو عملی زندگی کے مسائل کا حل بتایا جاتا ہے۔ مثلاً، کاروباری دنیا میں نئے رجحانات، ذاتی ترقی، یا جذباتی ذہانت جیسے موضوعات پر دی گئی تقاریر سامعین کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

    مثبت تبدیلی کا محرک
    ویلیو ایبل کنٹینٹ کا مقصد ناظرین یا قارئین میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوتا ہے۔ ایسا مواد جو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کا باعث بنے، انہیں موٹیویٹ کرے، یا انہیں مشکل حالات میں صبر و ہمت سے کام لینے کی تعلیم دے، وہ قیمتی مواد ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ مواد جو لوگوں کو ناامید کرے یا ان میں منفی سوچ پیدا کرے، ویلیو ایبل کنٹینٹ نہیں کہلایا جا سکتا۔مثال کے طور پر، "Jay Shetty” نامی موٹیویشنل اسپیکر کے ویڈیوز اور بلاگز لوگوں کو زندگی کے مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے عملی طریقے بتاتے ہیں۔ ان کے ویڈیوز نہ صرف لوگوں کو ہمت اور حوصلہ دیتے ہیں بلکہ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں بھی لاتے ہیں۔

    معیاری مواد
    ویلیو ایبل کنٹینٹ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اخلاقی اقدار کے مطابق ہو۔ آج کل بہت سا مواد ایسا ہوتا ہے جو اخلاقی حدود سے باہر ہوتا ہے اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ قیمتی مواد ہمیشہ ان اقدار کے دائرے میں تخلیق کیا جاتا ہے جو سماج کے لیے مفید ہوں اور ناظرین کو اخلاقی ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔مثال کے طور پر، بچوں کے لیے بنایا جانے والا تعلیمی مواد جیسے کہ "Sesame Street” ایک عرصے سے بچوں کو نہ صرف تعلیمی مواد فراہم کر رہا ہے بلکہ انہیں اخلاقی اقدار جیسے دوستی، محبت، اور تحمل کی تعلیم بھی دے رہا ہے۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی اہمیت اور عملی مثالیں
    ہر عمر کے لوگوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کی اہمیت مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہر طبقہ اپنی زندگی کے مخصوص مرحلے پر مختلف قسم کی معلومات اور مواد کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ بچوں کے لیے تعلیمی اور اخلاقی مواد، خواتین کے لیے صحت، خود مختاری اور آگاہی کا مواد، طلباء کے لیے تعلیمی اور کیریئر کی رہنمائی، نوجوانوں کے لیے ذاتی ترقی اور معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالنے والا مواد، اور بزرگوں کے لیے صحت و سلامتی اور جذباتی استحکام کے مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    بچوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    ویلیو ایبل کنٹینٹ بچوں کی ذہنی نشوونما، اخلاقی تعلیم، اور علمی استعداد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کو ایسے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں نہ صرف تفریح فراہم کرے بلکہ ان کی اخلاقی اور تعلیمی تربیت بھی کرے۔ بچوں کو رنگوں، حروف، اور ریاضی کے بنیادی تصورات سکھانے کے لیے ویڈیوز اور گیمز کے ساتھ ساتھ بچوں کو سچ بولنے، دوسروں کا احترام کرنے، اور مہربانی سکھانے کے لیے کہانیوں اور اینیمیٹڈ ویڈیوز بھی بنائی جاسکتی ہیں۔

    مثال:
    1۔ Madrasah Tv
    بچوں کو اسلامی تعلیمات، اخلاقیات، اور اردو زبان سکھانے کے لیے بہترین مواد فراہم کرتا ہے۔ یہ ویڈیوز سادہ اور رنگین اینیمیشنز پر مبنی ہوتی ہیں جو بچوں کی توجہ کھینچتی ہیں۔
    2۔ Madani Channel
    جو اسلامی تعلیمات، اخلاقی تربیت اور معاشرتی مسائل کے حل پر مشتمل ویڈیوز بناتا ہے، ایک اچھا ذریعہ ہے جس سے ناظرین کو معاشرتی اور مذہبی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے۔
    3۔ PBS Kids
    PBS Kids ایک مشہور تعلیمی پلیٹ فارم ہے جو بچوں کو تعلیمی اور تفریحی ویڈیوز فراہم کرتا ہے، جس میں سائنسی حقائق، زبان کی سیکھ، اور اخلاقی کہانیاں شامل ہوتی ہیں۔
    4۔ National Geographic Kids
    یہ چینل بچوں کو دنیا بھر کے جنگلی حیات، قدرتی ماحول، اور سائنسی ایجادات کے بارے میں دلچسپ ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔
    5۔Crash Course Kids
    یہ چینل سائنس، تاریخ اور مختلف مضامین پر مرکوز ہے، جہاں پیچیدہ تصورات کو بچوں کے لیے آسانی سے سمجھنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس کی ویڈیوز تعلیمی مواد کو دلچسپ اور تفریحی انداز میں پیش کرتی ہیں، جس سے بچے سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
    6۔Super Simple Songs
    یہ چینل خاص طور پر پری اسکول کے بچوں کے لیے مقبول ہے اور دلچسپ گانوں اور متحرک تصاویر کے ذریعے سیکھنے کی تربیت دیتا ہے۔ یہ بچوں کی زبان اور سیکھنے کی مہارتوں کو ترقی دینے میں مدد کرتا ہے۔
    7۔Storyline Online
    اس چینل پر مشہور اداکار بچوں کی پسندیدہ کہانیاں پڑھتے ہیں، جن کے ساتھ متحرک تصویریں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہ ویڈیوز نہ صرف کہانی سننے کی مہارت کو بڑھاتی ہیں بلکہ بچوں کی تخلیقی سوچ کو بھی پروان چڑھاتی ہیں۔

    خواتین کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    خواتین کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ ان کی ذاتی، جسمانی اور پیشہ ورانہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ پاکستانی خواتین کو صحت، تعلیم، خود مختاری، اور معاشرتی مسائل پر آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے معاشرتی کردار کو بہتر انداز میں نبھا سکیں۔
    خواتین کو صحت کے مسائل، خاص طور پر حمل اور بچوں کی پیدائش سے متعلق موضوعات پر مواد اور فری لانسنگ، کاروبار، اور دیگر پیشہ ورانہ مواقع کے بارے میں آگاہی دینے والا مواد ان کے معاشی استحکام کے لیے اہم ہے۔مثال: "مشہور پاکستانی یوٹیوب چینل "گھر کا ماہر” خواتین کو گھریلو مسائل، بچوں کی تربیت، اور صحت کے موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔ یہ ویڈیوز خواتین کو ان کی روزمرہ زندگی میں مدد دیتی ہیں اور انہیں مفید معلومات فراہم کرتی ہیں۔
    1۔ Momina’s Mixed Plate
    یہ چینل خواتین کو صحت، خوبصورتی، اور روزمرہ کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں مشہور شخصیات کے انٹرویوز بھی شامل ہوتے ہیں۔
    2۔ Glamour Magazine
    یہ چینل خواتین کو خوبصورتی، فیشن، صحت، اور خود مختاری کے موضوعات پر مشورے فراہم کرتا ہے۔ اس میں مشہور شخصیات کے انٹرویوز بھی شامل ہوتے ہیں۔
    3۔ Women of Impact
    یہ چینل دنیا بھر کی طاقتور اور خود مختار خواتین کی کہانیاں بیان کرتا ہے جو اپنے شعبوں میں نمایاں کام کر رہی ہیں۔ اس چینل کا مقصد خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے موٹیویٹ کرنا ہے۔

    طلباء کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    طلباء کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کا مقصد تعلیمی مدد، امتحانات کی تیاری، اور کیریئر کی رہنمائی ہے۔ ایسے مواد کی ضرورت ہے جو طلباء کو ان کے تعلیمی اہداف حاصل کرنے میں مدد دے اور انہیں مختلف فیلڈز میں کیریئر کی آگاہی فراہم کرے۔طلباء کو سائنسی مضامین، ریاضی، اور زبانوں کی تیاری کے لیے ویڈیوز اور آن لائن ٹیوٹوریلز کی ضرورت ہے جو طلباء کو مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کی معلومات فراہم کرے اور انہیں مستقبل کے فیصلے کرنے میں مدد دے۔مثال: کچھ پاکستانی یوٹیوب چینل طلباء کے لیے سائنس کے مختلف مضامین جیسے فزکس، کیمسٹری، اور بیالوجی پر لیکچرز فراہم کرتا ہے، جس سے طلباء کو امتحانات کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔
    1۔ Noon Academy
    یہ ایک آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم ہے جو پاکستانی طلباء کو مختلف مضامین میں مدد فراہم کرتا ہے۔
    2۔ Khan Academy
    خان اکیڈمی دنیا بھر کے طلباء کے لیے مختلف تعلیمی موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے، جن میں ریاضی، سائنس، کمپیوٹر سائنس، اور دیگر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔
    3۔TED-Ed
    TED-Ed طلباء کے لیے تعلیمی ویڈیوز فراہم کرتا ہے جن میں دلچسپ حقائق، سائنسی موضوعات، اور اہم تعلیمی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

    نوجوانوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    نوجوانوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ ان کی ذاتی ترقی، جذباتی استحکام، اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نوجوان اپنی زندگی کے اس مرحلے میں مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں ایسے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی رہنمائی کرے اور انہیں معاشرتی مسائل کے بارے میں آگاہ کرے۔نوجوانوں کو موٹیویشنل ویڈیوز اور ذاتی ترقی کے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ترغیب دے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو معاشرتی مسائل جیسے ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم کی اہمیت، اور سماجی انصاف کے موضوعات پر آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    1۔ Qasim Ali Shah
    یہ چینل نوجوانوں کو موٹیویشنل لیکچرز اور ذاتی ترقی کے موضوعات پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
    2۔ Impact Theory
    یہ چینل نوجوانوں کو خود ترقی، کامیابی، اور کاروباری صلاحیتوں پر مبنی مواد فراہم کرتا ہے۔ یہاں پر موٹیویشنل لیکچرز اور انٹرویوز بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
    3۔Yes Theory
    یہ چینل نوجوانوں کو اپنی زندگی میں نئے تجربات کرنے، خوف سے نکلنے، اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

    بزرگوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کی اہمیت
    بزرگ افراد کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ ان کی جسمانی صحت، ذہنی سکون، اور معاشرتی تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بزرگ افراد کو ایسے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں ان کی صحت کے مسائل کا حل فراہم کرے اور ان کی جذباتی زندگی کو بہتر بنائے۔ بزرگ افراد کو صحت کے مسائل جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر، اور جوڑوں کے درد کے موضوعات پر ویڈیوز اور آرٹیکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بزرگ افراد کو ذاتی تجربات اور روحانی ترقی پر مبنی مواد سے ذہنی سکون ملتا ہے۔مثال: "پاکستانی چینل "صحت اور زندگی” بزرگوں کے لیے صحت کے موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔ یہ چینل بزرگ افراد کو ان کی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مفید معلومات دیتا ہے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
    1۔Sehat Online
    یہ چینل صحت کے مسائل پر مبنی مواد فراہم کرتا ہے جو بزرگوں کی صحت کے مسائل سے متعلق ہے، جیسے بلڈ پریشر، ذیابیطس، اور جوڑوں کے درد کے حل۔
    2۔ Sixty and Me
    یہ چینل 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کو زندگی کے مختلف موضوعات پر رہنمائی فراہم کرتا ہے، جیسے کہ صحت، مالیاتی مشورے، اور سفر کے مواقع۔ یہ چینل خاص طور پر بزرگوں کے لیے صحت، فٹنس، اور خوشی کے موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے، جن میں جسمانی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے طریقے اور زندگی کو متحرک اور خوشگوار بنانے کے مشورے شامل ہوتے ہیں۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ آج کے دور میں صرف ضرورت نہیں بلکہ ذمہ داری بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں بے تحاشا مواد کی موجودگی میں وہی کنٹینٹ طویل مدتی اثرات رکھتا ہے جو اخلاقی، تعلیمی اور معاشرتی لحاظ سے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے۔ بچوں کی تربیت ہو، نوجوانوں کی رہنمائی، یا خواتین اور بزرگوں کے لیے معلوماتی مواد، ہر طبقے کو ایسا مواد فراہم کرنا چاہیے جو نہ صرف ان کی شخصیت کو نکھارے بلکہ انہیں بہتر انسان بننے میں بھی مدد دے۔
    ایک مسلمان کا کردار اس میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسلام کی تعلیمات ہر مسلمان کو اخلاقیات، علم، اور دوسروں کی فلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ویلیو ایبل کنٹینٹ کا فروغ ایک مسلمان کے فرائض میں شامل ہے تاکہ وہ معاشرے کی اصلاح میں حصہ ڈال سکے اور امن، انصاف، اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کر سکے۔ یہ مواد صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں اخلاقیات کو فروغ دینے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اس طرح، ویلیو ایبل کنٹینٹ کا فروغ دراصل ایک مثبت، بااخلاق، اور علم دوست معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور یہی ہمارے ڈیجیٹل دور کا حقیقی مقصد ہونا چاہیے۔اللہ کی توفیق عطا فرمائے

  • عالمی ٹھیکیدار،شاعر : زبیر احمد

    عالمی ٹھیکیدار،شاعر : زبیر احمد

    تیرے پیروکار پہ لعنت
    شخصیت کردار پہ لعنت

    وطن کو بیچے تجھ سے کھا کر
    تجھ ایسے حب دار پہ لعنت

    مظلوموں کو خون بہا کر
    تجھ جیسے جرّار پہ لعنت

    راگ الاپے امن کا ھر دم
    تیرے ایسے پیار پہ لعنت

    میں ھوں مسلم امن کا داعی
    اور تیرے شرّار پہ لعنت

    زبیر احمد