Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    عید کے کپڑوں میں ملبوس لاشے ،تحریر : بینا علی

    ریاست کو ہمیشہ ماں کہا جاتا ہے۔ماں جو اپنے بچوں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ان کی بھوک، پیاس، سانسوں اور خوابوں کی محافظ ہوتی ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی سب سے مقدس ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب یہی ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، تو پھر سڑکوں پر صرف حادثے نہیں ہوتے جنازے اٹھتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ کے علاقے خورشید آباد میں پیش آنے والا المناک حادثہ صرف ایک خبر نہیں سات ماؤں کا نوحہ ہے۔سات نوجوان، سات خواب، سات گھروں کے چراغ ایک لمحے میں بجھ گئے۔

    دوستوں کا یہ گروہ ہلاں آبشار کی سیر کے لیے گیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے نکلے تھے مگر واپسی پر سفید کفنوں میں لپٹے لوٹے۔ واپسی کے دوران ان کا لوڈر رکشہ بے قابو ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے حویلی کی فضاؤں میں چیخیں گونج اٹھیں۔ ہر گلی ماتم کدہ بن گئی ہر دروازے پر کہرام برپا ہو گیا۔اور سوال یہ ہے کہ اُس وقت ہماری “ماں” ریاست کہاں تھی؟حضرت عمرؓ کا وہ قول آج بھی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک آئینہ ہے جب آپ نے فرمایا تھا:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی پیاس سے مر جائے، تو عمر اس کا بھی جوابدہ ہو گا۔” مگر سات نوجوان تڑپ تڑپ کر جان دے گئے تو سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کا جوابدہ کون ہو گا؟کون ان ماؤں کے آنسوؤں کا حساب دے گا؟
    کون ان اجڑے گھروں کی خاموشیوں کا بوجھ اٹھائے گا؟
    اور کون قیامت کے دن ان بجھتے چراغوں کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے گا؟
    کیا زخمیوں کو بروقت ایمبولینس فراہم کی گئی؟

    اگر تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر زخمی نوجوان نجی گاڑیوں اور ڈالوں میں ہسپتال کیوں منتقل کیے گئے؟ خون میں لت پت جسم، سڑک کنارے تڑپتی سانسیں، اور پیچھے خاموش کھڑی سرکاری مشینری یہ منظر کسی بھی حساس دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔دو نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ شدید زخمی حالت میں رات گئے ہسپتال پہنچائے گئے۔ مگر سوال اب بھی زندہ ہے:
    کیا انہیں بروقت طبی امداد ملی؟
    کیا ایمبولینسوں میں آکسیجن سلینڈر موجود تھے؟
    کیا ابتدائی طبی سہولیات دستیاب تھیں؟یا پھر ان کی سانسیں بھی سرکاری غفلت کے اندھیروں میں بجھ گئیں؟پانچ زخمیوں کو ادویات تک میسر نہ ہونا حادثہ نہیں ایک بے حس نظام میں کھلا قتل ہے۔

    یہ صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی المیہ ہے جو ہماری انتظامی بے حسی، ناکارہ نظام اور مردہ ضمیر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ریاست ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنے لگے تو پھر بیٹے یوں ہی سڑکوں پر دم توڑتے ہیں۔گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ تو چیک کیے جاتے ہیں، مگر ان سرکاری ایمبولینسوں کی فٹنس کون دیکھتا ہے؟ان خطرناک سڑکوں پر حفاظتی بیرئیر کیوں موجود نہیں؟
    کیا یہاں انسان کی جان واقعی پتھروں سے بھی سستی ہو چکی ہے؟
    اور افسوس کی انتہا یہ ہے کہ انہی علاقوں سے منتخب ہو کر لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اقتدار تو مل جاتا ہے، مگر احساس مر جاتا ہے۔

    عید کے دوسرے دن جب ہر گھر میں خوشیوں کی روشنی تھی حویلی کے سات گھروں میں قیامت اتر آئی۔ ایک روزہ سوگ کا اعلان کر کے شاید ذمہ دار ادارے بری الذمہ ہو جائیں، مگر ان والدین کی زندگی اب ہمیشہ کے لیے سوگ بن چکی ہے۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا وہ درد ہے جو انسان کو زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے دفن کر دیتا ہے۔ اولاد چند ماہ کی بھی ہو تو اس کا چھوٹا سا جنازہ باپ کے کندھے جھکا دیتا ہے اور یہاں تو سات گھروں کے سہارے ایک ساتھ چھین لیے گئے۔یہ دکھ، یہ ماتم، یہ المیے آخر حویلی کے نصیب ہی کیوں بنا دیے گئے؟

    ابھی عمر راٹھور معصوم کی ترازو کے نیچے دبی چیخوں کے زخم بھرے بھی نہ تھے کہ سات نئے زخم دلوں پر ثبت ہو گئے۔ اب ان گھروں میں عیدیں شاید کبھی پہلے جیسی نہ آئیں۔ ان کے دروازوں پر خوشیوں کے بجائے خاموشیاں دستک دیں گی۔ جنہوں نے اپنا جگر کا ٹکڑا کھویا ہو صرف وہی اس اذیت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
    اور ایک سوال دل کو چیر دیتا ہے۔۔
    اگر ان نوجوانوں کی جگہ کسی وزیر، مشیر یا بااختیار شخصیت کے بچے ہوتے تب بھی کیا یہی ہوتا؟
    کیا تب بھی ایمبولینسیں دیر سے پہنچتیں؟
    کیا تب بھی سڑکوں پر حفاظتی انتظامات نہ ہوتے؟
    کیا تب بھی خاموشی چھا جاتی؟
    ہم صرف مظلوم نہیں، کہیں نہ کہیں ظالم بھی ہیں
    ظالم اس لیے کہ ہم خاموش ہیں۔ہم لاشیں گنتے ہیں، چند دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔محکمہ صحت کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ان سڑکوں پر ہونے والے کام کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔ کہیں یہ ترقی بھی مظفر آباد کے فلائی اوور جیسی تو نہیں، جو نام کا منصوبہ اور حقیقت میں کھنڈر ثابت ہوا؟

    اور اگر واقعی ہم ایسے سانحات کو روکنا چاہتے ہیں تو صرف افسوس اور تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ خطرناک سڑکوں پر مضبوط حفاظتی بیرئیر نصب کیے جائیں، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے سیاحتی مقامات پر ریسکیو مراکز اور مکمل سہولیات سے آراستہ ایمبولینسیں ہر وقت موجود ہوں۔ ڈرائیورز کی تربیت اور گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ کیونکہ حادثات صرف قسمت سے نہیں ہوتے اکثر غفلت بھی جانیں لے لیتی ہے۔
    خدارا اب تو بولو!
    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
    کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید ہماری باری ہو۔

  • پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،
    دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی جدیدکاری اور بازدارانہ حکمتِ عملی کے ماہر، نیز ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    بحیرۂ عرب کا تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں بڑھتی ہوئی بحری رقابت، بھارت کی بلیو واٹر نیوی کی توسیع پسندانہ خواہشات، اور سمندر سے حاصل ہونے والی بازدارانہ صلاحیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان نیوی کو اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع پاکستان کے ساحلی دفاعی راکٹ اور میزائل نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن ہے، جسے غیر رسمی طور پر “منی نیول راکٹ فورس” بھی کہا جاتا ہے۔

    دفاعی حلقوں اور علاقائی عسکری تجزیوں کے مطابق پاکستان اپنی ساحلی دفاعی رسائی کو تقریباً 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جنگ کے عملی خدوخال تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے ساحلی دفاعی نظریے کا ارتقا*
    تاریخی طور پر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی مہنگی طاقت کے اظہار (Power Projection) کے بجائے دفاعی نوعیت کے “Sea Denial” پر مبنی رہی ہے۔ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ کی محدودیت کے باعث پاکستان نے درج ذیل شعبوں پر سرمایہ کاری کی:

    * تیز رفتار حملہ آور کشتیاں
    * اینٹی شپ میزائل سسٹمز
    * آبدوزی جنگی صلاحیت
    * ساحلی میزائل بیٹریاں
    * بحری نگرانی اور انٹیگریٹڈ سرویلنس

    اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ دشمن بحری افواج کو پاکستان کے ساحل اور اہم بحری تنصیبات کے قریب آزادانہ کارروائی سے روکا جائے۔

    اس نظریے کی اہمیت مزید بڑھ گئی جب
    * بھارت نے اپنے کیریئر بیٹل گروپس میں اضافہ کیا،
    * طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے بحری طیارے تعینات کیے،
    * براہموس میزائل کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کیا،
    * اور بحرِ ہند میں بھارت اور امریکہ کے بحری تعاون میں اضافہ ہوا۔

    نتیجتاً پاکستان کو ایک ایسی کثیر پرت (Layered) اینٹی ایکسس/ایریا ڈینائل (A2/AD) صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی جو دشمن بحری بیڑوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکے۔

    300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر: اس کی اہمیت کیا ہے؟
    ساحلی حملہ آور صلاحیت کو 500 کلومیٹر تک بڑھانا جنگی ماحول کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
    300 کلومیٹر کی حد تک ساحلی دفاع بنیادی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے
    * کراچی کے بحری راستوں کو،
    * گوادر کے قریب سمندری علاقوں کو،
    * اہم بندرگاہوں کو،
    * اور ساحل کے قریب موجود بحری اثاثوں کو۔

    جبکہ 500 کلومیٹر کی رسائی پاکستان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ
    * دشمن جہازوں کو بحیرۂ عرب کے زیادہ اندر تک نشانہ بنایا جا سکے،
    * بحری بازدارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو،
    * میزائل انگیجمنٹ زونز ایک دوسرے سے جڑ جائیں،
    * سمندری تجارتی راستوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو،
    * اور دشمن کے کیریئر گروپس کی کارروائیاں پیچیدہ بن جائیں۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بحری کمانڈروں کو پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے سے بہت پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

    جدید بحری جنگ میں انضمام
    جدید بحری جنگ صرف پلیٹ فارمز کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب یہ نیٹ ورک سینٹرک جنگ بن چکی ہے۔ آج کے ساحلی میزائل سسٹمز انحصار کرتے ہیں
    * اوور دی ہورائزن ٹارگٹنگ پر،
    * سیٹلائٹس پر،
    * میری ٹائم پیٹرول طیاروں پر،
    * ڈرونز پر،
    * الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر،
    * اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن پر۔

    دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون غالباً پاکستان کی مدد کر رہا ہے:
    * ہدف کے حصول میں،
    * میزائل رہنمائی کے نظام میں،
    * ساحلی ریڈار نیٹ ورکنگ میں،
    * اور مربوط بحری نگرانی میں۔

    ممکنہ مقصد ایک ایسا مربوط “Kill Chain” تشکیل دینا ہے جو درج ذیل اجزاء کو آپس میں جوڑ دے:
    1. بحری نگرانی کے ذرائع
    2. ساحلی کمانڈ مراکز
    3. میزائل لانچ بیٹریاں
    4. بحری فضائیہ
    5. آبدوزی قوت

    اس قسم کا انضمام حملہ آور صلاحیت اور بقا دونوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    “منی نیول راکٹ فورس” کا تصور
    اگرچہ “منی نیول راکٹ فورس” کوئی سرکاری اصطلاح نہیں، لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ ایک اہم تصور ہے۔ یہ ساحلی دفاع کے روایتی جامد نظام سے نکل کر ایک متحرک، نیٹ ورکڈ اور درست نشانہ لگانے والی قوت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس میں شامل ہو سکتے ہیں:
    * ٹرک پر نصب اینٹی شپ میزائل لانچرز،
    * طویل فاصلے تک مار کرنے والی ساحلی راکٹ آرٹلری،
    * موبائل کمانڈ گاڑیاں،
    * دھوکہ دہی (Decoy) سسٹمز،
    * اور تیز رفتار مقام کی تبدیلی کی صلاحیت۔

    متحرک لانچر اس لیے اہم ہیں کیونکہ مستقل ساحلی تنصیبات پیشگی فضائی یا میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔

    یہ تصور ان نظریات سے مشابہت رکھتا ہے جو
    * چین،
    * ایران،
    * اور دیگر چھوٹی بحری ریاستیں
    غیر متناسب بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپناتی جا رہی ہیں۔

    بحیرۂ عرب پر تزویراتی اثرات
    500 کلومیٹر تک مؤثر ساحلی دفاعی صلاحیت کے کئی اہم نتائج ہو سکتے ہیں:
    1۔ گوادر کا بہتر تحفظ
    گوادر بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم ستون ہے۔ وسیع میزائل کوریج سے تحفظ ملے گا:
    * تجارتی جہاز رانی کو،
    * توانائی کی سپلائی لائنز کو،
    * بحری لاجسٹکس کو،
    * اور مستقبل کی بحری تنصیبات کو۔

    2۔ کیریئر بیٹل گروپس کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
    طیارہ بردار بحری جہاز محفوظ فاصلے سے کارروائی پر انحصار کرتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل ان کی آپریشنل منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

    3۔ دوسری جوابی ضرب (Second Strike) کے ماحول کو مضبوطی
    پاکستان کی بحری بازدارانہ حکمتِ عملی بتدریج ایسی صلاحیتوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو دوسری جوابی ضرب کی بقا کو یقینی بنائیں۔ ساحلی دفاعی نظام بحری اثاثوں اور سمندر میں موجود بازدارانہ قوت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    4۔ کم لاگت میں مؤثر غیر متناسب دفاع
    طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال انتہائی مہنگی ہے، جبکہ ساحلی میزائل سسٹمز نسبتاً کم لاگت میں بڑی بحری طاقتوں کے خلاف مؤثر بازدارانہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنجز
    ترقی کے باوجود کئی چیلنجز باقی ہیں
    * انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) میں خلا،
    * بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار،
    * سیٹلائٹ صلاحیتوں کی محدودیت،
    * الیکٹرانک وارفیئر کے خطرات،
    * اور مقامی میزائل پیداوار کی محدود گہرائی۔

    صرف میزائل کی رینج بڑھا دینا کافی نہیں، جب تک:
    * قابلِ اعتماد ٹارگٹنگ سسٹمز،
    * محفوظ مواصلاتی نظام،
    * اور جنگی حالات میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچہ
    موجود نہ ہو۔

    وسیع علاقائی تناظر

    بحرِ ہند تیزی سے عسکری نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں:
    * بھارت،
    * چین،
    * امریکہ،
    * اور خلیجی بحری قوتوں
    کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت علاقائی بحری نظریات کو نئی شکل دے رہی ہے۔

    اس ماحول میں پاکستان کی بحری جدیدکاری محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان کی جانب سے ساحلی دفاعی رسائی کو 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش بحری بازدارانہ حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ساحلی میزائل فورسز کی جدیدکاری، نگرانی کے مربوط نظام، اور متحرک اینٹی شپ حملہ آور صلاحیتوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی اکیسویں صدی کی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔

    بڑی بحری طاقتوں سے روایتی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اپنی غیر متناسب بحری حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، جس کا مرکز سمندری انکار (Sea Denial)، بقا (Survivability) اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے۔

    اگر یہ تمام صلاحیتیں ایک جامع A2/AD نظام میں مؤثر طور پر ضم کر دی جائیں تو یہ جدید ساحلی دفاعی نیٹ ورک شمالی بحیرۂ عرب میں آپریشنل توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی بحری تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

  • دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نازک موڑ پر سفارتی تعطل اور جنگی خطرات میں اضافہ

    امریکہ، ایران اور روس تنازع عالمی امن کو نئے چیلنجز درپیش

    بڑھتی کشیدگی، کمزور سفارت کاری دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک غیر یقینی، بے اعتمادی اور طاقت کے توازن کی نئی جنگ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں رومینیا میں روسی ڈرون گرنے کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رومینیا یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ براہِ راست مکمل جنگی حملہ نہیں بلکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک ڈرون واقعہ بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔

    میری رائے میں مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں، بلکہ قیادت کے بحران کا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوری حل کے بجائے “اسٹریٹجک انتظار” کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، اسے صرف ردعمل نہیں بلکہ پیشگی سفارت کاری، مؤثر مذاکرات اور تنازعات کے مستقل حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ مسلسل تعطل کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی موجود ہے، روس اور یوکرین کی جنگ پورے یورپ کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ خطے کے کئی دیگر تنازعات بھی حل طلب ہیں۔

    حیرت ہے اگر ایک معاملہ حل نہیں ہو رہا تو دوسرا محاذ کھل جاتا ہے۔ یہی صورتحال عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہیں جنگ بندی پائیدار نہیں، اور کہیں سفارت کاری سیاسی مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ دنیا میں طاقت تو موجود ہے، مگر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

    لیکن یہاں ایک احتیاطی نقطہ بھی ضروری ہے: ہر واقعہ کو فوری طور پر “عالمی جنگ” کا آغاز سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ اکثر اوقات سرحدی یا جنگی سیکیورٹی اور سیاسی تناؤ بڑے بحران کا اشارہ تو ہوتے ہیں، مگر عالمی طاقتیں انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ رومینیا کے معاملے پر نیٹو نے سخت ردعمل دیا ہے، مگر ساتھ ہی کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

    دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں انا، سیاسی مفادات اور طاقت کے کھیل سے اوپر نہ اٹھیں تو چھوٹے واقعات بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت عالمی قیادت کو سنجیدہ، دوراندیش اور فوری سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا امن سے زیادہ خوف، غیر یقینی اور تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

  • محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے!!
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!!

    عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے؛ ایسے افراد کے لیے تاریخ کو مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی بے مثال ذہانت، محنت اور حب الوطنی سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
    آپ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور یہاں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کا رخ کیا جہاں آپ نے فزکس کے میدان میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں آپ نے یورپ میں ہی ملازمت شروع کر دی جہاں جدید سائنسی علوم خصوصاً ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کی۔جب بھارت نے ایٹمی تجربات کیے تو آپ یورپ ہی میں مقیم تھے، مگر وطنِ عزیز کی سلامتی آپ کے دل کے نہایت قریب تھی۔ آپ نے فوراً پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے۔ آپ کی شبانہ روز محنت، عزمِ صمیم اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان نے مختصر عرصے میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔

    بالآخر 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے، جس کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا اور اسے یومِ تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
    ڈاکٹر عبد القدیر خان نہ صرف ایک عظیم سائنس دان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خلوصِ نیت، محنت اور عزم کے ساتھ کوئی بھی مشکل ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج بھی قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں ہمیشہ فخر و احترام کے ساتھ یاد کرتی رہے گی۔

  • دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    دکھوں کے بیچ لکھی گئی عید،تحریر: بینا علی

    کچھ عرصے سے دلی کیفیت ایسی ہے کہ کچھ المیے، کچھ سانحے، اپنی جڑیں دل کے ساتھ دماغ میں بھی پیوست کر جاتے ہیں۔ اور کچھ کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ زیرِ تحریر لانا بھی محال ہو جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جنہوں نے دلی طور پر بہت اداس کر دیا، اور ان گونگے جذبات کو لفظوں کے ذریعے زبان ملتی رہی۔ یقین جانیےبجب کسی کے درد کو تحریر کرتی ہوں تو لفظ خود نشتربن کر مجھے کچوکے لگاتے رہتے ہیں۔ تب سوچتی ہوں کہ اس درد سے گزرنے والوں کے لیے کتنی اذیت ہوتی ہو گی۔

    کوئٹہ میں خودکش دھماکے میں عورتوں، بچوں سمیت 47 شہری شہید اور تقریباً سو زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 20 فوجی جوان بھی شامل تھے۔ کل ہی یکے بعد دیگرے دو واقعات نے دل چیر دیا: ایک بزرگ کو بیوپاری نے نقلی نوٹ دے کر جانور لے لیا۔ جب وہ اشیائے خوردونوش خریدنے گئے تو پیسے جعلی نکلے۔ اس بزرگ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹ رہا۔

    دوسرا واقعہ یہ کہ ایک ڈرائیور نے جرمانے اور گاڑی ضبطگی کے خوف سے، گاڑی میں بیٹھے اہلکار سمیت کوسٹر کو دریا بُرد کر دیا۔ کوسٹر دریا بُرد ہوئی اور بمشکل دونوں کی جان بچائی جا سکی۔ اور شہر مظفرآباد میں ہی ایک بزرگ نے قربانی کے جانور فروخت کیے۔ سگا بیٹا تین لاکھ روپے لے کر فرار ہو گیا اور بزرگ در بدر سڑکوں پر پھرتے رہے کرایے کے پیسے بھی نہیں تھے۔تہوار ہمیشہ سے ان لوگوں کے لیے مشکل رہے ہیں جنہوں نے اپنے جاں سے پیارے رشتے کھو دیے۔ ہم ہنستے، بولتے، کھاتے پیتے ہیں بس جیتے نہیں۔ عمر راٹھور کے ساتھ انصاف کی دہلیز پر ہونے والی بے انصافی۔ اس کا چہرہ نہیں ہٹتا۔ اس کی تکلیف ان لفظوں سے کہیں بڑھ کر ہے جو لفظ بیان کر سکتے ہیں۔ پانچ سال میں یہ پہلی عید ہے جس پر مجھے اپنا نوحہ، اپنا دکھ ہی یاد نہیں رہا۔ جب شوہرِ محترم کہتے ہیں کہ “آپ بہت بدل گئی ہو” تو میں ان سے یہی کہتی ہوں:
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا!!
    راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا!!
    آپ سب کو پھر بھی، دل کی گہرائیوں سے، عید الاضحیٰ مبارک ہو۔

  • نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

    آج اخبار میں ایک خبر پڑھی جس نے دل کو اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔پل قمبر منڈی ایک غریب بزرگ نے اپنی بکری 27,000 روپے میں فروخت کی۔وہ شاید دل ہی دل میں خوش تھے کہ اب گھر جا کر بچوں کی ضروریات پوری کریں گے عید کے لیے کچھ سامان لے آئیں گے اور کئی دنوں سے چہرے پر چھائی پریشانی شاید کچھ کم ہو جائے گی۔وہ بکری شاید صرف ایک جانور نہیں تھی وہ اُن کی محنت تھی۔ اُن کی جمع پونجی تھی، اُن کی امید تھی۔

    شاید اُس بزرگ نے اُسے مہینوں پال کر اس دن کا انتظار کیا ہوگا کہ عید قریب آئے گی تو اچھی قیمت مل جائے گی اور گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔مگر افسوس…
    جس شخص نے بکری خریدی اُس نے ان بزرگ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاتھ میں نقلی نوٹ تھما دیے۔سوچیے۔۔۔جب وہ بزرگ بازار میں اپنی ضروریات خریدنے گئے ہوں گے۔ کسی دکان دار نے نوٹ ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا ہوگاپھر یہ کہا ہوگا:
    "بابا جی یہ نوٹ تو نقلی ہیں”

    اُس لمحے اُن کے دل پر کیا گزری ہوگی؟کیسے اُن کے قدم لڑکھڑائے ہوں گے؟کیسے اُن کی آنکھوں کی روشنی ایک دم ماند پڑ گئی ہوگی؟شاید چند لمحوں کے لیے اُنہیں یقین ہی نہ آیا ہو کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب گھر کیسے جائیں؟بچوں کو کیا جواب دیں؟ گھر والوں کی امید بھری نظریں کیسے برداشت کریں؟
    شاید اُن کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونجی ہوگی:
    "میری ساری محنت لٹ گئی”

    ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں قربانی، رحم، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔مگر افسوس کہ آج لوگ جانور خریدتے ہوئے بھی انسانیت بیچ دیتے ہیں۔خدارا، غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم مت کیا کریں۔آپ کے لیے شاید چند ہزار روپے معمولی ہوں مگر ایک سفید پوش انسان کے لیے یہی رقم اُس کے گھر کا چولہا جلاتی ہے، بچوں کی دوائیں بنتی ہے، اور عید کی خوشیوں کا سہارا ہوتی ہے۔یاد رکھیے، مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔اللہ تعالیٰ دیر ضرور کرتا ہے مگر حساب ضرور لیتا ہے۔

    غریب آدمی کا دل دکھا کر شاید وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے،مگر اُس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا جو انسان اپنے کردار، اپنی آخرت، اور اپنی انسانیت کو پہنچا دیتا ہے۔یہ صرف فراڈ نہیں تھا
    یہ ایک بوڑھے انسان کی امیدوں، اُس کی محنت، اُس کی عزتِ نفس، اور اُس کے اعتماد کا قتل تھا۔
    اور سچ تو یہ ہے کہ ان بزرگ نے تو چلو ایک وقتی نقصان اٹھایا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا یہ زخم کچھ بھر بھی جائے۔لیکن جس شخص نے اُنہیں دھوکہ دیا، جس بیوپاری نے چند ہزار روپے کے لالچ میں ایک غریب انسان کی دعائیں اور اعتماد کھو دیا
    پتہ نہیں اُسے ساری زندگی کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔کیونکہ مال کا نقصان شاید پورا ہو جاتا ہے۔
    مگر کردار کا نقصان، انسانیت کا نقصان، اور مظلوم کی آہوں کا بوجھ ایسا قرض ہوتا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا۔ان بابا جی کو پہچان لیں اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔کاش ہم اتنے بے حسی نہ ہوتے۔

  • تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    تعاقب کرتی سبز آنکھیں،تحریر: بینا علی

    آج فیس بک اسکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ اچانک نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ اُس بچے کی سبز آنکھوں کے سحر نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے سامنے عمر راٹھور شہید کھڑا ہو۔ انگلیوں کی جنبش تھم گئی، سانس بوجھل ہو گئی اور سوچیں بہت دور تک پھیلتی چلی گئیں۔جب زینب قتل کیس رونما ہوا، اُس وقت میری بیٹی بھی تقریباً چار سال کی تھی۔ عجیب اتفاق یہ تھا کہ زینب نے جس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا، ویسا ہی کوٹ میری بیٹی کے پاس بھی تھا۔ اُس سانحے کے بعد نہ جانے کتنی راتیں عدمِ تحفظ، خوف اور بے خوابی میں گزریں۔ اکثر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو سینے سے لگا کر دیر تک روتی رہتی تھی۔ ہر ماں اُس وقت زینب میں اپنی بیٹی دیکھ رہی تھی۔

    زینب کی خاموش آواز آپ سب بنے… آپ کی چیخ، آپ کا احتجاج اور آپ کی بے چینی ہی تھی جس نے قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ آج پھر ایک عمر ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ خدارا! عمر کی مدفون سسکیوں کی آواز بن جائیں۔ وہ معصوم جنت کا شہزادہ بن کر اپنے رب کے پاس چلا گیا، مگر اب زمین پر انصاف مانگنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ظلم پر خاموشی درحقیقت ظالم کا ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کی قبر میں دفن سسکیوں کو اپنے لفظوں سے زندہ کر دیجیے۔ یہ صرف ایک بچے کی جنگ نہیں یہ ہم سب کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو قاتل دندناتے پھریں گے اور یہ قیامت کبھی نہیں رکے گی۔
    خدارا اپنی آواز بلند کیجیے۔ #JusticeForUmer لکھ کر یہ پیغام آگے پہنچائیے۔

  • ایران  امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    ایران امریکہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی،پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا ماحولیاتی خطرہ، تحریر: سعدیہ مقصود

    دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف سرحدی تنازعات نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات ماحول، موسم اور انسانی زندگی کے ہر پہلو تک پہنچ چکے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اثرات اب موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں بھی واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملے، آئل ریفائنریوں کی تباہی، اور بڑے پیمانے پر ایندھن کے جلنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، زہریلی گیسیں اور دھواں شامل ہو رہا ہے جو عالمی درجہ حرارت اور فضائی معیار دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جب جنگی صورتحال میں صنعتی تنصیبات، تیل کے ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف فوری آلودگی بڑھتی ہے بلکہ اس کے اثرات طویل مدت تک بارشوں کے نظام، درجہ حرارت اور موسمی توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی میں خلل پڑا ہے جس کے باعث کئی ممالک مہنگے اور زیادہ آلودہ ایندھن کی طرف جا رہے ہیں، جو مزید کاربن اخراج کا سبب بن رہا ہے۔اس صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کمزور ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

    اگر خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات اسی طرح برقرار رہتے ہیں تو پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں، غیر متوازن مون سون بارشیں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ، اور فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حالات کا تماشائی نہ رہے بلکہ ایک مضبوط موسمیاتی تیاری اختیار کرے۔ سب سے پہلے پانی کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ بڑے ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو اپنانا ہوگا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ آنے والے سالوں میں پانی پاکستان کی معیشت اور بقا دونوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔دوسرا اہم قدم شجرکاری اور جنگلات میں اضافہ ہے۔ پاکستان کے شہروں میں درختوں کی کمی گرمی اور آلودگی کو بڑھا رہی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں، شہری علاقوں میں سبز کوریڈورز بنائے جائیں اور شہری منصوبہ بندی میں ماحول کو مرکزی حیثیت دی جائے تو درجہ حرارت میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔اگر پاکستان میں شہروں، سڑکوں اور خالی جگہوں پر نیم، پیپل، برگد، شیشم اور جامن جیسے مقامی درخت زیادہ لگائے جائیں تو یہ نہ صرف درجہ حرارت کم کرتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی بھی کم کرتے ہیں اور شہری ماحول کو زیادہ قابلِ رہائش بناتے ہیں۔تیسرا اہم شعبہ توانائی کا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ جیسے حالات عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو فوری طور پر قابلِ تجدید توانائی یعنی شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور آبی توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ مہنگے تیل پر انحصار کم ہو سکے۔چوتھا پہلو شہری منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر تیزی سے کنکریٹ کے جنگل بنتے جا رہے ہیں جہاں گرمی جذب ہو کر حرارتی جزیرے کا اثر پیدا کرتی ہے۔ اس کے لیے سبز عمارتیں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی ضروری ہے۔پانچواں قدم زراعت میں مزید بہتری اور اس کی مکمل جدید کاری ہے۔

    اگرچہ پنجاب میں پہلے ہی سپر سیڈر اور جدید مشینری کے ذریعے فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جائے۔ کسانوں کو ایسے بیج فراہم کیے جائیں جو کم پانی اور زیادہ گرمی برداشت کر سکیں، اور جدید زرعی تحقیق کو عام کاشتکار تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمی پیشگوئی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔آخر میں سب سے اہم چیز آفات سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ پاکستان کو ایسا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا جو سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور فضائی آلودگی جیسے خطرات کے لیے بروقت وارننگ دے سکے اور فوری ردعمل ممکن بنا سکے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ صرف ایک سیاسی یا عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے۔ اگر پاکستان نے آج سے سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی تو 2030 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید اور خطرناک ہو سکتے ہیں، لیکن بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف ان خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

  • واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    کل تقریباً سوا مہینے بعد، شہرِ اقتدار سے "شہرِ محبتاں” واپسی ہوئی۔ قادری ٹریولز اور سانگو اڈے پر بے انتہا رش تھا؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہجرت زدہ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہوں۔ ہر چہرے پر تھکن بھی تھی بے قراری بھی اور اپنوں تک پہنچ جانے کی عجیب سی جلدی بھی۔ خیر تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد گاڑی ملی اور رات نو بجے سفر شروع ہوا۔ شوہرِ محترم اور بیٹابائیک پر تھے۔ راستے میں کہیں نہیں رکےاور مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ شاید محبت ہمیشہ منزل تک پہلے پہنچ جایا کرتی ہے۔

    جیسے ہی گاڑی مظفرآباد شہر میں داخل ہوئی ٹھنڈی ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ گیلی مٹی کی سحر انگیز خوشبو فضا میں یوں بکھر رہی تھی جیسے شہر نے مجھے پہچان لیا ہو جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو: "تم واپس آ گئی ہو!”
    یہی بائیک پر مجھے اڈے سے لینے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ہلکی پھوار برس رہی تھی اور نہ جانے کیوں اُس لمحے دل عجیب سی طمانیت سے بھر گیا۔ کچھ شہر صرف جگہیں نہیں ہوتے وہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔ شوہرِ محترم کی والدہ جو بقول اِن کے میری والدہ زیادہ اور ان کی والدہ کم لگتی ہیں اور جن کا آشیانہ میرے لیے میکے کا درجہ رکھتا ہے ۔ان کو ہم سرپرائز دے رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں پیر کا بتایا تھا حالانکہ ہم ایک دو دن پہلے بنا اطلاع پہنچ گئے۔دروازہ کھلا تو اُن کی آنکھوں میں اُتر آنے والی خوشی نے ساری تھکن اتار دی۔ تب شدت سے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ کے آنے سے خوشی ملتی ہے جو آپ کی راہ تکتے ہیں جنہیں آپ کے ہونے سے،نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔ یہ جان کر دل کو عجیب سا سکون ملا کہ آج بھی دو آنکھیں میری منتظر رہتی ہیں؛ ایسی آنکھیں، جنہیں میرے آنے، جانے، ہنسنے، بولنے، حتیٰ کہ خاموش رہنے تک سے فرق پڑتا ہے۔بیٹی حنانہ نے دسترخوان سجایا۔ مونگ کی دال، گوشتابے اور کریلے چکن۔ مجھے لگا تھا کہ شاید تھکن کے باعث کچھ نہ کھا سکوں،مگر پہلا لقمہ لیتے ہی جیسے مدتوں کی محرومی ٹوٹ گئی۔ ہاتھ رکتے ہی نہیں تھے۔مینیو میں تو صرف مونگ کی دال تھی مگر امی نے کریلے چکن اور گوشتابوں میں سے میرا حصہ الگ نکال کر فریزر میں سنبھال رکھا تھا۔ اُس لمحے دل بھر آیا کیونکہ مائیں صرف کھانا نہیں سنبھالتیں، وہ اپنے بچوں کی پسند، اُن کی عادتیں، اُن کی کمی، اور اُن کی واپسی کی امید بھی سنبھال کر رکھتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سوا مہینے میں نے صرف "پیٹ بھرا” تھا، مگر گزشتہ شب میں نے "دل بھر کر” کھانا کھایا۔
    اللہ کرے، سب کی منتظر آنکھیں سلامت رہیں… آمین!

  • تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    کیا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں خاموش سفارت کاری کا نیا مرکز بن رہا ہے؟
    دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ، معاشی بحران اور توانائی کے طوفان میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقت، خلیجی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور ایٹمی توازن کا حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی مذاکرات کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کررہاہے

    کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود تہران نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست میں ایران کا کردار امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، جبکہ ایران خود کو مزاحمت، خودمختاری اور اسلامی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    امریکا اور ایران کی کشیدگی کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کبھی خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے حرکت میں آتے ہیں، کبھی تہران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور کبھی اسرائیل کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد ایران کے ردِعمل نے دنیا کو کئی بار ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    اس پورے منظرنامے میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump کی شخصیت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی جارحانہ زبان، سوشل میڈیا بیانات اور طاقت کے غیر روایتی انداز نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک غیر یقینی رخ پر کھڑا کر دیا ہے۔ رات گئے سوشل میڈیا پوسٹس، مخالفین پر طنزیہ حملے اور ایران کو براہِ راست دھمکیاں اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں اے آئینی مدد سے ٹویٹ اور فوٹوز کا پوسٹ ان کی نفسیات پہ سوالیہ نشان ہے

    امریکی اداکار Robert De Niro نے ایک موقع پر ٹرمپ کو “sociopathic, psychopathic malignant narcissist” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات بھی ٹرمپ کی شخصیت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جون کے مطابق ٹرمپ “personality disorder” کی ایک ایسی شکل کا مظہر ہیں جسے “malignant narcissism” کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اصل میں جرمن نژاد ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے متعارف کرایا تھا، جو نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے Adolf Hitler کی نفسیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر جون کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں ٹرمپ امریکی سیاست میں ابھرے تو انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک “malignant narcissist” شخصیت اقتدار میں آنے کے بعد عالمی اقدار، سفارت کاری اور سیاسی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق طاقت، انا اور غیر متوقع فیصلوں کا یہ امتزاج عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھاتا ہے، جبکہ حامی اسے “جارحانہ قیادت” کا نام دیتے ہیں۔

    اسی دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیات کے بار بار ایران کے دورے، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے، اور پسِ پردہ مذاکراتی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔

    پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سرحدی سلامتی، توانائی منصوبوں اور علاقائی استحکام پر پڑے گا۔ اسی لیے اسلام آباد اپنے میوچل انٹرسٹ کے تحت یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

    اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین کبھی کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بیجنگ اپنی عالمی معاشی پوزیشن اور سفارتی توازن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ چین مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ چین جانتا ہے کہ خلیج میں جنگ اس کی توانائی سپلائی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور عالمی تجارت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    خطے کی جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ پر ایران اور عمان کا جغرافیائی کنٹرول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور خلیجی استحکام کے لیے ایران کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے عالمی سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جبکہ افغان مذاکرات میں بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ آج اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد ایک قابلِ قبول اور متوازن مقام بن سکتا ہے۔

    پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں پر پڑوسی ملک انڈیا میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ بھارت خود کو خطے کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اگر ایران اور امریکا جیسے اہم فریق اسلام آباد کے ذریعے قریب آتے ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔

    دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے تھک چکی ہے۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے، تیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں شاید سب سے بڑی ضرورت میزائلوں کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہے، دھمکیوں کی نہیں بلکہ تدبر کی سیاست کی ہے۔

    اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو کیا پاکستان اس بار صرف ثالث نہیں بلکہ خطے میں امن کی نئی سفارتی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا