Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی پر تنازع: اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی پر تنازع: اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک تاریخ، ایک جدوجہد، پھر کشمیریوں کے درمیان اختلاف کیوں؟

    دھرنوں کے بجائے مکالمہ: مہاجر کشمیریوں کے حقوق اور قومی یکجہتی کا تقاضا

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہونے والے احتجاج، جلسے، جلوس اور دھرنوں نے ایک اہم سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے حقِ نمائندگی اور ان کی سیاسی حیثیت سے متعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1947 کی تقسیم کے دوران لاکھوں کشمیری اپنے گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے محروم ہو کر پاکستان آئے۔ ان خاندانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، مشکلات برداشت کیں اور پاکستان میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ آج ان مہاجر خاندانوں کی تیسری، چوتھی بلکہ بعض مقامات پر پانچویں نسل بھی پاکستان میں آباد ہے۔ ان مہاجرین نے نہ صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے میں بھی اہم حصہ ڈالا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ نظام کئی دہائیوں سے موجود ہے اور ان نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ کار برسوں سے آئینی اور قانونی طور پر تسلیم شدہ ہے تو پھر آج اس پر اعتراضات کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا واضح جواب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

    دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری خاندانوں کو آج بھی "مہاجر کشمیری” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مقامی آبادی بھی انہیں اسی شناخت سے جانتی ہے، حالانکہ کئی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخی، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی شناخت آج بھی کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے بعض حلقے پاکستان میں آباد مہاجرین کی سیاسی نمائندگی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو انہیں اپنے مؤقف کی معقول اور منطقی وضاحت کرنی چاہیے۔ اختلاف رائے ہر معاشرے میں موجود ہوتا ہے، لیکن ایسے معاملات کا حل احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ کشمیر کا مقدمہ ہمیشہ اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری ہوں یا پاکستان میں آباد مہاجرینِ جموں و کشمیر، دونوں ایک ہی تاریخ، ایک ہی جدوجہد اور ایک ہی مقصد سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ایسے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں باہمی احترام، سیاسی بصیرت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایکشن کمیٹی، سیاسی جماعتیں، حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ ادارے ایک میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کریں۔ دھرنوں، احتجاجوں اور سیاسی کشیدگی سے نہ صرف داخلی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منقسم تاثر سامنے آتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے اور تمام کشمیریوں کو ایک دوسرے کے وجود، قربانیوں اور حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

  • زبان کا صوتی نظام،تحریر  : پارس کیانی

    زبان کا صوتی نظام،تحریر : پارس کیانی

    ہر زبان کا اپنا صوتی نظام ہوتا ہے، جس میں کچھ مخصوص آوازیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور کچھ آوازیں یا تو کم ہوتی ہیں یا موجود ہی نہیں ہوتیں۔ پنجابی زبان میں:
    "خ” [voiceless uvular fricative] ہے) کا استعمال اردو یا عربی کے مقابلے میں کم ہے۔
    لہٰذا بہت سے پنجابی بولنے والے اس آواز کو ادا کرنے کی عادت نہیں رکھتے یا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
    جب پنجابی بولنے والے اردو بولتے ہیں، تو ان کی مادری زبان (پنجابی) کا لہجہ اور آوازوں کا اثر ان کی اردو پر بھی آتا ہے۔ اسے لسانیات میں زبان کی بین اللسانی مداخلت (interference) کہا جاتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ "خ” کی جگہ "ہ” یا کبھی "ح” بول دیا جاتا ہے۔جیسے کہ:
    خوبصورت → ہوبصورت
    خطرہ → ہطرہ
    یہ لہجے کا فرق تو ہے، مگر اس کی جڑیں لسانیاتی نظام میں ہیں۔
    یہ فرق عام طور پر ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے:
    جنھوں نے اردو کو ثانوی زبان کے طور پر سیکھا ہو۔
    یا جنھیں "خ” کی صحیح صوتی ادائیگی کی تربیت نہ ملی ہو۔
    تعلیم یافتہ پنجابی بولنے والے اگر اردو کو فصاحت کے ساتھ بولنا چاہیں تو وہ اس فرق پر قابو پا لیتے ہیں۔
    پنجاب کے دیہی علاقوں میں "خ” کی ادائیگی اکثر "ہ” کے طور پر ہوتی ہے۔
    شہری علاقوں میں، خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں، بہت سے لوگ اردو تلفظ کے قریب تر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    یہ فرق محض بولنے کا انداز (لہجہ) ہی نہیں، بلکہ زبان کی ساختی اور صوتی خصوصیات کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اگر کوئی چاہے تو "خ” کی درست ادائیگی سیکھ سکتا ہے، اور اس میں کوئی لسانی رکاوٹ مستقل نہیں ہے۔

  • اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ

    اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ

    اللہ کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے۔ ہر بچہ والدین کے لیے ایک امانت ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے گھروں میں "سب برابر ہیں” کہنے کے باوجود عمل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ کوئی بیٹا ہے تو لاڈلا، کوئی بیٹی ہے تو خاموش۔ کوئی بڑا ہے تو سمجھدار، کوئی چھوٹا ہے تو "ابھی بچہ ہے”۔ یہ فرق رشتوں کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔

    فرق کیوں پڑتا ہے؟
    بیٹا بیٹی کا فرق*: ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت سے والدین بیٹے کو "گھر کا وارث” اور بیٹی کو "بوجھ” سمجھتے ہیں۔ بیٹے کی تعلیم، موبائل، آزادی سب کچھ۔ بیٹی پر پہرے۔ نتیجہ یہ کہ بیٹی دل میں ایک خلا لے کر بڑی ہوتی ہے۔
    ہونہار اور کمزور بچہ جو بچہ پڑھائی میں تیز ہو اس کی تعریفیں، تحفے، توجہ۔ جو تھوڑا کمزور ہو اسے "ناکام” کا ٹائٹل۔ والدین بھول جاتے ہیں کہ ہر بچے کا دماغ، صلاحیت اور رفتار الگ ہے۔
    بڑا اور چھوٹا بڑے بچے سے توقع ہوتی ہے کہ وہ "سمجھوتہ” کرے۔ چھوٹے کو ہر چیز معاف۔ بڑا بچہ اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے کہ مجھ سے ہی سب قربانی کیوں؟
    شکل و صورت اور مزاج جو بچہ زیادہ میٹھا بولے یا خوبصورت ہو اسے زیادہ توجہ۔ شرمیلا یا سنجیدہ بچہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔

    فرق کے نقصانات کیا ہیں؟
    فرق رکھنے سے بچے کے اندر حسد، نفرت اور عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، دوست نہیں رہتے۔ جس بچے کو کم اہمیت ملے وہ یا تو باغی ہو جاتا ہے یا خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ بڑے ہو کر یہی بچے والدین سے بھی بدظن ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں "آپ نے کبھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا”۔

    گھر کا ماحول ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک گھر میں کئی "خیمے” بن جاتے ہیں۔ والدین بڑھاپے میں روتے ہیں کہ اولاد متحد نہیں، مگر بیج انہوں نے خود بوئے ہوتے ہیں۔

    اسلام اور انصاف کا حکم
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو”۔ تحفہ ہو یا محبت، ڈانٹ ہو یا شاباش، پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اللہ نے ہر بچے کو الگ فطرت دی ہے۔ ہمارا کام موازنہ کرنا نہیں، ہر ایک کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے۔

    حل کیا ہے؟
    ہر بچے کو الگ پہچان دیں کسی سے دوسرے کا موازنہ نہ کریں۔ "دیکھو تمہارا بھائی کتنا اچھا ہے” جیسے جملے زہر ہیں۔
    وقت بانٹیں ہر بچے کے ساتھ روز 10 منٹ اکیلے بیٹھیں۔ اس کی بات سنیں۔ اسے "خاص” محسوس کروائیں۔
    ضرورت کے مطابق دیں، محبت برابر رکھیں ہو سکتا ہے ایک کو ٹیوشن کی ضرورت ہو، دوسرے کو کھیل کے جوتے۔ خرچہ الگ، مگر عزت اور توجہ برابر۔
    اپنی سوچ بدلیں بیٹا بیٹی، بڑا چھوٹا، گورا کالا سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ فرق صرف ہمارے دل میں ہوتا ہے۔

    نتیجہ
    والدین کا انصاف ہی اولاد کی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر گھر میں عدل ہوگا تو باہر معاشرہ بھی سنور جائے گا۔ اولاد کو وراثت میں جائیداد نہیں، ایک دوسرے کا بھروسہ دے کر جائیں۔ کیونکہ جس گھر میں فرق ہوتا ہے وہاں برکت نہیں رہتی۔

  • تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا رائے سازی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی جانے والی گفتگو اور بیانیے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے،پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا سیاسی سرگرمیوں کا سب سے مؤثر میدان بن کر سامنے آیا، مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا، اپنے کارکنوں کو منظم کیا، بیانیے تشکیل دیے اور مخالفین پر تنقید کی، اس ماحول میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو خاصی توجہ حاصل رہی لیکن پھر وقت بدلا، حالات بدلے،عمران خان آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے اور پھراسکے بعد پاکستان میں جو کردار تحریک انصاف نے نبھایاوہ کسی ملک دشمنی سے کم نہ تھا.

    نو مئی کا سانحہ وہ حقیقت ہے جس نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا،عسکری اداروں، شہداء کی یادگاروں پر حملے اور پھر مسلسل اداروں کے خلاف الزام تراشیاں‌،پروپیگنڈے،غرضیکہ پی ٹی آئی جس حد تک جا سکتی تھی گئی اور یہی وجہ بنی کہ آج سوشل میڈیا سے پی ٹی آئی کا وجود غائب ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی کا نام لیوا سوشل میڈیا پر سوائے چند ضمیر فروشوں کے کوئی نہیں رہا،عمران اڈیالہ میں ،پی ٹی آئی رہنما ایوانوں میں،جب پی ٹی آئی رہنما ہی عمران خان سے منہ موڑ گئے تو عوام کب تلک ساتھ دے، انصاف کے نام پر تحریک انصاف نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ ایک ایسی زندہ مثال ہے جو تاریخ میں لکھی جائے گی کہ نام نہادسیاسی جماعت گوگی و پنکی کے ہاتھوں یرغمال بنی اور نہ صرف ملک میں مالی کرپشن کی بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا اور ملکی استحکام،ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں بھی پیچھے نہ رہی.

    ایسے میں عوام ایک طرف پی ٹی آئی سے لاتعلق ہو چکی تو وہیں گزشتہ برس کا معرکہ حق، ،افغان رجیم کی جانب سے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کے ذریعے دہشتگردی، پاکستان کا افغان رجیم کے ٹکڑوں پر پلنے والے فتںہ الخوارج کیخلاف آپریشن،امریکہ ایران جنگ نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ایسے حالات میں سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کی قیادت کے حق میں اظہارِ یکجہتی کے مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، بھارت کا آپریشن سندور حقیقت میں بھارت کے لئے "آپریشن سندور” بن گیا،چند روز قبل بھارت نے اپنے معرکہ حق میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعلان کیا،افغان رجیم کی سازشوں ،دہشتگردی کا جس بہادری کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جواب دیا وہ سب کے سامنے ہے، امریکا ایران جنگ ہوئی تو دنیا دیکھ رہی تھی کہ انجام کیا ہو گا لیکن انجام پاکستان بنا رہا تھا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں و کاوشوں سے نہ صرف جنگ بندی ہوئی بلکہ معاہدہ بھی طے پا گیا،بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا لیکن کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا لیکن یہاں پاکستان دنیا کے سامنے امن کا علمبردار بن کر سامنے آیا اور امریکا ایران جنگ کا واحد ثالث بن کر خطے میں امن قائم کیا،

    یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر نگاہ دوڑائیں تو ہر طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام پیغامات ،تصاویریں ،عوامی جذبات دیکھنے کوملتے،35 پنکچرز کے بیانئے کی طرح عمران خان کے واحد مقبول شخصیت ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے،عمران خان نام کی کوئی چیز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی ،میرا اللہ جس کو چاہے عزت دے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ دنیا بھر میں گونج رہا ہے،آج پاکستانی معاشرہ حقیقت کو دیکھ اور تسلیم کر رہا ہے، معرکہ حق کی فتح قوم کے سامنے ہے،قوم کبھی ریاست کو کمزور کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ ملک کا دفاع کرنے والوں کو سلیوٹ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج پاکستانی قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں،ایکس،فیس بک، ٹک ٹاک غرضیکہ جس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جائیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا چمکتا دمکتا نام ہر طرف نظر آئے گا، سوشل میڈیا کی طاقت آج مسلح افواج کے لئے ہے اور پاکستانی عوام جہاں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے،سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اسی جذبے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے،پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست انجام کو پہنچ چکی اور پاکستانی قوم ایک بار پھر کلمہ کے نام پرحاصل کئے گئے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیت کی طرف لوٹ چکی، نفرت اور تفریق کو ترک کر رہی ہے اور شہرت کا نام نہاد بیانیہ دفنانے میں مصروف ہے۔

  • ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم قانون کی حکمرانی میں بڑی رکاوٹ اداروں کو سیاسی غلام بنانے کا فرسودہ کلچر ختم کیا جائے

    سرکاری افسران ریاست کے ملازم، کسی ڈیرے پر حاضری کے پابند نہیں انتظامیہ کو دباؤ سے آزاد کیا جائے

    منتخب نمائندے عوامی مسائل ضرور اٹھائیں، انتظامی اختیارات میں مداخلت اور افسران کی تذلیل کا کوئی حق نہیں

    ملک کو جدید اور منصفانہ ریاست بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کو واضح ‘مداخلت مخالف’ پالیسی بنانا ہوگی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ڈیرہ سسٹم، سیاسی مداخلت اور قانون کی حکمرانی، پاکستان کو درپیش متعدد انتظامی اور سماجی مسائل کی جڑوں میں ایک اہم مسئلہ وہ فرسودہ سیاسی رویہ ہے جسے عرفِ عام میں "ڈیرہ سسٹم” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو جمہوری اقدار، ادارہ جاتی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، منتخب نمائندے اور بااثر شخصیات اس طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں اور خود کو جدید جمہوری تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں سرکاری افسران ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، کسی فرد، خاندان یا سیاسی شخصیت کے نہیں۔ وہاں پولیس افسران، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران قانون اور آئین کے تابع ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی ڈیرے یا ذاتی بیٹھک پر حاضری دے کر احکامات وصول کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض علاقوں میں ابھی تک یہ روایت موجود ہے کہ سرکاری افسران کو سیاسی شخصیات کے ڈیروں پر طلب کیا جاتا ہے، جہاں ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یا انہیں مخصوص مفادات کے مطابق کام کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ عزتِ نفس مجروح کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کسی افسر کو یہ احساس ہو کہ اس کی ترقی، تبادلہ یا پوسٹنگ میرٹ اور کارکردگی کے بجائے سیاسی وابستگی یا کسی ڈیرے پر حاضری سے مشروط ہے، تو پھر قانون کی حکمرانی کمزور اور شخصی حکمرانی مضبوط ہو جاتی ہے۔جرائم کے خاتمے، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے۔

    منتخب نمائندوں کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل پر نظر رکھیں، عوامی شکایات اجاگر کریں اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی کریں، لیکن انہیں سرکاری افسران کے انتظامی اختیارات میں مداخلت یا ان کی تذلیل کا کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔جمہوریت کی اصل روح اداروں کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے، افراد کی بالادستی میں نہیں۔ اگر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جدید، منظم اور قانون پسند ریاست بنانا ہے تو ڈیرہ کلچر، سفارش، سیاسی دباؤ اور شخصی اثر و رسوخ کی سیاست سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ سرکاری افسران کو صرف آئین، قانون اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت یا بااثر خاندان کے سامنے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں واضح پالیسی مرتب کریں جس کے تحت کسی بھی سرکاری افسر کو سیاسی ڈیروں پر طلب کرنے، غیرضروری سیاسی دباؤ ڈالنے یا سرکاری امور میں ذاتی مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اداروں کو مضبوط، عوام کو بااختیار اور پاکستان کو ایک باوقار، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بنا سکتا ہے۔ قانون کی بالادستی تبھی قائم ہوگی جب ریاست کے ملازمین کو غلام نہیں بلکہ قانون کے محافظ سمجھا جائے گا۔

  • تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی

    تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن،تحریر:بینا علی

    وہ تباہی کے بیچ امید کی ایک کرن اور معجزہ بن کر ٹنوں ملبے تلے سے تین دن بعد زندہ نکلی تھی۔وینزویلا میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک تقریباً ایک ہزار افراد کے جاں بحق اور 3 ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بلند و بالا عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے کا عمل گزشتہ 3 روز سے جاری ہے۔ اسی دوران امدادی ٹیموں کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کی تلاش کے دوران ملبے کے نیچے سے بچے کے رونے کی آواز سننے میں کامیاب ہوئے۔ آواز کی نشاندہی کے بعد ٹیم نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کنکریٹ اور دیگر ملبہ ہٹانا شروع کیا۔چند گھنٹے کے محتاط آپریشن کے بعد اہلکار ایک ننھی بچی تک پہنچ گئے اور اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔ موقع پر موجود عملے اور مقامی افراد نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔

    بچی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے خطرے سے باہر قرار دیا گیا ہے۔ بچی کے اہلخانہ نے اپنی بیٹی کی بازیابی پر اظہارِ تشکر کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی ہے، جسے بڑی تعداد میں صارفین شیئر کر رہے ہیں۔
    فی الوقت متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔

  • 23 فور ایل بھوہڑانوالہ مسلسل محرومیاں کا شکار ،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    23 فور ایل بھوہڑانوالہ مسلسل محرومیاں کا شکار ،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    دیہاتوں کی ترقی ہی،، پاکستان کی حقیقی ترقی میں دیہاتوں کا ایک کلیدی کردار رہا ہے مگر افسوس کہ ضلعی انتظامیہ کی ترجیحات میں دیہی علاقے آج بھی نظر انداز ہیں۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں سے محرومی دیہاتوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ظاہر کرتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دیہی آبادی کو بھی وہی اہمیت دی جائے جو شہری علاقوں کو حاصل ہے قارئین افسوس کی بات یہ کہ بیوروکریسی کی اکثریت کا تعلق دیہاتوں سے ہوتا ہے۔
    آج ہم آپ کو اوکاڑہ کے ایک پسماندہ ترین گاؤں کے حوالہ سے معلومات فراہم کریں گے تو آئیں اس کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہیں
    اوکاڑہ کا ایک ایسا گاؤں جس کی سڑکیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں وہ حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 کا گاؤں 23 فور ایل بھوہڑانوالہ ہے۔بھوہڑ قوم اوکاڑہ کی جانی پہچانی قوموں میں شمار ہوتی ہے
    ضلع اوکاڑہ کو پنجاب کا زرعی دل کہا جاتا ہے، مگر اس زرعی ضلع کے کئی دیہات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 میں واقع گاؤں 23 فور ایل بھوہڑانوالہ بھی انہی دیہات میں شامل ہے۔ اوکاڑہ شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع یہ گاؤں محنت کش کسانوں اور باہمت لوگوں کی بستی ہے، لیکن مسلسل حکومتی عدم توجہ اور بنیادی مسائل نے یہاں کے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے۔
    گاؤں کی زیادہ تر آبادی کھیتی باڑی سے وابستہ ہے، مگر زراعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف زیر زمین پانی کڑوا ہے، جس کے باعث ٹیوب ویل کا پانی زیادہ تر فصلوں کے لیے موزوں نہیں، جبکہ دوسری جانب نہری پانی کی شدید قلت نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ راستے میں پانی کی مبینہ چوری اور نہری نظام کی ناقص نگرانی کی وجہ سے آخری ٹیل پر واقع 23 فور ایل کو اس کا جائز حصہ نہیں ملتا۔
    اہلِ علاقہ کا مؤقف ہے کہ محکمہ انہار اوکاڑہ کی غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے باعث کئی دہائیوں سے کسانوں کو مسلسل مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور آخری ٹیل تک نہری پانی پہنچایا جائے تاکہ کسانوں کی معاشی مشکلات کم ہو سکیں۔
    گاؤں میں سیوریج کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ بارش ہوتے ہی گلیاں، سڑکیں اور رہائشی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی کئی کئی دن تک کھڑا رہتا ہے، جس سے شہریوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے، بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    گاؤں کی سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے سفر کو خطرناک بنا دیتے ہیں اور کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
    تعلیمی ادارے موجود ہونے کے باوجود ان کی کارکردگی عوامی توقعات کے مطابق نہیں۔ معیاری تعلیم اور جدید سہولیات کی کمی نوجوان نسل کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اسی طرح بنیادی مرکز صحت بھی عملے، ادویات اور سہولیات کی کمی کے باعث عوام کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہا۔
    بے روزگاری نے اس گاؤں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں اور کئی خاندانوں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں گاؤں چھوڑ کر دوسرے شہروں کا رخ کر لیا ہے، جس سے گاؤں کی معاشی اور سماجی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
    23 فور ایل بھوہڑانوالہ کے کسانوں کا ایک اہم مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ زیر زمین پانی کڑوا ہے اور نہری پانی کی مسلسل کمی کے باعث زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے، اس لیے حکومت اس علاقے کے کسانوں کے لیے خصوصی سولر سسٹم پیکج متعارف کرائے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ اگر سولر توانائی کی سہولت فراہم کی جائے تو ان کے زرعی اخراجات کم ہوں گے، وہ اپنی زمینوں کو بہتر طریقے سے آباد کر سکیں گے، اپنے بچوں کی معیاری تعلیم و تربیت کا بندوبست کر سکیں گے اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔
    یہ مطالبہ صرف ایک گاؤں کا نہیں بلکہ ان تمام آخری ٹیلوں پر آباد کسانوں کی آواز ہے جو برسوں سے پانی کی کمی، مہنگی بجلی، بڑھتی پیداواری لاگت اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ، محکمہ انہار اور منتخب عوامی نمائندے اس گاؤں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم، پانی کی چوری کی روک تھام، جدید سیوریج سسٹم، نکاسی آب کا مؤثر انتظام، ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی تعمیر، صحت و تعلیم کی بہتری اور کسانوں کے لیے خصوصی سولر پیکج جیسے اقدامات نہ صرف 23 فور ایل بھوہڑانوالہ بلکہ پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
    ترقی کا اصل معیار صرف شہروں کی چمکتی سڑکیں نہیں بلکہ وہ دیہات ہیں جہاں پاکستان کی معیشت کا ستون، یعنی کسان آباد ہیں۔ اگر 23 فور ایل بھوہڑانوالہ جیسے دیہات کو ان کا حق مل جائے تو یہی بستیاں پنجاب کی حقیقی ترقی کی روشن مثال بن سکتی ہیں۔
    امید کا دامن تھامے رکھیں مگر پچھلے 78 سالوں سے آخر کب تک

  • افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ اندر کوٹھی میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
    وہ چونکہ سیاسی آدمی تھے اس لیے محلے والوں نے اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ صاحب کے کچھ
    ہہی خواہوں نے تو کھانے پینے کی چیزوں کا بھی مفت بندوبست کروایا تھا۔ شیخ صاحب نے قبر بھی پچھلے حصے میں کھدوائی تھی تاکہ تدفین کے بعد انکی چہیتی نظروں کے سامنے رہے۔
    چھ ماہ بعد جب اچانک ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے شیخ صاحب کی موت واقع ہوگئی تو محلے والے یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ شیخ صاحب کی تدفین میں برائے نام لوگ شامل تھے۔تدفین سے واپسی پر ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے پوچھا “یار تعجب ھے شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔۔۔۔۔۔”

    شہانہ اقبال صاحبہ کے افسانچے "تضاد” کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جو انسانی رویّوں، سماجی ترجیحات اور جذباتی وابستگیوں کے بدلتے ہوئے پیمانوں پر طنزیہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ اگرچہ یہ افسانچہ فنی اعتبار سے بعض کمزوریوں کا حامل ہے، لیکن اس کا مرکزی خیال اور اختتامی ضربِ تاثر اسے قابلِ توجہ بنا دیتی ہے۔
    "تضاد” اس افسانچے کا نہایت موزوں عنوان ہے۔ پوری کہانی ایک ایسے تضاد کو آشکار کرتی ہے جس میں ایک بلی کی موت پر غیر معمولی ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن خود اس کے مالک کے جنازے میں چند افراد ہی شریک ہوتے ہیں۔ یہی فرق اور متناقض صورتِ حال عنوان کے مفہوم کو مکمل کرتی ہے۔
    افسانچہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے:
    "شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔”
    آغاز میں قاری یہ گمان کرتا ہے کہ شاید شیخ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور لوگ تعزیت کے لیے جمع ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجمع دراصل ان کی بلی کی موت پر اکٹھا ہوا تھا۔ اس طرح مصنفہ نے تجسس پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مختصر افسانچے میں ایسا آغاز ایک مثبت فنی وصف شمار ہوتا ہے۔
    افسانچے کا پلاٹ انتہائی مختصر ہے جیسے کہ
    شیخ صاحب کی بلی مر جاتی ہے۔
    سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں۔
    چھ ماہ بعد خود شیخ صاحب کا انتقال ہو جاتا ہے۔
    ان کے جنازے میں نہایت کم لوگ شریک ہوتے ہیں۔
    آخری جملہ پوری کہانی کا مفہوم واضح کر دیتا ہے۔
    یہ پلاٹ سادہ اور یک رخی ہے، لیکن افسانچے کی صنف میں پیچیدہ واقعات ضروری نہیں ہوتے۔ یہاں مقصد ایک خیال یا نکتے کو ابھارنا ہے، جو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے۔
    شیخ صاحب مرکزی کردار ہیں لیکن ان کی شخصیت کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ:
    وہ سیاسی شخصیت تھے۔
    انہیں اپنی بلی سے غیر معمولی محبت تھی۔
    انہوں نے اپنی قبر بھی گھر کے احاطے میں تیار کروائی تھی۔
    مختصر صنف ہونے کے باعث کردار نگاری علامتی نوعیت اختیار کر جاتی ہے۔ شیخ صاحب دراصل ان افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو سماجی نمود و نمائش یا وقتی تعلقات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
    افسانچے کی سب سے بڑی خوبی اس کا ڈرامائی انکشاف (Dramatic Revelation) ہے۔
    ابتدا میں قاری یہ سمجھتا ہے کہ شاید کسی اہم شخصیت کی وفات ہوئی ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک بلی کی موت کا منظر تھا۔ پھر جب خود شیخ صاحب فوت ہوتے ہیں تو صورتِ حال بالکل الٹ ہو جاتی ہے۔ یہی الٹ پھیر افسانچے کی جان ہے۔

    اختتامی مکالمہ:
    "یار تعجب ہے، شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔”
    یہ اختتام پوری کہانی کا حاصل ہے۔ افسانچہ نگاری میں جسے ” punch line” یا "ضربِ اختتام” کہا جاتا ہے، وہ یہاں موجود ہے۔
    یہ جملہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
    کیا لوگ واقعی انسانوں سے محبت کرتے ہیں؟
    کیا سیاسی وابستگیاں محض مفاد تک محدود ہوتی ہیں؟
    کیا زندہ انسان کی قدر اس کے عہدے اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہے؟
    یہ سوالات افسانچے کے بعد بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، جو ایک کامیاب افسانچے کی علامت ہے۔افسانچے میں کئی فکری پرتیں موجود ہیں مثلا :
    لوگ بلی کی موت پر اس لیے جمع ہوئے کہ شیخ صاحب زندہ تھے اور ان کا سیاسی و سماجی اثر و رسوخ موجود تھا۔انسانی رشتوں کی کھوکھلی بنیادوں کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لوگ اصل انسان سے زیادہ اس کی حیثیت اور طاقت سے وابستہ ہوتے ہیں اور یہ کہ
    آخرکار انسان اپنی موت کے بعد تنہا رہ جاتا ہے۔
    زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ افسانچہ پیچیدہ تراکیب سے گریز کرتا ہے، جو اس صنف کے لیے موزوں ہے۔
    تاہم ادبی اعتبار سے زبان میں مزید نکھار کی گنجائش موجود ہے۔ بعض جملے بیانیہ انداز میں ہیں اور ان میں تخلیقی چمک نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔
    افسانچے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بلی کی موت پر اتنا بڑا مجمع آخر کیوں جمع ہوا۔ صرف سیاسی شخصیت ہونا اس قدر غیر معمولی ردعمل کی مکمل توجیہ فراہم نہیں کرتا۔شیخ صاحب کی شخصیت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر ان کے رویّے یا مزاج کی ایک دو جھلکیاں دی جاتیں تو اثر مزید گہرا ہو سکتا تھا۔بلی کی موت پر سینکڑوں افراد کا جمع ہونا حقیقت کے اعتبار سے کچھ مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ طنزیہ ادب میں مبالغہ قابلِ قبول ہے، لیکن یہاں بعض قارئین اسے غیر فطری بھی سمجھ سکتے ہیں۔جذباتی گہرائی کی کمی ہے۔افسانچہ فکر دیتا ہے مگر دل پر شدید جذباتی اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ زیادہ تر طنزیہ اور فکری سطح پر کام کرتا ہے۔
    مجموعی طور پر یہ تحریر افسانچے کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتی ہے کیونکہ
    مختصر ہے۔ایک مرکزی خیال رکھتی ہے۔تجسس پیدا کرتی ہے۔
    اختتام میں چونکا دیتی ہے۔
    سماجی پیغام رکھتی ہے۔
    البتہ اسے اعلیٰ درجے کا شاہکار افسانچہ کہنا مشکل ہوگا کیونکہ اس میں کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، علامتی وسعت اور فنی پختگی محدود ہے۔
    شہانہ اقبال صاحبہ کا افسانچہ "تضاد” سماجی منافقت اور مفاد پرستانہ تعلقات کی ایک مختصر مگر معنی خیز تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کی اصل قوت اس کے چونکا دینے والے اختتام اور طنزیہ تاثر میں مضمر ہے۔ مصنفہ نے چند سطروں میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا اکثر انسان سے زیادہ اس کے مفادات اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فنی سطح پر بعض کمزوریاں موجود ہیں، تاہم اختتامی ضرب، عنوان کی مناسبت اور مرکزی خیال کی معنویت اسے ایک کامیاب اور مؤثر افسانچہ بناتی ہیں۔

    مختصر یہ کہ افسانچہ فنی اعتبار سے اچھی سطح کا افسانچہ ہے، فکری اعتبار سے معنی خیز ہے، اور طنزیہ و سماجی تنقید کے حوالے سے قابلِ توجہ تخلیق شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے افسانچہ نگاری کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شامل کرنے کے لیے مزید فنی گہرائی، نفسیاتی تہہ داری اور علامتی وسعت درکار ہے۔

  • قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں پاک فوج، ریاستی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں کا کلیدی کردار

    قومی مسائل کا پائیدار حل سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے مؤثر اشتراک میں مضمر ہے

    قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے استحکام اور ترقی کی حقیقی ضمانت ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں داخلی اور خارجی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستی پالیسیوں کا امتحان لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو بہتر بنانے اور خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔ اس سفر میں پاک فوج، دیگر قومی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بارے میں دنیا کے مختلف حلقوں میں مثبت تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ریاستی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داریاں بھی کسی طور کم نہیں ہوتیں۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور حکومتیں صرف قانون سازی یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور سیاسی مفاہمت پیدا کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک سیاسی، سفارتی اور انسانی مسئلہ بھی ہے جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے، مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں سیاسی قیادت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان میں موجود احساسِ محرومی، بدامنی یا علیحدگی پسند رجحانات کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔

    گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل بھی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور سنجیدہ مذاکرات کے متقاضی ہیں۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی وحدت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور سیاسی دانش سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی ماحول میں اکثر سیاسی جماعتوں کی توجہ عوامی مسائل اور قومی چیلنجز کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ریاست کو درپیش خطرات، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ماضی کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے رہنما نظر آتے ہیں جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔ سیاسی مکالمہ، برداشت اور قومی اتفاقِ رائے ان کی سیاست کا اہم حصہ تھا۔ آج بھی پاکستان کو اسی طرزِ فکر کی ضرورت ہے تاکہ قومی مسائل کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جا سکے۔
    پنجاب میں امن و امان، عوامی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی بعض کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کی توقع یہی ہوتی ہے کہ منتخب قیادت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات میں کمی لائے اور قومی استحکام میں اپنا حصہ ڈالے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ قومی ترقی اور استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کو اپنی آئینی و قومی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ جب ہر ادارہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے گا تو پاکستان مزید مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا سکے گا۔

  • بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    رشتے خون سے نہیں، رویے سے بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں "بیٹی” اور "بہو” دو ایسے رشتے ہیں جنہیں اکثر ایک پلڑے میں تولا جاتا ہے، مگر دونوں کی جگہ، ذمہ داری اور احساس الگ ہے۔ فرق برا نہیں، بس سمجھنے کا ہے۔

    بیٹی گھر کی جان ہوتی ہے۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوتی ہے، پلتی ہے، اس کی ہنسی سے دیواریں گونجتی ہیں۔ ماں باپ کے لیے وہ امانت ہے۔ بیٹی سے توقع صرف محبت اور مان کی ہوتی ہے۔ غلطی کرے تو ماں سمجھاتی ہے، باپ ڈانٹ کر بھول جاتا ہے۔ اسے کھانا بنانا نہ آئے تو بھی "سیکھ جائے گی” کہا جاتا ہے۔ اس کی تعلیم، شوق، مرضی سب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی گھر چھوڑ کر جاتی ہے تو پورا گھر خالی لگتا ہے، مگر اس کی واپسی پر دروازے کھول دیے جاتے ہیں، حساب نہیں مانگا جاتا۔

    بہو دوسرے گھر سے آتی ہے۔ وہ اپنی ماں، اپنی عادتیں، اپنا بچپن چھوڑ کر ایک اجنبی گھر، اجنبی لوگوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرتی ہے۔ اس سے توقع ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ کھانا، صفائی، ساس سسر کی خدمت – سب اس کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ غلطی ہو جائے تو "پرائے گھر کی ہے” کہہ کر یاد دلا دیا جاتا ہے۔ اسے اپنا بننے کے لیے خود کوثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کی محبت کو بھی "فرض” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بہو جب ماں بنتی ہے تو بھی اسے "دوسروں کی امانت” سمجھا جاتا ہے۔

    فرق کی جڑ سوچ میں ہے۔ بیٹی کو ہم "اپنا” سمجھ کر پالتے ہیں، بہو کو "اپنانا” پڑتا ہے۔ بیٹی کی آزادی کو مان دیتے ہیں، بہو کی آزادی کو "بدتمیزی” سمجھ لیتے ہیں۔ بیٹی روٹھے تو مناتے ہیں، بہو روٹھے تو "نخرے” کہہ دیتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔ جس محبت، برداشت اور موقع کی توقع ہم اپنی بیٹی کے لیے رکھتے ہیں، وہی بہو کو دیں تو فرق خود بخود مٹ جائے گا۔ اور جس عزت، قربانی اور ذمہ داری کی امید ہم بہو سے رکھتے ہیں، وہی سلوک اگر ہم اپنی بیٹی کے سسرال والوں سے کریں تو رشتے مضبوط ہو جائیں۔

    نہ بیٹی کم ہے نہ بہو زیادہ۔ دونوں عورت ہیں، دونوں بیٹیاں ہیں۔ ایک نے گھر دیا، دوسری نے گھر سنبھالا۔ اگر ساس بہو کو بیٹی سمجھ لے اور بہو ساس کو ماں، تو "فرق” لفظ ہی ڈکشنری سے نکل جائے گا۔ رشتے تب ہی خوبصورت ہیں جب برابری ہو۔