Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرا ٹیسٹ ہرا کر سیریز 1-2سے جیت لی

    جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرا ٹیسٹ ہرا کر سیریز 1-2سے جیت لی

    جوہانسبرگ :جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرا ٹیسٹ ہرا کر سیریز 1-2سے جیت لی،اطلاعات کے مطابق جوہانسبرگ میں بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلا جانے والاتیسرا اورآخری ٹیسٹ جیت کر جنوبی افریقہ نے بھارت سے سیریز بھی جیت لی ہے ،

    کرکٹ کے میدان سے ملنے والی خبروں کے مطابق بھارت جنوبی افریقا میں ساتویں ٹیسٹ سیریز ہارا ہے، بھارت انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بعد جنوبی افریقا سے جنوبی افریقا میں ٹیسٹ سیریز نہ جیت سکا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے جنوبی افریقا نے دوسرے ٹیسٹ میں بھارت کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز برابر کر دی تھی

    جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پروٹیز کپتان ڈین ایلگر نے 96 رنز کی ناقابل شکست ‏اننگز کھیل کر ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کروایا۔

    دوسرے ٹیسٹ میچ کے ہیرو ایلگر نے بھارتی گیند بازوں کے سامنے جم کر بلے بازی کی اور 240 کے تعاقب میں چٹان کی طرح ‏کھڑے رہے۔پروٹیز نےبھارت کا 240 رنز کا ہدف صرف 3 وکٹوں پر حاصل کر لیا۔ وین ڈر ڈوسن 40، مارکرم 31 اور پیٹرسن 28 ‏بناکر نمایاں رہے۔

    بھارت کی جانب سے محمدشامی، شاردل ٹھاکر اور ایشون نے 1،1وکٹ حاصل کی۔ 3میچوں پرمشتمل سیریز1-1 ‏سے برابر ہو گئی تھی لیکن آج جنوبی افریقا نے تیسرے ٹیسٹ میں بھارت کوشکست دے کریہ سیریز جیت لی ہے اور ایک بار پھر جنوبی افریقا ہوم گراونڈ میں ناقابل شکست رہا ہے

  • ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہماری نوجوان نسلوں کا مستقبل !تحریر: علی مجاہد

    ہفتہ کی رات تھی اور ایک بہت بہترین پروگرام کا انعقاد کیا گیا (کراچی میڈیا کلب) کی جانب سے انہوں نے اس پروگرام کو نام دیا (Digital Media Summit 2022)
    اب دیکھا جائے تو یہ ایک بہت اہم ٹاپک ہے اس وقت ڈسکس کرنے کےلئے کیوں کہ اس وقت ہر کسی کہ ہاتھ میں سمارٹ موبائل فون آگئے ہیں پر ہمیں اس کا استعمال ٹھیک سے نہیں آیا اسی پروگرام میں ایک پینل اسپیکر نے موبائل کو Gun کا نام دیا پر میں کہتا ہوں یہ Gun سے زیادہ خطرناک ہے آپ اپنے فون کا کیمرہ آن کریں کسی کی بھی ویڈیو یا تصویر بنائے اور پوسٹ کر دیں کہ اس نے گستاخی کی آپ دیکھیں کتنے لوگ قتل ہو جائیں گی اس کو کہا جاتا ہے Fifth war Generation اب آپ کو پستول نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی بس آپکی ایک پوسٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ میں نے جس پروگرام کا زکر کیا اس کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہمارے پاس موبائل فونز تو آگئے پر ہم انکا صحیح استعمال کیسے کریں؟

    یہاں پر پروگرام کے مینجمنٹ نے ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے مختلف اسپیکر بلائے جن میں صحافی، پروگرامر، مشہور یوٹیوبر اور اسلام 360 کے Founder بھی موجود تھے تو وہاں ایک بات جو سب سے زیادہ ہوئی وہ یہ تھی کہ ہماری نوجوان نسل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کسی مشہور اچھے یوٹیوبر کو دیکھ لیا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کی ویڈیوز بناتا ہے اور اپلوڈ کرتا ہے تو اچھے کما بھی لیتا ہے چلو اب ہم کہتے ہیں کہ میں اس کی طرح کی ویڈیوز بنائوں پھر آپ کوئی اور یوٹیوب چینل دیکھتے ہیں یا پھر کسی Web Developer کو دیکھتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی کورس کریں اور پیسہ کمائیں ہمارے اسٹوڈنٹس پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں کامرس میں ڈپلومہ کر رہے ہوتے ہیں (Graphic Design) کا مطلب پڑھائی وہ کرتا اکائونٹن کی اور پھر مارکیٹ میں بیٹھ کر ڈیزائننگ کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنا ٹارگٹ کلیئر نہیں کرتے ڈگری ہماری کچھ اور کام کچھ اور، زائد چھیپا بانی Islam360 انہوں نے وہاں موجود اسٹوڈنٹس سے کہا کہ پروگرامنگ کریں بہت بڑا اسکوپ ہے آپ کو کسی کہ پاس جانے کی ضرورت نہیں لوگ آئیں گے آپکے پاس آپکی (CV) لینے۔

    اگر آپ آج عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری نوجوان نسل بربادی کی جانب بڑھ رہی ہے، کوئی نشے کی لت میں کوئی لڑکیوں کے چکر میں اپنی زندگی میں آگے جاکر کیا کرنا ہے کیا نہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں بس ایک بات آپ انکے منہ سے زیادہ سنیں گے اور وہ ہوگی یار کوئی اچھی نوکری مل جائے اچھی تنخواہ ہو یہ ہو وہ ہو۔ اب جب وقت ہے کچھ بننے کا کچھ کرنے کا تو ہماری آدھی سے زیادہ نوجوان نسل پیار میں ہیں کچھ محبت میں ہارے ہوئے نشے کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور جو کچھ بچے کچے ہیں وہ پب جی، ٹک ٹاک وغیرہ وغیرہ میں اپنا وقت اور اپنی صلاحیت دونوں برباد کر رہے ہیں، اب اگر ہم بات کریں کہ ہماری نسلیں اس طرف اتنی تیزی سے کیوں جا رہی ہے تو اس میں سب سے بڑی وجہ میں کہتا ہوں وہ ہمارے اسکول سسٹم کی ہے، ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ میٹرک پاس لڑکے آج آپکو مختلف سکولوں کے پرنسپل نظر آئیں گے، پھر ان سکولوں میں تعلیم کے نام پر ایک بہت بڑا بزنس چل رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی یونیورسٹی میں چلے جائیں وہاں آپکو ایسا ماحول ملے گا آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ کسی اسلامی جمہوریہ یا ایسے ملک کی یونیورسٹی میں جو بنا ہی لا اللّٰہ اللہ محمد رسول کی بنیاد پر ہے۔

  • منظر نامہ تبدیل ہونا شروع، تحریر: نوید شیخ

    منظر نامہ تبدیل ہونا شروع، تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے مارچ قریب آرہا ہے ۔ حالات ، واقعات اور منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ ویسے تو روز ہی قومی اسمبلی میں آجکل ہنگامہ ہورہا ہے ۔ آج بھی ہوا ۔ جس سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ حکومت دھونس اور زبردستی سے تو ایوان کو چلاسکتی ہے ۔ ویسے اب اسمبلی چلتی نہیں دیکھائی دیتی ۔

    ۔ پھر اس وقت پاکستان کو درپیش چیلنجز ایک طرف اور عمران خان ایک طرف ۔۔۔ ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں ۔ کہ بات دعاؤں سے بدعاؤں تک پہنچ چکی ہے ۔ بات منت سماجت سے گالم گلوچ تک پہنچ چکی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب بجلی اور دوسری جانب پیڑول کی قیمتیں بڑھا بڑھا کپتان نے عوام کو دن میں تارے دیکھا دیئے ہیں ۔ ۔ تو دوسری جانب اس وقت سیاسی محاذ خاصا گرم ہوچکا ہے کہیں ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں اور کہیں لانگ مارچ کے انتظامات جاری ہیں۔ حکومت اپنے لئے تین ماہ اہم قرار دے رہی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ایک دن بھی دینے کے لئے تیار نہیں ایسے میں نوازشریف کی نا اہلی ختم کرانے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے نے ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ ۔ اسی لیے تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کافی حیران کن ہیں۔ سات سال بعد فارنگ فنڈنگ کیس میں سکروٹنی رپورٹ کا سامنے آنا۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی واضح شکست، منی بجٹ منظور کرانے میں حد درجہ بڑھتی مشکلات، نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ، آصف علی زرداری کا متحرک ہونا۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کے فیصلے، ایسے عوامل ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ حالات نارمل نہیں۔ اس لیے لوگ بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے برے دنوں کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔؟

    ۔ میرے حساب سے ایک بار پھر عدالتی جنگ کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ اور کورٹ رپورٹرز کی چاندی ہونے والی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نوازشریف کی تاحیات نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں تو حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے شہباز شریف کی نا اہلی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ یعنی دونوں طرف شریف برادران ہیں، ایک طرف نا اہلی ختم کرانے کی کوشش ہے اور دوسری طرف نا اہل کرانے کی۔۔۔ ۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ اس حوالے سے بہت سے سازشی تھیوریاں مارکیٹ میں چل رہی ہیں کہ دونوں اطراف سے عدالتی جنگ کے لئے یہی وقت کیوں چنا گیا ہے۔ خاص طور پر نوازشریف کی تا حیات نا اہلی ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اب ہی کیوں متحرک ہوئی ہے۔ دیکھا جائے تو عام انتخابات ہونے میں تقریباً ڈیڑھ برس کا عرصہ رہ گیا ہے۔ حکومت نے مدت پوری نہ کی تو انتخابات پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نوازشریف کو تا حیات نا اہلی سے نکال کر انہیں اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ نکالی جا رہی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب ایک بار پھر لوگ ہواؤں کا رخ دیکھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کس طرف کو یہ رواں دواں ہیں ۔ کیونکہ چین ، سعودی عرب اور ترکی کی میاں صاحب کے لیے سفارشوں کی خبریں بھی بڑے زور و شور سے جاری ہیں ۔

    ۔ فی الحال نوازشریف کا معاملہ بہت زیادہ ہائی پروفائل بن چکا ہے۔ اس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی توجہ اس پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ کیونکہ نوازشریف کی نا اہلی اور سزا ختم ہو جاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا سیاسی دھماکہ ہوگا۔ مسلم لیگ ن کو پھر روکنا شاید ممکن نہ رہے۔ آج جو پرویز خٹک کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اور جو عثمان بزادر کے دیے گئے ڈنر سے تیس سے زائد ارکان غائب رہے ۔ تو کل پرویز خٹک کے بھانجوں جلال خٹک اور بلال خٹک نے پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے علاوہ بھی پی ٹی آئی والے دھڑا دھڑ پیپلز پارٹی ، جے یوآئی ف سمیت دیگر کی جانب بھاگے جا رہے ہیں ۔ یہ سب اس جانب اشارہ ہے کہ خوب اکھاڑ پچھاڑ چل رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خاص طور پر پنجاب میں الیکشن لڑنا اور جیتنا تقریباً ناممکن دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے ۔ ظاہر ہے حکومت اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ بار کی جانب سے نااہلی والی درخواست کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ دو فروری کو سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہوں گے۔ وہ اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے نوازشریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ احسن بھون نے اگرچہ یہ خواہش ظاہر کی ہے نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے والے بنچ میں عمر عطا بندیال شامل ہوں۔ تاہم یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔ احسن بھون نے اس کی سماعت کے لئے فل بنچ بنانے کی درخواست بھی کی ہے کیونکہ اس درخواست میں ایسے نکات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ سپریم کورٹ جب اس کیس کا فیصلہ دے گی تو یقیناً بہت سے وہ معاملات بھی واضح ہو جائیں گے جن کے بارے میں ابھی ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کسی شخص کو نمائندگی کے لئے تا حیات نا اہل قرار دینا آئین کی بنیادی روح اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اگر سپریم کورٹ کیس کی سماعت کے بعد اس نکتے کو مان لیتی ہے تو یہ ایک نئی تاریخ رقم ہو گی۔

    ۔ پر سوال ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہے؟ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا ہی فیصلہ پڑا ہے، جس پر نظرثانی کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں جہانگیر ترین بھی نا اہل قرار پائے اور ان کی نظر ثانی اپیل بھی خارج ہو گئی تھی۔ یقیناً یہ درخواست اگر سماعت کے لئے منظور ہو جاتی ہے تو ایک بہت اہم قانونی و آئینی نکتے کی وضاحت کا باعث بن جائے گی۔ درخواست کے حق میں فیصلہ آیا تو ملک کا سیاسی منظر نامہ ہی تبدیل ہو جائے گا اور اگر رد ہو گئی تو نواز شریف سمیت جہانگیر ترین کی سیاسی زندگی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ ابھی تو ن لیگی اس امید میں مبتلا ہیں کہ نوازشریف اہل ہو کر سیاست اور ملک میں واپس آئیں گے۔ اگر ان کی نا اہلی پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت ہو گئی تو تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ اس وقت حکومت اور کسی سے اتنی خوفزدہ نہیں جتنی نوازشریف سے ہے۔ وزراء یہ جانتے ہیں وہ نوازشریف کو کسی بھی قانون کے تحت پاکستان واپس نہیں لا سکتے مگر اس کے باوجود وہ تاثر یہی دیتے ہیں جیسے نوازشریف کو وطن واپس لانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہوں۔

    ۔ دوسری طرف حکومت شہباز شریف کو نا اہل کرانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہے۔ اگرچہ ماہرین قانون نے حکومت کی اس خواہش کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کیونکہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نوازشریف کو زبردستی ملک سے فرار نہیں کرایا تھا بلکہ وہ عدالت کے حکم اور حکومت کی دی گئی میڈیکل رپورٹوں کے بعد بیرون ملک روانہ ہوئے تھے۔ میرے خیال سے یہ صرف ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی یہ کیس جلد ختم ہونے والا نہیں، فیصلہ ہوتے ہوتے کئی برس بھی گزر سکتے ہیں۔ صاف لگ رہا ہے حکومت صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے ایک تیرسے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کے لئے وہ بہت سنجیدہ ہے اور دوسری طرف شہباز شریف کو ایک جھوٹا اور وعدہ خلاف شخص ثابت کرنا چاہتی ہے۔ پھر آج نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں چار روپے تیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے ۔ بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ ویسے ابھی عوام گزشتہ ماہ جو بجلی کے بل ملے تھے اس shock باہر نہیں نکلی ہے جو یہ نیا بم عوام پر پھوڑ دیا گیا ہے ۔

    ۔ پھر پیڑول کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول 150 روپے فی لیٹر ہونے کا خدشہ ہے۔ یونکہ آئل مارکیٹنگ ذرائع کا کہناہےکہ 16 جنوری سے پیٹرولیم قیمتیں 6 روپے لیٹر تک بڑھنے کا امکان ہے جس میں پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 6 روپے فی لیٹر تک جانے کا تخمینہ ہے۔ اس کے بعد کل جو اختر مینگل نے کہا تھا وہ بات یاد آجاتی ہے کہ اس حکومت صرف موت پر ٹیکس نہیں لگایا ۔ باقی تو انھوں نے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ یاد رکھیں ابھی منی بجٹ کے اثرات آنے ہیں ۔ اس کے بعد عوام کا کیا حال ہوگا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ دیکھا جائے تو آئی ایم ایف ماضی میں بھی یہ مطالبہ کرتا رہا مگر کسی نے غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ایسے فیصلے کئے جن کا فائدہ عوام کو نہیں صرف اشرافیہ کو پہنچا ۔ سچ یہ ہے کہ نئے پاکستان میں ہر نیا سال گذشتہ برس کی نسبت زیادہ مہنگا ثابت ہوا ہے ۔ ۔ آپ ان کی فنکاریاں دیکھیں کہ پنجاب میں ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو ختم کرکے عمران خان 400 ارب روپے سے انشورنس اور پرائیویٹ کلینکس کا کاروبار چمکانے جارہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں کسانوں کوکھاد کی قلت کا سامنا ہے کھاد افغانستان میں سمگل کی جا رہی ہے۔ آج عمران خان نے اس پر سخت نوٹس لے لیا ہے اور اب کسان مزید پریشان ہوگئے ہیں ۔ ۔ عمران خان تبدیلی کانعرہ لگاکر سیاست میں آئے تھے۔ دعویٰ ان کا یہ تھا کہ وہ اقتدار میں آکرملک کے لئے معاشی وسماجی حالات،سیاسی ماحول کو تبدیل کردیں گے۔ روزگار،خوشحالی اورانصاف کادوردورہ ہوگا۔اقتدار میں آنے کے بعد مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا ۔ تبدیلی مثبت کی بجائے منفی انداز میں رونما ہوئی۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    سری نگر:جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ۔راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔

    کشمیری قوم کا کہنا تھا کہ جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں دو بھارتی فوجی فائرنگ کے پراسرارواقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ کنٹرول لائن کے ساتھ راجوری کے علاقے Hanjanwaliمیں پیش آیا جس میں دو بھارتی فوجی زخمی ہو گئے بعدازاں و ہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں اس واقعے کو فوجیوں کی آپس میں فائرنگ کا نتیجہ قراردیاگیا ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے اسکولوں میں سوریہ نمسکارکرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مذمت،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدیدمخالفت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ آخر ہمیشہ مسلمان طلبہ کوہی یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک ہندو رسومات کی ادائیگی کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیاہے۔

    عمرعبداللہ نے ٹویٹ میں کہاکہ یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم طلبہ کو یہ سب کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ہندوئوںکاایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نا منانا ہرکسی کا نجی معاملہ ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جب غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں سکولوں میں کشمیری طلبہ کو سوریہ نمسکار کرانے کے حکمنامے کو کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی قراردیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری طلبہ اور اسٹاف کو زبردستی طورپر ہندو رسومات کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اس حکمنامے سے اس کی مذہبی انتہا پسندی ظاہرہوتی ہے ۔

    اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ سوریہ نمسکار، ایک قسم سے سورج کی پوجا ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میںبھارتی حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔

  • کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ قبضے کی جنگ ہے !تحریر : صیاب بیگ

    5 جنوری ایوان صدر اسلام آباد میں کشمیر یوتھ الائنس کی جانب سے 29 سال سے انڈیا میں قید حریت رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کی کتاب "بانگ” کی تقریب رونمائی کی گئی ۔جس میں صدر پاکستان ، کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار خان آفریدی، علی محمد خان ، دیگر ایم این ایز، ایم پی ایز، صحافی حضرات اور مجھ سمیت سینکڑوں کشمیری و پاکستانی نوجوانوں نے شرکت کی ۔ تقریب میں ڈاکٹر قاسم فکتو کے صاحبزادہ احمد بن قاسم نے مسلئہ کشمیر کو آسان الفاظ میں بیان کیا جس کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور پورا ایوان تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا اور احمد بن قاسم کا پورے ایوان نے کھڑے ہوکراستقبال کیا۔ احمد بن قاسم کا کہنا تھا کہ ” ہمارا مسلئہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مہم نہیں بھارتی جارحانہ قبضہ ہے ۔اگربھارت جارحانہ قبضہ ختم کر دے تو نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی اور نہ ہی کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہوں گی ۔ ”

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ ” میں وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیر پر کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو گی اور نہ کسی کو کرنے دیں گے اور وہ دن دور نہیں جب انڈیا میں پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرائے گا ۔” چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھی ایوان سے پر جوش خطاب کیا ۔ شہریار خان آفریدی کا ایک جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ” قانونی حربہ استعمال کر کے دنیا کے ہر فورم پر کشمیر کی آواز بلند کریں گے اگر قانون واقعی اندھا ہے اور مظلوم کی آواز کوئی نہیں سنے گا تو پھر غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے باہر نکلنا ہوگا، آزادی کیلئے معصوم ہاتھوں میں پتھر اٹھانے ہوں گے ، آزادی لینے کیلئے بندوق اٹھانی پڑےگی ، آزادی کے حصول کیلئے برہان وانی بننا پڑےگا اور آزادی لینے کیلئے کلمہ حق پڑھ کر جہاد کی راہ اختیار کرنی پڑےگی ۔” سینئر صحافی عمران ریاض خان نے بھی کشمیری ہونے کے ناطے اپنے آبائی وطن بانڈی پورہ جانے کا اظہار کیا اور ایوان میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگوائے اور پورا ایوان کشمیر کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو جو کہ گزشتہ 29 سال سے انڈیا کی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے حوصلے پست نہ کر سکے ، ان کی امید کو توڑ نہ سکے اور آزادی کی آواز کو بند نہ کر سکے ۔ بھارت نے اس آواز کو بند کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن آواز بند کرنے کی بجائے ڈاکٹر قاسم فکتو کی کئی آوازیں اب کشمیر کی آزادی کیلئے بلند ہو رہی ہیں جس کا ثبوت کشمیر یوتھ الائنس ہے ۔کشمیر یوتھ الائنس کا ہر نوجوان کشمیر کی آزادی کی آواز ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو کی طرح کئی حریت رہنما انڈین جیلو ں میں قید ہیں جو گمنامی کی زندگی بسر کر ہے ہیں ۔

    ڈاکٹر قاسم فکتو نے جیل میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے ایک کتاب ” بانگ” ہے ۔ جس میں سادہ اور آسان لفظوں میں مسلئہ کشمیر کو بیان کیاگیا ہے ۔ ڈاکٹر قاسم فکتو نے کشمیر سے متعلق بھارتی خفیہ منصوبوں کی نشاندہی کچھ اس طرح سے کی کہ : کشمیر کی ملت اسلامیہ کے خلاف سامراجی سازش کے تین بنیادی کردار ہیں۔موہن داس گاندھی اور پنڈت نہروجنہوں نے کشمیر پرقبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ماﺅنٹ بیٹن اور ریڈکلف جس نے جغرافیائی راستہ فراہم کیا اور ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ نے اس کے لئے سیاسی ماحول فراہم کیا۔ لکھتے ہیں کہ "بھارتی سرکار کے پاس مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کا ایک ہی آپشن ہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے ،اب اسی آپشن کے تحت بھارتی سرکار سرعت کے ساتھ کام کررہی ہے۔” بھارت سرکار کروڑوں بھارتی ہندوﺅں کے مذہبی جذبات کا سیاسی استحصال کرکے ان کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کشمیرہندﺅں کی اہم مذہبی جگہ ہے، اسطرح بھارتی سرکار کشمیر کو ہندﺅں کا مذہبی مسئلہ بنانا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر شہہ رگ ہے اور دوسری طرف اٹوٹ انگ لیکن کشمیریوں کی کسی کو پراہ نہیں ۔

  • اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    سائنس فکشن جیسی اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی،اس کار کو دیکھ کر آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ بیٹ مین کی گاڑی لگتی ہے اور اپنے جدید ترین ڈیزائن کی بنیاد پر رن وے کے بغیر سیدھا اوپر اٹھنے والے کار ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق برطانوی کمپنی بیل ویدر نےاسے بنایا ہےاوراس کی نصف جسامت (ہاف اسکیل) ماڈل نے ٹیسٹ فلائٹ میں متوقع نتائج دکھائے ہیں جس کی ویڈیو دیکھ کرآپ خود حیرت میں ڈوب جائیں گے۔ اسے وولر ای وی ٹی او ایل کا نام دیا گیا ہے ماہرین اسے ہائپرکار قرار دے رہے ہیں۔

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ماحول دوست، برق رفتار اور بے آواز وولر کارمکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی اور پرواز کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا اولین نمونہ نومبر 2021 میں تیارہوچکا تھا۔ بس کمپنی بہترموقع کی تلاش میں تھی اور اب اسے دبئی میں اڑا کر اس کی پہلی ویڈیو جاری کی گئی ہے-

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    آٹوموبائل تجزیہ کار ماہرین نے اس کی ڈیزائننگ، افادیت اور کارکردگی کو متاثرکن اور امید افزا قرار دیا ہے ویڈیو میں اسے اوپراٹھتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن یہ ہوا میں سیدھی رہنے کی بجائے ادھر ادھر ڈولتی دکھائی دیتی ہے اس خامی کو شاید اگلے مراحل میں دور کیا جائے گا۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    تکنیکی طور پر وولر ملٹی کاپٹر سواری ہے جس کے پنکھے اس کے ڈیزائن کے اندر چھپائے گئے ہیں۔ لیکن اس میں اضافی پروپلشن کا معلوم نہیں ہوسکا ہے تاہم ڈیزائن سے دو دونشستی اڑن کار ہے۔ لیکن کمپنی کے مطاق اگلے ڈیزائن میں چار سے پانچ افراد بیٹھ سکیں گے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد یہ ڈیڑھ گھنٹے تک پرواز کرسکے گی نظری طور پر یہ 135 (215 کلومیٹر) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لگ بھگ 3000 فٹ کی بلندی پر جاسکتی ہے۔

    کمپنی نے اس کی کوئی قیمت تو نہیں بتائی تاہم تجارتی تیاری 2028 میں شروع ہوجائے گی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

  • لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    جنوب مشرقی ایشیا کے ملک کمبوڈیا میں لوگوں کو زیر زمین نصب بارودی مواد سے بچانے والا چوہا 8 سال کی عمر میں چل بسا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کے خیراتی ادارے اپوپو کا تربیت یافتہ یہ چوہا اپنے ہینڈلرز کو مہلک بارودی سرنگوں سے آگاہ کرتا تھا تاکہ انہیں بحفاظت طریقے سے ہٹایا جا سکے مگاوا نامی خصوصی تربیت یافتہ چوہے نے اپنے پانچ سالہ شاندار کیریئر میں کمبوڈیا میں 100 سے زائد بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگایا۔

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر


    مگاوا، جو بارودی سرنگوں میں ایک کیمیائی مرکب کو سونگھ کر دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگاتا تھا، نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 41 ہزار مربع میٹر سے زیادہ زمین میں موجود بارودی سرنگوں کا پتہ لگایا جو کہ فٹ بال کے20 میدانوں کے برابر ہے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور38ایسےدھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکےمیگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سےادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کافریضہ سرانجام دیا۔

    انجیکشن سےخوفزدہ شہری کورونا سے ہلاک

    اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی


    خیراتی ادارے اپوپو نے بتایا کہ اس مادہ چوہے نے ’گذشتہ ہفتے کا زیادہ تر حصہ اپنے معمول کے جوش و خروش کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزارا‘ اور ہفتے کے آخر میں پر سکون انداز میں انتقال کر گیا ویک اینڈ تک مگاوا نے ’سست ہونا شروع کر دیا تھا، زیادہ سوتا تھا اور اپنے آخری دنوں میں کھانے میں دلچسپی بھی کم کر دی تھی ہم سب کو مگاوا کے جانے کا دکھ ہے اور ہم اس کے ناقابل یقین کام کے لیے شکر گزار ہیں۔‘


    انہوں نے چوہے کی ’سونگھنے کی حیرت انگیز حِس‘ کی تعریف کی جس کی وجہ سے ’کمبوڈیا میں لوگوں کو زندگی یا اعضا کھونے کے خوف کے بغیر رہنا، کام کرنا اور کھیلنا نصیب ہوا۔

    گذشتہ سال جون میں جب مگاوا ریٹائر ہوا تو اس کی ہینڈلر ملین نے کہا کہ یہ ’سست‘ ہو رہا ہے اور وہ ’اس کی ضروریات کا احترام‘ کرنا چاہتی ہیں مگاوا کی کارکردگی ناقابل شکست رہی ہے اور مجھے اس کے شانہ بشانہ کام کرنے پر فخر ہے وہ چھوٹا ہے لیکن اس نے بہت سی جانیں بچانے میں مدد کی ہے جس سے ہمیں انتہائی ضروری محفوظ زمین جلد از جلد اور کم لاگت سے اپنے لوگوں کو واپس کرنے کا موقع ملا ہے۔


    ملک میں 1998 میں ختم ہونےوالی تین دہائیوں کی خانہ جنگی کےدوران 60 لاکھ تک بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جنکی وجہ سےہزاروں افراد ہلاک ہوئےتنزانیہ میں پرورش پانے والے مگاوا کو کمبوڈیا میں بم تلاش کرنے سے پہلے ایک سال کی تربیت سے گزرنا پڑا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    چوہے کا وزن اور قد عام چوہوں کی نسبت قدرے زیادہ تھا مگر اس کے باوجود وہ زیر زمین دبائی گئی بارودی سرنگ کو محسوس نہیں ہوتا تھا افریقی جائنٹ پاؤچڈ ریٹ نسل کا چوہا مگاوا 70 سینٹی میٹر لمبا اور 1.2 کلوگرام وزنی تھا۔ وہ صرف 20 منٹ میں ٹینس کورٹ کے جتنے بڑے میدان کو کھوجنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس میں عام طور پر میٹل ڈیٹیکٹر سے لیس کسی شخص کو چار دن تک لگ جاتے تھے –

    دو سال قبل مگاوا کو برطانیہ میں جانورں کے فلاحی ادارے پی ڈی ایس اے نے ’کمبوڈیا میں مہلک بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے اور انہیں صاف کرنے میں مخلصانہ کام کرنے پر‘ گولڈ میڈل سے نوازا تھا ایوارڈ حاصل کرنے والے 30 جانوروں میں سے مگاوا یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا چوہا تھا۔

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    12 جنوری کو قائم ہونے والے اس ڈیجٹیل پلیٹ فارم کو آج دس سال ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی جس کا مرکزی دفتر لاہور میں ہے۔ اپنے اندر بے پناہ کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹیے ہوئے ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 195 ممالک میں اسکی نشریات دیکھی جاتی ہے اور یہ بذات خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔چینل بنانے کا مقصد معاشرے میں پھیلی بدعنوانی، جہالت، ظلم اور زیادتی کے خلاف موٴثر آواز اٹھانا تھاتاکہ ان مسائل سے معاشرے کو نکال کر نئی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔ اس چینل کے ذریعے برائیوں پر جہاں آواز اٹھائی جارہی ہے وہیں معاشرے میں موجود مظلوم، محکوم لوگوں کی اواز بن کر انکے مسائل بھی حل کیے جارہے ہیں۔باغی ٹی وی کی رپورٹس پر حکام بالا نے کئی دفعہ کاروائی کرکے مطلوبہ مسائل بھی حل کیے جسکی وجہ سے لوگوں میں اسکے حق میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔ اس چینل کے ذریعے پچھلے سال رمضان میں 24گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلا کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔

    اور یہ منفرد اعزاز باغی ٹی وی کے علاوہ کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے پاس نہیں ہے۔باغی ٹی وی کا ایک صوبائی دفتر کراچی میں بھی ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں خبریں اور تجزیے، تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں۔ باغی کی نشریات اس وقت چار بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہے زبانوں میں اردو کے علاوہ انگریزی، چینی، اور اب پشتو میں بھی نشریات ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسکے مزید پھیلاؤ کے لیے ہمسایہ ممالک میں انکی زبانوں میں نشریات پیش کرنے پر کام جاری ہے۔ اور ان شاء اللہ بہت جلد ہمسایہ ملک بھارت کے کونے کونے میں باغی ٹی وی کی گونج ہوگی۔ یوں تو باغی ٹی وی کی پہچان ما شاء اللہ 195 ممالک تک ہے اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار بھی ہورہا ہے۔لیکن اسکو اس مقام تک پہنچانے کے لیے اگر اس ہستی کا نام نا لیا جائے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔جسکی وجہ سے آج باغی ٹی وی اس مقام پر ہے۔ جی ہاں بات ہورہی ہےسنئیر جرنلسٹ، تجزیہ نگار مبشر لقمان صاحب کی جو اس وقت باغی کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی آیا اس، پلیٹ فارم پر جب بڑے میڈیا مالکان نے اپنے ملازمین کی نا صرف تنخواہیں ضبط کیں بلکہ نوکری سے بھی نکالا، ان حالات میں بھی مبشر لقمان نا صرف اپنے ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوئے بلکہ انہیں ہر طرح سے حوصلہ دیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف ویب چینلز پر عریاں تصاویر اور خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں جبکہ باغی ٹی وی پر اپ ایسا کچھ نہیں دیکھتے ہیں اس کی وجہ مبشر لقمان صاحب کا وہ نظریہ ہے کہ یہ چینل عوام کی اواز اور فلاح کے لیے ہے ناکہ عریانی کو فروغ دینے کے لیے۔

    ان دس سالوں میں جب بھی کوئی مشکل آئی تو باغی ٹی وی نے اگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا۔ کورونا کی مثال ہی لیجے جب یہ مشکل وقت چین سے شروع ہوا تب سے ہی باغی ٹی وی نے آگاہی کا کام شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ جب بہت سے ادارے مشکل کی لپیٹ میں اکر خاموشی طاری کر لی اس وقت بھی باغی ٹی وی اپنی منفرد انداز اور منیجمنٹ کے ساتھ قائم بھی رہا اور مسائل سے لڑتے ہوئے اگاہی بھی فراہم کرتا رہا۔ معاشرتی مسائل میں سگریٹ نوشی پر بہت کام کیا ہےاور باغی کے پلیٹ فارم سے بہت سیمنار ہوچکے ہیں اگاہی پروگرام اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مسائل پر نا صرف گہری نظر ہے بلکہ اسکے لیے کسی بھی پریشانی کو خاطر میں نالاتے ہوئے کام جاری رکھا ۔ جس کی وجہ سے کئی بار مشکلات بھی پیش آئیں لیکن عزم و استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس پلیٹ سے جب کشمیر کے مظلوم لوگوں کی اواز دنیا تک پہنچائی گئی تو اکاؤنٹ پر انتظامیہ کی جانب کی سے دباؤ بھی بڑھا لیکن دباؤ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے کام جاری رکھا۔ اس پلیٹ فارم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نئے لکھنے والوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے خیالات الفاظ کے زریعے یا زبان کے زریعے عام لوگوں تک پہنچائیں۔اس پلیٹ فارم کے زریعے بہت بہترین لکھنے والوں کو موقع ملا اور آج سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں پہچان دی ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس میں کام کرنے والوں کا جذبہ ہے جو اس میں جان ڈال دیتا ہے۔اس وقت یہ ادارہ ایک منظم اور مربوط جڑیں لیے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ آئیے دعا کرتے ہیں اپنے ادارے کے لیے کہ یہ یونہی کام کرتا رہے محنت سے لگن سے اور دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae