Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    قومی اسمبلی میں ای وی ایم بل کی منظوری : تحریر سید محمد مدنی

    تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی کچھ اہم بلوں کی منظوری آخر ہو ہی گئی جس میں ایک بل سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق تھا. اپوزیشن آخری وقت تک اس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ لوگوں نے خاموشی اور نام نہ ظاہرکرنےکے عیوض ووٹ دیا. موجودہ حکومت پہلے دن سے یہی کہتی آئی ہے کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین صرف ہمارا فائدہ ہی نہیں بلکہ پاکستان ممکی تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے اس سے الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہوگا وقت بھی بچے گا اور سب سے اہم دھاندلی کی بات اور بحث کرنے والے لوگ بھی اطمینان کا اظہار کریں گے اعتماد ہوگا انھیں یہی نہیں بلکہ قیمتی وقت بھی بچے گا اقر چند ہی گھنٹوں میں نتائج سب کے سامنے ہوں گے.

    مگر اپوزیشن کا رویہ اتنا اچھا نہیں دیکھا گیا اپوزیشن اس کے سخت خلاف ہے ساری چیزوں پر غور کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کے اپوزیشن اس بل پر حامی اس لئے نہیں بھرتی کہ پھر ان کے ووٹ جو یہ خریدتے ہیں وہ نہیں پڑ سکیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ سمندرپار پاکستانی وزیراعظم عمران خان پر ان کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے مکمل بھروسہ کرتے ہیں.
    دیکھا جائے تو ایک دون دن پہلے ن لیگ کے رہنما این اے ١٣٣ کے لئے ووٹرز کو قرآن پر حلف اور پیسے دیتے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے مگر اب واضح تو ہو ہی گیا کے ن لیگ یا اپوزیشن کیوں اتنا خلاف ہے ای وی ایم کے.

    ن لیگ نے ہر چیز جو پیسے اے خریدنے کی کوشش کی ہے اور یہی طرز سیاست بھی رہا ہے اس سیاسی جماعت کا. یہ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ای وی ایم سے جبکہ وفاقی وزیر ٹیکنالاجی شبلی فراز نے تو چیلنج بھی کیا کہ اس مشین کو ہیک کر کے دکھائیے دس لاکھ کا انعام حکومت خود دے گی چلیے تھوڑی سی دیر کے لئے مان لیا کے اس مشین میں نقائص ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں اس کے لئے اچھی تجاویز کیوں نہیں دیتی کیوں نہیں اس پر بات کرتے؟
    کچھ مہینوں پہلے ن لیگ کے احسن اقبال نے مخالفت میں آکر سمندر پار پاکستانیوں کی تضحیک بھی کی چلیں یہ بھی مان لیا کہ وہ درست مگر یہ بتائیے کے ن لیگ کی سوشل میڈیا سیل سے سمندر پار پاکستانیوں کی جو تضحیک کی گئی کیا اس کا اندازہ ہے انھیں.

    ساری اپوزیشن خاص کر ن لیگ نفرت میں بہت آگے نکل چکی ہے یہ بھی سنا گیا کہ کچھ ن لیگی اراکین نے قومی اسمبلی میں یہ گارنٹی دی کہ ہم ان بلز اور اس بل کے ساتھ ہیں بس ہمارا نام سامنے نہ آئے اب زرا بتائیے کہ نوااز شریف یا مریم نواز وہ بیانیہ لے کے چلتے ہیں جو کسی کو بھی منظور نہیں ویسے بھی ریاست مخالف بیانیہ رو کسی کو بھی منظور نہیں ہو سکتا سوائے ملک دشمن عناصر کے.
    شہبازشریف کامی باڈی لینگویج قدرے نرم نظر آئی اور یہ سب جانتے ہیں کے شہبازشریف نوازشریف والا بیانیہ نہیں لے کر چلتے.
    الیکٹرانک ووٹنگ سے مشین ست جو فوائد حاصل ہوں گے ہمیں اس کا اندازہ نہیں اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ڈسکس کیوں نہیں کرتی اگر کرتی بھی ہے تو نقائص کے ساتھ اسکا دیر پا حل بھی تو بتائے نا لیکن اس پر آکر خاموش ہوجاتی ہے آخر کیوں؟
    اگر آج آپ پاکستان کے لئے ایک نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے سیاست صرف اقتدار یا دولت کی خاطر کیوں کیوں اتنا بے چین ہے اپوزیشن اور اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بڑھ کر سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ہم ٹیکل کر لیں گے جھوٹ یا بہانے بنا کر یہ درست نہیں اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو پھر نئے قوانین بنوانے میں مدد کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کئے جا سکیں
    دعا ہے کے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرے آمین.

    @M1Pak

  • ناکام ترین تبدیلی  سرکار، تحریر: نوید شیخ

    ناکام ترین تبدیلی سرکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی سرکار حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ اس ناکام تجربہ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کی معیشت زمین بوس ہے تو گوورننس زندہ درگور ہو چکی ہے۔ عوام کا نظام قانون پر اعتبار اٹھ چکا ہے ۔ کیونکہ ہر طاقت ور اس دور میں اپنی عدالت خود لگا کر بیٹھا ہوا ہے ۔ ۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ دیوالیہ ہوگیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریریں سنیں تو لگتا ہے زمین پر کھڑے ہو کر مریخ کی مخلوق سے مخاطب ہیں۔ دعوے ان کے یہ ہیں کہ غریب آدمی اوپر جا رہا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ غریب آدمی واقعی ہی اوپر جا رہا ہے ۔ بھوک سے مر کر ۔۔۔ حقائق یہ ہیں کہ امیر مقروض ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے تین سال تو بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو نہیں ملے ۔ عمران خان کو جو حمایت میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ سے ملی وہ کسی کو نصیب نہیں ہوئی ۔ ۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیئں کہ وزیر اعظم کے دورہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کارڈ کی لانچنگ کی خبروں پر الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا گیا جس میں انہیں دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ یونین کونسلز میں داخلے پر پابندی ہے ۔ کیونکہ بلدیاتی الیکشن کی تاریخ طے ہونے کے بعد کسی منصوبے کا افتتاح نہیں ہوسکتا ۔

    ۔ پر وہ کپتان ہی کیا جو کسی ضابطہ اخلاق ، آئین یا قانون کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ یہ بھاشن جتنے مرضی جھاڑیں پر ان کا ہر کام غیر قانونی اور غیر آئینی ہی ہوتا ہے ۔ آج بڑے دھڑلے سے عمران خان پشاور گئے ہیں اور حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ۔ احساس راشن کارڈ ، صحت کارڈ ، پاکستان میں پیڑول سستا ہے ۔ ہم نے یہ کر دیا ہے ، ہم نے وہ کردیا ہے ۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنا دیا ہے ۔ پاکستان دنیا میں سستا ترین ملک ہے۔ کہہ کر چلے گئے ۔ اور بتا دیا کہ الیکشن کمیشن اور اسکے خط کی حیثیت اور اوقات ان کی نظر میں کیا ہے ۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے جو دھونس اور دھاندلی ان کے وزیر کر رہے ہیں الامان الحفیظ ۔۔۔ چند روز پہلے جو علی امین گنڈا پور نے اپنے بھائی فیصل امین کی کمپین کے دوران تڑیاں لگائی ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ۔ موجودہ حکومت کی آئینی مدت میں ابھی 20 ماہ کا طویل عرصہ باقی رہتا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ اس حکومت نے یہ مزید وقت گزار لیا تو پتہ نہیں پاکستان کا کیا بنے گا ۔۔ دیکھا جائے تو پاکستان کے آئین کے مطابق حکومت کا دورانیہ پانچ سال ہے۔ لیکن آئین میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ اگر کوئی حکومت آ جائے تو پانچ سال پتھر پر لکیر ہیں۔۔ اب سننے میں آیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق پنجاب اور وفاق میں ان ہاؤس تبدیلی کا مشن لے کر نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن پہنچ چکے ہیں ۔ندن میں ایاز صادق نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور ان ہاؤس تبدیلی کیلئے انہیں قائل کریں گے ۔ ۔ ایاز صادق دراصل پیپلزپارٹی کے سید خورشاہ کے فارمولے کے خدوخال سے نواز شریف کو آگاہ کریں گے ۔ پھر ان ہاوس تبدیلی سے متعلق پیپلزپارٹی سے ہونے والے رابطوں کا ذکر بھی کریں گے ۔ ۔ ساتھ ہی ایاز صادق پاکستان تحریک انصاف کے 25 سے زائد ناراض ارکان اسمبلی کی فہرست بھی ن لیگی قائد کے حوالے کریں گے ۔ پارٹی قائد کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر ناراض ارکان کو اپنے ساتھ ملایا جائے گا۔ بدلے میں ناراض حکومتی ارکان اگلا انتخاب مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے ۔

    ۔ یوں اگر نواز شریف قائل ہوگئے تو پھر ن لیگ پیپلزپارٹی سے مل کر ان ہاؤس تبدیلی کی تیاری کرے گی ۔ ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سکیم کامیاب ہوگی کہ نہیں ۔ میں بس یہ یاد کروادوں کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور اپنی ہی حکومت پر خوب گرج بھی رہے ہیں اور برس بھی رہے ہیں ۔ اس لیے اس میں تو کوئی ابہام نہیں ہے کہ بہت سے پی ٹی آئی والے پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ اگلا الیکشن اس کارکردگی کے ساتھ لڑنا انتہائی مشکل ہوگا ۔ ۔ ویسے لندن سے جو چوہا رپورٹیں آرہی ہیں ان کے مطابق اپوزیشن نے حکومت کو پارلیمنٹ کےاندرٹف ٹائم دینے کاارادہ کر لیا ہے۔ نوازشریف نے اِن ہاوس تبدیلی کے لیے گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔ نوازشریف نے مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کو آن بورڈ لانے کا ٹاسک بھی سونپ دیا ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت جو پہلے تحریک عدم اعتماد پر قائل نہیں تھی۔ اب تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کر رہی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جب دو ہفتے پہلے شہباز شریف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے؟ توانہوں نے جواب دیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ ابھی بتایا یہ جا رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے مرحلہ وار تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا ہے ۔ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ اِن ہاوس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے جس میں پہلے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک لائی جائے گی۔ پھر پنجاب اور آخر میں وفاق میں اگر کپتان نے وقت سے پہلے الیکشن کا اعلان نہ کیا تو ۔۔۔ ۔ فی الحال حالات کا تقاضا ہے کہ اس وقت پاکستان کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس پر بیرونی دنیا اور اپنے عوام بھی بھروسہ کریں۔ کوئی لاکھ اختلاف کرے مگر اس وقت عوام نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ یاد کررہے ہیں۔ بدقسمتی سمجھیں یا خوش قسمتی مگر یہی حقائق ہیں۔ ۔ اب اگر اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے معاملہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو شاید کوئی بہتری آ سکے ورنہ قیمہ والی مشین میں گوشت ڈال ہی دیا گیا ہے۔ اس کا ثابت نکلنا ممکن نہیں۔

    ۔ آپ خود دیکھ لیں این اے 133 لاہور میں پیپلز پارٹی نے 34000 ووٹ لیے ہیں۔ اتنے لوگ اب عمران خان لاہور میں کسی جلسے میں اکٹھے نہیں کر سکتے۔ اسی رزلٹ کو دیکھتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے پنجاب میں پوری قوت کے ساتھ بلدیاتی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ اور لاہور سمیت پورے پنجاب میں پارٹی کو مضبوط کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1979
    کی طرح لاہورکے بلدیاتی الیکشن میں کلین سوئپ کریں گے۔۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب پی ٹی آئی بڑے جلسے نہیں کرسکتی ۔ کہ ابھی دو دن پہلے اسلام آباد میں کامیاب جوان کے ڈرامے کو کامیاب بنانے کے لیے جس طرح سرکاری تعلیمی اداروں سے طلبہ و طالبات کو جبری لایا گیا وہ بھی سامنے ہے ۔ جو سرکاری نوٹیفیکشن اور ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جس میں طلبہ نعرے لگا رہے ہیں۔ گلی گلی میں شور ہے ۔ عمران خان چور ہے ۔ اس کے بعد کچھ باقی رہ جاتا ہے ۔ ان میں شرم ہوتی تو ڈوب مرتے ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی پارٹی اور عمران خان ہیں جو ن لیگ کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ پٹواریوں کی مدد سے یہ جلسے کرتے ہیں ۔ میں آپکو بتاوں ایک نالائق اور نااہل حکومت کو کسی بھی وقت آئینی طریقہ سے گھر بھیجا جا سکتا ہے اور یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے ۔ یہ سب آئین پاکستان میں لکھا ہے ۔ تو اگر اپوزیشن آئینی طریقہ سے تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ تو اس نااہل اور نکمی حکومت سے عوام کو چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ باقی جو اس تبدیلی سرکار نے ملک کا بیڑہ غرق کرنا تھا وہ یہ کر چکے ہیں ۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ مڈل کلاس ختم ہو گئی ہے ۔ مڈل کلاس غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی۔ غریب فقیر ہوگئے ہیں اور فقیر مجرم ۔ ۔ کل جو جو کچھ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوا ہے۔ اس کے بعد کوئی شک رہ گیا ہے کہ پاکستان مالی، معاشی، روایتی، سماجی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو گیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک تک اب حکومت کا نہیں رہا ۔ میری نظر میں بیرونی قرضوں کے نیچے دبی ہوئی قوم تین ماہ سے زیادہ ان حالات کا سامنا نہیں کر پائے گی۔ ۔ حکمرانوں کی زبان پر دنیا کو بھروسہ ہے نہ پاکستانیوں کو ۔۔۔ یاد رکھیں دنیا زبان و بیان کے بھروسے پر چلا کرتی ہے۔ اداکاری اور جھوٹ سے نہیں۔ ۔ دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو ماضی کی کرپٹ حکومتوں کا حصہ تھے اور دوسرے وہ جو بالکل نا تجربہ کار تھے لیکن گز گزلمبی زبانیں رکھتے ہیں ۔ ماضی میں 18 وفاقی وزارتیں رکھنے کی دعویدار تحریک انصاف کی قیادت نے تقریباً 60اہم عہدے اور وزارتیں اپنی پارٹی والوں کو دے رکھی ہیں اور اندرون ملک ہی نہیں باہر سے آنے والے اپنے دوستوں کو بھی اہم عہدے دے رکھے ہیں جن پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

    اب اس ناکام تجربہ کو ساڑھے تین سال گذر چکے ہیں اور نا تجربہ کاری اور نا اہلی کی وجہ سے اس حکومت نے ملک کی کشتی ایک ایسے بھنور میں پھنسا دی ہے۔ کہ اس دلدل سے نکلنا اب ناممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ ۔ اس لیے لوگوں کا ہر سروے ہر جگہ ایک ایک ہی مطالبہ ہے کہ کسی طرح ہماری اس تبدیلی سے جان چھڑوائی جائے ۔

  • گوگل رپورٹ 2021: پاکستانی قوم کرکٹ کے جنون میں مبتلا رہی،انتہائی سرچ کئے جانے والے کھلاڑی اور کھیل

    گوگل رپورٹ 2021: پاکستانی قوم کرکٹ کے جنون میں مبتلا رہی،انتہائی سرچ کئے جانے والے کھلاڑی اور کھیل

    گوگل نے 2021 کے دوران پاکستان میں مقبول ترین کھیلوں کی کیٹیگری کی سرچز کی فہرست جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : گوگل کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں 2021 کے دوران ٹریفک میں انتہائی بلند پیش رفت نظر آئی گوگل کی فہرست میں جہاں موویز، ڈراموں اور اینیمیٹڈ فلموں کی وسیع کیٹگریز شامل ہیں وہیں کھیلوں کی کیٹیگری کی فہرست بھی جاری کی گئی-

    اس سال پوری قوم کرکٹ کے جنون میں مبتلا رہی اور یہ کھیل گوگل سرچزکے نتائج پر چھایا رہا۔

    2021 کے لیے ٹاپ سرچز میں جنوبی افریقا اور انگلینڈکے ساتھ پاکستان کی کرکٹ سیریز شامل تھیں جن کے بعد آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ اور پاکستان سپر لیگ چھائے رہے۔

    پاکستان میں کی گئی مقبول ترین سرچز:

    1۔پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقا

    2۔ پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز

    3۔ پاکستان سپر لیگ

    4۔ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ

    5۔ ٹی 20 ورلڈکپ

    6۔ پاکستان بمقابلہ زمبابوے

    7۔ بھارت بمقابلہ انگلینڈ

    8۔ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ

    9۔ پاکستان بمقابلہ نیو زی لینڈ

    10۔ پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

    گوگل کی فہرست میں انتہائی سرچ کیے جانے والے کھلاڑیوں میں تجربہ کار کرکٹر شعیب ملک ٹا پ پر رہے۔

    اس سال کرکٹ چونکہ پاکستان میں انتہائی مقبول کھیل رہا، جارحانہ بلے باز آصف علی اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے فخر زمان نے سرچ انجن کی ٹاپ کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی جب کہ دیگر پاکستانی کھلاڑی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

    مقبول ترین ایتھلیٹس کی فہرست میں:

    1۔ شعیب ملک

    2۔ آصف علی

    3۔ فخر زمان

    4۔ شاہین آفریدی

    5۔ حسن علی

    6۔ محمد رضوان

    7۔ شاداب خان

    8۔ عابد علی

    9۔ دانش عزیز

    10۔ حارث رؤف

  • اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام،سبھی مخلوقات حتی کہ کفار، معاھدین، اھل ذمہ اور اقلیت کے لیے دین امن ہے

    بقلم : عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
    وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي
    وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
    آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا
    مائدہ 3

    اسلام کا مادہ س ل م ہے جس کا مطلب ہے سر تسلیم خم کردینا، امن و آشتی کی طرف رہنمائی کرنا اور تحفظ اور صلح کو قائم کرنا۔
    اسی سے السلامۃ تحفظ، سلامتی ہے
    اور اسی سے السَلم صلح امن ہے
    اسلام تحفظ، بچاؤ اور امن کا مذہب ہے

    (وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي) سے معلوم ہوا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے
    نعمت کیا ہوتی ہے ❓
    جو خوشیاں لائے
    فرحت کا سبب بنے
    آنکھوں کو ٹھنڈا کرے
    اور
    امن و محبت فراہم کرے

    *معاشرتی امن کے لئے اسلام کی تعلیمات*

    اسلام فساد فی الارض کی مذمت کرتا ہے
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
    اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلاؤ
    الأعراف : 56

    اور فرمایا
    وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
    اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
    القصص : 77

    *اسلام ظلم کی مذمت کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم وتنگ نظری سے بچنے کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامة
    ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کی بدترین تاریکیوں کا ایک حصہ ہے،
    (مسلم: حدیث نمبر۲۵۷۸)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کا حاکم مقرر کیا تو فرمایا اے معاذ آپ اہل کتاب قوم کے پاس جا رہے ہیں
    اور فرمایا
    فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
    لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا
    بخاري 1425

    *اسلام رحم کی ترغیب دیتا ہے*

    حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ
    (بخاری: حدیث نمبر 6941)
    ”اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“

    بقول شاعر
    کرو مہربانی تم اہل زمین پر
    خدامہرباں ہوگاعرش بریں پر

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ
    مسلم 1828
    اے اللہ جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر مشقت کرے تو تو بھی اس پر مشقت کر اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر

    *اسلام کا غریبوں پر رحم*

    *اسلام نے اپنی انکم کا آٹھواں حصہ فقراء و مساکین کے لیے وقف کر دیا*

    زکوۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
    إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 60

    * اسلام میں خوش اخلاقی کی ترغیب*

    ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
    مسلم 2626
    کسی بھی نیکی کو حقیر نہیں سمجھو اگرچہ آپ اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ کیوں نہ ملو

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اکثر ما یدخل الجنۃ تقوی اللہ وحسن الخلق
    لوگوں کو جنت میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوی اور اچھا اخلاق داخل کرے گا

    عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا
    يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ
    اے اللہ کے رسول سے افضل اسلام کون سا ہے
    تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
    جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
    مسند احمد 6714

    *اسلام لوگوں کی دل آزاری کا کس قدر مخالف ہے*

    * اگر دو آدمیوں کی سرگوشی سے تیسرے آدمی کی دل آزاری کا خدشہ ہے تو اسلام ایسی سرگوشی پر پابندی لگاتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ” إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ ؛ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ ”
    (صحيح البخاري | كِتَابٌ : الِاسْتِئْذَانُ | بَابٌ : إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَلَا بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ)
    جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ اس لئے کہ یہ بات اس کو غم میں ڈالے گی

    *لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے پیاز کھا کر مسجد آنا ممنوع قرار دیا*

    جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

    مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ
    مسلم 564
    جو اس بدبو دار درخت سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے تکلیف محسوس کرتے ہیں اس چیز سے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں

    *راستے کے حقوق*

    *راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کا حصہ ہے*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ ]
    [ مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان… : ۳۵ ]
    ’’ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔‘‘

    *اسلام راستوں اور گزرگاہوں کی حفاظت کرتا ہے*

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ فَقَالُوا مَا لَنَا بُدٌّ إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بابُ أَفْنِيَةِ الدُّورِ وَالجُلُوسِ فِيهَا، وَالجُلُوسِ عَلَى الصُّعُدَاتِ2465)
    راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبور ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاءدینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔

    *راستے میں پیشاپ کرنا منع ہے*

    سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ قَالُوا وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ

    (ابوداؤد، كِتَابُ الطَّهَارَةِ،بابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ الْبَوْلِ فِيهَا،25)
    ” لعنت کے دو کاموں سے بچو ۔ “ صحابہ کرام ؓم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ کون سے دو کام ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں پاخانہ کرتا ہے ۔ “

    *راستہ تنگ کرنے والے کا جہاد نہیں*

    سیدنا معاذ بن انس جہنی ؓ روایت کرتے ہیں کہ فلاں فلاں غزوے میں ، میں اللہ کے نبی ﷺ کے ہمرکاب تھا تو لوگوں نے منزلوں پر پڑاؤ کرنے اور خیمے وغیرہ لگانے میں بہت تنگی کا مظاہرہ کیا کہ راستہ بھی نہ چھوڑا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ایک منادی بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا :
    أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ
    (ابو داؤد، كِتَابُ الْجِهَادِ، بابُ مَا يُؤْمَرُ مِنْ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسَعَتِهِ،2629)
    ” جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ کاٹے تو اس کا جہاد نہیں ۔ “

    *اسلام قتل کی مذمت کرتا ہے*

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ
    رواه البخاري ومسلم (1678)
    لوگوں کے درمیان قیامت کے دن سب سے پہلے خون (قتل) کا حساب ہوگا

    *اسلام میں کسی ایک انسان کا قتل سب انسانوں کے قتل کے برابر ہے*

    فرمایا
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
    جس نے ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے) بغیر، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی
    المائدة : 32

    *اسلام بچوں کے قتل سے منع کرتا ہے*

    اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ بچوں کا قتل بہت بڑا گناہ ہے اور یہ کہ قیامت کے دن چائلڈ کرائمز پر سپیشل عدالت لگے کی تاکہ بچوں کے قتل کی روک تھام کی جائے

    فرمایا
    وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
    اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
    التكوير : 8
    بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
    کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
    التكوير : 9

    اور فرمایا
    وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
    اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
    الإسراء : 31

    *ایک بچی کے قتل پر پیغمبرِاسلام کی بے چینی*

    سیدنا انس (رض) فرماتے
    أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
    (مسلم۔ کتاب القسامہ۔ باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر)
    (بخاری۔ 2282،کتاب الدیات۔ باب سوال القاتل حتی یقرو الاقرار فی الحد۔ باب اقاد بحجر)

    ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے ہوئے تھی۔ محض زیور حاصل کرنے کے لیے سر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ کس نے اس کا سر کچلا ؟ فلاں نے یا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ جب قاتل یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے بتایا ہاں وہ یہودی نبی اکرم کے پاس لایا گیا۔ اس نے جرم کا اقرار کرلیا تو آپ نے بھی دو پتھروں کے درمیان اس کا سر رکھ کر کچلوا دیا۔

    *اسلام نے تعلیم دی ہے کہ محض ارادءِ قتل ہی جہنم میں جانے کے لیے کافی ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
    مسلم 2564
    آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیرخیال کرے

    سیدنا ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ
    (بخاری،(6481) کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا )
    جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔

    سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ
    مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ
    وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ
    وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ
    (بخاری، (6488)کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق)

    تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہوگا۔
    (1) حرم میں الحاد کرنے والا
    (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی
    (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔

    *مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کرنا بھی منع ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ
    مسلم 2616
    جس نے اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کیا تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک وہ اس اشارے سے رک جائے اگرچہ جس کی طرف اشارہ کررہا ہے وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو

    *مختلف حکومتوں نے معاشرتی امن قائم رکھنے اور قتل و غارت سے بچنے کے لیے اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے لیے لائسنس سسٹم لاگو کر رکھا ہےحالانکہ کئی ایسے آلات لفظ اسلحہ کے دائرے سے باہر ہیں کہ جن سے ایک انسان کو قتل کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان کو قتل کرنے کے لیے ایک دو انچ کا لوہا بھی کافی ہوتا ہےجبکہ اسلام نے اسلحہ کے ساتھ ساتھ لفظ حدید( یعنی لوہے) کا لفظ بول کر کسی بھی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی اور مستزاد یہ کہ ارادہءِ قتل پر بھی جہنم کی وعید سنا دی*

    فرمایا
    لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ
    تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم ممکن ہے کہ شیطان اس کا ہاتھ پھسلا دے تو وہ اس کی وجہ سے جہنم کے گھڑے میں جا گرے
    بخاري 6661

    مزید فرمایا
    مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
    جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں
    بخاري 6480

    *اسلام جانوروں پر شفقت کی تعلیم دیتا ہے*

    *انسان تو پھر انسان ھے کسی جانور کو ناحق قتل کرنے پر بھی جہنم کی ہولناکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
    ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے بلی کو باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوکی پیاسی مر گئی تو وہ عورت اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی کیونکہ نہ اس نے اسے کھانہ کھلایا نہ پانی پلایا اور نہ ہی آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کےجانوروں میں سے کچھ کھا پی لے
    بخاری 3295

    فتح الباری میں لکھا ہے
    ثبت النهي عن قتل البهيمة بغير حق والوعيد في ذلك ، فكيف بقتل الآدمي ، فكيف بالتقي الصالح
    جب کسی جانور کو ناجائز قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اور اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو کسی عام آدمی کے قتل کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے اور کسی نیک آدمی کے قتل کی سنگینی کتنی زیادہ ہو گی
    فتح الباری

    *جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا*

    صحابہ فرماتے ہیں
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنْ الْبَهَائِمِ
    مسند احمد 5830
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ اسے جانوروں سے چھپایا جائے

    *جانور ذبح کرنے میں نرمی اور احسان کا حکم*

    شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا:
    إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

    (سنن نسائی،کتاب: قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ، باب: چاقو چھری تیز کرنے سے متعلق، حدیث نمبر: 4410)

    اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے

    *اسلام نے جانور کے چہرے پر داغنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا*

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ
    مسلم 2117
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغا گیا تھا
    تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی لعنت کرے اس شخص پر جس نے اسے داغا ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
    لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ
    بخاري 5196
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی جو کسی حیوان کا مثلہ کرے

    *اسلام نے جانور کو نشانہ بازی کیلئے ٹارگٹ بنانے سے منع کیا*

    سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا
    بخاري 5196
    میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا وہ چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا تھا وہ اس پر تیر اندازی کر رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کر بھاگ نکلے تو عمر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کام کس نے کیا ہے
    بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے

    *پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخشش*

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»
    (بخاري، كتَابُ الوُضُوءِ، بَابٌ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا،173)
    کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    «أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا»
    (مسلم كِتَابُ السَّلَام، باب فَضْلِ سَقْيِ الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا،5860)

    ” ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گردچکر لگا رہا تھا ۔پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکا لی ہو ئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارہ(اور اس کے ذریعے پانی نکا ل کر اس کتے کو پلایا ) تو اس کو بخش دیا گیا ۔”

    *اسلام اور آداب جنگ*

    آج مغربی میڈیا کی چکاچوند میں کھوئے ہوئے اور اسلام مخالف پروپیگنڈے کا شکار بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک دہشت گرد، جنونی اور جنگجو مذہب ہے جب کہ اگر اسلام کی جنگی تعلیمات اور جنگی آداب پر غور کیا جائے تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے

    *لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں*

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے لشکر کو اور اس کے امیر کو نصیحت کی
    فرمایا
    وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ
    میں آپ کو دس چیزوں کی نصیحت کرتا ہوں
    لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً
    کسی عورت کو قتل نہیں کرنا
    وَلَا صَبِيًّا
    نہ ہی کسی بچے کو
    وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا
    نہ ہی کسی بوڑھے کو
    وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا
    کوئی پھل دار درخت نہیں کاٹنا
    وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا
    کسی آباد علاقے کو ویران نہیں کرنا
    وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ
    کھانے کی ضرورت کے علاوہ کسی اونٹ یا بکری کو ذبح نہیں کرنا
    وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا
    کھجور کا کوئی درخت نہیں جلانا
    وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ
    کسی کو پانی میں نہیں ڈبونا
    وَلَا تَغْلُلْ
    خیانت نہیں کرنا
    وَلَا تَجْبُنْ
    بزدلی نہیں دکھانا
    موطا امام مالک

    *عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
    وُجِدَتْ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
    بخاری 2852
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی جنگ میں ایک مقتول عورت پائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا

    *مزدوروں کو قتل کرنے کی ممانعت*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے موقع پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا
    لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا
    ابوداؤد 2669
    کسی عورت یا مزدور کو قتل نہ کرو

    *اسلام فریق مخالف کے مقتولین کا مثلہ کرنے سے منع کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا
    مسلم 1731
    خیانت نہ کرو دھوکا نہ دو اور مثلہ نہ کرو

    بدر کے ایک قیدی سہیل بن عمرو کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اس کے اگلے دو دانت توڑ دیے جائیں کیونکہ وہ کفار کا بہت بڑا خطیب تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
    الرحیق المختوم

    *اسلام میں اسیران جنگ سے حسن سلوک*

    جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں اسلام اپنی مثال آپ ہے جنگی قیدیوں کے متعلق جو سنہری اصول اسلام نے وضع کیے ہیں آج کی مہذب دنیا بھی ایسے قوانین بنانے سے قاصر ہے

    بدر کی جنگ میں 70 کفار گرفتار ہوئے تھے
    فتح مکہ میں پورا مکہ شہر گردنیں جھکائے کھڑا تھا
    اور حنین کی جنگ میں 6000 قیدی ہاتھ لگے تھے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے ان قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی

    یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ صحیح بخاري میں موجود ہیں دنیا حیران رہ گئی کہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے دشمن کو پکڑنے کے تین دن بعد بغیر کسی عہد و پیماں اور شرط کے آزاد کر دیا

    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غورث بن حارث کو معاف کر دیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکال لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کر دیا۔
    بخاري 2753

    *جنگی قیدی اگر آپس میں رشتہ دار ہیں تو اسلام انہیں جدا جدا کرنے سے منع کرتا ہے*

    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
    مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    ترمذي 1566
    جس نے ماں اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالی اس کے اور اس کے اقربہ کے درمیان قیامت کے دن جدائی ڈالیں گے

    *فتح مکہ کا منظر نامہ اسلام کی صلح جوئی کا عظیم کردار*

    یہ کسی علاقے کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا جنھوں نے آپ سے دشمنی کی انتہا کر دی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہو سکتی تھیں

    ان میں فرعونِ وقت کا بیٹا عکرمہ بن ابی جہل بھی تھا
    زینب کا قاتل ہبار بن اسود بھی تھا
    کعبہ کی چابی نہ دینے والے عثمان بن طلحہ بھی تھے
    پیارے چچا امیر حمزہ کے قاتل وحشی بن حرب بھی تھے

    [ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ]
    [ السنن الکبرٰی للنسائي : ۱۱۲۹۸ ]
    آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی

    *نرمی ہی نرمی*
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اسلحہ پھینک دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    مسلم 1780

    سنن ابی داؤد میں ہے دکھانے کے لئے
    مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3024
    جو کسی بھی گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا

    اور ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں ہے
    وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3022
    جو مسجد میں داخل ہوگا اسے بھی امن دیا جائے گا

    اسی طرح جو حکیم بن حزام کے گھر داخل ہو گا اسے امن دیا جائےگا

    جسے کوئی مسلم پناہ دے اسے بھی امن دیا جائے گا

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کے درگزر کی مثالیں*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسی (۸۰) آدمیوں کو معاف کر دیا جو کوہِ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے اترے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔

    اسی طرح لبید بن اعصم کو معاف کر دیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری : ۵۷۶۵)

    اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔
    آپ نے اس سے کہا کہ تمھیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟
    اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قصاص میں اسے قتل کر دیا۔ (دیکھیے بخاری : ۳۱۶۹۔ ابو داود : ۴۵۰۹، ۴۵۱۱)

    *اسلام جبر نہیں کرتا*

    اسلام ایسا مذہب ہے جو ہر ایک کو جینے کا حق دیتا ہے نہ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرتا ہے اور نہ ہی یہ کہ جو اسلام قبول نہیں کرتا اسے قتل کر دیا جائے

    فرمایا
    لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
    دین میں کوئی زبردستی نہیں
    البقرة 256

    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ’’(جاہلیت میں) اگر کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی، پھر جب بنونضیر کو جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے کئی لڑکے تھے
    انصار نے کہا : ’’ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے ‘‘
    تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘
    [أبوداوٗد، الجہاد، باب فی الأسیر یکرہ علی الإسلام : ۲۶۸۲، وصححہ الألبانی ]

    *اسلام میں ذمیوں (اقلیتوں) کے حقوق*

    *ذمی کو قتل کرنے والا جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا
    رواه البخاري (3166) والنسائي
    ”جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“

    ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    *” مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ*
    رواه أبو داود (2760)وصححه الألباني
    جو کسی ایسے ذمی کو قتل کرے جو شرعاً واجب القتل نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے

    *اسلام برداشت کا دین ہے*

    اسلام برداشت کا درس دیتا ہے یہ نہیں کہ اگر کسی کے ساتھ دشمنی ہے تو اس دشمنی کی بنیاد پر تم عدل و انصاف سے ہٹ کر فیصلہ کرنا شروع کردو
    فرمایا
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
    المائدة : 8

    یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں 6 ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو

    *اسلام نے بین الاقوامی امن قائم رکھنے کے لیے غیر مسلم اقوام کے معبودوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے*

    فرمایا
    وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ
    اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے
    الأنعام 108

    حتی کہ اسلام کی کتاب قرآن میں موسی علیہ السلام کا تذکرہ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ 124 مرتبہ کیا گیا

    عیسی علیہ السلام کا تذکرہ 16 مرتبہ کیا گیا

    مریم علیہ السلام کا تذکرہ 30 مرتبہ کیا گیا

    بنی اسرائیل کا تذکرہ 40 مرتبہ کیا گیا

    بلکہ اسلام کی کتاب میں مریم و بنی اسرائیل کے نام کی تو صورتیں موجود ہیں

    حتی کہ تورات و انجیل کا بھی تذکرہ موجود ہے اور ان کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے

    *اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے*

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حکام کی طرف خطوط لکھے اور انہیں نقطہ اشتراک پر جمع ہونے کی دعوت دی

    قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
    کہہ دے اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
    آل عمران : 64

    اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے
    (1) اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔
    (2) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
    (3) اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے الوداعی خطبہ انسانی امن کا دستور اعظم*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی ]
    [مسند أحمد : 411/5، ح : ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح ]
    ’’اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔‘‘

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
    اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
    الحجرات : 13

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ ]
    [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا… : ۶۴؍۲۸۶۵ ]
    ’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔‘‘

  • پیٹرول کا بحران کیسے ہوا؟ تحریر:علی مجاہد

    پیٹرول کا بحران کیسے ہوا؟ تحریر:علی مجاہد

    پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھی لیکن اب پیٹرول نایاب ہو گیا ہے پیٹرول کیوں نہیں مل رہا اس کے پیچھے ایک وجہ ہے، اس سے پہلے میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ کہے رہے ہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ہر جگہ ہوا ہے تو میں ان سے یہ بھی کہوں گا آپ کی بات درست ہے پر ان غریبوں کا کیا ہوگا جو کوئی بھی اشیاء لینے جاتا ہے تو اسے وہ چیز مہنگی ملتی ہے اسکو پہلے بھی 1000 روپے مزدوری ملتی تھی اور اب بھی اسکی آمدن تو وہی ہے پر اخراجات زیادہ ہو گئے جو کہتے ہیں پیٹرول عالمی منڈی میں مہنگا ہے ہر جگہ مہنگا ہے تو انکی آمدن بھی بڑھی ہے صرف اخراجات نہیں بڑھے۔ اب بات کرتے ہیں پاکستان میں نومبر میں ہرتال کی گئی پیٹرول ڈیلرز ایسوسیشن کی جانب سے انکے کیا مقاصد تھے اور کیا ہوا، آل پاکستان پیٹرول ڈیلرز ایسوسیشن کی جانب سے سوائے کچھ پیٹرول پمپ کے سارے پیٹرول پمپ بند رکھے گئے اور انکا مطالبہ یہ تھا کہ ہمیں منافع میں 6 فیصد کا اضافہ کر دیں جس کے باعث عوام سخت زلت کی شکار ہوئی ہڑتال 25/نومبر/2021 کو تھی پر میں 24 تاریخ کو تقریباً رات 10 بجے نکلا تو پیٹرول پمپ پہلے ہی بند ہو چکے تھے جو کھلے تھے وہاں عوام کی ہجوم،

    اب بات یہ ہے کہ حکومت نے انکا مطالبہ نہیں ماننا کیوں کہ حکومت یہ کہے رہی اگر ہم ایسا کریں گے تو پیٹرول کی قیمتوں میں مزید 9 روپے کا اضافہ ہو جائے گا عوام کو اس وقت پیٹرول ویسے ہی 146 کا مل رہا ہے اور اس میں اور مزید 9 روپے کا اضافہ ہوا تو پھر عام آدمی کےلئے پیٹرول خریدنا مشکل ہو جائے گا، اب میں آپ کو بتاتا پیٹرول ڈیلرز یہ کہے رہے ہیں کہ ہمارا منافع بڑھایا جائے پیٹرول پمپ چلانے والا کوئی انفرادی شخص ہو یا کوئی کمپنی کا پٹرول پمپ ہو اسکا فی لیٹر پر ایک منافع ہوتا ہے اس وقت پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ٹیکسوں کے علاوہ مختلف دوسرے ٹیکس عائد ہیں جن میں ڈیلرز کا مارجن حصہ بھی ہے آئل کمپنیوں کا مارجن بھی اس وقت پیٹرول جو پمپ کو ملتا ہے وہ (125.27) روپے میں پڑتا ہے اگر حکومت اسی قیمت میں دے نا کسی کو بھی منافع نا ملے تو پھر بھی (125.27) پیٹرول ابھی بھی ہے یہ اتنے روپے کا لیٹر ہے جس کے بعد اس میں (9.62) روپے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں (4.5) روپے انگلینڈ فریٹ مارجن کی مد میں اور ایم سیس کا (2.97) مارجن اور ڈیلرز کا (3.91) جو ہے اس کے اندر مارجن شامل ہوتا ہے ان سب کو ملا کر جو عام عوام کو پیٹرول ملتا ہے وہ (146) روپے کا ملتا ہے تیل کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر (3.91) روپے یعنی تقریباً 4 روپے ڈیلر مارجن ہے تو فی لیٹر پر جو پمپس جا منافع ہے وہ (2.75) روپے کا ہے اور اگر انکے مطالبات کے مطابق 6 فیصد بڑھا دیا جاتا ہے تو 9 روپے لیٹر پر قیمت مزید بڑھ جائیگی اور 6 فیصد سے ڈیلرز کا جو منافع ہے وہ سارے آٹھ روپے تک پہنچ جائے گا تو یہ عام آدمی کے اوپر بڑا بوجھ بنے گا حکومت نہیں مان رہی اسکو، اس وقت بھی عام پیٹرول پمپ بھی روز کے لاکھوں روپے کما رہا ہے پھر اگر پاکستان میں پیٹرول پمپس چیک کریں تو ان میں زیادہ تر ایسے ہیں جو پیٹرول بھی پورا نہیں ڈالتے ان پمپس پر بوتل لیکر جائیں تو وہ کہیں گے ہم بوتل میں نہیں ڈالتے، حکومت کو چاھیے کہ اس مافیا کو قابو میں کیا جائے کیوں کہ میرا خیال ہے یہ بھی ایک بہت بڑا مافیا ہے اور وہ حکومت سے قابو بھی نہیں ہو رہا۔

  • ڈھاکا ٹیسٹ:پاکستان ایک اننگزاور8 رنز سے جیت گیا:بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کا سیریز میں کلین سویپ

    ڈھاکا ٹیسٹ:پاکستان ایک اننگزاور8 رنز سے جیت گیا:بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کا سیریز میں کلین سویپ

    ڈھاکا:پاکستان نے ڈھاکا ٹیسٹ میں بنگلا دیش کو شکست دیکر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی فتح پر جہاں‌ پاکستان میں خوشی منائی جارہی ہے وہاں بنگلہ دیش میں‌ بھی پاکستان کی فتح‌ پر خوشی منائی جارہی ہے ،

    کرکٹ کے میدان سے آنے والی خبروں میں‌ بتایا گیا ہے کہ ڈھاکا کے شیر بنگلا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں بنگلا دیش کی ٹیم دوسری اننگز میں 205 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

    ڈھاکا کے شیر بنگلہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں ساجد خان کی شاندار باؤلنگ کی بدولت پاکستان نے میزبان ٹیم کو ہراکر میچ اور سیریز اپنے نام کرلی ہے۔پاکستان کی جانب سے ساجد خان نے میچ میں 12وکٹٰیں حاصل کیں۔

    پاکستان کے عابد علی کو سیریز اور ساجد خان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

     

     

    قبل ازیں بنگلا دیش کا دوسری اننگز میں ٹاپ آرڈر فلاپ ہو گیا۔ اوپنرز شادمان اسلام اور محمود الحسن نے دوسری اننگز کا آغاز کیا ہی تھا کہ حسن علی نے محض 6 سکور پر محمود الحسن کو بولڈ کر دیا۔ ان کے بعد 2 رنز بنانے والے شادمان بھی پویلین لوٹ گئے، نجم الحسن 6 اور مومن الحق 7 رنز بنا سکے۔

    اس کے بعد لٹن داس نے آ کر ٹیم کو سنبھالا دیا اور 7 چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے، انہیں ساجد خان نے آوٹ کیا۔ مشفق الرحمن ففٹی بناتے بناتے رہ گئے، 48 رنز پر رن آوٹ ہوگئے۔ شکیب الحسن نے پاکستانی باولرز کو ٹف ٹائم دیا تاہم انہیں 63 رنز پر ساجد خان نے شکار کیا، مہدی حسن 14 رنز بنا سکے۔ خالد احمد صفر پرہی آوٹ ہوگئے

    فالو آن کی شکار بنگلا ٹیم نے قبل ازیں آج پہلی اننگز کا سلسلہ 7وکٹوں کے نقصان پر 76رنز سے جوڑا تو پاکستانی باولرز نے حریف بلے بازوں کو ٹکنے نہ دیا، تیج الاسلام کو صفر سکور پر ساجد خان نے پویلین کی راہ دکھا دی۔ ان کے بعد خالد احمد آئے، انہیں شاہین آفریدی نے شکار کیا۔ سب سے زیادہ 33 رنز بنانے والے شکیب الحسن کو بھی ساجد خان نے چلتا کیا۔ یوں ساری ٹیم 87 کے مجموعے پر آوٹ ہو گئی۔ ساجد خان نے 8 مخالف بلے بازوں کو آؤٹ کر کے بنگلا دیش کو فالو آن کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ میزبان ٹیم کے 9 بلے باز ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔یوں پاکستان یہ میچ بھی جیت گیا

     

  • ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید  ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ایک طرف ہجوم خود کو عاشق رسول اور پراینتھا کمارا کو گستاخ رسول قرار دیکر لبیک یارسول اللّٰہ کے نعروں کے ساتھ ملزم پر ڈنڈے لاٹھیاں مکے اور گھونسے برساتا پوری دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ قانون اور اداروں کی موجودگی میں وہ ہجوم اس قدر طاقتور ہے کہ مذہب کے نام پر سزا جزا کا حقدار تک ٹھہر چکا جبکہ دوسری جانب اسی ہجوم میں واحد شخص جو تشدد روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا مار سہتا رہا مگر انسانیت کو مقدم جانتے ہوئے بہادری سے ایک انسان کو ظلم سے بچانے کی اپنے تہی کوشش کرتا رہا۔۔ مارنے والوں پہ اس قدر جنون طاری تھا کوئی بات کوئی وعدہ کوئی قانون ماننے کو تیار نہ تھے ایک ہی ضد تھی کی ریاست کے قانون کو پاؤں تلے روندو اداروں کو ٹھینگا دکھاؤ اور جسے وہ” گستاخ ” کہہ بیٹھے اسے مار مار کے مار ڈالو۔

    ملک عدنان کہتا رہا کہ پراینتھا کو پولس کے حوالے کریں گے مقدمہ چلائیں گے یقین کر لیجیے مگر اسی بحث وتکرار میں سری لنکن مہمان جتھے کے ہاتھ چڑھا پھر ظلم وستم اور درندگی کی جو داستاں رقم ہوئی وہ” ظالموں "میں سے کئی کے کیمروں کی گیلری میں بھی محفوظ ہوئی۔۔

    ملک عدنان اسی فیکٹری میں پروڈکشن مینیجر ہے ایک مذہبی اسٹیکر ہٹانے پر جب پراینتھا کو سزا دینے کا فیصلہ ہوا تو عدنان نے سمجھانے کی کوشش کی ” نام کے عاشقان "سے کہا کہ وہ غیر مسلم ہے نہیں پڑھ سکا کیا تحریر تھا اسلیے اسٹیکر ہٹاتے وقت خیال نہ رکھا ہم جلد اسے فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج ہوگی ایسے میں ایک نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ اور ٹھنڈا پڑتا جوش دوبارہ جاگ اُٹھا عدنان نے پریانتھا کو بچا کر فیکٹری کی چھت پر موجود ایک کمرے میں بند کر دیا جب غصےاور جہالت سے بھری عوام چھت پر پہنچی تو انہوں نے پرینتھا کو زبردستی کمرے سے نکالا نیچے چوراہے پر گھسیٹتے لے گئے ہزاروں کا مجمع تھا اور عدنان پرینتھا کو بچانے والا واحد شخص جو اسوقت بنا جان کی پرواہ کیے چالیس منٹ تک ڈھال بن کر خود تشدد سہتا رہا کہتا رہا مت کریں ایسا اس سے فیکٹری میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے فیکٹری بند ہو جائے گی پاکستان کا نام بدنام ہوگا مگر وہ” نام نہاد عاشقان” نہ اس وقت مسلمان تھے نہ اسلامی ریاست کے باسی۔۔ایک جنونی جتھہ تھا جسکو سوائے” گستاخ” کے اسوقت نہ کچھ دکھائی دے رہا نہ سنائی دے رہا تھا۔

    ملک عدنان تن تنہا اس جتھے سے کیا مقابلہ کر پاتا ایک وقت آیا کہ پرینتھا کو مارنے والوں نے اس "دینی فریضے” میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جتنا مار سکتے تھے مارا انسانیت کو جس قدر شرمندہ کیا جاسکتا تھا کیا لاش تک جلا ڈالی کپڑے تک اتار دئیے حد یہ کہ جن کا ہاتھ مارنے کے فرض سے رہ گیا وہ موبائل نکال کر”ایمان افروز”مناظر کو فلمند کرتا سیلفیاں لیتا لبیک یارسول اللہ کہتا خود کو "ڈیڑھ مسلمان” سمجھتا رہا پرینتھا مر گیا ایک غیر ملکی مہمان چند ایک فسادیوں کی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا مگر ملک عدنان ایک ایسی مثال قائم کر گیا جو اس سے پہلے نہ دیکھی نہ سنی کیونکہ مذہب کے نام پر یہاں غلط کو غلط اور صیح کو صیح کہنے والے کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے کئی پرینتھا بھگت چکے۔ ہزاروں لوگوں کے سامنے عدنان کی بہادری اور انسانیت نے ایک امید روشن کی کہ جو مذہب کے نام پر فتنہ فساد برپا کرے اسکے سامنے ڈٹ جاؤ کم از کم ظلم کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش تو کرو۔

    اور دیکھا جائے تو اسلام کی تعلیمات بھی تو یہی ہیں کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظلم میں شریک مانا جاتا ہے۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے باہمت عدنان کو تمغہ شجاعت دیا جارہا ہے سراہا جارہا ہے عدنان پاکستان کا وہ مثبت چہرہ ہے جو اس مملکت کی اصل پہچان ہے اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں سوائے چند کے ہر ایک عدنان ہے جو نہ ظلم سہتا ہے نہ کسی پر ہونے دیتا ہے مگر توہین مذہب کی دھمکی دے کر ایسے جتھے سبکو دیوار سے لگا دیتے ہی۔ بدقسمتی یہی ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر اُن چند جنونیوں کی وجہ سے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم مذہب کے نام پر گندہ کھیل کھیلنے والوں سے چھٹکارا نہ پا سکے۔۔آج پرینتھا کی جان گئی کل کو اسی طرح کا ہجوم کسی اور کو بنا ثبوت کے توہینِ مذہب کی آڑ میں اپنے مفادات کی آگ میں جھونک سکتا ہے کسی بھی انسانی جان پر ظلم وستم کر کے اپنی خار نکالی جا سکتی ہے ماضی میں بھی کئی نامی گرامیوں نے اسلام کے نام پر ریاست اور شہریوں کو نقصان پہنچایا۔سوال یہ ہے کہ ایک خودمختار ریاست میں مذہب کارڈ کا استعمال اتنی آسانی سے کیوں کر کیا جاتا رہا قوانین کی موجودگی میں کوئی کیسے قانون کو دین کے نام پر بلیک میل کر کے بے توقیر کرتا رہا ریاست چند ایک لوگوں کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنی رہی؟

    اس واقعے نے ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑ ڈالا ہمارا پیارا وطن جسکی بنیاد ہی اسلامی قدروں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور تمام بسنے والوں کے ساتھ برابری کے سلوک پہ رکھی گئی آج یہ ملک دشمن عناصر اسے خدانخواستہ تباہ کرنے پہ تُلے ہیں۔انہی کیوجہ سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جبکہ ایسے واقعات معاشرے میں عدم برداشت کو بھی ہوا دیتے ہیں ہمیں معاشرے میں سکون اور امن کے لیے عدنان جیسے کردار کی سخت ضرورت ہے جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عدنان کو سراہنے کے ساتھ ساتھ پرینتھا کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہو کر روشن پاکستان کے چہرے پہ سیاہ دھبہ نہ ثابت ہوں۔

  • امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا کے لیے اس وقت عالمی سطح پرجو چیز سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے وہ اس کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور دو بڑے ممالک امریکہ اور روس کے درمیان بدلتے رشتوں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ ساتھ ہی اس وقت امریکہ کے لئے بھی امتحان ہے کہ وہ روس سے دفاعی نظام خریدنے پر کیا انڈیا کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس نے باقی ممالک کے ساتھ کیا۔ انڈیا کے یہ دونوں دوست یعنی امریکہ اور روس ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ دونوں اکثروبیشتر ایک دوسرے پر کئی الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔لیکن اس وقت یہ تعلقات ڈسکس کرنے کی وجہ حال ہی میں روس کے صدر پیوٹن کا چند گھنٹوں کا کیا گیا انڈیا کا دورہ ہے جس میں اس نے مودی سے ملاقات کی اور مختلف معاہدوں ہر دستخط بھی کئے۔ صدر پیوٹن اور وزیراعظم مودی نے
    2019 کے بعد پہلی مرتبہ نئی دہلی میں براہ راست ملاقات کی ہے۔ کورونا کے بعد روسی صدر کا یہ دوسرا غیرملکی دورہ ہے۔ اس سے پہلے پیوٹن نے جنیوا میں صرف امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی۔ ورنہ اس سال ہونے والے کئی اہم ایونٹس میں بھی یا تو پیوٹن نے شرکت سے معذرت کی تھی یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جاتی رہی ہے۔جس بات پر انڈین میڈیا بہت خوش ہورہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے وہ پیوٹن کا یہ بیان ہے کہ ہم بھارت کو ایک عظیم طاقت، ایک دوست ملک اور مختلف اوقات میں آزمائش کردہ دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی بھارت اور روس نے فوجی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ کامرس اور تجارت سے متعلق اٹھائیس سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسٹیل، بحری جہاز تیار کرنے، کوئلے، اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ دس سال پر مبنی دفاعی تکنیکی تعاون کا معاہدہ اور ایک سال کا تیل کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روسی دفاعی میزائل سسٹم
    S-400کی فراہمی بھی بھارت کو اسی ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔ تقریبا پانچ ارب ڈالر کی یہ ڈیل 2018 میں طے کی گئی تھی۔ جس پرامریکا نے اپنی ناپسندیدگی بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن مودی سرکار اپنی حرکت سے باز نہیں آئی اور یہ معاہدہ امریکہ کی مرضی کے خلاف چلتا رہا۔S-400دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے یہ دنیا کے سب سے جدید ترین زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام میں سے ایک ہے۔ اس کی رینج400کلومیٹر تک ہے اور یہ بیک وقت 80 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں دو میزائل کا نشانہ بھی لے سکتا ہے۔یہ دفاعی نظام حاصل کرنے کے بعد انڈیا کو ایک اہم دفاعی صلاحیت حاصل ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اس میزائل سسٹم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔کیونکہ واشنگٹن نے کئی روسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ روس، ایران اور شمالی کوریا کو اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا نشانہ بنانے کے لیے2017 میںCountering Americas Adverseries through sanctions ACTمتعارف کرایا گیا تھا۔ جو کسی بھی ملک کو ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے سے روکتا ہے۔معاہدوں کے ساتھ ساتھ مودی اور پیوٹن نے سیاسی اور دفاعی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جس کے بعد نریندر مودی نے بیان دیا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا نے بہت سی بنیادی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور کئی نئے جیوپولیٹیکل گٹھ جوڑ سامنے آئے ہیں لیکن بھارت اور روس کی دوستی برقرار ہے۔خیر ان دونوں کی دوستی تو ان کے درمیان ہونے والے مصافحے اور مودی کی روایتی جپھی سے نظر بھی آرہی تھی۔ لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ مودی سرکار آنے والے سنگین حالات اور چیلنجز سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ دونوں ممالک نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جس طرح کے جغرافیائی اور سیاسی فیصلے کئے ہیں ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سیاست پرظاہر ہونا لازمی بات ہے۔

    خاص کر امریکہ کے معاملے میں انڈیا جو کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ کا ایک اہم اتحادی بنا ہوا ہے وزیراعظم مودی نے 2020میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جس طرح سے ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی جب وہ انڈیا کے دورے پر آئے تھے۔ یہ انڈیا کی طرف سے واشنگٹن کی حمایت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا۔اس کے علاوہ جب انڈیا نے امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چار ملکی اتحاد کواڈ میں شمولیت اختیار کی تھی تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس وقت کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر انڈیا کا کہنا تھا کہ کواڈ ایک غیر فوجی اتحاد ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن روسی وزیر خارجہ لاوروف اس سے متفق نظر نہیں آئے تھے۔لیکن ماسکو نے کافی حد تک اس طرح کی پریشان کن چیزوں کو نظر انداز کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ماسکو کے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے اب روس کو موقع مل گیا ہے کہ جو کچھ اس نے برداشت کیا وہ اس کا بدلا لے سکے اس لئے اب برداشت کرنے کی باری امریکہ کہ ہے۔ اس صورت حال کو جو چیز مزید مشکل بنا رہی ہے وہ انڈیا اور چین کے حالیہ بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔ گذشتہ سال حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان لداخ کی گلوان وادی میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر لاٹھیوں اور پتھروں سے خون ریز جھڑپ ہوئی جس میں کئی انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انڈیا افغانستان میں بھی اپنا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے انڈیا کی آخر امید روس ہی ہے کیونکہ اس وقت روس، چین، پاکستان اور افغانستان آپس میں کافی قریب ہیں۔ اس لئے انڈیا نے امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے کہ وہ چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اس کی مدد کرے۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ مودی اور پیوٹن کے درمیان اس پر بات چیت بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کو کن حالات میں جنگ چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا تھا اور دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی معاملات کئی محازوں پر کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بیجنگ کے سرمائی اولمپکس2022 کا بھی سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے کسی امریکی عہدیدار کو نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وجہ بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے کسی سرکاری وفد کو ان کھیلوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔ دوسری طرف چین نے بائیکاٹ کی صورت میں جوابی اقدامات کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ تو کیا ان حالات میں امریکہ برداشت کر پائے گا کہ اس کا انڈیا جیسا اتحادی اس گروپ کے ملک کے ساتھ تعلقات بڑھائے جس کے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں؟تو اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں امریکہ کبھی اس بات کو برداشت نہیں کرے گا۔

    کچھ عرصہ پہلے جب چین اور ترکی نے روس سے S-400دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تو امریکہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن جب امریکہ کی ناراضگی کے باوجود یہ دونوں ممالک باز نہ آئے تو امریکہ کی جانب سے ان پر پابندیاں لگا دی گئیں تھیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔۔یعنی انڈیا میں جو روسی صدر کے دورے پر خوشیاں منائی جا رہیں ہیں وہ بہت جلد کھٹائی میں پڑنے والی ہیں۔ کیونکہ ان دس سالوں کے معاہدوں میں دس سال تک انڈیا سے پیسہ روس جاتا رہے گا۔ اور اس کے بدلے جو ہتھیار حاصل کئے جائیں گے وہ بھی انڈیا کے کسی کام نہیں آنے والے ان کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ رافیل طیاروں کا ہوا تھا کیونکہ ان کو چلانے والے تو آخر انڈین ہی ہوں گے نا۔ اس کے علاوہ انڈیا روس کے زریعے چین اور افغانستان کے ساتھ جو تعلقات بہتر بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے وہ بھی نہیں ہونے والا کیونکہ چین جس طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اب انڈیا کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ چین کو اپنے علاقوں میں آنے سے روک سکے ویسے بھی چین کبھی بھی انڈیا کو اس خطے میں مضبوط نہیں ہونے دے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مودی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا آج اگر چین انڈیا کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لے تو وہ دوبارہ کسی بھی وقت جا کر امریکہ کی گود میں بیٹھ سکتا ہے جو کسی بھی طرح چین کو نہیں برداشت اور نہ ہی روس کو برداشت ہوگا۔ اس لئے روس صرف ایک ہتھیار بیچنے والے ملک کے طور پر تو ضرور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے گا لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ کچھ نہیں ہونے والا۔

  • گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    آپ نے اکثر راستے میں خرابی کے باعث گاڑیوں کو دھکا لگاتے دیکھا ہوگا مگرا ب جہاز کو گھکا لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی: نیپال کے ایک ہوائی اڈے سے ایک عجیب و غریب ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک درجن سے زائد افراد طیارے کو رن وے سے ہٹانے کے لیے پوری قوت سے دھکیل رہے تھے یہ ویڈیو "العربیہ ” نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی ہے-

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت


    العربیہ کی جانب سے شئیر کی گئی ویڈیو میں لوگوں کو جہاز کو دھکا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو بدھ یکم دسمبر کو دارالحکومت کھٹمنڈو سے 7,000 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر مغربی نیپال کے سوڈورباچیم ضلع کے باگورا کے کلتی میونسپل ایئرپورٹ پربنائی گئی تھی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافرہوائی اڈے پر پروازپکڑنے کا انتظارکر رہے تھے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ تارا ایئر کا ایک اور طیارہ رن وے کے بیچ میں پھنس گیا تھا۔

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    نیپال نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ طیارے کو رن وے سے دھکیل رہے تھے ان میں سے ایک نے تصدیق کی کہ اس کے ایک ٹائر میں پنکچر لگنے کی وجہ سے یہ رن وے کے درمیان میں کھڑا تھا اپنی پرواز پکڑنے کے لیے مسافروں نے چھوٹے طیارے کو رن وے سے دھکیل دیا تاکہ دوسرا طیارہ لینڈ کر سکے۔

    روزانہ 500 گرام ریت کھانے والی 80 سالہ خاتون

  • واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    سان فرانسسکو: واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کیا ہے جسے آٹو ڈیلیٹ کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ کی ہمیشہ سے اولین ترجیح ہی رابطوں اور گفتگو کو محفوظ تر بنانا ہے واٹس ایپ سوشل میڈیا کی وہ ایپلی کیشن ہے جو اپنی ایپ میں صارفین کی ضروریات اور پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔


    تاہم تاہم اب بھی واٹس ایپ نے آٹو ڈیلیٹ کا فیچر اس لیے پیش کیا ہے تاکہ صارف اپنی چیٹ کو محفوظ سمجھے اور گفتگو کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس آپشن کی بدولت آپ 24 گھنٹے، سات روز یا 90 دن کے آپشن رکھ سکتے ہیں اور پیغام اس مدت کے بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجائے گا –

    واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ اب ’صارف تمام نئی گفتگو کے لیے نیا آپشن استعمال کرسکتے ہیں اسے سرگرم کرنے پر اپنی مقررہ مدت میں پیغامات یا اس کے طویل سلسلے (تھریڈ) ازخود مٹ جاتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ: ویب بیٹا انفو

    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کو مخصوص واٹس ایپ گروپ پربھی متعارف کرایا جاسکتا ہےفی الحال تین اوقات دئیے جارہے ہیں جنہیں آپ اپنی پسند کے لحاظ سے منتخب کرسکتے ہیں۔

    اس آپشن کو استعمال کرنے کے لیے پہلے آپ کو واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جاکر اکاؤنٹ اور پھر پرائیویسی پر کلک کرنا ہوگا جس بعد آپ Default Message Timer کے آپشن کو دیکھ سکیں گے۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    خیال رہے کہ سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی کی ملکیت ہونے کی وجہ سے واٹس ایپ سے انسٹاگرام پر رابطے ممکن بنانے پر بھی غور ہورہا ہے تاہم میٹا کی جانب سے مکمل طور پر ای ٹو ای انکرپشن پر بھی کام جاری ہے جس پر 2023 تک مکمل عملدرآمد ہوگا میٹا پر ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے بالخصوص یورپی ممالک کا بھی دباؤ ہے اور شاید ڈیلیٹ آپشن اسی وجہ سے پیش کیا گیا ہے۔