Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ
    اس وقت تیل کے بے جا اخراجات کی وجہ ہو، ماحولیاتی آلودگی ہو یا بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ۔۔ دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک تیل سے چلنی والی گاڑیوں سے جان چھڑا کر الیکٹرک کاروں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں الیکٹرک کاروں کا یہ سلسلہ شروع تو Teslaکمپنی کی الیکٹرک کاروں سے ہوا ہے جس کے بعد اس وقت کاریں بنانے والی تقریبا تمام ہی بڑی کمپنیاں اب اپنے اپنے برانڈ کی الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ اور ایلن مسک کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کاریں بنائیں بلکہ اصل چیز کچھ اور ہے۔ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب بنائی گئی، وہ کس نے بنائی تھی اور اس کے بعد الیکٹرک کاریں کیوں بننا بند ہو گئیں تھیں؟ اور اب یہ الیکٹرک کاریں کیسے اتنی کامیابی سے چل رہی ہیں؟

    ٹیسلا الیکٹرک کاروں کے اس وقت چار ماڈلز ہیں جو کہ سب سے زیادہ سیل ہو رہے ہیں ،
    Model S
    Model 3
    Model X
    Model Y
    لیکن اپنے ان چند ماڈلز کے ساتھ ہی ٹیسلا نے پوری دنیا کا Mind changeکردیا ہے مارکیٹ ٹرینڈز کوبدل کر رکھ دیا ہے۔ کچھ وقت پہلے تک ٹیسلا دنیا کی وہ واحد کمپنی تھی جو کہ موجودہ دور میں الیکٹرک کاریں بنا رہی تھی لیکن اب تقریبا تمام بڑی کمپنیاں اپنی اپنی الیکٹرک کاروں پر کام کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ اپنے الیکٹرک ماڈلز کو مارکیٹ میں سیل کے لئے لانچ کرنے والی ہیں۔جیسےToyotaکا bZ4X ماڈل۔General MotorsکاCadillac Lyriqماڈل۔بی ایم ڈبلیو کاBMW iXماڈل آنے والا ہے۔KIA کاEV6AudiاپنےQ4 e-tron Sportbackماڈل پر کام کر رہی ہے۔Mercedes-Benzکا EQBماڈل۔Lexusکا LF-Z Electrifiedماڈل۔Volkswagenکا ID.8جو کہ ایک Three rowوالی ایس یو وی گاڑی ہے۔Hyundaiکا IONIQ 5ماڈل یہ بھی ایک درمیانے سائز کی ایس یو وی گاڑی ہو گی۔اور اس کے علاوہ جنرل موٹرز کی ہی GMC Hummer SUVگاڑی ہے۔ یہ تمام گاڑیاں 2022سے لیکر 2024تک مارکیٹ میں لانچ ہونے والی ہیں۔ جس کی وجہ سے اب یہ پیشن گوئی کی جا رہی ہے 2025 تک عالمی سطح پر تمام نئی گاڑیوں کی فروخت میں بیس فیصد الیکٹرک کاریں ہوں گی۔2030 تک ان کی تعداد چالیس فیصد ہوجائے گی جبکہ 2040 میں بظاہر تمام ہی بکنے والی نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی۔لیکن ویڈیو کہ آغاز میں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایلن مسک دنیا کا کوئی پہلا شخص نہیں ہے جس نے الیکٹرک کار بنانے کے سوچا اور نہ ہی ٹیسلا کوئی پہلی کمپنی ہے جس نے الیکٹرک کاریں بنائیں۔ تو اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار کب ایجاد ہوئی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ الیکٹرک کاروں کی طرف موجودہ رجحان کوئی نیا نہیں ہے۔ الیکٹرک کاروں کے اس سلسلے کو ہم تاریخ کا دہرایا جانا کہہ سکتے ہیں۔1900کے شروع میں بھی چالیس فیصد گاڑیاں تیل کی بجائے الیکٹرک بیٹریوں سے ہی چلتی تھیں۔ 38 فیصد گاڑیاں بھاپ انجن سے جبکہ صرف 2 فیصد گاڑیاں تیل یا پٹرول سے چلائی جاتی تھیں۔ لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ بیٹری پر چلنے والی یہ گاڑیاں1935تک دنیا سے تقریبا ناپید ہی ہوگئیں۔ 1835میں پہلی بار بجلی سے چلنے والی کارThomas Davinنے بنائی تھی۔ یہ پہلی ہائیڈروجن کار کے تیس سال بعد بنائی گئی تھی۔ جبکہ
    Gasolineانجن 1870کے بعد بننا شروع ہوئے تھے۔ جس کے بعد پہلی پروڈکشن کار 1885میں Carl Benzکی جانب سے بنائی گئی تھی جسے بعد میںMercedes-Benzکا نام دیا گیا۔ Rudalf Dieselنے 1900میں ہونے والے پیرس عالمی میلے میں اپنے ڈیزل انجن کو پہلی بارمونگ پھلی کے تیل سے چلایا تھا۔ جس کے بعد internal combustion engines انجن دنیا میں تیزی کے ساتھ مشہور ہوئے۔اور ان انجنوں نے بھاپ سے چلنے والے انجنوں کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ بھاپ سے چلنے والے انجنوں میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سرد موسم میں وہ گرم ہونے میں
    45 منٹ لگا دیتے تھے۔ پانی کی محدود گنجائش ہونے کی وجہ سے بھاپ سے چلنے والی گاڑیاں زیادہ فاصلہ بھی طے نہیں کر سکتی تھیں۔ اس لئےgasolineپر چلنے والی گاڑیاں ان کی نسبت زیادہ موزوں تھیں۔ البتہ ان کے انجن چالو کرنے کے لیے کافی زیادہ مشقت کرنا پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ یہ گاڑیاں بہت زیادہ شور کرتی اور لرزتی تھیں۔ ان تمام نقائص کو دیکھتے ہوئے الیکٹرک کاریں اس وقت بھی ذاتی استعمال کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند تھیں۔ یہ بالکل بھی شور نہیں کرتی تھیں، انہیں اسٹارٹ کرنے میں مشقت نہیں کرنا پڑتی تھی اور گیسولین اور بھاپ والی گاڑیوں کی نسبت انہیں چلانا بھی نہایت آسان تھا۔ خاص طور پر شہر کے اندر اور کم فاصلہ تک سفر کے لیے الیکٹرک کاریں بہت موزوں تھیں۔

    کاروں کے حوالہ سے بڑے نام جیسا کہfrederick porscheجو porscheموٹر کمپنی کا مالک تھا اور Thomas Edisonسمیت زیادہ تر لوگ الیکٹرک گاڑیوں کو ہی پسند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ Porscheکی پہلی کارجو1898 میں لانچ کی گئی وہ الیکڑک ماڈل تھی جس کا نام Loaner Porsche تھا۔ اس کے ایک سال بعد Thomas Edisonنے الیکٹرک گاڑیوں کو لمبے سفر کے لیے موزوں بیٹریاں بنانے پر کام شروع کیا۔ Edisonکو یقین تھا کہ الیکٹرک کاریں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔ لیکن پھر اچانک دس سال تک اس پر کام کرنے کے بعدEdisonنے اس پر مزید کام کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن ٹیسلا کی کاروں کی طرح الیکٹرک کاریں اس دورمیں بھی کافی مہنگی تھی جس کی وجہ سے یہ صرف امیر لوگوں کے استعمال تک محدود رہیں۔Henry Fordنے کار کو عام عوام کی پہنچ تک لانے کے لیے بہت غور کیا۔ وہ ایسی کار بنانا چاہتا تھا جو تین سے چار افراد کو بٹھا کر آسانی سے سفر کر سکے۔ اس مقصد کے لئے بڑی بڑی فیکٹریاں بنائی گئیں جن میں مختلف مرحلوں میں پرزوں کو جوڑ کم وقت میں گاڑیاں بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس تبدیلی سے گاڑیاں بنانے کے عمل میں بہت تیزی آئی اور بڑی تعداد میں گاڑیاں بنائی جانے لگیں۔ اس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جس کی بدولت درمیانہ طبقہ بھی گاڑیاں خریدنے کے قابل ہوگیا۔ صرف 1914میں فورڈ کمپنی نے دیگر تمام کاریں بنانے والی کمپنیوں کی کل تعداد کی نسبت زیادہ کاریں بنا کر فروخت کیں۔ اس وقت فورڈ کی ماڈل ٹی کار کی قیمت 260 ڈالر تھی۔ جو آج کے تقریبا 650 ڈالر کے برابر ہے۔ جبکہ اس وقت ایک الیکٹرک کار کی قیمت ایک ہزار سات سو ڈالر تھی جو آج کے 43 ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ قیمتوں کے اس فرق نے الیکٹرک کاروں کے رجحان کو تقریبا ختم کر دیا۔ جبکہ اگر ہم ٹیسلا کی موجودہ قیمتوں کو دیکھیں تو ٹیسلا کی سب سے سستی کار کی قیمت اس کے برابر بنتی ہیں۔ جبکہ باقی ماڈل تو اس سے کہیں مہنگے ہیں۔ٹیسلا کی ماڈل ایکس سب مہنگی گاڑی ہے جس کی قیمت ہے99,900$ماڈل ایس کی قیمت 90,000$
    ماڈل وائے کی قیمت55,000$اورماڈل تھری جو ٹیسلا کی سب سے زیادہ بکنے والی گاڑی ہے اس کی قیمت42,000$ہے۔Henry Ford and Thomas Edisonدونوں بہت اچھے دوست تھے۔ انہوں نے1896میں اپنی پہلی تجرباتی الیکٹرک کار بنائی تھی۔ جس کے بعد انھیں اپنی الیکٹرک کار کمپنی فورڈ موٹر کمپنی بنانے کا خیال آیا۔1914میں جب یہ دونوں الیکٹرک کاریں بنانے پر کام کر رہے تھے تو گیارہ جنوری1914میں نیویارک ٹائم میں فورڈ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں اس کا کہنا تھامجھے امید ہے کہ ایک سال کے اندر ہم کمرشل بنیادوں پر الیکٹرک کاریں بنانا شروع کر دیں گے۔ میں اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنا ایک منصوبہ آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ حقیقت میں۔۔ میں اور مسٹرEdisonپچھلے کئی سال سے الیکٹرک کاریں بنانے پر ایک ساتھ کام کر رہے تھے جو سستی اور استعمال میں آسان ہوں۔ تجرباتی طور پر کاریں بنائی گئیں ہیں جن کی کارکردگی سے ہم مطمئن ہیں اور یہ گاڑیاں عام دستیابی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس وقت جو مسئلہ ہے وہ زیادہ چارج کی حامل ہلکی بیٹریاں بنانا ہے جو لمبا سفر کرنے کے قابل ہوں۔

    Mr. Edisonایسی بیٹریاں بنانے پر تجربات میں مصروف ہیں۔ میرا یقین ہے کہ جلد یا بدیر الیکٹرک گاڑیاں پوری دنیا کے بڑے شہروں میں آنے جانے کے لیے استعال ہوں گی۔ الیکٹرک گاڑیاں ہماری سفری سہولیات کا مستقبل ہوں گی۔ سامان کی نقل و حمل والے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب نیویارک کے تمام ٹرک الیکٹرک ہوں گے۔لیکن سوچیں کہ اس قدر یقین کے باوجود الیکڑک گاڑیاں کیوں نہ بن سکیں؟اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لیب جہاں الیکٹرک کاریں تجرباتی طور پر بنائی جاتی تھیں وہاں جان بوجھ کر سازش کے تحت آگ لگا دی گئی تھی جس کے بعد لیب مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئی تھی۔ یہ پراجیکٹ جس میں 1.4 ملین ڈالر کی رقم جھونکی گئی تھی ختم ہوگیا۔ یہ رقم آج کے 34 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ بعض کے نزدیک تیزی سے ترقی کرتی آئل انڈسٹری اس کی ذمہ دار ہے جس سے وابستہ لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی انڈسٹری کو پنپنے دینا نہیں چاہتے۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ فورڈ جو بیٹریاں الیکٹرک کاروں میں استعمال کرتا تھا وہ اس قابل ہی نہیں تھیں جو الیکٹرک کار کو مطلوبہ معیار تک چلا سکیں۔ حقیقت کیا ہے کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا۔لیکن تیل پر انحصار ختم کرنے، گلوبل وارمنگ سے بچنے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے آج ہم اسی طرح الیکٹرک کاروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس طرح ایک سو سال پہلے سوچ رہے تھے۔لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آجBattriesکی صنعت نے بھی اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب یہ خواب ممکن ہوتا نظر آ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں تیل سے چلنے والی گاڑیوں کو آہستہ آہستہ کم کرکے الیکٹرک کاروں کا استعمال بڑھایا جائے۔ کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آج ایسی الیکٹرک کاریں بنائی جا چکی ہیں جو ایک بار چارج کرنے پر سینکڑوں کلومیٹر تک کا سفر کرنے کے قابل ہیں۔ یعنی ٹیسلا کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے الیکٹرک کار بنائی ہے بلکہ اصل achievementیہ ہے کہ اس نے اس طرح کی بیٹریز اور سولر پینلز بنائے ہیں جس کے بعد الیکٹرک کار پہلے سے زیادہ پائیدار ہیں۔ اس طرح ایک صدی بعد ہی سہی لیکن ٹیسلا کے ایلن مسک نے تھامس ایڈیسن کی بات آخر سچ ثابت کر دکھائی ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں ہی انسانیت کا مستقبل ہیں۔

  • اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہے جو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟


    فوٹو بشکریہ: سائینٹفک رپورٹ

    جامعہ بولونا کے پروفیسر فریڈریکو فینٹی کہتے ہیں کہ اگرچہ اٹلی ڈائنوسار کی وجہ سے مشہور نہیں لیکن اب ان جانوروں کا پورا جتھا ملا ہے جو اس ملک سے ہونے والی سب سے بڑی اور اہم دریافت بھی ہےفریڈریکو اس تحقیق کے سربراہ ہیں جنہوں نے تفصیلی روداد سائنٹفک رپورٹس میں شائع کرائی ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ویلیجئو ڈیل پیسکاٹور میں پہلی بار 1996 میں ڈائنوسار کے کنکال کی دریافت کے بعد ڈائنوسار کے لیے جانا جاتا تھا جسے ماہر علمیات نے انتونیو کا نام دیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ "بونے کی نسل” ہے۔ لیکن تازہ ترین دریافتیں اس سے اختلاف کرتی ہیں، انتونیو کے ساتھ اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک نوجوان ڈائنوسار تھا جو اسی ریوڑ کا حصہ تھا جو ایک ساتھ مر گیا تھا۔ گروپ میں سب سے بڑے ڈائنوسارکا نام برونو رکھا گیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ: سائینٹفک رپورٹ

    سارے ڈائنوسار ویلیجئو ڈیل پیسکاٹور نامی مقام سے ملے ہیں یہاں بہت سے نوجوان ڈائنوسار کی باقیات ملی ہیں جن میں سب سے مکمل برونو کی ہیں۔ برونو کا ڈھانچہ بہت حد تک مکمل اور اب تک سب سے بڑا بھی ہے ان کے ساتھ مچلھیوں، اڑنے والے ریپٹائل اور شرمپ جیسے کیڑے کی باقیات بھی ملی ہیں

    فانٹی نے کہا۔ "ہمیں معلوم تھا کہ انتونیو کی دریافت کے بعد اس جگہ پر ڈائنوسار موجود ہیں، لیکن اب تک کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی تعداد کتنی ہے ہمارے پاس اب جو کچھ ہے وہ ایک ہی ریوڑ کی متعدد ہڈیاں ہیں۔

    اس سے قبل اٹلی کی مشہور کوہِ ایلپس پر مگرمچھ جیسے ایک جانور کے قدموں کے نشانات بھی ملے تھے پیروں کے نشانات جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مگرمچھ نما پراگیتہاسک رینگنے والے جانور کے تھے اطالوی ایلپس میں ایک غیر معمولی دریافت میں پائے گئے ہیں جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 252 ملین سال قبل بڑے پیمانے پر ناپید ہونے سے بچ جانے والے افراد موجود تھے۔

    فوٹو بشکریہ گارجئین

    تقریباً 10 قدموں کے نشانات پر مشتمل اچھی طرح سے محفوظ شدہ فوسلائزڈ ٹریک، مغربی الپس کے صوبہ کونیو کے الٹوپیانو ڈیلا گارڈیٹا میں 2,200 میٹر کی بلندی پر پایا گیااگلے اور پچھلے پنجوں کے نشانات، جن کی لمبائی تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے، تقریباً 250 ملین سال پہلے کی تاریخ ہے، جب پرمین ارضیاتی دور کے اختتام پر بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کے باعث اس علاقے کو غیر مہمان بنا دیا گیا تھا۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟


    فوٹو بشکریہ گارجئین

    Trento سائنس میوزیم (Muse)، زیورخ یونیورسٹی کے Palaeontology میوزیم اور Turin، Rome La Sapienza اور Genoa کی یونیورسٹیوں کے ماہرین علمیات اور ماہرین ارضیات کی ایک ٹیم اس دریافت کے پیچھے تھی۔ ان کا مطالعہ حیاتیاتی، طبی اور ماحولیاتی سائنس کے جریدے پیر جے میں شائع ہوا تھا۔

    پرنٹس کے سائز اور ہر ایک کے درمیان فاصلے سے، سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ شاید مگرمچھ کی طرح ایک رینگنے والے جانور سے تعلق رکھتے ہیں، کم از کم 4 میٹر لمبا، جو ایک دریا کے ڈیلٹا کے قریب ایک قدیم ساحلی پٹی کے ساتھ چل رہا تھا۔

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    پہلے قدموں کے نشانات 2008 میں اس علاقے میں چٹانوں میں پائے گئے تھے، سائنسدانوں نے اگلے برسوں میں اس وقت تک اپنی تلاش جاری رکھی جب تک کہ ان کے پاس جانور کی شناخت کے لیے ضروری پرنٹس کا مکمل سیٹ نہ ہو۔

    تحقیق میں شامل ایک ماہر برنارڈی نے کہا، "ایک 4 میٹر بڑا رینگنے والا جانور اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ پورا ایکو سسٹم کسی نہ کسی طریقے سے زندہ تھا کیونکہ یہ اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔” "یہ صرف صحرا میں گھومنا نہیں تھا – اسے شکار کی ضرورت تھی، اور اس شکار کو پودوں وغیرہ کی ضرورت تھی۔”

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی معدومیت کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتی ہے جیسا کہ آج کرہ ارض پر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ خط استوا کی پٹی میں واقع یہ علاقہ اتنا غیر مہمان بن چکا ہے کہ جو جانور بچ گئے وہ دوسرے عرض بلد کی طرف ہجرت کر گئے ہوں گے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    برنارڈی نے کہا کہ سائنسدان متغیرات کو یہ سمجھنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ موجودہ موسمیاتی بحران کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

    "ہم تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں ہیں – گلوبل وارمنگ، خط استوا کی پٹی کا ارتعاش وغیرہ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بات کے شواہد تلاش کرنے کے بعد حیران ہو جاتے ہیں کہ کوئی زندہ بچ گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر کتنا ڈرامائی ہے-

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

  • بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    نئی دہلی : بھارتی ریاست سِکِم میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت ہوئی ہے جس کا رنگ سنہرا پیلا اور کنارے چاکلیٹی رنگ کے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی رہائشی سونم وانگچک لیپچا نامی خاتون مہم جوئی کی شوقین ہیں۔ اور یہی شوق پورا کرنے کیلئے وہ قریبی سرسبز علاقے میں تتلیوں کو دیکھ اور ان کی تصاویر لے رہی تھیں دریں اثنا ایک تتلی نمودار ہوئی اور اس کی خوبصورتی کے پیش نظر سونم نے فوراً اس کی بھی تصویر اتار لی انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ تصویر تتلی کی نئی نسل کی دریافت کا باعث بنے گی۔

    صحت ہو یاعالمی خبریں، لوگ معلومات کا انتخاب اپنے ذاتی احساسات کی بنا پر کرتے ہیں تحقیق

    30 سالہ سونم اپنی تصویریں بنگلور میں نیشنل سینٹر فار بائیولوجیکل سائنسز (NCBS) کے ماہرینِ حشریات کو بھیجتی رہتی ہیں تاکہ وہ ان کی شناخت کر کے بھارتی تتیلوں کی ویب سائٹ Butterflies of India پر اپ لوڈ کر سکیں۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    اس ویب سائٹ پر جمع کرائے گئے تمام مشاہدات کا ایک ماہر پینل کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے سونم کی پیلے رنگ کی تتلی کی تصویر کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین نے نوٹ کیا کہ یہ تتلی ایک ایسی نسل تھی جو پہلے ہندوستان میں نامعلوم تھی محققین کی ٹیم جنہوں نے اس نسل کو دریافت کیا، نے انگریزی نام ‘Chocolate-bordered Flitter’ تجویز کیا ہے-

    سونم کا تعلق چین سے ہے تاہم سونم خود بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے قریبی رشتہ دار جنوب مشرقی چین میں ہیں۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

  • پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ

    پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ؟ تحریر: نوید شیخ
    ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان سے اچھی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ابھی سانحہ سیالکوٹ کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ فیصل آباد ، لاہور اور کراچی سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آگئی ہیں ۔ ان تینوں اسٹوریز سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ عمران خان کی تبدیلی نے کیسے اس ملک کو ایک جہنم بنا دیا ہے ۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے ۔ نہ قانون کا کوئی ڈر اور خوف ۔ جس کا جو دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے ۔ سب سے پہلے ملت ٹاؤن فیصل آباد میں کاغذ چننے والی خواتین پر مشتعل افراد نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بھی بنا ئیں۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

    ۔ اس کے بعد الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے۔ پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آس پاس کھڑے درجنوں مردوں میں سے کوئی ایک بھی انسان نہیں تھا کہ انسانیت کی تذلیل کرنے والے ان بدمعاشوں کو روکتا ؟ اب تو لگتا ہے کہ ایسا سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے ۔ پر آپ دیکھیئے گا کہ آج کل تو اس معاملے کی میڈیا کوریج کررہا ہے ۔ پر کچھ عرصے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ سب باعزت بری ہوجائیں گے ۔ کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ تھکا ہوا ۔ اجڑا ہوا ۔ ظلم کا دوست ۔ مظلوم کا دشمن ۔۔۔

    ۔ ایسے واقعات کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ ملک میں نظام عدل تباہ ہوچکا ہے ۔ جب آپ کو یقین ہو کہ ریاست کسی مجرم کو سزا نہیں دیتی تو آپ اپنا بدلہ خود لیتے ہیں یا خود اپنی ہی عدالت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 14 سالہ طالب علم کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے طالب علم کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ارسلان کے پاس سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور اسے جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ ناصر آفتاب نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ملوث کانسٹیبل توحید کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سینٹرل، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل اور ایس پی گلبرگ پر مشتمل ایک تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ دے گی۔ مشکوک پولیس مقابلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کراچی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور لواحقین کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یوں نقیب اللہ محسود کے بعد ایک اور باپ نے اپنے معصوم بچے کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں کھو دیا ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کس کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جنہوں نے قتل کیا ہے وہ آج یا کل چھوٹ ہی جائیں گے کیونکہ ہمارا نظام انصاف ہی ایسا ہے ۔ ایسے دسیوں ہزاروں کیس پہلے بھی آچکے ہیں مگر کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ۔ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بارہویں جماعت کے اس نو خیز طالب علم ارسلان محسود کو آج کراچی کے پولیس اہل کاروں نے شہید کیا ہے۔ دنیا بھر کی پولیس شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے مگر ہمارے ہاں محافظ قاتل بن گئے ہیں۔ یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ پنچاب پولیس پیچھے رہ جائے ۔ گزشتہ روز لاہورکی ماڈل ٹاؤن کچہری میں قیدیوں کے گروپوں میں جھگڑا ہوا جسے روکنے کیلئے پولیس نے بخشی خانےکا دروازہ کھولا تو قتل کے دو ملزمان سمیت 10 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

    ۔ ٹیوب لائٹ اور لاٹھی اٹھائے ملزمان اسلحہ تھامے اہلکاروں پر حاوی نظر آئے جبکہ قیدیوں کے حملے میں 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ جو اس حوالے سے ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس نے تو کلی کھول کر رکھ دی ہے ۔ کہ ہماری پولیس کتنی جوگی ہے ۔ یہ صرف مظلموں اور کمزوروں پر ہی ظلم کر سکتی ہے ۔ جب ایسے سماج دشمن عناصر سامنے ہوں تو پھر یہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں ۔ اب ان تمام اسٹوریز کے بعد یہ سوال اُٹھایا جانے لگا ہے کہ ہمارا معاشرے کس جانب گامزن ہے ۔ پھر حکومت کہاں ہے ۔ عملاً تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہ حکومت کہیں نہیں ہے ۔ پورے ملک میں لاقانونیت کا ایک دور دورہ ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک میں جنگل کے قانون سے بھی برا حال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے ۔ مگر اس وقت پاکستان میں صرف طاقت کا قانون ، کرسی کا نشہ اور نااہلی کا دور ہے ۔ یہ اتنی لمبی تمہید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ جو کچھ فیصل آباد میں ہوا ہے جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ۔ اس کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ کیا واقعی ہی ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں ۔ جس کے حکمران اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں ۔ یہ تینوں ایسی اسٹوریز ہیں جو صرف پاکستان کے اندر ہی وائرل یا بہت زیادہ چل نہیں رہی ہیں بلکہ پاکستان سے باہر بین الاقوامی میڈیا بھی اس کو خوب کوریج دے رہا ہے ۔ اب اس کے بعد آپ جتنا مرضی دنیا کو کہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم بڑے مہمان نواز ہیں ۔ ہم امن پسند ہیں ۔ پر جو جو یہ خبریں پڑھے گا یا دیکھے وہ پاکستان آنے بارے دس بار سوچے گا ضرور۔۔۔ ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نماز کے وقت، مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر گلی میں مدرسہ بنتا جا رہا ہے۔ روزانہ لاکھوں قرآن ختم ہو رہے ہیں، ہر بچے کو قرآنی تعلیم لازمی دی جاتی ہے، اس کے علاوہ، لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ڈاکٹر، انجنیئر، گریجوئیٹ بن رہے ہیں، مگر انسان کوئی نہیں بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

  • ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیق ادارے ناسا نے بتایا کہ ایفل ٹاور سے بھی بہت بڑی ایک خلائی چٹان اگلے ہفتے زمین کے مدار میں داخل ہوگی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق انڈے کی شکل کا سیارچہ جس کا نام 4660 Nereus ہے، 1,082 فٹ لمبا ہے اور 11 دسمبر بروز ہفتہ 14,700 میل فی گھنٹے کی رفتار سے زمین کے مدار میں داخل ہوگا۔

    ناسا نے بتایا کہ توقع یہی ہے کہ چٹان زمینی سطح سے کچھ فاصلے پر بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزرے گیلیکن اس بار یہ 20 سال پہلے کی نسبت زیادہ قریب سے گزرے گا خلائی چٹان کو نیریس کا نام دیا گیا ہے جو کہ یونانی سمندری دیوتا کے نام سے منسوب ہے۔

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    نیریس اندازاً 24 میل دوری کے فاصلے پر ہوگا سننے میں یہ فصلہ بڑا لگتا ہے لیکن خلائی معیار کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک پتھر قریب سے گزرا ہوا۔

    خلاء میں جب کوئی چیز زمین سے 12 کروڑ میل کے فاصلے پر آتی ہے ناسا اُسے زمین کے قریب اور ساڑھے 46 لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی چیز کو ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیتا ہے قریب یا خطرہ قرار دیے جانے کے بعد ماہرینِ فلکیات اس کی حرکات کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

    1982 میں دریافت ہونے والے نیریس کا سورج کے گرد مدار 1.82 برس کا ہے جس کی وجہ سے یہ ہر 10 سالوں میں دنیا کے قریب آتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    نیریس کے نظام شمسی کے ہمارے علاقے میں تواتر کے ساتھ آنے کی وجہ سے ناسا اور جاپانی خلائی ایجنسی JAXA نے ایک بار اس سیارچے کا نمونہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بجائے 25143 Itokawa نامی سارچے پر چلے گئے۔

    ناسا کے اندازے کے مطابق نیریس اب 2 مارچ 2031 اور نومبر 2050 میں زمین کے قریب سے گزرے گا اور اس کا اس سے بھی زیادہ قریبی گزر 14 فروری 2060 کو ہوگا جب یہ سیارچہ 7.4 لاکھ میل کی دوری سے گزرے گا۔

    چھ لاکھ سےزائد سیارچوں کی مانٹرنگ کرنے والے ڈیٹا بیس آسٹیرینگ نے اندازہ لگایا ہے کہ اس سیارچے میں نِکل، لوہا اور کوبالٹ جیسی دھاتوں کے ذخائر موجود ہیں جن کی کُل مالیت 4.71 ارب ڈالرز ہے۔

    580 برسوں میں اب تک کا طویل ترین چاند گرہن آج ہوگا

  • دنیا بھر میں ویب سائٹ اچانک کریش ہونے پر ایمیزون کی وضاحت

    دنیا بھر میں ویب سائٹ اچانک کریش ہونے پر ایمیزون کی وضاحت

    دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کے بعد بڑی ویب سائٹس اچانک کریش ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایمیزون کی ویب سائٹ اور ایپ منگل کو دنیا بھر کے ہزاروں صارفین کے لیے کریش ہو گئی،جس کی وجہ سے صارفین کی پریشانی کا سامنا کرانا پڑا اور ڈیلیوری ٹرک راستوں میں ہی رُک گئے کیونکہ ڈرائیور اپنے راستوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

    ڈیلی میل کے مطابق، پلیٹ فارم اور ایمیزون ویب سروسز، جو آن لائن ایپلی کیشنز پیش کرتی ہیں، کوگزشتہ روز صبح 10.40 بجے ای ٹی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

    بلومبرگ کے مطابق، دوپہر 2 بجے کے قریب، ڈیلیوری سروس کے تین شراکت داروں نے اطلاع دی کہ ڈیلیوری ڈرائیوروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایمیزون ایپ کام نہیں کر رہی تھی، جس کی وجہ سے وہ ٹرکوں کو روک رہے ہیں-

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں شمالی امریکہ اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصے شامل ہیں، جو آن لائن بندش پر نظر رکھتا ہے۔ امریکہ میں 20,000 سے زیادہ صارفین نے مسائل کی اطلاع دی۔

    زیادہ تر صارفین نے ایمیزون کی ویب سائٹ پر بندش کی اطلاع دی جبکہ کم لوگوں کو ایپ کے ساتھ مسائل تھے۔ کچھ صارفین چیک آؤٹ کرنے اور اپنی کارٹس میں اشیاء خریدنے سے قاصر تھے اس کے علاوہ، کچھ صارفین نے کہا کہ وہ ایمیزون میوزک استعمال نہیں کر سکتے، جس کے لئے وہ ماہانہ $16 فیس ادا کرتے ہیں-

    ڈیلی میل کے مطابق، بندش نے سروس فراہم کرنے والوں کو بھی متاثر کیا جن میں کیش ایپ، کیپیٹل ون، چائم، آئی روبوٹ، گو ڈیڈی، انسٹا کارٹ کنڈل، روکو اور ایسوسی ایٹڈ پریس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ صارفین کوڈزنی پلس کے ساتھ مسائل تھے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ای ٹی 1 بجے سے پہلے بحال ہو گیا ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ایمیزون نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ حادثہ اس کے ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) میں دشواریوں کی وجہ سے ہوا، جو ایپلیکیشن سافٹ ویئر بنانے اور انٹیگریٹ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    ایمیزون نے اپنے سروس ڈیش بورڈ پر ایک رپورٹ میں کہا کہ ہم یو اسی ایسٹ 1 ریجن اے پی آئی اور کنسول کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں-

    کمپنی نے بعد میں کہا کہ وہ ‘بحالی کے کچھ آثار نظر آنا شروع ہو رہے ہیں’ لیکن ‘ہمارے پاس اس وقت مکمل بحالی کے لیے کوئی ای ٹی اے نہیں ہے’۔

    ایمیزون کرسمس تک تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں کریش ہوا۔ بہت سے صارفین نے ٹویٹر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

    ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا، ‘ایمیزون ڈاؤن ہے۔ کرسمس پر جنگ شروع ہو چکی ہے۔

    ایمیزون کی آخری بندش جولائی میں تھی، تقریباً دو گھنٹے کے لیے۔ 38,000 سے زیادہ صارفین نے ایمیزون کے آن لائن اسٹورز کے ساتھ مسائل کی اطلاع دی۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

  • موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ     ازقلم: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ ازقلم: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور مہنگائی میں صدقہ خیرات کا آسان طریقہ

    ازقلم غنی محمود قصوری

    حضرت انسان شروع سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ مشکلات اور بھی ہیں مگر جب سے سلطنت عمرانیہ کا قیام ہوا ہے تب سے یہ مشکلات شدید مصائب میں تبدیل ہو چکی ہیں
    مگر اس سب کے باوجود ایک چیز ایسی بھی ہے جو ہمیں دنیاوی و اخروی زندگی کی خوشحالی دے سکتی ہے جس کا نام ہے صدقہ

    نماز روزہ و دیگر عبادات کی حد مقرر ہے کہ اتنے سے کم نا ہو اور اتنے سے زیادہ نا ہو مگر صدقہ کی حد مقرر نہیں یہ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ بھی کیا جاسکتا ہےحدیث کی رو سے سب سے افضل صدقہ اپنے بیوی بچوں کو اچھا کھلانا پلانا ہے

    اب سوچنے کی بات ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں جہاں اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ترین ہے وہاں صدقہ کیسے کیا جائے ؟

    قارئین صدقہ محض پیسے،اجناس،املاک دینے کا ہی نام نہیں بلکہ مسلمانوں کیلئے آسانی پیدا کرنا ان کو دیکھ کر مسکرانا بھی صدقہ ہے اور صدقہ کی کوئی مقدار بھی متعین نہیں کہ اس سے کم صدقہ ہرگز نا ہو گا

    ارشاد نبوی ہے

    اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ

    جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ دے کر ہی

    یعنی آپ کم سے کم چیز صدقہ کیجئے تو بھی وہ اللہ کے ہاں قابل قبول ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ بہت بڑا تقوی سے عاری صدقہ ایک معمولی سے تقوی پر مبنی صدقہ سے روز قیامت اعمال میں ہلکا ہو جائے

    کیا صدقہ صرف پیسہ سے ہی دیا جا سکتا ہے اس بارے حدیثیں پیش خدمت ہیں-

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک صدقہ ﷲ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے نیز مسلمان بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے

    حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے، اور تمہارا بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے اور تمہارا کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ تکلیف دہ چیز) کا ہٹانا بھی تمہارے حق میں صدقہ ہے اور اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کی بالٹی میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے

    ان احادیث سے ثابت ہوا کہ صدقہ محض روپیہ پیسہ دولت سے ہی نہیں بلکہ معمولی اعمال سے بھی کیا جاتا ہے اور یہ صدقہ اللہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے تو آج ہی ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے اپنے لئے آسانیاں پیدا کریں اپنے مسلمان بھائی کو وعض و نصیحت کریں راستوں سے تکلیف دہ چیزیں ہٹائیں لوگوں کی عیب پوشی کریں اور ان چھوٹے چھوٹے اعمالی صدقات سے اپنی دنیاوی و اخروی زندگی اچھی کریں کیونکہ فرمان نبوی ہے کہ اللہ تعالی تب تک اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے –

    اب سوچنا یہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں مالی صدقہ کیسے کیا جائے ؟

    تو اس کیلئے پلاننگ کریں اپنے سے غریب افراد کی مدد کی

    اگر آپ مزدور ہیں اور روزانہ کا 800 روپیہ کماتے ہیں تو محض روزانہ 10 روپیہ نکال کر الگ سے رکھ لیں اور مہینے بعد 300 روپیہ جمع ہونے پر اپنے سے مالی کمزور اپنے کسی عزیز رشتہ دار ،محلے دار کو بطور صدقہ دیں تاکہ ان پیسوں سے اس کے گھر کا کم از کم آدھ دن کا خرچ ہی نکل آئے گا

    اگر آپ تنخواہ دار ہیں اور 25000 روپیہ تنخواہ لیتے ہیں تو محض 1000 روپیہ الگ کر لیں اور سمجھ لیں آپ کی تنخواہ 24000 روپیہ ہے اور وہ 1000 روپیہ کسی ضرورت مند کو دیں یقین کیجئے آپ کے محض 1000 روپیہ کے عیوض وہ ضرورت مند آپکو اربوں کھربوں روپیہ کی دعائیں دے گا جس سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہو گا ،بیماریوں سے نجات ملے گی اور ذہنی سکون ملنے کی انتہاہ ہو جائے گی

    نبی کریم کا فرمان ہے یہ صدقہ خیرات مال کم نہیں کرتے بلکہ مال میں اضافہ کرتے ہیں
    تو آئیے ان آسان طریقوں سے اپنی دنیاوی و اخروی زندگی خوبصورت بنا لیجئے
    انہی صدقہ خیرات کی عادت اے انسان معاشرتی برائیوں اے بچتا ہے اور اس کے اندر احساس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور احساس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو انسان اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے

    دعا ہے اللہ تعالی ہمیں صدقہ خیرات کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے صدقہ خیرات قبول فرمائے آمین

  • ڈھاکا میں پاکستان بنگلہ دیش ٹیسٹ کا آج آخری دن

    ڈھاکا میں پاکستان بنگلہ دیش ٹیسٹ کا آج آخری دن

    ڈھاکا میں کھیلے جانے والے پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کا آج آخری دن ہے۔

    باغی ٹی وی : بنگلادیش آج اپنی اننگز 76 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے شروع کرےگا ہوم ٹیم کے آخری چار کھلاڑیوں کے لیے پہلا ہدف اپنی ٹیم کو فالو آن سے بچانے کے لیے مزید 25 رن بنانا ہوگا۔

    ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز بنگلادیش نے 7 وکٹ کے نقصان پر 76 رنز بنالئے تھے پاکستان کے ساجد خان نے 12 اوورز میں 6 وکٹ حاصل کرلی ہیں۔

    ورلڈ کپ 2022 کا شیڈول آئندہ ماہ جا ری کرنے کا اعلان

    کپتان بابر اعظم کے ڈیکلیریشن کے فیصلے اور اسپنر ساجد خان کی تباہ کن بولنگ نے آج ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان کے لیے جیت کی امید پیدا کردی ہے۔

    ڈھاکہ ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کے پہلے بیٹنگ کا انتخاب کیا تھا پاکستان نے پہلی اننگز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 300 رنز بنا کر اننگ ڈیکلیر کردی تھی عابد علی 39، عبداللّٰہ شفیق 25، اظہر علی 56 اور بابر اعظم نے 76 رنزبنائے تھےپاکستان کی جانب سے اننگ ڈیکلیر کرتے وقت فواد عالم 50 اور محمد رضوان 53 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

    آسٹریلین کرکٹ ٹیم کا سیکیورٹی وفد کراچی پہنچ گیا

    ڈھاکا ٹیسٹ:چوتھے روز بھی میچ کا آغاز نہیں ہوسکا

    چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کرکٹ شائقین کو خوشخبری سنادی

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • بھارت:جہاں‌روزانہ 3دلت خواتین کو عصمت دری کےبعد قتل کردیا جاتا ہے

    بھارت:جہاں‌روزانہ 3دلت خواتین کو عصمت دری کےبعد قتل کردیا جاتا ہے

    نئی دہلی :بھارت:جہاں‌روزانہ 3دلت خواتین کو عصمت دری کےبعد قتل کردیا جاتا ہے،اطلاعات کے مطابق فسطائی راشٹریہ سوائم سیوک سنگ کے زیر اثرمودی حکومت بھارت کو ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ملک میں دلتوں کو جوہندوئوںکی آبادی کاتقریبا ایک چوتھائی ہیں کو مساوی شہری نہیں سمجھا جاتا اور انہیں اونچی ذات ہندوئوںکے مندروں میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت دلت برادری جسے "اچھوت”بھی کہا جاتا ہے کو صدیوں سے نام نہاد اونچی ذات کے ہندوں کی طرف سے منظم ظلم وجبر کا سامنا ہے۔بھارت میں ذات اورپات اور ہندو ثقافت کے نظام تحت اونچی ذات کے ہندودلتوںکو یکساں حقوق نہیں دیے جاتے ہیں۔بھارت کے بعض دیہات میں دلتوں کو جوتے پہننے ، سائیکل یا گھوڑے پر سوارہونے، اونچی ذات کے ہندوئوں کے سامنے اپنی بارات لے جانے یا اونچی ذات کے ہندئوں کے مندر میں پوجا کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔

    گزشتہ کچھ برس کے دوران دلتوں پرڈھائے جانیوالے مظالم کے جائزے کے دوران اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہندو سماج میں دلتوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس اور عدلیہ ہمیشہ اونچی ذات کے ہندومجرموں کی حمایت کرتے ہیں ۔بھارت میں 2011میں کی گئی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کی دلت آبادی کا تقریبا نصف حصہ چار ریاستوں میں مقیم ہے۔

    اتر پردیش شیڈول کاسٹ کی مجموعی طورپر20.5فیصدآبادی کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جب کہ دلت ہندوستان کی آبادی کا تقریبا 16.6فیصدہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود دلتوں کو ہمیشہ اونچی ذات کے ہندوئوں کے ہاتھوں بے عزتی، ظلم و تشدد اور انکی خواتین کو عصمت دری کا خوف رہتا ہے ۔ دلت خواتین دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔ مودی کے ہندوستان میں دلت خواتین کو عصمت دری اور بھوک کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا۔

    حال ہی میں ریاست اتر پردیش میں متھرا کے علاقے کوسی کلاں میں جسم فروشی سے انکار کرنے پر دلت لڑکی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا۔ کے ایم ایس کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں دلت خواتین کواکثر عصمت دری کانشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ اعلی ذات کے ہندو سمجھتے ہیں کہ انہیں ان کی عصمت دری کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں روزانہ اوسطاً 3 دلت خواتین کی عصمت دری اور 2 و قتل کیا جاتا ہے۔ بھارت میں دلت لڑکیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کو پولیس اور میڈیا اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔