Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

    عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

    قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دوںوں کی جانب سے ایک بار پھر خوب الزام تراشی ہوئی ۔ منی بجٹ ایجنڈا نمبرون رہا ۔ ایک دوسرے کو خوب آئینہ دیکھانے کی بھی کوشش ہوئی ۔ دیکھا جائے تو حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت منی بجٹ کو منظور کرانے کے لیے جتنی بے تاب ہے اپوزیشن اتنا ہی اس معاملے میں رخنہ اندازی کررہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ یہ بات سچ بھی ہے ۔ پر پاکستان کی اس معاشی صورتحال کو عالمی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے آگے چل کر تفصیل سے آپکو بتاتا ہوں ۔

    ۔ فی الحال تحریک انصاف جس طرح عوام پر آئی ایم ایف کو ترجیح دے رہی ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اس پر اعتماد نہیں کریں گے۔اور اس چیز کا کپتان کو جھٹکا ضرور لگے گا ۔۔ میں آپکو بتاوں یہ طے شدہ بات ہے کہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اس پر بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے اور ان شرائط کے ذریعے وہ اس کی ملک کی آزادی اور خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے علاوہ معاشی حوالے سے زیادہ تر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ۔ پھر یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ اور مختلف تھنک ٹینکس گزشتہ کئی برسوں سے ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ انتہاپسندی ، شدت پسندی اور غیر یقینی سیاسی حالات کو جواز بنا کر پاکستان کے جوہری اثاثوں، بلوچستان اور آزاد قبائلی علاقوں کے حوالے سے جارحانہ اور اشتعال انگیزانہ پراپیگنڈہ بھڑکاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ان ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کے مفروضات پر مبنی خیالات دراصل اُن کے ما فی الضمیر میں چھپے مذموم عزائم ہیں۔ اسی لیے امریکی حکام کا رویہ پاکستان سے ٹھیک نہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں ماضی میں بھی اور اب بھی قرضہ دیتے ہوئے پاکستان سے کئی ایسی شرائط منوائی گئیں جن سے شاید حکمران اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ان شرائط کی وجہ سے مہنگائی میں ہونے والے اضافے نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔ ریاست سے عوام کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ خاص طور پر جو ان علاقوں میں جو باقی ملک کے مقابلے میں پیچھے ہیں ۔

    ۔ عالمی کیا اب تو لوکل ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت اس سطح پر آچکا ہے کہ آج ڈیفالٹ ہوا یا تو کل ۔ کیونکہ اس بار تو پاکستان کی زراعت کو ایسے لگتا ہے کہ سازش کے تحت تباہ کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ زراعت ہی ہماری backbone تھی ۔ جس کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ چاہے ہم ڈیفالٹ کرجائیں پر ہم اپنی عوام کو بھوکا نہیں مرنے دیں گے کیونکہ ہم اپنا اناج خود اگاتے ہیں پر اب ایسا نہیں ہے ۔ اب تو ہم گندم تک باہر سے امپورٹ کر رہے ہیں ۔ ۔ پھر اس وقت سی پیک کو لے کر بھی پاکستان پر بہت پریشر ہے کہ کسی طرح اس کو رول بیک کیا جائے ۔ چین کو یہاں سے نکالا جائے ۔ دراصل امریکی مفاد یہ ہے کہ پاکستان یوں ہی آئی ایم ایف کی بیساکھیوں کے سہارے چلتا رہے ۔ اور اپنے پیروں پر کبھی کھڑا نہ ہوسکے ۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ بھی کر جاتا ہے تو کرجائے کیونکہ اب امریکی ماننے لگے ہیں کہ یہ بھی ان کے مفاد میں ہے ۔ کیونکہ چین تو کئی تیس بلین ڈالرز سے زیادہ پاکستان میں لگا چکا ہے ۔ اور اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تو چین ۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ۔۔۔ ہر صورت پاکستان کو ریسکیو کرنے کو آئے گا ۔ اوریوں چین پر پاکستان ایک اضافہ بوجھ سا بن جائے ۔ جس فائدہ بالآخر امریکہ کو ہی ہوگا ۔

    ۔ میں کوئی conspiracy theory پیش کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہے صرف حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ نتیجہ آپ خود اخذ کر لیں ۔ ۔ اب جب اس تمام صورتحال میں یہ چیز سامنے آئے کہ تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت ہمارے دشمن نمبرون ممالک سے فنڈز بھی موصول ہوئے ہیں ۔ تو انسان سوچنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے کہ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو پاکستان کو گروی نہیں رکھوایا جارہا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو نہیں چن چن کر نااہل لوگ ادارے میں لگائے جا رہے ہیں کہ نظام بالکل ہی بیٹھ جائے ۔ پاکستان بالکل ہی فیل ہوجائے ۔ اس فارن فنڈنگ کیس کو آپ معمولی چیز نہ سمجھیں ۔ جن ممالک سے فنڈنگ کے الزامات ہیں وہ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں جب آپ معاشی طور پر فیل ہوگے تو نہ تو ایٹمی قوت برقرار رکھ سکیں گے نہ ہی اتنی بڑی فوج کو مینج کرسکیں گے ۔

    ۔ میرے خیال سے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پی ٹی آئی کو شائد نئے نام سے جماعت رجسٹر کرانی پڑے ۔ اس رپورٹ نے جہاں ملک بھر کے اہل علم کو ششدر کر دیا ہے وہیں دنیا بھر میں پی ٹی آئی کے دوستوں کوبھی حیران کیا ہے جبکہ چندہ دینے والے افراد تنظیمیں اور ادارے بھی تذبذب کاشکار ہیں ۔ ۔ آپ دیکھیں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے کل بارہ جنوری کو اپنے ایک اجلاس میں اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ پاکستان نے کس حد تک اس کی شرائط کو نافذ کیا ہے۔ اس جائزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک ارب پانچ کروڑ ڈا لر کی قسط دینے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا۔ ۔ اب پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے درخواست کی کہ جائزہ اجلاس مؤخر کردیا جائے کیونکہ شرائط کے نفاذ کے لیے منی بجٹ اور سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل تاحال پارلیمان سے منظور نہیں ہوئے۔

    ۔ اس پر پاکستان میں آئی ایم ایف کی ترجمان Esther Perez فوراً نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے چھٹے جائزے پر غور پاکستان کی درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے ۔ اب امکان ہے کہ اجلاس اسی مہینے کی 28 یا 31 کو ہوگا اور حکومت کوشش کررہی ہے کہ اس اجلاس سے پہلے دونوں بلوں کو پارلیمان سے منظور کرالے۔ ۔ منی بجٹ کی منظوری سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اس بل کا جائزہ لے کر آئین کی شق 73 کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کررہی ہے۔ قومی اسمبلی ان سفارشات کی پابند نہیں اور وہ ان پر غور کیے بغیر بھی منی بجٹ کی منظوری دے سکتی ہے۔ ۔ پھر سینیٹ کسی بھی بل سے متعلق اپنی سفارشات مرتب کرنے کے لیے چودہ دن کا وقت لیتا ہے تاہم چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 4 جنوری کو ارکان سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اس بل سے متعلق سفارشات تیار کریں جس پر ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اتنی کم مدت میں بل پر غور نہیں کرسکتے۔ ۔ آپ دیکھیں عمران خان مسلسل خود کو پاک اور شفاف قرار دیتے آرہے ہیں بلکہ صادق و امین کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ لگاتے ہیں اپنی ہر تقریر میں اپنے مخالفین کی خوب لیتے ہیں انہیں چور ،بد عنوان اور نہ جانے کیا کیا کہتے آرہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ ان کا اوڑھنابچھونا ہے۔ مگر جس طرح یہ آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے گلے میں ڈال رہے ہیں ۔ اور جو فارن فنڈنگ کیس کے راز کھل کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔ وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونے چاہیئں ۔

    ۔ میں آپکو بتاؤں کہ فارن فنڈنگ کیس میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے کے بعد عمران خان خود اور پی ٹی آئی بھی اخلاقی پیمانوں میں وہیں کھڑی ہے جہاں وہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اب تو انکے حمائتی بھی انکی حمایت میں بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ بالکل ان کے اپنے ترجمان جیسے احمد جواد انھوں نے تو آج سیریز آف ٹویٹس کی ہیں کہ
    ” پی ٹی آئی کے دور میں کروڑ پتی اور ارب پتی بننے والے پی ٹی آئی کے وزیروں اور لیڈروں کی فہرست بنا رہا ہوں ۔ ریاست مدینہ میں انصاف اور احتساب سب کا ہوگا ۔ ادھر ترکی میں بھی کچھ کھرے ملے ہیں ”
    ۔ اسے کہتے ہیں اونٹ کا پہاڑ کے نیچے آنا یا مکافات عمل کا شکار ہونا، پی ٹی آئی اس الزام کے بعد عوام کی نظروں میں مزید گر چکی ہے مہنگائی ،لاقانونیت اندرونی اور بیرونی سطح پر بھی اسکی کوئی شاندار کارکردگی نہیں تھی لیکن اس معاملے نے تو پی ٹی آئی کی رہی سہی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ۔ کیونکہ یاد رکھیں یہ سب کچھ کوئی پی ٹی آئی کے خلاف سازش نہیں بلکہ یہ تمام آوازیں ، الزامات اور حقائق پی ٹی آئی میں موجود اچھے لوگ سامنے لائے ہیں جو عمران خان کی تقریروں کے دھوکے میں آگئے تھے ۔ پر جب انھوں نے حقائق دیکھے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ فارن فنڈنگ کیس کا علم بھی سابق پی ٹی آئی کے لیڈر اکبر ایس بابر نے اٹھایا ہوا ہے ۔ پھر حکیم سعید سے لے کر ڈاکٹر اسرار کے عمران خان کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔ تو موجودہ دور میں فضل الرحمان تو بغیر کسی لگی لپٹی کے عمران خان کو جن کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں ۔ اگر خوانخواستہ یہ رتی برابر بھی ٹھیک نکلا تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الحال پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ عالمی طاقتیں جہاں پاکستان کو زیر نگیں رکھنا چاہتی ہیں تو ہماری حکمران اشرافیہ ان کی رکھیل بنی ہوئی ۔ ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات ، اپنی پارٹی ، اپنے رشتہ دار اور اپنے کاروبار کا تو خیال ہے ۔ عوام کا کیا بنے گا ۔ اس ملک کا کیا ہو ۔ اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ۔ حکمرانوں کی عالمی اسٹیبلشمنٹ سے پیار کی پینگیں اور عوام سے یہ ہی وہ لاتعلقی ہے ۔ جو سب کچھ ملیا میٹ کرسکتی ہے ۔

  • اسپورٹس کیلنڈر 2022 جاری:کتنے ٹورنامنٹس اور کتنے میچ ساری تفصیلات بھی بتادیں

    اسپورٹس کیلنڈر 2022 جاری:کتنے ٹورنامنٹس اور کتنے میچ ساری تفصیلات بھی بتادیں

    لاہور:اسپورٹس کیلنڈر 2022 جاری:کتنے ٹورنامنٹس اور کتنے میچ ساری تفصیلات بھی بتادیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ہاکی ٹیم رواں سال 6 انٹرنیشنل ایونٹس سمیت 7 ڈومیسٹک ایونٹس میں حصہ لے گی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اسپورٹس کیلنڈر برائے سال 2022 جاری کیا ہے جس میں 6 انٹرنیشنل ایونٹس سمیت 7 ڈومیسٹک ایونٹس اسپورٹس کیلنڈر کا حصہ ہیں جبکہ 16 آل پاکستان ٹورنامنٹس اور 4 ٹریننگ ورکشاپس بھی اسپورٹس کیلنڈر کا حصہ ہیں۔

    پی پی آئی کے مطابق انٹرنیشنل ایونٹس میں ایشیاءکپ، کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز سمیت 6 ایونٹس شامل ہیں.پی پی آئی کے مطابق امپائرز، کوچز اور ٹیکنیکل آفیشلز کی استعداد کو بڑھانے کے لئے چار ٹریننگ ورکشاپس بھی پلان میں شامل ہیں۔

    خواتین کی سینئر و جونیئر ہاکی چیمپئن شپس سمیت چار قومی ایونٹ اسپورٹس کیلنڈر کا حصہ ہیں جبکہ انٹر اسکول، انڈر 16 ہاکی چیمپئن شپ سمیت انٹرکلب چیمپئن شپ بھی اسپورٹس کیلنڈر میں شیڈول ہیں۔

  • "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    "میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کا سکون”تحریر فرزانہ شریف

    ‏باغی ٹی وی کی آج دسویں سالگرہ ہے جو کہ آج ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پہ ہے الحمدللہ تو سوچا اس خوشی میں کوئی ارٹیکل ہی لکھ دوں تو معاشرتی موضوع پر ہی لکھنے کو دل کیا ۔۔۔!!!

    شادی ایک مقدس بندھن ہے جس کو دونوں طرف سے پورے دل اور خوشی سے نبھایا جانا چاہئیے جس میں وفا ۔ایمانداری صاف نیت اس کی بنیاد ہو لیکن کچھ لوگ شارٹ کٹ سے اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ کسی معافی کے قابل نہیں ہوتے ان کو اگر متاثرہ شخص سزا نہ بھی دے لیکن میں نے ایسے لوگوں پر اللہ کی بےآواز لاٹھی ضرور برستی دیکھی ہے۔۔۔!!
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے اگر داماد اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے تو اس کی سرے عام تعریفیں کی جاتی ہیں اور اگر بیٹا بہو کے آگے پیچھے پھرے تو اسے زن مریدی کا طعنہ دیا جاتا ہے

    بیٹی اور داماد کا رومانس تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن بہو اور بیٹے کا رومانس بےشرمی لگتا ہےاگر بیٹے کو بہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے ساس دیکھ لے تو اپنی 40 سال پرانی مثالیں دینی شروع کردیتی ہیں کہ ہم تو جب تک ہمارے ساس سسر ذندہ رہے کبھی ان کے سامنے بات بھی نہیں کرتے تھے ایک دوسرے کے سامنے ایک ساتھ بیٹھ کر یوں بےشرمی سے لاڈ کرنا تو بڑے دور کی بات ہے اور نئی نویلی دلہن دل ہی دل میں اس بات پر شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے وہ دلہن جس کو شادی سے پہلے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے اپنے اصلی گھر مطلب سسرال میں جاکر اپنے سارے شوق پورے کرنا اپنی مرضی کے فیشن کرنا جیسے دل کیا رہنا ۔(70 فیصد لڑکیوں کی بات بتارہی ہوں 30 فیصد وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو اچھی قسمت لیکر دنیا میں آتی ہیں بنا کسی امتحان کے سب کچھ پلیٹ میں سجا اسے ملتا ہے سسرال میں والدین کے گھر جیسا ماحول پیار ملتا ہے عزت ملتی ہے اور بنا محنت کے دنیا کی ہر آسائش ملتی ہے اور ان 30 فیصد لڑکیوں جیسی قسمت پانے کے لیے کچھ لڑکیوں کو اپنی آدھی ذندگی مشکل ترین حالت کا سامنا کرنے کے ساتھ انگاروں پر ایک طویل سفر کرنے کے بعد ملتی ہے) وہ دن جو میاں بیوی کے ایک دوسرے کے سمجھنے کے ہوتے ہیں لاڈ اٹھانے اٹھوانے کے ہوتے ہیں وہ دن سسرال والوں کے دل جیتنے میں صرف ہوجاتے ہیں سالوں سال لگ جاتے ہیں اس کوشش میں کوئی خوش قسمت لڑکی ہی ہوتی ہے جو اس امتحان میں سرخرو ہوتی ہے۔عمومآ لڑکی کی شادی 19سال سے بیس بائیس سال تک ہوجاتی ہے شادی شدہ ذندگی اس کے لیے خوبصورت خوابوں کے جیسی ہوتی ہے جہاں اس نے اپنے سارے ارمان خواب پورے کرنے کا سوچا ہوتا ہے وہ خوبصورت خواب اپنے ہم سفر کے ساتھ مل کر پورے کرنے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ دو الگ الگ انسان ایک دوسرے سے جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کریں ہوتا کیا ہے لڑکی کے سسرال میں موجود کچھ لوگ لڑکی کو ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کرتے ہیں کہ آخر انیس بیس سال کی لڑکی کے سب خواب مرجاتے ہیں لڑکی میں پچاس سالہ روح سرائیت کر جاتی ہے۔جو خواب اس نے اس خوبصورت بندھن میں بندھ جانے کے بعد کے سوچے ہوتے ہیں وہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں یوں ایک کالج گرل دنوں میں 19 سالہ سے 50 سالہ عورت کی روح اپنے اندر محسوس کرنے لگتی ہے اور اپنا درد تکلیف اپنے والدین کو بھی نہیں بتاسکتی۔یوں درد سہتے سہتے اچھے وقت کے انتظار میں اپنی جوانی کے قیمتی سال ضائع کردیتی ہے پھر جب اچھا وقت آتا ہے تو اپنا مشکل وقت ایک فلم کی طرح اس کے دماغ کے ایک کونے میں ہمیشہ کے لیے سیو ہوجاتا ہے اب یہ اس لڑکی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ماضی میں خود پر جھیلی ہوئی تکلیفیں اپنی نئی نسل کو ان تکلیفوں سے بچانے کی کوشش کرتی ہے یا وہ یہ روائت جاری رکھتی ہے۔۔ یہ تو کہانی بیان کی مظلوم عورت کی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔

    ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ اگر عورت ایک جگہ مظلوم ہے تو دوسری طرف ایسی عورتیں بھی دیکھی جو ہر نعمت ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود "ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں "مارتی بھی دیکھیں لوگوں کی باتوں میں آکر اپنے مرد کا جینا حرام کردیتی ہیں ان کا سکون ختم کردیتی ہیں لایعنی باتوں سے ۔ہر بات میں جھوٹ بولتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ اسی مرد نے انھیں زمین سے اٹھا کر تخت پر بٹھایا ہوتا ہے دنیا کی ہر سہولت دی ہوتی ہے بقول شاعر کے
    "جن پتھروں کو ہم نے زباں بخشی تھی

    جو ملی انھیں زباں تو وہ ہمیں پہ برس پڑے”

    احسان فراموشی کی حد ختم کردیتی ہیں جب دیکھتی ہیں سب کچھ ہتھیا لیا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر لڑجھگڑ کر نئی منزل کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں ۔جب تک شوہر کے ساتھ رہتی ہیں گھر کو میدان جنگ بنائے رکھتی ہیں اچھے خاصے خوش مزاج شوہر کو نفسیاتی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ایسے شوہر کو جس میں اقدار ہیں، ناموس ہے، ایمان ہے۔ باوقار، با حیا، اور خوبرو ہے۔لیکن خودغرض اور کانوں کی کچی عورت ایسے نیک فطرت شوہر کو دکھ دینے سے پہلے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتی کہ اس مرد کی وجہ سے مجھے معاشرے میں اتنی عزت ملی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں خودغرضی کی ایسی پٹی بندھی جاچکی ہوتی ہے کہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوکر رہ جاتی ہے ۔۔!! لیکن اللہ نے شائد مرد میں برداشت کرنے کی قوت کچھ ذیادہ ہی رکھی ہوئی ہے شائد اسی لیے قرآن مجید میں بھی عورت سے مرد کا ایک درجہ اوپر رکھا گیا ہے اس کا حوصلہ آئرن کی طرح سخت ہوتا ہے کہ ہر درد تکلیف برداشت کرنے کے باوجود جب آپ اس سے ملیں گے، تو آپ اس انسان کے لیے دل میں بےحد عزت محسوس کریں گے اس کی اعلی ظرفی آپکو متاثر کرے گی آپکو وہ انسان اپنی سچائی اور فیاضی کی وجہ سے پسند آئے گا اگرچہ اسے دھوکے ملے ہیں،درد ملا ہے تکلیف پہنچی ہے لیکن آپ اسے اللہ کا شکر ادا کرتے پائیں گے اور شکر ایک ایسا عمل ہے جس نے کیا اللہ نے اسے پھر اپنے خزانوں سے بےحد بےشمار نوازا ہے ہر مومن جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہمارا بگاڑ سکتا ہے، اور کب تک بگاڑ سکتا ہے.جب تک اللہ نہ چاہے کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا نہ ہمیں نقصان دے سکتا نہ نفع دے سکتا ہے ہم تو بس اس کے’کن” کے محتاج ہیں وہ ‘کن”کہہ دے . پلک جھپکتے ہی سب کچھ سنور جاتا ہے وہ کچھ اللہ عطا فرما دیتا ہے جو ایک بندے کے گمان میں بھی نہیں ہوتا بس اس پر یقین کامل رکھنا چاہئیے بےشک وہ اپنے بندے سے بےانصافی نہیں کرتا اس کو صبر کا بہترین انعام ایک اچھے باوفا ہمسفر کی شکل میں ضرور عطا فرماتاہے

  • باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    باغی ٹی وی ایک اُمید :تحریر.ام سلمیٰ

    سوشل میڈیا پے میری پہچان باغی ٹی وی کے زریعے ہوئی
    اور آج باغی ٹی وی کی 10 ویں سالگرہ ہے ایک ایسا ادارہ جس نے نئے لکھنے والوں کا اپنا پلیٹ فارم دیا ایسے وقت میں جب کوئی بھی اچھا ادارہ پہلے ریفرینس مانگتا ہے ایسے وقت میں میری پہلی ہی تحریر باغی ٹی وی پر شائع ہوئی بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی ریفرینس کے.اور یہ ہی نہں مجھ جیسے اور کئی لکھاریوں کو باغی ٹی وی نے ایک پلیٹ فارم دیا جو پچھلے کئی سالوں سے باغی ٹی وی سے جُڑے ہیں. آئیں تھوڑا سا جانتے ہیں آج باغی ٹی وی کے بارے میں کون ہے جو اس ادارے کی سربراہی کر رہا ہے اور کس طرح صحافت کی دنیا میں نئے قدم رکھنے والوں کو بغیر کسی سفارش کے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے ؟اس ادارے کی سربراہی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں مبشر لقمان صاحب سینئر تجزیہ نگار دفاعی امور کے ماہر صحافت اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت جن کی سربراہی میں یہ ادارہ پچھلے 10 سال سے بہت محنت سے ڈیجیٹل میڈیا میں اپنا ایک خاص مقام پیدا کر چکا ہے.باغی ٹی وی اس وقت چار زبانوں میں اپنی نشریات لوگوں تک پہنچا رہا ہے اور باغی ٹی وی اپنی نشریات کا دائرہ کار اور وسیع کر رہا ہے. باغی ٹی وی اس وقت اردو , انگلش,پشتو, چینی زبان میں نشریات آپ تک پہنچا رہا ہے.

    باغی ٹی وی کا سینٹرل آفس اس وقت لاہور سے آپریٹ کر رہا ہے اور اس کے علاوہ ایک اور مین آفس کراچی میں بھی کام کر رہا ہے.

    باغی ٹی وی جس کا آغاز آج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ہی باغی ٹی وی کے چّا ہنے والے موجود ہیں ، سوشل میڈیا کے اس ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکوبھرپور طریقے سے بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا باغی ٹی وی اس کام کو بہترین طریقے سے انجام دے رہا ہے اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں معاشرے میں برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے.اور معاشرے میں بہتری میں باغی ٹی وی کے کردار کو سراہتے بھی ہیں.

    باغی ٹی وی نہ صرف معاشرے میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہا ہے بلکہ معاشرے میں ہونے والے برائیوں کے سد باب کے لیے مستقل سوشل میڈیا پے ٹرینڈ کی صورت میں مہم جا رہی رکھتا ہے۔باغی ٹی وی کی سگریٹ نوشی کے خلاف بھرپور مہم کا میں بھی حصہ رہی اور باغی ٹی وی مستقل اس معاشرتی برائی کو ختم کرنے اور گورمنٹ سے اس پر ٹیکس بڑھانے کی بھرپور قسم کی مہم چلا رہا ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی کئی اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں۔

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا.

    باغی ٹی وی کے ذریعے پورے پاکستان میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں جو لمحہ بہ لمحہ ہر طرح کی خبر آپ تک پہنچاتے ہیں.اُمید ہے باغی ٹی وی اس ہی طرح اپنے قارئین کو تازہ ترین خبریں پہنچتا رہے گا اور نئے آنے والے لکھاریوں کو بھی ضرور موقع دے گا جیسا ماضی میں کرتا رہا ہے.ایک بار پھر باغی ٹی وی کو 10 ویں سالگرہ مبارک ہو.
    Twitter
    Handle
    @umesalma_

  • صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے نئے آفیچر پر کام کا آغاز کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مزکوری فیچر کے تحت صارفین کو طویل پیغامات سننے کے لیے ایپ کھلی رکھنے یا اس کا انٹرفیس سامنے رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور یوں بیک گراؤنڈ میں بھی آڈیو پیغامات چلتے رہیں گے۔

    واٹس ایپ کے اندرونی حلقوں کے مطابق لوگوں کی اکثریت نے اس آپشن پر زور دیا تھا اس سے قبل واٹس ایپ نے وائس میسج کی رفتار کنٹرول کرنے اور انہیں بھیجنے سے قبل خود سننے کا آپشن بھی پیش کیا تھا جو بہت مقبول ہوا ہے-

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    اب عوامی اصرار پر بہت جلد واٹس ایپ پیغامات کو پس منظر میں سننا ممکن ہوسکے گا اس طرح آپ کا وقت بچے گا کیونکہ پیغامات چلتے رہیں گے اور آپ دیگر دوستوں کے پیغامات اور تصاویر کو دیکھ سکیں گے۔ اس طرح واٹس ایپ کے ایک آپشن سے جڑے رہنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔


    واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ‘گلوبل وائس میسج پلیئر’ کا فیچر متعارف کروادیا ہے جسے ابتدائی طور پر آئی فون کے بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کروایا گیا ہے یہ فیچر جلد ہی اینڈرائیڈ کے صارفین کے لیے بھی متعارف کروادیا جائے گا۔

    گلوبل وائس میسج پلیئر :کثر صارفین لمبے وائس میسج سے اکتا جاتے ہیں اور چیٹ بھی نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ چیٹ چھوڑنے کی صورت میں وائس میسج کی آواز بند ہوجاتی ہے گلوبل وائس میسج پلیئر کے تحت آپ وائس میسج سنتے ہوئے مذکورہ چیٹ چھوڑ کر دوسری چیٹ پر جاسکیں گے اور اس صارف کو باآسانی جواب دے سکیں گے، ساتھ ہی آڈیو نوٹ بھی پس منظر میں چلتا رہے گا اسے گلوبل نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ آپ کی اسکرین کے بالکل اوپر دکھائی دے گا، آپ جب چاہیں اسے سنتے ہوئے روک سکتے ہیں یا اسکرین سے ہٹا بھی سکتے ہیں۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

  • موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    موبائل فون کے استعمال سے کتنا نقصان ہو رہا ہے” تحریر: احمد محمود

    تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اہم کردار ٹکنالوجی کا ہے خاص کر موبائل فون،
    جتنی اس موبائل فون کے آنے سے سہولیات مہیا ہوئی اتنا ہی اس کے آنے سے معاشرہ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،
    جب موبائل فون ایجاد کیا گیا تھا تو اس وقت اٹھارہ گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد صرف دو گھنٹے استعمال کر سکتے تھے، اور آج دو گھنٹے چارجنگ لگانے کے بعد اٹھارہ
    گھنٹے استعمال کرتے ہیں، اس وقت لوگ ضرورت کے وقت ہی استعمال کیا کرتے تھے،

    اب جبکہ موبائل فون ہماری مجبوری بن چکا ہے دن ہو یا رات صبح ہو یا شام جیسے انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اب اس میں اس موبائل کو بھی ساتھ ملا لیں اس کے بغیر زندگی گزارنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے، اگر چوبیس گھنٹے میں موبائل فون استعمال نہ کریں تو جیسے ویٹامن کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے، اس موبائل فون کی وجہ سے کتنے اہم رشتے اپنائیت دینے والے بزرگوں اور نایاب دوستوں کو بچھڑتے دیکھا، یہ سوشل میڈیا یہ دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے والے اصل رشتے بھول بیٹھے ہیں، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ہمارے پاس بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے تو ہماری نوجوان نسل کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا کہ دو گھڑی توجہ دیں اور انکے ساتھ باتیں کر لیں یہ سوشل میڈیا کا پیار سب فراڈ ہے اصل محبت اور خلوص اس شخص کا ہے جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا ہے،

    پہلے جب کوئی خوشی کا موقع اتا تھا شادی بیاہ یا عیدین کے موقع پر ہم اپنے اپنے پیاروں کو ملنے انکے گھر جایا کرتے تھے صرف وہ ہی ایک موقع ہوتا تھا جب سب خاندان والے ایک ساتھ ایک جگہ موجود ہوتے تھے لیکن اس ایک موقع کو بھی اس موبائل فون نے چھین لیا کیونکہ آج کل لوگ صرف ایک میسج کر دیتے ہیں،

    موبائل فون استعمال کرنے کی ہر کسی کی اپنی وجہ ہے کوئی ٹائم پاس کرتا ہے تو کوئی سوشل میڈیا،اور ان سب میں سے ایک نشہ اور بھی ہے اور وہ گیمز کھیلنے کا ہے حال ہی میں ایک گیم متعارف کروائی گئی ہے جس گیم کا نام پب جی ہے جو اس نشے میں آگیا ہے اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہیں سیکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں کی زندگیاں نگل گئی یہ یم،المختصر اس موبائل فون نے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر لگا دیا،لیکن اس کی ایک خاص بات ہے کہ اس موبائل فون نے جتنی بھی ترقی کر لی لیکن اپنا بنیادی مقصد نہیں بھولا،پہلے ون جی یعنی صرف کال کرنے کی سہولت،پھر ٹو جی یعنی میسج کرنے کی سہولت،

    پھر تھری جی یعنی فوٹو بھیجنے اور دیکھنے کی سہولت، پھر فور جی یعنی ویڈیو کال کرنے کی سہولت اور پوری دنیا کو آپ گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے دیکھنے کی سہولت، اب ماہرین ٹکنالوجی فائیو جی کے تجربات کر رہے ہیں، چاہے جتنی بھی ترقی کر لی اس موبائل نے لیکن اپنا اصل کام نہیں بھولا آپ نے دیکھا ہوگا کہ چاہے جتنا بھی ضروری کام کر رہےہیں موبائل پر لیکن جب کال آتی ہے تو موبائل فوراً سب ہٹا کر پہلے کہتا ہے کہ کال سنو، افسوس کہ موبائل اپنے کام نہیں بھولا لیکن انسان بھول بیٹھے ہیں کیونکہ انسان کو بھی دن میں پانچ بار کال آتی ہے اللہ کی طرف سے لیکن ہم لوگ جاننے کے باوجود بھی انجان بن جاتے ہیں،
    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور راہِ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے،
    اللہ ہو آپ سب کا حامی و ناصر پاکستان ذندہ باد

  • چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    بیجنگ: گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    غالباً بہت زیادہ فاصلے اور کیمرے میں دھندلاہٹ کی وجہ سے ابتدائی تصویروں میں یہ پتھر ایک جھونپڑی جیسا دکھائی دے رہا تھا حالانکہ حقیقت اس سے بالکل ہی مختلف ہےغرض چاند پر چرخہ کاتنے والی بڑھیا کی طرح ’پراسرار جھونپڑی‘ کا معاملہ بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

  • باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب ایگزیکٹو ایڈیٹر باغی ٹی وی

    باغی ٹی وی کی ذمہ دارانہ و جراتمندانہ رپورٹنگ کے دس سال مکمل .تحریر: طہ منیب ایگزیکٹو ایڈیٹر باغی ٹی وی

    تین سال قبل ملک کے نامور اینکر مبشر لقمان کی زیر نگرانی باغی ٹی وی کے ساتھ بحثیت ایڈیٹر اپنی ٹیم کے ہمراہ شروع ہونے والا سفر تاحال جاری ہے، ان تین سالوِں میِں بے خوف صحافت ، حق ک پرچار، مظلوموں کا ساتھ اور ظلم ، بد عنوانی، دہشتگردی نا انصافی کے خلاف ڈٹ کر کام کرنے اور بہت کچھ کا موقع ملا۔
    باغی ٹی وی اردو انگلش کے ساتھ ساتھ پشتو زبان میں بھی رپورٹنگ کرنے والا پاکستان کا واحد ڈیجیٹل میڈیا چینل ہے، جو ملک بھر میں اپنے نمائندوں سمیت ایک بڑی ٹیم کے ہمراہ کام کر رہا ہے۔
    باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا کے برعکس باغی ٹی وی نے ہمشیہ نئے لکھاریوں کو اپنا پلیٹ فارم مہیا کر کے حوصلہ افزائی کی اور عام آدمی کی آواز بنا۔

    مظلوم کشمیریوں کے حق میں بے دھڑک اور آگے بڑھ کر رپورٹنگ کی، آج سے سوا دو سال قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم تو باغی ٹی وی واحد ادارہ تھا جو آگے بڑھ کر بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کرنے میں لیڈ کر رہا تھا جسکی گواہیاں دنیا بھر سے موصول ہوئیں۔
    باغی ٹی وی افغانستان میں امریکی قیادت میں مغرب کی مسلط کرتا نام نہاد وار آن ٹیرر کے خلاف نبرد آزما حریت پسندوں کی ہمیشہ آواز رہا اور جب یہ ظلم پر مبنی جنگ اپنے انجام کو پہنچنے لگی تو باغی ٹی وی پاکستان کا واحد ارادہ تھا جس نے دنیا کی افغانستان کے زمینی حقائق سے آگاہی دینے کیلئے باغی پشتو و دری پر مشتمل مقامی ٹیم ہائر کی جس نے لمحہ بہ لمحہ امریکی انخلا اور اس سے متصل معاملات پر حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا، یہ ٹیم تاحال ایکٹو ہے اور افغان بھائیوں کے مسائل دنیا بھر میں اجاگر کر رہی ہے۔

    وطن عزیز پاکستان کی وہ آوازیں جن پر قومی سطح پر قدغنیں لگی تھیں باغی ٹی وی نے کسی قسم کے دباؤ کے بغیر انہیں آواز دی اور اس کی پاداش میں قربانیاں بھی دیں۔
    بڑے بڑے مافیاز کی کرپشن کی بے نقابی میِں ہمیشہ کسی کو خاطر میں نہیں لائے، چاہے سول ایوی ایشن سے متعلق بے ضابطگیاں ہوں یا آٹو موبائلز کی چلتی پھرتی قاتل گاڑیاں باغی نے عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔
    باغی ٹی وی کے قارئین ،ناظرین اور خیر خواہوں کا شکریہ کہ یہ سب ان کے تعاون سے ہی ممکن ہوا، باغی ٹی وی اپنی دسویں سالگرہ پر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اپنی زریں روایات کے عین مطابق حق سچ کی آواز بنتا رہے گا ان شا اللہ
    Baaghi اردو Baaghi TV پشتو Baaghi News

  • سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

    ریاض: سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل کُھل گیا-

    باغی ٹی و: عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل سب کی توجہ کا مرکز بن گیاکھلے صحرا میں کورونا کی احتیاطی تدابیرکے ساتھ بنائے گئے اونٹوں کے اوپن ائیرہوٹل تتمان میں ایک رات کا کرایہ 400 ریال یا 100 ڈالرسےکچھ زیادہ ہےان پیسوں میں اونٹوں کی دھلائی، ٹرمنگ اورگرم گرم دودھ سے تواضح سب شامل ہیں۔

    سعودی عرب:250 ملین ریال انعامات کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑےاونٹ میلے کا آغاز

    سرد موسم سے بچاؤ کے لئے اونٹوں کے لئے خصوصی طورپرگرم انکلوژرز بھی بنائے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی چیک کیا جاتا ہے کہ کہیں اونٹوں کا بوٹوکس یا خوبصورتی کے لئے کوئی اورمصنوعی طریقہ تواستعمال نہیں کرایا گیا۔

    اونٹوں کے لئے لگژری ہوٹل دراصل ان اونٹوں کے لئے بنایا گیا ہے جوسعودی عرب میں ہونے والے شاہ عبدالعزیز فیسٹول میں اونٹوں کے سالانہ مقابلہ حسن میں حصہ لیتے ہیں جس کی مجموعی انعامی رقم 66.6 ملین ڈالرز ہے۔

    سعودی عرب: خوبصورتی کے انجکشن لگوانے کی وجہ سے 40 اونٹ مقابلہ حسن کی دوڑ سے باہر

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں اونٹوں کے سب سے بڑے میلے کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا آغاز ہوگیاعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاض میں کنگ عبدالعزیز کیمیل فیسٹیول جاری ہے جس میں ہر سال کی طرح اس سال بھی کورونا وبا کے باوجود لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔

    فارمولا-ای کار ریس28 جنوری کو سعودی عرب کے تاریخی مقام درعیہ میں شروع ہو گی

    اس فیسٹیول کا سب سے دلچسپ حصہ اونٹنیوں کے درمیان ہونے والا مقابلہ حسن ہے۔ اس مقابلے کے فاتح اونٹنی کے مالک کو 6 کروڑ 60 لاکھ ڈالر انعام دیا جاتا ہے مقابلہ حسن میں اونٹنی کی خوبصورتی کا معیار لمبےاورلٹکے ہوئے ہونٹ، بڑی ناک اور کوہان کی شکل ہے تاہم کچھ برسوں سے مصنوعی طریقےسےحسن میں اضافہ کیےجانےکاانکشاف ہےاس لیےمنتظیمن اچھی طرح جانچ پڑتال کےبعد مقابلےمیں شرکت کی اجازت دیتے ہیں اس سال بھی 40 کے لگ بھگ اونٹنیوں کو خوبصورتی کے لیے بوٹوکس انجیکشن لگانے پر نااہل قرار دیا گیا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے”جدہ ڈاؤن ٹاؤن” جدید منصوبے کا…

    مقابلے میں شرکت کی خواہش مند اونٹنیوں کا ماہرین نے ان کی ظاہری شکل و صورت اور چلنے کے انداز کا معائنہ کیا۔ پھر جدید ایکسرے اور 3 ڈی الٹرا ساؤنڈ سے سر، گردن اور دھڑ کے عکس لیے اور جنیاتی معائنے سمیت خون کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    واضح رہے کہ اونٹنیوں کے مقابلہ حسن کا انعقاد ہر سال کنگ عبدالعزیز فیسٹیول میں کیا جاتا ہے جو دنیا کا اونٹوں کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔

    سعودی عرب: کنگ عبدالعزیزاونٹ میلے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کی شرکت

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔