Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    سیئول: شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا ایک اورتجربہ کرلیا،شمالی کوریا کا جانب سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل سن 2022 میں شمالی کوریا کا دوسرا میزائل تجربہ ہے-

    باغی ٹی وی :جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق شمالی کوریا نے منگل کی صبح میزائل کا تجربہ کیا شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو زمین سے مشرقی سمندر کی جانب لانچ کیا گیا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی فائرکی گئی بیلسٹک میزائل جیسی چیز کی تصدیق کی ہے۔شمالی کوریا کا 6 روز کے دوران بیلسٹک میزائل کا یہ دوسرا تجربہ ہے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے عالمی تنقید کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے ملکی دفاع مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی مشن برائے اقوام متحدہ جس میں امریکا، فرانس، آئرلینڈ، جاپان، برطانیہ اورالبانیہ شامل ہیں نے گزشتہ ہفتے کئے گئے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی تھی۔

    شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں تاہم وہ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اکثر تجربات کرتا رہتا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    قبل ازیں شمالی کوریا نے 5 جنوری بدھ کو بھی میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا بدھ کے روز داغا جانے والا بیلسٹک میزائل سن 2022 میں شمالی کوریا کا پہلا میزائل تجربہ تھا

    بعد ازاں جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا "شمالی کوریا اکثر میزائل داغتا رہتا ہے، جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔”

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے اپنے ایک بیان میں کہا، "ہماری فوج ممکنہ مزید میزائل داغنے کی تیاری کی صو رت میں پوری طرح تیار ہے اور ہم امریکا کی معاونت سے صورت حال پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ شمالی کوریا کی طرف سے میزائل داغنے کے بعد کی صورت حال کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

    جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی اور کہا کہ میزائل داغنے کا یہ واقعہ "ایسے وقت پیش آیا ہے جب داخلی اور خارجی استحکام انتہائی اہم ہیں۔” کونسل نے شمالی کوریا سے مذاکرات بحال کرنے کی اپیل کی۔

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    جاپان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ جاپانی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع جمعے کے روز اپنے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ سیکورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے گزشتہ ہفتے حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ اکتوبر 2021 میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اسے ایک آبدوز سے داغا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    امریکا میں پاکستانی ڈاکٹر نے میڈیکل سائنس کی دنیا میں شاندار کارنامہ انجام دے کر ملک کا نام روشن کر دیا-

    باغی ٹی وی : کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے گریجویٹ پاکستانی ڈاکٹرمنصور محی الدین نے امریکا میں دل کی تبدیلی کا کامیاب کارنامی سرانجام دے کر پہلی بار یہ ثابت کر دیا کہ دل کی تبدیلی کیلئے کسی انسان کا انتظار کرنے کی ضروت ختم ہوگئی انسان کسی جانور کے دل کے ساتھ بھی زندہ رہ سکتا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل اسکول کے مطابق ایک مریض میں کامیابی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا دل لگایا گیا جس کے بعد امریکا سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ دنیا کے پہلے انسان بن گئے ہیں جن میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیر کا دل لگایا گیا ہے-

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ کی حالت سات گھنٹے تک جاری رہنے والے تجرباتی ہارٹ ٹرانسپلانٹ (دل کی پیوند کاری) کے تین دن بعد بہتر ہے۔ یہ ہارٹ ٹرانسپلاٹ امریکی ریاست بالٹیمور میں کیا گیا ہے بینیٹ کی زندگی بچانے کے یہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ آخری امید اور انتہائی ناگزیر تھا۔ تاہم اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ مستقبل میں اُن کی زندہ رہنے کے کتنے امکانات ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق مریض نے اپنے آپریشن سے پہلے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں پتا ہے یہ اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے مگر ان کے لیے یہ آخری چوائس تھی کہ موت کو قبول کریں یا پھر ٹرانسپلانٹ کرائیں۔

    امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے اس سرجری کے لیے امریکی میڈیکل ریگولیٹر سے یہ کہتے ہوئے خصوصی اجازت لی تھی کہ اگر یہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ نہ کیا گیا تو بینیٹ کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ بینیٹ کی خرابی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو ٹرانسپلانٹ کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا تھا یہ سرجری، ٹرانسپلانٹ سرانجام دینے والی میڈیکل ٹیم کی برسوں کی محنت اور تحقیق کا ثمر ہے اور یہ دنیا بھر میں انسانی زندگیوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    ڈاکٹر منصور نے نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کے دوران کہا کہ ابتدائی تجربات میں بندر کا دل لگایا جاتا تھا لیکن وہ مفید ثابت نہ ہوا البتہ خنزیر پر تجربہ مفید رہاہم نے سارے جانوروں کا معائنہ کیا کہ کونسا جانور انسان کے قریب ہے، شروع میں بندروں کا دل لگایا گیا تو وہ اتنا مفید ثابت نہیں ہوا چند مہینوں کے خنزیر کا دل بڑے انسان کے دل کے برابر کے سائز پر آجاتا ہے، اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں جس بنا پر ہم نےتمام ریسرچ خنزیرپرکی

    Dr.Mansoor

    ان کا کہنا تھا کہ خنزیر کے دل کے جینیاتی کوڈ کو ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اس میں کوئی بھی جینیاتی تبدیلی کی جا سکتی ہے مغرب میں خنزیر کو روز مرہ کی غدا میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اس کا دل لگانے میں کچھ معیوب نہیں سمجھا گیا مریض میں خنزیر کے دل کے ٹرانسپلانٹ پر ایک کروڑ 75 لاکھ پاکستانی روپے لاگت آئی۔

    اس حوالے سے ڈاکٹر منصور کا کہنا تھا کہ ابتدائی تجربے کی وجہ سے لاگت زیادہ ہے لیکن ٹرانسپلانٹ میں فکر کرنے کی زیادہ ضرورت نہیں جس مریض میں دل لگایا وہ بہت بیمار تھا، سوائے اس کے ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، اس معاملے پر مریض اور اس کے دل کو مسلسل مانیٹر کرنا پڑتا ہے، خیال رکھنا پڑتا ہے کہ ہم نے مریض کو نیا دل دیا ہے لیکن کیا باقی جسم بھی اس چیز کو قبول کرے گا۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

  • موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    موسم، ہم، اور حالات ،تحریر: ارم شہزادی

    2021 دسمبر کے وسط تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی ہر طرف یہ چامگویئاں ہورہی تھیں کہ شاید اب سردی ویسے نا رہے جیسے چند سال پہلے تک تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ستمبر کے اینڈ سے موسم میں واضح تبدیلی محسوس ہوتی تھی۔لیکن دنیا میں مختلف نیو کلئیر تجربات، بےہنگم ٹریفک سبزہ کی کمی کی وجہ سے موسم گرما میں ناصرف شدت آئی ہے بلکہ وہ زیادہ ماہ پر محیط ہوگیا ہے۔ جو سردی کی رات ستمبر کے آخر تک محسوس ہوتی تھی وہ اب نومبر میں محسوس ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نومبر تک پنکھے بھی چلتے ہیں۔ اس بار بھی شدت دسمبر کے آخر سے شروع ہوئی ہے لیکن بہت شدید 2022 کا آغاز شدت سردی سے شروع ہوا۔ بارشیں نا ہونے کی وجہ سے جہاں پہلے خشک سردی کا راج تھا ساتھ نزلہ، زکام، بخار کاوہیں فصلوں کو بھی نقصان ہورہا تھا جنوری کی چار سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔ دیہاتوں شہروں میں عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی کو فکر کہ پکوڑوں کے ساتھ بریانی بنائی جائے یا اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کیا جائے ۔گھر رہا جائے یا دوسرے شہروں خصوصا اسلام آباد جایا جائے تو کسی کو فکر کہ رات کا کھانے کا بندوبست کیا جائے؟ کیونکہ موسم کی شدت کسی بھی لحاظ سے ہو غریب کے لیے بہت مشکل لاتی ہے۔نا دیہاڑی ملتی ہے اور نا کوئی مدد کرتا ہے۔ ہم اپنے چاہ تو سارے پورے کرتے ہیں لیکن مدد کرنے کے لیے دو کام کرتے ہیں ایک تو تصاویر لگا کر انکی عزت نفس کو مجروح کرنا اور دوسرا سوشل میڈیا کا، مین سٹریم میڈیا کا اور پرنٹ میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو حکومت وقت کے مشتعل کرنا۔اس میں شک نہیں ہے کہ حکومت وقت کی زمہ داری ہے معاملات کو کنٹرول رکھنا مواقع بنانا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحثیت معاشرہ کا مفید رکن ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم صرف تصاویر لگا کر یا گالیاں دے کر اپنی فرسٹریشن نکال کر بری الزمہ نہیں ہوجاتے ہیں لیکن ہم نے اپنے اس رویے پر غور ہی نہیں کیا کبھی۔ بس دیکھا دیکھی اپنی خواہشات اور اسائشات کو ضرویات بنالیا ہے۔ اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر کام کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں۔جب کہیں ناکام ہوتے ہیں تو اسکا الزام اپنی غلطیوں کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیتے ہیں انکے خلاف بات کرتے ہیں اور معاشرے میں انتشار کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ جبکہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے ہیں۔بات ہورہی ہے موسم کی شدت اور ہمارے رویوں کی کہ کیسے ہم اللہ کے معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردیتے ہیں اس بار کئی سالوں بعد مری میں برفباری اتنی شدید ہوئی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔مری کو ملکہ کوہسار کہاجاتا ہے۔گہرے سبزرنگ کے قدآور، گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی ‘ملکہ کوہسار مری’ میں ان دنوں رش بےپناہ ہے۔ ہزاروں فٹ اونچی وہ چوٹیاں جو دسمبر سے فروری تک برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔

    پنڈی سے 39 کلو میٹر دور سطح سمندر سے اسکی بلندی7500 فٹ ہے۔ پہلی تعمیر یہاں 1851 میں ہوئی تھی۔ رقبہ بہت زیادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں پانچ سے دس، ہزار تک گاڑیاں آسانی اور سہولت کے ساتھ آ جا سکتی ہیں مسلہ تب ہوتا ہے جب سیاح بڑی تعداد میں مری داخل ہوتے ہیں ،چونکہ زیادہ دور نا ہونے کیوجہ سے بیرونی سیاحوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک سیاحوں کی بڑی تعداد سارا سال آتی جاتی رہتی ہے خصوصاً موسم گرما کی تعطیلات اور سرما کی تعطیلات میں۔ موسم گرما میں موسم خوبصورت رہتا ہے گوکہ مشکلات ہوتی ہیں جب تعداد تجاوز، کر جائے۔ لیکن حالات کنٹرول میں رہتے ہیں مسلہ تب بنتا ہے جب موسم سرما میں برفباری میں لوگ زیادہ تعداد میں مری پہنچتے ہیں فیملی کے ساتھ۔ اور یہ تعداد ہزاروں سے لاکھوں افراد تک جب پہنچتی ہے تو نا صرف انتظامیہ کے لیے مشکل ہوتی ہے بلکہ فیمیلز کے لیے بہت مشکل حالات بن جاتے ہیں جیسا کہ ابھی ہورہا ہے۔ نارمل حالات میں بھی جب گاڑیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرجائے تو مشکل ہوتی ہےوہاں۔ اب دس ہزار کے بجائے بجائے ایک لاکھ تک جا پہنچی ہے تو ٹریفک جام ہو گیا ہے لوگوں کو سڑکوں پر دن رات گزارنا پڑرہے ہیں اور یہ بچوں کے لیے خاص طور پر مشکل حالات ہوتے ہیں۔ اس بار برفباری شدید ہورہی ہے اور برفباری دیکھنے کے شوقین افراد نے بغیر موسمی حالات کا اندازہ کیے فیملیز سمیت اندھا دھند مری پہنچے جس برفباری کا تو پتہ نہیں انجوائے کرسکے یا نہیں لیکن حالات بہت مشکل دیکھے۔سڑکوں پر رات گزارنی پڑی، ہوٹلوں کی بکنگ نا ملی اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی میں تعطل نے بہت پریشان کیا۔ انتظامیہ کئی دن سے مسلسل منع کررہی تھی کہ مزید گنجائش نہیں ہے اور برفباری شدید ہے اس لیے مزید لوگ نا آئیں لیکن جذباتی قوم جس کام پے لگ جائے نفع نقصان سوچے بغیر دوڑ پڑتی ہے۔ اس موسمی حالات میں جہاں 18،19 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں ابھی بھی سڑکوں پر پھنسی ہوئی ہے عوام۔ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے علاقہ کو آفت زدہ کراردےدیا گیا ہے فوج بھی طلب کرلی گئی ہے۔ جو کہ ریسکیو آپریشن جاری کیے ہوئے ہیں۔ برف ہٹائی جارہی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اپنی غلطی تسلیم کرنے بجائے عوام انتظامیہ کو ہی برا بھلا کہہ رہی ہے۔ اور مری روڈ پر الجھ رہی ہے کہ مری جانے دیا جائے جبکہ پنڈی کمیشنر نے مری روڈ جانے کے لیے بند کردیا ہے۔ یہ برفباری تو فروری کے آؤاخر تک رہنی ہے اپنی جانوں کو مشکل میں نا ڈالیں احتیاط اور صبر سے کام لیں۔ اگر عوام اس طرح بغیر سوچے سمجھے رش نا لگاتی تو شاید اتنی مشکلات نا پیش آاتیں۔ جان ہے تو جہاں ہے اپنی حفاظت کریں لوگوں کے لیے آپ محض گنتی یا تعداد ہیں لیکن اپنی فیملی کے لیے سب کچھ ہیں۔ کچھ دن ٹھہر کے پروگرام بنائیے تاکہ نا آپ مشکل میں ہوں اورناہی انتظامیہ۔ کیونکہ سمھبالنا تو انہوں نے ہی ہے نا۔ جو پھنسے ہوئے ہیں انکے لیے دعا کریں کہ خیر و عافیت سے گھر لوٹیں۔ اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
    @irumrae

  • خطرناک کار لفٹرز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ

    خطرناک کار لفٹرز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ

    پولیس کو انتہائی خطرناک مفرور اور مطلوب کار لفٹرز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اے وی ایل سی نے انتہائی مطلوب ملزمان کے سروں پر انعام رکھنے کیلئے اعلیٰ حکام کو خط ارسال کردیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خط ایس ایس پی بشیر بروہی کی جانب سے آئی جی سندھ کو لکھا گیا ہے۔

    خط کے متن میں9ملزمان کے سروں کی مجموعی قیمت6کروڑ40لاکھ رکھنے کی درخواست کی گئی، ملزم غلام یاسین بھائیو کے سر کی قیمت1کروڑ روپے رکھے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزمان عمران بھائیو،کاشف ابڑو عرف انورعلی، اکبرعلی بھائیو اور نذیر بھائیو کے سروں کی قیمت بھی ایک ،ایک کروڑ روپے رکھی جائے۔

    اس کے علاوہ خط میں سفارش کی گئی ہے کہ ملزم مجاہد جمال میرانی کے سر پر50لاکھ کا انعام جبکہ محمد خان ملاح، ممتاز بھائیو، حکیم بگٹی کے سروں پر فی کس 30لاکھ روپے انعام مقرر کیا جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی بشیر بروہی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام ملزمان انتہائی خطرناک، اشتہاری اورعادی جرائم پیشہ ہیں، ہر ملزم کے خلاف درجنوں مقدمات ہیں، کار لفٹرز گینگز کئی سالوں سے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔

  • منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین کے 2 پولیس کانسٹیبلز کی دھوم نے پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا

    منڈی بہاؤالدین پولیس میں فرشتہ صفت انسان
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق ابھی کچھ دیر پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال منڈی بہاوالدین میں ایک غریب فیملی کے پاس ڈیڈ باڈی گھر لے جانے کے لئے خرچے کے پیسے نہیں تھے. اسی وقت ان دو پولیس کانسٹیبلز نے اپنی جیب سے پیسے دیئے اور ساتھ مل کر ڈیڈ باڈی کو لے جانے میں مدد کی. ایک بھائی کا نام یاسر ہے دوسرے کا نام احمد .
    ہمارے نمائندے کو وہاں موجود ایک فارمیسی والے نے بتایا کہ یہ دونوں پہلے بھی لوگوں کی ایسے ہی مدد کرتے ہیں اور فارمیسی والے کو کہا ہوا ہے کہ جس کے پاس دوائی لینے کے پیسے نہ ہوں ان کو دوائی دے دیا کرے اور بل ہم سے لے لیا کرے.
    ایسے فرشتہ صفت لوگوں کے متعلق ایسی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کرنی چاہیے تا کہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور باقی لوگ بھی ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

    #haqeeqikhabar #mandinews #phalia #malakwal #pakistannews #MandiBahauddin #punjabpolice

  • جرمن نوجوان نے  ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    جرمن نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے

    میونخ: جرمنی کے ایک شخص نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : دنیا میں عمومی طور پر انسان اپنی ظاہری شخصیت کے نکھار کے لیے کئی جتن کرتا ہےخود کو فٹ اور خوبصورت دلکش بنانے کے لئے طرح طرح کی ٹپس آزمات اہے لیکن جرمنی کے 28 سالہ نوجوان نے ’خوفناک‘ نظر آنے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کردیئے ہیں-

    دنیا کی کم عمر خاتون زارا دنیا کے گرد چکر لگاتے ہوئے سعودی عرب پہنچ گئیں

    یہ جرمن نوجوان انسٹاگرام پر بلیک ڈپریشن کے نام سے مشہور ہے اور خوفناک دکھنے کے لیے اب تک 17 ہزار ڈالر خرچ کرچکا ہے اس نے خود کو ’انسانی پزلز‘ میں تبدیل کرنے کے لیے کئی برس صرف کردیئے ہیں اور یہ صرف جسم کے ٹیٹو نہیں ہے۔

    جنگل میں رہنے والی عورت جو مردار کھاتی اور جانوروں کی کھال پہنتی ہے


    بلیک ڈپریشن نے اپنے دانتوں کی دونوں قطاروں کو ٹائٹینیم میں ڈھانپنے کے ساتھ اپنی آنکھوں اور چہرے پر بھی سیاہی لگائی ہےنوجوان نےسرجری کےذریعے اپنے کان کے کارٹلیج کے ٹکڑوں کو ہٹانے کا بھی انتخاب کیا ہے جبکہ اس کے نتھنے چھیدے ہوئے ہیں۔

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

    28 سالہ نوجوان نے کہا کہ میں نے 20 سال کی عمر میں جسمانی تبدیلی شروع کی تھی، میرا پہلا طریقہ میری زبان کو الگ کرنا تھا پھر میرے آدھے آدھے کان (بیرونی کان کا دکھائی دینے والا حصہ) دونوں طرف سے کاٹ دیا گیا تھا۔

    بندروں نے ایک کے بدلے 250 کتوں کو ہلاک کردیا

  • کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاون، سڑکوں کی بندش، راشن کی قلت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے حکام کے بلند و بانگ دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی(ایم )کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ شدید برفباری خطے کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن جو بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے، وہ ایک مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاون کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے پوری وادی کو مکمل تاریکی میں ڈبو دیاہے، کہا کہ حکام بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں ناکام رہے۔

    انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ ٹھپ ہوکررہ جاتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ ابھی تک کئی سڑکوں سے برف نہیں ہٹایاگیا ہے اور وادی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ابھی تک ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دریں اثناوادی چناب کے کشتواڑ، رامبن اور ڈوڈہ اضلاع میں بھی بارش اور شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔

    اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کشتواڑ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران شدید برف باری ہوئی جبکہ ضلع کے علاقوںبھجواہ، چھاترو، پڈر، ناگسنی، گندوہ، بھدرواہ، مرمت، ڈیسا اور ضلع ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں بھی بھاری سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔اسی طرح ضلع رامبن کے بہت سے علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی اور سڑک کی پھسلن اور بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے باعث حکام نے جموں سرینگر ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے۔

  • کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    الینوئے: ایک امریکی کمپنی کی جانب سے خودکار طور پر ہل چلانے کے علاوہ کاشت کاری کے دوسرے متعلقہ کام بڑی مہارت سے انجام دینے والا ٹریکٹر پیش کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کمپنی ’جان ڈیئر‘ کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ ٹریکٹر امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقدہ ’کنزیومر الیکٹرونکس شو 2022‘ میں رکھا گیا جو 5 سے 8 جنوری تک جاری رہی یہ دنیا میں جدید ترین ایجادات کی سب سے بڑی سالانہ نمائش بھی ہے اس ٹریکٹر کو ’ڈیئر 8 آر‘ (Deere 8R) کا نام دیا گیا ہے جو 40 ہزار پاؤنڈ (18 ٹن سے زیادہ) وزنی ہے۔

    ٹریکٹر اپنے اسٹیریو کیمروں کے چھ جوڑوں کی مدد سے کھیت پر نظر رکھتا ہے اور جی پی ایس سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنے مطلوبہ راستوں پر ہل چلاتا ہے اس کا خودکار نظام طاقتور مائیکروپروسیسرز، سینسرز اور مصنوعی ذہانت والے ایک پروگرام سے لیس ہے جو موبائل ایپ کے ذریعے کسان کے اسمارٹ فون سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ


    کسان کا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ٹریکٹر سے ہل یا کوئی دوسرا متعلقہ زرعی آلہ منسلک کرے اورایپ کے ذریعےاس اراضی کی نشاندہی کردے کہ جہاں ٹریکٹر سے ہل چلانا یا کوئی اور کام لینا مقصود ہے کسان ایپ سے ٹریکٹر کو کام شروع کرنے کی ہدایت دے اور اس کے بعد چاہے تو اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارے یا پھر کچھ اور کرے۔

    دنیا کی پہلی الیکڑک کار کب بنائی گئی؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    یہ ٹریکٹر ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سارا کام خودکار طور پر سنبھالتا ہے جبکہ اس دوران وہ ہل چلانے کے علاوہ کھیت میں فصلوں اور مٹی کی صحت،مٹی میں نمی کی مقدار اور دوسری اہم زرعی معلومات بھی جمع کرتا رہتا ہے۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    اس پورے عمل میں ویسے تو کسان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اگر کبھی کبھار ٹریکٹر کا سامنا کسی غیر متوقع صورتِ حال سے ہوجائے کہ جسے اس کا سافٹ ویئر سنبھالنے کے قابل نہ ہو، تو پھر اس کا نظام فوری طور پر ایپ کے ذریعے کسان کو اس کی خبر دیتا ہے تاکہ وہ اس مشکل یا رکاوٹ کا ازالہ کرنے کےلیے اس کی مدد کرے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    جان ڈیئر کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جیمی ہنڈمین کا کہنا ہے کہ خودکار ٹرک اور کار کے مقابلے میں خودکار ٹرک بنانا زیادہ مشکل کام تھا کیونکہ ٹریکٹر کو ان دوسری گاڑیوں سے کہیں زیادہ کام کرنے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہونے کے علاوہ اپنی اپنی جگہ بہت پیچیدہ بھی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ’ڈیئر 8 آر‘ کو زرعی ٹیکنالوجی میں ایک نیا انقلاب قرار دے رہے ہیں اب تک کمپنی کی جانب سے اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • پی ایس ایل (7):2022: سپلیمنٹری اور متبادل ڈرافٹنگ مکمل:   تفصیلات جاریں

    پی ایس ایل (7):2022: سپلیمنٹری اور متبادل ڈرافٹنگ مکمل: تفصیلات جاریں

    لاہور:پی ایس ایل 2022: سپلیمنٹری اور متبادل ڈرافٹنگ مکمل:تفصیلات جاریں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شرکت کرنے والی ٹیموں نے 2022 کے سیزن کے لیے سپلیمنٹری اور ریپلیسمنٹ (متبادل) ڈرافٹ میں کھلاڑیوں کا انتخاب کر لیا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈرافٹنگ کاعمل ورچوئل ہوا اور ٹیموں نے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔ سپلیمنٹری سیشن میں پہلا انتخاب کا موقع 2020 کی چیمپئن کراچی کنگز کو ملا اور سابق چمپیئن ٹم نے ڈومیسٹک کرکٹر آف دی ایئر صاحبزادہ فرحان کو اپنے اسکواڈ میں شامل کیا۔

     

     

    دوسرا موقع لاہور قلندرز کو ملا اور انہوں نے فاسٹ باؤلر محمد عمران رندھاوا کو منتخب کیا، جس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ نے فاسٹ باؤلر موسیٰ خان، ملتان سلطانز نے انگلینڈ کے فاسٹ بولر ڈیوڈ ولی اور پشاور زلمی نے محمد عمر کو منتخب کیا۔

    ڈرافٹنگ کے عمل میں دوسرا مرحلہ ریورس آرڈر کے بعد ہوا جہاں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز نے رضوان حسین ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے غلام مدثر، اسلام آباد یونائیٹڈ نے ظاہر خان، لاہور قلندرز نے عاکف جاوید اور کراچی کنگز نے جارڈن تھامپسن کا انتخاب کیا۔

    پی سی بی کے مطابق ہر فرنچائز کو دو سپلیمنٹری انتخاب میں زیادہ سے زیادہ ایک غیر ملکی کرکٹر کو منتخب کرنے کی اجازت تھی۔

    اسی طرح ری پلیسمنٹ ڈرافٹ میں ملتان سلطانز نے اوڈین اسمتھ کی جگہ وکٹ کیپر جانسن چارلس کو ڈائمنڈ کیٹیگری سے منتخب کیا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے نوید الحق کی جگہ لیوک ووڈ، جیمز ونس کی جگہ ول اسمیڈ، جیسن رائے کی جگہ شمرون ہیٹمائر اور افغانستان کے نور احمد کی جگہ علی عمران کو اسکواڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

    کراچی کنگز نے انجری کے باعث دستیاب نہ ہونے والے ٹام ایبل کی جگہ اویشیکا فرنینڈو، قومی انڈر-19 ٹیم کے کپتان قاسم اکرم کی جگہ اسپنر محمد طحہ خان کو اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔

    قاسم اکرم آئی سی سی انڈر- 19 ورلڈ کپ میں شرکت کی وجہ سے پی ایس ایل کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ نے سینٹ کٹس میں موجود قومی انڈر-19 کے اسکواڈ میں شامل ذیشان ضمیر کی جگہ محمد ہریرہ کو منتخب کرلیا ہے، جنہوں نے اپنے ڈیبیو فرسٹ کلاس سیزن میں شاندار ٹرپل سنچری بنائی تھی اور قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ رنز بھی بنائے تھے۔

    لاہور قلندرز کی ٹیم میں ابتدائی چند میچوں کے لیے انگلش وکٹ کیپر فل سالٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بین ڈنک کو دوبارہ حصہ بنا لیا ہے۔

    پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنی ایک ایک سپلیمنٹری انتخاب محفوظ رکھا ہے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے علاوہ باقی پانچوں فرنچائزز نے متبادل راؤنڈ میں کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیا۔

    منتخب کھلاڑیوں کی فہرست

    اسلام آباد یونائیٹڈ: موسیٰ خان، ظاہر خان، محمد حریرا

    کراچی کنگز: صاحبزادہ فرحان، جارڈن تھامپسن، اویشا فرنینڈو، محمد طحہ خان

    لاہور قلندرز: محمد عمران رندھاوا، عاکف جاوید، بین ڈنک

    ملتان سلطانز: ڈیوڈ ولی، رضوان حسین، جانسن چارلس

    پشاور زلمی: محمد عمر

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: غلام مدثر، لیوک ووڈ، ول سمیڈ، شیمرون ہیٹمائر، علی عمران

  • سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
    برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
    مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
    صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
    جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو ‏محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
    اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
    موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔

    Zakia nayyar

    @Nayyarzakia