Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی سی بی نے پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کیلئے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    پی سی بی نے پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کیلئے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کے لیے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پی سی بی کے مطابق پاک ویسٹ انڈیز ٹی 20 سیریز کے لیے وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت 2 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ٹی 20 سیریز کی کم سے کم قیمت 200 روپے رکھی گئی ہے۔


    پاک ویسٹ انڈیز کے ایک روزہ میچوں کی سیریز کی وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت 1000 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ایک روزہ میچوں کی سیریز کی کم سے کم ٹکٹ 100 روپے مقرر رکھی گئی ہے۔

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوسرا ٹیسٹ آج ڈھاکا میں کھیلا جائے گا

    پاک ویسٹ انڈیز سیریز کے لیے 100 فیصد شائقین کرکٹ کو میچ دیکھنے کی اجازت ہو گی لیکن صرف کورونا ویکسینیٹڈ شائقین کرکٹ کو ہی گراؤنڈ میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

    پی سی بی کے مطابق 12 سال سے کم عمر بچوں کو کورونا ویکسینیشن کی ضرورت نہیں ہو گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز کی سیریز کے لیے امپائرز اور ریفری کا اعلان کردیا ہے پی سی بی کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دونوں سیریز میں علیم ڈار، احسن رضا، آصف یعقوب، راشد ریاض اور فیصل آفریدی امپائرنگ کی ذمہ داری سر انجام دیں گے پی سی بی کی جانب سے محمد جاوید ملک کو دونوں سیریز میں میچ ریفری مقرر کیا گیا ہے۔

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلادیش سے میچ جیت لیا


    واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی اور 3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز 13 دسمبر سے ہو گا اور تمام میچز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

    ٹی 20 سیریز ،پاکستان کی شاندار کامیابی

  • نعرہ عشق رسول ہی نہیں سیرت رسول کا بھی مطالعہ کرو    ازقلم: غنی محمود قصوری

    نعرہ عشق رسول ہی نہیں سیرت رسول کا بھی مطالعہ کرو ازقلم: غنی محمود قصوری

    نعرہ عشق رسول ہی نہیں سیرت رسول کا بھی مطالعہ کرو

    ازقلم غنی محمود قصوری

    مملکت پاکستان میں عشق رسول کے دعوے دار تو بہت ہیں مگر افسوس ان نام نہاد عاشقین پر کہ ان کی اکثریت بے نمازی ہے اور بعض تو ایسے ہیں کہ شاید پوری پوری زندگی انہوں نے کتاب اللہ و حدیث رسول کو ہاتھ ہی نہیں لگایا ہوتا اور ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ حدیث رسول اور قول اصحاب و اولیاء اللہ میں فرق کیا ہے

    یہ لوگ نہیں جانتے سنت کیا ہے فرض کیا ہے فرض عین کیا ہے اور فرض کفایہ کیا ہے

    یہ ایسے عاشقین ہیں کہ جب ان کے گھر کا کوئی فرد مر جائے تو کسی کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ جی ہمیں تو غسل کا پتہ ہی نہیں کوئی آکر ہمارے مردہ پیارے کو غسل دے تاکہ اس کی تدفین بذریعہ مولوی جنازہ کروا کر کی جائے

    افسوس نام نہاد عاشق تیری ایسی عاشقی پر میرے نبی تو سب طریقے بتلا کر گئے تو نے محض نعرے لگانے کو ہی دین سمجھ لیا ؟ کیا تجھ پر اسلامی تعلیم حاصل کرنا فرض نہیں؟

    ملاوٹ کرنے،ذخیرہ اندوزی کرنے،لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے،زنا کرتے وقت اور پڑوس میں بھوکے مرتے غرباء کو دیکھتے وقت ان کا عشق زندہ نہیں ہوتا مگر کسی بھی جانب سے اعلان ہو کہ فلاں جگہ فلاں نے گستاخی کی ہے تب ان کا عشق بڑا جوش مارتا ہے اور یہ بغیر سیرت نبوی کا مطالعہ کئے قتل جیسا فعل بھی سرانجام دے بیٹھتے ہیں

    انہی نام نہاد عاشقین نے کل بروز جمعہ پاکستان کے مشہور شہر سیالکوٹ میں ایک نجی فیکٹری کے ایکسپورٹ مینیجر نتھا کمارا کو جلا کر راکھ بنا دیا

    وقوعہ کچھ یوں ہوا کہ سری لنکا کے رہائشی اور حالیہ سیالکوٹ میں مقیم نتھاکمارا نے فیکٹری میں لگی مشین پر سے ایک کاغذ اتار پھینکا جس پر درود شریف اور کچھ اسلامی اسم رقم تھے

    واللہ عالم نتھا کمارا نے یہ فعل دانستہ کیا یاں غیر دانستہ مگر سیرت نبوی سے غافل نام نہاد عاشقین نے نتھا کمارا کو فیکٹری سے نکالا اور سڑک پر لا کر اسے آگ لگا دی حالانکہ وہ نہتا تھا اور معافیاں مانگ رہا تھا
    ان عاشقین نے نا سوچا کہ میرے نبی نے ایک جنگ میں ایک حربی کافر کو عین جنگ میں اس وقت معاف فرما دینے کا کہا تھا جب ایک صحابی کی طرف سے عین اس وقت کلمہ پڑھنے والے کو قتل کر دیا جب وہ تلوار کے سامنے صحابی رسول کو کہہ رہا تھا مجھے معاف کر دو میں کملہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہوں
    مگر صحابی رسول نے اسے قتل کر دیا معاملہ میرے نبی کی بارگاہ میں پہنچا اس صحابی کو بلایا گیا واقعہ پوچھا گیا اس صحابی نے بتلایا کہ وہ تو تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھنے لگ گیا تھا

    اتنا سننا تھا کہ میرے نبی کریم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور فرمایا تم نے ایک کملہ پڑھتے کو قتل کر دیا ؟
    کیا تم نے اس کا دل پڑھ لیا تھا کہ وہ تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھ رہا ہے ؟
    تمہیں کیا پتہ اس نے حقیقی معافی مانگ لی ہو اور رب نے اسے معاف کر دیا ہوں
    شاید وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جانا چاہتا تھا مگر تم نے اسے قتل کر دیا
    نبی کریم نے فرمایا میں محمد کل روز قیامت اللہ کے ہاں تیرے اس فعل پر جوابدہ نا ہو گا اگر وہ شحض واقعی سچے دل سے کلمہ پڑھ رہا تھا چاہے موت کو سامنے دیکھ کر ہی تو اس بابت اللہ نے حساب لیا تو تم ہی جوابدہ ہو گے میں نہیں

    نتھا کمارا کو جلا کر ان عاشقین نے عشق نبی کے خوب نعرے لگائے کہ ہم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہے

    اگر نتھا کمارا نے ایسا غلط کام کیا ہے تو ہمارا ریاستی نظام موجود ہے اس کا ٹرائل ہونا چائیے تھا فرض کریں اگر اس کا ٹرائل نا بھی کروایا جاتا محض اس کو مار کر ہی سکون ملنا تھا تو کم از کم اسے جلایا نا جاتا کیونکہ آگ کا عذاب دینے کا اختیار صرف اللہ کو ہی ہے
    جس کیلئے میں ان نام نہاد جعلی عاشقین رسول کو احادیث نبویہ کا مطالعہ کرواتا ہوں تاکہ ان کو پتہ چلے یہ کس قدر سیرت نبویہ سے غافل ہیں
    سب سے پہلے میں جان کیلئے خطرہ اور موذی حشرات سانپ پر ایک حدیث پیش کرتا ہوں پھر بات آگے بڑھاتا ہوں

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یعنی سانپ کو اور بچھو کو
    سنن ابن ماجہ

    دیکھئے سانپ موذی ہے اسے نماز چھوڑ کر مارنے کا حکم ہے مگر ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں جس میں وضع ہو گا ان موذی حشرات کو بھی آگ سے جلا کر مارنا حرام ہے

    حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا اتنے میں نبی تشریف لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟
    اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو پھر نبی نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا تو آپ نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟
    ہم نے کہا ہم نے جلایا ہے
    آپ نے فرمایا آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے( ابوداؤد)

    اس حدیث میں واضع بتا دیا گیا کہ آگ کا عذاب دینا رب کا کام ہے جو کوئی ایسا کرے گا وہ رب کی نافرمانی کرے گا اور نافرمان عاشق رسول نہیں ہوتا بلکہ جاہل ہوتا ہے

    مذید قلب اطمینان کیلئے ایک
    اور حدیث پیش خدمت ہے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ فرمایا تو فرمایا اگر تم فلاں فلاں کو پاؤ (قریش کے دو آدمیوں کا آپ نے نام لیا) تو ان کو آگ میں جلادو مگر جب ہم نکلنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ تم فلاں فلاں کو جلا دینا لیکن آگ کا عذاب تو صرف اللہ ہی دے گا اسلیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا جلانا نا (بخاری)

    دیکھئے اللہ کے نبی نے سانپ سے بھی موذی اور پکے کافر کو قتل کرنے کا حکم دے کر بیجھا اور منع کیا کہ اسے جلانا نا کیونکہ آگ کا عذاب دینے کا اختیار اللہ کو ہی ہے مگر ہمارے عاشقوں نے ایک انسان کو بڑے فخر سے جلایا اور ان کو پتہ بھی نہیں کہ محض نعرہ عشق رسول میں یہ لوگ اللہ کے اختیار میں شراکت کرکے ایک بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہو چکے ہیں
    اگر نتھا کمارا کا کورٹ ٹرائل کروایا جاتا تو شاید نتھا کمارا اسلام کی طرف مائل ہو جاتا اور مشربہ اسلام ہو جاتا

    اسی شہر سیالکوٹ میں 2010 میں دو سگے بھائیوں منیب اور مغیث کو جنونیوں نے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو لٹکا دیا تھا اور الزام لگایا کہ وہ ڈاکو تھے جو کہ بعد میں ثابت بھی ہوا کہ وہ ہرگز ڈاکو نا تھے
    ان کی لاشوں کو ذاتی طور پر عوام کی طرف سے یوں لٹکایا جانا سراسر غیر قانونی اور غیر اسلامی فعل تھا مگر افسوس اتنی بڑے غلط فعل کے مرتکب
    ان دونوں بھائیوں کے 12 قاتلوں کو محض 10 سال قید ہوئی تھی جوکہ رہائی پا چکے ہیں

    میرا ان نام نہاد عاشقین رسول سے سوال ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی کے جرم کرنے پر اسے سزا دینے کا کونسا شرعی ،آئینی حق حاصل ہے تمہیں ؟

    او ظالموں دین اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے والے شر پسندوں نعرہ عشق رسول ہی نہیں سیرت نبوی کا مطالعہ بھی کرو تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ تم انجانے میں کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہو چکے ہو-

  • رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    پیرو کے دارالحکومت لیما سے سینکڑوں سال پرانی رسیوں میں جکڑی ممی دریافت کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سان مارکوس کے ماہرین نے لیما سے 25 کلو میٹر دور کاہا مورکیلا سے ممی کو دریافت کیا ہے جو رسیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    ملنے والے ممی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ رکھا ہے اور اسے اکڑوں بٹھایا گیا تھا ماہرین کا کہنا ہے کہ رسیوں میں جکڑنا اور اکڑوں بٹھانا مردے کی بےحرمتی یا تشدد نہیں بلکہ اس وقت دفنانے کا یہی طریقہ تھا اور اس وقت کی تہذیب میں عام تھا۔

    محتاط اندازے کے مطابق دریافت ہونے والی ممی 8 سو سے 12 سو سال پرانی ہے اور یہ ہسپانوی عہد سے پہلے کا دور تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والی ممی کسی 25 سے 30 سال کے نوجوان کی لاش ہے اور یہ اسی علاقے کی پہاڑوں میں رہتا تھا۔

    واضح رہے کہ ماہرین نے رواں سال اکتوبر میں یہاں دوبارہ کھدائی شروع کی تھی جس کے بعد یہاں سے کئی اہم اشیا برآمد ہوئیں اور ممی بھی اسی دوران دریافت ہوئی۔ جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم اتنے کامیاب ہوں گے۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    خیال رہے کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں 78 ہزار سال پرانی 3 سالہ بچے کی قبر دریافت کی تھی یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

    عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار

  • رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کےمطابق سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا دوسری جانب سورج گرہن جنوبی افریقا، جنوبی آسٹریلیا، جنوبی امریکا، بحیرہ اوقیانوس، بحرالکاہل، انٹارکٹیکا اور بحیرہ ہند کے علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے…

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    محکمہ موسمیات کے مطابق محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2021 کے آخری سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجکر 29 منٹ ہوگا،سورج کو مکمل گرہن 12 بجے لگے گا سورج گرہن کا اختتام دوپہر2 بج کر 37 منٹ پر ہوگا۔

    اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    سورج گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب زمین اور سورج کے درمیان چاند آجاتا ہے اور اس کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ یہ سورج گرہن اگرچہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا لیکن جنوبی نصف کرے (سدرن ہیمسفیئر) کے کئی ممالک میں نمایاں ہوگا۔ واضح رہے کہ مکمل سورج گرہن صرف انٹارکٹیکا میں ہی دیکھا جاسکے گا۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوسرا ٹیسٹ آج ڈھاکا میں کھیلا جائے گا

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوسرا ٹیسٹ آج ڈھاکا میں کھیلا جائے گا

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ آج سے ڈھاکا میں شروع ہوگا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہوگا پاکستان کو سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

    پہلا ٹیسٹ میچ جیتنے والی پاکستان الیون میں تبدیلی کا امکان نہیں پاکستان ٹیم 6 بیٹر، 2 اسپنر، 2 فاسٹ بولر اور 1 آل راؤنڈر کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلادیش سے میچ جیت لیا

    د وسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن فِٹ ہوکر پاکستا ن کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کیلئے قومی اسکواڈ میں شامل ہوگئے۔
    گزشتہ روز دونوں ٹیموں نے سیریز کے فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے لئے بھرپور پریکٹس کی اور اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دی۔

    ٹی 20 سیریز ،پاکستان کی شاندار کامیابی

    واضح رہے کہ اسی دورہ کے ابتدا میں پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سوئپ فتح حاصل کی تھی۔

    آیف آئی ایچ میگا ایونٹ کا آغاز کل ،پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم پرامید

  • پی ایس ایل 7 کا پہلا مرحلہ کب شروع ہوگا:خبریں‌ آگئیں‌

    پی ایس ایل 7 کا پہلا مرحلہ کب شروع ہوگا:خبریں‌ آگئیں‌

    لاہور: پی ایس ایل 7 کا پہلا مرحلہ کب شروع ہوگا:خبریں‌ آگئیں‌،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کےساتویں ایڈیشن کے معاملات کو اگلے ایک دو روز میں حتمی شکل دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ نے پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کے تمام معاملات کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

     

     

    ذرائع کا کہنا ہےکہ  پی ایس ایل کا پہلا مرحلہ 27 جنوری سے شروع کرنےکی منصوبہ بندی کی  گئی ہے جس کے لیے  روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز کا سلسلہ جاری ہے۔

     

    ذرائع کا بتانا ہے کہ  پی ایس ایل کی ڈرافٹنگ 12 دسمبر سے لاہور میں ہی کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق  پی ایس ایل کے معاملات کے اعلانات کا آغاز  آج سے شروع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

     

     

    ادھر انٹرنیشنل میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس خواتین کی کرکٹ کے لیے کوئی نظام نہیں ہے، ہمارے پاس اس کے لیے نہ کوئی اسکولز ہیں اور نہ  ہی کالجز ہیں۔

     

     

    چیئرمین پی سی بی نے ویمن کرکٹرز سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایشیا میں اس قسم کی پہلی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہوگی کیونکہ خواتین کی کرکٹ ہمارے کھیل کا ایک اہم پہلو ہے۔

     

    انٹرویو میں افغانستان کرکٹ بورڈ کو درپیش مشکلات کے حوالے سے رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی کرکٹ فی الحال مشکلات کا شکار ہے لیکن دیگر ملکوں کے کرکٹ بورڈز کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی افغانستان کے ساتھ کھڑاہے۔

  • نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟

    بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق
    UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    سرینگر: بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشددکا استعمال کررہا ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپر بھار ت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پرمہلک پیلٹ گنزکی فائرنگ سے 200سے زائد افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو اپا ہج بنانے کیلئے انتہائی ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جن میں پر امن مظاہروںاور سوگواران پرگولیوں ،پیلٹ گنز ، پا وا اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شامل ہے۔ اسکے علاوہ وحشیانہ ظلم و تشدد، بجلی کے جھٹکے، ٹانگوں کے پٹھوں کو لکڑی کے رولر سے کچلنا ، گرم چیزوں سے جلانا اور تفتیشی مراکز میں الٹا لٹکانا بھی شامل ہیں جبکہ محکوم کشمیریوں کے خلاف کھلونانما بموں اور بارودی سرنگوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف مہلک پیلٹ گنز کے وحشیانہ استعمال سے مقبوضہ علاقے میں معذور ہونے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بصارت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو ایک منظم طریقے سے معذوربنانے کے بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدام کا فوری نوٹس لے۔

  • جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔

    درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا

    اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔

    ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔

    اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔