Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت
    22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زندہ خلیات سے تیار کردہ دنیا کا پہلا روبوٹ “زینوبوٹ” اب افزائش نسل بھی کر سکے گا یہ روبوٹ اہم کام سرانجام دینے کے ساتھ خود کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔

    پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے مل کر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو ارتقائی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے سپرکمپیوٹر پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ یہ دوا یا کسی اور چیز کو اپنے ہدف تک پہنچا سکتے ہیں یہ روایتی روبوٹ نہیں بلکہ جیتی جاگتی زندہ مشینیں ہیں اور یہ زندہ روبوٹس اپنی مزید نقول تیار کرسکتے ہیں۔

    ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔

    ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

    اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    واضح رہے کہ امریکی سائنسدانوں نے مینڈک کے جنین کے خلیوں کی مدد سے دنیا کا پہلا زینوبوٹ بنایا تھا جسے اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جا سکتا ہے تاہم اب یہ روبوٹ افزائش نسل بھی کر سکے گا۔

    ان زینوبوٹس کو ایک مخصوص محلول میں رکھا جاتا ہے جہاں اگر ان کی کافی تعداد موجود ہو تو ان کی حرکت سے مینڈک کے جنین کوئی ڈھیلا خلیہ ان کے ‘پیک مین’ ویڈیو گیمز کی شکل والے منہ میں جمع ہوجاتا ہے جس کے بعد مزید خلیے جمع ہو کر ایک نیا زینو روبوٹ بنا لیتے ہیں۔

    کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے بچے سمیت 7 افراد ہلاک

  • سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

    سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

    سام سنگ کمپنی نے بالآخر پاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے ہیں اس سے صنعت اور حکام کو امید ملی ہے کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں ملک کا درآمدی بل کم ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت منگل کو کمپنی کے اعلیٰ مینیجرز کی سینیٹرز کے ساتھ ایک اجلاس میں سامنے آئی جنہوں نے پروڈکشن سائٹ کا دورہ کیا تھا اور اس کا مقصد پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے لیے بڑھتے ہوئے نئے شعبے اور آنے والے چیلنجز کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنا تھا-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین فیصل سبزواری نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سام سنگ نے باقاعدہ طور پر اپنی پیداوار شروع کردی ہے، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کمپنی نے 4 ماہ کی قلیل مدت میں پیداوار بھی شروع کردی۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    فیصل سبزواری نے سام سنگ پروڈکش یونٹ اور گاڑیوں کے ایک مینوفیکچرنگ پلانٹ کا دورہ کرنے والی سینیٹ کمیٹی کے وفد کی سربراہی کی اور ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے ساتھ اجلاس بھی کیا –

    انہوں نے بتایا کہ نے بتایا کہ ہم نے پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا جو جدید خطوط پر استوار ہے اور ظاہر ہے کہ مقامی افرادی قوت، مقامی صنعت کی سپورٹ اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سازگار ماحول اس کامیابی کا سبب بنا لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ ہمیں صرف اسمبلنگ میں ترقی سے آگے بڑھ کر صنعت کو مقامی بنانے تک جانا چاہیے۔

    خیال رہے کہ ملک میں موبائل فونز کی مقامی پیداوار کو بہت فروغ ملا ہے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران مقامی مینوفیکچرنگ پلانٹ سے موبائل فونز کی پیداوار دگنی ہو کر ایک کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار کی سطح پر جا پہنچی جبکہ درآمد شدہ فونز کی تعداد 4 کروڑ 50 لاکھ تھی۔

    تاہم موبائل فونز کی مقامی پیداوار میں اضافے کے باوجود درآمدت اس سے بھی بلند سطح پر رہی۔

    پی ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران 64 کروڑ 46 لاکھ 70 ہزار ڈالرز مالیت کے فونز درآمد کیے گئے جس میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 55 کروڑ 79 لاکھ 61 ہزار ڈالر کے مقابلے 15.54 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    بلدیاتی ملازمین کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ

  • ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے صارفین پر بغیر رضامندی کسی کی تصاویر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کمپنی کی جانب سے عام صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    کمپنی نے کہا کہ عام افراد کی تصاویر یا ویڈیوز ان کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683093436739588?s=20
    رپورٹس کے مطابق نئے قوانین کے تحت وہ لوگ جو عوامی شخصیت(Public Figure) نہیں ہیں، ٹوئٹر سے ان کی تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے کہہ سکتے ہیں جنھیں ان کی اجازت کے بغیر پوسٹ کیا گیا ہو۔

    بیان کے مطابق اگرچہ ہر فرد میڈیا فائلز کو شیئر کرنے پر متاثر ہوسکتا ہے مگر اس کا اثر خواتین، سماجی کارکنوں اور اقلیتی برادریوں کے افراد پر زیادہ ہوتا ہے۔

    جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683094581792771?s=20

    کمپنی نے بتایا کہ اگر کوئی صارف کسی تصویر یا ویڈیو کو رپورٹ کرتا ہے جس میں پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹوئٹر کی جانب سے میڈیا فائلز کو ہٹا کر مختلف آپشنز کے تحت ایکشن لیا جائے گا ان اقدامات میں صارفین کے مواد کو ریپلائیز اور سرچ رزلٹس میں نیچے لایا جاسکتا ہے یا اس فرد کو ٹوئٹ ڈیلٹ کرنے کا کہا جائے گا۔

    ٹوئٹر کے پاس پالیسی کی خلاف ورزی پر صارفین کو ہمیشہ کے لیے معطل کرنے کا اختیار بھی ہوگا اس پالیسی میں کچھ استثنیٰ بھی ہے جیسے عوامی شخصیات کے پرائیویٹ میڈیا کو اس میں کور نہیں کیا جائے گا یا ایسی تصویر، ویڈیو کو ٹوئٹ میں شیئر کیا جائے گا جو عوامی مفاد میں ہوآسان الفاظ میں اگر وہ میڈیا فائلز اہم ہے تو ٹوئٹر کی جانب سے اسے پلیٹ فارم پر برقرار رکھا جائے گا۔

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    کمپنی کی جانب سے مختلف عناصر جیسے ٹی وی یا اخبارات میں تصاویر کی موجودگی کو بھی مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا مگر کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر عوامی شخصیات یا دیگر افراد کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کو شیئر کرنے کا مقصد ان کو ہراساں کرنا یا چپ کرانا ہوگا تو ٹوئٹر کی جانب سے ان فائلز کو ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔

    ٹوئٹر میں کافی عرصے سے صارفین کی جانب سے دیگر افراد کی نجی تفصیلات جیسے رہائشی پتے، فون نمبر، شناختی دستاویزات یا مالیاتی تفصیلات پر پابندی عائد کررکھی ہےاب لوگوں کی نجی میڈیا فائلز کے حوالے سے پالیسی کا نفاذ 30 نومبر سے ہورہا ہے جس کا مقصد سیفٹی پالیسیوں کو انسانی حقوق کے معیار کے مطابق لانا ہے۔

    خیال رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے نیٹ ورک پالیسی اور قوانین میں نئی پابندیاں سی ای او کی تبدیلی کے ایک دن بعد سامنےآئی ہیں۔

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

  • محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے محنت لازمی ہے محنت کے بغیر کامیابی حاصل کرنا نا ممکن ہے لیکن محنت کیا ہے اور کیوں ضروری ہے اور اس میں توازن کا کیا عمل دخل ہے اس پر بات کرتے ہیں

    کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جانی والی کوشش محنت کہلاتی ہے کامیابی اور محنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے قسمت سے زیادہ محنت پر کامیابی کا انحصار ہے کیوں کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی اور قسمت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی

    انسان سچے دل سے جو کام کرے اس میں کامیاب ہوتا ہے محنت انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا بہانہ نہیں ہو سکتا جب انسان بہانہ بنانے کی بجائے محنت کرنے لگے تو کامیابی اس کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے محنت انسان کو عزم مصمم سکھاتی ہے

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محنت کا پھل اسی وقت نہیں ملتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محنت ضائع ہو گئی کیوں کہ محنت ضائع نہیں ہوتی وقتی طور پر اگر محنت کا ثمر نہ بھی ملے تو زندگی میں آگے جا کر ضرور محنت کا پھل مل جاتا ہے

    محنت اثر رکھتی ہے اور اثر ثمر پیدا کرتی ہے محنت سے ملنے والا ثمر پر تاثیر ہوتا ہے جتنی محنت کرو گے اس سے ملنے والے ثمر میں اتنی تاثیر ہو گی دوسرے الفاظ میں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہو گا محنت انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے جب انسان محنت کو اپنا مددگار بناتا ہے اسے ثمر ملتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر میں محنت کروں گا تو کوئی طاقت مجھے میرے ثمر سے محروم نہیں کر سکتی یہ خود اعتمادی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے خود اعتمادی ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو ہار نہ ماننے کا درس دیتی ہے اور محنت کرنے پر آمادہ کرتی ہے کیوں کہ محنت اور خود اعتمادی آپس میں جڑے ہوتے ہیں

    محنت سبق دیتی ہے ہار نا ماننے کا اور جو شخص ہار نا ماننا سیکھ لے اسے کبھی ہرایا نہیں جا سکتا یہ جذبہ انمول ہوتا ہے یہ جذبہ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب آپ کو اپنی محنت پر یقین ہو محنت پر یقین نہیں ہو گا تو یہ جذبہ نہیں مل سکتا محنت انمول چیز ہے جو انسان کو نا قابل یقین ہمت عطاء کرتی ہے انسان میں جرات پیدا کرتی ہے ایسی جرات کہ انسان خود پر یقین کرتا ہے کہ سب کر سکتا ہوں
    محنت انسان کو بتاتی ہے کہ وہ اس وقت کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب اس میں لگن ہو چھا جانے کی جب اسے پتا ہو کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے سب کر سکتا ہے جب اسے پتا ہو کہ اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اگر وہ اپنے ہنر کو پہچان لے کیوں کہ خود کو پہچانے بغیر انسان کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو جانچ لیتا ہے تو وہ ان کو استعمال کرنے لگتا ہے اور اس محنت سے وہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے

    محنت کرتے ہوئے توازن برقرار رکھنا ضروری ہے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے میں اس قدر مگن نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان لوگوں ان چیزوں سے دور ہو جائیں جو آپ کی طاقت ہیں ذہنی سکون انتہائی لازمی ہے کسی بھی کام کو اس حد تک کیا جاۓ کہ ذہنی سکون برباد نہ ہو جسمانی حالت آپ کی طاقت ہوتی ہے انسان کو کبھی بھی اپنی فٹنس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے اپنے آپ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے جسمانی صحت انتہائی ضروری ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ محنت کرتے ہوئے زندگی کا توازن برقرار رہے زندگی کا توازن بگڑنا نہیں چاہیے
    @_Ujala_R

  • ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گی

    سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔
    اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔

    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔
    اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسے
    Dimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگرDimorphosکے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000
    میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔
    ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • بھارتی فوج  کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا اور تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2019سے اب تک گزشتہ تین سال میں13خواتین سمیت 651کشمیریوں کو شہید کیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 99کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے حراست کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ اتحقیقاتی ادارے این آئی نے مقبوضہ علاقے میں کم سے کم 12ہزار694 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں 18سے زائد حریت رہنمائوں، کارکنوں،کشمیری نوجوانوں، طلبا، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین کو گرفتار کیا۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ کے چیئرمین خواجہ فردوس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی ظلم وتشدد اور بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے ہرگز دستبردار نہیں ہو ں گے اور اپنی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور فوجی اہلکار ترقی اور انعامات کی لالچ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میںملوث ہے ۔

    خواجہ فردوس نے کہا کہ بھارتی فوج چھاپوں کے دوران دانستہ طورپرچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے تاکہ کشمیری عوام کو اپنی حق پر مبنی تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اوریہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قام ہوسکے۔

    حریت رہنما نے جموںو کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظر بندحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظر بند وں کو جیل مینول کے مطابق کوئی سہولیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر کشمیری قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی فوری رہائی کیلئے اپنی آوازبلند کریں ۔

     

  • گھرسے دورجیتنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے، رمیز راجا  ،ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے  عابد علی

    گھرسے دورجیتنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے، رمیز راجا ،ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے عابد علی

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین رمیزراجا نے بنگلا دیش کے خلاف چٹاگانگ ٹیسٹ جیتنے پرکرکٹ ٹیم کومبارکبا د دی ہے۔

    باغی ٹی وی : چئیرمین پی سی بی رمیز راجا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں ٹیم کومبارکبا د دیتے ہوئے کہا کہ ٹرننگ پچ پر200 رنزکے ہدف کا تعاقب کرنا ایک طرح کا امتحان تھا زبردست بات یہ ہے کہ ہدف کا تعاقب عمدہ طریقے سے کیا گیا گھرسے دورجیتنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے۔


    دوسری جانب قومی ٹیم کے ٹیسٹ اوپنرعابد علی کا کہنا ہے کہ ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے پاکستان نے بنگلا دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیت لیا ہے اب دوسرے ٹیسٹ کودیکھ رہے ہیں ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے۔کوشش ہے کہ ٹیسٹ چمپئین شپ کے پوائنٹس ٹیبل میں اوپرجائیں یہ پرفارمنس ماضی کا حصہ بن چکی ہے ڈھاکا میں بھی مثبت ذہن کے ساتھ کھیلنا ہےکوشش ہوگی کہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی مومنٹم کولے کرچلوں۔

    بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    عابدعلی نے کہا کہ عبداللہ شفیق بہت اعتماد سے کھیلے ہم دونوں کا پلان یہی تھا کہ وکٹ پرٹھہرنا ہے بیٹنگ کے دوران ایک دوسرے کی غلطیاں بتاتے رہے۔ مین آف دا میچ جیتنے کی بہت خوشی ہے۔مین آف دا میچ بننے کا کریڈٹ ڈومیسٹک میں کھیلنے کوجاتا ہے۔ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے اعتماد ملا ہے۔پہلی اننگز میں سنچری مکمل کی دوسری میں نہ کرسکا لیکن یہ کھیل کا حصہ ہے۔

    پاکستان نے بنگلہ دیش کو 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں شکست دے دی ہےبنگلہ دیش کو پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست دینے کے بعد قومی ٹیم دوسرے نمبر پر آگئی ہے بنگلہ دیش کی طرف سے دیا گیا 202 رنز کا ہدف پاکستان نے 2وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا آخری اننگز میں پاکستان کی طرف سے عبداللہ شفیق اور عابد علی کے درمیان ایک اور سنچری شراکت قائم ہوئی عبداللہ شفیق 73 مہیدی حسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے اور پاکستان کی دوسری وکٹ 171 رنز پر گری اور عابد علی نروس نائنٹیز کا شکار ہوکر 91 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

    ٹی 20 سیریز ،پاکستان کی شاندار کامیابی

    اوپنر کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان بابراعظم اور اظہر علی نے میچ کو آگے بڑھایا اور میچ جتوایا بابراعظم 13 اور اظہر علی 24 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں قومی ٹیم کو 0-1 کی برتری حاصل ہوگئی ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 4 دسمبر سے شرو ع ہوگا۔

    اس سے قبل پہلی اننگز میں بنگلہ دیش نے 330 رنز بنائے تھے لٹن داس نے 114 رنز کی اننگز کھیلی حسن علی نے 5 وکٹیں حاصل کیں پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 286 رنز بنا سکی عابد علی نے 133 اور عبداللہ شفیق نے 52 رنز بنائے۔

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلادیش سے میچ جیت لیا

    تیج الاسلام نے 7 وکٹیں حاصل کی بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان کو 202 رنز کا ہدف ملا پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے دوسری اننگز میں 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا-

    عالمی جونیئر ہاکی کپ،جرمنی پہلے میچ میں فاتح

    وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے بنگلہ دیش کے خلاف چٹا گانگ ٹیسٹ جیتنے پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی،اور کہا کہ عابد علی نے دونو ں اننگز میں شاندار بلے بازی کر کے پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا- بہترین بیٹنگ پر عابد علی کو خصوصی طورپر مبارکباد دیتا ہوں -عبداللہ شفیق نے بھی دوسری اننگز میں عمدہ بیٹنگ کی-پاکستانی بالرز شاہین آفریدی اورحسن علی نے بھی چٹا گانگ ٹیسٹ میں شاندار باؤلنگ کی -بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی بہترین ٹیم ورک اور کھلاڑیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ امید ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم فتوحات کا یہ سلسلہ برقرار رکھے گی-

  • زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    زیبرا تو آپ نے دیکھا ہوگا مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ سائنس نے اس کا بہت دلچسپ جواب دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : زیبرا کی کھال کے نیچے جلد سیاہ ہوتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پٹیوں کی سیاہ یا سفید رنگت کا اس سے کچھ لینا دینا ہے زیبرا کے زیادہ تر بال سفید ہوتے ہیں بشمول پیٹ اور ٹانگ کے اندرونی حصے میں، جہاں پٹیوں کا اختتام ہوتا نظر آتا ہے۔

    اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کھال کی رنگت سفید ہے جبکہ پٹیاں سیاہ، مگر لائیو سائنس کے مطابق یہ اس سوال کو دیکھنے کا غلط نظریہ ہے اصل جواب میلا نوسائٹس نامی خلیات میں چھپا ہوا ہے یہ خلیات رنگت بنانے والے ہارمون میلانین کو بناتا ہے جو زیبرا اور تمام جانداروں کے بالوں اور جلد کی رنگت کا تعین کرتا ہے۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    جب زیبرا کی کھال اگتی ہے تو میلانوسائٹس جڑوں کو حکم دیتا ہے کہ بالوں کی رنگت ہلکی ہونی چاہیے یا گہری، یہ تعین جسم کے حصوں کی بنیاد پر کرتا ہے یہ خلیات زیادہ میلانین والی سیاہ کھال کو تشکیل دیتا ہے جس سے زیبرا کا مخصوص پیٹرن ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔

    زیبرا کے سفید بالوں میں میلانین نہیں ہوتا اور میلانوسائٹس سے بنتے ہیں جو ٹرن آف ہوجاتا ہے آسان الفاظ میں زیبرا کے اگنے والے بال قدرتی طور پر سیاہ ہوتے ہیں جو اس جانور کو سیاہ جلد کے ساتھ سفید پٹیاں فراہم کرتے ہیں یہ تو زیبرا کی پٹیوں کے معمے کا ایک جواب ہے، سائنسدان اب تک نہیں جان سکے کہ یہ پٹیاں ہوتی کس لیے ہیں۔

    ایک عام خیال تو یہ ہے کہ اس سے زیبرا کو شکاریوں کو الجھن میں ڈالنے میں مدد ملتی ہےایک تحقیق میں بھی اس خیال کو سپورٹ کیا گیا تھا کہ یہ پٹیاں حشرات الارض کو دور رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ اسٹائلش انداز اضافی بونس ہے۔

    بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی…

    دہائیوں سے کچھ سائنسدان دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دھاریاں اس چرندے کو درندوں سے بچانے کے لیے کیموفلاج کا کام کرتی ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ کیڑوں کو دور رکھتی ہیں ہنگری کے سائنسدانوں نے 2019 میں اس معمے کا حل جاننے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان کے مطابق یہ سیاہ و سفید دھاریاں نہ صرف زیبرا کو خون چوسنے والی ہارس فلائی (گھڑ مکھی یا خرمگس) سے تحفظ فراہم کرتی ہیں بلکہ مختلف جنگلی قبائل نے بھی اس سے یہ ٹرک سیکھ کر جسم کو رنگ کر خون چوسنے والے کیڑوں کے تکلیف دہ ڈنک سے خود کو بچانا سیکھا۔

    اس خیال کو آزمانے کے لیے محققین نے مختلف پتلوں کو ایسی سفید دھاریوں سے رنگ دیا جو کہ دنیا بھر میں قبائلی افراد اپنے جسم پر بناتے ہیں انہوں نے دریافت کیا کہ ایسا کرنے پر ہارس فلائی پتلوں سے دور رہیں۔

    یہ تجربات ہنگری میں کیے گئے جہاں ہارس فلائی کی متعدد اقسام موسم گرما میں عام ہوتی ہیں اور محققین کے مطابق ان دھاریوں سے روشنی بے ترتیب ہوجاتی ہے جس سے ان کیڑوں کے لیے اپنے ہدف کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    رائل سوسائٹی جرنل میں شائع تحقیق کےمطابق انسانی ماڈل ان خون چوسنے والے کیڑوں کے لیے سفید دھاریوں والے ماڈل کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ پرکشش ثابت ہوتے ہیں ایوٹووس یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ممالیہ جانداروں میں سب سے نمایاں دھاریاں زیبرا میں ہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہارس فلائی کی نظر میں ان کی کشش بہت کم ہوجاتی ہے

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی