Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی

    سرینگر:کشمیریوں کے قتل عام کے لیے امریکہ نے بھارت کو مہلک ترین گن دے دی اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مزیدآزادی پسند کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کی غرض سے بھارتی پولیس کو مہلک امریکی سگِ اسالٹ رائفلوں اور پستولوں سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پہلے ہی اپنی فوج کو مقبوضہ کشمیرمیں جدید ترین رائفلوں سے لیس کردیا ہے ۔ حکام کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس جدید ترین امریکی سگِ اسالٹ رائفل حاصل کرنے والی پہلی فورس ہو گی ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی فورس 500 سگ سوئر 716 رائفلیں اور 100سگ سوئر ایم پی ایکس نائن ایم ایم پستول خریدے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے حال ہی میں ان مہلک ہتھیاروں کی خریداری کیلئے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ سگ سوئراسالٹ 716رائفلزکشمیرمیں پولیس کے زیر استعمال انساس رائفلوں کے مقابلے میں زیادہ مہلک اور جدید ہے ۔ حکام کے مطابق رائفل جس کا وزن میگزین کے بغیر 3.82کلو ہے، ساڑھے چھ سے ساڑھے آٹھ سو رائونڈ فی منٹ فائر کرتی ہے اور 500میٹر تک کے فاصلے تک نشانہ بنا سکتی ہے ۔ یہ جدید ترین رائفل اپنی ان خصوصیات کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں اپنی فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام ، گرفتاریوں اور انہیں عمر بھر کیلئے معذور کرنے کیلئے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں ۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیرمیں95ہزار950سے زائد کشمیریوں کو شہید اور 11ہزار246خواتین کی بے حرمتی کی ہے ۔

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔

  • خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    نیو جرسی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے ایک نئے پروگرام کے تحت 24 مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کرلی ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق ناسا نے جن 24 مذہبی رہنماؤں کی خدمات حاصل کیں ان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیشوا بھی شامل ہیں جب خلائی ایجنسیاں زمین سے باہر رہنے کے قابل سیاروں اور اجنبی زندگی کی تلاش کے لیے نئی دوربینیں، روور اور تحقیقات شروع کر رہی ہیں، ایک برطانوی پادری ناسا کی یہ سمجھنے میں مدد کر رہا ہے کہ کس طرح ماورائے زمین کی دریافت کائنات کو دیکھنے کے انداز کو بدل دے گی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ریو ڈاکٹر اینڈریو ڈیوسن، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پادری اور ماہر الہیات، آکسفورڈ سے بائیو کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کے ڈگری ہولڈر، ان 24 ماہرینِ الہیات میں شامل ہیں جنہوں نے پرنسٹن میں سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری (CTI) میں ناسا کے زیر اہتمام پروگرام میں حصہ لیا۔ امریکہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ دنیا کے بڑے مذاہب اس خبر پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے کہ ہمارے علاوہ اور ہمارے جیسی اور بھی مخلوق ہے-

    رپورٹ کے مطابق قریباً ایک سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا مقصد خلائی مخلوق سے رابطے کی صورت میں مذہبی نقطہ نگاہ کو جاننا، سمجھنا، اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ترین ردِعمل کا تعین کرنا ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    کائنات میں زمین جیسے سیاروں کے علاوہ وہاں پر انسان جیسی ذہین اور ترقی یافتہ مخلوق ملنے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن اب تک ایسی کسی ’خلائی مخلوق‘ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آنے والے ہزاروں سال تک ہمیں خلائی مخلوق کا کوئی سراغ نہ ملے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران ہمیں اپنے جیسی کسی ذہین خلائی مخلوق کا پیغام موصول ہوجائے۔

    ایسی صورت میں ایک پوری نوعِ انسانی کی حیثیت سے ہمارا جامع ترین جواب کیا ہونا چاہیے جو ہماری علمی سطح کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد کا اظہار بھی کرے؟ اس منصوبے کا مقصد یہی تعین کرنا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    سال بھر جاری رہنے والے اس پروگرام کو ’فلکی حیاتیات کے سماجی مضمرات‘ کا عنوان دیا گیا ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی کے ’مرکز برائے مذہبی تحقیق‘ (سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری) یا مختصراً ’سی ٹی آئی‘ میں منعقد کیا جارہا ہے۔

    امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں اس پروگرام کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد سے یہ چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ شاید ناسا نے خلائی مخلوق دریافت کرلی ہے یا اس کا رابطہ کسی ذہین خلائی مخلوق سے ہوگیا ہے تاہم اس بارے میں اب تک ناسا کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

  • نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک لعنت ہے . تحریر:حنا سرور

    نشہ ایک بیماری ہے جس کا علاج انتہائ ضروری ہے ۔نشہ موت ہے زندگی انمول ہے ہر گلی محلے میں چرس آئس وغیرہ کی فروخت سرے عام ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل بربادی کی طرف گامزن ہے

    منشیات اور ہماری نوجوان نسل خاص کر طالبعلم طبقہ منشیات چرس،ایس،افیوم وغیره وغیره اگر ہم تھوڑا سوچ لے تو منشیات یا نشے کے جو عادی زیادہ تر ہمارے سٹوڈنٹس ہے وہ اس بیہودہ عمل میں مبتلا ہے.یہ زہر اج کل ہمارے طالب علموں میں اگ کی طرح پھیل رہا ہے.زیادہ تر لوگ اس سوچ میں پڑے ہیں کہ اس وبا کو اس اگ کو ختم کرنے والے کچھ سپیشل فورسیز ہے.پر میں ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ اگر اس کی روک تھام کےلے کچھ کچھ سپیشل departments ہے تو اس وقت کہا رہتی ہے جب ہمارے طالب علموں کے ہاسٹلوں تک یہ زہر پہنچایا جاتا ہے ؟اس وقت وہ افیسرز کہا رہتے ہے جب ھمارے جوان بھای ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر افیوم پیتے ہے.؟وہ ادارہ کہا ہے جو کہتے ھیں کہ ھم اس کو روکینگے. اپ کے آفسز کے کے قریب اس کی جو فکٹریاں ہے جہاں یہ زہر تیار ھوتا ہے اس وقت اپ کے فورس کہا رہتی ہے؟کیا اپ لوگ ساری عمر خرام کی کماٸ کھاے گے .کیا ساری عمر اپ کو لوگ خبر دیتے رہیں گے؟خود بھی کچھ انویسٹیگیشن کرے گے یا نہیں؟اس باتوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس اگ اس زھر کو پھیلانے میں اور جوان نسل کو برباد کرنے میں اس ڈیپارٹمنٹس کے خود اپنے لوگ ہے

    اہم بات کی طرف آتے ہیں ۔جو لوگ نشہ بیچتے ہیں ان کو یہ احساس نہیں کہ اس سے لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔نوجوان نسل میں بڑھتے ہووے منشیات کے استعمال کی وجہ سے ملک بھر میں ایسے سینٹر ہسپتال بن چکے ہیں جہاں نشہ کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ان کو واپس زندگی کی طرف لایا جاتا ہے۔۔آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں سے رابطہ کیا ہوگا ۔جو نشے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان سے یہ سوال کیا جاے ۔کہ تم نشہ کیوں کرتے ہو ۔تمھاری فیملی خاندان بچے لاوارثوں کی سی زندگی جی رہے ہیں کیا تمھیں ان پر ترس نہیں آتا ۔۔تو وہ ایک ہی جواب دے گا ۔۔کہ جی دوست نے نشہ پر لگا دیا تھا ۔۔یا کسی رشتہ دار نے ۔۔لیکن جب آپ پوچھو گے کہ تم نے اس سے کبھی چھٹکارہ پانا چاہا ۔۔تو اس کے پاس کوی جواب نہیں ہوگا ۔۔یاد رکھیے نشہ کے عادی انسان کا علاج تب تک ممکن نہیں جب تک وہ خود نشہ کو نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ورنہ جو اس کی زندگی بچانے کی خطیر رقم اور کوشش کرتے ہیں ان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جب وہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیتا ہے آپ نے اکثر نشئ لوگوں کو گند کہ ڈھیڑ پر کچڑے پر ہی بیٹھے دیکھا ہوگا ۔۔ایسی جگہوں پر ایک عام انسان کا کچھ لمحے رکنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن نشہ کہ عادی لوگ ہمیشہ ایسی ہی جگہوں پر بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ گند پیتے گند کھاتے ان کی رگوں میں بھی وہی گند سراہیت کر جاتا ہے کہ ان کو گٹر پاس بیٹھ کر بھی بدبو محسوس نہیں ہوتی ۔۔ بدبو میں رہنے والے ایک انسان کی سوچ نارمل کیسے ہو سکتی ہے نشہ انسان کو انسان سے حیوان بنا دیتا ہے ۔وہ بچوں کو بیچتے مارتے بیوی کو پیٹتے بھی درد محسوس نہیں کرے گا اکثر ایسے لوگ اپنی ماوں تک بھی کو نہیں چھوڑتے ۔لیکن ایک بات سمجھنے والی ہے ۔کہ نشہ ڈھونڈنے والا سترہ سال کا لڑکا زمین کی تہ سے بھی نشہ ڈھونڈ لیتا ہے جبکہ پولیس نشہ سپلائ کرنے والوں کو نہیں ڈھونڈ پاتی ۔۔کیسے نشہ سپلائ والا جیلوں تک ہسپتالوں تک بھی پہنچ جاتا ہے ۔۔کیسے صحت مند ہووے نشے کے عادی لوگ پھر سے نشے پر لگ جاتے ہیں ۔۔بظاہر دیکھنے سننے میں یہ عام سا لفظ ہے ڈائیلاگ مکالمہ ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ کیسے ۔آپکو شاید یاد ہو کہ منشیات کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے کتنے ایسے انسان قتل ہو چکے اس مافیا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئ ایسے لوگ لاپتہ ہو گے ۔۔آخر کیوں کیا یہ مافیا ہماری حکومت کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں کم از کم 67 لاکھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔۔کہتے ہیں ہمارے ملک میں منشیات پر قانون بہت سخت ہے ۔۔حیرت ہے اتنے سخت قانون کے باوجود لاکھوں لوگ نشہ کررہے ہیں اور قانون دیکھ کر ان دیکھی کررہا ہے ۔۔

    ایک بات ماہرین کا خیال ہے کہ انسان پہلے پہل نشے کو بطور تفریح یا موج مستی استعمال کرتا ہے، جو رفتہ رفتہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ کینیڈا کی مک گیل یونیورسٹی کے ماہرین نے اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے رضاکاروں کی مدد سے انسانی دماغ کا تجزیہ کیا۔‏رسرچ جرنل میں شائع رپورٹ کےمطابق ماہرین نےرضاکاروں کو اپنےان دوستوں کےساتھ کوکین استعمال کرنے کے لیے کہا جو پہلےسےہی کوکین استعمال کرتےتھے۔ماہرین نے اس عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی،جس کے بعد ان رضاکاروں کے دماغ کا پی ای ٹی اسکین کیا گیا،جنہیں کوکین استعمال کرنےکے لیے کہا گیا۔ ‏اسکین کے وقت ان رضاکاروں کو دوستوں کی وہ ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ دوستوں کے ساتھ کوکین استعمال کر رہے تھے۔ ماہرین نے اس دوران رضاکاروں کے دماغ کی حرکت کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ انکے دماغ کے وہ حصے جو کسی بھی چیز کی خواہش کرنےکے لیے استعمال ہوتے ہیں، وہ متحرک ہو گئے۔‏ماہرین نے بتایا کہ ہر انسان کے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر ہوتا ہے، جو انسان کی خواہش اور اس کی تکمیل سے متعلق نظام کا کام کرتا ہے، یہ سسٹم اس وقت متحرک ہو جاتا ہے، جب کسی بھی کام کو پہلے پہل تفریح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ‏ماہرین کے مطابق کئی لوگ کوکین کو پہلے بطور تفریح یا موج مستی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر وہ اپنے دوستوں یا ارد گرد کے ماحول میں اس کا بار بار استعمال دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ کا نیوروٹرانسمیٹر متحرک ہو جاتا ہے، جس کے بعد یہ عمل ان کی عادت بن جاتا ہے۔۔۔اس کے علاوہ بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایڈز پھیلنے کی سب سے بڑی بیماری نشہ کرنے والے افراد کا سرنجوں کا غلط استعمال ہے ۔خیال رہے ایڈز کا مرض ایک وائرس کے زریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی حالت میں کوی بھی بیماری جسم میں داخل ہوتی ہے تو مہلک صورت اختیار کر لیتی ہے

    آج کل ہمارے ڈراموں میں فلموں میں چینلوں میں شراب اور سگریٹ کو واضع دکھایا جاتا ہے اور اوپر لکھا ہوتا ہے شراب حرام ہے ۔سگریٹ نوشی حرام ہے ۔سمجھ سے باہر ہے نہ ۔کہ جب شراب سگریٹ حرام ہے تو آپ چینلوں پر لوگوں کو پلاتے دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو آپ خود لوگوں کو اس پر لگا رہے ہو ۔کم عمر بچے بچیاں وہ جو دیکھیں گی وہی سیکھیں گے ۔۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ نوجوان ڈراموں فلموں سے غلط چیزیں سیکھ رہی ہیں تو ہمارے کچھ مہان لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ نہیں جی ۔ تربیت تو والدین دیتے اب چینلوں کا کیا قصور ۔۔شاید آپ بھول گے ہیں کہ ایک تربیت معاشرہ بھی دیتا ہے ۔انسان اپنے آس پاس رہنے والوں سے جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے وہی کرتا ہے ۔۔۔آپ اپنی ریٹنگ کے لیے اس حد تک گر گے ہو کہ آپ اداکاروں کو ڈراموں میں شراب تک پلاتے ہو ۔۔کہنے کو یہ میرا اسلامی جہموریہ پاکستان ہے اور کرنے کو ہم نے ہر وہ کام کرنا ہے جو اسلام کے خلاف ہو جس سے اسلام نے منع کیا ہو ۔۔۔یا حرام اور ناجائز کہا ہو ۔۔

    نشہ کے عادی لوگ اپنی جان کے دشمن اور اپنے رب کے ایسے ناشکرگزار بندے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کی بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہیں جو نوجوان نسل کو تباہ کرکے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں خداراہ اپنے بچوں پہ نظر رکھیں ان کی ہر ایکٹویٹی پر نظر رکھیں ۔۔۔وہ کہاں جارہے ہیں کیا کررہے ہیں ان کے دوست کون سے ہیں کہاں رہتے ہیں ۔یہ باتیں آجکل بہت چھوٹی لگتی ہے کیونکہ آج کہ دور کو جنریشن ماڈرن کہتی ہے اور والدین کا یوں پوچھنا ناگوار گزرتا ہے ان کو ۔۔دور کتنا ہی ماڈرن ہو جاے ایک وقت آتا ہے جب آپ کو پچھتاوا ہوتا ہے کہ والدین ٹھیک کہتے تھے ۔کاش ہم ان کی سن لیتے ۔۔لیکن پھر نہ والدین ہوتے ہیں اور نہ وہ لمحہ ۔۔سواے پچھتاوے کے۔۔

  • الحمدللہ:سال 2021میں قومی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی :بابر اعظم

    الحمدللہ:سال 2021میں قومی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی :بابر اعظم

    لاہور:الحمدللہ:سال 2021میں قومی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی :بابر اعظم کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ وہ سال 2021میں ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ،کوشش کی کہ ہر میچ اچھا کھیلیں ،رضوان ،شاہین شاہ اور حسن علی نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور بھارت کے خلاف فتح حاصل کرنا سال 2021کا سب سے یاد گار لمحہ تھا۔

     

     

    پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی )پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا کہ پورے سال بہت اچھی کرکٹ کھیلی، بحیثیت کپتان مجھے اپنے ہر لڑکے پر اعتماد ہے ، میں ہر لڑکے کو میچ ونر سمجھتاہوں ، بھارت کے خلاف فتح حاصل کرنا سال 2021کا سب سے یاد گار لمحہ تھا ۔

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ سیمی فائنل میں شکست پر افسوس ہے لیکن اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے، ٹی 20ورلڈ کپ میں بد قسمتی سے سیمی فائنل سے باہر ہوگئے، سیمی فائنل میں شکست سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے ، نئے سال میں شائقین کرکٹ ہماری سپورٹ جاری رکھیں۔

     

    ادھر آج پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ، ملاقات میں وزیر اعظم نے اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کی اصولی منظوری دی۔

    وزیراعظم نے پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ سے ملاقات میں آنے والے  PSL سیزن اور کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا اور اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

     

     

    وزیر اعظم نے ٹی 20 میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔

     

     

     

    رمیز راجہ نے وزیر اعظم کو اسٹیڈیم کی تعمیر 2025 تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر  پنجاب چوہدری محمد سرور  اور وزیر تعلیم شفقت محمود بھی موجود تھے۔

  • نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    سال 2021 اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جو کہ کئی حوالوں سے ہم انسانوں کے لئے ایک بہت ہی مشکل سال تھا خاص کر بیماریوں اور ان سے ہونے والی اموات کے حوالے سے تو یہ سال بہت ہی مشکل تھا پھر معاشی لحاظ سے بھی جو معاملات تھے وہ کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ اور ہر گزرتے سال کی طرح اس سال کے بارے میں بھی بہت سے مشہور نجومیوں نے بہت اہم پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔

    مشہور و معروف نوسٹرا ڈیمس اور باباونگا نے سال2022 کے بارے میں کون سی اہم پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ کو بتادوں کہ نوسٹرا ڈیمس ایک بہت ہی مشہورفرانسیسی ماہرعلم نجوم تھا۔ جبکہ بابا ونگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جس کی ایک حادثے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ بینائی نہ ہونے کے باوجود وہ آنے والے مستقبل کو واضح طور پر محسوس کرسکتی تھی۔ اور ان دونوں نے سال 2022کے بارے میں بہت ہی خطرناک پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔نوسٹرا ڈیمس کی بات کی جائے تو اس کی پہلی پیشن گوئی کے مطابق سمندر میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان گرے گی جس سےایک بہت بڑی سمندی لہر پیدا ہو گی۔ اور سمندری لہر سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس چٹان کے گرنے پر پہلے ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس کے بعد پھر یہ سونامی کا باعث بنے گا۔

    اس کے علاوہ اس کی یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ آسمان سے سیارچوں کی بارش ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتیں ہیں۔نوسٹراڈیمس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی اچانک سے موت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ 2022 کی ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔لیکن نوسٹرا ڈیمس کی جو سب سے زیادہ خطرناک پیشن گوئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہے گا اور اس اندھیرے کی وجہ سے دنیا میں جاری جنگ تھم جائے گی۔ یعنی اس سال میں ایک بڑی جنگ عظیم کا خطرہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی یہاں تک کہ دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اس اندھیرے کی وجہ سے جب کوئی حل باقی نہیں رہے گا تو وہ جنگ تھم جائے گی۔اس کے علاوہ نوسٹرا ڈیمس نے فرانس اور جاپان میں قدرتی آفات آنے کی بھی پیشن گوئی اسی سال میں کی ہوئی ہے اس کے مطابق فرانس میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آئے گا ویسے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس طوفان کا غلبہ ہوگا لیکن نوسٹراڈیمس نے فرانس پر کافی زور دیا ہے کہ وہاں اس طوفان سے بہت بڑی تباہی آئے گی۔جبکہ جاپان سے متعلق پیشن گوئی یہ ہے کہ وہاں دن کے وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو کہ مالی تباہی کا باعث بنے گا البتہ جانی نقصان کا اندیشہ کم ہے۔

    اس کے علاوہ یورپی یونین کے ٹوٹ جانے کی بھی پیشن گوئی ہوئی ہے جس کی شروعات بریگزٹ یعنی برطانیہ کے انخلا سے ہوچکی ہے۔مہنگائی سے متعلق پیشن گوئی ہے کہ دنیا میں مہنگائی کا ایک سونامی آئے گا جس سے ہزاروں افراد فاکہ کشی پر مجبور ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔یہ تو تھیں نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئیاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بابا ونگا نے آنے والے سال 2022کے بارے میں کیا پیشن گوئیاں کی تھیں۔اس کی پہلی پیشن گوئی یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ٹیم ایک نیا اور انتہائی مہلک وائرس تلاش کرے گی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور اس وائرس سے نمٹنے میں دنیا کے تمام انتظامات ناکام ہوجائیں گے۔ اور پچھلے دو سالوں سے ہم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کرونا وائرس اور اس کی دوسری اقسام نے پوری دنیا کا کیا حال کیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے زیادہ تر کاروباروں کا جو ان سالوں میں دھچکا لگا ہے وہ ابھی تک Recoverنہیں کر سکے۔ آئے دن نئی سے نئی سفری پابندیاں لگیا شروع ہو جاتیں ہیں۔ کون سا ملک کب لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ واقعی کوئی نیا وائرس اس سال میں بھی پھیل جائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو سوچ لیں کہ کتنی تباہی ہو سکتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بابا ونگا نے یہ بھی پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس سال تباہ کن ثابت ہوگی گرمی کی وجہ سے روس کے علاقے سائبریا میں برگ پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ اور ٹھنڈے علاقوں ک جب یہ حال ہوگا تو سوچ لیں کہ گرم علاقوں کا ٹمپریچر بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا ملک کے کئی حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے ٹڈی دل کی پیداواربہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ کھیتوں میں موجود لاکھوں سبزہ زار پر حملہ کرکے انھیں تباہ کر دیں گے۔ جس سے ملک میں قحط کے حالات پیدا ہوں گے۔ اور یہ پیشن گوئی ہمارے لئے بھی برابر خطرناک ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کوئی زیادہ دور نہیں ہیں اور پچھلے ایک دو سالوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ٹڈی دل کو حملہ بھارت میں ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ضرور آجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا موسم ایک جیسا ہے اس لئے اس پیشن گوئی کے حوالے سے تو ہمیں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا وانگا کے مطابق بھی سال2022
    میں دنیا میں زلزلے اور سونامی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بحر ہند میں زلزلے کے بعد ایک بڑا سونامی آئے گا جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور اس سونامی میں ہزاروں لوگوں کو اپنی قیمتی جانیں گنوانی پڑسکتی ہیں۔

    بابا وانگا کے مطابق ایک طرف دنیا میں سونامی کا خطرہ ہے تو دوسری دنیا میں پانی کا بحران آنے والے سال میں بہت شدید ہو جائے گا۔ کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہو جائے گی۔ دریاؤں کا پانی آلودہ ہو جائے گا اور جھیلیں اور تالاب سکڑ جائیں گے اور پانی کی اس کمی کی وجہ سے لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر نئے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ ظاہری بات ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہوگا تو وہ اس جگہ پر کیسے رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سال2022کے بارے میں بابا ونگا کی ایک پیشن گوئی تو ایسی ہے جو میرے خیال میں پہلے ہی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سال میں لوگ موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزاریں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نشے کی حد تک ان چیزوں کی عادت پڑ جائے جس سے لوگوں کی ذہنی حالت خراب ہو جائے گی اور ان میں ذہنی امراض بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہ ہم اپنے آس پاس ہوتا دیکھ ہی رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے جب لوگوں نے زیادہ ٹائم گھروں میں گزارہ بچے گھروں میں بند ہو گئے کلاسز بھی آن لائن شروع ہو گئیں تو بچوں اور بڑوں سب کا ہی واچ ٹائم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور ذہنی امراض والی بات بھی ٹھیک ہے کہ آج کل لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے جس طرح لوگ ڈپریشن اور ٹینشن کے مریض بنتے جو رہے ہیں وہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔

    لیکن آنے والے سال کے حوالے سے اتنی خطرناک پیشن گوئیوں میں ایک اچھی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ انسانیت کو لاحق دیرینہ مرض کینسر کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا اور سورج سے توانائی کے حصول کے انقلابی راستے کھلیں گے۔
    یہ تھی وہ مشہور پیشن گوئیاں جو یہ دونوں ماہر نجوم نوسٹرا ڈیمس اور بابا ونگا آنے والے سال2022کے بارے میں کرکے گئے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ان دونوں کی ماضی میں جہاں بہت سی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں وہیں ان کی کئی پیشن گوئیاں پوری نہیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے ہم ابھی ان کے بارے میں بالکل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے سال میں کونسی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کونسی نہیں۔لیکن یہ سب کی سب پیشن گوئیاں جتنی خطرناک ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اگرپوری ہوتی ہے تو دنیا میں کافی تباہی پھیل سکتی ہے اس لئے آنے والے نئے سال کے بارے میں ہمیں یہ ہی دعا کرنی چاہیے کہ یہ ہم تمام انسانوں اور اس پوری دنیا کے لئے خیر و سلامتی کا سال ہو۔

  • تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی یا سگریٹ آج کل اس طرح عام ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی پہنچ میں ہے جیسے ٹافیاں گولیاں پہنچ میں ہوتی تھیں۔ "تمباکونوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت” کے چلنے والے اشتہارات کے باوجود میڈیا کے زریعے بڑے منظم انداز میں اسکا پھیلاؤ ہورہا ہے۔ جس طرح خوبصورتی سے سگریٹ پینے والوں کو بڑے بڑے سخت کام کرتے دیکھایا جاتا ہے بلڈنگز پار کرنا سکھایا جاتا ہے دریاؤں کو عبور کرنا سکھایا جاتا ہے بعد میں مضر صحت کا میسج دے بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ دوسری طرف ضروریات زندگی دن بدن مہنگی ہورہی ہے ہر چیز، پر ٹیکس عائد ہورہا ہے لیکن تمباکو نوشی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر ایک کی پہنچ میں ہے جس کا نقصان ابھی تو ہوہی رہا ہے آنے والے وقت میں شدید ہوگا۔

    سگریٹ نوشی کے دو طرح کے نقصانات ہیں ایک ہے صحت دوسری اخلاقیات۔ صحت کے حوالے سے بات کریں تو منہ کے کینسر سے لے کر جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر تک کا موجب یہی سگریٹ ہے۔ اس کے دھوئیں سے پھیپڑے سیاہ ہوجاتے ہیں سانس لینے والے مسائل سارے اسی کی وجہ سے ہیں۔سگریٹ کا دھواں صرف سگریٹ پینے والوں کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسکے آس پاس موجود تمام لوگ بلواسطہ یا بلاواسطہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ فضا کی الودگی گاڑیوں رکشوں موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے بھی ہے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات کریں تو سگریٹ پینے والوں کی تعداد جتنی ٹوٹل تھی آج اتنی سگریٹ پینے سے مرنے والوں کی ہے۔ سگریٹ پینا گھر کے اندر معیوب سمجھا جاتا تھا اگر کسی لڑکے کو عادت پڑ بھی جاتی تھی تو وہ گھر کے اندر نا سگریٹ لا سکتا تھا اور ناہی پی سکتا تھا اس کا مطلب لحاظ کسی حد تک قائم تھا۔ لیکن آج یہ حال ہے کہ پانچویں کلاس کے طالبعلم کے پاس سگریٹ پینے کے پیسے بھی ہیں اور جگہیں بھی ہیں۔ اس کا دوسرا نقصان اخلاقی تباہی کی صورت میں ہے آپ خود سوچیں ایک برائی دوسری برائی کو جنم دیتی ہے۔

    اگر آج کچھ بچے یا نوجوان سادہ سگریٹ پیتے ہیں تو لازماً کچھ ماہ یا سالوں بعد اس میں چرس، افیون، یا پاؤڈر بھر کے پی رہے ہونگے۔ یعنی سگریٹ کو ہم محض ایک شوق نہیں کہہ سکتے ہیں بلکہ یہ اخلاقی برائیوں کی طرف پہلا قدم ہے اور اسکی روک تھام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس پر ٹیکس بڑھایا جائے مہنگی کی جائے اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں کی پہنچ سے دور ہو۔ بیس سال اس لیے لکھا ہے کہ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ عام طور پر بچے سگریٹ کی طرف مائل 13،14 سال کی عمر میں ہوتے ہیں اگر بیس سال کی عمر تک نا عادی ہوں تو بیس سال کے بعدعادی ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ سکول کالج کی کینٹین سختی سے دیکھی اور پرکھی جائیں تاکہ یہ زہر سکول و کالج میں نا پہنچ سکے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ناصرف سگریٹ کی عادی ہورہی ہیں بلکہ دوسری نشہ اور اشیاء کی بھی ہورہی ہیں اسکی روک تھام اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ معمار قوم ہیں آنے والی نسل انکے ہاتھوں پرورش پائےگی انکو سمبھالنا انے والی نسل کو سبھالنا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں دے بھی گزارش ہے کہ وہ سکول و کالج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان ٹھیلوں اورریڑھیوں پر ضرور نظر رکھیں کیونکہ انکے بنے ہوئے شوارموں، گول گپوں، اور برگرز میں نشہ آور اشیاء ملائی جاتی ہیں تاکہ بچے عادی ہوں اوران سے پھر خود، مانگ کریں اس نشہ کی۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ بچوں کے دوست بنیں ان سے انکے دوست احباب کے بارے میں پوچھتے رہیں انکی حرکات پر نظر رکھیں۔ آپکا مستقبل آپکے یہی بچے ہیں اگر وہ سگریٹ اور دوسری نشہ آور چیزوں کے عادی ہوگئے تو آپکا جمع کیا گیا مال بیکار جائے گا۔ بچائیں خود کو اپنے بچوں کو
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی پر لکھا بھی بہت جارہا ہے اور بات بھی بہت ہورہی ہے۔ مہنگائی کا شور بھی بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی ہے کیوں؟ اسکی وجوہات کیا ہیں؟ کیا اس سے پہلے کبھی مہنگائی ہوئی نہیں؟ یا پھر ہم ہیں ناشکرے؟ کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلی حکومت میں بھی ریکارڈ مہنگائی تھی، ہر چیز، مہنگی تھی، لوگوں کی پہنچ سے دور تھی، کیونکہ بہت سی اشیاء ملتی ہیں نہیں تھیں یا پھر ان لوگوں کو ملتی تھیں جو بلیک میں یا مہنگے داموں خرید سکتے تھے۔ اگر وزراء کو کچھ کہا جاتا تو گالیاں اور دھمکیاں ملتی تھیں،ملکی کا وزیر خزانہ مہنگائی کی وجہ سے کتے بلیاں کھانے کا مشورہ دیتا تھا، مہنگے داموں میگا پراجیکٹس لگ رہے تھے جن سے آمدنی زیرو اور قرضہ اربوں تھا، جب بیس بیس سال کے لیے بجلی گیس کے مہنگے ترین معاہدے ہورہے تھے۔لیکن اس سے بھی پیچھے نظر دوڑائیں تو بھی مہنگائی تھی، جب سڑکوں پے آتا اور چینی لینے والوں کی لائینیں لگی ہوتی تھیں، جب آٹا کے حصول کے لیے لوگوں کے سر پھٹتے تھے، جب عورتیں آٹا زمین سے سڑکوں سے بکھرا ہوا اکٹھا کرکے لے جاتی تھیں، اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو بھی مشرف کو مارشل لاء مہنگائی اور بدامنی کی وجہ سے ہی تھا۔اور اگر اب سے تیس چالیس سال پیچھے چلے جائیں بھٹو جوکہ سندھ میں اب بھی زندہ ہے اسکی تقاریر سن لیں تو وہ بھی مہنگائی کی بات کرتا نظر اتا ہے۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب ہی اتنا شور کیوں؟ جبکہ یہ مہنگائی پوری دنیا میں آئی ہے، اس سے نا تو یورپ بچ سکا نا ایشیاء تو پھر کیا وجہ ہے کہ اب ایک ماحول بنا دیا گیا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اب مہنگائی کا شور زیادہ ہے جس کی وجہ سے عوام مشکل میں ہے۔اور ان وجوہات کی وجہ عوام بھی ہے کافی حد تک۔ کیونکہ مہنگائی وہ ہوتی ہے جب رسد اور خرچ میں فرق ہو تو کیا ایسا ہے؟

    کیا چیزیں نہیں مل رہیں؟ کیا عوام ان چیزوں کے لیے رل رہی ہے؟ جواب ہے کہ بلکل نہیں ہر چیز بازار میں موجود ہے، جب ہر چیزموجود ہے تو پھر مہنگی کیوں؟ کیونکہ ہم میں احساس نہیں ہے۔ ریڑھی والے سے لے کر چھوٹی دوکان تک اور چھوٹی دوکانوں سے شاپنگ پلازوں تک خلائی مخلوق تو نہیں چلا رہی ہے۔ آپ لوگ ہی چلا رہے ہیں نا؟ فیکٹریوں سے لے کر ملوں تک عوام کے پاس ہی ہے نا سب کچھ؟ تو پھر کیوں الزام کسی اور کو دیا جارہا ہے؟ اپنے گریبان میں کیوں جھانکا نہیں جارہا؟ کیا یہ کہہ کر بخشش کروا، لیں گے کہ چونکہ عمران خان کو ناکام کرنا تھا اس لیے دس کی چیز بیس میں دی؟ عمران خان کی نفرت میں اپنے ہی بھائیوں کا خون چوسا؟ تو کیا بخشش مل جائے گی؟ کبھی نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو چیزیں ہم باہر سے منگواتے ہیں وہ بین الاقوامی سطح پر مہنگائی ہونےکی وجہ سے مہنگی ہوئیں ہیں جو یہاں بنتی ہیں وہ کیوں مہنگی؟ یقیناً ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کی ضرورت ہے اور دوسری بات ہمارے لیے یہ حالات مشکل ہیں تو ان لوگوں کے لیے کتنے مشکل ہونگے جو دیہاڑی دار تھے۔ کیا ہم نے اپنی گنجائش میں انکی مدد، کی؟ کیا ہم نے اپنے دسترخوان میں انکو شامل کیا؟ کیا ہم نے انکا آحساس کیا؟ ہم بحثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم اگر مل کر مشکل وقت کا مقابلہ کریں گے تو یقیناً یہ وقت مشکل مشکل نہیں لگےگا۔اللہ پاک ہم سب کی مشکلات دور فرمائے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے ہم اس کڑے وقت سے گزر جائیں
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ

    نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ

    نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ
    جیسا کہ امید تھی کہ منی بجٹ پاس ہوجائے گا ۔ ہوگیا ہے ۔ مگر اس منی بجٹ کا بوجھ اب پی ٹی آئی سمیت اتحادی جماعتیں کیسے اٹھائیں گی یہ دیکھنا ہے۔ ۔ کیونکہ شوکت ترین جو مرضی کہانیاں سنائیں یا بتائیں اس کے بعد اب مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آنا ہے ۔ جس کے بعد قوی امید ہے کہ اگلے جنرل الیکشن میں یہ طوفان اس حکومت اور اس کے اتحادیوں کو بہا کر لے جائے گا ۔ کیونکہ مت بھولیں عوام ووٹ کی طاقت سے تبدیلی لایا کرتے ہیں ۔ جس کا گاہے بگاہے وہ انتظار کررہے ہیں ۔ آپ اس منی بجٹ کو last nail in the coffin بھی کہہ سکتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ یہ منی بجٹ نہیں عوام پر ایک نئے طرح کا جبری عذاب ہے جو مسلط کیا گیا ہے ۔ مجھے تو پی ٹی آئی کے ترجمانوں پر حیرت ہے جو اس منی بجٹ کو بھی حکومت کی فتح قرار دے رہے ہیں ۔ خوب خوشیاں منا رہے ہیں مبارکبادیں دے رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ آئی ایم ایف کی فتح ہے ۔ کیونکہ اب پاکستان کو معاشی طور پر بذریعہ قانون گروی رکھ دیا گیا ہے ۔ اور اس گناہ میں پی ٹی آئی کی حکومت سمیت تمام اتحادی شامل ہیں ۔ ۔ اچھا جب یہ منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور عوام سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا ۔۔۔ یہ ہیں ہمارے نمائندے ۔

    ۔ اپوزیشن کا کام احتجاج ہوتا ہے جو آج تمام اپوزیشن جماعتوں نے خوب کیا ۔ ۔ اپوزیشن نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے ۔
    ۔ خوب نعرے بازی بھی کی گئی ۔ ۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھواں دھار تقریریں بھی ہوئیں ۔ ۔ بلکہ پی ٹی آئی کی عزالہ سیفی کو پیپلزپارٹی کی شگفتہ جمانی نے تھپڑ تک جڑ دیا ۔ ۔ تو ایوان میں وہ ہی کچھ ہوا جس کی امید تھی ۔ بالکل امید سے بھی آگے کام ہاتھا پائی تک جارہا تھا ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں کہ منی بجٹ کے معاملے میں حکومت جیت چکی ہے اور اپوزیشن کس شکست ہوئی ہے ۔ مگر یہ پہلی ایسی جیت ہے جو حکومت کے گلے کا پھندہ بن سکتی ہے ۔ اس کا رزلٹ اب آپ کو ہر آنے والے الیکشن میں دیکھائی دے گا ۔

    ۔ مِنی بجٹ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 350 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ ۔ امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جنرل سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے۔۔ بل میں پاور سیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے، ادویات بنانے کیلئے استعمال ہونے والےخام مال پرٹیکس چھوٹ ختم کرنے، بیرون ملک سے منگوائے جانے والے پالتو جانوروں، پرندوں اور انڈوں پرٹیکس چھوٹ واپس لینے، امپورٹڈ گوشت اور پولٹری آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے، موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے۔ موبائل فونز پر انکم ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ
    850 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے۔ ۔ پھر ان کڑی ترین شرائط کی بدولت بجلی اور پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔۔ دراصل اس 360
    ارب روپے کے منی بجٹ میں صرف ٹیکس ہی ٹیکس ہیں ۔ عملاً آج سے پاکستان کی معاشی خود مختاری گروی رکھ دی گئی ہے ۔ آج جو بھی قوانین بنے ہیں یہ سب آئی ایم ایف کے ایما پر بننے ہیں ۔ یاد کریں یہ وہ ہی عمران خان ہیں جو کہا کرتے تھے کہ مر جاوں گا بھیک نہیں مانگو گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا۔ ہماری تیاری پوری ہے ۔

    ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا ۔۔۔ کاں ۔۔۔ چٹا ہی ہے ۔ ۔ آج پھر انھوں نے وہ ہی بونگی ماری ہے جو وہ پہلے کئی بار مار چکے ہیں کہ منی بجٹ میں عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا۔ عوام پر بہت تھوڑا بوجھ پڑے گا۔ یہ سفید جھوٹ ہے ۔ عنقریب جب لوگوں کی چینخیں نکلیں گی تو پھر عمران خان اور ان کے ترجمانوں کے پینترے دیکھائے گا ۔ کبھی کسی کو مافیا کہیں گے تو کبھی اپوزیشن پر سارا ملبہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔ یعنی جو یہ کرتوت کر رہے ہیں اس کی ذمہ دار بھی اپوزیشن ہے ۔ پر اب ان تین سالوں میں عوام بہت کچھ دیکھ بھی چکے ہیں اور سمجھ بھی چکے ہیں اس لیے اب وہ حکومت کے کسی بھی جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے ۔ اس حکومت کے پاس جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ یہ سرٹیفائیڈ جھوٹے ایک بار نہیں کئی بار جھوٹ بول چکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر بار رنگے ہاتھوں پکڑ بھی گئے ہیں ۔ بلکہ شاید ان تین سالوں میں انھوں نے ایک بھی سچ نہیں بولا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ منی بجٹ سے لگنے والے ٹیکسوں سے کاروبار مزید ختم اور معیشت سکڑ جائے گی ۔ دیکھا جائے تو عمران خان کا منی بجٹ لانے کی وجہ گزشتہ حکومتوں کو قرار دینا دماغی خلل کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ 350 ارب کے ٹیکسوں سے سیکڑوں اشیا مہنگی ہوں گی، ٹیکس سے جو سیکڑوں اشیامہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر پڑے گا حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے ۔ کیونکہ سی پیک تو دور کی بات یہ تو کوئی چھوٹی موٹی انڈسٹری لگانے میں بھی ناکام رہے ہیں ۔ پھر زراعت جو اچھی جا رہی تھی ۔ وہاں اس بار ڈبل داموں میں ڈی اے پی کی بوری بکی ہے ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہیں ۔

    ۔ پھر اس منی بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی تجاویز بھی تشویشناک ہیں یہ بجٹ نہیں لاکھوں افراد کو بےروزگار کرنے کا منصوبہ ہے۔ آج کے بعد اب کسی کو شک نہیں رہ جانا چاہیے کہ یہ حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر چل رہی ہے؟
    اور ہمارے ملک کا وزیر خزانہ تخواہ تو ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں سے لیتا ہے ۔ مگر اصل نوکری آئی ایم ایف کی کرتا ہے ۔۔ کیونکہ ایڈجسٹمنٹ اخراجات میں کٹوتیوں اور ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے بے روزگاری اور افراط زر میں اضافہ ہوگا عوام کو آگے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ وہ تبدلی ہے جس کا تبدیلی سرکار نے وعدہ کیا تھا؟ دیکھا جائے تو یہ ملک کو مدینہ کی ریاست نہیں، آئی ایم ایف کی کالونی بنا رہے ہیں، پہلے کہتے تھے آئی ایم ایف نہیں جائیں گے پی ٹی آئی حکومت یو ٹرن لے کر آئی ایم ایف چلی گئی، پھر کہتے تھے منی بجٹ نہیں ہوگا، اب منی بجٹ بم گرا رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی سونامی آئے گی۔ پھر آج وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو منی بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے اندر تو حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے منی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا تھا ۔ پر پاس کروانے میں ایم کیو ایم نے اپنا پورا کندھا حکومت سے ملا کر رکھا ۔ جبکہ پہلے ایم کیو ایم اراکین کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا،منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

    ۔ پر میں آپکو بتاوں یہ حکومت اپنے لوگوں کیا کسی اتحادی پر بھی اعتماد نہیں کر رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اجلاس کے لئے پہنچے تو اراکین کے موبائل فونز باہر رکھوا لیے گئے خواتین ارکان کے بیگز بھی باہر رکھوا دیئے گئے۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے شہباز شریف پر کافی غصہ نکلا کہ اسمبلی میں شہبازشریف کی تقریر نہیں ہوتی جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے۔ ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے۔ حکومت کوئی مشکل میں نہیں۔ کہا جاتا ہے نواز شریف آج آرہے ہیں کل آرہے ہیں ۔ نواز شریف جب سعودی عرب گئے تب بھی یہی کہا جاتا تھا۔ میرے خیال سے عمران خان کو کافی دکھ ہے کہ شہباز شریف نے ایک بار پھر وہ کر دیکھایا ہے جو عمران خان نے شاید سوچا بھی نہ تھا ۔ کیونکہ ان کی نظر میں ان کے علاوہ اب کوئی آپشن باقی بچا ہی نہیں تھا ۔ پر شہباز شریف نے ایک بار پھر رابطے بحال کروا کر کم ازکم پی ٹی آئی کی ہوا ضرور نکال دی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ عوام اب انتظار کررہی ہے کہ کب الیکشن آئیں اور عمران خان سمیت پی ٹی آئی والے ووٹ مانگنے آئیں تو ہم ان کو تگنی کا ناچ نچوائیں ۔ ۔ کیونکہ آج غریب کا برا حال ہو چکا ہے۔ حکومت کے دلاسوں اور دعوؤں کےباوجود کوئی اُمیدنظر نہیں آ رہی کہ عوام مشکلات کی اِس دلدل سے کبھی نکل پائیں گے۔ اب بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں یا ملک میں مقیم پاکستانی ہر کوئی یہ ہی سوچ رہا ہے کہ اب اِس ملک کا کیا بنے گا؟ اور پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ کسی کے پاس کوئی امید دینے کو نہیں ہے ۔ اِس وقت پاکستان بالخصوص ہماری نوجوان نسل میں مایوسی کی ایک لہر پھیل چکی ہے۔ جن کے پاس اِتنے وسائل ہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک جا کررہ سکتے ہیں وہ پاکستان سے بھاگے چلے جا رہے ہیں اور جو وسائل کی کمی کے باعث باہر نہیں جا سکتے وہ مایوسی اور مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں۔۔ اس سے زیادہ میں کیا کہوں ۔ یہ ہی ہے نئے پاکستانی کی کہانی ۔

  • مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقلیتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

    دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

    اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔
    حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔

    اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ
    Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014 اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا رٹیکل
    25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
    درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔