Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    2018ء انتخابات کے بعد عمران خان اقتدار میں ہیں اور ان کے مخالفوں کی ہر رات کانٹوں پر بسر ہو رہی ہے تو حکومت و اقتدار کے باوجود چین کی نیند عمران خان اور اس کے ہمدردوں کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ اب اگلے ایک برس بارے کہا جا رہا ہے کہ یہ ہنگامہ خیز سیاست سے بھر پور ہوگا ۔ آج وزیراعظم عمران خان نے معروف امریکی اسکالر شیخ حمزہ یوسف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سیاست میں آیا تو طاقتور لوگوں نے میری کردار کشی کی لیکن آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، میں نے 22 سال تک جدوجہد کی۔ پھر یہ بھی کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا میری زندگی کا مقصد ہے۔ باتیں ہمارا کپتان بہت اچھی کرتا ہے مگر عمل اس کے بالکل الٹ کرتا ہے ۔ ان کی جو بھی کردار کشی ہوئی اس سے ہٹ کر عمران خان کے اس دور میں جو مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ پھر جو عمران خان اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں اور یہ کہتے تھکتے نہیں کہ ریاست مدینہ بناوں گا تو جو اس وقت ملک میں فرشتوں کی حکومت ہے اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔

    ۔ اس دور حکومت میں بھی کرپشن ویسے ہی خوب پھیلی پھولی ہے اور بڑھی ہے جیسے پہلا ہوا کرتی تھی ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس اس حوالے سے سب بڑا ثبوت ہے ۔ جس کے بارے شہباز گل کا دعوی تھا کہ یہ پرانے اعداد وشمار پر بنائی گئی ہیں ۔ مگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس وقت ہی حکومت کو جھوٹا قرار دیے دیا تھا ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کرپشن کے ریٹ دوگنا ہو چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ایک لمبی فہرست ہے جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ ۔ روالپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل ۔ ۔ حالیہ جو شوگر مافیا کے ساتھ سودے بازی ہوئی جس میں مافیا نے تقریباً ایک سو پچاس ارب کی دیہاڑی لگائی مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ۔۔ پھر کرونا فنڈ میں 40 ارب کا جو حساب ہی نہیں ملا ۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہوگی ۔۔ حلیم عادل شیخ ، عثمان بزدار، نورالحق قادری ،غلام سرور خان ، ڈاکٹر ظفر مرزا ، عامر محمود کیانی، زلفی بخاری ، فیصل واڈا، سبطین خان، مالم جبہ اراضی کیس، ہیلی کاپٹر کیس ، چینی ، آٹا ، گیس ، بجلی ، پیڑول ، ادویات اسکینڈل ، بی آر ٹی کون کون سے نام اور کون سے کون اسکینڈل گنواوں ۔۔۔

    ۔ اس حوالے سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نے کل ہی سلیم صحافی کے پروگرام میں بیٹھ کر انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری دفاتر میں انتہا کی کرپشن ہورہی ہے۔ انکا کہنا کہ کوئی نیا پاکستان نہیں ہے۔ وہی پرانا پاکستان ہے ۔ ضلعی دفاتر اور ترقیاتی کاموں میں کرپشن عروج کو پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کرپشن سے آگاہ کرنے کے لئے وقت مانگا تھا مگر وقت نہیں دیا گیا۔۔ پھر جو پی ٹی آئی کے ماتھے جھومر ہے اس کا نام ہے فارن فنڈنگ کیس۔۔ جس میں غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ پھر جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے۔ اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ اکبر ایس بابر نے یہ معاملہ اٹھایا ہوا ہے ۔ اور پی ٹی آئی اس سے چیز سے کنی کتراتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی جانچ پڑتال نہ کرے ۔ اس لیے بار بار عدالتوں سے اسٹے لیا جاتا ہے ۔ ۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کا اعزاز یہ ہے کہ کوئی بھی ہائی پروفائل کیس اس حکومت کے دور میں منطقی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ کرپشن کے خلاف جنگ صرف میڈیا تک محدود ہے۔ اخبارات میں خبریں چھپتی اور چند دن بعد فراموش کر دی جاتی ہیں۔۔ اسکینڈل تو یہ بھی ہے کہ کپاس کی پیداوار نصف سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ پنجاب میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً دس من فی ایکڑ کم ہے۔ گنے کی فصل کے کسان کو پیسے زیادہ ملے کیونکہ فصل اور فی ایکڑ کاشت پچھلے سال سے کم تھی لیکن انہیں شاندار پیداوار قرار دیا جارہا ہے۔ جس طرح جی ڈی پی کی شرح کو اچانک بڑھانا اس حکومت کے کوئی کام نہیں آسکا اس طرح زرعی پیداوار کے غلط اعدادوشمار چینی اور آٹے کی قلت اور مہنگا ہونے سے روک نہیں پائے ۔

    ۔ دوسری جانب آئی ایم ایف والا معاملہ تو اس حکومت میں مذاق ہی بن کر رہ گیا ہے۔ عمران خان کی پرانی باتیں اب میں کیا یاد کرواں ۔ مگر جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ جیسے حکومت لیٹی ہوئی ہے اور کشکول لے کر کھڑی ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے کبھی آصف زرداری اور نواز شریف کے کرپٹ ادوار میں بھی نہیں ہوا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کی گئے شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔۔ اب حکومت نے 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول چھ کو ختم کرنا ہے ۔ پھر حکومت برآمدات کے علاوہ زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی ۔ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنےکا تجویز ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام میں200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔ اب جلد ہی ترمیمی بل کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔۔ یہاں بس یاد کروادوں کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی بتایا تھا کہ ہمارا مسئلہ مہنگائی ہے، لوگ پس گئے ہیں ۔ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد نیا ٹیکس لگائیں گے نہ بڑھائیں گے۔ ڈالر
    8،9 روپے نیچے آئےگا۔ جلد تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگی۔ آئی ایم ایف کو ٹیکس لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ شوکت ترین کتنا سچ اس ملک وقوم سے بولتے ہیں ۔ ۔ پھر مجھے یہ کہنے میں زرا برابر بھی ججھک محسوس نہیں ہوتی کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے جوہری اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف چونکہ امریکہ کے زیر اثر عالمی ادارہ ہے اور وہ امریکی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے قرض لینے والے ملکوں پر دباؤ بھی بڑھاتا رہتا ہے۔ حکومت پاکستان کو غیرملکی قرضوں پر انحصار کی بجائے خو د انحصاری کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا ماڈل موجود نہیں کہ کسی ملک کی آئی ایم ایف کے قرض سے معیشت ٹھیک ہوئی ہو بلکہ آئی ایم ایف کے قرض کے باعث معاشی تباہی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ویسے اس سے ملتی جلتی تمام باتیں جب عمران خان اپوزیشن میں ہوتے تھے تو خوب کیا کرتے تھے ۔ آپ دیکھیں ملائشیا کی معیشت کو آئی ایم ایف نے تباہ کر دیا تھا لیکن مہاتیر محمد کی بے باک لیڈرشپ نے آئی ایم ایف سے جان چھڑائی اور ملائشیا کو دوبارہ ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان بلندبانگ تقاریر تو کرتے ہیں لیکن وہ ان پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ ۔ تحریک انصاف حکومت کا توکوئی ترجیحی ایجنڈا ہی نظر نہیں آتا۔ پھر تماشا یہ ہے کہ قوم کوکفایت شعاری کا درس دینے والوں نے گزشتہ چار ماہ کے دوران صرف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 72کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ۔ کھانے پر 4کروڑ 39لاکھ روپے اور اوور ٹائم پر
    82 لاکھ،پٹرول پر 83لاکھ، 12کروڑ 87لاکھ اعزازی تنخواہوں کی مد میں اور دوروں پر 3کروڑ 48لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس لیے میں مجبور ہوں یہ کہنے پر کہ موجودہ حکمران بھی تبدیلی کے نام پر ماضی کی حکومتوں کا تسلسل ہیں۔ جو اقتدار سے لطف اُٹھانے کے سوا کچھ نہیں کررہے۔ ۔ اس حوالے سے آپ جماعت اسلامی کی سیاست سے متفق ہوں یا نہیں ہوں ۔ پر اسلام آباد میں یوتھ مارچ سے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بات بالکل ٹھیک کی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کو تیس سال پیچھے لے گئی ہے۔ 2023ء میں عوام عمران خان کو آئینہ دکھائیں گے، جو نوجوان انہیں اقتدار میں لائے وہی بھگائیں گے۔۔ پھر کل مولانا نے لاڑکانہ میں اچھے خاصے مجمعے میں کافی دھواں دار بیٹنگ کی ہے ۔ ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ماتحت ہوچکا ہے۔ فاٹا اور کشمیر دونوں کا اس وقت کوئی وارث نہیں ۔ پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے ۔ پھر یہ بھی کہا کہ ہمارا نوجوان بہت مظلوم ہے، اسکو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دے کر ایک کروڑ لوگوں کو بے روز گار کیا گیا ،پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا لیکن پچاس لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا گیا ،نعروں سے ملک نہیں چل سکتا ،جو حکومت خود دھاندلی کے ذریعے آئی وہ خود دھاندلی کے متعلق قانون سازی کروا رہی ہے حالانکہ اس مشین کو پوری دنیا مسترد کر چکی ہے۔ میں آپکو بتاوں کہ پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمٰن اور قوم پرست جماعتیں تحریک کو فیصلہ کن مرحلے کی طرف لے جانا چاہتی تھیں لیکن مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے اس بارے میں مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت پی ڈی ایم کی جماعتیں مسلم لیگ ن کی سیاست سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر پا رہیں کیونکہ کبھی مسلم لیگ ن کی سیاست میں یک دم تیزی آجاتی ہے پھر اچانک اس میں ٹھہرائو آجانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کہیں کوئی بات چیت چل رہی ہے۔ اور شاید ان کو اس بات چیت کے نتائج کا انتظار ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق قوم پرست جماعتوں نے اس پر شکوہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے میں پنجاب کی بھرپور شرکت ہی تحریک کو نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ فی الحال میری نظر میں عوام ہر طرف سے پس رہے ہیں کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہے ۔

  • موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    ایلن مسک جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے وہ خود کوکئی فیلڈز میں منوا چکا ہے اس پر تنقید کرنے والے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایلن مسک میں بچپن سے ہی کاروبار اور نت نئے تجربے کرنے صلاحیت تھی۔ لیکن آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ اب وہ کیا نیا کرنے جا رہا ہے۔ وہ کونسی انڈسٹری ہے جس میں اب ایلن مسک انقلاب لانے والا ہے۔بارہ سال کی عمر میں ایک ویڈیو گیم بنا کر پانچ سو ڈالرز میں فروخت کرنے سے ایلن مسک نے اپنے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پھر سولہ سال کی عمر میں اس نے اپنے بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر ایکArcadeبنانے کی کوشش بھی کی۔ پھر کینیڈا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نےZip 2نامی کمپنی بنائی، پھرPayPalSpace Xوغیرہ وغیرہ۔ یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ اس نے کیا کیا کارنامے کر ڈالے۔لیکن ایلن مسک کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ جو سوچتا ہے یا جس چیز کو کرنے کی ٹھان لیتا ہے پھر وہ اسے کرکے دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جتنے بھی کاروبار ہیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ اس کی کمپنیوں کے بلند عزائم ہیں وہ روزمرہ کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے خوابوں کو حقیت کا رنگ دینا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ایلن مسک اس وقت جو مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی معمولی مسائل نہیں ہیں۔ وہ دراصل انسانیت کو لاحق کو تین خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جو انسانوں کی زندگیوں کو آئے روز کم کرتی جا رہی ہے اور اس کا مقابلہ وہ ٹیسلا کی ماحول دوست الیکٹرک کاروں سے کرنا چاہ رہا ہے۔دوسرا مسئلہ انسانیت کی بقا کا ہے اس کے خیال میں اگر ہم صرف اس سیارے تک ہی محدود رہ گئے تو کوئی تباہ کن واقعہ انسانیت کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی لیے سپیس ایکس مریخ تک پہنچ کر وہاں نئی آبادیاں بسانے کے لئے کام کر رہی ہے۔تیسرا خطرہ جس کا وہ مقابلہ کر رہا ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ اس کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو کافی سنجیدہ خطرہ ہے۔ اسی لیے اس نے 2015 میں ایک فلاحی تنظیمOpen AIبنائی جو کہ مثبت انداز کی مصنوعی ذہانت کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

    لیکن اس دنیا میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ ایلن مسک کو اس کے متنازع بیانات کی وجہ سے نا پسند کرتے ہیں مگر آپ اسے پسند کریں یا ناپسند، آپ کو یہ ماننا ضرور پڑے گا کہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے ایک ہے جس کی نہ صرف نظریں ستاروں کی جانب ہیں بلکہ اس کے قدم بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔اس لئے جب ایلن مسک کسی بھی نئی صنعت میں داخل ہوتا ہے تو سب کو پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے کہ اب یہ اس مارکیٹ میں پہلے سے موجود بڑے بڑے Giantsکو ہلانے والا ہے۔ اور اب ایلن مسک جس انڈسٹری میں داخل ہو رہا ہے وہ ہے سمارٹ فون کی انڈسٹری۔ بہت جلد ایلن مسک کی مشہور و معروف ٹیسلا کمپنی اپنا سمارٹ فون لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ابھی تک یہ تینوں اسمارٹ فون کے بادشاہ ہیں یہ تینوں کمپنیاں ہر تین ماہ بعد لاکھوں فون بناتی ہیں اور بے تحاشا منافع کماتی ہیں۔ ایپل کا آئی فون، لیب ٹاپ اور دیگر پرسنل الیکٹرانکس دنیا بھرمیں ایکStatus symbolبن گئی ہیں اور یہاں تک بھی خبریں رپورٹ ہوتی رہی ہیں کہ ان مہنگے فونز کو حاصل کرنے کے شوق میں کئی لوگوں نے اپنا گردہ تک بیچ ڈالا تاکہ اپنی پسند کا iphone
    خرید سکیں۔Samsungکے فونز کی اپنی خوبیاں ہیں جو لوگ ٹیبلٹ استعمال کرنے کے شوقین ہیں وہ آجکل Samsungخریدتے ہیں تاکہ فون کی جگہ بھی استعمال ہو جائے اور اسی کو ٹیبلیٹ بنا کر بھی استعمال کیا جا سکے۔ ہواوے کے فونز اپنے بہترین کیمروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اس کا بھی ایکFolding phoneحالانکہ پچھلے کچھ عرصے میں اسےAndroid operating systemکو تبدیل کرکے اپنا سسٹم لگانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی یہ دنیا میں فونز بیچنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔اور آنے والے دنوں میں ان تینوں کے لئے امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اپنے فونز پر ٹیسلا کےنئے سمارٹ فون کا حملہ کیسے برداشت کریں گے۔

    ٹیسلا کے سمارٹ فون کا نام ہے Tesla Model Piاور اس فون کی جو بھی انفارمیشن سامنے آئی ہیں وہ بہت ہی حیران کن ہے۔ اس میں جو ٹیکنالوجی ٹیسلا متعارف کروانے جا رہی ہے وہ اب سے پہلے کسی سمارٹ فون میں استعمال نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھنے میں تو اس کی شکل کافی حد تک آئی فون سے ملتی جلتی ہے لیکن اپنے فیچرز کے حساب سے یہ مارکیٹ میں موجود اب تک کے سمارٹ فونز سے کافی مختلف ہو گا۔ اور اس سمارٹ فون کی جو سب سے بڑی کوالٹی ہو گی وہ یہ کہ یہ سٹارلنک کے ساتھ Intigratedہوگا۔ سٹارلنک دراصل ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ہی ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ جس کا مقصد پوری دنیا کو سستا اور تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ساٹھ فیصد userہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ
    connectہوتے ہیں اور ہر ایک انسان جو انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ سب سے تیز ہو۔ ابھی تک تو انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے زیادہ تر کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس نےLow Earth Orbitمیں کئی ہزار سیٹلائٹس لانچ کی ہیں۔ جو زمین کے قریب ہونے کی وجہ سےرابطہ کرنے کیلئے کم Latency استعمال کرتی ہیں جو 25 یا 35 ملی سیکنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے- سٹار لنک
    Faster laser transmission کواستعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں چالیس ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دکھا سکتا ہے- جس کا مطلب ہے کہ سٹار لنک انٹرنیٹ کی سپیڈ تقریبا 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عامUserکی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں پہاڑوں پر ہوں ریگستانوں میں ہوں یا سمندر کے بیچ میں ہوں۔ آپ ٹیسلا کے پائی فون سے تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔ اور یہ ایک ایسا فیچر ہے جواس فون کو باقی تمام فونز سے منفرد بنا رہا ہے۔اس کے علاوہ جو اس فون کی سب سے Different qualityہو گی وہ نیورالنک ہے۔ ابھی تک ہم فونز کو ٹچ کرکے یا بول کر آپنی آواز کے زریعے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں اگر آپ کو ایسا فون مل جائے جو صرف آپ کی سوچ سے ہی چلنے لگے تو یہ کتنا حیران کن ہے۔ اس فون میں ایک Brain computer interfaceاستعمال کیا جارہا ہے جو کہ آپ کے Mindکو پڑھ کر کام کرنے کے قابل ہوگا۔

    اس کے علاوہ اس فون میں تیسری سب سے منفرد چیز یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنی ٹیسلا کار کو بھی آپریٹ کر سکتے ہیں۔ ابھی لوگ ٹیسلا کاروں کو اپنے فون میں موجود ٹیسلا ایپ سے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں جب آپ کے پاس فون بھی ٹیسلا کا ہوگا اور آپ کی کار اس کے ساتھ Integratedہوگی تو اس کی سروس کا کیا معیار ہو گا۔اور اس میں ایک اور جو حیرت انگیز چیز ہے وہ سولر چارجنگ ہے یعنی آپ اگر اپنے فون کا سولر چارجنگ موڈ آن کرتے ہیں تو وہ خود بخود چارج ہوتا رہے گا آپ کو بیٹری Lowہونے یا ہر جگہ چارجر ڈھونڈنے کی بھی ٹینشن نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ یہ فون آپ کا Source of earning بھی بن سکے گا کیونکہ اس میں کرپٹو کرنسی Mining abilitiesبھی موجود ہوں گی جس سے آپ Mars coinsکی Mining
    کر سکیں گے۔اور یہ ایک ایسا Revolutionry phoneہوگا جس کو آپ زمین کے علاوہ مریخ پر بھی استعمال کر سکیں گے۔ٹیسلا پائی فون کا caseبنانے کے لئے Photo chroming coating
    کا استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی میں مختلف رنگوں کے ساتھ چمکے گا۔اس کی بیک پر چار کیمرے ہوں گے۔ فرنٹ پر بھی کیمرہ ہوگا لیکن وہ نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ اسکرین کے نیچے ہو گا لیکن اس کا رزلٹ ویڈیوز کالز اور سیلفی کے لئے بہترین ہو گا۔ کیمروں کے ساتھ بیک پر ٹیسلا کا لوگو بھی ہوگا۔یعنی یہ ایکTruely revolutionary smart phoneہوگا۔یہ اس فون کے بارے میں اب تک ہونے والی تمام لیکس اور انفارمیشن ہیں جو کہ اس کے ٹریلر سے ملتی ہیں جو ٹیسلا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اور یقینا یہ تمام خوبیاں ٹیسلا کے اس پائی فون میں موجود بھی ضرور ہوں گی کیونکہ جب ٹیسلا راکٹس بنا سکتا ہے لوگوں کو خلا کی سیر کروا سکتا ہے مریخ تک پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کا فون بنانا ایلن مسک کے لئے کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔اس لئے کہا یہ جا رہا ہے کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر انھوں نے خود کو اپ گریڈ کرکے مقابلے کے لئے تیار نہ کیا تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جوNokiaBlackberryاورمائیکروسافٹ کے فونز کا ہوا ہے

  • بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    کراچی :بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم کا کراچی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھی بربریت جاری ہےاور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لے۔

    سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ میں سندھ والوں کا مشکور ہوں، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، ہندوستان میں مودی اقلتیوں پر ظلم کررہا ہے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان کےمزار پر حاضری کا فریضہ دینا ہے،جذبے کے ساتھ استقبال پر شکرگزار ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت اور گولا باری جارہی ہے، ایسے خطے سے وزیراعظم ہوں جسے ایل او سی کہتے ہیں، میرا گھر ایک ہزار گز بھارتی توپوں کے سامنے ہیں اورمیں آج بھی اس ایل او سی پر چلتا ہوں۔

    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں بار بار وحشیانہ مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ لوگوں کو شہید کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن بھارتی مظالم کشمیریوں کے عزم کو توڑنہیں سکتے کیونکہ ان مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا عنوان شہداءکے لہو سے لکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی خاموشی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کشمیر کے بہادر عوام بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارتی قبضے کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کو علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

     

     

     

     

  • چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟   بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    بات ہے 2020 کے شروع کی میں جو کہ چائنا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں طالب علم ہوں معمول کے مطابق چھٹیاں ہوئی تھی تو میں اپنے گھر ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں پاکستان آیا تو بیس یا پچیس دن کے بعد خبریں آنا شروع ہوگئی کہ چائنہ میں بہت زیادہ کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے کافی لوگ بھی پوچھتے تھے کہ اب ادھر کیسے حالات ہیں تو میں کہتا پھرتا تھا کہ حالات نارمل ہی ہیں اور کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم سب کو یہی تھا کہ حالات معمول کے مطابق ایک دو مہینے میں ٹھیک ہوجائیں گے اور ہم واپس چلے جائیں گے۔ حالات بدلتے گئے اور ہر ٹی وی چینل پہ آنا شروع ہو گیا کہ حالات بہت زیادہ خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

    ہم اپنی یونیورسٹی کی مینجمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے وہ ہمیں یہی کہہ رہے تھے آپ کا یہ والا سمسٹر آن لائن ہے اگلے سمسٹر سے آپ کو یونیورسٹی واپس بلا لیا جائے گا اور معمول کے مطابق آپ کی کلاسز شروع کروا دی جائیں گی۔

    تو جناب کرتے کرواتے ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ تو جب اگلا سال شروع ہونا تھا تو یونیورسٹی نے ہم سے فیس کا مطالبہ کیا تو ہم جو کہ پاکستان میں تھے اور کورونا وائرس کی وجہ سے سب کے معاشی حالات جو تھے وہ اتنے زیادہ اچھے نہیں تھے۔ تو ہم نے یونیورسٹی سے بولا کہ ہمیں فیس میں رعایت دی جائے اور جتنی جلدی ہو سکے ہمیں واپس بھی بلایا جائے۔ یونیورسٹی نے ہماری ایک نہ سنی اور ہم سے پوری کی پوری فیس چارج کی۔ خیر کرتے کرواتے وہ سال بھی گزر گیا یا اور ہم ابھی تک پاکستان میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اب مسئلہ یہ بنا ہوا ہے ہم سب کے لیے کہ ہم چوتھے سال میں یا پانچویں سال میں ہو چکے ہیں اور ہماری کلاسز آن لائن ہی چل رہی ہیں۔ اور ہم جب بھی اپنی یونیورسٹی سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں کب واپس بلایا جائے گا ؟ تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ ہماری حکومت کرے گی ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ صرف سٹوڈنٹ ویزے والے ہی ہیں جو ملک میں واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ جتنے بھی لوگ وہاں پر کام کرتے ہیں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں اور کدھر جائیں؟

    ہم جتنے بھی اسٹوڈنٹس ہیں ہم نے سوشل میڈیا پر بھی بڑی کوشش کی ہے اور اپنا پوائنٹ سب کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی۔ ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ہم تعلیم بے شک بیرون ملک حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارا دل پاکستان میں ہی ہے۔ اور ہم پاکستانی ہی ہیں۔ تو خدارا ہمارے فیوچر کے ساتھ نہ کھیلا جائے اور کوئی نہ کوئی بات کی جائے تاکہ چینی حکومت ہمیں جلد از جلد اپنے ملک میں واپس بلا لے۔

    ہم میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے وزیروں اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو سارا کا سارا قصہ بتایا۔ لیکن بڑے دکھ کی بات ہے اور نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملے میں ہماری کوئی بھی مدد نہیں کی اب تک۔

    اور دوسری جانب جو پاکستان کے میڈیکل کا ادارہ ہے جس کو ہم پاکستان میڈیکل کمیشن کہتے ہیں۔ اس ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ جو بچے آن لائن ڈگری حاصل کر رہے ہیں ہم ان کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ یہ تو ہمارے ساتھ ظلم ہے۔ ہمارے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں کہ اپنے دکھ اور کیفیت کو کیسے بیان کریں۔ ہمارے والدین بھی بہت زیادہ صدمے سے دوچار ہو رہے ہیں انہی حالات کی وجہ سے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا ہمارے جینے کی بھی وجہ بچتی ہے ؟ ہمارے والدین جو کہ بہت زیادہ خواب سجائے بیٹھے تھے ان سب کی آنکھیں بہت افسردہ نظر آتی ہیں۔

    انہی حالات کی وجہ سے ہم ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نہ صرف پیسے کا نقصان ہوتا جا رہا ہے بلکہ وقت کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ کی بات تو یہی ہے کہ ہمیں اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا کہ کس طرف جائے گا۔ حالانکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کو سوچنا تو یہ چاہیے کہ کرونا کے دوران ساری دنیا کے حالات اس طرح کے تھے کہ سٹوڈنٹس نے آن لائن کلاسز لیں ہیں۔ اگر پاکستان میڈیکل کمیشن ہمارا اتنا خیر خواہ ہے تو ہمیں پاکستان کے جو ٹیچنگ ہوسپٹلز ہیں ان میں روٹیشنز کی آفیشلی اجازت دے۔ یا پھر ہماری حکومت ایسے کرے کہ ہمیں کسی بھی طرح چین میں واپس بھیجے تاکہ ہم ادھر جا کے اپنی تعلیم باقاعدگی سے حاصل کر سکیں۔

    اور ہماری پاکستانی حکومت سے اور پاکستان میڈیکل کمیشن سے یہی گزارش ہے کہ جو بچے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے آخری سال آن لائن لے چکے ہیں ان کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اور ان کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکیں۔

  • حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش

    سری نگر: حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کشمیری نظربندمتعدد امراض کا شکارہوچکے ہیں۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جابرانہ پالیسیوں کا مقصد کشمیر ی عوام کے آزادی کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہے جو علاقے پر غیر قانونی قبضے کے بعد فسطائی بھارتی حکومت کا خواب رہاہے۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ، محمد یوسف فلاحی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شکیل یوسف، ظہور وٹالی، طارق احمد ڈار، نذیر احمد ڈار، ظہور بٹ، رفیق گنائی، مقصود بٹ، ایوب میر، ایوب ڈار، نذیر پٹھان، غضنفر اقبال، عاقب نجار، عارف وانی، بشیر احمد، فاروق شیخ، ممتاز احمد، مظفر احمد ڈار، طارق پنڈت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، عبدالرشید لون، ہلال احمد پیر، عابد زرگر، آصف سلطان، مولوی ناصر، مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی استقامت اور بہادری کو سراہا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان نظربندوں نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تمام ”ضمیر کے قیدیوں‘ ‘کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طبی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے بغیربھارت اور مقبوضہ علاقے کی تمام جیلوں میں ڈیتھ سیلوں میں نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ترجمان نے علاقائی اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    بیجنگ: چین نے خلا میں استعمال کےلیے ایٹمی بجلی گھر کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جس میں ایک میگاواٹ بجلی بنائی جا سکے گی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اب تک کا طاقتور ترین خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے زیرِ تکمیل خلائی ایٹمی بجلی گھر سے بھی 100 گنا زیادہ بجلی پیدا کرسکتا ہے ناسا اپنا نیا ایٹمی بجلی گھر 2030 تک چاند کی سطح پر اُتارنا چاہتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    خبر کے مطابق، اس خلائی ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ چینی حکومت نے اپنے خلائی پروگرام میں ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق زیادہ تر معلومات خفیہ رکھی ہوئی ہیں البتہ اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ اس ایٹمی بجلی گھر کا مقصد چاند، مریخ اور دور دراز سیاروں پر بھیجے جانے والے مجوزہ خلائی جہازوں کو لمبے عرصے تک توانائی فراہم کرنا ہے۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس منصوبے پر چینی حکومت کی فنڈنگ سے 2019 میں کام شروع ہوا تھا جبکہ حالیہ چند دنوں میں اس نے اپنے پہلے پروٹوٹائپ کی شکل میں پہلا سنگِ مِیل (مائل اسٹون) عبور بھی کرلیا ہے یہ خاص طور پر ان حالات اور مقامات کےلیے مفید ہوگا جہاں سورج کی روشنی یا تو زمین کے مقابلے میں بہت مدھم ہوتی ہے یا پھر اس میں بار بار اتنا زیادہ اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے کہ شمسی توانائی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    چین کا منصوبہ 2023 سے 2030 تک بالترتیب چاند کے تاریک حصے پر (جو ہمیشہ زمین کے مخالف سمت میں رہتا ہے) اور مریخ تک بڑی تعداد میں خلائی جہاز بھیجنا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پہلے ہی 2030 تک اوّلین انسان بردار پرواز بھی مریخ تک بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

    خبر میں ایک چینی ایٹمی سائنسدان کی شناخت ظاہر کیے بغیر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خلائی ایٹمی بجلی گھر کو مختصر جسامت کے ساتھ زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانے کےلیے ٹیکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی دی گئی ہے۔

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    واضح رہے کہ اب تک خلا میں استعمال کےلیے جتنے بھی ایٹمی بجلی گھر بنائے گئے ہیں وہ صرف چند سو واٹ بجلی بنانے کے قابل رہے ہیں جبکہ 10 کلوواٹ سے 300 کلوواٹ بجلی بنانے کے بیشتر منصوبے اب تک اپنی تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں اس لحاظ سے یہ دنیا کا پہلا خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو ایک میگاواٹ (1000 کلوواٹ) جتنی بجلی بنائے گا-

    چینی خلائی ایٹمی بجلی گھر کا انکشاف ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے اپنے نمائندہ بیجنگ اسٹیفن چین کی ایک تازہ خبر میں کیا ہے-

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • کورونا کی نئی قسم کے خوفناک سائے: ویمنزکرکٹ ورلڈکپ کوالیفائر ختم

    کورونا کی نئی قسم کے خوفناک سائے: ویمنزکرکٹ ورلڈکپ کوالیفائر ختم

    لاہور:کورونا کی نئی قسم کے خوفناک سائے: ویمنزکرکٹ ورلڈکپ کوالیفائر ختم ،اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویمنزکرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر روک دیے۔

    آئی سی سی اعلامیے کے مطابق نئی کورونا قسم کے پھیلاؤ کے پیش نظرایونٹ ختم کیا گیا۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کیلئے کوالیفکیشن اب رینکنگ کی بنیاد پر ہو گی، پاکستان، بنگلادیش اورویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کھیلیں گے۔

    آئی سی سی ہیڈ آف ایونٹس کے مطابق کورونا کے باعث سفری پابندیوں کے پیش نظر ٹورنامنٹ منسوخ کیا گیا۔ان کا کہنا تھاکہ ٹورنامنٹ منسوخ کرنے پرمایوسی ہے، زمبابوے سے جتنا جلد ممکن ہو سکا نکل جائیں گے۔

    خیال رہے کہ کورونا کی نئی قسم ’اومی کرون‘ کے پھیلاؤ کے خدشے پیش نظر خلیجی ائیرلائن نے زمبابوے کی فلائٹس معطل کردیں جس کے باعث پاکستان سمیت 9 ملکوں کی خواتین ٹیمیں زمبابوے میں پھنس گئیں۔زمبابوے میں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2021 کے کوالیفائر مقابلے جاری تھے۔

    ادھر عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی منظرعام پر آنے والی نئی قسم انتہائی ‘باعثِ تشویش‘ ہے اور ابتدائی شواہد کے مطابق اس نئی قسم میں ری انفیکشن کا خطرہ دیگر اقسام سے زیادہ ہے۔

    کورونا وائرس کی اس نئی قسم کو اومیکورن کا نام دیا گیا ہے اور اس کے پہلے کیسز جنوبی افریقہ میں دریافت کیے گئے تھے۔

    اس کے بعد متعدد ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا، اور امریکہ نے جنوبی افریقہ اور اس کے ارد گرد خطے کے ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    ادھر عالمی ادارہِ تجارت ڈبلیو ٹی او نے گذشتہ چار سال میں اپنا پہلا وزرا کے سطح کا اجلاس، پھر سے ملتوی کر دیا ہے۔ 160 ممالک کے وزرا نے اس اجلاس میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ملاقات کرنی تھی۔

    بدھ کے روز جنوبی افریقہ میں اس اومیکورن قسم کی تصدیق کے بعد سے یہ قسم بوٹسوانا، بلجیئم، ہانگ کانگ، اور اسرائیل میں پائی گئی ہے۔

    کورونا وائرس کی اس نئی قسم سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کووڈ 19 کے خلاف تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں اور اگر اس نئی قسم سے متعلق سائنسدانوں کے خدشات درست ہیں تو دنیا بھر میں کورونا کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔

    کورونا کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے ایک سائنسدان نے اس نئی قسم کے کورونا وائرس کو ہولناک قرار دیا تو ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والے تمام وائرس سے خطرناک ہے۔

    ایسے میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم کتنی تیز رفتار سے پھیل سکتی ہے اور اس میں کورونا کی ویکسین کے خلاف کتنی مدافعت موجود ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کا توڑ کیا ہے؟

    اس نئی قسم کے بارے میں تمام تر خدشات کے باوجود ان سوالوں کے سب جواب اب تک سائنسدانوں کے پاس بھی نہیں۔

     

     

  • "ڈپریشن کی ابتدا کے اسباب اور حل” تحریر محمد عبداللہ

    "ڈپریشن کی ابتدا کے اسباب اور حل” تحریر محمد عبداللہ

    اپنے آپ کو وقت دینا اس دور جدید کا سب سے مشکل بلکہ ناممکن سا کام بن چکا ہے. اہل و عیال، امور معاش، دوست احباب، سماجی رسوم و رواج اور دیگر امور میں انسان اتنا الجھا ہوتا کہ اپنے آپ سے دور سے دور ہوتا چلا جاتا ہے. ان کاموں سے کچھ فرصت ملتی ہے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہمارے وقت اور توجہ کے لیے منہ کھولے کھڑے ہیں.
    اس سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے جسم اور روح توجہ نہ ملنے کے باعث الجھ جاتے ہیں. جسمانی طور پر وزن کا بڑھنا اور جسم کا مختلف بیماریوں میں گھر جانا عام سے عام ہوچکا ہے. ہمارے ” امیون سسٹم”اس حد تک کمزور ہوچکے ہیں کہ ادھر موسم تھوڑا سا بدلتا نہیں ادھر ڈاکٹرز کے کلینکس کی پارکنگ تک میں جگہ نہیں ملتی…
    روحانی اورذہنی طور پر نقصانات اس سے بھی زیادہ ہوتے کہ بےسکونی، عدم برداشت اور ڈپریشن جیسے خطرناک مرض اپنی جگہ بنا لیتے اور رفتہ رفتہ بندے کو کھوکھلا کر دیتے ہیں. ڈپریشن اس دور جدید میں اس حد تک عام ہوچکا ہے کہ جس سے بھی پوچھو گے وہ ہی اس مرض کا شکار ملے گا.
    ان سب کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ اپنے آپ سے دوری ہے. اپنے آپ کو وقت نہ دینا، اپنے آپ کو توجہ نہ دینا سب سے بڑی غفلت ہوتی جو انسان کو بہت دور تک لے جاتی ہے.
    انسان کی مناسب جسمانی، روحانی اور ذہنی صحت کے لیے اچھا مطالعہ، ورزش، عبادات وغیرہ انتہائی ضروری ہیں. ہمیں اپنے مشینی شیڈول سے ان تین کاموں کے لیے باقاعدہ وقت نکالنا ہوگا. اپنے آپ کو توجہ دینی ہوگی کیونکہ جسمانی، روحانی اور ذہنی طور پر اچھی صحت کا براہ راست اثر آپ کے کام، آپ کے تعلقات وغیرہ پر پڑتا ہے.
    محمد عبداللہ

  • ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    اسلام آباد :ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن اور چائنا موبائل پاکستان(Zong) کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کے لئے MOU پر دستخطوں کی تقریب منعقد ہوئی گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں ایس سی او سب سے بڑی اور نمایاں ترین ٹیلی کام سروسز مہیا کرنے والی کمپنی ہے۔

    تقریب میں ایس سی او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شاہد صدیق ،زونگ کے سی ای او وانگ ہوا، زونگ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر لو جیان ہوئی اور ایس سی او اور زونگ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    نادرا نے ڈیٹا ہیکنگ سے متعلق ریمارکس پر ایف آئی اے عہدیدار سے وضاحت طلب کر لی

    معاہدے کے تحت زونگ اپنی سٹریٹجک سرگرمیوں کے ذریعے ایس سی او کے تعاون سے کام کرے گی کیونکہ SCO آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں پہلے سے ہی بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔ ایسے ہی SCO بھی وسیع البنیادرول آﺅٹ پلان کے لئے زونگ کو بیک ہال کنیکٹوٹی کی فراہمی کرے گی۔

    دونوں اداروں کو پہلے سے ہی مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے جس کا آغاز 2008 میں ہوا تھا 2011میں دونوں اداروں کے درمیان رومنگ کے منصوبے پر بھی عملدرآمد ہوا تھا۔

    حتساب عدالت اسلام آباد کے ایک اور جج نے چیئرمین نیب کو خط لکھ دیا

    اس موقع پر میجر جنرل شاہد صدیق نے کہا کہ آج ہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے اشتراک عمل کو بڑھا رہے ہیں تاکہ ہم مل کر گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو رابطوں کی خوب سے خوب تر سہولتیں فراہم کر سکیں اور ہماری خواہش ہے کہ دوسری سیلولر کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہم گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو جدید دور کی وہی سہولتیں فراہم کر سکیں جو پاکستان کے بڑے شہروں کو حاصل ہیں۔

    پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ

  • حسن علی نے عمران خان کا ریکارڈ برابر کر دیا

    حسن علی نے عمران خان کا ریکارڈ برابر کر دیا

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولرحسن علی نے بنگلہ دیش کے خلاف چٹا گانگ ٹیسٹ میں 5 وکٹیں لے کر عمران خان اور وقار یونس کا ریکارڈ برابر کر دیا۔

    باغی ٹی وی : فاسٹ بولر حسن علی ایک سال کے دوران ٹیسٹ میچ میں پانچ مرتبہ پانچ وکٹیں لینے والے تیسرے پاکستانی بولر بن گئے اس سے پہلے یہ ریکارڈ سابق کرکٹر اور موجودہ وزیراعظم عمران خان اور سابق کرکٹروقار یونس کے پاس ہے۔

    سابق کرکٹر اور وزیر اعظم عمران خان نے 1982 اورسابق فاسٹ بولر وقار یونس نے1990 میں یہ ریکارڈ بنایا تھا تاہم حسن علی نے چٹاگانگ ٹیسٹ میں5 وکٹیں لے کر ریکارڈ برابر کیا ہے۔

    وقار یونس نے 1993 میں بھی یہ اعزازحاصل کی تھا وہ نہ صرف دو 2 ایک سال میں 5 بار 5،5 وکٹیں لینے والی کھلاڑی ہیں بلکہ وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے پاکستان کی جانب سے ایک سال کے دوران 6 بار5 وکٹیں حاصل کیں ہیں۔

    پی سی بی نے بھی چٹا گانگ ٹیسٹ میں حسن علی کی شاندار کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے ٹویٹ کی ہے۔


    یاد رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ جاری ہے۔ اس سے قبل پاکستان بنگلہ دیش کو ٹوئنٹی سیریز میں شکست دے چکی ہے حسن علی نے چٹاگانگ ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش کے شادمان اسلام، لٹن داس، یاسر علی، ابوجاوید اور عبادت حسین کو آوٹ کیا ہے۔

    نادرا نے ڈیٹا ہیکنگ سے متعلق ریمارکس پر ایف آئی اے عہدیدار سے وضاحت طلب کر لی

    جعلی ویڈیو اور آڈیو بنانا مسلم لیگ ن کا وطیرہ بن گیا ہے،عدلیہ نوٹس لے ،فواد…