Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    کیا آپ جانتے ہیں میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ پنجاب کیوں کہ رہا ہوں ۔ نہیں جانتے تو چلیں اس آرٹیکل کو پورا پڑھ لیتے ہیں ۔ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ کہنے پر مجبور ہوں ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مئ انیس سو انہتر کو اپنے آبائی علاقے بارتھی میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بارتھی سے حاصل کی ۔ اور اس بعد عثمان بزدار نے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اس کے علاؤہ عثمان بزدار نے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے ۔ آپ کے والد پہلے ہی سیاست میں تھے ۔ والد صاحب کے بعد آپ نے سیاست میں حصہ لیا ۔ اور دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں آپ صوبہ محاذ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جوکہ بعد پاکستان تحریک انصاف کی جماعت میں شامل ہوگئ۔

    عثمان بزدار نے دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اپنے مخالف امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک سرپرائز کے طور پر عثمان بزدار کو پنجاب کا سب بڑا عہدہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے منتخب کیا ۔ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کے خلاف ایک بھرپور انداز سے مہم چلائی گئی ۔ لیکن وزیرِ اعظم نے انکا بھرپور طریقے سے ساتھ دیا اور انہیں اپنا وسیم اکرم پلس کہ دیا ۔اور وزیر اعلی عثمان بزدار نے پنجاب کو ایک نئے انداز سے چلایا ۔ ایک پرانا انداز انڈر ورلڈ شوباز کو چھوڑ کر ایک نیا بلکل سادہ سا طریقہ اپنایا۔ صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ حالاں کہ ان پر جتنی تنقید ہوئی شائد کیسی پر ہوئی ہوگی۔ لیکن آپ کی جرات ہمت اور بلند حوصلے کو سلام ۔ آپ نے ان سب باتوں کو پرے پشت رکھ کر صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں محض تین سالوں میں پنجاب ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوئے۔ جتنے کام محض ان تین سالوں میں ہوئے اتنے کام پچھلے ستر سال میں نہیں ہوئے ۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اپنے تین سالوں میں اکیس نئے یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جن میں چند یونیورسٹیوں کے نام درج ذیل ہیں گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب ، نارتھ پنجاب یونیورسٹی چکوال ، کوہسار یونیورسٹی مری ، یونیورسٹی آف میانوالی ، یونیورسٹی آف تونسہ ، تھل یونیورسٹی بھکر ، ویمن یونیورسٹی راولپنڈی ، چاکرے اعظم یونیورسٹی ڈی جی خان ، راجن پور یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ۔ ساتھ سو کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز۔ اس کے علاؤہ یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام ، چھیاسی نئے ایسوسی ایٹ کالجز کا قیام ، آٹھ ہزار تین سو ساٹھ سکولوں کی اپ گریڈیشن ، نو مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا قیام ، نشتر فیز ٹو ہسپتال کا قیام ، چلڈرن ہسپتال بہاولپور ، برن سنٹر بہاولپور ،میانوالی ، لیہ ، اٹک ، بہاولنگر اور راجن پور میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال ، ڈی جی خان کارڈیالوجی ہسپتال کا قیام شامل ہیں۔ محروم اور پسماندہ لوگوں کا احساس پناہ گاہیں ، لنگر خانوں کا قیام ، اور صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکج ، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام ، بہتر لاکھ خاندانوں کے لیے صحت کارڈ کا اجراء ، دس اسپیشل اکنامکس زون کی منظوری ، قبضہ مافیا سے دس لاکھ کینال رقبہ واگزار ،کسانوں کے 26 ارب روپے کے بقایاجات واپس ، سمارٹ پولیس اسٹیشن کا قیام ، 24 اضلاع میں سپورٹ کمپلیکس شروع کی گئی ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا قیام ،بہاولپور اور ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری ،جنوبی پنجاب فنڈز کی ری فینسنگ اور اس کے علاؤہ دیگر کئی فلاحی منصوبے شامل ہیں جنکا ذکر ایک آرٹیکل میں شامل کرنا ناممکن ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی نگرانی میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اب شوبازیاں نہیں صرف کام۔

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    سرینگر: چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے گزشتہ ایک برس سے سرینگرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دینے پر قابض حکام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ حکام کی کارروائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کل جامع مسجد کی طرف مارچ کریں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگ جنہوں نے ہمیشہ اس طرح کی کارروائیوں کی مزاحمت کی ہے جامع مسجد سرینگر کی طرف مارچ کریں گے تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کیطرف سے کشمیریوں کی زمین اور قدرتی وسائل کو غیر مقامی لوگوں کو فروخت کر کے علاقے کی آبادی پر حالیہ حملے کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب اور آئمہ خضرات مساجد میں خطاب کے دوران لوگوں کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ نے پیر کو بھارت کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ علاقے میں ہاو¿سنگ اور تجارتی منصوبوں کی ترقی کے نام پر 18ہزار 3سو کروڑ روپے کے 39 مفا ہمت کی یاداشتوں پردستخط کیے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ نوآبادیاتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی زمین پر قبضہ بھارتی شہریوں کو علاقے میں آباد کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکیں۔

  • گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    کراچی سائٹ ایریا شیر شاہ کی یہ کہانی ہے۔ دوپہر کوئی 2 بج رہے تھے تقریباً کمپنیوں میں کھانے کا وقت تھا کوئی کھانا کھا رہے تھے اور کوئی ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک زور دار آواز آتی ہے اور گیس لائن کا دھماکہ ہوتا ہے میں اور میرے دوست بھی ہوٹل پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہلچل مچ گئی ہے ہم اپنی کمپنی کی طرف جا رہے تھے تو ایمبولینس دکھی ہمیں لگا کہ کوئی ایکسیڈنٹ ہوگیا پر پھر معلوم ہوتا ہے نالہ پر ایک بینک بنی ہوئی تھی وہاں گیس لائنیں پھٹنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا ہے بلڈنگ زمین تلے بوس گئی اس میں لوگ بھی پھنس گئے کتنی عورتیں بچے بھی شامل تھے، کئی لوگ اس زندگی سے رخصت ہو گئے کئی ہسپتالوں میں منتقل ہو گئے لوگوں نے سنا بینک میں دھماکہ ہوا بلڈنگ گر گئی لوگ اس طرف بھاگنے لگے اس لیے نہیں کہ وہاں جا کر کسی کی مدد کی جائے ریسکیو ٹیموں کی مدد کی جائے بلکہ وہ وہاں سب پیسے بٹورنے میں لگے رہے انسان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں پیسہ کو اہمیت دی جارہی تھی ہم نے وہاں دیکھا کچھ لوگوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے کسی کا سر بدن سے الگ تھا کسی کا ہاتھ تو کسی کا پائوں، اب سوال یہ ہے کہ گیس دھماکے کیسے ہوتے ہیں

    عموماً اور دوسرا یہ کہ نالہ کہ اوپر بینک کیسے بنی؟ سردیوں میں گیس کے مسائل نہاں ہوتے ہیں تو پھر عوام بھی اپنی مدد آپ کرتی ہے جیسا کہ ابھی کچھ مشینیں آئی ہیں جس سے اگر آپ کا گیس پریشر کم ہوگا تو وہ گیس کھینچتی ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ کام غیر قانونی بھی ہے پر عوام مجبور ہے، کچھ لوگ سلینڈر استعمال کرتے ہیں تھوری سی لا پروائی گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں غیرمعیاری اور خراب گیس سلنڈروں کی وجہ سے آئے دن ہلاکت آفریں دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔یہ غیرمعیاری سلنڈرگھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ گاڑیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ساحلی شہرکراچی کا پاکستان کی اقتصادی پیداوار میں حصہ 60 فی صد ہے۔یہ شہر طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے، غیر قانونی تعمیرات، ادارہ جاتی اور حکام کی کرپشن اور ناکام میونسپل خدمات کی وجہ سے گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیر شاہ دھماکے کی جائے وقوعہ پر موجود سوئی سدرن گیس کی ٹیموں نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ کی جگہ پر ادارے کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں، علاقے میں موجود تمام گیس پائپ لائنز بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔سوئی گیس کا مزید کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔

  • بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ الزامات ہم ہر روز کسی نہ کسی طرح سننے میں آتے ہیں.اس سال ٹویٹر پہ. الیکٹرانک میڈیا گروپس اور پرسنز کے خلاف بیسوں ٹرینڈز چلے.
    میڈیا کا کردار اور میڈیا کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.میڈیا کی تقسیم مہذب ممالک میں الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز کی صورت میں کی جاتی ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہ میڈیا حکومتی ، اپوزیشن، اور پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز.
    میڈیا کا حقیقی کردار تو آگہی پیدا کرنا اور حکومتی کارکردگی پہ کڑی نگاہ رکھنا ہے اور ساتھ ہی حکومتی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانا بھی ہے.تمام منصوبوں اور شعبہ جات کے متعلق ماہرین کو چینلز پہ بلانا اور حکومتی نمائندوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے.اور اپوزیشن کی توجہ دلانا کہ کس طرح ایوان میں ان معاملات پہ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے جواب طلبی کریں.

    مگر افسوس کہ میڈیا ہاؤسز یا تو حکومتی اشتہارات کے سامنے بے بس ہیں یا اپوزیشن کے زرخرید غلام.
    آپ کوئی بھی چینل لگا کر دیکھ لیں یا تو حادثات کی خبریں ہیں یا ایک محسوس طریقے سے حکومت یا اپوزیشن کے حق میں راۓ سازی بلکہ کھلم کھلا جانبدار سوالات پہ مبنی پروگرامز کیے جاتے ہیں جن میں منصوبے اور ملکی ترقی تو نظر نہیں آتی دونوں طرف کے راہنما ذاتیات پہ واہیات گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں. لڑائی جھگڑے میں اصل موضوع کھو جاتا ہے اور اسی لڑائی سے کوئی اگلے پروگرام کے لیے سکینڈل اخذ کر لیا جاتا ہے.
    حکومتی نمائندے چند چینلز سے نالاں ہیں تو اسکے پیچھے واضح دلائل ہیں.عمران خان پہ گلالئ الزام لگائے تو ایک میڈیا گروپ گھنٹوں پرائم ٹائم شو کرتا اس موضوع پہ وہیں زبیر عمر کی ویڈیو پہ وہی میڈیا گروپ کہتا ہے یہ زبیر صاحب کی ذاتی زندگی ہے ہم دخل نہیں دے سکتے حالانکہ عمران خان اس وقت اقتدار میں نہ تھے جبکہ زبیر صاحب کا سکینڈل انکی گورنری کے عہد کا تھا.

    اسی طرح اپوزیشن ایک دو میڈیا ہاوسز پہ جانبداری کا الزام لگاتی ہے تو وہ بھی درست ہے کیونکہ وہ چینلز اپوزیشن کے دورِحکومت میں اشتہارات نہ ملنے پہ اپوزیشن کے خلاف کوئی وار ضائع جانے نہیں دیتا.بلکہ ایک چینل تو حکومتی کارکن کی ملکیت ہے.
    اب آتے ہیں پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز کی طرف جن کو سیاسی جماعتیں تنخواہ دیتی ہیں کہ وہ ان کے حق میں کیمپئن کریں.یہاں خطرناک بات یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافی اور اینکر پرسنز ان سیاسی میڈیا ہاوسز کے پیڈ ملازمین بن جاتے ہیں.

    وہی اینکرز اپنی ایک سیاسی جماعت کے ورکرز بن کر یکطرفہ کیمپئنز چلاتے ہیں.یہی یکطرفہ کیمپئننگ انکی صحافت کا جنازہ بن جاتی ہے.سوشل میڈیا ٹیمز کے یہ ممبرز جب الیکٹرانک میڈیا پہ بیٹھتے اور یکطرفہ اور جانبدار پروگرام کرتے ہیں تب دل. بے ساختہ پکارتا ہے بکاؤ میڈیا.ابھی بھی چند صحافی ان پروپیگنڈہ چینلز میں رہ کر عوام کی نمائندگی کو کوشش میں ہیں.اللہ ان کا حامی و ناصر ہو.اور دعا ہے پاکستان میں حقیقی صحافت ابھرے اور ملکی ترقی میں متحرک قوت بنے.آمین

  • کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    ۔ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    ۔ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    ۔ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    ۔ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    ۔ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • صارفین واٹس ایپ کی مدد سے بینک اکاؤنٹ پر نظر رکھ سکیں گے

    صارفین واٹس ایپ کی مدد سے بینک اکاؤنٹ پر نظر رکھ سکیں گے

    سان فرانسسكو: دنیا بھر میں مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے صارفین کو بینک اکاؤنٹ پر نظر رکھنے کی سہولت بھی فراہم کردی۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، جنہیں سہولیات فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کی جانب سے آئے روز نت نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں تاہم اب ایپلیکیشن کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک میں ’واٹس ایپ پے‘ کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین رقم کی لین دین بھی کررہے ہیں۔

    موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    اب کمپنی نے اس فیچر کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے صارفین کو بینک کھاتے پر مکمل نظر رکھنے کی سہولت بھی فراہم کردی ہے، جس کے بعد وہ کسی بھی وقت آسانی سے اپنے اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن تفصیلات اور بقایا رقم کے بارے میں جان سکے گا۔

    فیچر کا ستعمال:
    جن کو واٹس ایپ پے کی سہولت حاصل ہے انہیں سب سے پہلے یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس( یوپی آئی) کی مدد سے بینک ٹو بینک ٹرانزیکشن کا آپشن ان ایبل کرنا ہوگا اس کے بعد صارف کے واٹس ایپ کا نمبر اکاؤنٹ سے منسلک ہوجائے گا، جب وہ اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر پے منٹ میتھڈ میں جاکر درج کرے گا تو وہاں ساری تفصیل اسٹیٹمنٹ کی طرح سامنے آجائے گی۔

    فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال، والدین کی اجازت ضروری

    اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے طریقہ استعمال

    سب سے پہلے واٹس ایپ کھولیں، سیٹنگز کے آپشن میں جاکر پیمنٹ پر کلک کریں جہاں بینک اکاؤنٹ پیمنٹ میتھڈ نظر آئے گا، اس کو کلک کرنے کے بعد آپ کے سامنے اکاؤنٹ کھل جائے گا البتہ بیلنس نظر نہیں آئے گا، جس کو دیکھنے کے لیے یو پی آئی پن درج کرنا ضروری ہوگا۔

    واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے گروپس سے تنگ افراد کے لیے زبردست فیچر متعارف کرانے پر کام شروع کردیا ہے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے گروپس کو ایک جگہ کرنے کے حوالے سے ’کمیونیٹیز‘ نامی فیچر پر کام شروع کیا ہے، جس کے بعد صارف زیادہ سے زیادہ دس گروپس کو فولڈر کی طرح ایک جگہ جمع کرسکیں گے یہ فیچر فی الحال آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم پر بیٹا ورژن پر آزمائش کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جسے صارفین زبردست اور شاندار قرار دے رہے ہیں۔

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    کمیونٹیز دراصل واٹس ایپ گروپ کی طرح کا ایک فولڈر ہوگا ، جس کو تشکیل دینے والا صارف خود ہی ایڈمن ہوگا اور وہ گروپس ایڈمنز کی طرح کسی بھی میسج اور گروپ کو حذف کرسکے گا جبکہ صارف اپنی مرضی کے حساب سے کمیونٹی کا نام اور گروپ کی تفصیل کو درج کرسکے ۔

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    جب کوئی نیا ممبر کمیونٹی کو چھوڑ دے گا تو پھر اُسے گروپ کا لنک اور یہاں شیئر ہونے والے مواد تک رسائی نہیں ہوسکی گی بلکہ یہ خود بہ خود غائب ہوجائے گا سادہ الفاظ میں اگر اس فیچر کی بات کی جائے تو اسے ذیلی گروپ یا سب گروپ کا جاسکتا ہے، جس کے ذریعے صارف اور ممبران چیزوں کو کنٹرول کرسکیں گےامکان ظاہر کیاجارہا ہے کہ جلد اینڈرائیڈ پر واٹس ایپ بیٹا ورژن صارفین کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

  • ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بطور مسلمان ہمارا اس بات پر یقین ہونا چائیے جو کوئی بات قرآن و حدیث کے ذریعہ سے مستند طریقہ سے ہم تک پہنچتی ہے وہ ہو کر رہنی ہے ہم اسے قبول کریں یاں نا کریں اللہ تعالی اس بات کو پورا کرکے چھوڑیں گے ان شاءاللہ-

    مگر افسوس کہ آج ہم تاویلوں سے کام لیتے ہیں حالانکہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے اللہ رب العزت نے بذریعہ وحی کلام الہی میں ارشاد فرما دیا تھا-

    یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ،اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں ۔ سورہ البقرہ

    افسوس مسلمان ہوتے ہوئے آج ہمارا اعتراض ہوتا ہے تو قرآن پر اعتراض ہوتا ہے تو حدیث رسول پر جبکہ ہنود و یہود و دیگر کفار کو نبی ذیشان کی ہر بات سے اتفاق ہے وہ الگ بات ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں یہ بھی میرے رب کی مرضی ہے –

    چودہ سو سال پہلے نبی ذیشان فرما کر گئے تھے کہ غرقد یہودویں کا درخت ہے اور یہودیوں کو قرب قیامت مجاھدین سے بچائے گا-

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کر دو
    سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے-

    مفسرین کے مطابق غرقد دراصل شجر یہود ہے جو گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت کہلاتا ہے یہ خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے جنت البقیع کا اصل نام بھی بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا،( صحیح مسلم)

    یہودیوں کا آج اس حدیث پر اتنا یقین ہے کہ انہوں نے اپنا سرکاری درخت غرقد کو بنا لیا آج ہر یہودی کے گھر،ان کے پارک،ان کی ہر بلڈنگ کے آس پاس غرقد نامی درخت لازمی لگا ہے اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ غرقد کے درخت اسرائیل میں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ فرمان نبی ذیشان جھوٹا نہیں حالانکہ وہ یہودی ہیں-

    دنیا کی کل آبادی پونے 8 ارب ہے جس میں سے عیسائی 31.5 فیصد مسلمان 23.2 فیصد اور ہندو 15 فیصد ہیں باقی دیگر مذاہب کے لوگ ہیں یعنی کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اس کے باوجود آج ہم مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں فلسطین ہو یا افغانستان کشمیر ہو یا عراق ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور خاص کر فلسطین و کشمیر میں ہر ظلم کی حد کراس کی جا چکی ہے-

    کچھ دن قبل ایک ہندو پنڈت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے ہندوؤں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کم ازکم 6 بچے ہر ہندو کے ہونے چائیے اور ہر ہندو کے گھر اسلحہ لازمی ہونا چائیے یعنی اس ہندو کو نبی کریم کی اس حدیث پر یقین ہے-

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر رکھا ہے ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہوگا- (السنن الکبری۔ نسائی)

    اس حدیث کی رو سے ہندو ڈرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں غزوہ ہند پر اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے قرب قیامت عیسی علیہ السلام کے آنے تک غزوہ ہند ہونے کی بشارتیں ملتی ہیں مگر میں نے محض اس ایک حدیث کو بیان کیا ہے مگر افسوس کہ اس صیحیح سند کی حدیث سے انکاری ہمارے ہی کچھ بھائی بھی موجود ہیں جوکہ کہتے ہیں کہ غزوہ ہند تو ہو چکا جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی کب ہو چکا تو وہ کہتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم نے ہند پر یلغار کی تھی مگر اب تو ہند تقسیم ہو کر پاکستان اور کئی علاقوں میں بٹ چکا ہے اس لئے غزوہ ہند کا نام نا لو-

    ایسے دوستوں کے ہاں میری گزارش ہے کہ غزوہ ہند سے متعلق اور بھی بہت سے روایات موجود ہیں جن پر ضعیف ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے میں ان پر بحث نہیں کرتا مگر ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ ہندوستان مٹ چکا ؟کیا ہند کے مسلمانوں پر ظلم کا بازار رک گیا ؟کیا ہندو کی بدمعاشیاں ابھی بھی جاری نہیں ہیں؟کیا اللہ کے نبی کا فرمان کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا تم نے پڑھا نہیں؟ کیا کتاب اللہ اور کتب احادیث جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھری ہوئی نہیں ہیں ؟

    کیا ہند میں موجود تیس کروڑ مسلمان امن و سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں اور کیا وہاں ان کو مذہبی آزادی مکمل حاصل ہے ؟ کیا ابھی محض بیس سال قبل ہی انڈین گجرات میں مسلمانوں کو زندہ نہیں جلایا گیا ؟کیا ہند کی مساجد کو گرا کر مندر نہیں بنائے جا رہے ؟ کیا قرآن کی یہ آیت معاذاللہ منسوخ ہو گئی ؟
    آیت یہ ہے باترجمہ

    وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)

    اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنا دے-

    کیا آج بھی ہند و کشمیر کی بہن بیٹیاں ہمیں پکارتی نہیں کہ ہماری مدد کرو ؟ بھئی جب یہ ساری نشانیاں بموجب جہاد ابھی باقی ہیں تو پھر غزوہ ہند کیسے ہو چکا ؟

    وہ تو محمد بن قاسم نے ابتداء کی تھی ہند پر یلغار کی اس سے آگے محمود غزنوی و دیگر اس غزوہ ہند کو نے آگے بڑھایا مجاھدین کشمیر و پاک فوج اس وقت غزوہ ہند کا دستہ ہے جبکہ ہندوستان کی مکمل بربادی اور قرب قیامت تک یہ سلسلہ چلتا ہی رہنا ہے

    ہاں وہ الگ بات ہے کہ کل کو ماضی میں آج کے کچھ آزاد ممالک بھی ہند کا حصہ تھے مگر ہند کا لفظ ابھی باقی ہے اور بہت سارا علاقہ ابھی باقی ہے اور کچھ بعید نہیں قرب قیامت یہ ہند بلکل چھوٹا سا زمین کا ٹکرا رہ جائے یا ہو سکتا ہے ہندو نجس پلید اپنے آگے والے چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضہ کرکے اس ہند کا حصہ بناتا رہے یہ سب آنے والے وقت کی باتیں ہیں مگر خدارا ہوش کیجئے احادیث نبویہ و فرمان الہٰی پر عمل کیجئے اور اپنے کشمیری و ہندوستانی بھائیوں کی مدد کیجئے جو کہ قرآن و حدیث سے تین صورتوں میں ثابت ہے –

    جہاد بالنفس، جہاد مال یعنی اپنے مال سے جہاد ،جہاد پر ابھارنا یعنی جہاد کیلئے ترغیب دینا چاہے و زبان سے دی جائے یا قلم سے یا کسی اور طریقے سے یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کونسا جہاد کر سکتے ہیں لازم نہیں کہ آپ ہتھیار پکڑ کر ٹکرا جائیں کیونکہ جہاد بھی بغیر جماعت کے ہوتا نہیں-

  • خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    محکمہ انسانی حقوق پنجاب کی جانب سے این جی او کے تعاون سے خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان میں گزشتہ چند برس کے دوران خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ کے حصول، تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستوں اورجائیداد سے وراثت اور ووٹ سمیت کئی حقوق دیئے گئے ہیں تاہم ان پرابھی تک عمل درآمد نہ ہونے کے برابرہے۔

    مقبوضہ کشمیر کی پہلی خواجہ سرا میک اپ آرٹسٹ کے انٹرنیٹ پر چرچے

    سال 2021 کے دوران بھی خواجہ سراؤں کو ان کی الگ پہچان اورحقوق کی فراہمی کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم پنجاب میں ابھی تک ٹرانس جینڈررائٹس ایکٹ ابھی تک منظورنہیں ہوسکا ہے۔

    "مخنث” افراد کیلئے سب انسپکٹراورکانسٹیبلز لیول کی آسامیوں پردرخواستیں جمع کرانے کا اعلان

    تاہم اب محکمہ انسانی حقوق پنجاب نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی این جی او کی معاونت سے خواجہ سراؤں پر تشدد،امتیازی سلوک اورشکایات کے اندارج کیلیے موبائل فون ایپ متعارف کروادی ہے۔

    پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ماڈل پر تشدد

    ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹرانس جینڈرکمیونٹی کے حقوق کیلئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کی نمائندہ گل مہرسید نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2021 میں مرکزی اورصوبائی حکومتوں نے خواجہ سراؤں کے کئی ایک مسائل پرتوجہ دی ہے اوران کیلئے قانون سازی کی گئی ہے ۔

    خود کو دیکھتی ہوں تو لگتا ہے جیسے کوئی خواجہ سرا کھڑا ہے ایمان علی

    رابعہ انعم نے ایمان علی کو خود کو ’خواجہ سرا‘ جیسا قرار دینے پربیوقوف قراردیا

    خواجہ سرا ماہم نے بتایا کہ ہمارے معاشرے اورخاندانوں کے رویوں میں تبدیلی آرہی ہے،ابھی ٹرانس جینڈرکمیونٹی کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات نظر آنا شروع ہوگئے85 فیصد خواجہ سرا بالکل ان پڑھ ہیں فیشن ڈیزائنرخواجہ سرا ہیرعلوی کہتی ہیں کہ خواجہ سراؤں سے جنسی اورجسمانی تشدد، اہم مسئلہ ہے۔

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

  • ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل

    ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل

    لندن :ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل ،اطلاعات کے مطابق اس سال پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان آئی سی سی ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں میں شامل ہیں۔

    اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے پلیئرز آف دی ایئر کی نام زدگیوں کا اعلان کر دیا ہے۔کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے سال کے بہترین کھلاڑی کے چناؤ کے لیے نامزد 4 کھلاڑیوں میں پاکستان کے محمد رضوان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    پلیئر آف دی ایئر کے لیے نامزد دیگر کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے جوز بٹلر، سری لنکا کے ہسارنگا اور آسٹریلیا کے مچل مارش کے نام بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے ایک کلینڈر ایئر میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے قومی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے لیے ایک اور اعزاز کا اعلان ہوا ہے ، اطلاعات ہیں‌ کہ برطانیہ کے کاؤنٹی کرکٹ کلب سسکس نے پاکستان کے وکٹ کییر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔

     

    سسکس کرکٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہمیں یہ بتا کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی کے ایک کلینڈر ائیر میں 2000 رنز بنانے والے قومی بلے باز نے بھی سسکس کاؤنٹی کے ساتھ معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2022 کے شاندار سیزن کی جانب دیکھ رہا ہوں۔

    محمد رضوان کے سسکس کرکٹ کے ساتھ معاہدے پر انگلش ویمن ٹیم اور سسکس کی کرکٹر سارہ ٹیلر نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا تھا۔

  • کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

    ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650
    ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔

    ۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔

    کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے