Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اظہار تشویش ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیریوں کی اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال پر نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے بعد سے ہماری تحریک آزادی کا عنوان شہداکے خون سے لکھا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اس تحریک کو فوجی طاقت کے بہیمانہ استعمال سے کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے سیاست دانوں، تاجروں، وکلائ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلباءاور علمائے دین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل تحقیقاتی ایجنسی کے مسلسل چھاپوں میں اضافے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جابرانہ ہتھکنڈے ماضی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی انکاکشمیریوں کی مضبوط اور پرامن مزاحمتی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    ترجمان نے تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور ہم غیر قانونی بھارتی قبضے سے مکمل آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں نسل کشی، بلا جواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو روکنے اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے تنازعہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بار پھر سرینگر کی تاریخی مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آج صبح ایک بار پھر قابض انتظامیہ اور بھارتی پولیس نے جامع مسجد کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا اور وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کو مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

     

     

    انجمن جامع مسجد سے متعلق قابض انتظامیہ کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ قابض انتظامیہ نے مرکزی جامع مسجد کی جبری بندش کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور طاقت کے بل پر مذہبی حقو ق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔

    انجمن اوقاف نے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی 5اگست2019سے مسلسل گھر میں غیر قانونی نظربندی کی بھی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے مذہبی اور پر امن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انجمن نے جامع مسجد کو نماز جمعہ کیلئے بھی کھولنے کا مطالبہ کیا ۔

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بی بی سی کے دفتر کے باہر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے عالمی شہرت یافتہ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے بی بی سی کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سرینگر میں قائم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر خرم پرویز کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالے۔

     

     

     

    انہوں نے نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ پر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کہاکہ این آئی اے نے 22نومبر کو خرم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں نئی دلی منتقل کردیاگیا۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کے جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ، خواجہ محمد سلیمان ، ٹرید کونسل برمنگھم کے صد ر Ian Scott ،سٹاپ دی وار کولیشن برمنگھم کے سیکریٹری جنرل سٹورٹ رچرڈسن ،رانا رب نواز، چوہدری اکرام الحق اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

     

     

  • آئی سی سی کا ویمنز ورلڈکپ کوالیفائرز کو فیصلہ سنا دیا

    آئی سی سی کا ویمنز ورلڈکپ کوالیفائرز کو فیصلہ سنا دیا

    دبئی :آئی سی سی کا ویمنز ورلڈکپ کوالیفائرز کے متعلقہ بڑا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے زمبابوے پر سفری پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد وہاں پر جاری آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ کوالیفائرز کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    آئی سی سی ٹورنامنٹ کو فوری طور پر دوسرے ملک منتقل کرنے کے آپشن پر غور کررہا ہے۔

    جنوبی افریقا میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد زمبابوے سمیت 6 افریقی ملکوں پر سفری پابندیاں عائد کردی گئی ہیں اور متحدہ عرب امارات نے بھی ان ملکوں کیلئے فلائٹس آپریشن بند کردیا ہے جس کے بعد آئی سی سی کو پریشانی کا سامنا ہے کیوں کہ اس وقت پاکستان سمیت 9 ملکوں کی خواتین ٹیمیں زمبابوے میں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز کیلئے موجود ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق 29 نومبر سے ہوگا اور آئی سی سی کی کوشش ہے کہ ٹیموں کو 28 نومبر کو دبئی منتقل کردیا جائے جہاں بقیہ میچز کرائے جائیں۔

    اگر میچز شفٹ نہ ہوسکے تو ٹورنامنٹ کو معطل کردیا جائے گا تاہم ہفتے کو پاکستان اور زمبابوے کے درمیان طے میچ شیڈول کے مطابق کرائے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس سلسلے میں آئی سی سی سے رابطے میں ہے جبکہ پی سی بی کا لاجسٹک ڈپارٹمنٹ بھی ہنگامی انتظامات کیلئے بیک اپ پلان پر کام کررہا ہے۔

     

  • بنگلادیش:گراؤنڈ میں جھنڈا لہرانے پرپاکستان ٹیم کیخلاف دائردرخواست مسترد:پاکستان زندہ بادکےنعرے گونج اٹھے

    بنگلادیش:گراؤنڈ میں جھنڈا لہرانے پرپاکستان ٹیم کیخلاف دائردرخواست مسترد:پاکستان زندہ بادکےنعرے گونج اٹھے

    ڈھاکہ :بنگلادیش: گراؤنڈ میں جھنڈا لہرانے پر پاکستان ٹیم کیخلاف دائر درخواست مسترد:پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے،اطلاعات کے مطابق بنگلا دیش کی عدالت نے میرپور کے شیر بنگلا کرکٹ اسٹیڈیم میں پریکٹس کے دوران پاکستان کا قومی پرچم لہرانے پر ٹیم کے ارکان کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا۔

    بنگلا دیشی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈھاکا کے ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے پاکستان ٹیم کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کیا۔

    مقامی میڈیا کا بتانا ہےکہ بنگلا دیش مکتیودھ منچا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نے اسی عدالت میں پاکستان ٹیم کے خلاف حکومتی اجازت کے بغیر پریکٹس سیشن میں جھنڈا لہرانے پر مقدمہ دائر کیا تھا۔

    درخواست میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان، کوچ اور مینیجر سمیت تمام اسکواڈ ارکان کو نامزد کیا گیا تھا۔

    درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ شیر بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے اکیڈمی گراؤنڈ میں حکومت کی اجازت کے بغیر پاکستانی پرچم لہرانے کی مشق کی گئی۔

    عدالت نے درخواست گزار کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان ٹیم کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کردیا۔

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کی طرف سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے اورسوشل میڈیا پرپاکستان سے محبت کرنے والے اپنے اپنے انداز سے خراج تحسین پیش کررہے ہیں اور پاکستانی پرچم کو ٹیگ کررہےہیں

  • کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

    کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

    نئی دہلی:کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا،اطلاعات کے مطابق تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کےلیے خطرناک منصوبہ بنا لیا ہے ، اس حوالے سے بھارت نے اسرائیل ، امریکہ کی مدد سے تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ جماعت حریت کانفرنس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے سازشیں جاری ہیں

    وادی کشمیر اور نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کل جماعتی حریت کانفرنس پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد کر سکتی ہے۔

    اس سازش پر سے پردہ ہٹاتے ہوئے کشمیرمیڈیاسروس کا کہنا ہے کہ بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ بھارتی وزارت داخلہ آنے والے دنوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور تحریک حریت جموں کے تمام دھڑوں کو حق خود ارادیت کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی جدوجہد پرکالعدم قرار دینے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

    ذرائع نے ٹائم آف انڈیا کو بتایا کہ مودی حکومت اور بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے قبل ازیں وزارت داخلہ کو کل جماعتی حریت کانفرنس کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر درج کرنے کا مقدمہ بنانے کے لیے رپورٹیں پیش کی تھیں۔ پابندی کے بعد کل جماعتی حریت کانفرنس حریت کانفرنس کو اپنے دفاتر اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا پڑے گا۔

    قبل ازیں مقبوضہ علاقے میں جموںوکشمیر لبریشن اور جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔حریت کانفرنس کی بنیاد 1993 میں کئی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ رکھی گئی تھی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

    دوسری طرف تحریک آزادی کشمیر نے بھارت کی اس سازش کے خلاف عالمی برادری کو آگاہ کردیا ہے اورپاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد بھارتی سازش کو ناکام بناتے ہوئے کشمیریوں کی نمائندہ جماعت حریت کانفرنس پربھارتی پابندیوں کا خواب چکنا چور کردے

  • ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نور مقدم کیس کا مکمل چلان پیش ہونے کے بعد آج ایک اہم سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے جو مکمل چالان پیش کیا گیا ہے اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ لیکن پہلے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اور درندگی کے بارے میں بات ہو گی،اب سے تقریبا دو ہفتے پہلے آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ اس بچی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی اور چہرے پر نشانات تھے۔اسی روز اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر تلاش ورثا کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔ پہلے تو کئی دنوں تک اس پر کوئی ریسپانس نہ آیا لیکن پولیس نے دوبارہ مزید تفصیل کے ساتھ پوسٹ کی اور تصویر بھی ساتھ ڈالی گئی جس کے بعد اس کے چند رشتےداروں نے اس کو پہچان لیا انہوں نے پہلے تو اس کے والد سے رابطہ کیا لیکن والد نے اپنے رشتےداروں سے بھی بولا کہ وہ بچی اس کے پاس ہی ہے اور سو رہی ہے جس پر اس کے رشتے داروں نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور جب پولیس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ خود کو غمزدہ اور مظلوم دکھانے والا باپ ہی اصل میں وہ درندہ ہے جس نے اس معصوم بچی کو قتل کیا۔ ابھی یہ تفتیش ہونا تو باقی ہے کہ کہیں اس بچی کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی تو نہیں کی گئی۔ لیکن اس درندے باپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بچی اس پر بوجھ تھی اس لئے اس نے بچی کو مار کر اس سے جان چھڑا لی اور ظلم کی انتہا دیکھیں کہ قتل کے فورا بعد وہ ایک دفتر میں گیا اور وہاں جاکر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کے چچا اور دادی کے پاس چھوڑ آیا ہوں اس لئے مجھے نوکری دے دی جائے۔ اس طرح پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہ فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اور اب جب اس درندے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو وہاں یہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔اب بات کرتے ہیں دوسرے درندے ظاہر جعفر کی۔۔ نور مقدم قتل کیس کی ایک اہم سماعت ہوئی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو 29 سمتبر کو کیس کا ٹرائل آٹھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ویسے تو ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب وہ آٹھ ہفتے تو پورے ہو گئے ہیں لیکن مکمل چالان بھی دو دن پہلے پیش ہوا ہے اور ابھی تک صرف گیارہ گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جا چکے ہیں جن پر جرح مکمل کر لی گئی ہے لیکن مزید سات گواہان کی بیانات قلمبند کروانے باقی ہیں۔

    آج تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی کی درخواست پر سماعت جلد کی گئی جبکہ مدعی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے اور ان کی جگہ بابر حیات کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ملزمان کے وکیل اکرم قریشی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج وائرل ہونے سے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت اس حوالے سے کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے ایک بار پھر درخواست کی کہ عدالت اس کیس کو ان کیمرا رکھنے اور میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا حکم نامہ جاری کرے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ درندے اور اس کے خاندان کی یہ بہت پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح میڈیا کو اس کیس سے دور رکھا جائے تاکہ عوام تک اس کیس کی کوئی اپ ڈیٹس نہ پہنچ سکیں انصاف کے لئے کوئی پبلک پریشر نہ ہو اور اس کے بعد جس طرح سے یہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے کیس کا رخ موڑنا چاہیں وہ موڑ سکیں۔ میڈیا کوریج سے روکنے کے لئے وکیل کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ہماری فیملیز مشکل میں ہیں حالانکہ ہم تو یہاں صرف قانون کے مطابق Factsپر بات کر رہے ہیں۔ تو میرا سوال ان وکلا سے یہ ہے کہ جب آپ کو آپکی فیس سے بھی کئی گنا زیادہ پیسے لگائے گئے اور آپ نے یہ کیس لڑنے کی حامی بھری تو اس وقت آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ جس درندے اور اس کے خاندان کو آپDefendکرنے جا رہے ہیں ان کا مکروہ اور گھناونا عمل تو پہلے ہی پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جب آپ اتنی درندگی کرنے والے خاندان اور ان کے حمایتیوں کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ اور ساتھ ہی وکیل اسد جمال نے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے متعلق دلائل دیے۔ وکیل نے کہا کہ ہمیں صرف کچھ منٹس کے کلپس ہی فراہم کیے گئے ہیں ملزمان کا حق ہے کہ مکمل فوٹیج فراہم کی جائے تاکہ انہیں دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ حق تو ملزمان کا ضرور ہے لیکن عدالت پہلے ہی ان کو کچھ کلپس دے کر دیکھ چکی ہے کہ وہ انھوں نے کیسے وائرل کروائے تھے اس لئے اب ان کو مکمل فوٹیج دینا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ویسے تو یہ اسد جمال صاحب کو چاہیے کہ فوٹیج میں جو کچھ یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات یہ اپنی موکلہ عصمت آدم جی سے پوچھ لیں کیونکہ وہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے عصمت آدم، درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر کے فون کے ساتھ لنک تھے۔ یہ دونوں خود نور مقدم پر ہونے والے ظلم کے تمام مناظر اپنے فونز پر دیکھتے رہے ہیں اور صرف دیکھتے ہی نہیں رہے یہ نور مقدم کی چیخ و پکار بھی سنتے رہے ہیں۔ اب اس فوٹیج کی آڈیو بھی سامنے آچکی ہے لیکن کیونکہ پیمرا کی جانب سے اجازت نہیں ہے تو وہ آپ کو سنوائی نہیں جا سکتی۔

    وکلا کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے اور مکمل فوٹیج حاصل کرنے کے حوالے سے دلائل کے بعد ان دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ اگلی سماعت پر سنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ محمد جابر جو کہ کمپیوٹر آپریٹر ہے اس کا بیان بھی قلمبند کیا گیا اور اس پر جرح بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ لیکن درندے ظاہر جعفر نے آج پھر عدالت میں وہی ڈرامہ کیا جو کہ وہ کئی بار کر چکا ہے آج کی سماعت تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے رہی اور ملزمان کو سماعت کے آخر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ آج کی سماعت پر پھر درندے ظاہر جعفر کی جانب سے ایک اور وکیل پیش ہوا جس کا نام سکندر ذولقرنین سلیم ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ ان کو درندے کی فیملی کی جانب سے ہی ہائر کیا گیا لیکن پچھلی سماعت کی طرح ان وکیل صاحب کے پاس بھی وکالت نامے پر درندے کے دستخط نہیں تھے۔ اور جب درندے کو عدالت میں لایا گیا اور اس سے دستخط کروانے کو کہا تو اس نے ایک بار پھر انکار کر دیا اور کہا کہ میں وکیل سے میٹنگ کرنے کے بعد اپنا وکیل مقرر کروں گا۔ اس کی فرمائشیں دیکھا کریں آپ کہ جیسے پتہ نہیں کونسا اعلی کارنامہ کرکے یہ موصوف بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد تو یہ انسان کہلانے کے بھی لاءق نہیں ہے۔اس کے علاوہ عصمت آدم جی کی درخواست پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر سے ملاقات کرائی گئی۔ اپنے وکیل کی موجودگی میں پہلے عصمت آدم جی نے درندے ظاہر جعفر سے کچھ دیر بات چیت کی اس کے بعد جب درندے کو کمرہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔ تو عصمت آدم جی نے کچھ دیر اپنے شوہر ذاکر جعفر سے بھی ملاقات کی۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پولیس کی جانب سے جو پورا چالان پیش کیا گیا اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی۔ ایک طرف تو پولیس نے اپنے آپ کو نیوٹرل ثابت کرنے کے لئے تمام کے تمام لوگوں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا تھراپی ورکس کی جانب سے درخواست کے باوجود ان کو گواہان میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک تو سب بہت اچھا ہے۔ لیکن سوچیں کہ یہ پولیس درندے سے اس کے فون کا پاسورڈ نہیں لے سکی۔ کیا یہ پولیس کی نااہلی نہیں ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی نااہلی ایف آئی اے کی ہے جس نے صاف انکار کر دیا کہ ہم فون کا ڈیٹا نہیں نکال سکتے۔ یعنی اب جو مکمل چالان ہے اس میں درندے کے فون اور لیب ٹاپ کا ڈیٹا شامل ہی نہیں ہے سوچیں کہ اس ڈیٹا کے بغیر کیا گیا ٹرائل کیسے مکمل اور انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ویسے تو جج صاحب نے بھی پولیس والوں کو کہا تھا کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ کر فون کھلوا لیں لیکن نہیں پولیس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اسلام آباد پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو اس درندے کو پنجاب پولیس کے حوالے ہی کر دیں جب ان کے ہاتھ درندے کو لگیں گے تو اس کو خود ہی پاسورڈ یاد آجائے گا۔ لیکن خیر اب اس عدالتی کاروائی پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب تو دیکھنا ہے کہ کب ٹرائل پورا ہو گا اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔

  • بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کوچھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے

    بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کوچھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے

    ڈھاکہ :بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کو چھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ واپس چلے گئےہیں‌ تو دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بنگلاد دیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بیٹنگ کوچ ساتھ نہیں ہے جس کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ بنگلا دیش کے دورے میں پاکستان ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل نہیں ہیں کیونکہ میتھیو ہیڈن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم کو دستیاب نہیں رہے۔جبکہ پاکستان اور بنگلادیش کی ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کل سے چٹاگانگ میں شروع ہو رہا ہے۔

    ادھر ڈھاکہ سے ملنےوالی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ سیریز میں بیٹنگ کوچ نہیں ہے اور بیٹنگ کوچ کی کمی بھی محسوس کر رہے ہیں لیکن یہ میرا نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں اچھا پرفارم کرتی آ رہی ہے، بیٹنگ لائن میں سینئیر کھلاڑی شامل ہیں جو اسپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں، ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہونے والے کھلاڑی پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہوئے آئے ہیں جس کا فائدہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیسٹ سیریز بھی اہم ہے، ہم تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، مجھے ٹیم پر اعتماد ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں اچھا پرفارم کرے گی۔

    کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم اچھی ہے، اس مرتبہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے، ہوم گراونڈز پر زیادہ میچز ہیں لہذا اس مرتبہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اچھا کھیلیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش کی ٹیم سینئر کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں بھی اچھی ہے، انہیں آسان نہیں لیا جا سکتا، بنگلا دیش میں کنڈیشنز مشکل ہوتی ہیں، یہاں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، فوکس ہوکر تحمل کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے، ہماری بھی یہی کوشش ہو گی کہ وکٹ پر ٹھہر کر کھیلیں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز سے قبل وقت کم ملا ہے لیکن ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں جلد سوئچ ہونا ہے، ہم کئی ماہ سے وائٹ بال کرکٹ کھیل رہے ہیں، اب ہمیں ریڈ بال کرکٹ کے لیے جلد از جلد خود کو ڈھالنا ہے، ہمارے پاس ٹاپ اسپنر ہیں ہمیں ان سے فائدہ ہو گا۔

    ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنے رنز نہ کرنے کے بارے میں بابر اعظم نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر سیریز میں میں نے ہی رنز کرنے ہیں، دوسرے بھی ساتھ آئے ہیں اچھی بات یہ ہے دوسرے بیٹسمینوں نے ذمہ داری لی اور رنز کیے۔

     

  • "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

    "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

    فیسبک ٹائم لائن پر کئی احباب کی تحاریر دیکھی ہیں جن میں جمعہ کے خطبہ، واعظین کے انداز بیان، سلیقہ گفتگو وغیرہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے. یہ بات واقعی ہی حقیقت رکھتی ہے کہ واعظین کے سلیقہ گفتگو اور موضوعات کے انتخاب پر لازمی طور پر بحث ہونی چاہیے اور ان کو دونوں چیزوں کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.
    بشمول میرے اکثر احباب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جمعہ کی نماز وہاں پڑھی جائے جہاں پر خطبہ دینے والا دھیمے مزاج میں گفتگو کر رہا ہو اور اس کی گفتگو کا موضوع ہمارے مسائل معاملات لیے ہو تاکہ ہم دلچسپی سے سن سکیں. وگرنہ تو جمعہ کے خطبہ کے دوران نیند معمول بنتی جا رہی ہے.
    ہم ڈی ایچ اے فیز تھری کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرتے رہے ہیں وہاں پر خطبہ دینے والے مولانا صاحب نے مجال ہے جو کبھی اپنے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہو، یا موضوع کو ہی بہت زیادہ پھیلادیا ہوکہ بعد میں سمیٹنا مشکل ہوجائے اور عام موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کبھی مائک پھاڑا ہوا یا شدت جذبات سے ڈائس پر مکے مارے ہوں. ایسی بہت ساری مساجد اور وائطین دیکھے ہیں لیکن تاحال ہزاروں ایسے ہیں جو پورے ہفتہ کے غصے اور جذبات کے اظہار کے لیے جمعہ کے خطبہ کو بہترین خیال کرتے ہیں.
    مثال کے طور آپ نے بیان کرنا ہے کہ مسواک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ نے اس کی تاکید بیان کی ہے تو یہ بلکہ دھیمے انداز میں خوبصورت الفاظ کے ساتھ نرمی سے بیان ہوسکتا ہے اب مسواک کو اس طرح شدت سے "مسسسسسوااااااااااااااک” کہنے سے لوگ جمعہ چھوڑ کر مسواکیں خریدنے تھوڑا چلے جائیں گے.
    آپ جنت کے موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں تو جنت جتنی پیاری ہوگی ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن بعض وائظین ایسے گلہ پھاڑ انداز میں "جنت” لفظ کو کھینچتے ہیں ڈر لگنے لگ جاتا کہ جنت ہی ہے نا جس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں شوق پیدا کیا کرتے تھے.
    ایک اور بڑا ایشو جمعہ کے خطبہ کے لیے موضوعات کا انتخاب اور اس کی تیاری ہے. معاشرے میں مسائل کیا چل رہے ہیں، نوجوان کن مسائل میں الجھا ہوا ہے، والدین کے ایشوز کیا ہیں. اگر عالم دین کو سامنے بیٹھے لوگوں کے معاملات و مسائل سے آگاہی اور وہ اس ترتیب میں موضوع کا انتخاب اور اسکی باقاعدہ تیاری کرے تو مجال ہے اس کی مسجد کا رش اور لوگوں کی دلچسپی کم ہو.
    لوگ موٹیویشنل اسپیکرز کو کیوں سنتے ہیں وجہ ہے کہ وہ ان کے مجموعی اور انفرادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی امید دیتے ہیں. حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ محلے کی مسجد کا خطیب سب سے بڑا موٹیویشنل اسپیکر ہونا چاہیے اور ہوتے بھی ہیں. وہ لوگوں کو امید دے، شوق دے اور سوشل ہو اور سوشل ایکٹیویٹیز میں لوگوں کے ساتھ چلے.
    محمد عبداللہ

  • موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    گزشتہ چند سالوں میں موبائل فونز نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ہر انسان وہ چاہے دنیا کا امیر ترین شخص ہو یا غریب ریڑھی والا، کوئی ملٹی نیشنل فرم میں کام کرنے والی خاتون ہو یا پھر گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ، ستر سال سے زائد عمر کا بوڑھا انسان ہو یا کوئی بچہ ہو آپ کو ہر ایک سمارٹ فون استعمال کرتا ضرور نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ اب یہ انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ایک عادت بن گیا ہے کہ ہر انسان نے اس کو تمام وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے آخری کام یہی ہوتا ہے کہ فون پر آئے تمام نوٹیفکیشنز کولازمی چیک کرنا ہے اسی طرح صبح اٹھ کر بھی سب سے پہلے موبائل چیک کرنا ہے کہ کہیں کوئی ضروری میسج تو نہیں آیا۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون یا سمارٹ فون کی جگہ اب کوئی نیا Gadget ہو جو یہ تمام کام کرے جو سمارٹ فون کرتا ہے۔ اب ایسے Gadget کا ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ وہ کب ایجاد ہو گا اور کب ہم تک پہنچے گا بلکہ وہ Gadget بن بھی چکا ہے اور وہ مارکیٹ میں دستیاب بھی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جیسے سمارٹ فون رکھنا اب انسانوں کی مجبوری بن چکا ہے تو کیا یہ نیا Gadgetبھی اسی طرح ہماری زندگیوں میں اپنی جگہ بنا سکے گا یا نہیں۔۔۔سمارٹ فون ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کے ساتھ ہم اپنے دن کا زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور جس کے ہمارے استعمال میں آنے کے بعد بہت سی ایسی ڈیوائسز ہیں جو کہ ہم نے اب استعمال کرنا چھوڑ دی ہیں۔ جیسے Wrist watches،Cameras،Alarm clock اور چارج لائٹ وغیرہ۔۔۔ اب دنیا بھر میں کروڑوں لوگ الارم کلاک کی بجائے موبائل الارم استعمال کرتے ہیں جو وقت دیکھنے کے لئے گھڑی کا استعمال نہیں کرتے بلکہ فون پر وقت دیکھ لیتے ہیں بلکہ کلینڈر بھی فون پر ہی کھول کر دیکھا جاتا ہے۔ کیمروں کی جگہ بھی موبائل فون کا کیمرہ ہی استعمال ہوتا ہے اب کیمرے صرف پروفیشنل لوگ خریدتے ہیں ورنہ ہر ایک کے ہاتھ میں آپ کو سمارٹ فون کا کیمرہ ہی نظر آئے گا۔ اب کوئی بھی ٹارچ لائٹ الگ سے اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ موبائل میں موجود ٹارچ سے کام چلایا جاتا ہے۔ سٹاپ واچ اور آڈیو ریکارڈر بھی موبائل میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کے بچوں نے ہو سکتا ہے کہ کاغذوں پربنے ہوئے نقشے کبھی دیکھے ہی نہ ہوں لیکن ان کو سمارٹ فون میں موجود گوگل میپ کا ضرور پتہ ہے کہ وہ کیسے استعمال کرنا ہے۔ خواتین نے الگ سے اپنے ہینڈ بیگز میں شیشہ رکھنا چھوڑ دیا ہے شیشے کا کام بھی سمارٹ فون کی ڈسپلے سکرین یا پھر فرنٹ کیمرے سے لیا جاتا ہے۔ I-pod اور ریڈیو کا کام بھی سمارٹ فونز نے ہی سنبھال لیا ہے۔ یہاں تک بہت سے ایسے کام جو ہم پہلے صرف کمپیوٹرز پر کرتے تھے ان کے لئے بھی اب ہم سمارٹ فون ہی استعمال کرتے ہیں جیسے ای میلز کے لئے، آن لائن شاپنگ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسمارٹ فونز نے ہمارا تصور ہی بدل دیا ہے کہ فون ہوتا کیا ہے اور اب وہ صرف کال کرنے والی سادہ ڈیوائس نہیں، درحقیقت ایک اسمارٹ فون مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا منی کمپیوٹر ہے جسے ہم اپنی زندگیوں میں بہت سارے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن اب فیس بک نے ایک ایسی ایجاد کی ہے جو کہ بہت ہی حیران کن ہے۔ جس طرح پہلے بہت سارے Gadgetsکے فنکشنز سمٹ کر ایک سمارٹ فون میں آگئے تھے ویسے ہی اب فیس بک نے گلاسز بنانے والی بہت ہی مشہور کمپنی Ray Banکے ساتھ مل کر ایسے گلاسز تیار کئے ہیں جس میں وہ سب فنکشنز ایڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ہم اپنے سمارٹ فونز سے کرتے ہیں۔

    فیس بک کے ان اسمارٹ گلاسز کا نام Ray ban storiesہے۔ یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں عام چشمے جیسے ہی نظر آتے ہیں مگر ان سے اسمارٹ فونز جیسے کافی کام کیے جاسکتے ہیں۔
    ان اسمارٹ گلاسز میں پانچ پانچ میگا پکسل کے دو کیمرے موجود ہیں جن سے ہاتھ کا اشارہ کرکے تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں اور ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔ ساتھ ہی دونوں کیمروں کی مدد سے یوزر 3D effectsکو تصویروں اور ویڈیوز ایپ میں اپ لوڈ کرکے ایڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ان تصویروں اور ویڈیوز کو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لائیو اسٹریم اور فیس بک پاور اے آئی سے اور بھی بہت سے کام کئے جا سکتے ہیں۔ اسمارٹ گلاسز میں کیمرے کے ساتھ ساتھ سپیکر اور مائیکروفون بھی ہے جس سے ہم گلاسز کے ذریعے فون کال بھی سن سکیں گے اور اس پر اپنی پسند کا میوزک بھی سنا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی ان گلاسز کے یہ تمام فنکشنز استعمال کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کو کسی آئی او ایس یا اینڈرائیڈ ڈیوائس سے کنکٹ کیا جائے اور فیس بک کی نئی View appکی مدد سے رے بین گلاسز سے کھینچی جانے والی تصاویر یا ویڈیوز یا میڈیا فائلز کو فونز میں ٹرانسفربھی کیا جاسکتا ہے۔اور استعمال میں یہ سمارٹ گلاسز اتنی ہلکی ہیں کہ ان کا وزن پچاس گرام سے بھی کم ہے اور یہ Leather Hard shell charging caseکے ساتھ ملتے ہیں اور کمپنی کا دعوی ہے کہ سمارٹ گلاسز کی بیٹری پورا دن کام کرتی ہے۔

    گلاسز میں 2 بٹن بھی ہے جن میں سے ایک میڈیا ریکارڈ کرنے کا کام کرتا ہے اور دوسرا آن آف سوئچ ہے۔گلاسز کی رائٹ سائیڈ میں ایک ٹچ پیڈ ہے جس سے مختلف کام جیسے Volume adjustmentیا فون کال ریسیو کی جا سکتی ہے۔گلاسز میں کمیرے کے ساتھ وائٹ ایل ای ڈی لائٹ ہوتی ہے جو ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے آن ہو جاتی ہے جس سے آس پاس موجود لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ویڈیو ریکارڈ کی جارہی ہے۔یہ اسمارٹ گلاسز ابھی واٹر پروف نہیں ہیں توان کو استعمال کے دوران پانی سے بچانا ہوگا۔یہ اسمارٹ گلاسز رے بین کے 3 کلاسیک اسٹائلز میں دستیاب ہیں اور مختلف رنگوں اور lens کے ساتھ خریدے جاسکتے ہیں۔ اور ان گلاسز کو نظر کے چشمے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔2020میں فیس بک کی آمدنی86 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی جس کے بعد کمپنی اپنا زیادہ ترسرمایہVirtual and augmented realityپر لگا رہی ہے۔Virtual realityدراصل ایک ایسا تجربہ ہے جو انسانوں کو ڈیجیٹل چیزوں کو حقیقت سے قریب تر دکھانے کے ساتھ انہیں محسوس بھی کرواتا ہے۔اس کے علاوہ اسمارٹ گلاسز میں Virtual assistantکی خصوصیت بھی ہے جس کے ذریعے ہاتھ کا اشارہ کیے بغیراستعمال کرنے والا صرف اپنی آواز کی مدد سے ہی تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے۔لیکن ان سمارٹ فونز کی طرح ان گلاسز کو ہم ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے اس کے حوالے سے فیس بک نے ایک مکمل گائیڈ لائن بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ان گلاسز کو نجی مقامات مثلا باتھ روم وغیرہ میں استعمال کرنا منع ہے اس کے علاوہ اسے غیر قانونی عمل جیسے ہراساں کرنا یا حساس معلومات یعنی پن کوڈز وغیرہ کے حصول کے لیے استعمال کرنا بھی منع ہے۔بہت سے فنکشنز تو ابھی بھی ان گلاسز میں ایڈ ہیں لیکن آنے والے دنوں میں یہ سپر گلاسز یاداشت کو بڑھانے، غیر ملکی زبانوں کا فوری ترجمہ، ارگرد ہونے والی بات چیت یا آوازوں کو کانوں میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نظر میں انسان کے جسمانی درجہ حرارت کے بارے میں بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔Facial recognationکی ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر سامنے والے شخص کو نہ صرف پہچان سکیں گے بلکہ اس کی دیگر معلومات تک رسائی بھی حاصل کر سکیں گے۔جس کی وجہ سے ان سمارٹ گلاسز پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انھیں تنگ کر سکیں۔ لیکن فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور ان کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے لئے جو ضروری اقدام ہوں گے وہ لازمی کئے جائیں گے۔ان سمارٹ گلاسز کو بنانے والے سائنسدانوں کے مطابق اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی یہ گلاسز بہت جلد اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔ خاص طور پر دس سے پندرہ سال کے اندر لوگ اب فونز کی جگہ یہ اسٹائلش چشمے ہی پہننا پسند کریں گے۔جس کے بعد ہم کہہ سکیں گے کہ جیسے سمارٹ فون نے دوسرے Gadgetsکو نگل لیا تھا اور ان کی ضرورت ختم کر دی تھی اسی طرح اب آنے والے سالوں میں انسانوں کی صرف سمارٹ فونز پر Dependenceختم ہو جائے گی۔ اور ابھی تو صرف گلاسز ایجاد ہوئے ہیں جبکہ چانسز تو یہ بھی ہیں کہ آنے والے سالوں میں اور بھی Smart gadget ایجاد ہو جائیں جو کہ سمارٹ فون پر ہمارا انحصار بالکل ختم ہی کر دیں۔

  • سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر:خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور،اطلاعات کے مطابق بدنا م زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے” نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “(این آئی اے) کی طرف سے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھارت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ انہیں فوری رہا کرے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح بھارت میں انسانی حقوق کے کاموں کو مجرمانہ بنانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سری نگر میں ایک بیان میں خرم پرویرکی گرفتاری کو مودی حکومت کی علاقے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام کی طرف سے انسانی حقوق کے محافظوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیاں بی جے پی کی فسطائی حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا واضح مظہر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے بارے میں بھارتی قابض حکام کا ردعمل ہمیشہ سے آمرانہ رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گرفتاریوں، دھمکیوں اور توہین آمیز مہم کا مقصد آزادی کی حامی قیادت اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو خوف و دہشت کا شکار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خرم پرویز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کے سفاکانہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    جموں و کشمیر ایمپلائز موومنٹ کے جنرل سیکرٹری جنید الاسلام نے خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کیے جانے کا موثر نوٹس لیں۔ این آئی انے خرم پرویز کو پیر کو سرینگر میں گرفتار کیا تھا ۔ انہیں منگل کے روز نئی دہلی منتقل کیا گیا ۔

  • اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "اے پی” کے مطابق اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا ہے۔

    اطالوی مسابقتی اتھارٹی نے منگل کو کہا کہ ایک تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایمیزون اور ایپل کے درمیان 2018 میں ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت دونوں کمپنیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مصنوعات کی فروخت میں مقابلہ نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔

    جس کی وجہ سے اٹلی میں ایمیزون کی ویب سائٹ پر صرف مخصوص ری سیلرز کو اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق، اس عمل سے مارکیٹ میں غیرمسابقتی روحجان کو فروغ ملا ہے۔

    واچ ڈاگ نے کہا کہ کمپنیوں کے درمیان معاہدے تحت صرف منتخب بیچنے والوں کو ہی ایمازون کی ویب سائٹ پر ایپل اور بیٹس کی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور قیمتوں پر مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔

    واچ ڈاگ نے ایپل پر 134.5 ملین یورو ($151.32 ملین) جرمانہ اور ایمیزون پر 68.7 ملین یورو ($77.29 ملین) جرمانہ عائد کیا اس نے انہیں پابندیاں ختم کرنے اور ری سیلرز کو "غیر امتیازی انداز” میں رسائی دینے کا بھی حکم دیا۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    دوسری جانب ایپل اور ایمیزون دونوں نے کہا کہ وہ اپیل کریں گے۔

    ایمیزون نے کہا کہ "مجوزہ جرمانہ غیر متناسب اور بلاجواز ہے۔” "ہم ICA کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں کہ ہمارے اسٹور سے فروخت کنندگان کو چھوڑ کر ایمیزون کو فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ ہمارا کاروباری ماڈل ان کی کامیابی پر انحصار کرتا ہے۔

    ایپل کمپنی نے کہا کہ وہ اطالوی مسابقتی اتھارٹی کا احترام کرتی ہے "لیکن یقین ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔”

    ایپل نے کہا کہ منتخب ری سیلرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے صارفین کی حفاظت میں مدد ملتی ہے کیونکہ یہ یقینی بناتا ہے کہ مصنوعات حقیقی ہیں۔

    ایپل نے کہا، "غیر حقیقی مصنوعات کمتر تجربہ فراہم کرتی ہیں اور اکثر خطرناک ہو سکتی ہیں۔” "ہمارے صارفین حقیقی مصنوعات کی خریداری کو یقینی بنانے کے لیے، ہم اپنے ری سیلر پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ہمارے پاس دنیا بھر کے ماہرین کی ٹیمیں ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں، کسٹمز اور تاجروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہیں کہ ایپل کی صرف حقیقی مصنوعات ہی فروخت کی جائیں۔”