Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    امریکی کمپنی ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا خطاب چھین لیا-

    باغی ٹی وی : شیاؤمی کو عالی سطح پر چیپس کی قلت کا سامنا اور دوسری کمپنیوں سے سخت مقابلے سے اس کی رینکنگ پر اثر پڑا چینی کمپنی نے اپریل سے جون کے دوران ہی امریکی کمپنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون کی کمپنی ہونے کا تاج چھینا تھا۔

    کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ اور کینالیز کے مطابق اسمارٹ فون بزنس کو سپلائی چین کے ساتھ سیمی کنڈکٹرز کی قلت کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جو اگلی آدھی شماہی تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

    شیاؤمی کی جانب سے 23 نومبر کو جاری سہ ماہی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ اس کا اسمارٹ فون بزنس سیمی کنڈکٹرز کی قلت کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوا ہے ایسی توقع کی جارہی ہے کہ چپس کا بحران 2022 کی اولین ششماہی کے دوران بھی برقرار رہ سکتا ہے۔

    شیاؤمی کے صدر وانگ شیانگ نے سہ ماہی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر بتایا کہ رواں سال خصوصی بیک گراؤنڈ کا حامل ہے اور عالمی سطح پر پرزہ جات کی کمی بھی ہے جو کہ ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے۔

    چینی کمپنی شیاؤمی نے 2021 کی تیسری سہ ماہی میں 4 کروڑ 39 لاکھ اسمارٹ فونز دنیا بھر میں فروخت کیے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد کم ہیں یاد رہے شیاومی 2024 میں الیکٹرک گاڑیوں کی پروڈکشن بھی شروع کرنے والی ہے۔

    جون کے بعد سے شیاؤمی کو سپلائی چین کے مسائل کا سامنا ہوا اور کاؤنٹر پوائنٹ کے ریسرچ ڈائریکٹر ترون پاٹھک نے بتایا کہ اگرچہ اس قلت نے تمام کمپنیوں کو متاثر کیا مگر شیاؤمی کے لیے یہ زیادہ بڑا درد سر ہے جس کی وجہ اس کے متعدد ماڈلز ہیں۔

    تیسری سہ ماہی کے دوران کمپنی نے 50 سے زیادہ مختلف اسمارٹ فون ماڈلز مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیے، جس کی وجہ سے اسے بہت زیادہ تعداد میں پرزہ جات کی ضرورت پوتی ہے۔

    دوسری طرف ایپل کو اپنے مخصوص ماڈلز کی وجہ سے زیادہ مسئلے کا سامنا نہیں ہوا اور وہ تیسری سہ ماہی میں دوبارہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ایپل کو آئی فون 13 سے بھی فائدہ ہوا اور اس نے تیسری سہ ماہی کے دوران اس کا عالمی مارکیٹ شیئر 15 فیصد رہا جو شیاؤمی سے ایک فیصد زیادہ ہے۔

    تاہم شیاؤمی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے بعد وہ دوبارہ ایپل کو پیچھے چھوڑ کر اپنی پوزیشن واپس لے گا جبکہ ان کا مقصد اور حدف سام سنگ کو پیچھے چھوڑنا ہے، جس کے بعد وہ دنیا کی پہلی اسمارٹ فون کمپنی بن جائے گی۔

  • تبدیلی لانا آسان ہے کیا؟؟؟ تحریر فضل عباس

    تبدیلی لفظ سنتے ہی تمام پاکستانیوں کے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے وہ ہے عمران خان
    عمران خان نے سیاست میں لفظ "تبدیلی” اور "نیا پاکستان” متعارف کروایا ایک طویل جدو جہد کے بعد ان کو حکومت ملی اور لوگوں کی نظریں ان پر جم گئیں لوگ توقع کر رہے تھے کہ عمران خان چند ہی دنوں میں تبدیلی لاۓ گا عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے دوسرے دن نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج ہم بات کریں گے

    پاکستان پچھلے چالیس سال سے انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار ہے پاکستان ہمیشہ لیڈرز سے محروم رہا ہے جب پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگا تو جنرل ضیاء الحق خود ساختہ سیاسی جماعتوں کو وجود میں لاۓ تا کہ اسے طاقت کے استعمال میں کوئی مسئلہ درپیش نہ آۓ ایک طرف وہ میاں نواز شریف کو سیاست میں لاتے ہیں دوسری طرف الطاف حسین کو کراچی کا سکندر بناتے ہیں انہیں اس میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وہ کچھ بھی کرنا چاہتے تھے اور وہ سب کر گزرے قوم کو نواز شریف اور الطاف حسین جیسے تحفے نوازے جو بعد میں پاکستان کی تباہی کا باعث بنے

    اس سب کے بعد پاکستان میں دو جماعتی رسم شروع ہوتی ہے ایک دفعہ ایک جماعت حکمران ہوتی ہے تو اگلی دفعہ دوسری جماعت ایک جماعت دوسری کو کرپٹ قرار دیتی ہے تو دوسری پہلی کو پیپلز پارٹی کی نظر میں سب سے کرپٹ اور نااہل جماعت مسلم لیگ ن ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن کی نظر میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی
    ان دونوں جماعتوں نے اسی طرح اپنا کام جاری رکھا اور پاکستان کمزور ہوتا گیا ان کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کراچی میں اپنی طاقت کے بل بوتے عذاب بنتی گئی پاکستان مالی اور انتظامی سطح پر بکھرنے لگا
    1999 ء میں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء لگاتے ہیں آگے چل کر وہ صدر پاکستان بنے اور ایک نسبتاً اچھا بلدیاتی نظام لاۓ مگر وہ نظام ان کی حکومت جاتے ٹوٹ گیا اور پھر سے وہی دو جماعتی کھیل شروع ہو گیا اور پاکستان اب کی بار قرضوں کے سونامی میں ڈوبتا گیا اس بار ان دو جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان آۓ اور بالآخر 2018 ء میں ان دو جماعتوں کو شکست دے کر وزیر اعظم پاکستان بنے

    عوام عمران خان کی تقاریر سن کر ان کی دیوانی ہو چکی تھی انہیں لگ رہا تھا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ساتھ نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن ایسا نہیں ہوتا چالیس سال کا بگاڑ ایک ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکتا وہ ٹھیک ہے کہ عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں لیکن جتنی امیدیں ہوں اتنا وقت بھی دیا جاتا ہے خواب سپر پاور بننے کے ہوں اور وقت لمحوں کا بھی نہ ہو ایسا نہیں ہوتا اس پر تھوڑی واضح گفتگو کرتے ہیں

    تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلے نظام بدلنا پڑتا ہے اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے لڑنا پڑتا ہے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جو طاقتیں سالوں سے اس ملک پر قابض ہیں انہیں لگام ڈالنا کو بچوں کا کھیل نہیں عمران خان کے پاس تو دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے عمران خان کو قانون سازی میں بہت زیادہ مشکلات ہیں بیوروکریسی اپوزیشن راہنماؤں کی ایماء پر حکومت کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی بلیک میلنگ الگ سے ہے اس سب سے لڑنے میں وقت لگے گا عمران خان کو لوہے کے چنے چبانا ہوں گے تب ہی پاکستان بدلے گا اس سب میں بہت محنت درکار ہے عمران خان تو لگا ہوا ہے وہ کر دکھاۓ گا لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کریں کیوں کہ یہی صبر ہمیں کل اس قابل بناۓ گا کہ ہم فخریہ کہہ سکیں ہم اس راہنماء کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے تھے جس نے نیا پاکستان بنایا تھا اللّہ تعالیٰ عمران خان کو اس کے اس عظیم مقصد میں کامیاب کرے آمین ♥️

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی جنگ کی خواہش مگرکس میدان میں:عرب رہنما نے بتادیا

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی جنگ کی خواہش مگرکس میدان میں:عرب رہنما نے بتادیا

    لاہور:پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی جنگ کی خواہش مگرکس میدان میں:عرب رہنما نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی دبئی کرکٹ کونسل نے پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ سیریز کرانے کی پیشکش کردی ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کرکٹ کونسل کے چیئرمین عبدالرحمان نے پاک بھارت سیریز کی میزبانی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں شارجہ میں پاک بھارت میچز ایک جنگ کی طرح ہوتے تھے، وہ ایک کھیل کی جنگ ہوتی تھی جو کرکٹ کے لیے بہت اچھی تھی۔

    عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) سے ان کے تعلقات اچھے ہیں، بھارت اگر ہاں کرتا ہے تو دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان سیریز فائدہ مند ثابت ہوگی۔

    چیئرمین دبئی کرکٹ کونسل نے مزید کہا کہ ہم بھارت کو پاکستان کے خلاف کھیلنے کے لیے راضی کر لیں تو یہ بہترین ہوگا، سال میں ایک یا دو بار دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کروائی جاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین آئی سی سی نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل موجود ہیں، لیکن کرکٹ ملکوں کے تعلقات کو بہتر کر سکتی ‏ہے، ہم پاکستان میں چیمپیئز ٹرافی 2025 کے انعقاد کے بارے میں پُرامید ہیں، پاکستان میں بین الاقومی کرکٹ ہو رہی ‏ہے جس کے پیش نظر پاکستان کو یہ ایونٹ دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کو 29 سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ایونٹ کی میزبانی ملی ہے جس کے بعد پاکستان 2025 میں چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان نے آخری مرتبہ 1996 میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کی تھی اور اس وقت 50 اوورز کے ورلڈ کپ کے کچھ میچز پاکستان میں ہوئے تھے۔ 2008 کی چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہونا تھی مگر حالات کی وجہ سے جنوبی افریقا منتقل ہوگئی تھی۔

  • ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہو گا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس وقت یہی کام مودی سرکار کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ مودی جب سے وزیر اعظم بنا ہے اس نے اس تمام عرصے میں خود کو دنیا کے سامنے بہت ہی قابل اور اعلی لیڈر بنا کر پیش کرنے کے چکر میں اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب وہ خود مودی سرکار کے گلے پڑ رہے ہیں۔ آج مودی سرکار کا جو جھوٹ پکڑا گیا ہے اس کی وجہ سے پورے انڈیا کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے ایک ایسے انسان کو اعلی ایوارڈ دیا گیا جس کا مشن فیل ہو گیا تھا اور وہ پاکستان کے رحم و کرم پر تھا اگر پاکستان اس کو رہا کرکے واپس بھارت کے حوالے نہ کرتا تو وہ اب تک پاکستان کی جیل میں سڑ رہا ہوتا۔ لیکن انڈیا نے اپنے زیرو اور کھوٹے سکے کو ایسے ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ بھول گئے کہ ان کا یہ نکما اور نالائق پائلٹ پاکستان میں کیا کارنامہ کرکے آیا تھا اس کا یونیفارم بھی آج تک پاکستانی فوج کے میوزیم میں سجا ہوا ہے۔

    انڈیا کے تین بڑے ایوارڈز ہیں پرم ویر چکرا، مہا ویر چکرا اور ویر چکرا جو جنگوں میں بہادری دکھانے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ اور آج مودی سرکار نے ائیر فورس پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو اپنے تیسرے بڑے ایوارڈ ویر چکرا سے نوازا ہے۔یہاں میں آپ کو یاد کروا دوں کہ یہ وہی بہادر پائلٹ ہیں جنہوں نے پہلے پاکستانی عوام سے مار کھائی پھر پاک فوج نے اس کی جان بچائی اور اس کو گرفتار کیا لیکن جذبہ خیر سگالی کے طور پر اسے Fantastic tea پلا کر واپس انڈیا کے حوالے کر دیا تھا۔جبکہ مودی سرکار نے ابھی نندن کو ایوارڈ یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی ایف 16 مارگرایا تھا۔ہوا یہ تھا کہ دو سال پہلے چھبیس فروری کو انڈین جہازوائلیشن کرتے ہوئے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں بم گرا کر حملہ کیا۔ جس پر انڈین فوج، حکومت اور میڈیا تینوں نے مل کر یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ وہاں کوئی جہادی کیمپس تھے جس پر حملہ کر کے اڑا دیا گیا۔ حالانکہ جس جگہ یہ کاروائی ہوئی تھی وہاں نہ تو کوئی کیمپ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی ہلاکت ہوئی تھی۔ ہاں ہمارے کچھ درخت ضرور اس حملے میں جل گئے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔اس کے بعد اگلے ہی روز ایک بار پھر انڈین طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کی جس کے دوران انڈین مگ21اڑانے والے ابھینندن کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہا تھا۔ لیکن انڈین میڈیا شور مچاتا رہا کہ بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مگ21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔ کیونکہ مگ 21 پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔

    حالانکہ پاکستان کئی مرتبہ اس انڈین دعوے کی تردید کر چکا ہے لیکن پھر بھی جب انڈیا اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ سے باز یہ آیا توغیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی کہ امریکی حکام خود آ کر ایف16 طیاروں کی گنتی کریں۔ جس کے بعد امریکی میگزین فارن پالیسی نے اس پر اپنی ایک مکمل رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا کہ اس واقع کی سچائی کو پرکھنے کے لئے امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی تھی اور وہ تعداد میں پورے تھے اس لئے جب تمام جہاز پورے تھے تو آپ سوچ لیں کہ بھارت نے کونسا جہاز گرایا تھا۔ فارن پالیسی کی اس تصدیقی رپورٹ کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے حملے اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی دعوے جھوٹے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ انڈیا اپنی طرف ہونے والے نقصان بشمول پاکستان کے ہاتھوں اپنے دوسرے طیارے کی تباہی کے بارے میں سچ بولے۔ لیکن سچ بولنا تو دور بھارت نے تو اور زیادہ ڈرامہ کرنا شروع کر دیا۔ ابھی چند ماہ پہلے ابھی نندن کو ترقی دے کرونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنایا گیا۔ جس کے بعد مودی سرکار نے سوچا کہ جب اس کو ترقی دینے پر سب خاموش رہے ہیں تو اب کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر اس کو ایوارڈ بھی دے دیا جائے۔

    مودی سرکار یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ دراصل انڈیا میں اس وقت غربت سے برا حال ہے۔ مودی کو اس کی تمام پالیسیوں پر مار پڑ رہی ہے۔ کسانوں کے سامنے جس طرح مودی کو ہار مان کر معافی مانگنا پڑی اور اپنے تینوں قوانین واپس لینا پڑے وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد اب سی اے اے اور این آر سی کو بھی واپس کروانے کے لئے ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی ہے۔ چین کے ہاتھوں جس طرح انڈین فوج کی پٹائی ہوتی رہی ہے وہ بھی ہم سب نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی صورت میں دیکھا۔ اور اب چین مسلسل انڈیا کے علاقوں میں اپنے گاوں تعمیر کر رہا ہے دو گاوں آباد ہونے کے ثبوت تو خود امریکی ادارے دنیا کے سامنے لاچکے ہیں لیکن بھارتی فوج یا حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس بات کو تسلیم ہی کر لیں کہ چین یہ سب کر رہا ہے۔ کیونکہ الیکشنز سر پر ہیں اگر وہ یہ مان لیں تو وہ اپنی عوام کو کیا جواب دیں گے۔ چین کے ساتھ موجودہ حالات کی وجہ سے ان کی فوج کا مورال پہلے ہی بہت ڈاون ہے۔ اس لئے اپنی طرف سے تو مودی سرکار نے انڈین فضائیہ کا مورال بلند کرنے اور ان کو حوصلہ دینے کے لئے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اور اس ڈرامے کی حقیقت مودی اور راج ناتھ کی شکلوں سے بھی پتا چل رہی ہے کہ کیسے جب ابھی نندن کو ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا اور وہ جھوٹی کہانی سنائی گئی تو راج ناتھ اپنے ہاتھ مل رہا تھا مودی کی شکل پر بھی بارہ بج رہے تھے کوئی خوشی نہیں تھی نہ ہی ان دونوں نے اس کے لئے کوئی پر زور تالیاں بجائیں کیونکہ یہ جانتے تھے کہ وہ اس کو ایک جھوٹا ایوارڈ دے رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کا جھوٹ اتنی بری طرح بے نقاب ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔کوئی سوشل میڈیا پر کہہ رہا ہے کہ۔۔ میں بہادر ابھینندن کو ایف سولہ گرانے اور پھر اپنی جیت کا جشن منانے کے لیے اپنے جہاز سے ایجیکٹ ہوکر پاکستان چائے پینے کے لیے اترنے پر مبارکبا دیتا ہوں۔کسی نے کہا کہ بالی ووڈ نے اکیلے پوری انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپٹ کردیا ہے۔ایک صارف نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو پاکستان میں مشن کے فیل ہونے پر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔کوئی کہہ رہا ہے کہ۔۔ انڈیا کو ہیرو کو زیرو بنانا بخوبی آتا ہے۔ایک نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو خود بھی نہیں پتا کہ انہیں ویر چکرا دیا کیوں گیا ہے۔ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ۔۔ صرف وزیراعظم نریندر مودی اور انڈین میڈیا کے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کی وجہ سے بیچارے ابھی نندن کو بار بار اس وقت کو یاد کرنا پڑتا ہے۔

    لیکن اب مودی کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے گودی میڈیا کے ساتھ مل کر انڈین عوام اور پوری دنیا کو اس طرح سے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ ورنہ اگر آپ چاہتے ہیں تو پاکستانی فوج کے پاس ابھی نندن کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ خود اپنی فضائیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف کر رہا ہے اس کے علاوہ اپنی فیملی کے ساتھ رابطے میں بھی اس نے مودی سرکار اور انڈین فوج کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے مودی اور اس کے وزیر دفاع راج ناتھ کو چاہیے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی بھی بیان بازی کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں ورنہ آپ کے پاس تو ایف سولہ گرانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جو ہم سوشل میڈیا پر ریلیز کر سکتے ہیں۔ اپنے الیکشنز کی تیاری کرنی ہے تو اپنی کارکردگی کے سر پر کریں پاکستان پر جھوٹی بیان بازی مت کریں۔

  • پی ایس ایل 2022 کا پلیئرزڈرافٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان

    پی ایس ایل 2022 کا پلیئرزڈرافٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان

    لاہور، پی ایس ایل سیزن سیون کو بڑا ایونٹ بنانے کے لیے پی سی بی اور فرنچائز مالکان نے سرجوڑ لیے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق مختلف معاملات پر پی ایس ایل فرنچائز اور پی سی بی کے رابطے جاری ہیں جبکہ مقامی کھلاڑی کی فہرست کو رواں ہفتے میں حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے اور پلیئرز پک آرڈر اور پلیئرز ریٹینشن بھی رواں ہفتے فائنل ہوں گی-

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ایس ایل سیزن سیون کا پلیئرزڈرافٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان ہے پی ایس ایل کا آغاز آئندہ سال جنوری کے آخری ہفتے سے کیے جانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے-

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی آمد لیگ کے آغاز سے ایک ہفتے پہلے شروع ہوگیا اسپانسرشپ اور براڈکاسٹ کے ٹینڈرز بھی جلد فائنل کرلیے جائیں گے-

    واضح رہے کہ پی ایس ایل سیزن 2022 کے لیے تیاریوں کا آغاز رواں ماہ کے شروع سے ہی کردیا گیا ہے اس بار پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب 26 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مجوزہ ہے، دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم سے متصل ایل سی سی اے گراونڈ کے ایک کونے پر صفائی کرواکر فینز کی دلچسپی کے لیے بہت بڑا بیٹ اور وکٹیں نصب کی گئی ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے کلب کے بالکل سامنے 20 فٹ لمبا اور 3 فٹ چوڑا فائبر کا بیٹ تیار کیا گیا ہے، اس کے ساتھ 12 فٹ اونچی اور 6 فٹ چوڑی بیلز کے ساتھ وکٹیں بھی لگائی گئی ہے، ان کی تزئین و آرائش کا کام بھی ہورہا ہے۔

  • کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کرکٹ بورڈ ایکشن میں آگیا

    کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کرکٹ بورڈ ایکشن میں آگیا

    ٹی 20 ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی اور پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ متحرک ہوگیا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اسٹرکچر بدلنے پر غور شروع کردیا جس کے تحت بنگلادیش پریمیئرلیگ کی پلیئنگ الیون میں غیرملکی کھلاڑی کم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ بی پی ایل میں 4 غیرملکی پلیئنگ الیون کا حصہ ہوسکتے ہیں لیکن انہیں بھی کم کیے جانے کا امکان ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی کم کرنے کا مقصد مقامی کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بنگلادیش میں اسپنرز کے لیے سازگار پچز ختم کرکے معیاری پچ بنانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

    ادھر بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کے بعد پاکستان کو ٹرافی نہ دینے کے معاملے پر بیان جاری کردیا۔

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح حاصل کرنے کےبعد پاکستانی کھلاڑی ٹرافی نہ ملنے پر حیران تھے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں تاہم اب بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس پر باضابطہ ٹیم مینجمنٹ کو آگاہ کیا گیا ہے۔

    ترجمان بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے کہا ہےکہ ٹی 20 کی ٹرافی ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر دیں گے کیونکہ ٹی 20 سیریز کی فاتح ٹرافی بنگلا دیشی بورڈ کےسربراہ نےدینی ہےجو ابھی دستیاب نہیں۔

    ترجمان بی سی بی رابد امام کا کہنا تھا کہ بنگلادیش بورڈ اور اسپانسر ادارے کے افراد بائیو سکیور ببل کا حصہ نہیں لہٰذا کورونا پابندیوں کےسبب ٹی20 ٹرافی پاکستانی ٹیم کو نہیں دی، اس لیے دونوں ٹرافی ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر ہی دی جائیں گی۔

    واضح رہےکہ پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز میں بنگلادیش کو کلین سوئپ کیا اور آخری میچ میں انتہائی دلچسپ مقابلے کے کامیابی حاصل کی۔

  • سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    وطن عزیز میں موضوعات کی کوئی کمی نہیں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ اب تو یہ ہماری تفریح بن چکی ہے جو ملتا ہے پوچھتا ہے۔ ”سناؤ کیہہ خبراں نیں“

    ۔ پر خبریں اچھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اس وقت چاروں جانب سے مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔ سیاست سے معیشت ، معیشت سے خارجہ محاذ اور حارجہ محاذ سے انصاف کی فراہمی تک پریشانیاں ہی پریشانیاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ عاصمہ جہانگیر پر ہونے والے کانفرنس اور وہاں ہونے والی باتوں سے حکومت اتنا ڈر گئی ہے کہ اب اس کو فنڈنگ کہاں سے آئی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کو استعمال کرنے اور اسٹیٹ بینک کو کہاگیا ہے کہ پیسوں کے sourceکا پتہ لگا لیں ۔ اچھی بات ہے ہونا چاہیئے ۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ عاصمہ جہانگیر پر اس ایونٹ کے کروانے والے منتظمین کو آگے آکر سب کچھ خود ہی حقائق سامنے رکھ دینے چاہیں ۔ اور حکومت کو بھی چاہیے کہ پی ٹی آئی پر جو فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے ۔ وہ فنڈنگ کہاں سے اور کس مد میں ملی یہ الیکشن کمیشن سمیت ملک وقوم کوبتا دینا چاہیئے ۔ ۔ یہ جو مانگے تانگے کے وزیر روز کوئی نہ کوئی شدنی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس نے پی ٹی آئی سمیت پورے ملک کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے ۔ یہ ہر کسی کو غدار ہونے تمغے بنٹتے پھرتے ہیں حالانکہ یہ خود سب سے بڑے لوٹے ہیں ۔ انھوں نے اتنی پارٹیاں بدل لی ہیں شاید اتنے غریبوں نے کپڑے نہیں بدلے ہوں گے ۔

    ۔ کون ہے جس کو یہ معلوم نہیں کہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف پاکستان پر پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔کسی سے یہ چیز ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے خلاف داخلی و خارجی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں۔۔ چند روز قبل امریکہ نے مذہب و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی نئی فہرست جاری کی ہے۔اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل کیا گیا جبکہ کئی گنا انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب بھارت کو اس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔۔ پر یہ تو ہو گا ہی کیونکہ آپ کو یاد ہو تو کئی روز پہلے جب وفاقی وزیر اطلاعات خود میڈیا پر آکر کہہ رہا ہو کہ ریاست اور حکومت شدت پسندی کے خلاف اتنی تیار نہیں ہے جتنا انہیں ہونا چاہیے۔ تو پاکستان دشمنوں کو تو ہلا شیری ملے گی ۔ اب پتہ نہیں ان کا یہ کلپ کہاں سے کہاں پہنچا ہوگا ۔بھگتیں گے پاکستانی عوام ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں قومیں لوٹوں سے نہیں بنا کرتیں، منافق اور بددیانت لوگ قوموں کی تشکیل نہیں کر سکتے۔

    ۔ پھر ایک اور بہت ہی دلچسپ کھیل جاری ہے۔ جس نے عوام کو ٹی وی سکرینوں کے ساتھ چپکایا ہوا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے مقدمے سے لے کر آج تک بہت سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان دنوں اس سوال نے شدت اختیار کر لی ہے کیونکہ متواتر تین ایسے واقعات ہوئے ہیں پہلا سابق جج جسٹس شمیم رانا کا بیان حلفی ۔ پھر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کھل کر ملک کے نامور لوگوں کی جانب سے اس بات کا اظہار کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہوتا ۔ پھر کل رات سے جو ثاقب نثار کی لیک آڈیو کلپ وائرل ہوا ہے ۔ اس نے پورے ملک میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے ۔ ۔ اس سے ہٹ کر کہ یہ آڈیو صحیح ہے یا غلط ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ یہاں سیاہ کو سفید کہا جا سکتا ہے۔ اکثریت کو بلڈوز کر کے اپنی مرضی کے نتائج نہیں لائے جاسکتے ہیں۔ کون ہے جو اس سے انکار کر سکے کہ اس ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ نظام موجود ہے۔ آج کی عدلیہ کیا کرتی ہے ۔ اس کا فیصلہ تو تاریخ کا مورخ کرے گا مگر ماضی میں عدلیہ کا جو کردار رہا ہے وہ تابناک نہیں ہے اور اس کا اظہار خود اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اسی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہو ں نے ایک نہیں کئی کیسوں کا حوالے دیا کہ کس طرح عدلیہ نے انصاف کو داغدار کیا ہے۔ فی الحال جو منظر کشی بنتی دیکھائی دے رہی ہے کہ متواتر ایسی خبریں اور چیزیں سامنے آرہی ہیں جس کا فائدہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس سب کے پیچھے کون ہے مجھے نہیں معلوم مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جو بھی ہو جائے شریفوں نے ابھی تک رسیدیں نہیں دیں ۔ آسان الفاظ میں اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی ایسی خبر نہیں ۔ جس پر کہا جائے کہ پاکستان کے لیے اچھی ہے ۔ سیاست ، معیشت ، انصاف اور گورننس ہر طرف زوال یہ دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس کا قصور وار کون ہے ۔ آپ نیچے کمنٹس میں لازمی بتائیں ۔ مگر میں اپنی رائے دے دیتا ہوں ۔ مہذب معاشروں اور یورپی جمہوریتوں میں جن کا عمران خان بہت حوالہ دیتے ہیں ۔ تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت وقت ہی ہوتی ہے ۔ دوسری جانب مشیر خزانہ نے آج پریس کانفرنس کرکے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ ۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں معاملات طے پا گئے ہیں ۔ مگر آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس ریفارمز جاری رکھے ۔ یعنی عوام کو تن کر رکھے ۔ کوئی ریلیف نہ دیا جائے ۔

    ۔ اب کیونکہ یہ بڑی ہی تابعدار حکومت ہے ۔ اور شوکت ترین نے تو بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیا ہے کہ اگلے چند ماہ اب بجلی کی قیمت بڑھا کر عوام کو جھٹکے دئے جائیں گے ۔ اس لیے اچھے بچوں کی طرح اس حکومت نے آج ہی بجلی کی قیمتوں میں چار روپے 75 پیسے بڑھانے کی سمری نیپرا کو بھیج دی ہے ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کپتان کی عقلمندی کی پیڑول کی قیمت نہیں بڑھائی تو خسارہ بجلی کی قیمت بڑھا کر پورا کر لیا جائے گا ۔ اس کو کہتے ہیں پرفارمنس ۔۔۔ ۔ پھر اب تو یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لٹر نہ ہو جائے۔ ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی حکومت ہے جس نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کریں گے ۔ ۔ فی الحال عوام کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری 4.8
    فیصد مزید بڑھے گی ۔ جس کے مطابق سال 2022ء پاکستان کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوگا اور اشیائے ضروری کی قیمتوں میں 8.5فیصد اضافہ جاری رہے گا۔ پچھلے دنوں عمران خان نے کہا تھا کہ ہمارے دور میں ملک سے غربت کم ہوئی ، غربت ان ممالک میں بڑھتی ہے جہاں حکمران چور ہوں ، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ قانون کی بالا دستی والے ملک میں غربت نہیں ہوتی ۔ اب جب ملک کا وزیر اعظم یہ سوچ رکھتا ہوکہ اس کو ملک میں مسائل ہی نہ نظر آئیں تو حل کیسے ہوگا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے پاکستان میں غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ممکن ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے وزیر مشیر حقیقی صورتحال سے آگاہ نہ کرتے ہوں مگر ان کے عوام کے پاس آ کر اپنی آنکھوں سے حالات دیکھنے چاہئیں۔ معاشی اعتبار سے یہ تمام باتیں خوفناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ میں آپکو بتاوں پاکستان میں نوے فیصد آبادی لٹنے کے لئے ہے اور دس فیصد لوٹنے والے ہیں۔ مگر تاثر یہی دیا جاتا ہے یہاں ہر کوئی لوٹ مار کر رہا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ بھی اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش ہے کہ ملک میں آوے کا اوا بگڑا ہوا ہے تاکہ اپنے ناجائز کاموں کو ایک جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس ملک کے کروڑوں کسان، مزدور، سفید پوش مڈل کلاسیئے، چھوٹے موٹے دکاندار، قلم پیشہ ہنر مند، اساتذہ اور فنکار کرپٹ نہیں کیونکہ کرپشن ان کی زندگی کا چلن ہی نہیں وہ تو صرف کرپشن کے جبر کا شکار ہیں۔ ۔ میں آپکو بتاوں 1965تک پاکستان کا شمار تیزی سے ترقی کرنے ممالک میں ہوتاتھا۔ پے درپے داخلی سیاسی بحرانوں میں اسے ایسا الجھایا گیا کہ ترقی کی پٹری سے نہ صرف اترگیا بلکہ نااہلی کا دیمک اسے مسلسل چاٹنے لگا۔ اب سارا نظام کھوکھلا ہو چکا ہے ۔

    حقیقت میں عمران خان نے اس ملک کو سب سے بڑا ڈینٹ ڈالا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے پورے ملک کو ۔۔۔ میرے ۔۔۔ اور ۔۔۔ تمہارے ۔۔۔ میں بانٹ دیا ہے ۔ میڈیا سے شروع کریں تو یہ بھی حکومتی ، اسٹمبلیشمنٹ اور اپوزیشن کے کمیپوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ہماری بیوروکریسی بھی ریاست کی نہیں اپنی اور اپنی سیاسی جماعت کی وفادار ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارا تاجر ، ہمارا صنعت کار ، ہماری تجارتی انجمنیں یہاں تک کہ ہمارا ریڑھی اور چنگ چی والا بھی سوائے اپنے مفاد اور اپنی پارٹی کے کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔ عدلیہ میں دیکھ لیں ، ڈاکٹرز میں دیکھ لیں ۔ ہر جگہ آپکو کپتان کی دی ہوئی یہ تفریق دیکھائی دے گی ۔ ۔ آج اس ملک میں جتنی polarization ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔

  • روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پر مل کر کام کرنے کے لیے تیار ، مشترکہ خلائی مشن سیارہ زہرہ پر بھیجا جائے گا جس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : روس نومبر 2029 میں مشن سیارہ وینس پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے مشن کو ابتدائی طور پر امریکہ اور روس کے مشترکہ مشن کے طور پر ہی پلان کیا گیا تھا لیکن گزشتہ سال روس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیاتھا کہ اب یہ صرف روس کا قومی مشن ہےاور کوئی بین الاقوامی اشراک اس میں شامل نہیں ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    اب ایک بار پھر روسی خلائی تحقیقی ادارے روسکوسموس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر وینس کی جانب ایک خلائی مشن بھیجا جائے گا۔

    اس ادارے کے سربراہ کے مطابق اس طرح معاشی کے علاوہ تیکنیکی حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنا بھی آسان ہو جائے گا سیارہ وینس کے ماحول کا مطالعہ کرنے اور مٹی کے نمونے جمع کرنے لیے ایک مشن 2031 اور ایک اور مشن 2034 میں بھیجے گا وینس نظام شمسی میں ہمارے نزدیک ترین سیارہ ہے اور اس کا سائز بھی ہماری زمین کے قریب برابر ہی ہے تاہم اس کی سطح کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

  • پاکستان کے کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام اسپورٹس کی دنیا کا بڑا اعزاز:عرب دنیا بھی معترف

    پاکستان کے کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام اسپورٹس کی دنیا کا بڑا اعزاز:عرب دنیا بھی معترف

    دبئی :پاکستان کے کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام اسپورٹس کی دنیا کا بڑا اعزاز:عرب دنیا بھی معترف،اطلاعات کے مطابق دبئی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے عالمی اسپورٹس ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دبئی کا مشہور محمد بن راشد المکتوم تخلیقی اسپورٹس اعزاز حاصل کرلیا جو انہیں آئندہ سال جنوری میں دیا جائے گا۔

    وزیراعظم عمران خان کو یہ اعزاز 1992 کے کرکٹ ورلڈکپ جیتنے میں اپنے ملک کی کرکٹ ٹیم کی قیادت سمیت کھیلوں میں ان کی خدمات پر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو 9 جنوری کو دبئی ایکسپو میں ایوارڈ دیا جائے گا۔

    انٹرنیشنل اسپورٹس ایوارڈ کے لیے عمران خان کے نام کا اعلان دبئی میں دنیا کے سب سے گہرے ڈائیونگ پول ڈیپ کے سنگم میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیاجہاں دبئی اسپورٹس کونسل کے چیئرمین شیخ منصور بن محمد بن راشد المکتوم مہمان خصوصی تھے۔

     

    اس تقریب میں عمران خان کو انٹرنیشنل اسپورٹس شخصیت قرار دیا گیا ۔خیال رہے کہ یہ بین الاقوامی ایوارڈ دبئی میں ہر سال دنیا کی ممتاز ترین شخصیات کو دیا جاتا ہے۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پرکپتان کے چاہنے والوں نے اپوزیشن اور پی ڈی ایم کو پیغام بھیجا ہے کہ آپ پاکستان کے کپتان کی صلاحیتوں‌کے بے شک منکرہوجائیں مگرعالمی دنیا وزیراعظم عمران خان کی صلاحیتوں‌کی معترف ہے اورتہہ دل سے تسلیم بھی کرتی ہے

  • مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری

    مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 24گھنٹے کے دوران ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت دو افرادمہلک کورونا وبا کے باعث ہلاک ہو گئے جبکہ مزید 176افراد مہلک وبا میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انڈین ریزرو پولیس کی پہلی بٹالین کے ڈی ایس پی 53 سالہ اجے کمار شرما گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اور وادی کشمیر میں ایک سرکاری ملازم مہلک وبا کے باعث انتقال کر گئے۔وادی کشمیر میں128افراد میں، جموں میں 32 اور لداخ خطے میں 16 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو ئی ہے۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے کورونا وبا کی آڑ میں کئی علاقوں میں کرفیو کا سلسلہ مزید طویل کردیا ہے،

    قابض انتظامیہ نے سری نگر کے 14 علاقوں میں 10 روز کے لیے کرفیو نافذ کر کے دفعہ 144 کے تحت اجتماعات اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی تھی ،مگراب اس میں مزید توسیع دی گئی ہے جس کی وجہ سے کشمیری بہت زیادہ پریشان ہیں‌۔

    مقبوضہ وادی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے اورجان بوجھ کرمسلمانوں کو کورونا میں دھکیلنے کی نئی دہلی کی سازشیں جاری ہیں ،

    ادھر حریت کانفرنس نے قابض بھارتی انتظامیہ کے امتیازی رویے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہےکہ مودی سرکار مسلمانوں کو جان بوجھ کرمسائل میں الجھا کراپنے مفادات حاصل کررہی ہے ، ادھر آج سری نگر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف سخت سردی کی لہر جاری ہے تو دوسری طرف مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے ، کشمیری جائیں تو کدھر جائیں